آگے سبق دیکھیے بھئی۔
وَإِنْ قَالَ لَهَا: إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا، فَطَلَّقَهَا ثِنْتَيْنِ، وَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا آخَرَ وَدَخَلَ بِهَا ثُمَّ عَادَتْ إِلَى الْأَوَّلِ، فَدَخَلَتِ الدَّارَ؛ طُلِّقَتْ ثَلَاثًا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى، وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: هِيَ طَالِقٌ مَا بَقِيَ مِنَ التَّلْقَاتِ، وَهُوَ قَوْلُ زُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ.
بھئی، گزشتہ سبق میں ہم نے باب الأیمان فی الطلاق شروع کیا تھا اور آپ کو میں نے بتلایا کہ اَیمان جمع ہے یمین کی اور یمین قسم کو کہتے ہیں، لیکن فقہ کے اندر تعلیق کو بھی یمین کہتے ہیں۔ وجہ یہ کہ جس طرح یمین جو ہے یعنی قسم جو ہے کسی بات پر ابھارنے کے لیے یا کسی بات سے روکنے کے لیے کھائی جاتی ہے، اسی طرح تعلیق بھی کسی بات پر ابھارنے کے لیے یا کسی بات سے روکنے کے لیے کی جاتی ہے۔ اور نیز جیسے قسم کے اندر رجوع نہیں ہو سکتا، اسی طرح تعلیق کے اندر بھی رجوع نہیں ہو سکتا۔ تو لہٰذا فقہ کے اندر تعلیق کو بھی یمین کہتے ہیں بھئی۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو ضابطہ بتلایا کہ عند الاحناف تعلیق کے لیے ضروری ہے کہ تعلیق کرنے والا مالک ہو یا اپنی ملکیت کی طرف اس کی نسبت کرے۔ مثلاً خاوند اپنی بیوی سے کہتا ہے: إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ، اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے۔ تو دیکھو، یہاں خاوند ان طلاقوں کا مالک ہے۔ تو تعلیق کے وقت یا مالک ہونا چاہیے یا ملکیت کی طرف نسبت ہونی چاہیے۔ دوسری صورت جس میں ملکیت کی طرف نسبت ہو، چاہے بے شک مالک نہ ہو۔ جیسے کوئی شخص کسی اجنبیہ عورت سے کہتا ہے: إِنْ تَزَوَّجْتُكِ فَأَنْتِ طَالِقٌ، اگر میں نے تجھ سے نکاح کیا تو تجھے طلاق ہے۔ اب اس عورت کی طلاقوں کا مالک یہ شخص نہیں ہے، لیکن یہ اپنی ملکیت کی طرف نسبت کر رہا ہے۔
اور آپ نے پڑھا تھا کہ ملکیت کی طرف نسبت کی جائے یا سببِ ملکیت کی طرف نسبت کی جائے، دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔ مثلاً ایک شخص باندی سے کہتا ہے: إِنْ مَلَكْتُكِ فَأَنْتِ حُرَّةٌ، تو دیکھو، ملکیت کی طرف نسبت کی، یا سببِ ملکیت کی طرف نسبت کی: إِنِ اشْتَرَيْتُكِ فَأَنْتِ حُرَّةٌ، کیونکہ خریدنا کیا ہے؟ سببِ ملک ہے۔ تو یہاں پر بھی دیکھو اس شخص کا اس عورت سے نکاح نہیں ہے اور اس سے کہتا ہے: إِنْ تَزَوَّجْتُكِ فَأَنْتِ حُرَّةٌ، تو وہ نسبت کر رہا ہے کس کی طرف؟ سببِ ملک کی طرف۔ نکاح کرے گا تو وہ طلاقوں کا مالک بن جائے گا تو پھر اس وقت طلاق کا واقع کرنا ٹھیک ہو جائے گا۔
تو یہ قید ضروری ہے بھئی کہ تعلیق کرنے والا مالک ہو یا ملکیت کی طرف نسبت کرے۔ وجہ یہ کہ جزا جو ہے، جزا کے لیے ضروری ہے کہ وہ ظاہر ہو یعنی اس کے ہونے کا یقین ہو۔ جب اس کے ہونے کا یقین ہوگا تو پھر ہی وہ جزا ڈرانے والی بن جائے گی۔ اور اس کے خوف سے وہ شخص جو ہے اس فعل سے رک جائے گا بھئی۔ اور یمین کا لغوی معنی بھی قوت کے ہے بھئی۔ تو دیکھو جزا جب ڈرانے والی ہے معلوم ہوا اس کے اندر قوت ہے۔ تو لہٰذا جزا کو ظاہر ہونا چاہیے یعنی اس کے ہونے کا یقین ہونا چاہیے، اور جزا کا ظاہر ہونا انہی دو صورتوں میں ہوگا کہ وہ یا تو مالک ہو یا ملکیت کی طرف نسبت کرے بھئی۔
اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے الفاظِ شرط کو ذکر فرمایا تھا کہ الفاظِ شرط: إنْ، إذا، إِذَا مَا، كُلٌّ، كُلَّمَا، مَتَى اور مَتَى مَا ہیں بھئی۔ اور بتلایا تھا کہ یہ شرط جو ہے یہ مشتق ہے شَرَط سے اور شَرَط کے معنی ہیں علامت۔ اسی طرح یہ الفاظ جو ہیں یہ بھی فعل پر داخل ہوتے ہیں، تو اس فعل کا وجود وہ علامت ہوتی ہے حانث ہونے کی کہ جب بھی یہ فعل پایا جائے گا، یہ شخص حانث ہو جائے گا۔ اور پھر بتلایا تھا کہ یہ جو یمین ہے یہ تکرار اور عموم کا تقاضا نہیں کرتی۔ لہٰذا ایک مرتبہ بھی وہ شرط پائی گئی تو یمین کھل جائے گی۔ اس لیے کیونکہ یمین نام ہے شرط اور جزا کا، تو اگر شرط ختم ہو گئی اور پوری ہو گئی تب بھی یمین ختم، اور اگر جزا ختم ہوئی تو تب بھی یمین ختم ہو جائے گی۔ بقائے یمین کے لیے ضروری ہے کہ شرط بھی پائی جائے اور جزا بھی پائی جائے۔ تو لہٰذا جب ایک مرتبہ شرط والا فعل پایا گیا تو شرط پوری ہو گئی، جب شرط پوری ہوئی شرط کا وجود ختم، اور جب شرط ختم تو یمین بھی ختم کیونکہ یمین تو شرط اور جزا کا نام تھا بھئی۔
البتہ ان الفاظِ شرط میں سے جو كُلَّمَا ہے وہ تکرار کا تقاضا کرتا ہے، وہ تکرارِ افعال پر دلالت کرتا ہے۔ لہٰذا اگر خاوند اپنی بیوی سے کہے گا: كُلَّمَا دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ، تو جب بھی اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے، تو وہ عورت جتنی مرتبہ جائے گی طلاق واقع ہوتی چلی جائے گی۔ یہاں تک کہ تینوں طلاقیں پوری ہو جائیں تو پھر وہاں طلاقِ مغلظہ ہو جائے گی اور پھر اس خاوند پر یہ عورت حرام ہو جائے گی بھئی۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ تعلیق کے بعد اگر ملکیت زائل ہو جائے تو اس سے بھی تعلیق باطل نہیں ہوتی۔ کیونکہ تعلیق دراصل اس شخص کے ذمے میں باقی ہے، کیا ہے؟ اس شخص کے ذمے میں باقی ہے۔ لہٰذا تعلیق اس نے کر دی، بیوی سے کہا: إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ، اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے۔ اور پھر بعد میں یہ طلاق تو معلق ہے اور خاوند نے ایک اور الگ طلاقِ بائن بیوی کو دے دی، طلاقِ بائن دے دی۔ بعد میں پھر خاوند نے اس عورت سے نکاح کر لیا تو وہ تعلیق ابھی بھی موجود ہے، وہ عورت ابھی تک اس گھر میں نہیں گئی تو تعلیق موجود ہے۔ لہٰذا اب وہ عورت اس گھر کے اندر جائے گی تو اب طلاق واقع ہو جائے گی بھئی۔ ایک طلاق تو خاوند پہلے ہی دے چکا تھا اور دوسری یہ اب تعلیق والی بھی واقع ہو گئی، تو اب خاوند کے پاس زندگی بھر صرف ایک طلاق کا ہی اختیار ہے بھئی۔ تو دیکھو، ملکیت ختم ہونے کے باوجود تعلیق ختم نہیں ہوئی، تعلیق اسی طرح برقرار تھی بھئی۔
اور اگر خاوند نے ایک طلاق معلق کر دی کہ اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے، تو یہ طلاق معلق ہے اور خاوند نے طلاقِ بائن دے دی، تو یہ عورت خاوند سے جدا ہو گئی اور پھر اس نے عدت بھی پوری کر لی۔ عدت پوری کرنے کے بعد اب نکاح پوری طرح ٹوٹ چکا ہے۔ اب اس کے بعد عورت اس گھر کے اندر جاتی ہے تو شرط پوری ہو گئی۔ جب شرط پوری ہوئی تو یمین کھل گئی، البتہ طلاق واقع نہیں ہوگی۔ اس لیے کیونکہ اس وقت یہ عورت طلاق کا محل ہی نہیں ہے، اس کا تو نکاح ٹوٹ چکا ہے۔ اور پھر اس کے بعد اسی شخص سے اس عورت نے دوبارہ نکاح کر لیا تو اب اس گھر کے اندر جائے گی تو طلاق واقع نہیں ہوگی کیونکہ یمین کھل چکی ہے بھئی۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ اگر شرط کے بارے میں اختلاف آیا خاوند اور بیوی کے درمیان تو خاوند کے قول کی تصدیق کی جائے گی اور بیوی کے ذمے بینہ ہوگی۔ کیونکہ بیوی طلاق کا دعویٰ کر رہی ہے کہ طلاق ہو چکی ہے، وہ شرط پائی گئی تھی، اور خاوند اس کا منکر ہے اور منکر کا قول معتبر ہوتا ہے۔ اور اگر شرط ایسی ہے کہ جس کا پتہ صرف عورت ہی سے چل سکتا ہے تو اس صورت میں اگر عورت خبر دیتی ہے شرط کے وجود کی تو پھر اس کی اپنی ذات کے بارے میں تو اس کے قول کو قبول کیا جائے گا لیکن غیر کے بارے میں اس کے قول کو قبول نہیں کیا جائے گا بلکہ غیر کے اندر حقیقتِ شے کو دیکھا جائے گا۔ غیر کے بارے میں حقیقتاً اس شے کا وجود ضروری ہے، وہ جو شرط ہے حقیقتاً اس کا وجود ضروری ہے اور اگر اس کا پتہ نہیں چل سکتا تو پھر جزا بھی واقع نہیں ہوگی بھئی۔
اس کے بعد پھر صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ خاوند نے اپنی بیوی سے کہا جبکہ بیوی حاملہ ہے کہ اگر تو نے لڑکے کو جنم دیا تو تجھے ایک طلاق ہے اور اگر تو نے لڑکی کو جنم دیا تو تجھے دو طلاقیں ہیں، اور عورت نے ایک لڑکے اور لڑکی دونوں کو جنم دیا۔ اور پھر یہ بھی معلوم نہیں کہ ان دونوں میں سے پہلا کون سا ہے۔ اگر پہلے بچے کا پتہ ہو کہ وہ لڑکا ہے پھر تو ایک طلاق واقع ہوگی، اور اگر پہلے بچے کا پتہ ہو کہ یہ لڑکی ہے تو پھر اس صورت میں دو طلاقیں واقع ہوں گی۔ لیکن یہاں تو پتہ ہی نہیں ہے، لہٰذا اس صورت میں قضاءً ایک طلاق کا فیصلہ کیا جائے گا، البتہ احتیاط اس میں ہے کہ خاوند دو طلاقیں ہی سمجھے کہ دو طلاقیں ہو چکی ہیں۔ وجہ یہ کہ اگر لڑکا پہلے ہوگا تو ایک طلاق ہو جائے گی اور جیسے ہی لڑکا پیدا ہوا ایک طلاق ہو گئی، ابھی لڑکی پیدا نہیں ہوئی تو عورت حاملہ ہے اور اس پر ایک طلاق آ گئی تو حاملہ پر طلاق واقع ہوئی اور حاملہ کی عدت وضعِ حمل ہے، لہٰذا جیسے ہی اب لڑکی پیدا ہوگی ساتھ ہی عورت کی عدت پوری ہو جائے گی۔ لہٰذا وہ جو خاوند نے لڑکی کی پیدائش پر دو طلاقیں معلق کی تھیں وہ والی واقع نہیں ہوں گی اس لیے کیونکہ اس وقت عدت پوری ہو رہی ہے اور عدت جب پوری ہو رہی ہے تو طلاق واقع نہیں ہو سکتی۔ تو لہٰذا لڑکا پہلے ہوا تو ایک طلاق یقینی ہے لہٰذا ایک ہو گئی، اور لڑکی کے پیدا ہوتے ہی عدت بھی پوری ہو گئی، عورت بائنہ ہو گئی۔ لیکن اگر یہ فرض کیا جائے کہ لڑکی پہلے پیدا ہوئی ہے تو لڑکی کے پیدا ہوتے ہی دو طلاقیں ہو گئیں اور ابھی لڑکا پیدا نہیں ہوا تو عورت حاملہ ہے تو حاملہ کو دو طلاقیں پڑ گئیں، اور حاملہ کی عدت تو وضعِ حمل ہے تو جیسے ہی لڑکا پیدا ہوگا عورت کی عدت پوری ہو جائے گی لہٰذا اب وہ جو ایک طلاق جو لڑکے کی پیدائش سے معلق تھی وہ واقع نہیں ہوگی بھئی۔ تو لہٰذا اگر لڑکے کو پہلے فرض کیا جائے تو ایک طلاق بنتی ہے، لڑکی کو پہلے فرض کیا جائے تو دو طلاقیں بنتی ہیں، تو ایک کا تو وجود یقینی ہو گیا۔ لڑکی کی صورت میں دو آ رہی ہیں، ان دو میں بھی ایک تو داخل ہے، تو ایک طلاق کا ہونا تو یقینی ہے اور دوسری طلاق کے ہونے میں شک آ گیا اور شک کی وجہ سے طلاق کو واقع قرار نہیں دیا جا سکتا، لہٰذا قاضی ایک ہی کا فیصلہ کرے گا۔ لیکن احتیاط اس میں ہے کہ خاوند دو ہی سمجھے اور اب اگر خاوند دوبارہ اس عورت سے نکاح کر لیتا ہے تو خاوند اب یہی سمجھے کہ اب مجھے تمام زندگی ایک ہی طلاق کا حق ہے بھئی۔
اور پھر آخر میں صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا تھا کہ اگر خاوند نے دو چیزوں کی شرط لگا دی اور ان کے ساتھ طلاق کو معلق کر دیا، خاوند بیوی سے کہتا ہے کہ اگر تو نے ابو عمرو اور ابو یوسف سے بات کی تو تجھے طلاق ہے۔ تو یاد رکھو، ہمارے نزدیک دوسری چیز کا ملکیت کے اندر ہونا ضروری ہے۔ پہلی چیز کا ملکیت میں ہونا ضروری نہیں کیونکہ طلاق کو معلق کیا دو چیزوں سے اور دونوں سے جب بات پائی جائے گی تو پھر ہی طلاق واقع ہوگی۔ اور دونوں سے بات کب ہوگی؟ جب دوسرے سے بات کر لے۔ پہلے سے تو کر لی، ابھی بھی طلاق واقع نہیں، دوسرے سے جب بات کرے گی تو دونوں سے بات ہو گئی لہٰذا طلاق واقع ہو جائے گی۔ معلوم ہوا دوسرے سے بات کرتے ہوئے طلاق واقع ہوگی اور اس وقت ملکیت ضروری ہے، پہلے کے ساتھ بات کرتے ہوئے چاہے ملکیت ہو، چاہے ملکیت نہ ہو۔ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، جب دو چیزوں کے ساتھ طلاق معلق کی ہے تو دونوں چیزوں کا ملکیت کے اندر ہونا ضروری ہے، یہ دونوں شےِ واحد کے اندر ہیں۔ وہ اول کو قیاس کرتے ہیں ثانی پر کہ جیسے ثانی کے اندر ملکیت ضروری ہے، اسی طرح اول جو ہے اس کے ساتھ بھی تو طلاق کو معلق کیا ہے لہٰذا اس کا بھی ملکیت میں ہونا ضروری ہے بھئی۔ جبکہ ہم جواب دیتے ہیں کہ دوسری چیز کا اعتبار ہوگا، دوسرے شخص سے جب بات کرے گی تو تب طلاق واقع ہوگی بھئی۔ اس لیے کیونکہ یہ تعلیق کا تو صحیح ہونا یہ تو متکلم کی اہلیت سے ہوتا ہے۔ تعلیق کیا ہوتی ہے؟ کلام کرنے والے کے ذمہ میں باقی رہتی ہے لہٰذا اس میں اہلیت ہونی چاہیے، وہ عاقل بالغ ہونا چاہیے، مجنون اور بچہ نہیں ہونا چاہیے بھئی۔ کیونکہ مجنون اور بچے کے قول کا کوئی اعتبار نہیں۔ تو عاقل اور بالغ ہو جس کے قول کا اعتبار ہو، وہ جب تعلیق کرے گا تو وہ تعلیق اس شخص کے ذمے میں آ جائے گی۔ لیکن ہم ملکیت کی بھی شرط لگاتے ہیں، ملکیت کی بھی شرط لگاتے ہیں تاکہ جزا غالب الوجود ہو جائے، جزا کے ہونے کا یقین ہو جائے، کس طرح؟ کہ اس وقت مالک ہے تو استصحابِ حال سے یقیناً جب جزا واقع ہوگی اس وقت بھی مالک ہوگا بھئی۔ استصحابِ حال کسے کہتے ہیں؟ إِبْقَاءُ مَا كَانَ عَلَى مَا كَانَ، ایک چیز جس حالت پر ہے اسی کو اسی پر برقرار رکھنا یعنی وہی حکم دے دینا جو اس کا ماضی میں تھا۔ ماضی میں جو حکم تھا وہی حکم حال کے اندر بھی دے دینا اس کو کہتے ہیں استصحابِ حال بھئی۔ تو ہم شرط لگاتے ہیں کہ تعلیق کرتے ہوئے مالک ہونا چاہیے تاکہ جزا کے واقع ہونے کا یقین ہو اور اس جزا مانع بنے اس فعل کے کرنے سے۔ تو لہٰذا یمین صحیح ہو جائے گی اور نیز جب شرط پوری ہو اس وقت بھی ملکیت ضروری ہے تاکہ جزا واقع ہو سکے کیونکہ اگر اس وقت ملکیت نہیں ہے تو محل نہ ہونے کی وجہ سے جزا لغو ہو جائے گی بھئی۔ تو لہٰذا تعلیق اور وجودِ شرط کے درمیان یہ بقائے یمین کا زمانہ ہے، اور بقائے یمین کے اندر ملکیت ضروری نہیں ہے اس لیے کیونکہ تعلیق جو ہے وہ اس شخص کے ذمے میں ہے بھئی اور وہ شخص تو موجود ہے تو تعلیق بھی موجود ہے بھئی۔ تو لہٰذا جب شرط پوری ہوگی اس وقت ملکیت کا ہونا ضروری ہے اور شرط تو پوری ہو رہی ہے جب دوسرے شخص سے وہ عورت بات کرے گی۔ تو اس وقت ملکیت کا ہونا ضروری ہے جبکہ پہلے کے وقت ملکیت کا ہونا ضروری نہیں ہے بھئی۔
اب آئیے آج کے سبق پر:
وَإِنْ قَالَ لَهَا: إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا، فَطَلَّقَهَا ثِنْتَيْنِ، وَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا آخَرَ وَدَخَلَ بِهَا ثُمَّ عَادَتْ إِلَى الْأَوَّلِ، فَدَخَلَتِ الدَّارَ؛ طُلِّقَتْ ثَلَاثًا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى.
