आगे सबक देखिए भाई! كِتَابُ الْأَيْمَانِ۔ قَالَ: ”الْأَيْمَانُ عَلَى ثَلَاثَةِ أَضْرُبٍ: الْيَمِينُ الْغَمُوسُ، وَيَمِينٌ مُنْعَقِدَةٌ، وَيَمِينٌ لَغْوٌ، فَالْغَمُوسُ: هُوَ الْحَلْفُ عَلَى أَمْرٍ مَاضٍ يَتَعَمَّدُ الْكَذِبَ فِيهِ، فَهَذِهِ الْيَمِينُ يَأْثَمُ فِيهَا صَاحِبُهَا“، لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: ”مَنْ حَلَفَ كَاذِبًا أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّارَ“، ”وَلَا كَفَّارَةَ فِيهَا إِلَّا التَّوْبَةُ وَالِاسْتِغْفَارُ“۔
اچھا بھئی! گزشتہ سبق میں آپ نے مسئلہ پڑھا تھا کہ اگر کسی شخص نے باندی سے نکاح کیا اور پھر اس باندی سے اولاد ہوگئی اور بعد میں خاوند نے اس باندی کو خرید لیا تو یہ اس کی ام ولد بن جائے گی۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ اس کی ام ولد نہیں بنے گی۔ وجہ یہ کہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ام ولد وہ باندی بنتی ہے جو آزاد بچے کے ساتھ حاملہ ہو اور یہ باندی جس سے اس آدمی کی نکاح کے ذریعے اولاد ہوئی ہے، اس باندی کی اولاد تو اس باندی کے آقا کی مملوک ہے۔ تو یہ باندی تو آزاد بچے کے ساتھ حاملہ نہیں ہوئی بلکہ ایک مملوک بچے کے ساتھ حاملہ ہوئی ہے، لہٰذا یہ ام ولد نہیں بن سکتی۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ام ولد ہونے کی وجہ یہ ہے کہ باندی آزاد بچے کے ساتھ حاملہ ہوتی ہے اور بچہ باندی کا جز ہے اور جز جو ہے کل کے مخالف نہیں ہوتا۔ تو جب بچہ آزاد ہے تو ماں بھی آزادی کی مستحق ہو جاتی ہے تو اس لیے وہ ام ولد ہوتی ہے۔
جبکہ ہمارے نزدیک ام ولد ہونے کا سبب جزئیت ہے کہ وہ جو باندی ہے وہ آقا کا جز بن جاتی ہے بچے کے واسطے سے اور اس بچے کی نسبت دونوں کی طرف ہوتی ہے۔ تو لہٰذا اس بچے کے واسطے سے دونوں کے درمیان جزئیت آگئی، لیکن اس میں ضروری ہے کہ بچے کی نسبت باپ کی طرف ثابت بھی ہو۔ لہٰذا اگر بچہ زنا سے ہوا ہو اور پھر بعد میں زانی اس باندی کو خرید بھی لے تو پھر بھی یہ اس کی ام ولد نہیں بنے گی، وجہ یہ کہ یہاں پر بچے کی نسبت ماں کی طرف تو ثابت ہے لیکن باپ کی طرف ثابت نہیں ہے بھئی۔
البتہ اگر یہ زانی اس بچے کا مالک بن جائے تو یہ بچہ اس پر آزاد ہو جائے گا اس لیے کیونکہ یہ بچہ حقیقتاً اس زانی کا جز ہے بغیر کسی واسطے کے، لہٰذا یہ اس پر آزاد ہو جائے گا۔ البتہ اگر اس کے مقابلے میں ایک شخص نے اپنے زنا سے ہونے والے علاتی بھئی کو خریدا تو اس صورت میں یہ بھئی اس پر آزاد نہیں ہوگا، کیونکہ ایک بھئی کی نسبت دوسرے بھئی کی طرف کی جاتی ہے والد کے ذریعے سے۔ تو دونوں کی نسبت چونکہ والد کی طرف ہوتی ہے تو اس لیے ایک بھئی دوسرے بھئی کو خرید لے گا تو وہ اس پر آزاد ہو جائے گا کیونکہ یہ نسبت ثابت ہے۔ لیکن یہ جو مثال ہم نے ذکر کی جس کے اندر اپنے زنا سے ہونے والے علاتی بھئی کو خریدا ہے، تو یہ علاتی بھئی تو زنا سے ہوا ہے اور اس کا نسب تو والد سے ثابت نہیں ہے۔ جب والد سے ثابت نہیں ہے تو اب یہ اس بھئی پر آزاد بھی نہیں ہوگا۔ تو یہ مثال ہے ام ولد ہونے کی زنا کے ذریعے، زنا کے ذریعے بھی اسی لیے ام ولد نہیں ہو سکتی کیونکہ اس بچے کی نسبت باپ کی طرف ثابت نہیں ہے۔ اور یہاں پر بھی ایک شخص اپنے زنا سے ہونے والے علاتی بھئی کو خریدے گا تو یہ آزاد نہیں ہوگا کیونکہ یہ علاتی بھئی جو زنا سے ہوا ہے اس کی نسبت باپ کی طرف ثابت نہیں ہے بھئی۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر باپ نے اپنے بیٹے کی باندی سے صحبت کی اور باندی نے ایک بچے کو جنم دیا اور باپ نے دعویٰ کر دیا کہ یہ میری اولاد ہے تو بچے کا نسب باپ سے ثابت ہو جائے گا اور یہ باندی باپ کی ام ولد ہو جائے گی۔ البتہ باپ کو اس باندی کی قیمت اب دینا پڑے گی لیکن باپ پر اس باندی کا عقر بھی واجب نہیں ہوگا اور بچے کی قیمت بھی واجب نہیں ہوگی۔ وجہ یہ کیونکہ حدیث میں آتا ہے، ایک صحابی سے حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ“ کہ تم اور تمہارا مال دونوں تمہارے باپ کے ہیں۔ تو اس حدیث میں بیٹے کو اور بیٹے کے مال کو باپ کا مملوک قرار دیا گیا ہے، لیکن دیگر احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بیٹے کا مال الگ ہوتا ہے اور باپ کا مال الگ ہوتا ہے۔ تو اس حدیث کا پھر معنیٰ یہ ہوگا کہ باپ ضرورت اور حاجت کے وقت بیٹے کے مال کا مالک ہو سکتا ہے۔ چنانچہ اگر باپ کو نفقے کی حاجت ہے تو پھر باپ بیٹے کے مال میں سے اگر بغیر اجازت کے نفقہ لیتا ہے تو باپ اس کا مالک بن جائے گا اور باپ پر ضمان نہیں آئے گا، اس لیے کیونکہ باپ زندہ رہنے کے لیے کھانے پینے کا محتاج ہے بھئی۔
اسی طرح انسان بقائے نسل کا بھی محتاج ہے کہ اس کی نسل باقی رہے تو جیسے باپ ضرورت اور حاجت کے وقت بیٹے کے مال میں سے نفقے کا مالک ہو جاتا ہے، اسی طرح اس باندی کے ذریعے باپ کی ابقائے نسل ہے تو حاجت کی وجہ سے باپ کو اس کا بھی مالک قرار دے دیں گے۔ البتہ نفس کی جو حاجت ہے وہ بقائے نسل کی حاجت کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اس لیے نفقے کے معاملے میں اگر باپ بیٹے کے مال میں سے بغیر اجازت کے نفقہ لے گا تو باپ پر ضمان نہیں آئے گا، لیکن بقائے نسل تو اس سے کم درجے کی ہے لہٰذا اس کے اندر باپ پر ضمان آئے گا اور باپ کو اس باندی کی قیمت دینا پڑے گی جس کا یہ مالک بن گیا ہے اور جو اس کی ام ولد ہو گئی ہے۔
اور آپ نے پڑھا تھا کہ ام ولد جو ہے وہ باندی بنتی ہے جس کے اندر انسان کی ملکیت ہو۔ اور اس باندی کے اندر تو باپ کی ملکیت نہیں تھی، لہٰذا صحبت سے پہلے ہی اس باندی کے اندر باپ کی ملکیت مان لی جائے گی تاکہ باپ کی صحبت جو ہے وہ زنا نہ ہو بھئی، بلکہ یہ باندی اسی کی مملوک ہو گئی تو یہ اپنی باندی کے ساتھ صحبت کر رہا ہے لہٰذا یہ زنا نہیں، اور جب اپنی باندی سے صحبت کر رہا ہے تو بیٹے کو اب اس کا عقر بھی نہیں دینا پڑے گا اور نیز جو اولاد بھی ہوئی وہ اپنی باندی سے ہوئی ہے لہٰذا اس بچے کی قیمت بھی بیٹے کو نہیں دینا پڑے گی۔ اور صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا تھا کہ دادا کا بھی وہی حکم ہے جو باپ کا ہے جس وقت باپ موجود نہ ہو یا باپ کافر ہو یا غلام ہو۔ لیکن اگر باپ موجود ہے پھر دادا کا یہ حکم نہیں ہے بھئی۔
اور اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر ایک باندی ہے وہ دو آدمیوں کے درمیان مشترکہ ہے اور پھر اس باندی نے ایک بچے کو جنم دیا اور ان دو شریکوں میں سے ایک نے دعویٰ کر دیا کہ یہ میرا بچہ ہے تو اس صورت میں اس بچے کا نسب اس شریک سے ثابت ہو جائے گا اور یہ ساری باندی اس شریک کی ام ولد بن جائے گی۔ وجہ یہ کہ صاحبین کے نزدیک استیلاد کے اندر تقسیم نہیں ہو سکتی، تو جب یہ باندی ام ولد بن رہی ہے تو ساری ہی ام ولد بن جائے گی اس شریک کے لیے جس نے دعویٰ کیا تھا۔ جبکہ امام صاحب کے نزدیک استیلاد جو ہے وہ تقسیم کو قبول کر لیتا ہے، تو ان کے نزدیک بھی یہ شریک ساری باندی کا مالک بنے گا یہ جس نے دعویٰ کیا تھا، لیکن صورت یوں ہوگی کہ پہلے صرف اس کا حصہ جو ہے وہ ام ولد بن جائے گا اور پھر اس کے بعد دوسرے شریک کا جو حصہ ہے وہ تو عام باندی ہے، وہ تو تبدلِ ملک کو قبول کر لیتا ہے لہٰذا وہاں پر بھی تبدلِ ملک ہوگا اور یہ شریک اس دوسرے ساتھی کے حصے کا بھی مالک بن جائے گا اور پھر اس طرح ساری باندی اس کی ام ولد بن جائے گی۔ اور اس شریک کو پھر دوسرے شریک کے حصے کا ضمان دینا پڑے گا کیونکہ یہ اس کے حصے کی باندی کا بھی مالک بن گیا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟
اور یہاں پر یہ جو مالک بنا ہے دوسرے شریک کی باندی کا، تو یہ یاد رکھو یہ عین علوق سے پہلے مالک بنا ہے۔ لہٰذا جو علوق ہوا ہے وہ اسی کی ملکیت میں ہوا ہے، لہٰذا بچے کی قیمت تو اس شریک کو نہیں دینی پڑے گی کیونکہ عین حمل ٹھہرتے وقت یہ پوری باندی کا مالک بن گیا تھا۔ البتہ جب وطی شروع کی تھی اس وقت تو یہ باندی مشترکہ تھی، لہٰذا نصف مہر اس کو دینا پڑے گا اپنے شریک کو۔ تو باندی کی نصف قیمت بھی دے گا اور نصف عقر بھی دے گا بھئی۔
اور اگر اس کے بجائے دونوں نے بچے کے نسب کا دعویٰ کر دیا اور اکٹھا ہی نسب کا دعویٰ کیا، تو اب یہاں ترجیح کی کوئی صورت نہیں ہے لہٰذا اس بچے کا نسب دونوں سے ثابت ہو جائے گا۔ یا دونوں نے اکٹھا نسب کا دعویٰ تو نہیں کیا لیکن الگ الگ مجلسوں میں نسب کا دعویٰ کیا ہے اور ایسی صورت ہے کہ تقدیم و تاخیر کا پتہ نہیں چل سکتا کہ کس نے پہلے دعویٰ کیا ہے، تو اس صورت میں بھی دونوں کے دعوے کو اکٹھا ہی قرار دیا جائے گا اور بچے کا دونوں سے نسب ثابت ہو جائے گا۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، ایک ہی بچے کا نسب دونوں سے ثابت نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں ہے، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ایک بچہ دو مردوں کے نطفوں سے پیدا نہیں ہو سکتا، لہٰذا اس کو کیسے دو آدمیوں سے اس کا نسب ثابت کیا جا سکتا ہے؟ وہ فرماتے ہیں کہ قیافہ شناسوں کی مدد لی جائے گی، اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام بھی قیافہ شناس کے قول پر خوش ہوئے تھے۔
میں نے آپ کو واقعہ ذکر کیا تھا کہ حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ بیٹے ہیں حضرت زید ابن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اور حضرت زید جو تھے یہ انتہائی گورے رنگ کے تھے، جبکہ حضرت اسامہ جو تھے وہ انتہائی کالے رنگ کے تھے، تو جس کی وجہ سے عرب ان کے نسب میں شک کرتے تھے اور عیب لگاتے تھے۔ تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک دن حضور علیہ السلام گھر میں تشریف لائے تو بہت خوش تھے اور فرمانے لگے کہ اے عائشہ! کیا تمہیں پتہ ہے؟ آج مجزز مدلاجی میرے پاس آئے تھے۔ آج مجزز مدلاجی میرے پاس آئے تھے، مسجد کے اندر زید اور اسامہ سو رہے تھے اور انہوں نے اپنے اوپر چادر لی ہوئی تھی، البتہ دونوں کے قدم جو تھے وہ چادر سے باہر تھے۔ تو مجزز مدلاجی کی نظر ان دونوں کے قدموں پر پڑی تو کہنے لگے کہ یہ قدم ایک دوسرے سے ہیں یعنی یہ آپس میں باپ بیٹا ہیں۔ تو حضور علیہ السلام قیافہ شناس کے اس قول پر خوش ہوئے اور میں نے آپ کو بتلایا کہ عرب کے بعض لوگوں کو اللہ نے خاص علم نصیب فرمایا تھا، جیسے بنو مدلج والے، کہ یہ جو ہیں علامتوں کے ذریعے اور بچے کے اعضا کے ذریعے بتلا دیا کرتے تھے کہ یہ کس کا بچہ ہے۔ تو یہ مجزز مدلاجی جو ہیں یہ بھی صحابی رسول ہیں بھئی، رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھئی۔
تو بات چل رہی تھی امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل کی۔ وہ فرماتے ہیں کہ دیکھو حضور علیہ السلام جو ہیں قیافہ شناس کے قول پر خوش ہوئے اور حضور علیہ السلام تو پیغمبر ہیں، وہ تو کبھی ناحق بات پر خوش نہیں ہو سکتے، تو ان کا قیافہ شناس کے قول پر خوش ہونے کا معنیٰ یہ ہے کہ قیافہ شناسی حق ہے، لہٰذا اس کے ذریعے بچے کے نسب کا پتہ چلایا جائے گا۔ جبکہ ہمارے نزدیک ہماری دلیل جو ہے وہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خط ہے جو انہوں نے قاضی شریح کو بھیجا اور اس زمانے میں ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا تھا، دو آدمیوں نے ایک بچے کے نسب کا دعویٰ کیا تھا۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود بھی قیافہ شناس تھے، آپ نے تین قیافہ شناس بلوائے انہوں نے کہا کہ بچے کی مشابہت دونوں کے ساتھ پائی جا رہی ہے۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس پر حیران بھی ہوئے کہ یہ میں نے انسانوں میں پہلی دفعہ دیکھا ہے کہ ایک بچے کے اندر دو افراد کی مشابہت پائی جا رہی ہے۔ تو پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کا نسب دونوں سے قرار دے دیا اور فرمایا کہ یہ دونوں کا بیٹا ہے اور یہ دونوں کا وارث بنے گا اور یہ دونوں بھی اس بیٹے کے وارث بنیں گے، اور اگر ان میں سے کسی ایک کا انتقال ہو گیا تو جو ان میں سے زندہ ہوگا پھر وہ بیٹے کا وارث بنے گا۔ اور یہ واقعہ صحابہ کی موجودگی میں پیش آیا تھا، معلوم ہوا اس پر صحابہ کا بھی اجماع ہو گیا اور نیز اسی طرح کا واقعہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی منقول ہے بھئی۔
اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے عقلی دلیل بھی ذکر فرمائی کہ یہ جو باندی تھی اس کے اندر دونوں کی ملکیت ہے تو سببِ استحقاق کے اندر دونوں برابر ہیں تو بچے کے اندر بھی یہ دونوں برابر ہوں گے بھئی۔ اور نسب جو ہے اگرچہ اس کی تقسیم نہیں ہو سکتی لیکن نسب کے ساتھ ایسے بہت سے احکام کا تعلق ہوتا ہے جو تقسیم کو قبول کر لیتے ہیں۔ تو وہ احکام جو تقسیم کو قبول نہیں کرتے جیسے نسب ہے یا باپ کو بیٹے پر ولایت ہوتی ہے، تو یہ تقسیم کو قبول نہیں کرتے تو یہ پورے پورے دونوں کے لیے ثابت ہو جائیں گے، یعنی نسب بھی پورا پورا دونوں سے ثابت ہوگا اور دونوں کو ولایت بھی پوری پوری حاصل ہوگی۔ جبکہ کچھ احکام نسب کے ایسے ہیں جو تقسیم کو قبول کر لیتے ہیں، جیسے میراث ہے۔ میراث کیا ہے؟ وارثوں میں تقسیم ہوتی ہے، یا جیسے نفقہ ہے نفقہ بھی تقسیم کو قبول کر لیتا ہے جیسے ایک شخص کے دو بیٹے ہیں تو دونوں پر اس کا نفقہ واجب ہوگا جب یہ شخص غریب ہو۔ تو لہٰذا وہ احکام جو تقسیم کو قبول کر لیتے ہیں وہ تقسیم ہو کر دونوں کے لیے ثابت ہوں گے اور جو تقسیم کو قبول نہیں کرتے وہ پورے پورے دونوں کے لیے ثابت ہو جائیں گے بھئی۔
ہاں! اگر کوئی ترجیح کی صورت ہو تو پھر ترجیح بھی دی جائے گی۔ یہاں تو ترجیح کی کوئی صورت نہیں تھی لیکن اگر ترجیح کی صورت ہو تو پھر ترجیح پر عمل کیا جائے گا۔ مثلاً اگر یہ باندی باپ اور بیٹے میں مشترکہ ہے تو پھر باپ کو ترجیح ہے کیونکہ باپ اپنے حصے کا بھی مالک ہے اور بیٹے کے حصے کا بھی تملک کا حق رکھتا ہے، مالک ہونے کا حق رکھتا ہے، لہٰذا اگر باپ اور بیٹے دونوں نے نسب کا دعویٰ کیا تو باپ سے نسب ثابت ہوگا، بیٹے سے نسب ثابت نہیں ہوگا، باپ کو ترجیح ہوگی۔ یا اسی طرح ترجیح کی ایک صورت یہ ہے کہ باندی جو ہے ایک مسلمان اور ذمی کے درمیان مشترکہ ہے، تو اس صورت میں مسلمان کو ترجیح ہوگی اس کے اسلام کی وجہ سے۔
اور باقی امام شافعی رحمہ اللہ کا جواب بھی ذکر فرمایا صاحبِ ہدایہ نے کہ حضور علیہ السلام اس لیے خوش ہوئے تھے کیونکہ قیافہ شناس کے قول کی وجہ سے کفار کا جو طعنہ تھا وہ رد ہو گیا تھا تو اس لیے حضور علیہ السلام اس پر خوش ہوئے۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ جب بچے کا نسب دونوں سے ثابت ہو جائے گا تو یہ باندی دونوں کی ام ولد ہو جائے گی۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر آقا اپنے مکاتب کی باندی سے صحبت کر لے اور اس سے بچہ پیدا ہوا اور پھر اس آقا نے اس بچے کے نسب کا دعویٰ کر دیا، تو آقا کے اس دعوے کا دارومدار اب مکاتب کی طرف سے تصدیق اور تکذیب پر ہوگا۔ اگر مکاتب نے آقا کی تصدیق کر دی تو نسب ثابت ہو جائے گا اور اگر مکاتب نے آقا کی تکذیب کر دی اس کو جھٹلا دیا تو پھر نسب ثابت نہیں ہوگا بھئی۔ البتہ مکاتب چاہے تصدیق بھی کر دے پھر بھی یہ اس آقا کی ام ولد نہیں بنے گی کیونکہ ام ولد کے لیے اس میں ملکیت کا ہونا ضروری ہے اور اس باندی کے اندر تو آقا کی ملکیت نہیں ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے ولد المغرور کی ماں کہ ایک شخص ایک باندی کو لے آیا اور وہ باندی کسی اور کی تھی اور اس باندی سے اس آقا کی اولاد بھی ہوئی، تو یہ اس کی ام ولد نہیں ہے کیونکہ حقیقتاً اس کے اندر اس کی ملکیت ہے ہی نہیں، یہ تو کسی اور کی باندی ہے بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے بتلایا اگر کسی وقت یہ جو آقا ہے یہ اس بچے کا مالک بن گیا تو پھر نسب ثابت ہو جائے گا کیونکہ اس نے ایک دفعہ اقرار کیا تھا ماضی کے اندر اور وہاں مانع موجود تھا اور وہ مکاتب کا حق جو تھا وہ اس بچے کے ساتھ وابستہ تھا، یہ مکاتب کا مملوک تھا اور اس نے تکذیب کر دی تھی اس لیے نسب ثابت نہیں ہوا تھا، لیکن اب تو وہ مانع ختم ہو گیا۔ اب آقا خود اس بچے کا مالک بن گیا ہے تو اب نسب ثابت ہو جائے گا اور یہ بچہ فوراً ہی آزاد ہو جائے گا، بات سمجھ میں آگئی؟
