آگے سبق دیکھیے بھئی:
”وَإِنْ طَلَّقَهَا نِصْفَ تَطْلِيقَةٍ أَوْ ثُلُثَ تَطْلِيقَةٍ كَانَتْ طَالِقًا تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً، لِأَنَّ الطَّلَاقَ لَا يَتَجَزَّأُ، وَذِكْرُ بَعْضِ مَا لَا يَتَجَزَّأُ كَذِكْرِ الْكُلِّ، وَكَذَا الْجَوَابُ فِي كُلِّ جُزْءٍ سَمَّاهُ لِمَا بَيَّنَّا، وَلَوْ قَالَ لَهَا: أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثَةَ أَنْصَافِ تَطْلِيقَتَيْنِ فَهِيَ طَالِقٌ ثَلَاثًا“۔
گزشتہ سبق میں ہم نے ”بَابُ إِيقَاعِ الطَّلَاقِ“ شروع کیا تھا۔ طلاق واقع کرنے سے متعلق جو احکام ہیں اور طلاق واقع کرنے میں جو الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں تو کس کا کیا حکم ہوگا، وہ صاحبِ ہدایہ بیان فرما رہے تھے بھئی۔
صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ طلاق دو قسم پر ہے: ایک صریح اور ایک کنایہ۔ صریح وہ طلاق ہے جس کے اندر طلاق کے علاوہ کوئی اور معنیٰ نہ ہو، جیسے: ”أَنْتِ طَالِقٌ“، ”أَنْتِ مُطَلَّقَةٌ“ یا ”طَلَّقْتُكِ“ وغیرہ۔ تو یہاں پر طلاق کے علاوہ اور کوئی معنیٰ نہیں ہے، اور صریح کا حکم یہ ہے کہ اس کے اندر نیت کی بھی ضرورت نہیں ہوتی، اس سے طلاق خود بخود واقع ہو جائے گی، اور نیز ایک ہی طلاق ہوگی اور طلاق بھی رجعی ہوگی۔ الا یہ کہ اس کے ساتھ کوئی مزید لفظ یا صفت وغیرہ بڑھا دے تو پھر اس صورت میں طلاقِ بائن ہو سکتی ہے، لیکن ویسے خود صریح لفظ سے طلاقِ رجعی ہی ہوتی ہے بھئی۔ اور اگر کسی نے اس کے ذریعے طلاقِ بائنہ کی بھی نیت کی تو بائنہ اس سے واقع نہیں ہوگی، رجعی ہی واقع ہوگی بھئی۔ تو اس سے ایک ہی طلاق واقع ہوگی، اگرچہ زیادہ کی نیت ہی کیوں نہ کر لے، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، صریح کے ذریعے جتنی طلاقوں کی نیت خاوند کرے گا اتنی ہی طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔ وجہ یہ کہ مثلاً ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کہا ہے، تو ”طَالِقٌ“ صفت ہے، یعنی مشتق ہے اور ہر مشتق کے ضمن میں مشتق منہ یعنی مصدر بھی آ جاتا ہے۔
نیز اس ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کے ساتھ کبھی تمییز بھی لائی جاتی ہے، مثلاً: ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا“ یا ”أَنْتِ طَالِقٌ اثْنَتَيْنِ“، تو یہاں دیکھو یہ جو ”ثَلَاثًا“ اور ”اثْنَتَيْنِ“ ہے یہ تمییز ہے ماقبل سے، اور تمییز جو ہے ماقبل کلام سے ابہام کو دور کرتی ہے، یعنی ماقبل کے کلام کے اندر، ماقبل کی نسبت کے اندر جو احتمالات ہوتے ہیں ان میں سے کسی ایک احتمال کو متعین کر دیتی ہے۔ تو ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا“ یہ جو ”ثَلَاثًا“ تمییز آ رہی ہے، اس نے ماقبل کے ”ثَلَاثًا“ کے احتمال کو متعین کر دیا، معلوم ہوا ماقبل میں ”ثَلَاثًا“ کا بھی احتمال تھا۔ ”أَنْتِ طَالِقٌ اثْنَتَيْنِ“ دیکھو اس کے اندر ”اثْنَتَيْنِ“ نے ماقبل کے احتمال کو پکا کر دیا، معلوم ہوا ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کے اندر ”اثْنَتَيْنِ“ کا بھی احتمال تھا، تو تمییز ماقبل کلام کے احتمال کو متعین کرتی ہے۔ معلوم ہوا ”أَنْتِ طَالِقٌ“ میں ایک کا بھی احتمال ہے، دو کا بھی احتمال ہے اور تین کا بھی احتمال ہے، اور جب ایک کلام کے اندر ایک چیز کا احتمال بھی موجود ہو اور پھر کہنے والا اس کی نیت بھی کر لے تو وہ ثابت ہو جاتا ہے، لہٰذا ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کے ذریعے خاوند ایک کی بھی نیت کر سکتا ہے، دو کی بھی نیت کر سکتا ہے اور تین کی بھی، کیونکہ یہ سب اس کے محتمل ہیں، ان سب کا اس میں احتمال ہے۔
جبکہ ہمارے نزدیک ”أَنْتِ طَالِقٌ“ یہ جو ”طَالِقٌ“ ہے یہ مفرد صفت ہے بھئی۔ اس کا موصوف مفرد ہے، أَيْ: ”أَنْتِ امْرَأَةٌ طَالِقٌ“، اور موصوف مفرد ہو تو صفت بھی مفرد ہوتی ہے، تو یہ مفرد کی صفت ہے اور دو اور تین یہ تو عدد ہیں بھئی۔ میں نے بتلایا تھا علمِ ریاضی والوں کے نزدیک عدد کسے کہتے ہیں؟ مجموعۂ حاشیتین کا نصف۔ لہٰذا ایک تو عدد نہیں ہے، کیونکہ ایک کے اوپر تو دو کا عدد ہے لیکن ایک سے نیچے کوئی عدد نہیں، جبکہ ایک کے علاوہ باقی سارے عدد ہیں۔ تو ہماری دلیل چل رہی تھی کہ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ یہ ”طَالِقٌ“ مفرد ہے، لہٰذا اس میں عدد کا احتمال نہیں کیونکہ مفرد اور عدد ایک دوسرے کی ضد ہیں، جو مفرد ہے وہ عدد نہیں اور جو عدد ہے وہ مفرد نہیں ہے بھئی۔
اور باقی آپ نے کہا کہ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کے اندر ”طَالِقٌ“ مشتق ہے اور مشتق کے ضمن کے اندر مشتق منہ بھی آ جاتا ہے، تو اس کا جواب بھی دیا کہ یہاں ”طَالِقٌ“ کے ضمن میں ”طَلَاق“ مصدر ہے، اور ”طَلَاق“ مصدر یہ تو عورت کی صفت ہے، مرد کی صفت تو ”تَطْلِيق“ ہے، تطلیق جو ہے اس کے اندر ایک، دو یا تین کی نیت ہو سکتی ہے۔ تطلیق یعنی طلاق دینا، اور طلاق مصدر یہ تو عورت کی صفت ہے، یہ عدد سے موصوف نہیں ہوتی بلکہ یہ رجعی یا بائن ہونے کے ساتھ موصوف ہوتی ہے کہ یہ طلاق یا رجعی ہوگی یا بائن ہوگی، تو لہٰذا یہاں عدد کا کوئی احتمال نہیں ہے، کیونکہ طلاق مصدر یہ عورت کی صفت ہے، اس میں عدد کا احتمال نہیں، رجعی اور بائن ہونے کا تو احتمال ہے لیکن عدد کا احتمال نہیں۔ اور تطلیق جو خاوند کا فعل ہے وہ عدد کا احتمال رکھتی ہے، لیکن وہ تو یہاں موجود ہی نہیں، ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کے ضمن میں طلاق مصدر تو ہے، تطلیق نہیں ہے، اور تطلیق جو ہے وہ عدد کا احتمال رکھتا ہے، وہاں خاوند ایک، دو یا تین کی نیت کر سکتا ہے۔
اور باقی آپ نے کہا تھا ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا“ کہ یہ ”ثَلَاثًا“ تمییز ہے، تو اس کا بھی جواب دیا کہ یہ تمییز نہیں ہے بلکہ اس کا موصوف محذوف ہے، أَيْ: ”أَنْتِ طَالِقٌ طَلَاقًا ثَلَاثًا“، تو یہ طلاق کی صفت ہے جو مصدرِ محذوف ہے بھئی۔
اور اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے کچھ مسائل ذکر کیے تھے جن میں مصدر کو ساتھ ذکر کیا گیا تھا، کس کو؟ مصدر کو، مثلاً: ”أَنْتِ الطَّلَاقُ“۔ تو ”الطَّلَاقُ“ مصدر ہے اور معرفہ ہے، اس پر الف لام داخل ہے اور اس کا حمل کیا عورت پر، اور عورت تو طلاق نہیں ہے، وہ تو طلاق والی ہو سکتی ہے، طلاق نہیں ہو سکتی، تو بتلایا صاحبِ ہدایہ نے کہ مصدر کا حمل ذات پر کیا جاتا ہے اور پھر وہاں وہ صفت کے معنیٰ میں ہوتا ہے، تو ”أَنْتِ الطَّلَاقُ“ یہ کس معنیٰ میں ہوا؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کے معنیٰ میں ہوا، لہٰذا اس سے طلاق واقع ہو جائے گی بھئی۔
اسی طرح اگر مفعولِ مطلق لاتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ الطَّلَاقَ“، ”أَنْتِ طَالِقٌ“ اور مفعولِ مطلق معرفہ لایا الف لام کے ساتھ: ”الطَّلَاقَ“، ”أَنْتِ طَالِقٌ الطَّلَاقَ“ یا مفعولِ مطلق کو نکرہ لایا: ”أَنْتِ طَالِقٌ طَلَاقًا“، تو اس صورت کے اندر بھی طلاق واقع ہو جائے گی، اس لیے کیونکہ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ سے طلاق واقع ہو رہی تھی، تو ”طَالِقٌ“ کے لیے آگے مفعولِ مطلق بھی لے آئے تو مفعولِ مطلق اسی ماقبل کے فعل کو پکا کر دیتا ہے، تو آگے جو ”الطَّلَاقَ“ آ رہی تھی اس نے اس ”طَالِقٌ“ کو پکا کر دیا، تو جب صرف ”أَنْتِ طَالِقٌ“ بغیر تاکید کے ہو اس سے طلاق ہو جاتی ہے تو جب ”طَالِقٌ“ تاکید کے ساتھ ہو تو اس سے بطریقِ اولیٰ طلاق تو ہو جائے گی۔ ہاں البتہ جب مصدر کو استعمال کیا ہے تو وہاں پر تین کی بھی نیت کر سکتا ہے خاوند، کیونکہ مصدر اسمِ جنس ہے اور اسمِ جنس کا اطلاق قلیل اور کثیر پر ہوتا ہے، اس میں جنس کا اطلاق قلیل پر بھی ہوتا ہے اور کثیر پر، یعنی پوری جنس پر۔ پوری جنس پر بھی اسمِ جنس کا اطلاق ہوتا ہے، جیسے انسان، انسان بول کر ایک انسان بھی آپ مراد لے سکتے ہیں اور انسان بول کر تمام انسان بھی آپ مراد لے سکتے ہیں کیونکہ وہ بھی ایک ہی جنس ہے۔ توجہ ہے؟ تو لہٰذا یہاں پر مصدر کا لفظ آیا اور مصدر کا لفظ یہ تو مفرد ہے، طلاق لفظ کیا ہے؟ مفرد ہے، لہٰذا مفرد لفظوں کے معنیٰ میں بھی مفرد کی رعایت رکھی جاتی ہے، لہٰذا اس کا معنیٰ بھی مفرد ہوگا، لیکن مفرد دو ہو سکتے ہیں: ایک مفردِ حقیقی، ایک مفردِ حکمی۔ مفردِ حقیقی وہ ہے جو حقیقت میں ایک ہو۔ تو ”أَنْتِ الطَّلَاقُ“ اس کے اندر ایک کی نیت کرتا ہے تو ایک ہی واقع ہو جائے گی، یا کوئی نیت نہیں کرتا پھر بھی ایک ہو جائے گی، یا دو کی نیت کرتا ہے پھر بھی ایک ہی ہوگی بھئی، کیونکہ یہ طلاق مفرد ہے، یعنی جو اسمِ جنس ہے یہ ادنیٰ کو تو یقینی طور پر شامل ہے اور کل کا اس میں احتمال ہوتا ہے۔ تو ”أَنْتِ الطَّلَاقُ“ کے اندر ایک کو تو یہ یقینی شامل ہے، ایک طلاق تو ضرور ہوگی، لیکن کل یعنی تین طلاقوں کا بھی اس میں احتمال ہے، لہٰذا اگر اس مصدر والے لفظوں کے اندر خاوند نے تین طلاقوں کی نیت کر لی تو تین بھی واقع ہو جائیں گی، اس لیے کیونکہ تین یہ کل طلاقیں ہیں آزاد عورت کی۔ اور تو یہ کل جنس ہے، تو لہٰذا طلاق مفرد لفظ ہے، مصدر ہے اور جو مفرد لفظ ہو اس کے اندر مفرد معانی کی رعایت رکھی جاتی ہے اور مفرد جو ہے معنیٰ جو ہے وہ یا تو فردِ حقیقی ہوگا یا فردِ حکمی ہوگا یعنی پوری جنس ہوگی۔ تو بہرحال فردِ حقیقی ہو وہ بھی مفرد ہے، یا پوری ایک جنس ہے یہ بھی کیا ہے؟ مفرد ہے کہ پوری ایک جنس ہے۔ تو لہٰذا مصدر بول کر ایک طلاق کا بھی ارادہ کیا جا سکتا ہے اور پوری جنس یعنی تین طلاقوں کا ارادہ بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن دو تو عدد ہے اور عدد کا یہاں ارادہ نہیں ہو سکتا، کیونکہ مفرد اور عدد دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں بھئی۔
اور اگر یہی لفظ جو ہے ”أَنْتِ طَالِقٌ الطَّلَاقَ“ مفعولِ مطلق جو ساتھ آ رہا ہے ”أَنْتِ طَالِقٌ الطَّلَاقَ“ یا ”أَنْتِ طَالِقٌ طَلَاقًا“ مصدر یا نکرہ لے آؤ یا معرفہ لے آؤ، تو دونوں صورتوں میں اگر خاوند کہتا ہے میں نے دو کی نیت کی تھی، تو اگر ویسے دو کی نیت کی ہے پھر تو طلاق مصدر ہے اور مصدر کے اندر عدد کا احتمال نہیں، لیکن اگر خاوند کہتا ہے میں نے ”أَنْتِ طَالِقٌ“ یہ ”طَالِقٌ“ سے میں نے ایک طلاق کی نیت کی تھی اور آگے ”الطَّلَاقَ“ جو مفعولِ مطلق آ رہا ہے، ”الطَّلَاقَ“ یا ”طَلَاقًا“ جو نکرہ ہے، تو اس کے ذریعے میں نے دوسری طلاق کی نیت کی تھی، پھر دو طلاقیں واقع ہو جائیں گی، پھر دو طلاقیں واقع ہو جائیں گی، اس لیے کیونکہ ان میں سے ہر ایک سے طلاق واقع ہو سکتی ہے، ”طَالِقٌ“ سے بھی اور ”الطَّلَاقَ“ یا ”طَلَاقًا“ سے بھی بھئی۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر طلاق کی نسبت پوری عورت کی طرف کی جائے تب بھی طلاق واقع ہو جائے گی، اور اگر اس کے کسی ایسے عضو کی طرف طلاق کی نسبت کی جائے جس کے ساتھ پورے بدن کو تعبیر کیا جاتا ہے تو اس صورت میں بھی طلاق ہو جائے گی، لیکن اگر ایسے عضو کی طرف طلاق کی نسبت کی جس کے ساتھ پورے بدن کو تعبیر نہیں کیا جاتا جیسے ید ہے یا رجل ہے کہ ”يَدُكِ طَالِقٌ“ یا ”رِجْلُكِ طَالِقٌ“، تو پھر اس صورت کے اندر طلاق واقع نہیں ہوگی عند الاحناف بھئی، جبکہ عند الشوافع اور امام زفر رحمہما اللہ کے نزدیک طلاق واقع ہو جائے گی بھئی۔ اور اگر طلاق کی نسبت جزءِ شائع کی طرف کی، یعنی وہ جز جو پھیلا ہوا ہے پورے بدن کے اندر، عورت کو کہتا ہے: تمہارے نصف کو طلاق ہے یا تمہارے ثلث کو طلاق ہے، تو اس صورت کے اندر بھی عورت کو طلاق ہو جائے گی، اس لیے کیونکہ یہ جو جزءِ شائع ہوتا ہے، پھیلا ہوا جو جز ہوتا ہے، یہ تمام تصرفات کا محل ہے، اس کے اندر بیع و شراء بھی جاری ہوتی ہے اور لہٰذا طلاق بھی اس پر واقع ہو جائے گی کیونکہ طلاق بھی ایک تصرف ہے بھئی۔ البتہ ایک بات ہے، یہ طلاق پھر صرف اس جز تک نہیں رہے گی بلکہ سرایت کر جائے گی پوری ذات میں آ جائے گی، یعنی پوری عورت کو ہی طلاق ہو جائے گی بھئی۔
اب آئیے آج کے سبق پر۔ کہتے ہیں:
”وَإِنْ طَلَّقَهَا نِصْفَ تَطْلِيقَةٍ أَوْ ثُلُثَ تَطْلِيقَةٍ كَانَتْ طَالِقًا تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً“۔
صورتِ مسئلہ یہ: خاوند اپنی بیوی سے کہتا ہے: تمہیں آدھی طلاق ہے، یا کہتا ہے: تمہیں ثلثِ طلاق ہے، یا کہتا ہے: تمہیں ایک طلاق کا سوواں حصہ طلاق ہے، یاد رکھو، طلاق پوری ذکر کرے یا جز ذکر کرے، حکم ایک ہی ہے، طلاق واقع ہو جائے گی۔ مثلاً خاوند نے کہا: تمہیں آدھی طلاق ہے، بھئی طلاق کی تو تقسیم نہیں ہو سکتی، طلاق تو آدھی نہیں ہو سکتی، لہٰذا یہ پوری طلاق ہو جائے گی، ایک طلاق ہو جائے گی۔ یا اگر کہا: تمہیں ثلثِ طلاق ہے، طلاق کا تیسرا حصہ ہے، تو بھی پوری طلاق ہو جائے گی۔ اور یا اسی طرح کہتا ہے: تمہیں ایک طلاق کا سوواں حصہ طلاق ہے، بھئی طلاق کے اندر تو تقسیم نہیں ہو سکتی، لہٰذا پوری طلاق ہو جائے گی۔
تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ طَلَّقَهَا نِصْفَ تَطْلِيقَةٍ أَوْ ثُلُثَ تَطْلِيقَةٍ“ اور اگر خاوند نے بیوی کو نصفِ طلاق دی یا ثلثِ طلاق دی، ”كَانَتْ طَالِقًا تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً“ تو اس صورت میں اس عورت کو ایک ہی طلاق ہو جائے گی، ”لِأَنَّ الطَّلَاقَ لَا يَتَجَزَّأُ“ اس لیے کیونکہ طلاق جو ہے اس میں تقسیم نہیں ہوتی، ”وَذِكْرُ بَعْضِ مَا لَا يَتَجَزَّأُ كَذِكْرِ الْكُلِّ“ اور جو چیز تقسیم نہیں ہوتی اس کے جز کو بھی ذکر کرنا اسی طرح ہے جیسے کل کو ذکر کیا جائے، وہ چیز جو تقسیم کو قبول نہیں کرتی اس کے جز کو بھی ذکر کر دیا جائے تو گویا آپ نے کل کو ذکر کر دیا کیونکہ تقسیم تو اس کی ہوتی نہیں، تو جز کا ذکر بھی کل کی طرح ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الطَّلَاقَ لَا يَتَجَزَّأُ“ اس لیے کیونکہ طلاق جو ہے وہ تقسیم نہیں ہوتی، ”وَذِكْرُ بَعْضِ مَا لَا يَتَجَزَّأُ كَذِكْرِ الْكُلِّ“ اور ذکر کرنا اس چیز کے بعض کو جو تقسیم نہیں ہوتی یہ اسی طرح ہے جیسے کہ اس کے کل کو ذکر کر دیا جائے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے قصاص، ایک شخص نے دوسرے شخص کو آلۂ قتل سے جان بوجھ کر قتل کیا ہے تو آپ جانتے ہیں اس صورت میں قصاص آتا ہے، قاتل کو بھی قتل کیا جائے گا، اور اس قصاص کے اندر اگر کوئی ورثاء میں سے کوئی ایک بھی معاف کر دے گا تو قصاص ساقط ہو جائے گا، اس لیے کیونکہ بعضِ قصاص کو معاف کرنا اسی طرح ہے جیسے کل قصاص کو معاف کرنا، کیونکہ قصاص کی تقسیم نہیں ہو سکتی کہ کچھ قتل کر دیا جائے اور کچھ قتل نہ کیا جائے، ایسا نہیں ہو سکتا، یا تو قتل کیا جائے گا یا قتل نہیں کیا جائے گا، دو ہی صورتیں ہیں، تو قصاص تقسیم کو قبول نہیں کرتا، لہٰذا بعضِ قصاص کو بھی معاف کریں گے تو کل قصاص ہی معاف ہو جائے گا اور ساقط ہو جائے گا۔
تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا الْجَوَابُ فِي كُلِّ جُزْءٍ سَمَّاهُ“ اور اسی طرح ہے جواب ہر اس جز میں جو خاوند ذکر کرے، خاوند جو بھی جز ذکر کرے گا اس میں یہی جواب ہے، یہی مسئلہ ہے، یعنی پچاسواں جز ذکر کرے، سوواں جز ذکر کرے، ہزارواں جز ذکر کرے کہ میں تمہیں طلاق کا ہزارواں جز طلاق دیتا ہوں تو بھی ایک پوری طلاق ہو جائے گی۔ یہ معنیٰ ہے: ”وَكَذَا الْجَوَابُ فِي كُلِّ جُزْءٍ سَمَّاهُ“ اور اسی طرح ہے جواب ہر ایسا جز جس کو خاوند بیان کرے، جس کو خاوند ذکر کرے، ”لِمَا بَيَّنَّا“ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا کہ طلاق تقسیم کو قبول نہیں کرتی۔
”وَلَوْ قَالَ لَهَا: أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثَةَ أَنْصَافِ تَطْلِيقَتَيْنِ“ خاوند بیوی سے کہتا ہے: تمہیں دو طلاقوں کے تین نصف طلاق ہے۔ دو طلاقوں کے تین نصف، دو طلاقوں کا نصف کتنا؟ ایک، یہ نصف ہے، اور تین نصف کتنے ہو گئے؟ دو طلاقوں کا نصف کتنا؟ ایک، اور یہ نصف جو ہے اس کو تین دفعہ کرو تو کتنی ہو گئیں؟ تین طلاقیں ہو جائیں گی اس صورت میں۔ خاوند بیوی سے کہتا ہے: تمہیں دو طلاقوں کے تین نصف طلاق ہے، تو دو طلاقوں کا نصف کتنا؟ ایک طلاق، اور اس نے کہا تین نصف، تو تین طلاقیں ہو جائیں گی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَالَ لَهَا: أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثَةَ أَنْصَافِ تَطْلِيقَتَيْنِ“ اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا کہ تمہیں طلاق ہے دو طلاقوں کے تین نصف، ”فَهِيَ طَالِقٌ ثَلَاثًا“ تو اس عورت کو تین طلاقیں ہو جائیں گی، ”لِأَنَّ نِصْفَ التَّطْلِيقَتَيْنِ تَطْلِيقَةٌ“ اس لیے کیونکہ دو طلاقوں کا نصف ایک طلاق ہے، ”فَإِذَا جَمَعَ بَيْنَ ثَلَاثَةِ أَنْصَافٍ“ تو جب جمع کر دیا اس نے تین نصفوں کو، ”تَكُونُ ثَلَاثَ تَطْلِيقَاتٍ ضَرُورَةً“ تو پھر تین طلاقیں ہو جائیں گی ضرورتاً، یقینی طور پر۔
”وَلَوْ قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثَةَ أَنْصَافِ تَطْلِيقَةٍ، قِيلَ: يَقَعُ تَطْلِيقَتَانِ“ صورتِ مسئلہ یہ: خاوند نے بیوی سے کہا: تمہیں ایک طلاق کے تین نصف طلاق ہے۔ ایک طلاق کے تین نصف، تو ایک طلاق کا نصف کتنا ہوا؟ آدھی طلاق، اور آدھی طلاق کو تین دفعہ کریں کتنا بنا؟ ڈیڑھ طلاق، اور ڈیڑھ طلاق تو ہو نہیں سکتی تو دو پوری ہو جائیں گی۔ ”وَلَوْ قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثَةَ أَنْصَافِ تَطْلِيقَةٍ“ اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا کہ تجھے ایک طلاق کے تین نصف طلاق ہے، ”قِيلَ: يَقَعُ تَطْلِيقَتَانِ“ تو کہا گیا ہے کہ دو طلاقیں واقع ہوں گی، ”لِأَنَّهَا طَلْقَةٌ وَنِصْفٌ“ اس لیے کیونکہ یہ تین نصف جو ہیں یہ ڈیڑھ طلاق ہے، ایک اور نصف ہے، ”فَيَتَكَامَلُ“ تو یہ جو نصف ہے یہ بھی پورا ہو جائے گا تو دو طلاقیں ہو جائیں گی، ”وَقِيلَ: يَقَعُ ثَلَاثُ تَطْلِيقَاتٍ“ بعض فقہاء فرماتے ہیں نہیں تینوں ہو جائیں گی۔ اگر خاوند نے یوں کہا: تمہیں ایک طلاق کے تین نصف طلاق ہے، تو ہر نصف طلاق پوری ہو جائے گی کیونکہ نصف تو ہو نہیں سکتی، تو تین نصف سے تین طلاقیں ہی واقع ہو جائیں گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَقِيلَ: يَقَعُ ثَلَاثُ تَطْلِيقَاتٍ“ اور کہا گیا ہے کہ تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی، ”لِأَنَّ كُلَّ نِصْفٍ يَتَكَامَلُ فِي نَفْسِهَا“ اس لیے کیونکہ ہر آدھا جو ہے وہ اپنی ذات کے اعتبار سے پورا ہو جائے گا، ”فَيَصِيرُ ثَلَاثًا“ تو تین طلاقیں ہو جائیں گی۔ تو بعض فقہاء فرماتے ہیں اگر خاوند نے بیوی سے یہ کہا کہ تمہیں ایک طلاق کے تین نصف طلاق ہے تو دو طلاقیں ہوں گی اور بعض فرماتے ہیں کہ تین ہو جائیں گی، لیکن علماء نے اول قول کو زیادہ صحیح قرار دیا ہے کہ تین نصف ہوئے تو یہ ڈیڑھ ہو گئے، اور ڈیڑھ طلاق تو نہیں ہو سکتی تو اس آدھی کو بھی پورا کر دیں گے تو دو طلاقیں ہوں گی، تو یہ قول زیادہ صحیح ہے دو طلاق والا۔
آگے دیکھیے:
”وَلَوْ قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ مِنْ وَاحِدَةٍ إِلَى ثِنْتَيْنِ، أَوْ مَا بَيْنَ وَاحِدَةٍ إِلَى ثِنْتَيْنِ، فَهِيَ وَاحِدَةٌ“۔
خاوند بیوی سے کہتا ہے: تمہیں ایک سے لے کر دو تک طلاق ہے، تمہیں ایک سے لے کر دو تک طلاق ہے، یا یوں کہتا ہے خاوند بیوی سے کہ تمہیں ایک اور دو کے جو درمیان ہے وہ طلاق ہے۔ لفظوں پہ نظر ہے؟ پہلی صورت کیا؟ خاوند بیوی سے کہتا ہے: تمہیں ایک سے لے کر دو تک طلاق ہے، دیکھو ابتداء اور انتہاء کو ذکر کر رہا ہے، شروع کہاں سے ہے؟ ایک سے، اختتام کہاں پر ہے؟ دو پر۔ دوسری صورت میں بھی اسی طرح ہے، خاوند بیوی سے کہتا ہے: تمہیں ایک اور دو کے درمیان جو ہے وہ طلاق ہے، ابتداء ذکر کی کہاں سے؟ ایک سے، اور انتہاء ذکر کی دو تک، ایک اور دو کے بیچ میں جو ہے وہ تمہیں طلاق ہے، تو یاد رکھو اس کے لیے ضابطہ پہلے یاد کر لیں۔
یاد رکھو، یہ دو غایہ ہیں، دو کنارے، ان کو کیا کہتے ہیں؟ غایہ۔ ابتداء کا کنارہ ہے ایک، انتہاء کا کنارہ ہے دو، ایک سے دو تک، تو غایۂ ابتداء کیا؟ ایک، اور غایۂ انتہاء کیا؟ دو ہے، تو یاد رکھو، امام صاحب کا مذہب یہ ہے کہ اس صورت میں ان دونوں کے جو درمیان ہوتا ہے وہ طلاق واقع ہوگی۔ غایۂ ابتداء اور غایۂ انتہاء کے جو درمیان ہے وہ واقع ہوگی، اور نیز غایۂ ابتداء بھی شامل ہوگا ساتھ، غایۂ ابتداء بھی ساتھ شامل ہوگا۔ ضابطہ یاد رکھیں، بلکہ دوسری مثال بھی پہلے سمجھ لیں۔ یہ تو ایک صورت تھی: ایک سے لے کر دو تک یا ایک اور دو کے بیچ میں۔ دوسری صورت: خاوند یوں کہتا ہے کہ تمہیں ایک سے لے کر تین تک طلاق ہے، ایک سے لے کر تین تک، یا تمہیں وہ طلاق ہے جو ایک اور تین کے بیچ میں ہے۔ ایک اور تین کے بیچ میں ہے، تو دیکھو یہاں دو غایے ذکر ہو رہے ہیں: ایک ابتداء والا اور ایک انتہاء والا۔ تو امام صاحب کا ضابطہ یہ ہے کہ ان دو طلاقوں کے درمیان جو طلاق ہوگی وہ واقع ہوگی، ان دو طلاقوں کے درمیان طلاق جو ہے وہ واقع ہوگی، اور ایک اور تین کے درمیان کون سی طلاق ہے؟ دوسری طلاق، توجہ ہے؟ جب دوسری طلاق واقع ہوگی تو دوسری تو ہو نہیں سکتی پہلی کے بغیر، لہٰذا پہلی بھی ساتھ واقع ہو جائے گی، یعنی غایۂ ابتداء بھی ساتھ شامل ہو جائے گا۔ توجہ ہے؟ دوسری طلاق بغیر پہلی کے ہو سکتی ہے؟ نہیں، طلاق آپ جب بھی دو گے وہ پہلی شمار ہوگی، دوسری نہیں شمار ہوگی، دوسری کے لیے ضروری ہے کہ اس سے پہلے ایک اور طلاق ہو۔ تو امام صاحب کا ضابطہ کیا؟ کہ جب دو غایہ ذکر ہوں طلاق کے اندر، عدد ذکر ہو رہے ہیں تو دو غایہ ذکر ہوں تو ان کے درمیان والی طلاق مراد ہوگی جو ان دونوں کے بیچ میں آ رہی ہو، لیکن غایۂ ابتداء بھی ساتھ شامل ہوگا کیونکہ غایۂ ابتداء کے بغیر تو اس سے اگلی طلاق نہیں ہو سکتی۔
جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دونوں غایوں میں سے ایک بھی نہیں داخل ہوگا۔ دونوں غایوں میں سے ایک بھی داخل نہیں ہوگا، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں: دونوں غایے داخل ہوں گے، ابتداء والا بھی اور انتہاء والا بھی، ابتداء والا بھی اور انتہاء والا بھی۔ لہٰذا خاوند نے بیوی سے کہا: تجھے ایک سے لے کر تین تک طلاق ہے، تو صاحبین کے نزدیک غایۂ ابتداء بھی داخل، غایۂ انتہاء بھی داخل، تو لہٰذا غایۂ انتہاء کیا ہے؟ تین، لہٰذا تین طلاقیں ہو جائیں گی۔ تین میں وہ ایک بھی آ گئی نا، تو غایۂ ابتداء بھی داخل ہوگا اور غایۂ انتہاء بھی داخل ہوگا، ایک بھی داخل اور تین بھی داخل، تو جو زیادہ ہے وہ واقع ہو جائے گی۔ وہ فرماتے ہیں یہ اسی طرح ہے، وہ فرماتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے کسی شخص کو کوئی کہے: میرے مال میں سے ایک سے لے کر سو درہم تک تم لے سکتے ہو، ایک سے لے کر سو درہم تک تم لے سکتے ہو، تو اس کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ ایک نہیں لینا یا ایک بھی لے سکتا ہے؟ ایک بھی لے سکتا ہے، اور اس کا کیا مطلب ہے؟ سو نہیں لے سکتا، سو سے ایک کم ننانوے ہی لینے پڑیں گے یا سو بھی لے سکتا ہے؟ سو بھی لے سکتا ہے۔ جب کوئی شخص کسی دوسرے سے کہے: میرے مال میں سے ایک سے لے کر سو درہم تک تم لے سکتے ہو، تو یہ دیکھو دو غایے ذکر کر دیے: ایک درہم اور سو درہم، تو یہ بھی بیچ میں داخل ہیں، وہ ایک بھی لے سکتا ہے، وہ سو بھی لے سکتا ہے اور وہ درمیان والے بھی کسی عدد پر اکتفاء کر سکتا ہے۔ تو صاحبین کی دلیل کیا کہ غایۂ ابتداء بھی اس میں داخل ہوتا ہے اور غایۂ انتہاء بھی، تو لہٰذا یہاں پر بھی ایک سے لے کر تین تک کہا تو ایک بھی داخل اور تین بھی داخل، جب تین داخل ہو گیا تو تینوں طلاقیں ہو گئیں۔ تو صاحبین کا مذہب کیا کہ غایۂ ابتداء بھی داخل ہوگا اور غایۂ انتہاء بھی۔
جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دونوں غایوں میں سے ایک بھی داخل نہیں ہوگا، دونوں غایوں میں سے ایک بھی نہیں ہوگا، لہٰذا خاوند نے بیوی سے کہا: ایک سے لے کر تین تک تمہیں طلاق ہے، تو ایک بھی نہیں داخل، تین بھی نہیں داخل، درمیان میں کیا ہے؟ دو، یعنی دوسری طلاق ہے، کیا ہے؟ تو ایک اور دو کے درمیان کتنی طلاقیں ہیں؟ ایک ہی طلاق ہے وہ جو دوسری والی ہے نا، کل طلاقیں کتنی ہیں؟ تین، تو ایک سے لے کر تین تک تمہیں طلاقیں ہیں، ایک غایۂ ابتداء اور تین غایۂ انتہاء، اور ایک اور تین کے درمیان کیا ہے؟ دوسری طلاق یعنی ایک طلاق ہے بیچ میں۔ تو یہ دوسری طلاق جو ہے یہ واقع ہوگی، نہ غایۂ ابتداء داخل نہ غایۂ انتہاء، ایک ہی طلاق ہوگی، ایک ہی طلاق۔
اور امام صاحب کے نزدیک، امام صاحب کے نزدیک بھی درمیان والی طلاق آئے گی، لیکن غایۂ ابتداء بھی شامل ہوگا کیونکہ درمیان والی دوسری ہے اور دوسری بغیر پہلی کے نہیں ہو سکتی، تو دو طلاقیں ہو جائیں گی۔
امام زفر کی دلیل بھی سن لو، امام زفر کی، امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب ایک چیز کی حد بیان کی جائے، دو غایے ذکر کیے جائیں تو وہ غایہ اس کے اندر داخل نہیں ہوتے۔ مثلاً ایک شخص دوسرے کو اپنی زمین بیچتا ہے اور کہتا ہے: اس دیوار سے لے کر اس دیوار تک یہ جو زمین ہے یہ میں نے تمہیں بیچ دی، تو وہ جو دو دیواریں ہوتی ہیں وہ بیع میں داخل نہیں ہوتیں۔ میں نے تمہیں زمین بیچ دی اس دیوار سے لے کر اس دیوار تک، تو جو غایہ ہیں یعنی دو دیواریں وہ بیع میں داخل نہیں بھئی۔ یا اسی طرح کہہ لو: دو مکان ہیں اور درمیان میں کچھ زمین ہے، ایک شخص دوسرے سے کہتا ہے کہ اس مکان سے لے کر اس مکان تک میں نے زمین تمہیں بیچ دی، تو وہ مکان بیع میں داخل نہیں ہوں گے کیونکہ یہ تو غایہ ہیں، یہ تو حدود بیان ہو رہی ہیں، ان کے بیچ والی زمین شامل ہوگی بیع میں بھئی۔ تو لہٰذا ایک خاوند نے کہا: ایک سے لے کر تین تک تمہیں طلاق ہے، تو صاحبین کے نزدیک کتنی طلاقیں؟ تین طلاقیں، کیونکہ غایۂ ابتداء بھی داخل اور غایۂ انتہاء بھی داخل ہے تو تینوں ہو جائیں گی۔ امام زفر رحمہ اللہ کے نزدیک ایک بھی داخل نہیں اور تین بھی داخل نہیں اور ایک اور تین کے بیچ ایک ہی طلاق ہے یعنی دوسری، تو ایک طلاق واقع ہو جائے گی۔ اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک دو طلاقیں ہو جائیں گی، کیونکہ ایک اور تین کے درمیان دوسری طلاق ہے لیکن دوسری تو بغیر پہلی کے نہیں ہو سکتی، لہٰذا غایۂ ابتداء بھی داخل ہو جائے گا، تو کتنی طلاقیں؟ دو۔