بھئی، اس مسئلے سے پہلے ایک دو باتیں اچھی طرح سمجھ لیں۔ یاد رکھو، جب ایک شخص اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے، پھر وہ عورت بعد میں کسی اور شخص سے نکاح کر لیتی ہے، پھر وہ شخص اس کو چھوڑ دیتا ہے یا اس کا انتقال ہو جاتا ہے اور پھر یہ پہلا خاوند دوبارہ اس عورت سے نکاح کرتا ہے، تو اس صورت میں یاد رکھو، شیخین رحمہما اللہ کا مذہب یہ ہے کہ یہ جو دوسرا خاوند درمیان میں آ گیا اس نے پہلے خاوند کی تمام طلاقوں کو گرا دیا اور پہلا خاوند اب جب دوبارہ نکاح کرے گا تو دوبارہ تین طلاقوں کا مالک بن جائے گا۔ پہلی مرتبہ چاہے اس نے ایک طلاق دی تھی اور دو باقی تھیں، لیکن درمیان میں دوسرا خاوند آیا تو اس نے وہ ایک بھی گرا دی۔ اب جب یہ پہلا خاوند دوبارہ نکاح کرے گا تو تین ہی طلاقوں کا مالک ہوگا۔ تو پہلے خاوند نے چاہے پہلے ایک طلاق دی تھی یا دو دی تھیں یا تین دی تھیں، درمیان میں جب دوسرا خاوند آیا اس نے کیا کیا؟ ان سب کو گرا دیا، اور جب پہلا خاوند دوبارہ اس عورت سے نکاح کرے گا تو دوبارہ تین طلاقوں کا مالک ہوگا۔
جبکہ امام محمد اور امام زفر رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ جو دوسرا خاوند ہے یہ پہلے خاوند کی تین طلاقوں کو تو گرا دیتا ہے، لیکن تین سے کم ہوں تو ان کو نہیں گراتا۔ اگر پہلے خاوند نے تین طلاقیں دی تھیں تو یہ دوسرا خاوند ان تین کو گرا دے گا اور پہلا خاوند جب اس سے دوبارہ نکاح کرے گا تو دوبارہ تین کا مالک ہو جائے گا۔ لیکن اگر پہلے خاوند نے پہلے ایک یا دو طلاقیں دی تھیں تو یہ دوسرا خاوند ان ایک یا دو کو نہیں گرائے گا، اب جب پہلا خاوند دوبارہ نکاح کرے گا تو وہ مابقیہ طلاقوں کا مالک ہوگا۔ اگر پہلے ایک دی تھی تو اب یہ دو کا مالک ہے تمام عمر، اور اگر پہلے اس نے دو دی تھیں تو اب یہ ایک طلاق کا مالک ہے تمام عمر۔ تو دوسرا خاوند پہلے خاوند کی تین طلاقوں کو تو بالاتفاق گرا دیتا ہے ہمارے تمام ائمہ کے نزدیک۔ اگر پہلے خاوند نے تین طلاقیں دی تھیں اور پھر دوسرا خاوند بیچ میں آیا تو وہ تینوں گر گئیں، اب جب دوبارہ یہ عورت پہلے خاوند کے پاس آئے گی تو یہ دوبارہ تین طلاقوں کا مالک ہوگا۔ لیکن اگر پہلے خاوند نے ایک یا دو طلاقیں دی ہیں تو پھر اختلاف ہے شیخین کا اور امام زفر اور امام محمد کا۔ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ دوسرا خاوند پہلے خاوند کی ایک یا دو طلاقوں کو بھی گرا دے گا اور اب یہ پہلے خاوند کے پاس آئے گی تو وہ دوبارہ تین طلاقوں کا مالک ہوگا۔ جبکہ امام محمد اور امام زفر رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ دوسرا خاوند پہلے خاوند کی ایک یا دو طلاقوں کو یعنی تین سے جو کم طلاقیں ہیں ان کو ساقط نہیں کرتا، ان کو گراتا نہیں، تو اب اگر دوبارہ پہلے خاوند کے پاس آئے گی تو وہ صرف مابقیہ طلاقوں کا مالک ہوگا۔
یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اب صورتِ مسئلہ یہ ہے: ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا: إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا، اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے تین طلاقیں ہیں۔ دیکھو، خاوند نے تینوں طلاقوں کو معلق کر دیا۔ لیکن ابھی وہ عورت اس گھر میں نہیں گئی تھی، وہ تین طلاقیں معلق ہیں۔ اس سے پہلے ہی خاوند نے خاوند نے مثلاً ایک یا دو طلاقیں اس عورت کو دے دیں بھئی، یعنی تین سے کم طلاقیں دی ہیں ایک یا دو، اور پھر اس عورت نے عدت گزاری اور یہ بائنہ ہو گئی۔ پھر اس نے کسی اور شخص سے نکاح کر لیا، اس نے اس کے ساتھ صحبت بھی کی اور پھر اس شخص کا انتقال ہوا یا اس نے اس کو طلاق دے دی۔ اب پھر یہ عورت پہلے خاوند کے پاس آ گئی، اس نے اس سے نکاح کر لیا۔ تو پہلے اس خاوند نے کتنی طلاقیں دی تھیں؟ ایک یا دو۔ لیکن درمیان میں دوسرا خاوند آ گیا، اور شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک دوسرا خاوند پہلے خاوند کی تمام طلاقوں کو گرا دیتا ہے چاہے ایک ہو، دو ہو، یا تین ہوں، لہٰذا اب یہ خاوند پھر تین طلاقوں کا مالک بن گیا۔ جبکہ امام زفر اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ اب مابقیہ طلاقوں کا مالک ہے اور ابھی بھی وہ تعلیق موجود ہے کیونکہ وہ عورت ابھی تک اس گھر میں نہیں گئی۔ تو اب اگر اس گھر میں جائے گی تو شیخین فرماتے ہیں کہ اب یہ خاوند تین طلاقوں کا مالک ہے لہٰذا اب عورت گھر میں جائے گی تو اب پھر تین پوری واقع ہو جائیں گی، تین طلاقیں پوری واقع ہو جائیں گی اور حرمتِ مغلظہ آ جائے گی بھئی۔ جبکہ امام محمد اور امام زفر رحمہما اللہ بھی فرماتے ہیں کہ تعلیق موجود ہے، یہ عورت جب اس گھر میں جائے گی تو جتنی طلاقوں کا خاوند مالک ہے، اور خاوند کتنی طلاقوں کا مالک تھا؟ مابقیہ کا، لہٰذا وہ طلاقیں واقع ہو جائیں گی اور تین پوری ہو گئیں لہٰذا اب پھر حرمتِ غلیظہ آ گئی۔ تو دونوں فریقین کے نزدیک حرمتِ مغلظہ آئے گی، البتہ اس گھر کے اندر جانے سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی صرف اس میں اختلاف ہے۔ شیخین فرماتے ہیں تین کا مالک اب بن چکا ہے خاوند لہٰذا تینوں واقع ہو جائیں گی، اور امام زفر اور امام محمد فرماتے ہیں کہ تین کا اب یہ مالک ہی نہیں ہے تو جو باقی بچی ہوئی ہیں وہی واقع ہو جائیں گی اور اب تین پوری ہو گئیں حرمتِ مغلظہ آ گئی بھئی۔
تو کہتے ہیں:
وَإِنْ قَالَ لَهَا، اور اگر خاوند نے اپنی بیوی سے کہا: إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا، اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے تین طلاقیں ہیں، فَطَلَّقَهَا ثِنْتَيْنِ، تو پھر خاوند نے اس کو دو طلاقیں دے دیں، وہ تین معلق ہیں اور دو اور دے دیں خاوند نے، وہ معلق اسی طرح ہیں۔ تو خاوند نے دو طلاقیں دے دیں، وَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا آخَرَ، پھر اس عورت نے کسی اور خاوند سے نکاح کر لیا، وَدَخَلَ بِهَا، اور اس خاوند نے اس سے صحبت بھی کر لی، ثُمَّ عَادَتْ إِلَى الْأَوَّلِ، پھر یہ عورت لوٹ آئی پہلے خاوند کے پاس، فَدَخَلَتِ الدَّارَ، تو اب یہ عورت اس گھر میں داخل ہو گئی، طُلِّقَتْ ثَلَاثًا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى، تو شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک اب اس کو تین طلاقیں ہو جائیں گی کیونکہ اب خاوند پھر تین کا مالک تھا تو تینوں واقع ہو جائیں گی، وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: هِيَ طَالِقٌ مَا بَقِيَ مِنَ التَّلْقَاتِ، اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اب اس کو وہ جو باقی طلاقیں ہیں وہ واقع ہو جائیں گی، وَهُوَ قَوْلُ زُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ، اور یہی قول ہے امام زفر رحمہ اللہ کا بھی۔
وَأَصْلُهُ، اور اس اختلاف کی اصل یہ ہے، أَنَّ الزَّوْجَ الثَّانِيَ يَهْدِمُ مَا دُونَ الثَّلَاثِ عِنْدَهُمَا، کہ دوسرا خاوند جو ہے وہ گرا دیتا ہے مَا دُونَ الثَّلَاثِ تین سے کم طلاقوں کو بھی عِنْدَهُمَا شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک، تین سے کم طلاقیں ہوں ان کو بھی دوسرا خاوند گرا دیتا ہے، فَتَعُودُ إِلَيْهِ بِالثَّلَاثِ، تو یہ عورت لوٹ آئے گی پہلے خاوند کے پاس تین طلاقوں کے ساتھ، وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ وَزُفَرَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى لَا يَهْدِمُ مَا دُونَ الثَّلَاثِ، جبکہ امام محمد اور امام زفر رحمہما اللہ کے نزدیک دوسرا خاوند جو ہے تین سے کم جو طلاقیں ہیں ان کو نہیں گراتا، فَتَعُودُ إِلَيْهِ بِمَا بَقِيَ، لہٰذا یہ عورت لوٹ آئے گی پہلے خاوند کے پاس مابقیہ طلاقوں کے ساتھ، وَسَنُبَيِّنُ مِنْ بَعْدُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، اور عنقریب ہم اس کو بعد میں بیان کریں گے ان شاء اللہ تعالیٰ۔ صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں ہم بعد میں اس مسئلے کی تفصیل بیان کریں گے آگے چل کر، وہ بتلائیں گے بھئی۔
آگے دیکھیے:
وَإِنْ قَالَ لَهَا: إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا، اب پھر وہی صورت ہے، خاوند نے بیوی سے کہا: إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا، اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے تین طلاقیں ہیں۔ خاوند نے تینوں طلاقوں کو معلق کر دیا ہے اور وہ معلق طلاقیں اسی طرح ہیں۔ اسی دوران خاوند نے تین منجز طلاقیں دے دیں، عورت کو تین منجز طلاقیں دے دیں یعنی فوری واقع بھی کر دیں، تو وہ تعلیق اسی طرح ہے اور خاوند نے تین طلاقیں دے دیں۔ جب تین طلاقیں دے دیں، پھر اس عورت نے کسی اور خاوند سے نکاح کیا اور بعد میں پھر لوٹ آئی پہلے خاوند سے آ کر اس نے نکاح کیا ہے، تو اس صورت میں اب وہ عورت اس گھر میں جائے گی تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔
بھئی، سوال پیدا ہوتا ہے: پچھلے مسئلے میں آپ نے ہمیں بتایا تھا کہ تعلیق اسی طرح ہے، اس گھر میں جائے گی تو تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی، اور اب آپ کہہ رہے ہیں کہ وہ اس گھر میں جائے گی تو طلاق واقع نہیں؟ تو جواب یہ ہے کہ پچھلے مسئلے میں خاوند نے پہلی مرتبہ صرف ایک یا دو طلاقیں دی تھیں، اور خاوند کل کتنی طلاقوں کا مالک ہوتا ہے؟ تین کا مالک ہوتا ہے، تو وہاں ابھی بھی ایک کا احتمال تھا، ایک کا احتمال تھا کہ خاوند دوبارہ اس عورت سے نکاح کر لیتا تو ایک طلاق کا مالک ہوتا، تو وہاں پر وہ جو پرانی ملکیت تھی خاوند کی وہ پوری طرح ختم نہیں ہوئی تھی۔ خاوند کی ملکیت پوری طرح ختم نہیں ہوئی تھی، اس نے صرف ایک یا دو طلاقیں دی تھیں وہاں اس نے تین طلاقیں نہیں دی تھیں۔ جبکہ یہاں پر خاوند تین طلاقیں دے رہا ہے۔ جب خاوند نے تین طلاقیں دے دیں تو خاوند تو مالک ہی تین کا تھا، ملکیت ہی ختم ہو گئی خاوند کی پورے طور پر۔ جب پورے طور پر ملکیت ختم ہو گئی اور اس نے تعلیق کیا کی ہوئی ہے؟ إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا، تو یہ فَأَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا یہ جزا ہی ختم ہو گئی۔ خاوند بھی کتنے کا مالک تھا؟ تین کا، اور اس نے اب تعلیق کے بعد کتنی طلاقیں دے دی ہیں؟ تین ہی طلاقیں دے دی ہیں۔ جب تین طلاقیں دے دی ہیں تو وہ ساری طلاقیں تو ختم ہو گئیں خاوند کی، تو أَنْتِ طَالِقٌ کا محل ہی باقی نہ رہا۔ اب یہ طلاق کس پہ واقع ہوگی بھئی؟ وہ جو تعلیق کے اندر اس نے کہا تھا کہ اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے تین طلاقیں ہیں، اب یہ تین طلاقیں کس پر واقع ہوں گی؟ عورت کو تو تین طلاقیں اس نے پہلے ہی دے دیں، پوری طرح ملکیت اس پر سے ختم کر دیں۔ تو اب یہ یہاں پر جو جزا تھی اس کا محل ہی باقی نہ رہا۔ جب جزا کا محل باقی نہ رہا تو جزا ختم ہو گئی۔ اور جب جزا ختم ہو گئی تو یمین بھی ختم ہو گئی کیونکہ یمین کس چیز کا نام ہے؟ شرط اور جزا کا۔ شرط پوری ہو جائے تب بھی یمین ختم ہو جاتی ہے اور جزا ختم ہو جائے تب بھی یمین کھل جاتی ہے اور ختم ہو جاتی ہے۔ تو یہاں پر بھی خاوند تین طلاقوں کا مالک تھا، اس نے تعلیق کی ہوئی تھی تعلیق ٹھیک تھی، لیکن جب اس نے تین طلاقیں دے دیں تو اب خاوند کی ملکیت پورے طور پر اس عورت سے ختم ہو گئی تو وہ اب أَنْتِ طَالِقٌ کا محل ہی باقی نہ رہا تو وہ جزا لغو ہو گئی۔