اب آئیے آج کے سبق پر: كِتَابُ الْأَيْمَانِ۔ قَالَ: ”الْأَيْمَانُ عَلَى ثَلَاثَةِ أَضْرُبٍ: الْيَمِينُ الْغَمُوسُ، وَيَمِينٌ مُنْعَقِدَةٌ، وَيَمِينٌ لَغْوٌ“۔ یاد رکھیے ایمان جمع ہے یمین کی، یمین۔ اور یمین جو ہے عربی زبان میں یمین کا معنیٰ ہے قوت اور طاقت بھئی۔ اور اصطلاحِ شریعت کے اندر یمین اس عہد کا نام ہے جس کے ذریعے کوئی شخص اپنی بات کو پکا کرتا ہے اور مضبوط کرتا ہے، اصطلاحِ شریعت میں یمین اس عہد کا نام ہے جس کے ذریعے کوئی شخص اپنی بات کو پکا کرتا ہے، اسے مضبوط کرتا ہے، یعنی اللہ کا نام ساتھ ملا کر اپنی بات کو پکا کرتا ہے یا تعلیق کے ذریعے اپنی بات کو پکا کرتا ہے، بات سمجھ میں آگئی؟ تو آپ پڑھ چکے ہیں جو تعلیق ہے اس کو بھی یمین کہتے ہیں۔
تو کہتے ہیں: كِتَابُ الْأَيْمَانِ، یہ کتاب ہے قسموں کے بیان میں۔ تو اس میں قسموں کا بیان ہوگا اور ان کے احکام ذکر فرمائیں گے صاحبِ ہدایہ بھئی۔ قَالَ، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”الْأَيْمَانُ عَلَى ثَلَاثَةِ أَضْرُبٍ“، کہ قسمیں تین قسم پر ہیں۔ بھئی! یہیں پہلے سمجھ لیجیے۔ یاد رکھو قسم کی تین قسمیں ہیں بھئی: ایک کو یمینِ غموس کہتے ہیں، ایک کو یمینِ منعقدہ کہتے ہیں، اور ایک کو یمینِ لغو کہتے ہیں۔
یمینِ غموس بھئی، یمینِ غموس یعنی جھوٹی قسم کھانا، کسی گزشتہ بات پر جھوٹی قسم کھا لینا اس کو یمینِ غموس کہتے ہیں۔ مثلاً ایک شخص نے کسی دوسرے کی چیز ضائع کر دی، اس کا نقصان کر دیا، اور بعد میں قسم کھا کر کہتا ہے کہ یہ نقصان میں نے نہیں کیا بھئی، تو یہ یمینِ غموس ہے، یہ جھوٹی قسم ہے اور یاد رکھو یہ گناہِ کبیرہ ہے بھئی، اور اس میں کوئی کفارہ وغیرہ نہیں ہے۔ اس شخص نے بہت بڑا گناہ کیا ہے، اب اللہ سے شب و روز توبہ اور استغفار کرے اور اس گناہ کو معاف کروائے۔ تو یمینِ غموس جو ہے اس کے اندر کفارہ نہیں آتا۔
اور دوسری یمینِ منعقدہ ہے۔ یمینِ منعقدہ یہ ہے کہ کوئی انسان مستقبل کے کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے پر قسم اٹھائے کہ واللہ میں یہ کام نہیں کروں گا یا واللہ میں یہ کام ضرور کروں گا، تو یہ یمینِ منعقدہ ہے۔ جب یہ قسم کھا لی تو یہ یمین منعقد ہو گئی۔ اب اس یمین کے خلاف کرے گا تو یہ شخص حانث ہو جائے گا یعنی اس کی قسم ٹوٹ جائے گی اور پھر اس کو کفارہ دینا پڑے گا۔ تو مستقبل کے کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم اٹھانا اسے یمینِ منعقدہ کہتے ہیں۔
اور تیسری یمینِ لغو ہے۔ یمینِ لغو کی ایک صورت تو یہ ہے کہ کسی شخص کو عادت ہوتی ہے قسم کھانے کی یعنی اس کا تکیۂ کلام بن جاتا ہے، ہر ہر بات پر اس کی زبان پر قسم آتی ہے۔ تو اس کے ساتھ والے بھی جانتے ہیں کہ یہ اس کی عادت ہے۔ ایک تو ہوتی ہے نا کسی بات کو پکا کرنے کے لیے قسم کھانا، اس کا تو الگ پتہ چلتا ہے جب کوئی شخص اس طرح کی قسم کھاتا ہے تو سننے والوں کو پتہ لگ جاتا ہے کہ یہ اپنی بات کو پکا کر رہا ہے۔ اور ایک شخص ہے اس کو ویسے ہی عادت ہے ہر بات میں وہ قسم کھاتا ہے، جیسے عربوں کے اندر قسم کی بہت زیادہ عادت تھی، وہ ہر ہر بات پر قسم اٹھایا کرتے تھے۔ تو یہ جو کسی آدمی کی ویسے ہی قسمیں کھانے کی عادت ہے، کثرت سے قسم کھاتا ہے، چاہے قسم والی بات ہو یا قسم والی بات نہ ہو، وہ اس پر قسمیں اٹھاتا چلا جاتا ہے کیونکہ ویسے اس کی عادت ہے۔ اس کو یمینِ لغو کہتے ہیں یعنی ایسی قسم ہے جس کا کوئی اعتبار نہیں اور اس پر اللہ کی طرف سے مواخذہ اور پکڑ بھی نہیں ہوگی۔ تو یہ ہے یمینِ لغو۔
اسی طرح یمینِ لغو کی ایک صورت یہ ہے کہ ایک شخص ماضی کی کسی بات پر قسم کھاتا ہے اس کا خیال ہے کہ معاملہ ایسا ہی ہے، وہ اپنے گمان میں سچ بول رہا ہے لیکن حقیقت میں ویسا نہیں ہوتا، حقیقت میں ویسا نہیں ہوتا۔ مثلاً ایک آدمی نے قسم کھائی کہ واللہ میرے پاس زید اور عمرو دونوں آئے تھے، کوئی پرانی بات ہے، اس نے قسم کھائی کہ واللہ میرے پاس زید اور عمرو دونوں آئے تھے حالانکہ حقیقت میں صرف زید آیا تھا۔ لیکن اس کے ذہن میں یہی ہے، اس کے ذہن میں اسی طرح ہے بات کہ میں سچ بول رہا ہوں اس وقت زید اور عمرو دونوں ہی آئے تھے، تو وہ اپنی طرف سے جھوٹ نہیں بول رہا تو یہ بھی یمینِ لغو ہے، اس لیے کیونکہ یہاں اس نے جھوٹ کے ارادے سے قسم نہیں اٹھائی، اس کا تو خیال ہے میں سچ بول رہا ہوں۔
تو قسم کتنی قسم کی؟ تین قسم کی: ایک یمینِ غموس ہے اور وہ یہ کہ جھوٹی قسم اٹھانا یعنی ارادے کے ساتھ جھوٹی قسم اٹھانا، اور ایک یمینِ منعقدہ ہے کہ وہ کسی مستقبل کے کام کے کرنے یا نہ کرنے پر قسم اٹھائے تو یہ یمین منعقد ہو گئی اب اس کو پورا کرنا پڑے گا اور اگر اس نے اس قسم کو پورا نہ کیا بلکہ اسے توڑ دیا تو پھر اسے کفارہ دینا پڑے گا، اور تیسری یمینِ لغو ہے جیسے کسی شخص کا تکیۂ کلام ہی ہو وہ ہر ہر بات پر قسم اٹھاتا ہے یا کوئی شخص جو ہے کسی بات پر قسم اٹھاتا ہے اور اس کا خیال تو یہ ہے کہ میں سچ بول رہا ہوں لیکن واقعہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے تو یہ بھی یمینِ لغو ہے بھئی۔
تو دیکھیے کتاب پر: قَالَ، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”الْأَيْمَانُ عَلَى ثَلَاثَةِ أَضْرُبٍ“، کہ قسمیں جو ہیں وہ تین قسم پر ہیں: ”الْيَمِينُ الْغَمُوسُ، وَيَمِينٌ مُنْعَقِدَةٌ، وَيَمِينٌ لَغْوٌ“، ایک یمینِ غموس ہے، ایک یمینِ منعقدہ ہے اور ایک یمینِ لغو ہے۔ ”فَالْغَمُوسُ: هُوَ الْحَلْفُ عَلَى أَمْرٍ مَاضٍ يَتَعَمَّدُ الْكَذِبَ فِيهِ“، فَالْغَمُوسُ تو یمینِ غموس جو ہے، ”هُوَ الْحَلْفُ عَلَى أَمْرٍ مَاضٍ“، وہ قسم اٹھانا ہے ماضی کے کسی چیز پر، ”يَتَعَمَّدُ الْكَذِبَ فِيهِ“، جس کے اندر وہ جھوٹ کا ارادہ کرتا ہے، یعنی باقاعدہ جھوٹ کے ارادے کے ساتھ قسم اٹھاتا ہے جیسے میں نے مثال ذکر کر دی، ایک شخص نے کسی کی چیز توڑ دی اور بعد میں آکر کہتا ہے کہ واللہ وہ چیز میں نے نہیں توڑی، تو یہ دیکھو قسم کھا رہا ہے اور اس کا ارادہ ہی جھوٹ کا ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”فَالْغَمُوسُ: هُوَ الْحَلْفُ عَلَى أَمْرٍ مَاضٍ“، تو یمینِ غموس جو ہے وہ قسم اٹھانا ہے ماضی کے فعل پر، ماضی کی کسی چیز پر، ”يَتَعَمَّدُ الْكَذِبَ فِيهِ“، جس کے اندر وہ جھوٹ کا ارادہ کرتا ہے۔ بھئی! متن میں آیا: ”هُوَ الْحَلْفُ عَلَى أَمْرٍ مَاضٍ“، کہ یمینِ غموس جو ہے وہ ماضی کے کسی معاملے پر قسم کھانا ہے۔ بھئی! ماضی کا ہونا ضروری نہیں ہے، یہ جو ماضی کی قید لگائی متن کے اندر یہ قیدِ اتفاقی ہے یا اکثری ہے یعنی اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ماضی کی بات پر ہی ایسی جھوٹی قسم کھائی جاتی ہے ورنہ اگر حال کے اعتبار سے بھی جھوٹی قسم کھائے گا تو بھی وہ یمینِ غموس ہے۔ مثلاً ایک آدمی کے اوپر زید کا دَین ہے اور یہ قسم کھا کر کہتا ہے واللہ میرے اوپر زید کا دَین نہیں ہے، تو دیکھو یہ تو حال کی قسم کھا رہا ہے کہ فی الحال میرے اوپر زید کا کوئی دَین نہیں ہے تو یہ بھی یمینِ غموس ہے کیونکہ وہ جان بوجھ کر جھوٹ بول رہا ہے قسم کے ساتھ۔
تو کہتے ہیں: ”هُوَ الْحَلْفُ عَلَى أَمْرٍ مَاضٍ يَتَعَمَّدُ الْكَذِبَ فِيهِ“، کہ یمینِ غموس جو ہے وہ قسم اٹھانا ہے ماضی کے معاملے پر کہ وہ ارادہ کرتا ہے جھوٹ کا اس میں، ”فَهَذِهِ الْيَمِينُ يَأْثَمُ فِيهَا صَاحِبُهَا“، فَهَذِهِ الْيَمِينُ، هَذِهِ موصوف، الْيَمِينُ اس کی صفت، اور الْيَمِينُ کے لیے هَذِهِ اسم اشارہ مؤنث لائے، معلوم ہوا یمین کا لفظ عربی میں مؤنث استعمال ہوتا ہے۔ لہٰذا اس کی طرف ضمیر بھی کون سی لوٹائیں گے؟ مؤنث والی ہی۔ اور اگر کہیں مذکر کی ضمیر آگئی اور یمین کی طرف لوٹ رہی ہے تو پھر تاویل کر لیں گے کہ یہ حلف کے معنیٰ میں ہے کیونکہ حلف کا بھی کیا معنیٰ ہے؟ قسم بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”فَهَذِهِ الْيَمِينُ“، تو یہ جو قسم ہے، ”يَأْثَمُ فِيهَا صَاحِبُهَا“، تو اس کے اندر اس یمین والا شخص گنہگار ہوگا، میں نے آپ کو بتلایا کہ یہ گناہِ کبیرہ ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَهَذِهِ الْيَمِينُ يَأْثَمُ فِيهَا صَاحِبُهَا“، تو یہ جو یمینِ غموس ہے اس کے اندر یہ قسم کھانے والا گنہگار ہوگا، ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“، حضور علیہ السلام کے اس فرمانِ مبارک کی وجہ سے کہ آپ نے فرمایا: ”مَنْ حَلَفَ كَاذِبًا أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّارَ“، کہ جس شخص نے جھوٹی قسم اٹھائی تو اللہ اسے جہنم میں داخل کریں گے۔ ”وَلَا كَفَّارَةَ فِيهَا إِلَّا التَّوْبَةُ وَالِاسْتِغْفَارُ“، اور اس یمینِ غموس کے اندر کوئی کفارہ نہیں ہوتا، ”إِلَّا التَّوْبَةُ وَالِاسْتِغْفَارُ“، سوائے توبہ اور استغفار کے، کہ اس شخص نے گناہِ کبیرہ کیا ہے، اللہ کے نام کی بے حرمتی کی ہے، اللہ کا نام لے کر اس نے جھوٹ بولا ہے تو اب توبہ اور استغفار کرے۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَا كَفَّارَةَ فِيهَا إِلَّا التَّوْبَةُ وَالِاسْتِغْفَارُ“، اور اس کے اندر کفارہ نہیں ہے سوائے توبہ اور استغفار کے، ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: فِيهَا الْكَفَّارَةُ“، اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یمینِ غموس کے اندر بھی کفارہ ہے، ”لِأَنَّهَا شُرِعَتْ لِرَفْعِ ذَنْبِ هَتْكِ حُرْمَةِ اسْمِ اللَّهِ تَعَالَى“، لِرَفْعِ ذَنْبِ هَتْكِ حُرْمَةِ اسْمِ اللَّهِ، بھئی! هَتَكَ يَهْتِكُ هَتْكًا کا معنیٰ ہے پردہ دری کرنا۔ هَتَكَ يَهْتِكُ هَتْكًا کا معنیٰ پردہ دری کرنا، بے حرمتی کرنا، بے عزتی کرنا۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو کفارہ ہے وہ اس لیے مشروع ہوا ہے کہ یہ جو قسم کھانے والا جو ہے اس نے اللہ کے نام کی بے حرمتی کی ہے تو اس بے حرمتی کے گناہ کو معاف کروانے کے لیے اب کفارہ دینا پڑے گا۔ اب کفارہ دینا پڑے گا۔
تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهَا شُرِعَتْ“، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ یہ جو کفارہ ہے یہ مشروع ہوا ہے، ”لِرَفْعِ ذَنْبِ هَتْكِ حُرْمَةِ اسْمِ اللَّهِ تَعَالَى“، ترجمہ آخر سے ہوگا، اللہ تعالیٰ کے نام کی حرمت کی بے عزتی کے گناہ کو اٹھانے کے لیے، اللہ کے نام کی حرمت جو ہے اللہ کے نام کا جو احترام ہے اس کی بے حرمتی کرنے کے گناہ کو اٹھانے کے لیے ہوتی ہے۔ اس کی بے حرمتی کی ہے اور یہ گناہ ہے اور اس کو اٹھانے کے لیے کفارہ مشروع ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ پھر غور سے ترجمہ سن لیجیے، کہتے ہیں: ”لِأَنَّهَا شُرِعَتْ“، اس لیے کیونکہ کفارہ جو ہے وہ مشروع ہوا ہے، ”لِرَفْعِ ذَنْبِ هَتْكِ حُرْمَةِ اسْمِ اللَّهِ تَعَالَى“، اللہ تعالیٰ کے نام کی حرمت کی بے احترامی کے گناہ کو دور کرنے کے لیے، ”وَقَدْ تَحَقَّقَ بِالِاسْتِشْهَادِ بِاللَّهِ كَاذِبًا“، ”وَقَدْ تَحَقَّقَ“، اور تحقیق یہ بے حرمتی پائی گئی، ”بِالِاسْتِشْهَادِ بِاللَّهِ“، اللہ کے نام سے گواہی لیتے ہوئے، ”كَاذِبًا“، اس حال میں کہ یہ جھوٹ بولنے والا ہے یعنی جھوٹ بولتے ہوئے اس نے اللہ کے نام کو اپنی بات پر گواہ بنایا۔ کیا کہا اس نے؟ واللہ میں نے یہ چیز نہیں توڑی، تو یہ جھوٹ بولتے ہوئے اس نے اللہ کے نام کو اپنی بات پر گواہ بنایا تو اس نے اللہ کے نام کی بے حرمتی کی ہے۔
تو کہتے ہیں: ”وَقَدْ تَحَقَّقَ“، اور تحقیق اللہ کے نام کی بے حرمتی پائی گئی ہے، یمینِ غموس کی بات چل رہی ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یمینِ غموس کے اندر بھی اللہ کے نام کی بے حرمتی ہوئی ہے لہٰذا کفارہ دینا پڑے گا کیونکہ بے حرمتی کے گناہ کو اٹھانے کے لیے کفارہ دیا جاتا ہے۔ کہتے ہیں: ”وَقَدْ تَحَقَّقَ“، اور یمینِ غموس کے اندر بھی اللہ کے نام کی بے حرمتی پائی گئی ہے، ”بِالِاسْتِشْهَادِ بِاللَّهِ كَاذِبًا“، اللہ کے نام سے گواہی لیتے ہوئے کاذباً اس حال میں کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے، ”فَأَشْبَهَ الْمَعْقُودَةَ“، تو یہ یمینِ غموس بھی مشابہ ہوگئی یمینِ معقودہ کے، یمینِ معقودہ یعنی یمینِ منعقدہ کے۔ تو یہ یمینِ غموس بھی یمینِ معقودہ کے مشابہ ہوگئی اور یمینِ منعقدہ کے اندر تو اے احناف آپ بھی کہتے ہیں کفارہ دیا جاتا ہے تو یمینِ غموس جب اس کے مشابہ ہے تو اس میں بھی کفارہ دیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”فَأَشْبَهَ الْمَعْقُودَةَ“، تو یہ یمینِ غموس مشابہ ہوگئی اس قسم کے جس کا عقد کیا گیا ہے یعنی یمینِ منعقدہ جو ہے۔
”وَلَنَا“، اب ہماری دلیل آگئی: ”وَلَنَا“، اور ہماری دلیل یہ ہے، ”أَنَّهَا كَبِيرَةٌ مَحْضَةٌ“، کہ یہ یمینِ غموس جو ہے محضِ کبیرہ ہے، یہ محض کبیرہ گناہ ہی ہے۔ تو ”وَلَنَا“، ہماری دلیل یہ ہے: ”أَنَّهَا كَبِيرَةٌ مَحْضَةٌ“، کہ یمینِ غموس جو ہے کبیرہ محض ہے۔ ”وَالْكَفَّارَةُ عِبَادَةٌ تَتَأَدَّى بِالصَّوْمِ“، بھئی! میری کتاب میں عبارت اسی طرح ہے: ”وَالْكَفَّارَةُ عِبَادَةٌ تَتَأَدَّى بِالصَّوْمِ“، اور کفارہ ایسی عبادت ہے جو روزے سے ادا ہوتی ہے۔ مجھے بتائیے، کفارہ جو ہے، جو قسم کا کفارہ ہے، کیا اس میں صرف روزے رکھے جاتے ہیں یا مسکینوں کو کھانا بھی کھلایا جا سکتا ہے؟ ان کو کپڑے بھی پہنائے جا سکتے ہیں اور تحریرِ رقبہ بھی ہو سکتا ہے؟ یہ چیزیں بھی ہیں اس کے اندر، یہ چیزیں بھی ہیں، بات سمجھ میں آگئی؟ لیکن یہاں کیا ذکر آیا کہ ”وَالْكَفَّارَةُ عِبَادَةٌ تَتَأَدَّى بِالصَّوْمِ“، کہ کفارہ ایسی عبادت ہے جو روزے سے ادا ہوتی ہے، تو معلوم ہوا یہ عبارت صحیح نہیں۔ چنانچہ ہدایہ کے دیگر نسخوں میں یہاں عِبَادَةٌ کے بعد حَتَّى کا لفظ ہے: ”وَالْكَفَّارَةُ عِبَادَةٌ حَتَّى تَتَأَدَّى بِالصَّوْمِ“، اور کفارہ عبادت ہے یہاں تک کہ یہ روزوں سے ادا ہو جاتی ہے، روزوں سے بھی ادا ہو جاتی ہے۔ تو چاہے روزے سے ادا ہو، یا چاہے دس مسکینوں کو کھانا کھلایا، یا ان کو کپڑے پہنائے، یا ایک غلام یا باندی کو آزاد کیا تمام صورتوں کے اندر نیت ضروری ہے کیونکہ کفارہ عبادت ہے۔ کفارے میں یاد رکھو دونوں پہلو ہوتے ہیں: سزا کا پہلو بھی ہے اور عبادت کا پہلو بھی ہے۔ بعض اعتبار سے دیکھیں تو یہ سزا ہے، ایک غلطی کی ہے یہ اس کی سزا ہے، اور بعض اعتبار سے دیکھیں تو یہ عبادت ہے کیونکہ اس کے اندر باقاعدہ نیت کرنی پڑتی ہے۔
عبارت سمجھ میں آگئی؟ ”وَالْكَفَّارَةُ عِبَادَةٌ حَتَّى تَتَأَدَّى بِالصَّوْمِ“، تو کہتے ہیں: ”وَالْكَفَّارَةُ عِبَادَةٌ حَتَّى تَتَأَدَّى بِالصَّوْمِ“، اور کفارہ جو ہے وہ تو عبادت ہے یہاں تک کہ یہ روزے سے ادا ہو جاتا ہے، ”وَيُشْتَرَطُ فِيهَا النِّيَّةُ“، اور کفارے کے اندر نیت بھی شرط ہے، کفارے میں نیت کرے گا تو کفارہ ادا ہوگا نیت نہیں کرے گا تو کفارہ بھی ادا نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”وَيُشْتَرَطُ فِيهَا النِّيَّةُ“، اور اس کے اندر نیت کی بھی شرط ہے، ”فَلَا تُنَاطُ بِهَا“، نَاطَ يَنُوطُ، ط ہے آخر میں ط، ظ، نَاطَ يَنُوطُ نَوْطًا کا معنیٰ ہے متعلق کرنا، وابستہ کرنا، ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ جوڑنا۔
ہم کہتے ہیں کہ یمینِ غموس وہ محضِ کبیرہ گناہ ہے لہٰذا اس کے ساتھ کفارے کا تعلق نہیں ہو سکتا۔ کفارے کے اندر سزا کا بھی پہلو ہے اور عبادت کا بھی پہلو ہے، لہٰذا اس کا تعلق اسی چیز سے ہو سکتا ہے جس میں ممانعت کا بھی پہلو ہو اور اباحت کا بھی پہلو ہو، اس میں ممنوع ہونے والا بھی پہلو ہو اور جائز ہونے والا بھی پہلو ہو۔ تو یہ کفارہ اسی چیز سے متعلق ہو سکتا ہے، اور یمینِ غموس جو ہے اس کے اندر تو ممنوع ہونے والا ہی پہلو ہے اس میں جائز ہونے کا کوئی پہلو نہیں کیونکہ وہ گناہِ کبیرہ ہے، اس کے جواز کی کوئی صورت ہی نہیں ہے، لہٰذا کفارے کا اس سے تعلق نہیں ہو سکتا۔ دلیل سمجھ میں آگئی؟
پھر عبارت دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: ”وَلَنَا“، ہماری دلیل یہ ہے کہ ”أَنَّهَا كَبِيرَةٌ مَحْضَةٌ“، کہ یہ یمینِ غموس جو ہے وہ محضِ کبیرہ گناہ ہے، ”وَالْكَفَّارَةُ عِبَادَةٌ حَتَّى تَتَأَدَّى بِالصَّوْمِ“، اور کفارہ جو ہے وہ تو عبادت ہے یہاں تک کہ وہ روزوں سے ادا ہو جاتا ہے، ”وَيُشْتَرَطُ فِيهَا النِّيَّةُ“، اور کفارے کے اندر نیت شرط ہے، ”فَلَا تُنَاطُ بِهَا“،
بِهَا، لہٰذا اس کفارے کا تعلق نہیں ہو سکتا بِهَا اس یمین غموس کے ساتھ۔ فَلَا تُنَاطُ بِهَا، اس کفارے کا تعلق یمین غموس سے نہیں ہو سکتا، کیونکہ وہ گناہ ہی گناہ ہے، وہاں کوئی جواز کا پہلو نہیں ہے بھئی۔
