Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-083

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 16 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 55
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے بھئی: ”وَإِذَا كَانَ لِلِابْنِ الْغَائِبِ مَالٌ قُضِيَ فِيهِ بِنَفَقَةِ أَبَوَيْهِ، وَقَدْ بَيَّنَّا الْوَجْهَ فِيهِ، وَإِذَا بَاعَ أَبُوهُ مَتَاعَهُ فِي نَفَقَتِهِ جَازَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، وَهَذَا اسْتِحْسَانٌ، وَإِنْ بَاعَ الْعَقَارَ لَمْ يَجُزْ“ گزشتہ سبق میں صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ بیوی اور اصول و فروع کے علاوہ اور جو قریبی محرم رشتہ دار ہیں، ان کا نفقہ بھی بعض صورتوں میں انسان پر واجب ہوگا۔ تو اس میں ایک تو یہ ضروری ہے کہ وہ قریبی محرم رشتہ دار فقیر ہو، اور پھر وہ نابالغ ہو، یا مؤنث ہو، یا ایسا بالغ مرد ہے جو اپاہج ہے یا اندھا ہے۔ تو یہ سب بھی محتاج ہیں، تو حاجت کی وجہ سے ان کا نفقہ قریبی محرم رشتہ دار پر واجب ہوگا، جبکہ وہ قریبی محرم رشتہ دار مالدار ہو بھئی۔ چنانچہ اللہ تعالی قرآن میں فرماتے ہیں: ”وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ“ کہ وارث پر بھی اسی کے مثل ذمہ داری ہے، یعنی نفقہ واجب ہے بھئی۔ اور حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کی قرات میں وارث کے ساتھ ذی رحم محرم کی صفت بھی موجود ہے۔ تو لہٰذا وہ یہاں معتبر ہوگی، تو جو بھی قریبی محرم رشتہ دار ہو اور وہ محتاج ہو، تو اس کا نفقہ اس مالدار آدمی پر آئے گا بھئی۔ البتہ اگر کوئی قریبی محرم رشتہ دار بالغ ہے اور وہ کمانے پر قادر ہے، تو کمانے پر قدرت ہی مالداری کے قائم مقام ہے، لہٰذا اس کا نفقہ کسی پر واجب نہیں ہوگا، اس کو خود کما کر اپنے نفقے کا انتظام کرنا ہوگا۔ جبکہ والدین جو ہیں وہ چاہے کمانے پر قادر ہی کیوں نہ ہوں، پھر بھی ان کا نفقہ جب وہ فقیر ہیں تو ان کا نفقہ اولاد پر واجب ہوگا۔ وجہ یہ کیونکہ والدین جو ہے اگر ان کا نفقہ اولاد پر واجب نہ کیا جائے تو پھر ان کو محنت اور مشقت کرنا پڑے گی پیسے کمانے کے لیے، اور حالانکہ ہمیں تو والدین کو تکلیف دینے سے منع کیا گیا ہے۔ تو لہٰذا کمائی پر قدرت کے باوجود ان کا نفقہ اولاد کے مال میں سے واجب ہوگا جب یہ والدین فقیر ہوں بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ قریبی محرم رشتہ دار کا نفقہ جو ہے وہ میراث کے بقدر واجب ہوگا، یعنی جس شخص کو جتنا میراث میں حصہ مل رہا ہے، اسی کے بقدر اس پر نفقہ بھی واجب ہوگا۔ اس لیے کیونکہ قرآن کے اندر وارث کے لفظ پر تصریح کی گئی ہے: ”وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ“، اور وارث یہ تو صفت کا صیغہ ہے، یہ مشتق ہے، اور مشتق پر جب بھی کوئی حکم لگایا جائے اس کی علت مشتق منہ ہوتا ہے، معلوم ہوا یہاں جو وارث پر ذمہ داری ڈالی گئی ہے اس کی علت وراثت ہے، تو وراثت کے بقدر ہی اس پر نفقہ بھی واجب ہوگا۔ اور نیز اس لیے کیونکہ فقہ کا ضابطہ ہے: ”اَلْغُرْمُ بِالْغُنْمِ“ کہ ضمان جو ہے وہ نفع کے مقابلے میں ہے بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ اگر بالغ اولاد جو ہے وہ مؤنث ہے یا وہ اپاہج ہے اور فقیر ہے، تو اس صورت میں ان کا نفقہ جو ہے وہ بھی والد پر لازم ہوگا ظاہرِ روایت کے مطابق۔ البتہ امام صاحب سے ایک اور روایت نقل کی ہے امام خصاف نے اور امام حسن ابن زیاد رحمہما اللہ نے، کہ اگر بالغ بیٹی فقیر ہے یا بالغ بیٹا اپاہج ہے تو ان کا نفقہ باپ پر نہیں آئے گا بلکہ ماں باپ دونوں پر آئے گا اور میراث کے بقدر آئے گا۔ اور ایک شخص کا انتقال ہو جائے اور صرف اس کے ماں باپ زندہ ہیں تو ماں کو مال میں سے میراث میں سے تیسرا حصہ ملتا ہے اور باپ کو دو حصے ملتے ہیں، یعنی ماں کے مقابلے میں دگنا حصہ ملتا ہے، ماں کا حصہ ایک تہائی اور باپ کا حصہ دو تہائی۔ تو لہٰذا نفقے کے اندر بھی اسی طرح ان پر خرچہ آئے گا۔ اگر ان کی بالغ بیٹی یا بالغ اپاہج بیٹا ہے اور وہ فقیر ہیں، تو ان کا نفقہ بھی ماں باپ پر تین حصے کر کے واجب ہوگا بھئی۔ باپ پر دو حصے آئیں گے اور ایک حصہ ماں پر واجب ہوگا۔ لیکن میں نے آپ کو بتلایا کہ فتوی جو ہے ظاہرِ روایت پر ہے، ظاہرِ روایت یہ ہے کہ یہ اولاد کا خرچہ باپ پر ہی واجب ہوگا۔ یہ جو بالغ اولاد ہے یہ بھی جب محتاج ہے تو یہ نابالغ اولاد کے درجے میں ہوئی، اور نابالغ اولاد کا خرچہ تو صرف باپ پر لازم ہوتا تھا، تو اس بالغ اولاد کا خرچہ بھی حاجت کی صورت میں صرف باپ پر لازم ہوگا بھئی۔ اور صاحبِ ہدایہ نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ قریبی محرم رشتہ دار کا نفقہ وارث پر ہوگا، اس میں اہلیتِ ارث معتبر ہے، وارث ہونے کی صلاحیت معتبر ہے، احرازِ ارث معتبر نہیں۔ یعنی حقیقت میں وارث بنے گا اور اس کو مال ملے گا، یہ معتبر نہیں ہے، وجہ یہ کہ ایک تو حقیقت کا ابھی پتہ چل ہی نہیں سکتا کیونکہ وارث تو وہی بنتا ہے جو موت کے وقت زندہ ہو، تو معلوم نہیں یہ اس کی موت کے وقت زندہ بھی ہوگا یا زندہ نہیں ہوگا، اور نیز ایک اور مثال سے بھی صاحبِ ہدایہ نے وضاحت کی کہ ایک شخص جو ہے وہ تنگدست ہے، اپاہج ہے، اور اس کا ماموں بھی زندہ ہے اور چچا کا بیٹا بھی زندہ ہے، تو یہ ماموں اس کا قریبی محرم رشتہ دار ہے، لہٰذا اس پر اس کا نفقہ واجب ہوگا، جبکہ چچا کا بیٹا وہ قریبی رشتہ دار تو ہے لیکن محرم نہیں کیونکہ چچا کی بیٹی کے ساتھ تو نکاح جائز ہے، تو وہ قریبی رشتہ دار تو ہے لیکن محرم نہیں۔ لیکن اگر اس آدمی کا انتقال ہوا تو اس کی ساری جائداد جو ہے اس کا مالک چچا کا بیٹا بنے گا اور ماموں کے ساتھ رشتہ ماں کے واسطے سے ہے اور جن رشتہ داروں کے ساتھ رشتہ ماں کے واسطے سے ہو ان کو ذوی الارحام کہتے ہیں، اور ان کو مالِ وراثت تب ملتا ہے جب عصبات میں سے کوئی نہ ہو۔ مال باقی بچ جائے اور عصبات میں سے کوئی نہ ہو تو پھر ذوی الارحام کو حصہ ملتا ہے، اور یہاں تو چچا کا بیٹا عصبہ موجود ہے، لہٰذا سارا مال یہ چچا کا بیٹا لے جائے گا۔ تو دیکھو، میراث تو ساری چچا کے بیٹے کو مل رہی ہے لیکن نفقہ ماموں پر آ رہا ہے، وجہ یہ کہ ماموں کے اندر وارث بننے کی صلاحیت ہے بھئی، کیونکہ وہ کس میں سے ہے؟ ذوی الارحام میں سے ہے بھئی، اور ذوی الارحام بھی وارث بنتے ہیں جب عصبات نہ ہوں اور مال بچ جائے۔ اور صاحبِ ہدایہ نے پھر یہ بھی بتلایا تھا کہ قریبی محرم رشتہ دار کا نفقہ تب واجب ہوگا جب دین بھی ایک ہی ہو بھئی، جب دونوں کا دین ایک ہو۔ اگر دین مختلف ہے تو پھر نفقہ واجب نہیں ہوگا اس لیے کیونکہ اس نفقے کے اندر اہلیتِ میراث معتبر ہے بھئی، اور جب دین مختلف ہے پھر تو یہ ایک دوسرے کے وارث ہی نہیں بن سکتے، تو لہٰذا وہاں نفقہ بھی واجب نہیں ہوگا بھئی۔ اور نیز اسی طرح اگر کوئی شخص فقیر ہے تو اس پر بھی دوسرے قریبی محرم رشتہ دار کا نفقہ واجب نہیں ہوگا کیونکہ یہ خود محتاج ہے، تو دوسرے کا نفقہ اس پر واجب نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ بیوی اور اولاد کا نفقہ ہر حال میں انسان پر واجب ہوگا چاہے وہ تنگدست ہی کیوں نہ ہو، وجہ یہ کہ بیوی کے ساتھ اس نے خود نکاح کیا ہے، تو جب اس نے خود نکاح کیا ہے تو اپنے اوپر خود ہی نفقے کو لازم کیا ہے، اور جس چیز کو انسان خود اپنے اوپر لازم کر لے اس میں تنگدستی کو نہیں دیکھا جاتا، تو بیوی کا نفقہ بھی اس پر واجب ہوگا اور نابالغ اولاد کا نفقہ بھی اس آدمی پر واجب ہوگا چاہے وہ تنگدست ہی کیوں نہ ہو۔ پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ مالداری میں کس چیز کو دیکھا جائے گا؟ کس چیز سے پتہ چلے گا کہ ایک شخص مالدار ہے اس پر نفقہ واجب کیا جا سکتا ہے؟ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس میں نصاب کو دیکھا جائے گا یعنی نصابِ زکوٰۃ کو۔ اگر اس شخص کے پاس نصابِ زکوٰۃ کے بقدر مال موجود ہے یعنی ساڑھے باون تولے چاندی کے بقدر مالِ نامی موجود ہے، مالِ نامی بڑھنے والا مال یعنی سونا، چاندی، کرنسی اور مالِ تجارت، ان میں سے کوئی چیز موجود ہے اور ان سب کی قیمت ملا کر ساڑھے باون تولے چاندی کے برابر ہے اور اس پر سال گزر جائے تو پھر اس پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہاں پر بھی مالداری کے اندر یہ نصابِ زکوٰۃ ہی معتبر ہے۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، حقوق العباد کے اندر نصاب اور مالداری کو نہیں دیکھا جاتا بلکہ وہاں پر قدرت کو دیکھا جاتا ہے۔ ایک شخص پر دوسرے کا حق واجب ہے تو وہ اس کو ادا کرنا پڑے گا، اس کے اندر اس کی مالداری کو نہیں دیکھا جائے گا بلکہ اس کے قدرت کو دیکھا جائے گا، جب وہ قادر ہے تو اس کو ادا کرنا پڑے گا بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ فتوی پہلے قول پر ہے کہ یہاں پر مالداری میں نصاب کو دیکھا جائے گا۔ لیکن امام ابو یوسف رحمہ اللہ تو فرماتے تھے کہ وجوبِ زکوٰۃ کا نصاب معتبر ہے لیکن یہاں پر... وجوبِ زکوٰۃ کا نصاب نہیں معتبر بلکہ حرمانِ زکوٰۃ کا نصاب معتبر ہے بھئی۔ میں نے بتایا کہ وجوبِ زکوٰۃ کا نصاب بھی ساڑھے باون تولے چاندی ہے، اور حرمانِ زکوٰۃ کا نصاب بھی ساڑھے باون تولے چاندی ہے۔ جس کے پاس ساڑھے باون تولے چاندی کے بقدر مال ہو تو یہ حرمانِ زکوٰۃ کا نصاب پورا ہے، لہٰذا یہ شخص زکوٰۃ سے محروم ہوگا، یعنی یہ زکوٰۃ کا مستحق نہیں ہے، اس کو زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی۔ لیکن فرق یہ ہے دونوں کے اندر، مقدار تو دونوں میں ساڑھے باون تولے چاندی ہے، لیکن فرق یہ ہے کہ وجوبِ زکوٰۃ میں صرف مالِ نامی کو دیکھا جائے گا یعنی وہ مال جو بڑھنے والا ہے، جو بڑھ سکتا ہے، اور وہ سونا، چاندی، کرنسی اور مالِ تجارت ہے۔ جبکہ حرمانِ زکوٰۃ کے نصاب میں یہ مالِ نامی کو بھی شامل کریں گے اور اس کے علاوہ اگر کوئی زائد مال ہے ایک انسان کے پاس اور وہ اس کی ضرورتِ اصلیہ سے، اس کی حاجتِ اصلیہ سے زائد ہے تو اس کی بھی قیمت ملا کر ساتھ شامل کریں گے۔ مثلاً ایک شخص ہے اس کے پاس ساڑھے باون تولے چاندی سے کم مقدار کے اندر کرنسی موجود ہے لیکن اس کے پاس حاجتِ اصلیہ سے زائد کچھ چیزیں موجود ہیں، مثلاً گھر میں کچھ برتن موجود ہیں اور وہ برتن بھی ایسے ہیں کہ وہ اس شخص کی حاجتِ اصلیہ سے زائد ہیں تو پھر ان برتنوں کی قیمت بھی ساتھ ملائی جائے گی اور پھر جو ہے حرمانِ زکوٰۃ کا نصاب پورا ہو جائے گا تو یہ شخص مستحقِ زکوٰۃ نہیں ہوگا، اسے زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی۔ اور اسی طرح اگر کچھ چیزیں مثلاً انسان نے آسائش کے لیے رکھی ہوئی ہیں، اس کی حاجتِ اصلیہ سے زائد ہیں، مثلاً حاجت تو ایک سائیکل کی ہے اس نے دو سائیکلیں رکھی ہوئی ہیں تو دوسری سائیکل بھی کیا ہوئی؟ حاجتِ اصلیہ سے زائد ہوئی تو ان زائد چیزوں کی یا اس آسائش کے لیے رکھی ہوئی چیزوں کی بھی قیمت لگائی جائے گی۔ اب آئیے آج کے سبق پر: ”وَإِذَا كَانَ لِلِابْنِ الْغَائِبِ مَالٌ قُضِيَ فِيهِ بِنَفَقَةِ أَبَوَيْهِ وَقَدْ بَيَّنَّا الْوَجْهَ فِيهِ“ بھئی گزشتہ سبق کے اندر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ قاضی جو ہے غائب شخص کے خلاف فیصلہ نہیں کر سکتا بھئی، قَضَاءٌ عَلَى الْغَائِب جائز نہیں ہے، تو غائب شخص کے خلاف کسی کے نفقے کا بھی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا سوائے اصول و فروع اور بیوی کے۔ وجہ یہ کہ اصول و فروع اور یہ جو بیوی ہے ان کا نفقہ قضائے قاضی کے بغیر ہی اس شخص کے مال میں واجب ہے، تو جب قاضی ان کے نفقے کا حکم دے رہا ہے تو وہ کوئی قَضَاءٌ عَلَى الْغَائِب نہیں کر رہا، کیونکہ ان کا نفقہ تو پہلے سے ہی اس کے مال میں واجب تھا، قاضی صرف ان کی مدد کر رہا ہے، تو لہٰذا یہ قَضَاءٌ عَلَى الْغَائِب نہیں ہے۔ تو معلوم ہوا قاضی وہ کسی غائب شخص کی بیوی اور اس کی نابالغ اولاد اور اس کے والدین، غائب شخص کے مال میں بھی ان کے نفقے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ تو یہی بیان فرما رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَإِذَا كَانَ لِلِابْنِ الْغَائِبِ مَالٌ“ اور جب غائب بیٹے کا کوئی مال ہو ”قُضِيَ فِيهِ بِنَفَقَةِ أَبَوَيْهِ“ تو اس میں فیصلہ کیا جائے گا اس کے والدین کے نفقے کا ”وَقَدْ بَيَّنَّا الْوَجْهَ فِيهِ“ اور تحقیق اس کے اندر ہم نے وجہ بیان کر دی تھی کہ ان کا نفقہ کوئی قضائے قاضی سے واجب نہیں ہوا، یہ پہلے سے ہی واجب تھا، قاضی صرف ان کی مدد کر رہا ہے بھئی، تو یہ قَضَاءٌ عَلَى الْغَائِب نہیں ہے بھئی۔ ”وَإِذَا بَاعَ أَبُوهُ مَتَاعَهُ فِي نَفَقَتِهِ جَازَ“ بھئی اب صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک شخص غائب ہے اور اس کے ماں باپ جو ہیں وہ فقیر ہیں اور محتاج ہیں تو اب کیا باپ اس غائب بیٹے کے مال کو نفقے کے اندر بیچ سکتا ہے یا نہیں بیچ سکتا؟ تو اب اس کو بیان فرما رہے ہیں بھئی۔ یاد رکھو کسی شخص کا مال جو ہے وہ دو قسم کا ہو سکتا ہے: کچھ مال منقولی ہوتا ہے اور کچھ مال غیر منقولی۔ غیر منقولی وہ ہے جس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہ کیا جا سکے، اور منقولی وہ ہے جس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا سکے۔ غیر منقولی مثلاً ایک آدمی کا گھر ہے، یہ گھر غیر منقولی ہے اس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح دکان جو ہے، دکان کو بھی ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ آپ نہیں لے جا سکتے تو دکان بھی غیر منقولی ہے۔ اسی طرح کارخانہ ہے، اسی طرح قابلِ کاشت زمین ہے، اسی طرح باغ ہے، یہ سب غیر منقولہ جائیدادیں ہیں بھئی۔ اور اس کے علاوہ اور جو سامان ہے وہ سب منقولی چیزیں ہیں جیسے دیکھو گاڑی ہے، گاڑی کو بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا سکتا ہے، گھر کا سامان ہے اس کو بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا سکتا ہے، کارخانے کا سامان ہے بڑی سے بڑی مشینری جو ہے اس کو بھی ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ منتقل کیا جا سکتا ہے، تو یہ سب منقولی چیزیں ہیں بھئی۔ تو معلوم ہوا چیزیں کتنی قسم پر ہو گئیں؟ دو، کچھ منقولی ہیں اور کچھ غیر منقولی۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ بیٹا غائب ہے اور اس نے پیچھے کچھ مال چھوڑا ہے اور اس کے ماں باپ فقیر ہیں، محتاج ہیں، اور بیٹے کا جو مال ہے وہ ماں باپ کے نفقے کی جنس میں سے نہیں ہے۔ مثلاً ماں باپ کا نفقہ جو ہے وہ تو یا تو درہم ہوں گے یا دینار ہوں گے یا گندم ہوگی بھئی، لیکن بیٹا جو پیچھے مال چھوڑ کر گیا ہے وہ درہم اور دینار بھی نہیں ہے اور گندم وغیرہ بھی نہیں ہے۔ اب ماں باپ کو حاجت ہے، ضرورت ہے نفقے کی، تو کیا یہ بیٹے کے سامان کو اپنے نفقے میں بیچ سکتے ہیں؟ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ اگر وہ منقولی سامان ہے تو اس کو باپ جو ہے بیچ سکتا ہے اپنے نفقے میں۔ منقولی سامان کو باپ اپنے نفقے میں بیچ سکتا ہے البتہ اگر وہ غیر منقولی سامان ہے مثلاً زمین وغیرہ ہے، جائیداد ہے، قابلِ کاشت زمین ہے، کارخانہ ہے یا باغ ہے ان کو باپ نہیں بیچ سکتا۔ تو حاصلِ کلام یہ کہ فقہاء فرماتے ہیں کہ غائب شخص کے مال کو بھی والدین کے نفقے میں بیچا جا سکتا ہے لیکن اس میں چار شرطیں ہیں بھئی: پہلی شرط: بیچنے والا اس غائب آدمی کا باپ ہو۔ دوسری شرط: کہ وہ جو غائب ہے وہ اس کا بیٹا ہو۔ تیسری شرط بھئی: کہ یہ جو سامان ہے یہ منقولی ہونا چاہیے، غیر منقولی نہیں۔ اور چوتھی شرط یہ ہے: کہ یہ سامان وہ نفقے کے اندر بیچ رہا ہے، نفقے کے لیے بھئی، کسی اور دَیْن وغیرہ میں نہیں بیچ رہا، مثلاً باپ نے کسی کا قرضہ ادا کرنا ہے تو اب باپ بیٹے کے مال کو بیچ کر قرضہ ادا کرنا چاہتا ہے، نہیں بھئی، آپ کو نفقے کے اندر تو غائب بیٹے کا منقولی سامان بیچنے کی اجازت ہے لیکن کسی اور دَیْن وغیرہ میں آپ کو بیٹے کا سامان بیچنے کی اجازت نہیں ہے۔ تو کتنی شرطیں ہو گئیں؟ چار: پہلی شرط کہ یہ شخص غائب آدمی کا باپ ہو، اور دوسری شرط کہ وہ غائب آدمی اس کا بیٹا ہو، اور تیسری شرط کہ یہ سامان منقولی ہو بھئی، اور چوتھی شرط یہ ہے کہ اس کو اپنے نفقے میں باپ بیچ رہا ہو، کسی اور دَیْن وغیرہ میں نہ بیچ رہا ہو۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا بَاعَ أَبُوهُ مَتَاعَهُ فِي نَفَقَتِهِ جَازَ“ اور جب اس غائب شخص کے باپ نے بیچا اس کے سامان کو فِي نَفَقَتِهِ اپنے نفقے میں جَازَ تو یہ جائز ہے ”عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ امام صاحب کے نزدیک ”وَهَذَا اسْتِحْسَانٌ“ اور یہ استحسان ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ باپ اپنے غائب بیٹے کے منقولی سامان کو اپنے نفقے میں بیچ سکتا ہے اور یہ استحسان ہے بھئی۔ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ باپ کو اس کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، وجہ یہ کہ یہ بیٹا بالغ ہو چکا ہے، بڑا ہو گیا، جب بڑا ہو گیا تو اس پر اور اس کے مال پر باپ کی ولایت ختم ہو چکی، جب باپ کو ولایت ہی نہیں ہے تو کیسے بیچ سکتا ہے؟ تو قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ باپ کو بیٹے کا سامان بیچنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے لیکن استحساناً امام صاحب فرماتے ہیں باپ اپنے نفقے میں غائب بیٹے کا منقولی سامان بیچ سکتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا اسْتِحْسَانٌ“ اور یہ استحسان ہے ”وَإِنْ بَاعَ الْعَقَارَ لَمْ يَجُزْ“ عَقَار کہتے ہیں غیر منقولی جائیداد، جس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل نہ کیا جا سکے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ بَاعَ الْعَقَارَ“ اور اگر باپ نے غیر منقولی جائیداد بیچی ”لَمْ يَجُزْ“ تو یہ جائز نہیں ہے ”وَفِي قَوْلِهِمَا لَا يَجُوزُ فِي ذَلِكَ كُلِّهِ“ اور صاحبین کے قول میں کہ اس سب کے اندر یہ جائز نہیں ہے۔ امام صاحب تو فرماتے ہیں منقولی میں یہ بیع جائز ہے اور غیر منقولی میں یہ بیع جائز نہیں، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں اس سب کے اندر ہی یہ بیع جائز نہیں، چاہے منقولی ہو چاہے غیر منقولی ہو، یہ معنی ہے: ”وَفِي قَوْلِهِمَا لَا يَجُوزُ فِي ذَلِكَ كُلِّهِ“ اور صاحبین کے قول میں کہ اس سب کے اندر یہ جائز نہیں ہے ”وَهُوَ الْقِيَاسُ“ اور یہی قیاس بھی ہے ”لِأَنَّهُ لَا وِلَايَةَ لَهُ“ اس لیے کیونکہ باپ کو ولایت حاصل نہیں ہے ”لِانْقِطَاعِهَا بِالْبُلُوغِ“ اس لیے کیونکہ ولایت منقطع ہو چکی ہے بیٹے کے بالغ ہونے کی وجہ سے ”وَلِهَذَا...“ ”وَلِهٰذَا لَا يَمْلِكُ حَالَ حَضْرَتِهِ“ اور اسی لیے باپ بیچنے کا مالک نہیں ہے بیٹے کی موجودگی میں۔ ولایت منقطع ہو چکی ہے بیٹے پر اور بیٹے کے مال پر۔ لہٰذا اسی لیے جب بیٹا موجود ہو پھر تو امام صاحب بھی فرماتے ہیں کہ باپ کو بیٹے کا مال بیچنے کی اجازت نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِهٰذَا لَا يَمْلِكُ حَالَ حَضْرَتِهِ“ اور اسی لیے باپ بیٹے کے مال کو بیچنے کا مالک نہیں ہے بیٹے کی موجودگی میں، ”وَلَا يَمْلِكُ الْبَيْعَ فِي دَيْنٍ لَهُ سِوَى النَّفَقَةِ“ اور اسی لیے باپ مالک نہیں ہے بیچنے کا اپنے دین میں نفقے کے علاوہ۔ صاحبین کی دلیل چل رہی ہے۔ صاحبین فرماتے ہیں: بیٹے پر اور بیٹے کے مال پر سے باپ کی ولایت ختم ہو چکی ہے، لہٰذا اسی لیے بیٹا اگر موجود ہو تو باپ کو اس کا سامان اپنے نفقے میں بیچنے کی اجازت نہیں، اور نیز باپ اگر اپنے نفقے کے علاوہ کسی اور دین کے اندر اپنے بیٹے کے سامان کو بیچنا چاہے اور بیٹا غائب ہے، تو باپ کو اس کی اجازت نہیں ہے بھئی۔ بھئی دیکھیے نا! انہوں نے پیچھے بتایا نا کہ بیٹا غائب ہو تو اپنے نفقے کے اندر باپ اس کے منقولی سامان کو بیچ سکتا ہے، اسی سے صاحبین استدلال کر رہے ہیں کہ دیکھو امام صاحب بھی فرماتے ہیں کہ باپ اپنے غائب بیٹے کے منقولی سامان کو صرف اپنے نفقے میں بیچ سکتا ہے، نفقے کے علاوہ کسی اور دین میں بھی نہیں بیچ سکتا کیونکہ باپ کو ولایت نہیں ہے بھئی۔ یہ معنی ہے: ”وَلَا يَمْلِكُ الْبَيْعَ فِي دَيْنٍ لَهُ سِوَى النَّفَقَةِ“ اور باپ اس سامان کو بیچنے کا مالک نہیں ہے نفقے کے علاوہ اپنے کسی اور دین میں، ”وَكَذَا لَا تَمْلِكُ الْأُمُّ فِي النَّفَقَةِ“ اور اسی طرح اس کی مالک ماں بھی نہیں ہے نفقہ میں۔ بھئی میں نے آپ کو بتلایا کہ چار شرطیں ہیں پھر ایک شخص کسی غائب کے سامان کو بیچ سکتا ہے۔ پہلی شرط کیا کہ بیچنے والا باپ ہو، دوسری شرط کہ وہ غائب جو ہے اس کا بیٹا ہو، تیسری شرط کہ وہ سامان منقولی ہو، اور چوتھی شرط یہ کہ وہ اپنے نفقے میں بیچے، معلوم ہوا ماں بھی اپنے نفقے کے اندر غائب بیٹے کے سامان کو نہیں بیچ سکتی، تو یہی بیان فرما رہے ہیں: ”وَكَذَا لَا تَمْلِكُ الْأُمُّ فِي النَّفَقَةِ“ اور اسی طرح ماں بھی اس بیچنے کی مالک نہیں ہے اپنے نفقے میں۔ یہ صاحبین کی دلیل چل رہی ہے۔ کیا دلیل ہوئی صاحبین کی؟ صاحبین فرماتے ہیں: یہ جائز نہیں ہے، اس لیے کیونکہ باپ کی ولایت ختم ہو چکی ہے۔ چنانچہ اگر بیٹا موجود ہو تو امام صاحب بھی فرماتے ہیں کہ باپ موجود بیٹے کا مال نہیں بیچ سکتا، اور نیز امام صاحب بھی فرماتے ہیں کہ باپ صرف اپنے نفقے میں بیچ سکتا ہے، کسی اور دین کے اندر نہیں بیچ سکتا، اور نیز اسی لیے امام صاحب فرماتے ہیں کہ ماں کو بھی اس کے بیچنے کی اجازت نہیں ہے بھئی، تو یہ صاحبین کی دلیل چل رہی ہے کہ باپ کو اپنے نفقے میں بھی غائب بیٹے کا مال بیچنے کی اجازت نہیں بھئی۔ ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اب امام صاحب کی دلیل آ گئی۔ میں نے ذکر کیا تھا بھئی، والد صاحب رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ جہاں امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف آ جائے وہاں دراصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ امام صاحب مسئلے کی اتنی گہرائی میں چلے جاتے ہیں کہ اتنی گہرائی تک پہنچنا کسی اور کے بس میں نہیں ہوتا، تو جب صاحبین اتنی گہرائی تک نہیں پہنچتے تو پھر اس کا نتیجہ اختلاف کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اب امام صاحب کی دلیل آ گئی۔ ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ: أَنَّ لِلْأَبِ وِلَايَةَ الْحِفْظِ فِي مَالِ الْغَائِبِ، أَلَا تَرَى أَنَّ لِلْوَصِيِّ ذٰلِكَ فَالْأَبُ أَوْلَى لِوُفُورِ شَفَقَتِهِ“ امام صاحب فرماتے ہیں کہ باپ جو ہے اس کو اپنے غائب بیٹے کے مال میں حفاظت کی ولایت حاصل ہوتی ہے۔ باپ کو اپنے غائب بیٹے کے مال میں حفاظت کی ولایت حاصل ہوتی ہے کہ باپ اس کی حفاظت کرتا ہے بھئی، اس کو ولایت ہے بھئی۔ اور حفاظت کے اندر کبھی چیز کو بیچنا بھی پڑتا ہے۔ زمین اور جائیداد اور گھر وغیرہ یعنی غیر منقولی جائیداد اس کو تو حفاظت کی حاجت نہیں، وہ خود ہی محفوظ ہے، اس زمین کو کوئی اٹھا کر یہاں سے نہیں لے جا سکتا۔ تو زمین اور جائیداد وغیرہ تو خود ہی محفوظ ہے لیکن باقی چیزیں ان میں تو خراب ہونے کا امکان ہوتا ہے، ان کے ضائع ہو جانے کا خطرہ ہوتا ہے، تو کبھی کبھار بطور حفاظت کے ان کو بیچنا ضروری ہو جاتا ہے۔ اب مثلاً بیٹا غائب ہے اور اس کا کچھ سامان پڑا ہوا ہے، عرصہ گزر گیا اب خطرہ ہو رہا ہے کہ یہ سامان تو ضائع ہو جائے گا تو باپ کو اجازت ہے کہ وہ اس سامان کو بیچ دے اور پھر وہ جو رقم حاصل ہو گی اس کو بیٹے کے لیے سنبھال کر رکھ لے بھئی۔ چنانچہ وصی کو بھی اس کی اجازت ہوتی ہے۔ ”وَصِيٌّ“ ص کے ساتھ ہے، وصی وہ شخص ہے جس کو مرنے والا اپنی چیزوں کا نگران بنا دے۔ ایک آدمی مرنے والا ہے اور اس کے بچے چھوٹے ہیں تو وہ ایک آدمی کو نگران بناتا ہے اپنے مال کا کہ یہ مال تم نے اپنی نگرانی میں رکھنا ہے، میری چیزوں کی آپ نے حفاظت کرنی ہے اور اس میں سے میری اولاد پر خرچ کرتے رہنا اور جب وہ بالغ ہو جائیں تو مال ان کے حوالے کر دینا۔ تو یہ جو وصی ہے اس کو بھی اجازت ہوتی ہے، یہ حفاظت کی نیت سے اس سامان کو بیچ سکتا ہے، بلکہ اگر وارثوں کے اندر مال تقسیم ہو رہا ہے لیکن ایک وارث غائب ہے کہیں گیا ہوا ہے اس کا پتہ ہی نہیں کہ کہاں گیا ہے اور کب آئے گا، تو اس کا حصہ وصی نے الگ کر لیا، اب اس کے حصے میں جو چیزیں آئیں ان کے اندر کچھ چیزیں ایسی ہیں کہ اگر ان کو نہیں بیچا جائے گا فوراً تو وہ ضائع ہو جائیں گی، تو وصی کو بطور حفاظت کے غائب بالغ وارث کے سامان کو بھی بیچنے کی اجازت ہے۔ وصی کو حفاظت کے لیے ایسے غائب وارث جو بالغ ہے اس کے سامان کو بیچنے کی بھی اجازت ہے۔ جب وصی کے لیے بطور حفاظت کے ایسے وارث کے سامان کو بیچنا جائز ہے جو بالغ ہے اور غائب ہے تو باپ کے لیے تو بطریقِ اولیٰ جائز ہو گا کیونکہ باپ کی تو شفقت بہت زیادہ ہوتی ہے اپنی اولاد پر۔ تو معلوم ہوا باپ کو اپنے غائب بیٹے کا سامان بطور حفاظت کے بیچنا جائز ہے اور جب باپ کے لیے سامان بیچنا جائز ہے تو اس میں سے اپنا نفقہ لینا بھی جائز ہے بھئی۔ دلیل بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں؟ معلوم ہوا باپ کے لیے بیٹے کا مال بیچنا جائز ہے۔ باپ کے لیے بیٹے کا مال بطور حفاظت کے بیچنا جائز ہے، جب باپ کے لیے بیٹے کے مال کا بیچنا جائز ہوا تو اب وہ اس بیٹے کے مال کو اپنے نفقے میں بھی بیچ سکتا ہے کیونکہ بیٹے کے مال کو بیچنا باپ کے لیے جائز ہے بھئی۔ ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ لِلْأَبِ وِلَايَةَ الْحِفْظِ فِي مَالِ الْغَائِبِ“ کہ باپ جو ہے اس کو غائب بیٹے کے مال میں حفاظت کی ولایت ہوتی ہے، ”أَلَا تَرَى أَنَّ لِلْوَصِيِّ ذٰلِكَ“ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ وصی کے لیے بھی یہ جائز ہے کہ وہ منقولی سامان کو حفاظت کے لیے بیچ دے اگرچہ وہ وارث جو غائب ہے وہ بالغ ہی کیوں نہ ہو، تو کہتے ہیں: ”أَلَا تَرَى أَنَّ لِلْوَصِيِّ ذٰلِكَ“ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ وصی کے لیے بھی یہ جائز ہے، ”فَالْأَبُ أَوْلَى“ تو باپ جو ہے اس کے لیے بطریقِ اولیٰ یہ جائز ہو گا ”لِوُفُورِ شَفَقَتِهِ“ وفور کہتے ہیں کثرت کو، ”لِوُفُورِ شَفَقَتِهِ“ باپ کی شفقت کثیر ہونے کی وجہ سے، ”وَبَيْعُ الْمَنْقُولِ مِنْ بَابِ الْحِفْظِ“ اور منقولی چیز کو بیچنا یہ حفاظت کے باب سے ہے، منقولی چیزوں کو حفاظت کی نیت سے بیچا جاتا ہے، ”وَلَا كَذٰلِكَ الْعَقَارُ“ اور عقار یعنی یہ غیر منقولی جائیداد اس طرح نہیں ہے ”لِأَنَّهَا مُحَصَّنَةٌ بِنَفْسِهَا“ حصن یحصن تحصین بھئی ص کے ساتھ ہے، اس کے معنی ہیں حفاظت کرنا، ”لِأَنَّهَا مُحَصَّنَةٌ بِنَفْسِهَا“ اس لیے کیونکہ غیر منقولی جائیداد خود ہی محفوظ ہے، اس کو کوئی اٹھا کر نہیں لے جا سکتا، ”وَبِخِلَافِ غَيْرِ الْأَبِ مِنَ الْأَقَارِبِ“ اور بخلاف باپ کے علاوہ اور جو قریبی رشتہ دار ہیں، ان کے لیے یہ مال بیچنا اپنے نفقے میں جائز نہیں، تو کہتے ہیں: ”وَبِخِلَافِ غَيْرِ الْأَبِ مِنَ الْأَقَارِبِ“ اور بخلاف باپ کے علاوہ جو اور رشتہ دار ہیں یعنی ان کو بیچنے کی اجازت نہیں ہے ”لِأَنَّهُ لَا وِلَايَةَ لَهُمْ أَصْلًا فِي التَّصَرُّفِ حَالَةَ الصِّغَرِ“ اس لیے کیونکہ ان کو صغر کی حالت میں سرے سے تصرف کی ولایت ہی نہیں ہوتی۔ باپ کو تو صغیر کے مال میں تصرف کی ولایت حاصل ہے، باپ صغیر کے مال کو بیچ سکتا ہے یا اس کے لیے کوئی چیز اس کے مال سے خرید سکتا ہے، لیکن باپ کے علاوہ اور قریبی محرم رشتہ داروں کو تو اس کی ولایت حاصل نہیں ہے، تو لہٰذا ان کے لیے جائز نہیں کہ وہ نفقے کے اندر اس غائب کے سامان کو بیچیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ لَا وِلَايَةَ لَهُمْ أَصْلًا“ اس لیے کیونکہ اور رشتہ دار جو ہیں ان کے لیے سرے سے کوئی ولایت ہے ہی نہیں ”فِي التَّصَرُّفِ حَالَةَ الصِّغَرِ“ صغر کی حالت میں تصرف کے اندر، صغر کی حالت میں تصرف میں یعنی مال کے اندر تصرف میں ان کو کوئی ولایت حاصل نہیں ہے ”وَلَا فِي الْحِفْظِ بَعْدَ الْكِبَرِ“ اور نہ ہی حفاظت کے اندر ان کو ولایت حاصل ہے کبر کے بعد۔ بالغ ہونے کے بعد۔ باپ کو صغر میں بھی ولایتِ تصرف حاصل ہے اور بڑے ہونے کے بعد ولایتِ حفظ حاصل ہے، جبکہ اور رشتہ دار جو ہیں ان کو صغر کی حالت میں ولایتِ تصرف بھی نہیں صغیر کے مال میں اور بڑے ہونے کے بعد ولایتِ حفظ بھی نہیں ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے: ”وَلَا فِي الْحِفْظِ بَعْدَ الْكِبَرِ“ اور بالغ ہونے کے بعد حفاظت میں بھی ان کو کوئی ولایت حاصل نہیں۔ ”وَإِذَا جَازَ بَيْعُ الْأَبِ“ اور جب باپ کا بیچنا جائز ہوا کہ وہ بیٹے کے مال کو بیچ سکتا ہے، ”وَالثَّمَنُ مِنْ جِنْسِ حَقِّهِ“ اور وہ جو ثمن حاصل ہوئے ہیں وہ اس باپ کے حق کی جنس میں سے ہیں۔ باپ نے چیز بیچی تو جو ثمن حاصل ہوئے یہ باپ کے حق کی جنس میں سے ہے، اس میں سے باپ کا نفقہ ادا کیا جا سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَالثَّمَنُ مِنْ جِنْسِ حَقِّهِ“ اور یہ جو ثمن ہیں یہ باپ کے حق کی جنس میں سے ہیں، ”وَهُوَ النَّفَقَةُ“ اور باپ کا حق کیا ہے؟ وہ نفقہ ہے، تو یہ نفقے کی جنس میں سے ہیں، ”فَلَهُ الِاسْتِيفَاءُ مِنْهُ“ تو باپ کے لیے اس میں سے وصول کرنا جائز ہے، اپنی ضرورت کے بقدر وصول کر سکتا ہے ضرورت سے زائد وصول نہیں کر سکتا، ”كَمَا لَوْ بَاعَ الْعَقَارَ وَالْمَنْقُولَ عَلَى الصَّغِيرِ جَازَ“ جیسے کہ اگر باپ نے بیچا غیر منقولی جائداد کو ”وَالْمَنْقُولَ“ اور منقولی سامان کو ”عَلَى الصَّغِيرِ“ صغیر پر ”جَازَ“ تو یہ جائز ہے۔ بھئی دیکھیے! باپ کو صغیر پر بھی ولایت ہے اور اس کے مال پر بھی ولایت ہے۔ باپ اس کے منقولی سامان کو بھی حفاظت کی نیت سے بیچ سکتا ہے یا فائدے کے طور پر بیچ سکتا ہے اگر نفع ہو رہا ہے، اور اسی طرح باپ کے لیے نابالغ کی زمین کو بیچنا بھی جائز ہے جبکہ اس میں نقصان نہ ہو بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی۔ تو کہتے ہیں ”كَمَا لَوْ بَاعَ الْعَقَارَ وَالْمَنْقُولَ عَلَى الصَّغِيرِ جَازَ“ جیسے کہ باپ جو ہے صغیر پر اس کی جائداد کو یا اس کے منقولی سامان کو بیچے تو یہ جائز ہے، ”لِكَمَالِ الْوِلَايَةِ“ ولایت کے کامل ہونے کی وجہ سے کہ باپ کو کامل ولایت حاصل ہے۔ تو باپ نابالغ کی جائداد کو بھی بیچ سکتا ہے اور منقولی سامان کو بھی بیچ سکتا ہے، اور پھر باپ نے بیچ دیا اور بعد میں باپ محتاج ہوا اس کو نفقے کی حاجت پڑ گئی تو باپ اب اس میں سے اپنا نفقہ وصول کر سکتا ہے، اس نابالغ بچے کے مال میں سے اپنا نفقہ وصول کر سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں ”ثُمَّ لَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْهُ بِنَفَقَتِهِ“ پھر باپ کے لیے جائز ہے کہ وہ اس مال میں سے لے لے اپنے نفقے کو ”لِأَنَّهُ مِنْ جِنْسِ حَقِّهِ“ اس لیے کیونکہ یہ مال جو ہے یہ بھی اس باپ کے حق کی جنس میں سے ہے۔ ”وَإِنْ كَانَ لِلِابْنِ الْغَائِبِ مَالٌ فِي يَدِ أَبَوَيْهِ وَأَنْفَقَا مِنْهُ لَمْ يَضْمَنَا“ اب دوسری صورت ہے کہ غائب بیٹے کا کچھ مال ماں باپ کے پاس موجود ہے درہم اور دینار وغیرہ ہیں، اور وہ بیٹا غائب ہے اور ماں باپ کو نفقے کی حاجت ہوئی اور ماں باپ نے اس مال میں سے پھر اپنا نفقہ وصول کر لیا اپنے اوپر کچھ خرچ کر لیا، تو کیا وہ ضامن ہوں گے؟ کہتے ہیں نہیں بھئی! وہ ضامن نہیں ہوں گے انہوں نے اپنا حق وصول کیا ہے بھئی۔ کہتے ہیں ”وَإِنْ كَانَ لِلِابْنِ الْغَائِبِ مَالٌ فِي يَدِ أَبَوَيْهِ“ اور اگر غائب بیٹے کا کچھ مال ہے اس کے والدین کے قبضے میں ”وَأَنْفَقَا مِنْهُ“ اور ان دونوں نے اس میں سے خرچ کر لیا ”لَمْ يَضْمَنَا“ تو یہ دونوں ضامن نہیں ہوں گے ”لِأَنَّهُمَا اسْتَوْفَيَا حَقَّهُمَا“ اس لیے کیونکہ ماں باپ نے اپنا حق وصول کیا ہے ”لِأَنَّ نَفَقَتَهُمَا وَاجِبَةٌ قَبْلَ الْقَضَاءِ عَلَى مَا مَرَّ“ اس لیے کیونکہ ماں باپ کا نفقہ قضا سے پہلے ہی واجب ہے اس وجہ سے جو بات گزر گئی ”وَقَدْ أَخَذَا جِنْسَ الْحَقِّ“ اور تحقیق ان دونوں نے اپنا جنسِ حق لیا ہے۔ ”وَقَدْ أَخَذَا جِنْسَ الْحَقِّ“ اور ماں باپ نے اپنا جنسِ حق لیا ہے تو لہٰذا ان پر ضمان نہیں آئے گا۔ ”وَإِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ فِي يَدِ أَجْنَبِيٍّ“ دوسری صورت بھئی، غائب بیٹے کا مال ایک اجنبی آدمی کے پاس بطورِ امانت کے موجود ہے۔ بیٹا غائب ہے لیکن اس نے کچھ درہم اور دینار ایک اجنبی آدمی کے پاس بطورِ امانت کے رکھوائے تھے اور اس اجنبی آدمی کو پتہ ہے کہ یہ اس غائب آدمی کے ماں باپ ہیں، اور وہ ماں باپ اپنے نفقے کے محتاج ہوئے تو اس مودَع نے یعنی جس کے پاس امانت رکھوائی گئی تھی اس نے قاضی کی اجازت کے بغیر ہی ماں باپ پر خرچ کر دیا، قاضی کی اجازت کے بغیر ہی ماں باپ پر خرچ کر دیا اور پھر بعد میں بیٹا آیا اور اس نے کہا میری اجازت کے بغیر تم نے میرا مال کیوں خرچ کیا تو بیٹا اس سے ضمان وصول کر سکتا ہے بھئی۔ اس لیے کیونکہ یہ جس کے پاس بیٹے نے امانت رکھوائی تھی اس کو اس مال کی حفاظت کی ولایت تو حاصل ہے اس کو خرچ کرنے کی ولایت حاصل نہیں۔ لیکن اگر ماں باپ قاضی کے پاس چلے گئے اور قاضی نے اس اجنبی سے، وہ جو مودَع تھا قاضی نے اس سے کہا کہ تم اس غائب کے ماں باپ پر اس مال میں سے خرچ کرو تو پھر اس صورت میں بیٹا واپس آ کر بھی اس غائب آدمی سے ضمان وصول نہیں کر سکتا کیونکہ اس کو قاضی نے حکم دیا تھا اور قاضی کا حکم بھی اسی بیٹے کے حکم کی طرح تھا بھئی، کیونکہ قاضی کو ولایتِ عامہ حاصل ہے سب پر اس کا حکم نافذ ہوتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَإِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ فِي يَدِ أَجْنَبِيٍّ“ اور اگر غائب بیٹے کا کچھ مال ایک اجنبی شخص کے قبضے میں ہے ”فَأَنْفَقَ عَلَيْهِمَا بِغَيْرِ إِذْنِ الْقَاضِي“ تو اس اجنبی شخص نے اس غائب بیٹے کے والدین پر خرچ کر دیا قاضی کی اجازت کے بغیر ”ضَمِنَ“ تو اس صورت میں یہ اجنبی ضامن ہوگا یعنی بیٹا اگر ضمان لینا چاہے تو اس سے ضمان وصول کر سکتا ہے۔ لیکن یاد رکھو علماء فرماتے ہیں کہ قضاءً یہ ضامن ہوگا، دیانۃً ضامن نہیں۔ قضاءً ضامن ہونے کا مطلب یہ ہے اگر بیٹا قاضی کے پاس چلا گیا کہ اس نے میری اجازت کے بغیر خرچہ کیوں کیا ہے تو قاضی یہی فیصلہ کرے گا کہ اس آدمی سے ضمان دلوایا جائے گا بیٹے کو، لیکن دیانۃً یعنی اس آدمی اور اللہ کے درمیان اگر معاملہ دیکھا جائے تو اس آدمی پر ضمان نہیں ہے، آخرت میں بھی اس کی کوئی پکڑ نہیں ہوگی کیونکہ اس نے حق داروں پر حق خرچ کیا ہے بھئی، غیر حق داروں پر خرچ نہیں کیا، ماں باپ کا نفقہ اس مال کے اندر بنتا تھا ان کا حق بنتا تھا بھئی۔ تو کہتے ہیں ”فَأَنْفَقَ عَلَيْهِمَا بِغَيْرِ إِذْنِ الْقَاضِي ضَمِنَ“ تو اس اجنبی نے قاضی کی اجازت کے بغیر ہی اس غائب کے ماں باپ پر خرچ کر دیا تو یہ ضامن ہوگا یعنی قضاءً ضامن ہوگا ”لِأَنَّهُ تَصَرُّفٌ فِي مَالِ الْغَيْرِ بِغَيْرِ وِلَايَةٍ“ اس لیے کیونکہ یہ تصرف کرنا ہے غیر کے مال میں بغیر کسی ولایت کے۔ اس کے پاس تو حفاظت کی ولایت تھی، خرچ کرنے کی ولایت تو نہیں تھی۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّهُ تَصَرُّفٌ فِي مَالِ الْغَيْرِ بِغَيْرِ وِلَايَةٍ“ اس لیے کیونکہ یہ غیر کے مال میں تصرف کرنا ہے بغیر کسی ولایت کے ”لِأَنَّهُ نَائِبٌ فِي الْحِفْظِ لَا غَيْرُ“ اس لیے کیونکہ یہ جو اجنبی ہے یہ حفاظت کے اندر تو اس غائب کا نائب ہے ”لَا غَيْرُ“ اس کے علاوہ اور چیزوں میں اس کا نائب نہیں ہے، خرچ کرنے میں اس کا نائب نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّهُ نَائِبٌ فِي الْحِفْظِ لَا غَيْرُ“ یہ جو اجنبی ہے یہ حفاظت کے اندر تو اس غائب کا نائب ہے لا غیر اس کے علاوہ اور چیزوں میں نہیں، ”بِخِلَافِ مَا إِذَا أَمَرَهُ الْقَاضِي“ بخلاف اس صورت کے کہ جب اس کو قاضی نے حکم دیا ہو ”لِأَنَّ أَمْرَهُ مُلْزِمٌ“ اس لیے کیونکہ قاضی کا جو حکم ہوتا ہے وہ لازم کرنے والا ہے، وہ نفقے کو یا اور کسی بھی چیز کو لازم کر دیتا ہے تو کہتے ہیں ”لِأَنَّ أَمْرَهُ مُلْزِمٌ“ اس لیے کیونکہ قاضی کا حکم جو ہے چیز کو لازم کر دیتا ہے ”لِعُمُومِ وِلَايَتِهِ“ قاضی کی عمومِ ولایت کی وجہ سے کہ اس کو ولایتِ عامہ حاصل ہے سب پر اس کا حکم نافذ ہوتا ہے۔ ”وَإِذَا ضَمِنَ“ جی اب صورت یہ ہے کہ اس اجنبی نے ماں باپ پر خرچ کر دیا اجازت کے بغیر ہی اور پھر بیٹا آیا اور بیٹا اس کو قاضی کے پاس لے گیا اور قاضی نے حکم دیا کہ تم نے اجازت کے بغیر خرچ کیا ہے لہٰذا تمہیں ضمان دینا پڑے گا، چنانچہ اس اجنبی نے بیٹے کو ضمان دے دیا۔ اجنبی نے بیٹے کو ضمان دے دیا، اور یہ جو اجنبی پر ضمان آیا یہ کس کی وجہ سے آیا؟ ماں باپ پر خرچ کرنے کی وجہ سے، تو کیا اب اجنبی ماں باپ پر رجوع کر سکتا ہے کہ تمہاری وجہ سے مجھے یہ نقصان پہنچا ہے لہٰذا وہ اب مجھے واپس ادا کرو؟ کہتے ہیں نہیں، ماں باپ پر رجوع نہیں کر سکتا۔ بھئی کیوں نہیں رجوع کر سکتا؟ ماں باپ کی وجہ سے اس کو یہ نقصان ہوا ہے۔ کہتے ہیں کہ جب اس اجنبی نے بیٹے کو ضمان دے دیا، جب ضمان دے دیا تو اجنبی نے وہ جو مال دیا تھا ماں باپ کو اجنبی اس کا مالک بن گیا، اور ابھی نہیں مالک بنا، جس وقت ماں باپ کو دے رہا تھا اسی وقت سے مالک بن گیا تھا بھئی۔ یہ نسبت کب کی طرف کی جائے گی؟ یہ جو ضمان ابھی دے رہا ہے لیکن یہ ملکیت کی نسبت اس زمانۂ ماضی میں جب وہ ادا کر رہا تھا ماں باپ کو اسی کی طرف کی جائے گی کیونکہ اس ادا کرنے کی وجہ سے اس پر ضمان آیا ہے، تو لہٰذا یہ اجنبی اس ادا شدہ مال کا مالک بن گیا ادائیگی کے وقت ہی۔ تو گویا جس وقت یہ ادا کر رہا تھا تو اپنا مال ادا کر رہا تھا، اس بیٹے کا مال ادا نہیں کر رہا تھا اور جب اپنا مال ادا کر رہا ہے اپنی مرضی سے دے رہا ہے تو یہ متبرع ہوا، ایک چیز اس پر لازم نہیں تھی یہ ویسے خرچ کر رہا ہے اور اس کے اندر اب یہ رجوع نہیں کر سکتا، بات سمجھ میں آگئی۔ تو کہتے ہیں ”وَإِذَا ضَمِنَ“ اور جب یہ اجنبی ضامن ہوا ”لَا يَرْجِعُ عَلَى الْقَابِضِ“ تو یہ قبضہ کرنے والے پر رجوع نہیں کرے گا یعنی ماں باپ پر رجوع نہیں کرے گا، قبضہ کس نے کیا تھا؟ ماں باپ نے۔ تو کہتے ہیں ”وَإِذَا ضَمِنَ لَا يَرْجِعُ عَلَى الْقَابِضِ“ جب یہ اجنبی ضامن ہوا تو یہ قبضہ کرنے والے یعنی ماں باپ پر رجوع نہیں کرے گا ”لِأَنَّهُ مَلَكَهُ بِالضَّمَانِ“ اس لیے کیونکہ یہ اجنبی جو ہے اس مال کا مالک بن گیا ضمان کی وجہ سے ”فَظَهَرَ أَنَّهُ كَانَ مُتَبَرِّعًا بِهِ“ تو یہ ظاہر ہوا کہ یہ اس مال کے دینے میں متبرع تھا۔ میں نے بتلایا تھا تبرع اسے کہتے ہیں کہ اپنی طرف سے کوئی چیز کسی کو دینا جو آپ پر لازم نہ ہو۔ آپ فقیر کو اپنی طرف سے پیسے دیتے ہیں تو یہ پیسے آپ پر لازم نہیں ہیں یہ آپ اپنی طرف سے دے رہے ہیں اس کو تبرع کہتے ہیں۔ تو معلوم ہوا یہ اجنبی بھی ماں باپ پر جب خرچ کر رہا تھا ان کو مال دے رہا تھا تو اس میں متبرع تھا، متبرع تھا۔ تو کہتے ہیں ”فَظَهَرَ أَنَّهُ كَانَ مُتَبَرِّعًا بِهِ“ تو یہ بات ظاہر ہوگئی کہ یہ شخص اس مال کے دینے میں متبرع تھا۔ آگے دیکھیے: ”وَإِذَا قَضَى الْقَاضِي لِلْوَلَدِ وَالْوَالِدَيْنِ وَذَوِي الْأَرْحَامِ بِالنَّفَقَةِ فَمَضَتْ مُدَّةٌ سَقَطَتْ“ بھئی بیوی کے مسئلے کے اندر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ قاضی جب بیوی کے لیے نفقہ مقرر کر دے یا شوہر غائب ہے قاضی نفقہ بھی مقرر کر دیتا ہے اور بیوی کو قرضہ لینے کا حکم بھی دے دیتا ہے تو اس صورت میں یہ نفقہ خاوند کے ذمے دین ہوتا چلا جائے گا۔ جب قاضی نے مقرر کر دیا اب خاوند نفقہ ادا نہیں کرے گا تو جتنی مدت تک ادا نہیں کرے گا وہ سارا اس خاوند کے ذمے دین ہو جائے گا اس کو بعد میں ادا کرنا پڑے گا۔ لیکن اور رشتہ داروں کے نفقے میں فرق ہے بھئی، بیوی کا نفقہ تو دین بنتا تھا لیکن باقی رشتہ داروں کا نفقہ دین نہیں بنے گا۔ مثلاً مثلاً قاضی نے اولاد کا یا والدین یا اور قریبی محرم رشتہ داروں کا نفقہ واجب کر دیا اور پھر کچھ مدت گزر گئی اور اس آدمی نے نفقہ ادا نہیں کیا تو کیا ان کا نفقہ اس آدمی کے ذمے دین ہوگا؟ کہتے ہیں نہیں، یہاں پر جب مدت گزر جائے گی تو نفقہ ساقط ہو جائے گا۔ وجہ یہ کہ یہاں پر جو نفقہ آیا ہے وہ حاجت اور ضرورت کی وجہ سے ہے۔ یہاں پر جو نفقہ اس آدمی پر واجب ہوا ہے وہ ضرورت اور حاجت کی وجہ سے واجب ہوا ہے اور جب کچھ مدت گزر گئی معلوم ہوا اس کے اندر ان لوگوں کی حاجت پوری ہوگئی، جب حاجت پوری ہوگئی تو وہ اب اس شخص کے ذمے دین بھی نہیں ہوگا، جبکہ بیوی کا جو نفقہ ہوتا ہے وہ تو احتباس کی وجہ سے ہوتا ہے اور جب احتباس موجود ہے تو خاوند کے ذمے نفقہ بھی واجب ہے۔ فرق سمجھ میں آیا؟ بیوی کا نفقہ کس وجہ سے ہوتا ہے؟ احتباس کی وجہ سے، لہٰذا جب قاضی نے فیصلہ کر دیا تو وہ احتباس تو موجود ہے تو وہ نفقہ دین ہوتا چلا جائے گا، جبکہ والدین وغیرہ کا نفقہ جو ہوتا ہے وہ حاجت اور ضرورت کی وجہ سے ہے اور قاضی کے فیصلے کے بعد بھی کچھ مدت گزر گئی اور اس آدمی نے نفقہ ادا نہیں کیا معلوم ہوا اس دوران کی ان لوگوں کی حاجت پوری ہوگئی، جب حاجت پوری ہوگئی تو اب اس شخص پر وہ نفقہ بطورِ دین کے بھی لازم نہیں کیا جائے گا، بات سمجھ میں آگئی۔ ہاں البتہ ایک صورت ہے، اگر اگر ان لوگوں کو قاضی نے قرضہ لینے کا حکم دیا، اولاد کو یا والدین کو یا قریبی محرم رشتہ دار کو قاضی نے قرضہ لینے کا حکم دیا کہ تم اس غائب کے ذمے پر قرض لیتے رہو اور اپنے اوپر خرچ کرتے رہو وہ آ کر ادا کرے گا تو پھر اس صورت میں یہ نفقہ اس پر دین ہوگا۔ تو فرق سمجھ میں آیا؟ بیوی کے لیے قاضی نفقے کا فیصلہ کرے یا قرضہ لینے کا حکم دے دونوں صورتوں میں اس کا نفقہ اب خاوند کے ذمے دین ہوتا چلا جائے گا جبکہ اور رشتہ دار جو ہیں ان کے اندر قاضی کے فیصلے سے وہ دین نہیں بنے گا بلکہ اگر قاضی قرض لینے کا حکم دے دے ان کو پھر وہ نفقہ دین بنے گا، فرق سمجھ میں آگیا۔ تو کہتے ہیں ”وَإِذَا قَضَى الْقَاضِي لِلْوَلَدِ وَالْوَالِدَيْنِ وَذَوِي الْأَرْحَامِ بِالنَّفَقَةِ“ اور جب قاضی فیصلہ کر دے اولاد کے لیے اور والدین کے لیے اور قریبی محرم رشتہ داروں کے لیے نفقے کا ”فَمَضَتْ مُدَّةٌ“ پھر کچھ مدت گزر گئی اور اس نے نفقہ ادا نہیں کیا ”سَقَطَتْ“ تو نفقہ ساقط ہو جائے گا ”لِأَنَّ نَفَقَةَ هَؤُلَاءِ تَجِبُ كِفَايَةً لِلْحَاجَةِ“ اس لیے کیونکہ ان لوگوں کا نفقہ واجب ہوا ہے حاجت کی کفایت کے لیے حاجت پوری کرنے کے لیے ”حَتَّى لَا تَجِبُ مَعَ الْيَسَارِ“ یاد رکھو یہاں بھی ”حَتَّى“ نصب نہیں دے گا کیونکہ حتیٰ کے نصب دینے کی شرائط یہاں پوری نہیں۔ تو یہاں ”تَجِبُ“ پر ہم رفع پڑھیں گے۔ حتیٰ کے نصب دینے کی دو شرائط میں نے ذکر کی ہیں: ایک یہ کہ حتیٰ کا مابعد وہ مستقبل ہونا چاہیے حتیٰ کے ماقبل کی طرف نظر کرتے ہوئے، اور دوسری شرط یہ کہ وہاں حتیٰ سببيت یا غایت کا فائدہ دے اور یہاں یہ شرطیں پوری نہیں لہٰذا یہاں حتیٰ نصب نہیں دے گا۔ تو کہتے ہیں ”حَتَّى لَا تَجِبُ مَعَ الْيَسَارِ“ یہاں تک کہ مالداری کے ساتھ ان کا نفقہ واجب نہیں ہوتا، اگر یہ سارے مالدار ہیں پھر ان کا نفقہ واجب نہیں ہوتا ”وَقَدْ حَصَلَتْ بِمُضِيِّ الْمُدَّةِ“ اور تحقیق نفقہ تو حاصل ہو گیا مدت کے گزرنے سے۔ جب مدت گزر گئی معلوم ہوا ان کو نفقہ مل چکا ہے اس دوران ان کی ضرورت پوری ہو چکی ہے۔ ”بِخِلَافِ نَفَقَةِ الزَّوْجَةِ إِذَا قَضَى بِهَا الْقَاضِي“ بخلاف بیوی کے نفقے کے جب اس کا قاضی فیصلہ کر دے ”لِأَنَّهَا تَجِبُ مَعَ يَسَارِهَا“ اس لیے کیونکہ بیوی کا نفقہ واجب ہوتا ہے باوجود بیوی کے مالدار ہونے کے کیونکہ وہ تو احتباس کا بدلہ ہے بھئی، کہ بیوی نے اپنے آپ کو خاوند کے لیے گھر میں روک کر رکھا ہے۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّهَا تَجِبُ مَعَ يَسَارِهَا“ اس لیے کیونکہ بیوی کا نفقہ بیوی کی مالداری کے باوجود واجب ہوتا ہے ”فَلَا تَسْقُطُ بِحُصُولِ الِاسْتِغْنَاءِ فِيمَا مَضَى“ تو لہٰذا وہ نفقہ ساقط نہیں ہوگا مالداری یا بے نیازی حاصل ہونے سے فیما مضی اس زمانے میں جو گزر چکا ہے۔ تو بیوی کا نفقہ تو مالداری کے باوجود واجب ہوتا ہے تو اگرچہ بیوی کی حاجت پوری ہو گئی ہے گزشتہ زمانے کے اندر لیکن حاجت پوری ہونے کے باوجود نفقہ پھر بھی خاوند کے ذمے رہے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں ”فَلَا تَسْقُطُ بِحُصُولِ الِاسْتِغْنَاءِ فِيمَا مَضَى“ لہٰذا بیوی کا نفقہ ساقط نہیں ہوگا بے نیازی حاصل ہونے کی وجہ سے اس زمانے میں جو گزر چکا ہے۔ ”قَالَ:“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ الْقَاضِي بِالِاسْتِدَانَةِ عَلَيْهِ“ مگر یہ کہ قاضی اجازت دے اس آدمی پر قرض لینے کا۔ یہ متن ہے متن کو پچھلے متن سے جوڑیں بھئی، پیچھے کیا آیا تھا کہ اولاد یا والدین یا اور قریبی محرم رشتہ دار جب ان کے نفقے کا قاضی فیصلہ کر دے اور پھر اس کے بعد بھی کچھ مدت تک یہ آدمی ادا نہ کرے تو وہ نفقہ ساقط ہو جائے گا وہ دین نہیں بنے گا، ”إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ الْقَاضِي بِالِاسْتِدَانَةِ عَلَيْهِ“ مگر یہ کہ قاضی اجازت دے دے اس آدمی پر قرض لینے کا۔ قاضی نے یہ اولاد کو یا والدین کو یا قریبی محرم رشتہ داروں کو ان کا نفقہ بھی واجب کیا اور ان کو قرض لینے کی بھی اجازت دے دی تو پھر اس صورت میں اب گزشتہ ایام کا نفقہ بھی اس پر دین ہو جائے گا وہ دینا پڑے گا۔ یہ معنی ہے: ”إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ الْقَاضِي“ مگر یہ کہ قاضی اجازت دے دے ”بِالِاسْتِدَانَةِ عَلَيْهِ“ اس غائب آدمی پر قرض لینے کا ”لِأَنَّ الْقَاضِيَ لَهُ وِلَايَةٌ عَامَّةٌ“ اس لیے کیونکہ قاضی جو ہے اس کو ولایتِ عامہ حاصل ہوتی ہے یعنی تمام لوگوں پر اس کا حکم نافذ ہوتا ہے ”فَصَارَ إِذْنُهُ كَأَمْرِ الْغَائِبِ“ تو اس قاضی کی اجازت ایسے ہی ہوگئی جیسے کہ غائب آدمی کا اپنا حکم ہے، جیسے غائب آدمی خود ہی حکم دے رہا ہے بھئی، قاضی کی اجازت اسی کی طرح ہو گئی ”فَصَارَ إِذْنُهُ كَأَمْرِ الْغَائِبِ“ تو قاضی کی اجازت اس غائب آدمی کے حکم کی طرح ہو گئی ”فَيَصِيرُ دَيْنًا فِي ذِمَّتِهِ“ تو لہٰذا یہ دین ہو جائے گا اس غائب آدمی کے ذمہ میں ”فَلَا يَسْقُطُ بِمُضِيِّ الْمُدَّةِ“ تو یہ مدت کے گزرنے سے ساقط نہیں ہوگا۔ آگے دیکھیے: ”فَصْلٌ: وَعَلَى الْمَوْلَى أَنْ يُنْفِقَ عَلَى أَمَتِهِ وَعَبْدِهِ“ جی اس فصل کے اندر اب صاحبِ ہدایہ غلام اور باندی کے نفقے کو بیان فرمائیں گے۔ صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ غلام یا باندی کا نفقہ بھی ان کے مالک پر واجب ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَعَلَى الْمَوْلَى أَنْ يُنْفِقَ عَلَى أَمَتِهِ وَعَبْدِهِ“ اور آقا پر واجب ہے کہ وہ خرچ کرے اپنی باندی پر اور اپنے غلام پر ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فِي الْمَمَالِيكِ:“ بوجہ حضور علیہ السلام کے قولِ مبارک کے جو آپ نے مملوکوں کے بارے میں فرمایا، جو حضور علیہ السلام نے فرمایا مملوکوں کے بارے میں، حضور فرماتے ہیں: ”إِنَّهُمْ إِخْوَانُكُمْ“ کہ یہ تمہارے بھئی ہیں، یہ جو مملوک ہیں یہ تمہارے بھئی ہیں، ”جَعَلَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى تَحْتَ أَيْدِيكُمْ“ اللہ نے ان کو تمہارے ہاتھ کے تحت کر دیا ہے یعنی ان کو تمہارے قبضے میں دے دیا ہے، ”أَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ“ ان کو بھی تم کھلاؤ اس میں سے جس میں سے تم کھاتے ہو یعنی ان کو بھی وہی کھلاؤ جو تم کھاتے ہو ”وَأَلْبِسُوهُمْ مِمَّا تَلْبَسُونَ“ اور ان کو بھی اس میں سے پہناؤ جو تم پہنتے ہو ”وَلَا تُعَذِّبُوا عِبَادَ اللَّهِ“ اور اللہ کے بندوں کو عذاب نہ دو ان کو تکلیف نہ دو۔ تو یہاں حدیث کے اندر کیا آیا کہ ان کو بھی وہی کھلاؤ جو تم کھاتے ہو اور ان کو بھی وہی پہناؤ جو تم پہنتے ہو۔ علماء فقہاء فرماتے ہیں کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ انسان جو کچھ خود کھائے وہی اپنے غلام یا باندی کو بھی کھلائے، جو کچھ انسان خود پہنے وہی اپنے غلام یا باندی کو بھی پہنائے۔ تو بھئی اس حدیث میں تو آ رہا ہے کہ ان کو وہی کھلاؤ جو تم کھاؤ، تو جواب یہ کہ یہاں مراد ہے اس جنس میں سے کھلاؤ، ان کو بھی اس جنس میں سے کھلاؤ یعنی ان کو بھی کھانا کھلاؤ اور ان کو بھی کپڑے پہناؤ یعنی مناسب قسم کے کپڑے اور کھانا ان کو بھی دو، یہ ضروری نہیں کہ وہی چیز ان کو بھی کھلائے جو خود کھائے اور وہی چیز ان کو بھی پہنائے جو خود پہنے یہ ضروری نہیں ہے بھئی۔ پھر ایک دفعہ ترجمہ دیکھ لیجئے حدیث کا، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں غلاموں اور باندیوں کے بارے میں: ”إِنَّهُمْ إِخْوَانُكُمْ“ یہ تمہارے بھئی ہیں ”جَعَلَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى تَحْتَ أَيْدِيكُمْ“ اللہ نے ان کو تمہارے قبضے کے تحت کر دیا ہے ”أَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ“ ان کو بھی وہی کھلاؤ جو تم کھاتے ہو یعنی اسی کی جنس میں سے کھلاؤ جو تم کھاتے ہو ”وَأَلْبِسُوهُمْ مِمَّا تَلْبَسُونَ“ اور ان کو بھی اسی کی جنس میں سے پہناؤ جو تم پہنتے ہو ”وَلَا تُعَذِّبُوا عِبَادَ اللَّهِ“ اور اللہ کے بندوں کو عذاب نہ دو۔ ”فَإِنِ امْتَنَعَ وَكَانَ لَهُمَا كَسْبٌ اكْتَسَبَا وَأَنْفَقَا“ بھئی اگر آقا ان پر خرچ نہیں کرتا تو پھر اگر یہ خود کما سکتے ہیں تو خود کمائیں گے اور اپنے اوپر خرچ کریں گے اپنے نفقے کا انتظام کریں گے۔ تو کہتے ہیں ”فَإِنِ امْتَنَعَ“ اور اگر آقا رک گیا یعنی وہ ان پر خرچ نہیں کر رہا ان کو نفقہ نہیں دے رہا ”وَكَانَ لَهُمَا كَسْبٌ“ اور ان دونوں کے لیے کمائی ہے یعنی یہ کما سکتے ہیں ”اكْتَسَبَا“ تو یہ دونوں کمائیں گے ”وَأَنْفَقَا“ اور اپنے اوپر یہ دونوں خرچ کریں گے ”لِأَنَّ فِيهِ نَظَرًا لِلْجَانِبَيْنِ“ اس لیے کیونکہ اس میں دونوں جانبوں کی رعایت ہے۔ اس میں دونوں جانب کی رعایت ہے، غلام اور باندی کی بھی رعایت ہو گئی کیونکہ ان کو نفقہ ملے گا وہ زندہ رہیں گے، اور آقا کی بھی رعایت ہو گئی کہ یہ غلام اور باندی اسی کے مملوک رہیں گے، اسی کے قبضے میں رہیں گے تو اس میں دیکھو دونوں کی رعایت ہو گئی۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّ فِيهِ نَظَرًا لِلْجَانِبَيْنِ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر دونوں جانب کی رعایت ہے ”حَتَّى يَبْقَى الْمَمْلُوكُ حَيًّا“ یہاں تک کہ وہ مملوک جو ہے وہ زندہ رہے گا ”وَيَبْقَى فِيهِ مِلْكُ الْمَالِكِ“ اور اس کے اندر مالک کی ملکیت بھی باقی رہے گی۔ ”وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُمَا كَسْبٌ“ اور اگر ان کی کوئی کمائی نہیں ہے یعنی یہ کما نہیں سکتے ”بِأَنْ كَانَ عَبْدًا زَمِنًا“ بایں صورت کہ یہ غلام اپاہج ہے معذور ہے ”أَوْ جَارِيَةً لَا يُؤَاجَرُ مِثْلُهَا“ یا ایسی باندی ہے کہ اس جیسی باندی کو اجرت پر نہیں دیا جاتا۔ ایسی باندی ہے جس کو اجرت پر نہیں دیا جاتا مثلاً جوان باندی ہے اور حسین و جمیل ہے تو اس کو اگر اجرت پر دے گا اس میں تو فتنے کا خطرہ ہے بھئی، تو اگر غلام اپاہج ہے وہ بھی کوئی کام وغیرہ نہیں کر سکتا اور باندی بھی خدمت وغیرہ کے لیے نہیں دی جا سکتی کیونکہ وہ حسین و جمیل ہے اگر وہ خدمت کے لیے دیں گے تو فتنے کا خطرہ ہے تو اب تو یہ دونوں کما نہیں سکتے، اور ان کا آقا ان کو نفقہ بھی نہیں دے رہا تو پھر اس صورت میں قاضی اس کے آقا کو مجبور کرے گا کہ ان کو بیچ دو، ان کو بیچ دو، تو وہ آقا بیچ دے گا تو آقا کے پاس پیسے وصول ہو گئے تو آقا کی بھی رعایت ہو گئی، اور آگے کوئی خریدار ہوگا تو وہ ان کے نفقے کا انتظام کرے گا تو غلام اور باندی کی بھی رعایت ہو گئی۔ تو کہتے ہیں ”وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُمَا كَسْبٌ“ اور اگر اس غلام یا باندی کے لیے کمائی نہیں ہے یعنی یہ کما نہیں سکتے ”بِأَنْ كَانَ عَبْدًا زَمِنًا“ بایں صورت کہ یہ غلام اپاہج ہے ”أَوْ جَارِيَةً لَا يُؤَاجَرُ مِثْلُهَا“ یا ایسی باندی ہے کہ اس جیسی باندی کو اجرت پر نہیں دیا جاتا ”أُجْبِرَ الْمَوْلَى عَلَى بَيْعِهِمَا“ تو ان کے آقا کو مجبور کیا جائے گا انہیں بیچنے پر ”لِأَنَّهُمَا مِنْ أَهْلِ الِاسْتِحْقَاقِ“ اس لیے کیونکہ یہ غلام اور باندی جو ہیں یہ اہلِ استحقاق ہیں، یہ نفقے کے مستحق ہیں ”لِأَنَّهُمَا مِنْ أَهْلِ الِاسْتِحْقَاقِ“ اس لیے کیونکہ یہ غلام اور باندی جو ہیں یہ اہلِ استحقاق ہیں ”وَفِي الْبَيْعِ إِيفَاءُ حَقِّهِمَا“ اور بیچنے کے اندر ان کے حق کی ادائیگی ہے ”وَإِبْقَاءُ حَقِّ الْمَوْلَى“ اور نیز اس بیچنے کے اندر آقا کا حق باقی رکھنا ہے ”بِالْخَلَفِ“ بدل کے ذریعے، یعنی وہ جو ثمن وصول ہو جائیں گے اس کے ذریعے آقا کا حق بھی باقی رہے گا۔ بات سمجھ میں آگئی۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجئے، کہتے ہیں ”وَفِي الْبَيْعِ إِيفَاءُ حَقِّهِمَا وَإِبْقَاءُ حَقِّ الْمَوْلَى بِالْخَلَفِ“ اور بیچنے کے اندر غلام یا باندی کے حق کی ادائیگی بھی ہے اور آقا کے حق کو باقی رکھنا بھی ہے بدل کے ذریعے۔ ”بِخِلَافِ نَفَقَةِ الزَّوْجَةِ لِأَنَّهُ تَصِيرُ دَيْنًا فَكَانَ تَأْخِيرًا عَلَى مَا ذَكَرْنَا وَنَفَقَةُ الْمَمْلُوكِ لَا تَصِيرُ دَيْنًا فَكَانَ إِبْطَالًا“ بھئی دیکھیے! اگر غلام یا باندی خود نہیں کما سکتے اور آقا بھی ان کو نفقہ نہیں دے رہا تو آقا کو مجبور کریں گے کہ اس غلام یا باندی کو بیچ دو۔ جبکہ اس کے مقابلے میں پیچھے مسئلہ گزرا تھا کہ اگر خاوند تنگدست ہو گیا یہاں تک کہ وہ بیوی کا نفقہ بھی ادا نہیں کر سکتا تو وہاں پر صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ دونوں میں جدائی نہیں کروائیں گے بلکہ قاضی نفقہ مقرر کر دے گا اور وہ نفقہ خاوند کے ذمے دین ہوتا چلا جائے گا۔ تو وہاں پر عورت کا حق صرف مؤخر ہو رہا تھا، حق اس کا متعین کر دیا قاضی نے اب وہ دین بنتا جا رہا ہے اس کے خاوند کے ذمے۔ تو وہاں پر اس لیے ہم نے جدائی کا فیصلہ نہیں کیا کیونکہ وہاں عورت کا حق صرف مؤخر ہوا تھا باطل نہیں ہوا تھا، لیکن یہاں پر اگر ہم آقا کو اس غلام یا باندی کو بیچنے کا حکم نہیں دیں گے تو پھر اس صورت میں غلام اور باندی کا حق باطل ہو جائے گا، مؤخر نہیں ہوگا بلکہ باطل ہو جائے گا۔ فرق سمجھ میں آگیا۔ تو کہتے ہیں ”بِخِلَافِ نَفَقَةِ الزَّوْجَةِ“ بخلاف بیوی کے نفقے کے ”لِأَنَّهُ تَصِيرُ دَيْنًا“ اس لیے کیونکہ وہ تو دین بن جائے گا ”فَكَانَ تَأْخِيرًا عَلَى مَا ذَكَرْنَا“ تو یہ تو اس کو مؤخر کرنا ہے اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دیا ”وَنَفَقَةُ الْمَمْلُوكِ لَا تَصِيرُ دَيْنًا“ جبکہ مملوک یعنی غلام یا باندی کا جو نفقہ ہے وہ تو دین نہیں بنے گا ”فَكَانَ إِبْطَالًا“ تو وہ تو نفقے کو باطل کرنا ہے، لہٰذا اس لیے یہاں آقا کو بیچنے پر مجبور کریں گے اور وہاں پر جدائی نہیں کروائیں گے۔ ”وَبِخِلَافِ سَائِرِ الْحَيَوَانَاتِ“ اور بخلاف اس کے باقی حیوانات۔ باقی حیوانات، بھئی ایک آدمی ہے اس کے پاس گائے، بیل وغیرہ اس نے کچھ رکھے ہوئے ہیں اور وہ ان پر خرچ نہیں کرتا تو کہتے ہیں اس صورت میں ان کے مالک کو مجبور نہیں کیا جا سکتا، قاضی جبراً اس کو حکم نہیں دے سکتا کہ ان جانوروں کو تمہیں چارہ وغیرہ کھلانا پڑے گا۔ جبراً قاضی یہ حکم نہیں دے سکتا، وجہ یہ کہ یہ اہلِ استحقاق نہیں ہیں۔ یہ جانوروں کا آقا پر حق نہیں ہے، غلام اور باندی کا تو آقا پر حق تھا کہ وہ اس کو نفقہ دے لیکن یہ جانوروں کا ان کے مالک پر حق نہیں۔ یاد رکھو! قاضی جب کوئی فیصلہ کرتا ہے تو ضروری ہے کہ جس کے حق میں فیصلہ کر رہا ہو وہ حقدار ہونا چاہیے اس کا دوسرے پر حق بنتا ہو بھئی، وہ مستحق ہو اس چیز کا پھر ہی قاضی فیصلہ کر سکتا ہے اور یہاں پر یہ جو حیوانات ہیں ان کا تو اپنے مالک پر کوئی حق نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَبِخِلَافِ سَائِرِ الْحَيَوَانَاتِ“ اور بخلاف باقی حیوانات کے ”لِأَنَّهَا لَيْسَتْ مِنْ أَهْلِ الِاسْتِحْقَاقِ“ اس لیے کیونکہ یہ جو باقی حیوانات ہیں یہ اہلِ استحقاق نہیں ہیں ”فَلَا يُجْبَرُ عَلَى نَفَقَتِهَا“ لہٰذا مالک کو مجبور نہیں کیا جائے گا ان کے نفقے پر ”إِلَّا أَنَّهُ يُؤْمَرُ بِهِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ تَعَالَى“ مگر یہ کہ اس مالک کو حکم دیا جائے گا اس کے اور اللہ کے درمیان یعنی یہ اس کا اور اللہ کا معاملہ ہے۔ حیوانات پر ظلم کر رہا ہے تو یہ اس کا اور اللہ کا معاملہ ہے تو اس کو دیانۃً حکم دیا جائے گا، قضاءً حکم نہیں دیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں ”إِلَّا أَنَّهُ يُؤْمَرُ بِهِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ تَعَالَى“ مگر یہ کہ اس مالک کو حکم دیا جائے گا اس کے اور اللہ کے درمیان ”لِأَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ نَهَى عَنْ تَعْذِيبِ الْحَيَوَانِ“ اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے حیوان کو عذاب دینے سے اس کو تکلیف دینے سے منع فرمایا ہے ”وَفِيهِ ذَلِكَ“ ”وَفِيهِ ذَلِكَ“ اور خرچ نہ کرنے میں تو عذاب دینا ہے، اور حضور نے تو عذاب دینے سے منع فرمایا ہے۔ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ ”نَهَى عَنْ تَعْذِيبِ الْحَيَوَانِ“ اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے حیوان کو عذاب دینے سے، اس کو تکلیف دینے سے منع فرمایا ہے۔ ”وَفِي هَذَا“ اور خرچ نہ کرنے میں تو حیوان کو عذاب دینا ہے، ”وَنَهَى عَنْ إِضَاعَةِ الْمَالِ“ اور نیز حضور علیہ السلام نے مال کو ضائع کرنے سے منع فرمایا ہے۔ یہ آدمی حیوانات کو نہیں کھلائے گا، یہ تو ہلاک ہو جائیں گے، تو یہ تو اس کا اپنا مال ہلاک ہو جائے گا اور حضور نے مال کو ضائع کرنے سے منع فرمایا ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَنَهَى عَنْ إِضَاعَةِ الْمَالِ“ اور حضور علیہ السلام نے مال ضائع کرنے سے منع فرمایا ہے، ”وَفِيهِ إِضَاعَتُهُ“ اور اس خرچ نہ کرنے کے اندر تو اس مال کو ضائع کرنا ہے۔ ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے ایک روایت ہے کہ ”أَنَّهُ يُجْبَرُ“ کہ مالک کو مجبور کیا جائے گا، قاضی حکم دے گا کہ ان پر خرچ کرو۔ ”وَالْأَصَحُّ مَا قُلْنَا“ اور زیادہ صحیح وہی ہے جو ہم نے کہا۔ صاحبِ ہدایہ کیا فرماتے ہیں؟ زیادہ صحیح وہی بات ہے جو ہم نے کہی۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے جو فرمایا وہ بھی صحیح ہے، لیکن جو ہم نے کہا وہ زیادہ صحیح ہے، اس لیے کیونکہ یہ حیوانات اہل استحقاق نہیں، جب اہل استحقاق نہیں تو قاضی جبراً فیصلہ نہیں کر سکتا۔ قاضی کے فیصلہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ جس کے حق میں وہ فیصلہ کرے وہ اہل استحقاق ہونا چاہیے۔ تو یہاں قاضی یہ فیصلہ کر ہی نہیں سکتا کیونکہ حیوانات اہل استحقاق نہیں ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَالْأَصَحُّ مَا قُلْنَا“ اور زیادہ صحیح وہ ہے جو ہم نے کہا، ”وَاللَّهُ أَعْلَمُ“ اور اللہ خوب جاننے والے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ آگے دیکھیے: ”كِتَابُ الْعَتَاقِ“ عتاق کہتے ہیں آزادی کو۔ تو اس کتاب کے اندر آزادی کے احکام بیان فرمائیں گے صاحبِ ہدایہ۔ ”كِتَابُ الْعَتَاقِ“ یہ آزادی کی کتاب ہے یعنی اس کے احکام پر مشتمل ہے۔ ”الْإِعْتَاقُ تَصَرُّفٌ مَندُوبٌ إِلَيْهِ“ اعتاق کا معنی ہے آزاد کرنا۔ عتاق کا کیا معنی تھا؟ آزاد ہونا اور اعتاق کا معنی آزاد کرنا۔ تو ”الْإِعْتَاقُ تَصَرُّفٌ مَندُوبٌ إِلَيْهِ“ اعتاق یعنی آزاد کرنا ایسا تصرف ہے ”مَندُوبٌ إِلَيْهِ“ جس کی طرف دعوت دی گئی ہے، یعنی جس کی ترغیب دی گئی ہے۔ آپ جانتے ہیں شریعت کے اندر غلام یا باندی کو آزاد کرنا عظیم اجر و ثواب کا سبب ہے بھئی۔ تو یہ آزاد کرنا ایسا تصرف ہے ”مَندُوبٌ إِلَيْهِ“ جس کی طرف دعوت دی گئی ہے، جس کی ترغیب دی گئی ہے۔ ”قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”أَيُّمَا مُسْلِمٍ أَعْتَقَ مُؤْمِنًا“ جس مسلمان نے بھی کسی مسلمان غلام کو آزاد کیا، ”أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ“ تو اللہ آزاد فرمائیں گے اس غلام کے ہر عضو کے بدلے میں ”عُضْوًا مِنَ النَّارِ“ اس آزاد کرنے والے کے عضو کو آگ سے۔ جو شخص کسی غلام کو آزاد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس آزاد شدہ غلام کے ہر عضو کے بدلے میں اس آزاد کرنے والے کے ہر عضو کو آگ سے آزاد فرمائیں گے۔ تو ”أَيُّمَا مُسْلِمٍ أَعْتَقَ مُؤْمِنًا أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنَ النَّارِ“ تو اللہ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے میں اس آزاد کرنے والے کے ہر عضو کو آگ سے آزاد کریں گے۔ ”وَلِهَذَا اسْتَحَبُّوا“ اور اسی لیے علماء نے یہ بات پسند فرمائی ہے ”أَنْ يُعْتِقَ الرَّجُلُ الْعَبْدَ“ کہ مرد جو ہے وہ غلام کو آزاد کرے ”وَالْمَرْأَةُ الْأَمَةَ“ اور عورت جو ہے وہ باندی کو آزاد کرے ”لِيَتَحَقَّقَ مُقَابَلَةُ الْأَعْضَاءِ بِالْأَعْضَاءِ“ تاکہ اعضاء کے ساتھ اعضاء کا مقابلہ پایا جائے۔ بھئی حدیث میں آ گیا کہ اللہ تعالیٰ غلام کے ہر عضو کے بدلے آزاد کرنے والے کے ہر عضو کو آگ سے آزاد فرما دیتے ہیں۔ تو علماء نے اس بات کو پسند کیا ہے کہ اگر آدمی ہو تو وہ غلام کو آزاد کرے اور اگر عورت ہے تو وہ باندی کو آزاد کرے، تو جب مرد غلام کو آزاد کرے گا تو غلام کے ہر عضو کے بدلے میں مرد کا ہر عضو جو ہے جہنم سے آزاد ہو جائے گا، حتیٰ کہ غلام کی شرمگاہ کے بدلے اس آزاد کرنے والے کی شرمگاہ جہنم سے آزاد ہو جائے گی۔ اور اسی طرح جب عورت باندی کو آزاد کرے گی تو باندی کے ہر عضو کے بدلے میں اس عورت کا ہر عضو جہنم سے آزاد ہو جائے گا۔ تو اس لیے علماء نے پسند کیا ہے کہ مرد نے آزاد کرنا ہے تو وہ غلام کو آزاد کرے اور عورت نے آزاد کرنا ہے تو وہ باندی کو آزاد کرے ”لِيَتَحَقَّقَ مُقَابَلَةُ الْأَعْضَاءِ بِالْأَعْضَاءِ“ تاکہ اعضاء کا اعضاء کے ساتھ مقابلہ پایا جائے۔ ”قَالَ: الْعِتْقُ يَصِحُّ مِنَ الْحُرِّ الْبَالِغِ الْعَاقِلِ فِي مِلْكِهِ“ ”قَالَ“ قال سے مراد صاحبِ قدوری ہیں۔ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”الْعِتْقُ يَصِحُّ“ یہاں عتق بمعنی اعتاق کے ہے یعنی یہ مجازی معنی میں استعمال ہو رہا ہے۔ ”الْعِتْقُ يَصِحُّ“ آزاد کرنا صحیح ہے ”مِنَ الْحُرِّ“ آزاد آدمی سے، یعنی آزاد کرنے والا جو معتق ہے جو غلام کو آزاد کرنا چاہتا ہے اس کو آزاد ہونا چاہیے۔ ”الْبَالِغِ“ اور بالغ ہو بھئی، نابالغ نہ ہو۔ ”الْعَاقِلِ“ اور عقل والا ہو، مجنون نہ ہو بھئی۔ تو قال صاحب قدوری فرماتے ہیں: ”الْعِتْقُ يَصِحُّ مِنَ الْحُرِّ الْبَالِغِ الْعَاقِلِ فِي مِلْكِهِ“ کہ آزاد کرنا صحیح ہے آزاد بالغ عاقل آدمی کی طرف سے ”فِي مِلْكِهِ“ اپنی ملکیت میں۔ تو چار شرطیں ذکر کر دیں: ایک شخص غلام یا باندی کو آزاد کرنا چاہتا ہے تو ضروری ہے کہ یہ آزاد کرنے والا خود آزاد ہو، دوسری شرط یہ بالغ ہونا چاہیے، اس لیے کیونکہ بچے کی آزادی معتبر نہیں، بچہ اپنے غلام کو آزاد کرے بھی تو وہ آزاد نہیں ہوتا۔ نیز یہ آزاد کرنے والا عاقل ہونا چاہیے کیونکہ مجنون اگر اپنے غلام کو آزاد کرتا ہے تو اس کا کوئی اعتبار نہیں، وہ غلام آزاد نہیں ہے بھئی کیونکہ اس کی عقل ہی نہیں ہے بھئی۔ اور نیز وہ غلام آدمی کی اپنی ملکیت میں ہو، غیر کا غلام آزاد کرے گا تو وہ آزاد نہیں ہوگا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو چار شرطیں ذکر فرما دیں صاحبِ قدوری نے کہ آزاد کرنے والا وہ آزاد ہونا چاہیے اور عاقل ہونا چاہیے اور بالغ ہونا چاہیے اور وہ غلام اس کی ملکیت ہونی چاہیے۔ تو کہتے ہیں ”الْعِتْقُ يَصِحُّ مِنَ الْحُرِّ الْبَالِغِ الْعَاقِلِ فِي مِلْكِهِ“ اور آزاد کرنا صحیح ہے آزاد بالغ عاقل مرد کی طرف سے اپنی ملکیت میں۔ ”شَرَطَ الْحُرِّيَّةَ“ یہ عبارت توجہ سے سننا بھئی: ”شَرَطَ الْحُرِّيَّةَ“ صاحبِ قدوری نے آزادی کی شرط لگائی ہے۔ ”الْحُرِّيَّةَ“ یہ مفعول ہے شرط فعل کے لیے۔ ”شَرَطَ الْحُرِّيَّةَ“ صاحبِ قدوری نے آزادی کی شرط لگائی ہے۔ بھئی آزادی کی شرط کیوں لگائی؟ وجہ یہ کہ کوئی شخص غلام آزاد کرنا چاہتا ہے تو غلام اس کا مملوک ہوگا تبھی آزاد ہو سکتا ہے اور اگر یہ ایک شخص خود ہی غلام ہے تو غلام تو کسی چیز کا مالک ہی نہیں ہوتا وہ کیسے کسی دوسرے کو آزاد کر سکتا ہے؟ تو کہتے ہیں ”شَرَطَ الْحُرِّيَّةَ“ صاحبِ قدوری نے آزادی کی شرط لگائی ”لِأَنَّ الْعِتْقَ لَا يَصِحُّ إِلَّا فِي الْمِلْكِ“ اس لیے کیونکہ آزاد کرنا یہ درست نہیں ہوتا مگر اپنی ملکیت میں ”وَلَا مِلْكَ لِلْمَمْلُوكِ“ اور مملوک کی تو کوئی ملکیت نہیں ہوتی۔ ”وَالْبُلُوغَ“ اس کو منصوب پڑھنا ہے، البلوغ کا عطف ہے الحریۃ پر اور الحریۃ مفعول تھا شرط فعل کے لیے۔ تو صاحب قدوری نے حریت کی بھی شرط لگائی ہے ”وَالْبُلُوغَ“ اور بالغ ہونے کی بھی شرط لگائی ہے کہ آزاد کرنے والا بالغ ہو ”لِأَنَّ الصَّبِيَّ لَيْسَ مِنْ أَهْلِهِ“ اس لیے کیونکہ بچہ جو ہے وہ اہل عتق نہیں ہے یعنی اہل اعتاق نہیں ہے، وہ غلام کو یا باندی کو آزاد نہیں کر سکتا۔ وجہ یہ کہ غلام یا باندی کو جب آزاد کریں گے تو ظاہری طور پر یہ اپنا مال برباد کیا جا رہا ہے، اگرچہ اخروی اعتبار سے یہ عظیم اجر و ثواب کا باعث ہے لیکن ظاہری اعتبار سے یہ اپنا نقصان ہے، تو لہٰذا بچے کو اس کی اجازت نہیں ہوگی۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّ الصَّبِيَّ لَيْسَ مِنْ أَهْلِهِ“ اس لیے کیونکہ بچہ جو ہے وہ اہل عتق نہیں ہے ”لِكَوْنِهِ ضَرَرًا ظَاهِرًا“ اس لیے کیونکہ یہ ظاہری طور پر ضرر ہے، نقصان ہے ”وَلِهَذَا لَا يَمْلِكُهُ الْوَلِيُّ عَلَيْهِ“ اور اسی لیے ولی بھی بچے پر اس کا مالک نہیں ہوتا۔ ایک نابالغ بچہ ہے اور اس کو کسی نے غلام دے دیا، اب اس کا ولی جو ہے، بچے کا ولی، بچے کا باپ یا دادا، وہ اس غلام یا باندی کو آزاد کرنا چاہتا ہے، نہیں بھئی یہ بچے کا غلام ہے آپ کو اس بات کی ولایت نہیں ہے کہ آپ بچے کے غلام کو آزاد کر دیں۔ آپ بچے کے غلام کو بیچ تو سکتے ہیں لیکن مثلِ ثمن میں، یعنی جتنے کا یہ غلام بنتا ہے جتنی اس جیسے غلام کی قیمت ہوتی ہے اتنی قیمت میں آپ اس غلام کو بیچ سکتے ہیں، اس سے کم قیمت میں بھی آپ کو بیچنے کی اجازت نہیں کیونکہ بچے کا نقصان ہے بھئی۔ تو جب کم قیمت کے اندر اس غلام کو بیچنے کی اجازت نہیں ہے ولی کو، تو آزاد کرنے میں تو سارا غلام ہی ضائع ہو جائے گا، اس کی تو بطریقِ اولیٰ ولی کو اجازت نہیں ہوگی۔ یہ معنی ہے ”وَلِهَذَا لَا يَمْلِكُهُ الْوَلِيُّ عَلَيْهِ“ اور اسی لیے ولی بھی بچے پر اس غلام کو آزاد کرنے کا مالک نہیں ہوتا۔ ”وَالْعَقْلَ“ اس کو بھی منصوب پڑھیں، اس کا عطف بھی اسی طرح الحریۃ پر ہے۔ تو ”وَالْعَقْلَ“ اور صاحبِ قدوری نے عقل کی بھی شرط لگائی ”لِأَنَّ الْمَجْنُونَ لَيْسَ بِأَهْلٍ لِلتَّصَرُّفِ“ اس لیے کیونکہ جو مجنون ہوتا ہے وہ اہل تصرف نہیں ہوتا۔ ”وَلِهَذَا لَوْ قَالَ الْبَالِغُ“ اور اسی لیے اگر بالغ آدمی نے کہا: ”أَعْتَقْتُ وَأَنَا صَبِيٌّ“ صورتِ مسئلہ یہ ہے: ایک غلام جو ہے قاضی کے پاس آ گیا اس نے مقدمہ کر دیا کہ قاضی صاحب! اس آدمی نے مجھے آزاد کر دیا تھا اور اب یہ تسلیم نہیں کر رہا، میں آزاد ہو چکا ہوں۔ تو قاضی نے اس آدمی کو بلوایا، اس آدمی نے کہا: قاضی صاحب! ”أَعْتَقْتُ وَأَنَا صَبِيٌّ“ میں نے اس کو اس وقت آزاد کیا تھا جب میں بچہ تھا۔ تو اس نے دیکھو آزادی کی نسبت اس وقت کی طرف کر دی جب اس کے پاس اختیار ہی نہیں تھا غلام کو آزاد کرنے کا، تو گویا یہ شخص اس آزادی کا انکار کر رہا ہے لہٰذا اسی کا قول معتبر ہوگا، تو غلام پر بینہ آئے گی کیونکہ البینۃ علی المدعی والیمین علی من انکر، تو لہٰذا اس منکر کا قول معتبر ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَلِهَذَا لَوْ قَالَ الْبَالِغُ“ اور اسی لیے یعنی کہ بالغ اور عاقل ہونا شرط ہے، بالغ اور عاقل ہونا شرط ہے اسی کی وجہ سے اگر بالغ یوں کہے تو مسئلہ یوں ہوگا۔ تو کہتے ہیں ”وَلِهَذَا“ اور اسی وجہ سے یعنی بالغ اور عاقل ہونا شرط ہے اسی وجہ سے ”لَوْ قَالَ الْبَالِغُ“ اگر بالغ آدمی نے کہا: ”أَعْتَقْتُ وَأَنَا صَبِيٌّ“ کہ میں نے آزاد کیا تھا اس حال میں کہ میں بچہ تھا ”فَالْقَوْلُ قَوْلُهُ“ تو وہ قول جو معتبر ہے وہ اسی کا قول ہے۔ ”وَكَذَا لَوْ قَالَ الْمُعْتِقُ“ اور اسی طرح اگر آزاد کرنے والے نے کہا: ”أَعْتَقْتُ وَأَنَا مَجْنُونٌ“ میں نے آزاد کیا تھا اس حال میں کہ میں مجنون تھا ”وَجُنُونُهُ كَانَ ظَاهِرًا“ اس حال میں کہ اس آدمی کا جنون ظاہر ہے، یعنی اس آدمی کو جنون کے دورے پڑتے ہیں اور سب کو پتہ ہے اس کو جنون کے دورے پڑتے ہیں اور یہ اب کہہ رہا ہے کہ میں نے جنون کی حالت میں غلام کو آزاد کیا تھا، تو اس نے آزادی کی نسبت ایک ایسی حالت کی طرف کر دی جو آزاد کرنے کے منافی ہے، مجنون تو غلام کو آزاد نہیں کر سکتا، تو لہٰذا یہ آدمی اس کا قول معتبر ہے کیونکہ یہ انکار کر رہا ہے آزادی کا، کیونکہ آزادی کی نسبت کر رہا ہے ایسے وقت کی طرف جو آزادی کے منافی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَكَذَا لَوْ قَالَ الْمُعْتِقُ“ اور اسی طرح ہے مسئلہ یعنی معتق کا قول ہی معتبر ہے اگر اس نے کہا ”أَعْتَقْتُ وَأَنَا مَجْنُونٌ“ کہ میں نے آزاد کیا تھا اس حال میں کہ میں مجنون تھا ”وَجُنُونُهُ كَانَ ظَاهِرًا“ اس حال میں کہ اس آدمی کا جنون ظاہر ہو یعنی سب کو پتہ ہے اس کو جنون کے دورے پڑتے ہیں، اگر اس کا جنون ظاہر نہیں ہے پھر اس کے قول کا اعتبار نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَجُنُونُهُ ظَاهِرًا“ اس حال میں کہ اس کا جنون ظاہر ہے ”لِوُجُودِ الْإِسْنَادِ إِلَى حَالَةٍ مُنَافِيَةٍ“ اس لیے کیونکہ نسبت پائی جا رہی ہے ”إِلَى حَالَةٍ مُنَافِيَةٍ“ ایک ایسی حالت کی طرف جو منافی ہے اعتاق کے۔ یہ جو کہا ”أَعْتَقْتُ وَأَنَا صَبِيٌّ“ یا ”أَعْتَقْتُ وَأَنَا مَجْنُونٌ“ اس کے اندر آزادی کی نسبت آزادی کا اسناد کیا جا رہا ہے، آزادی کی نسبت کی جا رہی ہے ایک ایسی حالت کی طرف جو آزاد کرنے کے منافی ہے بھئی۔ یہ معنی ہے ”لِوُجُودِ الْإِسْنَادِ إِلَى حَالَةٍ مُنَافِيَةٍ“ بوجہ اسناد پائے جانے کے ایک ایسی حالت کی طرف جو اعتاق کے منافی ہے۔ ”وَكَذَا لَوْ قَالَ الصَّبِيُّ“ اور اسی طرح ہے مسئلہ اگر بچے نے کہا: ”كُلُّ مَمْلُوكٍ أَمْلِكُهُ فَهُوَ حُرٌّ إِذَا احْتَلَمْتُ“ ایک بچہ ہے بھئی وہ کہتا ہے: ”كُلُّ مَمْلُوكٍ أَمْلِكُهُ فَهُوَ حُرٌّ“ کہ ہر ایسا غلام جس کا میں مالک ہوں وہ آزاد ہے ”إِذَا احْتَلَمْتُ“ جب میں بالغ ہو جاؤں۔ ”كُلُّ مَمْلُوكٍ أَمْلِكُهُ فَهُوَ حُرٌّ“ ہر ایسا مملوک جس کا میں مالک ہوں تو وہ آزاد ہے ”إِذَا احْتَلَمْتُ“ جب میں بالغ ہو جاؤں۔ ”لَا يَصِحُّ“ تو بچے کا یہ قول صحیح نہیں ”لِأَنَّهُ لَيْسَ بِأَهْلٍ لِقَوْلٍ مُلْزِمٍ“ اس لیے کیونکہ بچہ جو ہے قولِ ملزم کا اہل نہیں ہے۔ بھئی یاد رکھو، ایک عام بالغ آدمی جب کوئی قول کرے گا جب کوئی بات کرے گا وہ اس پر لازم ہو جائے گی۔ مثلاً ایک آدمی کہتا ہے میں نے زید کا دس لاکھ روپیہ دینا ہے، اس نے خود اقرار کر لیا، تو اب یہ دس لاکھ اس پر لازم ہو گئے یعنی زید اب اس کو قاضی کے پاس لے جا کر یہ مال وصول کر سکتا ہے کہ اے قاضی صاحب! اس نے لوگوں کے سامنے اقرار کیا ہے کہ اس نے میرے پیسے دینے ہیں۔ تو دیکھو یہ قول اس آدمی پر کیا ہو گیا؟ لازم ہو گیا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص قسم اٹھاتا ہے تو وہ قسم بھی اس کو اب پوری کرنی پڑے گی، وہ اس پر لازم ہو گئی۔ اسی طرح کوئی شخص اگر تعلیق کرتا ہے، کسی بات کو شرط کے ساتھ معلق کرتا ہے تو یہ تعلیق بھی اس پر لازم ہو گئی۔ لیکن یاد رکھو بچہ ایسا قول نہیں کر سکتا جو اس پر لازم ہو جائے، کیونکہ بچے میں عقل کامل نہیں، وہ ناسمجھ ہے، تو بچے کے قول کو بچے پر لازم نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا یہاں پر بھی جب بچے نے کہا: میرا ہر غلام جو ہے جب میں بالغ ہو جاؤں تو وہ آزاد ہے، تو یہ اس قول کو بچے پر لازم نہیں کیا جا سکتا۔ اس بچے کے اس قول کا کوئی اعتبار نہیں ہے، اس کے بالغ ہونے کے باوجود بھی اس کا کوئی غلام آزاد نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں ”لَا يَصِحُّ“ بچے کا یہ قول صحیح نہیں ہے ”لِأَنَّهُ لَيْسَ بِأَهْلٍ لِقَوْلٍ مُلْزِمٍ“ اس لیے کیونکہ بچہ اہل نہیں ہے ”لِقَوْلٍ مُلْزِمٍ“ ایسے قول کا جو لازم کرنے والا ہو، ایسا قول جو کسی چیز کو اس پر لازم کرنے والا ہو بچہ ایسے قول کا اہل نہیں ہے۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”لِأَنَّهُ لَيْسَ بِأَهْلٍ لِقَوْلٍ مُلْزِمٍ“ اس لیے کیونکہ بچہ ایسے قول کا اہل نہیں ہے جو اس پر کوئی چیز لازم کر دے۔ ”وَلَا بُدَّ أَنْ يَكُونَ الْعَبْدُ فِي مِلْكِهِ“ بھئی متن کے اندر چوتھی شرط آئی تھی کہ وہ غلام یا باندی جس کو کوئی آزاد کرتا ہے وہ اس کی ملکیت ہونی چاہیے۔ کہتے ہیں ”وَلَا بُدَّ أَنْ يَكُونَ الْعَبْدُ فِي مِلْكِهِ“ اور ضروری ہے کہ وہ غلام اس آزاد کرنے والے کی ملکیت میں ہو ”حَتَّى لَوْ أَعْتَقَ عَبْدَ غَيْرِهِ لَا يَنْفُذُ عِتْقُهُ“ یہاں تک کہ اگر کسی نے آزاد کیا ”عَبْدَ غَيْرِهِ“ اپنے علاوہ کسی دوسرے کا غلام ”لَا يَنْفُذُ عِتْقُهُ“ تو اس کی آزادی نافذ نہیں ہوگی، اس کی آزادی نافذ نہیں ہوگی ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ حضور علیہ السلام کے اس فرمانِ مبارک کی وجہ سے کہ آپ نے فرمایا: ”لَا عِتْقَ فِيمَا لَا يَمْلِكُهُ ابْنُ آدَمَ“ کہ ”لَا عِتْقَ فِيمَا“ کہ آزادی نہیں ہے اس غلام یا باندی میں ”لَا يَمْلِكُهُ ابْنُ آدَمَ“ جس کا ابنِ آدم مالک نہ ہو۔ ”لَا عِتْقَ فِيمَا لَا يَمْلِكُهُ ابْنُ آدَمَ“ کہ اس چیز میں آزادی نہیں ہے جس کا ابنِ آدم یعنی انسان مالک نہ ہو۔ معلوم ہوا اپنا غلام یا باندی ہے اس کو تو انسان آزاد کر سکتا ہے، غیر کے غلام یا باندی کو آزاد نہیں کر سکتا۔ تو حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے: ”لَا عِتْقَ فِيمَا لَا يَمْلِكُهُ ابْنُ آدَمَ“ کہ آزادی نہیں ہے اس مملوک کے اندر جس کا انسان مالک نہ ہو۔ بھئی دیکھو، صاحبِ ہدایہ نے ذکر فرمایا: ”حَتَّى لَوْ أَعْتَقَ عَبْدَ غَيْرِهِ“ یہاں تک کہ اگر کسی نے دوسرے کے غلام کو آزاد کیا ”لَا يَنْفُذُ عِتْقُهُ“ تو اس کی آزادی نافذ نہیں ہوگی۔ صاحبِ ہدایہ نے یہ نہیں فرمایا ”لَا يَصِحُّ عِتْقُهُ“ اس کی آزادی صحیح نہیں ہوگی، یہ نہیں کہا بلکہ یہ کہا اس کی آزادی نافذ نہیں ہوگی۔ وجہ یہ کہ عند الاحناف یاد رکھو، یاد رکھو کہ غیر کی ملکیت کا آزاد کرنا بھی صحیح ہے بھئی اگر مالک اجازت دے دے۔ آپ نے مالک سے اجازت لی کہ میں آپ کے اس غلام کو آزاد کرنا چاہتا ہوں کیا مجھے اجازت ہے؟ تو مالک نے اجازت دے دی، آپ نے اس غلام کو آزاد کر دیا تو وہ آزاد ہو جائے گا۔ معلوم ہوا غیر کے غلام کو مالک کی اجازت سے آزاد کرنا عند الاحناف صحیح ہے، اسی لیے صاحبِ ہدایہ نے یہ فرمایا: ”حَتَّى لَوْ أَعْتَقَ عَبْدَ غَيْرِهِ“ یہاں تک کہ اگر کسی نے دوسرے کے غلام کو آزاد کیا ”لَا يَنْفُذُ عِتْقُهُ“ تو اس کی آزادی نافذ نہیں ہوگی، یہ نہیں کہا کہ صحیح نہیں ہوگی، صحیح ہو سکتی ہے اگر وہ اجازت دے دے بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَإِذَا قَالَ لِعَبْدِهِ أَوْ أَمَتِهِ: أَنْتَ حُرٌّ“ اب وہ الفاظ ذکر کرنے لگے ہیں صاحبِ ہدایہ جن کے ذریعے کوئی غلام یا باندی آزاد ہوگا۔ یاد رکھو جس طرح طلاق کے اندر کچھ الفاظ صریح ہیں اور کچھ کنایات ہیں، وہ الفاظ جن سے طلاق واقع ہوتی ہے کچھ صریح ہیں یعنی ان میں طلاق کے علاوہ اور کوئی معنی نہیں۔ ایک شخص اپنی بیوی سے کہتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ“ تو اس کا معنی طلاق ہے، طلاق کے علاوہ اور کوئی معنی اس کا نہیں ہے، لہٰذا اس سے طلاق واقع ہو جائے گی اور اس میں نیت پوچھنے کی بھی ضرورت نہیں ہے، وجہ یہ کہ یہاں اور کسی معنی کا احتمال ہی نہیں ہے، اگر کسی اور معنی کا احتمال ہوتا پھر ہم نیت پوچھتے کہ آپ کی کیا نیت ہے۔ تو صریح کے اندر نیت کی ضرورت نہیں ہوتی، جبکہ کنائے کے اندر تو اور معانی کا بھی احتمال ہوتا ہے، خاوند اپنی بیوی سے کہتا ہے: ”أَنْتِ بَائِنٌ“ تو اس کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ تو مجھ سے جدا ہے کیونکہ میں تجھے طلاق دے چکا ہوں اور اس کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ تو اور عورتوں سے جدا ہے اپنی عادتوں کے اندر یا حسن و جمال کے اندر۔ تو کنائے کے اندر چونکہ اور معانی کا بھی احتمال ہوتا ہے لہٰذا وہاں نیت ضروری ہے۔ تو یاد رکھو اعتاق کے اندر بھی اسی طرح ہے، ایک شخص اپنے غلام یا باندی کو آزاد کرنا چاہتا ہے اگر اس نے کوئی صریح لفظ بولا یعنی جس میں آزادی کے علاوہ کسی اور معنی کا احتمال ہی نہیں ہے، مثلاً کہتا ہے: ”أَنْتَ حُرٌّ“ تو آزاد ہے، بھئی اس کا تو اور کوئی معنی نہیں ہے آزادی کے علاوہ، یا کہتا ہے: ”أَعْتَقْتُكَ“ میں نے تجھے آزاد کر دیا، اس کا معنی بھی آزادی کے علاوہ اور نہیں ہے بھئی، تو یہ صریح الفاظ ہیں اور صریح الفاظ میں بغیر نیت کے ہی غلام یا باندی آزاد ہو جائیں گے۔ لیکن اگر کنایہ الفاظ استعمال کیے تو پھر وہاں نیت ضروری ہے، پھر غلام یا باندی آزاد ہوں گے ورنہ آزاد نہیں ہوں گے۔ تو اب پہلے صریح الفاظ ذکر کر رہے ہیں بھئی۔ کہتے ہیں ”وَإِذَا قَالَ لِعَبْدِهِ أَوْ أَمَتِهِ“ اور جس وقت آقا نے اپنے غلام یا باندی سے کہا: ”أَنْتَ حُرٌّ“ تو آزاد ہے، ”أَوْ مُعْتَقٌ“ ای ”أَنْتَ مُعْتَقٌ“ اس کا بھی وہی معنی ہے تو آزاد ہے، ”أَوْ عَتِيقٌ“ عتیق کا معنی بھی آزاد ہے مالک نے کہا: ”أَنْتَ عَتِيقٌ“ تو آزاد ہے، ”أَوْ مُحَرَّرٌ“ محرر کا معنی بھی آزاد ہے۔ تو یہ تو تھا جملہ اسمیہ استعمال کیا: ”أَنْتَ حُرٌّ“ یا ”أَنْتَ مُعْتَقٌ“ یا ”أَنْتَ عَتِيقٌ“ یا ”أَنْتَ مُحَرَّرٌ“۔ یا جملہ فعلیہ استعمال کرتا ہے آقا اور یوں کہتا ہے: ”قَدْ حَرَّرْتُكَ“ تحقیق میں نے تجھے آزاد کر دیا ”أَوْ قَدْ أَعْتَقْتُكَ“ کہ میں نے تجھے آزاد کر دیا ”فَقَدْ عَتَقَ“ تو تحقیق وہ غلام یا باندی آزاد ہو گیا ”نَوَى بِهِ الْعِتْقَ أَوْ لَمْ يَنْوِ“ چاہے آقا آزادی کی نیت کرے یا نہ کرے کیونکہ یہ الفاظ صریح ہیں اور صریح میں نیت کی ضرورت نہیں کیونکہ ان میں اور کسی معنی کا احتمال ہی نہیں۔ کہتے ہیں ”لِأَنَّ هَذِهِ الْأَلْفَاظَ صَرِيحَةٌ فِيهِ“ اس لیے کیونکہ یہ والے الفاظ جو ہیں اعتاق کے اندر یعنی آزاد کرنے میں صریح ہیں ”لِأَنَّهَا مُسْتَعْمَلَةٌ فِيهِ شَرْعًا وَعُرْفًا“ اس لیے کیونکہ یہ الفاظ اعتاق میں استعمال ہوتے ہیں شرعاً وعُرفاً، شرعاً بھی اور عرفاً بھی، عام لوگوں کی عادت بھی یہی ہے کہ آزاد کرنے کے لیے یہی الفاظ استعمال کرتے ہیں ”فَأَغْنَى ذَلِكَ عَنِ النِّيَّةِ“ تو اس نے بے نیاز کر دیا نیت سے، جب یہ الفاظ صریح ہیں تو اس نے نیت سے بے نیاز کر دیا، یہ اسی میں استعمال ہوتے ہیں۔ ”وَالْوَضْعُ وَإِنْ كَانَ فِي الْإِخْبَارِ فَقَدْ جُعِلَ إِنْشَاءً فِي التَّصَرُّفَاتِ الشَّرْعِيَّةِ لِلْحَاجَةِ“ بھئی یہ جو الفاظ ہیں ”أَنْتَ حُرٌّ“ یہ اصل میں تو وضع ہیں خبر کے لیے، یہ خبر دینے کے لیے ہیں: ”أَنْتَ حُرٌّ“ تو آزاد ہے۔ لیکن شریعت نے ان کو انشاء قرار دیا ہے اعتاق کے لیے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے ہم بیع و شراء کرتے ہیں یا نکاح کرتے ہیں یا طلاق دیتے ہیں تو ان سب میں دیکھو ایک چیز کو وجود دیا جا رہا ہے، انشاء، انشاء کا معنی ہوتا ہے ایک چیز کو وجود دینا۔ میاں بیوی ایجاب اور قبول کرتے ہیں ایک شخص عورت سے کہتا ہے میں نے تم سے نکاح کر لیا اور عورت کہتی ہے میں نے قبول کیا اور دو گواہ بھی موجود ہیں تو دیکھو دونوں کے درمیان نکاح ہو گیا، ایک نئی چیز کو دونوں نے وجود دے دیا، یہ دونوں اب میاں بیوی بن گئے بھئی۔ تو اس کو کہتے ہیں انشاء، ایک چیز کو وجود دینا جو پہلے نہیں تھی۔ یا اسی طرح آپ ایک آدمی کو اپنی کتاب فروخت کرتے ہیں تو آپ کہتے ہیں یہ کتاب میں نے آپ کو سو روپے میں فروخت کر دی اور وہ کہتا ہے مجھے قبول ہے، تو یہ کہتے ہی بیع منعقد ہو گئی۔ یہ کہتے ہی بیع منعقد ہو گئی، پہلے آپ اس کتاب کے مالک تھے اب مشتری اس کتاب کا مالک بن گیا کیونکہ بیع پائی گئی، آپ لوگوں نے بیع کو وجود دے دیا تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ انشاء۔ تو یہ جو انشاء عقد کے لیے ہم صیغے استعمال کرتے ہیں، خاوند نے بیوی سے کیا کہا؟ میں نے تجھ سے نکاح کر لیا، یہ تو خبر دے رہا ہے، لیکن شریعت نے یہ لفظ جو خبر کے لیے وضع ہیں ان کو انشاء والا درجہ دے دیا۔ وجہ یہ کہ انسان نکاح کا محتاج ہے اور انشاء نکاح کے لیے عربی زبان میں کوئی لفظ نہیں، تو اگر خبر کو انشاء کے قائم مقام نہ کیا جائے تو پھر تو انسان اپنی حاجت اور ضرورت کیسے پوری کرے گا بھئی؟ تو لہٰذا شریعت نے حاجت اور ضرورت کی وجہ سے خبر کے صیغوں کو ہی انشاء والا حکم دے دیا۔ اسی طرح آپ بیع و شراء کرتے ہیں آپ نے کہا ہے یہ کتاب میں نے آپ کو بیچ دی، بھئی یہ تو آپ ماضی کے صیغے استعمال کر رہے ہیں یہ تو خبر دے رہے ہیں آپ، لیکن یہاں پر شریعت نے ان کو انشاء والا حکم دے دیا کیونکہ انسان بیع و شراء کا محتاج ہے، اس کو کبھی ایک چیز کی حاجت پیش آتی ہے کبھی دوسری چیز کی حاجت پیش آتی ہے اور وہ اس کا مالک نہیں ہے تو اس کو وہ چیز خریدنی پڑے گی بھئی، تو انسان بیع و شراء کا محتاج ہوا بھئی۔ اور انشاء بیع کے لیے تو عربی زبان میں کوئی لفظ نہیں ہے، تو انسان محتاج تھا بیع و شراء کا اور اس کے لیے عربی زبان میں کوئی لفظ نہیں تھا تو شریعت نے خبر کے صیغوں کو ہی انشاء والا حکم دے دیا۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے اس آدمی نے اپنے غلام سے کہا ”أَنْتَ حُرٌّ“ تو آزاد ہے، تو یہ تو خبر ہے بھئی، یہ کیا ہے؟ یہ خبر ہے، یہ اسی طرح ہے جیسے آپ کسی کو کہتے ہیں بھئی کہ ”أَنْتَ رَجُلٌ شُجَاعٌ“ آپ بڑے بہادر آدمی ہیں، آپ بڑے بہادر آدمی ہیں تو آپ کے کہنے سے وہ بہادر نہیں بنا یہ آپ اس کو صرف خبر دے رہے ہیں، بتلا رہے ہیں کہ شاید تمہیں خود احساس نہ ہو لیکن تم بڑے بہادر آدمی ہو بھئی۔ تو لہٰذا یہاں پر بھی ”أَنْتَ حُرٌّ“ یا ”حَرَّرْتُكَ“ یا ”أَعْتَقْتُكَ“ یہ سب خبر والے صیغے ہیں لیکن شریعت نے ضرورت اور حاجت کی وجہ سے ان کو انشاء والا حکم دے دیا۔ تو کہتے ہیں ”وَالْوَضْعُ وَإِنْ كَانَ فِي الْإِخْبَارِ“ اور یہ جو الفاظ ہیں ان کی وضع اگرچہ خبر کے لیے ہے، ”وَالْوَضْعُ“ وضع کا معنی مقرر کرنا، ”وَالْوَضْعُ وَإِنْ كَانَ فِي الْإِخْبَارِ“ اگرچہ ان الفاظ کی جو وضع ہے وہ خبر میں ہے ”فَقَدْ جُعِلَ إِنْشَاءً فِي التَّصَرُّفَاتِ الشَّرْعِيَّةِ“ تو تحقیق ان کو تصرفاتِ شرعیہ کے اندر انشاء قرار دیا گیا ہے ”لِلْحَاجَةِ“ حاجت کی وجہ سے۔ تصرفاتِ شرعیہ جو ہم نکاح وغیرہ کا عقد کرتے ہیں، بیع و شراء کا عقد کرتے ہیں، اجارہ کا عقد کرتے ہیں تو یہ سب کیا ہیں؟ تصرفاتِ شرعیہ ہیں بھئی، تو یہ تصرفاتِ شرعیہ میں اس کو انشاء قرار دیا گیا ہے ”لِلْحَاجَةِ“ حاجت کی وجہ سے ”كَمَا فِي الطَّلَاقِ وَالْبَيْعِ وَغَيْرِهِمَا“ جیسے کہ طلاق اور بیع وغیرہ میں ہے، طلاق کے لیے بھی انسان کو طلاق کی حاجت ہے تو خبر کے صیغوں کو ہی انشاء کا قائم مقام کر دیا، اسی طرح بیع میں بھی۔ ”وَلَوْ قَالَ عَنَيْتُ بِهِ الْإِخْبَارَ الْبَاطِلَ أَوْ أَنَّهُ حُرٌّ مِنَ الْعَمَلِ صُدِّقَ دِيَانَةً“ صورتِ مسئلہ یہ ہے: آقا نے اپنے غلام سے کہا: ”أَنْتَ حُرٌّ“ یا ”أَنْتَ مُعْتَقٌ“ یا کوئی بھی لفظ کہا جو اوپر ذکر ہیں، یہ لفظ آقا نے کہے اور پھر بعد میں کہتا ہے کہ میں تو جھوٹ بول رہا تھا، میں نے ویسے ہی ایک جھوٹی خبر دی تھی، یہ تو میرا غلام ہے، میں نے ویسے ہی جھوٹی خبر دی تھی پاس بیٹھے ہوئے لوگوں کو۔ تو کہتے ہیں اس صورت میں دیانۃً آقا کی تصدیق کی جائے گی، قضاءً نہیں۔ دیانۃً آقا کی تصدیق کی جائے گی اس لیے کیونکہ یہ جو اس نے الفاظ کہے ان میں جھوٹ کا بھی احتمال ہے بھئی۔ یا دوسری صورت، آقا کہتا ہے کہ میں نے اس کو آزاد کرنے کا ارادہ نہیں کیا تھا میرا مطلب یہ تھا یہ کام کاج سے آزاد ہے، میں نے اس کو کہا تھا ”أَنْتَ حُرٌّ“ تو آزاد ہے یعنی کام کاج سے آزاد ہے، آج سے تمہیں کام کاج کرنے کی ضرورت نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں اس صورت میں دیانۃً تو آقا کی تصدیق کی جائے گی اس لیے کیونکہ اس کے کلام میں اس معنی کا احتمال ہے، لیکن قضاءً اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی کیونکہ اس کا کلام خلافِ ظاہر ہے۔ ظاہر یہی ہے کہ ان لفظوں کے ذریعے غلام کو آزاد کیا جاتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَلَوْ قَالَ“ اور اگر آقا نے کہا ”عَنَيْتُ بِهِ الْإِخْبَارَ الْبَاطِلَ“ کہ ارادہ کیا تھا میں نے اس کے ذریعے باطل خبر کا یعنی جھوٹی خبر کا ”أَوْ أَنَّهُ حُرٌّ مِنَ الْعَمَلِ“ یا یہ ارادہ میں نے کیا تھا کہ وہ کام کاج سے آزاد ہے ”صُدِّقَ دِيَانَةً“ تو اس آقا کی دیانۃً تصدیق کی جائے گی، یہ اس کے اور اللہ کا معاملہ ہے ”لِأَنَّهُ يَحْتَمِلُهُ“ اس لیے کیونکہ اس کے الفاظ اس کا احتمال رکھتے ہیں ”وَلَا يُدَيَّنُ قَضَاءً“ لیکن قضاءً اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی ”لِأَنَّهُ خِلَافُ الظَّاهِرِ“ اس لیے کیونکہ یہ ظاہر کے خلاف ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
160 approved lectures · 83 of 160