تو کہتے ہیں:
وَإِنْ قَالَ لَهَا: إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا، اور اگر خاوند نے اپنی بیوی سے کہا: اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے تین طلاقیں ہیں، تین طلاقوں کو معلق کر دیا، ثُمَّ قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا، پھر خاوند نے اس سے کہا: تجھے تین طلاقیں ہیں، یعنی منجز طلاق واقع کر دی بھئی، اسی وقت طلاق دے بھی دی تین طلاقیں دے دیں، فَتَزَوَّجَتْ غَيْرَهُ، پھر اس عورت نے کسی اور خاوند سے نکاح کر لیا، وَدَخَلَ بِهَا، اور اس دوسرے خاوند نے اس سے صحبت کر لی، ثُمَّ رَجَعَتْ إِلَى الْأَوَّلِ، پھر یہ عورت پہلے خاوند کے پاس لوٹ آئی، فَدَخَلَتِ الدَّارَ، پھر یہ عورت اس گھر میں گئی، لَمْ يَقَعْ شَيْءٌ، تو کچھ بھی واقع نہیں ہوگا، وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ: يَقَعُ الثَّلَاثُ، اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی، تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی کیونکہ تعلیق اپنی جگہ پر ابھی بھی موجود ہے اور خاوند اب پھر تین طلاقوں کا مالک ہے، اور تو لہٰذا جیسے ہی عورت اس گھر میں جائے گی یہ والی تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔
تو کہتے ہیں: وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ: يَقَعُ الثَّلَاثُ، اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی، لِأَنَّ الْجَزَاءَ ثَلَاثٌ مُطْلَقٌ لِإِطْلَاقِ اللَّفْظِ، اس لیے کیونکہ جزا جو ہے ثَلَاثٌ مُطْلَقٌ، مطلق تین طلاقیں ہیں لِإِطْلَاقِ اللَّفْظِ لفظ کے مطلق ہونے کی وجہ سے۔ ہم نے تو کہا تھا کہ إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا، یہ جو جزا ہے اس سے موجودہ ملکیت کی تین طلاقیں مراد ہیں جن کا خاوند اس وقت مالک ہے جس وقت تعلیق کر رہا ہے۔ توجہ ہے؟ پھر سنو۔ خاوند نے بیوی سے کیا کہا؟ تعلیق کس طرح کی تھی؟ اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے تین طلاقیں ہیں۔ ہم کہتے ہیں یہ جو تین طلاقیں معلق کر رہا ہے یہ اسی ملکیت کی تین طلاقیں معلق کر رہا ہے، اگلے زمانوں والی تین طلاقیں نہیں کہ ہو سکتا ہے یہ طلاقیں دے دے پھر وہ کسی اور خاوند سے نکاح کر لے اور پھر یہ پہلے خاوند کے پاس آئے اور یہ دوبارہ تین کا مالک بنے گا۔ تو اگلی تین کا بھی احتمال تو ہے لیکن وہ صرف احتمال ہی ہے پتہ نہیں وہ ہوتا ہے یا نہیں، تو اس نے جو کہا ہے نا: إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا، یہ اس موجودہ ملکیت کی تین طلاقوں کو معلق کر رہا ہے۔ کون سی ملکیت؟ موجودہ ملکیت۔ اور جب خاوند نے اس تعلیق کے بعد پھر تینوں طلاقیں دے دیں تو موجودہ ملکیت تو بالکل ختم ہو گئی، لہٰذا وہ یمین بھی کیا ہو گئی؟ ختم ہو گئی۔ پھر جب درمیان میں دوسرا خاوند آیا اور پھر پہلے خاوند نے اس عورت سے نکاح کر لیا، تو اب جو تین طلاقیں آئی ہیں یہ نئی ملکیت ہے، اس تعلیق کا تعلق پچھلی ملکیت سے تھا اس ملکیت سے نہیں ہے، اور پچھلی ملکیت تو پورے طور پر ختم ہو گئی تھی۔
امام زفر فرماتے ہیں: نہیں، خاوند نے کہیں یہ ذکر نہیں کیا کہ یہ اس ملکیت کی تین طلاقیں ہیں، خاوند نے صرف اتنا کہا ہے: إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا، تجھے تین طلاقیں ہیں، تو یہ تین طلاقیں مطلق ہیں اس میں یہ کہیں قید نہیں ہے کہ اسی ملکیت والی، یہ مطلق ہیں، اور المطلق یجری علی اطلاقہ، وہ اپنے اطلاق پر جاری ہوگا، جن طلاقوں کا بھی خاوند مالک ہوا شرط پائی گئی تو یہ طلاقیں واقع ہو جائیں گی، اسی ملکیت کی تین طلاقوں کا ہونا ضروری نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الْجَزَاءَ ثَلَاثٌ مُطْلَقٌ، اس لیے کیونکہ خاوند نے جو جزا ذکر کی ہے ثَلَاثٌ مُطْلَقٌ، جزا کیا ذکر کی؟ فَأَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا، یہ جو جزا ہے، یہ جو جزا ذکر کی ہے ثَلَاثٌ مُطْلَقٌ وہ مطلق تین طلاقیں ہیں، لِإِطْلَاقِ اللَّفْظِ لفظ کے مطلق ہونے کی وجہ سے، وہاں کہیں یہ قید نہیں کہ اسی ملکیت والی تین طلاقیں مراد ہیں، وَقَدْ بَقِيَ احْتِمَالُ وُقُوعِهَا، اور تحقیق ان تین طلاقوں کے واقع ہونے کا احتمال ابھی بھی باقی ہے، وہ جو خاوند نے تین معلق کی ہیں ان کے واقع ہونے کا احتمال ابھی بھی باقی ہے کہ یہ ہو سکتا ہے کسی اور خاوند سے نکاح کرتی ہے پھر وہ طلاق دیتا ہے پھر پہلے خاوند سے نکاح کر لیتی ہے تو اس صورت میں دیکھو وہ تین واقع ہو سکتی ہیں۔ تو کہتے ہیں: وَقَدْ بَقِيَ احْتِمَالُ وُقُوعِهَا، اور یہ جو تین معلق طلاقیں ہیں ان کے واقع ہونے کا احتمال ابھی بھی باقی ہے، فَيَبْقَى الْيَمِينُ، تو یمین باقی رہے گی، ہمارے نزدیک تو یمین ہی ختم ہو گئی کیونکہ وہ ملکیت پورے طور پر ختم ہو گئی۔ تو کہتے ہیں: فَيَبْقَى الْيَمِينُ، تو یمین باقی رہے گی کیونکہ جزا باقی ہے، وَلَنَا، اور ہماری دلیل یہ ہے، أَنَّ الْجَزَاءَ طَلَقَاتُ هَذَا الْمِلْكِ، کہ جزا جو ہے وہ اس ملکیت کی طلاقیں ہیں، لِأَنَّهَا هِيَ الْمَانِعَةُ، اس لیے کیونکہ یہی روکنے والی ہیں، یہی تین طلاقیں روکنے والی ہیں۔ بھئی دیکھو نا، آپ کو بتلایا تھا یمین کس لیے کھائی جاتی ہے؟ تعلیق کس لیے کی جاتی ہے؟ کسی چیز پر ابھارنے کے لیے یا کسی چیز سے روکنے کے لیے، اور یہاں خاوند کہہ رہا ہے اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے تین طلاقیں ہیں معلوم ہوا خاوند روکنا چاہتا ہے۔ خاوند روکنا چاہتا ہے اور عورت رکے گی اسی ملکیت کی تین طلاقوں کے خوف سے، اگلی ملکیت والوں کے خوف سے تو نہیں رکے گی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا اسی ملکیت کی تین طلاقیں ہیں جو اس عورت کو روکیں گی اس گھر میں جانے سے کہ اگر تو اس گھر میں گئی تو یہ تینوں تجھ پر واقع ہو جائیں گی۔
تو کہتے ہیں: کہتے ہیں وَلَنَا، ہماری دلیل یہ ہے، أَنَّ الْجَزَاءَ طَلَقَاتُ هَذَا الْمِلْكِ، کہ جزا جو ہے اسی ملکیت کی طلاقیں ہیں، لِأَنَّهَا هِيَ الْمَانِعَةُ، کیونکہ یہی تین طلاقیں اس عورت کو روکنے والی ہیں اس گھر میں جانے سے، لِأَنَّ الظَّاهِرَ عَدَمُ مَا يَحْدُثُ، اس لیے کیونکہ ظاہر یہ ہے عَدَمُ مَا يَحْدُثُ وہ چیز جو پیش آئے گی اس کا عدم، مَا يَحْدُثُ وہ چیز جو پیش آئے، ظاہر کیا ہے؟ عَدَمُ مَا يَحْدُثُ، وہ چیز جو پیش آئے گی اس کا عدم ہے یعنی ظاہر یہی ہے کہ دوبارہ خاوند تین طلاقوں کا مالک نہیں ہوگا۔ کیونکہ جب خاوند نے تین دے دی ہیں تو اب جب عورت دوسری جگہ نکاح کر لے گی اور پھر اس خاوند کے پاس آئے تو ایسا بہت کم ہوتا ہے بھئی، ایسا بہت کم ہوتا ہے تو فی الحال اس کا ہونا صرف ایک احتمال ہی ہے، فی الحال تو وہ موجود نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الظَّاهِرَ عَدَمُ مَا يَحْدُثُ، اس لیے کیونکہ ظاہر جو ہے وہ عدم ہے اس کا جو پیش آئے گا، وہ معدوم ہے اس کا وجود نہیں ہے جو پیش آئے گا، وَالْيَمِينُ تُعْقَدُ لِلْمَنْعِ أَوِ الْحَمْلِ، اور یمین جو ہے تُعْقَدُ اس کو منعقد کیا جاتا ہے لِلْمَنْعِ کسی چیز سے روکنے کے لیے أَوِ الْحَمْلِ یا کسی چیز پر ابھارنے کے لیے، وَإِذَا كَانَ الْجَزَاءُ مَا ذَكَرْنَاهُ، اور جب جزا وہ چیز ہے جس کو ہم نے ذکر کر دیا، کیا جزا ہے ہم نے کیا کہا؟ اسی ملکیت کی تین طلاقیں ہیں جزا، فَأَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا سے کون سی تین طلاقیں ہیں؟ مطلق تین طلاقیں نہیں، اسی ملکیت کی تین طلاقیں ہیں۔ تو کہتے ہیں: وَإِذَا كَانَ الْجَزَاءُ مَا ذَكَرْنَاهُ، اور جب جزا وہ چیز ہے جس کو ہم نے ذکر کر دیا، وَقَدْ فَاتَ بِتَنْجِيزِ الثَّلَاثِ، اور یہ جزا یہ تو فوت ہو گئی، یہ تو ختم ہو گئی بِتَنْجِيزِ الثَّلَاثِ تین طلاقوں کی تنجیز سے، جب خاوند نے تین منجز طلاقیں دے دیں تو اب عورت تو محل ہی نہ رہا، تین ہی کا تو وہ مالک تھا ساری ختم ہو گئیں تو اب أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا کا محل ہی باقی نہ رہا۔
تو کہتے ہیں: وَقَدْ فَاتَ بِتَنْجِيزِ الثَّلَاثِ، اور یہ جزا تو فوت ہو گئی تین منجز طلاقوں کی وجہ سے، الْمُبْطِلِ لِلْمَحَلِّيَّةِ، وہ تین طلاقیں جو باطل کرنے والی ہیں اس عورت کے محل ہونے کو۔ جب تین طلاقیں دے دیں اب عورت محلِّ طلاق ہی نہ رہی، اب کس پر طلاقیں واقع کرو گے اور کون سی واقع کرو گے؟ طلاقوں کا تو محل ہی ختم ہو گیا۔ دوبارہ ترجمہ دیکھ لیجیے: کہتے ہیں: وَإِذَا كَانَ الْجَزَاءُ مَا ذَكَرْنَاهُ، اور جب جزا وہ چیز ہے جو ہم نے ذکر کر دی یعنی اسی ملکیت کی طلاقیں، وَقَدْ فَاتَ بِتَنْجِيزِ الثَّلَاثِ الْمُبْطِلِ لِلْمَحَلِّيَّةِ، اور تحقیق یہ جزا تو فوت ہو گئی ختم ہو گئی ان تین طلاقوں کے منجز ہونے کی وجہ سے جو باطل کرنے والی ہیں محل ہونے کو، اب وہ عورت محلِّ طلاق ہی نہ رہی، فَلَا تَبْقَى الْيَمِينُ، تو یمین باقی نہیں رہے گی کیونکہ یمین تو کس سے باقی رہتی ہے؟ شرط اور جزا سے، جب جزا فوت ہو گئی تو یمین بھی ختم ہو گئی۔ تو کہتے ہیں: فَلَا تَبْقَى الْيَمِينُ، تو لہٰذا یمین باقی نہیں رہے گی، بِخِلَافِ مَا إِذَا أَبَانَهَا، بخلاف اس صورت کے کہ جب خاوند نے اس کو بائنہ کیا، لِأَنَّ الْجَزَاءَ بَاقٍ لِبَقَاءِ مَحَلِّهِ، یہ وہی پچھلی صورت ذکر کر رہے ہیں۔ پچھلے مسئلے میں خاوند نے صرف ایک یا دو طلاقیں دی تھیں، جب ایک یا دو طلاقیں دی ہیں تو یہ عورت ابھی بھی محلِّ طلاق ہے، تیسری طلاق خاوند اس پر واقع کر سکتا ہے۔ اگر یہ خاوند سے دوبارہ نکاح کر لے تو ابھی بھی تیسری طلاق اس پر واقع ہو سکتی ہے تو وہاں محل باقی تھا کیونکہ تینوں طلاقیں واقع نہیں ہوئی تھیں، اور یہاں تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں لہٰذا اب یہ عورت طلاق کا محل ہی نہیں ہے بھئی، اس ملکیت کی ساری طلاقیں ختم ہو چکی ہیں بھئی۔
تو کہتے ہیں: بِخِلَافِ مَا إِذَا أَبَانَهَا، بخلاف اس صورت کے کہ جب خاوند نے اس عورت کو جدا کیا تھا یعنی صرف ایک یا صرف دو طلاقوں سے اس کو جدا کیا تھا، لِأَنَّ الْجَزَاءَ بَاقٍ، اس لیے کیونکہ وہاں پر جزا باقی تھی، أَنْتِ طَالِقٌ ہو سکتا تھا، لِبَقَاءِ مَحَلِّهِ، اس لیے کیونکہ اس کا محل باقی تھا، اس کا محل باقی تھا یعنی اس عورت پر ساری طلاقیں ابھی واقع نہیں ہوئی تھیں بھئی۔ مسئلہ بھی سمجھ میں آیا یا نہیں؟ تو حاصلِ مسئلہ یہ: کہ اگر خاوند نے صرف ایک یا دو طلاقیں دی ہیں، درمیان میں ایک دوسرا خاوند بھی آیا پھر عورت اس کے پاس واپس آ گئی تو ابھی بھی جزا کا محل ہے لہٰذا تعلیق موجود ہے، وہ اس گھر میں جائے گی تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ لیکن اگر خاوند نے تینوں طلاقیں دے دی ہیں تو اب تو أَنْتِ طَالِقٌ کا محل ہی نہ رہا، اب نئی ملکیت آئے گی تو لہٰذا اس کے اندر اب یہ معلق طلاقیں واقع نہیں ہو سکتیں، وہ تو پچھلی ملکیت والی طلاقیں تھیں اور یہ تو نئی ملکیت ہے بھئی۔
آگے دیکھیے:
وَلَوْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: إِذَا جَامَعْتُكِ فَأَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا، فَجَامَعَهَا فَلَمَّا الْتَقَى الْخِتَانَانِ طُلِّقَتْ ثَلَاثًا، وَإِنْ لَبِثَ سَاعَةً لَمْ يَجِبْ عَلَيْهِ الْمَهْرُ، وَإِنْ أَخْرَجَهُ ثُمَّ أَدْخَلَهُ وَجَبَ عَلَيْهِ الْمَهْرُ، وَكَذَا إِذَا قَالَ لِأَمَتِهِ: إِذَا جَامَعْتُكِ فَأَنْتِ حُرَّةٌ.