بِخِلَافِ الْمَعْقُوْدَةِ، بخلاف معقودہ کے یعنی یمین منعقدہ کے، وہ مباح ہے۔ آپ مستقبل کی کسی چیز کے بارے میں قسم اٹھاتے ہیں کہ واللہ میں یہ کام کروں گا، یا واللہ میں یہ کام نہیں کروں گا، تو یہ قسم مباح ہے، آپ کے لیے جائز ہے، آپ یہ قسم کھا سکتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: بِخِلَافِ الْمَعْقُوْدَةِ، بخلاف یمین منعقدہ کے، لِاَنَّهَا مُبَاحَةٌ، کیونکہ وہ تو مباح ہے۔
وَلَوْ كَانَ فِيْهَا ذَنْبٌ، یہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ اعتراض یہ کہ آپ یمین منعقدہ کو مباح کیسے قرار دے سکتے ہیں؟ کیونکہ یمین منعقدہ کو بھی جب کوئی شخص توڑے گا تو گناہ گار ہوگا، اس کو کفارہ دینا پڑے گا۔ توجہ ہے؟ تو آپ اس کو مباح کیسے قرار دے رہے ہیں؟ تو جواب دیں گے آگے صاحبِ ہدایہ کہ بھئی ایک ہے یمین منعقدہ یعنی اس قسم کو کھانا، اور ایک ہے اس کو توڑنا۔ تو یہ یمین منعقدہ کے کھانے میں کوئی گناہ نہیں ہے، کیونکہ قسم کھاتے وقت ارادہ کیا تھا؟ اس کو پورا کرنے کا۔ لیکن بعد میں جب اس نے توڑا ہے تو وہ الگ ارادے کے ساتھ توڑا ہے۔ جس وقت قسم کھائی تھی، اس وقت توڑنے کا ارادہ نہیں تھا، تو وہ الگ ارادہ ہے، تو جس وقت یمین منعقدہ کھائی اس وقت تو ارادہ گناہ کا نہیں تھا، تو معلوم ہوا یہ مباح ہے بھئی۔ اور جو بعد میں توڑے گا وہ الگ ارادہ ہے، اس کا اس کے ساتھ تعلق نہیں ہے۔
تو کہتے ہیں: وَلَوْ كَانَ فِيْهَا ذَنْبٌ، اور اگر یمین منعقدہ کے اندر بھی گناہ ہے، فَهُوَ مُتَاَخِّرٌ، تو وہ گناہ مؤخر ہے، مُتَعَلِّقٌ بِاخْتِيَارٍ مُبْتَدَاٍ، جس کا تعلق ایک نئے اختیار کے ساتھ ہے۔ نئے اختیار کے ساتھ اس نے قسم کو توڑا ہے۔
تو کہتے ہیں: وَلَوْ كَانَ فِيْهَا ذَنْبٌ، اور اگر اس یمین منعقدہ کے اندر گناہ ہے، فَهُوَ مُتَاَخِّرٌ مُتَعَلِّقٌ بِاخْتِيَارٍ مُبْتَدَاٍ، تو وہ گناہ بھی مؤخر ہے اور اس کا تعلق ایک نئے اختیار کے ساتھ ہے، نئے ارادے کے ساتھ ہے۔
وَمَا فِي الْغَمُوْسِ مُلَازِمٌ، اور وہ گناہ جو یمین غموس کے اندر ہے، مُلَازِمٌ، وہ تو اس کے ساتھ لازم ہوتا ہے۔ یمین غموس تو جب بھی کھائے گا، اس کے ساتھ ہی گناہ ملا ہوا ہے، کیونکہ یہ جھوٹی قسم کھا رہا ہے۔ تو یمین غموس کے ساتھ گناہ لازم ہے، وہ اس سے جدا نہیں ہوتا۔ جبکہ یمین منعقدہ کے اندر جب قسم کھا رہا ہے، اس وقت کوئی گناہ نہیں ہے۔ ہاں جب توڑے گا وہ اس وقت گناہ ہوگا، لیکن وہ تو الگ ارادہ ہے، قسم کھاتے وقت اس کا ارادہ نہیں ہے۔
تو کہتے ہیں: وَمَا فِي الْغَمُوْسِ مُلَازِمٌ، اور وہ گناہ جو یمین غموس میں ہے، ملازم وہ تو اس کے ساتھ لازم ہے، اس سے جدا نہیں ہوتا، فَيَمْتَنِعُ الْاِلْحَاقُ، تو لہٰذا ممتنع ہے ملانا۔ یعنی یمین غموس کو یمین منعقدہ کے ساتھ ملانا اور وہی حکم دینا یہ ممتنع ہے۔ یمین منعقدہ میں تو کفارہ آئے گا، لیکن یمین غموس میں کفارہ نہیں آ سکتا، آپ یمین غموس کو منعقدہ کے ساتھ نہیں ملا سکتے۔ تو یہ معنی ہے: فَيَمْتَنِعُ الْاِلْحَاقُ، تو لہٰذا یمین غموس کو یمین منعقدہ کے ساتھ ملانا ممتنع ہے۔
آگے دیکھیے: وَالْمُنْعَقِدَةُ مَا يَحْلِفُ عَلٰى اَمْرٍ فِي الْمُسْتَقْبَلِ، جی اب تعریف کر رہے ہیں یمین منعقدہ کی۔ ابھی تک صرف یمین غموس کی تعریف کی تھی۔ کہتے ہیں: وَالْمُنْعَقِدَةُ، اور یمین منعقدہ جو ہے، مَا يَحْلِفُ عَلٰى اَمْرٍ فِي الْمُسْتَقْبَلِ، وہ یہ کہ قسم اٹھانے والا قسم اٹھائے مستقبل کے کسی معاملے پر، اَنْ يَّفْعَلَهٗ اَوْ لَا يَفْعَلَهٗ، کہ یہ اس کو کرے گا یا نہیں کرے گا، وَاِذَا حَنِثَ فِيْ ذٰلِكَ، اور جب وہ اس کے اندر حانث ہو جائے، یعنی قسم کو توڑ دے، لَزِمَتْهُ الْكَفَّارَةُ، تو اس پر کفارہ لازم ہوگا، لِقَوْلِهٖ تَعَالٰى، اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِيْ اَيْمَانِكُمْ، کہ اللہ تعالیٰ تمہاری پکڑ نہیں فرمائیں گے تمہاری لغو قسموں پر، لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِيْ اَيْمَانِكُمْ، کہ اللہ تمہارا مؤاخذہ نہیں فرمائیں گے، اللہ تمہاری پکڑ نہیں فرمائیں گے باللغو فی أیمانکم تمہاری لغو قسموں پر، وَلٰكِنْ يُّؤَاخِذُكُمْ، لیکن اللہ تمہاری پکڑ فرمائیں گے، بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَيْمَانَ، وہ جو تم نے پکی کی ہیں اپنی قسمیں، وہ جو تم نے پختہ کی ہیں اپنی قسمیں، یا وہ جو تم نے مضبوط کی ہیں قسمیں، یعنی جن کا تم نے ارادہ کیا ہے۔
اچھا پھر ترجمہ دیکھ لیجیے بھئی: لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِيْ اَيْمَانِكُمْ وَلٰكِنْ يُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَيْمَانَ، کہ اللہ تعالیٰ تمہاری لغو قسموں پر تمہاری پکڑ نہیں فرمائیں گے، لیکن اللہ تمہاری پکڑ فرمائیں گے وہ جو تم نے پختگی کے ساتھ قسمیں اٹھائی ہیں۔
وَهُوَ مَا ذَكَرْنَا، اور یہ وہ ہے جو ہم نے ذکر کر دی۔ صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جو ذکر فرما رہے ہیں قرآن کے اندر کہ جو پختگی کے ساتھ تم نے جو قسمیں کھائی ہیں، ان پر اللہ تمہارا مؤاخذہ فرمائیں گے، اس سے مراد وہی قسم ہے جو اوپر ہم نے متن میں ذکر کر دی، یعنی وہ یمین منعقدہ مراد ہے اس سے، اس پر مؤاخذہ فرمائیں گے۔
تو کہتے ہیں: وَهُوَ مَا ذَكَرْنَا، اور یہ وہ ہے جو ہم نے ذکر کر دیا، وَالْيَمِيْنُ اللَّغْوُ، اب یمین لغو کا ذکر آگیا۔ کہتے ہیں: وَالْيَمِيْنُ اللَّغْوُ، اور یمین لغو جو ہے، اَنْ يَّحْلِفَ عَلٰى اَمْرٍ مَاضٍ، وہ یہ کہ کوئی شخص قسم اٹھائے ماضی کے کسی معاملے پر، وَهُوَ يَظُنُّ اَنَّهٗ كَمَا قَالَ، اور وہ قسم کھانے والے کا یہ گمان ہے کہ معاملہ ایسا ہی ہے جیسے کہ اس نے کہا ہے، وَالْاَمْرُ بِخِلَافِهٖ، اور حال یہ ہے کہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ مثلاً قسم کھانے والے نے قسم کھا کر کہا کہ واللہ میرے پاس اس زمانے میں زید اور عمرو دونوں آئے تھے، اور حقیقت میں تو صرف زید آیا تھا، تو لیکن یہ اپنے گمان میں سچ بول رہا ہے، اس کا یہی خیال ہے کہ اس وقت وہ دونوں ہی آئے تھے۔ تو کہتے ہیں: وَهُوَ يَظُنُّ اَنَّهٗ كَمَا قَالَ، اور حال یہ ہے کہ قسم کھانے والے کا گمان ہے کہ معاملہ ایسا ہی ہے جیسا وہ کہہ رہا ہے، وَالْاَمْرُ بِخِلَافِهٖ، اور معاملہ اس کے برعکس ہے، فَهٰذِهِ الْيَمِيْنُ، تو یہ جو قسم ہے، نَرْجُوْ، ہم امید کرتے ہیں، اَنْ لَّا يُؤَاخِذَ اللّٰهُ بِهَا صَاحِبَهَا، کہ اللہ تعالیٰ مؤاخذہ نہیں فرمائیں گے اس کی وجہ سے اس قسم والے کا۔ صاحبِ قدوری فرما رہے ہیں: ہمیں، ہم امید کرتے ہیں کہ اللہ اس قسم کھانے والے کا مؤاخذہ نہیں فرمائیں گے۔ آگے صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ یہ جو صاحبِ قدوری نے امید کو ذکر کیا: ہم امید کرتے ہیں کہ اللہ مؤاخذہ نہیں فرمائیں گے، وجہ یہ کہ یمین لغو کی تفسیر میں اختلاف ہے۔ یمین لغو کی تفسیر میں اختلاف ہے۔ بعضوں نے یہ تفسیر ذکر کی جو صاحبِ قدوری ذکر فرما رہے ہیں، کہ ایک آدمی ماضی کی کسی بات پر قسم اٹھاتا ہے اور اس کا خیال ہے معاملہ ایسا ہی ہے، لیکن معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔ اور بعضوں نے کہا کہ یمین لغو وہ ہے وہ جو کسی شخص کا تکیہ کلام ہوتا ہے، بات بات پر اس کی زبان پر ویسے ہی قسم آ جاتی ہے، اسے ایسی عادت ہو گئی ہے قسم کا لفظ بولنے کی، تو چونکہ اس یمین لغو کی تفسیر میں اختلاف ہے اس لیے صاحبِ قدوری نے کوئی قطعی بات نہیں کی بلکہ امید کو ذکر کیا کہ ہمیں امید ہے کہ اللہ اس آدمی کا مؤاخذہ نہیں فرمائیں گے۔
وَمِنَ اللَّغْوِ اَنْ يَّقُوْلَ، اور یمین لغو ہی میں سے ہے کہ کوئی شخص یوں کہے: وَاللّٰهِ اِنَّهٗ لَزَيْدٌ، صورت یہ اب ماضی کا معاملہ نہیں ہے حال کو دیکھ لو، حال کے اندر بھی یمین لغو ہو سکتی ہے۔ مثلاً ایک شخص کو دور سے ایک آدمی آتا ہوا دکھائی دیا، وہ کہتا ہے کہ واللہ یہ زید ہے، کیونکہ اس کا یہی گمان ہے کہ یہ زید ہی ہے، حالانکہ حقیقت میں وہ زید نہیں ہے بلکہ عمرو ہے، تو یہاں پر بھی یہ یمین لغو ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: وَمِنَ اللَّغْوِ اَنْ يَّقُوْلَ، اور یمین لغو میں سے ہے کہ کوئی شخص یوں کہتا ہے: وَاللّٰهِ اِنَّهٗ لَزَيْدٌ، کہ اللہ کی قسم وہ زید ہے، وَهُوَ يَظُنُّهٗ زَيْدًا، اور حال یہ ہے کہ یہ اس کو زید ہی گمان کر رہا ہے، وَاِنَّمَا هُوَ عَمْرٌو، اور حال یہ ہے کہ وہ عمرو ہے۔
وَالْاَصْلُ فِيْهِ قَوْلُهٗ تَعَالٰى، اور یمین لغو کے اندر جو اصل ہے وہ اللہ کا یہ قول ہے: لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِيْ اَيْمَانِكُمْ وَلٰكِنْ يُّؤَاخِذُكُمْ، الْآيَةَ، کہ اللہ تمہارا مؤاخذہ نہیں فرمائیں گے تمہاری لغو قسموں پر، ولکن یؤاخذکم، الآیۃ۔ تو یہ آیت جو ہے اصل ہے یمین لغو کے بارے میں۔
اِلَّا اَنَّهٗ عَلَّقَهٗ بِالرَّجَاءِ، مگر یہ کہ صاحبِ قدوری نے اس کو رجاء یعنی امید کے ساتھ معلق کیا ہے کہ امید ہے اللہ معاف فرما دیں گے، لِلِاخْتِلَافِ فِيْ تَفْسِيْرِهٖ، اس وجہ سے کہ یمین لغو کی تفسیر میں اختلاف ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
آگے دیکھیے: قَالَ: وَالْقَاصِدُ فِي الْيَمِيْنِ وَالْمُكْرَهُ وَالنَّاسِيْ سَوَاءٌ، قَالَ، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: وَالْقَاصِدُ فِي الْيَمِيْنِ، قاصد قصد سے ہے، ارادہ کرنے والا۔ صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ قسم کھانے والا چاہے اپنے باقاعدہ ارادے کے ساتھ قسم کھائے، چاہے بھولے سے اس کی زبان پر قسم کے الفاظ آ گئے، اس کی توجہ نہیں تھی اور اس نے قسم کھا لی بعد میں خیال آیا اوہو میں نے تو اس بات پر قسم کھا لی ہے، یا کسی نے زبردستی اس سے قسم کھلوائی۔ کسی نے زبردستی قسم کھلوائی، تلوار وغیرہ نکالی کہ اس بات پر قسم اٹھاؤ ورنہ، ورنہ میں تمہیں قتل کرتا ہوں یا تمہارے ہاتھ پاؤں کاٹتا ہوں، تو یاد رکھو چاہے قسم ارادے سے کھائی جائے، چاہے زبردستی کھلائی جائے، چاہے بھولے سے کھا لے، تمام صورتوں میں قسم منعقد ہو گئی۔ کسی نے تلوار نکالی کہ قسم کھا کر کہو کہ واللہ فلاں چیز میں آج نہیں کھاؤں گا، یا اس نے بھولے سے کہہ دیا، خیال نہیں تھا کہ واللہ یہ فلاں چیز آج میں نہیں کھاؤں گا، تو ان تمام صورتوں میں قسم منعقد ہو گئی۔ اور اگر اس نے اس کے خلاف کیا تو حانث ہو جائے گا اور کفارہ دینا پڑے گا۔ پھر حانث ہوتے وقت بھی، چاہے یہ ارادے سے حانث ہوا، جان بوجھ کر وہ کام کر لیا جس پر اس نے قسم کھائی تھی، یا کسی نے زبردستی وہ کام کروایا، مثلاً اس نے قسم کھائی تھی کہ واللہ یہ کھانا آج میں نہیں کھاؤں گا، پھر لوگوں نے زبردستی پکڑ کر اس کو وہ کھانا کھلا دیا، یا وہ قسم کو بھول گیا تھا اور اس نے بھول کر وہ کھانا کھا لیا، تو تمام صورتوں میں حانث ہو جائے گا۔ تو معلوم ہوا کہ قسم چاہے ارادے سے کھائے، چاہے زبردستی کھلائی جائے، چاہے بھول کر قسم کھائے، تمام صورتوں میں قسم منعقد ہو جائے گی، اور اسی طرح اگر وہ فعل جو ہے جس پر قسم کھائی تھی، وہ چاہے ارادے سے کرے، چاہے زبردستی کروایا جائے وہ فعل اس سے، چاہے یہ بھول کر اس فعل کو کرے، تمام صورتوں میں حانث بھی ہو جائے گا۔
تو کہتے ہیں: قَالَ، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: وَالْقَاصِدُ فِي الْيَمِيْنِ، اور وہ جو ارادہ کرنے والا ہے قسم میں، وَالْمُكْرَهُ، اور وہ جس پر زبردستی کی گئی ہے، وَالنَّاسِيْ، اور وہ جو بھولنے والا ہے، سَوَاءٌ، یہ سب برابر ہیں، حَتّٰى تَجِبَ الْكَفَّارَةُ، یہاں تک کہ کفارہ بھی واجب ہو جائے گا، لِقَوْلِهٖ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، بوجہ حضور علیہ السلام کے اس فرمانِ مبارک کے کہ آپ نے فرمایا: ثَلَاثٌ جِدُّهُنَّ جِدٌّ وَّهَزْلُهُنَّ جِدٌّ، یاد رکھو جِدٌّ کا معنی ہے سنجیدگی بھئی، سنجیدہ ہونا۔ ایک ہے مذاق کرنا اور ایک ہے سنجیدہ ہونا بھئی، تو جد کا معنی ہے سنجیدہ ہونا، اور ہزل کہتے ہیں مذاق کو بھئی اور غیر سنجیدگی کو۔ تو حدیث میں آتا ہے: ثَلَاثٌ جِدُّهُنَّ جِدٌّ وَّهَزْلُهُنَّ جِدٌّ، کہ تین چیزیں ایسی ہیں کہ ان میں سنجیدگی بھی سنجیدگی ہے، وھزلھن جد اور ان کے اندر مذاق بھی سنجیدگی ہے۔ تین چیزیں ایسی ہیں کہ ان میں سنجیدگی بھی سنجیدگی ہے اور مذاق بھی سنجیدگی ہے، یعنی یہ چیزیں ان میں چاہے مذاق بھی کر لیا جائے ان کا وہی حکم ہوگا جو سنجیدگی کے اندر حکم ہوتا ہے۔
تو کہتے ہیں: لِقَوْلِهٖ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، حضور علیہ السلام کے اس فرمانِ مبارک کے: ثَلَاثٌ جِدُّهُنَّ جِدٌّ وَّهَزْلُهُنَّ جِدٌّ، کہ تین چیزیں جو ہیں ان کے اندر سنجیدگی بھی سنجیدگی ہے اور مذاق بھی سنجیدگی ہے: اَلنِّكَاحُ وَالطَّلَاقُ وَالْيَمِيْنُ، ایک نکاح ہے، ایک طلاق ہے، اور ایک یمین ہے یعنی قسم ہے۔ تو نکاح جو ہے چاہے مذاق میں کیا جائے، دو گواہوں کی موجودگی میں مذاق میں ایک دوسرے سے ایجاب و قبول کر لیا مرد اور عورت نے تو یہ نکاح ہو جائے گا، تو سنجیدگی سے بھی نکاح ہو جاتا ہے اور مذاق میں بھی نکاح ہو جائے گا جب اس کی شرائط پوری ہوں بھئی۔ اور اسی طرح طلاق جو ہے وہ سنجیدگی کے اندر دے گا تو بھی طلاق ہو جائے گی اور اگر مذاق مذاق میں بیوی کو طلاق دی تو تب بھی ہو جائے گی۔ اور اسی طرح قسم ہے، چاہے سنجیدگی سے قسم کھائے تب بھی منعقد ہو جائے گی اور مذاق میں قسم کھائے تو بھی وہ منعقد ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں وہ تین چیزیں جو ہیں اَلنِّكَاحُ وَالطَّلَاقُ وَالْيَمِيْنُ، وہ نکاح اور طلاق اور قسم ہیں۔
وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰى يُخَالِفُنَا فِيْ ذٰلِكَ، اور امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ اس کے اندر ہماری مخالفت کرتے ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ اس میں ہماری مخالفت کرتے ہیں، اس کا تعلق حدیث سے نہیں ہے بھئی، اس کا تعلق وہ متن سے ہے، جو مسئلے متن میں ذکر ہوئے، کہ ارادے سے قسم کوئی کھائے، چاہے زبردستی قسم کھلائی جائے، چاہے بھول کر قسم کھائے، تینوں صورتوں میں قسم منعقد ہو جاتی ہے، تو امام شافعی رحمہ اللہ ہمارے ساتھ اس میں اختلاف کرتے ہیں۔ ارادے سے کوئی قسم کھائے پھر تو وہ بھی کہتے ہیں کہ قسم ہو گئی کیونکہ ارادہ تو ضروری ہے۔ البتہ مکرہ اور ناسی کے اندر وہ اختلاف کرتے ہیں کہ زبردستی قسم کھلائی جائے یا بھولے سے قسم کھا لے تو وہ منعقد نہیں ہوگی۔
تو کہتے ہیں: وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰى يُخَالِفُنَا فِيْ ذٰلِكَ، اور امام شافعی رحمہ اللہ مخالفت کرتے ہیں اس میں ہماری، وَسَنُبَيِّنُ فِي الْاِكْرَاهِ اِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰى، اور عنقریب ہم اس کو کتاب الاکراہ کے اندر ان شاء اللہ تعالیٰ بیان کریں گے۔
وَمَنْ فَعَلَ الْمَحْلُوْفَ عَلَيْهِ مُكْرَهًا اَوْ نَاسِيًا فَهُوَ سَوَاءٌ، اب وہی بات آگئی جو میں نے بیان کر دی۔ کہ قسم ارادے سے کھائی جائے پھر بھی ہو جاتی ہے، زبردستی کھلائی جائے پھر بھی ہو جائے گی، اور بھول کر قسم کھائے گا تب بھی منعقد ہو جائے گی۔ اور اسی طرح اگر وہ جو کام تھا وہ محلوف علیہ، وہ چیز جس پر قسم کھائی تھی کہ میں یہ کام نہیں کروں گا یا یہ کام میں ضرور کروں گا، تو وہ جو محلوف علیہ ہے، وہ کام جس پر اس نے قسم اٹھائی ہے، وہ چاہے اپنے ارادے سے کرے، چاہے زبردستی کروایا جائے، چاہے بھولے سے کرے، تمام صورتوں میں یہ حانث ہو جائے گا اور اس کو کفارہ دینا پڑے گا۔ تو یہ بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: وَمَنْ فَعَلَ الْمَحْلُوْفَ عَلَيْهِ، اور جس نے وہ محلوف علیہ فعل کر لیا، مُكْرَهًا، اس حال میں کہ اس پر زبردستی کی گئی تھی، اَوْ نَاسِيًا، یا بھول کر، فَهُوَ سَوَاءٌ، تو یہ برابر ہے، یعنی اس کے اندر ارادے والا اور یہ بھولنے والا اور مکرہ سب برابر ہیں بھئی۔
بھئی کیا وجہ ہے یہ سب برابر کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ قسم منعقد ہو چکی ہے، اور حانث کب ہوگا؟ جب وہ فعل پایا جائے جس پر اس نے قسم کھائی تھی کہ یہ فعل میں نہیں کروں گا۔ تو جب یہ فعل پایا جائے گا تو یہ حانث ہو جائے گا۔ تو چاہے کوئی زبردستی یہ فعل کروائے، فعل تو پایا گیا، چاہے بھول کر یہ فعل کرے، فعل تو پایا گیا، فعل تو حسی ہے، آنکھوں سے نظر آ رہا ہے، ہم نے مشاہدہ کیا ہے اس نے یہ والا فعل کیا ہے، تو وہ فعل جیسے ہی پایا جائے گا یہ شخص حانث ہو جائے گا۔