مسئلہ بھی سمجھ میں آیا یا نہیں؟ پھر بار بار میں دہرا رہا ہوں خوب ذہن میں جما لیں۔ خاوند نے بیوی سے کیا کہا؟ کہ تمہیں طلاق ہے ایک سے لے کر تین تک، یا تمہیں طلاق ہے وہ جو ایک اور تین کے بیچ میں ہے۔ دونوں صورتوں میں ایک ہی حکم ہے۔ امام صاحب کے نزدیک دو طلاقیں ہوں گی، بیچ والی ہے اور لیکن اس کے ساتھ غایۂ ابتداء کو بھی شامل کریں گے۔ اور صاحبین کے نزدیک تینوں واقع ہوں گی، کیونکہ غایۂ ابتداء اور انتہاء دونوں شامل ہوں گے۔ اور امام زفر رحمہ اللہ کے نزدیک ایک طلاق واقع ہوگی، وہ جو دوسری ہے یعنی ایک اور تین کے جو بیچ میں ہے اور وہ ایک طلاق ہے۔ مسئلہ سمجھ میں آیا؟
اب دوسری صورت: خاوند نے بیوی سے کہا کہ تمہیں طلاق ہے ایک سے لے کر دو تک، ایک سے لے کر دو تک، جی صاحبین کے نزدیک کیا مسئلہ ہوگا؟ دو ہو جائیں گی، کیونکہ غایۂ ابتداء ایک بھی شامل اور غایۂ انتہاء دو بھی شامل تو دو طلاقیں ہو جائیں گی۔ اور امام زفر رحمہ اللہ کے نزدیک؟ کوئی طلاق نہیں ہوگی، کیونکہ ایک اور دو کے بیچ میں کوئی طلاق نہیں ہے۔ اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک؟ ان کے نزدیک ایک طلاق ہو جائے گی یہاں، یہاں ان کے نزدیک تھوڑا سا مسئلہ مختلف ہے۔ وجہ یہ، وہ فرماتے ہیں دونوں غایوں کے جو درمیان والی ہے وہ واقع ہوگی، لیکن یہاں تو ایک اور دو کے بیچ کوئی طلاق نہیں ہے، اگر درمیان والی ہوتی تو پھر اس کے ساتھ غایۂ ابتداء کو بھی ہم ملا لیتے، لیکن یہاں تو درمیان میں کوئی ہے نہیں، لہٰذا اس اعتبار سے کوئی طلاق نہیں ہو رہی، بلکہ ماقبل میں جو وہ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کہہ رہا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ مِنْ وَاحِدَةٍ إِلَى ثِنْتَيْنِ“، تو یہ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ بے کار نہیں جائے گا امام صاحب فرماتے ہیں، ایک ہو جائے گی، ایک ہو جائے گی، اور آگے ”مِنْ وَاحِدَةٍ إِلَى ثِنْتَيْنِ“ اس سے کوئی طلاق نہیں ہوگی، کیونکہ یہاں ایک اور دو کے درمیان کوئی طلاق ہی نہیں ہے، کوئی طلاق ہوتی تو پھر ہم اس کے ساتھ غایۂ ابتداء کو بھی ملا لیتے، تو یہ جو ایک ہو رہی ہے یہ ”وَاحِدَةٌ“ کی وجہ سے نہیں ہو رہی بلکہ یہ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کی وجہ سے ہو رہی ہے۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ اب دیکھیے بھئی:
”وَلَوْ قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ مِنْ وَاحِدَةٍ إِلَى ثِنْتَيْنِ“ اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا کہ تجھے طلاق ہے ایک سے لے کر دو تک، ”أَوْ مَا بَيْنَ وَاحِدَةٍ إِلَى ثِنْتَيْنِ“ یا تجھے طلاق ہے وہ جو ایک اور دو کے بیچ میں ہے، ”فَهِيَ وَاحِدَةٌ“ تو یہ ایک ہی طلاق ہوگی، یعنی امام صاحب کے نزدیک، ”وَإِنْ قَالَ: مِنْ وَاحِدَةٍ إِلَى ثَلَاثٍ“ اور اگر خاوند نے کہا تجھے طلاق ہے ایک سے لے کر تین تک، ”أَوْ مَا بَيْنَ وَاحِدَةٍ إِلَى ثَلَاثٍ“ یا تجھے طلاق ہے وہ جو ایک اور تین کے بیچ میں ہے، ”فَهِيَ ثِنْتَانِ“ تو یہ دو طلاقیں ہیں، ایک اور تین کے درمیان کتنی ہے؟ دوسری طلاق ہے، اور دوسری کے ساتھ غایۂ ابتداء کو بھی ملانا پڑے گا کیونکہ دوسری تو پہلی کے بغیر نہیں ہو سکتی، تو کہتے ہیں: ”فَهِيَ ثِنْتَانِ“ تو یہ دو طلاقیں ہیں، ”وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ“ اور یہ امام صاحب کے نزدیک ہے، ”وَقَالَا فِي الْأُولَى: هِيَ ثِنْتَانِ“ اور صاحبین فرماتے ہیں پہلی صورت میں دو طلاقیں ہیں، تجھے ایک سے لے کر دو تک طلاقیں ہیں تو صاحبین کے نزدیک غایۂ ابتداء بھی داخل، غایۂ انتہاء بھی داخل تو دو ہو جائیں گی، تو کہتے ہیں: ”وَقَالَا فِي الْأُولَى: هِيَ ثِنْتَانِ“ اور صاحبین فرماتے ہیں پہلی صورت کے اندر دو طلاقیں ہیں، ”وَفِي الثَّانِيَةِ: ثَلَاثٌ“ اور دوسری صورت میں تین طلاقیں ہیں، دوسری صورت کون سی؟ تجھے ایک سے لے کر تین تک طلاق ہے، تو غایۂ ابتداء بھی شامل، غایۂ انتہاء بھی شامل تو تین طلاقیں ہو جائیں گی بھئی، تو کہتے ہیں: ”وَفِي الثَّانِيَةِ: ثَلَاثٌ“ اور دوسری صورت کے اندر تین طلاقیں ہیں، ”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى فِي الْأُولَى: لَا يَقَعُ شَيْءٌ“ اور امام زفر رحمہ اللہ پہلی صورت میں فرماتے ہیں کوئی چیز واقع نہیں ہوگی، کیونکہ ایک اور دو کے بیچ میں کوئی چیز نہیں ہے، اور دونوں غایے یہ تو داخل نہیں ہوتے، ”وَفِي الثَّانِيَةِ: تَقَعُ وَاحِدَةٌ“ اور دوسری صورت میں جب کہا ایک سے لے کر تین تک، اس میں ایک واقع ہوگی، ”وَهُوَ الْقِيَاسُ“ اور یہی قیاس بھی ہے، یہی قیاس بھی ہے، ”لِأَنَّ الْغَايَةَ لَا تَدْخُلُ تَحْتَ الْمَضْرُوبِ لَهُ الْغَايَةُ“ اس لیے کیونکہ غایہ مغیا کے تحت داخل نہیں ہوتا، جس چیز کی غایہ بیان کی جائے، جس...
چیز کے ابتداء اور انتہاء کو بیان کیا جائے اس کو مغیا کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ مغیا۔ یا یوں کہو: مضروب لہ الغایہ۔ مضروب، ضرب کا ایک معنی بیان کرنا بھی ہے۔ ضرب کا کیا معنی؟ بیان کرنا بھی۔ تو مضروب لہ الغایہ جس کی غایہ بیان کی جائے۔ وہی مغیا۔ مغیا کیا ہے؟ مضروب لہ الغایہ ہے جس کی غایہ بیان کی جا رہی ہے۔ تو امام زفر رحمہ اللہ کی بات چل رہی ہے وہ فرماتے ہیں کہ: ”لِأَنَّ الْغَايَةَ لَا تَدْخُلُ“ کہ غایہ داخل نہیں ہوتا ”تَحْتَ الْمَضْرُوبِ لَهُ الْغَايَةُ“ اس چیز کے تحت جس کی غایہ بیان کی جائے۔ یعنی غایہ مغیا کے تحت داخل نہیں ہوتا۔ ”كَمَا لَوْ قَالَ“ جیسے کوئی شخص کہتا ہے: ”بِعْتُ مِنْكَ مِنْ هَذَا الْحَائِطِ إِلَى هَذَا الْحَائِطِ“ میں نے آپ کے ہاتھ بیچ دی اس دیوار سے لے کر اس دیوار تک یعنی یہ جگہ میں نے آپ کو بیچ دی۔ ”بِعْتُ مِنْكَ“ یہ بات میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ باع کا صلہ ”مِنْ“ آتا ہے۔ ”مِنْ“ جو ہے مشتری پر داخل ہوگا۔ مثلاً میں نے کتاب بیچی تو میں کہوں گا: ”بِعْتُ الْكِتَابَ“۔ اور میں کہنا چاہتا ہوں میں نے زید کے ہاتھ بیچی، تو میں کہوں گا: ”بِعْتُ الْكِتَابَ مِنْ زَيْدٍ“۔ تو یہاں پر بھی کہتے ہیں: ”قَالَ“ ایک شخص کہتا ہے ”بِعْتُ مِنْكَ“ میں نے آپ کے ہاتھ بیچ دی ”مِنْ هَذَا الْحَائِطِ إِلَى هَذَا الْحَائِطِ“ اس دیوار سے لے کر اس دیوار تک، تو اس صورت میں وہ درمیان والی زمین جو ہے وہ بیع میں شامل ہوگی اور دونوں دیواریں وہ بیع میں داخل نہیں کیونکہ وہ غایہ ہیں۔
یہ تو امام زفر رحمہ اللہ کا قول تھا۔ آگے کہتے ہیں: ”وَوَجْهُ قَوْلِهِمَا“ صاحبین کے قول کی وجہ یہ ہے ”وَهُوَ الِاسْتِحْسَانُ“ اور وہی استحسان بھی ہے۔ صاحبین کا قول کیا ہے؟ استحسان۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا استحسان کسے کہتے ہیں؟ وہ متفق علیہ دلیل جس کے مقابلے میں کیا آجائے؟ قیاس۔ لیکن زیادہ تر استحسان کا اطلاق کس پر ہوتا ہے؟ قیاس خفی پر۔ لیکن قیاس خفی یعنی میں نے بتایا ایک قیاس جلی ہے ظاہر بات جس میں عقل فوراً وہاں تک پہنچ جائے اور ایک قیاس خفی ہے جہاں ذہن فوراً نہیں پہنچتا کچھ غور کرنا پڑتا ہے۔ تو زیادہ تر استحسان کا اطلاق قیاس خفی پر ہوتا ہے۔ لیکن قیاس خفی کو بھی تب استحسان کہیں گے جب اس کے مقابلے میں قیاس جلی ہو۔ اگر اس کے مقابلے میں قیاس جلی نہیں پھر جتنا مرضی گہرا قیاس ہو اس کو قیاس ہی کہتے ہیں استحسان نہیں کہتے۔
تو کہتے ہیں: ”وَوَجْهُ قَوْلِهِمَا وَهُوَ الِاسْتِحْسَانُ أَنَّ مِثْلَ هَذَا الْكَلَامِ مَتَى ذُكِرَ فِي الْعُرْفِ“ کہ اس قسم کا کلام جب عرف میں ذکر کیا جاتا ہے، عرف یعنی عام لوگوں کی جو عادت ہے کہ اس طرح کا کلام جو ہے جب وہ عام لوگوں کے اندر ذکر کیا جاتا ہے ”يُرَادُ بِهِ الْكُلُّ“ تو اس کے ذریعے کل کا ارادہ ہوتا ہے۔ جیسے میں نے مثال ذکر کر دی، ایک شخص دوسرے سے کہتا ہے: میرے مال میں سے لے لو ایک درہم سے لے کر سو درہم تک۔ تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایک اور سو کے بیچ والے مراد ہیں بلکہ سارا مجموعہ ہی مراد ہے، کل کے کل ہی سو بھی وہ لے سکتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں صاحبین فرماتے ہیں: ”أَنَّ مِثْلَ هَذَا الْكَلَامِ مَتَى ذُكِرَ فِي الْعُرْفِ يُرَادُ بِهِ الْكُلُّ كَمَا تَقُولُ لِغَيْرِكَ: خُذْ مِنْ مَالِي مِنْ دِرْهَمٍ إِلَى مِائَةٍ“ کہ تم میرے مال میں سے لے لو ایک درہم سے لے کر سو درہم تک۔
”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اب امام صاحب کی دلیل آگئی۔ ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ الْمُرَادَ بِهِ“ کہ اس سے مراد جو ہے، میں نے کیا بتایا تھا؟ امام صاحب کا کیا مذہب ہے؟ جو ان دونوں کے بیچ میں ہو وہ مراد ہوگا۔ جو ان دونوں کے بیچ میں ہو اور نیز غایۂ ابتداء بھی داخل ہوگا۔ کیونکہ ان دونوں کے بیچ دوسری طلاق ہے اور دوسری طلاق تو پہلی کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ تو ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّ الْمُرَادَ بِهِ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ اس سے مراد جو ہے ”الْأَكْثَرُ مِنَ الْأَقَلِّ“ وہ جو اکثر ہے من الاقل، اِدھر دیکھیے اِدھر دیکھیے۔ امام صاحب کے نزدیک یہ غایۂ ابتداء اور غایۂ انتہاء کے بیچ میں جو ہے وہ مراد ہے۔ توجہ ہے؟ خاوند نے بیوی سے کیا کہا؟ تمہیں ایک سے لے کر تین تک طلاق ہے۔ تو غایۂ ابتداء کیا ہے؟ ایک۔ غایۂ انتہاء کیا ہے؟ تین۔ اور ان دونوں کے بیچ کون سی طلاق ہے؟ دوسری۔ توجہ ہے؟ اور یہ دوسری طلاق، یہ دوسری طلاق یہ جو ایک ہے اس سے اکثر ہے اس سے زیادہ ہے۔ توجہ ہے؟ بلکہ یوں کہو: خاوند نے کیا کہا؟ تمہیں ایک سے لے کر تین تک طلاق ہے۔ تو ایک ہوا اقل یعنی غایۂ ابتداء ہے اقل، اور تین جو ہے وہ غایۂ انتہاء ہے یعنی اکثر ہے۔ کیا ہے؟ اکثر۔ تو امام صاحب کے نزدیک ان دونوں کے جو بیچ ہے یعنی جو اقل سے زیادہ ہے اور اکثر سے جو کم ہے۔ غایۂ ابتداء کیا ہے؟ اقل۔ اور غایۂ انتہاء کیا ہے؟ اکثر، زیادہ ہے۔ اور جو ان دونوں کے بیچ ہے وہ کم والے سے زیادہ ہے اور زیادہ والے سے کم ہے، تو یہ اقل سے اکثر ہے اور اکثر سے اقل ہے، وہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”أَنَّ الْمُرَادَ بِهِ الْأَكْثَرُ مِنَ الْأَقَلِّ“ وہ جو زیادہ ہے اقل کے مقابلے میں، یعنی جو بیچ میں ہے وہ اقل کے مقابلے میں زیادہ ہے ”وَالْأَقَلُّ مِنَ الْأَكْثَرِ“ اور وہ جو اقل ہے من الاکثر، کس سے؟ اکثر سے، یعنی اکثر سے وہ کم ہے وہ جو بیچ میں ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟
یہاں اشکال ہوتا ہے صاحبِ ہدایہ کی عبارت پر کہ یہاں پر عبارت کیا ہے؟ ”الْأَكْثَرُ مِنَ الْأَقَلِّ“ اکثر اسمِ تفضیل ہے اور اسمِ تفضیل کے استعمال کے تین طریقے ہیں: یا الف لام کے ساتھ ہوگا یا من کے ساتھ یا اضافت کے ساتھ۔ ”زَيْدٌ أَضْرَبُ مِنْ عَمْرٍو“ ”زَيْدٌ أَضْرَبُ مِنْ عَمْرٍو“ دیکھو اضْربُ کے ساتھ ”مِنْ“ آرہا ہے، اور اگر آپ الف لام لائیں تو پھر ”مِنْ“ نہیں لا سکتے: ”زَيْدٌ الْأَضْرَبُ“، اب آپ ”مِنْ“ نہیں لا سکتے کیونکہ ایک وقت میں ایک طریقے سے آپ اسمِ تفضیل کو استعمال کر سکتے ہیں۔ یا اگر آپ اضافت کر دیں: ”زَيْدٌ أَضْرَبُ الْقَوْمِ“ تب بھی ”مِنْ“ نہیں لا سکتے۔ تو اسمِ تفضیل کے استعمال کے تین طریقے ہیں: الف لام کے ساتھ، اضافت کے ساتھ اور من کے ساتھ۔ اور ایک وقت میں ایک ہی طریقے سے اس کو استعمال کیا جائے گا۔ یا الف لام ہوگا یا اضافت ہوگی یا من، دو یا تین طریقوں کو اکٹھا نہیں کیا جا سکتا۔ اور یہاں اشکال ہوتا ہے: ”الْأَكْثَرُ مِنَ الْأَقَلِّ“، الاکثر پر الف لام بھی داخل ہے اور آگے ”مِنْ“ بھی آرہا ہے، یہ تو اسمِ تفضیل الف لام اور من دونوں کے ساتھ آگیا۔ اسی طرح اگلا جملہ ہے: ”وَالْأَقَلُّ مِنَ الْأَكْثَرِ“، یہاں پر بھی الاقل پر الف لام بھی داخل ہے اور ”مِنْ“ بھی ہے، تو یہ دو طریقے اکٹھے ملا دیے حالانکہ یا الف لام آئے گا یا من آئے گا دونوں اکٹھے استعمال نہیں ہو سکتے۔
اشکال سمجھ میں آرہا ہے؟ تو صاحبِ ہدایہ جو اتنے بڑے ادیب ہیں کہ انسان ان کی عبارتوں کی فصاحت و بلاغت دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے، سوال پیدا ہوتا ہے ان سے یہ غلطی کیسے ہوگئی؟ ان سے یہ غلطی کیسے ہوگئی؟ یہ تو وہ ضابطہ ہے جو ابتدائی پہلے درجے والے کو بھی پتہ ہوتا ہے۔ تو جواب یہ کہ نہیں، یہاں صاحبِ ہدایہ سے کوئی غلطی نہیں ہوئی، صاحبِ ہدایہ عربی زبان کے اتنے بڑے ادیب ہیں کہ ہمارے تصور سے بھی بڑھ کر بھئی۔ میں نے بتایا تھا علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ فرماتے تھے، ان سے کسی بھی کتاب کے بارے میں پوچھا جاتا کہ آپ اس جیسی کتاب لکھ سکتے ہیں؟ فرماتے: اس سے بھی بہتر لکھ سکتا ہوں۔ جو بھی کتاب ذکر کی جاتی فرماتے: میں اس سے ایک بہتر کتاب لکھ سکتا ہوں، لیکن چند کتابیں ایسی تھیں جن کے بارے میں فرماتے تھے: میں ایسی کتاب نہیں لکھ سکتا، انہی میں سے ایک ہدایہ بھی تھی۔ فرماتے تھے: ہدایہ کی عبارتیں اتنی فصیح و بلیغ ہیں کہ میں ہدایہ جیسی چند سطریں بھی نہیں لکھ سکتا۔ اتنے اعلیٰ درجے کی عبارتیں ہیں ہدایہ کی۔ تو لہٰذا معلوم ہوا یہ جو صاحبِ ہدایہ عبارت لائے ہیں یہ ان سے غلطی نہیں ہوئی بلکہ یہاں پر یاد رکھو ایک اور اکثر محذوف نکال لیں گے۔ یہاں ایک اور اکثر محذوف نکال لیں گے۔ کس طرح؟ عبارت کیا ہے؟ ”الْأَكْثَرُ مِنَ الْأَقَلِّ“، تو یہ من سے پہلے ایک اور اکثر نکال لیں۔ ”الْأَكْثَرُ“ وہ والا اکثر، وہ جو درمیان میں ہے، ”الْأَكْثَرُ“ وہ والا اکثر ”أَكْثَرُ مِنَ الْأَقَلِّ“ جو اقل سے اکثر ہے۔ جو اقل سے اکثر ہے۔ اور اسی طرح اگلا جملہ ہے: ”وَالْأَقَلُّ مِنَ الْأَكْثَرِ“، یہاں الاقل سے کیا مراد ہے؟ وہ جو درمیان میں ہے۔ تو وہ والا اقل، یہاں ایک اور اقل نکال لیں گے: ”وَالْأَقَلُّ أَقَلُّ مِنَ الْأَكْثَرِ“، وہ والا اقل ”أَقَلُّ مِنَ الْأَكْثَرِ“ جو اکثر سے اقل ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟
تو کہتے ہیں: ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّ الْمُرَادَ بِهِ الْأَكْثَرُ مِنَ الْأَقَلِّ وَالْأَقَلُّ مِنَ الْأَكْثَرِ“ وہ درمیان میں جو ہے جو کہ اکثر من الاقل ہے، جو اقل سے زیادہ ہے، اور جو اکثر سے کم ہے یعنی وہ درمیان والا۔ ”فَإِنَّهُمْ يَقُولُونَ“ اس لیے کیونکہ عرب کہتے ہیں: ”سِنِّي مِنْ سِتِّينَ إِلَى سَبْعِينَ“ بعض لوگوں سے عمر پوچھی جائے عربوں سے تو وہ کہتے ہیں: میری عمر ساٹھ سے لے کر ستر تک ہے۔ تو اس کا کیا معنی ہوتا ہے؟ میری عمر ساٹھ سے لے کر ستر تک ہے اس کا مطلب ہے ان دونوں کے بیچ میں ہے۔ میری عمر ساٹھ سے لے کر ستر کے بیچ میں ہے یعنی جو اقل ذکر کیا اس نے یعنی ساٹھ، اس سے زیادہ ہے اور جو اکثر ذکر کیا یعنی ستر، اس سے اقل ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں: ”فَإِنَّهُمْ يَقُولُونَ: سِنِّي مِنْ سِتِّينَ إِلَى سَبْعِينَ، وَمَا بَيْنَ سِتِّينَ إِلَى سَبْعِينَ“ یا اس طرح کہتے ہیں کہ میری عمر وہ ہے جو ساٹھ اور ستر کے بیچ میں ہے ”وَيُرِيدُونَ بِهِ مَا ذَكَرْنَاهُ“ اور اس کے ذریعے وہ اسی کا ارادہ کرتے ہیں جو ہم نے ذکر کر دیا، دونوں کے جو بیچ ہے اس کا ارادہ کرتے ہیں۔
”وَإِرَادَةُ الْكُلِّ فِيمَا طَرِيقُهُ طَرِيقُ الْإِبَاحَةِ كَمَا ذَكَرَا“ صاحبین نے کیا ذکر کیا تھا کہ اگر کوئی شخص کسی سے کہتا ہے: میرے مال میں ایک درہم سے لے کر سو تک تم لے سکتے ہو، تو وہاں کل مراد ہوتا ہے، کل بھی لے سکتے ہو۔ کل لے سکتے ہو، توجہ ہے؟ تو اس کا جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ امام صاحب کی طرف سے کہ بھئی یہ جو کل بھی لے سکتا ہے یہ اس مقام پر ہوگا جہاں اباحت ہوگی، جہاں اباحت ہوگی۔ دیکھو آپ کسی شخص کے لیے اپنا مال مباح کر رہے ہیں کہ تم میرے مال میں سے ایک سے لے کر سو درہم تک لے سکتے ہو، تو یہ اباحت کے موقع میں کل بھی لے سکتا ہے لیکن بات طلاق کی چل رہی ہے اور طلاق تو ممنوع چیزوں میں سے ہے، وہ تو حاجت کی وجہ سے شریعت اجازت دیتی ہے ویسے تو طلاق کی اجازت نہیں، تو جو آپ نے مثال کی وہ اباحت والی صورت میں ذکر کی ہے اور مسئلہ طلاق کا چل رہا ہے، طلاق تو ممنوعہ چیزوں میں سے ہے۔ تو لہٰذا آپ اس ممنوع چیز کو اباحت والی چیز پر قیاس نہیں کر سکتے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِرَادَةُ الْكُلِّ فِيمَا طَرِيقُهُ طَرِيقُ الْإِبَاحَةِ كَمَا ذَكَرَا“ اور کل کا ارادہ اس چیز میں ہوتا ہے جس کا طریقہ اباحت والا طریقہ ہو جیسا کہ صاحبین نے ذکر کیا ”وَالأَصْلُ فِي الطَّلَاقِ هُوَ الْحَظْرُ“ اور اصل تو طلاق کے اندر ممانعت ہے، اس میں تو اباحت نہیں ہے، حظر ظاء کے ساتھ ہے بھئی ممانعت کو کہتے ہیں۔
”ثُمَّ الْغَايَةُ الْأُولَى“ اب وہی بات ذکر کر رہے ہیں کہ غایۂ اولیٰ بھی داخل کرنا پڑے گا امام صاحب کے نزدیک۔ ایک اور تین کے بیچ دوسری طلاق ہے لیکن دوسری تو پہلی کے بغیر نہیں ہو سکتی اس لیے پہلی بھی ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”ثُمَّ الْغَايَةُ الْأُولَى لَا بُدَّ أَنْ تَكُونَ مَوْجُودَةً“ پھر ضروری ہے کہ غایۂ اولیٰ جو ہے وہ موجود ہو ”لِيَتَرَتَّبَ عَلَيْهَا الثَّانِيَةُ“ تاکہ اس پر دوسری طلاق مرتب ہو سکے۔ اگر پہلی طلاق نہیں ہے تو دوسری کیسے مرتب ہو سکتی ہے؟ دوسری کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ پہلے ایک اور طلاق چاہیے بھئی۔ تو یہ معنی ہے: ”ثُمَّ الْغَايَةُ الْأُولَى لَا بُدَّ أَنْ تَكُونَ مَوْجُودَةً لِيَتَرَتَّبَ عَلَيْهَا الثَّانِيَةُ“ پھر ضروری ہے کہ غایۂ اولیٰ جو ہے وہ موجود ہو تاکہ اس پر دوسری طلاق مرتب ہو سکے ”وَوُجُودُهَا بِوُقُوعِهَا“ اور پہلی کا وجود تو اس کے واقع ہونے سے ہی ہوگا، پہلی واقع ہوگی تو پھر ہی پہلی پائی گئی اب دوسری بھی آسکتی ہے، اور جب تک پہلی واقع نہیں ہوئی تو اس کا وجود بھی نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَوُجُودُهَا بِوُقُوعِهَا“ اور غایۂ اولیٰ جو ہے اس کا وجود تو ”بِوُقُوعِهَا“ اس کے واقع ہونے سے ہوگا ”بِخِلَافِ الْبَيْعِ“ بخلاف بیع کے۔ امام زفر نے بیع کا مسئلہ ذکر کیا تھا، اگر کوئی کہتا ہے: اس دیوار سے لے کر اس دیوار تک میں نے زمین آپ کو بیچ دی، تو وہ دیواریں داخل نہیں ہوتیں۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ بھئی ہم مسئلہ ذکر کر رہے ہیں طلاق کا اور طلاق کے اندر دوسری طلاق آ ہی نہیں سکتی جب تک پہلی طلاق نہ ہو بھئی۔ تو پہلی کا وجود ہے ہی نہیں تو پہلی کا وجود ہوگا تو پھر ہی کیا آسکتی ہے؟ دوسری، لہٰذا وہاں پہلی کو بھی ماننا پڑے گا اور پھر دوسری کو بھی ماننا پڑے گا، لیکن بیع کے اندر وہ جو دیواروں کا وجود ہے وہ تو پہلے سے ہے۔ وہاں تو دیواروں کا وجود پہلے سے ہے اور یہاں ایک سے لے کر تین تک طلاق یہاں نہ تو ایک کا وجود ہے اور نہ تین کا وجود ہے، تو لہٰذا درمیان والی تبھی آسکتی ہے جب کم از کم پہلی تو پائی جائے! فرق سمجھ میں آیا؟ وہاں پر دونوں دیواروں کا وجود بیع سے پہلے ہی موجود ہے اور یہاں ایک سے لے کر تین، اس میں دوسری طلاق سے پہلے ایک کا کوئی وجود نہیں تو جب ایک کا وجود نہیں ہے تو دوسری کیسے آئے گی؟ لہٰذا پہلے ایک کو بھی ماننا پڑے گا اور اس کا وجود تبھی ہو سکتا ہے جب وہ واقع تو ہو۔ لہٰذا ایک بھی واقع ہوگی اور پھر درمیان والی دوسری بھی واقع ہو جائے گی۔ اگر ان کا وجود پہلے سے ہوتا پھر تو غایۂ ابتداء داخل نہ ہوتا لیکن پہلی کا وجود ہے ہی نہیں تو لہٰذا اس کا بھی وجود ماننا پڑے گا اور وہ بھی واقع ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ الْبَيْعِ لِأَنَّ الْغَايَةَ فِيهِ مَوْجُودَةٌ قَبْلَ الْبَيْعِ“ بخلاف بیع کے اس لیے کیونکہ غایہ اس کے اندر بیع سے پہلے ہی موجود ہے۔
”وَلَوْ نَوَى وَاحِدَةً يُدَيَّنُ دِيَانَةً“ اب صورتِ مسئلہ یہ، اسی صورت میں خاوند نے کیا کہا بیوی سے کہا: تمہیں ایک سے لے کر تین تک طلاق ہے، یا تمہیں طلاق ہے وہ جو ایک اور تین کے بیچ میں ہے، دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔ ایک سے لے کر تین تک، امام صاحب کے نزدیک کتنی طلاقیں ہوئیں؟ دو۔ صاحبین کے نزدیک تین ہو گئیں۔ امام زفر رحمہ اللہ کے نزدیک ایک ہوئی۔ اب اس شخص سے پوچھا گیا کہ تم نے کتنے کی نیت کی تھی؟ وہ کہتا ہے: میں نے تو ایک کی نیت کی تھی۔ تو کہتے ہیں دیانتاً تو اس کی تصدیق کی جائے گی کیونکہ اس کے کلام میں اس کا احتمال ہے جیسے امام زفر بھی ذکر فرماتے ہیں۔ لیکن قضاءً اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی اس لیے کیونکہ یہ اپنے فائدے کی بات کر رہا ہے۔ دلوں میں بدگمانی آتی ہے شاید یہ جھوٹ بول رہا ہوگا، اس کا اس میں فائدہ ہے ایک طلاق کے اندر اس لیے یہ اس نے کہا ہے کہ میں نے ایک کا ارادہ کیا تھا، ورنہ تو امام صاحب کے نزدیک دو ہیں اور صاحبین کے نزدیک تین ہیں۔ تو لہٰذا یہ وہ نیت بیان کر رہا ہے جس میں اس کا فائدہ ہے، لہٰذا قضاءً اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی کیونکہ یہ خلافِ ظاہر ہے۔ یہ خلافِ ظاہر ہے۔ ظاہر اس سے یہی ہے کہ دو یا تین طلاقیں ہوئی ہیں ایک نہیں، لیکن وہ ایک کی نیت کر کے خلافِ ظاہر کی نیت کر رہا ہے، لہٰذا قضاءً اس کی تصدیق نہیں کریں گے، دیانتاً اس کی تصدیق کریں گے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ نَوَى وَاحِدَةً يُدَيَّنُ دِيَانَةً لَا قَضَاءً“ اور اگر اس نے ایک کی نیت کی تو اس کی دیانتاً تصدیق کی جائے گی لا قضاءً قضاءً تصدیق نہیں کی جائے گی ”لِأَنَّهُ مُحْتَمَلُ كَلَامِهِ“ بھئی دیانتاً کیوں تصدیق کریں گے؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ مُحْتَمَلُ كَلَامِهِ“ اس لیے کیونکہ یہ ایک بھی اس کے کلام کا محتمل ہے ”لَكِنَّهُ خِلَافُ الظَّاهِرِ“ لیکن یہ خلافِ ظاہر ہے، وہ اپنے لیے اپنے لیے سب سے ہلکی صورت اختیار کر رہا ہے کہ صرف ایک طلاق ہوئی ہے بھئی۔
آگے دیکھیے: ”وَلَوْ قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً فِي ثِنْتَيْنِ وَنَوَى الضَّرْبَ وَالْحِسَابَ أَوْ لَمْ تَكُنْ لَهُ نِيَّةٌ فَهِيَ وَاحِدَةٌ“ صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً فِي ثِنْتَيْنِ“ تجھے طلاق ہے دو میں ایک۔ ”وَاحِدَةً فِي ثِنْتَيْنِ“ دو میں ایک۔ تو اس نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ“ تجھے طلاق ہے ”وَاحِدَةً فِي ثِنْتَيْنِ“ دو میں ایک، ”وَاحِدَةً فِي ثِنْتَيْنِ“ فی لے کر آیا اور یاد رکھو یہ فی ضرب کے اندر بھی استعمال ہوتا ہے۔ جیسے اردو میں بھی کہتے ہیں: دو ایکم دو، دو دونی چار، دو میں دو کتنے ہوگئے؟ چار۔ تین میں تین، ضرب دیں تین میں تین: نو، چار میں چار: سولہ۔ یعنی عربی میں یہ فی کبھی ضرب کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ تو اب خاوند نے کہتے ہیں اگر کوئی نیت نہیں کی تو پھر اس صورت میں ایک طلاق واقع ہو جائے گی۔ ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً فِي ثِنْتَيْنِ“ تجھے دو میں ایک طلاق ہے، اور ضرب کی نیت کر رہا ہے فی کے ذریعے کہ ایک کو ضرب دی جائے کس میں؟ دو میں۔ ایک کو ضرب دی جائے دو میں۔ تو اگر اس نے ضرب کی نیت کی ہے یا اس نے کوئی بھی نیت نہیں کی تو ایک طلاق واقع ہو جائے گی۔ ایک طلاق۔ وجہ یہ کہ ضرب دینے سے ضرب دینے سے ایک چیز کے اجزاء بڑھتے ہیں اس کے افراد نہیں بڑھتے۔ ایک کو آپ سو سے ضرب دیں تو اس کا مطلب ہے آپ نے ایک کے سو ٹکڑے کر دیے، سو حصے کر دیے، اجزاء بڑھ گئے۔ وہ ایک بڑھ کر سو نہیں بن گیا بھئی۔ یا آپ دو کو دس میں ضرب دیتے ہیں: دو ضرب دس کتنا ہوا؟ بیس۔ اس کا مطلب یہ ہے آپ نے دو کے بیس ٹکڑے کر دیے، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ دو بڑھ کر کتنا ہو گیا؟ بیس ہو گیا، نہیں۔ تو ضرب دینے سے اجزاء بڑھتے ہیں ایک چیز کے، اور جمع کرنے سے افراد بڑھتے ہیں۔ دو اور دو جمع کریں تو کتنا ہوا؟ چار، اب افراد بڑھ گئے۔ ضابطہ سمجھ میں آیا کیا؟ جمع سے افراد بڑھتے ہیں اور ضرب سے اجزاء بڑھتے ہیں۔ تو جب اس نے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً فِي ثِنْتَيْنِ“ تجھے طلاق ہے ”وَاحِدَةً فِي ثِنْتَيْنِ“ ایک کو ضرب دو کس میں؟ دو میں۔ تو ایک کو دو میں ضرب بھی دے دیں تو گویا ایک کے آپ نے دو ٹکڑے کر دیے، دو جز بنا دیے، اس سے طلاقوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، لہٰذا ایک ہی طلاق ہوگی۔ تو ضرب کی نیت کرے پھر بھی ایک طلاق اور اگر کوئی نیت نہ کرے پھر بھی ایک طلاق۔ پھر بھی ایک طلاق بھئی۔
دیکھیے: ”وَلَوْ قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً فِي ثِنْتَيْنِ“ اور اگر کہا کہ تجھے طلاق ہے دو میں ایک ”وَنَوَى الضَّرْبَ وَالْحِسَابَ“ اور خاوند نے ضرب اور حساب کی نیت کی ”أَوْ لَمْ تَكُنْ لَهُ نِيَّةٌ“ یا خاوند کی کوئی نیت نہیں تھی ”فَهِيَ وَاحِدَةٌ“ تو یہ ایک ہی طلاق ہوگی۔ ”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ تَقَعُ ثِنْتَانِ“ اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں دو واقع ہو جائیں گی۔ امام زفر فرماتے ہیں دو واقع ہو جائیں گی، اس لیے کیونکہ ایک کو دو میں ضرب دیا جائے تو کتنا بنتا ہے؟ دو۔ اور عام لوگوں کے اندر اس کے ذریعے ضرب کا ارادہ کیا جاتا ہے۔ ایک کو دو میں ضرب دیں گے تو اس کو وہ دو شمار کرتے ہیں، ایک کو تین میں ضرب دیں گے تو اس کو تین شمار کرتے ہیں، ضرب کا ارادہ کرتے ہیں لوگ اس کے ذریعے۔ تو دو میں دو کتنی ہو جائیں گی؟ چار۔ تین میں تین کتنی ہو جائیں گی؟ نو۔ تو امام زفر فرماتے ہیں اس میں لوگوں کے عرف کو دیکھا جائے گا۔ جب ایک عدد کے ساتھ دوسرے عدد کو فی کے ساتھ ذکر کیا جائے تو وہاں ضرب مقصود ہوتی ہے۔ کیا مقصود ہوتی ہے؟ ضرب۔ لہٰذا یہاں بھی دو میں ایک دونوں کے اندر ضرب مقصود ہوگی اور دو ایکم دو، لہٰذا یہاں دو طلاقیں ہو جائیں گی۔ اور یاد رکھنا یاد رکھنا یہ ان مسائل میں سے ہے جن میں فتویٰ امام زفر رحمہ اللہ کے قول پر ہے۔ امام زفر رحمہ اللہ کے اختلافات تو جگہ جگہ آپ پڑھتے ہیں لیکن چند ایک مسائل ہی ہیں جہاں فتویٰ ان کے قول پر ہوتا ہے، اس مسئلے کے اندر بھی فتویٰ ان کے قول پر ہے اس لیے کیونکہ اس کے ذریعے عرف کو دیکھا جائے گا، ایک میں دو، عام لوگ اس کا کیا معنی لیتے ہیں؟ تو عام لوگ اس کا معنی ضرب کے لیتے ہیں۔ عام لوگ اس کا معنی ضرب کے لیتے ہیں، تو ایک کو جب دو میں ضرب دی تو کتنا ہو گیا؟ دو ہو گیا، لہٰذا دو طلاقیں ہو جائیں گی۔ مسئلہ سمجھ میں آگیا؟
تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ تَقَعُ ثِنْتَانِ لِعُرْفِ الْحُسَّابِ“ اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں دو طلاقیں واقع ہو جائیں گی، ”لِعُرْفِ الْحُسَّابِ“ حسّاب بھئی حساب والے ریاضی دان جو ہیں، ریاضی دانوں کے عرف کے مطابق ”وَهُوَ قَوْلُ حَسَنِ بْنِ زِيَادٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور یہی قول ہے حسن بن زیاد رحمہ اللہ کا بھی۔ حسن بن زیاد یہ بھی شاگرد ہیں امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے، تو یہی قول حسن بن زیاد رحمہ اللہ کا بھی ہے۔ ”وَلَنَا“ ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّ عَمَلَ الضَّرْبِ فِي تَكْثِيرِ الْأَجْزَاءِ“ کہ ضرب کا عمل جو ہے اجزاء کے بڑھانے میں ہوتا ہے ”لَا فِي زِيَادَةِ الْمَضْرُوبِ“ مضروب کے بڑھانے میں نہیں، مضروب جس کو ضرب دی گئی ہے۔ مضروب کے افراد نہیں بڑھتے اس کے اجزاء بڑھ جاتے ہیں۔ ایک کو آپ سو میں ضرب دیں گے تو ایک کے گویا آپ نے سو جز کر دیے، خود ایک بڑھ کر سو نہیں ہوا بھئی۔ یہ یوں کہو یہ ان چیزوں میں ہے جن کی لمبائی چوڑائی وغیرہ نہیں ہوتی۔ اور طلاق بھی ایسی چیز ہے، طلاق کی کوئی لمبائی چوڑائی گہرائی نہیں۔ وہ کس کو ذکر کر رہا ہے؟ طلاق کو ذکر کر رہا ہے نا ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً فِي ثِنْتَيْنِ“ کس کو ذکر کر رہا ہے؟ طلاق کو، اور طلاق کی کوئی لمبائی چوڑائی گہرائی نہیں ہے۔ تو لہٰذا ضرب دینے سے اس کے اجزاء بڑھیں گے، اجزاء کے بڑھنے سے طلاقیں نہیں بڑھیں گی بھئی۔ لیکن اگر ایسی چیز میں اس کو ذکر کیا جائے جس کی لمبائی چوڑائی گہرائی وغیرہ ہے پھر وہ چیز بھی بڑھتی ہے۔ مثلاً زمین اگر کوئی شخص ذکر کر رہا ہے، زمین ذکر کر رہا ہے وہ ”عَشَرَةٌ فِي عَشَرَةٍ“ ہے، کیا معنی؟ دس ضرب دس گز ہے۔ دس کو ضرب دیں دس سے، کتنا بن گیا؟ سو گز۔ دیکھو سو گز بن گئی زمین۔ اور اگر کہے: ”عِشْرُونَ فِي عِشْرِينَ“ بیس میں بیس گز ہے تو یہ کتنے بن گئے؟ چار سو، چار سو گز بن گئی۔ تو دیکھو یہاں مضروب بڑھ رہا ہے، تو جس چیز کی لمبائی چوڑائی ہو وہاں ضرب سے وہ چیز بڑھتی ہے۔ وہ چیز بڑھتی ہے اور جس چیز کی لمبائی چوڑائی نہ ہو وہاں اس کے صرف اجزاء بڑھتے ہیں، اور طلاق کی بھی لمبائی چوڑائی نہیں ہے تو وہاں ضرب دیں گے تو طلاق کے اجزاء بڑھیں گے۔ ایک طلاق کے آپ سو حصے کریں چاہے ہزار کریں ہے تو ایک ہی! تو وہاں صرف اجزاء بڑھ رہے ہیں خود مضروب نہیں بڑھ رہا۔ ”وَلَنَا أَنَّ عَمَلَ الضَّرْبِ فِي تَكْثِيرِ الْأَجْزَاءِ لَا فِي زِيَادَةِ الْمَضْرُوبِ وَتَكْثِيرُ أَجْزَاءِ التَّطْلِيقَةِ لَا يُوجِبُ تَعَدُّدَهَا“ اور ایک طلاق کے اجزاء کا زیادہ کرنا ”لَا يُوجِبُ تَعَدُّدَهَا“ وہ اس طلاق کے تعدد کو ثابت نہیں کرتا، ”لَا يُوجِبُ“ یعنی ”لَا يُثْبِتُ“۔ تو ایک طلاق کے آپ جتنے بھی اجزاء کر دیں ہے وہ ایک ہی طلاق، ایک سے زیادہ نہیں ہوگی بھئی۔ توجہ ہے؟ یہ معنی ہے: ”وَتَكْثِيرُ أَجْزَاءِ التَّطْلِيقَةِ لَا يُوجِبُ تَعَدُّدَهَا“ اور ایک طلاق کے اجزاء کو بڑھانا یہ ثابت نہیں کرتا اس طلاق کے تعدد کو۔
”فَإِنْ نَوَى وَاحِدَةً وَثِنْتَيْنِ“ اب اسی میں دوسری صورت: خاوند نے لفظ کیا ذکر کیا؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً فِي ثِنْتَيْنِ“۔ پہلی صورت کیا تھی؟ اس نے ضرب کا ارادہ کیا۔ تو بھی ہمارے نزدیک ایک ہی طلاق واقع ہوگی، امام زفر فرماتے ہیں دو ہوں گی اور فتویٰ کس کے قول پر؟ امام زفر کے۔ تو ہمارے نزدیک ضرب کا ارادہ کرے تو بھی ایک اور کوئی نیت نہ کرے پھر بھی ایک ہی طلاق ہوگی۔ لیکن اگر خاوند سے پوچھا گیا: آپ نے کیا نیت کی تھی ان لفظوں میں؟ تو وہ کہتا ہے: میں نے ”وَاحِدَةً وَثِنْتَيْنِ“ کی نیت کی تھی۔ لفظ بول رہا ہے ”فِي“ اور ارادہ کر رہا ہے واؤ کا۔ لفظ کیا بولا؟ ”وَاحِدَةً فِي ثِنْتَيْنِ“ اور ارادہ کس کا کیا؟ ”وَاحِدَةً وَثِنْتَيْنِ“، ایک اور دو۔ تجھے طلاق ہے ایک اور دو۔ توجہ ہے؟ تو پھر اس صورت میں یاد رکھو، پھر اس صورت میں تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی کیونکہ ایک اور دو کو جمع کریں تو کتنا ہو گیا؟ تین، کیونکہ واؤ بھی جمع کا فائدہ دیتا ہے۔ واؤ جمع کا فائدہ دیتا ہے تو ایک اور دو کو جمع کریں گے تو تین طلاقیں ہو جائیں گی، مسئلہ سمجھ میں آرہا ہے؟ تو کہتے ہیں: ”فَإِنْ نَوَى وَاحِدَةً وَثِنْتَيْنِ فَهِيَ ثَلَاثٌ“ اور اگر خاوند نے اس کے ذریعے ارادہ کیا تھا ”وَاحِدَةً وَثِنْتَيْنِ“ کا تو یہ تین طلاقیں ہوں گی ”لِأَنَّهُ يَحْتَمِلُهُ“ اس لیے کیونکہ اس کا کلام اس کا احتمال رکھتا ہے کہ یہ فی کس معنی میں ہو؟ واؤ کے معنی میں ہو، یہ احتمال رکھتا ہے بھئی۔ کس طرح احتمال رکھتا ہے؟ وہ بیان کر رہے ہیں: کہتے ہیں: ”فَإِنَّ حَرْفَ الْوَاوِ لِلْجَمْعِ“ اس لیے کیونکہ حرفِ واؤ جمع کے لیے آتا ہے ”وَالظَّرْفُ يُجْمَعُ إِلَى الْمَظْرُوفِ“ اور ظرف جو ہے وہ بھی جمع ہو جاتا ہے مظروف کی طرف، یعنی اس کے ساتھ اکٹھا ہو جاتا ہے۔
”وَلَوْ كَانَتْ غَيْرَ مَدْخُولٍ بِهَا يَقَعُ وَاحِدَةً“ اور اگر وہ عورت غیر مدخول بہا تھی تو پھر ایک ہی طلاق واقع ہوگی۔ بھئی اِدھر دیکھیے: اگر خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً فِي ثِنْتَيْنِ“ اور ارادہ کس کا کیا؟ واؤ کا کہ میرا ارادہ کیا تھا؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً وَثِنْتَيْنِ“، اور عورت غیر مدخول بہا ہے۔ غیر مدخول، اور غیر مدخول بہا عورت آپ نے پڑھا ہے ایک ہی طلاق سے بائنہ ہو جاتی ہے۔ لہٰذا جب خاوند نے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً“ ساتھ ہی ایک طلاق ہو گئی اور آگے کہہ رہا ہے ”فِي ثِنْتَيْنِ“ لیکن یہ کس معنی میں ہے؟ ”وَثِنْتَيْنِ“۔ تو ابھی ”وَثِنْتَيْنِ“ خاوند نے نہیں کہا اس سے پہلے ہی ایک طلاق ہو گئی تو اگلی طلاقیں لغو چلی گئیں۔ اگر مدخول بہا ہوتی تو تین ہو جاتیں لیکن غیر مدخول بہا تو ایک سے ہی بائنہ ہو جاتی ہے لہٰذا ایک ہی طلاق سے وہ جدا ہو گئی اور باقی دونوں طلاقیں لغو چلی گئیں۔ یہ معنی ہے: ”وَلَوْ كَانَتْ غَيْرَ مَدْخُولٍ بِهَا يَقَعُ وَاحِدَةً“ اور اگر وہ عورت غیر مدخول بہا ہے تو ایک ہی طلاق واقع ہوگی ”كَمَا فِي قَوْلِهِ: وَاحِدَةً وَثِنْتَيْنِ“ جیسے کہ خاوند کے اس قول کے اندر ہے ”وَاحِدَةً وَثِنْتَيْنِ“ اگر یہ خود واؤ کو یعنی خود ذکر کرتا، ابھی تو وہ کہہ رہا ہے میں نے ارادہ اس واؤ کا کیا ہے، اور اگر خود واؤ کو لفظوں میں ذکر بھی کرتا تو بھی ایک سے ہی غیر مدخول بہا نے بائنہ ہو جانا تھا۔
”وَإِنْ نَوَى وَاحِدَةً مَعَ ثِنْتَيْنِ“ تیسری صورت: خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً فِي ثِنْتَيْنِ“ اور اس سے پوچھا گیا بھئی
آپ نے کیا نیت کی تھی اس کلام سے؟ وہ کہتے ہیں میں نے فی کے ذریعے مع کا ارادہ کیا تھا، أَيْ وَاحِدَةً مَعَ ثِنْتَيْنِ۔ تو کہتے ہیں اس کا یہ ارادہ ٹھیک ہے۔ اس صورت میں بھی تین طلاقیں ہو جائیں گی کیونکہ فی بمعنی مع کے کلامِ عرب میں استعمال ہوتا ہے۔
تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ نَوَى وَاحِدَةً مَعَ ثِنْتَيْنِ“ اور اگر خاوند نے نیت کی: ”وَاحِدَةً مَعَ ثِنْتَيْنِ“ ایک، دو کے ساتھ، ”يَقَعُ الثَّلَاثُ“ تو تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی، ”لِأَنَّ كَلِمَةَ فِي تَأْتِي بِمَعْنَى مَعَ“ اس لیے کیونکہ فی کلمہ جو ہے یہ آتا ہے مع کے معنی میں، ”كَمَا فِي قَوْلِهِ تَعَالَى“ جیسے کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول میں ہے: ”فَادْخُلِي فِي عِبَادِي“ أَيْ مَعَ عِبَادِي۔ تو یہاں جیسے فی مع کے معنی میں ہے۔
یاد رکھیے یہ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ ”فَادْخُلِي فِي عِبَادِي“ یہ جو فی ہے یہ بمعنی مع کے ہے۔ جبکہ بعض فرماتے ہیں نہیں، یہ فی اپنے ہی معنی میں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ لیکن بہرحال فی مع کے معنی میں کلامِ عرب میں آتا رہتا ہے بھئی۔
آگے دیکھیے: ”وَلَوْ نَوَى الظَّرْفَ“ جی، اسی میں اگلی صورت آ گئی۔ یہی لفظ کہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً فِي ثِنْتَيْنِ“ اور اس سے پوچھا تم نے کیا نیت کی تھی؟ کہتا ہے میں نے ظرف کی نیت کی تھی، کہ فی جس پر داخل ہو رہا ہے وہ ظرف ہے ماقبل کے لیے۔ جیسے زَيْدٌ فِي الدَّارِ، یہ فی کا مابعد کیا؟ الدَّارُ، یہ ظرف ہے کس کے لیے؟ ماقبل یعنی زید کے لیے۔ زید گھر میں ہے۔ توجہ ہے؟ تو لہٰذا خاوند سے پوچھا گیا کہ ”وَاحِدَةً فِي ثِنْتَيْنِ“ آپ فی لے کر آئے ہیں، فی ظرفیت کے لیے آتا ہے، آپ نے کیا نیت کی تھی؟ وہ کہتا ہے میں نے ظرفیت ہی کی نیت کی تھی۔
تو آپ کو بتائیں گے کہ بھئی نہیں، طلاق جو ہے، طلاق یہ تو ایک صفت کا نام ہے۔ طلاق کا کوئی اپنا الگ وجود ہے ہی نہیں۔ لہٰذا دو طلاقیں ایک طلاق کے لیے ظرف نہیں بن سکتیں بھئی۔ ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً فِي ثِنْتَيْنِ“، اس واحدة سے بھی کیا مراد؟ طلاق۔ ثنتین سے بھی کیا مراد؟ طلاق۔ اس نے کہا میں نے یہ فی کے ذریعے ظرفیت کا ارادہ کیا ہے کہ دو طلاقیں ظرف ہیں کس کے لیے؟ واحدة ایک طلاق کے لیے۔ تو کہتے ہیں اس صورت میں ایک ہی طلاق واقع ہو گی اور ”فِي ثِنْتَيْنِ“ لغو چلا جائے گا۔ اس لیے کیونکہ طلاق جو ہے وہ ظرف بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ نَوَى الظَّرْفَ يَقَعُ وَاحِدَةٌ“ اگر خاوند نے اسنتین کے ظرف ہونے کی نیت کی تو ایک ہی طلاق واقع ہو گی، ”لِأَنَّ الطَّلَاقَ لَا يَصْلُحُ ظَرْفًا“ اس لیے کیونکہ طلاق ظرف بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی، کیونکہ طلاق تو ایک صفت کا نام ہے اس کا تو اپنا الگ کوئی وجود ہی نہیں ہے، یہ ظرف کیسے بن سکتی ہے۔ ”فَيَلْغُو ذِكْرُ الثَّانِي“ تو دوسری طلاق یعنی ”فِي ثِنْتَيْنِ“ یہ سارا لغو ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”فَيَلْغُو ذِكْرُ الثَّانِي“ تو دوسری طلاق کا ذکر لغو ہو جائے گا۔
دیکھو کئی صورتیں ذکر کر دیں۔ خاوند نے لفظ کیا بولا تھا؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً فِي ثِنْتَيْنِ“ اگر خاوند نے کوئی نیت نہیں کی بس یہ لفظ بول دیے تو ایک طلاق ہو جائے گی۔ اور اگر اس نے ضرب کی نیت کی تو پھر بھی ایک ہو گی لیکن امام زفر فرماتے ہیں دو ہوں گی اور ان کے قول پر فتویٰ ہے بھئی، تو پھر دو ہو جائیں گی۔ اور اگر اس نے فی کے ذریعے واؤ کا ارادہ کیا ہے تو پھر تین طلاقیں ہو جائیں گی۔ اور اگر اس نے فی کے ذریعے مع کا ارادہ کیا ہے تو اس صورت میں بھی تین طلاقیں ہو جائیں گی۔ اور اگر خاوند نے فی کے ذریعے اس کے ظرف ہونے کا ارادہ کیا کہ دو طلاقیں ظرف بن جائیں ایک کے لیے، کہتے ہیں اس صورت میں ایک ہی ہو گی کیونکہ طلاق ظرف نہیں بن سکتی۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی۔
آگے دیکھیے: ”وَلَوْ قَالَ اثْنَتَيْنِ فِي اثْنَتَيْنِ“ خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ اثْنَتَيْنِ فِي اثْنَتَيْنِ“ دو میں دو، پہلے تو تھا ”وَاحِدَةً فِي ثِنْتَيْنِ“ اب ہے ”اثْنَتَيْنِ فِي اثْنَتَيْنِ“ دو میں دو۔ تو امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس قسم کے کلام کے ذریعے ضرب کا ارادہ کیا جاتا ہے۔ کس کا؟ ضرب۔ تو دو کو دو میں ضرب دیں تو چار ہو گئیں۔ تو لہٰذا یہ تقاضا تو یہ کر رہا ہے چار طلاقیں ہونی چاہییں لیکن طلاقیں تو زیادہ سے زیادہ ہیں ہی تین، لہٰذا تین واقع ہو جائیں گی۔ توجہ ہے؟
تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَالَ اثْنَتَيْنِ فِي اثْنَتَيْنِ“ اور اگر خاوند نے ”اثْنَتَيْنِ فِي اثْنَتَيْنِ“ کو ذکر کیا، ”وَنَوَى الضَّرْبَ وَالْحِسَابَ“ اور اس نے ضرب اور حساب کی نیت کی، ”فَهِيَ ثِنْتَانِ“ تو ہمارے ائمہ کے نزدیک دو ہوں گی، ”وَعِنْدَ زُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ ثَلَاثٌ“ اور امام زفر رحمہ اللہ کے نزدیک تین ہوں گی۔ ہمارے نزدیک اگر ضرب کا ارادہ کیا تو دو کو دو میں ضرب دیں گے تو اس سے اجزا بڑھیں گے، طلاقیں نہیں بڑھیں گی، لہٰذا طلاقیں دو ہی ہوں گی۔ لیکن امام زفر فرماتے ہیں تین ہوں گی۔
