Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-097

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 16 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 74
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے بھئی: ﴿وَإِنْ قَالَ: كُلُّ مَمْلُوكٍ أَمْلِكُهُ فَهُوَ حُرٌّ بَعْدَ غَدٍ، أَوْ قَالَ: كُلُّ مَمْلُوكٍ لِي فَهُوَ حُرٌّ بَعْدَ غَدٍ، وَلَهُ مَمْلُوكٌ، فَاشْتَرَى آخَرَ، ثُمَّ جَاءَ بَعْدُ غَدٍ، عَتَقَ الَّذِي فِي مِلْكِهِ يَوْمَ حَلَفَ﴾۔ بھئی، گزشتہ سبق کے اندر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر خاوند اپنی دو بیویوں میں سے ایک غیر معین کو طلاق دے، مثلاً یوں کہتا ہے خاوند کہ: ”إِحْدَاكُمَا طَالِقٌ“ تم دونوں میں سے ایک کو طلاق ہے، اور پھر خاوند کے بیان کرنے سے پہلے ہی ان دو بیویوں میں سے ایک کا انتقال ہو گیا، تو دوسری بیوی جو ہے وہ طلاق کے لیے متعین ہو جائے گی۔ وجہ یہ ہے کہ ایک بیوی کا تو انتقال ہو چکا ہے، تو وہ طلاق کا محل ہی نہ رہی، اس کو بیان ہی نہیں کیا جا سکتا، تو دوسری بیوی طلاق کے لیے متعین ہو گئی۔ اسی طرح اگر ایک شخص کی دو بیویاں ہیں اور ان سے وہ یہی لفظ کہتا ہے کہ ”إِحْدَاكُمَا طَالِقٌ“، اور پھر بعد میں بیان سے پہلے وہ ان دو بیویوں میں سے کسی ایک کے ساتھ صحبت کر لیتا ہے، تو اس کے صحبت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس بیوی کے اندر وہ اپنی ملکِ نکاح کو باقی رکھنا چاہتا ہے، تو دوسری بیوی جو ہے وہ طلاق کے لیے متعین ہو جائے گی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اگر ایک شخص کی دو باندیاں ہیں اور وہ ان سے کہتا ہے: ”إِحْدَاكُمَا حُرَّةٌ“ کہ تم دونوں میں سے ایک آزاد ہے، تو اب آقا نے ان دو باندیوں میں سے ایک غیر معین کو آزاد کیا ہے اور اس کے لیے بیان چاہیے، بعد میں آقا نے بیان سے پہلے ان دو باندیوں میں سے کسی ایک کے ساتھ صحبت کر لی، تو صاحبین فرماتے ہیں کہ معلوم ہوا کہ اس باندی کے اندر آقا اپنی ملکیت باقی رکھنا چاہتا ہے۔ وجہ یہ کہ آزاد ہونے کے بعد تو باندی آقا کے لیے حلال نہیں رہتی، اور آقا نے ان دونوں میں سے ایک کو آزاد کیا ہے، تو دونوں میں سے ایک غیر معین آقا پر حرام ہو چکی ہے اور ایک حلال ہے۔ اب اس کے لیے بیان چاہیے تھا تو آقا کا یہ وطی کرنا اس کے لیے بیان بن جائے گا۔ معلوم ہوا یہ باندی جس کے ساتھ آقا نے صحبت کی ہے اس کے اندر آقا نے اپنی ملکیت باقی رکھی ہے، اور دوسری باندی آزادی کے لیے متعین ہے وہ آقا پر حرام ہو چکی ہے۔ جبکہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ باندیوں کے مسئلے میں ایک باندی کے ساتھ آقا کا صحبت کر لینا اس کو بیان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ وجہ یہ کہ آقا نے جس باندی کو آزاد کیا ہے وہ ہے غیر معین، اور جس باندی کے ساتھ آقا صحبت کر رہا ہے وہ ہے معین، تو اس معین کو اس غیر معین کے لیے بیان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ چنانچہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے مذہب کے مطابق اب بھی یہ دونوں باندیاں آقا کے لیے حلال ہیں، لیکن صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ اس مسئلے پر فتویٰ نہیں دیا جائے گا۔ وجہ یہ کہ امام صاحب مسئلے کی انتہائی گہرائی میں چلے گئے، اتنی گہرائی میں چلے گئے کہ عام لوگوں کے لیے، عام علماء کے لیے اس گہرائی تک پہنچنا ممکن نہ رہا، تو لہٰذا لوگ امام صاحب پر اعتراض کریں گے کہ امام صاحب نے احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیا۔ جب آقا نے ان دو باندیوں میں سے غیر معین کو آزاد کیا ہے تو اب دونوں آقا کے لیے حلال نہیں ہو سکتیں، دونوں میں سے ایک کو آقا کے لیے حرام ہونا چاہیے، لیکن امام صاحب کیا فرما رہے ہیں؟ دونوں باندیاں آقا کے لیے حلال ہیں، تو لوگ تو اعتراض کے لیے موقع ڈھونڈتے ہیں، لہٰذا امام صاحب کے قول پر فتویٰ نہیں دیا جائے گا۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے وضاحت بھی فرمائی امام صاحب کے مذہب کی اور فرمایا کہ یہاں دو صورتیں بنتی ہیں: یا تو دو باندیوں میں سے ایک کے اندر آزادی آ چکی ہے یا ابھی آزادی آئی ہی نہیں۔ اگر یہ کہیں کہ آزادی آ چکی ہے تو پھر دونوں باندیاں کیسے حلال ہو سکتی ہیں؟ اور اگر یہ کہا جائے کہ ابھی کسی ایک باندی کے اندر بھی آزادی نہیں آئی تو پھر تو اس کا مطلب ہے کہ آپ نے ایک عاقل بالغ شخص کے قول کو لغو قرار دے دیا، بے کار قرار دے دیا، اس کا کوئی فائدہ ہی نہیں۔ آقا نے تو دونوں میں سے ایک غیر معین کو آزاد کیا ہے لیکن آپ نے اس کے کلام کو لغو قرار دے دیا، اور حالانکہ عاقل بالغ کے کلام کو ویسے ہی لغو قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو پھر صاحبِ ہدایہ نے دونوں صورتوں کو لے کر جواب دیا کہ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہاں آزادی نازل ہو چکی ہے، اور یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ابھی یہاں آزادی نازل ہی نہیں ہوئی، ابھی آزادی آئی ہی نہیں ہے۔ تو لہٰذا یوں کہا جا سکتا ہے کہ آزادی ابھی یہاں نازل ہی نہیں ہوئی، کیونکہ آزادی کے لیے بیان چاہیے تھا، اور جب تک بیان نہیں آیا تب تک آزادی بھی نہیں آئے گی۔ یہ اسی طرح ہے جیسے کوئی شخص اپنے غلام کی آزادی کو شرط کے ساتھ معلق کرے، کہ غلام سے کہے اگر تم نے فلاں کام کیا تو تم آزاد ہو۔ تو جب تک وہ غلام وہ کام نہیں کرے گا تب تک وہ آزاد نہیں ہو گا۔ تو یہاں پر بھی جب تک بیان نہیں آئے گا تب تک کوئی باندی بھی آزاد نہیں بھئی۔ معلوم ہوا آزادی ابھی آئی ہی نہیں، کیونکہ بیان نہیں آیا۔ اور دوسری صورت ہے کہ یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ آزادی آ چکی ہے لیکن غیر معین کے اندر آئی ہے۔ لیکن غیر معین کے اندر آئی ہے، تو لہٰذا یہ آزادی اس حکم کے حق میں تو ظاہر ہو گی جس کو غیر معین قبول کر لیتا ہے، لیکن اس حکم کے حق میں یہ آزادی ظاہر نہیں ہو گی جسے غیر معین قبول نہیں کرتا۔ اب دیکھو ایک ہے بیع اور ایک ہے، ایک ہے وطی۔ یاد رکھو بیع جو ہے وہ غیر معین کی بھی جائز ہے، کیونکہ بیع جو ہے وہ ایک عقد کا نام ہے، وہ ایک معنوی چیز ہے۔ میرے اور آپ کے درمیان ایجاب و قبول ہو گیا تو بیع ہو گئی، لیکن اس بیع کی شکل ہمیں نظر نہیں آ رہی، کیونکہ بیع کوئی حسی چیز نہیں ہے جو آنکھوں سے نظر آئے بلکہ وہ ایک معنوی چیز ہے، وہ دو افراد کے درمیان معاہدے اور عقد کا نام ہے بھئی۔ تو بیع ایک معنوی چیز ہے، وہ آنکھوں سے نظر نہیں آتی، اور یاد رکھو غیر معین کی بیع بھی ہو سکتی ہے۔ مثلاً ایک شخص کے دو غلام ہیں اور وہ ان دونوں غلاموں میں سے غیر معین کو دوسرے شخص کے ہاتھ فروخت کرتا ہے اور یوں کہتا ہے کہ ان دونوں غلاموں میں سے ایک غلام میں نے آپ کو دس لاکھ روپے کے عوض فروخت کر دیا، جس غلام کو بھی آپ ان دونوں میں سے لینا چاہیں۔ اور وہ مشتری کہتا ہے مجھے قبول ہے، تو دیکھو بیع ہو گئی اور غیر معین غلام کے اندر بیع ہوئی ہے، تو مشتری ان دونوں غلاموں میں سے جس غلام کو بھی لینا چاہے لے سکتا ہے۔ معلوم ہوا بیع جو ہے وہ ایسا عقد ہے جسے غیر معین بھی قبول کر لیتا ہے، اس میں چیز کا معین ہونا ضروری نہیں ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں جو وطی ہے، وطی وہ تو فعلِ معنوی نہیں ہے، وہ تو فعلِ حسی ہے جو آنکھوں سے نظر آتا ہے، جس کا مشاہدہ ہوتا ہے، لہٰذا وطی جو ہے وہ کبھی بھی غیر معین کے اندر نہیں ہو سکتی، وطی جب بھی کی جائے گی وہ کسی معین کے اندر کی جائے گی۔ تو لہٰذا وطی ایسا فعل ہے جسے غیر معین قبول نہیں کرتا، اور بیع ایسی چیز ہے جسے غیر معین بھی قبول کر لیتا ہے۔ تو یہاں بات چل رہی تھی کہ یہاں پر آزادی آ چکی ہے لیکن غیر معین کے اندر آئی ہے، لہٰذا یہ آزادی اس چیز کے ذریعے ظاہر ہو سکتی ہے جسے غیر معین قبول کر لے، جیسے کہ بیع ہے۔ مثلاً آقا نے اپنی ان دو باندیوں میں سے ایک باندی کو بیچ دیا، تو آقا کا یہ بیچنا بیان بن جائے گا، معلوم ہوا آزادی کے لیے دوسری باندی متعین ہے بھئی۔ تو یہ آزادی نازل ہو چکی ہے ایک غیر معین کے اندر، تو اس کے لیے ایسے فعل کو بیان بنایا جا سکتا ہے جسے غیر معین قبول کر لیتا ہے جیسے بیع ہے، تو بیع اس کے لیے بیان بن سکتی ہے۔ لیکن وطی جو ہے، وطی وہ تو ہمیشہ متعین کے اندر ہو گی، تو وطی کو اس غیر معین آزادی کے لیے بیان قرار نہیں دیا جا سکتا، تو وطی بیان نہیں بنے گی لیکن بیع جو ہے وہ بیان بن جائے گی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور نیز صاحبین نے اس باندی کے مسئلے کو قیاس کیا تھا بیوی کے مسئلے پر، کہ جیسے دو بیویوں میں سے غیر معین کو طلاق دی جائے تو پھر ایک بیوی کے ساتھ جب صحبت کر لے گا تو دوسری بیوی طلاق کے لیے متعین ہو جائے گی۔ تو اس کا بھی جواب دیا صاحبِ ہدایہ نے امام صاحب کی طرف سے، کہ باندی کے ساتھ جو صحبت کی جاتی ہے وہ قضائے شہوت کے لیے ہوتی ہے، وہ شہوت پوری کرنے کے لیے ہے۔ جبکہ بیوی سے جو صحبت کی جاتی ہے وہ اولاد کے لیے کی جاتی ہے، کیونکہ نکاح کا مقصد ہی کیا ہے کہ وطی حلال ہو جائے اور بیوی سے اولاد حاصل ہو بھئی۔ تو بیوی کے ساتھ جو صحبت کی جاتی ہے اس کا مقصد اور ہے اور باندی کے ساتھ جو صحبت کی جاتی ہے اس کا مقصد اور ہے، لہٰذا آپ باندیوں کے مسئلے کو طلاق کے مسئلے پر قیاس نہیں کر سکتے۔ جب خاوند نے دو بیویوں میں سے غیر معین کو طلاق دی اور پھر اس کے بعد بیان سے پہلے وہ ان دونوں میں سے ایک کے ساتھ صحبت کرتا ہے، معلوم ہوا وہ اس بیوی سے اولاد چاہتا ہے، کیونکہ یہ وطی کہاں تک پہنچانے والی ہے؟ اولاد تک۔ لہٰذا معلوم ہوا اس کے اندر وہ اپنی ملکیت کو باقی رکھ رہا ہے تاکہ اولاد حاصل ہو اور اولاد کا نسب ثابت ہو سکے، اولاد کا نسب ثابت ہو سکے تب ہی اولاد کی حفاظت ہو گی، اور اگر اولاد کا نسب ہی ثابت نہیں ہے پھر تو بچہ محفوظ نہیں ہے، کوئی اس کی پرورش کی ذمہ داری نہیں لے گا، پھر تو بچہ ضائع ہو جائے گا، ہلاک ہو جائے گا۔ جبکہ باندی کے ساتھ جو صحبت کی جاتی ہے وہ تو صرف شہوت پوری کرنے کے لیے ہے، لہٰذا آپ باندی کے مسئلے کو بیوی کے مسئلے پر قیاس نہیں کر سکتے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور اس کے بعد پھر آپ نے مسئلہ پڑھا کہ آقا نے اپنی باندی سے کہا کہ اگر پہلا بچہ جسے تم نے جنم دیا اگر وہ لڑکا ہوا تو تم آزاد ہو، اور باندی نے پھر ایک لڑکے اور لڑکی کو اکٹھے جنم دیا۔ اب ایک صورت یہ ہے کہ کسی کو بھی علم نہیں ہے کہ لڑکا پہلے پیدا ہوا ہے یا لڑکی پہلے پیدا ہوئی ہے، تو اس صورت میں متن کے اندر مسئلہ ذکر ہوا تھا کہ نصف وہ باندی آزاد ہو جائے گی اور نصف اس کی بیٹی آزاد ہو جائے گی جبکہ لڑکا اسی طرح غلام رہے گا۔ وجہ یہ کہ یہاں پر دو صورتیں بنتی ہیں: کہ ہو سکتا ہے لڑکا پہلے پیدا ہوا ہو اور ہو سکتا ہے لڑکی پہلے پیدا ہوئی ہو۔ اگر لڑکا پہلے پیدا ہوا ہے تو لڑکے کے پیدا ہوتے ہی ماں آزاد ہو گئی اور اس کے بعد آزاد ماں نے بیٹی کو جنم دیا تو بیٹی بھی آزاد ہوئی، تو اگر لڑکا پہلے پیدا ہو تو ماں بھی آزاد اور بیٹی بھی آزاد۔ اور اگر لڑکی پہلے پیدا ہوئی ہے تو ماں بھی باندی ہے اور بیٹی بھی باندی ہے، تو یہاں دو صورتیں بنتی ہیں: ایک صورت میں ماں اور بیٹی دونوں آزاد اور ایک صورت میں ماں اور بیٹی دونوں باندیاں ہیں، تو ہم نے درمیانی صورت کو اختیار کیا۔ ہم نے یہ بھی نہیں کہا کہ دونوں آزاد ہیں، ہم نے یہ بھی نہیں کہا کہ دونوں اسی طرح باندیاں ہیں، بلکہ ہم نے کہا نصف نصف دونوں کا آزاد ہے، نصف ماں آزاد اور نصف اس کی بیٹی آزاد ہے بھئی۔ یہ ایک صورت تھی، تو متن کے اندر یہ مسئلہ اسی طرح ذکر ہے۔ لیکن میں نے آپ کو بتلایا کہ شمس الائمہ امام سرخسی رحمہ اللہ کیسانیات کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ کیسانیات کے اندر امام محمد رحمہ اللہ نے ذکر فرمایا ہے کہ یہ اس مسئلے کا جواب نہیں ہے، کہ اگر کسی کو بھی علم نہ ہو تو نصف ماں آزاد ہو جائے اور نصف لڑکی آزاد ہو جائے، یہاں ایسا نہیں ہو گا بلکہ جب شرط کے وجود کا پتہ نہ چل رہا ہو کہ شرط پائی گئی ہے یا شرط نہیں پائی گئی تو پھر اس صورت کے اندر وہ جو منکر ہوتا ہے اس کے ذمے قسم ہوتی ہے، یعنی یہاں آقا کو قسم دی جائے گی کہ وہ قسم کھائے کہ اسے علم نہیں ہے کہ لڑکا پہلے پیدا ہوا۔ تو اس کے عدمِ علم پر اس کو قسم دی جائے گی۔ تو اگر وہ قسم کھا لیتا ہے تو ماں بھی باندی اور لڑکی بھی باندی، اور اگر وہ قسم سے انکار کر دیتا ہے تو انکار کرنے کا مطلب ہے وہ اعتراف کر رہا ہے لڑکے کے پہلے پیدا ہونے کا، لہٰذا اس صورت میں ماں بھی آزاد ہو جائے گی اور لڑکی بھی آزاد ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں کیسانیات کا ذکر آیا۔ یاد رکھنا، امام محمد رحمہ اللہ کی کتابیں دو قسم پر ہیں: کچھ کو ظاہرِ روایت کہتے ہیں اور باقی کو نوادر کہتے ہیں۔ ظاہرِ روایت آپ جانتے ہیں چھ کتابیں ہیں بھئی: جامع صغیر، جامع کبیر، سیر صغیر، سیر کبیر، مبسوط، اور زیادات۔ تو یہ کتابیں جو ہیں ظاہرِ روایت کہلاتی ہیں۔ یعنی ان کی روایت بڑی ظاہر ہے، وجہ یہ کہ ان کتابوں کو امام محمد رحمہ اللہ سے نقل کرنے والے لوگ بہت زیادہ ہیں، یعنی تواتر کی حد تک پہنچے ہوئے ہیں، لہٰذا معلوم ہوا یہ قطعی طور پر امام محمد رحمہ اللہ کی کتابیں ہی ہیں، ان میں کسی قسم کا رد و بدل نہیں ہوا۔ جبکہ باقی کتابیں جو ہیں وہ اس طریقے پر امام محمد رحمہ اللہ سے منقول نہیں ہیں، ان کو نقل کرنے والے اتنے زیادہ نہیں ہیں، تو لہٰذا وہ نوادر کہلاتی ہیں بھئی۔ نوادر جمع ہے نادرٌ کی یا نادرۃٌ کی بھئی، نادرٌ کی جمع بھی نوادر آتی ہے اور نادرۃٌ کی جمع بھی نوادر آتی ہے۔ تو نوادر جو ہیں ان کے پھر کئی نام ہیں، بعض جو ہیں وہ کیسانیات کہلاتی ہیں، بعض جو ہیں وہ جرجانیات کہلاتی ہیں، بعض جو ہیں وہ رقیات کہلاتی ہیں، بعض جو ہیں وہ ہارونیات وغیرہ کہلاتی ہیں: کیسانیات، جرجانیات، ہارونیات، رقیات وغیرہ بھئی۔ اور یہ سب نسبتیں ہیں ان کے نقل کرنے والوں کی طرف یا اس علاقے کی طرف جس میں امام محمد رحمہ اللہ نے یہ مسائل لکھوائے۔ بعض اوقات ایک علاقے کے اندر امام محمد رحمہ اللہ نے کچھ مسائل لکھوائے علماء کو تو وہ اسی علاقے کی نسبت سے مشہور ہو گئے جیسے رقیات بھئی، یہ رقہ شہر کے اندر امام محمد رحمہ اللہ نے مسائل لکھوائے تھے علماء کو تو یہ رقیات کے نام سے مشہور ہیں۔ اسی طرح ہارونیات کو ہارون نام کے عالم فقیہ نقل کرتے ہیں امام محمد رحمہ اللہ سے تو یہ ہارونیات کہلاتی ہیں، اسی طرح جرجانیات ہیں، اسی طرح جو ہیں وہ کیسانیات ہیں۔ تو یہ نام جو ہیں یہ ان علاقوں کی نسبت سے ان مسائل کا نام ہے یا ان کو نقل کرنے والوں کی نسبت سے ان کا نام ہے، تو یہ نوادر میں سے ہیں۔ تو نوادر کے اندر کیسانیات کے اندر امام سرخسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام محمد رحمہ اللہ نے ذکر فرمایا ہے کہ یہاں جو متن کے اندر جو مسئلہ ذکر ہے اس کا یہ جواب نہیں ہے کہ نصف باندی اور نصف لڑکی آزاد ہو گی، بلکہ اس صورت میں آقا پر قسم آئے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو پہلی صورت تو یہ ذکر ہوئی کتاب کے اندر کہ جب کسی کو بھی علم نہیں ہے کہ لڑکا پہلے پیدا ہوا ہے یا لڑکی پہلے پیدا ہوئی ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ماں نے دعویٰ کر دیا کہ لڑکا پہلے پیدا ہوا ہے اور آقا اس کا انکار کر رہا ہے، تو اس میں دو صورتیں ہیں: یا تو وہ لڑکی جو ہے ابھی نابالغہ ہو گی یا یہ بالغ ہو چکی ہے۔ تو پہلی صورت مثلاً لڑکی ابھی نابالغہ ہے، ماں نے دعویٰ کیا کہ لڑکا پہلے پیدا ہوا ہے اور لڑکی نابالغہ ہے اور آقا اس کا انکار کر رہا ہے، تو اس صورت میں آقا پر قسم آئے گی۔ اگر آقا قسم کھا لے گا تو پھر ماں بھی باندی اور لڑکی بھی باندی ہی رہیں گی، اور اگر آقا نے قسم سے انکار کر دیا تو اس کا مطلب ہے کہ وہ دعوے کا اعتراف کر رہا ہے، لہٰذا ماں بھی آزاد اور لڑکی بھی آزاد۔ اور اگر لڑکی بالغ ہو چکی ہے اور اس کے بعد ماں نے دعویٰ کیا تو پھر اس دعوے کے ذریعے صرف ماں آزاد ہو سکتی ہے اگر آقا انکار کرے گا، اس کے ذریعے لڑکی آزاد نہیں کیونکہ لڑکی بالغہ ہے اس کو ماں کے تابع قرار نہیں دیا جا سکتا، اسے الگ دعویٰ کرنا پڑے گا۔ تو آقا کے انکار سے صرف دعویٰ ثابت ہوا ہے اور دعویٰ تو صرف ماں کا ہے، لہٰذا صرف ماں آزاد ہو گی۔ اور اگر لڑکی نے دعویٰ کیا بالغ ہونے کے بعد اور آقا نے قسم سے انکار کیا تو پھر اس صورت میں صرف لڑکی آزاد ہو گی، ماں آزاد نہیں ہو گی بھئی۔ اور صاحبِ ہدایہ نے فرمایا کہ باقی صورتیں ہم نے کفایۃ المنتہی میں ذکر کی ہیں۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہاں کل چھ صورتیں بنتی ہیں: ایک صورت تو وہ تھی جس میں سب کا اتفاق تھا کہ علم ہی نہیں ہے کون پہلے پیدا ہوا۔ ایک صورت یہ تھی کہ ماں نے دعویٰ کیا ہے، آقا انکار کر رہا ہے اور لڑکی ابھی نابالغہ ہے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ ماں نے دعویٰ کیا ہے اور آقا انکار کر رہا ہے اور لڑکی بالغہ ہے۔ اور چوتھی صورت یہ ہے کہ لڑکی نے دعویٰ کیا ہے اور آقا اس کا انکار کر رہا ہے۔ پانچویں صورت یہ ہے کہ سب اتفاق کر لیں کہ لڑکی پہلے پیدا ہوئی ہے۔ چھٹی صورت یہ ہے کہ سب اتفاق کر لیں کہ لڑکا پہلے پیدا ہوا ہے۔ تو اگر سب اتفاق کر لیں لڑکی پہلے پیدا ہوئی ہے تو اس صورت میں پھر کوئی بھی آزاد نہیں۔ اور اگر سب اتفاق کر لیں کہ لڑکا پہلے پیدا ہوا ہے تو پھر اس صورت میں ماں بھی آزاد اور اس کی بیٹی بھی آزاد ہے بھئی۔ اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ دو آدمیوں نے ایک شخص کے خلاف گواہی دی کہ اس نے اپنے دو غلاموں میں سے ایک غیر معین کو آزاد کیا ہے، تو امام صاحب کے نزدیک یہ گواہی باطل ہے، اس کو نہیں سنا جائے گا اور نہ اس پر فیصلہ کیا جائے گا۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ گواہی صحیح ہے اور اس پر فیصلہ کیا جائے گا اور آقا کو مجبور کیا جائے گا کہ اب وہ ان دو غلاموں میں سے ایک کو آزاد کر دے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے یاد رکھیں، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ایک ہے حق العبد اور ایک ہے حقِ شرع۔ حق العبد کے اندر دعویٰ ضروری ہوتا ہے، کسی بندے کا حق ہے تو اس کی طرف سے دعویٰ بھی ہونا چاہیے، بغیر دعوے کے وہاں گواہی نہیں سنی جائے گی۔ جبکہ حقِ شرع جو ہے، شریعت کا جو حق ہے، اللہ کا جو حق ہے اس کے اندر دعویٰ ضروری نہیں ہے بھئی۔ تو یہاں پر امام صاحب اور صاحبین کے اندر اختلاف ہے کہ یہ جو غلام کی آزادی ہے یہ حق العبد ہے یا حقِ شریعت ہے؟ امام صاحب کے نزدیک یہ حق العبد ہے۔ وجہ یہ کہ اس آزادی کی وجہ سے غلام کو ہر طرح کے تصرفات کا اختیار مل جائے گا، یہ غلام اپنی مرضی سے نکاح کر سکتا ہے، یہ غلام اپنی مرضی سے اب تجارت کر سکتا ہے، یہ گواہی دے سکتا ہے، یہ قاضی بن سکتا ہے، تو اس غلام کو آزادی کی وجہ سے ہر طرح کے تصرفات کا حق مل جائے گا، معلوم ہوا یہ حق العبد ہے، یہ بندے کا حق ہے۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ جو غلام کی آزادی ہے یہ حقِ شریعت ہے، یہ اللہ کا حق ہے، یہ شریعت کا حق ہے۔ وجہ یہ، وجہ یہ کہ یہ جو اعتاق ہے یہ غلام کے قبول کرنے کا محتاج نہیں۔ غلام کے قبول کرنے کا محتاج نہیں، آقا اپنے غلام سے کہہ دے تم آزاد ہو تو غلام فوراً آزاد ہو جاتا ہے چاہے غلام قبول کرے چاہے قبول نہ کرے، معلوم ہوا یہ حق العبد نہیں، اگر یہ حق العبد ہوتا، غلام کا حق ہوتا تو پھر تو یہ غلام کے قبول پر اس کا دار و مدار ہوتا، غلام قبول کرتا تو آزاد ہوتا، غلام قبول نہ کرتا تو آزاد نہ ہوتا، تو یہ حقِ شرع ہے کیونکہ اس میں غلام کے قبول کا کوئی دخل نہیں ہے۔ اور نیز غلام کے رد کرنے سے بھی یہ رد نہیں ہوتا، یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ غلام کا حق نہیں ہے، کیونکہ اگر یہ غلام کا حق ہوتا تو غلام کے رد کرنے سے اور انکار کرنے سے یہ رد ہو جاتا۔ اور نیز اعتاق جو ہے اس کو شرط کے ساتھ بھی معلق کیا جا سکتا ہے، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ حقِ شرع ہے حق العبد نہیں۔ اگر حق العبد ہوتا تو پھر اس کو شرط کے ساتھ معلق نہیں کیا جا سکتا تھا جیسے بیع، بیع جو ہے دو بندوں کا معاملہ ہے یہ حق العبد ہے بھئی، لہٰذا بیع کو کسی شرط کے ساتھ معلق نہیں کیا جا سکتا کہ اگر تم نے یہ کام کر لیا تو بیع ہو گئی، اگر نہ کیا تو بیع نہ ہوئی، تو بیع کیا ہے؟ حق العبد ہے، لہٰذا اس کو شرط کے ساتھ معلق نہیں کیا جا سکتا، لیکن اعتاق کو شرط کے ساتھ معلق کیا جا سکتا ہے، معلوم ہوا یہ حقِ شریعت ہے بھئی۔ تو ان سب چیزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اعتاق شریعت کا حق ہے بندے کا حق نہیں، تو صاحبین کے نزدیک اعتاق جو ہے وہ حقِ شرع ہے بھئی، جبکہ امام صاحب کے نزدیک اعتاق جو ہے وہ حق العبد ہے، اور حق العبد کے اندر دعویٰ ضروری ہوتا ہے، بغیر دعوے کے وہ ثابت نہیں ہو سکتا۔ اور یہاں پر یہ دونوں گواہ گواہی دے رہے ہیں کہ آقا نے اپنے دو غلاموں میں سے ایک غیر معین کو آزاد کیا ہے، تو یہاں مدعی موجود نہیں ہے، دعویٰ موجود نہیں ہے اور بغیر دعوے کے تو حق العبد ثابت نہیں ہو سکتا، لہٰذا امام صاحب فرماتے ہیں یہ گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے مدعی کس طرح مجہول ہیں بھئی؟ یہ دونوں غلام مدعی ہیں، یہ دعویٰ کرنے والے ہیں۔ یہ دونوں غلام مدعی ہیں یہ دعویٰ کرنے والے ہیں؟ تو جواب یہ کہ نہیں، یہ دونوں غلام جو ہیں یہ مدعی نہیں بن سکتے کیونکہ اعتاق ایک غلام کا ہوا ہے دونوں کا اعتاق نہیں ہوا، اور دونوں میں سے ایک غلام بھی مدعی نہیں بن سکتا کیونکہ دونوں میں سے کسی ایک کا بھی اعتاق یہاں متعین نہیں ہے بھئی۔ اگر کسی ایک متعین کا اعتاق ہوتا تو پھر تو وہ مدعی بن سکتا تھا، لیکن یہاں تو اعتاق متعین ہی نہیں ہے، تو لہٰذا دونوں غلام بھی اگر مدعی بننا چاہیں تو وہ بھی مدعی نہیں بن سکتے، تو یہاں مدعی مجہول ہے، اور مجہول مدعی کی طرف سے دعویٰ نہیں ہو سکتا، لہٰذا اس گواہی کو نہیں سنا جائے گا امام صاحب کے نزدیک۔ جبکہ صاحبین کے نزدیک اس گواہی کو سنا جائے گا۔ جبکہ اس کے مقابلے میں حقِ شریعت کے اندر دعوے کی ضرورت نہیں ہے۔ مثلاً جیسے دیکھو طلاق، طلاق جو ہے اس کی وجہ سے تحریم الفرج آئے گا، بیوی کی شرمگاہ خاوند کے لیے حرام قرار دے دی جائے گی، تو لہٰذا یہ جو تحریم الفرج ہے یہ حقِ شریعت ہے۔ جیسے میں نے مثال سے وضاحت کی تھی کہ ہر مرد کے لیے اجنبی عورت حرام ہے، اور یہ حرام کیوں ہے؟ یہ شریعت کا حق ہے، اللہ نے حرام قرار دیا ہے، یہ حق العبد نہیں ہے، تو لہٰذا معلوم ہوا تحریم الفرج جو ہے وہ حقِ شریعت ہے۔ اور طلاق کے اندر بھی تحریم الفرج ہوتا ہے، لہٰذا یہ بھی حقِ شریعت ہے، تو اس کے اندر دعوے کی ضرورت نہیں۔ دو گواہ آ جاتے ہیں کہ فلاں آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہے تو اس کے اندر دعوے کی ضرورت نہیں، اس گواہی کو سنا جا سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اسی طرح باندی کی جو آزادی ہے، باندی کی آزادی کی وجہ سے بھی تحریم الفرج ہوتا ہے، آقا پر وہ باندی حرام ہو جاتی ہے، تو لہٰذا وہ بھی شریعت کا حق ہے، لہٰذا اس کے اندر بھی دعویٰ ضروری نہیں، بغیر دعوے کے بھی گواہی کو سنا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کے مقابلے میں اگر آقا نے اپنی دو باندیوں میں سے ایک غیر معین کو آزاد کیا اور یوں کہا: ”إِحْدَاكُمَا حُرَّةٌ“، تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہاں پر بھی گواہی کو نہیں سنا جا سکتا، اگرچہ باندی کا اعتاق حقِ شریعت ہے کیونکہ اس کے اندر تحریم الفرج ہوتا ہے، لیکن آپ پڑھ چکے ہیں امام صاحب کے نزدیک غیر معین باندی کے اندر اعتاق کیا جائے تو پھر بھی دونوں باندیاں آقا کے لیے حلال رہتی ہیں، آقا کے لیے دونوں سے وطی جائز ہوتی ہے، معلوم ہوا اس صورت میں تحریم الفرج نہیں آتا۔ تو اس کی مشابہت بھی ہو گئی غلاموں کے اعتاق کے ساتھ، اور غلاموں کے اعتاق کے اندر تو دعویٰ ضروری تھا، لہٰذا یہاں دو باندیوں میں سے ایک غیر معین کے اعتاق کے اندر بھی دعویٰ ضروری ہے، اس کے بغیر گواہی کو نہیں سنا جا سکتا بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ یہ سارا اس صورت میں ہے جب صحت کی حالت میں ایک شخص نے اپنے دو غلاموں میں سے ایک غیر معین کو آزاد کیا ہے، یا صحت کی حالت میں ایک شخص نے اپنی دو باندیوں میں سے ایک غیر معین کو آزاد کیا ہے، تو اس صورت میں امام صاحب کے نزدیک گواہی کو نہیں سنا جائے گا کیونکہ دعویٰ نہیں ہے یہاں پر۔ لیکن اگر یہ اعتاق مرض الموت میں ہوا یا مدبر بنانا ہے چاہے صحت کی حالت میں ہے چاہے مرض الموت کی حالت میں، تو اس کے اندر گواہی کو سنا جائے گا۔ وجہ یہ کہ مرض الموت کے اندر جو اعتاق ہوتا ہے وہ وصیت کے حکم میں ہوتا ہے، اسی طرح مدبر بنانا چاہے صحت میں مدبر بنائے چاہے مرض الموت میں، مدبر بھی وصیت کے حکم میں ہوتا ہے، تو اس صورت میں پھر گواہی کو سنا جائے گا۔ اور یہ حکم استحساناً ہے۔ وصیت کی صورت میں استحساناً جو ہے گواہی کو سنا جائے گا، اگرچہ قیاس یہاں بھی یہی تقاضا کرتا ہے کہ مدعی مجہول ہے، جب مدعی مجہول ہے تو دعویٰ نہیں ہے، جب دعویٰ نہیں ہے تو لہٰذا گواہی کو نہیں سننا چاہیے، لیکن وصیت کے مسئلے میں گواہی کو استحساناً سنا جائے گا۔ اور اس استحسان کی دو وجہیں ذکر فرمائیں صاحبِ ہدایہ نے: ایک وجہ یہ کہ وصیت کی صورت میں جو میت ہے وہ اس کو تقدیراً مدعی مان لیا جاتا ہے، کہ گویا میت مطالبہ کر رہی ہے کہ میرے مال کے اندر میری وصیتوں کو نافذ کیا جائے، اور میت اس کا تو انتقال ہو چکا ہے لیکن اس کا نائب موجود ہے یعنی وصی، وہ شخص جسے میت نے ذمہ دار بنایا تھا اپنے بعد اپنے معاملات کا وہ وصی موجود ہے، یا اگر وصی نہیں ہے تو وہ جو وارث ہیں وہ میت کے نائب موجود ہیں، تو مدعی موجود ہے، جب مدعی موجود ہے تو لہٰذا اب گواہی کو سنا جائے گا۔ یا دوسری وجہ یہ ذکر کی کہ موت کے بعد جو اعتاق ہے وہ اعتاق جو ہے دونوں غلاموں یا دونوں باندیوں میں مشترکہ قرار دیا جائے گا۔ جب دونوں کے درمیان اعتاق مشترکہ ہوا تو دونوں مدعی بن سکتے ہیں، تو جب دونوں مدعی بن گئے تو اب مدعی معلوم ہو گیا، لہٰذا گواہی کو سنا جائے گا۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ مسئلہ بھی ذکر فرمایا کہ اگر کسی شخص کے مرنے کے بعد دو گواہوں نے گواہی دی کہ اس نے صحت کی حالت میں دو غلاموں میں سے غیر معین کو آزاد کیا تھا، تو اس صورت میں اس گواہی کو سنا جائے گا یا نہیں؟ تو بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ اس گواہی کو نہیں سنا جائے گا، کیونکہ وہ صحت کی بات کر رہے ہیں اور صحت کی حالت میں جو اعتاق ہوتا ہے وہ تو وصیت نہیں ہوتا، لہٰذا اس اعتاق کا حکم وصیت والا نہیں، تو اس کے اندر تو اس کے اندر مدعی مجہول ہے لہٰذا اس گواہی کو نہیں سنا جائے گا۔ جبکہ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ اس گواہی کو سنا جائے گا، وجہ یہ کہ موت کے بعد اعتاق دونوں غلاموں میں مشترکہ ہے دونوں میں پھیل جائے گا تو دونوں غلام مدعی بن جائیں گے، جب مدعی بن گئے تو مدعی معلوم ہو گئے، جب مدعی معلوم ہو گئے تو اب گواہی کو سنا جا سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اس کے بعد ہم نے ”بَابُ الْحَلِفِ بِالْعِتْقِ“ شروع کیا تھا کہ اگر غلام کی آزادی کو شرط کے ساتھ معلق کر دیا جائے تو اس کا کیا حکم تھا؟ اور صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ اگر کسی شخص نے اپنے غلام سے کہا کہ: ”إِذَا دَخَلْتُ الدَّارَ فَكُلُّ مَمْلُوكٍ لِي يَوْمَئِذٍ فَهُوَ حُرٌّ“ کہ جب میں اس گھر میں داخل ہوں تو اس دن میرا جو بھی مملوک ہے وہ آزاد ہے، تو اس صورت کے اندر اس گھر میں داخل ہوتے وقت جو بھی آقا کا مملوک ہو گا وہ آزاد ہو جائے گا، چاہے قسم اٹھاتے وقت یہ اس کا مملوک تھا چاہے اس نے اس کو بعد میں خریدا ہو۔ اس لیے کیونکہ آقا نے خود کیا کہا ہے: ”يَوْمَئِذٍ“ أَيْ: يَوْمَ إِذْ دَخَلْتُ الدَّارَ، جس دن میں گھر میں داخل ہوں تو اس دن میرا جو بھی مملوک ہے وہ آزاد ہے۔ اور اگر آقا نے ”يَوْمَئِذٍ“ کی قید نہیں لگائی، صرف اتنا کہا کہ: ”إِذَا دَخَلْتُ الدَّارَ فَكُلُّ مَمْلُوكٍ لِي فَهُوَ حُرٌّ“ کہ جب میں اس گھر میں جاؤں تو میرا جو بھی مملوک ہے وہ آزاد ہے، تو اس صورت میں یہ ”كُلُّ مَمْلُوكٍ لِي“ یہ حال کے لیے ہے، یہ کس لیے ہے؟ حال کے لیے، لہٰذا قسم کھاتے وقت یعنی تعلیق کے وقت جو مملوک ہیں صرف یہ ان کو شامل ہے، تو جب یہ اس گھر کے اندر جائے گا تو اس وقت اگر یہ مملوک ابھی بھی اس کی ملکیت میں ہے تو وہ آزاد ہو جائے گا، اور قسم کے بعد یا تعلیق کے بعد جو ہے اس نے جس غلام کو خریدا ہے وہ اس گھر میں جانے سے آزاد نہیں ہو گا بھئی۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے یہ مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر آقا نے کہا کہ میرا جو بھی مذکر مملوک ہے وہ آزاد ہے، اور اس وقت اس کی ایک باندی حاملہ ہے اور بعد میں پھر اس باندی نے ایک مذکر بچے کو جنم دیا تو یہ آزاد نہیں ہو گا۔ وجہ یہ کہ تعلیق کے وقت اس حمل کا ہونا یقینی نہیں۔ اگر باندی نے چھ ماہ یا اس سے زیادہ کے بعد بچے کو جنم دیا ہے تو قسم اور تعلیق کے وقت اس حمل کا ہونا یقینی نہیں، تو لہٰذا یہ اس قسم کے تحت داخل ہی نہیں۔ اور اگر چھ ماہ سے کم کے اندر بچے کو جنم دیا تو اب تو قسم کے وقت جو ہے حمل ہونا یقینی ہے، لیکن پھر بھی یہ بچہ آزاد نہیں ہو گا اس لیے کیونکہ یہ جو حمل ہے یہ مستقل غلام نہیں ہے، یہ عورت کے عضو کے درجے میں ہے۔ یہ عورت کے عضو کے درجے میں ہے، یہ مستقل غلام نہیں ہے، چنانچہ اسی لیے اگر اس کو کفارے کے اندر کوئی اس حمل کو آزاد کرے تو کفارہ ادا نہیں ہو گا کیونکہ یہ مستقل غلام نہیں ہے، اور نیز اسی لیے اس کو بیچنا بھی جائز نہیں ہے جب تک اس کی پیدائش نہ ہو جائے بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ ماتن نے متن کے اندر مذکر مملوک کی قید لگائی، اور اس قید کا فائدہ یہ ہے کہ اگر وہ مذکر کی قید نہ لگاتا تو ہر مملوک نے آزاد ہونا تھا تو یہ باندی بھی آزاد ہو جاتی، اور جب باندی آزاد ہوتی تو اس کے تابع ہو کر حمل بھی آزاد ہو جاتا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر: ﴿وَإِنْ قَالَ: كُلُّ مَمْلُوكٍ أَمْلِكُهُ فَهُوَ حُرٌّ بَعْدَ غَدٍ، أَوْ قَالَ: كُلُّ مَمْلُوكٍ لِي فَهُوَ حُرٌّ بَعْدَ غَدٍ، وَلَهُ مَمْلُوكٌ، فَاشْتَرَى آخَرَ، ثُمَّ جَاءَ بَعْدُ غَدٍ، عَتَقَ الَّذِي فِي مِلْكِهِ يَوْمَ حَلَفَ﴾۔ صورتِ مسئلہ یہ کہ آقا جو ہے وہ کہتا ہے: ”كُلُّ مَمْلُوكٍ أَمْلِكُهُ فَهُوَ حُرٌّ بَعْدَ غَدٍ“، ”كُلُّ مَمْلُوكٍ“ ہر ایسا غلام ”أَمْلِكُهُ“ جس کا میں مالک ہوں ”فَهُوَ حُرٌّ بَعْدَ غَدٍ“ تو وہ کل کے بعد آزاد ہے، یعنی پرسوں وہ آزاد ہے۔ پرسوں آزاد ہے، تو یہاں صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ آقا ”أَمْلِكُ“ فعل لایا اور ”أَمْلِكُ“ فعلِ مضارع ہے اور مضارع حال کے اندر حقیقت ہے، لہٰذا اس وقت جو غلام اس کے ہیں وہ پرسوں آزاد ہو جائیں گے، لیکن اس یمین کے بعد اگر اس نے کوئی اور غلام خرید لیا تو وہ پرسوں آزاد نہیں ہو گا، اس لیے کیونکہ اس نے کیا کہا تھا: ”كُلُّ مَمْلُوكٍ أَمْلِكُهُ“ کہ جس غلام کا بھی میں مالک ہوں، یعنی فی الحال میں جس کا مالک ہوں تو وہ پرسوں آزاد ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَإِنْ قَالَ: كُلُّ مَمْلُوكٍ أَمْلِكُهُ فَهُوَ حُرٌّ بَعْدَ غَدٍ﴾ اور اگر آقا نے کہا کہ میرا ہر ایسا غلام جس کا میں فی الحال مالک ہوں تو وہ آزاد ہے ”بَعْدَ غَدٍ“ کل کے بعد یعنی پرسوں۔ ﴿أَوْ قَالَ: كُلُّ مَمْلُوكٍ لِي فَهُوَ حُرٌّ بَعْدَ غَدٍ﴾ یا آقا یوں کہتا ہے: ”كُلُّ مَمْلُوكٍ لِي فَهُوَ حُرٌّ بَعْدَ غَدٍ“، یہ دوسرا جملہ آیا بھئی۔ پہلے جملے میں ”أَمْلِكُ“ آقا نے فعلِ مضارع کو ذکر کیا تھا، اور اگر آقا فعلِ مضارع کے بجائے یوں کہتا ہے: ”كُلُّ مَمْلُوكٍ لِي“ کہ میرا جو بھی غلام ہے تو وہ پرسوں آزاد ہے۔ تو آپ کو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ ”كُلُّ مَمْلُوكٍ لِي“ یہ بھی حال کے لیے ہے، فی الحال جو اس کا مملوک ہے یہ اس کے لیے ہے۔ لہٰذا اس صورت میں بھی وہی غلام آزاد ہو گا جو قسم کے وقت اس کا مملوک ہے، بعد میں خریدا گیا غلام آزاد نہیں ہو گا بھئی۔ ﴿وَلَهُ مَمْلُوكٌ﴾ اور اس کا ایک مملوک ہے یعنی قسم کے وقت اس کا ایک غلام موجود ہے، ﴿فَاشْتَرَى آخَرَ﴾ پھر اس نے دوسرا غلام خرید لیا، ﴿ثُمَّ جَاءَ بَعْدُ غَدٍ﴾ پھر پرسوں کا دن آ گیا یعنی کل کے بعد کا دن آ گیا، ﴿عَتَقَ الَّذِي فِي مِلْكِهِ يَوْمَ حَلَفَ﴾ تو وہی غلام آزاد ہو گا جو قسم کے دن اس کی ملکیت میں تھا، دوسرا غلام آزاد نہیں ہو گا۔ اب صاحبِ ہدایہ یہاں دلیل ذکر فرما رہے ہیں: ﴿لِأَنَّ قَوْلَهُ: "أَمْلِكُهُ" حَقِيقَةٌ فِي الْحَالِ، وَكَذَا قَوْلُهُ: "لِي" كَمَا مَرَّ، وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى، فَيَخْتَصُّ بِمَا فِي مِلْكِهِ يَوْمَئِذٍ﴾۔ فرمایا کہ اس لیے کہ آقا کا قول: ”أَمْلِكُهُ“ یہ حقیقت ہے حال کے اندر، اور اسی طرح آقا کا قول: ”لِي“ یہ بھی حال کے اندر حقیقت ہے جیسا کہ گزر چکا ہے، اور اسی پر فتویٰ ہے، تو یہ دونوں جملے خاص ہو جائیں گے اس غلام کے ساتھ جو اس دن اس کی ملکیت میں ہے یعنی قسم کے دن اس کی ملکیت میں ہے، اس کے بعد خریدا گیا غلام اس کے اندر داخل نہیں ہو گا بھئی۔ اب آگے صاحبِ ہدایہ اس پر ایک اعتراض نقل کر کے جواب دے رہے ہیں: ﴿وَلَا يُعْتَبَرُ قِيَامُ الْمِلْكِ فِي الْجَمِيعِ كَمَا فِي الْبَيْعِ﴾۔ اعتراض یہ ہے کہ جب آقا نے کہا کہ میرا جو بھی مملوک ہے وہ پرسوں آزاد ہے تو پرسوں آزادی آئے گی، اور آزادی کے آنے کے لیے شرط ہے کہ ملکیت موجود رہے، تو کیا کل کے دن اور پرسوں کے دن بھی وہ ملکیت کا باقی رہنا شرط ہے یا نہیں؟ جیسے بیع کے اندر اگر خیارِ شرط رکھا جائے تو پوری مدت میں ملکیت کا قائم رہنا ضروری ہوتا ہے، تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: نہیں بھئی، یہاں پر تمام اوقات میں ملکیت کا قائم رہنا ضروری نہیں ہے، بلکہ بس قسم کے وقت ملکیت کا ہونا ضروری تھا اور جب پرسوں کا دن آئے گا اس وقت ملکیت کا پایا جانا ضروری ہے۔ درمیان کے وقت میں اگر بالفرض آقا نے اس غلام کو بیچ دیا اور پھر پرسوں سے پہلے واپس خرید لیا تو بھی یہ غلام پرسوں آزاد ہو جائے گا بھئی۔ تو فرمایا: ﴿وَلَا يُعْتَبَرُ قِيَامُ الْمِلْكِ فِي الْجَمِيعِ كَمَا فِي الْبَيْعِ﴾ اور تمام اوقات میں ملکیت کا قائم رہنا معتبر نہیں ہے جیسا کہ بیع میں معتبر ہوتا ہے۔ ﴿لِأَنَّ الْمُعَلَّقَ بِالشَّرْطِ كَالْمُنَجَّزِ عِنْدَهُ فَيَكْفِي وُجُودُ الْمِلْكِ عِنْدَ الشَّرْطِ، وَقَدْ وُجِدَ، وَلَيْسَ كَالْبَيْعِ؛ لِأَنَّهُ لَا يَحْتَمِلُ التَّعْلِيقَ﴾۔ فرمایا کہ اس لیے کہ شرط کے ساتھ جو معلق ہوتا ہے وہ شرط کے پائے جانے کے وقت منجز کی طرح ہوتا ہے، تو شرط کے پائے جانے کے وقت ملکیت کا موجود ہونا کافی ہے اور وہ ملکیت پائی گئی ہے، اور یہ بیع کی طرح نہیں ہے کیونکہ بیع تعلیق کا احتمال نہیں رکھتی۔ یہاں تک سبق رکھتے ہیں بھئی، واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔ ”لِي“ یہ حال کے لیے ہے۔ میرا جو بھی فی الحال مملوک ہے، وہ پرسوں آزاد۔ تو چاہے آقا ”كُلُّ مَمْلُوكٍ“ کے ساتھ ”أَمْلِكُهُ“ فعل مضارع ملا دے، یا ”كُلُّ مَمْلُوكٍ“ کے ساتھ ”لِي“ جار مجرور ملا دے، دونوں صورتوں میں یہ صرف حال کو شامل ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”أَوْ قَالَ: كُلُّ مَمْلُوكٍ لِي فَهُوَ حُرٌّ بَعْدَ غَدٍ، وَلَهُ مَمْلُوكٌ، فَاشْتَرَى آخَرَ، ثُمَّ جَاءَ بَعْدُ غَدٍ، عَتَقَ الَّذِي فِي مِلْكِهِ يَوْمَ حَلَفَ“ اور اگر آقا نے کہا: ”كُلُّ مَمْلُوكٍ لِي فَهُوَ حُرٌّ بَعْدَ غَدٍ“ کہ میرا جو بھی غلام ہے تو وہ پرسوں آزاد ہے، ”وَلَهُ مَمْلُوكٌ“ اور حال یہ ہے کہ آقا کا ایک مملوک ہے، جس وقت اس نے قسم اٹھائی ہے، یعنی تعلیق کی ہے، اس وقت ایک ہی غلام ہے اس کا، ”فَاشْتَرَى آخَرَ“ پھر اس نے ایک اور خرید لیا، پرسوں سے پہلے ایک اور خرید لیا، ”ثُمَّ جَاءَ بَعْدُ غَدٍ“ پھر پرسوں والا دن آیا، ”عَتَقَ الَّذِي فِي مِلْكِهِ يَوْمَ حَلَفَ“ تو آزاد ہو جائے گا وہ غلام جو اس آقا کی ملکیت میں تھا ”يَوْمَ حَلَفَ“ جس دن آقا نے قسم اٹھائی تھی، صرف وہ آزاد ہوگا، جو بعد میں خریدا ہے وہ آزاد نہیں ہوگا۔ اب وجہ ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”لِأَنَّ قَوْلَهُ: أَمْلِكُهُ لِلْحَالِ حَقِيقَةً“ اس لیے کیونکہ آقا کا قول ”أَمْلِكُهُ“ یہ حال کے لیے ہے ”حَقِيقَةً“ حقیقت کے اعتبار سے۔ بھئی آپ جانتے ہیں فعل مضارع میں حال والا معنی بھی ہوتا ہے اور مستقبل والا معنی بھی ہوتا ہے، اور یاد رکھو فعل مضارع کے اندر تین مذاہب ہیں علماء کے۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ فعل مضارع حال کے اندر حقیقت ہے اور مستقبل کے لیے جب استعمال کیا جائے تو یہ اس کا مجازی معنی ہے۔ جیسے شیر، شیر کا لفظ اردو زبان میں جنگلی درندے کے لیے وضع ہے اور کبھی کبھار یہ بہادر آدمی کے معنی میں بھی استعمال ہو جاتا ہے، تو جنگلی درندہ یہ اس کا حقیقی معنی ہے اور بہادر آدمی یہ شیر کا مجازی معنی ہے۔ تو اسی طرح فعل مضارع کے اندر حال اور مستقبل دونوں معنی ہوتے ہیں، لیکن بعض علماء فرماتے ہیں کہ حال اس کا حقیقی معنی ہے اور مستقبل اس کا مجازی معنی ہے۔ تو صاحبِ ہدایہ نے بھی اسی مذہب کو ترجیح دی اور کیا فرمایا کہ ”أَمْلِكُهُ“ جو ہے یہ حال کے لیے حقیقت ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جبکہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ فعل مضارع کا حقیقی معنی جو ہے وہ مستقبل ہے اور حال اس کا مجازی معنی ہے۔ یعنی یہ مذہب پہلے مذہب کے بالکل برعکس ہے۔ پہلے مذہب میں تھا حال حقیقی معنی اور مستقبل مجازی معنی، جبکہ دوسرے مذہب کے مطابق مستقبل حقیقی معنی اور حال مجازی معنی ہے۔ اور ایک تیسرا مذہب یہ ہے فعل مضارع کے اندر کہ فعل مضارع جو ہے یہ مشترک ہے بین الحال والمستقبل۔ یعنی حال کے لیے یہ الگ وضع ہوا، مستقبل کے لیے یہ الگ وضع ہوا، تو یہ دونوں کے درمیان مشترک ہے جیسے ایک ہی لفظ کے کئی معنی ہوں اور ہر ایک کے لیے اس کو الگ الگ وضع کیا جائے تو اس کو مشترک کہتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ قَوْلَهُ: أَمْلِكُهُ لِلْحَالِ حَقِيقَةً“ اس لیے کیونکہ آقا کا قول ”أَمْلِكُهُ“ یہ حال کے لیے ہے حقیقت کے اعتبار سے۔ تو صاحبِ ہدایہ نے اس مذہب کو ترجیح دی۔ ”يُقَالُ: أَنَا أَمْلِكُ كَذَا وَكَذَا، وَيُرَادُ بِهِ الْحَالُ“ کہا جاتا ہے ”أَنَا أَمْلِكُ كَذَا وَكَذَا“ یعنی عربی زبان میں یوں کہتے ہیں: ”أَنَا أَمْلِكُ كَذَا وَكَذَا“ کہ میں مالک ہوں اتنی اتنی چیز کا، ”وَيُرَادُ بِهِ الْحَالُ“ اور اس کے ذریعے حال مراد ہوتا ہے۔ عربی زبان میں ایک آدمی کہتا ہے ”أَنَا أَمْلِكُ كَذَا وَكَذَا“ میں اتنی اتنی چیزوں کا مالک ہوں تو مراد حال ہوتا ہے، مستقبل مراد نہیں ہوتا کہ میں مستقبل میں یہ چیزیں خریدوں گا اور ان کا مالک بنوں گا، نہیں، یہ مراد نہیں ہوتا۔ تو کہتے ہیں: ”يُقَالُ: أَنَا أَمْلِكُ كَذَا وَكَذَا، وَيُرَادُ بِهِ الْحَالُ، وَكَذَا يُسْتَعْمَلُ لَهُ مِنْ غَيْرِ قَرِينَةٍ، وَلِلِاسْتِقْبَالِ بِقَرِينَةِ سِينٍ أَوْ سَوْفَ“ کہا جاتا ہے یعنی عربی زبان میں کہتے ہیں: ”أَنَا أَمْلِكُ كَذَا وَكَذَا“ کہ میں مالک ہوں اتنی اور اتنی چیز کا، ”وَيُرَادُ بِهِ الْحَالُ“ اور اس کے ذریعے حال کا ارادہ ہوتا ہے، ”وَكَذَا يُسْتَعْمَلُ لَهُ مِنْ غَيْرِ قَرِينَةٍ“ اور اسی طرح یہ حال کے لیے استعمال ہوتا ہے بغیر قرینے کے لیے، ”وَلِلِاسْتِقْبَالِ بِقَرِينَةِ سِينٍ أَوْ سَوْفَ“ اور استقبال کے لیے سین یا سوف کے قرینے کے ذریعے سے۔ بھئی قرینہ، قرینہ کہتے ہیں: ”هُوَ أَمْرٌ يُشِيرُ إِلَى الْمَطْلُوبِ“ قرینہ وہ چیز ہے جو مطلوب اور مقصود کی طرف اشارہ کر دے۔ مثلاً شیر کا لفظ ہے، اس کا حقیقی معنی کیا؟ جنگلی درندہ، اور اس کا مجازی معنی ہے بہادر آدمی۔ اب میں اس لفظ کو یعنی لفظِ شیر کو جب جملے میں استعمال کروں گا تو کوئی نہ کوئی چیز ایسی ہو جس سے سننے والے کو پتہ چل جائے کہ میں کس معنی کا ارادہ کر رہا ہوں۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: کل میں چڑیا گھر گیا تھا، وہاں میں نے شیر دیکھا۔ تو دیکھو، یہاں معلوم ہوا شیر سے مراد جنگلی درندہ ہے، اور قرینہ کیا چیز ہے؟ میں چڑیا گھر گیا تھا، یہ جو الفاظ ہیں یہ بتلا رہے ہیں کہ یہاں شیر سے بہادر آدمی والا معنی مراد نہیں بلکہ جنگلی درندے والا معنی مراد ہے۔ تو قرینہ یاد رکھو لفظ بھی ہو سکتا ہے اور غیرِ لفظ بھی۔ قرینہ دو ہی قسم کا ہوتا ہے: ایک قرینۂ لفظیہ ہوتا ہے اور ایک غیرِ لفظیہ۔ پھر اسی غیرِ لفظیہ کو کبھی حالیہ کہہ دیتے ہیں، کبھی کوئی اور نام موقع کے مطابق دے دیتے ہیں۔ تو جو چیز بھی مطلوب اور مقصود کی طرف اشارہ کر دے اس کو قرینہ کہتے ہیں، اور وہ لفظ بھی ہو سکتا ہے اور غیرِ لفظ بھی، یعنی حالت وغیرہ بھی ہو سکتی ہے۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں، ہم مسجد میں بیٹھے ہیں اور ایک شخص اندر داخل ہوا، میں نے کہا: شیر آ گیا۔ اب آپ سمجھ گئے کہ شیر سے مراد بہادر آدمی ہے، اس لیے کیونکہ یہاں پر تو کوئی جنگلی درندہ مسجد میں داخل نہیں ہوا بلکہ ایک انسان داخل ہوا ہے۔ تو یہاں دیکھو قرینہ کوئی لفظ نہیں ہے بلکہ حالت ہے، تو اس کو قرینۂ حالیہ کہتے ہیں۔ تو صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ فعل مضارع کا حقیقی معنی جو ہے وہ حال ہے، اور یہ مستقبل کے لیے جو استعمال ہوتا ہے یہ اس کا مجازی معنی ہے۔ اور مجازی معنی کے لیے یاد رکھو ہمیشہ قرینہ چاہیے۔ کیا چاہیے؟ قرینہ، جس سے سننے والے کو بھی پتہ چلے کہ آپ مجازی معنی کا ارادہ کر رہے ہیں، حقیقی معنی کا آپ ارادہ نہیں کر رہے۔ تو فعل مضارع بغیر قرینے کے استعمال ہو تو اس کا معنی حال والا ہو گا، اور اگر سین یا سوف وغیرہ کے قرینے کے ساتھ استعمال ہو تو پھر اس کا معنی مستقبل والا ہو گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا يُسْتَعْمَلُ لَهُ مِنْ غَيْرِ قَرِينَةٍ، وَلِلِاسْتِقْبَالِ بِقَرِينَةِ سِينٍ أَوْ سَوْفَ“ اور اسی طرح فعل مضارع حال کے لیے استعمال ہوتا ہے ”مِنْ غَيْرِ قَرِينَةٍ“ بغیر قرینے کے، یعنی بغیر قرینے کے ہو تو اس کا معنی حال والا کریں گے، ”وَلِلِاسْتِقْبَالِ بِقَرِينَةِ سِينٍ أَوْ سَوْفَ“ اور سین یا سوف کے قرینے کے ذریعے وہ مستقبل کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ دیکھو: ”أَضْرِبُ زَيْدًا“ تو اس کا معنی ہے میں زید کی پٹائی کر رہا ہوں بھئی۔ اور سین لے آئیں: ”سَأَضْرِبُ زَيْدًا“ یا سوف لے آئیں: ”سَوْفَ أَضْرِبُ زَيْدًا“ تو معنی ہے عنقریب میں زید کی پٹائی کروں گا۔ تو یہ سین اور سوف نے بتلایا کہ یہاں مستقبل والا معنی مراد ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِلِاسْتِقْبَالِ بِقَرِينَةِ سِينٍ أَوْ سَوْفَ، فَيَكُونُ مُطْلَقُهُ لِلْحَالِ“ اور سین یا سوف کے قرینے کے ذریعے فعل مضارع استقبال کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، ”فَيَكُونُ مُطْلَقُهُ لِلْحَالِ“ لہٰذا مطلق جو ہے یہ حال کے لیے ہو گا، یہ ”أَمْلِكُهُ“ فعل مضارع جو مطلق آیا، یعنی بغیر قرینے کے، اس کے ساتھ کوئی قرینہ نہیں ہے مستقبل والا۔ تو کہتے ہیں: ”فَيَكُونُ مُطْلَقُهُ لِلْحَالِ، فَكَانَ الْجَزَاءُ حُرِّيَّةَ الْمَمْلُوكِ فِي الْحَالِ مُضَافًا إِلَى مَا بَعْدَ الْغَدِ“ تو فعل مضارع جو ہے مطلق ہو یعنی بغیر قرینے کے ہو ”لِلْحَالِ“ وہ حال کے لیے ہوتا ہے، ”فَكَانَ الْجَزَاءُ حُرِّيَّةَ الْمَمْلُوكِ فِي الْحَالِ“ تو اس کی جزا جو ہے ”حُرِّيَّةَ الْمَمْلُوكِ“ وہ مملوک کا آزاد ہونا ہے ”فِي الْحَالِ“ فی الحال۔ یعنی وہ جو فی الحال مملوک ہے اس کی آزادی ہے۔ ”فَكَانَ الْجَزَاءُ حُرِّيَّةَ الْمَمْلُوكِ فِي الْحَالِ“ تو اس کی جزا جو ہے وہ فی الحال جو مملوک ہے اس کی آزادی ہے، ”مُضَافًا إِلَى مَا بَعْدَ الْغَدِ“ اس حال میں کہ اس کی نسبت کی گئی ہے کل کے بعد کی طرف۔ یعنی فی الحال جو مملوک ہے وہ آزاد ہو گا، اور کس کی طرف آزادی کی نسبت ہے؟ پرسوں کی طرف، تو جو فی الحال مملوک ہے وہ پرسوں آزاد ہو جائے گا، اور جو بعد میں خریدا وہ اس قسم کے تحت داخل نہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَكَانَ الْجَزَاءُ حُرِّيَّةَ الْمَمْلُوكِ فِي الْحَالِ مُضَافًا إِلَى مَا بَعْدَ الْغَدِ، فَلَا يَتَنَاوَلُ مَا يَشْتَرِيهِ بَعْدَ الْيَمِينِ“ تو اس کی جزا جو ہے فی الحال جو مملوک ہے اس کی آزادی ہے، اس حال میں کہ اس کی نسبت کی گئی ہے پرسوں کی طرف، ”فَلَا يَتَنَاوَلُ مَا يَشْتَرِيهِ بَعْدَ الْيَمِينِ“ تو یہ قسم جو ہے شامل نہیں ہے ”مَا يَشْتَرِيهِ بَعْدَ الْيَمِينِ“ جس کو وہ قسم کے بعد خریدے، وہ اس میں داخل نہیں، وہ پرسوں آزاد نہیں ہو گا۔ ”وَلَوْ قَالَ: كُلُّ مَمْلُوكٍ أَمْلِكُهُ، أَوْ قَالَ: كُلُّ مَمْلُوكٍ لِي حُرٌّ بَعْدَ مَوْتِي“ صورتِ مسئلہ یہ کہ اب آقا نے پرسوں کے بجائے اپنی موت کو ذکر کیا، اس کی طرف غلام کی آزادی کی نسبت کی اور یوں کہا: ”كُلُّ مَمْلُوكٍ أَمْلِكُهُ فَهُوَ حُرٌّ بَعْدَ مَوْتِي“ کہ میرا جو بھی مملوک غلام ہے فی الحال وہ میری موت کے بعد آزاد ہے۔ یا یوں کہا ”أَمْلِكُهُ“ کے بجائے اسی طرح ”لِي“ کا لفظ لے آیا، جار مجرور بھئی کہ: ”كُلُّ مَمْلُوكٍ لِي فَهُوَ حُرٌّ بَعْدَ مَوْتِي“ کہ میرا جو بھی فی الحال مملوک ہے وہ میری موت کے بعد آزاد ہے۔ اور حال یہ ہے کہ اس وقت اس آقا کا ایک مملوک ہے، اور اس نے بعد میں پھر ایک اور غلام بھی خریدا، تو آپ کو بتلائیں گے کہ قسم کے وقت جو غلام موجود ہے وہ مدبر بن جائے گا۔ جب مدبر بن گیا اب اس کو بیچنا جائز نہیں۔ جبکہ بعد میں جو خریدے گا وہ مدبر نہیں بنے گا۔ ہاں، البتہ موت کے وقت، موت کے وقت جتنے بھی اس کے غلام ہوئے وہ سارے ثلث میں سے آزاد ہو جائیں گے، کیونکہ یہ بعض اعتبار سے دیکھیں تو تدبیر ہے، مدبر بنا رہا ہے، کہ میں جس غلام کا بھی مالک ہوں تو وہ میری موت کے بعد آزاد ہے، بعض اعتبار سے دیکھیں تو یہ مدبر بنا رہا ہے، یہ تدبیر ہے، اور بعض اعتبار سے دیکھیں تو یہ وصیت کر رہا ہے۔ تو یہاں پر طرفین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ دونوں کی رعایت رکھی جائے گی۔ یہ تدبیر بھی ہے اور وصیت بھی ہے۔ تو فی الحال جو غلام ہے وہ مدبر بنے گا، اس کو اس کے لیے آگے بیچنا جائز نہیں۔ اور جو بعد میں خریدے گا وہ مدبر تو نہیں بنے گا، لیکن اگر موت تک وہ مملوک رہے تو پھر وصیت کے اندر وہ داخل ہو جائیں گے اور ثلث میں سے آزاد ہوں گے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَالَ: كُلُّ مَمْلُوكٍ أَمْلِكُهُ، أَوْ قَالَ: كُلُّ مَمْلُوكٍ لِي حُرٌّ بَعْدَ مَوْتِي، وَلَهُ مَمْلُوكٌ، فَاشْتَرَى مَمْلُوكًا آخَرَ، فَالَّذِي كَانَ عِنْدَهُ وَقْتَ الْيَمِينِ مُدَبَّرٌ، وَالْآخَرُ لَيْسَ بِمُدَبَّرٍ، وَإِنْ مَاتَ عَتَقَا مِنَ الثُّلُثِ“ اور اگر آقا نے کہا کہ میرا ہر ایسا مملوک جس کا میں مالک ہوں یعنی فی الحال میں جس کا مالک ہوں، یا آقا نے یوں کہا: ”كُلُّ مَمْلُوكٍ لِي حُرٌّ بَعْدَ مَوْتِي“ کہ میرا جو بھی فی الحال مملوک ہے وہ میری موت کے بعد آزاد ہے، ”وَلَهُ مَمْلُوكٌ“ اور حال یہ ہے کہ قسم کے وقت آقا کا ایک مملوک ہے، ”فَاشْتَرَى مَمْلُوكًا آخَرَ“ پھر آقا نے ایک اور غلام خرید لیا، ”فَالَّذِي كَانَ عِنْدَهُ وَقْتَ الْيَمِينِ مُدَبَّرٌ“ تو وہ مملوک جو آقا کے پاس تھا قسم کے وقت ”مُدَبَّرٌ“ وہ مدبر ہو گا، ”وَالْآخَرُ لَيْسَ بِمُدَبَّرٍ“ اور دوسرا جو ہے وہ مدبر نہیں ہو گا، ”وَإِنْ مَاتَ“ اور اگر آقا مر گیا ”عَتَقَا مِنَ الثُّلُثِ“ ”عَتَقَا“ دیکھو تثنیہ کا صیغہ ہے، ”عَتَقَا“ تو دونوں غلام آزاد ہو جائیں گے ”مِنَ الثُّلُثِ“ ثلث میں سے۔ اور باقی حصے میں وہ سعی کریں گے اور وارثوں کو کما کر لا کر دیں گے بھئی۔ ”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي النَّوَادِرِ“ اور امام ابو... بھئی آگے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا قول ذکر فرما رہے ہیں جو نوادر میں ذکر ہے بھئی۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فی الحال جو غلام ہے قسم کے وقت، یہ تو مدبر بن جائے گا اور مرنے کے بعد صرف یہی غلام آزاد ہوگا۔ بعد میں جو غلام خریدے گا وہ مدبر بھی نہیں اور مرنے کے بعد آزاد بھی نہیں۔ ”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي النَّوَادِرِ: يَعْتِقُ مَا كَانَ فِي مِلْكِهِ يَوْمَ حَلَفَ، وَلَا يَعْتِقُ مَا اسْتَفَادَ بَعْدَ يَمِينِهِ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ نوادر میں فرماتے ہیں: ”يَعْتِقُ مَا كَانَ فِي مِلْكِهِ يَوْمَ حَلَفَ“ کہ آزاد ہو جائے گا وہ جو اس آقا کی ملکیت میں ہے ”يَوْمَ حَلَفَ“ جس دن اس نے قسم اٹھائی۔ جس دن آقا نے قسم اٹھائی صرف وہ آزاد ہو گا، اور اسی وقت نہیں مدبر ہو کر آزاد ہو گا یعنی موت کے وقت، کیونکہ آقا کیا کہہ رہا ہے؟ میں جس غلام کا بھی مالک ہوں وہ میری موت کے بعد آزاد ہے۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ غلام جو اس وقت آقا کی ملکیت میں ہے جس وقت آقا نے قسم اٹھائی وہ آزاد ہو جائے گا یعنی تدبیر کے طریقے پر آزاد ہو گا، ”وَلَا يَعْتِقُ مَا اسْتَفَادَ بَعْدَ يَمِينِهِ“ اور آزاد نہیں ہوگا وہ غلام جو حاصل کیا آقا نے اپنی قسم کے بعد۔ قسم کے بعد جو غلام خریدا ہے وہ آزاد نہیں ہوگا۔ ”وَعَلَى هَذَا إِذَا قَالَ: كُلُّ مَمْلُوكٍ لِي إِذَا مُتُّ فَهُوَ حُرٌّ“ اور اسی اختلاف پر ہے ”إِذَا قَالَ“ جب آقا نے کہا: ”كُلُّ مَمْلُوكٍ لِي إِذَا مُتُّ فَهُوَ حُرٌّ“ کہ میرا جو بھی مملوک ہے جب میں مر جاؤں تو وہ آزاد ہے۔ چاہے ”بَعْدَ مَوْتِي“ کہہ دے اور چاہے شرط جزا کی صورت میں ذکر کر دے: ”كُلُّ مَمْلُوكٍ لِي إِذَا مُتُّ فَهُوَ حُرٌّ“ کہ میرا جو بھی مملوک ہے جب میں مر جاؤں تو وہ آزاد ہے، تو اس میں بھی اسی طرح اختلاف ہے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک صرف تعلیق کے وقت جو غلام موجود ہیں یہ مدبر بن جائیں گے اور یہی موت کے بعد آزاد ہوں گے، جو بعد میں خریدے گا وہ آزاد نہیں ہوں گے۔ جبکہ طرفین رحمہما اللہ یعنی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام محمد رحمہ اللہ وہ فرماتے ہیں کہ جو اس وقت غلام ہے وہ مدبر بن جائے گا اور موت کے وقت جتنے بھی غلام ہوئے چاہے بعد میں خریدے ہوں وہ سارے ثلث میں سے آزاد ہوں گے، اور باقی قیمت کے اندر وہ سعی کریں گے، وارثوں کو کما کر لا کر دیں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَعَلَى هَذَا إِذَا قَالَ: كُلُّ مَمْلُوكٍ لِي إِذَا مُتُّ فَهُوَ حُرٌّ“ اور اسی اختلاف پر ہے جب آقا نے یوں کہا: ”كُلُّ مَمْلُوكٍ لِي إِذَا مُتُّ فَهُوَ حُرٌّ“ کہ میرا جو بھی مملوک ہے جب میں مر جاؤں تو وہ آزاد ہے۔ ”لَهُ: أَنَّ اللَّفْظَ حَقِيقَةٌ لِلْحَالِ عَلَى مَا بَيَّنَّاهُ، فَلَا يَعْتِقُ بِهِ مَا سَيَمْلِكُهُ، وَلِهَذَا صَارَ هُوَ مُدَبَّرًا دُونَ الْآخَرِ“ اب امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل آ گئی، وہ فرماتے ہیں جو قسم کے وقت موجود ہے صرف وہ مدبر بنے گا، بعد والا اس کے اندر داخل نہیں ہے بھئی۔ ”لَهُ“ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ اللَّفْظَ حَقِيقَةٌ لِلْحَالِ عَلَى مَا بَيَّنَّاهُ“ کہ یہ لفظ جو ہے حال کے لیے حقیقت ہے اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا کہ مطلق جب مضارع آئے تو وہ کس لیے ہوتا ہے؟ حال کے لیے، ”فَلَا يَعْتِقُ بِهِ مَا سَيَمْلِكُهُ“ تو لہٰذا آزاد نہیں ہوگا اس قسم کی وجہ سے ما وہ غلام ”سَيَمْلِكُهُ“ جس کا عنقریب وہ مالک بنے یعنی مستقبل میں، وہ آزاد نہیں ہوگا، ”وَلِهَذَا صَارَ هُوَ مُدَبَّرًا دُونَ الْآخَرِ“ اور اسی وجہ سے یہی غلام جو ہے یہ مدبر ہوا ہے ”دُونَ الْآخَرِ“ نہ کہ دوسرا۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ فعل مضارع حال کے لیے آتا ہے تو صرف حال کے اندر جو غلام مملوک ہیں اس کے، وہ صرف قسم میں داخل ہوں گے، بعد میں جو خریدے گا وہ اس کے اندر داخل ہی نہیں۔ چنانچہ کہتے ہیں اسی لیے جو اس وقت موجود ہے صرف وہی مدبر بنے گا، بعد میں جس کو خریدے گا وہ مدبر نہیں بنے گا بھئی۔ آپ جانتے ہیں ایک ہے مدبر ایک عام غلام، عام غلام کو بیچنا جائز ہوتا ہے لیکن مدبر کو بیچنا جائز نہیں ہوتا۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”وَلِهَذَا صَارَ هُوَ مُدَبَّرًا دُونَ الْآخَرِ“ اور اسی وجہ سے یہی غلام مدبر بنے گا نہ کہ دوسرا، یعنی یہ جو اس وقت ملکیت میں ہے۔ ”وَلَهُمَا: أَنَّ هَذَا إِيجَابُ عِتْقٍ وَإِيصَاءٌ“ اب طرفین کی دلیل آ گئی۔ ”وَلَهُمَا“ طرفین کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ هَذَا إِيجَابُ عِتْقٍ وَإِيصَاءٌ“ کہ یہ ایجابِ عتق بھی ہے یعنی اثباتِ عتق، ایجاب کا کیا معنی؟ اثبات، یہ اثباتِ عتق بھی ہے ”وَإِيصَاءٌ“ اور وصیت کرنا بھی ہے بھئی۔ تو اس میں دونوں کا لحاظ رکھا جائے گا۔ ایجابِ عتق ہے، لہٰذا اس وقت جو غلام ہیں وہ مدبر بن جائیں گے، اور وصیت بھی ہے، اور وصیت تو موت کے وقت نافذ ہوتی ہے، لہٰذا موت کے وقت جتنے بھی غلام اور خریدے اس نے وہ سارے بھی اس کے اندر داخل ہو جائیں گے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَهُمَا: أَنَّ هَذَا إِيجَابُ عِتْقٍ وَإِيصَاءٌ، حَتَّى اعْتُبِرَ مِنَ الثُّلُثِ“ طرفین کی دلیل یہ ہے کہ یہ اثباتِ عتق ہے اور وصیت کرنا ہے، ”حَتَّى اعْتُبِرَ مِنَ الثُّلُثِ“ یہاں تک کہ اس کے اعتبار کیا گیا ہے ثلث میں سے۔ تو کہتے ہیں ”حَتَّى اعْتُبِرَ مِنَ الثُّلُثِ“ یہاں تک کہ یہ ثلث میں سے معتبر ہے، یعنی میت کے ثلثِ مال میں سے یہ آزاد ہوگا۔ ”وَفِي الْوَصَايَا تُعْتَبَرُ الْحَالَةُ الْمُنْتَظَرَةُ وَالْحَالَةُ الرَّاهِنَةُ“ حالتِ منتظرہ بھئی وہی یعنی وہ حالت جس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ وصیت کب نافذ کی جاتی ہے؟ موت کے وقت، تو موت ہے حالتِ منتظرہ جس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ ”وَالْحَالَةُ الرَّاهِنَةُ“ بھئی حالتِ راہنہ کہتے ہیں موجودہ حالت کو۔ موجودہ حالت کو کیا کہتے ہیں؟ حالتِ راہنہ بھئی۔ رہن کا معنی ہوتا ہے قید کرنا۔ بھئی کوئی شخص کسی سے قرض لیتا ہے وہ بطورِ رہن کے اس کی کوئی چیز رکھ لیتا ہے تاکہ بعد میں اپنا قرض وصول کر سکے بھئی۔ تو یہ جو چیز رکھوائی دیکھو اس کو بھی اس مرتہن کے پاس وہ چیز قید ہو گئی۔ مرتہن کے پاس وہ چیز قید ہو گئی تو اس کو رہن کہتے ہیں۔ تو اسی طرح موجودہ حالت کو بھی حالتِ راہنہ کہتے ہیں کیونکہ انسان اس کے اندر قید ہے۔ ماضی گزر چکا اور مستقبل ابھی آیا نہیں، انسان حال کے اندر قید ہے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ حالتِ راہنہ۔ تو کہتے ہیں ”وَفِي الْوَصَايَا“ اچھا اور وصیت کے اندر، اور وصیت کے اندر موجودہ حالت کا بھی اعتبار کیا جاتا ہے اور موت کے وقت کی حالت کا بھی اعتبار کیا جاتا ہے۔ لہٰذا موت کے وقت جتنا بھی مال انسان کا ہو اس کے اندر پھر وصیت نافذ کی جاتی ہے۔ پہلے کفن دفن کا انتظام کیا جاتا ہے، پھر قرضے ادا کیے جاتے ہیں اور پھر وصیت نافذ کی جاتی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَفِي الْوَصَايَا تُعْتَبَرُ الْحَالَةُ الْمُنْتَظَرَةُ وَالْحَالَةُ الرَّاهِنَةُ“ اور وصیتوں کے اندر حالتِ منتظرہ بھی معتبر ہے یعنی وہ حالت جس کا انتظار کیا جا رہا ہے اور وہ موت کی حالت ہے بھئی، تو وہ موت کی حالت بھی معتبر ہے، ”وَالْحَالَةُ الرَّاهِنَةُ“ اور موجودہ حالت بھی معتبر ہے۔ ”أَلَا تَرَى أَنَّهُ يَدْخُلُ فِي الْوَصِيَّةِ بِالْمَالِ مَا يَسْتَفِيدُهُ بَعْدَ الْوَصِيَّةِ، وَفِي الْوَصِيَّةِ لِأَوْلَادِ فُلَانٍ مَنْ يُولَدُ لَهُ بَعْدَهَا“ کہتے ہیں دیکھو وصیت کے اندر موجودہ حالت بھی معتبر اور حالتِ منتظرہ یعنی موت کی حالت بھی معتبر ہے۔ لہٰذا ایک آدمی نے وصیت کی کہ میرے مال میں سے دس لاکھ روپے زید کو دے دینا۔ تو اس وقت جو مال ہے وہ بھی معتبر ہے، اور موت کے وقت جتنا اور کما لے گا وہ سارا بھی معتبر ہے، اس سارے میں سے ثلث اگر دس لاکھ بنتا ہے تو وہ زید کو دے دیا جائے گا۔ تو صرف موجودہ حالت کا اعتبار نہیں ہے بلکہ موت کی حالت کا بھی اعتبار ہے، مستقبل میں جو کمائے گا وہ سارا ملا کر دیکھا جائے گا، اس کے ثلث میں سے وصیت نافذ کی جائے گی بھئی۔ اسی طرح اگر ایک شخص نے وصیت کی کہ میرے مرنے کے بعد زید کی جو اولاد ہے ان کو میرے مال میں سے دس لاکھ روپے دے دینا۔ تو جس وقت وصیت کی اس وقت زید کے صرف دو بچے ہیں، اور بعد میں زید کے دو اور بچے ہوئے، تو جس وقت یہ وصیت کرنے والا مرے گا تو اس میں زید کی ساری اولاد شامل ہو گی، جو وصیت کے وقت تھی وہ بھی اور جو بعد میں اولاد ہوئی وہ بھی شامل ہوگی۔ معلوم ہوا وصیت میں موجودہ حالت بھی معتبر ہوتی ہے اور موت کی حالت بھی معتبر ہوتی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”أَلَا تَرَى أَنَّهُ يَدْخُلُ فِي الْوَصِيَّةِ بِالْمَالِ مَا يَسْتَفِيدُهُ بَعْدَ الْوَصِيَّةِ، وَفِي الْوَصِيَّةِ لِأَوْلَادِ فُلَانٍ مَنْ يُولَدُ لَهُ بَعْدَهَا“ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ”يَدْخُلُ فِي الْوَصِيَّةِ بِالْمَالِ“ وصیت بالمال کے اندر داخل ہے ”مَا يَسْتَفِيدُهُ بَعْدَ الْوَصِيَّةِ“ وہ مال بھی جس کو وصیت کرنے والا حاصل کر لے وصیت کے بعد، وہ بھی اس میں داخل ہوتا ہے۔ مثلاً دیکھو ایک آدمی نے وصیت کی: میرے مرنے کے بعد دس لاکھ روپے زید کو دے دینا، حالانکہ اس وقت صرف اس آدمی کا سارا مال ہی تین لاکھ ہے۔ لیکن موت تک اگر اس نے اتنے کما لیے کہ وہ سارے ملا کر ان کا ثلث دس لاکھ بنتا ہے تو سارے میں پھر وصیت نافذ کی جائے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”أَلَا تَرَى“ کیا آپ دیکھتے نہیں ”أَنَّهُ يَدْخُلُ فِي الْوَصِيَّةِ بِالْمَالِ“ کہ مال کی وصیت کے اندر داخل ہوتا ہے ”مَا يَسْتَفِيدُهُ بَعْدَ الْوَصِيَّةِ“ وہ مال بھی جس کو وصیت کرنے والا حاصل کر لے وصیت کے بعد، ”وَفِي الْوَصِيَّةِ لِأَوْلَادِ فُلَانٍ“ اور اسی طرح فلاں کی اولاد کے لیے وصیت میں داخل ہوتا ہے ”مَنْ يُولَدُ لَهُ بَعْدَهَا“ اس کی وہ اولاد بھی جس کو اس کے لیے جنم دیا جائے وصیت کے بعد۔ ”وَالْإِيجَابُ إِنَّمَا يَصِحُّ مُضَافًا إِلَى الْمِلْكِ أَوْ إِلَى سَبَبِهِ“ اور ایجاب بھئی، ایجاب یعنی اثبات بھئی، کسی چیز کو ثابت کرنا، اور یہاں آزادی کو ثابت کیا جا رہا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْإِيجَابُ إِنَّمَا يَصِحُّ مُضَافًا إِلَى الْمِلْكِ أَوْ إِلَى سَبَبِهِ“ اور ایجاب جو ہوتا ہے وہ صحیح ہوتا ہے اس حال میں کہ اس کی نسبت کی جائے ملکیت کی طرف یا سببِ ملکیت کی طرف۔ بھئی دیکھیے آپ پڑھ چکے ہیں کہ کوئی شخص اعتاق کرنا چاہے تو اپنا غلام جو اس کا ہے اس کے اندر بھی اعتاق نافذ ہو جائے گا، اور اسی طرح اگر وہ ملکیت یا سببِ ملکیت کی طرف نسبت کرے تو بھی یہ تعلیق صحیح ہے۔ مثلاً ایک آدمی نے کسی دوسرے کے غلام کے بارے میں کہا کہ اگر میں تمہارا مالک بنا تو تم آزاد ہو، یا اگر میں نے تمہیں خریدا تو تم آزاد ہو۔ تو دیکھو ملکیت کی طرف نسبت کر رہا ہے: اگر میں تمہارا مالک ہوا تو تم آزاد، تو عند الاحناف یہ ایجاب، یہ تعلیق صحیح ہے، لہٰذا جس وقت یہ اس غلام کا مالک بنے گا وہ غلام فوراً آزاد ہو جائے گا۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک فی الحال یہ اس کا مملوک نہیں ہے لہٰذا اس کا یہ کلام لغو ہے، اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ کیونکہ ”أَنْتَ حُرٌّ“ نے فی الحال نافذ ہونا ہے اور فی الحال تو یہ اس کا مملوک نہیں لہٰذا آقا کا قول لغو چلا گیا۔ آقا نے کیا کہا تھا؟ ”أَنْتَ حُرٌّ إِنْ مَلَكْتُكَ“ کہ تو آزاد ہے اگر میں تیرا مالک بنا۔ تو ”أَنْتَ حُرٌّ“ نے فی الحال سبب بننا ہے اور فی الحال تو یہ اس کا مملوک ہے ہی نہیں، یہ تو کسی اور کا مملوک ہے، تو یہ ”أَنْتَ حُرٌّ“ لغو چلا گیا امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک کیونکہ اس نے فی الحال سبب بننا ہے۔ جبکہ عند الاحناف جو معلق ہوتا ہے وہ عند وجودِ شرط سبب بنتا ہے جب شرط پائی جائے۔ تو یہ ”أَنْتَ حُرٌّ“ گویا اس وقت ہے ہی نہیں، جس وقت یہ شخص اس غلام کا مالک بنے گا تو ”أَنْتَ حُرٌّ“ آ جائے گا، اور اس وقت تو یہ مالک بن چکا ہے لہٰذا فوراً آزاد ہو جائے گا۔ تو اس میں دیکھو ملکیت کی طرف نسبت کر رہا ہے: ”إِنْ مَلَكْتُكَ“ اگر میں تیرا مالک بنا۔ اور اگر سببِ ملکیت کی طرف نسبت کرے مثلاً: ”أَنْتَ حُرٌّ إِنِ اشْتَرَيْتُكَ“ کہ تو آزاد ہے اگر میں نے تجھے خریدا، تو خریدنا سبب ہے ملکیت کا، خریدنے سے کوئی شخص کسی چیز کا مالک بن جاتا ہے۔ تو ایجاب صحیح ہے عند الاحناف چاہے اس کی نسبت ملکیت کی طرف کی جائے چاہے سببِ ملکیت یعنی شراء وغیرہ کی طرف کی جائے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْإِيجَابُ إِنَّمَا يَصِحُّ مُضَافًا إِلَى الْمِلْكِ أَوْ إِلَى سَبَبِهِ“ اور ایجاب جو ہے وہ صحیح ہوتا ہے ملکیت یا سببِ ملکیت کی طرف مضاف ہو کر۔ ”فَمِنْ حَيْثُ إِنَّهُ إِيجَابُ الْعِتْقِ، يَتَنَاوَلُ الْعَبْدَ الْمَمْلُوكَ اعْتِبَارًا لِلْحَالَةِ الرَّاهِنَةِ، فَيَصِيرُ مُدَبَّرًا حَتَّى لَا يَجُوزُ بَيْعُهُ“ تو اس حیثیت سے کہ آقا کا یہ قول جو ہے اثباتِ عتق ہے ”يَتَنَاوَلُ الْعَبْدَ الْمَمْلُوكَ“ تو یہ اس غلام کو شامل ہے جو آقا کا مملوک ہے یعنی قسم کے وقت ”اعْتِبَارًا لِلْحَالَةِ الرَّاهِنَةِ“ اعتبار کرتے ہوئے موجودہ حالت کا، موجودہ حالت کو یہ شامل ہے، ”فَيَصِيرُ مُدَبَّرًا“ تو یہ جو مملوک غلام ہے فی الحال وہ مدبر ہو جائے گا ”حَتَّى لَا يَجُوزُ بَيْعُهُ“ ”حَتَّى لَا يَجُوزُ“ یہ ”لَا يَجُوزُ“ پڑھیں اس کو بھئی۔ یہ یہاں ”حَتَّى“ نصب نہیں دے گا۔ وجہ یہ، وجہ یہ کہ حتی کے بعد ”أَنْ“ مقدر ہوتا ہے جب مابعد ماقبل کی طرف نسبت کرتے ہوئے مستقبل ہو۔ یعنی یہ ”يَجُوزُ“ ماقبل ”يَصِيرُ“ کی طرف نسبت کرتے ہوئے مستقبل ہو، ”يَصِيرُ“ پہلے ہو اور ”يَجُوزُ“... لفظوں پہ نظر ہے؟ ”فَيَصِيرُ مُدَبَّرًا حَتَّى لَا يَجُوزُ بَيْعُهُ“ تو یہاں ”لَا يَجُوزُ“ پڑھیں بھئی۔ یہ کیونکہ یہ ”لَا يَجُوزُ“ یہ ”يَصِيرُ“ کی طرف نسبت کرتے ہوئے مستقبل نہیں ہے بلکہ دونوں کا ایک زمانہ ہے۔ جس وقت مدبر بنے گا اسی وقت اس کی بیع بھی جائز نہیں ہو گی۔ ایسا نہیں کہ پہلے مدبر بنے اور اس کے بعد بیع جائز نہ رہے بھئی، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو لہٰذا یہ ”يَجُوزُ“ پڑھیں، اسی طرح اور جگہ جگہ آئے گا آپ خیال رکھیے گا بھئی، جہاں بھی ماقبل کی طرف نسبت کرتے ہوئے یہ مستقبل نہ ہو تو یہاں ”أَنْ“ مقدر نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”فَيَصِيرُ مُدَبَّرًا“ تو یہ غلام جو ہے یہ مدبر بن جائے گا جو فی الحال مملوک ہے، ”حَتَّى لَا يَجُوزُ بَيْعُهُ“ یہاں تک کہ اس کا بیچنا جائز نہیں ہوگا۔ ”وَمِنْ حَيْثُ إِنَّهُ إِيصَاءٌ يَتَنَاوَلُ الَّذِي يَشْتَرِيهِ اعْتِبَارًا لِلْحَالَةِ الْمُتَرَبَّصَةِ، وَهِيَ حَالَةُ الْمَوْتِ“ اور اس حیثیت سے کہ یہ ایصاء ہے یعنی وصیت ہے ”يَتَنَاوَلُ الَّذِي يَشْتَرِيهِ“ یہ شامل ہوگا اس غلام کو بھی جس کو یہ خریدے گا ”اعْتِبَارًا لِلْحَالَةِ الْمُتَرَبَّصَةِ“ اعتبار کرتے ہوئے اس حالت کا جس کا انتظار کیا جا رہا ہے، حالتِ منتظرہ اور حالتِ متربصہ بھئی صاد کے ساتھ، دونوں کا ایک ہی معنی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَمِنْ حَيْثُ إِنَّهُ إِيصَاءٌ“ اور اس حیثیت سے کہ آقا کا یہ قول وصیت ہے ”يَتَنَاوَلُ الَّذِي يَشْتَرِيهِ“ تو یہ شامل ہوگا اس غلام کو بھی جس کو آقا مستقبل میں خریدے گا ”اعْتِبَارًا لِلْحَالَةِ الْمُتَرَبَّصَةِ، وَهِيَ حَالَةُ الْمَوْتِ“ اعتبار کرتے ہوئے حالتِ متربصہ کا یعنی وہ حالت جس کا انتظار کیا جا رہا ہے ”وَهِيَ حَالَةُ الْمَوْتِ“ اور وہ موت کی حالت ہے۔ ”وَقَبْلَ الْمَوْتِ حَالَةُ التَّمَلُّكِ اسْتِقْبَالٌ مَحْضٌ، فَلَا يَدْخُلُ تَحْتَ اللَّفْظِ“ اور موت سے پہلے جو مالک ہونے کی حالت ہے وہ تو محض استقبال ہے، وہ تو محض استقبال ہے، اور اس کی طرف اس نے نہ ملکیت کی نسبت کی ہے نہ سببِ ملکیت کی طرف۔ اگر وہ یوں کہتا: جس غلام کا میں فی الحال مالک ہوں یا مستقبل میں مالک ہوں گا وہ سب میری موت کے بعد آزاد ہیں، تو پھر تو اس نے مستقبل کی صراحت کر دی، پھر جس غلام کو بھی وہ خریدے گا وہ فوراً مدبر بن جائے گا۔ لیکن جب اس نے مستقبل کو ذکر نہیں کیا تو صرف حال داخل ہے اور حالتِ متربصہ یعنی موت کی حالت داخل ہے۔ جو فی الحال موجود ہیں وہ مدبر بن جائیں گے، جو بعد میں خریدے گا وہ مدبر نہیں بنیں گے، ان کو وہ بیچ بھی سکتا ہے، لیکن موت کے وقت پھر سارے ہی ثلث میں سے آزاد ہوں گے۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَبْلَ الْمَوْتِ حَالَةُ التَّمَلُّكِ اسْتِقْبَالٌ مَحْضٌ“ اور موت سے پہلے مالک ہونے کی جو حالت ہے وہ تو محض مستقبل کا زمانہ ہے ”فَلَا يَدْخُلُ تَحْتَ اللَّفْظِ“ تو لہٰذا وہ اس آقا کے لفظ کے تحت داخل نہیں، یہ جو آقا نے ”أَمْلِكُهُ“ کا لفظ کہا تھا۔ ”وَعِنْدَ الْمَوْتِ يَصِيرُ كَأَنَّهُ قَالَ: كُلُّ مَمْلُوكٍ لِي، أَوْ: كُلُّ مَمْلُوكٍ أَمْلِكُهُ فَهُوَ حُرٌّ“ اور موت کے وقت ایسے ہی ہو جائے گا گویا کہ آقا نے کہا ہے: ”كُلُّ مَمْلُوكٍ لِي“ یا ”كُلُّ مَمْلُوكٍ أَمْلِكُهُ فَهُوَ حُرٌّ“ کہ میرا جو بھی غلام ہے جس کا میں مالک ہوں تو وہ آزاد ہے، گویا موت کے وقت وہ کہہ رہا ہے۔ ”بِخِلَافِ قَوْلِهِ: بَعْدَ غَدٍ عَلَى مَا تَقَدَّمَ، لِأَنَّهُ تَصَرُّفٌ وَاحِدٌ، وَهُوَ إِيجَابُ الْعِتْقِ، وَلَيْسَ فِيهِ إِيصَاءٌ، وَالْحَالَةُ مَحْضُ اسْتِقْبَالٍ، فَافْتَرَقَا“ بخلاف آقا کے قول ”بَعْدَ غَدٍ“ کے، پچھلے مسئلے میں آیا تھا، آقا نے کیا کہا: ”كُلُّ مَمْلُوكٍ أَمْلِكُهُ فَهُوَ حُرٌّ بَعْدَ غَدٍ“ تو وہ صرف ایک تصرف تھا، وہ صرف ایجابِ عتق ہے، وصیت نہیں، موت کی طرف نسبت نہیں کر رہا، تو لہٰذا وہاں صرف وہی غلام اس میں شامل ہوں گے جو قسم کے وقت اس کے مملوک ہیں، جبکہ یہاں پر ایجابِ عتق بھی ہے اور وصیت بھی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ قَوْلِهِ: بَعْدَ غَدٍ عَلَى مَا تَقَدَّمَ“ بخلاف آقا کے قول ”بَعْدَ غَدٍ“ کے اس وجہ سے جو گزر گئی ”لِأَنَّهُ تَصَرُّفٌ وَاحِدٌ“ اس لیے کیونکہ وہ تو ایک ہی تصرف ہے ”وَهُوَ إِيجَابُ الْعِتْقِ“ اور وہ اثباتِ عتق ہے ”وَلَيْسَ فِيهِ إِيصَاءٌ“ اس کے اندر وصیت نہیں ہے ”وَالْحَالَةُ مَحْضُ اسْتِقْبَالٍ“ اور وہ حالت جو ہے یعنی مستقبل میں جو مالک ہونے کی حالت ہے ”مَحْضُ اسْتِقْبَالٍ“ وہ صرف استقبال ہے یعنی مستقبل کا زمانہ ہے، تو نہ اس کی طرف ملکیت کی نسبت ہے نہ نہ سببِ ملکیت کی، لہٰذا وہ غلام آزاد نہیں ہوں گے ”بَعْدَ غَدٍ“ والے قول میں جن کو وہ بعد میں خریدے بھئی۔ ”فَافْتَرَقَا“ تو یہ دونوں قول جدا ہو گئے، ایک جس میں ”بَعْدَ مَوْتِي“ کہا ہے اور ایک جس میں ”بَعْدَ غَدٍ“ کہا ہے۔ ”فَافْتَرَقَا“ تو یہ دونوں قول جدا ہو گئے۔ ”وَلَا يُقَالُ: إِنَّكُمْ جَمَعْتُمْ بَيْنَ الْحَالِ وَالِاسْتِقْبَالِ فِي لَفْظٍ وَاحِدٍ، لِأَنَّا نَقُولُ: الْجَمْعُ بِاعْتِبَارِ سَبَبَيْنِ عَلَى مَا بَيَّنَّاهُ، فَلَا يَمْتَنِعُ“ یہاں سے صاحبِ ہدایہ ایک اعتراض اور اس کا جواب دے رہے ہیں۔ اعتراض یہ کہ آقا نے کیا کہا ہے؟ ”كُلُّ مَمْلُوكٍ أَمْلِكُهُ فَهُوَ حُرٌّ بَعْدَ مَوْتِي“ تو یہاں پر ”أَمْلِكُهُ“ فعل مضارع آیا اور فعل مضارع آپ نے ہمیں بتایا کہ اس کا حقیقی معنی حال ہے، تو فی الحال جو غلام ہیں آپ نے ان کو مدبر قرار دے دیا، اور مستقبل میں یعنی موت کے وقت جتنے بھی غلام ہوں گے وہ بھی آزاد ہو جائیں گے وصیت کے اندر داخل ہو کر، تو یہ تو آپ نے مضارع کا معنی حال والا بھی کر دیا اور مستقبل والا بھی کر دیا، اور ایک وقت میں مضارع کا ایک معنی کیا جا سکتا ہے، دونوں معنی نہیں کیے جا سکتے، تو اس کا جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ ہاں، ہم نے حال اور استقبال کو جمع تو کیا ہے لیکن دونوں کے سبب الگ الگ ہیں۔ حال کو داخل کیا ہے کیونکہ یہ ایجابِ عتق ہے، اور مستقبل کو یعنی موت کی حالت کو داخل کیا ہے کیونکہ یہ وصیت ہے، تو حال اور استقبال کو ہم نے دو الگ الگ سببوں کے اعتبار سے جمع کیا۔ اگر ایک ہی سبب کے اعتبار سے جمع کرتے تو پھر یہ جمع ممتنع اور ناجائز ہوتی۔ تو چونکہ دو الگ الگ سببوں کے اعتبار سے ہم نے ان دونوں کو جمع کیا ہے لہٰذا یہ جمع کرنا ممتنع نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يُقَالُ: إِنَّكُمْ جَمَعْتُمْ بَيْنَ الْحَالِ وَالِاسْتِقْبَالِ فِي لَفْظٍ وَاحِدٍ“ اور یہ اعتراض نہ کیا جائے کہ تم نے لفظِ واحد میں حال اور استقبال کو جمع کر دیا، ”لِأَنَّا نَقُولُ: الْجَمْعُ بِاعْتِبَارِ سَبَبَيْنِ عَلَى مَا بَيَّنَّاهُ، فَلَا يَمْتَنِعُ“ اس لیے کیونکہ ہم جواب دیتے ہیں: ”الْجَمْعُ بِاعْتِبَارِ سَبَبَيْنِ عَلَى مَا بَيَّنَّاهُ“ کہ دونوں کا جمع کرنا دو سببوں کے اعتبار سے ہے اس تفصیل پر جو ہم نے بیان کر دی ”فَلَا يَمْتَنِعُ“ تو یہ جمع کرنا ممتنع اور ناجائز نہیں ہوگا۔ چلو بھئی، یہاں تک ہو گیا۔ جمع کرتے تو وہ جائز نہ ہوتا، لیکن حال مراد لیا ایجابِ عتق کے اعتبار سے کہ آقا اثباتِ عتق کر رہا ہے ان غلاموں میں جو اس وقت ہیں تو وہ مدبر بن جائیں گے اور وصیت ہونے کے اعتبار سے مستقبل والے بھی اس میں داخل ہیں تو دو سبب ہیں الگ الگ بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يُقَالُ:“ اور یہ نہ کہا جائے ”إِنَّكُمْ جَمَعْتُمْ بَيْنَ الْحَالِ وَالِاسْتِقْبَالِ“ کہ آپ نے تو جمع کر دیا حال اور استقبال کو ”لِأَنَّا نَقُولُ:“ اس لیے کیونکہ ہم کہتے ہیں، اب جواب دے رہے ہیں، کہتے ہیں ”لِأَنَّا نَقُولُ:“ اس لیے کیونکہ ہم کہتے ہیں ”نَعَمْ“ کہ ہاں، یعنی ہم نے دونوں کو جمع کیا ہے ”لَكِنْ بِسَبَبَيْنِ مُخْتَلِفَيْنِ“ لیکن دو مختلف سببوں سے ”إِيجَابُ عِتْقٍ وَوَصِيَّةٌ“ ایک ایجابِ عتق ہے اس کے اعتبار سے حال داخل، اور ایک وصیت ہے اس کے اعتبار سے موت کا وقت داخل ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”نَعَمْ لَكِنْ بِسَبَبَيْنِ مُخْتَلِفَيْنِ إِيجَابُ عِتْقٍ وَوَصِيَّةٌ، وَإِنَّمَا لَا يَجُوزُ ذٰلِكَ بِسَبَبٍ وَاحِدٍ“ اور یہ جائز نہیں ہوتا ایک ہی سبب سے۔ یعنی ایک ہی سبب سے حال اور استقبال کا جمع جائز نہیں ہوتا لیکن یہاں سبب الگ الگ ہیں بھئی۔ آگے دیکھیے: ”بَابُ الْعِتْقِ عَلَى جُعْلٍ“ جُعْل بھئی، ج، ع، ل، جُعْل یاد رکھو جُعْل کا معنی ہے اجرت اور مزدوری۔ جُعْل کا کیا معنی؟ اجرت اور مزدوری، لیکن یہاں یہ مال کے معنی میں ہے۔ مراد اس سے کیا ہے؟ مال۔ ”بَابُ الْعِتْقِ عَلَى جُعْلٍ“ مال کی شرط پر یا مال کے عوض میں آزادی۔ مال کے عوض میں آزادی کو اس میں بیان کریں گے۔ کہتے ہیں ”بَابُ الْعِتْقِ عَلَى جُعْلٍ“ یہ باب ہے مال کی شرط پر آزادی کے بیان میں۔ ”وَمَنْ أَعْتَقَ عَبْدَهُ عَلَى مَالٍ“ بھئی یاد رکھو، کسی شخص نے اپنے غلام کو آزاد کیا مال کی شرط پر یا مال کے عوض پر کہ میں نے تمہیں دس لاکھ روپے مال کے عوض آزاد کیا تو اس میں غلام کا قبول کرنا ضروری ہے۔ غلام قبول کرے گا تو اسی وقت آزاد ہو جائے گا، اور پھر غلام کو وہ مال ادا کرنا پڑے گا۔ بھئی غلام کا قبول بھی ضروری ہے، وجہ یہ کہ اس کے اندر آقا غلام کو مفت نہیں آزاد کر رہا، ویسے ہی نہیں آزاد کر رہا بلکہ عوض لینا چاہتا ہے، اور عوض کو کسی آدمی پر ویسے ہی نہیں واجب کیا جا سکتا جب تک وہ قبول نہ کر لے، تو غلام کا قبول کرنا ضروری ہے۔ جب غلام قبول کرے گا تو اس پر عوض آ جائے گا اور وہ آزاد ہو جائے گا۔ اگر وہ قبول نہیں کرتا وہ رد کرنا چاہتا ہے تو رد بھی کر سکتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ پھر وہ آزاد بھی نہیں ہوگا اور اس کے ذمے مال بھی نہیں ہوگا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ أَعْتَقَ عَبْدَهُ عَلَى مَالٍ“ اور جس شخص نے اپنے غلام کو آزاد کیا ”عَلَى مَالٍ“ مال کے عوض پر یا مال کی شرط پر، دونوں ترجمے آپ کر سکتے ہیں، ”عَلَى“ عوض کے لیے بھی آتا ہے اور شرط کے لیے بھی، کہتے ہیں ”وَمَنْ أَعْتَقَ عَبْدَهُ عَلَى مَالٍ فَقَبِلَ الْعَبْدُ عَتَقَ“ تو غلام نے قبول کر لیا، غلام آزاد ہو جائے گا ”وَذٰلِكَ مِثْلُ أَنْ تَقُولَ: أَنْتَ حُرٌّ عَلَى أَلْفِ دِرْهَمٍ“ اور وہ مثلاً کہ آپ یوں کہتے ہیں: ”أَنْتَ حُرٌّ عَلَى أَلْفِ دِرْهَمٍ“ کہ تو آزاد ہے ایک ہزار درہم کی شرط پر ”أَوْ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ“ یا تو آزاد ہے ایک ہزار درہم کے عوض پر۔ ”وَإِنَّمَا يَعْتِقُ بِقَبُولِهِ“ یہاں سے بتلا رہے ہیں کہ متن میں آیا کہ جیسے ہی غلام قبول کرے گا ساتھ ہی آزاد ہو جائے گا، اس کی وجہ کیا ہے؟ کہتے ہیں وجہ یہ کہ یہ آقا اور غلام کے درمیان ایک معاہدہ ہو رہا ہے، ایک عقد ہو رہا ہے، اور عقد کے اندر ایسا ہی ہوتا ہے کہ جیسے ہی دوسرا شخص قبول کرتا ہے اس کا حکم ثابت ہو جاتا ہے۔ میں نے آپ سے کہا یہ کتاب میں نے آپ کو سو روپے میں فروخت کر دی، آپ نے کہا مجھے قبول ہے، جیسے ہی آپ نے قبول ہے کہا ساتھ ہی بیع کا حکم ثابت ہو گیا، آپ اس کتاب کے مالک بن گئے۔ تو دو آدمیوں کے درمیان جب عقد ہوتا ہے تو اس میں قبول بھی ضروری اور قبول کرتے ہی فوراً اس کا حکم بھی ثابت ہو جاتا ہے، تو یہاں غلام کا قبول کرنا بھی ضروری اور قبول کرتے ہی اس کا حکم بھی ثابت ہو جائے گا یعنی غلام آزاد ہو جائے گا اور اس کو اب وہ رقم ادا کرنا پڑے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنَّمَا يَعْتِقُ بِقَبُولِهِ لِأَنَّهُ مُعَاوَضَةُ الْمَالِ بِغَيْرِ الْمَالِ“ اور غلام جو ہے اپنے قبول کرنے سے آزاد ہو جائے گا ”لِأَنَّهُ مُعَاوَضَةُ الْمَالِ بِغَيْرِ الْمَالِ“ اس لیے بھئی دیکھیے، یہ معاوضہ ہے مال کا غیرِ مال کے ساتھ۔ غلام کو مال دینا پڑے گا تو ایک طرف سے تو مال آ رہا ہے جبکہ اس کے بدلے میں غلام کو آزادی ملے گی اور آزادی غیرِ مال ہے، تو مال کے مقابلے میں کیا آیا ہے؟ غیرِ مال آیا ہے اور یہ عقد ہو رہا ہے تو یہ عقدِ معاوضہ ہے بھئی، اور لہٰذا لہٰذا یہاں پر قبول کرتے ہی عقد کا حکم ثابت ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّهُ مُعَاوَضَةُ الْمَالِ بِغَيْرِ الْمَالِ“ اس لیے کیونکہ یہ مال کا معاوضہ ہے غیرِ مال کے ساتھ ”إِذِ الْعَبْدُ لَا يَمْلِكُ نَفْسَهُ“ اس لیے کیونکہ غلام اپنی ذات کا مالک نہیں بنتا۔ بھئی غلام تو مال دے رہا ہے لیکن بدلے میں غلام اپنی ذات کا مالک نہیں بنتا کیونکہ یہ غلامی تو اسقاط کا نام ہے، جیسے طلاق کس چیز کا نام تھا؟ اسقاط، کہ خاوند اپنی ملکِ نکاح عورت پر سے ختم کر دیتا ہے، تو طلاق کس کا نام ہے؟ اسقاطِ ملکیت کا نام ہے۔ اسی طرح اعتاق بھی کس چیز کا نام ہے؟ اسقاطِ ملکیت کہ آقا اپنی ملکیت اس سے ساقط کر رہا ہے، تو لہٰذا ایک طرف سے غلام مال دے رہا ہے اور دوسری طرف سے ایسا نہیں ہے کہ غلام اپنی ذات کا مالک بن رہا ہے بلکہ غلام پر سے اسقاطِ ملکیت ہو رہا ہے، ملکیت ساقط ہو رہی ہے، تو ایک طرف مال ہے دوسری طرف مال نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کیونکہ اگر یوں کہا جائے غلام اپنی ذات کا مالک بنا ہے تو پھر تو مال کے بدلے مال ہو گیا، غلام نے بھی کیا دیا؟ مال، اور بدلے میں اپنی ذات کا مالک بن گیا اور غلام بھی کیا ہوتا ہے؟ مال ہوتا ہے، تو مال کے بدلے مال ہو جاتا۔ تو یہ ہے تو عقدِ معاوضہ لیکن ایک طرف مال ہے دوسری طرف غیرِ مال ہے یعنی اعتاق ہے بھئی۔ یہ معنی ہے ”لِأَنَّهُ مُعَاوَضَةُ الْمَالِ بِغَيْرِ الْمَالِ إِذِ الْعَبْدُ لَا يَمْلِكُ نَفْسَهُ“ اس لیے کیونکہ یہ مال کا معاوضہ ہے غیرِ مال کے ساتھ کیونکہ غلام وہ اپنی ذات کا مالک نہیں بنتا کیونکہ یہ اسقاطِ ملکیت ہے، تو غلام اپنی ذات کا مالک نہیں بنتا۔ ”وَمِنْ قَضِيَّةِ الْمُعَاوَضَةِ“ اور معاوضے کے معاملے میں سے ہے ثبوت الحکم، حکم کا ثابت ہونا۔ معاوضے کا معاملہ جس کے ساتھ بھی معاوضے والا معاہدہ کیا جائے یعنی بیع و شراء وغیرہ کی جائے تو جیسے ہی دوسرا قبول کرے گا اس کا حکم ثابت ہو جائے گا۔ یہی بیان کر رہے ہیں ”وَمِنْ قَضِيَّةِ الْمُعَاوَضَةِ“ قضیہ کا معنی کر لیں یہاں معاملہ، ”وَمِنْ قَضِيَّةِ الْمُعَاوَضَةِ ثُبُوتُ الْحُكْمِ بِقَبُولِ الْعِوَضِ لِلْحَالِ“ اور معاوضے کے معاملے میں سے ہے کہ عوض کو قبول کرنے سے حکم ثابت ہو جاتا ہے ”لِلْحَالِ“ یعنی فی الحال، اسی وقت۔ عوض کو قبول کرنے سے اسی وقت حکم ثابت ہو جاتا ہے ”كَمَا فِي الْبَيْعِ“ جیسے کہ بیع کے اندر ہوتا ہے۔ ”فَإِذَا قَبِلَ صَارَ حُرًّا“ جب غلام نے قبول کر لیا تو غلام آزاد ہو گیا ”وَمَا شَرَطَ دَيْنٌ عَلَيْهِ“ اور وہ مال جس کی آقا نے شرط لگائی تھی وہ اس غلام پر دین ہے ”حَتَّى تَصِحَّ الْكَفَالَةُ بِهِ“ بھئی یاد رکھو یہاں پر بھی ”حَتَّى“ نَصب نہیں دے گا تو یہاں ”تَصِحُّ“ پر رفع پڑھیں گے۔ ”حَتَّى تَصِحُّ الْكَفَالَةُ بِهِ“ یہاں تک کہ اس پر کفالت بھی صحیح ہے۔ بھئی کفالت وہی جس کو اردو میں ہم ضمانت کہتے ہیں۔ آپ ایک آدمی کے پاس گئے کہ مجھے قرض چاہیے، مجھے قرض چاہیے، تو اس نے کہا کہ بھئی کسی ضامن کو لے کر آؤ جو ضمانت دے کہ تم میرا قرضہ ادا کرو گے، تو آپ اپنے ساتھ زید کو لے گئے، زید نے جا کر ضمانت دی کہ یہ شخص آپ کا قرضہ ادا کرے گا اگر اس نے ادا نہ کیا تو میں ادا کروں گا مجھ سے آپ مطالبہ کرنا، تو یاد رکھو اردو میں تو اس کو ضمانت کہتے ہیں عربی میں اس کو کفالت کہتے ہیں، زید آپ کا کفیل بن گیا۔ اب وہ جو قرض خواہ ہے وہ آپ سے بھی مطالبہ کر سکتا ہے اور وہ زید سے بھی مطالبہ کر سکتا ہے۔ تو لہٰذا اس مسئلے کے اندر بھی جب غلام نے قبول کر لیا تو غلام آزاد ہو گیا اور اب اس نے مال ادا کرنا ہے وہ مال اس غلام پر دین ہے۔ لہٰذا اس دین کے اندر غلام کسی کو کفیل اپنا بناتا ہے تو کفیل بنا سکتا ہے کیونکہ یہ دینِ صحیح ہے بھئی، اور دینِ صحیح پر کفالت صحیح ہے، تو لہٰذا یہاں پر اس میں کفالت بھی صحیح ہے بھئی، جبکہ اس کے مقابلے میں بدلِ کتابت اس میں کفالت صحیح نہیں۔ یہ جو غلام آزاد ہو گیا اس کے ذمے دین ہے اور یہ دینِ صحیح ہے لہٰذا اس پر کفالت بھی صحیح ہے کوئی اور اس کا کفیل بن سکتا ہے، ضامن بن سکتا ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اگر آقا اپنے غلام سے عقدِ کتابت کرتا ہے کہ تم دو سال کے اندر بیس لاکھ روپے لے آؤ تو تم میری طرف سے آزاد ہو، غلام نے قبول کر لیا، یہ آقا اور غلام میں عقدِ کتابت ہو گیا، اب غلام جو ہے وہ کسی کو ضامن بنانا چاہتا ہے، کفیل بنانا چاہتا ہے، کہتے ہیں نہیں، یہ بدلِ کتابت کے اندر کفالت صحیح نہیں۔ وجہ یہ، وجہ یہ کہ یہ جو مکاتب ہے یہ ابھی بھی غلام ہے۔ یہ مکاتب یہ ابھی بھی غلام ہے اور اپنے ہی غلام پر دین کا ثابت ہونا یہ خلافِ قیاس ہے۔ بھئی غلام جب آپ کا مملوک ہے وہ تو بیچارہ کسی چیز کا مالک ہی نہیں ہے تو غلام پر آقا کے لیے دین نہیں آ سکتا۔ غلام خود کیا ہے آقا کا؟ مملوک ہے، یہ تو بیچارہ کسی چیز کا مالک ہی نہیں ہے، تو غلام پر آقا کے لیے دین ثابت ہو جائے ایسا نہیں ہو سکتا بھئی۔ البتہ کتابت میں دین ثابت ہوتا ہے غلام پر اور وہ خلافِ قیاس ہے۔ اور وہ ضرورت کی وجہ سے ثابت ہے کیونکہ غلام آزادی کا محتاج ہے اس کو آزادی کی ضرورت ہے تو اس ضرورت کی بنا پر شریعت نے کتابت کے اندر دین کی اجازت دے دی۔ ورنہ تو قیاس اس کی نفی کرتا ہے کہ آقا اپنے ہی غلام پر دین کو ثابت نہیں کر سکتا، تو یہ جو بدلِ کتابت ہے یہ خلافِ قیاس ضرورت کی وجہ سے ثابت ہے، اور آپ نے ضابطہ پڑھا ہے ”الضَّرُورِيُّ يُتَقَدَّرُ بِقَدْرِ الضَّرُورَةِ“ کہ جو چیز ضرورت کی وجہ سے ثابت ہو وہ بقدرِ ضرورت ہی ثابت ہوتی ہے۔ لہٰذا آزادی کی ضرورت کی وجہ سے بدلِ کتابت تو ثابت ہو گیا لیکن یہ آزادی کے لیے ثابت ہوا ہے یہ یہ کفالت کے حق میں ثابت نہیں ہے، لہٰذا اس میں کفالت درست نہیں ہے بھئی۔ تو لہٰذا یہ کفیل کی طرف متعدی نہیں ہوگا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَا شَرَطَ دَيْنٌ عَلَيْهِ“ اور وہ مال جس کی شرط لگائی آقا نے ”دَيْنٌ عَلَيْهِ“ وہ اس غلام پر دین ہے ”حَتَّى تَصِحَّ الْكَفَالَةُ بِهِ“ یہاں تک کہ اس پر کفالت بھی صحیح ہے ”بِخِلَافِ بَدَلِ الْكِتَابَةِ“ بخلاف بدلِ کتابت کے ”لِأَنَّهُ ثَبَتَ مَعَ الْمُنَافِي“ اس لیے کیونکہ وہ بدلِ کتابت ثابت ہے منافی چیز کے باوجود، منافی چیز کیا ہے؟ کہ یہ غلام ہے اور آقا اپنے غلام پر دین کو واجب نہیں کر سکتا، تو کہتے ہیں ”لِأَنَّهُ ثَبَتَ مَعَ الْمُنَافِي“ اس لیے کیونکہ یہ بدلِ کتابت منافی چیز کے ساتھ ثابت ہوا ہے یعنی خلافِ قیاس طریقے پر یہ ثابت ہے ”وَهُوَ قِيَامُ الرِّقِّ عَلَى مَا عُرِفَ“ اور وہ منافی چیز کیا ہے؟ ”وَهُوَ قِيَامُ الرِّقِّ“ اور وہ غلامی کا موجود ہونا ہے ”عَلَى مَا عُرِفَ“ اس وجہ سے جو جانا گیا ہے، جو کتاب المکاتب میں صاحبِ ہدایہ نے ذکر فرمایا ہے کہ مکاتب غلام ہی ہوتا ہے بھئی۔ ”وَإِطْلَاقُ لَفْظِ الْمَالِ يَنْتَظِمُ أَنْوَاعَهُ مِنَ النَّقْدِ وَالْعَرْضِ وَالْحَيَوَانِ وَإِنْ كَانَ بِغَيْرِ عَيْنِهِ“ بھئی متن کے اندر آیا تھا ”وَمَنْ أَعْتَقَ عَبْدَهُ عَلَى مَالٍ“ مال کا لفظ آیا اور مال کا لفظ مطلق ہے لہٰذا یہ ہر قسم کے مال کو شامل ہے۔ کچھ مال جو ہے وہ نقد کی صورت میں ہے: درہم، دینار، سونا، چاندی اور کرنسی، یہ سب کیا ہیں؟ یہ نقدیاں ہیں، اور اسی طرح مال کی ایک قسم ہے حیوانات بھئی، حیوان کو بھی مال دے کر خریدا جاتا ہے، حیوان بھی مال ہے، یا اس کے علاوہ اور سامان ہیں بھئی برتن ہیں، کپڑے ہیں، اور گھر کا سامان ہے، دکان کا سامان ہے، یہ سب کیا ہیں؟ عرض ہیں، سامان ہے۔ تو مال سب کو شامل ہے چاہے وہ نقدی ہو چاہے عرض ہو یعنی سامانِ تجارت وغیرہ یا اور چیزیں ہوں، اور چاہے حیوانات ہوں۔ تو ان سب کی شرط لگائی جا سکتی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَإِطْلَاقُ لَفْظِ الْمَالِ يَنْتَظِمُ أَنْوَاعَهُ“ اور لفظِ مال کا مطلق ہونا یہ مال کی تمام اقسام کو شامل ہے ”مِنَ النَّقْدِ وَالْعَرْضِ وَالْحَيَوَانِ وَإِنْ كَانَ بِغَيْرِ عَيْنِهِ“ یعنی کہ نقدی ہے اور سامان ہے اور حیوان ہے ”وَإِنْ كَانَ بِغَيْرِ عَيْنِهِ“ اگرچہ وہ غیر معین ہو۔ اگرچہ حیوان کیا ہو؟ غیر معین ہی کیوں نہ ہو۔ بھئی غیر معین حیوان کی بیع تو نہیں جائز، آپ نے ایک آدمی کو گائے فروخت کی کہ میں نے آپ کو دو لاکھ روپے میں ایک گائے فروخت کر دی اور گائے معین نہیں ہے تو یہ بیع فاسد ہے، وجہ یہ کیونکہ بعد میں جھگڑا ہوگا۔ مشتری چاہے گا مجھے خوب اعلیٰ قسم کی گائے ملے اور بائع چاہے گا کہ میں اسے عام سی گائے دے دوں بھئی، تو لہٰذا بیع میں تو یہ جائز نہیں ہے لیکن یہاں پر بعض معاملات ایسے ہیں کہ ان میں نرمی کی جاتی ہے، جیسے نکاح وغیرہ ہے نکاح طلاق ہے، صلح عن دم العمد ہے بھئی۔ یاد رکھو بیع کی بنیاد ہے تنگی پر لہٰذا بیع کے مسئلے میں تھوڑی سی بھی جہالت آئے گی تو وہ بیع فاسد ہے، جیسے ایک آدمی دوسرے کو گائے بیچتا ہے لیکن گائے متعین نہیں تو یہ بیع فاسد ہے کیونکہ بیع کی بنیاد تنگی پر ہے، لوگ بیع میں تنگی سے کام لیتے ہیں۔ دیکھو بائع اور مشتری قیمت پر بڑی بحث کرتے ہیں، بائع چاہتا ہے میں زیادہ قیمت لوں اور مشتری چاہتا ہے میں تھوڑی قیمت ادا کروں، تو بیع کی بنیاد تنگی پر ہوتی ہے، جبکہ نکاح وغیرہ کی بنیاد نرمی پر ہے، وہاں اگر تھوڑی بہت جہالت آ بھی جائے تو کوئی حرج نہیں۔ لہٰذا ایک آدمی ایک عورت سے نکاح کرتا ہے کہ میں ایک گائے کے عوض تم سے نکاح کرتا ہوں، ایک گائے بطورِ مہر کہ میں تمہیں دوں گا، اب دیکھو یہاں پر بھی گائے مجہول ہے متعین نہیں ہے لیکن نکاح کی بنیاد نرمی پر ہے لہٰذا متوسط قسم کی گائے مراد لے لیں گے بھئی، نہ بہت اعلیٰ اور نہ بہت ادنیٰ، متوسط قسم کی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِطْلَاقُ لَفْظِ الْمَالِ يَنْتَظِمُ أَنْوَاعَهُ مِنَ النَّقْدِ وَالْعَرْضِ وَالْحَيَوَانِ وَإِنْ كَانَ بِغَيْرِ عَيْنِهِ“ اور لفظِ مال کا مطلق ہونا یہ مال کی اقسام کو شامل ہے ”مِنَ النَّقْدِ وَالْعَرْضِ وَالْحَيَوَانِ“ یعنی کہ نقدی ہے اور سامان ہے اور حیوان ہے ”وَإِنْ كَانَ بِغَيْرِ عَيْنِهِ“ اگرچہ وہ غیر معین ہو ”لِأَنَّهُ مُعَاوَضَةُ الْمَالِ بِغَيْرِ الْمَالِ“ اس لیے کیونکہ یہ مال کا معاوضہ ہے غیرِ مال کے ساتھ ”فَشَابَهَ النِّكَاحَ وَالطَّلَاقَ وَالصُّلْحَ عَنْ دَمِ الْعَمْدِ“ تو یہ مشابہ ہو گیا نکاح کے اور طلاق کے اور صلح عن دم العمد بھئی۔ نکاح بھئی، نکاح میں دیکھو خاوند مہر دیتا ہے اور بدلے میں دوسری طرف سے مال نہیں آتا بلکہ خاوند بیوی کے منافع کا مالک ہو جاتا ہے، خاوند کے لیے بیوی سے صحبت جائز ہو جاتی ہے، تو ایک طرف سے مال ہے دوسری طرف سے غیرِ مال ہے۔ اسی طرح طلاق کے اندر عورت جو ہے خاوند کو مال دے کر اپنی جان چھڑاتی ہے تو وہاں پر بھی بیوی تو مال دے رہی ہے لیکن بدلے میں صرف اس کی جان چھوٹ رہی ہے اس کو کوئی مال نہیں مل رہا۔ اسی طرح صلح عن دم العمد، کسی نے جان بوجھ کر آلۂ قتل سے کسی کو قتل کر دیا تو یاد رکھو اس صورت میں قصاص آتا ہے اس کو بھی قاتل کو بھی قصاص میں قتل کیا جائے گا، لیکن مقتول کے اولیاء جو ہیں وہ اس کے ساتھ صلح کر لیتے ہیں، وہ اس کے ساتھ صلح کر لیتے ہیں کہ ہمیں اتنا مال دے دو تو ہم تم سے قصاص نہیں لیں گے، تو یہاں پر بھی وہ قاتل جو ہے اس کو تو مال دینا پڑ رہا ہے لیکن بدلے میں اس کو مال نہیں مل رہا صرف اس کی جان چھوٹ رہی ہے، تو یہ جو نکاح ہے یہ طلاق ہے اور صلح عن دم العمد ہے ان سب کے اندر مال کا عوض غیرِ مال ہے، تو ان میں اگر تھوڑی بہت جہالت آ بھی جائے تو کوئی حرج نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّهُ مُعَاوَضَةُ الْمَالِ بِغَيْرِ الْمَالِ فَشَابَهَ النِّكَاحَ وَالطَّلَاقَ وَالصُّلْحَ عَنْ دَمِ الْعَمْدِ، وَكَذَا الطَّعَامُ وَالْمَكِيلُ وَالْمَوْزُونُ إِذَا كَانَ مَعْلُومَ الْجِنْسِ“ اور اسی طرح ہے طعام، یاد رکھو طعام کا لفظ عربی زبان میں عام طور پر گندم کے لیے استعمال ہوتا ہے، گندم کو کہتے ہیں۔ تو اگر آقا نے گندم کو ذکر کیا یا اسی طرح کوئی مکیلی چیز جس کو برتن میں ماپا جاتا ہے، جیسے آج کل آپ دیکھتے ہیں دودھ کو ایک برتن میں ماپ کر بیچا جاتا ہے اور یا اسی طرح قدیم زمانے میں یہ غلے کو ایک خاص برتن میں ماپ کر بیچا جاتا تھا، آج کل تو اکثر اس کو اکثر جگہ اس کو وزن کیا جاتا ہے۔ تو کچھ مکیلات ہیں جن کو برتن میں ماپ کر بیچا جاتا ہے، کچھ موزونات ہیں جن کو وزن کر کے بیچا جاتا ہے، تو آقا مال کی شرط پر غلام کو آزاد کر رہا ہے چاہے وہ مال گندم ہو یا اسی طرح کوئی اور مکیلات کوئی مکیلی چیز ہو یا موزونی چیز ہو تو ان کی جنس معلوم ہونی چاہیے اگرچہ صفت مجہول ہی کیوں نہ ہو۔ صرف گندم ذکر کی ہے، بھئی گندم تو اعلیٰ بھی ہو سکتی ہے، متوسط بھی ہو سکتی ہے، ادنیٰ بھی ہو سکتی ہے، تو صفت بے شک مجہول ہی کیوں نہ ہو اس میں کوئی حرج نہیں تو پھر اس صورت میں متوسط درجے والی وہی چیز آ جائے گی وہ جو مکیلات یا موزونات میں سے ذکر کی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا الطَّعَامُ وَالْمَكِيلُ وَالْمَوْزُونُ إِذَا كَانَ مَعْلُومَ الْجِنْسِ“ اور اسی طرح ہے گندم اور اسی طرح مکیلات اور موزونات ہیں ”إِذَا كَانَ مَعْلُومَ الْجِنْسِ“ جب ان کی جنس معلوم ہو۔ بھئی تھوڑی بہت جہالت آ جائے تو پھر تو کام چل جائے گا، تو جنس معلوم ہونی چاہیے بھئی۔ جنس معلوم ہونی چاہیے کہ گندم ہے یا چنے ہیں یا اور کوئی چیز ہے تو اس کی جنس معلوم ہونی چاہیے، ہاں اگر صفت ذکر نہیں ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ تو کہتے ہیں ”إِذَا كَانَ مَعْلُومَ الْجِنْسِ وَلَا تَضُرُّهُ جَهَالَةُ الْوَصْفِ“ اور اس کو نقصان نہیں دیتا وصف کا مجہول ہونا ”لِأَنَّهَا يَسِيرَةٌ“ کیونکہ وہ تھوڑا سا ہے یعنی معمولی ہے۔ یہ معمولی جہالت ہے اور معمولی جہالت یہاں پر برداشت کر لی جائے گی بھئی۔ آگے دیکھیے: ”قَالَ: وَلَوْ عَلَّقَ عِتْقَهُ بِأَدَاءِ الْمَالِ صَحَّ وَصَارَ مَأْذُونًا“ قَالَ، قَالَ سے مراد صاحبِ قدوری ہیں۔ بھئی صورتِ مسئلہ یہ کہ آقا نے غلام کو مال کی شرط یا مال کے عوض پر آزاد نہیں کیا بلکہ آقا مال کی ادائیگی کے ساتھ اس کی آزادی کو معلق کر رہا ہے کہ اگر تو مجھے ایک ہزار درہم ادا کر دو گے تو تم آزاد ہو۔ تو پھر اس صورت میں یاد رکھو ادا کرنے سے غلام آزاد ہوگا، صرف آقا کے کہنے اور غلام کے قبول کرنے سے وہ آزاد نہیں ہوگا۔ فرق سمجھ میں آ رہا ہے؟ پچھلے مسئلے میں آقا نے کیا کہا تھا؟ کہ میں تمہیں ایک ہزار درہم کے عوض یا ایک ہزار درہم کی شرط پر آزاد کرتا ہوں اور غلام نے کہا تھا قبول ہے اور قبول ہے کہتے ہی غلام آزاد ہو گیا تھا، لیکن یہاں آقا مال کی شرط نہیں لگا رہا بلکہ ادائے مال کی شرط لگا رہا ہے کہ مال ادا کر دو، تو اب اس صورت میں غلام اسی وقت آزاد نہیں ہوگا بلکہ غلام جب مال ادا کر دے گا پھر آزاد ہوگا۔ تو کہتے ہیں ”قَالَ:“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَلَوْ عَلَّقَ عِتْقَهُ بِأَدَاءِ الْمَالِ صَحَّ“ اور اگر آقا نے مال کی ادائیگی کے ساتھ غلام کی آزادی کو معلق کر دیا ”صَحَّ“ تو یہ صحیح ہے، یعنی مال ادا کرنے سے وہ آزاد ہو جائے گا ”وَصَارَ مَأْذُونًا“ اور یہ غلام ماذون بن جائے گا۔ عبدِ ماذون بھئی وہ غلام جس کو تجارت کی اجازت ہوتی ہے، تو یہ عبدِ ماذون بن جائے گا، اور یہاں دلالۃً جو ہے آقا کی طرف سے اجازت ہو گئی۔ دلالۃً آقا کی طرف سے تجارت کی اجازت ہو گئی کیونکہ آقا اس کی آزادی کو معلق کر رہا ہے ادائے مال پر، لہٰذا دلالۃً گویا آقا کی طرف سے اجازت مل گئی تاکہ وہ مال کو ادا کر سکے، وہ تجارت کرے گا تو مال کو ادا کر سکتا ہے، تو یہاں دلالۃً غلام کو تجارت کی اجازت ہو گئی تاکہ وہ مال ادا کر کے اپنے آپ کو آزاد کروا سکے۔ تو کہتے ہیں ”صَحَّ“ تو یہ تعلیق صحیح ہے ”وَصَارَ مَأْذُونًا“ اور وہ غلام عبدِ ماذون بن جائے گا ”وَذٰلِكَ مِثْلُ أَنْ يَقُولَ:“ اور یہ اس کے مثل ہے جیسے کوئی شخص کہتا ہے ”إِنْ أَدَّيْتَ إِلَيَّ أَلْفَ دِرْهَمٍ فَأَنْتَ حُرٌّ“ کہ اگر تو نے مجھے ایک ہزار درہم ادا کر دیے تو تو آزاد ہے ”وَمَعْنَى قَوْلِهِ: صَحَّ“ بھئی متن میں آیا تھا ”صَحَّ“، ”وَلَوْ عَلَّقَ عِتْقَهُ بِأَدَاءِ الْمَالِ صَحَّ“، اگر آقا نے مال کی ادائیگی پر غلام کی آزادی کو معلق کیا ”صَحَّ“ تو یہ تعلیق صحیح ہے، اب اس کا معنی بیان کر رہے ہیں کہ اس کا کیا معنی ہے بھئی؟ کہتے ہیں ”وَمَعْنَى قَوْلِهِ: صَحَّ أَنَّهُ يَعْتِقُ عَنِ الْأَدَاءِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَصِيرَ مُكَاتَبًا“ اور صاحبِ قدوری کے قول ”صَحَّ“ کا معنی یہ ہے کہ یہ غلام آزاد ہو جائے گا ادائیگی کرنے سے ”مِنْ غَيْرِ أَنْ يَصِيرَ مُكَاتَبًا“ بغیر اس کے کہ وہ مکاتب ہو جائے یعنی مکاتب ہوئے بغیر، یہ غلام مکاتب نہیں بنے گا۔ یہ غلام مکاتب نہیں بنے گا بھئی۔ بھئی کیوں؟ مکاتب کیوں نہیں بنے گا؟ کہتے ہیں بھئی دیکھیے، یہاں یہاں پر آقا تعلیق کر رہا ہے، اس کے الفاظ پر ذرا غور کریں: ”إِنْ أَدَّيْتَ إِلَيَّ أَلْفَ دِرْهَمٍ فَأَنْتَ حُرٌّ“ اگر تو مجھے ایک ہزار درہم ادا کرے تو تو آزاد ہے، تو لفظوں کے اعتبار سے یہ تعلیق ہے، اور عقدِ کتابت وہ تو عقدِ معاوضہ ہوتا ہے، آقا اور غلام کے درمیان ایک عقدِ معاوضہ ہوتا ہے، لیکن یہاں پر کوئی عقد نہیں ہے آقا تعلیق کر رہا ہے بھئی۔ آقا تعلیق کر رہا ہے۔ اور فرق اس میں یاد رکھو، فرق یہ ہے کہ عقدِ کتابت کو دونوں مل کر فسخ کر سکتے ہیں، وہ غلام پھر پہلے جیسا عام غلام بن جائے گا، لیکن یہ آقا نے تعلیق کر دی اور آپ نے پڑھا ہے قسم اور تعلیق کے اندر رجوع نہیں ہو سکتا، تو یہ تعلیق ہو گئی بھئی، اب آقا اس سے رجوع نہیں کر سکتا۔ اور آگے چل کر صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ یہاں پر ”إِنْ“ کا لفظ ذکر ہے: ”إِنْ أَدَّيْتَ إِلَيَّ أَلْفَ دِرْهَمٍ فَأَنْتَ حُرٌّ“ اگر تو نے مجھے ہزار درہم ادا کر دیے تو تو آزاد ہے، تو آقا نے اگر ”إِنْ“ کا لفظ ذکر کیا تو یہ اختیار غلام کو مجلس تک ہے، مجلس کے اندر اگر وہ پیسے ادا کر دیتا ہے تو آزاد ہو جائے گا اور مجلس ختم تو یہ اختیار بھی ختم کیونکہ آقا اس کو اختیار دے رہا ہے، اور الفاظ تعلیق والے ہیں لہٰذا مجلس کے اندر آقا رجوع نہیں کر سکتا۔ اور اگر آقا نے ”إِذَا“ کا لفظ استعمال کیا ”إِذَا أَدَّيْتَ أَلْفَ دِرْهَمٍ فَأَنْتَ حُرٌّ“ جب تم مجھے ہزار درہم ادا کرو تو تم آزاد ہو، تو اس صورت میں پھر تمام زندگی کے لیے یہ تعلیق ہو گئی چاہے اس مجلس میں غلام ادائیگی کرے چاہے بعد میں زندگی میں جب بھی ادا کرے تو اعتاق ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَعْنَى قَوْلِهِ: صَحَّ أَنَّهُ يَعْتِقُ عَنِ الْأَدَاءِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَصِيرَ مُكَاتَبًا“ اور صاحبِ قدوری کے قول ”صَحَّ“ کا معنی یہ ہے کہ یہ غلام ادائیگی سے آزاد ہوگا بغیر اس کے کہ یہ مکاتب بن جائے ”لِأَنَّهُ صَرِيحٌ فِي تَعْلِيقِ الْعِتْقِ بِالْأَدَاءِ“ اس لیے کیونکہ آقا کے یہ الفاظ صریح ہیں ”فِي تَعْلِيقِ الْعِتْقِ بِالْأَدَاءِ“ ادائیگی کے ساتھ آزادی کو معلق کرنے میں۔ آقا کے یہ الفاظ ”إِنْ أَدَّيْتَ إِلَيَّ أَلْفَ دِرْهَمٍ فَأَنْتَ حُرٌّ“ اگر تم نے مجھے ایک ہزار درہم ادا کر دیے تو تم آزاد ہو، تو یہ تعلیق ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّهُ صَرِيحٌ فِي تَعْلِيقِ الْعِتْقِ بِالْأَدَاءِ“ اس لیے کیونکہ آقا کا یہ قول جو ہے صریح ہے ادائیگی کے ساتھ آزادی کو معلق کرنے میں ”وَإِنْ كَانَ فِيهِ مَعْنَى الْمُعَاوَضَةِ فِي الِانْتِهَاءِ“ اگرچہ اس کے اندر معاوضے والا معنی بھی ہے انتہا کے اعتبار سے۔ انتہا کے اعتبار سے معاوضے والا معنی بھی ہے کہ غلام مال ادا کرے گا تو اس کو آزادی مل جائے گی، تو مال کا عوض غیرِ مال ہو گیا۔ تو یہاں آپ کو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے بھئی کہ یہاں ایک ہے ابتدا اور ایک ہے انتہا۔ ابتدا کے اعتبار سے دیکھیں تو آقا نے تعلیق والے الفاظ استعمال کیے ہیں لہٰذا یہ تعلیق ہے کتابت نہیں، وہ مکاتب نہیں بنے گا۔ جب مکاتب نہیں بنے گا تو آقا اس کو بیچ سکتا ہے، لیکن اگر مکاتب بن جاتا پھر تو آقا کے لیے بیچنا جائز نہ ہوتا، تو آقا اس کو بیچ سکتا ہے۔ لیکن انتہا کے اعتبار سے یہ کتابت کے درجے میں ہو جائے گا، جب یہ کتابت کے درجے میں ہو جائے گا تو اگر یہ بدل لے آتا ہے اور آقا بعد میں کہتا ہے نہیں میں تو بدل لوں گا ہی نہیں، کیونکہ آقا جب لے گا تو غلام آزاد ہو جائے گا، غلام نے ادائیگی کر دی، ادائیگی کرتے ہی غلام نے آزاد ہونا ہے، اب آقا بعد میں کہتا ہے کہ نہیں یہ تو میں لوں گا ہی نہیں بدل ورنہ تو میرے ہاتھ سے غلام نکل جائے گا، تو پھر اس صورت میں یاد رکھو جیسے بدلِ کتابت میں آقا کو مجبور کیا جاتا ہے بدل لینے پر یہاں پر بھی آقا کو مجبور کیا جائے گا بدل لینے پر، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ابتداءً یہ تعلیق ہے لہٰذا آقا اس سے رجوع نہیں کر سکتا اور انتہاءً یہ کیا ہے؟ معاوضہ ہے کتابت کی طرح، لہٰذا آقا کو بدل لینے پر مجبور کیا جائے گا، اور آپ کو صاحبِ ہدایہ یہ بھی بتلائیں گے آقا کو مجبور کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آقا کو جیل میں ڈالیں گے یا قید کریں گے یا سزا وغیرہ دیں گے بلکہ مجبور کرنے کا مطلب یہ ہے کہ غلام ایسی جگہ لا کر وہ چیز سامنے رکھ دے کہ تمام رکاوٹیں دور کر دیں، مثلاً آقا کے سامنے لا کر وہ پیسے رکھ دیے کہ یہ لیجیے اپنے پیسے لے لیں، تو سارے مانع کیا کر دیے؟ دور کر دیے، اب آقا لینا چاہے تو اس کو لے سکتا ہے، تو بس اسی کو ادائیگی سمجھا جائے گا، اسی کو ادائیگی سمجھا جائے گا، یہ ہے مجبور کرنے کا معنی۔ یہ معنی نہیں کہ آقا کو جیل میں ڈالیں گے۔ سب میں اسی طرح ہے، بیع وغیرہ یا بدلِ کتابت میں بھی، جب ان میں عوض لایا جائے تو دوسرے شخص کو مجبور کیا جائے گا عوض لینے پر کیونکہ اس نے خود ایک معاملہ کیا ہے بھئی، لیکن مجبور کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کی پٹائی کی جائے گی یا اس کو قید میں ڈالا جائے گا بلکہ مجبور کرنے کا معنی کیا ہے؟ کہ وہ جو عوض ہے اور وہ جو لینے والا ہے ان کے درمیان تخلیہ کر دیا جائے گا، خلوت کر دی کہ لینا چاہے تو لے لے، کوئی رکاوٹ کوئی مانع وغیرہ موجود نہیں ہے، تو اسی کو ادائیگی شمار کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَ فِيهِ مَعْنَى الْمُعَاوَضَةِ فِي الِانْتِهَاءِ عَلَى مَا نُبَيِّنُ“ اگرچہ اس کے اندر معاوضے والا معنی بھی ہے انتہا کے اعتبار سے ”عَلَى مَا نُبَيِّنُ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالَى“ اس وجہ سے جو ہم بیان کریں گے ان شاء اللہ تعالیٰ، ”وَإِنَّمَا صَارَ مَأْذُونًا“ بھئی متن میں آیا تھا کہ یہ غلام عبدِ ماذون بن جائے گا، یعنی دلالۃً اجازت ہو گئی، اور دلالۃً کیوں اجازت ہو گئی؟ تاکہ وہ مال ادا کر سکے، اس کے بغیر تو وہ مال ادا نہیں کر سکتا، تو اب وہی وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں ”وَإِنَّمَا صَارَ مَأْذُونًا لِأَنَّهُ رَغَّبَهُ فِي الِاكْتِسَابِ“ اور یہ غلام جو ہے عبدِ ماذون بن جائے گا ”لِأَنَّهُ رَغَّبَهُ فِي الِاكْتِسَابِ“ اس لیے کیونکہ آقا نے اس غلام کو ترغیب دلائی ہے ”فِي الِاكْتِسَابِ“ کمائی کرنے میں ”بِطَلَبِهِ الْأَدَاءَ مِنْهُ“ اس سے ادائیگی کو طلب کرتے ہوئے، آقا نے اس غلام سے ادائیگی کو طلب کرتے ہوئے اس کو کمائی کی ترغیب دلائی ہے ”وَمُرَادُهُ التِّجَارَةُ دُونَ التَّكَدِّي“ اور آقا کی مراد جو ہے وہ تجارت ہے نہ کہ بھیک مانگنا۔ تَکَدِّی، تکدی کا معنی ہے بھیک مانگنا بھئی، تَكَدَّى يَتَكَدَّى تَكَدِّيًا اس کا معنی ہے بھیک مانگنا، تو کہتے ہیں ”وَمُرَادُهُ التِّجَارَةُ دُونَ التَّكَدِّي“ اور آقا کی مراد جو ہے وہ تجارت ہے نہ کہ بھیک مانگنا ”فَكَانَ إِذْنًا لَهُ دَلَالَةً“ تو غلام کے لیے دلالۃً اجازت ہوگی۔ دلالۃً اجازت ہوگی کیونکہ آقا خود اس کو ترغیب دلا رہا ہے کہ مال لے کر آؤ، تو دلالۃً غلام کو اجازت ہوگی تاکہ وہ ادائیگی کر سکے بھئی۔ ”وَإِنْ أَحْضَرَ الْمَالَ أَجْبَرَهُ الْحَاكِمُ عَلَى قَبْضِهِ“ اور اگر غلام نے مال حاضر کر دیا ”أَجْبَرَهُ الْحَاكِمُ“ تو آقا کو حاکم مجبور کرے گا ”عَلَى قَبْضِهِ“ اس مال پر قبضہ کرنے پر ”وَعَتَقَ الْعَبْدُ“ اور غلام آزاد ہو جائے گا۔ حاکم آقا کو مجبور کرے گا اور میں نے بتلایا کہ مجبور کرنے کا کیا معنی ہے؟ کہ مال اور آقا کے درمیان تخلیہ کر دیا جائے گا، آقا کے سامنے لا کر چیز رکھ دی گئی اب وہ اٹھائے یا نہ اٹھائے وہ ادائیگی شمار ہوگی بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَمَعْنَى الْإِجْبَارِ فِيهِ وَفِي سَائِرِ الْحُقُوقِ“ کہتے ہیں جبر کرنے کا معنی اس مسئلے میں اور باقی حقوق کے اندر ”أَنَّهُ يُنَزَّلُ قَابِضًا بِالتَّخْلِيَةِ“ کہ آقا جو ہے اس کو قابض کے درجے میں اتار لیا جائے گا ”بِالتَّخْلِيَةِ“ خلوت کرنے سے۔ تخلیہ کا معنی ہے خلوت کر دینا، خالی کر دینا، یعنی وہ چیز آقا کے سامنے لا کر رکھ دی اور آقا میں اور اس چیز میں خلوت کر دی، آقا اس کو لینا چاہے تو لے سکتا ہے بھئی۔ اور انہوں نے بتایا اس میں بھی یہی حکم ہے ”وَفِي سَائِرِ الْحُقُوقِ“ باقی حقوق کا بھی یہی حکم ہے: بیع، بدلِ کتابت یا اسی طرح بدلِ خلع وغیرہ جتنے بھی یہ عقد ہیں ان کے اندر عوض لینے پر مجبور کیا جائے گا دوسرے کو، اور مجبور کرنے کا مطلب پٹائی کرنا یا قید میں ڈالنا نہیں بلکہ تخلیہ ہے کہ اس مال، اس عوض میں اور لینے والے میں تخلیہ کر دیا جائے۔ یہ معنی ہے ”وَمَعْنَى الْإِجْبَارِ فِيهِ وَفِي سَائِرِ الْحُقُوقِ أَنَّهُ يُنَزَّلُ قَابِضًا بِالتَّخْلِيَةِ“ اور اس کے اندر اور باقی حقوق کے اندر جبر کرنے کا معنی یہ ہے کہ آقا جو ہے اس کو قابض کے درجے میں اتار لیا جائے گا خلوت کرنے سے۔ کہ اس شخص کو ہے قبضہ کرنے والے کے درجے میں اتار لیا جائے گا خلوت کرنے سے۔ وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللّٰهُ اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں، امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، مجبور نہیں کیا جائے گا۔ وجہ یہ کہ یہ تعلیق ہے۔ اگر تو نے مجھے ہزار درہم ادا کر دیے تو تو آزاد ہے۔ یہ الفاظ تعلیق والے ہیں عقد کتابت والے نہیں۔ اور آپ جانتے ہیں کتابت کے اندر تو غلام کا قبول کرنا ضروری ہوتا ہے وہ تو آقا اور غلام میں معاہدہ ہوتا ہے، جبکہ تعلیق کے اندر غلام کا قبول کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ یہاں پر بھی غلام کا قبول کرنا ضروری نہیں ہے۔ امام زفر کی دلیل چل رہی ہے وہ کیا فرماتے ہیں؟ کہ یہاں آقا کو عوض لینے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ کیوں نہیں کیا جا سکتا؟ وہ فرماتے ہیں کہ دیکھو یہ تعلیق ہے۔ آپ اس کے الفاظ پر غور کر لیں۔ یہ الفاظ تعلیق والے ہیں عقد کتابت والے نہیں۔ یہ الفاظ تعلیق والے ہیں اسی لیے تو آپ کے نزدیک بھی غلام کا قبول کرنا ضروری نہیں۔ غلام کا قبول کرنا ضروری نہیں ہے۔ اور نیز یہ الفاظ تعلیق والے ہیں اور آپ جانتے ہیں تعلیق اور قسم میں رجوع نہیں ہو سکتا، اس کو فسخ نہیں کیا جا سکتا۔ تو یہاں پر بھی آقا اس کو فسخ نہیں کر سکتا۔ معلوم ہوا یہ تعلیق ہے۔ اور تعلیق کے اندر شرط کے وجود پر کسی کو مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ آقا نے غلام سے کہا کہ یہ کام کر لو تو تم آزاد ہو تو اس کام کے کرنے پر غلام کو مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں پر بھی آقا نے کیا کہا؟ اگر ہزار درہم مجھے ادا کر دو تو تم آزاد ہو۔ تو آقا کو بھی یہ مال لینے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا کیونکہ تعلیق یا قسم کی جو شرط ہوتی ہے اس شرط پر کسی کو مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ وجہ یہ کہ ابھی غلام کا حق ہی نہیں بنا آزادی۔ عقد کتابت کے اندر تو آزادی غلام کا حق بن گیا ہے۔ لہٰذا وہاں تو آقا کو مجبور کریں گے، غلام عوض لے آئے تو آقا کو مجبور کریں گے کہ یہ عوض تمہیں لینا پڑے گا کیونکہ آزادی غلام کا حق ہے۔ جبکہ یہاں تو تعلیق ہے اور تعلیق کے اندر جب تک شرط نہیں ہے تو غلام اس سے پہلے آزادی کا مستحق بھی نہیں ہے۔ جب آزادی کا وہ مستحق نہیں ہے تو آقا کو آقا کو مال لینے پر عوض لینے پر مجبور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ تو کہتے ہیں: وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللّٰهُ اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لَا يُجْبَرُ عَلَى الْقَبُولِ کہ آقا کو مجبور نہیں کیا جائے گا قبول کرنے پر، وَهُوَ الْقِيَاسُ اور یہی قیاس بھی ہے، قیاس بھی یہی تقاضا کرتا ہے کہ شرط کے وجود پر کسی کو مجبور نہیں کیا جا سکتا، وَهُوَ الْقِيَاسُ اور یہی قیاس بھی ہے، لِأَنَّهُ تَصَرُّفُ يَمِينٍ اس لیے کیونکہ یہ تصرف یمین ہے یعنی تعلیق ہے، إِذْ هُوَ تَعْلِيقُ الْعِتْقِ بِالشَّرْطِ لَفْظًا اس لیے کیونکہ یہ شرط کے ساتھ آزادی کو معلق کرنا ہے لفظاً، لفظوں کے اعتبار سے۔ آپ لفظوں میں غور کر لیں: إِنْ أَدَّيْتَ إِلَيَّ أَلْفَ دِرْهَمٍ فَأَنْتَ حُرٌّ، یہ لفظ تعلیق والے ہیں۔ تو کہتے ہیں: إِذْ هُوَ تَعْلِيقُ الْعِتْقِ بِالشَّرْطِ لَفْظًا اس لیے کیونکہ لفظوں کے اعتبار سے یہ شرط کے ساتھ آزادی کو معلق کیا جا رہا ہے، وَلِهٰذَا لَا يَتَوَقَّفُ عَلَى قَبُولِ الْعَبْدِ اور اسی لیے تو یہ غلام کے قبول کرنے پر موقوف نہیں ہے، وَلَا يَحْتَمِلُ الْفَسْخَ اور اسی لیے تو یہ فسخ کا بھی احتمال نہیں رکھتا کیونکہ تعلیق میں فسخ نہیں ہو سکتا اور نہ قبول کی ضرورت ہوتی ہے، وَلَا جَبْرَ عَلَى مُبَاشَرَةِ شُرُوطِ الْأَيْمَانِ مباشرت کا معنی ہے سرانجام دینا۔ وَلَا جَبْرَ عَلَى مُبَاشَرَةِ شُرُوطِ الْأَيْمَانِ اور قسموں کی شرطوں کے سرانجام دینے پر جبر نہیں ہو سکتا، وَلَا جَبْرَ اور جبر نہیں ہو سکتا، عَلَى مُبَاشَرَةِ شُرُوطِ الْأَيْمَانِ قسموں کی شرطوں کے سرانجام دینے پر، لِأَنَّهُ لَا اسْتِحْقَاقَ قَبْلَ وُجُودِ الشَّرْطِ اس لیے کیونکہ کوئی استحقاق نہیں ہوتا شرط کے پائے جانے سے پہلے۔ جب تک شرط نہیں دوسرا شخص کسی چیز کا مستحق نہیں، لہٰذا یہاں جبر نہیں ہو سکتا۔ بِخِلَافِ الْكِتَابَةِ بخلاف عقد کتابت کے، لِأَنَّهُ مُعَاوَضَةٌ کیونکہ کتابت وہ تو عقد معاوضہ ہے، وَالْبَدَلُ فِيهَا وَاجِبٌ اور بدل اس کے اندر واجب ہے۔ جب واجب ہے تو وہاں پر ادائیگی پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ یہ امام زفر کی دلیل چل رہی ہے وہ فرماتے ہیں کہ یہ تعلیق ہے لہٰذا آقا کو مال کے لینے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا جبکہ بدل کتابت میں مجبور کیا جا سکتا ہے۔ اب ہماری دلیل آئے گی۔ ہماری دلیل میں پہلے بھی بیان کر چکا۔ ہم کیا کہتے ہیں جواب میں؟ کہ یہ لفظوں کے اعتبار سے تعلیق ہے، تو ابتداءً یہ تعلیق ہے۔ لیکن انتہاءً دیکھیں آخر میں وہ عوض دے گا تو آزاد ہو جائے گا تو آخر کے اعتبار سے وہ عقد معاوضہ ہے۔ تو آخر کے اعتبار سے یہ کتابت کی طرح ہے، اور کتابت کے اندر تو مال لینے پر عوض لینے پر آقا کو مجبور کیا جاتا ہے تو یہاں بھی مجبور کیا جائے گا۔ وَلَنَا اور ہماری دلیل یہ ہے، أَنَّهُ تَعْلِيقٌ نَظَرًا إِلَى اللَّفْظِ کہ یہ تعلیق ہے لفظوں کی طرف دیکھتے ہوئے، وَمُعَاوَضَةٌ نَظَرًا إِلَى الْمَقْصُودِ اور مقصود کی طرف دیکھتے ہوئے یہ معاوضہ ہے کہ آقا بدل لینا چاہتا ہے آزادی کا، لِأَنَّهُ مَا عَلَّقَ عِتْقَهُ بِالْأَدَاءِ اس لیے کیونکہ آقا نے آزادی کو ادائیگی پر معلق نہیں کیا، إِلَّا لِيَحُثَّهُ عَلَى دَفْعِ الْمَالِ مگر اس لیے کہ تاکہ اس غلام کو ابھارے مال کے حوالے کرنے پر۔ حَثَّ يَحُثُّ ث کے ساتھ کیا معنی ہے؟ ابھارنا۔ پھر دیکھ لیجیے ترجمہ: لِأَنَّهُ مَا عَلَّقَ عِتْقَهُ بِالْأَدَاءِ إِلَّا لِيَحُثَّهُ عَلَى دَفْعِ الْمَالِ اس لیے کیونکہ آقا نے ادائیگی کے ساتھ اس کی آزادی کو معلق نہیں کیا مگر اس لیے کہ تاکہ اس کو مال کے دینے پر ابھارے، فَيَنَالُ الْعَبْدُ شَرَفَ الْحُرِّيَّةِ تو پا لے گا غلام جو ہے آزادی کے اعزاز کو، فَيَنَالُ الْعَبْدُ شَرَفَ الْحُرِّيَّةِ تو غلام جو ہے وہ آزادی کے اعزاز کو حاصل کر لے گا، وَالْمَوْلَى الْمَالَ بِمُقَابَلَتِهِ اور آقا مال کو حاصل کر لے گا اس کے مقابلے میں، بِمَنْزِلَةِ الْكِتَابَةِ کتابت کے درجے میں۔ غلام آزادی حاصل کر لے گا اور آقا مال حاصل کر لے گا اس کے مقابلے میں یعنی یہ کتابت کے درجے میں ہوگا بھئی۔ وَلِهٰذَا كَانَ عِوَضًا فِي الطَّلَاقِ فِي مِثْلِ هٰذَا اللَّفْظِ حَتَّى كَانَ بَائِنًا بھئی دیکھیے، اگر انہی لفظوں کے ساتھ خاوند اپنی بیوی کو طلاق دے، ہماری دلیل چل رہی ہے ہم جواب دے رہے ہیں امام زفر رحمہ اللہ کو۔ ہم کہتے ہیں اگر انہی لفظوں کے ساتھ خاوند اپنی بیوی کو طلاق دے اور یوں کہے: إِنْ أَدَّيْتِ إِلَيَّ أَلْفًا فَأَنْتِ طَالِقٌ، اگر تو مجھے ایک ہزار درہم ادا کر دے تو تجھے طلاق ہے۔ تو بالاتفاق وہ عورت جب ادائیگی کر دے گی تو طلاق بائن ہوگی، کیونکہ میں نے آپ کو بتلایا تھا جب بھی طلاق کے مقابلے میں عوض آ جائے تو وہ طلاق کون سی ہوتی ہے؟ طلاق بائن ہوتی ہے۔ کیونکہ مال دے کر عورت اپنی جان چھڑانا چاہتی ہے خاوند سے، اور طلاق رجعی میں تو خاوند رجوع کر سکتا ہے اس کے اندر تو عورت کی جان نہیں چھوٹتی۔ تو لہٰذا جب مال آئے گا طلاق کے عوض میں تو طلاق ہمیشہ بائن ہوگی۔ تو ان لفظوں کے ساتھ بھی جب خاوند اپنی بیوی کو طلاق دے تو کون سی طلاق ہوگی؟ طلاق بائن۔ معلوم ہوا کہ یہاں بھی معاوضے کا اعتبار ہے۔ تو معلوم ہوا اس طلاق کے مسئلے میں بھی معاوضے کا اعتبار ہے۔ تو جب طلاق کے اندر معاوضے کا اعتبار ہے تو اسی طرح یہاں اس غلام کے مسئلے میں بھی بالکل وہی صورت ہے جب وہ عوض دے رہا ہے اور غلام کو آزادی مل رہی ہے تو یہاں بھی معاوضے کا اعتبار کرنا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں: وَلِهٰذَا كَانَ عِوَضًا فِي الطَّلَاقِ فِي مِثْلِ هٰذَا اللَّفْظِ اور اسی لیے مال جو ہے وہ عوض ہوگا طلاق کے اندر اس جیسے لفظوں میں، حَتَّى كَانَ بَائِنًا یہاں تک کہ طلاق بائن ہوگی، فَجَعَلْنَاهُ تَعْلِيقًا فِي الِابْتِدَاءِ عَمَلًا بِاللَّفْظِ اچھا، میں نے بتلایا آپ کو کہ یہ جو آقا نے کہا إِنْ أَدَّيْتَ إِلَيَّ أَلْفَ دِرْهَمٍ فَأَنْتَ حُرٌّ، اس کے اندر لفظوں کو دیکھیں تو تعلیق ہے، اور انتہا کو دیکھیں تو یہ کتابت کے درجے میں ہے۔ تو ہم نے دونوں کی رعایت کی بھئی، دونوں مشابہتوں پر عمل کیا۔ تعلیق کے ساتھ مشابہت ہے تو تعلیق والا حکم بھی دیا، لہٰذا آقا کے لیے یہ غلام بیچنا جائز ہے۔ جیسے تعلیق کے اندر آقا اپنے غلام سے کہتا ہے: اگر تو اس گھر کے اندر گیا تو تو آزاد ہے۔ آقا نے تعلیق کر دی، غلام جیسے ہی اس گھر میں جائے گا آزاد ہو جائے گا۔ لیکن اس گھر میں جانے سے پہلے ہی آقا بیچنا چاہے تو بیچ سکتا ہے۔ تعلیق کی وجہ سے غلام کی بیع ممتنع نہیں ہوتی بھئی۔ تو یہاں پر بھی ہم نے اس کو تعلیق والا حکم دیا۔ غلام کی بیع ممتنع نہیں ہے، آقا اس غلام کو بیچ سکتا ہے۔ اگر کتابت والا حکم ہم دیتے پھر تو غلام کو بیچنا جائز ہی نہ ہوتا۔ تو انتہا کے اعتبار سے کتابت والا حکم دیا ہم نے کہ آقا کو مجبور کیا جائے گا عوض لینے پر، لیکن ابتداء میں تعلیق والا حکم ہی ہے حتی کہ آقا کے لیے یہ غلام بیچنا جائز ہے۔ فَجَعَلْنَاهُ تَعْلِيقًا فِي الِابْتِدَاءِ عَمَلًا بِاللَّفْظِ تو ہم نے اس کو تعلیق قرار دیا ابتداء کے اندر لفظ پر عمل کرتے ہوئے، وَدَفْعًا لِلضَّرَرِ عَنِ الْمَوْلَى اور آقا سے نقصان کو دور کرنے کے لیے، حَتَّى لَا يَمْتَنِعُ عَلَيْهِ بَيْعُهُ یہاں تک کہ آقا پر اس غلام کا بیچنا ممتنع نہیں ہوگا، حَتَّى لَا يَمْتَنِعُ یہاں پر بھی رفع پڑھیں بھئی، کیونکہ یہ ماقبل کی طرف دیکھتے ہوئے مستقبل نہیں ہے بھئی۔ حَتَّى لَا يَمْتَنِعُ عَلَيْهِ بَيْعُهُ یہاں تک کہ آقا پر اس غلام کی بیع ممتنع نہیں ہوگی، وَلَا يَكُونُ الْعَبْدُ أَحَقَّ بِمَكَاسِبِهِ اور غلام بھی اپنی کمائیوں کا زیادہ حقدار نہیں ہوگا، یہ عبد ماذون بن گیا۔ لیکن عبد ماذون اس کو صرف تجارت کی اجازت ملی ہے وہ کوئی اپنی کمائی کا زیادہ حقدار نہیں، وہ جو کچھ کما رہا ہے آقا کا ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں مکاتب جو ہے وہ اپنی کمائی کا خود زیادہ حقدار ہے، وہ جو کچھ کما رہا ہے اپنے لیے کما رہا ہے وہ ادائیگی کرے گا اور آزاد ہو جائے گا۔ لیکن ہم نے اس غلام کو مکاتب کا درجہ نہیں دیا، جب نہیں دیا تو یہ اپنی کمائی کا زیادہ حقدار نہیں ہے بھئی۔ یہ معنی ہے: وَلَا يَكُونُ الْعَبْدُ أَحَقَّ بِمَكَاسِبِهِ اور یہ غلام اپنی کمائیوں کا زیادہ حقدار نہیں ہوگا، وَلَا يَسْرِي إِلَى الْوَلَدِ الْمَوْلُودِ قَبْلَ الْأَدَاءِ اور یہ سرایت نہیں کرے گا اس بچے کی طرف جو پیدا ہو جائے ادائیگی سے پہلے۔ صورت یہ: آقا نے اپنی باندی سے کہا: إِنْ أَدَّيْتِ إِلَيَّ أَلْفًا فَأَنْتِ حُرَّةٌ، اگر تو نے مجھے ایک ہزار درہم ادا کر دیے تو تو آزاد ہے۔ تو ہم نے اس کو مکاتبہ نہیں بنایا۔ اگر مکاتبہ بناتے تو آپ نے پڑھا ہے کہ اصول اور فروع وہ بھی عقد کتابت میں داخل ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا اگر اس کو ہم مکاتبہ بناتے اور آزادی سے پہلے یہ ایک بچے کو جنم دے دیتی تو وہ بچہ بھی عقد کتابت میں داخل ہوتا، اور باندی جب پوری ادائیگی کر دیتی تو خود بھی آزاد ہوتی اور بچہ بھی آزاد۔ لیکن ہم نے اس کو کتابت والا حکم نہیں دیا۔ لہٰذا باندی یہ جو آقا نے جس باندی کو کیا کہا ہے: اگر تو نے ایک ہزار درہم ادا کر دیے تو تو آزاد ہے، تو ہم کہیں گے یہ صرف تعلیق ہے۔ تو بعد میں اب باندی نے ایک بچے کو جنم دیا اور اس کے بعد پھر باندی نے ادائیگی کی تو صرف باندی آزاد ہوگی اس کا بچہ آزاد نہیں ہوگا کیونکہ ہم نے اس کو کتابت والا حکم نہیں دیا۔ یہ معنی ہے: وَلَا يَسْرِي إِلَى الْوَلَدِ الْمَوْلُودِ قَبْلَ الْأَدَاءِ اور یہ جو تعلیق ہے یہ سرایت نہیں کرے گی اس بچے کی طرف جو پیدا ہوا ہے ادائیگی سے پہلے، وَجَعَلْنَاهُ مُعَاوَضَةً فِي الِانْتِهَاءِ عِنْدَ الْأَدَاءِ اور ہم نے اس قول کو معاوضہ قرار دیا انتہا میں ادائیگی کے وقت کہ یہ معاوضہ ہے، دَفْعًا لِلْغُرُورِ عَنِ الْعَبْدِ غلام سے دھوکے کو دور کرنے کے لیے۔ غلام سے دھوکے کو دور کرنے کے لیے جب غلام ادائیگی کر رہا ہے تو ہم نے اس کو معاوضہ قرار دیا۔ اور معاوضے کے لینے پر تو دوسرے کو مجبور کیا جا سکتا ہے۔ یہاں پر بھی غلام نے محنت کی ہے مشقت اٹھائی ہے مال کمایا ہے اپنی آزادی کے لیے، تو لہٰذا اگر ایسا ہم نہیں کریں گے پھر تو غلام بے چارے کے ساتھ دھوکا ہو گیا بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی۔ تو کہتے ہیں: دَفْعًا لِلْغُرُورِ عَنِ الْعَبْدِ غلام سے دھوکے کو دور کرنے کے لیے، حَتَّى يُجْبَرُ الْمَوْلَى عَلَى الْقَبُولِ یہاں پر بھی حتّٰی کے بعد يُجْبَرُ ہی پڑھیں گے بھئی کیونکہ حتّٰی کا مابعد ماقبل کی طرف نسبت کرتے ہوئے یہاں مستقبل نہیں ہے۔ حَتَّى يُجْبَرُ الْمَوْلَى عَلَى الْقَبُولِ یہاں تک کہ آقا کو بھی مجبور کیا جائے گا اس کے قبول کرنے پر۔ آخر کے اعتبار سے یہ کیا ہے؟ معاوضہ، اور معاوضے میں دوسرے شخص کو عوض لینے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: حَتَّى يُجْبَرُ الْمَوْلَى عَلَى الْقَبُولِ یہاں تک کہ آقا کو مجبور کیا جائے گا اس کے قبول کرنے پر، فَعَلَى هٰذَا يَدُورُ الْفِقْهُ اسی پر مدار ہے فقہ کا۔ اسی پر مدار ہے فقہ کا یعنی فقہی مسائل کا مدار اسی پر ہے، ایک چیز کی جب دو مشابہتیں ہوں ابتداءً ایک چیز سے مشابہت ہو انتہاءً دوسری چیز سے مشابہت ہو تو دونوں کا لحاظ رکھا جائے گا۔ بات سمجھ میں آگئی۔ یہ معنی ہے: فَعَلَى هٰذَا يَدُورُ الْفِقْهُ اسی پر فقہ کا مدار ہے یعنی فقہی مسائل کا مدار ہے، وَتُخَرَّجُ الْمَسَائِلُ اور اسی پر مسائل نکالے جائیں گے، یعنی ایک مسئلے کی جب مشابہت دو چیزوں سے ہے تو دونوں مشابہتوں پر عمل کیا جائے گا۔ نَظِيرُهُ الْهِبَةُ بِشَرْطِ الْعِوَضِ اور اس کی نظیر جو ہے عوض کی شرط پر ہبہ ہے۔ ایک آدمی دوسرے کو تحفہ دیتا ہے اس کو ہبہ کہتے ہیں، لیکن بعض اوقات ہبہ کے اندر عوض کی شرط لگا دی جاتی ہے۔ ایک آدمی آپ کے پاس گاڑی لے آیا کہ یہ گاڑی میں نے آپ کو تحفے کے طور پر دے دی، لیکن شرط یہ ہے کہ یہ جو آپ کی جیب پر قلم لگا ہوا ہے یہ بدلے میں آپ مجھے دے دیں۔ تو دیکھو، یہاں پر لفظوں کے اعتبار سے دیکھیں تو یہ ہبہ ہے وہ تحفہ دے رہا ہے، اور تحفے کے اندر رجوع ہو سکتا ہے، اور تحفے پر جب تک قبضہ نہ کیا جائے دوسرا اس کا مالک بھی نہیں بنتا۔ لہٰذا صرف یہ کہنے کی وجہ سے آپ اس گاڑی کے ابھی مالک نہیں بنے۔ ہاں، جب اس نے گاڑی آپ کے حوالے کر دی آپ گاڑی کے مالک بن گئے، اور پھر جب آپ نے اپنا قلم اتار کر اس کو دے دیا تو قلم لیتے ہی اب یہ بیع کے درجے میں ہو گیا۔ یہ بیع اور بیع کے اندر تو رجوع نہیں ہو سکتا، تو یہاں پر بھی اب رجوع نہیں ہو سکتا بھئی۔ تو یہاں دونوں مشابہتوں پر عمل کیا گیا بھئی۔ تو کہتے ہیں: نَظِيرُهُ الْهِبَةُ بِشَرْطِ الْعِوَضِ اس کی نظیر جو ہے وہ ہبہ ہے جو عوض کی شرط پر ہو۔ وَلَوْ أَدَّى الْبَعْضَ يُجْبَرُ عَلَى الْقَبُولِ اچھا بھئی، غلام سارا عوض نہیں لے کر آیا کچھ عوض لے کر آ گیا تو کیا اس کچھ عوض کے لینے پر بھی مجبور کیا جائے گا آقا کو؟ کہتے ہیں ہاں، کچھ عوض لے آئے تب بھی آقا کو مجبور کیا جائے گا اس کے لینے پر۔ ہاں، البتہ غلام نہیں آزاد ہوگا کیونکہ غلام کی آزادی تو معلق ہے پوری ادائیگی کے ساتھ، تو جب تک پوری ادائیگی نہیں ہوگی غلام آزاد نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ أَدَّى الْبَعْضَ اور اگر غلام نے بعض مال ادا کر دیا، يُجْبَرُ عَلَى الْقَبُولِ تو آقا کو مجبور کیا جائے گا اس کے قبول کرنے پر، إِلَّا أَنَّهُ لَا يَعْتِقُ مَا لَمْ يُؤَدِّ الْكُلَّ مگر یہ کہ غلام آزاد نہیں ہوگا جب تک وہ سارا مال ادا نہ کر دے، لِعَدَمِ الشَّرْطِ شرط نہ ہونے کی وجہ سے۔ کیونکہ کچھ مال ادا کیا ہے تو ابھی شرط پوری نہیں۔ شرط پوری کب ہوگی؟ جب سارا مال ادا کر دے گا۔ كَمَا إِذَا حَطَّ الْبَعْضَ وَأَدَّى الْبَاقِيَ حَطَّ يَحُطُّ کا معنی ہے کمی کرنا۔ كَمَا إِذَا حَطَّ الْبَعْضَ جیسے آقا نے بعض مال کے اندر کمی کر دی، وَأَدَّى الْبَاقِيَ اور غلام نے باقی کا مال ادا کر دیا۔ صورت یہ: آقا نے غلام سے کہا تھا اگر تم نے ایک ہزار درہم ادا کر دیے تو تم آزاد ہو۔ اور بعد میں پھر آقا کہتا ہے چلو اچھا ہزار ادا نہ کرو یوں کرو مجھے پانچ سو ادا کر دو، تو آقا نے پانچ سو کمی کر دی۔ تو اب غلام پانچ سو لے آیا تو اس میں بھی آقا کو لینے پر مجبور کیا جائے گا۔ البتہ غلام آزاد نہیں ہوگا کیونکہ شرط نہیں پائی گئی۔ شرط تو کیا تھی؟ ہزار ادا کرے گا تو تب آزاد ہوگا۔ تو یہ معنی ہے: كَمَا إِذَا حَطَّ الْبَعْضَ وَأَدَّى الْبَاقِيَ جیسے آقا نے بعض مال میں کمی کر دی اور غلام نے باقی کا مال ادا کر دیا تو اس صورت میں غلام آزاد نہیں ہوگا۔ ثُمَّ لَوْ أَدَّى أَلْفًا اكْتَسَبَهَا قَبْلَ التَّعْلِيقِ صورت مسئلہ یہ کہ غلام جو ہے، غلام کو آقا نے پہلے سے ہی تجارت کی اجازت دی ہوئی تھی، غلام پہلے سے ہی کمائی کر رہا تھا لیکن اس نے کچھ پیسے چھپا کر رکھے تھے آقا کے حوالے نہیں کیے تھے۔ اگرچہ عبد ماذون کے پاس سارا مال آقا کا ہوتا ہے لیکن اس نے کچھ پیسے چھپا کر رکھے تھے۔ آقا نے اس سے کہا بعد میں کہ اگر تم مجھے ایک ہزار درہم ادا کر دو تو تم آزاد ہو، وہی پیسے غلام نے نکالے اور آقا کو دے دیے۔ تو کہتے ہیں اس صورت میں ادائیگی کرتے ہی غلام آزاد ہو جائے گا کیونکہ شرط پائی گئی۔ اگرچہ یہ مال آقا کا ہے لیکن ادائیگی تو پائی گئی، جب ادائیگی پائی گئی تو غلام آزاد ہو گیا۔ البتہ البتہ آقا اب غلام پر رجوع کرے گا کہ مجھے ہزار درہم ادا کرو۔ وہ مال تو تھا ہی آقا کا جو پہلے دیا بھئی، لہٰذا یہ جو پہلے سے کمایا ہوا تھا اس کی ادائیگی سے بھی غلام تو آزاد ہو جائے گا لیکن آقا غلام پر رجوع کر سکتا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جبکہ اس کے مقابلے میں اگر آقا کے کہنے کے بعد غلام نے ہزار درہم کمائے اور ادا کر دیے تو پھر اس صورت میں آقا غلام پر رجوع نہیں کر سکتا کیونکہ یہ مال جو اس نے کمایا ہے یہ اس نے اپنی آزادی کے لیے کمایا ہے بعد میں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ثُمَّ لَوْ أَدَّى أَلْفًا اكْتَسَبَهَا قَبْلَ التَّعْلِيقِ پھر اگر غلام نے ادا کر دیا ایسا ایک ہزار، دیکھو أَلْفًا نکرہ ہے اور اكْتَسَبَهَا اس کے بعد فعل آیا، اور نکرہ کے بعد فعل آئے تو وہ اس کی صفت بنتا ہے، اور موصوف صفت کا ترجمہ کیسے کرتے ہیں؟ موصوف سے پہلے ایسا یا ایسی کا لفظ لاتے ہیں۔ کہتے ہیں: ثُمَّ لَوْ أَدَّى أَلْفًا اكْتَسَبَهَا قَبْلَ التَّعْلِيقِ اور پھر اگر غلام نے ایسا ہزار ادا کر دیا جسے اس نے تعلیق سے پہلے کمایا تھا، رَجَعَ الْمَوْلَى عَلَيْهِ تو آقا غلام پر رجوع کرے گا، وَعَتَقَ اور غلام آزاد ہو جائے گا، لِاسْتِحْقَاقِهَا اس ہزار کا مستحق ہونے کی وجہ سے۔ یہ لِاسْتِحْقَاقِهَا اس کا تعلق ہے رَجَعَ الْمَوْلَى عَلَيْهِ، یہ علت ہے۔ آقا غلام پر کیوں رجوع کرے گا؟ کیونکہ آقا ہزار کا مستحق ہے غلام پر، اور یہ تو آقا ہی کا مال اس نے اٹھا کر آقا کو دیا ہے۔ تو آقا غلام پر ہزار درہم کا مستحق ہے لہٰذا آقا اس پر رجوع کرے گا۔ تو یہ لِاسْتِحْقَاقِهَا یہ علت ہے کس چیز کی؟ رَجَعَ الْمَوْلَى، آقا رجوع کر سکتا ہے غلام پر۔ کیوں؟ کیونکہ آقا غلام پر ہزار درہم کا مستحق ہے۔ تو کہتے ہیں: رَجَعَ الْمَوْلَى عَلَيْهِ وَعَتَقَ لِاسْتِحْقَاقِهَا آقا جو ہے غلام پر رجوع کر سکتا ہے اس وجہ سے کہ آقا ہزار کا مستحق ہے، اور غلام آزاد ہو جائے گا، وَلَوْ كَانَ اكْتَسَبَهَا بَعْدَهُ لَمْ يَرْجِعِ الْمَوْلَى عَلَيْهِ وَلَوْ كَانَ اكْتَسَبَهَا بَعْدَهُ اور اگر غلام نے ہزار درہم کمائے ہیں تعلیق کے بعد، لَمْ يَرْجِعِ الْمَوْلَى عَلَيْهِ تو آقا اس پر رجوع نہیں کر سکتا، لِأَنَّهُ مَأْذُونٌ مِنْ جِهَتِهِ بِالْأَدَاءِ مِنْهُ اس لیے کیونکہ غلام جو ہے وہ ماذون ہے آقا کی جانب سے اس غلام کی طرف ادائیگی کی وجہ سے۔ غلام کی طرف سے ادائیگی کی وجہ سے غلام عبد ماذون ہے اس کو تجارت کی اجازت ہے۔ جب وہ عبد ماذون ہے تو اب آقا اس پر رجوع نہیں کر سکتا۔ یہ معنی ہے: لِأَنَّهُ مَأْذُونٌ مِنْ جِهَتِهِ بِالْأَدَاءِ مِنْهُ اس لیے کیونکہ غلام جو ہے آقا کی جانب سے ماذون ہے اس غلام کی طرف سے ادائیگی کی وجہ سے۔ ثُمَّ الْأَدَاءُ فِي قَوْلِهِ بھئی میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر آقا نے إِنْ کا لفظ استعمال کیا تو یہ اختیار دے رہا ہے اور اختیار مجلس تک رہتا ہے۔ میں نے آپ سے کہا یہ کتاب میں نے آپ کو ہزار روپے میں بیچ دی تو میں گویا آپ کو اختیار دے رہا ہوں اس کے خریدنے کا، تو مجلس کے اندر آپ قبول کر سکتے ہیں اور مجلس کے بعد آپ قبول نہیں کر سکتے۔ تو کہتے ہیں: ثُمَّ الْأَدَاءُ فِي قَوْلِهِ إِنْ أَدَّيْتَ کہتے ہیں پھر ادا جو ہے آقا کے اس قول إِنْ أَدَّيْتَ کے اندر، يَقْتَصِرُ عَلَى الْمَجْلِسِ وہ اسی مجلس پر بند رہے گی، اسی مجلس ہی میں غلام ادا کر سکتا ہے بعد میں نہیں۔ اگر إِنْ أَدَّيْتَ کہا یعنی إِنْ کا لفظ آقا نے استعمال کیا۔ لِأَنَّهُ تَخْيِيرٌ اس لیے کیونکہ یہ اختیار دینا ہے، وَفِي قَوْلِهِ إِذَا أَدَّيْتَ اور آقا کے قول إِذَا أَدَّيْتَ کے اندر یعنی إِنْ کے بجائے اگر آقا إِذَا استعمال کرے، لَا يَقْتَصِرُ تو یہ مجلس پر بند نہیں ہے، بعد میں بھی غلام ادائیگی کر کے آزاد ہو سکتا ہے۔ لِأَنَّ إِذَا تُسْتَعْمَلُ لِلْوَقْتِ بِمَنْزِلَةِ مَتَى اس لیے کیونکہ إِذَا جو ہے وہ وقت کے لیے استعمال ہوتا ہے مَتَى کے درجے میں۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے: وَمَنْ قَالَ لِعَبْدِهِ أَنْتَ حُرٌّ بَعْدَ مَوْتِي عَلَى أَلْفِ دِرْهَمٍ فَالْقَبُولُ بَعْدَ الْمَوْتِ صورت مسئلہ یہ: آقا نے غلام سے کہا کہ تو میرے مرنے کے بعد ایک ہزار درہم کی شرط پر آزاد ہے۔ تو میرے مرنے کے بعد ایک ہزار درہم کی شرط پر یا ایک ہزار درہم کے عوض پر آزاد ہے۔ تو یہ آزادی کب آئے گی؟ موت کے بعد، تو قبول بھی موت کے بعد چاہیے۔ قبول بھی موت کے بعد چاہیے۔ تو کہتے ہیں: وَمَنْ قَالَ لِعَبْدِهِ اور جس شخص نے اپنے غلام سے کہا: أَنْتَ حُرٌّ بَعْدَ مَوْتِي عَلَى أَلْفِ دِرْهَمٍ کہ تو آزاد ہے میری موت کے بعد ایک ہزار درہم پر، فَالْقَبُولُ بَعْدَ الْمَوْتِ تو قبول موت کے بعد ہوگا، یعنی موت کے بعد قبول کر سکتا ہے ابھی قبول کرے اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ اور آگے چل کر صاحب ہدایہ یہ بھی بتلائیں گے کہ موت کے بعد بھی قبول کرے گا تو آزاد نہیں ہوگا۔ کیونکہ آقا نے ایک ہزار درہم کی شرط لگائی ہے تو موت کے بعد یہ قبول بھی کر لے پھر بھی آزاد نہیں۔ کیوں؟ کیونکہ موت کے بعد تو یہ جو قائل تھا یہ تو مر چکا ہے، اب تو اس میں اعتاق کی اہلیت ہی نہیں ہے، یہ غلام تو وارثوں کی طرف منتقل ہو چکا ہے تو اب معتق میں اعتاق کی اہلیت ہی نہ رہی وہ مر چکا ہے۔ تو لہٰذا اب وارث کا قبول کرنا اور وارث کا آزاد کرنا ضروری ہے بھئی کہ وہ مال قبول کر لے اور آزاد کرے۔ تو کہتے ہیں: فَالْقَبُولُ بَعْدَ الْمَوْتِ تو قبول کرنا موت کے بعد ہوگا، لِإِضَافَةِ الْإِيجَابِ إِلَى مَا بَعْدَ الْمَوْتِ اس لیے کیونکہ اثبات عتق کی نسبت کی گئی ہے موت کے بعد کی طرف، فَصَارَ كَمَا إِذَا قَالَ تو یہ اسی طرح ہو گیا جیسے آقا نے یہ کہا: أَنْتَ حُرٌّ غَدًا عَلَى أَلْفِ دِرْهَمٍ بھئی آقا نے اپنے غلام سے کہا: أَنْتَ حُرٌّ غَدًا عَلَى أَلْفِ دِرْهَمٍ، تو کل آزاد ہے ایک ہزار درہم کی شرط پر۔ تو آزادی کب آئے گی؟ کل، تو قبول کرنا بھی کل ہی ہوگا۔ اگلے دن غلام کہے مجھے قبول ہے تو ساتھ ہی آزاد ہو جائے گا اور اس کے ذمے ایک ہزار درہم دین ہو جائیں گے۔ تو کہتے ہیں: فَصَارَ كَمَا إِذَا قَالَ تو یہ ایسے ہی ہو گیا جیسے آقا نے کہا: أَنْتَ حُرٌّ غَدًا عَلَى أَلْفِ دِرْهَمٍ کہ تو آزاد ہے کل ایک ہزار درہم کی شرط پر، بِخِلَافِ مَا إِذَا قَالَ بخلاف اس کے کہ جب آقا نے غلام سے کہا: أَنْتَ مُدَبَّرٌ عَلَى أَلْفِ دِرْهَمٍ کہ تو مدبر ہے ایک ہزار درہم کی شرط پر یا ایک ہزار درہم کے عوض پر۔ تو اس صورت میں کہتے ہیں فی الحال قبول کرنا ضروری ہے۔ فی الحال قبول کیونکہ فی الحال مدبر بنا رہا ہے، ہاں آزاد کب ہونا ہے؟ موت کے بعد۔ توجہ ہے؟ تو فی الحال آزاد نہیں ہوگا بھئی۔ وہاں پر پچھلے مسئلے میں اسی قبول کے وقت ہی آزادی آ رہی تھی اور یہاں پر صرف مدبر بنانے کو وہ قبول کر رہا ہے کہ مجھے قبول ہے مدبر بننا، تو وہ قبول اسی وقت ہوگا البتہ آزاد موت کے بعد ہوگا اور پیسے بھی اسی وقت ادا کرے گا یعنی وارثوں کو لا کر دے گا بھئی۔ کہتے ہیں: بِخِلَافِ مَا إِذَا قَالَ بخلاف اس کے جب آقا نے کہا: أَنْتَ مُدَبَّرٌ عَلَى أَلْفِ دِرْهَمٍ تو مدبر ہے ایک ہزار درہم کے عوض پر، حَيْثُ يَكُونُ الْقَبُولُ إِلَيْهِ فِي الْحَالِ کیونکہ یہاں پر قبول کرنا غلام کے حوالے ہوگا فی الحال ہی، فی الحال ہی وہ قبول کرے، لِأَنَّ إِيجَابَ التَّدْبِيرِ فِي الْحَالِ اس لیے کیونکہ تدبیر کا اثبات جو ہے فی الحال ہے، فی الحال اس کو مدبر بنایا جا رہا ہے، إِلَّا أَنَّهُ لَا يَجِبُ الْمَالُ مگر یہ کہ مال واجب نہیں ہوگا، کیونکہ یہ غلام ہے اور غلام پر مال کو واجب نہیں کیا جا سکتا، صرف مکاتب میں ہوتا ہے اور وہ بھی خلاف القیاس ہے۔ تو کہتے ہیں: إِلَّا أَنَّهُ لَا يَجِبُ الْمَالُ مگر یہ کہ مال واجب نہیں ہوگا، لِقِيَامِ الرِّقِّ غلامی کے موجود ہونے کی وجہ سے۔ غلامی موجود ہے کیونکہ یہ ابھی آزاد نہیں ہے یہ آزادی کا مستحق ہوا ہے آزاد ابھی نہیں ہوا لہٰذا مال بھی ابھی لازم نہیں ہے۔ قَالُوا فقہاء فرماتے ہیں، اب وہی متن والا مسئلہ: آقا نے غلام سے کیا کہا کہ تو میرے مرنے کے بعد ایک ہزار درہم کی شرط پر آزاد ہے تو کہتے ہیں مرنے کے بعد قبول چاہیے کیونکہ موت کے بعد کی طرف نسبت ہے۔ لیکن میں نے آپ کو بتلایا مرنے کے بعد بھی آزاد نہیں ہوگا کیونکہ معتق مر چکا ہے، اس وقت أَنْتَ حُرٌّ آ رہا ہے لیکن اس وقت تو معتق میں صلاحیت ہی نہیں ہے اعتاق کی۔ تو کہتے ہیں: قَالُوا فقہاء فرماتے ہیں: لَا يَعْتِقُ عَلَيْهِ فِي مَسْأَلَةِ الْكِتَابِ لَا يَعْتِقُ کہ غلام آزاد نہیں ہوگا، عَلَيْهِ اپنے آقا پر، فِي مَسْأَلَةِ الْكِتَابِ کتاب کے مسئلے میں یعنی جو متن میں آیا، وَإِنْ قَبِلَ بَعْدَ الْمَوْتِ اگرچہ غلام اس کو قبول کر لے موت کے بعد پھر بھی آزاد نہیں ہوگا، مَا لَمْ يُعْتِقْهُ الْوَارِثُ جب تک اس کو وارث آزاد نہ کر دے، لِأَنَّ الْمَيِّتَ لَيْسَ بِأَهْلٍ لِلْإِعْتَاقِ اس لیے کیونکہ میت جو ہے وہ اعتاق کی اہل نہیں ہوتی، وَهٰذَا صَحِيحٌ اور یہ صحیح ہے۔ فقہاء نے یوں فرمایا ہے اور فقہاء کا یہ قول صحیح ہے صاحب ہدایہ فرما رہے ہیں۔ آگے دیکھیے: قَالَ: وَمَنْ أَعْتَقَ عَبْدَهُ عَلَى خِدْمَتِهِ أَرْبَعَ سِنِينَ فَقَبِلَ الْعَبْدُ عَتَقَ ثُمَّ مَاتَ مِنْ سَاعَتِهِ صورت مسئلہ یہ: آقا نے اپنے غلام سے کہا کہ تم میری چار سال خدمت کرو تو تم آزاد ہو۔ غلام نے اس کو قبول کر لیا تو قبول کرتے ہی غلام آزاد ہو جائے گا۔ آقا نے کیا کہا کہ اگر تم میری چار سال خدمت کرو تو تم آزاد ہو، غلام نے قبول کر لیا یاد رکھو قبول کرتے ہی غلام آزاد ہو گیا۔ اب اس غلام کے ذمے چار سال کی خدمت ہے۔ لیکن غلام بعد میں خدمت سے پہلے ہی مر گیا، یا آقا جو ہے وہ خدمت لینے سے پہلے ہی مر گیا۔ تو اس صورت میں یاد رکھو شیخین اور امام محمد رحمہم اللہ کا آپس میں اختلاف ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غلام کی چار سال کی جو خدمت ہے اس کی قیمت لگائی جائے گی، اگر غلام یہ مال چھوڑ کر مرا ہے مثلاً آزاد ہونے کے بعد کسی نے اس کو مال دے دیا تھا اور غلام کا انتقال ہو گیا تو یہ اس مال کے ذریعے ادائیگی کی جائے گی اس آقا کو۔ اس آقا کو، تو لہٰذا اس مال کے ذریعے آقا کو ادائیگی کی جائے گی۔ اور میں نے بتایا چاہے آقا مرے تب بھی یہی مسئلہ ہے اور غلام مرے تب بھی یہی ہے۔ اگر غلام مر گیا اور اس نے اتنا مال چھوڑا ہے مثلاً کسی نے اس کو آزاد ہونے کے بعد مال وغیرہ دے دیا تھا تو اس مال کے ذریعے آقا کو ادائیگی کر دیں گے چار سال کی خدمت کا جو عوض بنتا ہے وہ آقا کو دے دیا جائے گا۔ اور اگر آقا پہلے مر گیا تو پھر اس صورت میں غلام جو ہے وہ مال اس آقا کے وارثوں کو ادا کرے گا، یا تو اگر کسی نے دے دیا ہے تو اسی میں سے دے دے گا اور اگر کسی نے غلام کو نہیں دیا تو وہ پیسے کمائے گا اور کما کر لا کر ان وارثوں کو ادا کرے گا۔ تو یہ تو تھا امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک۔ کیا صورت ہوئی امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک؟ اگر غلام یا آقا میں سے کوئی پہلے مر گیا تو پھر اس خدمت وہ جو آزادی کا عوض طے ہوا تھا اس کی قیمت لگائی جائے گی اور وہ ادائیگی کی جائے گی۔ جبکہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں پر غلام اپنی قیمت جو ہے وہ ادا کرے گا۔ وہ جو خدمت کی قیمت ہے وہ قیمت نہیں لگائی جائے گی، غلام کی قیمت لگائی جائے گی اور غلام اپنی قیمت ادا کرے گا۔ بات سمجھ میں آگئی تو کیا فرق ہوا؟ آقا نے غلام سے کہا اگر تم چار سال میری خدمت کرو تو تم آزاد ہو، غلام نے قبول کر لیا قبول کرتے ہی غلام آزاد ہو گیا۔ پھر ان دونوں میں سے کسی ایک کا انتقال ہو گیا۔ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ جو بدل طے ہوا تھا غلام کی آزادی کا یعنی وہ جو چار سال کی خدمت ہے اس کی قیمت لگائی جائے گی اور وہ ادائیگی کرنا پڑے گی۔ وجہ یہ کہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں ایک طرف غلام کی خدمت ہے تو دوسری طرف غلام کو آزادی ملی، غلام کی خدمت تو مال ہے اور آزادی تو غیر مال ہے۔ لہٰذا یہاں پر آزادی تو غلام کو مل گئی اور یہاں پر غلام نے کیا دینا تھا؟ چار سال کی خدمت، لیکن چار سال کی خدمت تو متعذر ہو گئی اب ادا نہیں ہو سکتی کیونکہ یا تو غلام مر گیا ہے یا آقا مر گیا ہے، تو جب بدل کی ادائیگی متعذر ہو گئی تو پھر لہٰذا اس صورت میں اس بدل کی قیمت اب دینا پڑے گی۔ جبکہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں پر ایک طرف سے غلام کی خدمت ہے تو دوسری طرف یہ خدمت جو ہے یہ آزادی کا عوض نہیں ہے بلکہ یہ خدمت عوض ہے غلام کی ذات کا۔ یہ خدمت عوض ہے غلام کی ذات کا، اور غلام کی ذات بھی مال اور خدمت بھی مال تو دونوں طرف مال ہے۔ لہٰذا جب خدمت متعذر ہو گئی غلام کا یا آقا کا انتقال ہو گیا، جب خدمت متعذر ہو گئی یعنی بدل متعذر ہوا تو مبدل واپس کیا جائے گا۔ مبدل واپس کیا جائے گا، اور مبدل یعنی غلام تو واپس غلام نہیں بن سکتا بھئی تو پھر اس کی قیمت دینا پڑے گی اس کو بھئی۔ فرق سمجھ میں آیا؟ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک یہ مال کا عوض ہے غیر مال کے ساتھ، ایک طرف مال ہے یعنی غلام کی خدمت اور دوسری طرف آزادی ہے۔ آزادی، توجہ سے سمجھ لو یہ فرق کو آپ سمجھیں گے تو مسئلہ سمجھ میں آ جائے گا۔ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک یہاں پر ایک طرف خدمت ہے اور دوسری طرف آزادی ہے اور آزادی تو غیر مال ہے اور خدمت تو مال ہے تو مال کا عوض غیر مال کے ساتھ ہے۔ مال ہے۔ جبکہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک ایک طرف خدمت ہے تو دوسری طرف آزادی نہیں ہے، غلام کی ذات ہے، اور غلام کی ذات بھی مال ہے۔ تو بدل بھی مال اور مبدل بھی مال۔ جب بدل دینا ممکن نہ رہا یعنی خدمت ممکن نہ رہی، تو مبدل واپس کرنا چاہیے۔ اور مبدل تو واپس ہو نہیں سکتا، غلام تو دوبارہ غلام نہیں بن سکتا، لہٰذا اس مبدل یعنی غلام کی ذات کی قیمت دینا پڑے گی۔ فرق سمجھ میں آیا؟ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک اس بدل کی قیمت دینا پڑے گی، اور شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک مبدل یعنی غلام کی ذات کی قیمت دینا پڑے گی۔ قَالَ: امام محمد رحمہ اللہ جامع صغیر میں فرماتے ہیں: ”وَمَنْ أَعْتَقَ عَبْدَهُ عَلَى خِدْمَتِهِ أَرْبَعَ سِنِينَ“ اور جس نے اپنے غلام کو آزاد کیا چار سال کی خدمت کی شرط پر، ”فَقَبِلَ الْعَبْدُ“ تو غلام نے قبول کر لیا، ”عَتَقَ“ غلام آزاد ہو گیا، فوراً ہی آزاد ہو گیا۔ ”ثُمَّ مَاتَ مِنْ سَاعَتِهِ“ پھر غلام اسی گھڑی مر گیا، یعنی خدمت سے پہلے مر گیا۔ اور آپ کو صاحبِ ہدایہ آگے بتلائیں گے، چاہے غلام مرے تب بھی یہی حکم، چاہے آقا مرے تب بھی یہی حکم ہے۔ تو کہتے ہیں: ”ثُمَّ مَاتَ مِنْ سَاعَتِهِ“ پھر وہ غلام اسی گھڑی مر گیا، ”فَعَلَيْهِ قِيمَةُ نَفْسِهِ فِي مَالِهِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ“ ”فَعَلَيْهِ قِيمَةُ نَفْسِهِ“ تو اس غلام پر اس کی ذات کی قیمت واجب ہے ”فِي مَالِهِ“ اس کے اپنے مال میں، اس کے اپنے مال میں اگر اس نے کوئی مال چھوڑا ہے۔ ”عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ“ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک۔ ”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ: قِيمَةُ خِدْمَتِهِ أَرْبَعَ سِنِينَ“ کہ اس غلام پر جو ہے چار سال کی خدمت کی قیمت واجب ہے۔ ”أَمَّا الْعِتْقُ“ آزادی، بھئی انہوں نے بتایا غلام قبول کرتے ہی آزاد ہو جائے گا، اس کی کیا وجہ ہے؟ اب وہ وجہ بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”أَمَّا الْعِتْقُ“ تو آزادی جو ہے غلام کی، ”فَلِأَنَّهُ جَعَلَ الْخِدْمَةَ فِي مُدَّةٍ مَعْلُومَةٍ عِوَضًا“ اس لیے کیونکہ آقا نے ایک معلوم مدت کی خدمت جو ہے اس کو عوض قرار دیا، ”فَيَتَعَلَّقُ الْعِتْقُ بِالْقَبُولِ“ تو آزادی کا تعلق قبول کرنے سے ہو گا، ”وَقَدْ وُجِدَ“ اور قبول کرنا تو پایا گیا، ”وَلَزِمَتْهُ خِدْمَةُ أَرْبَعِ سِنِينَ“ اور غلام پر چار سال کی خدمت لازم ہو گی، ”لِأَنَّهُ يَصْلُحُ عِوَضًا“ اس لیے کیونکہ یہ خدمت عوض بننے کی صلاحیت رکھتی ہے، ”فَصَارَ كَمَا إِذَا أَعْتَقَهُ عَلَى أَلْفِ دِرْهَمٍ“ تو یہ ایسے ہی ہو گیا جیسے کہ آقا نے غلام کو ایک ہزار درہم کے عوض پر آزاد کیا ہو، ”ثُمَّ مَاتَ الْعَبْدُ“ پھر غلام مر گیا ہو۔ بھئی دیکھیے! یہاں غلام کو آزاد کیا ہے خدمت کے عوض پر، یہ اسی طرح ہے جیسے آقا غلام کو آزاد کرے ہزار درہم کی شرط پر۔ تو جیسے یہاں پر قبول کرتے ہی غلام آزاد ہو گیا، اسی طرح یہ خدمت والے مسئلے میں بھی خدمت عوض ہے اور اس کے بدلے میں آزادی آ رہی ہے، تو وہ بھی عقدِ معاوضہ ہی ہے، تو وہاں پر بھی قبول کرتے ہی غلام آزاد ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں بھی اسی طرح ہے، یہ چار سال کی خدمت اب اس کو ادا کرنی پڑے گی۔ لیکن پھر خدمت متعذر ہو گئی کیونکہ غلام مر گیا یا آقا مر گیا۔ تو کہتے ہیں: ”فَصَارَ كَمَا إِذَا أَعْتَقَهُ عَلَى أَلْفِ دِرْهَمٍ ثُمَّ مَاتَ الْعَبْدُ، فَالْخِلَافِيَّةُ فِيهِ بِنَاءٌ عَلَى خِلَافِيَّةٍ أُخْرَى“ ”فَالْخِلَافِيَّةُ“ أَيِ الْمَسْأَلَةُ الْخِلَافِيَّةُ، یہ الخلافیۃ صفت ہے، موصوف محذوف ہے، أَيِ الْمَسْأَلَةُ الْخِلَافِيَّةُ، ”وَفِيهِ“ أَيْ فِي الْإِعْتَاقِ۔ تو صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں: یہ جو اعتاق والے مسئلے کے اندر اختلاف آیا، اس کی بنیاد ایک اور مسئلے کے اندر جو اختلاف ہے، اس پر ہے۔ اس اختلافی مسئلے کی بنیاد ایک اور اختلافی مسئلے پر ہے۔ اور وہ اختلافی مسئلہ یہ، آگے صاحبِ ہدایہ بھی بیان کریں گے، کہ آقا نے اپنے غلام کو آزاد کیا ایک معین باندی کے عوض پر، کہ میری طرف سے تم اس باندی کی شرط پر آزاد ہو، غلام نے قبول کر لیا، تو قبول کرتے ہی غلام آزاد ہو گیا۔ اب وہ غلام وہ باندی لا کر آقا کو دے گا۔ تو غلام نے وہ باندی خریدی اور ابھی آقا کو نہیں دی تھی کہ اس سے پہلے اس باندی کا کوئی اور مستحق نکل آیا۔ غلام نے تو زید سے خریدی تھی اور آقا کو ابھی دینے والا تھا کہ اس سے پہلے ہی عمرو آ گیا اور عمرو نے کہا یہ باندی تو میری ہے، زید سے کیسے آپ نے خرید لی؟ تو عمرو اس باندی کو لے کر چلا گیا۔ یا، یا وہ باندی آقا کے سپرد کرنے سے پہلے غلام کے پاس ہی ہلاک ہو گئی۔ تو اب اس صورت میں دیکھو، ایک طرف باندی تھی وہ بدل ہے اور دوسری طرف آزادی ہے۔ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں پر اس باندی کی قیمت اس غلام کو اب دینا پڑے گی۔ باندی تو نہیں دے سکتا، باندی کا تو کوئی اور مالک نکل آیا، کوئی اور مستحق نکل آیا یا باندی ہلاک ہو گئی، تو اب باندی کی قیمت دینا پڑے گی، کیونکہ ایک طرف سے باندی ہے تو دوسری طرف آزادی ہے، آزادی کی تو کوئی قیمت نہیں ہے۔ باندی اس نے دینی تھی، باندی نہیں دے سکتا اب، تو اب باندی کی قیمت دینا پڑے گی۔ جبکہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں پر باندی بدل ہے اور غلام کی ذات مبدل ہے، تو بدل دینا متعذر ہوا تو مبدل دیا جائے گا، اور مبدل تو ہو نہیں سکتا غلام تو دوبارہ غلام نہیں بن سکتا، آزادی کو تو فسخ نہیں کیا جا سکتا، تو پھر مبدل کی قیمت دینا پڑے گی۔ تو جیسے اس مسئلے کے اندر یہ باندی والے مسئلے میں اختلاف ہے، اسی طرح اس اعتاق والے مسئلے میں بھی اختلاف ہے۔ تو کہتے ہیں: ”فَالْخِلَافِيَّةُ فِيهِ بِنَاءٌ عَلَى خِلَافِيَّةٍ أُخْرَى، وَهِيَ أَنَّ مَنْ بَاعَ نَفْسَ الْعَبْدِ مِنْهُ بِجَارِيَةٍ بِعَيْنِهَا“ اور وہ یہ کہ جس آقا نے بیچ دیا ”نَفْسَ الْعَبْدِ مِنْهُ“ غلام کی ذات کو ”مِنْهُ“ اسی غلام کے ہاتھ، جس آقا نے غلام کی ذات کو بیچ دیا منہ اسی غلام کے ہاتھ ”بِجَارِيَةٍ بِعَيْنِهَا“ کسی معین باندی کے عوض میں، معین باندی کے عوض میں، اور پھر غلام نے کیا کر لیا؟ قبول کر لیا، تو قبول کرتے ہی غلام آزاد ہو گیا، اب وہ باندی لا کر دے گا بھئی۔ ”ثُمَّ اسْتُحِقَّتِ الْجَارِيَةُ“ پھر اس باندی کا استحقاق نکل آیا، یعنی کوئی اور مستحق نکل آیا، ”أَوْ هَلَكَتْ“ یا وہ باندی ہلاک ہو گئی، ”يَرْجِعُ الْمَوْلَى عَلَى الْعَبْدِ بِقِيمَةِ نَفْسِهِ عِنْدَهُمَا“ تو وہ آقا جو ہے غلام پر رجوع کرے گا اپنی ذات کی قیمت کے ساتھ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک، وہ آقا غلام پر رجوع کرے گا اس غلام کی اپنی ذات کی قیمت کے ساتھ، وہ اس غلام سے وصول کرے گا۔ ”وَبِقِيمَةِ الْجَارِيَةِ عِنْدَهُ“ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک باندی کی قیمت کے ساتھ آقا غلام پر رجوع کرے گا، باندی کی قیمت اس سے لے گا۔ ”وَهِيَ مَعْرُوفَةٌ“ اور یہ مسئلہ معروف ہے، مشہور ہے علماء کے درمیان۔ ”وَوَجْهُ الْبِنَاءِ“ اور اس بنیاد کی وجہ، یہ جو ایک اختلافی مسئلے کی بنیاد ہے دوسرے اختلافی مسئلے پر، اس کی وجہ کیا ہے؟ کہتے ہیں بھئی دیکھیے! جیسے اس باندی والے مسئلے کے اندر باندی کا دینا متعذر ہو گیا تھا، ممکن نہ رہا تھا، تو یہاں پر بھی اس مسئلے کے اندر غلام کی خدمت کا دینا ممکن نہ رہا، تو دونوں ایک جیسے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَوَجْهُ الْبِنَاءِ أَنَّهُ كَمَا يَتَعَذَّرُ تَسْلِيمُ الْجَارِيَةِ بِالْهَلَاكِ وَالِاسْتِحْقَاقِ“ کہ جیسے باندی کا سپرد کرنا ممکن نہ رہا اس کے ہلاک ہونے یا اس کا استحقاق ہونے کی وجہ سے، ”يَتَعَذَّرُ الْوُصُولُ إِلَى الْخِدْمَةِ بِمَوْتِ الْعَبْدِ“ تو اسی طرح خدمت تک پہنچنا بھی ممکن نہ رہا غلام کی موت کی وجہ سے، ”وَكَذَا بِمَوْتِ الْمَوْلَى“ اور اسی طرح آقا کی موت کی وجہ سے، ”فَصَارَ نَظِيرَهَا“ تو یہ مسئلہ اسی مسئلے کی نظیر ہوا، اس کے جیسا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ ”وَمَنْ قَالَ لِآخَرَ: أَعْتِقْ أَمَتَكَ عَلَى أَلْفِ دِرْهَمٍ عَلَى أَنْ تُزَوِّجَنِيهَا فَفَعَلَ فَأَبَتْ أَنْ تَتَزَوَّجَهُ فَالْعِتْقُ جَائِزٌ، وَلَا شَيْءَ عَلَى الْآمِرِ“ صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک شخص دوسرے شخص سے کہتا ہے کہ تم اپنی باندی ایک ہزار کے عوض آزاد کر دو اس شرط پر کہ تم اس کا میرے ساتھ نکاح کرواؤ گے۔ تو یہ جو کہنے والا ہے یہ ہے آمر، اور جس سے کہا ہے، وہ جو باندی والا ہے وہ ہے مامور بھئی، جس کو کہا گیا ہے۔ یاد رکھو یہ لفظ آمر اور مامور بار بار آگے عبارت میں آئیں گے تو یہ آپ کے ذہن میں ہونا چاہیے۔ تو کہنے والا آمر، اور جس کو کہا وہ ہے مامور، یعنی جس کی باندی ہے۔ تو ایک شخص نے دوسرے شخص سے کہا کہ تم اپنی یہ باندی ایک ہزار درہم کے عوض آزاد کر دو اس شرط پر کہ تم اس کا میرے ساتھ نکاح کرواؤ گے۔ چنانچہ وہ باندی والے نے باندی کو آزاد کر دیا، اور پھر باندی سے کہا کہ اب تم اس آدمی سے نکاح کر لو۔ وہ باندی آزاد ہو چکی تھی، اس نے انکار کر دیا کہ میں اس آدمی سے نکاح نہیں کروں گی۔ تو اس صورت میں یاد رکھو فقہاء فرماتے ہیں کہ یہ جو باندی آزاد ہوئی ہے یہ مامور کی طرف سے آزاد ہوئی ہے، آمر سے اس کے پیسے وصول نہیں کیے جا سکتے۔ بھئی اس نے کہا تو تھا کہ ہزار درہم کے عوض آزاد کر دو، لیکن پھر بھی اس سے پیسے وصول نہیں کیے جا سکتے۔ اور یہ بات پہلے بھی گزر چکی ہے کہ ایک ہے بدلِ اعتاق اور ایک ہے بدلِ طلاق۔ بدلِ اعتاق جو ہے کسی اجنبی پر واجب نہیں کیا جا سکتا، جبکہ بدلِ طلاق اجنبی پر واجب کیا جا سکتا ہے۔ بدلِ اعتاق مثلاً ایک اجنبی آ کر شخص سے کہتا ہے کہ اپنے اس غلام کو آزاد کر دو، ایک ہزار درہم کے عوض میں ادا کروں گا۔ تو اس صورت میں یاد رکھو اس مامور نے غلام کو آزاد کر دیا، تو اب اس اجنبی پر کوئی مال نہیں ہے کیونکہ یہ بدلِ اعتاق ہے، اور بدلِ اعتاق کسی اجنبی پر واجب نہیں کیا جا سکتا۔ جبکہ اس کے مقابلے میں بدلِ طلاق بھئی، بدلِ طلاق جو ہے وہ اجنبی پر واجب کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً ایک آدمی دوسرے کے پاس آیا اور کہا کہ اپنی بیوی کو پانچ لاکھ کے عوض طلاق دے دو، میں پانچ لاکھ ادا کروں گا۔ تو اس شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ تو یہ جو آمر ہے، یہ جو کہنے والا ہے اب اس کو یہ پانچ لاکھ ادا کرنے پڑیں گے کیونکہ یہ بدلِ طلاق ہے، اور بدلِ طلاق کو اجنبی پر واجب کیا جا سکتا ہے، جبکہ بدلِ اعتاق جو ہے وہ اجنبی پر واجب نہیں کیا جا سکتا۔ تو دونوں میں فرق ہے، فرق یہ ہے کہ بدلِ اعتاق میں اجنبی غلام جیسا نہیں ہے، دونوں میں فرق ہے۔ غلام جو ہے اعتاق کی وجہ سے وہ آزاد ہو جائے گا، اسے ہر طرح کے تصرفات کا حق مل جائے گا جو اس کو پہلے حاصل نہیں تھے، مثلاً اب وہ اپنی مرضی سے تجارت کر سکتا ہے، وہ اپنی مرضی سے نکاح کر سکتا ہے، وہ گواہ بن سکتا ہے، وہ قاضی بن سکتا ہے وغیرہ، تمام اختیارات اس کو مل گئے۔ غلام کو یہ چیزیں پہلے حاصل نہیں تھیں۔ تو معلوم ہوا اعتاق سے غلام کو فائدہ حاصل ہوا۔ جبکہ اس کے مقابلے میں جو اجنبی ہے اس کو تو اس اعتاق سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو گا۔ تو یہ جو اجنبی ہے یہ غلام کی طرح نہیں۔ تو یہ جو بدلِ اعتاق ہے وہ اس غلام پر تو واجب ہو سکتا ہے، کسی اجنبی پر واجب نہیں ہو سکتا۔ جبکہ بدلِ طلاق جو ہے وہ اجنبی پر بھی واجب ہو سکتا ہے۔ وجہ یہ کہ بدلِ طلاق کے اندر جب عورت کو طلاق ملی ہے تو عورت کو کوئی نئی چیز حاصل نہیں ہوئی۔ غلام کو تو نئے نئے اختیارات مل گئے تھے، لیکن عورت کو کوئی نیا اختیار نہیں ملا، صرف اس پر سے خاوند کی ملکیتِ نکاح جو ہے وہ ختم ہوئی ہے، صرف عورت پر سے کچھ پابندیاں ہٹ گئی ہیں، اور کوئی چیز عورت کو حاصل نہیں ہوئی۔ تو کوئی اجنبی ہو وہ بھی اس عورت کے مثل ہو جائے گا، جیسے عورت کو اس طلاق سے کچھ حاصل نہیں ہوا، اجنبی کو بھی اس طلاق سے کچھ حاصل نہیں ہوا، تو اجنبی عورت جیسا ہوا۔ جب عورت جیسا ہوا تو عورت پر تو بدلِ طلاق کو واجب کیا جا سکتا ہے، تو جب اجنبی عورت جیسا ہے تو اجنبی پر بھی بدلِ طلاق کو واجب کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ بدلِ اعتاق کے اندر اجنبی غلام کی طرح نہیں، لہٰذا غلام پر تو بدلِ اعتاق کو واجب کیا جا سکتا ہے لیکن اجنبی پر بدلِ اعتاق کو واجب نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا یہاں پر بھی اس مسئلے کے اندر بھی ایک شخص نے دوسرے سے کہا کہ اپنی اس باندی کو ایک ہزار درہم کے عوض آزاد کر دو اس شرط پر کہ تم اس کا میرے ساتھ نکاح کرواؤ گے۔ اب مامور نے اس باندی کو آزاد کر دیا اور پھر باندی نے اس آدمی سے نکاح کرنے سے انکار کر دیا۔ تو باندی تو آزاد ہو گئی، لیکن اب آمر پر کوئی مال واجب نہیں کیونکہ یہ بدلِ اعتاق ہے، اور بدلِ اعتاق باندی پر تو واجب کیا جا سکتا تھا، اجنبی پر واجب نہیں، لہٰذا آمر کے ذمے کوئی ادائیگی نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ قَالَ لِآخَرَ: أَعْتِقْ أَمَتَكَ عَلَى أَلْفِ دِرْهَمٍ عَلَى أَنْ تُزَوِّجَنِيهَا“ اور جس شخص نے دوسرے سے کہا کہ تو اپنی باندی کو آزاد کر دے ایک ہزار درہم کے عوض ”عَلَى أَنْ تُزَوِّجَنِيهَا“ اس شرط پر کہ تم میرا اس کے ساتھ نکاح کرواؤ گے، ”فَفَعَلَ“ مامور نے ایسا کر دیا یعنی باندی کو آزاد کر دیا، ”فَأَبَتْ أَنْ تَتَزَوَّجَهُ“ تو باندی نے انکار کر دیا کہ وہ اس آمر سے نکاح کرے، ”فَالْعِتْقُ جَائِزٌ“ تو یہ آزادی جائز ہے یعنی باندی آزاد ہو گئی، ”وَلَا شَيْءَ عَلَى الْآمِرِ“ اور آمر پر کوئی چیز نہیں یعنی اس پر کوئی مال واجب نہیں، ”لِأَنَّ مَنْ قَالَ لِغَيْرِهِ: أَعْتِقْ عَبْدَكَ عَلَى أَلْفِ دِرْهَمٍ عَلَيَّ“ اس لیے کیونکہ جس شخص نے کسی دوسرے سے کہا کہ تو اپنے غلام کو ایک ہزار درہم کے عوض آزاد کر دے ”عَلَيَّ“ میرے اوپر، یعنی وہ میرے ذمہ ہوں گے ایک ہزار درہم، ”فَفَعَلَ“ مامور نے ایسا کر دیا، ”لَا يَلْزَمُهُ شَيْءٌ“ تو آمر پر کوئی چیز لازم نہیں ہو گی، ”وَيَقَعُ الْعِتْقُ عَنِ الْمَأْمُورِ“ اور آزادی مامور کی طرف سے ہی واقع ہو گی، ”بِخِلَافِ مَا إِذَا قَالَ لِغَيْرِهِ: طَلِّقِ امْرَأَتَكَ عَلَى أَلْفِ دِرْهَمٍ عَلَيَّ“ بخلاف اس کے کہ جب کسی نے دوسرے سے کہا کہ تو اپنی بیوی کو ایک ہزار درہم کے عوض پر طلاق دے دے ”عَلَيَّ“ کہ وہ درہم میرے ذمہ ہوں گے، ”فَفَعَلَ، حَيْثُ يَجِبُ الْأَلْفُ عَلَى الْآمِرِ“ اس نے ایسا کر دیا کیونکہ ایک ہزار درہم آمر پر واجب ہوں گے۔ تو یہ مسئلہ برخلاف ہے پچھلے مسئلے کے کہ یہاں ایک ہزار آمر پر واجب ہوں گے۔ ”لِأَنَّ اشْتِرَاطَ الْبَدَلِ عَلَى الْأَجْنَبِيِّ فِي الطَّلَاقِ جَائِزٌ، وَفِي الْعَتَاقِ لَا يَجُوزُ، وَقَدْ قَرَّرْنَاهُ مِنْ قَبْلُ“ اس لیے کیونکہ بدل کی شرط اجنبی پر لگانا طلاق کے مسئلے میں ”جَائِزٌ“ یہ جائز ہے، ”وَفِي الْعَتَاقِ لَا يَجُوزُ“ اور عتاق میں جائز نہیں، ”وَقَدْ قَرَّرْنَاهُ مِنْ قَبْلُ“ اور تحقیق ہم اس کو پہلے ثابت کر چکے ہیں۔ یہ بات پہلے بھی گزری تھی اشارۃً باب الخلع کے اندر کہ ایک شخص ہے اس نے اپنی نابالغ بیٹی کا نکاح کروایا کسی سے، پھر بعد میں یہ باپ اب خلع کروانا چاہتا ہے، بیٹی ابھی نابالغ ہی ہے لیکن اب اس خاوند سے وہ بیٹی کی جان چھڑانا چاہتا ہے، تو بیٹی کے مال پر خلع تو نہیں کروا سکتا باپ، اگر خلع کرے گا بھی تو بیٹی پر مال لازم نہیں ہو گا، بغیر مال کے ہی بیٹی کو طلاق ہو جائے گی، لیکن اگر باپ بدلِ خلع اپنے ذمے لے لیتا ہے کہ میں ادا کروں گا بدلِ خلع، تو پھر یہ درست ہے۔ اس لیے کیونکہ بدلِ طلاق کی شرط جب اجنبی کے لیے جائز ہے تو باپ کے لیے بطریقِ اولیٰ جائز ہے کیونکہ باپ کی تو شفقت بڑی کامل ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَدْ قَرَّرْنَاهُ مِنْ قَبْلُ“ اور تحقیق یہ بات ہم پہلے ثابت کر چکے ہیں۔ ”وَلَوْ قَالَ: أَعْتِقْ أَمَتَكَ عَنِّي عَلَى أَلْفِ دِرْهَمٍ“ اب الفاظ ذرا بدل دیے۔ آمر کہتا ہے کہ اپنی باندی میری طرف سے آزاد کر دو ایک ہزار درہم کے عوض اور اس شرط پر کہ تم اس کا میرے ساتھ نکاح کرواؤ گے۔ تو اب اس نے ”عَنِّي“ کا لفظ ذکر کیا، میری طرف سے آزاد کرو، پچھلے مسئلے میں ”عَنِّي“ کا لفظ نہیں تھا۔ تو یہاں ”أَعْتِقْ أَمَتَكَ عَنِّي“ میری طرف سے، تو آپ نے اصولِ فقہ کے اندر پڑھا ہے کہ اگر مامور نے باندی کو آزاد کیا تو یہ باندی آمر کی طرف سے آزاد ہو گی، کیونکہ یہاں اس نے کیا کہا ہے؟ میری طرف سے آزاد کرو، تو یہاں اقتضاءً پہلے بیع کو ماننا پڑے گا۔ گویا کہنے والا یہ کہہ رہا ہے: اپنی باندی مجھے بیچ دو، پھر میری طرف سے وکیل بن جاؤ، اور پھر اس باندی کو آزاد کر دو۔ تو اس صورت کے اندر گویا مامور نے یہ باندی پہلے آمر کو بیچ دی اور پھر اس کی طرف سے وکیل بن کر اس کو آزاد کر دیا۔ تو اس صورت کے اندر اب آمر کو باندی کی قیمت دینا پڑے گی، کیونکہ یہاں بیع اقتضاءً ہے۔ مسئلہ بھی سمجھ میں آیا کہ نہیں؟ صورت وہی صورت دوبارہ بنائیے بھئی! آمر نے مامور سے کہا کہ اپنی یہ باندی ہزار درہم کے عوض آزاد کر دو عنی میری طرف سے، اس شرط پر کہ تم اس کا میرے ساتھ نکاح کرواؤ گے۔ تو چنانچہ مامور نے باندی کو آزاد کر دیا، اور پھر باندی نے اس آمر سے نکاح کرنے سے انکار کر دیا۔ تو اب معلوم ہوا آمر نے جو ہزار درہم ذکر کیے تھے وہ دو چیزوں کا عوض تھے: باندی کی قیمت بھی، اور نیز باندی کا مہر بھی۔ یعنی اس میں باندی کی قیمت کا بھی حساب لگائیں گے اور باندی کے مہر کا بھی حساب لگائیں گے۔ تو جتنا حصہ مہر کا بنے گا وہ تو ہزار میں سے ساقط ہو جائے گا کیونکہ باندی نے تو نکاح کیا نہیں، البتہ باقی رقم جو ہے وہ آمر کے ذمہ آ جائے گی کہ وہ مامور کو ادا کرے بھئی۔ مثلاً، مثلاً باندی کی قیمت ہے ہزار درہم، اور اس جیسی باندی کا مہرِ مثل ہوتا ہے 500 درہم۔ معلوم ہوا باندی کی قیمت مہر کے مقابلے میں دگنی ہے۔ تو لہٰذا یہ جو ایک ہزار درہم تھے اس کے تین حصے کیے جائیں گے: دو حصے قیمت کے مقابلے میں آئے گا، اور ایک حصہ مہر کے مقابلے میں آئے گا۔ اور مہر تو دینا نہیں پڑے گا کیونکہ باندی نے اس سے نکاح نہیں کیا، تو وہ تو ساقط ہو جائے گا۔ اور باقی دو حصے جو ہیں وہ آمر کے ذمہ ہے کہ وہ ادا کرے، مامور کو دے۔ تو ہزار کے تین حصے کریں تو ایک میں تقریباً 333 درہم آتے ہیں، اور دو ثلث ہوں تو 666، تو 666، 667 درہم تقریباً یہ جو ہے آمر ادا کرے گا مامور کو، اور جبکہ 333 درہم کے لگ بھگ یہ جو باندی کا مہر بن رہا تھا یہ ساقط ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَالَ: أَعْتِقْ أَمَتَكَ عَنِّي عَلَى أَلْفِ دِرْهَمٍ“ اور اگر آمر نے کہا کہ اپنی باندی کو میری طرف سے آزاد کر دو ایک ہزار درہم کے عوض پر، ”وَالْمَسْأَلَةُ بِحَالِهَا“ اور مسئلہ جو ہے وہ اپنے حال پر ہے، کہ مامور نے اس کو آزاد کر دیا اور باندی نے نکاح سے انکار کر دیا، ”قُسِّمَتِ الْأَلْفُ عَلَى قِيمَتِهَا وَمَهْرِ مِثْلِهَا“ تو اس ایک ہزار کو تقسیم کیا جائے گا اس باندی کی قیمت پر اور اس کے مہرِ مثل پر، ”فَمَا أَصَابَ الْقِيمَةَ أَدَّاهُ الْآمِرُ“ وہ حصہ جو قیمت کو پہنچے ”أَدَّاهُ الْآمِرُ“ اس کو آمر ادا کرے گا، ”وَمَا أَصَابَ الْمَهْرَ بَطَلَ عَنْهُ“ اور وہ حصہ جو مہر کو پہنچا ”بَطَلَ عَنْهُ“ وہ آمر سے باطل ہو جائے گا۔ ”لِأَنَّهُ لَمَّا قَالَ: عَنِّي، تَضَمَّنَ الشِّرَاءَ اقْتِضَاءً عَلَى مَا عُرِفَ“ اس لیے کیونکہ جب آمر نے ”عَنِّي“ کہا کہ میری طرف سے آزاد کر دو ”تَضَمَّنَ الشِّرَاءَ اقْتِضَاءً“ تو یہ شراء کو متضمن ہے اقتضاءً، باعتبارِ اقتضاء کے ”عَلَى مَا عُرِفَ“ اس وجہ سے جو جانا گیا ہے یعنی اصولِ فقہ میں۔ ”وَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ فَقَدْ قَابَلَ الْأَلْفَ بِالرَّقَبَةِ شِرَاءً وَبِالْبُضْعِ نِكَاحًا“ اور جب معاملہ ایسا ہے تو تحقیق آمر نے ایک ہزار جو ہے اس کو مقابل بنایا رقبے کا شراءً، خریدنے کے اعتبار سے، ”وَبِالْبُضْعِ نِكَاحًا“ اور بضع کا نکاح کے اعتبار سے۔ میں نے بتلایا تھا بضع یہ فرج المرأۃ کو کہتے ہیں بھئی، عورت کی شرمگاہ۔ تو یہاں پر وہ جو آمر نے ایک ہزار ذکر کیا تھا وہ دو چیزوں کے مقابلے میں تھا: ایک اس باندی کی ذات کے مقابلے میں خریدنے کے اعتبار سے، اور دوسرا باندی کے بضع کے مقابلے میں باعتبار نکاح کے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَقَدْ قَابَلَ الْأَلْفَ بِالرَّقَبَةِ شِرَاءً وَبِالْبُضْعِ نِكَاحًا، فَانْقَسَمَ عَلَيْهِمَا“ تو تحقیق آمر نے ایک ہزار جو ہے اس کو مقابل بنایا رقبے کا شراءً خریدنے کے اعتبار سے، اور اس ایک ہزار کو مقابل بنایا بضع کا نکاح کے اعتبار سے، ”فَانْقَسَمَ عَلَيْهِمَا“ تو یہ ایک ہزار ان دونوں پر تقسیم ہو جائے گا، ”وَوَجَبَتْ حِصَّةُ مَا سُلِّمَ لَهُ، وَهُوَ الرَّقَبَةُ“ تو واجب ہو جائے گا وہ حصہ جو اس آمر کے سپرد کر دیا گیا اور وہ باندی کا رقبہ یعنی اس کی ذات ہے، ”وَبَطَلَ عَنْهُ مَا لَمْ يُسَلَّمْ، وَهُوَ الْبُضْعُ“ اور باطل ہو جائے گا آمر سے جو اس کے حوالے نہیں کیا گیا اور وہ بضع ہے یعنی نکاح نہیں کیا گیا۔ ”فَلَوْ زَوَّجَتْ نَفْسَهَا مِنْهُ“ اچھا بھئی! متن میں صرف یہ صورت ذکر تھی کہ باندی نے نکاح سے انکار کر دیا۔ اگر باندی نکاح کر لیتی ہے پھر کیا مسئلہ ہو گا؟ تو کہتے ہیں کہ اس صورت میں باندی کا مہر بھی ادا کرنا پڑے گا۔ لہٰذا ایک صورت ہے جس میں اس نے ”عَنِّي“ نہیں کہا، اور دوسری صورت میں اس نے ”عَنِّي“ کہا ہے۔ تو جب آمر نے ”عَنِّي“ نہیں کہا تو اس صورت میں باندی کی قیمت آمر پر نہیں آتی تھی، لیکن اگر باندی اس سے نکاح کر لیتی ہے تو جو حصہ باندی کے مہرِ مثل کے مقابلے میں آتا ہے وہ اس کو دینا پڑے گا۔ یعنی وہ ثلث بنتا تھا نا ہزار کا، باندی کی قیمت دو ثلث بنتی ہے اور مہر ایک ثلث بنتا ہے۔ تو لہٰذا دو ثلث جو ہیں وہ آمر سے ساقط ہو جائیں گے کیونکہ اس کے ذمے باندی کی قیمت نہیں ہے، اس نے ”عَنِّي“ نہیں کہا پہلی صورت میں، تو دو ثلث ساقط، اور ایک ثلث جو ہے وہ بطورِ مہر کے باندی کو وہ ادا کرے گا بھئی۔ جبکہ دوسری صورت میں اس نے ”عَنِّي“ کہا ہے، جب ”عَنِّي“ کہا ہے تو وہاں اقتضاءً بیع بھی آ گئی، گویا مامور نے اس کو باندی بیچی اور پھر آزاد کی، تو اس صورت میں باندی کی قیمت مامور کو دے گا اور مہر کا حصہ باندی کو دے گا۔ اور قیمت کتنی ہے؟ دو ثلث۔ تو ہزار میں سے دو ثلث جو ہے وہ مامور کو دے گا، اور ایک ثلث باندی کو بطورِ مہر کے دے گا۔ تو کہتے ہیں: ”فَلَوْ زَوَّجَتْ نَفْسَهَا مِنْهُ لَمْ يَذْكُرْهُ“ اور اگر باندی نے اپنا نکاح کر دیا اس آمر سے ”لَمْ يَذْكُرْهُ“ اس کو امام محمد رحمہ اللہ نے ذکر نہیں فرمایا متن میں، ”وَجَوَابُهُ أَنَّ مَا أَصَابَ قِيمَتَهَا سَقَطَ فِي الْوَجْهِ الْأَوَّلِ“ اور جواب اس کا یہ ہے کہ وہ حصہ جو باندی کی قیمت کو پہنچا ”سَقَطَ فِي الْوَجْهِ الْأَوَّلِ“ وہ حصہ ساقط ہو جائے گا پہلی صورت میں جب اس نے ”عَنِّي“ نہیں کہا۔ کیونکہ اجنبی پر بدلِ اعتاق واجب نہیں ہو سکتا، تو جو قیمت میں جتنا حصہ بنا ہے ہزار کا وہ ساقط ہو گیا، تو وہ قیمت والا حصہ ساقط ہو جائے گا پہلی صورت میں، ”وَهِيَ لِلْمَوْلَى فِي الْوَجْهِ الثَّانِي“ اور یہ حصہ جو ہے آقا کے لیے ہو گا دوسری صورت میں، جب اس نے ”عَنِّي“ کہا تھا تو وہاں بیع آ گئی، جب بیع آ گئی تو اب باندی کی قیمت دینا پڑے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَهِيَ لِلْمَوْلَى فِي الْوَجْهِ الثَّانِي“ اور یہ قیمت والا حصہ آقا کے لیے ہو گا دوسری صورت میں یعنی جب آمر نے ”عَنِّي“ کہا ہے، ”وَمَا أَصَابَ مَهْرَ مِثْلِهَا كَانَ مَهْرًا لَهَا فِي الْوَجْهَيْنِ“ اور وہ حصہ جو باندی کے مہرِ مثل کو پہنچے یعنی اس کے حصے میں آئے ”كَانَ مَهْرًا لَهَا فِي الْوَجْهَيْنِ“ وہ اس باندی کے لیے مہر ہو گا دونوں صورتوں میں۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ بَابُ التَّدْبِيرِ تدبیر آپ پڑھ چکے ہیں: کسی غلام کو یہ کہنا کہ میرے مرنے کے بعد تو آزاد ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”إِذَا قَالَ الْمَوْلَى لِمَمْلُوكِهِ: إِذَا مُتُّ فَأَنْتَ حُرٌّ“ جب آقا نے اپنے مملوک سے کہا: جب میں مر جاؤں تو تو آزاد ہے۔ یہ کچھ الفاظ ذکر کریں گے جو تدبیر میں صریح ہیں۔ یعنی جن میں اور کوئی معنی ہی نہیں ہے، صرف مدبر بنانے والا ہی معنی ہے، تو لہٰذا وہ الفاظ بولتے ہی غلام مدبر بن جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”إِذَا قَالَ الْمَوْلَى لِمَمْلُوكِهِ: إِذَا مُتُّ فَأَنْتَ حُرٌّ“ جب آقا نے اپنے غلام سے کہا: جب میں مر جاؤں تو تو آزاد ہے، ”أَوْ أَنْتَ حُرٌّ عَنْ دُبُرٍ مِنِّي“ یا آقا نے کہا: ”أَنْتَ حُرٌّ عَنْ دُبُرٍ مِنِّي“، دبر بھئی، دبر کا معنی سرین بھی ہے بدن کا وہ حصہ جو انسان بیٹھتے ہوئے نیچے رکھتا ہے، اور اسی طرح دبر کا معنی پشت اور کمر کے بھی ہیں۔ تو آقا نے کہا: ”أَنْتَ حُرٌّ عَنْ دُبُرٍ مِنِّي“ کہ تو میرے پیچھے آزاد ہے۔ تو میرے پیچھے آزاد ہے، مراد کیا ہے؟ موت ہے، یعنی تو میرے مرنے کے بعد آزاد ہے۔ تو آقا نے کہا: ”أَنْتَ حُرٌّ عَنْ دُبُرٍ مِنِّي“ کہ تو میرے پیچھے یعنی میرے مرنے کے بعد آزاد ہے، ”أَوْ أَنْتَ مُدَبَّرٌ“ یا آقا نے کہا تو مدبر ہے، ”أَوْ قَدْ دَبَّرْتُكَ“ یا آقا نے کہا میں نے تجھے مدبر بنا دیا، ”فَقَدْ صَارَ مُدَبَّرًا“ تو ان تمام صورتوں میں غلام مدبر بن جائے گا۔ ”فَقَدْ صَارَ مُدَبَّرًا“ تو وہ غلام مدبر ہو جائے گا، ”لِأَنَّ هَذِهِ الْأَلْفَاظَ صَرِيحٌ فِي التَّدْبِيرِ“ اس لیے کیونکہ یہ الفاظ جو ہیں مدبر بنانے میں صریح ہیں، یعنی ان کا یہی معنی ہے اور کوئی معنی نہیں ہے۔ ”فَإِنَّهُ إِثْبَاتُ الْعِتْقِ عَنْ دُبُرٍ“ اس لیے کیونکہ تدبیر جو ہے وہ آزادی کو ثابت کرنا ہے ”عَنْ دُبُرٍ“ پیچھے، یعنی موت کے بعد، وہ موت کے بعد آزادی کو ثابت کرنا ہے۔ ”ثُمَّ لَا يَجُوزُ بَيْعُهُ وَلَا هِبَتُهُ وَلَا إِخْرَاجُهُ عَنْ مِلْكِهِ إِلَّا إِلَى الْحُرِّيَّةِ“ بھئی میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ مدبر کو بیچا نہیں جا سکتا، کسی کو ہبہ نہیں کیا جا سکتا۔ ہاں البتہ اس کو آزاد کیا جا سکتا ہے، موت سے پہلے بھی آقا اس کو آزاد کر سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”ثُمَّ لَا يَجُوزُ بَيْعُهُ وَلَا هِبَتُهُ“ اور پھر مدبر کی بیع بھی جائز نہیں ہے اور نہ اس کا ہبہ جائز ہے، ”وَلَا إِخْرَاجُهُ عَنْ مِلْكِهِ إِلَّا إِلَى الْحُرِّيَّةِ“ اور اس کو اپنی ملکیت سے نکالنا بھی جائز نہیں ہے مگر صرف آزادی کی طرف۔ آزادی کی طرف نکال سکتے ہیں، اس کو آزاد بھی کر سکتے ہیں۔ آقا نے اپنے غلام سے کہا تو میرے مرنے کے بعد آزاد ہے، اور پھر مرنے سے پہلے ہی آقا اس کو آزاد کرنا چاہتا ہے تو آزاد کر سکتا ہے۔ تو یہ معنی ہے: ”وَلَا إِخْرَاجُهُ عَنْ مِلْكِهِ إِلَّا إِلَى الْحُرِّيَّةِ“ اور جائز نہیں ہے مدبر کو اپنی ملکیت سے نکالنا مگر آزادی کی طرف، ”كَمَا فِي الْكِتَابَةِ“ جیسے کہ کتابت میں ہے، مکاتب کو بھی بیچنا یا ہبہ کرنا جائز نہیں ہے البتہ اس کو آزاد کرنا جائز ہے بھئی کہ وقت سے پہلے ہی آقا اس کو آزاد کر دے۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: يَجُوزُ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جائز ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مدبر کی بیع بھی جائز اور مدبر کا ہبہ بھی جائز ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: يَجُوزُ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جائز ہے، ”لِأَنَّهُ تَعْلِيقُ الْعِتْقِ بِالشَّرْطِ“ اس لیے کیونکہ یہ آزادی کو معلق کرنا ہے شرط کے ساتھ، ”فَلَا يَمْتَنِعُ بِهِ الْبَيْعُ وَالْهِبَةُ“ تو اس کی وجہ سے بیچنا اور ہبہ کرنا ممتنع نہیں ہو گا، ”كَمَا فِي سَائِرِ التَّعْلِيقَاتِ“ جیسے کہ باقی تعلیقات میں ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ آزادی کو معلق کیا جا رہا ہے موت کے ساتھ، اور جیسے آزادی کو کسی اور شرط کے ساتھ معلق کرو تو اس سے غلام کی بیع یا ہبہ ممتنع نہیں ہوتا۔ ایک آدمی نے اپنے غلام سے کہا: اگر تو اس گھر میں گیا تو تو آزاد ہے، تو آزادی کو معلق کر دیا شرط کے ساتھ، لیکن اس سے غلام کی بیع یا ہبہ ممتنع نہیں ہوا، آقا ابھی بھی اس غلام کو بیچ بھی سکتا ہے اور ہبہ بھی کر سکتا ہے۔ تو جیسے عام شرطوں کے اندر تعلیق کی وجہ سے غلام کی بیع اور ہبہ ممتنع نہیں ہوتی تو یہاں مدبر کے اندر بھی غلام کی آزادی معلق ہے موت کے ساتھ، تو یہ بھی عام تعلیقات کی طرح ہے، لہٰذا اس میں بھی غلام کو بیچنا یا ہبہ کرنا منع نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَلَا يَمْتَنِعُ بِهِ الْبَيْعُ وَالْهِبَةُ“ تو لہٰذا اس تعلیق کی وجہ سے غلام کا بیچنا اور ہبہ کرنا ممتنع نہیں ہو گا ”كَمَا فِي سَائِرِ التَّعْلِيقَاتِ“ جیسے کہ باقی تعلیقات میں ہوتا ہے، ”وَكَمَا فِي الْمُدَبَّرِ الْمُقَيَّدِ“ اور جیسے مدبرِ مقید میں ہوتا ہے۔ بھئی ایک ہے مدبرِ مطلق جس میں کوئی قید نہیں، اور ایک ہے مدبرِ مقید جس میں قید ہے۔ مدبرِ مطلق تو وہ ہے جسے کہا کہ میرے مرنے کے بعد تو آزاد ہے۔ مدبرِ مقید وہ ہے جسے آقا نے کہا کہ مثلاً اس سفر میں اگر میں مر گیا تو تو آزاد ہے، یا اس بیماری میں میں مر گیا تو تو آزاد ہے۔ اب اس بیماری کے اندر آقا کا مرنا تو یقینی نہیں، یا اس سفر میں تو آقا کا مرنا یقینی نہیں، لہٰذا یہ مدبرِ مقید ہے۔ اس کو بیچنا بھی جائز، ہبہ کرنا بھی جائز ہے۔ اس کو بیچنا بھی جائز اور ہبہ کرنا بھی جائز، کیونکہ اس سفر میں یا اس بیماری میں آقا کا مرنا یقینی نہیں۔ تو یہ عام شرطوں کی طرح ہوا، جیسے آقا نے اپنے غلام سے کہا اگر تو اس گھر میں گیا تو تو آزاد ہے، اب معلوم نہیں ہے غلام اس گھر میں جاتا ہے یا نہیں جاتا، تو عام شرطوں میں دونوں احتمال ہوتے ہیں: ہونے کا بھی احتمال اور نہ ہونے کا بھی۔ تو یہاں بھی جب آقا نے کہا کہ اگر میں اس بیماری میں مر گیا یا اس سفر میں مر گیا تو تو آزاد ہے، تو آقا کا اس بیماری یا سفر میں مرنا یقینی نہیں ہے، تو لہٰذا یہ مدبرِ مقید ہے۔ یہ مدبرِ مطلق نہیں ہے بلکہ مقید ہے، اور اس کو بیچنا بھی جائز اور اس کو ہبہ کرنا بھی جائز، کیونکہ اس کا آزاد ہونا یقینی نہیں۔ جبکہ اس کے مقابلے میں دوسرا وہ جو مدبر جسے آقا نے مطلقاً کہا میرے مرنے کے بعد تو آزاد ہے، تو یہ مدبرِ مطلق ہے بھئی، اور اس کا آزاد ہونا یقینی ہے کیونکہ آقا کا مرنا یقینی ہے، جب آقا کا مرنا یقینی تو اس کا آزاد ہونا بھی یقینی۔ تو باقی شرطوں کا ہونا تو یقینی نہیں لیکن موت کا ہونا تو یقینی ہے، لہٰذا مدبرِ مطلق کا اور حکم ہے مدبرِ مقید کا اور حکم ہے۔ مدبرِ مقید کو بیچنا بھی جائز، ہبہ کرنا بھی جائز، جبکہ مدبرِ مطلق جو ہے اس کا تو آزادی حق بن چکی ہے یقینی طور پر، لہٰذا اس کو بیچنا بھی جائز نہیں اور ہبہ کرنا بھی جائز نہیں، ورنہ اس کا حقِ آزادی ضائع ہو گا بھئی۔ اور مدبرِ مقید میں یہ بھی یاد رکھنا، اگر آقا اس بیماری میں مر گیا یا اس سفر میں مر گیا تو پھر وہ بھی آزاد ہو گا، اور اسی طرح ثلث میں سے آزاد ہو گا کیونکہ یہ وصیت کے درجے میں ہے بھئی۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، وہ کیا فرماتے ہیں؟ کہ تدبیر کے اندر بھی آزادی کو معلق کیا ہے موت کے ساتھ، تو جیسے باقی تعلیقات کی وجہ سے غلام کی بیع یا ہبہ ممتنع نہیں ہوتا، تو اس موت کے ساتھ جو تعلیق کی ہے اس میں بھی غلام کا بیچنا یا ہبہ کرنا ممتنع نہیں ہو گا، اور نیز جیسے اے احناف! مدبرِ مقید کے اندر تو آپ بھی مانتے ہیں کہ اس کو بیچنا بھی جائز اور ہبہ کرنا بھی جائز، تو مدبرِ مطلق کا بھی یہی حکم ہو گا، اس کا بیچنا بھی جائز اور ہبہ کرنا بھی جائز۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَمَا فِي الْمُدَبَّرِ الْمُقَيَّدِ“ اور جیسے کہ مدبرِ مقید میں ہوتا ہے، ”وَلِأَنَّ التَّدْبِيرَ وَصِيَّةٌ، وَهِيَ غَيْرُ مَانِعَةٍ مِنْ ذَلِكَ“ نیز امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ تدبیر جو ہے وصیت ہے۔ مدبر بنانا وصیت ہے، اور وصیت جو ہے یہ بیچنے اور ہبہ کرنے سے مانع نہیں ہے۔ ...سے مانع نہیں ہوتی۔ ایک آدمی نے کہا: یہ والا مکان میرے مرنے کے بعد زید کو دے دینا، تو یہ آدمی مرنے سے پہلے اس مکان کو بیچنا چاہے یا کسی کو تحفے کے طور پر دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔ تو جیسے کسی چیز کی وصیت کر دی جائے تو اس کا بیچنا اور ہبہ کرنا ممتنع نہیں ہوتا، تو یہ تدبیر بھی کیا ہے؟ وصیت ہے۔ جب یہ وصیت ہے تو اس غلام کا بیچنا اور ہبہ کرنا بھی ممتنع نہیں ہوگا، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّ التَّدْبِيرَ وَصِيَّةٌ، اور اس لیے کیونکہ مدبر بنانا یہ وصیت ہے، وَهِيَ غَيْرُ مَانِعَةٍ مِنْ ذٰلِكَ، اور یہ مانع نہیں ہے اس سے یعنی بیچنے اور ہبہ کرنے سے۔ تو یہ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل تھی۔ ہمارے نزدیک مدبر کو نہ بیچ سکتے ہیں اور نہ ہبہ کر سکتے ہیں، اب ہماری دلیل آ گئی۔ وَلَنَا، اور ہماری دلیل جو ہے، قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانِ مبارک ہے کہ: ”الْمُدَبَّرُ لَا يُبَاعُ وَلَا يُوهَبُ وَلَا يُورَثُ وَهُوَ حُرٌّ مِنَ الثُّلُثِ“۔ ”الْمُدَبَّرُ لَا يُبَاعُ“، کہ مدبر کو بیچا نہیں جا سکتا، ”وَلَا يُوهَبُ“، اور اس کو ہبہ نہیں کیا جا سکتا، ”وَلَا يُورَثُ“، اور اس میں وراثت جاری نہیں ہوتی، ”وَهُوَ حُرٌّ مِنَ الثُّلُثِ“، اور وہ ثلث میں سے آزاد ہوتا ہے۔ دیکھو اس حدیث میں آ گیا، مدبر کو بیچا بھی نہیں جا سکتا، ہبہ بھی نہیں کیا جا سکتا اور اس میں وراثت بھی جاری نہیں ہوتی، ”وَهُوَ حُرٌّ مِنَ الثُّلُثِ“، اور وہ ثلث میں سے آزاد ہوتا ہے۔ تو یہ حدیث ہماری دلیل ہے۔ وَلِأَنَّهُ، یہاں سے عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں۔ ”وَلِأَنَّهُ سَبَبُ الْحُرِّيَّةِ لِأَنَّ الْحُرِّيَّةَ تَثْبُتُ بَعْدَ الْمَوْتِ“۔ اچھا بھئی، یہ سمجھ لیجیے پہلے۔ دیکھیے، عند الاحناف ضابطہ یہ ہے کہ معلق جو ہے وہ سبب بنتا ہے عند وجود الشرط، جب شرط پائی جائے گی تب وہ معلق سبب بنے گا، اس سے پہلے نہیں، تب وہ سبب بنے گا۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک وہ اسی وقت سبب بنے گا۔ ایک آدمی نے اپنے غلام سے کہا: اگر تو اس گھر میں گیا تو تو آزاد ہے۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ جو آقا نے کہا نا ”تو آزاد ہے“ اسی نے آزادی کا سبب بننا ہے۔ یہ فی الحال ہی آزادی کا سبب بن رہا ہے، لیکن آگے جو شرط ہے وہ مانع بن گئی، وہ اس کو سبب نہیں بننے دے رہی۔ ہاں، جب یہ اس گھر میں جائے گا تو مانع ختم ہو جائے گا، تو پھر اسی ”أَنْتَ حُرٌّ“ سے آزادی آ جائے گی۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ جو ”أَنْتَ حُرٌّ“ ہے یہ معلق ہے شرط کے ساتھ، اور معلق بالشرط جو ہے وہ فی الحال ہی سبب بنتا ہے، البتہ مانع ہونے کی وجہ سے وہ جزا ابھی واقع نہیں ہوگی۔ جبکہ ہمارے نزدیک، ہمارے نزدیک یہ جو ”أَنْتَ حُرٌّ“ ہے یہ معلق ہے شرط کے ساتھ، اور معلق جو ہوتا ہے وہ سبب بنتا ہے جب شرط پائی جائے، تو گویا اس وقت یہ ہے ہی نہیں۔ یہ اس وقت سبب نہیں ہے گویا ہے ہی نہیں۔ ہاں جب غلام اس گھر میں جائے گا تو اس وقت وہ ”أَنْتَ حُرٌّ“ آ جائے گا اور غلام آزاد ہو جائے گا۔ تو معلق بالشرط وہ سبب بنتا ہے جب شرط پائی جائے، عند وجود الشرط۔ تو معلق، یوں کہو معلق جو ہے وہ سبب بنتا ہے عند وجود الشرط۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک معلق جو ہے وہ سبب بنتا ہے عند التکلم، جب اس پر تکلم کیا جائے۔ یہ تو تھا عام تعلیقات کے اندر، لیکن مدبر کا معاملہ ذرا مختلف ہے۔ مدبر کے معاملے کے اندر ہم بھی امام شافعی رحمہ اللہ کے مذہب پر ہیں۔ ہم بھی امام شافعی رحمہ اللہ کے مذہب پر ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے تھے؟ کہ معلق جو ہوتا ہے وہ فی الحال سبب بنتا ہے، البتہ ایک مانع موجود ہے جس کی وجہ سے یہ سبب بن نہیں رہا، بننا چاہتا ہے لیکن بن نہیں رہا، اور جب وہ شرط پوری ہو جائے گی تو مانع چلا جائے گا تو یہ سبب بن گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ہم بھی کہتے ہیں کہ مدبر کے اندر، مدبر کے اندر آقا نے کیا کہا ہے غلام سے؟ ”أَنْتَ حُرٌّ بَعْدَ مَوْتِي“۔ غلام کی آزادی کا سبب یہی ”أَنْتَ حُرٌّ“ نے بننا ہے۔ لیکن اس وقت یہ کالعدم ہے، یہ کب آئے گا؟ موت کے بعد۔ لیکن موت کے وقت تو معتق مر چکا ہے۔ اس میں تو اہلیت ہی نہیں ہے اعتاق کی۔ لہٰذا اس کو موت تک مؤخر نہ کرو، فی الحال ہی سبب بنا دو۔ تدبیر کے مسئلے میں یہ جو معلق ہے، یہ جو آزادی معلق کی ہے، یہ جو ”أَنْتَ حُرٌّ“ اس کو معلق کیا کس کے ساتھ؟ اپنی موت کے ساتھ۔ تو عند الاحناف ضابطہ کیا ہے؟ یہ سبب کب بنے گا؟ جب شرط پائی جائے، جب موت پائی جائے، لیکن مدبر کے اندر اس کو فی الحال ہی سبب قرار دے دیا گیا۔ اس لیے کیونکہ جب آقا مر جائے گا پھر تو اس میں اعتاق کی اہلیت ہی نہ رہی۔ وہ تو کسی کو آزاد نہیں کر سکتا، وہ تو مر چکا ہے۔ لہٰذا اس ”أَنْتَ حُرٌّ“ کو اس وقت تک کے لیے مؤخر نہ کرو جب معتق میں اہلیت ہی نہ رہے گی، بلکہ اس کو فی الحال ہی سبب قرار دے دو آزادی کا۔ آزادی کا سبب یہ فی الحال ہی ہے، البتہ آزادی آ نہیں رہی کیونکہ ایک مانع موجود ہے، وہ جو بعد موتی کی قید تھی، میرے مرنے کے بعد۔ تو عند الاحناف ایک عام تعلیق ہے اور ایک تدبیر کے اندر تعلیق ہے۔ عام تعلیق جو ہے اس کے اندر معلق سبب بنتا ہے عند وجود الشرط، لیکن مدبر کے اندر جو معلق ہوتا ہے وہ فی الحال ہی سبب بنتا ہے، کیونکہ شرط پائی جائے گی پھر تو معتق کے اندر اعتاق کی اہلیت ہی نہ رہے گی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے بھئی: تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ سَبَبُ الْحُرِّيَّةِ“ اور اس لیے کیونکہ یہ تدبیر جو ہے یہ آزادی کا سبب ہے، یہ جو آقا نے کہا: ”أَنْتَ حُرٌّ بَعْدَ مَوْتِي“، یہ جو تدبیر ہے یہ آزادی کا سبب ہے، ”لِأَنَّ الْحُرِّيَّةَ تَثْبُتُ بَعْدَ الْمَوْتِ“، اس لیے کیونکہ یہ آزادی موت کے بعد ثابت ہوگی، ”وَلَا سَبَبَ غَيْرُهُ“، اور اس ”أَنْتَ حُرٌّ“ کے علاوہ اس کا اور کوئی سبب نہیں ہے، ”ثُمَّ جَعْلُهُ سَبَبًا فِي الْحَالِ أَوْلَى“، پھر اس ”أَنْتَ حُرٌّ“ کو فی الحال سبب قرار دینا اولیٰ یہ بہتر ہے، ”لِوُجُودِهِ فِي الْحَالِ“، اس لیے کیونکہ فی الحال ”أَنْتَ حُرٌّ“ موجود ہے، ”وَعَدَمِهِ بَعْدَ الْمَوْتِ“، اور موت کے بعد معدوم ہے۔ آقا نے زندگی میں غلام سے کیا کہا؟ ”أَنْتَ حُرٌّ بَعْدَ مَوْتِي“، تو فی الحال یہ ”أَنْتَ حُرٌّ“ موجود ہے، اور موت کے بعد تو یہ موجود نہیں ہوگا، تو اس لیے اس کو فی الحال ہی سبب قرار دیا جائے۔ ”وَلِأَنَّ مَا بَعْدَ الْمَوْتِ حَالُ بُطْلَانِ أَهْلِيَّةِ التَّصَرُّفِ“، اور اس لیے کیونکہ موت کے بعد کی جو حالت ہے وہ تو تصرف کی اہلیت کے باطل ہونے کی حالت ہے۔ موت کے بعد تو تصرف کی اہلیت ہی نہیں رہتی، انسان کوئی تصرف مرنے کے بعد نہیں کر سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ مَا بَعْدَ الْمَوْتِ حَالُ بُطْلَانِ أَهْلِيَّةِ التَّصَرُّفِ“، اور اس لیے کیونکہ موت کے بعد جو ہے وہ تو تصرف کی اہلیت کے باطل ہونے کی حالت ہے، ”فَلَا يُمْكِنُ تَأْخِيرُ السَّبَبِيَّةِ إِلَى زَمَانِ بُطْلَانِ الْأَهْلِيَّةِ“، تو لہٰذا ممکن نہیں ہے کہ سبب ہونے کو مؤخر کر دیا جائے اس زمانے تک جو اہلیت کے باطل ہونے کا زمانہ ہے، ”بِخِلَافِ سَائِرِ التَّعْلِيقَاتِ“، بخلاف باقی تعلیقات کے۔ بھئی تدبیر کے اندر ہم نے سبب کو فی الحال ہی سبب قرار دے دیا اور باقی تعلیقات میں فی الحال سبب قرار نہیں دیا، اس لیے کیونکہ وہاں جب شرط پائی جائے گی تب بھی اس شخص میں اہلیت ہوگی۔ جبکہ تدبیر کے معاملے میں تو آقا کے مرنے کے بعد آزادی نے آنا ہے، تو وہاں تو مرنے کے بعد آقا میں اہلیت ہی نہیں۔ تو عام تعلیقات میں تعلیق کرنے والے میں اہلیت ہے، تعلیق کے وقت بھی اور جب شرط پائی جائے گی تب بھی اس میں اہلیت ہوگی۔ جبکہ تدبیر کے مسئلے میں اس وقت تدبیر کی اہلیت تو ہے آقا میں، لیکن مرنے کے بعد تو اس میں آزاد کرنے کی اہلیت نہیں ہوگی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ سَائِرِ التَّعْلِيقَاتِ“، بخلاف باقی تعلیقات کے، ”لِأَنَّ الْمَانِعَ مِنَ السَّبَبِيَّةِ قَائِمٌ قَبْلَ الشَّرْطِ“، اس لیے کیونکہ سبب ہونے سے مانع جو چیز ہے وہ موجود ہے قبل الشرط شرط سے پہلے۔ آقا نے غلام سے کہا: اگر تو اس گھر میں گیا تو تو آزاد ہے۔ یہاں مثلاً عربی الفاظ دیکھ لیں، آقا نے کہا: ”أَنْتَ حُرٌّ إِنْ دَخَلْتَ الدَّارَ“، تو آزاد ہے اگر تو اس گھر میں گیا۔ تو یہاں ”أَنْتَ حُرٌّ“ موجود ہے لیکن یہ آزادی کا سبب نہیں بن رہا، کیوں؟ کیونکہ ایک مانع موجود ہے اور وہ شرط ہے، شرط اس سبب کو سبب بننے سے روک رہی ہے۔ یہ معنی ہے کہ باقی جو تعلیقات ہیں ان کا حکم اور ہے، ”لِأَنَّ الْمَانِعَ مِنَ السَّبَبِيَّةِ“، اس لیے کیونکہ سبب ہونے سے جو مانع ہے، ”قَائِمٌ قَبْلَ الشَّرْطِ“، وہ شرط سے پہلے موجود ہے، ”لِأَنَّهُ يَمِينٌ“، کیونکہ وہ یمین ہے، تعلیق ہے، ”وَالْيَمِينُ مَانِعٌ“، اور یمین جو ہے وہ تو مانع ہوتی ہے، وہ ایک چیز سے روکتی ہے دوسرے کو۔ توجہ ہے؟ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ جو تعلیق ہے اس کو بھی فقہ میں یمین کہتے ہیں۔ وجہ یہ کہ جس طرح قسم کھانے سے لازم ہو جاتی ہے، اس سے رجوع نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح تعلیق بھی جو ہے تعلیق کرنے سے لازم ہو جاتی ہے، اس سے رجوع نہیں ہو سکتا۔ اور نیز جیسے قسم کسی کام پر ابھارنے کے لیے یا روکنے کے لیے ہوتی ہے، اسی طرح تعلیق بھی کسی کام پر ابھارنے کے لیے یا روکنے کے لیے ہوتی ہے۔ مثلاً ایک آدمی قسم کھاتا ہے کہ واللہ میں یہ کام نہیں کروں گا، تو دیکھو یہ اپنے آپ کو روکنا چاہتا ہے اس کام سے۔ یا ایک آدمی قسم کھاتا ہے کہ واللہ یہ کام میں ضرور کروں گا، تو معلوم ہوا یہ اپنے آپ کو ابھارنا چاہتا ہے کہ اب تو قسم کھا لی ہے اب تو تمہیں یہ کام کرنا ہی پڑے گا بھئی۔ تو قسم کس لیے ہوتی ہے؟ کسی کام سے روکنے کے لیے یا کسی کام پر ابھارنے کے لیے۔ اسی طرح تعلیق بھی کسی کام سے روکنے کے لیے ہوگی یا کسی کام پر ابھارنے کے لیے ہوگی۔ ایک شخص اپنی بیوی سے کہتا ہے: ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ“، اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے۔ معلوم ہوا وہ اس گھر میں جانے سے بیوی کو روکنا چاہتا ہے۔ تو یہ تعلیق کس لیے ہے؟ روکنے کے لیے۔ اور کبھی تعلیق ہوگی ابھارنے کے لیے، بیوی سے کہتا ہے: اگر تو اس گھر میں نہ گئی تو تجھے طلاق ہے۔ معلوم ہوا بیوی کو جانا چاہیے، وہ جانے پر ابھار رہا ہے۔ تو جس طرح قسم کسی چیز پر ابھارنے کے لیے یا کسی چیز سے روکنے کے لیے کھائی جاتی ہے، اسی طرح تعلیق بھی کسی چیز پر ابھارنے کے لیے یا کسی چیز سے روکنے کے لیے کی جاتی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ يَمِينٌ“، اس لیے کیونکہ یہ یمین ہے، ”وَالْيَمِينُ مَانِعٌ“، اور قسم جو ہے وہ مانع ہوتی ہے، ”وَالْمَنْعُ هُوَ الْمَقْصُودُ“، اور منع کرنا ہی مقصود ہوتا ہے، یمین کے ذریعے، تعلیق کے ذریعے منع کرنا ہی مقصود ہوتا ہے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ اے صاحبِ ہدایہ، تعلیق تو کبھی کسی کام سے روکنے کے لیے ہوتی ہے اور کبھی تعلیق کسی کام پر ابھارنے کے لیے ہوتی ہے، لیکن آپ تو فرما رہے ہیں کہ تعلیق کے ذریعے روکنا ہی مقصود ہوتا ہے، حالانکہ آپ کو یہ کہنا چاہیے کہ تعلیق کے ذریعے روکنا بھی مقصود ہوتا ہے اور ابھارنا بھی مقصود ہوتا ہے، لیکن آپ کیا فرما رہے ہیں کہ تعلیق کے ذریعے صرف روکنا مقصود ہوتا ہے۔ تو اشکال ہوتا ہے کہ تعلیق کے ذریعے تو کبھی ابھارا بھی جاتا ہے دوسرے کو۔ تو جواب یاد رکھیں کہ نہیں بھئی، تعلیق کے ذریعے روکنا ہی مقصود ہوتا ہے ہمیشہ۔ روکنا ہی مقصود ہوتا ہے۔ مثلاً دیکھو، خاوند نے بیوی سے کہا: اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے۔ تو یہ یمین، یہ تعلیق مانع بنے گی، عورت اس گھر میں نہیں جائے گی کیونکہ اس کو پتہ ہے اگر میں چلی گئی تو مجھے طلاق ہو جائے گی۔ یمین کیا بن رہی ہے؟ مانع، اور منع ہی مقصود ہوتا ہے یمین کے ذریعے۔ تو دیکھو یہاں روکنا مقصود ہے کہ وہ اس گھر میں نہ جائے۔ دوسری صورت، خاوند نے بیوی سے کہا: اگر تو اس گھر میں نہ گئی تو تجھے طلاق ہے۔ نہ گئی تو تجھے طلاق ہے۔ تو یہاں دیکھو یہاں آپ کہیں گے ابھارنا مقصود ہے، ابھارنا نہیں مقصود، یہاں بھی روکنا مقصود ہے۔ کس چیز سے؟ نہ جانے سے۔ اگر تو اس گھر میں نہ گئی، یعنی نہ جانے سے خاوند روک رہا ہے، اور نہ جانے سے روکنے کے ساتھ ابھارنا لازم ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم ہوا یمین کے ذریعے روکنا ہی مقصود ہوتا ہے، لیکن نفی پر جب نفی داخل ہو وہ کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ اثبات کا اور ابھارنے کا۔ تو مثلاً کہا اگر تو اس گھر میں نہ گئی، تو اس نہ جانے سے روک رہا ہے، تو دیکھو یہ بھی روک ہی رہا ہے، لیکن یہ نہ جانے سے روکنا یہی تو جانے پر ابھارنا ہے کہ اس کو اس گھر میں جانے پر ابھار رہا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْيَمِينُ مَانِعٌ“، اور قسم جو ہے وہ مانع ہوتی ہے، ”وَالْمَنْعُ هُوَ الْمَقْصُودُ“، اور منع کرنا ہی مقصود ہوتا ہے، ”وَأَنَّهُ يُضَادُّ وُقُوعَ الطَّلَاقِ وَالْعَتَاقِ“، اور یہ منع جو ہے یہ تو مخالف ہے طلاق اور عتاق کے واقع ہونے کے۔ قسم کس لیے کھائی جاتی ہے، تعلیق کس لیے کی جاتی ہے؟ روکنے کے لیے، تو روکنا ہی تو مقصود ہے۔ لہٰذا تعلیق ہے تو طلاق اور عتاق واقع نہیں کیونکہ منع پائی جا رہی ہے۔ یہ معنی ہے ”وَأَنَّهُ“، ”أَنَّهُ“ کی ہا ضمیر منع کو لوٹائیں۔ ”وَأَنَّهُ يُضَادُّ وُقُوعَ الطَّلَاقِ وَالْعَتَاقِ“، اور یہ منع جو ہے یہ تو متضاد ہے طلاق اور عتاق کے واقع ہونے کے، یعنی اس کے مخالف ہے، ”وَأَمْكَنَ تَأْخِيرُ السَّبَبِيَّةِ إِلَى زَمَانِ الشَّرْطِ“، اچھا، باقی شرطیں جو ہیں، باقی تعلیقات جو ہیں ان میں سببیّت کو آپ مؤخر کر سکتے ہیں۔ کیا ضابطہ تھا عند الاحناف؟ معلق سبب بنتا ہے کب؟ جب شرط پائی جائے۔ تو وہاں سببیّت کو آپ مؤخر کر سکتے ہیں، مثلاً آقا نے کیا کہا غلام سے؟ ”أَنْتَ حُرٌّ إِنْ دَخَلْتَ الدَّارَ“، تو آزاد ہے اگر تو اس گھر میں گیا۔ تو یہاں پر اس ”أَنْتَ حُرٌّ“ کو سبب نہ بناؤ، اس کو مؤخر کر دو، جب وہ اس گھر میں جائے گا تب ”أَنْتَ حُرٌّ“ آئے گا اور غلام آزاد ہو جائے گا۔ تو باقی تعلیقات، ان میں سببیّت کو مؤخر کیا جا سکتا ہے کیونکہ تعلیق کرنے والے میں فی الحال بھی اہلیت ہے اور جب شرط پائی جائے گی اس وقت بھی اس میں اہلیت ہوگی، تو وہاں سببیّت کو مؤخر کرنا ممکن ہے۔ لیکن تدبیر میں سببیّت کو مؤخر نہیں کر سکتے، کیونکہ تدبیر کے اندر مرنے کے بعد جو ”أَنْتَ حُرٌّ“ آئے گا تو وہ شخص جس نے ”أَنْتَ حُرٌّ“ کہا تھا وہ تو مر چکا ہے بھئی، اس میں تو اہلیت ہی نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَأَمْكَنَ تَأْخِيرُ السَّبَبِيَّةِ إِلَى زَمَانِ الشَّرْطِ“، اور سبب ہونے کو مؤخر کرنا ممکن ہے شرط کے زمانے تک، ”لِقِيَامِ الْأَهْلِيَّةِ عِنْدَهُ“، اہلیت کے پائے جانے کی وجہ سے عندہ اس وقت بھئی۔ ”فَافْتَرَقَا“، تو دونوں جدا ہو گئے۔ عام تعلیق تدبیر سے جدا ہو گئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تدبیر میں، تدبیر میں سببیّت کو مؤخر نہیں کر سکتے اور عام تعلیقات میں سببیّت کو مؤخر کر سکتے ہیں۔ ”وَلِأَنَّهُ وَصِيَّةٌ“، اب اور فرق بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ وَصِيَّةٌ“، اور اس لیے کیونکہ تدبیر جو ہے یہ تو وصیت ہے، ”وَالْوَصِيَّةُ خِلَافَةٌ فِي الْحَالِ كَالْوِرَاثَةِ“، اور وصیت جو ہے یہ تو فی الحال خلیفہ بنانا ہے جیسے کہ وراثت میں۔ بھئی دیکھیے، دیکھیے وصیت، مثلاً ایک آدمی کہتا ہے: میرے مرنے کے بعد زید کو میرے مال میں سے دس لاکھ روپے دے دینا۔ تو یہ وصیت کرنے والا زید کو اپنا خلیفہ بنا رہا ہے دس لاکھ روپے میں۔ یہ وصیت کرنے والا زید کو دس لاکھ روپے میں نائب بنا رہا ہے، اور فی الحال نائب بنا رہا ہے، اور کب ملیں گے اس کو؟ مرنے کے بعد۔ جیسے وارث ہونا، جیسے وارث جو ہے میت کا نائب ہوتا ہے اس کے مال میں، زندگی میں ہی اس کا نائب ہے، لیکن مال ملے گا کب؟ موت کے بعد بھئی۔ نائب کب آتا ہے؟ جب اصل نہ رہے بھئی۔ تو وصیت میں بھی نائب جو بنایا وہ فی الحال نائب بن گیا لیکن مال نہیں ملے گا کیونکہ اصل خود ابھی موجود ہے، اور وارث کو بھی مال ملے گا لیکن اصل ابھی موجود ہے، ابھی نہیں ملے گا مرنے کے بعد ملے گا۔ تو معلوم ہوا وصیت جو ہے وہ بھی فی الحال سببِ خلافت ہے۔ وصیت کی وجہ سے بھی فی الحال کوئی کسی کا نائب بن جاتا ہے، جیسے وارث ہونے کی وجہ سے کوئی فی الحال ہی کسی کا نائب ہوتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ وَصِيَّةٌ“، اور اس لیے کیونکہ تدبیر جو ہے وہ وصیت ہے، ”وَالْوَصِيَّةُ خِلَافَةٌ فِي الْحَالِ كَالْوِرَاثَةِ“، اور وصیت جو ہے وہ نائب بنانا ہے فی الحال کالوراثة جیسے کہ وراثت ہے اس میں بھی فی الحال ہی نائب ہوتا ہے، لیکن مال نہیں ملے گا کیونکہ ابھی اصل موجود ہے بھئی۔ ”وَإِبْطَالُ السَّبَبِ لَا يَجُوزُ“، اور سبب کو باطل کرنا جائز نہیں۔ بھئی اس کو جوڑیں ”وَإِبْطَالُ السَّبَبِ“، یہ جہاں سے عقلی دلیل شروع ہوئی تھی حدیث کے بعد: ”وَلِأَنَّهُ سَبَبُ الْحُرِّيَّةِ“، یہ تدبیر کیا ہے؟ سببِ حریت ہے، یہ جو آقا نے غلام سے کہا ”أَنْتَ حُرٌّ بَعْدَ مَوْتِي“، تو یہ ”أَنْتَ حُرٌّ“ اس نے سبب بننا ہے اور اس کو ہم موت تک مؤخر نہیں کر سکتے، اور نیز اس کو باطل بھی نہیں کر سکتے، تو پھر اس کو فی الحال ہی سبب قرار دینا پڑے گا۔ یہ معنی ہے ”وَإِبْطَالُ السَّبَبِ لَا يَجُوزُ“، اور سبب کو باطل کرنا بھی جائز نہیں ہے، ”وَفِي الْبَيْعِ وَمَا يُضَاهِيهِ ذٰلِكَ“، ضَاهَى يُضَاهِي مُضَاهَاةً کا معنی ہے مشابہ ہونا۔ ”وَفِي الْبَيْعِ وَمَا يُضَاهِيهِ“، اور بیع اور جو اس کے مشابہ ہے ان میں ”ذٰلِكَ“ وہ چیز ہے یعنی سببیّت کو باطل کرنا ہے۔ سببیّت کو باطل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ جواب دے رہے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ کو، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے تھے مدبر کو بیچنا بھی جائز اور ہبہ بھی جائز۔ ہم نے کہا نہیں، اگر بیچنے اور ہبہ کو آپ جائز قرار دیں گے تو آپ نے سببیّت کو باطل کر دیا، اور سببیّت کو تو باطل نہیں کیا جا سکتا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِبْطَالُ السَّبَبِ لَا يَجُوزُ“، اور سبب کو باطل کرنا جائز نہیں ہے، ”وَفِي الْبَيْعِ وَمَا يُضَاهِيهِ ذٰلِكَ“، اور بیع اور اس کے جو مشابہ چیزیں ہیں یعنی ہبہ وغیرہ ان میں یہ چیز ہے یعنی سببیّت کو باطل کرنا ہے، اس لیے بیع اور ہبہ جائز نہیں ہوگا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے: ”قَالَ“، اس ”قَالَ“ سے مراد صاحبِ قدوری ہیں۔ قَالَ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَلِلْمَوْلَى أَنْ يَسْتَخْدِمَهُ وَيُؤَاجِرَهُ وَإِنْ كَانَتْ أَمَةً وَطِئَهَا وَلَهُ أَنْ يُزَوِّجَهَا“۔ بھئی مدبر کو بیچا بھی نہیں جا سکتا اور ہبہ بھی نہیں کیا جا سکتا، تو پھر کون کون سے تصرفات جائز ہیں؟ تو آپ کو بتائیں گے باقی غلاموں والے تمام تصرفات اس میں جائز ہیں بھئی۔ مدبر سے خدمت بھی لی جا سکتی ہے، اسے اجرت پر کام بھی کروایا جا سکتا ہے، اور اگر وہ باندی ہے تو اس سے آقا کے لیے صحبت بھی جائز ہے، اور اگر آقا اس کا کسی اور سے نکاح کروانا چاہے تو نکاح بھی کروا سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں قَالَ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَلِلْمَوْلَى أَنْ يَسْتَخْدِمَهُ“، کہ آقا کے لیے جائز ہے کہ وہ مدبر سے خدمت لے، ”وَيُؤَاجِرَهُ“، اور اسے اجرت پر کام کروائے یعنی اسے اجارے پر دے، ”وَإِنْ كَانَتْ أَمَةً وَطِئَهَا“، اور اگر وہ مدبرہ باندی ہے تو اس سے وطی بھی آقا کر سکتا ہے، ”وَلَهُ أَنْ يُزَوِّجَهَا“، اور آقا کے لیے جائز ہے کہ وہ اس کا نکاح کروا سکتا ہے، ”لِأَنَّ الْمِلْكَ فِيهِ ثَابِتٌ لَهُ“، اس لیے کیونکہ مدبر کے اندر آقا کی ملکیت ثابت ہے، ”وَبِهِ تُسْتَفَادُ وِلَايَةُ هٰذِهِ التَّصَرُّفَاتِ“، اور ملکیت کے ذریعے ہی ان تصرفات کی ولایت حاصل ہوتی ہے۔ ”فَإِذَا مَاتَ الْمَوْلَى عَتَقَ الْمُدَبَّرُ مِنْ ثُلُثِ مَالِهِ“، جب آقا مر جائے تو مدبر آزاد ہوتا ہے اس کے مال کے تیسرے حصے میں سے، ”لِمَا رَوَيْنَا“، اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کی، اس حدیث میں کیا آیا تھا؟ ”وَهُوَ حُرٌّ مِنَ الثُّلُثِ“، کہ مدبر آزاد ہوگا ثلث میں سے۔ یہ معنی ہے ”لِمَا رَوَيْنَا“، اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کی، ”وَلِأَنَّ التَّدْبِيرَ وَصِيَّةٌ“، اور اس لیے کیونکہ مدبر بنانا یہ وصیت ہے، ”لِأَنَّهُ تَبَرُّعٌ مُضَافٌ إِلَى وَقْتِ الْمَوْتِ“، کیونکہ یہ تبرع ہے جس کی نسبت کی گئی ہے موت کے وقت کی طرف۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا تبرع بھئی، تبرع کہتے ہیں اپنی طرف سے ایک چیز دینا جو آپ کے ذمے لازم نہ ہو۔ مثلاً آپ کسی کو ویسے ہی پیسے دے دیتے ہیں تو اس کو کہیں گے تبرع، جو آپ ویسے ہی نفلی صدقہ کرتے ہیں۔ زکوٰۃ دیتے ہیں، زکوٰۃ تو آپ پر واجب ہے وہ تبرع نہیں ہے، لیکن اپنی طرف سے ویسے ہی نفلی صدقہ کرتے ہیں، ویسے ہی خیرات کرتے ہیں، کسی کو پیسے دیتے ہیں تو یہ ہے تبرع۔ یا اسی طرح آپ نفلی نماز پڑھتے ہیں، بھئی فرض آپ پڑھتے ہیں وہ تو آپ کے ذمے لازم ہے، لیکن اگر آپ نفل پڑھتے ہیں تو یہ تبرع ہے یعنی آپ اپنی طرف سے یہ ادا کر رہے ہیں، آپ پر لازم نہیں۔ یا اسی طرح آپ روزے رکھتے ہیں، رمضان کا روزہ وہ تو آپ پر لازم ہے وہ تبرع نہیں، لیکن اگر آپ نفلی روزے رکھتے ہیں تو یہ اپنی طرف سے ادا کر رہے ہیں تو ان سب کو کیا کہتے ہیں؟ تبرع۔ اور وصیت بھی کیا ہوتی ہے؟ تبرع ہی ہے کہ میرے مرنے کے بعد فلاں کو اتنا مال دے دینا، تو یہ ویسے ہی مال دیا جا رہا ہے، یہ وصیت کرنے والے پر کوئی لازم نہیں تھا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ التَّدْبِيرَ وَصِيَّةٌ“، اور اس لیے کیونکہ تدبیر وصیت ہے، ”لِأَنَّهُ تَبَرُّعٌ مُضَافٌ إِلَى وَقْتِ الْمَوْتِ“، اس لیے کیونکہ تدبیر جو ہے وہ ایسا تبرع ہے جس کی نسبت کی گئی ہے موت کے وقت کی طرف، ”وَالْحُكْمُ غَيْرُ ثَابِتٍ فِي الْحَالِ“، اور یہ حکم جو ہے یعنی آزادی فی الحال ثابت نہیں ہے، ”فَيَنْفُذُ مِنَ الثُّلُثِ“، تو لہٰذا یہ نافذ ہوگی ثلث میں سے، ”حَتَّى لَوْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ يَسْعَى فِي ثُلُثَيْهِ“، یہاں تک کہ اگر آقا کا اس مدبر کے علاوہ اور کوئی مال نہ ہوا ”يَسْعَى فِي ثُلُثَيْهِ“، تو یہ مدبر اپنے دو ثلث میں سعی کرے گا۔ آقا نے ایک غلام کو مدبر بنایا اور جب آقا کا انتقال ہوا تو اور کوئی مال نہیں صرف مدبر موجود ہے، تو اس مدبر کا ثلث جو ہے وہ تو آزاد ہو جائے گا اور دو ثلث وارثوں کا حق ہے، تو لہٰذا وہ دو ثلث کی قیمت جو بنتی ہے وہ مدبر جا کر کما کر لا کر دے گا اور وارثوں کے حوالے کرے گا۔ یہ معنی ہے ”حَتَّى لَوْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ“، یہاں تک کہ اگر آقا کا اس مدبر کے علاوہ اور کوئی مال نہ ہوا، ”يَسْعَى فِي ثُلُثَيْهِ“، تو مدبر سعی کرے گا اپنے دو ثلث میں، ”وَإِنْ كَانَ عَلَى الْمَوْلَى دَيْنٌ يَسْعَى فِي كُلِّ قِيمَتِهِ“، اور اگر آقا پر دین ہوا تو پھر مدبر سعی کرے گا اپنی ساری قیمت میں۔ یعنی اگر آقا پر اتنا دین ہے جس نے سارے مدبر کی قیمت کا احاطہ کر لیا ہے تو آپ نے پڑھا ہے کہ دین وہ وصیت پر مقدم ہوتا ہے، پہلے دین ادا کیا جاتا ہے پھر وصیت نافذ کی جاتی ہے، اور یہاں تو دین میں ہی سارا مال ختم ہو رہا ہے تو مدبر ساری قیمت میں اپنی سعی کرے گا، وہ کما کر لا کر ان قرض خواہوں کو ادا کرے گا اور پھر آزاد ہو جائے گا۔ اور اگر دین کم ہوا، دین کم ہوا تو اسی کے بقدر، مثلاً غلام کی قیمت ہے دس لاکھ اور دین ہے پانچ لاکھ، تو یہ پانچ لاکھ تو غلام سعی کرے گا یہ، یہ ان قرض خواہوں کو ادا کرے گا اور باقی پانچ لاکھ مال بچ گیا، اس کے اندر ثلث کے اندر یہ ویسے ہی آزاد ہو جائے گا اور باقی دو ثلث جو ہے پانچ لاکھ میں سے وہ وارثوں کو لا کر ادا کرے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَ عَلَى الْمَوْلَى دَيْنٌ يَسْعَى فِي كُلِّ قِيمَتِهِ“، اور اگر آقا پر دین ہوا تو مدبر سعی کرے گا اپنی ساری قیمت میں، ”لِتَقَدُّمِ الدَّيْنِ عَلَى الْوَصِيَّةِ“، بوجہ دین کے وصیت پر مقدم ہونے کے، ”وَلَا يُمْكِنُ نَقْضُ الْعِتْقِ“، اور آزادی کو توڑنا ممکن نہیں ہے، آزادی کو توڑنا ممکن نہیں ہے، ”فَيَجِبُ رَدُّ قِيمَتِهِ“، تو لہٰذا اس کی قیمت کا لوٹانا واجب ہے کہ مدبر اپنی قیمت لوٹائے، آزاد تو اس نے ہر حال میں ہونا ہے۔ ”وَوَلَدُ الْمُدَبَّرَةِ مُدَبَّرٌ“، مدبرہ کی اولاد بھی مدبر ہے۔ آقا نے ایک باندی کو مدبرہ بنایا اور پھر اس باندی نے جس اولاد کو بھی جنم دیا وہ ساری بھی اسی ماں کے حکم میں ہے تو وہ بھی مدبر بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَوَلَدُ الْمُدَبَّرَةِ مُدَبَّرٌ“، اور مدبرہ کی اولاد بھی مدبر ہے، ”وَعَلَى ذٰلِكَ نُقِلَ إِجْمَاعُ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ“، اور اسی پر صحابہ کا اجماع نقل کیا گیا ہے کہ مدبرہ کی اولاد مدبر ہوتی ہے بھئی، اس پر صحابہ کا اجماع ہے بھئی۔ ”وَإِنْ عَلَّقَ التَّدْبِيرَ بِمَوْتِهِ عَلَى صِفَةٍ“، اب وہ تدبیرِ مقید کا ذکر آ گیا۔ آقا نے کہا اگر میں اس سفر میں مر گیا یا اس مرض میں مر گیا تو یہ مدبرِ مقید ہے، اور اس کو بیچنا بھی جائز اور اس کو ہبہ کرنا بھی جائز، کیونکہ اس کی آزادی یقینی نہیں۔ کہتے ہیں: ”وَإِنْ عَلَّقَ التَّدْبِيرَ بِمَوْتِهِ عَلَى صِفَةٍ“، اور اگر آقا نے تدبیر کو معلق کیا اپنی موت کے ساتھ علیٰ صفت کسی خاص صفت پر کہ اس صفت پر یا اس طریقے سے میں مر جاؤں، ”مِثْلُ أَنْ يَقُولَ“، مثال کے طور پر آقا یوں کہتا ہے: ”إِنْ مُتُّ مِنْ مَرَضِي هٰذَا“، میں اگر اپنے اس مرض سے مر گیا، ”أَوْ سَفَرِي هٰذَا“، یا میں اپنے اس سفر سے مر گیا، ”أَوْ مِنْ مَرَضِ كَذَا“، یا میں فلاں مرض سے مر گیا، ”فَلَيْسَ بِمُدَبَّرٍ“، تو یہ مدبر نہیں ہے، یہ مدبرِ مقید ہے، تو ”فَلَيْسَ بِمُدَبَّرٍ“، تو یہ مدبرِ مطلق نہیں ہے، ”وَيَجُوزُ بَيْعُهُ“، اور اس کو بیچنا جائز ہے، ”لِأَنَّ السَّبَبَ لَمْ يَنْعَقِدْ فِي الْحَالِ“، اس لیے کیونکہ سبب فی الحال منعقد نہیں ہوا، یہ آزادی کا سبب فی الحال منعقد نہیں ہوا، ”لِتَرَدُّدٍ فِي تِلْكَ الصِّفَةِ“، بوجہ تردد ہونے کے اس صفت میں، اس صفت میں تردد ہے شک ہے، پتہ نہیں ہوتی ہے یا نہیں ہوتی۔ ”بِخِلَافِ الْمُدَبَّرِ الْمُطْلَقِ“، بخلاف مدبرِ مطلق کے، ”لِأَنَّهُ تَعَلَّقَ عِتْقُهُ بِمُطْلَقِ الْمَوْتِ“، اس لیے کیونکہ اس مدبر کی آزادی تو متعلق ہے مطلقِ موت کے ساتھ، ”وَهُوَ كَائِنٌ لَا مَحَالَةَ“، اور وہ ثابت ہے قطعی طور پر، ”كَائِنٌ“ أَيْ ”ثَابِتٌ“، ”وَهُوَ كَائِنٌ“ أَيْ ”ثَابِتٌ لَا مَحَالَةَ“، اور وہ موت جو ہے وہ تو ثابت ہے قطعی طور پر، موت میں تو ہر حال میں آنا ہے، لہٰذا مدبرِ مطلق نے تو ہر حال میں آزاد ہونا ہے، لیکن مدبرِ مقید کا آزاد ہونا یقینی نہیں، لہٰذا وہ مدبر نہیں بنے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو مدبرِ مقید اس کو ویسے ہی مدبر کہہ رہے ہیں، حقیقت میں وہ مدبر نہیں ہے بھئی۔ کہتے ہیں: ”فَإِنْ مَاتَ الْمَوْلَى عَلَى الصِّفَةِ الَّتِي ذَكَرَهَا“، اگر آقا اسی صفت پر مر گیا جس کو اس نے ذکر کیا تھا، ”عَتَقَ كَمَا يَعْتِقُ الْمُدَبَّرُ“، تو یہ مدبرِ مقید بھی آزاد ہو جائے گا جیسے مدبرِ مطلق آزاد ہوتا ہے۔ بھئی کیا معنی؟ صاحبِ ہدایہ بیان فرما رہے ہیں، کہتے ہیں: ”مَعْنَاهُ مِنَ الثُّلُثِ“، کہ اس کا معنی یہ ہے کہ ثلث میں سے آزاد ہوگا، مدبرِ مطلق ثلث سے آزاد ہوتا ہے تو یہ مدبرِ مقید بھی ثلث سے ہی آزاد ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”مَعْنَاهُ مِنَ الثُّلُثِ“، صاحبِ قدوری کے قول کا معنی یہ ہے کہ یہ ثلث میں سے آزاد ہوگا، ”لِأَنَّهُ ثَبَتَ حُكْمُ التَّدْبِيرِ فِي آخِرِ جُزْءٍ مِنْ أَجْزَاءِ حَيَاتِهِ“، اس لیے کیونکہ اس کے مدبر ہونے کا حکم ثابت ہو جائے گا آقا کی زندگی کے اجزا میں سے آخری جز کے اندر۔ آقا جب بالکل مرنے والا ہے تو اس آخری جز کے اندر اب یہ مدبر بن جائے گا، اس کا حکم ثابت ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ ثَبَتَ حُكْمُ التَّدْبِيرِ“، اس لیے کیونکہ تدبیر کا حکم ثابت ہو جائے گا، ”فِي آخِرِ جُزْءٍ مِنْ أَجْزَاءِ حَيَاتِهِ“، آقا کی زندگی کے اجزا میں سے آخری جز کے اندر، ”لِتَحَقُّقِ تِلْكَ الصِّفَةِ فِيهِ“، بوجہ پائے جانے اس صفت کے آقا کے اندر کہ وہ صفت جو آقا نے ذکر کی تھی کہ اگر میں اس مرض میں مر گیا یا اس سفر میں مر گیا وہ صفت آقا میں پائی گئی، ”لِتَحَقُّقِ تِلْكَ الصِّفَةِ فِيهِ“، بوجہ اس صفت کے آقا میں پائے جانے کے، ”فَلِهٰذَا يُعْتَبَرُ مِنَ الثُّلُثِ“، تو اسی لیے یہ بھی ثلث میں سے معتبر ہوگا، بات سمجھ میں آ گئی؟ کیونکہ آخری جز میں مدبر والا حکم آ جائے گا تو یہ ثلث میں معتبر ہوگا۔ ”وَمِنَ الْمُقَيَّدِ أَنْ يَقُولَ“، اور تدبیرِ مقید میں سے ہی ہے آقا کا یہ کہنا: ”إِنْ مُتُّ إِلَى سَنَةٍ أَوْ عَشْرِ سِنِينَ“، کہ اگر میں مر گیا ایک سال تک، ”أَوْ عَشْرِ سِنِينَ“، اگر میں مر گیا دس سال تک، یہ بھی کس میں سے ہے؟ تدبیرِ مقید میں سے ہے، ”لِمَا ذَكَرْنَا“، اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دیا، کہ اس عرصے میں آقا کا مرنا یقینی نہیں۔ تو یہ تدبیرِ مقید ہے، ”بِخِلَافِ مَا إِذَا قَالَ“، بخلاف اس کے کہ جب آقا نے کہا: ”إِلَى مِائَةِ سَنَةٍ“، سو سال تک، اگر میں سو سال تک مر گیا تو تم آزاد ہو، اور حال یہ ہے کہ اس جیسا آدمی سو سال تک زندہ نہیں رہتا تو پھر اس صورت میں یہ تدبیرِ مطلق ہی شمار ہوگی، کیونکہ اس نے سو سال ذکر کیا ہے اور سو سال میں تو اس کا مرنا یقینی ہے، لہٰذا یہ تدبیرِ مقید نہیں ہے بلکہ تدبیرِ مطلق ہی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ مَا إِذَا قَالَ“، بخلاف اس کے جب آقا نے کہا: ”إِلَى مِائَةِ سَنَةٍ“، کہ اگر میں سو سال تک مر گیا، ”وَمِثْلُهُ لَا يَعِيشُ إِلَيْهِ فِي الْغَالِبِ“، اور حال یہ ہے کہ اس جیسا آدمی زندہ نہیں رہتا سو سال تک فی الغالب اکثر، اکثر اس جیسا آدمی سو سال تک زندہ نہیں رہتا، ”لِأَنَّهُ كَالْكَائِنِ لَا مَحَالَةَ“، اس لیے کیونکہ یہ بھی اسی کی طرح ہے جو ثابت ہو لَا مَحَالَةَ قطعی طور پر۔ بھئی دیکھو، آقا نے کہا اگر میں سو سال تک مر گیا تو تم آزاد ہو، اور اس جیسا آدمی تو سو سال تک زندہ نہیں رہتا، معلوم ہوا اس سو سال کے اندر اس کی موت یقینی تو نہیں لیکن غالب ہے، اور غالب کو بھی کس کی طرح سمجھا جاتا ہے؟ جیسے ایک چیز واقع ہے اور یقینی ہے۔ جب یقینی ہے، معلوم ہوا سو سال میں اس کا مرنا یقینی، جب مرنا یقینی تو معلوم ہوا اس کا آزاد ہونا بھی یقینی، لہٰذا اب یہ مدبرِ مطلق کے حکم میں ہوگا۔ یہ معنی ہے ”وَمِثْلُهُ لَا يَعِيشُ إِلَيْهِ فِي الْغَالِبِ“، اور غالب جو ہے یعنی اکثر اس جیسا آدمی اتنی مدت تک زندہ نہیں رہتا، ”لِأَنَّهُ كَالْكَائِنِ“، اس لیے کیونکہ یہ بھی ثابت کی طرح ہے، ”لِأَنَّهُ كَالْكَائِنِ لَا مَحَالَةَ“، تو یہ بھی اسی طرح ہے جیسے کہ ثابت ہو لَا مَحَالَةَ قطعی طور پر۔ بھئی جیسے آقا کہتا تھا اگر میں مر گیا تو تو آزاد ہے تو آقا کا مرنا یقینی، تو یہاں پر بھی سو سال کی بات کی ہے اس میں آقا کا مرنا غالب ہے اور غالب بھی کس کی طرح؟ یقینی۔ تو یہ ایسے ہی ہو گیا جیسے کہ کائن یعنی ثابت ہوتا ہے، وہ چیز جو قطعی طور پر ثابت ہو یہ بھی اسی کی طرح ہے، کیونکہ اس جیسا آدمی تو سو سال تک نہیں جیتا، تو اس صورت میں بھی آقا کا مرنا یقینی ہو گیا، تو یہ بھی مطلقِ موت کے درجے میں ہوا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا یہ مدبرِ مطلق ہے۔ تو یہ معنی ہے ”لِأَنَّهُ كَالْكَائِنِ لَا مَحَالَةَ“، تو یہ بھی اسی چیز کی طرح ہے جو ثابت ہو قطعی طور پر، یعنی جس کے ہونے میں کوئی شک و شبہ نہ ہو بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی، حل ہو گیا، چلیے بس بھئی، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
160 approved lectures · 97 of 160