بھئی یاد رکھو، جماع کہتے ہیں إِدْخَالُ الْفَرْجِ فِي الْفَرْجِ، شرم گاہ میں شرم گاہ کا داخل کرنا یہ ہے جماع بھئی۔ اور اسی طرح ایک اور بات یاد رکھنا کہ دار الاسلام کے اندر جو بھی وطی پائی جائے یا تو اس میں حد آئے گی اگر وہ حرام وطی ہوئی، یا اس کے اندر مہر آئے گا اگر وہ حلال وطی ہوئی۔ دار الاسلام میں جو بھی وطی پائی جائے اس وہ حد یا مہر سے خالی نہیں ہوگی، یا وہاں حد آئے گی یا مہر آئے گا۔ اگر حلال وطی ہے یعنی نکاح کیا ہے تو صحبت کرتے ہی مہر واجب ہو جائے گا، اور اگر حرام وطی ہے تو اس صورت میں حد آ جائے گی، بات سمجھ میں آ گئی۔ اور جہاں حد شبہے کی وجہ سے ساقط ہو جائے، جب حد شبہے کی وجہ سے ساقط ہو جائے تو پھر بھی مہر آ جائے گا کیونکہ دو چیزوں میں سے ایک کا پایا جانا ضروری ہے وطی کے اندر: یا حد یا مہر۔ بعض جگہ حرام وطی ہوگی لیکن شبہے کی وجہ سے حد ساقط ہو جائے گی، حد تو ساقط ہو گئی لیکن حد یا مہر میں سے ایک کا ہونا تو ضروری تھا تو پھر بھی وہاں مہر آ جائے گا۔
تو صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا: اگر میں نے تیرے ساتھ صحبت کی تو تجھے تین طلاقیں ہیں۔ اب اس شخص نے اس عورت سے صحبت کی تو جیسے ہی صحبت پائی گئی یعنی دخول پایا گیا تو وہ شرط پوری ہو گئی، جزا آ جائے گی، اس عورت کو تین طلاقیں ہو گئیں فوراً۔ تو اب اس کے بعد اگر خاوند کچھ دیر مزید ٹھہرا رہا اسی طرح، تو کیا اس صورت میں خاوند پر مہر لازم ہوگا یا نہیں؟ خاوند پر مہر لازم ہوگا یا نہیں؟ کیونکہ ابتدا اس صحبت کی وہ حلال تھی لیکن انتہا حرام ہو چکی ہے۔ ابتدا کس لیے حلال تھی؟ کیونکہ یہ اس کی بیوی تھی بھئی۔ تو ابتدا حلال تھی لیکن آگے حرام ہو گئی وطی، کیوں حرام ہوئی؟ کیونکہ اس نے کیا کہا تھا: اگر میں تیرے ساتھ صحبت کروں تو تجھے تین طلاقیں ہیں، تو تین طلاقیں آ گئیں، یہ عورت کیا ہو گئی خاوند پر؟ حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہو گئی۔ تو اب یاد رکھو، ہمارے ائمہ فرماتے ہیں: اگر خاوند کچھ دیر مزید ٹھہرا رہا اسی طرح، تو اس صورت کے اندر نیا مہر خاوند پر نہیں آئے گا۔ نیا مہر خاوند پر نہیں آئے گا، لیکن اگر اس نے عُضو کا اخراج کر کے پھر ادخال کیا تو پھر اس صورت میں یہ ایک نئی وطی پائی گئی، اس کی وجہ سے اب اس پر مہر لازم ہو جائے گا۔ حد تو نہیں آئے گی کیونکہ حد شبہے کی وجہ سے ساقط ہو جائے گی، شبہ کیا؟ کہ بھئی یہ وہی صحبت ہے اور اس کا اول کیا تھا؟ حلال، اور آخر کیا ہے؟ حرام۔ تو چونکہ ایک ہی صحبت ہے تو شبہے کی وجہ سے حد تو ساقط ہو جائے گی، حد تو نہیں آئے گی لیکن حد ساقط ہو جائے تو کیا آتا ہے؟ مہر آیا کرتا ہے، لیکن مہر بھی یہاں نہیں آئے گا جب تک نیا جماع نہ پایا جائے، اور نیا جماع کب کہیں گے؟ جب اخراج کے بعد پھر ادخال پایا جائے تو اب ہم کہیں گے نیا جماع پایا گیا کیونکہ جماع کسے کہتے ہیں؟ میں نے تعریف آپ کو بتلائی: إِدْخَالُ الْفَرْجِ فِي الْفَرْجِ، شرم گاہ کا شرم گاہ میں داخل کرنا۔
داخل کرنا، یہ ہے جماع بھئی۔ لہٰذا ایک مرتبہ اخراج کر کے پھر اس نے ادخال کیا تو یہ جماعِ جدید پایا گیا۔ جب جماعِ جدید پایا گیا حد تو نہیں آئے گی شبہے کی وجہ سے لیکن مہر آ جائے گا۔ اب خاوند کو ایک الگ پورا مہر بھی دینا پڑے گا اس بیوی کو، ایک تو وہ مہر تھا جو نکاح میں مقرر کیا تھا وہ بھی دے گا اور یہ ایک اور مہر بھی اس کو دینا پڑے گا۔
دیکھیے بھئی کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ“ اور اگر خاوند نے اپنی بیوی سے کہا: ”إِذَا جَامَعْتُكِ فَأَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا“ اگر میں تیرے ساتھ صحبت کروں تو تجھے تین طلاقیں ہیں، ”فَجَامَعَهَا“ تو خاوند نے بیوی سے صحبت کی، ”فَلَمَّا الْتَقَى الْخِتَانَانِ“ تو جب دو شرمگاہیں مل گئیں، ”طُلِّقَتْ ثَلَاثًا“ تو عورت کو تین طلاقیں ہو جائیں گی۔ جب دو شرمگاہیں مل گئیں یہ کنایہ ہے صحبت سے یعنی اس میں کچھ دخول بھی پایا گیا بغیر دخول کے نہیں۔ جب دخول بھی پایا گیا ”طُلِّقَتْ ثَلَاثًا“ تو عورت کو تین طلاقیں ہو جائیں گی کیونکہ شرط پائی گئی کہ خاوند نے بھی کیا کہا تھا اگر میں تیرے ساتھ صحبت کروں تو تجھے تین طلاقیں، تو صحبت پائی گئی لہٰذا تین طلاقیں ہو گئیں۔
پھر اس کے بعد: ”وَإِنْ لَبِثَ سَاعَةً“ اگر خاوند ٹھہرا رہا ایک گھڑی، کچھ دیر تک اسی طرح ٹھہرا رہا، ”لَمْ يَجِبْ عَلَيْهِ الْمَهْرُ“ تو خاوند پر نیا مہر واجب نہیں ہو گا۔ نیا مہر واجب نہیں ہو گا کیونکہ جماعِ جدید نہیں پایا گیا۔ جماع کس چیز کا نام تھا؟ اِدْخَالُ الْفَرْجِ فِي الْفَرْجِ اور یہاں ادخالِ جدید موجود نہیں ہے، اسی جماع میں دوام ہے۔ پہلے ہی جماع میں کیا ہے؟ دوام ہے، کوئی جماعِ جدید نہیں پایا گیا لہٰذا نیا مہر ابھی خاوند پر نہیں آیا۔ لیکن اگر اس نے اخراج کر کے پھر ادخال کر دیا تو اس صورت میں نیا مہر واجب ہو جائے گا کیونکہ نیا جماع پایا گیا۔ جماع کس چیز کا نام تھا؟ اِدْخَالُ الْفَرْجِ فِي الْفَرْجِ اور وہ نیا پایا گیا تو اب خاوند پر ایک اور مہر واجب ہو جائے گا۔
تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ لَبِثَ سَاعَةً“ اگر خاوند کچھ دیر اسی طرح ٹھہرا رہا، ”لَمْ يَجِبْ عَلَيْهِ الْمَهْرُ“ تو اس پر مہر واجب نہیں ہے، ”وَإِنْ أَخْرَجَهُ ثُمَّ أَدْخَلَهُ“ اور پھر اگر اس نے عضو کو نکالا پھر اس کو داخل کر دیا، ”وَجَبَ عَلَيْهِ الْمَهْرُ“ تو خاوند پر جو ہے اس دوسرے دخول کی وجہ سے مہر واجب ہو جائے گا کیونکہ جماعِ جدید پایا گیا۔
”وَكَذَا إِذَا قَالَ لِأَمَتِهِ“ اور اسی طرح ہے مسئلہ جب آقا نے اپنی باندی سے کہا: ”إِذَا جَامَعْتُكِ فَأَنْتِ حُرَّةٌ“ جب میں تجھ سے جماع کروں تو تو آزاد ہے۔ جب میں تجھ سے جماع کروں تو تو آزاد۔ تو یہ باندی ہے آقا کے لیے صحبت جائز ہے، آقا نے اس کے ساتھ صحبت کر لی لیکن جیسے ہی صحبت کرے گا ساتھ ہی باندی آزاد ہو گئی۔ پھر اس کے بعد اگر یہ کچھ دیر اسی طرح رہا یعنی اس دوامِ جماع پایا گیا، دوامِ جماع پایا گیا تو اس سے نیا مہر نہیں آئے گا۔ نیا مہر نہیں آئے گا لیکن اگر اخراج کے بعد پھر ادخال اس نے کر دیا تو اب جماعِ جدید پایا گیا اور یہ جماعِ جدید تو آزاد عورت کے ساتھ کر رہا ہے، اب تو یہ اس کی باندی نہیں لہٰذا اس صورت میں اب اس آقا پر مہر واجب ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کیونکہ مملکتِ اسلامیہ میں جو بھی وطی پائی جائے، جو بھی جماع پایا جائے اس میں یا حد آتی ہے یا مہر آتا ہے۔ حد تو یہاں نہیں آئے گی کیونکہ اس صحبت کی ابتدا حلال تھی اور انتہا کیا ہے؟ حرام ہے لیکن مہر آ جائے گا۔
تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا“ اور اسی طرح ہے مسئلہ، ”إِذَا قَالَ لِأَمَتِهِ“ جب آقا نے اپنی باندی سے کہا: ”إِذَا جَامَعْتُكِ فَأَنْتِ حُرَّةٌ“ کہ جب میں تجھ سے جماع کروں تو تو آزاد ہے۔ ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے ”أَنَّهُ أَوْجَبَ الْمَهْرَ فِي الْفَصْلِ الْأَوَّلِ أَيْضًا“ کہ انہوں نے مہر کو واجب کیا ہے پہلی فصل میں بھی۔ پہلی صورت میں بھی انہوں نے مہر کو واجب کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ دوامِ جماع بھی جماعِ جدید ہے۔ دوامِ جماع بھی کیا ہے؟ جماعِ جدید ہے اس میں ادخال ضروری نہیں ہے، اگر وہ جماع کچھ طویل ہو گیا تو اس کو بھی نیا جماع شمار کریں گے لہٰذا اس خاوند پر مہر لازم ہو جائے گا۔ یہ معنی ہے ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ أَوْجَبَ الْمَهْرَ فِي الْفَصْلِ الْأَوَّلِ أَيْضًا“ کہ انہوں نے پہلی صورت کے اندر بھی مہر کو واجب کیا ہے، ”لِوُجُودِ الْجِمَاعِ“ جماع پائے جانے کی وجہ سے یعنی جماعِ جدید پایا گیا، ”بِالدَّوَامِ عَلَيْهِ“ اس جماع پر دوام کی وجہ سے، تو وہ دوامِ جماع کو بھی جدید جماع شمار کرتے ہیں۔ ”إِلَّا أَنَّهُ لَا يَجِبُ عَلَيْهِ الْحَدُّ لِلِاتِّحَادِ“ ہاں مگر اس صورت میں حد واجب نہیں ہو گی، ”لِلِاتِّحَادِ“ اتحاد کی وجہ سے، کیونکہ جماع ایک ہی ہے بھئی اگرچہ اسی میں دوام آیا ہے لیکن ہے تو ایک، اول حلال تھا تو اول جب حلال ہے تو آخر حد کا باعث نہیں بن سکتا۔
آگے دیکھیے: یہ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی روایت ہے، ان کے مطابق دوامِ جماع بھی کس کے حکم میں ہے؟ جماعِ جدید کے حکم میں ہے لہٰذا مہر آئے گا۔ اب ظاہرِ روایت کی وجہ ذکر کر رہے ہیں، ظاہرِ روایت اوپر متن میں آیا تھا، کیا؟ کہ اگر دوامِ جماع پایا گیا پھر مہر نہیں آئے گا ہاں اگر اخراج کے بعد پھر ادخال کیا تو پھر مہرِ جدید آئے گا بھئی کیونکہ اب جماعِ جدید پایا گیا۔ کہتے ہیں: ”وَوَجْهُ الظَّاهِرِ“ ظاہرِ روایت کی وجہ یہ ہے، ”أَنَّ الْجِمَاعَ إِدْخَالُ الْفَرْجِ فِي الْفَرْجِ“ کہ جماع جو ہے وہ شرمگاہ کا شرمگاہ میں داخل کرنا ہے، ”وَلَا دَوَامَ لِلْإِدْخَالِ“ اور ادخال میں دوام نہیں ہے۔ ادخال میں دوام نہیں ہے۔ بھئی دیکھیے نا بعض افعال ہوتے ہیں ان میں امتداد اور طول ہوتا ہے اور بعض افعال میں امتداد اور طول نہیں ہوتا۔ جیسے کسی شخص کا کمرے کے اندر آنا یا کسی شخص کا کمرے سے نکلنا، تو دیکھو یہ تو ایک لمحے میں ہو گا وہ اندر آ گیا، یہ ایک لمحے میں ہو گا وہ باہر چلا گیا۔ اس میں امتداد اور طول نہیں۔ ہاں روزہ رکھتا ہے اس میں طول ہے صبح سے شام تک، کوئی چلتا ہے چلنے میں طول ہے چاہے ایک گھنٹہ چلے، دو گھنٹے چلتا رہے، تین گھنٹے چلتا رہے، کوئی سواری کرتا ہے اس میں بھی طول ہے اور امتداد ہے، ایک گھنٹہ سواری کرے چاہے دو گھنٹے سواری کرے۔ تو بعض افعال میں امتداد اور طول ہوتا ہے، بعض افعال میں امتداد اور طول نہیں ہوتا۔ یا اسی طرح جیسے طلاق ہے طلاق میں تو طول نہیں جیسے ہی طلاق کا لفظ بولے گا ساتھ ہی طلاق ہو جائے گی۔ اسی طرح کوئی عقد کرتا ہے جیسے ہی ایجاب و قبول کرے گا عقد ہو جائے گا اس میں بھی طول نہیں۔ اسی طرح جماع کس چیز کا نام ہے؟ اِدْخَالُ الْفَرْجِ فِي الْفَرْجِ اور اس ادخال کے اندر تو دوام اور طول نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَا دَوَامَ لِلْإِدْخَالِ“ اور ادخال کے لیے تو دوام نہیں ہے، ”بِخِلَافِ مَا إِذَا أَخْرَجَ ثُمَّ أَوْلَجَ“ بخلاف اس صورت کے کہ جب خاوند نے عضو نکالا ”ثُمَّ أَوْلَجَ“ پھر داخل کر دیا، ”لِأَنَّهُ وُجِدَ الْإِدْخَالُ بَعْدَ الطَّلَاقِ“ اس لیے کیونکہ طلاق کے بعد ادخال پایا گیا، طلاق کے بعد ادخال پایا گیا اور ادخال تو جماع کا نام تھا تو گویا جماعِ جدید پایا گیا اور جب جماعِ جدید ہے تو اب حد تو نہیں آ سکتی شبہے کی وجہ سے تو مہر ضرور آ جائے گا۔
تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ وُجِدَ الْإِدْخَالُ بَعْدَ الطَّلَاقِ“ ادخال پایا گیا طلاق کے بعد، ”إِلَّا أَنَّ الْحَدَّ لَا يَجِبُ لِشُبْهَةِ الِاتِّحَادِ“ مگر یہ کہ حد واجب نہیں ہو گی شبۂ اتحاد کی وجہ سے کہ جماع ایک ہی ہے، جماع... بھئی آپ تو کہہ رہے ہیں کہ ادخال جب پایا جائے گا تو یہ جماعِ جدید ہو گا؟ کہتے ہیں بھئی دیکھو یہاں مجلس بھی وہی ہے مجلس بھی نہیں بدلی، اور نیز مقصود بھی وہی ہے یعنی وہی شہوت ہے کوئی نئی شہوت بھی نہیں ہے۔ تو یہاں مجلس بھی وہی ہے اور مقصود یعنی قضائے شہوت بھی وہی والا ہے، تو جب دونوں میں اتحاد ہے اور اس کا اول تو کیا تھا؟ اس جماع کا اول تو حلال تھا اور آخر کیا بن گیا ہے؟ حرام، تو بہرحال ہے تو اتحاد، مجلس بھی ایک ہے، قضائے شہوت بھی ایک ہی ہے لہٰذا اس شبہے کی وجہ سے حد واجب نہیں ہو گی بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”إِلَّا أَنَّ الْحَدَّ لَا يَجِبُ لِشُبْهَةِ الِاتِّحَادِ“ مگر یہ کہ حد واجب نہیں ہو گی شبۂ اتحاد کی وجہ سے، ”بِالنَّظَرِ إِلَى الْمَجْلِسِ وَالْمَقْصُودِ“ مجلس اور مقصود کی طرف نظر کرتے ہوئے، مجلس بھی ایک ہے اور مقصود یعنی قضائے شہوت بھی ایک ہی ہے۔ ”وَإِذَا لَمْ يَجِبِ الْحَدُّ وَجَبَ الْعُقْرُ“ اور جب حد واجب نہیں ہے ”وَجَبَ الْعُقْرُ“ تو مہر واجب ہو جائے گا۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا بھئی عقر یہ بھی مہر ہی کو کہتے ہیں البتہ بالخصوص یہ جب کوئی شبہے کی وجہ سے وطی کی جائے اس کے اندر جب مہر آئے تو اس کو عقر کہتے ہیں۔ بھئی مہر تو نکاح میں ہوتا ہے نا اور یہ جو اس خاوند نے اس بیوی سے جیسے ہی صحبت کی ہے تو تین طلاقیں ہو گئیں، حرمتِ مغلظہ آ گئی، اس کے بعد پھر ادخال وہ کرتا ہے تو جماعِ جدید پایا گیا، کیا پایا گیا؟ جماعِ جدید پایا گیا اور یہ جماعِ جدید جو پایا گیا ہے دیکھو اس میں جو مال آئے گا اس کو عقر کہیں گے کیونکہ یہاں تو کوئی مہر مقرر نہیں ہوا، یہاں تو کوئی نکاح نہیں کیا۔ تو اس کو مہر نہیں کہیں گے بلکہ کیا کہیں گے؟ عقر۔ تو وطی بالشبہ کی وجہ سے جو مال آتا ہے اس کو مہر نہیں کہتے اس کو عقر کہتے ہیں کیونکہ مہر تو وہ ہوتا ہے جو نکاح میں مقرر کیا جائے اور یہاں تو کوئی نکاح کے اندر مقررہ مہر نہیں ہے، یہاں تو نکاح ہے ہی نہیں۔ تو یہ عقر کہلائے گا البتہ ہے یہ وہی مہرِ مثل بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا لَمْ يَجِبِ الْحَدُّ وَجَبَ الْعُقْرُ“ اور جب حد واجب نہیں ہے تو عقر واجب ہو گا، ”إِذِ الْوَطْءُ لَا يَخْلُو عَنْ أَحَدِهِمَا“ اس لیے کیونکہ وطی خالی نہیں ہوتی ان دونوں میں سے کسی ایک سے، دار الاسلام میں جب بھی وطی پائی جائے یا تو حد آئے گی یا مہر آئے گا۔
