Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-080

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 16 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 63
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
فَصْلٌ: وَإِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَلَهَا النَّفَقَةُ وَالسُّكْنَى فِي عِدَّتِهَا رَجْعِيًّا كَانَ أَوْ بَائِنًا. وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: لَا نَفَقَةَ لِلْمَبْتُوتَةِ إِلَّا إِذَا كَانَتْ حَامِلًا. گذشتہ سبق میں صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ جس طرح عورت کا نفقہ خاوند کے ذمہ ہوتا ہے، اسی طرح خاوند کے ذمہ ہے کہ وہ عورت کو اس کے رہنے کے لیے رہائش بھی مہیا کرے بھئی، اور خاوند پر عورت کا یہ حق ہے کہ خاوند اس کو الگ گھر دے جس کے اندر خاوند کے رشتہ داروں میں سے کوئی بھی نہ ہو، الّا یہ کہ عورت خود ان کے ساتھ رہنے کو اختیار کر لے، اور اگر اس خاوند کی اولاد ہے کسی دوسری بیوی سے تو اس کو بھی اس عورت کے ساتھ اس گھر میں نہیں ٹھہرا سکتا۔ البتہ اگر خاوند نے عورت کو گھر میں ایک الگ کمرہ دے دیا جس کی چابی عورت کے پاس ہے اور جس کے اندر عورت کی اجازت کے بغیر کوئی آ جا نہیں سکتا، تو اس صورت میں بھی عورت کا حق ادا ہو گیا، اب وہ الگ گھر کا مطالبہ نہیں کر سکتی بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ جس طرح عورت جو ہے وہ اپنے ساتھ خاوند کے رشتہ داروں میں سے کسی کو نہ رہنے دے یہ اس کا حق ہے، اسی طرح یہ جو گھر ہے جس کے اندر عورت رہ رہی ہے یہ خاوند کا حق ہے، خاوند کی ملکیت ہے، لہٰذا خاوند اس کے اندر عورت کے رشتہ داروں کو آنے سے منع کر سکتا ہے کہ اس گھر کے اندر نہ اس عورت کے والدین آئیں گے، نہ اس کے بہن بھئی آئیں گے، اور نہ اس کی کسی دوسرے خاوند سے کوئی اولاد ہے وہ بھی اس گھر کے اندر نہیں آئے گی اگر خاوند منع کر دے گا۔ البتہ ان رشتہ داروں سے خاوند بات چیت کرنے سے منع نہیں کر سکتا اس لیے کیونکہ اس صورت میں قطع رحمی لازم آئے گی، یعنی رشتہ توڑنا لازم آئے گا، اور شریعت نے تو رشتے جوڑنے کا حکم دیا ہے، توڑنے سے منع کیا ہے بھئی۔ جبکہ دوسرا قول یہ ہے کہ خاوند ان رشتہ داروں کو گھر میں آنے سے اور عورت کے ساتھ بات چیت کرنے سے نہیں روک سکتا، البتہ وہ ان کو زیادہ دیر ٹھہرنے سے روک سکتا ہے بھئی، اس لیے کیونکہ فتنہ زیادہ دیر ٹھہرنے میں اور لمبی باتیں کرنے میں ہوتا ہے بھئی۔ جبکہ مفتیٰ بہ قول یہ ہے کہ عورت اپنے والدین سے ملنے کے لیے ہر ہفتے کے اندر ایک مرتبہ جا سکتی ہے یا وہ اس سے ملنے کے لیے آ سکتے ہیں، جبکہ باقی رشتہ داروں کے ساتھ سال میں ایک دفعہ عورت ملنے جا سکتی ہے، باقی قریبی محرم رشتہ دار۔ یاد رکھنا یہ محرم رشتہ داروں کی بات ہو رہی ہے جبکہ جو غیر محرم ہیں وہ اجنبیوں کے درجے میں ہیں بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا تھا کہ اگر کوئی آدمی غائب ہو گیا اور اس کا کوئی مال بطورِ امانت کے یا بطورِ مضاربت کے یا بطورِ دین کے کسی آدمی کے پاس ہے، اور پھر وہ جو آدمی ہے جس کے پاس امانت ہے یا جس کے پاس مالِ مضاربت ہے یا جس کے اوپر دین ہے، اگر وہ اس مال کا بھی اعتراف کرتا ہے اور اس عورت کے اس غائب کی بیوی ہونے کا بھی اعتراف کرتا ہے تو پھر قاضی اسی مال کے اندر اس بیوی کا نفقہ مقرر کر سکتا ہے، اور نیز اسی مال کے اندر قاضی جو ہے اس غائب شخص کی نابالغ اولاد اور اس کے والدین کا نفقہ بھی مقرر کر سکتا ہے۔ اور اگر وہ شخص جس کے پاس یہ مال ہے وہ مال کا اعتراف نہیں کرتا یا اس عورت کے بیوی ہونے کا اعتراف نہیں کرتا یا دونوں چیزوں کا ہی اعتراف نہیں کرتا، البتہ خود قاضی کو علم ہے، مثلاً وہ شخص قاضی کے سامنے اس کے پاس امانت رکھوا کر گیا تھا، یا قاضی کے سامنے اس نے اس آدمی کو مضاربت کے طور پر مال وغیرہ دیا تھا، تو پھر اس صورت کے اندر قاضی کو جب علم ہے پھر یہ شخص چاہے اعتراف نہ بھی کرے پھر بھی قاضی اس کے عورت کے لیے نفقے کا فیصلہ کر سکتا ہے بھئی۔ اور صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر یہ شخص اعتراف نہیں کرتا اور قاضی کو بھی علم نہیں ہے تو عورت بینہ کے ذریعے بھی ان چیزوں کو ثابت نہیں کر سکتی یہاں پر، اس لیے کیونکہ یہ شخص جو ہے یہ عورت کا فریقِ مخالف نہیں، مثلاً اگر یہ اس عورت کے اس غائب کی بیوی ہونے کا تو اعتراف کر رہا ہے لیکن اس مال کا اعتراف نہیں کر رہا اور عورت بینہ کے ذریعے مال ثابت کرنا چاہتی ہے اپنے غائب خاوند کا، تو اس صورت میں عورت کی بینہ قبول نہیں کی جائے گی کیونکہ یہ شخص اس کا فریقِ مخالف نہیں۔ اس آدمی کے پاس اس کے خاوند نے مال رکھوایا تھا تو خاوند تو بینہ پیش کرے پھر تو قبول کیا جائے گا، عورت کا بینہ اس سلسلے میں قبول نہیں کیا جائے گا۔ اور اگر یہ جو شخص ہے، مودع جو ہے اگر اس عورت کے بیوی ہونے کا اعتراف نہیں کرتا، کہتا ہے مجھے نہیں علم کہ یہ اس کی بیوی ہے یا نہیں ہے، اور عورت بینہ قائم کر دیتی ہے کہ میں اس غائب آدمی کی بیوی ہوں، یہ دو گواہ موجود ہیں ان کے سامنے میرا اس آدمی کے ساتھ نکاح ہوا تھا، تو اس صورت میں بھی صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ یہ جو مودع ہے یہ اس عورت کا فریقِ مخالف نہیں، لہٰذا یہاں پر بھی عورت کی بینہ قبول نہیں کی جائے گی۔ عورت نے اپنا بیوی ہونا ثابت کرنا ہے اس کے اندر خاوند تو اس کا فریقِ مخالف ہو سکتا ہے، خاوند اگر انکار کرے گا عورت دو گواہ پیش کر دے گی کہ ان کے سامنے میرا اس خاوند کے ساتھ نکاح ہوا تھا، تو خاوند تو یہاں فریقِ مخالف بن سکتا ہے لیکن یہ مودع فریقِ مخالف نہیں ہو سکتا اس کے بیوی ہونے میں۔ لہٰذا جب یہ شخص خود مال کا بھی اعتراف کر لے اور اس عورت کے بیوی ہونے کا بھی اعتراف کر لے تو پھر قاضی اس کے حق میں فیصلہ کر دے گا۔ اور یہ بھی بتایا تھا صاحبِ ہدایہ نے کہ وہ جو مال ہے اس مودع کے پاس وہ اسی عورت کے حق کی جنس میں سے ہونا چاہیے، یعنی جو عورت کا حق بنتا ہے یعنی درہم ہوں یا دینار ہوں یا پھر غلہ ہے یعنی گندم ہے یا اس قسم کے کپڑے ہیں جو اس عورت کا حق بنتے ہیں، تو پھر اس صورت میں قاضی اسی کے اندر فیصلہ کر دے گا بھئی۔ اور اگر وہ مال اور جنس سے ہے، مثلاً وہ اس مودع کے پاس اپنا غلام رکھوا کر گیا ہے یا کچھ زمین اپنی اس کے حوالے کر کے گیا ہے یا کوئی اور تجارت کا سامان اس کے حوالے کر کے گیا ہے تو پھر اس صورت میں قاضی اس عورت کا نفقہ اس کے اندر مقرر نہیں کر سکتا کیونکہ اس کے لیے پھر اس سامان کو بیچنا پڑے گا اور غائب کے خلاف اس کے سامان کو بیچنا یہ بالاتفاق جائز نہیں ہے۔ حاضر کے بارے میں تو صاحبین فرماتے ہیں کہ حاضر آدمی کے سامان کو قاضی بیچ سکتا ہے، مثلاً ایک شخص ہے اس زید نے اس کے پیسے ادا کرنے ہیں لیکن زید پیسے ادا نہیں کر رہا اور زید کے پاس کچھ سامان ہے، زید اس کو بیچ کر قرضہ ادا کر سکتا ہے لیکن وہ ادا نہیں کر رہا، وہ حق ادا کرنے سے رکا ہوا ہے، لہٰذا قاضی جو ہے اس زید پر پابندی لگا دے گا اور قاضی خود اس کا سامان بیچ دے گا اور اس کے ذریعے اس آدمی کا حق ادا کر دے گا۔ تو صاحبین فرماتے ہیں حاضر آدمی تو چونکہ حق ادا کرنے سے رک جاتا ہے تو اس کا حق کی ادائیگی سے رکنا وہ معلوم ہے، لہٰذا اس پر قاضی پابندی لگا کر اس کے سامان کو بیچ سکتا ہے لیکن غائب آدمی کا تو حق کی ادائیگی سے رکنا معلوم نہیں، وہ آئے اور پھر وہ حق ادا نہ کرے پھر تو قاضی بیچ سکتا ہے لیکن اس کی غیر موجودگی میں ابھی تو اس کا حق کی ادائیگی سے رکنا ہی معلوم نہیں ہے بھئی۔ تو یہ تو صاحبین کے نزدیک ہے، جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ قاضی نہ حاضر آدمی کے سامان کو بیچ سکتا ہے اور نہ غائب آدمی کے سامان کو بیچ سکتا ہے۔ وجہ یہ کہ حاضر آدمی کے سامان کو بھی اگر قاضی بیچے گا تو اس پر پابندی لگا کر بیچے گا، معلوم ہوا حاضر بیع نہیں کر سکتا اور قاضی بیع کر سکتا ہے، تو یہ پابندی اس پر لگانا پڑے گی اور عاقل بالغ شخص پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ چنانچہ امام صاحب فرماتے ہیں حاضر آدمی کے سامان کو نہیں بیچا جا سکتا اور جب حاضر آدمی کے سامان کو نہیں بیچا جا سکتا تو غائب کے سامان کو بطریقِ اولیٰ نہیں بیچا جا سکتا۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا تھا کہ قاضی اس عورت سے قسم بھی لے لے گا، کہیں ایسا نہ ہو خاوند اس کو نفقہ دے کر گیا ہو، تو عورت قسم کھا کر کہے گی کہ اس کا خاوند اسے نفقہ دے کر نہیں گیا۔ اور نیز اس عورت سے قاضی ضامن بھی لے لے گا کہ اگر وہ خاوند واپس آیا اور پتہ چلا کہ وہ تو نفقہ دے کر گیا تھا یا اس عورت کا حق نہیں بنتا تھا وہ اس کو طلاق دے گیا تھا اور اس کی عدت بھی گزر چکی تھی، تو پھر اس صورت میں تاکہ وہ جو مال ادا کیا گیا ہے اس کو وصول کیا جا سکے اس عورت سے یا اس کے ضامن سے بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ غائب آدمی کے مال میں سے قاضی صرف انہی مذکورہ افراد کا نفقہ مقرر کر سکتا ہے یعنی اس کی بیوی اور اس کی نابالغ اولاد اور اس کے والدین کا۔ وجہ یہ کہ ان کا نفقہ دراصل قضائے قاضی سے واجب نہیں ہوا، ان کا نفقہ پہلے سے ہی واجب تھا، حتیٰ کہ یہ اس شخص کی مرضی کے بغیر اس کے مال میں سے لینا چاہیں تو لے سکتے ہیں قضائے قاضی سے پہلے بھی۔ قضائے قاضی سے پہلے بھی یہ اس شخص کے مال میں سے اس کی رضامندی کے بغیر اپنے نفقے کے بقدر اپنے حق کو وصول کرنا چاہیں تو لے سکتے ہیں، تو قاضی نے تو صرف ان کی مدد کی ہے۔ جبکہ باقی جو ہیں اگر اور رشتہ دار ہیں اور وہاں ان کو نفقہ دینے کی حاجت پیش آتی ہے تو اس صورت میں وہ قضائے قاضی کا محتاج ہے بھئی۔ وہ قضائے قاضی کا محتاج ہے کیونکہ وہ مجتہد فیہ مسئلہ ہے، حتیٰ کہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ بیوی اور ماں باپ اور نابالغ اولاد کے علاوہ اور کسی کا نفقہ آدمی پر واجب ہوتا ہی نہیں ہے۔ تو معلوم ہوا باقی رشتہ داروں کے نفقہ جو ہے وہ مسئلہ مجتہد فیہ ہے، اس کے اندر اجتہاد کی گنجائش ہے چونکہ، تو لہٰذا وہاں قاضی کا فیصلہ ضروری ہے، قاضی کے فیصلے کے بغیر ان کا نفقہ واجب نہیں ہوگا، اور اس وقت تو یہ آدمی غائب ہے تو قاضی غائب کے خلاف فیصلہ نہیں کر سکتا بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا تھا کہ اگر اس عورت کا بیوی ہونا معلوم نہیں، نہ قاضی کو علم ہے اور نہ وہ آدمی اعتراف کر رہا ہے اور عورت بینہ قائم کرتی ہے کہ میں اس غائب آدمی کی بیوی ہوں۔ یا دوسری صورت ہے کہ وہ غائب آدمی کوئی مال چھوڑ کر ہی نہیں گیا اور کسی کے پاس امانت وغیرہ بھی نہیں رکھوائی، اور اب عورت دو گواہ پیش کرتی ہے اور ثابت کرتی ہے کہ میں اسی غائب آدمی کی بیوی ہوں، اے قاضی صاحب! آپ میرے لیے نفقہ بھی مقرر فرما دیجیے اور مجھے قرض لینے کی اجازت بھی دیجیے تاکہ میں اپنے اس غائب خاوند کے ذمے میں قرض لیتی رہوں اور وہ واپس آئے گا تو یہ سارا دین ادا کر دے گا، تو ہمارے ائمہ فرماتے ہیں کہ اس صورت میں قاضی جو ہے یہ فیصلہ نہیں کرے گا۔ عورت اپنا بیوی ہونا بینہ کے ذریعے ثابت کر رہی ہے تو قاضی یہ فیصلہ نہیں کرے گا کیونکہ یہ قضاء علی الغائب ہے، غائب آدمی کے خلاف فیصلہ ہے، اور غائب آدمی کے خلاف فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان صورتوں میں قاضی اس عورت کے حق میں فیصلہ کر دے گا اور اس کے لیے نفقہ مقرر کر دے گا، وجہ یہ کہ یہاں پر حاجت ہے بھئی، اور اس جو غائب ہے اس کو کوئی نقصان بھی نہیں ہے کیونکہ آپ نے اس عورت سے ضامن لے لیا ہے بھئی۔ اس عورت سے آپ نے ضامن لے لیا ہے تو اگر کوئی زیادتی بھی ثابت ہو گئی بعد میں تو پھر اس صورت میں بھی وہ مال اس عورت یا اس کے ضامن سے وصول کیا جا سکتا ہے۔ اور صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ آج کل قاضیوں کا عمل امام زفر رحمہ اللہ کے قول پر ہی ہے بھئی، وجہ یہ کہ لوگ اس کے محتاج ہیں، لوگ بیوی بچوں کو چھوڑ کر غائب ہو جاتے ہیں ان کو نفقہ وغیرہ ہی نہیں دیتے بھئی، تو قاضی اس لوگوں کی حاجت کی وجہ سے یہاں پر اس نفقے کے معاملے میں غائب آدمی کے خلاف بھی قاضی فیصلہ کر دے گا، کیونکہ یہ نفقے کا معاملہ ہے، عام معاملات میں قاضی غائب آدمی کے خلاف فیصلہ نہیں کر سکتا لیکن یہاں امام زفر رحمہ اللہ کے قول پر فتویٰ ہے کہ قاضی غائب آدمی کے خلاف بھی اس کے مال میں سے نفقہ مقرر کر دے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب آئیے آج کے سبق پر: فَصْلٌ: وَإِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَلَهَا النَّفَقَةُ وَالسُّكْنَى فِي عِدَّتِهَا رَجْعِيًّا كَانَ أَوْ بَائِنًا. یاد رکھو عند الاحناف بھئی، جب کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو عدت کے دوران اس کا نفقہ خاوند کے ذمے ہے، چاہے طلاقِ بائن دی ہو اور چاہے طلاقِ رجعی دی ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ“ اور جب کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے دے، ”فَلَهَا النَّفَقَةُ وَالسُّكْنَى فِي عِدَّتِهَا“ تو اس عورت کے لیے نفقہ بھی ہوگا اور رہائش بھی ہوگی اس کی عدت میں، ”رَجْعِيًّا كَانَ أَوْ بَائِنًا“ چاہے وہ طلاق جو خاوند نے دی ہے وہ چاہے رجعی ہو یا بائن ہو۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: لَا نَفَقَةَ لِلْمَبْتُوتَةِ“ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مبتوتہ کے لیے نفقہ نہیں ہوگا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طلاقِ رجعی والی عورت جو ہے اس کے لیے تو نفقہ ہوگا لیکن جس عورت کو خاوند نے طلاقِ بائن دی ہے یا تین طلاقیں دی ہیں یعنی مبتوتہ ہے تو پھر اس صورت میں اس کے لیے نفقہ نہیں ہوگا۔ ہاں اگر یہ مبتوتہ حاملہ ہے۔ مبتوتہ یعنی جس کو کاٹا گیا ہے یعنی رجوع سے، یعنی خاوند نے طلاقِ بائن دے دی ہے یا تین طلاقیں دے دی ہیں تو اب یہاں رجوع نہیں ہو سکتا، تو یہ ہے مبتوتہ، یا یوں کہیں مبتوتہ وہ عورت جس کو کاٹ دیا گیا ہے نکاح سے یعنی اس کا نکاح ختم ہو گیا ہے، اور وہ کون سی عورت ہوتی ہے؟ جس کو خاوند طلاقِ بائن دے دے یا تین طلاقیں دے دے بھئی۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ جو مبتوتہ ہے اس کا نکاح پورے طور پر ٹوٹ چکا ہے، لہٰذا عدت کے دوران اس کا نفقہ خاوند کے ذمے نہیں ہوگا۔ ہاں البتہ اگر یہ مبتوتہ حاملہ ہے پھر اس صورت میں وہ فرماتے ہیں کہ اس کا نفقہ خاوند کے ذمے ہوگا اس لیے کیونکہ قرآن میں اللہ اس کا حکم فرماتے ہیں، آگے صاحبِ ہدایہ آیت بھی ذکر فرمائیں گے جس کے اندر اللہ تعالیٰ مطلقہ حاملہ کے نفقے کو ذکر فرما رہے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: لَا نَفَقَةَ لِلْمَبْتُوتَةِ إِلَّا إِذَا كَانَتْ حَامِلًا“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مبتوتہ کے لیے نفقہ نہیں ہوگا مگر یہ کہ جس وقت وہ عورت حاملہ ہو، اگر مبتوتہ حاملہ ہے پھر اس کے لیے نفقہ ہوگا۔ تو طلاقِ رجعی کے اندر تو عند الاحناف بھی نفقہ ہوگا اور عند الشوافع بھی نفقہ ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”أَمَّا الرَّجْعِيُّ“ تو طلاقِ رجعی جو ہے، ”فَلِأَنَّ النِّكَاحَ بَعْدَهُ قَائِمٌ“ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ نکاح اس طلاق کے بعد بھی موجود ہے، ”لَا سِيَّمَا عِنْدَنَا“ خاص طور پر ہمارے نزدیک، ”فَإِنَّهُ يَحِلُّ لَهُ الْوَطْءُ“ اس لیے کیونکہ خاوند کے لیے وطی حلال ہے۔ بھئی آپ جانتے ہیں عند الاحناف طلاقِ رجعی کے بعد بھی خاوند کے لیے وطی حلال ہے، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک وطی حلال نہیں، طلاقِ رجعی کے بعد خاوند کے لیے وطی حلال نہیں لیکن عند الاحناف طلاقِ رجعی کے بعد بھی خاوند کے لیے وطی حلال ہے، ہاں خاوند وطی کرے گا تو رجوع ہو جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”أَمَّا الرَّجْعِيُّ فَلِأَنَّ النِّكَاحَ بَعْدَهُ قَائِمٌ لَا سِيَّمَا عِنْدَنَا فَإِنَّهُ يَحِلُّ لَهُ الْوَطْءُ، وَأَمَّا الْبَائِنُ فَوَجْهُ قَوْلِهِ“ اور باقی طلاقِ بائن جو ہے تو اس میں امام شافعی رحمہ اللہ کے قول کی جو وجہ ہے، ”مَا رُوِيَ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا“ تو اس کی وجہ وہ حدیث ہے جو روایت کی گئی ہے حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے، ”قَالَتْ: طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا فَلَمْ يَفْرِضْ لِي رَسُولُ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً“ وہ فرماتی ہیں کہ میرے خاوند نے مجھے تین طلاقیں دیں تو حضور علیہ السلام نے میرے لیے رہائش اور نفقہ مقرر نہیں فرمایا۔ فرض یفرض کا معنیٰ ہے مقرر کرنا۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مبتوتہ یعنی جس کو خاوند نے طلاقِ بائن دی ہے یا تین طلاقیں دی ہیں اس کا نفقہ خاوند کے ذمے نہیں ہے عدت کے دوران، اور وہ دلیل کے طور پر حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث ذکر فرماتے ہیں، وہ فرماتی ہیں کہ میرے خاوند نے مجھے تین طلاقیں دی تھیں اور حضور علیہ السلام نے میرے لیے نفقہ اور سکنیٰ مقرر نہیں فرمایا۔ آگے دیکھیے، امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے بھئی، ایک نقلی دلیل ذکر کر دی بھئی اور وہ حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث ہے بھئی، اب آگے امام شافعی رحمہ اللہ کے لیے عقلی دلیل ذکر فرما رہے ہیں صاحبِ ہدایہ: کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ لَا مِلْكَ لَهُ“ اور اس لیے کیونکہ خاوند کی ملکیت نہیں ہے۔ بھئی عورت کو خاوند نے طلاقِ بائن دی ہے یا تین طلاقیں دی ہیں اور طلاقِ بائن سے بھی خاوند کی ملکیت عورت پر ختم ہو جاتی ہے، نکاح ٹوٹ جاتا ہے پورے طور پر، اور اسی طرح تین طلاقوں سے بھی نکاح پورے طور پر ٹوٹ جاتا ہے، تو خاوند کی ملکیت عورت پر باقی نہیں رہی، اور جب خاوند کی عورت پر ملکیت باقی نہیں رہی تو اب اس عورت کا نفقہ بھی خاوند کے ذمے نہیں ہوگا۔ وہ فرماتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے متوفیٰ عنہا زوجہا، وہ عورت جس کے خاوند کا انتقال ہو جائے، تو یہ عورت جو ہے اس کا نفقہ بھی خاوند کے مال میں سے نہیں ہوگا، اس کا نفقہ بھی خاوند کے مال میں سے نہیں ہوگا کیونکہ وفات کی وجہ سے خاوند کی ملکیت اس پر سے ختم ہو چکی ہے۔ معلوم ہوا جہاں خاوند کی ملکیت ہوگی وہاں نفقہ آئے گا اور جہاں ملکیت نہیں وہاں نفقہ بھی نہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ لَا مِلْكَ لَهُ“ اور اس لیے کیونکہ خاوند کی کوئی ملکیت نہیں ہے اس مبتوتہ میں، یعنی خاوند کو ملکِ نکاح حاصل نہیں ہے بھئی اس مبتوتہ میں، ”وَهِيَ مُرَتَّبَةٌ عَلَى الْمِلْكِ“ اور یہ جو نفقہ ہے یہ تو مرتب ہوتا ہے ملکیت پر جبکہ یہاں تو ملکیت نہیں ہے، ”وَلِهَذَا لَا تَجِبُ لِلْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا“ اور اسی لیے نفقہ جو ہے اس عورت کے لیے واجب نہیں ہوتا جس کے خاوند کا انتقال ہو چکا ہو، ”لِانْعِدَامِهِ“ بوجہ ملکیت کے معدوم ہونے کے کہ وہاں خاوند کی ملکیت معدوم ہے، ”بِخِلَافِ مَا إِذَا كَانَتْ حَامِلًا“ بخلاف اس صورت کے کہ جب یہ عورت حاملہ ہو۔ بھئی امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں کہ مبتوتہ کے اوپر خاوند کی ملکیت نہیں، جب خاوند کی ملکیت نہیں تو اس کے لیے نفقہ بھی نہیں ہوگا، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر مبتوتہ حاملہ ہو پھر تو آپ بھی کہتے ہیں کہ اس کے لیے نفقہ ہونا چاہیے، حالانکہ مبتوتہ حاملہ اس پر بھی تو خاوند کی ملکیت نہیں ہے، تو اس کا جواب دیں گے کہ بھئی وہ قرآن سے ثابت ہے بھئی خلافِ قیاس۔ قیاس تو یہی تقاضا کرتا ہے کہ مبتوتہ حاملہ اس سے بھی نکاح ٹوٹ چکا ہے، اس کے اوپر بھی خاوند کو ملکیتِ نکاح اب حاصل نہیں، لہٰذا اس کا بھی نفقہ خاوند پر نہیں ہونا چاہیے لیکن خلافِ قیاس اس کا ذکر قرآن میں آ گیا۔ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”وَإِنْ كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ“ کہ اگر یہ مطلقَات جو ہیں یہ حمل والیاں ہیں، ”فَأَنْفِقُوا عَلَيْهِنَّ“ تو ان پر خرچ کرو۔ یہ معلوم ہوا ان کا نفقہ خاوند کے ذمے ہے۔ معلوم ہوا مبتوتہ حاملہ کا نفقہ خلافِ قیاس قرآن سے ثابت ہے۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ مَا إِذَا كَانَتْ حَامِلًا لِأَنَّا عَرَفْنَاهُ بِالنَّصِّ“ بخلاف اس صورت کے کہ جب یہ مبتوتہ حاملہ ہو، اس لیے کیونکہ ہم نے یہاں وجوبِ نفقہ کو نص کی وجہ سے جانا ہے، ”وَهُوَ قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَإِنْ كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنْفِقُوا عَلَيْهِنَّ}“ اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: ﴿وَإِنْ كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنْفِقُوا عَلَيْهِنَّ﴾ اور اگر یہ مطلقَات جو ہیں یہ حمل والیاں ہیں تو ان پر خرچ کرو، ”الْآيَةَ“ یعنی اقرأ الآیۃ، تو الآیۃ منصوب بھی پڑھ سکتے ہیں اور مرفوع بھی پڑھ سکتے ہیں ”الْآيَةُ مَعْلُومَةٌ“ کہ ہم نے کچھ حصہ پڑھ دیا باقی آیت معلوم ہے آپ پڑھ لیجیے۔ اب آگے ہماری دلیل آ رہی ہے: ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّ النَّفَقَةَ جَزَاءُ احْتِبَاسٍ عَلَى مَا ذَكَرْنَا“ کہ یہ نفقہ جو ہے احتباس کی جزا ہے، احتباس کا بدلہ ہے علیٰ ما ذکرنا اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دی۔ پیچھے ذکر آیا تھا بھئی بیوی کا نفقہ خاوند پر کیوں واجب ہوتا ہے؟ کیونکہ عورت نے اپنے آپ کو خاوند کے لیے گھر میں روک کر رکھا ہوا ہے، اس رکنے کو احتباس کہتے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ نفقہ کس کا بدلہ ہوتا ہے؟ احتباس کا بدلہ ہے، احتباس کی جزا ہے، اور احتباس یہاں مبتوتہ میں بھی موجود ہے، مبتوتہ جس کو خاوند نے طلاقِ بائن دی ہے یا تین طلاقیں دی ہیں یہ بھی جب تک عدت میں ہے آگے نکاح نہیں کر سکتی، تو احتباس یہاں پر بھی پایا جا رہا ہے اور جب احتباس موجود ہے تو اس کا نفقہ خاوند کے ذمے ہوگا۔ کہتے ہیں: ”وَلَنَا أَنَّ النَّفَقَةَ جَزَاءُ احْتِبَاسٍ عَلَى مَا ذَكَرْنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ یہ جو نفقہ ہے یہ احتباس کا بدلہ ہے اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دیا، ”وَالِاحْتِبَاسُ قَائِمٌ فِي حَقِّ حُكْمٍ مَقْصُودٍ بِالنِّكَاحِ“ اور یہ احتباس موجود ہے اس حکم کے حق میں جو نکاح سے مقصود ہے۔ بھئی نکاح کے ذریعے کیا مقصود ہوتا ہے؟ کہ افزائشِ نسل ہو، توالد ہو، اولاد حاصل ہو بھئی، تو لہٰذا یہ یہاں پر بھی وہ حکم جو نکاح کی وجہ سے مقصود ہوتا ہے یعنی اولاد، اس کے لیے احتباس موجود ہے۔ اس کے لیے کیا معنی اولاد کے لیے احتباس ہے؟ کیونکہ ہو سکتا ہے یہ عورت حاملہ ہو بھئی تو اس کے پیٹ میں خاوند کی اولاد ہو، تو اس اولاد کی وجہ سے اس عورت کو عدت گزارنا پڑے گی اور جب پتہ چل جائے گا کہ اولاد نہیں ہے تو پھر اس کے بعد عدت گزار کر یہ آگے نکاح کر سکتی ہے بھئی۔ تو یہاں پر بھی یہ جو عورت پر احتباس آیا ہے کس کی وجہ سے آیا؟ اولاد کی وجہ سے، اور وہ اولاد تو نکاح کے ذریعے مقصود ہوتی ہے، تو معلوم ہوا نکاح کے ایک حکم کی وجہ سے احتباس پایا جا رہا ہے۔ کس کے حکم کی وجہ سے؟ نکاح کے حکم کی وجہ سے، تو جب احتباس موجود ہے تو خاوند پر اس کا نفقہ بھی آئے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَالِاحْتِبَاسُ قَائِمٌ فِي حَقِّ حُكْمٍ مَقْصُودٍ بِالنِّكَاحِ وَهُوَ الْوَلَدُ“ اور احتباس موجود ہے اس حکم کے حق میں جو نکاح سے مقصود ہوتا ہے اور وہ اولاد ہے، ”إِذِ الْعِدَّةُ وَاجِبَةٌ لِصِيَانَةِ الْوَلَدِ“ اس لیے کیونکہ یہ عدت واجب ہوتی ہے اولاد کی حفاظت کے لیے تاکہ کہیں بچے کا نسب مشتبہ نہ ہو جائے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”إِذِ الْعِدَّةُ وَاجِبَةٌ لِصِيَانَةِ الْوَلَدِ فَتَجِبُ النَّفَقَةُ“ اس لیے کیونکہ یہ عدت واجب ہوتی ہے اولاد کی حفاظت کے لیے تو نفقہ بھی واجب ہوگا، ”وَلِهَذَا كَانَ لَهَا السُّكْنَى بِالْإِجْمَاعِ“ اور اسی وجہ سے یعنی اسی احتباس کی وجہ سے اس عورت کے لیے رہائش بھی واجب ہوگی بالاجماع، یعنی اس میں ہمارا اور شوافع کا اتفاق ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ جو ہیں جو فرماتے ہیں کہ مبتوتہ کے لیے نفقہ نہیں ہوگا، رہائش کو وہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اس مبتوتہ کے لیے رہائش ہوگی بھئی، کیونکہ قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں: ”أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِنْ وُجْدِكُمْ“، تو وہ فرماتے ہیں اس مبتوتہ کے لیے سکنیٰ ہوگا، رہائش ہوگی، تو رہائش میں گویا ہمارا اور ان کا اتفاق ہے۔ تو ہم کہتے ہیں کہ یہ احتباس موجود ہے اسی لیے اس عورت کے لیے بالاتفاق سکنیٰ یعنی رہائش بھی ہے تو یہ بھی اس حاملہ کی طرح ہو گئی، وہ مبتوتہ حاملہ، اور مبتوتہ حاملہ کے لیے تو نفقہ تھا لہٰذا اس کے لیے بھی نفقہ ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِهَذَا كَانَ لَهَا السُّكْنَى بِالْإِجْمَاعِ وَصَارَ كَمَا إِذَا كَانَتْ حَامِلًا“ اور اس احتباس کی وجہ سے اس عورت کے لیے بالاتفاق رہائش ہوگی اور یہ ایسے ہی ہو گئی جیسے یہ عورت حاملہ ہو، جیسے حاملہ کے اندر احتباس موجود ہے جب تک وہ حاملہ ہے وہ آگے نکاح نہیں کر سکتی اور جیسے اس کے لیے سکنیٰ بھی ہے اور نفقہ بھی ہے، تو یہ عورت جو ہے یہ مبتوتہ غیر حاملہ بھی کس کی طرح ہو گئی؟ حاملہ کی طرح ہو گئی کیونکہ احتباس دونوں میں پایا جا رہا ہے اور دونوں کے لیے بالاتفاق سکنیٰ بھی ہے، جب دونوں کے لیے سکنیٰ ہے معلوم ہوا یہ مبتوتہ غیر حاملہ بھی کس کی طرح ہو گئی؟ حاملہ کی طرح، اور حاملہ کے لیے تو نفقہ بھی تھا لہٰذا اس کے لیے بھی نفقہ ہوگا بھئی۔ تو یہ معنی ہے: ”وَصَارَ كَمَا إِذَا كَانَتْ حَامِلًا“ اور یہ اسی طرح ہو گئی جیسے کہ عورت حاملہ ہو۔ تو یہاں اعتراض ہوتا ہے کہ اے احناف! نص کے اندر تو مبتوتہ حاملہ کا ذکر تھا کہ اس کا نفقہ خاوند پر ہے اور آپ نے مبتوتہ غیر حاملہ کو بھی حاملہ والا حکم دے دیا، تو پھر نص کا فائدہ کیا ہوا؟ نص کے اندر تو تخصیص تھی حاملہ کی، تو پھر اس تخصیص کا فائدہ کیا ہوا؟ آپ نے مبتوتہ غیر حاملہ کو بھی وہی حکم دے دیا۔ تو جواب یہ کہ بھئی نص کا فائدہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے دراصل اشتباہ کو ختم کرنا مقصود تھا۔ وجہ یہ کہ مبتوتہ کی عدت تو تین حیض ہے لیکن حاملہ کی عدت تو لمبی ہو سکتی ہے بھئی، تو اشتباہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس ساری اتنی لمبی مدت کا نفقہ بھی خاوند کے ذمے ہوگا؟ تو نص میں بتلا دیا گیا کہ ہاں حاملہ جب ہے تو وضعِ حمل تک جتنی مدت ہے سارا نفقہ خاوند کے ذمے ہوگا کیونکہ اس عورت کے پیٹ میں خاوند کی اولاد ہے۔ تو نص کا مقصود کیا تھا؟ اشتباہ کو ختم کرنا تھا، کسی کے ذہن میں یہ اشتباہ نہ آ جائے کہ یہ تو حاملہ ہے اس کی عدت تو لمبی ہو سکتی ہے تو کیا اتنی مدت تک خاوند سارا خرچہ اٹھاتا رہے گا؟ تو نص میں بتلا دیا گیا کہ حاملہ کے وضعِ حمل تک سارا نفقہ خاوند کے ذمے ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ آگے دیکھیے: ”وَحَدِيثُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا رَدَّهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَإِنَّهُ قَالَ: لَا نَدَعُ كِتَابَ رَبِّنَا وَسُنَّةَ نَبِيِّنَا بِقَوْلِ امْرَأَةٍ لَا نَدْرِي صَدَقَتْ أَمْ كَذَبَتْ، حَفِظَتْ أَمْ نَسِيَتْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ يَقُولُ: لِلْمُطَلَّقَةِ الثَّلَاثِ النَّفَقَةُ وَالسُّكْنَى مَا دَامَتْ فِي الْعِدَّةِ“ اب صاحبِ ہدایہ جواب دے رہے ہیں حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث کا، کہتے ہیں: ”وَحَدِيثُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ رَدَّهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ“ کہ حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی جو حدیث ہے اس کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رد فرمایا، ”فَإِنَّهُ قَالَ“ انہوں نے فرمایا: ”لَا نَدَعُ كِتَابَ رَبِّنَا وَسُنَّةَ نَبِيِّنَا“ ودع یدع کا معنیٰ ہوتا ہے چھوڑنا، تو حضرت عمر فاروق فرماتے ہیں: ”لَا نَدَعُ كِتَابَ رَبِّنَا“ کہ ہم اپنے پروردگار کی کتاب کو نہیں چھوڑ سکتے، ”وَسُنَّةَ نَبِيِّنَا“ اور اسی طرح اپنے نبی کی سنت کو نہیں چھوڑ سکتے، ”بِقَوْلِ امْرَأَةٍ“ ایک عورت کے قول کی وجہ سے، ”لَا نَدْرِي صَدَقَتْ أَمْ كَذَبَتْ“ ہم نہیں جانتے کہ اس نے سچ کہا ہے یا جھوٹ کہا ہے، ”حَفِظَتْ أَمْ نَسِيَتْ“ ہم نہیں جانتے کہ اس کو یاد ہے یا اس کو بھول گیا ہے، ”سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ يَقُولُ“ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”لِلْمُطَلَّقَةِ الثَّلَاثِ النَّفَقَةُ وَالسُّكْنَى مَا دَامَتْ فِي الْعِدَّةِ“ کہ تین طلاق والی کے لیے نفقہ بھی ہوگا اور سکنیٰ بھی ہوگا جب تک وہ عدت میں ہے۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث کو رد فرمایا۔ پھر ذرا حدیث کا ترجمہ دیکھ لیجیے: تو کہتے ہیں: ”وَحَدِيثُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ رَدَّهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَإِنَّهُ قَالَ لَا نَدَعُ كِتَابَ رَبِّنَا وَسُنَّةَ نَبِيِّنَا بِقَوْلِ امْرَأَةٍ لَا نَدْرِي صَدَقَتْ أَمْ كَذَبَتْ حَفِظَتْ أَمْ نَسِيَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ يَقُولُ لِلْمُطَلَّقَةِ الثَّلَاثِ النَّفَقَةُ وَالسُّكْنَى مَا دَامَتْ فِي الْعِدَّةِ“ کہ حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رد فرمایا کیونکہ انہوں نے فرمایا کہ ہم نہیں چھوڑ سکتے اپنے رب کی کتاب کو اور اپنے نبی کی سنت کو ایک عورت کے قول کی وجہ سے، ہم نہیں جانتے کہ اس نے سچ کہا ہے یا جھوٹ بولا ہے اور ہم نہیں جانتے کہ اس کو یاد ہے یا اس کو بھول گیا ہے، میں نے حضور علیہ السلام کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تین طلاق والی کے لیے نفقہ بھی ہوگا اور رہائش بھی ہوگی جب تک وہ عدت میں ہے۔ ”وَرَدَّهُ أَيْضًا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَجَابِرٌ وَعَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ“ اور نیز حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث کو رد فرمایا ہے حضرت زید ابن ثابت نے بھی اور حضرت اسامہ ابن زید نے بھی اور حضرت جابر نے بھی اور حضرت عائشہ نے بھی رضی اللہ تعالیٰ عنہم۔ ان سب نے بھی کیا کیا ہے؟ حضرت فاطمہ بنت قیس کی حدیث کو رد فرمایا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ علماء نے اور بھی جوابات دیے ہیں، میں پہلے بھی ذکر کر چکا کہ صاحبِ ہدایہ کوئی ایک آدھ دلیل ذکر فرماتے ہیں، کوئی ایک آدھ نقلی دلیل اور ایک آدھ عقلی دلیل ذکر فرماتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے کہ احناف کے پاس صرف یہی دلائل ہوں یا ایسا نہیں ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے پاس بس صرف یہی دلائل ہیں، سب کے پاس اور بھی دلائل موجود ہیں لیکن صاحبِ ہدایہ کوئی ایک موٹی نقلی دلیل اور اس کے ساتھ عقلی دلیل ذکر فرما دیتے ہیں، تو علماء نے اور بھی جوابات دیے ہیں حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث کے۔ چنانچہ بعض روایات میں آتا ہے کہ ان کے لیے حضور علیہ السلام نے سکنیٰ اس لیے مقرر نہیں فرمایا کیونکہ ان کا گھر ایسی جگہ پر تھا کہ وہ خطرے والی جگہ تھی، جنگل کے اندر ان کا گھر تھا وہ خطرے والی جگہ تھی تو اس لیے حضور علیہ السلام نے ان کو منتقل ہونے کی اجازت دی۔ یا جبکہ بعض روایات میں آتا ہے کہ خود ان کو اپنے خاوند سے خطرہ تھا کہ اس نے اگرچہ مجھے تین طلاق دے دی ہے لیکن پھر بھی مجھے اپنے خاوند سے خطرہ ہے، تو اس لیے حضور علیہ السلام نے ان کو منتقل ہونے کی اجازت دی۔ اسی طرح بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ یہ زبان کی بہت زیادہ سخت تھیں حضرت فاطمہ بنت قیس، اس لیے حضور علیہ السلام نے ان کو منتقل ہونے کی اجازت دی بھئی۔ تو لہٰذا اس لیے حضور نے ان کے لیے سکنیٰ مقرر نہیں فرمایا۔ اور نیز نفقے کے بارے میں بھی علماء فرماتے ہیں کہ بعض روایات میں آتا ہے کہ ان کے خاوند نے ان کے پاس نفقہ بھیجا تھا، ان کے پاس نفقہ بھیجا تھا لیکن یہ ناراض ہوئیں کہ اتنا تھوڑا نفقہ، اور وہ نفقہ واپس کروا دیا، وہ نفقہ واپس کروا دیا، تو حدیث میں جو آیا کہ میرے لیے حضور علیہ السلام نے سکنیٰ اور نفقہ مقرر نہیں فرمایا اس سے مراد ہے نفقۂ زائد بھئی، یعنی خاوند نے تو بھیجا تھا لیکن انہوں نے رد کر دیا تھا تو حضور نے ان کے لیے زائد نفقہ مقرر نہیں فرمایا بھئی۔ تو حدیث میں جو آیا: ”وَلَا نَفَقَةً“ اس سے مراد یہ ہے: ”أَيْ وَلَا نَفَقَةً زَائِدَةً“ یعنی حضور علیہ السلام نے میرے لیے زائد نفقہ مقرر نہیں فرمایا بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَلَا نَفَقَةَ لِلْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا“ اچھا بھئی وہ عورت جس کے خاوند کا انتقال ہو جائے تو عدت کے دوران اس کا نفقہ خاوند کے ذمے نہیں، یعنی خاوند کے مال میں سے اس کو نفقہ نہیں دیا جائے گا بھئی۔ وجہ یہ ہے کہ صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ یہاں پر یہ جو عورت پر شریعت نے عدت واجب کی ہے یہ خاوند کے حق کے طور پر نہیں ہے بلکہ یہ شریعت کے حق کے طور پر ہے۔ بھئی دیکھیے یہ جو عدت گزارتی ہے، مثلاً خاوند جو ہے اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے تو وہ تین حیض عدت گزارتی ہے، یہ عدت جو ہے شریعت کا بھی حق ہے اور خاوند کا بھی حق ہے۔ خاوند کا حق اس لیے ہے تاکہ خاوند کا جو نسب ہے اس کی حفاظت ہو جائے کہ بچہ کہیں اور کسی کی طرف منسوب نہ ہو جائے بھئی۔ تو لہٰذا خاوند کا حق ہے اس لیے خاوند کے مال سے اس کو نفقہ ملے گا بھئی، لیکن جب خاوند کا انتقال ہو گیا تو اب جو عورت عدت گزار رہی ہے یہ عدت شریعت کا حق ہے کیونکہ خاوند تو اب دنیا میں باقی ہی نہیں رہا بھئی۔ تو جب خاوند کا حق نہیں ہے تو اب خاوند کے مال میں سے نفقہ بھی نہیں ملے گا، اور ویسے بھی خاوند کے انتقال کے بعد جو مال ہے وہ وارثین کا مال بن چکا ہے، اب خاوند کا مال کہاں رہا؟ وہ تو وارثین کا مال بن چکا ہے اور وارثین کے ذمے اس کا نفقہ واجب نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَلَا نَفَقَةَ لِلْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا“ اور اس عورت کے لیے کوئی نفقہ نہیں جس کے خاوند کا انتقال ہو چکا ہو، ”لِلْحَدِيثِ“ حدیث کی وجہ سے، ”وَهُوَ قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: لَيْسَ لِلْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا نَفَقَةٌ“ اور وہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہ قول ہے کہ اس عورت کے لیے نفقہ نہیں جس کے خاوند کا انتقال ہو چکا ہو، ”وَلِأَنَّ الْحَبْسَ فِيهَا حَقًّا شَرْعًا“ اور اس لیے کیونکہ اس متوفیٰ عنہا زوجہا کے اندر عورت کا جو رکنا ہے اور عدت گزارنا ہے حق شرعاً یہ شریعت کا حق ہے، ”لَا حَقَّ الزَّوْجِ“ نہ کہ خاوند کا حق ہے، ”لِفَوَاتِهِ“ بوجہ خاوند کے فوت ہونے کے کہ خاوند فوت ہو چکا ہے، ”فَلَا يَكُونُ جَزَاءً لَهُ“ تو یہ احتباس خاوند کا بدلہ نہیں ہو سکتا یعنی یہ احتباس خاوند کے لیے نہیں ہے کہ خاوند کے ذمے نفقہ آئے، ”فَلَا تَجِبُ النَّفَقَةُ فِي مَالِهِ“ لہٰذا خاوند کے مال میں اس کا نفقہ واجب نہیں ہوگا، ”وَلِأَنَّ الْمَالَ صَارَ إِلَى غَيْرِهِ“ اور نیز مال جو ہے خاوند کے علاوہ دوسروں کی طرف منتقل ہو چکا ہے یعنی وارثین کی طرف منتقل ہو چکا ہے، ”وَلَا نَفَقَةَ عَلَى الْغَيْرِ“ اور دوسروں پر یعنی وارثین پر اس عورت کا نفقہ واجب نہیں ہوتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ آگے دیکھیے بھئی، اب یہ تو مسئلہ ہو گیا متوفیٰ عنہا زوجہا کا، یعنی جس عورت کے خاوند کا انتقال ہو جائے اس کا نفقہ خاوند کے مال میں سے نہیں ہوگا عدت کے دوران۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر متوفیٰ عنہا زوجہا حاملہ ہو تو کیا اس حاملہ کا نفقہ خاوند کے مال میں سے ہوگا یا نہیں ہوگا؟ بھئی مطلقہ حاملہ کا نفقہ تو ہوتا ہے بھئی قرآن سے ثابت ہے پیچھے پڑھ چکے، لیکن اگر متوفیٰ عنہا زوجہا حاملہ ہو تو کیا اس کا نفقہ خاوند کے مال میں سے ہوگا یا نہیں ہوگا؟ تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں اس کا نفقہ بھی خاوند کے مال میں سے نہیں ہوگا عدت کے دوران۔ کہتے ہیں: ”وَلَا إِنْ كَانَتْ حَامِلًا“ اور نہ اس عورت کے لیے نفقہ ہوگا اگرچہ وہ عورت حاملہ ہو، ”وَقَالَ عَلِيٌّ وَابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا: يُنْفَقُ عَلَيْهَا مِنْ نَصِيبِ وَلَدِهَا“ جبکہ حضرت علی اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ اس عورت پر خرچ کیا جائے گا اس کے بچے کے حصے میں سے، جو ترکے میں سے اس بچے کا حصہ بنتا ہے جو اس کے پیٹ میں ہے، اس بچے کے حصے میں سے اس عورت پر نفقہ خرچ کیا جائے گا۔ تو حضرت علی اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ اگر متوفیٰ عنہا زوجہا حاملہ ہے تو اس عورت کے لیے نفقہ ہوگا لیکن وہ نفقہ خاوند کے ترکے میں سے نہیں ملے گا بلکہ وہ نفقہ جو ہے اس کے بچے کے حصے میں سے دیا جائے گا جو اس کے پیٹ میں ہے، جو اس بچے کا حصہ بنتا ہے ترکے میں سے اس حصے میں سے اس کو نفقہ دیا جائے گا، لیکن ہمارے نزدیک اس عورت کے لیے کوئی نفقہ نہیں ہوگا، بچے کے حصے میں سے بھی اس کو نفقہ نہیں دیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا إِنْ كَانَتْ حَامِلًا وَقَالَ عَلِيٌّ وَابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا يُنْفَقُ عَلَيْهَا مِنْ نَصِيبِ وَلَدِهَا لِأَنَّ نَفَقَةَ الْحَمْلِ عَلَى الْأَبِ“ اس لیے کیونکہ حمل کا نفقہ جو ہے وہ باپ پر ہوتا ہے، ”فَبَعْدَ مَوْتِهِ فِي مَالِهِ“ تو باپ کی موت کے بعد وہ نفقہ باپ کے مال میں ہوگا، ”وَنَصِيبُ الْوَلَدِ هُوَ كُلُّ الْمَالِ“ اور بچے کا حصہ جو ہے وہ تو باپ ہی کا مال ہے، ”فَيُنْفَقُ مِنْهُ“ تو لہٰذا اس بچے کے حصے میں سے ہی اس عورت پر نفقہ خرچ کیا جائے گا۔ بھئی حضرت علی اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما کیا فرماتے ہیں کہ باپ کی زندگی میں تو حمل کا نفقہ کس پر ہوتا ہے؟ باپ پر ہوتا ہے اور جب باپ کا انتقال ہو گیا تو اب حمل کا نفقہ کس میں ہوگا؟ باپ کے مال میں ہوگا، اور چونکہ بچہ جو ہے وہ باپ کا وارث ہے تو بچے کو جو باپ کے مال میں سے حصہ ملے گا تو وہ گویا باپ ہی کا تو مال ہے، تو لہٰذا اس بچے کے حصے میں سے ہی اس عورت پر نفقہ خرچ کیا جائے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب ہماری دلیل آ رہی ہے: ”وَلَنَا أَنَّ النَّفَقَةَ لَهَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ یہ نفقہ جو ہے اس عورت کے لیے ہوتا ہے حاملہ کے لیے، ”لَا لِلْحَمْلِ“ نہ کہ حمل کے لیے۔ بھئی نفقہ کس کو دیا جاتا ہے؟ حاملہ کو دیا جاتا ہے، حاملہ کھاتی پیتی ہے اور اس کی غذا سے پھر بچے کی نشوونما ہوتی ہے، تو نفقہ دراصل کس کو دیا جا رہا ہے؟ حاملہ کو دیا جا رہا ہے، حمل کو نہیں دیا جا رہا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَنَا أَنَّ النَّفَقَةَ لَهَا لَا لِلْحَمْلِ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: أَنْفِقُوا عَلَيْهِنَّ“ اور اس کی دلیل حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہ قول ہے کہ ان مطلقات حاملہ پر خرچ کرو، علیہن فرمایا علیہم نہیں فرمایا، علیہن میں ضمیر کس کی طرف لوٹ رہی ہے؟ ان حاملات کی طرف لوٹ رہی ہے، تو معلوم ہوا نفقہ کس کا حق ہے؟ حاملہ کا حق ہے، حمل کا حق نہیں ہے، اور جب نفقہ حاملہ کا حق ہے تو بچے کے مال میں سے حاملہ کو کیوں دیا جائے بھئی؟ بچہ تو اس وقت حاملہ کو نفقہ دے گا جب بچہ بڑا ہو جائے کمانے والا ہو جائے، ماں محتاج ہو جائے تو اس وقت بچہ ماں کو نفقہ دے گا، ابھی تو بچہ خود پیٹ میں ہے تو پیٹ کے بچے پر ماں کا نفقہ تھوڑی واجب ہوتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَنَا أَنَّ النَّفَقَةَ لَهَا لَا لِلْحَمْلِ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَنْفِقُوا عَلَيْهِنَّ، وَلَا نَفَقَةَ لَهَا عَلَى الْوَلَدِ“ اور حاملہ کے لیے نفقہ واجب نہیں ہوتا بچے پر، ”فَلَا يُنْفَقُ مِنْ نَصِيبِهِ“ لہٰذا بچے کے حصے میں سے اس حاملہ پر خرچ نہیں کیا جائے گا۔ ”وَلِأَنَّ الْحَمْلَ لَا يُنْفَقُ عَلَيْهِ“ اور دوسری دلیل ہماری یہ ہے کہ خود حمل پر نفقہ خرچ نہیں کیا جاتا اس لیے کیونکہ حمل ابھی دنیا میں آیا ہی نہیں، تو جب خود حمل پر نفقہ خرچ نہیں کیا جاتا تو حمل کے مال میں سے اس عورت پر کیسے نفقہ خرچ کیا جا سکتا ہے بھئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الْحَمْلَ لَا يُنْفَقُ عَلَيْهِ فَلَا يُنْفَقُ مِنْ مَالِهِ“ اور اس لیے کیونکہ حمل پر بھی خرچ نہیں کیا جاتا لہٰذا اس کے مال میں سے بھی خرچ نہیں کیا جائے گا۔ ”وَلِأَنَّ الْوِلَادَةَ غَيْرُ مُتَيَقَّنَةٍ“ اور تیسری دلیل ہماری یہ ہے کہ بچے کی پیدائش جو ہے یہ یقینی نہیں ہے، ”فَلَا يَكُونُ لَهُ نَصِيبٌ“ تو اس بچے کے لیے کوئی حصہ بھی نہیں ہوگا بھئی۔ پیٹ کے اندر بچہ ہے اب کیا پتہ زندہ پیدا ہوگا یا مردہ پیدا ہوگا؟ اگر مردہ پیدا ہو گیا تو پھر تو اس کو ترکے میں سے حصہ ملے گا ہی نہیں، اور اگر دو بچے پیدا ہو گئے تو پھر ان کا حصہ الگ ہوگا اور اگر ایک بچہ پیدا ہوا تو اس کا حصہ الگ ہوگا، اور اگر لڑکا ہوا تو اس کا حصہ الگ ہوگا اور اگر لڑکی ہوئی تو اس کا حصہ الگ ہوگا۔ تو ولادت تو غیر متیقنہ ہے، پیدائش کا تو ابھی یقین ہی نہیں ہے تو جب پیدائش کا یقین نہیں ہے تو بچے کا حصہ بھی متعین نہیں ہے، تو جب حصہ متعین نہیں ہے تو اس کے حصے میں سے کیسے عورت کو نفقہ دیا جا سکتا ہے بھئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الْوِلَادَةَ غَيْرُ مُتَيَقَّنَةٍ فَلَا يَكُونُ لَهُ نَصِيبٌ فَكَيْفَ يُنْفَقُ مِنْهُ“ اور اس لیے کیونکہ ولادت جو ہے یہ یقینی نہیں ہے تو اس بچے کے لیے کوئی حصہ بھی متعین نہیں ہوگا تو اس کے حصے میں سے کیسے نفقہ خرچ کیا جا سکتا ہے بھئی؟ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بھئی، آج کا سبق یہیں ختم کرتے ہیں۔ اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ۔ ہے، شریعت نے بھی واجب کیا ہے اور نیز یہ خاوند کا بھی حق ہے کہ پتہ چل جائے کہ عورت کے پیٹ میں کہیں خاوند کی اولاد تو نہیں ہے، اور نیز یہ اس بچے کا بھی حق ہے تاکہ کہیں بچے کا نسب مشتبہ نہ ہو جائے بھئی۔ تو اس عدت کے اندر شریعت کا بھی حق ہے، خاوند کا بھی حق ہے اور بچے کا بھی حق ہے۔ لیکن یہاں پر یہ جو عورت جس کے خاوند کا انتقال ہو گیا ہے، یہ جو عدت گزار رہی ہے یہ بطورِ خاوند کے حق کے عدت نہیں گزار رہی بلکہ یہ شریعت کے حق کے طور پر عدت گزار رہی ہے۔ وجہ یہ کہ اس کے اندر حیضوں کا لحاظ نہیں رکھا گیا۔ خاوند جب طلاق دیتا ہے مدخول بہا عورت کو تو وہ تین حیض عدت گزارتی ہے، کیونکہ وہاں پر یہ جاننا مقصود ہوتا ہے کہ کہیں یہ عورت حاملہ تو نہیں؟ تو جب اس کو حیض آ رہا ہے تو اس سے رحم کی صفائی کا پتہ چل گیا، معلوم ہو گیا کہ اس کے پیٹ میں خاوند کی اولاد نہیں ہے تو تین حیض کے بعد وہ جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے۔ جبکہ یہ عورت جس کے خاوند کا انتقال ہوا ہے، یہاں پر چاہے حیض والی ہی کیوں نہ ہو اس کو عدت چار مہینے دس دن ہی گزارنا پڑتی ہے۔ تو حیض آنے کے باوجود یہ عدت مہینوں کے ساتھ گزارنا یہ بتلا رہا ہے کہ یہاں پر رحم کی صفائی جاننا مقصود نہیں، یہ خاوند کے حق کے طور پر نہیں ہے بلکہ یہ جو عدت واجب کی گئی ہے یہ شریعت کے حق کے طور پر ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَا نَفَقَةَ لِلْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا، اور وہ عورت جس کے خاوند کا انتقال ہو جائے اس کے لیے نفقہ نہیں ہے، یعنی خاوند کا تو انتقال ہو چکا، اس کے مال میں سے اس کو نفقہ نہیں دیں گے۔ کہتے ہیں: لِأَنَّ احْتِبَاسَهَا لَيْسَ لِحَقِّ الزَّوْجِ، اس لیے کیونکہ اس عورت کا رکنا یہ خاوند کے حق کی وجہ سے نہیں ہے، بَلْ لِحَقِّ الشَّرْعِ، بلکہ یہ شریعت کے حق کی وجہ سے ہے، فَإِنَّ التَّرَبُّصَ عِبَادَةٌ مِنْهَا، تربص بھئی صاد کے ساتھ، تربص کا معنی ہے رکنا اور ٹھہرنا۔ کہتے ہیں: فَإِنَّ التَّرَبُّصَ عِبَادَةٌ مِنْهَا، کیونکہ ٹھہرنا، رکنا یعنی آگے نکاح سے اپنے آپ کو روک کر رکھنا یہ اس عورت کے لیے عبادت ہے۔ یہ بطورِ شریعت کے حق کے ہے، شریعت نے واجب کیا ہے تو عورت کا اس چار مہینے دس دن کے دوران آگے نکاح بھی نہ کرنا اور گھر سے بھی نہ نکلنا اور اسی طرح سوگ منانا، یعنی زیب و زینت وغیرہ کا اظہار نہ کرنا یہ سارا عبادت کے طور پر ہے یعنی شریعت کے حق کے طور پر ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: فَإِنَّ التَّرَبُّصَ عِبَادَةٌ مِنْهَا، اس لیے کیونکہ اس عورت کے لیے ٹھہرنا اور رکنا جو ہے وہ عبادت ہے۔ أَلَا تَرَى، کیا آپ دیکھتے نہیں، أَنَّ مَعْنَى التَّعَرُّفِ عَنْ بَرَاءَةِ الرَّحِمِ لَيْسَ بِمُرَاعًى فِيهِ، معنی، معنی کا یہاں ترجمہ کر لیں گے سبب اور علت کے۔ ادھر دیکھیے بھئی، خاوند اگر طلاق دے دے، عورت عدت گزارتی ہے تو وہاں علت کیا ہوتی ہے؟ رحم کی صفائی کا جاننا، تو یہاں پر رحم کی صفائی کے جاننے کی جو علت ہے اس کو ملحوظ نہیں رکھا گیا۔ یہ جس کے خاوند کا انتقال ہو گیا ہے یہاں رحم کی صفائی کو جاننے کی جو علت ہے وہ ملحوظ نہیں، اس کی رعایت نہیں رکھی گئی، یہاں تک کہ چاہے اس عورت کو حیض آتے ہوں پھر بھی حیضوں کو نہیں دیکھیں گے بلکہ چار ماہ دس دن کے ساتھ ہی اس کو عدت گزارنا پڑے گی۔ یہ معنی ہے: أَلَا تَرَى، کیا آپ دیکھتے نہیں، أَنَّ مَعْنَى التَّعَرُّفِ عَنْ بَرَاءَةِ الرَّحِمِ، کہ رحم کی صفائی کے جاننے کی جو علت ہے، لَيْسَ بِمُرَاعًى فِيهِ، اس کی رعایت نہیں رکھی گئی اس ٹھہرنے میں، یعنی وہ ملحوظ نہیں ہے، حَتَّى لَا يُشْتَرَطُ فِيهِ الْحِيَضُ، یاد رکھو یہاں پر بھی یہ حتیٰ نصب نہیں دے گا کیونکہ حتیٰ کے نصب دینے کی یہاں شرائط پوری نہیں ہیں تو یہ يُشْتَرَطُ کو ہم مرفوع پڑھیں گے بھئی، حَتَّى لَا يُشْتَرَطُ فِيهِ الْحِيَضُ، یہاں تک کہ اس کے اندر حیضوں کی شرط نہیں ہے بلکہ عدت مہینوں کے ساتھ ہی گزارنا پڑے گی۔ فَلَا تَجِبُ نَفَقَتُهَا عَلَيْهِ، تو خاوند پر اس عورت کا نفقہ واجب نہیں ہوگا، کیونکہ یہ رکنا حقِ شرع کی وجہ سے ہے، حقِ خاوند کی وجہ سے نہیں ہے، تو فَلَا تَجِبُ نَفَقَتُهَا عَلَيْهِ، تو خاوند پر اس عورت کا نفقہ بھی واجب نہیں ہوگا یعنی اس کے مال میں سے نہیں دیا جائے گا۔ وَلِأَنَّ النَّفَقَةَ تَجِبُ شَيْئًا فَشَيْئًا، یہ دوسری دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ وہ عورت جس کے خاوند کا انتقال ہو جائے اس کا نفقہ خاوند کے ذمے نہیں ہے۔ کہتے ہیں وجہ یہ کہ خاوند کا انتقال ہو چکا ہے اور انتقال کے بعد یہ مال منتقل ہو گیا ہے وارثوں کی طرف اور وارث اس کے مالک بن گئے ہیں، اور یہ جو نفقہ ہوتا ہے یہ تھوڑا تھوڑا کر کے واجب ہوتا ہے۔ مثلاً آج کا دن آیا تو آج کا نفقہ واجب ہو جائے گا وہ عورت کو دینا پڑے گا، جب اگلا دن آئے گا تو اگلے دن کا نفقہ واجب ہو جائے گا وہ دینا پڑے گا، جب اس سے اگلا دن آئے گا تو اس کا بھی نفقہ واجب ہو جائے گا اور وہ ادا کرنا پڑے گا۔ تو یہ نفقہ تھوڑا تھوڑا کر کے واجب ہوتا ہے اور اب تو خاوند کی ملکیت ہی نہیں ہے، یہ مال تو کس کی طرف منتقل ہو چکا ہے؟ وارثوں کی طرف، وارث اس مال کے مالک بن چکے ہیں تو اب اگر نفقے کو واجب قرار دیا جائے تو اس کا تو مطلب یہ ہے کہ وارثوں پر نفقہ واجب کیا جا رہا ہے، لہٰذا وارثوں کے مال میں سے نفقہ واجب نہیں کیا جا سکتا۔ یہ معنی ہے: وَلِأَنَّ النَّفَقَةَ تَجِبُ شَيْئًا فَشَيْئًا، اور اس لیے کیونکہ یہ نفقہ جو ہے یہ تھوڑا تھوڑا کر کے واجب ہوتا ہے، وَلَا مِلْكَ لَهُ بَعْدَ الْمَوْتِ، اور موت کے بعد خاوند کی کوئی ملکیت نہیں ہے، فَلَا يُمْكِنُ إِيجَابُهَا فِي مِلْكِ الْوَرَثَةِ، لہٰذا ممکن نہیں ہے کہ نفقہ واجب کر دیا جائے وارثوں کی ملکیت میں۔ بات سمجھ میں آگئی۔ آگے دیکھیے: وَكُلُّ فُرْقَةٍ جَاءَتْ مِنْ قِبَلِ الْمَرْأَةِ بِمَعْصِيَةٍ مِثْلُ الرِّدَّةِ وَتَقْبِيلِ ابْنِ الزَّوْجِ فَلَا نَفَقَةَ لَهَا، بھئی دیکھیے، یہاں آپ کو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ جب جدائی عورت کی طرف سے آئے، جب جدائی عورت کی طرف سے آئے تو اس میں دو صورتیں ہو سکتی ہیں: یا تو کسی گناہ کی وجہ سے یہ جدائی آئے گی یعنی معصیت کی وجہ سے، یا اور کبھی غیرِ معصیت کی وجہ سے جدائی آئے گی۔ مثلاً دیکھو، اگر عورت مرتد ہو جائے تب بھی نکاح ٹوٹ جاتا ہے، عورت خاوند پر حرام ہو جاتی ہے، تو یہ جدائی عورت کی طرف سے آئی کیونکہ مرتد کون ہوئی ہے؟ عورت ہوئی ہے۔ اسی طرح بعض اوقات عورت جو ہے اس خاوند کے دوسری بیوی سے کوئی بیٹا ہے اس کے ساتھ غلط تعلق قائم کر لیتی ہے، تو جب اس عورت نے خاوند کے بیٹے کے ساتھ غلط تعلق قائم کر لیا تو یہ خاوند کے لیے بہو کے درجے میں ہوگئی، اور جب بہو کے درجے میں ہوگئی تو جیسے بیٹے کی حقیقی بیوی جو ہے وہ خاوند پر حرام ہوتی ہے ہمیشہ کے لیے، بہو کیا ہوتی ہے؟ انسان پر ہمیشہ کے لیے حرام، تو جیسے بیٹے کی حقیقی بیوی جو ہے وہ خاوند پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوتی ہے، اسی طرح یہ عورت جس کے ساتھ بیٹے نے غلط تعلق قائم کر لیا یہ بھی خاوند پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو جاتی ہے۔ تو لہٰذا یہاں پر بھی یہ جدائی آئی اور اس جدائی کا سبب عورت بنی ہے اور یہ جدائی ایک گناہ کی وجہ سے آئی ہے کہ اس عورت نے خاوند کے بیٹے سے غلط تعلق قائم کر لیا۔ اور بعض اوقات جدائی عورت کی طرف سے آئے گی لیکن وہ گناہ نہیں ہوگا، مثلاً ایک نابالغہ ہے اس کے ولی نے اس کا نکاح کروا دیا۔ آپ نے پڑھا ہے کہ باپ اور دادا اگر صغیر یا صغیرہ کا نکاح کروا دیں تو وہ نکاح لازم ہوتا ہے، بالغ ہونے کے بعد بھی یہ اس نکاح کو فسخ نہیں کر سکتے۔ لیکن اگر باپ دادا کے علاوہ کسی اور ولی نے صغیر یا صغیرہ کا نکاح کروایا ہے تو بالغ ہونے پر ان کو اختیار دیتی ہے شریعت، یہ اپنے نکاح کو فسخ کر سکتے ہیں۔ اب ایک صغیرہ ہے اس کے ولی نے اس کا نکاح کروا دیا، ولی باپ دادا کے علاوہ ہے، پھر یہ صغیرہ جس مجلس میں بالغہ ہوئی جیسے ہی اس نے خون دیکھا اس نے فوراً کہا: میں اس نکاح کو رد کرتی ہوں۔ اور پھر قاضی کے پاس جا کر اس نے جدائی حاصل کر لی، تو دیکھو یہاں پر بھی جدائی عورت کی طرف سے آئی ہے لیکن یہ جو جدائی آئی ہے اس میں کسی گناہ اور معصیت کا دخل نہیں ہے، یہ شریعت نے اس عورت کو، اس صغیرہ کو حق دیا تھا تو اس کو کہتے ہیں خیارِ بلوغ بھئی، کہ بالغ ہونے پر شریعت اختیار دیتی ہے۔ تو یہ جو خیارِ بلوغ کی وجہ سے جدائی آئی ہے یہ کوئی معصیت کی وجہ سے جدائی نہیں آئی بلکہ یہ ان کا حق تھا جو شریعت نے ان کو دیا تھا۔ یا اسی طرح باندی ہے بھئی، آپ نے پڑھا ہے کہ باندی کی زیادہ سے زیادہ طلاقیں دو ہیں بھئی، اور آزاد عورت کی زیادہ سے زیادہ تین طلاقیں ہیں۔ تو ایک باندی تھی اس کا نکاح کسی شخص سے ہوا تھا اور پھر بعد میں آقا نے اس باندی کو آزاد کر دیا۔ تو اب جب یہ باندی آزاد ہوگی تو اس کی طلاقیں دو سے بڑھ کر تین ہو جائیں گی، تین ہو جائیں گی یعنی خاوند کی ملکیت اس عورت پر بڑھ رہی ہے، لہٰذا شریعت نے اس عورت کو اختیار دیا ہے یہ اپنا نکاح اسی مجلس میں فسخ کر سکتی ہے جس مجلس کے اندر اس کو اپنی آزادی کی اطلاع ملے، اور اس کو خیارِ عتق کہتے ہیں کہ آزادی کی وجہ سے اس کو اختیار ملا۔ تو اب ایک باندی کو آقا نے آزاد کیا اور اس نے خیارِ عتق استعمال کرتے ہوئے نکاح کو فسخ کرنے کا اعلان کر دیا، تو اب یہاں پر بھی جدائی عورت کی طرف سے آئی ہے لیکن کسی معصیت اور گناہ کی وجہ سے نہیں بلکہ یہ اس کو شریعت نے حق دیا تھا۔ تو معلوم ہوا کہ وہ جدائی جو عورت کی طرف سے آئے، کبھی وہ معصیت کی وجہ سے جدائی آئے گی گناہ کی وجہ سے، اور کبھی غیرِ معصیت کی وجہ سے۔ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ اگر جدائی عورت کی طرف سے آئے اور کوئی گناہ اس کا سبب بنا ہے تو پھر اس عورت کے لیے نفقہ نہیں ہوگا عدت کے دوران۔ لیکن اگر جدائی عورت کی طرف سے آئے اور گناہ اس کا سبب نہیں ہے، مثلاً اس نے خیارِ عتق استعمال کیا ہے یا خیارِ بلوغ استعمال کیا ہے تو اس صورت میں اس کا نفقہ ہوگا بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی۔ دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: وَكُلُّ فُرْقَةٍ جَاءَتْ مِنْ قِبَلِ الْمَرْأَةِ، اور ہر ایسی جدائی جو عورت کی طرف سے آئے، بِمَعْصِيَةٍ، گناہ کی وجہ سے، مِثْلُ الرِّدَّةِ وَتَقْبِيلِ ابْنِ الزَّوْجِ، جیسے کہ مرتد ہونا ہے العیاذ باللہ اور خاوند کے بیٹے کا بوسہ لینا، بھئی اس خاوند کے بیٹے کا بوسہ لے گی یا اس سے غلط تعلق قائم کرے گی تو اس سے حرمتِ مصاہرت آ جائے گی بھئی اور یہ خاوند پر حرام ہو جائے گی عورت۔ تو یہ جدائی جو عورت کی طرف سے آئی ہے اور گناہ کی وجہ سے آئی ہے، فَلَا نَفَقَةَ لَهَا، تو اس عورت کے لیے نفقہ نہیں ہوگا۔ اس عورت کے لیے نفقہ نہیں ہوگا۔ یہاں تک تھا متن بھئی۔ رہائش کو ذکر نہیں فرمایا، یاد رکھنا میاں بیوی کے درمیان جب بھی جدائی آ جائے اور عورت مدخول بہا ہے تو اس پر عدت آتی ہے۔ تو اس عدت کے اندر نفقہ بھی خاوند کے ذمے ہوتا ہے اور رہائش بھی، تو رہائش تو تمام صورتوں میں عورت کے لیے واجب ہوگی، چاہے جدائی عورت کی طرف سے آئے چاہے مرد کی طرف سے، چاہے اس جدائی کا سبب گناہ ہو چاہے غیرِ گناہ ہو، تمام صورتوں میں رہائش واجب ہے عورت کے لیے۔ اس لیے یہاں پر متن میں رہائش کو ذکر نہیں کیا، صرف نفقے کا کہا کہ فَلَا نَفَقَةَ لَهَا کہ اس عورت کے لیے نفقہ نہیں ہوگا۔ اب آگے دلیل ذکر فرما رہے ہیں، کہتے ہیں: لِأَنَّهَا صَارَتْ حَابِسَةً نَفْسَهَا بِغَيْرِ حَقٍّ، اس لیے کیونکہ یہ عورت اپنے نفس کو روکنے والی ہوگئی بغیر حق کے، ناحق طور پر اس نے اپنے آپ کو خاوند سے روک لیا۔ یہ عورت جو مرتد ہوئی یہ خاوند پر حرام ہوگئی تو اس نے ناحق طور پر اپنے آپ کو خاوند سے روک لیا، یا اسی طرح خاوند کے بیٹے سے غلط تعلق قائم کیا تو یہ عورت بھی خاوند پر حرام ہوگئی تو گویا اس نے ناحق طور پر اپنے آپ کو خاوند سے روک لیا۔ جب اس نے ناحق طور پر اپنے آپ کو خاوند سے روکا ہے تو اب اس کے لیے نفقہ نہیں ہوگا جیسے ناشزہ۔ ناشزہ کا ویسے معنی تو ہے نافرمان، لیکن ناشزہ عام طور پر وہ عورت جو خاوند کی اجازت کے بغیر گھر سے نکل جائے اس کو ناشزہ کہتے ہیں۔ تو جیسے ناشزہ جو ہے وہ خاوند کی اجازت کے بغیر گھر سے نکل گئی تو جب تک وہ واپس نہیں آتی اس کا نفقہ خاوند کے ذمے نہیں ہے۔ بھئی عورت کے ذمے تو واجب تھا وہ اپنے آپ کو خاوند کے لیے گھر میں روک کر رکھے کہ جب خاوند چاہے وہ اس کے ساتھ صحبت کر سکے، لیکن جب یہ خاوند کی اجازت کے بغیر گھر سے نکل گئی تو گویا اس نے اپنے آپ کو ناحق طور پر خاوند سے روک لیا تو اس کے لیے نفقہ نہیں ہوگا۔ تو جس طرح ناشزہ کے لیے نفقہ نہیں اسی طرح یہ جو گناہ کی وجہ سے جس نے اپنے آپ کو خاوند سے روک لیا اس کے لیے بھی نفقہ نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّهَا صَارَتْ حَابِسَةً نَفْسَهَا بِغَيْرِ حَقٍّ، اس لیے کیونکہ یہ عورت جو ہے یہ اپنے نفس کو روکنے والی ہوگئی بغیر حق کے یعنی ناحق طور پر، فَصَارَتْ كَمَا إِذَا كَانَتْ نَاشِزَةً، تو یہ ایسے ہی ہوگئی جیسے یہ ناشزہ ہو اور ناشزہ کے لیے تو نفقہ نہیں تو ان کے لیے بھی نفقہ نہیں۔ بِخِلَافِ الْمَهْرِ، ہاں البتہ یہ جو عورت جہاں جدائی عورت کی طرف سے آئی ہے اور گناہ کے سبب سے آئی ہے، اگر اس کے ساتھ خاوند صحبت کر چکا ہے پھر مہر دینا پڑے گا۔ ان کا نفقہ تو خاوند کے ذمے نہیں لیکن مہر دینا پڑے گا۔ وجہ یہ کہ مہر تو صحبت کی وجہ سے پہلے سے ہی پکا ہو چکا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ جب خاوند بیوی سے صحبت کر لے تو مہر پکا ہو جاتا ہے، اب پورا مہر دینا پڑے گا۔ تو یہاں پر بھی یہ عورت چاہے مرتد ہوئی ہے یا چاہے اس نے خاوند کے بیٹے سے غلط تعلق قائم کیا ہے، جدائی آ گئی لیکن مہر دینا پڑے گا کیونکہ خاوند منافع وصول کر چکا ہے، خاوند صحبت کر چکا ہے، عورت نے اپنے آپ کو خاوند کے سپرد کر دیا تھا۔ جب عورت نے اپنے آپ کو خاوند کے سپرد کر دیا تھا تو اس کا بدل یعنی مہر بھی اب خاوند پر لازم ہو چکا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: بِخِلَافِ الْمَهْرِ بَعْدَ الدُّخُولِ، بخلاف مہر کے صحبت کے بعد، لِأَنَّهُ وُجِدَ التَّسْلِيمُ فِي حَقِّ الْمَهْرِ بِالْوَطْءِ، لِأَنَّهُ وُجِدَ التَّسْلِيمُ، اس لیے کیونکہ سپرد کرنا پایا گیا کہ عورت نے اپنے آپ کو سپرد کر دیا ہے، فِي حَقِّ الْمَهْرِ، مہر کے حق میں، بِالْوَطْءِ، وطی کے ذریعے۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: لِأَنَّهُ وُجِدَ التَّسْلِيمُ فِي حَقِّ الْمَهْرِ بِالْوَطْءِ، اس لیے کیونکہ وطی کے ذریعے عورت کا اپنے آپ کو سپرد کرنا پایا گیا مہر کے حق میں۔ مہر کے حق میں عورت کا اپنے آپ کو خاوند کے سپرد کرنا پایا گیا کہ اس نے خاوند نے اس کے ساتھ وطی کر لی ہے، لہٰذا اب خاوند پر بھی اس کا بدل یعنی مہر لازم ہو گیا۔ آگے دیکھیے، کہتے ہیں: وَبِخِلَافِ مَا إِذَا جَاءَتِ الْفُرْقَةُ مِنْ قِبَلِهَا بِغَيْرِ مَعْصِيَةٍ، بخلاف اس صورت کے کہ جب جدائی عورت کی طرف سے آئے بغیر کسی گناہ کے، یعنی خیارِ بلوغ کے ذریعے عورت نے جدائی اختیار کر لی یا خیارِ عتق کے ذریعے عورت نے جدائی اختیار کر لی تو یہ تو شریعت نے ان کو حق دیا تھا، تو یہ عورت کا اپنے آپ کو خاوند سے روکنا ہے حق میں، تو یہ عورت کا اپنے آپ کو خاوند سے روکنا ہے حق کے طور پر، کہ شریعت نے اس کو حق دیا تھا، اور حق کے اندر عورت اپنے آپ کو خاوند سے روکے تو پھر تو نفقہ دینا پڑتا ہے۔ کہتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے خاوند مہرِ معجل ادا نہ کرے تو عورت اپنے آپ کو خاوند سے روک سکتی ہے۔ اور اس کے باوجود خاوند کو نفقہ دینا پڑے گا اگرچہ عورت جو ہے خاوند کو صحبت نہیں کرنے دے رہی لیکن پھر بھی خاوند کو نفقہ دینا پڑے گا کیونکہ اس نے جو خاوند سے اپنے آپ کو روکا ہے وہ حق کے طور پر روکا ہے، وہ حق کے طور پر اس نے روکا ہے ناحق طور پر نہیں روکا، اس میں نفقہ ملے گا۔ تو کہتے ہیں: وَبِخِلَافِ مَا إِذَا جَاءَتِ الْفُرْقَةُ مِنْ قِبَلِهَا بِغَيْرِ مَعْصِيَةٍ، اور بخلاف اس صورت کے کہ جب جدائی عورت کی جانب سے آئے بغیر معصیت اور گناہ کے، كَخِيَارِ الْعِتْقِ، جیسے کہ خیارِ عتق ہے، وَخِيَارِ الْبُلُوغِ، اور خیارِ بلوغ ہے، وَالتَّفْرِيقِ لِعَدَمِ الْكَفَاءَةِ، اور جیسے کہ جدائی ہے عدمِ کفاءت کی وجہ سے۔ بھئی یہ بات پیچھے آپ پڑھ چکے ہیں جہاں کفاءت کا باب آیا تھا، آپ نے پڑھا کہ عند الاحناف عاقل بالغ عورت اپنا نکاح اپنی مرضی سے کر سکتی ہے، چاہے ولی اس پر راضی ہو یا راضی نہ ہو بھئی۔ اور ائمہ کے نزدیک تو عورت اپنا نکاح خود نہیں کر سکتی لیکن عند الاحناف آزاد عاقل بالغ عورت اپنا نکاح خود کر سکتی ہے۔ البتہ یہ شرط ہے کہ عورت جس کے ساتھ نکاح کرے وہ مرد ان کے ہم پلہ ہونا چاہیے بھئی، خاندان میں بھی اور پیشہ وغیرہ کے اندر بھی وہ مرد اس عورت کے خاندان کے ہم پلہ اور برابر کا ہونا چاہیے۔ اور وہاں آپ کو بتلایا تھا صاحبِ ہدایہ نے کہ ظاہرِ روایت میں تو یہ آیا ہے، ظاہرِ روایت میں، کہ اگر عورت غیرِ کفو کے اندر نکاح کر لے، یعنی اپنے ہم پلہ لوگوں میں نکاح نہیں کیا بلکہ اپنے سے کمتر لوگوں کے اندر عورت نے نکاح کیا ہے تو ظاہرِ روایت یہ ہے کہ عورت کے جو اولیاء ہیں وہ اعتراض کر سکتے ہیں اور قاضی کے پاس جا کر جدائی کروا سکتے ہیں۔ وہ اعتراض کر سکتے ہیں اور قاضی کے پاس جا کر جدائی کروا سکتے ہیں، وجہ یہ کہ یہ ان کے لیے طعنے کا سبب بن جائے گا بھئی۔ یہ تو ہمیشہ جہاں کسی سے کوئی بات ہوگی لوگ ان کو طعنے دیں گے کہ تمہاری بیٹیاں تو اتنے چھوٹے چھوٹے خاندانوں میں تم نے ان کی شادی کی ہوئی ہے بھئی۔ تو لہٰذا اولیاء کو شریعت نے حق دیا کہ وہ قاضی کے پاس جا کر یہ جدائی کروا سکتے ہیں۔ تو یہ جو جدائی آئی ہے عدمِ کفاءت کی وجہ سے، یہ جدائی عورت کے اولیاء کی وجہ سے آئی ہے تو یوں کہو یہ جدائی عورت کی طرف سے آئی ہے۔ کس کی طرف سے؟ عورت کی طرف سے آئی ہے، لیکن پھر بھی اگر یہ خاوند اس عورت کے ساتھ صحبت کر چکا ہے تو عدت کے دوران اس عورت کا نفقہ بھی اس خاوند کے ذمے ہوگا۔ کیونکہ جدائی اگرچہ عورت کی جانب سے آئی ہے، اس کے اولیاء کی جانب سے آئی ہے لیکن کسی گناہ کی وجہ سے نہیں آئی، ان اولیاء کو شریعت نے یہ حق دیا ہے بھئی۔ تو یہ تو تھا ظاہرِ روایت کہ عورت اگر غیرِ کفو میں نکاح کرے گی تو اولیاء اعتراض کر سکتے ہیں، معلوم ہوا نکاح منعقد ہو جائے گا اور اولیاء بعد میں قاضی کے پاس جا کر یہ نکاح فسخ کروا سکتے ہیں۔ لیکن میں نے بتلایا تھا کہ فتویٰ دوسرے قول پر ہے، شیخین رحمہما اللہ کے بھئی، اور اسی کی طرف رجوع فرمایا تھا امام محمد رحمہ اللہ نے بھی، تو ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک اگر عورت غیرِ کفو میں نکاح کرے گی تو مفتیٰ بہ قول یہ ہے کہ یہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا۔ ظاہرِ روایت کے مطابق تو نکاح منعقد ہو جائے گا البتہ اولیاء اعتراض کر کے جدائی کروا سکتے ہیں لیکن مفتیٰ بہ قول کے مطابق یہاں نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا بھئی۔ تو صاحبِ ہدایہ بیان فرما رہے ہیں کہ اگر جدائی عورت کی طرف سے آئی ہے لیکن بغیر معصیت کے آئی ہے: كَخِيَارِ الْعِتْقِ، جیسے کہ خیارِ عتق ہے، وَخِيَارِ الْبُلُوغِ، اور جیسے خیارِ بلوغ ہے، وَالتَّفْرِيقِ لِعَدَمِ الْكَفَاءَةِ، اور جدائی عدمِ کفاءت کی وجہ سے، تو ان تمام صورتوں میں عورت کو نفقہ ملے گا، لِأَنَّهَا حَبَسَتْ نَفْسَهَا بِحَقٍّ، اس لیے کیونکہ عورت نے اپنے آپ کو روکا ہے بحقٍ، حق میں، اس کو شریعت نے حق دیا ہے، وَذَلِكَ لَا يُسْقِطُ النَّفَقَةَ، اور حق کی وجہ سے عورت کا اپنے آپ کو روکنا، لَا يُسْقِطُ النَّفَقَةَ، یہ نفقے کو ساقط نہیں کرتا، كَمَا إِذَا حَبَسَتْ نَفْسَهَا لِاسْتِيفَاءِ الْمَهْرِ، جیسے کہ عورت اپنے آپ کو روک لے مہر کو وصول کرنے کے لیے، جیسے عورت مہر کو، مہرِ معجل کو وصول کرنے کے لیے اپنے آپ کو روک لے تو بھی خاوند پر نفقہ واجب ہوتا ہے کیونکہ اس نے حق کے اندر اپنے آپ کو روکا ہے، تو یہاں پر بھی ان صورتوں میں بھی عورت کے لیے نفقہ ہوگا بھئی۔ آگے دیکھیے: وَإِنْ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا ثُمَّ ارْتَدَّتْ وَالْعِيَاذُ بِاللَّهِ سَقَطَتْ نَفَقَتُهَا، وَإِنْ مَكَّنَتِ ابْنَ زَوْجِهَا مِنْ نَفْسِهَا فَلَهَا النَّفَقَةُ، دوسری صورت بھئی: خاوند نے بیوی کو تین طلاقیں دے دیں اور اب عدت کے دوران کا نفقہ خاوند کے ذمے ہے لیکن اس دوران عورت مرتد ہوگئی، تو کیا اب اس کا بھی نفقہ ہوگا خاوند کے ذمے؟ کہتے ہیں نہیں، اگر یہ مرتد ہوگئی تو اس صورت میں خاوند کے ذمے اس کا نفقہ نہیں ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اگر خاوند نے بیوی کو تین طلاقیں دے دیں اور طلاقیں ملنے کے بعد اب اس عورت نے خاوند کے بیٹے سے غلط تعلق قائم کر لیا تو اس عورت کو نفقہ ملے گا بھئی۔ اس عورت کو نفقہ ملے گا۔ وجہ یہ کہ یہاں پر یہ جو اس عورت نے خاوند کے بیٹے سے غلط تعلق قائم کیا ہے یہاں جدائی عورت کی طرف سے نہیں آئی کیونکہ اس سے پہلے ہی خاوند تین طلاقیں دے چکا ہے تو جدائی کس کی طرف سے آئی ہے؟ خاوند کی طرف سے آئی ہے اور خاوند کی طرف سے جدائی آئے تو عدت کے اندر کا نفقہ خاوند کے ذمے واجب ہوتا ہے، تو یہاں پر عورت کے گناہ کا جدائی میں دخل نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا، اور اگر خاوند نے بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، ثُمَّ ارْتَدَّتْ وَالْعِيَاذُ بِاللَّهِ، اور پھر العیاذ باللہ یہ عورت مرتد ہوگئی، سَقَطَتْ نَفَقَتُهَا، تو اس مرتَدّہ کا نفقہ ساقط ہو جائے گا، وَإِنْ مَكَّنَتِ ابْنَ زَوْجِهَا مِنْ نَفْسِهَا، اور اگر اس عورت نے خاوند کے بیٹے کو قدرت دے دی اپنی ذات پر یعنی اس سے غلط تعلق قائم کر لیا تین طلاقوں کے بعد، فَلَهَا النَّفَقَةُ، تو اس عورت کے لیے نفقہ ہوگا یعنی عدت کے دوران نفقہ اس کا خاوند کے ذمے ہے۔ مَعْنَى، بھئی دیکھو متن کے اندر یہ جو دوسرا مسئلہ ذکر کیا: وَإِنْ مَكَّنَتِ ابْنَ زَوْجِهَا مِنْ نَفْسِهَا فَلَهَا النَّفَقَةُ، یہاں تین طلاقوں کی قید ذکر نہیں۔ یہاں تین طلاقوں کی قید ذکر نہیں لیکن چند لفظ قبل اس متن کے شروع میں وَإِنْ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا کی قید آئی تھی، تو چونکہ وہاں ایک دفعہ متن میں تین طلاقوں کا ذکر آ گیا تھا اس لیے یہاں پر دوبارہ ذکر نہیں کیا ورنہ یہاں بھی یہ قید ملحوظ ہے بھئی کہ تین طلاقوں کے بعد اس نے خاوند کے بیٹے سے غلط تعلق قائم کیا ہے۔ تو اسی کو اب صاحبِ ہدایہ بیان فرما رہے ہیں: مَعْنَاهُ، کہتے ہیں اس قول کا معنی یہ ہے: مَكَّنَتْ بَعْدَ الطَّلَاقِ، کہ اس عورت نے خاوند کے بیٹے کو قدرت دی ہے طلاق کے بعد، تو جدائی خاوند کی طرف سے آئی ہے تو اس کے لیے نفقہ ہوگا، کیوں؟ کہتے ہیں: لِأَنَّ الْفُرْقَةَ تَثْبُتُ بِالطَّلَقَاتِ الثَّلَاثِ، اس لیے کیونکہ یہ جدائی جو ہے یہ تین طلاقوں کی وجہ سے ثابت ہوئی ہے، وَلَا عَمَلَ فِيهَا لِلرِّدَّةِ وَالتَّمْكِينِ، اور اس کے اندر مرتد ہونے اور خاوند کے بیٹے کو قدرت دینے کا کوئی عمل نہیں ہے۔ یہاں جو جدائی آئی ہے وہ کس کی طرف سے ہے؟ خاوند کی طرف سے کہ اس نے تین طلاقیں دی ہیں، اس کے بعد عورت مرتد ہوئی ہے یا اس کے بعد اس نے خاوند کے بیٹے سے غلط تعلق قائم کیا ہے تو عورت کے عمل کا جدائی میں کوئی دخل نہیں۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھئی پھر جب عورت کا جدائی کے اندر کوئی عمل دخل نہیں ہے تو پھر تو دونوں کے لیے نفقہ ہونا چاہیے لیکن آپ کہہ رہے ہیں کہ مرتَدّہ کے لیے نفقہ نہیں ہوگا اور دوسری عورت کے لیے نفقہ ہوگا۔ تو اس کی وجہ آگے صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے، کہتے ہیں وجہ یہ کہ مرتَدّہ جو ہے اس کو تو قید میں ڈال دیا جائے گا یہاں تک کہ وہ پھر اسلام کی طرف لوٹ آئے یا قید ہی میں اس کی موت واقع ہو جائے۔ تو چونکہ مرتَدّہ کو تو قید میں ڈال دیا جائے گا وہ محبوسہ ہوگئی اور محبوسہ عورت کا نفقہ خاوند کے ذمے نہیں ہوتا، جو عورت قید میں ہے اس کا نفقہ خاوند کے ذمے نہیں ہوتا، لہٰذا اس لیے مرتَدّہ کا نفقہ خاوند کے ذمے نہیں ہوگا کیونکہ اس کو قید میں ڈال دیا جائے گا، جبکہ دوسری عورت جو ہے اس کو تو قید میں نہیں ڈالا جائے گا بھئی، اس کو تو قید میں نہیں ڈالا جائے گا لہٰذا اس کا نفقہ خاوند کے ذمہ ہوگا۔ تو کہتے ہیں: وَلَا عَمَلَ فِيهَا لِلرِّدَّةِ وَالتَّمْكِينِ، اور اس جدائی کے اندر مرتد ہونے اور خاوند کے بیٹے کو قدرت دینے کا کوئی عمل نہیں ہے، إِلَّا أَنَّ الْمُرْتَدَّةَ تُحْبَسُ حَتَّى تَتُوبَ، مگر یہ کہ مرتَدّہ جو ہے اس کو قید میں ڈالا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ توبہ کر لے، وَلَا نَفَقَةَ لِلْمَحْبُوسَةِ، اور وہ عورت جس کو قید میں ڈالا گیا ہو اس کے لیے نفقہ نہیں ہوتا، وَالْمُمَكِّنَةُ لَا تُحْبَسُ، اور وہ عورت جس نے خاوند کے بیٹے کو قدرت دی ہے لَا تُحْبَسُ اس کو قید میں نہیں ڈالا جاتا تو اس کے لیے نفقہ ہوگا، فَلِهَذَا يَقَعُ الْفَرْقُ، تو اس سے فرق واقع ہو گیا، دونوں میں فرق آ گیا۔ تو معلوم ہوا کہ یہاں پر یہ عورت جس کو خاوند نے تین طلاقیں دی ہیں اور یہ پھر اس کے بعد مرتد ہوئی ہے اس کا نفقہ خاوند کے ذمے نہیں ہے کیونکہ اس کو قید میں ڈالا جائے گا۔ لیکن یاد رکھنا اگر اس کو قید میں نہ ڈالا گیا پھر اس کے لیے بھی نفقہ ہوگا، اس لیے کیونکہ یہاں پر مرتد ہونے اور معصیت کی وجہ سے جدائی نہیں آئی بلکہ اس سے پہلے ہی تین طلاقوں کی وجہ سے جدائی آ چکی ہے، تو اگر یہ مرتَدّہ جو ہے اس کو قید میں نہ ڈالا گیا تو پھر اس کے عدت کا نفقہ بھی خاوند کے ذمے ہوگا بھئی۔ آگے دیکھیے بھئی: فَصْلٌ: وَنَفَقَةُ الْأَوْلَادِ الصِّغَارِ عَلَى الْأَبِ لَا يُشَارِكُهُ فِيهَا أَحَدٌ كَمَا لَا يُشَارِكُهُ فِي نَفَقَةِ الزَّوْجَةِ، بھئی جس طرح بیوی کا نفقہ سارا کا سارا وہ خاوند کے ذمے ہوتا ہے خاوند کو ادا کرنا پڑتا ہے، اسی طرح جو نابالغ اولاد ہو اس کا بھی سارا خرچہ باپ کے اوپر آئے گا بھئی، اس میں کوئی اور رشتہ دار اس کے ساتھ شریک نہیں ہوگا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَنَفَقَةُ الْأَوْلَادِ الصِّغَارِ عَلَى الْأَبِ، اور نابالغ اولاد کا نفقہ باپ پر ہے، لَا يُشَارِكُهُ فِيهَا أَحَدٌ، کوئی ایک بھی اس کے ساتھ اس نفقے میں شریک نہیں ہوگا، كَمَا لَا يُشَارِكُهُ فِي نَفَقَةِ الزَّوْجَةِ، جیسے کہ بیوی کے نفقے میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہوتا، لِقَوْلِهِ تَعَالَى، اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے، دلیل ذکر فرما رہے ہیں، بھئی بیوی کے نفقے کی بات پیچھے گزر چکی ہے اب نابالغ اولاد کے نفقے کو صاحبِ ہدایہ بیان فرما رہے ہیں، تو دلیل ذکر فرماتے ہیں، کہتے ہیں: لِقَوْلِهِ تَعَالَى، اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ، مولود لہ بھئی، وہ شخص جس کے لیے بچوں کو جنم دیا گیا ہے۔ مولود وہ بچہ جس کو جنم دیا گیا ہے تو مولود لہ جس کے لیے بچے کو جنم دیا گیا یعنی باپ مراد ہے۔ تو قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ، اور باپ پر واجب ہے، رِزْقُهُنَّ، ان عورتوں کا رزق۔ باپ پر ان عورتوں کا رزق یعنی ان بچوں کی ماؤں کا رزق یعنی اس آدمی کی جو بیوی ہے جس نے اس بچے کو جنم دیا ہے تو ان بیویوں کا رزق خاوند پر لازم ہے۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہاں پر مسئلہ ذکر ہو رہا ہے نابالغ اولاد کے نفقے کا اور صاحبِ ہدایہ جو دلیل ذکر فرما رہے ہیں اس میں تو بیوی کے نفقے کا ذکر ہے: وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ، اور بچے کے باپ پر ان عورتوں کا رزق ہے بھئی۔ تو علماء فرماتے ہیں کہ جب اس آیت سے ان بیویوں کا یعنی بچوں کی ماؤں کا نفقہ ثابت ہو رہا ہے تو بچے کا نفقہ بطریقِ اولیٰ اس سے ثابت ہوگا۔ وجہ یہ کہ یہ جو بیویوں کا نفقہ ہے وہ اس اولاد کی وجہ سے ثابت ہو رہا ہے، جب اولاد کی وجہ سے بیوی کا نفقہ ثابت ہو رہا ہے تو خود اولاد کا نفقہ بطریقِ اولیٰ خاوند کے یعنی باپ کے ذمے ہوگا۔ بھئی دیکھیے اس آیت کے اندر آیا: وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ، قرآن میں اللہ نے یہ نہیں فرمایا: وعلى الأب رزقهن، کہ باپ پر ان کا رزق ہے بلکہ کیا ذکر فرمایا: وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ، اور مولود لہ یہ مشتق ہے بھئی۔ مولود کونسا صیغہ ہے؟ اسمِ مفعول ہے یہ مشتق کا صیغہ ہے۔ آپ جانتے ہیں مصدر جو ہے وہ مشتق منہ ہے اور یہ صفت کے صیغے اور فعل وغیرہ یہ سب، یہ سب مشتقات ہیں بھئی۔ تو یاد رکھو جب بھی مشتق پر کوئی حکم لگایا جائے تو وہاں اس حکم کی علت کا بھی پتہ چل جاتا ہے۔ جب بھی کسی مشتق پر کوئی حکم لگایا جائے تو وہاں اس حکم کی علت کا بھی پتہ چل جاتا ہے، یعنی وہی مشتق منہ اس کی علت ہوتا ہے۔ تو ضابطہ کیا ہوا کہ جب بھی مشتق پر کوئی حکم لگایا جائے تو اس حکم کی علت وہ مشتق منہ ہوتا ہے یعنی وہ مصدر جو ہے وہ اس کی علت ہے بھئی۔ مثلاً دیکھو، میں آپ سے کہتا ہوں: أَكْرَمْتُ الْعَالِمَ، میں نے اس عالم کا اکرام کیا۔ تو دیکھو میں نے اکرام کا حکم لگا دیا عالم پر کہ میں نے عالم کا اکرام کیا ہے تو اس سے اس اکرام کی علت کا بھی پتہ چل گیا، معلوم ہوا یہ اکرام میں نے کیوں کیا ہے؟ اس کے علم کی وجہ سے۔ تو علم یعنی جو مشتق منہ ہے وہ اس حکم کی علت ہے بھئی۔ اس کے بجائے اگر میں یوں کہہ دیتا: أكرمت زيداً، میں نے زید کا اکرام کیا ہے، تو اب آپ کو بات کا تو پتہ چل گیا کہ معلوم ہوا یہ کہنے والے نے زید کا اکرام کیا ہے لیکن آپ کو وجہ کا پتہ نہ چلتا کہ زید کا اکرام کیوں کیا ہے، اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کا پتہ نہ چلتا۔ لیکن جب مشتق پر کوئی حکم لگایا جاتا ہے تو وہاں اس حکم کی علت کا بھی پتہ چل جاتا ہے۔ أَكْرَمْتُ الْعَالِمَ، میں نے اس عالم کا اکرام کیا، معلوم ہوا اکرام کی علت جو ہے وہ اس آدمی کا علم ہے بھئی۔ یہ اسی طرح ہے جیسے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: السَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا، السَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ، چوری کرنے والا مرد اور عورت جو ہیں، فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا، ان کے ہاتھ کاٹ دو۔ تو یہاں السارق اور السارقة، یہ اسمِ فاعل ہیں بھئی، صفت کے صیغے ہیں، مشتق ہیں بھئی اور ان پر حکم لگایا جا رہا ہے کہ ان کے ہاتھ کاٹ دیے جائیں۔ اور مشتق پر جب بھی کوئی حکم لگایا جائے تو اس کی علت مشتق منہ ہوتا ہے، معلوم ہوا ان کا ہاتھ کیوں کاٹا جائے گا؟ چوری کی وجہ سے۔ تو یہ سرقہ جو ہے وہ اس کی علت ہے بھئی۔ اور اسی طرح قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ، کہ زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والا مرد ان میں سے ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ۔ تو یہاں پر الزانية اور الزاني یہ اسمِ فاعل کے صیغے ہیں یعنی مشتق ہیں اور مشتق پر سو کوڑے لگانے کا حکم دیا جا رہا ہے، معلوم ہوا اس کی علت کیا ہے؟ یہ، یہ مشتق منہ اس کی علت ہے یعنی زنا۔ زنا کی وجہ سے اللہ نے ان کو سو کوڑے لگانے کا حکم دیا۔ تو ضابطہ کیا ہوا کہ مشتق پر جب بھی کوئی حکم لگایا جائے تو اس کی علت مشتق منہ ہوتا ہے۔ تو یہاں پر اس آیت میں دیکھیے: وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ، اور وہ شخص جس کے لیے بچے کو جنم دیا گیا ہے اس پر ان عورتوں کا رزق ہے۔ تو مولود لہ یہ جو مشتق ہے اس پر حکم لگایا گیا کہ اس پر ان عورتوں کا رزق ہے بھئی، اور مشتق پر جب کوئی حکم لگایا جائے تو اس کی علت مشتق منہ ہوتا ہے، معلوم ہوا وہ بچہ جو ہے وہ علت ہے ان ماؤں کے رزق کا۔ وہ سبب ہے ان ماؤں کے رزق کا، تو جب بچے کی وجہ سے ماؤں کا رزق واجب ہو رہا ہے تو بچوں کا اپنا رزق بطریقِ اولیٰ باپ پر واجب ہوگا۔ دلیل سمجھ میں آگئی۔ یا اسی کو دوسرے لفظوں میں یوں بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ جیسے بیوی کے اندر انسان کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہوتا تو اسی خاوند پر ہی اس بیوی کا سارا خرچہ آتا ہے، اسی طرح یہ جو اولاد ہے اولاد کے اندر بھی کوئی شخص اس کے ساتھ شریک نہیں تو اولاد کا سارا خرچہ بھی اسی شخص پر آئے گا۔ جیسے اولاد اور بیوی میں مشارکت نہیں ہو سکتی تو اسی طرح ان کے نفقے میں بھی مشارکت نہیں ہوگی بھئی، بات سمجھ میں آگئی۔ تو کہتے ہیں: لِقَوْلِهِ تَعَالَى، اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ، اور وہ شخص جس کے لیے بچے کو جنم دیا گیا ہے اس پر ان عورتوں کا رزق ہے یعنی ان بچوں کی ماؤں کا رزق ہے، وَالْمَوْلُودُ لَهُ هُوَ الْأَبُ، اور مولود لہ جو ہے وہ باپ ہے، وہ باپ ہے، وَإِنْ كَانَ الصَّغِيرُ رَضِيعًا ف... ”فَلَيْسَ عَلَىٰ أُمِّهِ أَنْ تُرْضِعَهُ“ اگر نابالغ اولاد جو ہے، وہ دودھ پیتا بچہ ہے تو کیا ماں پر واجب ہے اس بچے کو دودھ پلانا؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ قضاءً ماں پر واجب نہیں ہے۔ یعنی ماں بچے کو دودھ نہیں پلانا چاہتی اور خاوند قاضی کے پاس چلا گیا کہ قاضی صاحب! اس عورت کو حکم دیں، یہ اپنے بچے کو دودھ پلائے۔ تو یاد رکھیے! قاضی جبراً اس عورت پر دودھ پلانے کو واجب نہیں کر سکتا، کیونکہ یہ ماں ہے بھئی، ماں تو سب سے زیادہ اپنے بچے پر شفقت کرنے والی ہے۔ اس کے باوجود یہ بچے کو دودھ نہیں پلا رہی، معلوم ہوا اس کو کوئی عذر ہو گا بھئی۔ تو اس لیے قضاءً اس عورت پر دودھ پلانے کو واجب نہیں کیا جا سکتا۔ ہاں، البتہ دیانۃً اس عورت پر واجب ہے۔ یعنی یہ اس کا اور اللہ کا معاملہ ہے، دیانۃً اس عورت پر واجب ہے کہ اپنے بچے کو دودھ پلائے۔ کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَ الصَّغِيرُ رَضِيعًا“ رضیع کہتے ہیں دودھ پیتا بچہ۔ ”وَإِنْ كَانَ الصَّغِيرُ رَضِيعًا“ اور اگر وہ نابالغ جو ہے وہ دودھ پیتا بچہ ہے ”فَلَيْسَ عَلَىٰ أُمِّهِ أَنْ تُرْضِعَهُ“ تو اس کی ماں پر واجب نہیں ہے کہ اس کو دودھ پلائے، یعنی قضاءً واجب نہیں ہے، دیانۃً اس پر واجب ہے۔ تو قضاءً اس عورت پر دودھ پلانا واجب نہیں ہے ”لِمَا بَيَّنَّا“ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی ”أَنَّ الْكِفَايَةَ عَلَى الْأَبِ“ کہ کفایت باپ پر ہے۔ یعنی بچے کی اور اس کی ماں کی ضروریات پوری کرنا یہ کس کے ذمے ہے؟ باپ کے ذمے ہے۔ لہٰذا باپ جیسے اپنی بیوی کے نفقے کا انتظام کرے گا، بچے کے نفقے کا بھی انتظام کرے گا اور بچے کا نفقہ یہاں یہ تو دودھ پیتا بچہ ہے تو اس کے لیے کسی عورت کا انتظام کرے گا جو اس بچے کو دودھ پلائے گی اور باپ جو ہے اس عورت کو اجرت دے گا۔ تو یہ جو اجرت دے گا اس دودھ پلانے والی کو یہ نفقے کے درجے میں ہے۔ جیسے خاوند کے ذمے بیوی کا نفقہ ہے اسی طرح اس بچے کا نفقہ بھی باپ کے ذمے ہے۔ یہ باپ جو ہے اس دودھ پلانے والی کو جو اجرت دے گا یہ بچے کے نفقے کے درجے میں ہے۔ تو یہ معنی ہے کہ ماں پر بچے کو دودھ پلانا قضاءً واجب نہیں ”لِمَا بَيَّنَّا“ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی ”أَنَّ الْكِفَايَةَ عَلَى الْأَبِ“ کہ کفایت جو ہے باپ پر ہے۔ تو ان کی کفایت کرنا، ان کو وہ چیزیں مہیا کرنا جو ان کے لیے کافی ہو جائیں وہ باپ کے ذمے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”لِمَا بَيَّنَّا أَنَّ الْكِفَايَةَ عَلَى الْأَبِ، وَأُجْرَةُ الرَّضَاعِ كَالنَّفَقَةِ“ اور دودھ پلانے کی جو اجرت ہے وہ نفقے کی طرح ہے ”وَلِأَنَّهَا عَسَاهَا لَا تَقْدِرُ عَلَيْهِ“ اور اس لیے کیونکہ شاید یہ جو ماں ہے یہ دودھ پلانے پر قادر نہ ہو ”لِعُذْرٍ بِهَا“ اپنے کسی عذر کی وجہ سے، یعنی اس کے ساتھ کوئی عذر ہو جس کی وجہ سے یہ دودھ نہیں پلا سکتی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهَا عَسَاهَا لَا تَقْدِرُ عَلَيْهِ لِعُذْرٍ بِهَا، فَلَا مَعْنَىٰ لِلْجَبْرِ عَلَيْهِ“ تو کوئی سبب نہیں ہے اس دودھ پلانے پر مجبور کرنے کا، یعنی اس کو قاضی کے ذریعے مجبور کرنا دودھ پلانے پر اس کا کوئی سبب نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَلَا مَعْنَىٰ لِلْجَبْرِ عَلَيْهِ“ تو کوئی سبب نہیں ہے اس دودھ پلانے پر مجبور کرنے کا ”وَقِيلَ فِي تَأْوِيلِ قَوْلِهِ تَعَالَىٰ“ اور کہا گیا ہے اللہ تعالیٰ کے اس قول کی تاویل میں، تاویل کا یہاں ترجمہ کریں گے تفسیر بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَقِيلَ فِي تَأْوِيلِ قَوْلِهِ تَعَالَىٰ“ اور اللہ تعالیٰ کے اس قول کی تفسیر میں کہا گیا ہے، قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”لَا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا“ کہ بچے کی ماں کو تکلیف نہ دی جائے اس کے بچے کی وجہ سے۔ قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں کہ بچے کی ماں کو بچے کی وجہ سے تکلیف نہ دی جائے۔ کیا معنی اس کا؟ تو آگے تفسیر بیان کر رہے ہیں: ”بِإِلْزَامِهَا الْإِرْضَاعَ“ کہ اس عورت پر دودھ پلانے کو لازم کر دیا جائے ”مَعَ كَرَاهَتِهَا“ اس کے ناپسند کرنے کے باوجود۔ یہ تو دودھ نہیں پلانا چاہتی لیکن قاضی جبراً اس پر دودھ پلانے کو واجب کر دے، تو اس کے اندر دیکھو ماں کو تکلیف دی جا رہی ہے بچے کی وجہ سے، اور اس سے تو قرآن میں اللہ نے منع فرمایا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”وَقِيلَ فِي تَأْوِيلِ قَوْلِهِ تَعَالَىٰ: ﴿لَا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا﴾ بِإِلْزَامِهَا الْإِرْضَاعَ مَعَ كَرَاهَتِهَا“ کہ عورت کے ناپسند کرنے کے باوجود اس پر دودھ پلانے کو لازم کرنا، اس سے یہ مراد ہے۔ اس سے یہ مراد ہے بھئی۔ ”وَهٰذَا الَّذِي ذَكَرْنَا بَيَانُ الْحُكْمِ“ اور یہ جو ہم نے ذکر کیا، یہ حکم کا بیان تھا۔ ہم نے آپ کو مسئلہ بتلا دیا کہ جب ماں بچے کو دودھ نہ پلانا چاہے تو قاضی اس کو جبراً مجبور نہیں کر سکتا بھئی، تو یہ کہتے ہیں ہم نے حکم بیان فرمایا ہے، یعنی قضاءً اس عورت کو مجبور نہیں کیا جا سکتا، البتہ دیانۃً اس عورت پر واجب ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَهٰذَا الَّذِي ذَكَرْنَا بَيَانُ الْحُكْمِ“ اور یہ جو ہم نے ذکر کر دیا کہ عورت کو مجبور نہیں کیا جائے گا ”بَيَانُ الْحُكْمِ“ یہ حکم کا بیان تھا ”وَذٰلِكَ إِذَا كَانَ يُوجَدُ مَنْ تُرْضِعُهُ“ اور یہ اس وقت ہے جب ایسی عورت پائی جائے جو اس بچے کو دودھ پلائے۔ جب کوئی اور عورت موجود ہے جو بچے کو دودھ پلا سکتی ہے تو اس وقت ماں پر واجب نہیں ہے۔ ”أَمَّا إِذَا كَانَ لَا تُوجَدُ مَنْ تُرْضِعُهُ“ اور باقی اس وقت جب کوئی اور عورت نہ پائی جائے جو اس بچے کو دودھ پلائے ”تُجْبَرُ الْأُمُّ عَلَى الْإِرْضَاعِ“ تو پھر ماں کو مجبور کیا جائے گا بچے کو دودھ پلانے پر ”صِيَانَةً لِلصَّبِيِّ“ بچے کی حفاظت کے لیے ”عَنِ الضَّيَاعِ“ ضائع ہونے سے۔ ضیاع ضاد کے فتحہ کے ساتھ ہے بھئی، ضَاعَ يَضِيعُ ضَيَاعًا کا معنی ہے ضائع ہونا۔ تو اس صورت میں ماں کو مجبور کیا جائے گا دودھ پلانے پر۔ جب کوئی اور عورت دودھ پلانے والی نہیں ہے یا اور عورت تو ہے دودھ پلانے والی لیکن بچہ اور کسی کا دودھ پی ہی نہیں رہا تو اب بچے کو ہلاکت سے بچانے کے لیے اب ماں کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ بچے کو دودھ پلائے۔ یہ معنی ہے کہ ”أَمَّا إِذَا كَانَ لَا تُوجَدُ مَنْ تُرْضِعُهُ تُجْبَرُ الْأُمُّ عَلَى الْإِرْضَاعِ صِيَانَةً لِلصَّبِيِّ عَنِ الضَّيَاعِ“ بچے کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے۔ ”قَالَ: وَيَسْتَأْجِرُ الْأَبُ مَنْ تُرْضِعُهُ عِنْدَهَا“ اس ”قَالَ“ سے مراد صاحبِ قدوری ہیں، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَيَسْتَأْجِرُ الْأَبُ“ استأجر یستأجر کے معنی ہیں اجرت پر رکھنا۔ ”وَيَسْتَأْجِرُ الْأَبُ مَنْ تُرْضِعُهُ“ اور باپ اجرت پر رکھے گا اس عورت کو جو اس بچے کو دودھ پلائے ”عِنْدَهَا“ اس بچے کی ماں کے پاس۔ باپ کسی عورت کو اجرت پر رکھے گا جو اس کی ماں کے پاس رہ کر اس بچے کو دودھ پلائے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَيَسْتَأْجِرُ الْأَبُ مَنْ تُرْضِعُهُ عِنْدَهَا“ اور باپ جو ہے اجرت پر رکھے گا اس عورت کو جو اس بچے کو دودھ پلائے اس بچے کی ماں کے پاس۔ ”أَمَّا اسْتِئْجَارُ الْأَبِ فَلِأَنَّ الْأَجْرَ عَلَيْهِ“ بھئی باپ کیوں اجرت پر رکھے گا؟ اس کی وجہ بیان کر رہے ہیں کہ کیونکہ بھئی اجرت باپ کے ذمہ ہے کیونکہ یہ اجرت کس کے درجے میں ہے؟ نفقے کے درجے میں ہے اور بچے کا نفقہ باپ کے ذمے ہے۔ تو کہتے ہیں: ”أَمَّا اسْتِئْجَارُ الْأَبِ فَلِأَنَّ الْأَجْرَ عَلَيْهِ“ اور باقی باپ کا اجرت پر رکھنا اس لیے کیونکہ اجرت باپ کے ذمہ ہے ”وَقَوْلُهُ عِنْدَهَا“ بھئی متن میں صاحبِ قدوری نے یہ بھی ذکر فرمایا کہ یہ عورت بچے کو دودھ پلائے گی ”عِنْدَهَا“ بچے کی ماں کے پاس رہ کر۔ بچے کی ماں کے پاس رہ کر دودھ پلائے گی تو یہ ”عِنْدَهَا“ کی قید کا کیا معنی؟ صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے معنی یہ ہے: اگر ماں بھی یہی چاہتی ہے۔ ماں کہتی ہے: میں دودھ تو نہیں پلا سکتی لیکن بچہ میرے پاس ہی رہے۔ تو خاوند پر لازم ہے ایک عورت کا انتظام کرے جو ماں کے پاس رہ کر بچے کو دودھ پلائے۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَوْلُهُ عِنْدَهَا“ اور صاحبِ قدوری کا قول جو ”عِنْدَهَا“ آیا متن کے اندر ”مَعْنَاهُ إِذَا أَرَادَتْ ذٰلِكَ“ معنی اس کا یہ ہے جب ماں بھی اس کا ارادہ کرے کہ بچہ میرے پاس ہی رہے ”لِأَنَّ الْحِجْرَ لَهَا“ اس لیے کیونکہ پرورش اور تربیت جو ہے وہ ماں کے لیے ہے۔ پرورش کا حق کس کا ہے؟ ماں کا ہے بھئی۔ لڑکا ہو تو سات سال تک اور لڑکی ہو تو نو سال تک، اس کی پرورش کا حق ماں کو ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے: ”لِأَنَّ الْحِجْرَ لَهَا“ اس لیے کیونکہ پرورش اور تربیت جو ہے وہ ماں کا حق ہے۔ ”وَإِنِ اسْتَأْجَرَهَا وَهِيَ زَوْجَتُهُ أَوْ مُعْتَدَّتُهُ لِتُرْضِعَ وَلَدَهَا لَمْ تَجُزْ“ صورت یہ بھئی: ماں بچے کو دودھ خود پلانا چاہتی ہے لیکن خاوند سے اجرت کا مطالبہ کرتی ہے کہ تم اس کے باپ ہو، نفقہ تمہارے ذمے ہے، لہٰذا میں دودھ تو پلاؤں گی لیکن دودھ پلانے کی مجھے اجرت دو گے۔ یا یہ منکوحہ نہیں ہے، خاوند اس کو طلاق دے چکا ہے اور عدت کے دوران جو ہے وہ عورت کہتی ہے کہ عدت کے دوران بھی جو میں دودھ پلاؤں گی تو تمہیں اجرت دینا پڑے گی۔ یاد رکھو، آگے چل کر صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ جب عدت گزر جائے تو پھر وہ عورت اجنبیہ بن گئی۔ اس کے بعد اگر وہ بچے کو دودھ پلاتی ہے تو وہ خاوند سے اجرت کا مطالبہ کر سکتی ہے۔ لیکن منکوحہ ہو یا عدت کے دوران جو عورت ہے، وہ اجرت کا مطالبہ نہیں کر سکتی، اس کے لیے اجرت لینا جائز نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنِ اسْتَأْجَرَهَا وَهِيَ زَوْجَتُهُ أَوْ مُعْتَدَّتُهُ“ اور اگر خاوند نے اجرت پر رکھ لیا اس حال میں کہ یہ اسی کی بیوی ہے یا یہ اسی خاوند کی معتدہ ہے، یعنی خاوند نے اس کو طلاق دی ہے اور یہ عدت گزار رہی ہے، تو خاوند نے اس کو اجرت پر رکھا ”لِتُرْضِعَ وَلَدَهَا“ تاکہ یہ اس کی اولاد کو دودھ پلائے ”لَمْ تَجُزْ“ تو یہ جائز نہیں۔ معلوم ہوا اپنی منکوحہ اور اپنی معتدہ کو دودھ پلانے کی اجرت دینا جائز نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لَمْ تَجُزْ“ یہ جائز نہیں ہے ”لِأَنَّ الْإِرْضَاعَ مُسْتَحَقٌّ عَلَيْهَا دِيَانَةً“ بھئی میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ قضاءً تو ماں پر دودھ پلانا واجب نہیں، لیکن دیانۃً ماں پر دودھ پلانا واجب ہے۔ اب وہی ذکر کر رہے ہیں کہ جب ماں پر دودھ پلانا دیانۃً واجب ہے تو یہ اس کی اجرت نہیں لے سکتی۔ قضاءً ہم نے واجب نہیں کیا تھا، وجہ یہ کہ ہو سکتا ہے ماں کو کوئی عذر ہو جس کی وجہ سے وہ دودھ نہیں پلا رہی۔ وہ بچے کی ماں ہے، اس کی شفقت سب سے زیادہ ہے بچے پر، وہ پھر بھی بچے کو دودھ نہیں پلا رہی، معلوم ہوا کوئی عذر ہے، کوئی مجبوری ہے بھئی۔ لیکن اگر وہ کہتی ہے کہ مجھے اجرت دو پھر میں دودھ پلاؤں گی، اس کا مطلب ہے اس کو کوئی عذر وغیرہ نہیں ہے۔ جب عذر وغیرہ نہیں ہے تو اب اس عورت پر بچے کو دودھ پلانا لازم ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْإِرْضَاعَ مُسْتَحَقٌّ عَلَيْهَا دِيَانَةً“ مستحق کا ترجمہ یہاں کریں گے واجب کے۔ ”لِأَنَّ الْإِرْضَاعَ“ اس لیے کیونکہ دودھ پلانا ”مُسْتَحَقٌّ عَلَيْهَا دِيَانَةً“ وہ دیانۃً اس ماں پر واجب ہے۔ ”قَالَ اللّٰهُ تَعَالَىٰ“ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں: ”﴿وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ﴾“ اور مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلائیں۔ اور مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلائیں، اس آیت سے پتہ چل رہا ہے کہ ماؤں پر بچوں کو دودھ پلانا واجب ہے۔ لیکن ہم نے قضاءً واجب نہیں کیا تھا، دیانۃً واجب ہے لیکن قضاءً واجب نہیں، کیونکہ اوپر ذکر ہو گیا، دوسری جگہ اللہ فرماتے ہیں: ”﴿لَا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا﴾“ کہ ماں کو بچے کی وجہ سے تکلیف نہ دی جائے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”قَالَ اللّٰهُ تَعَالَىٰ: ﴿وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ﴾ إِلَّا أَنَّهَا عُذِرَتْ“ مگر یہ کہ اس عورت کو معذور سمجھا گیا، اس کو معذور قرار دیا گیا ”لِاحْتِمَالِ عَجْزِهَا“ اس کے عاجز ہونے کے احتمال کی وجہ سے کہ ہو سکتا ہے یہ دودھ پلانے سے عاجز ہو بھئی، اس لیے یہ دودھ نہیں پلا رہی۔ ”فَإِذَا أَقْدَمَتْ عَلَيْهِ بِالْأَجْرِ“ اقدم یقدم اقدام کا معنی ہے پیش قدمی کرنا۔ ”فَإِذَا أَقْدَمَتْ عَلَيْهِ بِالْأَجْرِ“ تو جب اس عورت نے دودھ پلانے پر پیش قدمی کی ہے اجرت کے بدلے، ماں خود تیار ہو گئی کہ اجرت مجھے دو گے تو میں دودھ پلانے کو تیار ہوں، معلوم ہوا اس کو کوئی عذر وغیرہ نہیں، جب کوئی عذر نہیں تو اب اس پر دودھ پلانا واجب ہو گیا بھئی۔ کہتے ہیں: ”فَإِذَا أَقْدَمَتْ عَلَيْهِ بِالْأَجْرِ“ جب ماں نے دودھ پلانے پر پیش قدمی کی اجرت کے بدلے ”ظَهَرَتْ قُدْرَتُهَا“ تو ظاہر ہو گئی اس ماں کی قدرت کہ یہ دودھ پلانے پر قادر ہے ”فَكَانَ الْفِعْلُ وَاجِبًا عَلَيْهَا“ تو یہ دودھ پلانے کا فعل اس عورت پر واجب ہے ”فَلَا يَجُوزُ أَخْذُ الْأَجْرِ عَلَيْهِ“ لہٰذا اس کے لیے اجرت لینا جائز نہیں۔ بھئی جب دودھ پلانا اس پر واجب ہے تو پھر یہ اجرت کیسے لے سکتی ہے بھئی؟ یہ تو اسی کے ذمے ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو یہ معنی ہے: ”فَكَانَ الْفِعْلُ وَاجِبًا عَلَيْهَا، فَلَا يَجُوزُ أَخْذُ الْأَجْرِ عَلَيْهِ“ لہٰذا اس پر اجرت لینا جائز نہیں ہے۔ ”وَهٰذَا فِي الْمُعْتَدَّةِ عَنْ طَلَاقٍ رَجْعِيٍّ رِوَايَةً وَاحِدَةً“ بھئی یاد رکھیے، آگے صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ ہم نے آپ کو اوپر متن میں بتلا دیا کہ اپنی بیوی کے لیے دودھ پلانے کی اجرت لینا بھی جائز نہیں اور معتدہ کے لیے بھی اجرت لینا جائز نہیں۔ اس معتدہ سے کون سی معتدہ مراد ہے؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ وہ عورت جو طلاقِ رجعی کی عدت گزار رہی ہو، اس کے بارے میں تو ایک ہی روایت آئی ہے کہ وہ اجرت نہیں لے سکتی کیونکہ نکاح موجود ہے، نکاح موجود ہے۔ البتہ وہ عورت جو طلاقِ بائن کی عدت گزار رہی ہے یا تین طلاقوں کی عدت گزار رہی ہے، اس کے بارے میں دو روایتیں ہیں۔ ایک روایت کے مطابق اس کا نکاح ٹوٹ چکا ہے، لہٰذا وہ اجنبیہ کی مثل ہو گئی، لہٰذا وہ اجرت لے سکتی ہے۔ جبکہ دوسری روایت میں آتا ہے کہ بھئی اگرچہ اس کو طلاقِ بائن دی ہے یا تین طلاقیں دی ہیں لیکن ابھی بھی نکاح کے کچھ احکام باقی ہیں۔ جیسے اس معتدہ کا نفقہ خاوند کے ذمے ہوتا ہے، اس کی رہائش بھی خاوند کے ذمے ہوتی ہے، اس سے کوئی اولاد پیدا ہو جائے وہ بھی خاوند کی شمار ہوتی ہے، نیز اس معتدہ کو خاوند زکوٰۃ بھی نہیں دے سکتا۔ آپ جانتے ہیں میاں بیوی ایک دوسرے کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے اس لیے کیونکہ ان کے مفادات مشترک ہوتے ہیں۔ خاوند بیوی کو اگر زکوٰۃ دے گا یہ تو گویا اپنے آپ کو ہی دے رہا ہے کیونکہ دونوں ایک دوسرے کی چیزیں استعمال کرتے ہیں بھئی، تو وہ زکوٰۃ تو اسی کے کام آئے گی بھئی۔ تو یہ جو معتدہ ہے جس کو خاوند نے تین طلاقیں دی ہیں یا طلاقِ بائن دی ہے، اس کو بھی خاوند زکوٰۃ نہیں دے سکتا۔ اور نیز اسی طرح یہ عورت خاوند کے حق میں گواہی نہیں دے سکتی کیونکہ ان کے مفادات مشترکہ ہیں۔ دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ یہ تو اپنے نفع کے لیے گواہی دی جا رہی ہے کیونکہ خاوند کا نفع بیوی کا نفع ہے اور بیوی کا نفع خاوند کا نفع ہے۔ تو یہ جو مبتوتہ ہے، عدت کے دوران بھی بعض احکام کے اعتبار سے نکاح باقی ہے۔ جب نکاح باقی ہے تو اس کے لیے دودھ پلانے کی اجرت لینا جائز نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَهٰذَا فِي الْمُعْتَدَّةِ عَنْ طَلَاقٍ رَجْعِيٍّ رِوَايَةً وَاحِدَةً“ اور یہ اس عورت کے بارے میں ہے جو عدت گزار رہی ہے طلاقِ رجعی سے، اس حال میں کہ یہ ایک ہی روایت ہے۔ معتدۂ رجعیہ کے بارے میں ایک ہی روایت ہے کہ یہ اجرت نہیں لے سکتی، اور معتدۂ بائنہ کے اندر دو روایتیں ہیں۔ ایک روایت کے مطابق وہ اجرت لے سکتی ہے کیونکہ نکاح ٹوٹ چکا، اور دوسری روایت ہے کہ وہ بھی اجرت نہیں لے سکتی کیونکہ بعض اعتبار سے ابھی بھی نکاح باقی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَهٰذَا فِي الْمُعْتَدَّةِ عَنْ طَلَاقٍ رَجْعِيٍّ رِوَايَةً وَاحِدَةً“ یہ حکم جو ہے اس عورت کے بارے میں ہے جو عدت گزار رہی ہے طلاقِ رجعی سے اس حال میں کہ یہ ایک ہی روایت ہے ”لِأَنَّ النِّكَاحَ قَائِمٌ“ اس لیے کیونکہ اس کے ساتھ نکاح ابھی بھی موجود ہے ”وَكَذَا فِي الْمَبْتُوتَةِ فِي رِوَايَةٍ“ اور اسی طرح ہے حکم مبتوتہ کے بارے میں بھی ایک روایت میں۔ مبتوتہ وہ عورت جس سے نکاح ٹوٹ چکا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا فِي الْمَبْتُوتَةِ فِي رِوَايَةٍ“ اور اسی طرح ہے مبتوتہ کے اندر بھی ایک روایت میں ”وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَىٰ جَازَ اسْتِئْجَارُهَا“ اور دوسری روایت میں ہے کہ اس مبتوتہ کو اجرت پر رکھنا جائز ہے ”لِأَنَّ النِّكَاحَ قَدْ زَالَ“ اس لیے کیونکہ نکاح تحقیق وہ زائل ہو چکا ہے، ختم ہو چکا ہے، تو یہ اجنبیہ بن چکی ہے، جب اجنبیہ بن گئی تو اس کے لیے دودھ پلانے کی اجرت لینا جائز ہے بھئی۔ ”وَوَجْهُ الْأُولَىٰ“ اور پہلی روایت کی وجہ، مبتوتہ کے بارے میں ایک روایت کیا بتلائی کہ وہ بھی اجرت نہیں لے سکتی، دوسری روایت بتائی کہ وہ اجرت لے سکتی ہے، تو پہلی روایت کے مطابق مبتوتہ بھی اجرت نہیں لے سکتی اب اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَوَجْهُ الْأُولَىٰ أَنَّهُ بَاقٍ فِي حَقِّ بَعْضِ الْأَحْكَامِ“ پہلی روایت کی وجہ یہ ہے کہ نکاح ابھی بھی بعض احکام کے حق میں باقی ہے، تو جب نکاح باقی ہے تو یہ اجرت نہیں لے سکتی۔ ”وَلَوِ اسْتَأْجَرَهَا وَهِيَ مَنْكُوحَتُهُ أَوْ مُعْتَدَّتُهُ لِإِرْضَاعِ ابْنٍ لَهُ مِنْ غَيْرِهَا جَازَ“ بھئی صاحبِ ہدایہ نے آپ کو یہ تو بتلا دیا کہ ماں اپنے بچے کو دودھ پلانے کی اجرت خاوند سے نہیں لے سکتی جب تک وہ اس کی منکوحہ ہے یا اس کی معتدہ ہے۔ لیکن اگر یہ عورت اسی شخص کی دوسری بیوی کے بچے کو دودھ پلانے کی اجرت مانگتی ہے، ماں اس کو دودھ نہیں پلا سکتی اب خاوند کی دوسری بیوی جو ہے، خاوند اس کو اجرت پر رکھنا چاہتا ہے، تو کیا اس کے لیے اجرت لینا جائز ہے؟ کہتے ہیں ہاں، اس کے لیے اجرت لینا جائز ہے۔ کیونکہ اس کا اپنا بچہ ہوتا، اس کو دودھ پلانا تو اسی پر واجب ہوتا تو وہاں تو وہ اجرت نہیں لے سکتی تھی، لیکن دوسری بیوی کے بچے کو دودھ پلانا تو اس عورت پر واجب نہیں ہے، لہٰذا اس کی اجرت یہ لے سکتی ہے بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَلَوِ اسْتَأْجَرَهَا“ اور اگر خاوند نے اس عورت کو اجرت پر رکھا ”وَهِيَ مَنْكُوحَتُهُ أَوْ مُعْتَدَّتُهُ“ اس حال میں کہ یہ عورت اس کی منکوحہ ہے یا اس کی معتدہ ہے، یعنی خاوند اس کو طلاق دے چکا ہے، اب اس کو خاوند نے اجرت پر رکھا ”لِإِرْضَاعِ ابْنٍ لَهُ مِنْ غَيْرِهَا“ تاکہ یہ عورت دودھ پلائے اس خاوند کے بیٹے کو جو اس عورت کے علاوہ سے ہے، یعنی دوسری بیوی سے ہے، اس کو دودھ پلائے ”جَازَ“ تو یہ جائز ہے، اس کی اجرت یہ عورت لے سکتی ہے ”لِأَنَّهُ غَيْرُ مُسْتَحَقٍّ عَلَيْهَا“ اس لیے کیونکہ اس بچے کو دودھ پلانا یہ اس عورت پر واجب نہیں ہے تو اس کی یہ اجرت لے سکتی ہے۔ ”وَإِنِ انْقَضَتْ عِدَّتُهَا فَاسْتَأْجَرَهَا“ صورت یہ بھئی کہ عدت گزر گئی، عورت بائنہ ہو گئی۔ اب خاوند اسی بچے کی ماں کو اجرت پر رکھنا چاہتا ہے بچے کو دودھ پلانے کے لیے۔ تو کیا خاوند اسی عورت کو اجرت پر رکھ سکتا ہے؟ کیا یہ ماں جو ہے یہ اب بچے کو دودھ پلانے کی اجرت لے سکتی ہے؟ کہتے ہیں ہاں، اب چونکہ یہ بائنہ ہو گئی، نکاح پورے طور پر ٹوٹ گیا، اجنبیہ ہو گئی، لہٰذا یہ دودھ پلانے کی اجرت لے سکتی ہے، کیونکہ بچے کا نفقہ کس کے ذمے ہے؟ باپ کے ذمے ہے اور یہ دودھ کی اجرت بھی کس کے درجے میں ہے؟ نفقے کے درجے میں ہے، لہٰذا یہاں خاوند اجرت پر اس بچے کی ماں کو بھی رکھ سکتا ہے عدت کے گزرنے کے بعد۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنِ انْقَضَتْ عِدَّتُهَا فَاسْتَأْجَرَهَا“ اور اگر اس عورت کی عدت گزر گئی پھر خاوند نے اس کو اجرت پر رکھ لیا، یعنی اس کے بچے کو دودھ پلانے کے لیے ”جَازَ“ تو یہ جائز ہے ”لِأَنَّ النِّكَاحَ قَدْ زَالَ بِالْكُلِّيَّةِ“ اس لیے کیونکہ نکاح تحقیق زائل ہو گیا پورے طور پر، نکاح ختم ہو گیا پورے طور پر ”وَصَارَتْ كَالْأَجْنَبِيَّةِ“ اور یہ عورت اجنبیہ جیسی ہو گئی، تو لہٰذا اب اس کو اجرت پر رکھا جا سکتا ہے۔ ”فَإِنْ قَالَ الْأَبُ لَا أَسْتَأْجِرُهَا“ صورتِ مسئلہ یہ بھئی کہ میاں بیوی کے درمیان جدائی آ گئی اور عورت نے عدت گزار لی۔ اب عدت کے بعد خاوند جو ہے بچے کے لیے اجرت پر ایک عورت کا انتظام کرتا ہے کہ وہ بچے کو دودھ پلائے، جبکہ دوسری طرف ماں بھی راضی ہے، ماں کہتی ہے کہ جتنی اجرت آپ نے اس اجنبیہ عورت کو دینی ہے اتنی ہی اجرت مجھے دے دینا، میں بچے کو دودھ پلا دیتی ہوں۔ یا ماں بغیر اجرت کے ہی تیار ہے کہ میں اس بچے کو بغیر اجرت کے ہی دودھ پلانے پر تیار ہوں، لیکن خاوند جو ہے کہتا ہے: نہیں، میں تو کسی اور عورت کو ہی رکھوں گا۔ تو یاد رکھو، صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ اس صورت میں ماں زیادہ حقدار ہے۔ خاوند کو یہ بچہ ماں کے سپرد کرنا چاہیے بھئی۔ کہتے ہیں: ”فَإِنْ قَالَ الْأَبُ“ اور اگر باپ نے کہا: ”لَا أَسْتَأْجِرُهَا“ کہ میں اس ماں کو اجرت پر نہیں رکھوں گا ”وَجَاءَ بِغَيْرِهَا“ اور وہ لے آیا ماں کے علاوہ کسی اور عورت کو ”فَرَضِيَتِ الْأُمُّ بِمِثْلِ أَجْرِ الْأَجْنَبِيَّةِ“ تو ماں راضی ہو گئی اس اجنبیہ عورت کی اجرت کے برابر پر، ماں راضی ہو گئی جتنی اجرت اس اجنبیہ کو دیتے ہو اتنی ہی اجرت مجھے دے دینا ”أَوْ رَضِيَتْ بِغَيْرِ أَجْرٍ“ یا ماں راضی ہو گئی بغیر اجرت کے ہی کہ میں ویسے ہی بچے کو دودھ پلا دیتی ہوں ”كَانَتْ هِيَ أَحَقَّ“ تو یہ ماں زیادہ حقدار ہے۔ خاوند کو بچہ اسی کے حوالے کرنا چاہیے۔ تو کہتے ہیں: ”كَانَتْ هِيَ أَحَقَّ“ تو یہ ماں جو ہے زیادہ حقدار ہے ”لِأَنَّهَا أَشْفَقُ“ کیونکہ یہ زیادہ شفقت والی ہے ”فَكَانَ نَظَرًا لِلصَّبِيِّ فِي الدَّفْعِ إِلَيْهَا“ تو اس میں بچے پر بھی شفقت ہو گی اس کے حوالے کرنے میں۔ جب بچے کو ماں کے حوالے کریں گے تو اس میں بچے پر بھی شفقت ہے، ماں سے بڑھ کر تو کوئی اس کا خیال نہیں رکھ سکتا بھئی، تو خاوند کو یہ بچہ ماں کے حوالے ہی کرنا چاہیے۔ ہاں، ”وَإِنِ الْتَمَسَتْ زِيَادَةً لَمْ يُجْبَرِ الزَّوْجُ عَلَيْهَا“ ماں اگر زیادہ اجرت کا مطالبہ کرتی ہے تو پھر اس صورت میں خاوند کو مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ قاضی بھی خاوند کو نہیں کہہ سکتا کہ یہ بچہ ماں ہی کے حوالے کرنا پڑے گا، کیونکہ ماں زیادہ اجرت کا مطالبہ کر رہی ہے بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَإِنِ الْتَمَسَتْ زِيَادَةً“ اور اگر عورت نے زیادہ کا مطالبہ کیا ”لَمْ يُجْبَرِ الزَّوْجُ عَلَيْهَا“ تو خاوند کو اس پر مجبور نہیں کیا جائے گا ”دَفْعًا لِلضَّرَرِ عَنْهُ“ خاوند سے نقصان کو دور کرنے کے لیے۔ بھئی اگر خاوند کو اب بھی آپ مجبور کرتے ہیں کہ بچہ ماں ہی کے حوالے کرنا پڑے گا تو اس میں تو بیچارے خاوند کا نقصان ہے بھئی، وہ زیادہ اجرت اس کو دینا پڑے گی، لہٰذا اس وجہ سے خاوند کو مجبور نہیں کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”لَمْ يُجْبَرِ الزَّوْجُ عَلَيْهَا“ خاوند کو اس پر مجبور نہیں کیا جائے گا ”دَفْعًا لِلضَّرَرِ عَنْهُ“ خاوند سے نقصان کو دور کرنے کے لیے ”وَإِلَيْهِ الْإِشَارَةُ بِقَوْلِهِ تَعَالَىٰ: ﴿لَا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُودٌ لَهُ بِوَلَدِهِ﴾“ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”﴿لَا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا﴾“ کہ ماں کو تکلیف نہ دی جائے بچے کی وجہ سے ”﴿وَلَا مَوْلُودٌ لَهُ بِوَلَدِهِ﴾“ اور نہ باپ کو بچے کی وجہ سے۔ ماں اور باپ کو بچے کی وجہ سے تکلیف نہ دی جائے، اب یہاں پر اگر آپ باپ پر واجب کر دیتے ہیں کہ اجرت پر ماں ہی کو رکھنا پڑے گا اور ماں تو زیادہ اجرت کا مطالبہ کر رہی ہے تو اس میں باپ کو گویا بچے کی وجہ سے تکلیف دی جا رہی ہے، اور اس سے تو قرآن میں اللہ نے منع فرمایا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِلَيْهِ الْإِشَارَةُ بِقَوْلِهِ تَعَالَىٰ: ﴿لَا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُودٌ لَهُ بِوَلَدِهِ﴾ أَيْ بِإِلْزَامِهِ لَهَا أَكْثَرَ مِنْ أُجْرَةِ الْأَجْنَبِيَّةِ“ یعنی بایں صورت کہ باپ پر لازم کر دیا جائے اس ماں کے لیے اجنبیہ کی اجرت سے زیادہ، باپ پر ماں کے لیے اجنبیہ سے زائد اجرت کو لازم کر کے اس کو تکلیف نہ دی جائے بھئی۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”أَيْ بِإِلْزَامِهِ لَهَا أَكْثَرَ مِنْ أُجْرَةِ الْأَجْنَبِيَّةِ“ یعنی باپ پر ماں کے لیے اجنبیہ کی اجرت سے زائد لازم کر کے اس کو تکلیف نہ دی جائے۔ ”وَنَفَقَةُ الصَّغِيرِ وَاجِبَةٌ عَلَىٰ أَبِيهِ وَإِنْ خَالَفَهُ فِي دِينِهِ“ یہاں سے صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ باپ کا دین چاہے بچے کے دین سے الگ ہی کیوں نہ ہو، پھر بھی نابالغ بچہ ہے تو اس کا نفقہ باپ پر ہی ہو گا۔ بچے کا دین باپ سے الگ ہی کیوں نہ ہو، پھر بھی اس کا نفقہ باپ کے ذمے ہے جب تک وہ بالغ نہیں ہوتا۔ چنانچہ مثلاً ایک کافر شخص ہے اور اس کا نابالغ بیٹا ہے، وہ سمجھدار ہے اور دین کی باتوں کو سمجھنے لگا اور وہ مسلمان ہو گیا، لیکن ہے ابھی نابالغ، تو اب باپ کا دین الگ ہے بچے کا دین الگ ہے، لیکن پھر بھی اس نابالغ کا نفقہ باپ ہی کے ذمے ہے۔ یا اس کا برعکس ہوا، ایک مسلمان کا بیٹا ہے اور وہ دین کی باتوں کو سمجھتا ہے اور وہ العیاذ باللہ مرتد ہو گیا، تو اب بچے کا دین الگ ہے باپ کا دین الگ ہے، پھر بھی اس نابالغ بچے کا نفقہ باپ کے ذمے ہے، اور یاد رکھنا بچے کا ارتداد اور اسلام ہمارے نزدیک صحیح ہے بھئی، وہ ثابت ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ کہتے ہیں: ”وَنَفَقَةُ الصَّغِيرِ وَاجِبَةٌ عَلَىٰ أَبِيهِ وَإِنْ خَالَفَهُ فِي دِينِهِ“ اور نابالغ کا نفقہ باپ پر واجب ہے اگرچہ باپ مخالف ہو اس سے دین میں ”كَمَا تَجِبُ نَفَقَةُ الزَّوْجَةِ عَلَى الزَّوْجِ وَإِنْ خَالَفَتْهُ فِي دِينِهِ“ جیسے کہ بیوی کا نفقہ خاوند پر واجب ہوتا ہے اگرچہ وہ خاوند اس کے مخالف ہو دین میں۔ بیوی بھئی ایک شخص مسلمان ہے اور وہ یہودی یا عیسائی عورت سے نکاح کر لیتا ہے تو اس عورت کا نفقہ خاوند پر واجب ہے اگرچہ میاں بیوی کا دین الگ الگ ہے۔ تو جیسے بیوی کا دین الگ ہونے کے باوجود اس کا نفقہ خاوند کے ذمے ہوتا ہے اسی طرح نابالغ اولاد کا دین مختلف ہونے کے باوجود ان کا نفقہ باپ کے ذمے ہو گا۔ کہتے ہیں: ”أَمَّا الْوَلَدُ فَلِإِطْلَاقِ مَا تَلَوْنَا“ تو بچہ جو ہے یعنی اس کا جو نفقہ ہے ”فَلِإِطْلَاقِ مَا تَلَوْنَا“ وہ اس آیت کے مطلق ہونے کی وجہ سے جو ہم نے تلاوت کی، ہم نے پیچھے آیت تلاوت کی تھی، ہم نے بتلایا تھا کہ قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں: ”﴿وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ﴾“ کہ بچے کے باپ پر ان بچوں کی ماؤں کا نفقہ لازم ہے، اور یہاں پر مشتق پر حکم لگایا گیا ہے، مولود کیا ہے؟ مشتق کا صیغہ ہے، تو باپ کو مولود لہ کے لفظ کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے قرآن میں، تو اور مشتق پر جب حکم لگایا جائے تو اس کے سبب اور علت وہ مشتق منہ ہوتا ہے، معلوم ہوا ان عورتوں کا رزق باپ پر کیوں لازم ہے؟ بچے کی وجہ سے، تو جب بچے کی وجہ سے ماؤں کا رزق لازم ہے تو بچے کا رزق بطریقِ اولیٰ لازم ہو گا بھئی۔ اور نیز یہ آیت مطلق ہے بھئی، اس کے اندر کوئی ذکر نہیں ہے کہ دین کا ایک ہونا ضروری ہے بھئی، بچے کا اور بچے کے باپ کا دین ایک ہونا ضروری ہو، یہ قید یہاں پر موجود نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”أَمَّا الْوَلَدُ فَلِإِطْلَاقِ مَا تَلَوْنَا: ﴿وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ﴾ الْآيَةَ“ اور بچے کے باپ پر ان عورتوں کا رزق ہے، الآیہ ”وَلِأَنَّهُ جُزْؤُهُ فَيَكُونُ فِي مَعْنَىٰ نَفْسِهِ“ اب عقلی دلیل ذکر فرما رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ بچے کا دین اگرچہ الگ ہی کیوں نہ ہو پھر بھی اس کا نفقہ باپ کے ذمے ہے۔ کہتے ہیں وجہ یہ کہ یہ بچہ باپ کا جز ہے بھئی، اور جب باپ کا جز ہے تو یہ باپ کی اپنی ذات کے درجے میں ہوا، اور جیسے انسان پر اپنا نفقہ لازم ہوتا ہے کفر کی وجہ سے اس پر کوئی اثر نہیں پڑتا، اسی طرح اس بچے کا نفقہ بھی باپ پر واجب ہو گا کفر کی وجہ سے اس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ جُزْؤُهُ“ اور اس لیے کیونکہ یہ نابالغ جو ہے باپ کا جز ہے ”فَيَكُونُ فِي مَعْنَىٰ نَفْسِهِ“ تو یہ اس کی اپنی ذات کے معنی میں ہے ”وَأَمَّا الزَّوْجَةُ“ اور باقی بیوی جو ہے، بھئی بیوی اس کا بھی نفقہ خاوند پر لازم ہو گا چاہے بیوی کا دین الگ ہی کیوں نہ ہو، وجہ یہ کہ اس عورت کے ساتھ خاوند نے عقدِ نکاح کیا ہے تو عقدِ نکاح کی وجہ سے خاوند خود اپنے اوپر اس کے نفقے کو لازم کر رہا ہے، لہٰذا وہ نفقہ دینا پڑے گا چاہے دین الگ ہی کیوں نہ ہو بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَأَمَّا الزَّوْجَةُ فَلِأَنَّ سَبَبَهُ هُوَ الْعَقْدُ الصَّحِيحُ“ اور باقی بیوی جو ہے یعنی اس کا نفقہ جو ہے ”فَلِأَنَّ سَبَبَهُ هُوَ الْعَقْدُ الصَّحِيحُ“ اس لیے کیونکہ بیوی کے نفقے کا جو سبب ہے وہ صحیح عقد ہوتا ہے ”فَإِنَّهُ بِإِزَاءِ الِاحْتِبَاسِ الثَّابِتِ بِهِ“ اس لیے کیونکہ یہ نفقہ اس احتباس کے مقابلے میں ہوتا ہے ”الثَّابِتِ بِهِ“ جو اس صحیح عقد کی وجہ سے ثابت ہو۔ ایک شخص ایک عورت کے ساتھ صحیح عقد کر لے اور پھر اس عقد کے بعد احتباس بھی پایا جائے تو اب اس عورت کا نفقہ اس خاوند کے ذمے لازم ہے بھئی۔ تو عقد بھی صحیح ہو اور پھر اس عقد کی وجہ سے احتباس بھی پایا جائے پھر نفقہ آئے گا بھئی۔ تو یہی بیان کر رہے ہیں: ”فَإِنَّهُ بِإِزَاءِ الِاحْتِبَاسِ الثَّابِتِ بِهِ“ اس لیے کیونکہ یہ جو بیوی کا نفقہ ہوتا ہے یہ اس احتباس کے مقابلے میں ہوتا ہے جو صحیح عقد کی وجہ سے ثابت ہو ”وَقَدْ صَحَّ الْعَقْدُ بَيْنَ الْمُسْلِمِ وَالْكَافِرَةِ“ اور عقد تو صحیح ہے مسلمان اور کافرہ عورت کے درمیان ”وَتَرَتَّبَ عَلَيْهِ الِاحْتِبَاسُ“ اور اسی عقد پر احتباس بھی مرتب ہو گا، عورت اپنے آپ کو گھر میں روک کر رکھے گی ”فَوَجَبَتِ النَّفَقَةُ“ تو اس کا نفقہ بھی خاوند پر واجب ہو گا۔ ”وَفِي جَمِيعِ مَا ذَكَرْنَا إِنَّمَا تَجِبُ النَّفَقَةُ عَلَى الْأَبِ إِذَا لَمْ يَكُنْ لِلصَّغِيرِ مَالٌ“ یہاں سے صاحبِ ہدایہ ایک قیمتی بات ذکر فرما رہے ہیں، یاد رکھنا بھئی۔ یاد رکھو یہ جو بیوی کا نفقہ خاوند پر واجب ہوتا ہے یہ احتباس کی وجہ سے ہے کہ بیوی نے خاوند کے لیے اپنے آپ کو گھر میں روک کر رکھا ہوا ہے، تو بیوی کا نفقہ ہر حال میں خاوند پر لازم ہو گا چاہے بیوی مالدار ہی کیوں نہ ہو۔ بے شک وہ مالدار ہے لیکن احتباس تو پایا جا رہا ہے اور جب احتباس موجود ہے تو خاوند پر اس کا نفقہ آئے گا بھئی۔ لیکن والدین کا نفقہ ہے یا نابالغ اولاد کا نفقہ ہے، یہ واجب ہوتا ہے حاجت اور ضرورت کی وجہ سے۔ یعنی یہ جب محتاج ہیں، ان کو ضرورت ہے تو پھر ان کا نفقہ باپ پر لازم ہو گا بھئی۔ اگر ان کا اپنا مال موجود ہے، ایک آدمی ہے اس کے والدین مالدار ہیں تو ان کا نفقہ اس آدمی پر نہیں ہے کیونکہ وہ محتاج نہیں ہیں بھئی۔ اسی طرح اگر ایک آدمی ہے اس کی نابالغ اولاد ہے لیکن اس نابالغ اولاد کے پاس مال ہے، مثلاً ان کی ماں کا انتقال ہوا تھا اور ماں کی طرف سے ان کو مال ملا ہے وراثت کے اندر بھئی، تو جب ان کا اپنا مال موجود ہو تو اسی میں سے ان کے نفقے کا انتظام کیا جائے گا، اب باپ پر وہ نفقہ لازم نہیں۔ تو ضابطہ کیا ہوا کہ بیوی کا نفقہ ہر حال میں خاوند کے ذمے لازم کیونکہ احتباس پایا جا رہا ہے، چاہے بیوی مالدار ہو چاہے غریب ہو۔ جبکہ نابالغ اولاد کا نفقہ یا اپنے والدین کا نفقہ یہ صرف حاجت کی وجہ سے انسان پر لازم ہو گا، اگر ان کا اپنا مال موجود ہے پھر اس شخص پر ان کا نفقہ نہیں ہو گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ کہتے ہیں: ”وَفِي جَمِيعِ مَا ذَكَرْنَا“ اور ان تمام صورتوں میں جو ہم نے ذکر کر دیں، یعنی جس میں بچے کا نفقہ باپ پر ہوتا ہے چاہے دین الگ ہو چاہے دین الگ نہ ہو، تو ان تمام صورتوں میں کہتے ہیں: ”وَفِي جَمِيعِ مَا ذَكَرْنَا إِنَّمَا تَجِبُ النَّفَقَةُ عَلَى الْأَبِ إِذَا لَمْ يَكُنْ لِلصَّغِيرِ مَالٌ“ نفقہ باپ پر واجب ہو گا جب صغیر کا کوئی مال نہ ہو ”أَمَّا إِذَا كَانَ“ باقی اگر اس کا مال ہے ”فَالْأَصْلُ أَنَّ نَفَقَةَ الْإِنْسَانِ فِي مَالِ نَفْسِهِ“ تو اصل یہ ہے کہ انسان کا نفقہ اپنے ذاتی مال میں ہوتا ہے ”صَغِيرًا كَانَ أَوْ كَبِيرًا“ چاہے وہ نابالغ ہو یا بالغ ہو۔ تو جب ماں باپ یا اولاد کا اپنا مال موجود ہے تو پھر ان کا نفقہ انہی کے مال میں سے ہو گا۔ بات سمجھ میں آ گئی، حل ہو گیا۔ چلیے بس بھئی ”هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔
160 approved lectures · 80 of 160