تو کہتے ہیں: ”وَعِنْدَ زُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ ثَلَاثٌ“ اور امام زفر رحمہ اللہ کے نزدیک تین طلاقیں ہوں گی، ”لِأَنَّ قَضِيَّتَهُ أَنْ يَكُونَ أَرْبَعًا“، قضیہ یہ لفظ پہلے بھی گزر چکا ہے، قضیہ بمعنی مقتضیٰ کے اور حکم کے۔ قضیہ کا کیا معنی؟ مقتضیٰ اور حکم۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ قَضِيَّتَهُ“ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ خاوند کے اس قول کا مقتضیٰ یہ ہے ”أَنْ يَكُونَ أَرْبَعًا“ کہ کتنی طلاقیں ہونی چاہییں؟ چار۔ ”لَكِنْ لَا مَزِيدَ لِلطَّلَاقِ عَلَى الثَّلَاثِ“ لیکن طلاق تو تین پر زائد نہیں ہو سکتی، تو لہٰذا اس لیے تین ہو جائیں گی۔ ”وَعِنْدَنَا“ اور ہمارے نزدیک ”الِاعْتِبَارُ لِلْمَذْكُورِ الْأَوَّلِ“ کہ پہلے لفظ جو ذکر کیا اسی کا اعتبار ہے۔
پہلا مسئلہ کیا پیچھے ذکر ہوا تھا؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً فِي ثِنْتَيْنِ“، ضرب کا ارادہ کیا ہے تو ہمارے نزدیک واحد کے اجزا بڑھیں گے، اس کی طلاقیں نہیں بڑھیں گی، تو واحد یعنی پہلے لفظ کا اعتبار ہے وہی طلاق ہو گی۔ اور یہاں کیا کہا ہے؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ اثْنَتَيْنِ فِي اثْنَتَيْنِ“، تو پہلا لفظ اثنتین کا اعتبار ہے، جب ضرب کا ارادہ کیا ہے تو اثنتین کا اعتبار ہے تو دو طلاقیں ہوں گی۔ بات سمجھ میں آئی؟
تو کہتے ہیں: ”وَعِنْدَنَا الِاعْتِبَارُ لِلْمَذْكُورِ الْأَوَّلِ“ اور ہمارے نزدیک اعتبار جو ہے مذکورِ اول کا ہے، ”عَلَى مَا بَيَّنَّاهُ“ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا کہ ضرب دینے سے اجزا بڑھتے ہیں، افراد نہیں بڑھتے۔
”وَلَوْ قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ مِنْ هَاهُنَا إِلَى الشَّامِ“ صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا: تمہیں یہاں سے لے کر ملکِ شام تک طلاق ہے۔ یہاں سے لے کر ملکِ شام تک طلاق ہے، تو اب یہ کون سی طلاق ہو گی؟ رجعی ہو گی یا بائن ہو گی؟ تو امام زفر فرماتے ہیں اس نے طلاق کو لمبا کر دیا۔ معلوم ہوا طلاق میں قوت آ گئی، جب قوت آ گئی اب رجعی نہیں ہو گی بائن ہو گی کیونکہ رجعی میں قوت نہیں ہے، طلاقِ بائن میں قوت ہے وہ نکاح کو توڑ دیتی ہے۔ جبکہ ہمارے نزدیک طلاقِ رجعی ہو گی۔ ہم کہتے ہیں کہ اس نے طلاق کو لمبا نہیں کیا، چھوٹا کر دیا۔ اس لیے کیونکہ جب خاوند بیوی کو طلاق دیتا ہے تو دنیا کے ہر جگہ جہاں بھی وہ عورت چلی جائے وہ طلاق والی ہے۔ تو وہ عورت تو طلاق کے ساتھ موصوف ہو رہی تھی دنیا کے ہر کونے میں، لیکن خاوند نے کیا کہا؟ یہاں سے لے کر ملکِ شام تک، تو اس نے تو طلاق کو چھوٹا کر دیا بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ مِنْ هَاهُنَا إِلَى الشَّامِ“ اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا کہ تجھے طلاق ہے یہاں سے لے کر ملکِ شام تک، ”فَهِيَ وَاحِدَةٌ يَمْلِكُ الرَّجْعَةَ“ تو ہمارے نزدیک یہ ایک ہی طلاق ہو گی ”يَمْلِكُ الرَّجْعَةَ“ اور خاوند جو ہے رجوع کا مالک ہو گا کیونکہ طلاق چھوٹی کر دی اس نے۔ ”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ هِيَ بَائِنَةٌ“ اور امام زفر فرماتے ہیں یہ طلاق بائن ہو گی، ”لِأَنَّهُ وَصَفَ الطَّلَاقَ بِالطُّولِ“ اس لیے کیونکہ خاوند نے طلاق کو موصوف کیا ہے لمبائی کے ساتھ۔ ”قُلْنَا لَا“ ہم کہتے ہیں نہیں، ”بَلْ وَصَفَهُ بِالْقِصَرِ“ کہ خاوند نے طلاق کو موصوف کیا ہے بالقصَر، چھوٹا ہونے کے ساتھ، لمبا ہونے کے ساتھ نہیں بلکہ چھوٹا ہونے کے ساتھ۔ کیونکہ طلاق جب دی ہے تو طلاق تو پوری دنیا میں ہر جگہ ہونی چاہیے تھی لیکن خاوند نے صرف کہاں تک محدود کر دیا؟ ملکِ شام تک۔ ”قُلْنَا لَا“ ہم کہتے ہیں نہیں، اس خاوند نے طلاق کو لمبائی کے ساتھ موصوف نہیں کیا، ”بَلْ وَصَفَهُ بِالْقِصَرِ“ بلکہ اس کو چھوٹا ہونے کے ساتھ موصوف کیا ہے، ”لِأَنَّهُ مَتَى وَقَعَ وَقَعَ فِي الْأَمَاكِنِ كُلِّهَا“ اس لیے کیونکہ جب طلاق واقع ہو جاتی ہے ”وَقَعَ فِي الْأَمَاكِنِ كُلِّهَا“ تو وہ تمام جگہوں کے اندر واقع ہوتی ہے، صرف شام تک نہیں رہتی بلکہ تمام جگہوں میں واقع ہو جاتی ہے۔
”وَلَوْ قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ بِمَكَّةَ أَوْ فِي مَكَّةَ“ صورتِ مسئلہ یہ: خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ بِمَكَّةَ“ تجھے طلاق ہے مکہ میں، تو با بمعنی فی کے ہے، ”أَنْتِ طَالِقٌ بِمَكَّةَ“ أَيْ ”فِي مَكَّةَ“۔ یا فی ہی کو لے آتا ہے خاوند: ”أَنْتِ طَالِقٌ فِي مَكَّةَ“۔ تو یاد رکھو ہمارے فقہاء فرماتے ہیں اسی وقت طلاق ہو جائے گی۔ بھئی کیوں؟ اس نے تو مکہ کی قید لگائی ہے۔ کہتے ہیں بھئی طلاق کو کسی مکان کے ساتھ خاص نہیں کیا جا سکتا۔ طلاق جب ہوتی ہے وہ ہر جگہ ہوتی ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ اس جگہ میں جائے تو طلاق والی ہے عورت، اس سے نکلے تو طلاق والی نہ ہو، ایسا نہیں، طلاق کسی جگہ کے ساتھ خاص نہیں ہو سکتی بھئی۔ تو لہٰذا اسی وقت طلاق ہو جائے گی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَالَ“ اگر خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ بِمَكَّةَ أَوْ فِي مَكَّةَ“ کہ ”أَنْتِ طَالِقٌ بِمَكَّةَ“ کہا یا ”أَنْتِ طَالِقٌ فِي مَكَّةَ“ کہا، ”فَهِيَ طَالِقٌ فِي الْحَالِ فِي كُلِّ الْبِلَادِ“ تو اس عورت کو طلاق ہو جائے گی فی الحال ہی فی کل البلاد تمام شہروں میں، جہاں کہیں بھی ہوئی طلاق ہو جائے گی۔ ”وَكَذَلِكَ لَوْ قَالَ“ اور اسی طرح ہے اگر خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ فِي الدَّارِ“ کہ تو طلاق والی ہے اس گھر میں، الدار الف لام کے ساتھ لائے، کوئی خاص گھر تھا اس کی طرف اشارہ کیا: ”أَنْتِ طَالِقٌ فِي الدَّارِ“ کہ تو طلاق والی ہے اس گھر میں، تو بھئی یہ تو طلاق کو خاص کر رہا ہے جگہ کے ساتھ اور طلاق تو جگہ کے ساتھ خاص نہیں ہوتی، لہٰذا اسی وقت طلاق ہو جائے گی بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَكَذَلِكَ لَوْ قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ فِي الدَّارِ“ اور اسی طرح ہے اگر خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ فِي الدَّارِ“، ”لِأَنَّ الطَّلَاقَ لَا يَتَخَصَّصُ بِمَكَانٍ دُونَ مَكَانٍ“ اس لیے کیونکہ طلاق جو ہے وہ ایسی نہیں ہے کہ وہ خاص ہو جائے ”بِمَكَانٍ“ ایک جگہ کے ساتھ ”دُونَ مَكَانٍ“ نہ کہ دوسری جگہ کے ساتھ۔ طلاق ایسی نہیں ہے کہ ایک جگہ چھوڑ کر دوسری جگہ کے ساتھ کیا ہو جائے؟ خاص ہو جائے۔
”وَإِنْ عَنَى بِهِ إِذَا أَتَيْتِ مَكَّةَ“ اگر خاوند سے پوچھا گیا: تم نے کیا ارادہ کیا تھا؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ بِمَكَّةَ“ یا ”أَنْتِ طَالِقٌ فِي مَكَّةَ“، وہ کہتا ہے میرا مطلب یہ تھا کہ وہ جب مکہ میں آئے گی: ”إِذَا أَتَيْتِ مَكَّةَ“ جب تو مکہ میں آئے گی تو تب تجھے طلاق ہے۔ تو کہتے ہیں اس صورت میں دیانۃً تو تصدیق کی جائے گی، قضاءً تصدیق نہیں کی جائے گی، اس لیے کیونکہ وہ فعل کو مقدر نکال رہا ہے: ”إِذَا أَتَيْتِ مَكَّةَ“، تو فعل کو مقدر نکال رہا ہے اور یہ خلافِ ظاہر ہے۔ جب یہ خلافِ ظاہر ہے تو دیانۃً تو اس کی تصدیق کریں گے لیکن قضاءً تصدیق نہیں کریں گے۔
تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ عَنَى بِهِ إِذَا أَتَيْتِ مَكَّةَ“ اور اگر خاوند نے اس کے ذریعے ارادہ کیا ”إِذَا أَتَيْتِ مَكَّةَ“ جب تو مکہ میں آ جائے، ”يُصَدَّقُ دِيَانَةً“ تو دیانۃً اس کی تصدیق کی جائے گی، یعنی یہ اس کے اور اللہ کا معاملہ ہے ہم تصدیق کر دیں گے، ”لَا قَضَاءً“ لیکن اگر قاضی کے پاس مسئلہ گیا تو قاضی اس کی تصدیق نہیں کرے گا۔ ”لِأَنَّهُ نَوَى الْإِضْمَارَ“ اس لیے کیونکہ خاوند نے اضمار کا ارادہ کیا ہے یعنی فعل کو مقدر کیا ہے۔ اضمار کا معنی بھی مقدر کرنا۔ ”لِأَنَّهُ نَوَى الْإِضْمَارَ“ کیونکہ خاوند نے فعل کو مقدر کرنے کا ارادہ کیا ہے، ”وَهُوَ خِلَافُ الظَّاهِرِ“ اور یہ خلافِ ظاہر ہے۔
”وَلَوْ قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ إِذَا دَخَلْتِ مَكَّةَ“ جی، دوسری صورت، خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِذَا دَخَلْتِ مَكَّةَ“ تجھے طلاق ہے جب تو مکہ میں داخل ہو۔ کہتے ہیں اب طلاق معلق ہو گئی دخولِ مکہ کے ساتھ، کیونکہ طلاق کو اس نے جگہ کے ساتھ نہیں خاص کیا، دخول کے ساتھ خاص کیا ہے، مکہ میں داخل ہونا ایک فعل ہے۔ تو جب مکہ میں داخل ہو گی تب طلاق ہو گی اس سے پہلے طلاق نہیں۔ تو طلاق کو زمانے کے ساتھ بھی آپ معلق کر سکتے ہیں، خاوند بیوی سے کہتا ہے: تمہیں دس تاریخ کو طلاق ہے، تو دس کو ہی ہو گی اس سے پہلے، اس سے پہلے یہ والی طلاق واقع نہیں۔ تو زمانے کے ساتھ بھی طلاق کو معلق کیا جا سکتا ہے اور فعل کے ساتھ بھی، مثلاً خاوند بیوی سے کہتا ہے: اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے، تو دیکھو اس گھر کے اندر جانے سے کیا ہو گی؟ طلاق واقع ہو جائے گی۔ تو لہٰذا طلاق کو زمانے کے ساتھ بھی معلق کیا جا سکتا ہے اور فعل کے ساتھ بھی، لیکن جگہ کے ساتھ اس کو مقید نہیں کیا جا سکتا۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ إِذَا دَخَلْتِ مَكَّةَ“، یاد رکھو یہ جو مکہ کا لفظ ہے یہ غیر منصرف ہے بھئی۔ ایک علم ہے نام ہے شہر کا اور دوسرا اس میں تا ہے تانیث والی، تو یہ غیر منصرف ہے۔ اور نیز اس پر الف لام بھی داخل نہیں کرتے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ إِذَا دَخَلْتِ مَكَّةَ“ خاوند نے بیوی سے کہا تجھے طلاق ہے جب تو مکہ میں داخل ہو، تو کہتے ہیں: ”لَمْ تُطَلَّقْ حَتَّى تَدْخُلَ مَكَّةَ“ اس عورت کو طلاق نہیں ہو گی یہاں تک کہ وہ مکہ میں داخل ہو جائے، ”لِأَنَّهُ عَلَّقَهُ بِالدُّخُولِ“ کیونکہ خاوند نے طلاق کو معلق کر دیا ہے مکہ میں داخل ہونے کے ساتھ۔
”وَلَوْ قَالَ فِي دُخُولِكِ الدَّارَ“ اور اگر خاوند نے فی کا لفظ ذکر کیا، مثلاً یوں کہتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ فِي دُخُولِكِ الدَّارَ“ کہ تجھے طلاق ہے ”فِي دُخُولِكِ الدَّارَ“ اس گھر میں تیرے داخل ہونے میں۔ اس گھر میں تیرے داخل ہونے میں تجھے طلاق ہے، تو پھر اس صورت میں بھی یاد رکھو یہ فی آتا ہے ظرفیت کے لیے۔ فی آتا ہے ظرفیت کے لیے، ماقبل مظروف ہوتا ہے اور مابعد ظرف۔ تو ”أَنْتِ طَالِقٌ فِي دُخُولِكِ“ تو یہ دخول ظرف بن رہا ہے کس کے لیے؟ طلاق کے لیے۔ دخول کیا بن رہا ہے؟ ظرف بن رہا ہے طلاق کے لیے، لیکن دخول تو ایک فعل کا نام ہے۔ داخل ہونا تو کیا ہے؟ ایک فعل ہے اور فعل، فعل تو ایک صفت کا نام ہے، اس کا تو اپنا الگ کوئی وجود نہیں ہوتا، یہ ظرف نہیں بن سکتا۔ جب یہ ظرف نہیں بن سکتا تو پھر اس کو شرط پر محمول کریں گے۔ توجہ ہے؟ کیا؟ خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ فِي دُخُولِكِ الدَّارَ“ تو فی کو کس پر داخل کیا؟ دخول مصدر پر، اور مصدر یعنی مصدر جو ہے اس کا تو اپنا الگ کوئی وجود نہیں، جب اپنا الگ وجود نہیں تو وہ ظرف نہیں بن سکتا طلاق کے لیے کہ دخول کے اندر طلاق پائی جائے، ایسا نہیں ہو سکتا۔ تو معلوم ہوا یہاں فی ظرفیت کے لیے نہیں ہو سکتا، جب فی ظرفیت کے لیے نہیں ہو سکتا تو پھر اس کو شرط کے لیے قرار دے دیں گے۔ پھر فی کو شرط کے لیے قرار دے دیں گے تو خاوند نے کیا کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ فِي دُخُولِكِ الدَّارَ“، معنی یہ ہے کہ تجھے طلاق ہے اگر تو اس گھر میں داخل ہوئی، شرط بنا دیں گے۔ کیا بنا دیں گے؟ اگر تو اس گھر میں داخل ہوئی، کیونکہ شرط اور ظرف میں مناسبت موجود ہے۔ شرط اور ظرف میں مناسبت موجود ہے، جیسے مشروط بغیر شرط کے نہیں ہو سکتا اسی طرح مظروف بھی بغیر ظرف کے نہیں ہو سکتا۔ مظروف کہتے ہی اس کو ہیں جس کے لیے کوئی ظرف ہو، مشروط کہتے ہی اس کو ہیں جس کے لیے کوئی شرط ہو۔ توجہ ہے؟ تو جیسے مظروف کے لیے ظرف ضروری اسی طرح مشروط کے لیے شرط ضروری ہے، تو دیکھو دونوں میں مناسبت آ گئی۔ لہٰذا یہ فی جب ظرفیت کے لیے نہیں ہو سکتا تو ہم اس کو شرط کے لیے قرار دے دیں گے اور اب وہ عورت اس گھر میں جائے گی تو پھر ہی طلاق واقع ہو گی ویسے واقع نہیں ہو گی۔
”وَلَوْ قَالَ“ اور اگر خاوند نے کہا: ”فِي دُخُولِكِ الدَّارَ“ کہ تجھے طلاق ہے اس گھر کے اندر داخل ہونے میں، ”يَتَعَلَّقُ بِالْفِعْلِ“ تو اس صورت میں طلاق کا تعلق اس فعل یعنی دخول کے ساتھ ہو جائے گا، ”لِمُقَارَنَةٍ بَيْنَ الشَّرْطِ وَالظَّرْفِ“ اس لیے کیونکہ مناسبت پائی جاتی ہے شرط اور ظرف کے درمیان، ”لِمُقَارَنَةٍ بَيْنَ الشَّرْطِ وَالظَّرْفِ“ شرط اور ظرف کے درمیان مناسبت کی وجہ سے، ”فَحُمِلَ عَلَيْهِ“ تو شرط پر ہی اس فی کو محمول کیا جائے گا، ”عِنْدَ تَعَذُّرِ الظَّرْفِيَّةِ“ جب ظرفیت متعذر ہو جائے، جب ظرف ہونا ممکن نہ رہے تو پھر اس کو شرط پر محمول کیا جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کیونکہ فعل یعنی مصدر اس کا اپنا الگ کوئی وجود نہیں ہے، وہ تو ایک صفت کا نام ہے، وہ ظرف نہیں بن سکتا۔ اور خاوند تو فی کے ذریعے ظرف بنانے کی کوشش کر رہا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ فِي دُخُولِكِ الدَّارَ“، تو پھر جب دخول ظرف نہیں بن سکتا تو پھر شرط بن جائے گا بھئی۔