”وَلَوْ كَانَ الطَّلَاقُ رَجْعِيًّا يَصِيرُ مُرَاجِعًا بِاللُّبَاثِ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ دوسری صورت، دوسری صورت: پہلے تو کیا مسئلہ ذکر کیا تھا؟ خاوند نے تین طلاقوں کو معلق کیا تھا صحبت پر، اب صورت یہ ہے کہ خاوند طلاقِ رجعی کو معلق کر دیتا ہے صحبت پر۔ خاوند بیوی سے کہتا ہے اگر میں تیرے ساتھ صحبت کروں تو تجھے طلاق ہے۔ تو اب صحبت کرے گا تو ایک طلاق ہو جائے گی اور یہ طلاقِ رجعی ہو گی کیونکہ صریح لفظ استعمال کیا ہے: ”إِذَا جَامَعْتُكِ فَأَنْتِ طَالِقٌ“ اور ”أَنْتِ طَالِقٌ“ صریح ہے اور صریح سے کون سی طلاق ہوتی ہے؟ طلاقِ رجعی۔ تو خاوند جیسے ہی اس عورت سے صحبت کرے گا طلاقِ رجعی آ جائے گی۔ اب خاوند کچھ دیر اگر ٹھہرا رہا تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک دوامِ جماع پایا گیا اور دوامِ جماع بھی ان کے نزدیک جماعِ جدید کے درجے میں ہے۔ جب یہ جماعِ جدید کے درجے میں ہے تو گویا رجوع ہو گیا۔ گویا طلاق بھی ہوئی اور رجوع بھی ہو گیا، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، دوامِ جماع کے لیے جماعِ جدید کا حکم نہیں ہے لہٰذا اگر کچھ دیر ٹھہرا رہا تو رجوع نہیں ہے۔ ہاں اخراج کر کے پھر ادخال کیا تو پھر اس صورت میں بالاتفاق رجوع ہو جائے گا ہمارے سب ائمہ کے نزدیک کیونکہ یہ جماعِ جدید پایا گیا اور یہ کس پر دلالت کر رہا ہے؟ رجوع پر دلالت کر رہا ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ كَانَ الطَّلَاقُ رَجْعِيًّا يَصِيرُ مُرَاجِعًا بِاللُّبَاثِ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ کہتے ہیں: ”وَلَوْ كَانَ الطَّلَاقُ رَجْعِيًّا“ اور اگر طلاق رجعی تھی ”يَصِيرُ مُرَاجِعًا“ تو خاوند رجوع کرنے والا ہو جائے گا ”بِاللُّبَاثِ“ ٹھہرنے کی وجہ سے یعنی کچھ دیر ٹھہرا رہا ”عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک کیونکہ ان کے نزدیک دوامِ جماع جماعِ جدید ہے بھئی۔ ”وَخِلَافًا لِمُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“ بخلاف امام محمد رحمہ اللہ کے، ”لِوُجُودِ الْمِسَاسِ“ مساس کہتے ہیں چھونا، ”لِوُجُودِ الْمِسَاسِ“ کہ چھونا پایا جا رہا ہے۔ چھونا پایا جا رہا ہے، شہوت کے ساتھ چھونا پایا جا رہا ہے لہٰذا یہ دوامِ جماع جو ہے یہ جماعِ جدید نہیں ہے۔ یہ جماعِ جدید نہیں ہے، یہ وہی شہوت ہے بھئی وہی یہ دوامِ جماع پایا جا رہا ہے، شہوت کے ساتھ چھونا پایا جا رہا ہے۔ ”وَلَوْ نَزَعَ ثُمَّ أَوْلَجَ“ ہاں اگر اس نے عضو کو نکال لیا ”ثُمَّ أَوْلَجَ“ پھر داخل کیا، ”صَارَ مُرَاجِعًا بِالْإِجْمَاعِ“ تو پھر اب یہ بالاجماع رجوع کرنے والا ہو جائے گا، ”لِوُجُودِ الْجِمَاعِ“ کیونکہ جماعِ جدید پایا گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
آگے دیکھیے بھئی: ”فَصْلٌ فِي الِاسْتِثْنَاءِ“ یہ فصل ہے استثنا کے بارے میں۔ بھئی تعلیق کے بعد، یمین کے بعد صاحبِ ہدایہ استثنا کو ذکر فرما رہے ہیں۔ اس لیے کیونکہ تعلیق اور استثنا یہ دونوں بیانِ تغییر ہیں۔ غَیَّرَ یُغَیِّرُ تغییر کا معنی ہے بدلنا۔ یہ بیانِ تغییر ہیں، یہ ماقبل کلام کو بدل دیتے ہیں۔ تعلیق بھی ماقبل کلام کو بدل دیتی ہے اور استثنا بھی ماقبل کلام کو بدل دیتا ہے۔ مثلاً دیکھو خاوند اگر اپنی بیوی سے یوں کہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ“ تو فوراً ایک طلاق ہو جائے گی، لیکن اگر وہ یوں کہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“ تجھے ایک طلاق ہے اگر تو اس گھر میں گئی۔ اب طلاق واقع نہیں، جب تک اس گھر میں نہیں جائے گی طلاق واقع نہیں۔ تو دیکھو ”أَنْتِ طَالِقٌ“ سے تو طلاق واقع ہو رہی تھی لیکن ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“ آگے جب شرط آ گئی اس نے اولِ کلام کو بدل دیا بھئی۔ اب فوراً طلاق واقع نہیں ہو گی بلکہ اس گھر میں جانے سے طلاق واقع ہو گی۔ معلوم ہوا شرط بیانِ تغییر ہے، یہ اولِ کلام کو بدل دیتی ہے۔
اسی طرح استثنا جو ہے وہ بھی بیانِ تغییر ہے یہ بھی اولِ کلام کو بدل دیتا ہے۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: ”جَاءَنِي الْقَوْمُ“ میرے پاس وہ لوگ آئے۔ فرض کریں ”الْقَوْمُ“ سے مراد پانچ افراد کی ایک جماعت ہے، پانچ آدمی مراد ہیں اور ان میں زید بھی شامل ہے، تو جب میں نے آپ سے کہا ”جَاءَنِي الْقَوْمُ“ وہ لوگ میرے پاس آئے تھے تو آپ سمجھ گئے زید بھی آیا ہو گا کیونکہ زید بھی انہی میں سے ہے، جب وہ آئے ہیں میرے پاس تو ان میں سے زید بھی ہے وہ بھی آیا ہو گا۔ لیکن آگے پھر میں کہتا ہوں: ”إِلَّا زَيْدًا“ سوائے زید کے، اب دیکھو ”إِلَّا زَيْدًا“ یہ استثنا ہے اور اس نے ماقبل کو بدل دیا۔ ماقبل کا تو کیا معنی تھا؟ ”جَاءَنِي الْقَوْمُ“ وہ لوگ آئے ہیں معلوم ہوا زید بھی آیا ہے، لیکن ”إِلَّا زَيْدًا“ نے کیا کیا ماقبل کو بدل دیا، بتلا دیا کہ زید نہیں آیا، زید کے علاوہ باقی لوگ مراد ہیں۔ یہاں پر آنے والوں میں زید داخل نہیں ہے بھئی۔ تو دیکھو اس نے کیا کیا ماقبل کے کلام کو بدل دیا۔
تو شرط جو ہے وہ بھی بیانِ تغییر ہے وہ بھی ماقبل کو بدل دیتی ہے، استثنا یہ بھی بیانِ تغییر ہے یہ بھی اولِ کلام کو بدل دیتا ہے۔ لیکن فرق یہ ہے دونوں کے اندر کہ شرط جو ہے پورے اول کو بدل دیتی ہے اور استثنا اول کے جز کو بدل دیتا ہے۔ شرط کیا ہے؟ پورے کل کو بدل دیتی ہے۔ خاوند نے کہا تھا: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“ تو سارا اول بدل گیا سارا معلق ہو گیا، چاہے ایک طلاق کہے وہ، چاہے دو کہے، چاہے تین کہے، جتنی بھی وہ ذکر کرے گا تو شرط ان سب کو معلق کر دے گی۔ تو شرط پورے کلام کو بدل دیتی ہے جبکہ استثنا جز کو بدلتا ہے۔ ”جَاءَنِي الْقَوْمُ“ سے تو یہ معلوم ہو رہا تھا کہ سارے آئے ہیں اور زید بھی آیا ہے لیکن ”إِلَّا زَيْدًا“ نے صرف زید کے بارے میں حکم بدل دیا کہ وہ نہیں آیا باقی آئے ہیں۔ تو استثنا بھی بیانِ تغییر ہے لیکن یہ جز کو بدلتا ہے اور شرط بھی بیانِ تغییر ہے اور وہ کل کو بدل دیتی ہے بھئی۔ تو پہلے یمین کو ذکر کیا، پچھلا باب کس کا تھا؟ یمین کا، باب الایمان گزرا بھئی یمین کا، اور یمین کو پہلے ذکر کیا کیونکہ وہ کل کو بدل دیتی ہے، اب استثنا کو ذکر کر رہے ہیں یہ بھی بیانِ تغییر ہے اور یہ جز کو بدلتا ہے تو اس لیے اس کو یمین کے بعد ذکر کیا۔
اور پھر یاد رکھو یہ استثنا دو قسم پر ہے: ایک استثنائے اصطلاحی ہے جو ہم علمِ نحو میں پڑھ چکے ہیں۔ استثنا کسے کہتے ہیں؟ کہ ”إِلَّا“ یا اس کے اخوات کے ذریعے بعض افراد کو ماقبل کے حکم سے نکال لینا اس کو استثنا کہتے ہیں۔ جیسے ”جَاءَنِي الْقَوْمُ إِلَّا زَيْدًا“، القوم کے اندر تو زید بھی داخل تھا لیکن ”إِلَّا“ نے کیا کیا؟ زید کو ماقبل کے حکم سے نکال لیا اور ماقبل والا کا حکم کیا تھا؟ مجیئت کا ذکر تھا کہ وہ آئے ہیں تو زید کو اس حکم سے نکال لیا، ”جَاءَنِي الْقَوْمُ إِلَّا زَيْدًا“ معلوم ہوا زید نہیں آیا باقی آئے ہیں بھئی۔ تو اصطلاح میں استثنا کسے کہتے ہیں؟ کہ ”إِلَّا“ یا اس کے اخوات کے ذریعے بعض افراد کو ماقبل کے حکم سے نکال لیا جائے اس کو کہتے ہیں استثنا بھئی۔ یہ ہے استثنائے اصطلاحی بھئی۔
اور ایک استثنائے عرفی ہے بھئی عرفی۔ میں نے بتلایا تھا کہ عرف جو ہے وہ عام لوگوں کی عادت کو کہتے ہیں۔ یعنی عام عرب لوگ جو ہیں ان کی عادت میں استثنا ”إِنْ شَاءَ اللَّهُ“ کو کہتے ہیں۔ کلام میں کیا کہہ دینا؟ ”إِنْ شَاءَ اللَّهُ“ کہنا اس کو وہ استثنا کہتے ہیں۔ تو یہ استثنائے عرفی ہے بھئی۔ کسی کلام کے ساتھ ”إِنْ شَاءَ اللَّهُ“ کوئی کہہ دے تو عربی زبان میں کہتے ہیں اس نے استثنا کیا ہے۔ قرآن میں بھی اللہ فرماتے ہیں: ”وَلَا يَسْتَثْنُونَ“ اور یہ لوگ ان شاء اللہ نہیں کہتے۔ دیکھو استثنا کا لفظ کس کے لیے استعمال ہوا؟ ان شاء اللہ کہنے کے لیے۔ تو استثنا کتنی قسم پر؟ دو: ایک استثنائے عرفی، ایک اصطلاحی۔ استثنائے عرفی کیا ہے؟ ان شاء اللہ کہنا، اور استثنائے اصطلاحی کیا ہے؟ کہ ”إِلَّا“ اور اس کے اخوات کے ذریعے بعض افراد کو ماقبل کے حکم سے نکال لیا جائے۔
تو کہتے ہیں: ”فَصْلٌ فِي الِاسْتِثْنَاءِ“ یہ فصل ہے استثنا کے بارے میں، ”وَإِذَا قَالَ لِامْرَأَتِهِ“ اور جب کہا کسی شخص نے اپنی بیوی سے: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى“ دیکھا ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کے ساتھ ان شاء اللہ کو ملا دیا، ”مُتَّصِلًا“ ملا کر، یہ ضروری ہے بھئی۔ یہ ان شاء اللہ کو ملا کر کہے اگر ملا کر نہ کہا پھر حکم بدل جائے گا۔ مثلاً خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ“ تو یاد رکھو، یاد رکھو اس صورت میں طلاق واقع نہیں ہو گی کیونکہ اس نے طلاق کو معلق کر دیا ہے اللہ کی مشیت کے ساتھ، تجھے طلاق ہے ان شاء اللہ اگر اللہ چاہتے ہیں، تو اس نے طلاق کو معلق کر دیا اللہ کے چاہنے کے ساتھ، اللہ کی مشیت کے ساتھ، اور اللہ کی مشیت کا تو علم نہیں ہو سکتا اور آپ کو میں نے ضابطہ کل بتلایا تھا کہ جب شرط کا علم نہ ہو سکے تو جزا بھی نہیں آتی تو یہاں پر بھی شرط کا علم نہیں ہو سکتا، اللہ کی مشیت کا پتہ نہیں چل سکتا لہٰذا طلاق بھی واقع نہیں ہو گی۔ تو یہ جو ان شاء اللہ کہا ہے اس کو ماقبل کے ساتھ متصل ہونا چاہیے۔ درمیان میں خاموش نہ ہو، ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى“، اور اگر خاوند ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کہہ کر خاموش ہوا اور پھر تھوڑی دیر کے بعد ان شاء اللہ کہتا ہے تو اب اس کا کوئی اعتبار نہیں، اب معلوم ہوا وہ ان شاء اللہ کہہ کر ”أَنْتِ طَالِقٌ“ سے رجوع کرنا چاہتا ہے، وہ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ تو ہو چکا، اب ان شاء اللہ کہہ کر کچھ دیر خاموش رہا اب ان شاء اللہ کہہ کر کیا کرنا چاہتا ہے؟ اس سے رجوع کرنا چاہتا ہے اور حالانکہ طلاق تو واقع ہونے کے بعد رجوع کا احتمال نہیں رکھتی بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا قَالَ لِامْرَأَتِهِ أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى“ اور جب کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى“ کہ تجھے طلاق ہے اگر اللہ نے چاہا، ”مُتَّصِلًا“ ملا کر، ملا کر اس نے یہ کہا، ”لَمْ يَقَعِ الطَّلَاقُ“ تو طلاق واقع نہیں ہو گی، ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کی وجہ سے کہ آپ نے فرمایا: ”مَنْ حَلَفَ بِطَلَاقٍ أَوْ عَتَاقٍ“ جس نے قسم اٹھا لی طلاق یا عتاق کی، ”وَقَالَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى مُتَّصِلًا بِهِ“ اور اس نے اس کے ساتھ ملا کر ان شاء اللہ تعالیٰ کہہ دیا، ”لَا حِنْثَ عَلَيْهِ“ تو اس شخص پر حانث ہونا نہیں ہے۔ وہ حانث نہیں ہو گا اگر اس نے آزادی یا طلاق کے ساتھ ان شاء اللہ کو ملا دیا ہے بھئی۔
آگے دیکھیے: ”وَلِأَنَّهُ أَتَى بِصُورَةِ الشَّرْطِ“ یہ تو نقلی دلیل ذکر کر دی کہ ان شاء اللہ ساتھ ملاؤ گے تو طلاق واقع نہیں ہو گی کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ طلاق اور عتاق کے ساتھ ان شاء اللہ کو ملاؤ تو وہ شخص حانث نہیں ہوتا۔ اب عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں۔ عقلی دلیل یہ ہے کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ أَتَى بِصُورَةِ الشَّرْطِ فَيَكُونُ تَعْلِيقًا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ“ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ یہ شخص جو ہے اس کو شرط کی صورت پر لایا ہے، کس کو؟ ”إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى“ دیکھو ”إِنْ“ حرفِ شرط ہے، اگر اللہ نے چاہا۔ تو ان شاء اللہ یہ جو اللہ کی مشیت کو اس شخص نے ذکر کیا ہے اس کو شرط کی صورت پر لایا ہے۔ سوال: شرط کی صرف صورت تو نہیں ہے یہ تو حقیقت میں شرط ہے؟ صاحبِ ہدایہ کیا فرما رہے ہیں؟ شرط کی صورت پر لایا ہے۔ بھئی شرط کی صورت نہیں یہ تو حقیقتاً شرط ہے، ”إِنْ“ کس لیے آتا ہے؟ شرط کے لیے آتا ہے تو ان شاء اللہ جب کہا تو یہ تو شرط ہے بھئی، لیکن صاحبِ ہدایہ اس کو شرط نہیں کہہ رہے بس کہہ رہے ہیں شرط کی صورت ہے، شرط کی صورت ہے۔ وجہ یہ کہ شرط وہ ہوتی ہے جس میں تردد ہوتا ہے، اس کے ہونے کا بھی امکان ہوتا ہے نہ ہونے کا بھی امکان ہوتا ہے۔ خاوند نے بیوی سے کہا: ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ“ اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے، تو اب اس گھر میں جانا اس میں امکان ہے، ہو سکتا ہے یہ پایا جائے، ہو سکتا ہے وہ گھر میں چلی جائے اور یہ بھی ہو سکتا ہے وہ اس گھر میں نہ جائے، تو شرط وہ ہوتی ہے کہ جس کے اندر ہونے کا بھی امکان ہوتا ہے اور نہ ہونے کا بھی امکان ہوتا ہے۔ لیکن یہاں پر جو ہے اللہ کی مشیت کا تو پتہ نہیں چل سکتا بھئی تو یہ عام شرطوں کی طرح نہیں ہے، یہ صرف شرط کی صورت ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ أَتَى بِصُورَةِ الشَّرْطِ“ اس لیے کیونکہ یہ شخص جو ہے اس کو لایا ہے شرط کی صورت پر، ”فَيَكُونُ تَعْلِيقًا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ“ تو اس اعتبار سے یہ تعلیق ہے کہ شرط کی صورت پر لایا ہے ”فَيَكُونُ تَعْلِيقًا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ“ تو اس اعتبار سے یہ تعلیق ہے، ”وَأَنَّهُ إِعْدَامٌ قَبْلَ الشَّرْطِ“ اور یہ تعلیق جو ہے یہ اعدام ہے شرط سے پہلے۔ بھئی دیکھیے خاوند بیوی سے کہے گا ”أَنْتِ طَالِقٌ“ تو اس سے فوراً طلاق ہو جائے گی۔ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ ہے علت اور طلاق ہے اس کا معلول، یعنی ایقاعِ طلاق ہے علت، خاوند نے ”أَنْتِ طَالِقٌ“ جو کہا ہے یہ کیا ہے؟ یہ ایقاعِ طلاق ہے، وہ طلاق واقع کر رہا ہے اور خاوند جب طلاق واقع کرے گا تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ تو ایقاعِ طلاق ہے علت اور وقوعِ طلاق اس کا معلول ہے، توجہ ہے؟ تو لہٰذا معلوم ہوا ”أَنْتِ طَالِقٌ“ جیسے ہی خاوند کہتا ہے بیوی کو طلاق ہو جاتی ہے کیونکہ یہ ایقاعِ طلاق ہے اور ایقاعِ طلاق علت ہوتی ہے اور وقوعِ طلاق اس کا معلول ہے اور علت جب پائی جائے معلول کا پایا جانا ضروری ہے، ایسا نہیں ہو سکتا علت پائی جائے اور معلول نہ پایا جائے۔ لیکن اگر اسی کے ساتھ یہ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کے ساتھ خاوند اگر شرط ملا دے اور یوں کہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“ تجھے طلاق ہے اگر تو اس گھر میں گئی، تو اس شرط نے کیا کیا؟ اس ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کے علت ہونے کو معدوم کر دیا۔ اب یہ علت نہیں، اب اس سے طلاق واقع نہیں ہو رہی بلکہ یہ عورت جب اس گھر میں جائے گی تو اس وقت ”أَنْتِ طَالِقٌ“ آئے گا اور اس وقت طلاق بھی واقع ہو جائے گی۔ تو شرط نے کیا کام کیا؟ شرط نے ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کے علت ہونے کو معدوم کر دیا۔ اب یہ علت نہیں، اگر یہ علت ہوتی پھر تو معلول ضرور پایا جانا چاہیے تھا لیکن معلول تو پایا نہیں جا رہا معلوم ہوا اب یہ علت بھی نہیں، جب گھر میں جائے گی اس وقت ”أَنْتِ طَالِقٌ“ آئے گا اور وہ علت بنے گا اور طلاق واقع ہو جائے گی۔ تو تعلیق جو ہے علت کو معدوم کر دیتی ہے شرط سے پہلے۔ تعلیق جو ہے علت کو معدوم کر دیتی ہے اس کو ختم کر دیتی ہے شرط پائے جانے سے پہلے، جب شرط پائی جائے گی پھر وہ علت بنے گا بھئی۔