تو کہتے ہیں: لِاَنَّ الْفِعْلَ الْحَقِيْقِيَّ لَا يَنْعَدِمُ بِالْاِكْرَاهِ، اس لیے کیونکہ فعلِ حقیقی وہ معدوم نہیں ہوتا اکراہ کی وجہ سے۔ چاہے اکراہ ہی ہے لیکن اس نے ایک فعل کیا تو ہے، ہم نے خود اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا ہے کہ اس نے وہ والا فعل کیا ہے، وَهُوَ الشَّرْطُ، اور وہی فعل تو شرط تھا حانث ہونے کے لیے۔ وہی فعل تو حانث ہونے کے لیے شرط تھا، تو وہ فعل پایا گیا تو یہ حانث ہو گیا بھئی۔
تو کہتے ہیں: لِاَنَّ الْفِعْلَ الْحَقِيْقِيَّ لَا يَنْعَدِمُ بِالْاِكْرَاهِ وَهُوَ الشَّرْطُ، اس لیے کیونکہ فعلِ حقیقی جو ہے وہ معدوم نہیں ہوتا اکراہ کی وجہ سے، اور وہ فعلِ حقیقی ہی تو شرط ہے یعنی حانث ہونے کے لیے، وَكَذَا اِذَا فَعَلَهٗ وَهُوَ مُغْمًى عَلَيْهِ اَوْ مَجْنُوْنٌ، اور اسی طرح ہے حکم جب وہ اس فعل کو کرے اس حال میں کہ یہ بے ہوش ہو یا مجنون ہو۔ یہ بے ہوش ہو یا مجنون ہو، چاہے بے ہوشی کی حالت میں اس نے وہ کام کر لیا، چاہے جنون کی حالت میں اس نے وہ کام کر لیا، تو بھی وہ فعل تو پایا گیا۔ جب فعل پایا گیا تو یہ حانث ہو گیا، اس کو کفارہ دینا پڑے گا۔
تو کہتے ہیں: وَكَذَا اِذَا فَعَلَهٗ وَهُوَ مُغْمًى عَلَيْهِ اَوْ مَجْنُوْنٌ، اور اسی طرح ہے حکم جب یہ اس فعل کو کر لے اس حال میں کہ یہ بے ہوش ہو یا مجنون ہو، لِتَحَقُّقِ الشَّرْطِ حَقِيْقَةً، بوجہ شرط کے پائے جانے کے حقیقۃً، کہ حقیقۃً شرط پائی گئی بھئی۔
وَلَوْ كَانَتِ الْحِكْمَةُ رَفْعَ الذَّنْبِ، اگرچہ حکمت جو ہے وہ گناہ کو اٹھانا ہے۔ یہ کفارہ کیوں واجب کیا جاتا ہے؟ کیونکہ اس نے اللہ کے نام کی بے حرمتی کی ہے، تو لہٰذا اس پر بطورِ سزا کے اور جرمانے کے کفارہ آ گیا بھئی۔ تو کفارے کی حکمت کیا ہے؟ کہ یہ گناہ کو اٹھا دیتا ہے، اس کی وجہ سے اب وہ گناہ ختم ہو جائے گا۔ تو کفارے کی حکمت کیا ہے؟ کہ یہ گناہ کو اٹھا دیتا ہے۔ تو صاحبِ ہدایہ اب ذکر فرما رہے ہیں کہ اگر کوئی شخص بے ہوش ہو یا مجنون ہو اور وہ اس فعل کو کر لے تو بھی وہ حانث ہو جائے گا۔ اگرچہ بے ہوش اور مجنون کا تو کوئی اختیار نہیں ہے، ان پر تو گناہ ہوتا ہی نہیں ہے۔ ان پر تو گناہ ہوتا ہی نہیں ہے اور کفارے کی حکمت تو کیا تھی؟ کہ یہ گناہ کو ختم کر دیتا ہے، اور بے ہوش اور مجنون کا تو کوئی اس کام میں گناہ ہی نہیں، کیونکہ ان کو ہوش اور عقل نہیں ہے۔ تو اس کا اب جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ اگرچہ کفارہ جو ہے اس کی حکمت جو ہے گناہ کو ختم کرنا ہے، لیکن اس حکم کا مدار اس کی دلیل پر ہوگا، یہ جو کفارہ واجب ہوتا ہے اس کا مدار اس کی دلیل پر ہوگا، اور اس کفارے کی دلیل کیا ہے؟ کس وجہ سے کفارہ واجب ہوتا ہے؟ حانث ہو جانے کی وجہ سے جب وہ قسم کو توڑ دے گا بھئی۔ تو لہٰذا یہاں پر یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ گناہ ہے یا نہیں، بس حکم کا مدار دلیل پر ہو جائے گا، جب دلیل پائی جائے گی تو ہم حانث ہونے کا حکم لگا دیں گے۔ اگرچہ کفارے کے اندر حکمت یہ ہے کہ وہ گناہ کو ختم کر دیتا ہے، اگرچہ یہ حکمت ہے اس کی، لیکن اب حکم کا مدار کس پر ہو گیا؟ دلیل پر ہو گیا، اور دلیل جب بھی پائی جائے گی یہ حکم آ جائے گا، یہ حکم آ جائے گا یعنی کفارہ واجب ہو جائے گا، تو دلیل کیا ہے کفارہ واجب ہونے کی؟ حانث ہونا، تو حانث ہونا جب بھی پایا جائے گا کفارہ آ جائے گا، کیونکہ اب اس حکم کا مدار دلیل پر ہے، گناہ ہونے یا نہ ہونے کو نہیں دیکھا جائے گا۔
یہ معنی ہے: وَلَوْ كَانَتِ الْحِكْمَةُ رَفْعَ الذَّنْبِ، اگرچہ کفارے کی جو حکمت ہے وہ گناہ کو اٹھانا ہے، گناہ کو ختم کرنا ہے، فَالْحُكْمُ يُدَارُ عَلٰى دَلِيْلِهٖ، تو اس حکم کا مدار اس کی دلیل پر ہوگا، یعنی وجوبِ کفارہ کا مدار اس کی دلیل پر ہوگا، وَهُوَ الْحِنْثُ، اور وہ حانث ہونا ہے، لَا عَلٰى حَقِيْقَةِ الذَّنْبِ، نہ کہ حقیقی گناہ پر۔ اب اس حکم کا مدار حقیقی گناہ پر نہیں ہوگا بلکہ دلیل پر ہوگا، اور دلیل پائی جائے گی تو کفارہ واجب ہو جائے گا۔ اب یہ شخص بے شک بے ہوش ہے یا مجنون ہے لیکن دلیل تو پائی گئی، حانث ہونا تو پایا گیا تو کفارہ بھی واجب ہوگا اگرچہ گناہ نہیں ہوا بھئی۔
آگے دیکھیے: بَابُ مَا يَكُوْنُ يَمِيْنًا وَّمَا لَا يَكُوْنُ يَمِيْنًا، بَابُ مَا يَكُوْنُ يَمِيْنًا، ما سے مراد ہیں الفاظ، بَابُ مَا، یہ باب ہے ان الفاظ کے بیان میں، يَكُوْنُ يَمِيْنًا، جو قسم ہوتے ہیں، وَمَا لَا يَكُوْنُ يَمِيْنًا، اور جو قسم نہیں ہوتے۔ بھئی اب کن لفظوں سے قسم منعقد ہوگی اور کن لفظوں سے قسم منعقد نہیں ہوگی؟ مثلاً ایک شخص کہتا ہے: وَاللّٰهِ، میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں، تو یاد رکھو اس سے قسم منعقد ہو جائے گی۔ لیکن اگر کوئی شخص کہتا ہے: وَعِلْمِ اللّٰهِ، میں اللہ کے علم کی قسم کھاتا ہوں، تو کہتے ہیں قسم منعقد نہیں ہوگی بھئی۔ تو اس باب کے اندر صاحبِ ہدایہ وہ الفاظ بیان فرمائیں گے کہ جن سے قسم منعقد ہو جاتی ہے، اور وہ الفاظ بیان فرمائیں گے جن سے قسم منعقد نہیں ہوتی۔ تو کہتے ہیں: بَابُ مَا يَكُوْنُ يَمِيْنًا وَّمَا لَا يَكُوْنُ يَمِيْنًا، یہ باب ہے ان الفاظ کے بیان میں جو یمین ہو سکتے ہیں اور جو یمین نہیں ہو سکتے۔
قَالَ: وَالْيَمِيْنُ بِاللّٰهِ اَوْ بِاسْمٍ اٰخَرَ مِنْ اَسْمَاءِ اللّٰهِ تَعَالٰى كَالرَّحْمٰنِ وَالرَّحِيْمِ اَوْ بِصِفَةٍ مِّنْ صِفَاتِهٖ الَّتِيْ يُحْلَفُ بِهَا عُرْفًا كَعِزَّةِ اللّٰهِ وَجَلَالِهٖ وَكِبْرِيَائِهٖ، بھئی یاد رکھو، ایک ہے اللہ کے نام کی قسم کھانا اور ایک ہے اللہ کی صفات کی قسم کھانا۔ تو اللہ کے نام کی بھی قسم کھائی جائے تو قسم منعقد ہو جائے گی، چاہے وہ اسمِ ذاتی ہو جو اللہ کی ذات کا نام ہے یعنی لفظِ اللہ، یعنی لفظِ اللہ کے ساتھ قسم کھائے گا تو قسم منعقد ہو جائے گی کہ واللہ میں یہ قسم کھاتا ہوں یا اللہ کی قسم میں اس بات پر قسم کھاتا ہوں۔ اور اسی طرح اگر اللہ کا کوئی دوسرا صفاتی نام ذکر کر دیا کہ رحمان کی قسم، رحیم کی قسم، عزیز کی قسم، جبار کی قسم، تو یہ اللہ کے اسماء ہیں، تو ان کے ساتھ بھی قسم منعقد ہو جائے گی۔ اور اسی طرح اللہ کی صفات میں سے کسی صفت کے ساتھ قسم اٹھائی، اللہ کے نام کے ساتھ نہیں بلکہ اللہ کی صفت کے ساتھ، یعنی یہاں صفت سے مراد ہے مصدر بھئی، کیا مراد ہے؟ مصدر، جیسے اللہ کی عزت کی قسم۔ اسی عزت سے اللہ کا اسم ہے العزیز، عزت والا یا زبردست بھئی، تو دیکھو العزیز وہ ہے اسم اللہ کا، اور عزت یہ ہے اللہ کی صفت بھئی۔ تو اگر کوئی شخص اللہ کی صفت کی قسم اٹھاتا ہے کہ اللہ کی عزت کی قسم، یا اللہ کی عظمت کی قسم، تو عظمت بھی اللہ کی صفت ہے، یا اللہ کے جلال کی قسم، جلال کا معنی بھی عظمت اور بلندیِ مرتبہ، اللہ کے جلال کی قسم یعنی اللہ کی عظمت کی قسم، یا اسی طرح کہتا ہے اللہ کی کبریائی کی قسم، کبریائی کا معنی بھی ہے عظمت اور بڑائی، تو چاہے اللہ کے اسمِ ذاتی کے ساتھ قسم اٹھائے یعنی لفظِ اللہ کو ذکر کرے، یا اللہ کے اسمِ صفاتی کو ذکر کرے جیسے الرحمٰن الرحیم وغیرہ ہے، یا اللہ کی کسی صفت کو ذکر کرے، تو ان تمام صورتوں میں قسم منعقد ہو جائے گی۔ اور یہ قیمتی ضابطہ یاد رکھنا، یاد رکھو قسم کا مدار عرف پر ہے، یعنی عام لوگوں کی عادت کو دیکھا جائے گا، عام لوگوں کے رواج کو دیکھا جائے گا، عام لوگوں کے اندر جس جس قسم کا رواج ہے وہ قسم کھائے گا تو وہ منعقد ہو جائے گی، اور جس کا رواج نہیں ہے تو وہ قسم بھی منعقد نہیں ہوگی، جیسے وَعِلْمِ اللّٰهِ، میں اللہ کے علم کی قسم کھاتا ہوں، تو اس کا تو لوگوں میں رواج نہیں ہے، لہٰذا اس سے قسم منعقد نہیں ہوگی بھئی۔
تو کہتے ہیں: قَالَ، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: وَالْيَمِيْنُ بِاللّٰهِ، اور قسم جو ہے وہ اللہ کے اس نام کے ساتھ ہوگی یعنی لفظِ اللہ کے ساتھ ہوگی، اَوْ بِاسْمٍ اٰخَرَ مِنْ اَسْمَاءِ اللّٰهِ تَعَالٰى، یا اللہ کے ناموں میں سے کسی اور اسم کے ساتھ ہو تو بھی یمین ہو جائے گی، كَالرَّحْمٰنِ وَالرَّحِيْمِ، جیسے کہ الرحمٰن اور الرحیم ہے، اَوْ بِصِفَةٍ مِّنْ صِفَاتِهٖ الَّتِيْ يُحْلَفُ بِهَا عُرْفًا، اور اسی طرح قسم ہو جائے گی اللہ کی صفات میں کسی ایسی صفت کے ساتھ جس پر عرف میں قسم کھائی جاتی ہے، اللہ کی کوئی ایسی صفت ذکر کر دی جس پر قسم کھانے کا رواج ہے، لوگوں میں رائج ہے۔ تو کہتے ہیں: اَوْ بِصِفَةٍ مِّنْ صِفَاتِهٖ، اور اسی طرح قسم ہوتی ہے اللہ کی صفات میں کسی ایسی صفت کے ساتھ، الَّتِيْ يُحْلَفُ بِهَا عُرْفًا، جس کے ساتھ عرف میں یعنی عام لوگوں میں قسم کھائی جاتی ہے، كَعِزَّةِ اللّٰهِ، جیسے کہ اللہ کی عزت، وَجَلَالِهٖ، اور اللہ کی عظمت، وَكِبْرِيَائِهٖ، اور اللہ کی بڑائی بھئی، تو ان سب سے قسم منعقد ہو جائے گی۔
لِاَنَّ الْحَلْفَ بِهَا مُتَعَارَفٌ، کیونکہ ان کے ساتھ قسم کھانا متعارف ہے، رائج ہے، لوگوں کے درمیان رائج ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا قسم کا دار و مدار عرف پر ہے، عام لوگوں کے اندر جب ایک قسم رائج ہے تو وہ قسم کھائے گا تو قسم منعقد ہو جائے گی بھئی۔ لیکن یہ یاد رکھنا بھئی، یہ خالق کی بات چل رہی ہے۔ یاد رکھو مخلوق کے لیے خالق کے علاوہ کسی اور کی قسم اٹھانا جائز نہیں ہے۔ تو یہ جو ذکر ہوا کہ ان کا رواج ہو، اس کا تعلق یہ صفات سے ہے، اللہ کے اسمِ ذاتی کے ساتھ قسم اٹھاتا ہے یعنی لفظِ اللہ ذکر کرتا ہے قسم میں، یا اللہ کے ناموں میں سے کسی نام کو ذکر کرتا ہے تو پھر قسم ہر حال میں منعقد ہو جائے گی، لیکن اگر اللہ کی صفت کو ذکر کرتا ہے تو صفت کے معاملے میں لوگوں کے اندر رواج کو دیکھا جائے گا کہ لوگوں میں یہ قسم رائج ہے یا رائج نہیں ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے: لِاَنَّ الْحَلْفَ بِهَا مُتَعَارَفٌ، اس لیے کیونکہ ان صفات کے ساتھ قسم جو ہے وہ متعارف ہے۔
آگے دیکھیے، کہتے ہیں: وَمَعْنَى الْيَمِيْنِ وَهُوَ الْقُوَّةُ حَاصِلٌ، اور یمین کا جو معنی ہے وَهُوَ الْقُوَّةُ اور وہ قوت ہے بھئی، میں نے آپ کو بتلایا تھا یمین کا معنی ہے قوت اور طاقت۔ قوت اور طاقت، تو یہاں پر بھی دیکھو جب یہ اللہ کی صفات کی قسم اٹھاتا ہے اور قسم ایسی ہے کہ لوگوں میں متعارف بھی ہے، لوگ اس قسم کی قسم کھاتے ہیں، ان میں رواج ہے، تو پھر اس صورت میں قسم منعقد ہو جائے گی۔ تو اس قسم کی قسم کا مدار عرف پر ہوتا ہے، لیکن ساتھ اب تائید کے طور پر ایک اور بات بھی صاحبِ ہدایہ ذکر کر رہے ہیں اور وہ یہ کہ اللہ کی کسی ایسی صفت پر جب وہ قسم اٹھائے گا تو اس کی وجہ سے اس کی بات میں قوت آ جائے گی، کیونکہ یہ شخص مسلمان ہے یہ اللہ کی ذات کی بھی تعظیم کرتا ہے اور اللہ کی صفات کی بھی تعظیم کرتا ہے، تو جب اس نے اللہ کی صفت کے ساتھ قسم اٹھائی ہے تو یہ صلاحیت رکھتی ہے یہ قسم کہ اس کو اس کام سے روک دے اگر اس نے رکنے کی قسم کھائی ہے، اور اگر اس نے کسی کام کے کرنے کی قسم کھائی ہے تو یہ قسم جو ہے اس کو اس کام کے کرنے پر ابھارے گی بھئی۔
تو کہتے ہیں: وَمَعْنَى الْيَمِيْنِ وَهُوَ الْقُوَّةُ حَاصِلٌ، اور اس قسم کے اندر جو ہے یمین کا جو معنی ہے وَهُوَ الْقُوَّةُ اور وہ قوت اور طاقت ہے، حَاصِلٌ وہ بھی حاصل ہے، جب وہ اللہ کی صفت کی قسم اٹھائے گا تو اس میں قوت والا معنی بھی آ جائے گا، لِاَنَّهٗ يَعْتَقِدُ تَعْظِيْمَ اللّٰهِ وَصِفَاتِهٖ، اس لیے کیونکہ یہ جو قسم کھانے والا ہے یہ اللہ کی تعظیم اور اللہ کی صفات کی تعظیم کا اعتقاد رکھتا ہے کیونکہ یہ مسلمان ہے، فَصَلُحَ ذِكْرُهٗ حَامِلًا وَّمَانِعًا، تو یہ اللہ کے نام اور صفت کو ذکر کرنا یہ صلاحیت رکھتا ہے، حَامِلًا کہ یہ اس کو اس کام پر ابھارنے والا ہو اگر اس نے اس کام کے کرنے کی قسم کھائی ہے تو یہ ذکر اس کو ابھارنے کی صلاحیت رکھتا ہے، وَمَانِعًا اور اسی طرح اللہ کے نام یا صفت کا ذکر جو ہے یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ اس کو روک دے۔ بھئی دیکھو نا بعض اوقات قسم کھائی جاتی ہے کسی کام کے کرنے پر کہ یہ کام میں ضرور کروں گا، تو یہ اللہ کے نام یا اللہ کی صفت کی قسم کھائی ہے تو یہ قسم اس کو ابھارنے والی ہے، اور اگر اس نے کسی کام سے رکنے کی قسم کھائی ہے تو یہ اللہ کا نام یا اللہ کی صفت اس کو روکنے والی بنے گی، تو دیکھو اس قسم کی وجہ سے اس کے کلام میں قوت آ گئی اور یمین کا بھی کیا معنی ہے؟ قوت ہی ہے۔ یہ معنی ہے: فَصَلُحَ ذِكْرُهٗ حَامِلًا وَّمَانِعًا، تو لہٰذا یہ اللہ کے نام یا صفت کو ذکر کرنا صلاحیت رکھتا ہے، حَامِلًا وَّمَانِعًا کہ یہ ابھارنے والا ہو اور منع کرنے والا ہو۔
آگے دیکھیے: قَالَ: اِلَّا قَوْلَهٗ: وَعِلْمِ اللّٰهِ فَاِنَّهٗ لَا يَكُوْنُ يَمِيْنًا، قَالَ، قال سے مراد صاحبِ قدوری ہیں۔ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: اِلَّا قَوْلَهٗ: وَعِلْمِ اللّٰهِ، بھئی میری کتاب میں علم کے اوپر پیش ہے بھئی: وَعِلْمُ اللّٰهِ، نہیں بھئی یہ درست نہیں ہے، یہ واو قسمیہ ہے اور واو قسمیہ جو ہے وہ جر دیتا ہے: وَعِلْمِ اللّٰهِ، قسموں کی بات چل رہی ہے نا، یہ واو عاطفہ تو نہیں ہے یہ واو تو قسمیہ ہے، قسم کے لیے ہے اور وہ جر دیتا ہے، تو کہتے ہیں: وَعِلْمِ اللّٰهِ۔ صاحبِ قدوری نے بتلایا تھا کہ اللہ کی صفات کی قسم اٹھائے گا تو وہ بھی قسم ہے، اِلَّا قَوْلَهٗ: وَعِلْمِ اللّٰهِ، مگر اس کہنے والے کا یہ قول: وَعِلْمِ اللّٰهِ، فَاِنَّهٗ لَا يَكُوْنُ يَمِيْنًا، کیونکہ یہ یمین نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: قَالَ، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: اِلَّا قَوْلَهٗ، مگر قسم اٹھانے والے کا یہ قول جو ہے: وَعِلْمِ اللّٰهِ، کہ میں اللہ کے علم کی قسم کھاتا ہوں، فَاِنَّهٗ لَا يَكُوْنُ يَمِيْنًا، یہ قسم نہیں ہوگی، لِاَنَّهٗ غَيْرُ مُتَعَارَفٍ، کیونکہ یہ متعارف نہیں ہے، لوگوں میں رائج نہیں ہے بھئی، وَلِاَنَّهٗ يُذْكَرُ وَيُرَادُ بِهِ الْمَعْلُوْمُ، دوسری وجہ بھی ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ علم کو ذکر کیا جاتا ہے اور مراد معلوم ہوتا ہے۔ اور مراد معلوم، آپ نے پڑھا ہے کہ مصدر کبھی اسمِ فاعل کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی اسمِ مفعول، تو یہ علم بمعنی معلوم کے عام استعمال ہوتا ہے، تو کہتے ہیں: وَلِاَنَّهٗ يُذْكَرُ وَيُرَادُ بِهِ الْمَعْلُوْمُ، اور اس لیے کیونکہ علم ذکر کیا جاتا ہے اور اس کے ذریعے معلوم کا ارادہ ہوتا ہے۔ علم تو اللہ کی صفت ہے اور معلوم، معلوم تو اللہ کے علاوہ اور چیز ہے بھئی، لہٰذا اس صورت میں تو غیر اللہ کی قسم ہو جائے گی اور غیر اللہ کی قسم تو جائز نہیں، مخلوق کے لیے اللہ کے علاوہ کسی اور کی قسم کھانا جائز نہیں ہے بھئی، تو کہتے ہیں: وَلِاَنَّهٗ يُذْكَرُ وَيُرَادُ بِهِ الْمَعْلُوْمُ، اس لیے کیونکہ علم کو ذکر کیا جاتا ہے اور اس سے مراد معلوم ہوتا ہے، يُقَالُ، کہتے ہیں یعنی عربی زبان میں کہتے ہیں: اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ عِلْمَكَ فِيْنَا، اے اللہ! معاف فرما دے علمک فینا آپ کا جو علم ہے ہم میں، یعنی ہمارے بارے میں جو آپ کا علم ہے تو علم سے مراد معلوم ہے، اے اللہ! آپ معاف فرما دیں ہمارے بارے میں آپ کو جو معلوم ہے، یعنی ہمارے جو بھی گناہ آپ کو معلوم ہیں اے اللہ وہ سب معاف فرما دے، تو کہتے ہیں: يُقَالُ، کہا جاتا ہے: اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ عِلْمَكَ فِيْنَا، کہ اے اللہ آپ کا جو علم ہے ہمارے بارے میں اس کو معاف کر دیجیے، اَيْ مَعْلُوْمَكَ، یعنی آپ کو جو ہمارے بارے میں معلوم ہے اس کو معاف فرما دیجیے، وَلَوْ قَالَ: وَغَضَبِ اللّٰهِ وَسَخَطِهٖ لَمْ يَكُنْ حَالِفًا، بھئی ایک شخص نے اللہ کے غضب کی قسم اٹھائی یا اللہ کی ناراضگی کی قسم اٹھائی کہ میں اللہ کے غضب کی قسم اٹھاتا ہوں یا میں اللہ کی ناراضگی کی قسم اٹھاتا ہوں تو یہ قسم نہیں ہے بھئی، یہ قسم منعقد نہیں ہے بھئی، کیونکہ یہ لوگوں میں متعارف نہیں ہے، لوگ اس قسم کی قسمیں نہیں کھاتے۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ قَالَ، اور اگر قسم کھانے والے نے کہا: وَغَضَبِ اللّٰهِ، میں قسم کھاتا ہوں اللہ کے غضب کی...