آگے دیکھیے: ”فَصْلٌ فِي إِضَافَةِ الطَّلَاقِ إِلَى الزَّمَانِ“ یہ فصل ہے طلاق کی نسبت کرنے میں ”إِلَى الزَّمَانِ“ زمانے کی طرف۔ اضافت کا کیا معنی؟ نسبت۔ تو اس فصل میں بیان کریں گے اگر زمانے کی طرف طلاق کی نسبت کی جائے تو اس کا کیا حکم ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ غَدًا“ یاد رکھو غداً آنے والے کل کو کہتے ہیں عربی زبان میں۔ اردو زبان میں تو گزشتہ دن جو گزرا ہے اس کو بھی کل کہتے ہیں اور جو آنے والا دن ہے اس کو بھی کل کہتے ہیں۔ مثلاً میں نے آپ سے پوچھا زید کب آیا تھا؟ آپ کہتے ہیں زید کل آیا تھا، معلوم ہوا گزشتہ کل مراد ہے۔ اور یا آپ کسی سے کہتے ہیں میں کل آپ کے پاس آؤں گا، دیکھو اس سے آنے والا کل مراد ہے۔ لیکن عربی زبان میں دونوں کے لیے الگ الگ لفظ ہیں۔ گزشتہ کل کے لیے عربی میں ”أَمْسِ“ کا لفظ استعمال کرتے ہیں: ”أَتَيْتُكَ أَمْسِ“ میں آپ کے پاس آیا تھا گزشتہ کل، اور آنے والے کل کے لیے ”غَدًا“ کا لفظ بولتے ہیں: ”آتِيكَ غَدًا“ میں کل آپ کے پاس آؤں گا۔ تو ایک خاوند ہے اس نے اپنی بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ غَدًا“ تمہیں کل طلاق ہے۔ تمہیں کل طلاق ہے، تو یاد رکھو اس صورت میں اگلا دن جیسے ہی شروع ہو گا فجر کے وقت پہلی ہی گھڑی میں اس عورت کو فوراً طلاق ہو جائے گی، پہلے لمحے میں ہی فوراً طلاق ہو جائے گی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ غَدًا“ اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا کہ تجھے کل طلاق ہے، ”وَقَعَ عَلَيْهَا الطَّلَاقُ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ“ تو اس عورت پر طلاق واقع ہو جائے گی فجر طلوع ہوتے ساتھ ہی، ”لِأَنَّهُ وَصَفَهَا بِالطَّلَاقِ فِي جَمِيعِ الْغَدِ“ بھئی کیوں؟ کل کیوں طلاق فجر کے وقت واقع ہو جائے گی؟ اس لیے کیونکہ کہتے ہیں خاوند نے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ غَدًا“، ”أَنْتِ طَالِقٌ“ تو طلاق والی ہے، ”غَدًا“ کل، یعنی کل کے دن تو طلاق کے ساتھ موصوف ہے۔ یہ تقاضا کرتا ہے کہ وہ سارا دن طلاق کے ساتھ موصوف ہو۔ وہ سارا دن؟ اور سارا دن طلاق کے ساتھ موصوف ہونے کی یہ صورت ہے کہ فجر میں ہی طلاق واقع ہو جائے، اب سارا دن وہ عورت طالق ہے، طلاق والی ہے، اور اس نے بھی کیا کہا تھا؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ غَدًا“ کہ تو کل طلاق والی ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ وَصَفَهَا بِالطَّلَاقِ فِي جَمِيعِ الْغَدِ“ اس لیے کیونکہ خاوند نے اس عورت کو موصوف کیا ہے طلاق کے ساتھ ”فِي جَمِيعِ الْغَدِ“ کل کے سارے دن میں، ”وَذَلِكَ بِوُقُوعِهِ فِي أَوَّلِ جُزْءٍ مِنْهُ“ اور یہ کل کے اول جزء میں واقع ہونے سے ہی ہو گا، کہ کل کے اول جزء میں طلاق واقع ہو گی تو پھر ہی ہم کہہ سکتے ہیں یہ عورت سارا دن طلاق والی رہی بھئی۔
”وَلَوْ نَوَى بِهِ آخِرَ النَّهَارِ“ بھئی اسی کے اندر خاوند سے پوچھا گیا: آپ نے کیا نیت کی ہے؟ کہتا ہے میں نے تو ارادہ کیا تھا کل کے آخری جزء میں طلاق ہو۔ تو کہتے ہیں دیانۃً اس کی تصدیق کی جائے گی۔ دیانۃً اس کی تصدیق کی جائے گی، اس لیے کیونکہ اس نے غداً: ”أَنْتِ طَالِقٌ غَدًا“ کہا تھا، اور غداً یعنی کل، اور یہ ظرف ہے ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کے لیے۔ کل کا دن کیا ہے؟ طلاق کے لیے ظرف ہے، کہ اس دن میں عورت طلاق کے ساتھ موصوف ہو گی، اس زمانے کے اندر عورت طلاق کے ساتھ موصوف ہو گی، تو یہ غداً یہ ظرف ہے، اور یہ شخص جو کہہ رہا ہے کہ میں نے کل شام کی نیت کی تھی، تو یہ خاص کی نیت کر رہا ہے عام کے اندر، اور عام کے اندر خاص کی نیت صحیح ہے۔ ایک شخص لفظ عام بولتا ہے اور ارادہ کس کا کرتا ہے؟ خاص کا۔ مثلاً ایک آدمی کہتا ہے: ”لَا آكُلُ طَعَامًا“، اب طعام دیکھو نکرہ ہے، معنی کیا ہے؟ میں کوئی کھانا نہیں کھاؤں گا، مثلاً وہ قسم اٹھا کے کہہ لیتا ہے، میں کوئی کھانا نہیں کھاؤں گا، لیکن پھر کہتا ہے بھئی میری نیت تو فلاں کھانے کی تھی۔ اب طعام کا لفظ اس نے عام ذکر کیا تھا، یہ ہر کھانے کو شامل ہے لیکن نیت کس کی کر رہا ہے وہ؟ خاص کھانے کی، تو عام کے اندر خاص کی نیت انسان کر سکتا ہے۔ عام کے اندر؟ کیونکہ طعام عام تھا، ہر کھانا اس کے اندر شامل تھا حتیٰ کہ جس کی یہ نیت کر رہا ہے یہ بھی اس کے اندر داخل تھا، اس نے کہا میں کوئی کھانا نہیں کھاؤں گا، معلوم ہوا یہ والا کھانا بھی نہیں کھا سکتا، لیکن یہ کہتا ہے میری تو صرف اس کھانے کی نیت تھی، یہ والا نہیں کھاؤں گا باقی کھانے میں کھا سکتا ہوں۔ تو اب وہ عام کے اندر تخصیص کر رہا ہے اور عام کے اندر تخصیص نیت کے ذریعے جائز ہے۔ لیکن دیانۃً اس کی تصدیق کی جائے گی، قضاءً تصدیق نہیں کی جائے گی کیونکہ دلوں میں بدگمانی آتی ہے، یہ اپنے فائدے کی بات کر رہا ہے۔ اس نے کیا کہا تھا بیوی سے؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ غَدًا“، اس کا کیا تقاضا ہے؟ فجر ہوتے ہی فوراً طلاق ہو جائے، لیکن یہ کہتا ہے میری تو نیت ہے دن کے آخری لمحے میں جا کر طلاق ہو، یعنی جب بالکل سورج ڈوبنے لگے۔ تو اب دیانۃً اس کی تصدیق کی جائے گی لیکن قضاءً نہیں، معلوم ہوا یہ ایک دن اور بیوی کو اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے، بدگمانی دلوں میں آتی ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔
کہتے ہیں: ”وَلَوْ نَوَى بِهِ آخِرَ النَّهَارِ صُدِّقَ دِيَانَةً لَا قَضَاءً“ اور اگر اس شخص نے دن کے آخر کی نیت کی ”صُدِّقَ دِيَانَةً لَا قَضَاءً“ تو دیانۃً تو اس کی تصدیق کی جائے گی قضاءً اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی، ”لِأَنَّهُ نَوَى التَّخْصِيصَ فِي الْعُمُومِ“ اس لیے کیونکہ اس نے عموم کے اندر تخصیص کی نیت کی ہے، ”وَهُوَ يَحْتَمِلُهُ“ اور یہ اس کا احتمال بھی رکھتا ہے، عموم کے اندر تخصیص کی جا سکتی ہے، ”وَكَانَ مُخَالِفًا لِلظَّاهِرِ“ لیکن یہ ظاہر کے مخالف ہے اس کی یہ نیت، تو لہٰذا قضاءً اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی۔
”وَلَوْ قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ الْيَوْمَ غَدًا“ اب دوسری صورت: دو ظرف اکٹھے ذکر کرتا ہے ایک آدمی: ”أَنْتِ طَالِقٌ الْيَوْمَ غَدًا“، تجھے طلاق ہے ”الْيَوْمَ“ آج ”غَدًا“ کل۔ دو ظرف ذکر کر رہا ہے، آج بھی اور کل بھی۔ تو یاد رکھو اس صورت میں جو پہلا ظرف ہے اس کا اعتبار ہو گا۔ جو پہلا ظرف ہے اس کا اعتبار ہو گا اور دوسرا لغو چلا جائے گا۔ لہٰذا اگر الیوم کو پہلے ذکر کیا: ”أَنْتِ طَالِقٌ الْيَوْمَ غَدًا“ تو الیوم کا اعتبار ہے، لہٰذا اسی وقت طلاق ہو جائے گی۔ توجہ ہے؟ اور اگر پہلے غداً کو ذکر کیا: ”أَنْتِ طَالِقٌ غَدًا الْيَوْمَ“ تو پھر طلاق اگلے دن ہو گی، الیوم آگے جو آیا وہ لغو چلا جائے گا۔ بھئی کیا وجہ ہے یہ لغو کیوں چلا جائے گا؟ کہتے ہیں دیکھو جب اس نے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ الْيَوْمَ“، ”أَنْتِ طَالِقٌ الْيَوْمَ“ تو معلوم ہوا وہ اس طلاق کو فوری واقع کرنا چاہ رہا ہے۔ تو معلوم ہوا یہاں تنجیز ہے، میں نے بتلایا تنجیز کا کیا معنی ہے؟ کسی چیز کو پورا کرنا یعنی طلاق کو فوری واقع کرنا۔ تو جب اس نے کہا ”أَنْتِ طَالِقٌ الْيَوْمَ“ تو الیوم لفظ نے بتایا کہ یہاں وہ تنجیز کا ارادہ کر رہا ہے یعنی فوری طلاق واقع کرنے کا ارادہ کر رہا ہے، لہٰذا فوری طلاق واقع ہو گئی۔ اور آگے جب اس نے ”غَدًا“ کہا تو غداً سے پتہ چلا وہ طلاق فوری واقع نہیں کرنا چاہ رہا بلکہ اگلے دن واقع کرنا چاہ رہا ہے۔ تو پہلے لفظ نے کیا بتایا کہ وہ تنجیز کا ارادہ کر رہا ہے یعنی طلاق منجز ہے، اور منجز طلاق اضافت کا احتمال نہیں رکھتی۔ منجز جو فوری واقع ہو جائے، جو فوری واقع ہونے والی ہے وہ طلاق، وہ اضافت کا احتمال نہیں رکھتی بھئی، وہ تو منجز ہے، آپ نے منجز اس کو کر دیا ہے۔ یا تو آپ طلاق کو منجز بنائیں گے یا آپ اس کی اضافت کریں گے، دو چیزوں میں سے ایک ہو سکتا ہے۔ اگر آپ نے اس کو الیوم پہلے ذکر کیا تو آپ نے طلاق کو منجز کر دیا یعنی فوری واقع ہونے والی بنا دیا، جب فوری واقع ہونے والی طلاق بن گئی اب اس کی اضافت اگلے کسی وقت کی طرف نہیں ہو سکتی، یہ فوری واقع ہو گی۔ اور اگر آپ غداً کو پہلے لاتے: ”أَنْتِ طَالِقٌ غَدًا“ تو آپ نے طلاق کی اضافت کر دی، معلوم ہوا یہ طلاق اب کب واقع ہو گی؟ پھر سمجھو، پھر سمجھو۔ پہلے الیوم کو ذرا لے آئیں: ”أَنْتِ طَالِقٌ الْيَوْمَ“، یہ الیوم نے کیا بتایا کہ یہ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ سے کون سی طلاق ہے؟ منجز ہے جو فوری واقع ہونے والی ہے۔ کیا ہے؟ جو فوری واقع ہونے والی ہے، اور آگے غداً کا لفظ وہ لا کر کیا کرنا چاہتا ہے؟ اس طلاق کی نسبت کل کی طرف کرنا چاہتا ہے کہ کل واقع ہو جائیں، نہیں، جو طلاق منجز ہے اس کی کسی اور وقت کی طرف اضافت اور نسبت نہیں ہو سکتی۔ وہ تو الیوم نے پہلے اس کو منجز بنا دیا طلاق واقع ہو گئی بھئی، اب آپ اس کی اضافت کل کے دن کی طرف نہیں کر سکتے۔ اور دوسری صورت: اگر غداً پہلے لے آئیں: ”أَنْتِ طَالِقٌ غَدًا“ اور پھر الیوم بھی کہتا ہے، تو جیسے ہی کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ غَدًا الْيَوْمَ“، دیکھو وہ مسلسل لفظ بولتا چلا جا رہا ہے، لیکن ”أَنْتِ طَالِقٌ غَدًا“ کہتے ہی یہ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کی اضافت کل کی طرف چلی گئی اور الیوم آگے آ گیا، وہ اس کو منجز کرنا چاہتا ہے، لیکن جب ایک دفعہ طلاق کی اضافت زمانے کی طرف ہو گئی اب آپ اس کو منجز نہیں بنا سکتے۔ طلاق تو ایک ہی ہے ”أَنْتِ طَالِقٌ“، دوسری تو ہے نہیں، تو ایک وقت میں ایک ہی یا وہ منجز ہو سکتی ہے یا مضاف ہو سکتی ہے زمانے کی طرف۔ اگر آپ نے پہلے منجز کر دیا تو واقع ہو گئی اب اضافت نہیں ہو سکتی، اور اگر آپ نے اس کو پہلے مضاف کر دیا اور پھر منجز بنانا چاہتے ہیں، نہیں، ایک طلاق تھی، وہ جب مضاف ہو گئی ہے ایک زمانے کی طرف تو اب آپ اس کو فوری واقع نہیں کر سکتے۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ الْيَوْمَ غَدًا“ اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ الْيَوْمَ غَدًا“، دیکھو دو ظرف ذکر کر رہا ہے، الیوم بھی اور غداً بھی، ”أَوْ غَدًا الْيَوْمَ“ یا ”غَدًا الْيَوْمَ“ پہلے غد کو لایا اور پھر الیوم کو لایا، ”فَإِنَّهُ يُؤْخَذُ بِأَوَّلِ الْوَقْتَيْنِ الَّذِي تَفَوَّهَ بِهِ“ تو اس کو لیا جائے گا ”بِأَوَّلِ الْوَقْتَيْنِ“ ان دو وقتوں میں سے جو پہلا ہے ”الَّذِي تَفَوَّهَ بِهِ“ جس پر اس نے تکلم کیا ہے۔ ان دو وقتوں میں سے جو پہلا وقت جس پر اس نے تکلم کیا ہے اس کو لیا جائے گا۔ اگر پہلے الیوم کو ذکر کیا ہے تو طلاق اسی وقت ہو گئی اور اگر پہلے غداً کو ذکر کیا ہے تو طلاق معلق ہو گئی اگلے دن کے آنے تک۔ تو کہتے ہیں: ”فَيَقَعُ فِي الْأَوَّلِ فِي الْيَوْمِ وَفِي الثَّانِي فِي الْغَدِ“ تو پہلی صورت کے اندر اسی دن میں طلاق واقع ہو جائے گی ”وَفِي الثَّانِي فِي الْغَدِ“ اور دوسری صورت کے اندر غد یعنی آنے والے کل میں طلاق واقع ہو گی، ”لِأَنَّهُ لَمَّا قَالَ الْيَوْمَ“ اس لیے کیونکہ جب اس شخص نے الیوم کہا یعنی پہلا لفظ ذکر کیا ”كَانَ تَنْجِيزًا“ تو پتہ چل گیا کہ یہ کیا ہے؟ تنجیز ہے یعنی طلاق کو فوری واقع کر رہا ہے، ”وَالْمُنَجَّزُ لَا يَحْتَمِلُ الْإِضَافَةَ“ اور ایک طلاق جب وہ منجز ہو جائے تو وہ اضافت کا احتمال نہیں رکھتی۔ منجز کر دیا آپ نے تو اضافت کیسے کر رہے ہو بھئی؟ ایک وقت میں ایک چیز ہو سکتی ہے، یا منجز یا اضافت۔ پہلے لفظ سے یہ کیا ہو گئی؟ منجز ہو گئی، طلاق تو ایک ہی تھی وہ منجز ہو گئی، تو اب اضافت کیسے کرو گے اس کی؟ توجہ ہے؟ تو اگر دوسری طلاق ہوتی آپ اس کی کل کی طرف اضافت کرتے لیکن ایک ہی طلاق تھی، یا اس نے منجز ہونا تھا یا اس نے اگلے دن کے ساتھ معلق ہونا تھا، جب آپ نے منجز کر دیا اب وہ اگلے دن کے ساتھ معلق نہیں ہو گی۔
تو کہتے ہیں: ”وَالْمُنَجَّزُ لَا يَحْتَمِلُ الْإِضَافَةَ“ اور فوری واقع ہونے والی طلاق جو ہے وہ اضافت کا احتمال نہیں رکھتی، ”وَلَوْ قَالَ غَدًا“ اور اگر خاوند نے غداً جو ہے یہ کہا ہے یعنی پہلے یہ لفظ ذکر کیا ہے، ”كَانَ إِضَافَةً“ تو یہ اضافت ہے، ”وَالْمُضَافُ لَا يَتَنَجَّزُ“ اور جو مضاف ہو، جو طلاق کسی وقت کی طرف ”لَا يَتَنَجَّزُ“ وہ تو فوری واقع نہیں ہوتی۔ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ غَدًا“ تجھے کل طلاق ہے، اب یہ طلاق کل ہی واقع ہو گی یہ آج نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ طلاق کیا ہو چکی؟ مضاف ہو چکی ہے، تو مضاف طلاق منجز نہیں ہو سکتی، یہ معنی ہے ”وَالْمُضَافُ لَا يَتَنَجَّزُ“ اور مضاف طلاق جو ہے وہ منجز نہیں ہو سکتی، ”لِمَا فِيهِ مِنْ إِبْطَالِ الْإِضَافَةِ“ اس وجہ سے کہ اس کے اندر اضافت کو باطل کرنا ہے، ”فَلَغَا اللَّفْظُ الثَّانِي فِي الْفَصْلَيْنِ“ تو لغو ہو جائے گا دوسرا لفظ دونوں فصلوں میں، دونوں صورتوں میں دوسرا ظرف جو ہے وہ لغو ہو جائے گا۔