تو یہی بیان کر رہے ہیں کہتے ہیں: ”وَأَنَّهُ إِعْدَامٌ قَبْلَ الشَّرْطِ“ اور یہ جو تعلیق ہے یہ اعدام ہے یعنی علت کو معدوم کرنا ہے ”قَبْلَ الشَّرْطِ“ شرط سے پہلے، ”وَالشَّرْطُ لَا يُعْلَمُ هَاهُنَا“ اور شرط تو یہاں پر معلوم ہی نہیں ہو سکتی کیونکہ شرط کیا ذکر کی ہے؟ اگر اللہ چاہے، اور اللہ کی مشیت کا تو علم نہیں ہو سکتا، تو کہتے ہیں: ”وَالشَّرْطُ لَا يُعْلَمُ هَاهُنَا“ اور شرط تو یہاں معلوم ہی نہیں ہو سکتی، ”فَيَكُونُ إِعْدَامًا مِنَ الْأَصْلِ“ تو یہ تو معدوم کرنا ہے اصل سے ہی، یعنی سرے سے ہی بالکل ایک چیز کو معدوم کر دینا ہے، اس کو ختم کر دینا ہے۔ بھئی دیکھو، بھئی دیکھو ایک ہے اعدامِ موقت، ایک ہے اعدامِ مؤبد۔ اعدامِ مؤبد کا کیا معنی؟ ہمیشہ کے لیے معدوم کر دینا ختم کر دینا، اور اعدامِ موقت کا معنی ہے کچھ وقت کے لیے معدوم کر دینا۔ مجھے بتائیے خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“، یہ ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“ نے کیا کام کیا؟ اس شرط نے ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کو معدوم کر دیا، اس کا اعدام کر دیا، أَعْدَمَ يُعْدِمُ اعدام کا کیا معنی؟ معدوم کرنا۔ تو شرط نے ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کا اعدام کر دیا لیکن مؤبد اعدام نہیں ہے، موقت اعدام ہے تھوڑی دیر کے لیے اس کو ختم کیا ہے، عورت جب بھی اس گھر میں جائے گی تو یہ اعدام ختم ہو جائے گا۔ یہ اعدام ختم ہو جائے گا اور ”أَنْتِ طَالِقٌ“ آئے گا اور طلاق واقع ہو جائے گی۔ تو ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کیا ہے؟ طلاق کی علت، اور اس کو شرط نے... شرط نے اس کا اعدام کر دیا لیکن ہمیشہ کے لیے اعدام کیا ہے یا موقت اعدام کیا ہے؟ موقت اعدام کیا ہے کچھ وقت کے لیے، جیسے ہی شرط پائی جائے گی یہ علت آ جائے گی اور طلاق واقع ہو جائے گی۔ لیکن یہاں پر تو خاوند نے ان شاء اللہ کہا ہے، تو ان شاء اللہ بھی شرط ہے اور شرط کیا کرتی ہے؟ اعدام، لیکن اس شرط کا تو پتہ ہی نہیں چل سکتا کبھی، اللہ کی مشیت کا تو پتہ نہیں چل سکتا تو یہ اعدام موقت نہ ہوا بلکہ اعدامِ مؤبد ہو گیا گویا ہمیشہ کے لیے ہی ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کو ختم کر دیا، اس کو جڑ سے ہی ختم کر دیا بھئی لہٰذا اس سے طلاق واقع نہیں ہو گی۔ عام تعلیق کے اندر تو جب شرط پائی جائے گی طلاق ہو جائے گی لیکن یہاں پر ایسی کوئی صورت نہیں یہاں طلاق واقع نہیں ہو سکتی۔
تو انہوں نے کہا کہ ”وَأَنَّهُ إِعْدَامٌ قَبْلَ الشَّرْطِ“ یہ جو تعلیق ہوتی ہے یہ علت کو معدوم کرنا ہوتا ہے قبل الشرط شرط کے پائے جانے سے پہلے، ”وَالشَّرْطُ لَا يُعْلَمُ هَاهُنَا“ اور شرط جو ہے وہ تو یہاں پر معلوم ہی نہیں ہو سکتی اللہ کی مشیت کا پتہ ہی نہیں چل سکتا، ”فَيَكُونُ إِعْدَامًا مِنَ الْأَصْلِ“ تو یہ اعدام ہے من الاصل اصل سے ہی یعنی بنیاد سے ہی، جڑ سے ہی ایک چیز کو ختم کر دینا اس کو معدوم کر دینا، یعنی اب یہاں جزا کے واقع ہونے کا کوئی احتمال نہیں اس کو ہمیشہ کے لیے معدوم کر دیا، ”فَيَكُونُ إِعْدَامًا مِنَ الْأَصْلِ“ تو یہ جزا کو معدوم کرنا ہے اصل سے ہی یعنی جڑ سے ہی، ”وَلِهَذَا يُشْتَرَطُ أَنْ يَكُونَ مُتَّصِلًا بِهِ بِمَنْزِلَةِ سَائِرِ الشُّرُوطِ“ اور اسی لیے شرط ہے ”أَنْ يَكُونَ مُتَّصِلًا بِهِ“ کہ ان شاء اللہ جو ہے اس طلاق کے ساتھ ملا ہوا ہو ”بِمَنْزِلَةِ سَائِرِ الشُّرُوطِ“ باقی شرطوں کے درجے میں۔ جیسے باقی شرطوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ جزا کے ساتھ ملی ہوئی ہوں اسی طرح یہاں ان شاء اللہ کا بھی جزا کے ساتھ ملا ہونا ضروری ہے۔
”وَلَوْ سَكَتَ يَثْبُتُ حُكْمُ الْكَلَامِ الْأَوَّلِ“ میں نے آپ کو بتلایا اگر خاوند خاموش ہو گیا درمیان میں کچھ وقفہ کر لیا پھر ان شاء اللہ کہتا ہے تو اب طلاق واقع ہو چکی، اب ان شاء اللہ کہنے سے کچھ نہیں ہو گا کیونکہ معلوم ہوا وہ رجوع کرنا چاہتا ہے اور طلاق ایک دفعہ واقع ہو جائے تو وہ رجوع کا احتمال نہیں رکھتی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ سَكَتَ يَثْبُتُ حُكْمُ الْكَلَامِ الْأَوَّلِ“ اگر وہ شخص خاموش ہوا تو پہلے کلام کا حکم ثابت ہو جائے گا۔ پہلا کلام کون سا؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ“، یوں کہا تھا نا ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى“ ملا کر کہا تھا، تو یہ جو ”أَنْتِ طَالِقٌ“ ہے یہ ہے پہلا کلام اور ان شاء اللہ کا اس کے ساتھ متصل ہونا ضروری ہے تو اگر متصل نہیں کرے گا خاموش رہا تو یہ اولِ کلام یعنی ”أَنْتِ طَالِقٌ“ واقع ہو جائے گا۔ اس کا حکم کیا ہے؟ اس سے طلاق واقع ہو جاتی ہے وہ واقع ہو جائے گی۔ یہ معنی ہے: ”وَلَوْ سَكَتَ“ اور اگر یہ خاوند خاموش ہو گیا یعنی ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کہنے کے بعد، ”يَثْبُتُ حُكْمُ الْكَلَامِ الْأَوَّلِ“ تو اس پہلے کلام کا حکم ثابت ہو جائے گا طلاق ہو جائے گی، ”فَيَكُونُ الِاسْتِثْنَاءُ أَوْ ذِكْرُ الشَّرْطِ بَعْدَهُ“ تو پھر استثنا کو ذکر کرنا یعنی ان شاء اللہ کہنا ”أَوْ ذِكْرُ الشَّرْطِ بَعْدَهُ“ یا اس کے بعد شرط کو ذکر کرنا یعنی وقفہ کرنے کے بعد ان کو ذکر کرنا، ”رُجُوعًا عَنِ الْأَوَّلِ“ یہ اول سے رجوع کرنا ہے، اور رجوع تو طلاق سے نہیں ہو سکتا، بات سمجھ میں آ گئی۔
ایک ہے نا استثنا کو متصل کرے ایک ہے دوسری شرط، مثلاً خاوند بیوی سے کہتا ہے ”أَنْتِ طَالِقٌ“ پھر تھوڑی دیر بعد کہتا ہے ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“، تو دیکھو معلوم ہوا اب ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“ کے ذریعے وہ رجوع کرنا چاہتا ہے، ”أَنْتِ طَالِقٌ“ سے تو طلاق واقع ہو گئی تھی اور طلاق میں رجوع نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح تھوڑی دیر کے بعد ان شاء اللہ کہتا ہے معلوم ہوا یہ رجوع کرنا چاہتا ہے اور رجوع تو نہیں ہو سکتا، یہ معنی ہے۔
”قَالَ“ آگے فرماتے ہیں: ”وَكَذَا إِذَا مَاتَتْ قَبْلَ قَوْلِهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى“ اور اسی طرح ہے حکم یعنی طلاق واقع نہیں ہو گی ”إِذَا مَاتَتْ قَبْلَ قَوْلِهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى“۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے: خاوند نے بیوی سے کہا ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى“ ملا کر کہا، لیکن ”أَنْتِ طَالِقٌ“ جیسے ہی کہا ساتھ ہی عورت مر گئی، یعنی بیمار تھی یا کچھ تھا، خاوند نے ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کہا اور ساتھ ہی وہ عورت مر گئی اور ان شاء اللہ موت کے بعد ہو گیا، ان شاء اللہ موت کے بعد ہو گیا، تو پھر کہتے ہیں اس صورت کے اندر بھی طلاق واقع نہیں ہو گی بھئی کیونکہ اس نے ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کے ساتھ کیا ملایا ہے؟ ان شاء اللہ ملایا ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا“ اور اسی طرح ہو گا یعنی طلاق واقع نہیں ہو گی، ”إِذَا مَاتَتْ قَبْلَ قَوْلِهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى“ اگر وہ عورت مر گئی خاوند کے قول ان شاء اللہ کہنے سے پہلے، ”لِأَنَّ بِالِاسْتِثْنَاءِ خَرَجَ الْكَلَامُ مِنْ أَنْ يَكُونَ إِيجَابًا“ اس لیے کیونکہ استثنا کی وجہ سے کلام نکل گیا ”مِنْ أَنْ يَكُونَ إِيجَابًا“ ایجاب ہونے سے۔ بھئی دیکھو ”أَنْتِ طَالِقٌ“ جو ہے نا ”أَنْتِ طَالِقٌ“ اس کے ذریعے طلاق ہوتی ہے، طلاق کا اثبات ہوتا ہے، تو یہ موجب ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ فقہ کی کتابوں میں وجب بمعنی ثبت کے اور اوجب بمعنی اثبت کے عام استعمال ہوتا ہے تو یہاں پر بھی ایجاب کا معنی ہے اثبات بھئی۔ دیکھو خاوند جب بیوی سے کہتا ہے ”أَنْتِ طَالِقٌ“ تو طلاق ثابت ہو جاتی ہے، تو ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کیا ہے؟ ایجاب ہے، اس میں طلاق کا اثبات کیا جا رہا ہے۔ تو خاوند نے کیا کہا بیوی سے؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى“ اور ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کہتے ہی عورت مر گئی، تو ”أَنْتِ طَالِقٌ“ تو ایجاب ہے لیکن اس کے ساتھ جب ان شاء اللہ آیا اس نے اس کو ایجاب سے نکال دیا، اس کو یعنی ایجاب سے نکال دیا اب اس ”أَنْتِ طَالِقٌ“ سے طلاق واقع نہیں ہو سکتی۔ تو یہ معنی ہے ”لِأَنَّ بِالِاسْتِثْنَاءِ“ کہتے ہیں اس استثنا کی وجہ سے یعنی ان شاء اللہ کہنے کی وجہ سے ”خَرَجَ الْكَلَامُ مِنْ أَنْ يَكُونَ إِيجَابًا“ کلام ایجاب ہونے سے نکل گیا اب اس کے ذریعے طلاق کا اثبات نہیں ہو رہا۔
”وَالْمَوْتُ يُنَافِي الْمُوجِبَ دُونَ الْمُبْطِلِ“ بھئی دیکھو ”أَنْتِ طَالِقٌ“ یہ ہے ایجاب، یہ کیا ہے؟ ایجاب، اس کے ذریعے طلاق کا اثبات ہوتا ہے۔ یعنی یوں کہو ”أَنْتِ طَالِقٌ“ موجب ہے، اثبات کرنے والا ہے۔ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کیا ہے؟ اثبات کرنے والا ہے، کس چیز کا اثبات کرتا ہے؟ طلاق کا۔ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ طلاق کا اثبات کرتا ہے تو یہ ہے موجب، اور اس کے ساتھ اگر ہم شرط جوڑ دیں: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“ تو اس شرط نے کیا کیا؟ اس ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کو باطل کر دیا فی الحال، ابھی بتایا یا نہیں؟ اعدامِ موقت ہوتا ہے کہ شرط کی وجہ سے اعدامِ موقت ہوتا ہے، علت علت نہیں رہتی کچھ وقت کے لیے جب تک وہ شرط نہ پائی جائے۔ تو لہٰذا ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کیا ہے؟ موجب، یہ ایجاب کرنے والا ہے، اثبات کرنے والا ہے اور ساتھ شرط لگا دو، شرط کیا ہوتی ہے؟ وہ مبطل ہوتی ہے۔ یا اسی طرح ان شاء اللہ کہہ دیا، ان شاء اللہ بھی کیا ہے؟ مبطل ہے، وہ اس کے موجب ہونے کو باطل کر دیتا ہے، موجب ہونے کو باطل کر دیتا ہے۔ تو صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں: ”وَالْمَوْتُ يُنَافِي الْمُوجِبَ دُونَ الْمُبْطِلِ“ موت جو ہے موجب کے منافی ہے، مبطل کے منافی نہیں۔ دراصل یہاں ایک شبہ پیدا ہوتا ہے، شبہ یہ کہ خاوند نے ”أَنْتِ طَالِقٌ“ اس عورت کی زندگی میں کہا ہے اور ان شاء اللہ موت کے بعد کہا ہے لہٰذا اس ان شاء اللہ کو باطل ہونا چاہیے کیونکہ یہ کب آیا ہے؟ عورت کے مرنے کے بعد، جب عورت کے مرنے کے بعد یہ آیا ہے تو اس کا کوئی اعتبار نہیں ہونا چاہیے، جب اس کا اعتبار نہیں ہے تو ”أَنْتِ طَالِقٌ“ سے طلاق واقع ہونی چاہیے لیکن آپ ہمیں کیا کہہ رہے ہیں کہ اس صورت میں طلاق واقع نہیں ہو گی۔ تو اس کا اب جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ بھئی دیکھیے موت کی وجہ سے ان شاء اللہ باطل نہیں ہو گا۔ وجہ یہ کہ موت موجب کے منافی ہے، مبطل کے منافی نہیں۔ موت موجب کے منافی ہے، موت کی وجہ سے ایجاب نہیں ہو سکتا، تو موت موجب کے منافی ہے موت کی وجہ سے ”أَنْتِ طَالِقٌ“ اپنا عمل نہیں کرے گا لیکن موت جو ہے مبطل کے منافی نہیں ہے بھئی کیونکہ موت خود بھی مبطل ہے، موت خود بھی مبطل ہے، ابھی تو مسئلہ بتایا خاوند بیوی سے کہتا ہے تجھے طلاق ہے میری موت کے ساتھ یا تیری موت کے ساتھ تو موت کے وقت ”أَنْتِ طَالِقٌ“ آئے گا اور موت کے وقت تو بیوی محل نہیں اور خاوند میں اہلیت نہیں، تو موت کے وقت اگر بیوی مری ہے تو وہ طلاق کا محل نہیں اور اگر خاوند مرا ہے تو خاوند طلاق کا اہل نہیں بھئی۔ تو لہٰذا موت جو ہے وہ مبطل ہے، وہ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کو باطل کرنے والی ہے، توجہ ہے؟ تو موت کی وجہ سے ”أَنْتِ طَالِقٌ“ باطل ہو جاتا ہے تو موت خود مبطل ہے اور ان شاء اللہ بھی مبطل ہے اور مبطل اور مبطل کے درمیان منافات نہیں ہے بلکہ مبطل اور موجب کے درمیان منافات ہے۔ لہٰذا موت کی وجہ سے موجب یعنی ”أَنْتِ طَالِقٌ“ تو ختم ہو جاتا ہے لیکن موت کی وجہ سے ان شاء اللہ یا تعلیق وغیرہ ختم نہیں ہوتی، بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَالْمَوْتُ يُنَافِي الْمُوجِبَ دُونَ الْمُبْطِلِ“ اور موت جو ہے وہ موجب کے منافی ہے ”دُونَ الْمُبْطِلِ“ مبطل کے منافی نہیں۔ موجب کیا؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ یعنی یوں کہو تطلیق، طلاق دینا۔ طلاق دینا کیا ہے؟ موجب ہے اس سے طلاق آ جاتی ہے۔ تو موت جو ہے تطلیق کے منافی ہے، تعلیق کے منافی نہیں ہے بھئی۔ حاصلِ کلام سمجھ میں آیا؟ موت تطلیق کے منافی ہے، موت کی وجہ سے تطلیق نہیں ہو سکتی لیکن موت تعلیق کے منافی نہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْمَوْتُ يُنَافِي الْمُوجِبَ دُونَ الْمُبْطِلِ“ موت جو ہے موجب یعنی مثبت کے منافی ہے ”دُونَ الْمُبْطِلِ“ مبطل یعنی تعلیق اور استثنا کے منافی نہیں ہے، ”بِخِلَافِ مَا إِذَا مَاتَ الزَّوْجُ“ ہاں بخلاف اس صورت کے کہ جب خاوند مر جائے۔ خاوند بیوی سے کہنا چاہتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى“، یہ کہنا چاہتا ہے اور ابھی ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کہا تھا اور خاوند کا انتقال ہو گیا، ان شاء اللہ نہ کہہ سکا، تو اب طلاق واقع ہو جائے گی۔ اب طلاق واقع ہو جائے گی، کیوں؟ کیونکہ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ پایا گیا اور اس کے ساتھ ان شاء اللہ نہیں آیا، اگر ان شاء اللہ آ جاتا تو اس نے واقع نہیں ہونا تھا۔ اور نیز یہ بھی یاد رکھنا کہ خاوند ان شاء اللہ کہنا چاہتا تھا یہ تو ہمیں ایسے پتہ نہیں چلے گا، ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کہہ کر وہ مر گیا ان شاء اللہ نہیں کہا اس نے تو ہمیں تو ویسے پتہ نہیں چلے گا، یہ اس وقت ہے جب خاوند نے کسی اور کو بتایا ہے کہ میں اب اپنی بیوی کو ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ“ کہوں گا یعنی ان شاء اللہ کے ساتھ میں اس کو طلاق دوں گا بھئی۔ تو اب جب خاوند نے دوسرے کو بتا دیا اب خاوند کہتا ہے ”أَنْتِ طَالِقٌ“ اور ساتھ ہی خاوند کا انتقال ہو گیا تو معلوم ہوا وہ ان شاء اللہ کہنا چاہتا تھا لیکن کہہ نہ سکا، تو بہرحال ان شاء اللہ تو ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کے ساتھ نہیں ملا، جب نہیں ملا تو ”أَنْتِ طَالِقٌ“ طلاق واقع ہو جائے گی بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ مَا إِذَا مَاتَ الزَّوْجُ“ بخلاف اس صورت کے کہ جب خاوند مر جائے، ”لِأَنَّهُ لَمْ يَتَّصِلْ بِهِ الِاسْتِثْنَاءُ“ اس لیے کیونکہ اس صورت میں اولِ کلام کے ساتھ استثنا نہیں ملا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“.