غضب کی، اللہ کی ناراضگی کی، ”وَسَخَطِهِ“۔ سَخَط، اس میں سین اور خا دونوں پر فتحہ بھی پڑھ سکتے ہیں اور سین پر پیش پڑھیں اور خا کو ساکن پڑھیں، سُخْت بھئی۔ سَخَط اور سُخْت دونوں طرح پڑھنا ٹھیک ہے بھئی۔ تو سخط کا معنی بھی ناراضگی ہے بھئی۔ ”وَسَخَطِهِ“ اور اللہ کی ناراضگی کی میں قسم اٹھاتا ہوں، ”لَمْ يَكُنْ حَالِفًا“ تو یہ قسم اٹھانے والا نہیں۔ ”وَكَذَا وَرَحْمَةِ اللَّهِ“ اور اسی طرح ہے اللہ کی رحمت کی قسم، ”وَرَحْمَةِ اللَّهِ“ میں اللہ کی رحمت کی قسم کھاتا ہوں، تو یہ لوگوں میں متعارف نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا وَرَحْمَةِ اللَّهِ“ اور اسی طرح ہے اللہ کی رحمت کی قسم بھی، یعنی وہ بھی منعقد نہیں ہوگی، ”لِأَنَّ الْحَلِفَ بِهَا غَيْرُ مُتَعَارَفٍ“ اس لیے کیونکہ ان کے ساتھ قسم اٹھانا لوگوں میں متعارف نہیں ہے، ”وَلِأَنَّ الرَّحْمَةَ قَدْ يُرَادُ بِهَا أَثَرُهَا“ اور اس لیے کیونکہ رحمت سے مراد کبھی اس رحمت کا اثر ہوتا ہے، اس رحمت کا اثر ہوتا ہے، ”وَهُوَ الْمَطَرُ أَوِ الْجَنَّةُ“ اور وہ بارش ہے یا جنت ہے۔
تو ورحمۃ اللہ کا معنی رحمت سے مراد اگر بارش لیں، میں اللہ کی بارش کی قسم کھاتا ہوں، یا جنت مراد لیں تو میں اللہ کی جنت کی قسم کھاتا ہوں، یہ تو اللہ کے علاوہ کی قسم ہو گئی اور مخلوق کے لیے خالق کے علاوہ کسی اور کی قسم جائز نہیں ہے۔ تو یہ متعارف بھی نہیں ہے اور نیز خالق کے علاوہ کی قسم بھی ہو جائے گی یہ تو یہ جائز نہیں۔
تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الرَّحْمَةَ قَدْ يُرَادُ بِهَا أَثَرُهَا“ اور اس لیے کیونکہ رحمت جو ہے اس کے ذریعے کبھی اس رحمت کا اثر مراد ہوتا ہے، تو رحمت اللہ کی صفت ہے اور جو اللہ ہم کو انعامات دیتے ہیں، ہمیں نعمتیں دیتے ہیں، یہ اس رحمت کا اثر ہے بھئی۔ تو رحمت بول کر کبھی اس کا اثر مراد لیا جاتا ہے۔
تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الرَّحْمَةَ قَدْ يُرَادُ بِهَا أَثَرُهَا“ اور اس لیے کیونکہ رحمت جو ہے کبھی کبھار اس کے ذریعے اس کے اثر کا ارادہ کیا جاتا ہے، ”وَهُوَ الْمَطَرُ أَوِ الْجَنَّةُ“ اور وہ اثر جو ہے وہ بارش یا جنت ہے، ”وَالْغَضَبُ وَالسَّخَطُ يُرَادُ بِهِمَا الْعُقُوبَةُ“ اور غضب اور سخط، دونوں کا معنی ہے ناراضگی، اور غضب اور ناراضگی جو ہے، ”يُرَادُ بِهِمَا الْعُقُوبَةُ“ ان کے ذریعے سزا مراد ہوتی ہے۔ عقوبت کسے کہتے ہیں؟ سزا کو، عذاب کو۔ تو ان کے ذریعے سزا مراد ہوتی ہے، تو یہ بھی اللہ کے علاوہ کی قسم بن جائے گی اس صورت میں، اس لیے بھی یہ جائز نہیں ہے بھئی۔
”وَمَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ لَمْ يَكُنْ حَالِفًا كَالنَّبِيِّ وَالْكَعْبَةِ“۔ میں نے آپ کو بتلایا اللہ کے علاوہ کسی اور کی قسم جائز نہیں ہے، وہی اب ذکر کر رہے ہیں: ”وَمَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ“ اور جس نے قسم اٹھا لی اللہ کے علاوہ کی، ”لَمْ يَكُنْ حَالِفًا“ تو یہ قسم اٹھانے والا نہیں، ”كَالنَّبِيِّ وَالْكَعْبَةِ“ جیسے کہ نبی ہے اور کعبہ ہے۔ ایک شخص قسم کھاتا ہے: میں نبی کی قسم کھاتا ہوں، یا میں کعبے کی قسم کھاتا ہوں، تو یہ تو غیر اللہ کی قسم کھا رہا ہے، یہ جائز نہیں ہے بھئی۔
غیر اللہ کی قسم کھانا، اس کو بعض علماء نے شرک قرار دیا ہے۔ بعض علماء نے اسے شرک قرار دیا ہے، کیونکہ قسم کھائی جاتی ہے اللہ کی تعظیم کے طور پر، تو یہ جب اللہ کے علاوہ کسی اور کی قسم کھا رہا ہے تو معلوم ہوا اس کو بھی وہ اللہ کی طرح اونچا مقام دے رہا ہے، تو اس لیے اس کو بعض علماء نے شرک قرار دیا ہے۔ لیکن، لیکن یہ وہ شرک نہیں ہے جس کی وجہ سے انسان دائرۂ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے، بلکہ یہ ہلکے درجے کا شرک ہے، شرک ہی کی ایک نوع کہہ لیں، یوں کہہ لیں شرک کی ایک چھوٹی قسم ہے یہ بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ لَمْ يَكُنْ حَالِفًا كَالنَّبِيِّ وَالْكَعْبَةِ“ اور جس نے اللہ کے علاوہ کی قسم کھائی تو وہ قسم کھانے والا نہیں ہے، جیسے کہ نبی اور کعبہ ہے، ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے کہ آپ نے فرمایا: ”مَنْ كَانَ مِنْكُمْ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ أَوْ لِيَذَرْ“ کہ جو شخص تم میں سے قسم کھانے والا ہے تو اسے چاہیے کہ اللہ کی قسم کھائے، ”أَوْ لِيَذَرْ“ یا اسے چاہیے کہ چھوڑ دے، یعنی خاموش رہے، قسم نہ کھائے۔ اگر وہ قسم کھانا چاہتا ہے تو اللہ کی قسم کھائے یا قسم کو چھوڑ دے یعنی خاموش رہے۔ تو کہتے ہیں حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”مَنْ كَانَ مِنْكُمْ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ أَوْ لِيَذَرْ“ کہ تم میں سے جو شخص قسم اٹھائے تو اسے چاہیے کہ اللہ کی قسم اٹھائے یا اس قسم کو چھوڑ دے۔
”وَكَذَا إِذَا حَلَفَ بِالْقُرْآنِ“ اور اسی طرح ہے حکم جب اس نے قرآن کی قسم اٹھائی۔ یعنی اگر کوئی شخص قرآن کی قسم اٹھاتا ہے تو یہ غیر اللہ کی قسم اٹھا رہا ہے، لہٰذا یہ قسم منعقد نہیں ہوگی۔
تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا إِذَا حَلَفَ بِالْقُرْآنِ“ اور اسی طرح کسی شخص نے اگر قرآن کی قسم اٹھائی تو وہ بھی قسم کھانے والا نہیں ہے، ”لِأَنَّهُ غَيْرُ مُتَعَارَفٍ“ اس لیے کیونکہ یہ قسم متعارف نہیں ہے، لوگوں میں رائج نہیں ہے۔ اچھا بھئی، یہاں پر صاحبِ قدوری نے ذکر فرمایا کہ جس نے قرآن کی قسم اٹھائی تو وہ قسم بھی منعقد نہیں ہوگی، کیونکہ یہ متعارف نہیں ہے۔ لیکن ہمارے ہاں تو یہ قسم متعارف ہے، لوگ قرآن کی قسم اٹھاتے ہیں اور فقہاء فرماتے ہیں کہ کوئی شخص قرآن کی قسم بھی اٹھا لے تو قسم منعقد ہو جائے گی۔ تو اس پر اشکال ہوتا ہے، یہ تو غیر اللہ کی قسم ہو جائے گی؟ کہتے ہیں: نہیں، یہ غیر اللہ کی قسم نہیں ہے، قرآن جو ہے اللہ کا کلام ہے اور کلام اللہ کی صفت ہے، تو یہ دراصل اللہ کی صفت ہی کی قسم اٹھا رہا ہے، تو چونکہ یہ اللہ کی صفت کی قسم ہے اور ہمارے ہاں یہ رائج بھی ہے، کثرت سے لوگ یہ قسم کھاتے ہیں، تو جس نے قرآن کی قسم بھی کھائی تو وہ قسم منعقد ہو جائے گی۔
آگے دیکھیے: ”قَالَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ“ اس ”قَالَ“ سے مراد صاحبِ ہدایہ ہیں بھئی۔ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”مَعْنَاهُ“ کہ صاحبِ قدوری کے قول کا معنی یہ ہے، بھئی اوپر متن میں آیا تھا نا: ”وَمَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ لَمْ يَكُنْ حَالِفًا كَالنَّبِيِّ وَالْكَعْبَةِ“، جیسے نبی ہے اور کعبہ ہے۔ تو صاحبِ ہدایہ اب اس کی وضاحت فرما رہے ہیں کہ صاحبِ قدوری کے قول کا معنی یہ ہے کہ نبی اور کعبہ کی کوئی قسم اٹھائے اور یوں کہے: ”وَالنَّبِيِّ“ کہ میں نبی کی قسم اٹھاتا ہوں یا ”وَالْكَعْبَةِ“ میں کعبہ کی قسم اٹھاتا ہوں۔ تو کہتے ہیں: ”قَالَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ“ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”مَعْنَاهُ أَنْ يَقُولَ“ کہ صاحبِ قدوری کے قول کا معنی یہ ہے کہ قسم اٹھانے والا یوں کہے: ”وَالنَّبِيِّ وَالْقُرْآنِ“، یعنی ان کی قسم اٹھائے اس طرح۔
”أَمَّا لَوْ قَالَ أَنَا بَرِيءٌ مِنْهُمَا يَكُونُ يَمِينًا“۔ ہاں، اگر کسی نے یوں کہا کہ اگر میں یہ کام کروں تو میں پیغمبر سے بری ہوں یا میں قرآن سے بری ہوں، تو پھر اس صورت میں قسم منعقد ہو جائے گی۔ ”وَالنَّبِيِّ“، ”وَالْكَعْبَةِ“ ان لفظوں کے ساتھ قسم کھائے گا تو قسم منعقد نہیں ہوگی، لیکن اگر یہ کوئی کہتا ہے کہ میں نے اگر یہ کام کیا تو میں قرآن سے بری ہوں یا میں نے یہ کام کیا تو میں پیغمبر سے بری ہوں، اور قرآن سے اور پیغمبر سے بری ہونا تو کفر ہے۔ پیغمبر اور قرآن سے بری ہونا تو کفر ہے، تو اس صورت میں یاد رکھو پھر یہ قسم شمار ہوگی۔
آگے بھی صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ اگر کوئی شخص کفر کی قسم کھاتا ہے کہ اگر میں یہ کام کروں تو میں یہودی ہوں یا یہ کام میں کروں تو میں عیسائی ہوں یا یہ کام میں کروں تو میرا ایمان ہی ختم ہو جائے، تو یاد رکھو یہ کفر کی قسم کھا رہا ہے اور کفر کی قسم جو ہے وہ یمین ہے۔ کفر کی قسم یمین ہے بھئی۔ آگے صاحبِ ہدایہ تفصیل بیان فرمائیں گے کہ کیوں یمین ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”أَمَّا لَوْ قَالَ“ تو اگر قسم کھانے والے نے یہ کہا: ”أَنَا بَرِيءٌ مِنْهُمَا“ کہ میں ان دونوں سے بری ہوں یعنی نبی اور قرآن سے، چاہے دونوں کو ذکر کرے چاہے ایک کو ذکر کرے، ایک ہی حکم ہے۔ تو کہتے ہیں اگر اس نے یہ کہا: ”أَنَا بَرِيءٌ مِنْهُمَا“ کہ میں ان دونوں سے بری ہوں، ”يَكُونُ يَمِينًا“ تو یہ قسم ہوگی، ”لِأَنَّ التَّبَرُّؤَ مِنْهُمَا كُفْرٌ“ اس لیے کیونکہ ان سے بری ہونا کفر ہے۔
آگے دیکھیے: ”قَالَ: وَالْحَلِفُ بِحُرُوفِ الْقَسَمِ، وَحُرُوفُ الْقَسَمِ الْوَاوُ كَقَوْلِهِ: وَاللَّهِ، وَالْبَاءُ كَقَوْلِهِ: بِاللَّهِ، وَالتَّاءُ كَقَوْلِهِ: تَاللَّهِ“۔ اب یہاں سے حروفِ قسم بیان کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ بھئی۔ تو حروفِ قسم یاد رکھو، ایک واؤ ہے ”وَاللَّهِ“ میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں۔ اسی طرح با ہے ”بِاللَّهِ“ اس کا بھی وہی معنی: میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں۔ اسی طرح تا ہے ”تَاللَّهِ“ اس کا بھی وہی معنی ہے کہ میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں۔ اور اسی طرح صاحبِ ہدایہ آپ کو آگے بتلائیں گے کہ اگر لام لے آئے ”لِلَّهِ“ تو یہ بھی قسم ہے کیونکہ لام بھی کبھی کبھار با کی جگہ استعمال ہو جاتا ہے بھئی۔
”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَالْحَلِفُ بِحُرُوفِ الْقَسَمِ“ کہ قسم جو ہے حروفِ قسم کے ذریعے ہوتی ہے، ”وَحُرُوفُ الْقَسَمِ الْوَاوُ“ اور حروفِ قسم جو ہے واؤ ہے، ”كَقَوْلِهِ“ جیسے کہ قسم کھانے والے کا یہ قول ”وَاللَّهِ“، ”وَالْبَاءُ“ اور حروفِ قسم میں سے با ہے، ”كَقَوْلِهِ: بِاللَّهِ“ جیسے قسم کھانے والے کا قول ”بِاللَّهِ“، ”وَالتَّاءُ“ اور تا ہے، ”كَقَوْلِهِ: تَاللَّهِ“ جیسے کہ قسم کھانے والے کا قول ”تَاللَّهِ“، ”لِأَنَّ كُلَّ ذَلِكَ مَعْهُودٌ فِي الْأَيْمَانِ“ اس لیے کیونکہ یہ سارے جو ہیں معہود ہیں، متعین ہیں فی الایمان، قسموں میں۔ یہ سارے حروف قسموں میں متعین ہیں، قسم کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ كُلَّ ذَلِكَ مَعْهُودٌ فِي الْأَيْمَانِ“ اس لیے کیونکہ یہ متعین اور مقرر ہیں قسموں میں، ”وَمَذْكُورٌ فِي الْقُرْآنِ“ اور یہ قرآن میں مذکور ہیں۔ یہ با، واؤ اور تا قرآن میں بھی مذکور ہیں قسم کے لیے۔
”وَقَدْ يُضْمَرُ الْحَرْفُ“ اور کبھی کبھار اس حرفِ قسم کو حذف کر لیا جاتا ہے، ”فَيَكُونُ حَالِفًا“ تو بھی وہ شخص قسم کھانے والا ہوگا، ”كَقَوْلِهِ“ جیسے کہ کسی شخص کا یہ قول: ”اللَّهِ لَا أَفْعَلُ كَذَا“۔ ”اللَّهِ لَا أَفْعَلُ كَذَا“، تو دیکھو لفظِ اللہ سے پہلے واؤ، با، تا یا لام وغیرہ کوئی چیز ذکر نہیں ہے، یہاں حرفِ قسم کو حذف کر لیا گیا۔ تو یہ بھی قسم ہے، کیونکہ عربوں کی عادت ہے وہ کلام کو مختصر سے مختصر کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو حرفِ قسم کو بعض اوقات وہ حذف کر لیتے ہیں۔
تو کہتے ہیں: ”وَقَدْ يُضْمَرُ الْحَرْفُ فَيَكُونُ حَالِفًا“ اور کبھی کبھار حرفِ قسم کو حذف کر لیا جاتا ہے تو بھی وہ شخص قسم کھانے والا ہے، ”كَقَوْلِهِ: اللَّهِ لَا أَفْعَلُ كَذَا“ جیسے کہ قسم کھانے والے کا یہ قول ”اللَّهِ لَا أَفْعَلُ كَذَا“۔ یاد رکھو یہاں حرفِ قسم کو حذف کر دیا گیا۔ اب حرفِ قسم کو حذف کرنے کے بعد اس لفظ پر کیا پڑھیں گے؟ مثلاً واؤ، با یا تا ہوتیں تو وہ تو جر دیتے ہیں ”وَاللَّهِ“، اس واؤ نے لفظِ اللہ کو جر دیا۔ تو اب جب واؤ کو حذف کر دیا تو پھر اس لفظِ اللہ پر اب کیا اعراب پڑھیں گے؟ تو بعض علماء فرماتے ہیں کہ ابھی بھی کسرہ پڑھا جائے گا، یعنی ”اللَّهِ لَا أَفْعَلُ كَذَا“، یہ کسرہ حذفِ واؤ پر دلالت کر رہا ہے کہ یہاں واؤ محذوف ہے۔ جبکہ بعض فرماتے ہیں کہ اس صورت میں پھر نصب پڑھا جائے گا ”اللَّهَ لَا أَفْعَلُ كَذَا“، اور اس کو کہتے ہیں منصوب بنزع الخافض، کہ نصب دیا گیا بنزع الخافض، خفض جر کو کہتے ہیں، نزع کا معنی ہے کھینچ لینا، ختم کر دینا، منصوب بنزع الخافض، جر دینے والے کو ختم کر کے اس کو منصوب کر دیا گیا۔ تو اس پر نصب بھی پڑھ سکتے ہیں اور جر بھی بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”اللَّهِ لَا أَفْعَلُ كَذَا لِأَنَّ حَذْفَ الْحَرْفِ مِنْ عَادَةِ الْعَرَبِ إِيجَازًا“ اس لیے کیونکہ حرفِ قسم کو حذف کرنا یہ عرب کی عادت میں سے ہے ایجازاً، اختصار کرتے ہوئے۔ یعنی کلام کو مختصر کرتے ہوئے عرب کی عادت ہے کہ وہ حرف کو حذف کر لیتے ہیں۔ ”ثُمَّ قِيلَ يُنْصَبُ لِانْتِزَاعِ حَرْفٍ خَافِضٍ“ پھر کہا گیا ہے کہ جو مقسم بہ ہے یعنی جس کی قسم کھائی جا رہی ہے، یعنی ”وَاللَّهِ“ یہ لفظِ اللہ مقسم بہ ہے جس کی قسم کھائی جا رہی ہے، تو واؤ کو تو حذف کر دیا، تو اس مقسم بہ پر کیا پڑھیں گے؟ میں نے آپ کو بتلایا بعض نے کہا ہے نصب پڑھیں گے، بعض کہتے ہیں جر، وہی اب ذکر کر رہے ہیں: ”ثُمَّ قِيلَ يُنْصَبُ لِانْتِزَاعِ حَرْفٍ خَافِضٍ“ پھر کہا گیا ہے کہ مقسم بہ منصوب ہوگا بوجہ جر دینے والے حرف کو کھینچ لینے کی وجہ سے کہ اس کو ختم کر دیا گیا، وہ جر دینے والے حرف کو ختم کر دینے کی وجہ سے اب اس کو منصوب پڑھا جائے گا۔ ”وَقِيلَ يُخْفَضُ“ اور کہا گیا ہے کہ اس کو مجرور ہی پڑھا جائے گا، ”فَتَكُونُ الْكَسْرَةُ دَالَّةً عَلَى الْمَحْذُوفَةِ“ تو کسرہ جو ہے وہ اس محذوف حرف پر دلالت کرے گا بھئی۔
”وَكَذَا إِذَا قَالَ لِلَّهِ“ اور اسی طرح اگر قسم کھانے والے نے ”لِلَّهِ“ کہا تو یہ بھی قسم ہوگی، ”فِي الْمُخْتَارِ“ مختار اور پسندیدہ قول میں بھئی۔ یعنی لام کو بھی قسم کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، ”لِأَنَّ الْبَاءَ تُبْدَلُ بِهَا“ کیونکہ با جو ہے اس کو کبھی لام سے بدل دیا جاتا ہے، ”قَالَ اللَّهُ تَعَالَى“ اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: ”آمَنتُمْ لَهُ“ یعنی ”آمَنْتُمْ بِهِ“، تو یہاں با کی جگہ لام کو ذکر کر دیا گیا قرآن میں، ”آمَنتُمْ لَهُ“ تم اس پر ایمان لائے ہو۔ تو معلوم ہوا کبھی کبھار با کو لام سے بدل دیتے ہیں بھئی۔
”وَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”إِذَا قَالَ وَحَقِّ اللَّهِ فَلَيْسَ بِحَالِفٍ“ کہ جب قسم کھانے والے نے کہا ”وَحَقِّ اللَّهِ“ کہ میں اللہ کے حق کی قسم کھاتا ہوں، تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ قسم نہیں ہے۔ اسی طرح امام محمد رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں کہ یہ قسم نہیں ہے، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے دو روایتیں ہیں۔ ایک روایت میں وہ بھی فرماتے ہیں کہ یہ قسم نہیں ہے اور دوسری روایت میں فرماتے ہیں کہ یہ قسم ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ إِذَا قَالَ وَحَقِّ اللَّهِ فَلَيْسَ بِحَالِفٍ“ اور امام صاحب فرماتے ہیں کہ جب کسی شخص نے ”وَحَقِّ اللَّهِ“ کہا تو یہ قسم کھانے والا نہیں ہے، ”وَهُوَ قَوْلُ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور یہی قول ہے امام محمد رحمہ اللہ کا، ”وَإِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ عَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور یہی دو روایتوں میں سے ایک روایت ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے، ”وَعَنْهُ رِوَايَةٌ أُخْرَى أَنَّهُ يَكُونُ يَمِينًا“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے ایک اور روایت ہے کہ یہ قسم ہے، ”وَحَقِّ اللَّهِ“ یہ قسم ہے، ”لِأَنَّ الْحَقَّ مِنْ صِفَاتِ اللَّهِ تَعَالَى“ اس لیے کیونکہ حق جو ہے یہ اللہ کی صفات میں سے ہے، ”وَهُوَ حَقِيَّتُهُ“ اور وہ اس کا برحق ہونا ہے۔ حق سے کیا مراد ہے؟ اللہ کا برحق ہونا، کہ اللہ برحق ہے یعنی یقیناً اللہ کی ذات موجود ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْحَقَّ مِنْ صِفَاتِ اللَّهِ تَعَالَى وَهُوَ حَقِيَّتُهُ فَصَارَ كَأَنَّهُ قَالَ وَاللَّهِ الْحَقِّ“ تو یہ ایسے ہی ہو گیا گویا کہ اس قسم کھانے والے نے یوں کہا ہے: ”وَاللَّهِ الْحَقِّ“ کہ میں قسم کھاتا ہوں اس اللہ کی جو برحق ہے، اس اللہ کی جو برحق ہے یعنی جس کا ہونا یقینی ہے جو موجود ہے۔ تو کہتے ہیں: ”فَصَارَ كَأَنَّهُ قَالَ وَاللَّهِ الْحَقِّ“ تو یہ ایسے ہی ہو گیا کہ گویا اس قسم کھانے والے نے کہا ہے ”وَاللَّهِ الْحَقِّ“ کہ میں قسم کھاتا ہوں اس اللہ کی جو برحق ہے، ”وَالْحَلِفُ بِهِ مُتَعَارَفٌ“ اور اس لفظ کے ساتھ قسم متعارف بھی ہے، یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی روایت چل رہی ہے۔
”وَلَهُمَا“ طرفین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے، ”أَنَّهُ يُرَادُ بِهِ طَاعَةُ اللَّهِ تَعَالَى“ کہ حق اللہ سے مراد اللہ کی اطاعت ہوتی ہے۔ حق اللہ سے مراد اللہ کی اطاعت ہوتی ہے۔ کہتے ہیں ”وَلَهُمَا“ طرفین کی دلیل یہ ہے ”أَنَّهُ يُرَادُ بِهِ طَاعَةُ اللَّهِ تَعَالَى“ کہ حق کے ذریعے مراد اللہ کی اطاعت ہوتی ہے، ”إِذِ الطَّاعَاتُ حُقُوقُهُ“ اس لیے کیونکہ طاعتیں جو ہیں وہ اللہ کے حقوق میں سے ہیں۔ یہ جو ہم اللہ کے احکام پر عمل کرتے ہیں، عبادات وغیرہ کرتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں، حج کرتے ہیں وغیرہ، یہ سب کیا ہیں؟ اللہ کے حقوق میں سے ہیں بھئی۔ ”إِذِ الطَّاعَاتُ حُقُوقُهُ“ اس لیے کیونکہ یہ جو اطاعتیں ہیں یہ اللہ کے حقوق ہیں، ”فَيَكُونُ حَلِفًا بِغَيْرِ اللَّهِ تَعَالَى“ تو یہ اللہ کے علاوہ کی قسم ہو جائے گی، ”وَحَقِّ اللَّهِ“ اس حق سے مراد اللہ کے حقوق ہیں تو یہ اللہ کے حقوق کی قسم کھا رہا ہے، یہ تو اللہ کی ذات یا صفات کی قسم نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَيَكُونُ حَلِفًا بِغَيْرِ اللَّهِ“ تو یہ تو اللہ کے علاوہ کی قسم ہوگی۔
”قَالُوا: لَوْ قَالَ وَالْحَقِّ“ فقہاء فرماتے ہیں اگر کسی شخص نے یہ قسم اٹھائی: ”وَالْحَقِّ“ میں حق کی قسم اٹھاتا ہوں، تو پھر یہ قسم ہے کیونکہ حق اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”قَالُوا“ فقہاء فرماتے ہیں: ”لَوْ قَالَ وَالْحَقِّ يَكُونُ يَمِينًا“ کہ اگر کسی شخص نے یہ کہا کہ میں حق کی قسم کھاتا ہوں تو یہ بالاتفاق یہ قسم ہوگی، ”وَلَوْ قَالَ حَقًّا“ اور اگر اس کے بجائے اس نے صرف ”حَقًّا“ کہا، ایک تو تھا ”وَالْحَقِّ“، حق کا لفظ معرف باللام ہے، اس پر الف لام داخل ہے ”وَالْحَقِّ“، تو پھر تو یہ قسم ہے کیونکہ الحق یہ اللہ کا نام ہے الف لام کے ساتھ۔ اور اگر صرف ”حَقًّا“ کہا تو پھر ”حَقًّا“ یہ تو منصوب ہے، یہ تو مفعولِ مطلق ہے، یہ کسی بات کو پکا کرنے کے لیے کہا جاتا ہے کہ واللہ میں یہ کام کروں گا حقاً، ای قطعاً، قطعی طور پر۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ”حَقًّا“ کہنا یہ قسم نہیں ہے لیکن ”وَالْحَقِّ“ یہ قسم ہے۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَالَ حَقًّا لَا يَكُونُ يَمِينًا“ اور اگر قسم کھانے والے نے ”حَقًّا“ کہا یعنی نکرہ کہا، ”لَا يَكُونُ يَمِينًا“ تو یہ قسم نہیں ہوگی، ”لِأَنَّ الْحَقَّ مِنْ أَسْمَاءِ اللَّهِ تَعَالَى“ اس لیے کیونکہ الحق یہ جو ہے یہ اللہ کے ناموں میں سے ہے، ”وَالْمُنَكَّرُ يُرَادُ بِهِ تَحْقِيقُ الْوَعْدِ“ اور نکرہ جو ہے اس کے ذریعے تو مراد جو ہے وعدے کی تحقیق ہے یعنی اس کو پکا کرنا ہے۔ وعدے کو پکا کرنا ہے کہ میں ایسا کروں گا حقاً، ای قطعاً، یقینی طور پر۔ تو یہ وعدے کو پکا کرنا ہے، تو یہ قسم نہیں ہے بھئی۔ یہ معنی ہے: ”وَالْمُنَكَّرُ يُرَادُ بِهِ تَحْقِيقُ الْوَعْدِ“ اور وہ جو نکرہ ہے اس کے ذریعے مراد جو ہے وعدے کو پکا کرنا ہے۔
”وَلَوْ قَالَ أُقْسِمُ أَوْ أُقْسِمُ بِاللَّهِ أَوْ أَحْلِفُ أَوْ أَحْلِفُ بِاللَّهِ أَوْ أَشْهَدُ أَوْ أَشْهَدُ بِاللَّهِ فَهُوَ حَالِفٌ“۔ بھئی ایک آدمی قسم اٹھاتا ہے تو قسم کے اندر اگر وہ ماضی کے صیغے ذکر کرتا ہے اور اللہ کا نام بھی ساتھ ذکر کرتا ہے، پھر تو یقینی طور پر قسم ہو گئی، ”أَقْسَمْتُ بِاللَّهِ“ دیکھو ”أَقْسَمْتُ“ ماضی کا صیغہ استعمال کیا۔ معنی وہی ہے۔ ”أَقْسَمْتُ بِاللَّهِ“ میں نے اللہ کی قسم کھا لی، تو یہ تو قسم ہے۔ لیکن اگر مضارع کے صیغے استعمال کرتا ہے ”أُقْسِمُ بِاللَّهِ“، تو مضارع تو حال کے لیے بھی آتا ہے اور مستقبل کے لیے بھی آتا ہے، تو اگر حال والا معنی کریں گے تو معنی ہو جائے گا: میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں، تو پھر تو یہ قسم ہوگی اور اگر مستقبل والا معنی کریں گے: ”أُقْسِمُ بِاللَّهِ“ میں اللہ کی قسم کھاؤں گا، یہ تو صرف وعدہ کر رہا ہے۔
تو کیا مضارع کے صیغے کے ساتھ جب قسم کھائی جائے تو قسم منعقد ہوگی یا نہیں؟ اور کیا اس قسم کے صیغے کے ساتھ اللہ کا نام وغیرہ ذکر نہ کیا جائے تو کیا پھر بھی قسم ہوگی یا نہیں؟ مثلاً ایک آدمی کہتا ہے کہ میں قسم کھاتا ہوں، میں یہ کام ضرور کروں گا۔ میں قسم کھاتا ہوں، دیکھو اللہ کے نام کو ذکر نہیں کیا، میں قسم کھاتا ہوں میں یہ کام ضرور کروں گا۔ تو دیکھو یہاں اس نے قسم کو تو ذکر کیا ہے، اللہ کے نام کو ساتھ ذکر نہیں کیا۔ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ فعلِ مضارع کے ساتھ بھی قسم کھائے گا تو قسم منعقد ہو جائے گی اور نیز اللہ کے نام کو ساتھ ذکر کرے یا نہ کرے دونوں صورتوں میں قسم ہو جائے گی بھئی، دونوں صورتوں میں قسم منعقد ہو جائے گی۔
وجہ یہ ہے کہ مضارع جو ہے وہ حال کے اندر حقیقت ہے اور مستقبل جو ہے وہ اس کا مجازی معنی ہے اور مستقبل کے لیے کوئی قرینہ چاہیے ہوتا ہے، کوئی اور چیز جو دلالت کرے کہ یہاں مجازی معنی مراد ہے۔ تو لہٰذا جب مطلقاً مضارع کے صیغے کے ساتھ قسم کھائی جائے گی تو اس کو اس کے حقیقی معنی یعنی حال پر ہی محمول کیا جائے گا، تو قسم منعقد ہو جائے گی۔ اور اللہ کے نام کو اگر وہ ساتھ ذکر نہیں بھی کرتا تو بھی شریعت میں صرف اللہ کے ناموں اور اس کی صفات کی قسم جائز ہے، اور قسمیں جائز نہیں ہیں، تو اس کو بھی اسی پر محمول کر لیا جائے گا کہ یہاں گویا اس نے اللہ کے نام کو حذف کر لیا۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَالَ“ اور اگر قسم کھانے والے نے کہا ”أُقْسِمُ“ یعنی اللہ کے نام کے بغیر صرف فعلِ مضارع کو ذکر کیا، ”أَوْ أُقْسِمُ بِاللَّهِ“ یا فعلِ مضارع کے ساتھ اللہ کے نام کو ذکر کر دیا کہ میں اللہ کے نام کی قسم کھاتا ہوں، ”أَوْ أَحْلِفُ“ یا ”أَحْلِفُ“ کا لفظ ذکر کیا یعنی فعلِ مضارع ہے بغیر اللہ کے نام کے، ”أَوْ أَحْلِفُ بِاللَّهِ“ میں اللہ کے نام کی قسم کھاتا ہوں اس کا بھی وہی معنی، ”أَوْ أَشْهَدُ“ یا میں گواہی دیتا ہوں، ”أَوْ أَشْهَدُ بِاللَّهِ“ یا میں اللہ کے نام کے ساتھ گواہی دیتا ہوں، ”فَهُوَ حَالِفٌ“ تو یہ قسم کھانے والا ہے۔ ان تمام صورتوں میں، چاہے اللہ کے نام کو ذکر کرے یا نہ کرے، اور چاہے ماضی کا صیغہ ذکر کرے چاہے مضارع کا، اور چاہے ”أُقْسِمُ“ کا صیغہ ذکر کرے، چاہے ”أَحْلِفُ“ حلف کا صیغہ ذکر کرے اور چاہے ”أَشْهَدُ“ یعنی شہادت کے لفظ کو ذکر کرے، یہ سب قسمیں ہیں بھئی۔
تو کہتے ہیں ”فَهُوَ حَالِفٌ“ تو ان سب صورتوں میں یہ قسم کھانے والا ہے، ”لِأَنَّ هَذِهِ الْأَلْفَاظَ مُسْتَعْمَلَةٌ فِي الْحَلْفِ“ اس لیے کیونکہ یہ الفاظ جو ہیں قسم کے اندر استعمال ہوتے ہیں، ”وَهَذِهِ الصِّيغَةُ لِلْحَالِ حَقِيقَةً“ اور یہ جو مضارع کا صیغہ ہے یہ حال کے لیے ہے حقیقتاً، حقیقت کے اعتبار سے، ”وَتُسْتَعْمَلُ لِلِاسْتِقْبَالِ لِقَرِينَةٍ“ اور یہ استقبال کے لیے استعمال ہوتا ہے قرینہ پائے جاتے وقت، ”فَجُعِلَ حَالِفًا فِي الْحَالِ“ لہٰذا اس کو فی الحال ہی قسم کھانے والا قرار دیا جائے گا کہ یہ قسم کھا رہا ہے کیونکہ کوئی قرینہ موجود نہیں ہے جو مستقبل پر دلالت کرے بھئی۔
”وَالشَّهَادَةُ يَمِينٌ“ اور شہادت جو ہے یہ بھی قسم ہی ہے، اگر کوئی ”أَشْهَدُ“ کہتا ہے یا ”أَشْهَدُ بِاللَّهِ“ کہتا ہے تو یہ بھی قسم ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالشَّهَادَةُ يَمِينٌ“ اور شہادت جو ہے یہ بھی یمین ہے، ”قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: {قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ}“ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں: {قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ}، {قَالُوا} یہ منافقین کہتے ہیں: {نَشْهَدُ} ہم گواہی دیتے ہیں {إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ} یقیناً آپ اللہ کے رسول ہیں، یقیناً آپ اللہ کے رسول ہیں، تو دیکھو یہاں وہ منافقین ”نَشْهَدُ“ کا لفظ استعمال کر رہے ہیں، ”ثُمَّ قَالَ: {اتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً}“ اور پھر آگے اللہ فرماتے ہیں: {اتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً} کہ ان منافقین نے اپنی قسموں کو ڈھال بنایا ہے۔ ان منافقین نے قسموں کو ڈھال بنایا ہے یعنی یہ دل میں کافر ہیں لیکن آ کر جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اور ان جھوٹی قسموں کے ذریعے اپنا بچاؤ کرتے ہیں۔ دیکھو منافقین کا کیا قول نقل ہوا ہے قرآن میں؟ {قَالُوا} کہ وہ کہتے ہیں: {نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ}، اور پھر ”ثُمَّ قَالَ“ پھر اس کے بعد آگے اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: {اتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً} کہ یہ اپنی قسموں کو ڈھال بناتے ہیں، تو اس شہادت کو قسمیں قرار دیا اللہ نے۔ پیچھے شہادت کا ذکر تھا اور آگے اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ {اتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً}، یہ اپنی قسموں کو ڈھال بناتے ہیں، تو دیکھو شہادت کو یمین کہا جا رہا ہے قرآن میں۔
آگے دیکھیے: ”وَالْحَلِفُ بِاللَّهِ هُوَ الْمَعْهُودُ الْمَشْرُوعُ“ اب صاحبِ ہدایہ وہ ذکر کرنے لگے ہیں کہ اگر اللہ کا نام ذکر نہ کیا جائے، صرف ”أُقْسِمُ“ یا ”أَحْلِفُ“ یا ”أَشْهَدُ“ کہا جائے پھر بھی قسم منعقد ہو جائے گی، کیونکہ اللہ ہی کی قسم جائز ہے اور قسمیں جائز نہیں ہیں، تو اسی پر محمول کر لیں گے اس کو۔
تو کہتے ہیں: ”وَالْحَلِفُ بِاللَّهِ هُوَ الْمَعْهُودُ الْمَشْرُوعُ“ اور اللہ کے نام کی جو قسم ہے وہی معہود ہے اور مشروع ہے، وہی متعین ہے اور مشروع ہے یعنی شریعت میں اس کی اجازت ہے، ”وَبِغَيْرِهِ مَحْظُورٌ“ اور اللہ کے نام کے علاوہ تو قسم جو ہے محظور ہے یعنی ممنوع ہے۔ محظور کا کیا معنی؟ ممنوع بھئی، ظاء کے ساتھ ہے بھئی محظور بھئی۔ تو اللہ کے نام کے علاوہ تو قسم جو ہے وہ محظور ہے یعنی ممنوع ہے، ”فَصُرِفَ إِلَيْهِ“ لہٰذا اس مطلقِ قسم کو بھی اسی کی طرف پھیر دیا جائے گا، اس نے تو صرف ”أُقْسِمُ“ کہا ہے لیکن یوں سمجھیں گے اس نے ”أُقْسِمُ بِاللَّهِ“ کہا ہے۔ تو کہتے ہیں ”فَصُرِفَ إِلَيْهِ“ تو اس ”أُقْسِمُ“، ”أَحْلِفُ“ اور ”أَشْهَدُ“ کے لفظ کو بھی اسی اللہ کے نام کی طرف پھیر دیا جائے گا، ”وَلِهَذَا قِيلَ لَا يَحْتَاجُ إِلَى النِّيَّةِ“ اور اسی وجہ سے کہا گیا ہے، بعض فقہاء فرماتے ہیں ”لَا يَحْتَاجُ إِلَى النِّيَّةِ“ کہ یہ قسم کھانے والا نیت کا محتاج نہیں۔
یہ نیت کا محتاج نہیں، بس ”أُقْسِمُ“ کہہ دے گا کہ میں قسم کھاتا ہوں تو قسم منعقد ہو جائے گی، باقاعدہ اللہ کے نام کی نیت کرنا اس پر ضروری نہیں ہے اور اسی طرح حال کی نیت کرنا بھی ضروری نہیں ہے، کیونکہ مضارع کے اندر تو حال والا بھی معنی ہوتا ہے اور استقبال والا بھی، تو حال کی نیت بھی ضروری نہیں اور اللہ کے نام کی نیت بھی ضروری نہیں، لفظوں میں تو اس نے اللہ کا نام ذکر نہیں کیا لیکن دل میں بھی اس کی نیت ضروری نہیں بلکہ یہ مطلق قسم کو بھی اسی پر محمول کر لیا جائے گا۔ یہ معنی ہے: ”وَلِهَذَا قِيلَ لَا يَحْتَاجُ إِلَى النِّيَّةِ“ اور اسی لیے کہا گیا ہے کہ یہ شخص محتاج نہیں ہے نیت کا، ”وَقِيلَ لَا بُدَّ مِنْهَا“ اور کہا گیا ہے کہ نیت کا ہونا ضروری ہے۔ بعض فقہاء فرماتے ہیں: نہیں، اگر اللہ کے نام کو ساتھ ذکر نہیں کیا اور فعلِ مضارع کو ذکر کر رہا ہے تو نیت ضروری ہے، حال کی نیت بھی کرے گا اور اللہ کے نام کی نیت بھی کرے گا۔ حال کی نیت اس لیے ضروری ہے کیونکہ مضارع میں مستقبل کا معنی بھی ہو سکتا ہے، اور اللہ کے نام کی نیت بھی ضروری ہے اس لیے کیونکہ قسم تو غیر اللہ کی بھی بعض لوگ کھا لیتے ہیں۔
تو کہتے ہیں: ”وَقِيلَ لَا بُدَّ مِنْهَا لِاحْتِمَالِ الْعِدَةِ“ اور کہا گیا ہے کہ نیت کا ہونا ضروری ہے وعدے کے احتمال کی وجہ سے، ”لِاحْتِمَالِ الْعِدَةِ“ عدت یہ مصدر ہے: وَعَدَ يَعِدُ وَعْدًا وَعِدَةً۔ عِدَةً اصل میں کیا تھا؟ وِعْدٌ تھا، وِعْدٌ تھا، پھر شروع میں واؤ مکسور تھا اس کو حذف کیا اور اس کے عوض آخر میں گول تا لے آئے تو عِدَةٌ ہوا۔ تو یہاں یہ عِدَةٌ کا لفظ ہے اور یہ بمعنی وعدے کے ہے، وعدے کے۔ تو کہتے ہیں ”لِاحْتِمَالِ الْعِدَةِ“ وعدے کا احتمال ہونے کی وجہ سے، کہ بھئی کیونکہ فعلِ مضارع کے اندر حال والے معنی کا بھی احتمال ہے اور مستقبل والا بھی، تو اگر مستقبل والا معنی کرے گا پھر تو یہ صرف وعدہ بن جائے گا، ”أُقْسِمُ“ میں قسم کھاؤں گا، یہ تو وعدہ کر رہا ہے بھئی، تو یہاں وعدے کا بھی احتمال ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَقِيلَ لَا بُدَّ مِنْهَا لِاحْتِمَالِ الْعِدَةِ وَالْيَمِينِ بِغَيْرِ اللَّهِ“ اور کہا گیا ہے کہ نیت کا ہونا ضروری ہے وعدے کے احتمال کی وجہ سے اور اللہ کے علاوہ کی قسم کے احتمال کی وجہ سے۔ تو لہٰذا اللہ کے نام کی نیت بھی ضروری ہے اور حال کی نیت بھی ضروری ہے، یہ بعض فقہاء فرماتے ہیں۔
”وَلَوْ قَالَ بِالْفَارِسِيَّةِ: سَوْگَنْدْ مِی خُورَمْ بَخُدَای“۔ ”وَلَوْ قَالَ بِالْفَارِسِيَّةِ“ اور اگر ایک شخص فارسی میں کہتا ہے: ”سَوْگَنْدْ مِی خُورَمْ بَخُدَای“، سوگند کہتے ہیں قسم کو، می خورم، میں، یاد رکھو یہ لفظ بعض اس کو می پڑھتے ہیں: مِی خورم، ایران والے اس کو مِی خورم پڑھتے ہیں اور افغانستان کے علاقوں میں جو فارسی رائج ہے وہ اس کو مے خورم پڑھتے ہیں، تو دونوں طرح آپ پڑھ سکتے ہیں۔ تو فارسی میں کوئی شخص کہتا ہے: ”سَوْگَنْدْ مِی خُورَمْ بَخُدَای“ کہ میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں، سوگند می خورم: میں قسم کھاتا ہوں، بخدای: اللہ کی، میں خدا کی قسم کھاتا ہوں۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَالَ بِالْفَارِسِيَّةِ سَوْگَنْدْ مِی خُورَمْ بَخُدَای“ کہ میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں، ”يَكُونُ يَمِينًا“ تو یہ قسم ہوگی، ”لِأَنَّهُ لِلْحَالِ“ اس لیے کیونکہ یہ ”مِی خورم“ کس لیے آتا ہے؟ یہ ”می“ کا لفظ کس لیے بڑھاتے ہیں ساتھ؟ حال کے لیے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ لِلْحَالِ“ کیونکہ یہ حال کے لیے ہے، ”وَلَوْ قَالَ سَوْگَنْدْ خُورَمْ“ اور اگر اس نے ”می“ کا لفظ ذکر نہیں کیا صرف ”سوگند خورم“ کہا، تو پھر اس صورت میں یہ قسم نہیں ہوگی کیونکہ اس صورت میں کہتے ہیں یہ پھر مستقبل کے لیے ہو جائے گی۔ سوگند خورم کا معنی ہے: میں قسم کھاؤں گا، یہ تو صرف وعدہ کر رہا ہے۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَالَ سَوْگَنْدْ خُورَمْ“ اور اگر اس نے کہا میں قسم کھاؤں گا، ”قِيلَ لَا يَكُونُ يَمِينًا“ تو کہا گیا ہے کہ یہ قسم نہیں ہوگی۔ ”وَلَوْ قَالَ بِالْفَارِسِيَّةِ سَوْگَنْدْ خُورَمْ بِطَلَاقِ زَنَمْ“ اور اگر کسی شخص نے فارسی میں کہا: ”سَوْگَنْدْ خُورَمْ بِطَلَاقِ زَنَمْ“، تو یہاں پر بھی ”سَوْگَنْدْ خُورَمْ بِطَلَاقِ زَنَمْ“، سوگند خورم: میں قسم کھاتا ہوں، یا سوگند یہاں بھی ”می“ کا لفظ لے آئیں: سوگند می خورم: میں قسم کھاتا ہوں، ”بِطَلَاقِ زَنَمْ“، زن فارسی میں عورت کو کہتے ہیں، زنم: میری عورت یعنی میری بیوی، سوگند خورم: میں قسم کھاتا ہوں ”بِطَلَاقِ زَنَمْ“ اپنی بیوی کی طلاق کی، تو پھر اس صورت میں یہ قسم نہیں ہوگی کیونکہ اس طرح کی قسم لوگوں میں رائج نہیں ہے بھئی۔
اسی طرح یاد رکھو لوگ قسمیں کھاتے ہیں کہ تمہارے سر کی قسم ہے، یا میرے بچے کی قسم ہے، یا میرے والدین کی قسم ہے، تو اس طرح کی قسمیں کھاتے ہیں، یاد رکھو یہ تو غیر اللہ کی قسم ہے اور یہ گناہ کی بات ہے بھئی، اللہ کے علاوہ کسی اور کی قسم نہیں کھائی جا سکتی، تو اس سے قسم منعقد نہیں ہوگی۔ اسی طرح یاد رکھو بعض لوگ جو ہیں دوسرے کو کہتے ہیں کہ تمہیں قسم ہے تمہیں یہ کام کرنا پڑے گا۔ یاد رکھو اس سے کوئی قسم نہیں ہوتی، قسم تو تب ہوگی جب کوئی خود کھائے، لہٰذا اگر آپ کو کوئی کہتا ہے: آپ کو قسم ہے آپ کو یہ کام کرنا پڑے گا، تو کوئی قسم نہیں ہوئی، آپ کے لیے وہ کام کرنا ضروری نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں اگر فارسی میں کسی نے کہا: ”سَوْگَنْدْ خُورَمْ بِطَلَاقِ زَنَمْ لَا يَكُونُ يَمِينًا“ تو یہ قسم نہیں ہوگی، ”لِعَدَمِ التَّعَارُفِ“ کیونکہ یہ متعارف نہیں ہے۔
”قَالَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ“ اس ”قَالَ“ سے مراد صاحبِ ہدایہ ہیں، صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”وَكَذَا قَوْلُهُ لَعَمْرُ اللَّهِ وَأَيْمُ اللَّهِ“ اور اسی طرح جو ہے ”لَعَمْرُ اللَّهِ“ اور ”أَيْمُ اللَّهِ“، یہ بھی قسم ہے بھئی۔ متن کو متن سے جوڑیں بھئی: ”وَلَوْ قَالَ بِالْفَارِسِيَّةِ سَوْگَنْدْ مِی خُورَمْ بَخُدَای يَكُونُ يَمِينًا“، تو یہ قسم ہوگی، ”وَكَذَا قَوْلُهُ لَعَمْرُ اللَّهِ وَأَيْمُ اللَّهِ“ اور اسی طرح قسم کھانے والے کا یہ قول ”لَعَمْرُ اللَّهِ“ اور ”أَيْمُ اللَّهِ“ یہ بھی قسم ہے بھئی، یہ بھی قسم ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا قَوْلُهُ لَعَمْرُ اللَّهِ وَأَيْمُ اللَّهِ“ اور اسی طرح قسم کھانے والے کا یہ قول ”لَعَمْرُ اللَّهِ“ اور ”أَيْمُ اللَّهِ“ یہ بھی قسم ہے، ”لِأَنَّ عَمْرَ اللَّهِ بَقَاءُ اللَّهِ“ اس لیے کیونکہ اللہ کی عمر جو ہے وہ اللہ کی بقاء ہے۔
اللہ کی بقا ہے، اور اللہ کی بقا یہ اللہ کی صفات میں سے ہے۔ باقی رہنا، اللہ کی ذات ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ تو یہ بقا اللہ کی صفت ہے۔ تو اللہ کی عمر سے کیا مراد ہے؟ اللہ کی بقا۔ تو یہ اللہ کی صفت ہے۔
یہ عبارت ذرا دیکھیے۔ بھئی پیچھے متن میں آیا تھا: ”وَكَذَا قَوْلُهُ لَعَمْرُ اللّٰهِ“۔ یہاں پر دیکھو، یہاں پر ”لَعَمْرُ اللّٰهِ“ یہ مرفوع ہے بھئی۔ یہ مرفوع ہے، ”أَيْ لَعَمْرُ اللّٰهِ قَسَمِيْ“ میری قسم اللہ کی عمر ہے، یعنی میں اللہ کی عمر کی قسم کھاتا ہوں۔ تو یہ مرفوع ہے بھئی مبتدا ہونے کی وجہ سے۔ اور آگے آیا: ”لِأَنَّ عَمْرَ اللّٰهِ“ میری کتاب میں یہاں بھی عمر کے اوپر پیش ہے۔ حالانکہ پیچھے ”أَنَّ“ ہے اور ”أَنَّ“ نَصَب دیتا ہے۔ تو یہاں آپ نَصَب بھی پڑھ سکتے ہیں: ”لِأَنَّ عَمْرَ اللّٰهِ“ اور آپ چاہیں تو ”لِأَنَّ عَمْرُ اللّٰهِ“ بھی پڑھ سکتے ہیں اور یہ پھر اعرابِ حکائی ہو جائے گا۔ یعنی جہاں سے اس لفظ کو نقل کیا ہے وہاں پر رفع تھا اس لیے آپ نے یہاں پر بھی رفع پڑھ دیا۔ تو البتہ یہ محلاً منصوب ہی ہے کیونکہ یہ ”أَنَّ“ کا اسم ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ عَمْرَ اللّٰهِ بَقَاءُ اللّٰهِ“ اس لیے کیونکہ اللہ کی عمر جو ہے وہ اللہ کی بقا ہے یعنی اس کی صفت ہے، ”وَأَيْمُ اللّٰهِ“ دوسرا لفظ تھا ”وَأَيْمُ اللّٰهِ“ تو یہ بھی قسم ہے۔ اب یہ ”أَيْمُ“ لفظ کیا ہے؟ تو علمائے کوفہ فرماتے ہیں کہ یہ ”أَيْمُ“ اصل میں ”أَيْمُنٌ“ ہے بھئی، اور ”أَيْمُنٌ“ جمع ہے ”يَمِيْنٌ“ کی۔ پھر اس میں سے نون کو خلافُ القیاس حذف کر دیا گیا تو ”أَيْمُ اللّٰهِ“ رہ گیا۔ تو یہ میم پر ضمہ ہے اور یہ ضمہ کوئی اعراب نہیں ہے، یہ اسی میم کی اپنی اصلی حرکت ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو علمائے کوفہ فرماتے ہیں کہ یہ ”أَيْمُ“ جو ہے اصل میں ”أَيْمُنٌ“ ہے یعنی ”يَمِيْنٌ“ کی جمع ہے۔ جبکہ علمائے بصرہ فرماتے ہیں کہ یہ ”أَيْمُ“ کا لفظ قسم کے لیے ہے جیسے قسم کے لیے واؤ آتا ہے، با آتی ہے، تا آتی ہے، اسی طرح ”أَيْمُ“ کا لفظ بھی قسم کے لیے آتا ہے عربی زبان میں۔ لیکن یہاں پر تو ہے ”وَأَيْمُ اللّٰهِ“، واؤ بھی ہے اور ”أَيْمُ“ بھی ہے۔ تو واؤ بھی قسم کے لیے آتا ہے اور ”أَيْمُ“ بھی قسم کے لیے آتا ہے تو یہ ”وَاللّٰهِ“ کے معنی میں ہے اور یہ جو ”أَيْمُ“ ہے یہ زائد ہے۔ یہ زائد ہے کیونکہ واؤ بھی قسم کے لیے آتا ہے اور ”أَيْمُ“ بھی قسم کے لیے آتا ہے تو ایک لفظ ان میں سے زائد قرار دینا پڑے گا اور واؤ تو پہلے ہے لہٰذا جو دوسرے نمبر پر ہے اسی کو زائد قرار دیا جائے گا۔
تو کہتے ہیں: ”وَأَيْمُ اللّٰهِ مَعْنَاهُ“ اور ”أَيْمُ اللّٰهِ“ اس کا معنی ہے ”أَيْمُنُ اللّٰهِ“، ”وَهُوَ جَمْعُ يَمِيْنٍ“ اور یہ ”أَيْمُنُ“ جمع ہے ”يَمِيْنٍ“ کی، یہ کوفہ والوں کے نزدیک۔ ”وَقِيْلَ: مَعْنَاهُ: وَاللّٰهِ“ اور کہا گیا ہے اس کا معنی ”وَاللّٰهِ“ ہے، کہ ”وَأَيْمُ اللّٰهِ“ کا کیا معنی ہے؟ ”وَاللّٰهِ“، یعنی یہ ”أَيْمُ“ کا لفظ یہ زائد ہے، یہ بھی قسم ہی کے لیے آتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَقِيْلَ: مَعْنَاهُ: وَاللّٰهِ“ اور کہا گیا ہے، یعنی علمائے بصرہ فرماتے ہیں: اس کا معنی ”وَاللّٰهِ“ ہے، ”وَأَيْمُ صِلَةٌ كَالْوَاوِ“ اور ”أَيْمُ“ جو ہے وہ زائد ہے، ”كَالْوَاوِ“ جیسے کہ واؤ ہے۔ بھئی یہ ”صِلَةٌ“ اور ”كَالْوَاوِ“ اس کو الگ الگ خبر بنائیں بھئی۔ ”وَأَيْمُ صِلَةٌ“ اور ”أَيْمُ“ جو ہے زائد ہے۔ ”وَأَيْمُ كَالْوَاوِ“ اور ”أَيْمُ“ جو ہے واؤ کی طرح ہے یعنی یہ بھی حرفِ قسم ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَأَيْمُ صِلَةٌ كَالْوَاوِ“ اور ”أَيْمُ“ جو ہے صلہ ہے، صلہ کا کیا معنی؟ زائد، زائد بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَأَيْمُ صِلَةٌ“ اور ”أَيْمُ“ کا لفظ جو ہے صلہ ہے یعنی زائد ہے، ”كَالْوَاوِ“ اور ”أَيْمُ“ کا لفظ واؤ کی طرح ہے یعنی یہ بھی مستقلاً قسم کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ ”وَالْحَلِفُ بِاللَّفْظَيْنِ مُتَعَارَفٌ“ اور ان دونوں لفظوں کے ساتھ قسم جو ہے متعارف ہے، لوگوں میں رائج ہے، وہ ”وَأَيْمُ اللّٰهِ“ کے ساتھ بھی قسم کھاتے ہیں اور ”لَعَمْرُ اللّٰهِ“ کے ساتھ بھی قسم کھاتے ہیں بھئی۔ ”وَالْحَلِفُ بِاللَّفْظَيْنِ مُتَعَارَفٌ“ تو قسم ان دونوں لفظوں کے ساتھ متعارف ہے۔
”وَكَذَا قَوْلُهُ: وَعَهْدِ اللّٰهِ وَمِيثَاقِهِ“ اور اسی طرح قسم کھانے والے کا یہ قول ”وَعَهْدِ اللّٰهِ“ میں اللہ کے عہد کی قسم کھاتا ہوں، ”وَمِيثَاقِهِ“ میثاق کا بھی وہی معنی، یہ بھی عہد کو کہتے ہیں، میں اللہ کے عہد کی قسم کھاتا ہوں، تو یہ بھی قسم ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا قَوْلُهُ: وَعَهْدِ اللّٰهِ وَمِيثَاقِهِ“ اور اسی طرح قسم کھانے کا قول ”وَعَهْدِ اللّٰهِ“ اور ”وَمِيثَاقِ اللّٰهِ“ ہے، ”لِأَنَّ الْعَهْدَ يَمِينٌ“ اس لیے کیونکہ عہد بھی قسم ہے۔ ”قَالَ اللّٰهُ تَعَالَى“ اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: ”وَأَوْفُوا بِعَهْدِ اللّٰهِ“ کہ اللہ کے عہد کو پورا کرو۔ اللہ کے عہد کو پورا کرو۔ تو معلوم ہوا عہد بھی یمین کے درجے میں ہے۔ جیسے یمین کو پورا کرنا ضروری، اسی طرح عہد کو پورا کرنا بھی ضروری ہے تو یہ عہد بھی یمین کے معنی میں ہے۔ تو یہ معنی ہے: ”لِأَنَّ الْعَهْدَ يَمِينٌ“ کیونکہ عہد جو ہے وہ قسم ہے۔ ”قَالَ اللّٰهُ تَعَالَى“ اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: ”وَأَوْفُوا بِعَهْدِ اللّٰهِ“ کہ اللہ کے عہد کو پورا کرو یعنی اللہ کی قسم کو پورا کرو۔ ”وَالْمِيثَاقُ عِبَارَةٌ عَنِ الْعَهْدِ“ اور میثاق جو ہے وہ بھی عہد سے عبارت ہے یعنی میثاق بھی عہد کو کہتے ہیں۔
”وَكَذَا إِذَا قَالَ: عَلَيَّ نَذْرٌ“ اور اسی طرح ہے اگر کسی قسم کھانے والے نے کہا ”عَلَيَّ نَذْرٌ“، نذر ذال کے ساتھ اور یہ ذال ساکن ہے۔ ”عَلَيَّ نَذْرٌ“ کہ میرے اوپر منت ہے۔ بھئی بعض اوقات کوئی آدمی منت مانتا ہے کہ اے اللہ! اگر میرا یہ کام ہو گیا تو میں پانچ روزے رکھوں گا۔ تو اس کو اردو میں منت کہتے ہیں اور عربی میں نذر کہتے ہیں، اور وہ کام اگر ہو گیا تو اب اس کو وہ منت پوری کرنا پڑے گی، وہ پانچ روزے رکھنے پڑیں گے۔ اور یاد رکھو، یہ بھی ہمیشہ یاد رکھو کہ بعض لوگ بڑے بڑے مشکل کام کی منت مان لیتے ہیں بھئی۔ بھئی مشکل کام کی منت مانیں گے تو آپ خود پھر بعد میں مشکل میں پڑ جائیں گے۔ لہٰذا منت آسان سی انسان منت مانے کہ اسے آسانی سے پورا کر سکے بھئی۔ تو لہٰذا اگر کوئی شخص کہتا ہے: اگر میرا یہ کام ہو گیا تو میں پانچ روزے رکھوں گا، تو دیکھو یہاں پر اس نے منت کے ساتھ وہ شرط بھی ذکر کر دی کہ اگر یہ شرط ہو گئی، یہ جو منظور ہے یعنی جس کی منت مانی ہے، میرا یہ کام ہو گیا تو پھر میں پانچ روزے رکھوں گا۔ اور اگر کوئی کام ذکر نہیں کرتا، کوئی شخص ویسے بھی اپنے اوپر کوئی چیز لازم کر سکتا ہے، اس کو بھی نذر کہتے ہیں اور منت کہتے ہیں۔ مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ میں اللہ کے لیے پانچ روزے رکھوں گا، میں اللہ کے لیے پانچ روزے رکھوں گا، تو یہ بھی منت ہو گئی، اس نے خود اپنے اوپر لازم کر لیے، اب اس کو پانچ روزے رکھنے پڑیں گے بھئی۔ تو اس کو بھی منت کہتے ہیں، حالانکہ اس کے اندر دیکھو اس نے کسی کام کے ہونے یا نہ ہونے کی شرط ذکر نہیں کی بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا إِذَا قَالَ: عَلَيَّ نَذْرٌ أَوْ نَذْرُ اللّٰهِ“ اور اسی طرح اگر قسم کھانے والے نے کہا ”عَلَيَّ نَذْرٌ“ کہ میرے اوپر منت ہے، ”أَوْ نَذْرُ اللّٰهِ“ یا میرے اوپر اللہ کی منت ہے، تو اس صورت میں بھی یہ قسم ہو جائے گی، ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کی وجہ سے کہ آپ نے فرمایا: ”مَنْ نَذَرَ نَذْرًا“ کہ جس شخص نے منت مانی، ”وَلَمْ يُسَمِّ“ اور ذکر نہیں کیا، یعنی کس چیز کی منت مانی ہے وہ ذکر ہی نہیں کیا، صرف منت مان لی کہ میرے اوپر منت ہے یا میرے اوپر اللہ کی منت ہے، ”فَعَلَيْهِ كَفَّارَةُ يَمِينٍ“ تو اس پر قسم کا کفارہ واجب ہے۔ جس شخص نے منت مان لی اور جس چیز کی منت مانی ہے اس کو ذکر نہیں کیا تو اس پر قسم کا کفارہ ہے، وہ اس کو اب قسم کا کفارہ دینا پڑے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو حدیث میں آتا ہے: ”مَنْ نَذَرَ نَذْرًا“ اور جس شخص نے کوئی منت مانی، ”وَلَمْ يُسَمِّ“ اور ذکر نہیں کیا، یعنی کس چیز کی منت مانی ہے اس کو ذکر نہیں کیا، ”فَعَلَيْهِ كَفَّارَةُ يَمِينٍ“ تو اس پر ایک قسم کا کفارہ واجب ہے۔
”وَإِنْ قَالَ: إِنْ فَعَلْتُ كَذَا فَهُوَ يَهُودِيٌّ أَوْ نَصْرَانِيٌّ أَوْ كَافِرٌ يَكُونُ يَمِينًا“ بھئی وہی بات جو میں نے پہلے ذکر کی تھی، اب صاحبِ ہدایہ بھی ذکر فرما رہے ہیں۔ اگر کوئی شخص کفر کی شرط لگاتا ہے تو پھر اس صورت میں یہ یمین ہے۔ تو یہ یمین ہو گئی بھئی، اور اس کو بھی توڑنے کی صورت میں کفارہ دینا پڑے گا بھئی۔ ”وَإِنْ قَالَ“ اور اگر قسم کھانے والے نے کہا: ”إِنْ فَعَلْتُ كَذَا فَهُوَ يَهُودِيٌّ“ کہ اگر میں ایسا کروں تو وہ یہودی ہے، ”أَوْ نَصْرَانِيٌّ“ یا وہ عیسائی ہے، ”أَوْ كَافِرٌ“ یا وہ کافر ہے، ”يَكُونُ يَمِينًا“ تو یہ قسم ہو گی، ”لِأَنَّهُ لَمَّا جَعَلَ الشَّرْطَ عَلَمًا عَلَى الْكُفْرِ“ اس لیے کیونکہ جب اس نے شرط کو کفر پر علامت قرار دے دیا کہ اگر میں ایسا کروں تو میں یہودی ہوں، گویا اس نے اس شرط کو کفر پر علامت بنا دیا، ”فَقَدِ اعْتَقَدَهُ وَاجِبَ الِامْتِنَاعِ“ تو تحقیق اس نے اعتقاد کر لیا کہ یہ جو چیز ہے یہ واجب الامتناع ہے، اس سے رکنا اب مجھ پر واجب ہے، اب اس چیز سے رکنا میرے اوپر واجب ہے بھئی۔ تو یہ گویا ایک حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کر رہا ہے، اور حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کرنا اس کو قرآن میں یمین قرار دیا گیا ہے۔ یعنی تحریمِ حلال، حلال چیز کو حرام قرار دینا اس کو قرآن میں قسم قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوپر شہد کو حرام قرار دے دیا تھا اور اس تحریمِ حلال کو قرآن میں یمین کہا گیا، معلوم ہوا تحریمِ حلال یمین ہے۔ تو یہاں پر بھی جب اس شخص نے شرط کو علامت قرار دے دیا اپنے کفر کی، تو اس نے یہ اعتقاد کر لیا کہ اب اس کام سے میرے لیے رکنا واجب ہے، گویا اس کام کو اس نے اپنے اوپر حرام کر لیا، تو یہ تحریمِ حلال پایا گیا، اور تحریمِ حلال تو قسم ہے، نَص سے ثابت ہے، قرآن سے ثابت ہے، تو لہٰذا اس کو بھی قسم قرار دیا جائے گا اور اس کے خلاف یہ کرے گا تو کافر تو نہیں ہو گا لیکن اس پر قسم کا کفارہ آ جائے گا۔ تو یہ قسم ہے، یہ فعل کرنے سے یہ کافر تو نہیں ہو گا لیکن قسم کا کفارہ دینا پڑے گا۔ تو بے شک کافر نہیں ہوتا لیکن اس نے نہایت ناپسندیدہ بات کہی ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کہ اگر میں یہ کام نہ کروں تو میں کافر ہوں، تو یہ اس نے بڑی ہی ناپسندیدہ بات کہی کہ کفر کی نسبت کر رہا ہے اپنی طرف بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ لَمَّا جَعَلَ الشَّرْطَ عَلَمًا عَلَى الْكُفْرِ“ اس لیے کیونکہ جب اس کہنے والے نے اس شرط کو علامت بنا دیا اپنے کفر پر، ”فَقَدِ اعْتَقَدَهُ وَاجِبَ الِامْتِنَاعِ“ تو تحقیق اس نے یہ اعتقاد کر لیا کہ یہ چیز جو ہے اس سے رکنا واجب ہے، ”وَقَدْ أَمْكَنَ الْقَوْلُ بِوُجُوبِهِ لِغَيْرِهِ بِجَعْلِهِ يَمِينًا“ اور تحقیق اس کے وجوب لغیرہ کا قول ممکن بھی ہے اس کو یمین قرار دیتے ہوئے، بھئی آپ جانتے ہیں کہ واجب اور حرام دو قسم پر ہیں۔ آپ اصولِ فقہ میں پڑھ چکے ہیں: ایک ہے واجب لعینہٖ، ایک ہے واجب لغیرہٖ۔ یعنی ایک چیز جو اپنی ذات کے اعتبار سے ہی واجب ہوتی ہے اس کو کہتے ہیں واجب لعینہٖ، اور ایک چیز جو کسی دوسری چیز کی وجہ سے واجب ہوتی ہے اس کو کہتے ہیں واجب لغیرہٖ کہ یہ غیر کی وجہ سے واجب ہے۔ اسی طرح حرام بھی دو قسم پر ہے: ایک حرام لعینہٖ ہے، ایک حرام لغیرہٖ ہے۔ حرام لعینہٖ وہ چیز ہے جو اپنی ذات کے اعتبار سے ہی حرام ہے، اور حرام لغیرہٖ وہ ہے کہ جو اپنی ذات کے اعتبار سے تو حرام نہیں لیکن کسی دوسری چیز کی وجہ سے حرام ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں پر بھی یہ ایک فعل سے اپنے آپ کو روک رہا ہے، یہ فعل تو اس کے لیے کرنا جائز تھا لیکن اس نے خود اپنے اوپر اس کو حرام قرار دے دیا۔ تو یہ فعل حرام لعینہٖ تو نہیں، شریعت نے تو اس کو حرام قرار نہیں دیا، لیکن اس کو حرام لغیرہٖ قرار دیا جا سکتا ہے یعنی اس کی اس قسم کی وجہ سے، اس کی اس شرط کی وجہ سے اس کو حرام قرار دیا جا سکتا ہے کہ اس نے یہ شرط لگا دی ہے لہٰذا یہ فعل اس پر کیا ہو گیا؟ حرام ہو گیا، تو یہ حرام لغیرہٖ ہوا تو یہ یمین ہو گئی بھئی۔ یہ یمین ہو گئی کیونکہ تحریمِ حلال کو قرآن میں یمین کہا گیا ہے اور یہاں بھی یہ شخص اس فعل کو اپنے اوپر حرام کر رہا ہے، اور یہ حرام کیوں ہے؟ یہ چیز اپنی ذات کی وجہ سے حرام نہیں ہوئی بلکہ اس کے اس قول کی وجہ سے، اس شرط کی وجہ سے حرام ہوئی ہے۔
”وَقَدْ أَمْكَنَ الْقَوْلُ بِوُجُوبِهِ لِغَيْرِهِ بِجَعْلِهِ يَمِينًا“ جی، یہ ترجمہ توجہ سے سمجھ لیجیے: اور تحقیق یہ ممکن ہے کہ یہ قول کیا جائے کہ یہ غیر کی وجہ سے واجب ہے اس کو یمین قرار دیتے ہوئے، اس کو یمین قرار دیتے ہوئے اس شرط کو واجب لغیرہٖ قرار دیا جا سکتا ہے۔ ”كَمَا نَقُولُ فِي تَحْرِيمِ الْحَلَالِ“ جیسے کہ ہم حلال چیز کو حرام قرار دینے میں کہتے ہیں کہ تحریمِ حلال وہ یمین ہے، نَص سے یعنی قرآن سے ثابت ہے۔ حضور علیہ السلام نے اپنے اوپر شہد کو حرام کیا تھا اور قرآن میں اس کو یمین قرار دیا گیا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”كَمَا نَقُولُ فِي تَحْرِيمِ الْحَلَالِ“ جیسے کہ ہم تحریمِ حلال میں کہتے ہیں۔