تعلیق کے بعد، یمین کے بعد صاحبِ ہدایہ استثنا کو ذکر فرما رہے ہیں۔ جی۔ اس لیے کیونکہ تعلیق اور استثنا یہ دونوں بیانِ تغییر ہیں۔ غَیَّرَ یُغَیِّرُ تَغْیِیْر کا معنیٰ ہے بدلنا۔ یہ بیانِ تغییر ہیں، یہ ماقبل کلام کو بدل دیتے ہیں۔ جی۔
تعلیق بھی ماقبل کلام کو بدل دیتی ہے اور استثنا بھی ماقبل کلام کو بدل دیتا ہے۔ مثلاً دیکھو، خاوند اگر اپنی بیوی سے یوں کہے: "أَنْتِ طَالِقٌ" تو فوراً ایک طلاق ہو جائے گی۔ جی۔ لیکن اگر وہ یوں کہے: "أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ"، تجھے ایک طلاق ہے اگر تو اس گھر میں گئی۔ اب طلاق واقع نہیں، جب تک اس گھر میں نہیں جائے گی طلاق واقع نہیں۔ تو دیکھو "أَنْتِ طَالِقٌ" سے تو طلاق واقع ہو رہی تھی، لیکن "إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ" آگے جب شرط آگئی اس نے اولِ کلام کو بدل دیا بھئی۔ اب فوراً طلاق واقع نہیں ہوگی بلکہ اس گھر میں جانے سے طلاق واقع ہوگی۔
معلوم ہوا شرط بیانِ تغییر ہے، یہ اولِ کلام کو بدل دیتی ہے۔ اسی طرح استثنا جو ہے وہ بھی بیانِ تغییر ہے، یہ بھی اولِ کلام کو بدل دیتا ہے۔ جی۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: "جَاءَنِي الْقَوْمُ"، میرے پاس وہ لوگ آئے۔ فرض کریں "الْقَوْمُ" سے مراد پانچ افراد کی ایک جماعت ہے، پانچ آدمی مراد ہیں اور ان میں زید بھی شامل ہے۔ تو جب میں نے آپ سے کہا: "جَاءَنِي الْقَوْمُ"، وہ لوگ میرے پاس آئے تھے، تو آپ سمجھ گئے زید بھی آیا ہوگا۔ جی۔ کیونکہ زید بھی انہی میں سے ہے، جب وہ آئے ہیں میرے پاس تو ان میں سے زید بھی ہے وہ بھی آیا ہوگا۔ لیکن آگے پھر میں کہتا ہوں: "إِلَّا زَيْدًا"، سوائے زید کے۔ جی۔ اب دیکھو "إِلَّا زَيْدًا" یہ استثنا ہے اور اس نے ماقبل کو بدل دیا۔
ماقبل کا تو کیا معنیٰ تھا؟ "جَاءَنِي الْقَوْمُ"، وہ لوگ آئے ہیں، معلوم ہوا زید بھی آیا ہے۔ لیکن "إِلَّا زَيْدًا" نے کیا کیا؟ ماقبل کو بدل دیا، بتلا دیا کہ زید نہیں آیا، زید کے علاوہ باقی لوگ مراد ہیں۔ یہاں پر آنے والوں میں زید داخل نہیں ہے بھئی۔ تو دیکھو اس نے کیا کیا؟ ماقبل کے کلام کو بدل دیا۔
تو شرط جو ہے وہ بھی بیانِ تغییر ہے، وہ بھی ماقبل کو بدل دیتی ہے۔ استثنا یہ بھی بیانِ تغییر ہے، یہ بھی اولِ کلام کو بدل دیتا ہے۔ لیکن فرق یہ ہے دونوں کے اندر کہ شرط جو ہے پورے اول کو بدل دیتی ہے، جی، اور استثنا اول کے جز کو بدل دیتا ہے۔ جی۔
شرط کیا ہے؟ پورے کل کو بدل دیتی ہے۔ خاوند نے کہا تھا: "أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ"، تو سارا اول بدل گیا، سارا معلق ہو گیا، چاہے ایک طلاق کہے وہ، چاہے دو کہے، چاہے تین کہے، جتنی بھی وہ ذکر کرے گا تو شرط ان سب کو معلق کر دے گی۔ جی۔
تو شرط پورے کلام کو بدل دیتی ہے جبکہ استثنا جز کو بدلتا ہے۔ "جَاءَنِي الْقَوْمُ" سے تو یہ معلوم ہو رہا تھا کہ سارے آئے ہیں اور زید بھی آیا ہے، لیکن "إِلَّا زَيْدًا" نے صرف زید کے بارے میں حکم بدل دیا کہ وہ نہیں آیا باقی آئے ہیں۔ جی۔ تو استثنا بھی بیانِ تغییر ہے لیکن یہ جز کو بدلتا ہے اور اور شرط بھی بیانِ تغییر ہے اور وہ کل کو بدل دیتی ہے بھئی۔ تو پہلے یمین کو ذکر کیا، جی، پچھلا باب کس کا تھا؟ یمین کا۔ یمین کا، باب الایمان گزرا بھئی، یمین کا۔ اور یمین کو پہلے ذکر کیا کیونکہ وہ کل کو بدل دیتی ہے۔ اب استثنا کو ذکر کر رہے ہیں، یہ بھی بیانِ تغییر ہے اور یہ جز کو بدلتا ہے تو اس لیے اس کو یمین کے بعد ذکر کیا۔
اور پھر یاد رکھو یہ استثنا دو قسم پر ہے۔ ایک استثنائے اصطلاحی ہے جو ہم علمِ نحو میں پڑھ چکے ہیں۔ جی۔ استثنا کسے کہتے ہیں؟ کہ "إِلَّا" یا اس کے اخوات کے ذریعے بعض افراد کو ماقبل کے حکم سے نکال لینا، اس کو استثنا کہتے ہیں۔ جیسے "جَاءَنِي الْقَوْمُ إِلَّا زَيْدًا"، القوم کے اندر تو زید بھی داخل تھا لیکن "إِلَّا" نے کیا کیا؟ زید کو ماقبل کے حکم سے نکال لیا ہے اور ماقبل والوں کا حکم کیا تھا؟ مجیئت کا ذکر تھا کہ وہ آئے ہیں تو زید کو اس زید کو اس حکم سے نکال لیا۔ "جَاءَنِي الْقَوْمُ إِلَّا زَيْدًا"، معلوم ہوا زید نہیں آیا باقی آئے ہیں بھئی۔ تو اصطلاح میں استثنا کسے کہتے ہیں؟ کہ "إِلَّا" یا اس کے اخوات کے ذریعے بعض افراد کو ماقبل کے حکم سے نکال لیا جائے، اس کو کہتے ہیں استثنا بھئی۔ یہ ہے استثنائے اصطلاحی بھئی۔ جی۔
اور ایک استثنائے عرفی ہے بھئی، عرفی۔ میں نے بتلایا تھا کہ عرف جو ہے وہ عام لوگوں کی عادت کو کہتے ہیں۔ یعنی عام عرب لوگ جو ہیں ان کی عادت میں استثنا "إِنْ شَاءَ اللّٰہ" کو کہتے ہیں۔ کلام میں کیا کہہ دینا؟ "إِنْ شَاءَ اللّٰہ" کہنا، اس کو وہ استثنا کہتے ہیں۔ تو یہ استثنائے عرفی ہے بھئی۔ کسی کلام کے ساتھ "إِنْ شَاءَ اللّٰہ" کوئی کہہ دے تو عربی زبان میں کہتے ہیں اس نے استثنا کیا ہے۔ جی۔ قرآن میں بھی اللہ فرماتے ہیں: "وَلَا يَسْتَثْنُونَ"، "وَلَا يَسْتَثْنُونَ"، اور یہ لوگ انشاء اللہ نہیں کہتے۔ دیکھو استثنا کا لفظ کس کے لیے استعمال ہوا؟ انشاء اللہ کہنے کے لیے۔ جی۔ تو استثنا کتنی قسم پر؟ دو۔ ایک استثنائے عرفی، ایک اصطلاحی۔ استثنائے عرفی کیا ہے؟ انشاء اللہ کہنا، اور استثنائے اصطلاحی کیا ہے؟ کہ "إِلَّا" اور اس کے اخوات کے ذریعے بعض افراد کو ماقبل کے حکم سے نکال لیا جائے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”فَصْلٌ فِي الِاسْتِثْنَاءِ“ یہ فصل ہے استثنا کے بارے میں۔ ”وَإِذَا قَالَ لِامْرَأَتِهِ“ اور جب کہا کسی شخص نے اپنی بیوی سے: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالَى“ دیکھا، "أَنْتِ طَالِقٌ" کے ساتھ انشاء اللہ کو ملا دیا۔ ”مُتَّصِلًا“ ملا کر، یہ ضروری ہے بھئی۔ یہ انشاء اللہ کو ملا کر کہے، اگر ملا کر نہ کہا پھر حکم بدل جائے گا۔ مثلاً خاوند نے بیوی سے کہا: "أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شَاءَ اللّٰہ"، تو یاد رکھو یاد رکھو اس صورت میں طلاق واقع نہیں ہوگی۔ جی۔ کیونکہ اس نے طلاق کو معلق کر دیا ہے اللہ کی مشیت کے ساتھ۔ تجھے طلاق ہے انشاء اللہ اگر اللہ چاہتے ہیں، تو اس نے طلاق کو معلق کر دیا اللہ کے چاہنے کے ساتھ، اللہ کی مشیت کے ساتھ۔ اور اللہ کی مشیت کا تو علم نہیں ہو سکتا اور آپ کو میں نے ضابطہ کل بتلایا تھا کہ جب شرط کا علم نہ ہو سکے تو جزا بھی نہیں آتی۔ تو یہاں پر بھی شرط کا علم نہیں ہو سکتا، اللہ کی مشیت کا پتہ نہیں چل سکتا، لہٰذا طلاق بھی واقع نہیں ہوگی۔
تو یہ جو انشاء اللہ کہا ہے اس کو ماقبل کے ساتھ متصل ہونا چاہیے۔ جی۔ درمیان میں خاموش نہ ہو، "أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شَاءَ اللّٰہُ تَعَالٰی"۔ اور اگر خاوند "أَنْتِ طَالِقٌ" کہہ کر خاموش ہوا اور پھر تھوڑی دیر کے بعد انشاء اللہ کہتا ہے تو اب اس کا کوئی اعتبار نہیں، اب معلوم ہوا وہ انشاء اللہ کہہ کر "أَنْتِ طَالِقٌ" سے رجوع کرنا چاہتا ہے، وہ تو "أَنْتِ طَالِقٌ" تو ہو چکا۔ جی۔ اب انشاء اللہ کہہ کر کچھ دیر خاموش رہا، اب انشاء اللہ کہہ کر کیا کرنا چاہتا ہے؟ اس سے رجوع کرنا چاہتا ہے اور حالانکہ طلاق تو واقع ہونے کے بعد رجوع کا احتمال نہیں رکھتی بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا قَالَ لِامْرَأَتِهِ“ اور جب کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالَى“ کہ تجھے طلاق ہے اگر اللہ نے چاہا، ”مُتَّصِلًا“ ملا کر، ملا کر اس نے یہ کہا، ”لَمْ يَقَعِ الطَّلَاقُ“ تو طلاق واقع نہیں ہوگی، ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کی وجہ سے کہ آپ نے فرمایا: ”مَنْ حَلَفَ بِطَلَاقٍ أَوْ عَتَاقٍ“ جس نے قسم اٹھا لی طلاق یا عتاق کی، ”وَقَالَ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالَى مُتَّصِلًا بِهِ“ اور اس نے اس کے ساتھ ملا کر "إِنْ شَاءَ اللّٰہُ تَعَالٰی" کہہ دیا، ”لَا حِنْثَ عَلَيْهِ“ تو اس شخص پر حانث ہونا نہیں ہے۔ جی۔ وہ حانث نہیں ہوگا اگر اس نے آزادی یا طلاق کے ساتھ انشاء اللہ کو ملا دیا ہے بھئی۔
آگے دیکھیے: ”وَلِأَنَّهُ أَتَى بِصُورَةِ الشَّرْطِ“ یہ تو نقلی دلیل ذکر کر دی، جی، کہ انشاء اللہ ساتھ ملاؤ گے تو طلاق واقع نہیں ہوگی کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ طلاق اور عتاق کے ساتھ انشاء اللہ کو ملاؤ تو شخص حانث نہیں ہوتا۔ اب عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں۔ عقلی دلیل یہ، کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ أَتَى بِصُورَةِ الشَّرْطِ فَيَكُونُ تَعْلِيقًا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ“ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ یہ شخص جو ہے اس کو شرط کی صورت پر لایا ہے۔ جی۔ کس کو؟ "إِنْ شَاءَ اللّٰہُ تَعَالٰی"۔ دیکھو "إِنْ" حرفِ شرط ہے، اگر اللہ نے چاہا۔ تو انشاء اللہ یہ جو اللہ کی مشیت کو اس شخص نے ذکر کیا ہے اس کو شرط کی صورت پر لایا ہے۔
سوال: شرط کی صرف صورت تو نہیں ہے، یہ تو حقیقت میں شرط ہے، صاحبِ ہدایہ کیا فرما رہے ہیں؟ شرط کی صورت پر لایا ہے۔ بھئی شرط کی صورت نہیں، یہ تو حقیقتاً شرط ہے۔ جی۔ "إِنْ" کس لیے آتا ہے؟ شرط کے لیے آتا ہے تو انشاء اللہ جب کہا تو یہ تو شرط ہے بھئی۔ لیکن صاحبِ ہدایہ اس کو شرط نہیں کہہ رہے، بس کہہ رہے ہیں شرط کی صورت ہے، شرط کی صورت ہے۔ وجہ یہ کہ شرط وہ ہوتی ہے جس میں تردد ہوتا ہے، اس کے ہونے کا بھی امکان ہوتا ہے، نہ ہونے کا بھی امکان ہوتا ہے۔ خاوند نے بیوی سے کہا: "إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ"، اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے۔ جی۔ تو اب اس گھر میں جانا اس میں امکان ہے، ہو سکتا ہے یہ پایا جائے، ہو سکتا ہے وہ گھر میں چلی جائے اور یہ بھی ہو سکتا ہے وہ اس گھر میں نہ جائے تو شرط وہ ہوتی ہے کہ جس کے اندر ہونے کا بھی امکان ہوتا ہے اور نہ ہونے کا بھی امکان ہوتا ہے۔ لیکن یہاں پر جو ہے اللہ کی مشیت کا تو پتہ نہیں چل سکتا بھئی، تو یہ عام شرطوں کی طرح نہیں ہے، یہ صرف شرط کی صورت ہے بھئی۔ جی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ أَتَى بِصُورَةِ الشَّرْطِ“ اس لیے کیونکہ یہ شخص جو ہے اس کو لایا ہے شرط کی صورت پر، ”فَيَكُونُ تَعْلِيقًا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ“ تو اس اعتبار سے یہ تعلیق ہے کہ شرط کی صورت پر لایا ہے، ”فَيَكُونُ تَعْلِيقًا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ“ تو اس اعتبار سے یہ تعلیق ہے، ”وَأَنَّهُ إِعْدَامٌ قَبْلَ الشَّرْطِ“ اور یہ تعلیق جو ہے یہ اعدام ہے شرط سے پہلے۔
بھئی دیکھیے، خاوند بیوی سے کہے گا: "أَنْتِ طَالِقٌ" تو اس سے فوراً طلاق ہو جائے گی۔ "أَنْتِ طَالِقٌ" ہے علت اور طلاق ہے اس کا معلول۔ یعنی ایقاعِ طلاق ہے علت، جی، خاوند نے "أَنْتِ طَالِقٌ" جو کہا ہے یہ کیا ہے؟ یہ ایقاعِ طلاق ہے، وہ طلاق واقع کر رہا ہے اور خاوند جب طلاق واقع کرے گا تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ تو ایقاعِ طلاق ہے علت اور وقوعِ طلاق اس کا معلول ہے۔ توجہ ہے؟ تو لہٰذا معلوم ہوا "أَنْتِ طَالِقٌ" جیسے ہی خاوند کہتا ہے بیوی کو طلاق ہو جاتی ہے کیونکہ یہ ایقاعِ طلاق ہے اور ایقاعِ طلاق علت ہوتی ہے اور وقوعِ طلاق اس کا معلول ہے اور علت جب پائی جائے معلول کا پایا جانا ضروری ہے، ایسا نہیں ہو سکتا علت پائی جائے اور معلول نہ پایا جائے۔ جی۔
لیکن اگر اسی کے ساتھ یہ "أَنْتِ طَالِقٌ" کے ساتھ خاوند اگر شرط ملا دے اور یوں کہے: "أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ"، تجھے طلاق ہے اگر تو اس گھر میں گئی، تو اس شرط نے کیا کیا؟ اس "أَنْتِ طَالِقٌ" کے علت ہونے کو معدوم کر دیا۔ جی۔ اب یہ علت نہیں، اب اس سے طلاق واقع نہیں ہو رہی جی، بلکہ یہ عورت جب اس گھر میں جائے گی تو اس وقت "أَنْتِ طَالِقٌ" آئے گا اور اس وقت طلاق بھی واقع ہو جائے گی۔ جی۔ تو شرط نے کیا کام کیا؟ شرط نے "أَنْتِ طَالِقٌ" کے علت ہونے کو معدوم کر دیا، اب یہ علت نہیں، اگر یہ علت ہوتی پھر تو معلول ضرور پایا جانا چاہیے تھا لیکن معلول تو پایا نہیں جا رہا، معلوم ہوا اب یہ علت بھی نہیں۔ جب گھر میں جائے گی اس وقت "أَنْتِ طَالِقٌ" آئے گا اور وہ علت بنے گا اور طلاق واقع ہو جائے گی۔ تو تعلیق جو ہے علت کو معدوم کر دیتی ہے شرط سے پہلے۔ جی۔ تعلیق جو ہے علت کو معدوم کر دیتی ہے، اس کو ختم کر دیتی ہے شرط پائے جانے سے پہلے۔ جب شرط پائی جائے گی پھر وہ علت بنے گا بھئی۔
تو یہی بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَأَنَّهُ إِعْدَامٌ قَبْلَ الشَّرْطِ“ اور یہ جو تعلیق ہے یہ اعدام ہے یعنی علت کو معدوم کرنا ہے ”قَبْلَ الشَّرْطِ“ شرط سے پہلے، ”وَالشَّرْطُ لَا يُعْلَمُ هَاهُنَا“ اور شرط تو یہاں پر معلوم ہی نہیں ہو سکتی کیونکہ شرط کیا ذکر کی ہے؟ اگر اللہ چاہے، اور اللہ کی مشیت کا تو علم نہیں ہو سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”وَالشَّرْطُ لَا يُعْلَمُ هَاهُنَا“ اور شرط تو یہاں معلوم ہی نہیں ہو سکتی، ”فَيَكُونُ إِعْدَامًا مِنَ الْأَصْلِ“ تو یہ تو معدوم کرنا ہے اصل سے ہی، یعنی سرے سے ہی بالکل ایک چیز کو معدوم کر دینا ہے، جی، اس کو ختم کر دینا ہے۔ جی۔
بھئی دیکھو، بھئی دیکھو، ایک ہے اعدامِ موقت، ایک ہے اعدامِ مؤبد۔ اعدامِ مؤبد کا کیا معنیٰ؟ ہمیشہ کے لیے معدوم کر دینا، ختم کر دینا، اور اعدامِ موقت کا معنیٰ ہے کچھ وقت کے لیے معدوم کر دینا۔ جی۔ مجھے بتائیے، خاوند نے بیوی سے کہا: "أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ"، یہ "إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ" نے کیا کام کیا؟ اس شرط نے "أَنْتِ طَالِقٌ" کو معدوم کر دیا۔ جی۔ اس کا اعدام کر دیا۔ أَعْدَمَ يُعْدِمُ إِعْدَام کا کیا معنیٰ؟ معدوم کرنا۔ تو شرط نے "أَنْتِ طَالِقٌ" کا اعدام کر دیا لیکن مؤبد اعدام نہیں ہے، موقت اعدام ہے، تھوڑی دیر کے لیے اس کو ختم کیا ہے۔ عورت جب بھی اس گھر میں جائے گی تو یہ اعدام ختم ہو جائے گا۔ جی۔ یہ اعدام ختم ہو جائے گا اور "أَنْتِ طَالِقٌ" آئے گا اور طلاق واقع ہو جائے گی۔ جی۔
تو "أَنْتِ طَالِقٌ" کیا ہے؟ طلاق کی علت، اور اس کو شرط نے شرط نے اس کا اعدام کر دیا لیکن ہمیشہ کے لیے اعدام کیا ہے یا موقت اعدام کیا ہے؟ موقت اعدام کیا ہے کچھ وقت کے لیے۔ جیسے ہی شرط پائی جائے گی یہ علت آ جائے گی اور طلاق واقع ہو جائے گی۔ جی۔ لیکن یہاں پر تو خاوند نے انشاء اللہ کہا ہے تو انشاء اللہ بھی شرط ہے اور شرط کیا کرتی ہے؟ اعدام۔ لیکن اس شرط کا تو پتہ ہی نہیں چل سکتا کبھی، اللہ کی مشیت کا تو پتہ نہیں چل سکتا۔ تو یہ اعدام موقت نہ ہوا بلکہ اعدامِ مؤبد ہو گیا، گویا ہمیشہ کے لیے ہی "أَنْتِ طَالِقٌ" کو ختم کر دیا، جی، اس کو جڑ سے ہی ختم کر دیا بھئی۔ لہٰذا اس سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔ عام تعلیق کے اندر تو جب شرط پائی جائے گی طلاق ہو جائے گی لیکن یہاں پر ایسی کوئی صورت نہیں، یہاں طلاق واقع نہیں ہو سکتی۔
تو انہوں نے کہا کہ ”وَأَنَّهُ إِعْدَامٌ قَبْلَ الشَّرْطِ“ یہ جو تعلیق ہوتی ہے یہ علت کو معدوم کرنا ہوتا ہے قبل الشرط شرط کے پائے جانے سے پہلے، ”وَالشَّرْطُ لَا يُعْلَمُ هَاهُنَا“ اور شرط جو ہے وہ تو یہاں پر معلوم ہی نہیں ہو سکتی، اللہ کی مشیت کا پتہ ہی نہیں چل سکتا، ”فَيَكُونُ إِعْدَامًا مِنَ الْأَصْلِ“ تو یہ اعدام ہے من الاصل اصل سے ہی یعنی بنیاد سے ہی، جڑ سے ہی ایک چیز کو ختم کر دینا، اس کو معدوم کر دینا، جی، یعنی اب یہاں جزا کے واقع ہونے کا کوئی احتمال نہیں، اس کو ہمیشہ کے لیے معدوم کر دیا۔ تو ”فَيَكُونُ إِعْدَامًا مِنَ الْأَصْلِ“ تو یہ جزا کو معدوم کرنا ہے اصل سے ہی یعنی جڑ سے ہی۔ ”وَلِهَذَا يُشْتَرَطُ أَنْ يَكُونَ مُتَّصِلًا بِهِ بِمَنْزِلَةِ سَائِرِ الشُّرُوطِ“ اور اسی لیے شرط ہے ”أَنْ يَكُونَ مُتَّصِلًا بِهِ“ کہ انشاء اللہ جو ہے اس طلاق کے ساتھ ملا ہوا ہو ”بِمَنْزِلَةِ سَائِرِ الشُّرُوطِ“ باقی شرطوں کے درجے میں۔ جیسے باقی شرطوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ جزا کے ساتھ ملی ہوئی ہوں اسی طرح یہاں انشاء اللہ کا بھی جزا کے ساتھ ملا ہونا ضروری ہے۔
”وَلَوْ سَكَتَ يَثْبُتُ حُكْمُ الْكَلَامِ الْأَوَّلِ“ میں نے آپ کو بتلایا اگر خاوند خاموش ہو گیا، درمیان میں کچھ وقفہ کر لیا پھر انشاء اللہ کہتا ہے تو اب طلاق واقع ہو چکی۔ جی۔ اب انشاء اللہ کہنے سے کچھ نہیں ہوگا کیونکہ معلوم ہوا اب وہ رجوع کرنا چاہتا ہے اور طلاق ایک دفعہ واقع ہو جائے تو وہ رجوع کا احتمال نہیں رکھتی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ سَكَتَ يَثْبُتُ حُكْمُ الْكَلَامِ الْأَوَّلِ“ اور اگر وہ شخص خاموش ہوا تو پہلے کلام کا حکم ثابت ہو جائے گا۔ پہلا کلام کون سا؟ "أَنْتِ طَالِقٌ"۔ یوں کہا تھا نا: "أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شَاءَ اللّٰہُ تَعَالٰی"، ملا کر کہا تھا تو یہ جو "أَنْتِ طَالِقٌ" ہے یہ ہے پہلا کلام اور انشاء اللہ کا اس کے ساتھ متصل ہونا ضروری ہے۔ تو اگر متصل نہیں کرے گا، خاموش رہا تو یہ اولِ کلام یعنی "أَنْتِ طَالِقٌ" واقع ہو جائے گا۔ جی۔ اس کا حکم کیا ہے؟ اس سے طلاق واقع ہو جاتی ہے، وہ واقع ہو جائے گی۔ یہ معنیٰ ہے ”وَلَوْ سَكَتَ“ اور اگر یہ خاوند خاموش ہو گیا یعنی "أَنْتِ طَالِقٌ" کہنے کے بعد، ”يَثْبُتُ حُكْمُ الْكَلَامِ الْأَوَّلِ“ تو اس پہلے کلام کا حکم ثابت ہو جائے گا، طلاق ہو جائے گی، ”فَيَكُونُ الِاسْتِثْنَاءُ أَوْ ذِكْرُ الشَّرْطِ بَعْدَهُ“ تو پھر استثنا کو ذکر کرنا یعنی انشاء اللہ کہنا ”أَوْ ذِكْرُ الشَّرْطِ بَعْدَهُ“ یا اس کے بعد شرط کو ذکر کرنا، یعنی وقفہ کرنے کے بعد ان کو ذکر کرنا، ”رُجُوعًا عَنِ الْأَوَّلِ“ یہ اول سے رجوع کرنا ہے اور رجوع تو طلاق سے نہیں ہو سکتا۔ بات سمجھ میں آگئی؟
ایک ہے نا استثنا کو متصل کرے، ایک ہے دوسری شرط۔ مثلاً خاوند بیوی سے کہتا ہے: "أَنْتِ طَالِقٌ"، پھر تھوڑی دیر بعد کہتا ہے: "إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ"، تو دیکھو معلوم ہوا اب "إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ" کے ذریعے وہ رجوع کرنا چاہتا ہے، "أَنْتِ طَالِقٌ" سے تو طلاق واقع ہو گئی تھی اور طلاق میں رجوع نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح تھوڑی دیر کے بعد انشاء اللہ کہتا ہے، معلوم ہوا یہ رجوع کرنا چاہتا ہے اور رجوع تو نہیں ہو سکتا۔ یہ معنیٰ ہے۔
”قَالَ“ آگے فرماتے ہیں: ”وَكَذَا إِذَا مَاتَتْ قَبْلَ قَوْلِهِ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالَى“ اور اسی طرح ہے حکم یعنی طلاق واقع نہیں ہوگی ”إِذَا مَاتَتْ قَبْلَ قَوْلِهِ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالَى“۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے: خاوند نے بیوی سے کہا: "أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شَاءَ اللّٰہُ تَعَالٰی"، ملا کر کہا، لیکن "أَنْتِ طَالِقٌ" جیسے ہی کہا ساتھ ہی عورت مر گئی۔ یعنی بیمار تھی یا کچھ تھا، خاوند نے "أَنْتِ طَالِقٌ" کہا اور ساتھ ہی وہ عورت مر گئی اور انشاء اللہ موت کے بعد ہو گیا، انشاء اللہ موت کے بعد ہو گیا، تو پھر کہتے ہیں اس صورت کے اندر بھی طلاق واقع نہیں ہوگی بھئی۔ جی۔ کیونکہ اس نے "أَنْتِ طَالِقٌ" کے ساتھ کیا ملایا ہے؟ انشاء اللہ ملایا ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا“ اور اسی طرح ہوگا یعنی طلاق واقع نہیں ہوگی ”إِذَا مَاتَتْ قَبْلَ قَوْلِهِ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالَى“ اگر وہ عورت مر گئی خاوند کے قول انشاء اللہ کہنے سے پہلے، ”لِأَنَّ بِالِاسْتِثْنَاءِ خَرَجَ الْكَلَامُ مِنْ أَنْ يَكُونَ إِيجَابًا“ اس لیے کیونکہ استثنا کی وجہ سے کلام نکل گیا ”مِنْ أَنْ يَكُونَ إِيجَابًا“ ایجاب ہونے سے۔ بھئی دیکھو، "أَنْتِ طَالِقٌ" جو ہے نا "أَنْتِ طَالِقٌ"، اس کے ذریعے طلاق ہوتی ہے، طلاق کا اثبات ہوتا ہے۔ تو یہ موجب ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ فقہ کی کتابوں میں وَجَبَ بمعنیٰ ثَبَتَ کے اور أَوْجَبَ بمعنیٰ أَثْبَتَ کے عام استعمال ہوتا ہے۔ تو یہاں پر بھی ایجاب کا معنیٰ ہے اثبات بھئی۔ دیکھو خاوند جب بیوی سے کہتا ہے "أَنْتِ طَالِقٌ" تو طلاق ثابت ہو جاتی ہے۔ جی۔ تو "أَنْتِ طَالِقٌ" کیا ہے؟ ایجاب ہے، اس میں طلاق کا اثبات کیا جا رہا ہے۔ جی۔ تو خاوند نے کیا کہا بیوی سے؟ "أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شَاءَ اللّٰہُ تَعَالٰی"، اور "أَنْتِ طَالِقٌ" کہتے ہی عورت مر گئی تو "أَنْتِ طَالِقٌ" تو ایجاب ہے لیکن اس کے ساتھ جب انشاء اللہ آیا اس نے اس کو ایجاب سے نکال دیا۔ جی۔ اس کو ایجاب سے نکال دیا، اب اس "أَنْتِ طَالِقٌ" سے طلاق واقع نہیں ہو سکتی۔ تو یہ معنیٰ ہے ”لِأَنَّ بِالِاسْتِثْنَاءِ“ کہتے ہیں اس استثنا کی وجہ سے یعنی انشاء اللہ کہنے کی وجہ سے ”خَرَجَ الْكَلَامُ مِنْ أَنْ يَكُونَ إِيجَابًا“ کلام ایجاب ہونے سے نکل گیا، اب اس کے ذریعے طلاق کا اثبات نہیں ہو رہا۔
”وَالْمَوْتُ يُنَافِي الْمُوجِبَ دُونَ الْمُبْطِلِ“ بھئی دیکھو، "أَنْتِ طَالِقٌ" یہ ہے ایجاب، جی، یہ کیا ہے؟ ایجاب، اس کے ذریعے طلاق کا اثبات ہوتا ہے۔ یعنی یوں کہو "أَنْتِ طَالِقٌ" موجب ہے، اثبات کرنے والا ہے۔ جی۔ "أَنْتِ طَالِقٌ" کیا ہے؟ اثبات کرنے والا ہے، کس چیز کا اثبات کرتا ہے؟ طلاق کا۔ "أَنْتِ طَالِقٌ" طلاق کا اثبات کرتا ہے تو یہ ہے موجب۔ اور اس کے ساتھ اگر ہم شرط جوڑ دیں، جی: "أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ"، تو اس شرط نے کیا کیا؟ اس "أَنْتِ طَالِقٌ" کو باطل کر دیا فی الحال۔ جی۔ ابھی بتایا یا نہیں؟ اعدامِ موقت ہوتا ہے کہ شرط کی وجہ سے اعدامِ موقت ہوتا ہے، علت علت نہیں رہتی کچھ وقت کے لیے جب تک وہ شرط نہ پائی جائے۔ جی۔ تو لہٰذا "أَنْتِ طَالِقٌ" کیا ہے؟ موجب، یہ ایجاب کرنے والا ہے، اثبات کرنے والا ہے اور ساتھ شرط لگا دو، شرط کیا ہوتی ہے؟ وہ مبطل ہوتی ہے۔ جی۔ یا اسی طرح انشاء اللہ کہہ دیا، انشاء اللہ بھی کیا ہے؟ مبطل ہے، وہ اس کے موجب ہونے کو باطل کر دیتا ہے۔ جی۔ موجب ہونے کو باطل کر دیتا ہے۔
تو صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں: ”وَالْمَوْتُ يُنَافِي الْمُوجِبَ دُونَ الْمُبْطِلِ“ موت جو ہے موجب کے منافی ہے، مبطل کے منافی نہیں۔ دراصل یہاں ایک شبہ پیدا ہوتا ہے۔ شبہ یہ کہ خاوند نے "أَنْتِ طَالِقٌ" اس عورت کی زندگی میں کہا ہے اور انشاء اللہ موت کے بعد کہا ہے۔ لہٰذا اس انشاء اللہ کو باطل ہونا چاہیے کیونکہ یہ کب آیا ہے؟ عورت کے مرنے کے بعد۔ جب عورت کے مرنے کے بعد یہ آیا ہے تو اس کا کوئی اعتبار نہیں ہونا چاہیے، جب اس کا اعتبار نہیں ہے تو "أَنْتِ طَالِقٌ" سے طلاق واقع ہونی چاہیے، لیکن آپ ہمیں کیا کہہ رہے ہیں کہ اس صورت میں طلاق واقع نہیں ہوگی۔ تو اس کا اب جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ، کہ بھئی دیکھیے موت کی وجہ سے انشاء اللہ باطل نہیں ہوگا۔ جی۔ وجہ یہ کہ موت موجب کے منافی ہے، مبطل کے منافی نہیں۔ جی۔ موت موجب کے منافی ہے، موت کی وجہ سے ایجاب نہیں ہو سکتا۔ جی۔ تو موت موجب کے منافی ہے، موت کی وجہ سے "أَنْتِ طَالِقٌ" اپنا عمل نہیں کرے گا لیکن موت جو ہے مبطل کے منافی نہیں ہے بھئی کیونکہ موت خود بھی مبطل ہے۔ موت خود بھی مبطل ہے، ابھی تو مسئلہ بتایا، خاوند بیوی سے کہتا ہے تجھے طلاق ہے میری موت کے ساتھ یا تیری موت کے ساتھ، تو موت کے وقت "أَنْتِ طَالِقٌ" آئے گا اور موت کے وقت تو بیوی محل نہیں اور خاوند میں اہلیت نہیں تو موت کے وقت اگر بیوی مری ہے تو وہ طلاق کا محل نہیں اور اگر خاوند مرا ہے تو خاوند طلاق کا اہل نہیں بھئی۔ تو لہٰذا موت جو ہے وہ مبطل ہے، وہ "أَنْتِ طَالِقٌ" کو باطل کرنے والی ہے۔ توجہ ہے؟ تو موت کی وجہ سے "أَنْتِ طَالِقٌ" باطل ہو جاتا ہے تو موت خود مبطل ہے اور انشاء اللہ بھی مبطل ہے اور مبطل اور مبطل کے درمیان منافات نہیں ہے بلکہ مبطل اور موجب کے درمیان منافات ہے۔ لہٰذا موت کی وجہ سے موجب یعنی "أَنْتِ طَالِقٌ" تو ختم ہو جاتا ہے لیکن موت کی وجہ سے انشاء اللہ یا تعلیق وغیرہ ختم نہیں ہوتی، بات سمجھ میں آگئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَالْمَوْتُ يُنَافِي الْمُوجِبَ دُونَ الْمُبْطِلِ“ اور موت جو ہے وہ موجب کے منافی ہے ”دُونَ الْمُبْطِلِ“ مبطل کے منافی نہیں۔ موجب کیا؟ "أَنْتِ طَالِقٌ"، جی، یعنی یوں کہو تطلیق، طلاق دینا۔ طلاق دینا کیا ہے؟ موجب ہے، اس سے طلاق آ جاتی ہے۔ تو موت جو ہے تطلیق کے منافی ہے، تعلیق کے منافی نہیں ہے بھئی۔ حاصلِ کلام سمجھ میں آیا؟ موت تطلیق کے منافی ہے، موت کی وجہ سے تطلیق نہیں ہو سکتی لیکن موت تعلیق کے منافی نہیں۔ جی۔
تو کہتے ہیں: ”وَالْمَوْتُ يُنَافِي الْمُوجِبَ دُونَ الْمُبْطِلِ“ موت جو ہے موجب یعنی مثبت کے منافی ہے ”دُونَ الْمُبْطِلِ“ مبطل یعنی تعلیق اور استثنا کے منافی نہیں ہے، ”بِخِلَافِ مَا إِذَا مَاتَ الزَّوْجُ“ ہاں، بخلاف اس صورت کے کہ جب خاوند مر جائے۔ خاوند بیوی سے کہنا چاہتا ہے: "أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالَى"، جی، یہ کہنا چاہتا ہے اور ابھی "أَنْتِ طَالِقٌ" کہا تھا اور خاوند کا انتقال ہو گیا، انشاء اللہ نہ کہہ سکا، جی، تو اب طلاق واقع ہو جائے گی۔ جی۔ اب طلاق واقع ہو جائے گی۔ کیوں؟ کیونکہ "أَنْتِ طَالِقٌ" پایا گیا اور اس کے ساتھ انشاء اللہ نہیں آیا، اگر انشاء اللہ آ جاتا تو اس نے واقع نہیں ہونا تھا۔ اور نیز یہ بھی یاد رکھنا کہ خاوند انشاء اللہ کہنا چاہتا تھا یہ تو ہمیں ایسے پتہ نہیں چلے گا۔ جی۔ "أَنْتِ طَالِقٌ" کہہ کر وہ مر گیا، انشاء اللہ نہیں کہا اس نے تو ہمیں تو ویسے پتہ نہیں چلے گا، یہ اس وقت ہے جب خاوند نے کسی اور کو بتایا ہے کہ میں اپنی بیوی کو "أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شَاءَ اللّٰہ" کہوں گا، یعنی انشاء اللہ کے ساتھ میں اس کو طلاق دوں گا بھئی۔ جی۔ تو اب جب خاوند نے دوسرے کو بتا دیا، اب خاوند کہتا ہے: "أَنْتِ طَالِقٌ" اور ساتھ ہی خاوند کا انتقال ہو گیا، تو معلوم ہوا وہ انشاء اللہ کہنا چاہتا تھا، جی، لیکن کہہ نہ سکا، تو بہرحال انشاء اللہ تو "أَنْتِ طَالِقٌ" کے ساتھ نہیں ملا، جب نہیں ملا تو "أَنْتِ طَالِقٌ" طلاق واقع ہو جائے گی بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ مَا إِذَا مَاتَ الزَّوْجُ“ بخلاف اس صورت کے کہ جب خاوند مر جائے، ”لِأَنَّهُ لَمْ يَتَّصِلْ بِهِ الِاسْتِثْنَاءُ“ اس لیے کیونکہ اس صورت میں اولِ کلام کے ساتھ استثنا نہیں ملا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