”وَلَوْ قَالَ ذَلِكَ لِشَيْءٍ قَدْ فَعَلَهُ فَهُوَ الْغَمُوسُ“ یہ تو وہ صورت تھی کہ اس آدمی نے اپنی طرف کفر کی نسبت کی ہے مستقبل میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے پر، کہ اگر میں یہ کام کروں تو میں یہودی ہوں یا عیسائی ہوں۔ اور اگر یہی قسم کسی ماضی کے گزرے ہوئے کام پر کھائی، ایک آدمی نے کسی کی کوئی چیز توڑ دی ہے اور بعد میں کہتا ہے: اگر یہ چیز میں نے توڑی ہے تو میں کافر ہوں یا میں عیسائی ہوں، تو دیکھو اب یہ گزری ہوئی بات پر یہ کفر کو ذکر کر رہا ہے، تو اس صورت میں پھر یاد رکھو یہ ہے تو یمین لیکن ماضی کی گزری ہوئی بات پر جھوٹی یمین ہے تو یہ یمینِ غموس ہے بھئی، یہ یمینِ غموس۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَالَ ذَلِكَ لِشَيْءٍ قَدْ فَعَلَهُ“ اور اگر اس قسم کھانے والے نے یہ کہا ایسی چیز کے بارے میں جو وہ کر چکا ہے یعنی زمانۂ ماضی میں، ”فَهُوَ الْغَمُوسُ“ تو یہ یمینِ غموس ہے، ”وَلَا يَكْفُرُ اعْتِبَارًا بِالْمُسْتَقْبَلِ“ تو کیا یہ جب اس نے ماضی کی گزری ہوئی بات پر جھوٹی قسم اٹھا لی کہ اگر یہ چیز میں نے توڑی ہے تو میں کافر ہوں، تو کیا اس صورت میں یہ کافر ہو جائے گا یا کافر نہیں ہو گا؟ تو بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ اس صورت میں یہ کافر نہیں ہو گا بھئی، مستقبل پر قیاس کرتے ہوئے۔ کیا معنی مستقبل پر قیاس کرتے ہوئے؟ یعنی وہ جو دوسری قسم اس نے کھائی تھی مستقبل کے فعل پر کہ اگر میں نے یہ کام کیا تو میں کافر ہوں، تو جیسے وہاں پر اس کو کافر قرار نہیں دیا جاتا تو یہاں ماضی کے فعل پر بھی اگر یہ جھوٹی قسم اسی طرح کھا لیتا ہے تو یہاں بھی اس کو کافر قرار نہیں دیا جائے گا، بات سمجھ میں آ گئی؟ جبکہ بعض فقہاء فرماتے ہیں: نہیں، یہ فی الحال ہی کافر ہو جائے گا۔ اس لیے کیونکہ یہ ایک چیز جو ہو چکی ہے اس پر کفر کو معلق کر رہا ہے، اور جو چیز ہو چکی ہے اس پر تعلیق ایسے ہی ہے جیسے تنجیز ہے۔ میں نے بتلایا تھا ایک ہے تعلیق، ایک ہے تنجیز۔ تعلیق کا معنی ہے ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ معلق کرنا، اور تنجیز کا معنی ہے کسی چیز کو پورا کر دینا یعنی واقع کر دینا۔ مثلاً دیکھو ایک شخص اپنی بیوی سے کہتا ہے: اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے، تو دیکھو یہاں وہ طلاق کو معلق کر رہا ہے مستقبل کے ایک فعل پر، تو یہ ہے تعلیق، یہ طلاق معلق ہو گئی، وہ عورت اس گھر میں جائے گی تو طلاق ہو جائے گی۔ اور ایک ہے ماضی کی بات پر تعلیق کرنا۔ مثلاً زید کل آیا تھا اور آج ایک آدمی کہتا ہے: اگر زید آ چکا ہے تو تمہیں طلاق ہے، تو اب یہ تو ایک ایسی چیز پر طلاق کو معلق کر رہا ہے جو ہو چکی ہے، اور گزری ہوئی چیز پر تعلیق جو ہے وہ بھی دراصل تنجیز ہی ہوتی ہے، گویا وہ فی الحال ہی اس طلاق کو واقع کر رہا ہے، تو فی الحال ہی طلاق واقع ہو جائے گی۔ تو یہاں پر بھی جب اس شخص نے ماضی کی ایک بات پر جھوٹی قسم کھائی کہ اگر میں نے وہ چیز توڑی ہو تو میں کافر ہوں، تو اس صورت میں وہ ایک گزری ہوئی چیز پر تعلیق کر رہا ہے اور گزری ہوئی چیز پر تعلیق بھی تنجیز ہوتی ہے لہٰذا یہ کافر ہو گیا۔ یہ بعض فقہاء فرماتے ہیں۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَا يَكْفُرُ اعْتِبَارًا بِالْمُسْتَقْبَلِ“ اور یہ شخص کافر نہیں ہو گا، ”كَفَرَ يَكْفُرُ“ کافر ہونا، اور ایک ہے ”كَفَّرَ يُكَفِّرُ تَكْفِيرًا“ اس کا معنی ہے کافر قرار دینا۔ تو بعض نسخوں میں ہے ”وَلَا يُكَفَّرُ“ اس کو کافر قرار نہیں دیا جائے گا، لیکن زیادہ بہتر یہ ہے کہ اس کو مجرد سے پڑھا جائے: ”وَلَا يَكْفُرُ“ اور یہ کافر نہیں ہو گا، ”اعْتِبَارًا بِالْمُسْتَقْبَلِ“ مستقبل پر اعتبار کرتے ہوئے، مستقبل پر قیاس کرتے ہوئے۔ کیا معنی مستقبل پر قیاس کرتے ہوئے؟ یعنی وہ جو دوسری قسم اس نے کھائی تھی مستقبل کے فعل پر کہ اگر میں نے یہ کام کیا تو میں کافر ہوں، تو جیسے وہاں پر اس کو کافر قرار نہیں دیا جاتا تو یہاں ماضی کے فعل پر بھی اگر یہ جھوٹی قسم اسی طرح کھا لیتا ہے تو یہاں بھی اس کو کافر قرار نہیں دیا جائے گا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يَكْفُرُ اعْتِبَارًا بِالْمُسْتَقْبَلِ“ اور یہ شخص کافر نہیں ہو گا مستقبل پر قیاس کرتے ہوئے۔ ”وَقِيلَ: يَكْفُرُ“ اور کہا گیا ہے یہ کافر ہو جائے گا، ”لِأَنَّهُ تَنْجِيزٌ مَعْنًى“ اس لیے کیونکہ یہ تعلیق بھی تنجیز ہے معنیٰ کے اعتبار سے، کہ وہ ایک موجود چیز پر تعلیق کر رہا ہے تو یہ تنجیز ہی ہے۔ ”كَمَا إِذَا قَالَ: هُوَ يَهُودِيٌّ“ جیسے کہ وہ کہے: ”هُوَ يَهُودِيٌّ“ کہ وہ یہودی ہے۔ کہتے ہیں یہ اسی طرح ہے کہ یہ ماضی کی گزری ہوئی بات پر جب یہ جھوٹی قسم کھا رہا ہے تو یہ تنجیز ہے، یہ اسی طرح ہے جیسے ایک آدمی کہے کہ وہ یہودی ہے۔ ایک مسلمان کیا کہتا ہے؟ میں یہودی ہوں، یاد رکھو یہ کہتے ہی وہ دائرۂ اسلام سے نکل گیا کیونکہ وہ خود کیا کہہ رہا ہے؟ میں یہودی ہوں یعنی اسلام سے خارج ہوں بھئی۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے۔ تو کہتے ہیں: ”كَمَا إِذَا قَالَ: هُوَ يَهُودِيٌّ“ جیسے کہ کوئی کہنے والا کہتا ہے: ”هُوَ يَهُودِيٌّ“ کہ وہ یہودی ہے، تو اس صورت میں جیسے کافر ہوتا ہے اسی طرح ماضی پر جھوٹی قسم کھانے سے بھی وہ کافر ہو گا جب اس نے کفر کی نسبت کی ہے۔
”وَالصَّحِيحُ“ صاحبِ ہدایہ نے دونوں قول ذکر کر دیے اور اب بتلا رہے ہیں: ”وَالصَّحِيحُ“ اور صحیح قول یہ ہے: ”أَنَّهُ لَا يَكْفُرُ فِيهِمَا“ کہ وہ کافر نہیں ہو گا ان دونوں میں، یعنی چاہے مستقبل کی قسم کھائی تھی چاہے ماضی کے فعل پر اس نے قسم کھائی تھی، ”أَنَّهُ لَا يَكْفُرُ فِيهِمَا“ کہ وہ کافر نہیں ہو گا ان دونوں میں، ”إِنْ كَانَ يَعْلَمُ أَنَّهُ يَمِينٌ“ اگر یہ جانتا ہے کہ یہ قسم ہے، اگر اس کو معلوم ہے کہ میرے یہ الفاظ قسم ہیں، ان سے میں حقیقتاً کافر نہیں ہوں گا یہ صرف قسم ہے، تو پھر اس صورت میں یہ کافر نہیں ہو گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالصَّحِيحُ“ اور صحیح قول یہ ہے: ”أَنَّهُ لَا يَكْفُرُ فِيهِمَا“ کہ یہ کافر نہیں ہو گا ان دونوں صورتوں میں یعنی چاہے ماضی کی بات ہے یا مستقبل کی، ”إِنْ كَانَ يَعْلَمُ أَنَّهُ يَمِينٌ“ اگر یہ جانتا ہے کہ یہ قسم ہے۔ ”فَإِنْ كَانَ عِنْدَهُ أَنَّهُ يَكْفُرُ بِالْحَلِفِ“ اگر، ”فَإِنْ كَانَ عِنْدَهُ“ اگر اس کے پاس یہ بات ہے یعنی اس کا یہ عقیدہ ہے ”أَنَّهُ يَكْفُرُ“ کہ یہ کافر ہو جائے گا ”بِالْحَلِفِ“ اس قسم کی وجہ سے۔ ماضی میں ایک بات ہو چکی ہے اور یہ کہتا ہے: اگر یہ چیز میں نے توڑی ہے تو میں کافر ہوں، اور توڑی بھی اسی نے تھی، اگر اس کا یہ عقیدہ ہے کہ یہ کہنے سے میں کافر ہو جاؤں گا تو پھر کافر ہو جائے گا۔ اگر اس کا یہ عقیدہ ہے یہ کہنے سے میں کافر ہو جاؤں گا تو پھر کافر ہو جائے گا بھئی۔ کیوں پھر کیوں کافر ہو گا؟ کہتے ہیں جب اس کا یہ عقیدہ ہے کہ میں یہ کہنے سے کافر ہو جاؤں گا پھر بھی وہ جرات کر کے یہ بات کر رہا ہے، تو کفر پر پیش قدمی خود کر رہا ہے لہٰذا واقعی یہ کافر ہو جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَإِنْ كَانَ عِنْدَهُ“ اگر اس کے پاس ہو یہ بات، یعنی یہ اس کا عقیدہ ہو ”أَنَّهُ يَكْفُرُ بِالْحَلِفِ“ کہ وہ کافر ہو جائے گا قسم کھانے سے، ”يَكْفُرُ فِيهِمَا“ تو پھر وہ دونوں صورتوں میں کافر ہو جائے گا، ”لِأَنَّهُ رَضِيَ بِالْكُفْرِ“ اس لیے کیونکہ وہ کفر پر راضی ہو گیا، ”حَيْثُ أَقْدَمَ عَلَى الْفِعْلِ“ کیونکہ اس نے پیش قدمی کر لی اس کام پر۔ جب اس کام پر خود اس نے پیش قدمی کر لی تو یہ کافر ہو گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کفر پر راضی ہونا بھی کفر ہے، تو یہ خود کفر پر راضی ہے تو یہ کافر ہو جائے گا۔
آگے دیکھیے: ”وَلَوْ قَالَ: إِنْ فَعَلْتُ كَذَا فَعَلَيَّ غَضَبُ اللّٰهِ أَوْ سَخَطُ اللّٰهِ فَلَيْسَ بِحَالِفٍ“ صورت یہ: ایک آدمی نے کہا کہ اگر میں نے یہ کام کیا تو میرے اوپر اللہ کا غضب ہو یا میں نے یہ کام کیا تو میرے اوپر اللہ کی ناراضگی ہو، تو اس صورت میں یہ قسم نہیں ہے۔ تو اس صورت میں یہ قسم نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَالَ: إِنْ فَعَلْتُ كَذَا فَعَلَيَّ غَضَبُ اللّٰهِ أَوْ سَخَطُ اللّٰهِ“ اگر اس نے کہا: اگر میں نے ایسا کیا تو مجھ پر اللہ کا غضب ہو یا اللہ کی ناراضگی ہو، ”فَلَيْسَ بِحَالِفٍ“ تو یہ قسم کھانے والا نہیں یعنی یہ قسم شمار نہیں ہو گی، ”لِأَنَّهُ دَعَا عَلَى نَفْسِهِ“ اس لیے کیونکہ یہ اس نے اپنے لیے بددعا کی ہے، ”دَعَا“ کا صلہ ”عَلَى“ آیا ہے تو یہ بددعا کے معنی میں ہے۔ ”لِأَنَّهُ دَعَا عَلَى نَفْسِهِ“ اس لیے کیونکہ اس نے اپنے اوپر بددعا کی ہے، ”وَلَا يَتَعَلَّقُ ذَلِكَ بِالشَّرْطِ“ اور اس کا تعلق شرط سے نہیں ہو سکتا۔ بھئی دیکھیے، یہ جو قسم کھائی جاتی ہے یہ کسی کام سے انسان اپنے آپ کو روکنا چاہتا ہے یا کسی کام پر اپنے آپ کو ابھارنا چاہتا ہے، تو لہٰذا جب قسم ایسی چیز کی ہو گی کہ جس کے بارے میں اس کو یقین ہے کہ میں جب یہ کام کروں گا تو ایسا ہو جائے گا، تو پھر تو یہ قسم اس کو روکنے والی بنے گی۔ اور یہاں پر وہ اللہ کے غضب اور ناراضگی کو ذکر کر رہا ہے اور اس کام کے کرنے کے بعد بھی اللہ کا غضب اور ناراضگی وہ تو ہمیں علم نہیں ہو سکتا، وہ تو یقینی نہیں ہے، تو لہٰذا جب اللہ کا غضب یقینی نہیں تو یہ قسم اس کو اس کام سے روکنے والی بھی نہیں، لہٰذا یہ قسم ہی شمار نہیں ہو گی، کیونکہ قسم کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ کہ ایک چیز سے انسان کو وہ روکے بھئی، اور یہاں پر یہ روکنے والی نہیں کیونکہ اللہ کا غضب اور ناراضگی اس میں یقینی نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ دَعَا عَلَى نَفْسِهِ“ اس لیے کیونکہ اس نے اپنے اوپر بددعا کی ہے، ”وَلَا يَتَعَلَّقُ ذَلِكَ بِالشَّرْطِ“ اور اس کا تعلق شرط کے ساتھ نہیں ہو سکتا، یعنی اللہ کے غضب اور ناراضگی کا تعلق شرط کے ساتھ نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کا ہونا یقینی نہیں ہے، اس کا پتہ ہی نہیں چل سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يَتَعَلَّقُ ذَلِكَ بِالشَّرْطِ“ اور اس کا تعلق شرط سے نہیں ہو سکتا، ”وَلِأَنَّهُ غَيْرُ مُتَعَارَفٍ“ اور نیز اس لیے کیونکہ یہ غیر متعارف ہے، اور قسم کا مدار تو عرف پر ہوتا ہے اور یہ قسم لوگوں میں متعارف نہیں بھئی۔
”وَكَذَا إِذَا قَالَ: إِنْ فَعَلْتُ كَذَا فَأَنَا زَانٍ أَوْ سَارِقٌ أَوْ شَارِبُ خَمْرٍ أَوْ آكِلُ رِبًا، لِأَنَّ حُرْمَةَ هَذِهِ الْأَشْيَاءِ تَحْتَمِلُ النَّسْخَ وَالتَّبْدِيلَ“ اسی طرح اگر ایک آدمی کہتا ہے: اگر میں نے یہ کام کیا تو میں زناکار ہوں، یا اگر میں نے یہ کام کیا تو میں چور ہوں، یا اگر میں نے یہ کام کیا تو میں شرابی ہوں، یا میں نے یہ کام کیا تو میں سود خور ہوں، سود کھانے والا ہوں، تو یاد رکھو اس صورت میں بھی یہ قسم نہیں ہے بھئی۔ اس صورت میں بھی یہ قسم نہیں۔ کفر کی بات جب کی جاتی تھی وہ قسم تھی کیونکہ وہ گویا اس چیز کو اپنے اوپر حرام کر رہا ہے اور کسی حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کرنا وہ وہ یمین ہے، اس کو قرآن میں یمین کہا گیا ہے، جبکہ یہاں پر، یہاں پر یہ جو چیزیں اس نے ذکر کی ہیں یہ صرف گناہ ذکر کیے ہیں، یہ کفر نہیں ہے۔ اور نیز یہ وہ کام کر بھی لے گا تو یہ کوئی زناکار نہیں بن جائے گا، یہ کوئی شرابی نہیں بن جائے گا، یہ کوئی سود خور نہیں بن جائے گا یا یہ کوئی چور نہیں بن جائے گا، تو قسم تو کھائی جاتی ہے کہ وہ قسم اس کو روکتی ہے کہ اگر وہ وہ کام کرے گا تو ایسا ہو جائے گا، اور یہ اس کام کو کر بھی لے پھر بھی شرابی بھی نہیں، سود خور بھی نہیں، زناکار بھی نہیں بنتا، تو لہٰذا یہ قسم اس کو روکنے والی نہیں لہٰذا یہ قسم بھی نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو یہ معنی ہے: ”وَكَذَا إِذَا قَالَ“ اور اسی طرح ہے یعنی وہ قسم نہیں ہو گی، ”إِذَا قَالَ“ جب قسم کھانے والا کہے: ”إِنْ فَعَلْتُ كَذَا فَأَنَا زَانٍ“ اگر میں ایسا کروں تو میں زناکار ہوں، ”أَوْ سَارِقٌ“ یا میں چور ہوں، ”أَوْ شَارِبُ خَمْرٍ“ یا میں شراب خور ہوں، ”أَوْ آكِلُ رِبًا“ یا میں سود خور ہوں، اگر میں ایسا کروں تو میں سود خور ہوں، تو یہ بھی قسم نہیں ہے۔ ”لِأَنَّ حُرْمَةَ هَذِهِ الْأَشْيَاءِ تَحْتَمِلُ النَّسْخَ وَالتَّبْدِيلَ“ اس لیے کیونکہ ان چیزوں کا حرام ہونا ”تَحْتَمِلُ النَّسْخَ وَالتَّبْدِيلَ“ یہ احتمال رکھتا ہے نسخ ہونے کا بھی اور تبدیل کا بھی۔ یہ نسخ اور تبدیل کا احتمال رکھتا ہے۔ اب اس کلام کا کیا معنی ہے؟ صاحبِ ہدایہ کیا کہنا چاہتے ہیں کہ یہ چیزیں جو ہیں یہ نسخ اور تبدیل کا احتمال رکھتی ہیں؟ تو بعض شارحین فرماتے ہیں کہ یہاں پر یہ جو نسخ کا لفظ آیا اس کا تعلق آخری دو چیزوں سے ہے یعنی شراب پینا اور سود کھانا، اور یہ جو تبدیل کا لفظ آیا اس کا تعلق پہلی دو چیزوں سے ہے یعنی زناکار ہونا اور چور ہونا۔ تو تبدیل کا تعلق زناکار اور چور ہونے سے اور نسخ کا تعلق شراب پینے اور سود کھانے سے۔ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ یہ جو چیزیں ہیں، پہلے نسخ کو دیکھ لیں کہ یہ جو شراب کا پینا اور سود کا کھانا یہ نسخ کا احتمال رکھتی ہیں اپنی ذات کے اعتبار سے۔ یعنی مملکتِ اسلامیہ کے اندر تو سود حرام ہے اور عام حالات میں تو شراب حرام ہے لیکن بعض اوقات یہ چیزیں حلال بھی ہو جاتی ہیں۔ مثلاً دار الحرب کے اندر، کفار کے وطن میں کفار کے وطن میں ان سے سود لینا جائز ہے، کفار کا مال آپ دھوکہ دیے بغیر جس طرح بھی لینا چاہیں لے سکتے ہیں بھئی، کیونکہ وہ دار الحرب والے ہیں، ان سے ہم حالتِ جنگ میں ہیں بھئی، تو وہاں مسلمان کے لیے ان سے سود لینا جائز ہے۔ اسی طرح شراب جو ہے شراب حرام ہے لیکن حالتِ اضطراری کے اندر شراب جائز ہو جاتی ہے۔ ایک شخص موت کے منہ میں پہنچ چکا ہے، مرنے والا ہے اور کوئی چیز کھانے پینے کے لیے نہیں ہے، ہاں کچھ شراب موجود ہے، تو اس میں سے اتنی مقدار پی لینا، ایک دو گھونٹ، کہ جس سے اس کی زندگی بچ جائے، اب یہ شراب اس کے لیے جائز ہو چکی ہے۔ تو معلوم ہوا بعض صورتوں میں سود لینا جائز ہو جاتا ہے، بعض صورتوں میں شراب بھی جائز ہو جاتی ہے، تو ان دونوں کی حرمت جو ہے، ان دونوں کا حرام ہونا وہ منسوخ ہونے کا احتمال رکھتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اور تبدیل کا تعلق جو ہے وہ زنا اور چوری سے ہے۔ اور تبدیل سے مراد جو ہے اس محل کا بدلنا ہے، وہ جو زنا کا محل ہے یا وہ جو چوری کا محل ہے، اس محل کا ہی بدل جانا اور جائز ہو جانا، اس محل کا ہی جائز ہو جانا۔ مثلاً ایک عورت جو ہے وہ اجنبیہ ہے تو اس کے ساتھ صحبت حرام ہے، یہ زنا ہے، لیکن یہی محل اس کے لیے حلال بھی ہو سکتا ہے، یہ آدمی اس عورت سے نکاح کر لے، تو اب یہی محل کیا ہوا؟ حلال ہو گیا، تبدیل ہو گیا حرمت سے حلت کی طرف۔ اسی طرح ایک چیز جو ہے جب انسان چوری کرتا ہے وہ اس پر حرام ہے لیکن یہی چیز جو ہے اس کے لیے حلال بھی ہو سکتی ہے کہ اس کو خرید لے، تو دیکھو وہی محل جو ہے وہ تبدیل ہو گیا حرمت سے حلت کی طرف۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو نسخ کا تعلق کس سے ہے؟ شراب پینے اور سود کھانے سے، کیونکہ بعض اوقات یہ حلال ہو جاتے ہیں۔ اور تبدیل کا تعلق زنا اور چوری سے ہے، اور مراد وہ محل کا بدلنا ہے کہ یہ زنا اور چوری کا محل کبھی ان کی حرمت تبدیل ہو جاتی ہے حلت کے ساتھ بھئی۔ یہ بعض شارحین فرماتے ہیں، صاحبِ ہدایہ کے قول کا یہ معنی ہے۔
چنانچہ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”لِأَنَّ حُرْمَةَ هَذِهِ الْأَشْيَاءِ تَحْتَمِلُ النَّسْخَ وَالتَّبْدِيلَ“ اس لیے کیونکہ ان چیزوں کا حرام ہونا وہ نسخ اور تبدیل کا احتمال رکھتا ہے، ”فَلَمْ يَكُنْ فِي مَعْنَى حُرْمَةِ الِاسْمِ“ تو یہ اللہ کے نام کی حرمت کے معنی میں نہیں ہیں۔ اللہ کے نام کی جو حرمت ہے، اللہ کے نام کا جو احترام ہے وہ ہر حال میں باقی رہتا ہے، کسی بھی حال میں اس کی حرمت تبدیل نہیں ہوتی، کسی بھی صورت میں وہ حرمت منسوخ نہیں ہوتی، تو لہٰذا یہ چیزیں ان کی حرمت اللہ کے نام کی حرمت کی طرح نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَلَمْ يَكُنْ فِي مَعْنَى حُرْمَةِ الِاسْمِ“ تو یہ چیزیں جو ہیں اللہ کے نام کی حرمت کے معنی میں نہیں ہیں تو اس لیے یہ یمین نہیں ہوں گی۔ ”وَلِأَنَّهُ لَيْسَ بِمُتَعَارَفٍ“ اور نیز اس لیے کیونکہ یہ قسمیں متعارف نہیں ہیں، کہ اگر میں یہ کام کروں تو میں زناکار ہوں یا میں شرابی ہوں، اس قسم کی قسمیں لوگوں میں متعارف نہیں ہے لہٰذا یہ یمین شمار نہیں ہو گی۔ تو یہ تو بعض شارحین کی میں نے تقریر کی، جبکہ بعض شارحین فرماتے ہیں کہ نسخ اور تبدیل کا معنی یہ ہے کہ کبھی کبھار ان چیزوں کی حرمت کا حکم بدل جاتا ہے۔ کبھی ان چیزوں کی حرمت کا حکم بدل جاتا ہے۔ مثلاً اگر کسی سے زبردستی زنا کروایا جائے، ایک شخص نے تلوار نکالی کہ میں تمہیں قتل کرتا ہوں الا یہ کہ تمہیں اس عورت سے زنا کرنا پڑے گا، تو پھر اس صورت کے اندر یہ اکراہ کی حالت میں اس زنا کی حرمت ساقط ہو جاتی ہے۔ اسی طرح اگر قحط کا زمانہ ہو اور موت کا خوف ہے تو اس وقت زندگی بچانے کے بقدر چیز کی چوری جائز ہو جاتی ہے۔ اسی طرح اضطراری حالت میں شراب حلال ہو جاتی ہے، اور اسی طرح دار الحرب میں حربی کے ساتھ سود حلال ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو بعض شارحین نے نسخ اور تبدیل میں کوئی فرق نہیں کیا کہ نسخ اور تبدیل کا ایک ہی معنی ہے یعنی ان کا حکم بدل جاتا ہے، ان کی حرمت منسوخ ہو جاتی ہے یا ان کی حرمت بدل جاتی ہے حلت کے ساتھ، جیسے اکراہ کی صورت میں زنا کی حرمت ساقط ہو جاتی ہے، اسی طرح قحط کے زمانے میں ضرورت کے بقدر زندگی بچانے کے لیے جتنی چیز کی ضرورت ہے تو وہ چوری اس کی حرمت ساقط ہو جائے گی بھئی، اور اسی طرح مجبوری کی حالت میں شراب کی حرمت ساقط ہو جاتی ہے اور اسی طرح دار الحرب میں سود کی حرمت ساقط ہو جاتی ہے، تو یہ مراد ہے صاحبِ ہدایہ کی، بعض شارحین یہ فرماتے ہیں بھئی۔ تو یہ چیزیں جو ہیں نسخ اور تبدیل کا احتمال رکھتی ہیں، ”فَلَمْ يَكُنْ فِي مَعْنَى حُرْمَةِ الِاسْمِ“ تو لہٰذا یہ اللہ کے نام کی حرمت کے معنی میں نہیں ہیں کیونکہ وہاں نسخ اور تبدیل کا کوئی احتمال نہیں، ہر حال میں اللہ کے نام کی حرمت اسی طرح ہے بھئی، ”وَلِأَنَّهُ لَيْسَ بِمُتَعَارَفٍ“ اور نیز اس لیے کیونکہ یہ قسم لوگوں میں متعارف بھی نہیں ہے، یہ لوگوں میں رائج بھی نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حل ہو گیا۔ چلیے بس بھئی: هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