”وَلَوْ قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ فِي غَدٍ“ اب دوسری صورت آ گئی: خاوند نے فی کا لفظ بھی ساتھ ذکر کر دیا: ”أَنْتِ طَالِقٌ فِي غَدٍ“، تو یاد رکھو، یاد رکھو، یہاں امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف ہے۔ صاحبین فرماتے ہیں فی کو ذکر کیا جائے یا نہ کیا جائے دونوں کا ایک ہی معنی ہے۔ ”أَنْتِ طَالِقٌ غَدًا“ اور ”أَنْتِ طَالِقٌ فِي غَدٍ“ دونوں کا ایک ہی معنی ہے۔ یہ دونوں استیعاب کا تقاضا کرتے ہیں۔ ”أَنْتِ طَالِقٌ فِي غَدٍ“ تو طلاق والی ہے یعنی تو طلاق کے ساتھ موصوف ہے ”فِي غَدٍ“ آنے والے کل میں۔ تو طلاق کے ساتھ موصوف ہے آنے والے کل میں، یہ تقاضا کرتا ہے صبح سے شام تک یہ طلاق کے ساتھ موصوف ہو۔
جیسے ”أَنْتِ طَالِقٌ غَدًا“ ”تو طلاق والی ہے کل“، یہ بھی کیا تقاضا کرتا ہے؟ صبح سے شام تک یہ طلاق کے ساتھ موصوف ہو، اور یہ تب ہی ہو سکتا ہے جب اوّلِ جزء کے اندر طلاق ہو جائے۔ جب اوّلِ جزء میں طلاق ہو جائے گی تو اس غد کے سارے اجزاء میں یہ عورت طلاق والی ہے، اور صاحبین نے بھی یہی کہا تھا۔ لیکن امام صاحب فرماتے ہیں نہیں، دونوں میں فرق ہے۔
اگر ”غَدًا“ بغیر فی کے ہو تو یہ استیعاب کا تقاضا کرتا ہے۔ استیعاب کا معنی گھیر لینا۔ کیا معنی؟ گھیر لینا۔ ”أَنْتِ طَالِقٌ غَدًا“ فی نہیں ہے، یہ منصوب ہے، ظرف ہے، یہ تقاضا کر رہا ہے کہ کل کے سارے اجزاء میں عورت کو ”أَنْتِ طَالِقٌ“ یعنی طلاق والی ہونا چاہیے۔ یہ ”غَدًا“ جب بغیر فی کے ہے یہ کس کا تقاضا کر رہا ہے؟ کہ وہ عورت طلاق کے ساتھ موصوف ہو کل کے سارے دن میں۔ اور اس کی یہی صورت ہے کہ اس کو اوّلِ فجر میں ہی فوراً طلاق ہو جائے، اب وہ سارے دن میں طلاق کے ساتھ موصوف رہے گی۔
لیکن اگر فی کا لفظ ذکر کر دیں ”أَنْتِ طَالِقٌ فِي غَدٍ“، تو جب فی آگیا اب یہ غد استیعاب کا تقاضا نہیں کرتا۔ ”تو طلاق والی ہے فِي غَدٍ کل کے دن میں“ تو کل کے دن کے کسی ایک جزء میں بھی عورت طلاق والی ہوئی تو بات پوری ہو گئی۔ اس نے بھی کیا کہا تھا؟ کل کے دن میں تو طلاق والی ہے، یہ نہیں کہا کہ کل کے سارا دن میں تو طلاق والی ہے، بلکہ کل کے دن میں تو طلاق والی ہے، تو کل کے دن میں کسی ایک جزء میں بھی اگر طلاق پائی گئی تو بات پوری ہو گئی بھئی۔
لہٰذا اس میں خاوند سے پوچھا گیا: آپ نے کیا نیت کی ہے؟ خاوند نے کہا: میں نے آخری جزء کی نیت کی تھی۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں: قضاءً بھی اس کی تصدیق کی جائے گی۔ دیانۃً میں تو اتفاق ہے، صاحبین بھی فرماتے ہیں کہ اگر یہ کہتا ہے میری آخری جزء کی نیت تھی تو اس کی تصدیق کر دیں گے، اس کا اور اللہ کا معاملہ ہے۔ ہم سے جو مسئلہ پوچھا ہم نے بتا دیا۔ لیکن قضاءً جو ہے اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی، صاحبین فرماتے ہیں کیونکہ ”غَدًا“ اور ”فِي غَدٍ“ دونوں کا ایک ہی معنی ہے، دونوں استیعاب کا تقاضا کرتے ہیں۔
لیکن امام صاحب فرماتے ہیں: نہیں، جب فی کو ذکر کر دیا جائے تو یہ استیعاب کا تقاضا نہیں کرتا۔ لہٰذا قضاءً اگر یہ کہتا ہے میری نیت آخری جزء کی تھی تو قاضی بھی یہی فیصلہ کرے گا کہ دن کے بالکل آخری لمحے میں طلاق ہو گی، اس سے پہلے سارا دن طلاق نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں:
”وَلَوْ قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ فِي غَدٍ“ اور اگر خاوند نے کہا کہ تو طلاق والی ہے کل کے دن میں، ”وَقَالَ: نَوَيْتُ آخِرَ النَّهَارِ“ اور خاوند کہتا ہے کہ میں نے دن کے آخر کی نیت کی تھی، ”دُيِّنَ فِي الْقَضَاءِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ تو اس کی تصدیق کی جائے گی قضاء کے اندر بھی امام صاحب کے نزدیک، ”وَقَالَا: لَا يُدَيَّنُ فِي الْقَضَاءِ خَاصَّةً“ اور صاحبین فرماتے ہیں کہ اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی قضاء کے اندر خاص طور پر۔
قضاء کے اندر اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی، دیانۃً تو وہ بھی کہتے ہیں اس کی تصدیق کی جائے گی، یہ اس کا اور اللہ کا معاملہ ہے۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں: قضاءً بھی اس کی تصدیق کی جائے گی۔
اب صاحبین کی دلیل آ گئی، کہتے ہیں:
”لِأَنَّهُ وَصَفَهَا بِالطَّلَاقِ فِي جَمِيعِ الْغَدِ“ اس لیے کیونکہ خاوند نے اس عورت کو موصوف کیا ہے طلاق کے ساتھ سارے غد میں یعنی سارے کل میں۔ چاہے ”أَنْتِ طَالِقٌ غَدًا“ کہیں یا ”أَنْتِ طَالِقٌ فِي غَدٍ“، دونوں برابر ہیں، یہ دونوں استیعاب کا تقاضا کرتے ہیں کہ سارے دن میں اس کو طلاق والی ہونا چاہیے۔ اور سارے دن میں طلاق والی وہ تب ہی ہو سکتی ہے جب اوّلِ جزء میں طلاق واقع ہو جائے بھئی۔
تو کہتے ہیں:
”لِأَنَّهُ وَصَفَهَا بِالطَّلَاقِ فِي جَمِيعِ الْغَدِ، فَصَارَ بِمَنْزِلَةِ قَوْلِهِ غَدًا عَلَى مَا بَيَّنَّا“ اس لیے کیونکہ خاوند نے اس عورت کو موصوف کیا ہے طلاق کے ساتھ سارے کل میں، تو یہ خاوند کے قول ”غَدًا“ کے درجے میں ہی ہو گیا اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا، اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا کہ سارے غد کے اندر عورت تب ہی موصوف ہو سکتی ہے جب اوّلِ جزء کے اندر طلاق واقع ہو جائے بھئی۔
”وَلِهَذَا يَقَعُ فِي أَوَّلِ جُزْءٍ مِنْهُ عِنْدَ عَدَمِ النِّيَّةِ“ اور اسی لیے طلاق جو ہے اس غد کے اوّلِ جزء میں واقع ہو جائے گی جب اس شخص کی کوئی نیت نہ ہو۔ ”وَهَذَا لِأَنَّ حَذْفَ فِي وَإِثْبَاتَهُ سَوَاءٌ“ اور یہ اس لیے کیونکہ فی کو حذف کرنا اور فی کو ثابت کرنا یہ دونوں برابر ہیں، فی کو چاہے ذکر کریں یا نہ کریں دونوں برابر ہیں، ”لِأَنَّهُ ظَرْفٌ فِي الْحَالَيْنِ“ اس لیے کیونکہ غد جو ہے وہ ظرف ہے دونوں حالتوں میں۔ چاہے فی کو ذکر کریں یا ذکر نہ کریں، یہ غد کا لفظ یعنی کل کا جو لفظ ہے وہ ظرف ہی ہے بھئی۔
”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ نَوَى حَقِيقَةَ كَلَامِهِ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ اس شخص نے اپنے حقیقتِ کلام کی نیت کی ہے۔ امام صاحب کا ضابطہ میں نے ذکر کر دیا کہ جب فی ذکر ہو تو یہ استیعاب کا تقاضا نہیں کرتا۔ یہ اسی طرح ہے، ایک شخص کہتا ہے: ”وَاللَّهِ لَأَصُومَنَّ فِي السَّنَةِ“، ”وَاللَّهِ لَأَصُومَنَّ فِي السَّنَةِ“ واللہ میں ضرور روزہ رکھوں گا اس سال میں، تو اس سال کے اندر سارا سال روزہ رکھنا ضروری نہیں، سال کے اندر ایک بھی دن وہ روزہ رکھ لے گا تو اس کی قسم پوری ہو گئی۔ لیکن اگر وہ کہتا ہے: ”وَاللَّهِ لَأَصُومَنَّ السَّنَةَ“ کہ واللہ میں اس سال روزہ رکھوں گا، تو ”السَّنَةَ“ یہ منصوب لایا ہے، یہاں فی نہیں ہے، لہٰذا پورا سال اس کو روزہ رکھنا پڑے گا۔ سوائے ان ایام کے جن ایام میں روزہ رکھنا شرعاً منع ہے، یعنی دونوں عید کے دن اور بڑی عید سے اگلے تین دن بھئی، تو یہ پانچ دن ہیں سال کے جن میں روزہ رکھنا حرام ہے بھئی، باقی پورا سال اس کو روزہ رکھنا پڑے گا، کیونکہ اس نے ”السَّنَةَ“ بغیر فی کے ذکر کیا ہے۔ اور اگر فی کے ساتھ کہتا: ”وَاللَّهِ لَأَصُومَنَّ فِي السَّنَةِ“ میں ضرور روزہ رکھوں گا اس سال میں، تو لہٰذا سال میں ایک بھی روزہ رکھ دے گا تو اس نے سال میں اس نے روزہ رکھ لیا بھئی۔ فرق سمجھ میں آ رہا ہے؟
تو امام صاحب فرماتے ہیں: جب فی کو ذکر کیا جائے تو یہ استیعاب کا تقاضا نہیں کرتا، اب پورا سال روزہ رکھنا ضروری نہیں، اور اگر فی کو ذکر نہیں کرے گا یہ استیعاب کا تقاضا کرتا ہے کہ روزے گھیر لیں پورے سال کو، سارا سال وہ روزے رکھے۔
تو کہتے ہیں:
”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ نَوَى حَقِيقَةَ كَلَامِهِ، لِأَنَّ كَلِمَةَ فِي لِلظَّرْفِ، وَالظَّرْفِيَّةُ لَا تَقْتَضِي الِاسْتِيعَابَ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ اس شخص نے اپنے کلام کی حقیقت کا ارادہ کیا ہے، اس لیے کیونکہ کلمۂ فی ظرف کے لیے ہے اور ظرف ہونا یہ استیعاب کا تقاضا نہیں کرتا کہ وہ سارے وقت کو گھیر لے، ”وَتَعَيَّنَ الْجُزْءُ الْأَوَّلُ ضَرُورَةَ عَدَمِ الْمُزَاحِمِ“۔ صاحبین نے ذکر کیا تھا، ادھر دیکھیے، صاحبین نے کہا تھا ”أَنْتِ طَالِقٌ غَدًا“ کہے یا ”أَنْتِ طَالِقٌ فِي غَدٍ“ کہے، دونوں صورتوں میں اگر خاوند نے کوئی نیت نہیں کی تو اوّلِ جزء میں طلاق واقع ہو جائے گی۔ کس میں؟ اوّلِ جزء میں۔ معلوم ہوا دونوں کلام برابر ہیں، دونوں کلام، دونوں میں اوّلِ جزء میں طلاق واقع ہو رہی ہے۔ ”غَدًا“، ”غَدًا“ کے اندر تو امام صاحب بھی مانتے ہیں کہ اوّلِ جزء میں واقع ہو جائے گی۔ بھئی ”غَدًا“ کے اندر تو پیچھے ذکر ہو گیا کہ اگر خاوند نے کوئی نیت نہیں کی تو اوّلِ جزء میں طلاق واقع ہو جائے گی۔ صاحبین فرماتے ہیں: اگر ”فِي غَدٍ“ کہا اس کے اندر بھی اگر خاوند نے کوئی نیت نہیں کی تو امام صاحب کے نزدیک بھی پہلے جزء میں طلاق واقع ہو جائے گی۔ معلوم ہوا ”غَدًا“ اور ”فِي غَدٍ“ میں کوئی فرق نہیں ہے، تو اس کا بھی جواب دے رہے ہیں۔
کہتے ہیں بھئی: ”أَنْتِ طَالِقٌ فِي غَدٍ“، ”أَنْتِ طَالِقٌ فِي غَدٍ“ یہاں پر اوّلِ جزء میں طلاق اس لیے واقع نہیں ہوئی کہ یہ استیعاب کا تقاضا کر رہا تھا۔ صاحبین تو فرماتے ہیں یہ چاہے ”غَدًا“ کہیں چاہے ”فِي غَدٍ“ کہیں، یہ کس کا تقاضا کرتا ہے؟ استیعاب کا کہ سارے دن کے اندر طلاق ہونی چاہیے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ ”فِي غَدٍ“ کے اندر بھی پہلے جزء میں طلاق ہو گی، لیکن اس لیے نہیں کہ یہ ”فِي غَدٍ“ استیعاب کا تقاضا کر رہا ہے، بلکہ اس لیے کہ وہاں اور کوئی مقابل ہے ہی نہیں۔ اس طلاق نے کل کے کسی بھی جزء میں واقع ہونا ہے۔ اس طلاق نے کل کے کسی بھی جزء میں واقع ہونا ہے، لیکن جیسے ہی اوّلِ جزء آیا باقی جزء ابھی آئے ہی نہیں تو اس اوّل کا مقابل کوئی بھی نہیں۔ جب کوئی مقابل نہیں ہے تو اسی میں طلاق واقع ہو جائے گی۔ تو یہ جو طلاق واقع ہوئی ہے وہ استیعاب کے تقاضے کی وجہ سے نہیں واقع ہوئی بلکہ عدمِ مقابل کی وجہ سے واقع ہوئی ہے، عدمِ مزاحم کی وجہ سے واقع ہوئی ہے، کیونکہ ابھی اور کوئی جزء آیا ہی نہیں، ایک ہی جزء ہے، اس کے مقابلے میں کوئی اور جزء نہیں جو تقاضا کر رہا ہو کہ طلاق میرے اندر واقع ہو۔ پہلا جزء جیسے ہی آیا اس نے کیا تقاضا کیا؟ طلاق میرے اندر واقع ہو، دوسرا آتا وہ بھی تقاضا کرتا، تیسرا چوتھا، جو جو جزء آتا جا رہا ہے وہ تقاضا کرتا۔ کسی بھی جزء میں طلاق واقع ہو جائے ٹھیک ہے مسئلہ، لیکن جب اوّل جزء آیا باقی جزء تو ابھی آئے ہی نہیں، ان کا وجود ہی نہیں ہے، اور یہ اوّلِ جزء تقاضا کر رہا ہے کہ طلاق میرے اندر واقع ہو جائے تو عدمِ مقابل ہونے کی وجہ سے طلاق واقع ہو گئی بھئی۔ اس وجہ سے واقع نہیں ہوئی کہ یہ استیعاب کا تقاضا کر رہا تھا۔ توجہ ہے؟
تو کہتے ہیں:
”وَتَعَيَّنَ الْجُزْءُ الْأَوَّلُ ضَرُورَةَ عَدَمِ الْمُزَاحِمِ“ اور پہلا جزء ہی متعین ہو گیا عدمِ مزاحم کے ضروری ہونے کی وجہ سے کہ کوئی اس کا مقابل موجود نہیں تھا، تو ضرورت کی وجہ سے طلاق اسی میں ہی واقع ہو گئی، ”فَإِذَا عَيَّنَ آخِرَ النَّهَارِ كَانَ التَّعْيِينُ الْقَصْدِيُّ أَوْلَى بِالِاعْتِبَارِ مِنَ الضَّرُورِيِّ“ جب خاوند نے خود متعین کر دیا دن کا آخری حصہ تو تعیینِ قصدی وہ زیادہ لائق ہے کہ اس کا اعتبار کیا جائے ضروری کے مقابلے میں۔
بھئی دیکھو، خاوند نے کیا کہا ہے؟ فی کو ذکر کیا ہے ”فِي غَدٍ“۔ امام صاحب بھی فرماتے ہیں اگر خاوند نے کوئی نیت نہیں کی تو پھر اوّلِ جزء میں طلاق واقع ہو جائے گی، کیونکہ ہر جزء طلاق کا تقاضا کرے گا کہ میرے اندر واقع ہو۔ اور جب پہلا جزء آیا ابھی تو باقی آئے ہی نہیں، لہٰذا وہاں کوئی مقابل نہیں، پہلے جزء نے آتے ہی تقاضا کیا اور ساتھ ہی اس میں طلاق بھی واقع ہو گئی عدمِ مقابل کی وجہ سے کہ کوئی مقابلے میں اور جزء موجود ہی نہیں۔ جبکہ اگر یہ شخص نیت کر لیتا ہے، یہ شخص کیا کر لیتا ہے؟ آخری جزء کی نیت کر لیتا ہے، تو ایک طرف تعیینِ قصدی ہے اور ایک طرف تعیینِ ضروری ہے۔ تعیینِ قصدی یعنی جو اپنے ارادے سے وہ تعیین کر رہا ہے کہ دن کے آخری جزء میں ہونی چاہیے طلاق، اور تعیینِ ضروری وہ ہے جو ضرورت کی وجہ سے ثابت ہوئی ہے کہ اوّلِ جزء میں بھی طلاق ہو جاتی ہے جب کوئی مقابل نہ ہو۔ تو ایک طرف تعیینِ ضروری ہے اور ایک طرف کیا ہے؟ تعیینِ قصدی۔ تو جب تعیینِ قصدی موجود ہے تو پھر اسی کا اعتبار کیا جائے گا، تعیینِ ضروری کا کوئی اعتبار نہیں، اس کا اعتبار تو ہم نے ضرورت کی وجہ سے کیا تھا کہ وہاں اور کوئی مقابل موجود نہیں تھا۔
توجہ بھی ہے کہ نہیں؟ خاوند نے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ فِي غَدٍ“ کوئی نیت نہیں کی، لہٰذا اگلے دن کے پہلے جزء میں ہی طلاق واقع ہو جائے گی، کیونکہ یہاں کوئی مقابل نہیں ہے۔ تو یہ جو پہلے جزء میں طلاق واقع ہوئی کس لیے؟ ضرورت کی وجہ سے، کیونکہ اوّلِ جزء کیا کر رہا تھا؟ طلاق کا تقاضا کر رہا تھا۔ لیکن اگر خاوند نے باقاعدہ خود نیت کر لی کہ آخری جزء میں ہو میری نیت تو کیا ہے؟ تو ایک طرف تعیینِ ضروری ہے، ضرورت تقاضا کر رہی ہے پہلے جزء میں ہونی چاہیے، اور ایک طرف تعیینِ قصدی ہے، وہ ارادہ کر رہا ہے آخری جزء میں ہونی چاہیے، تو تعیینِ قصدی کا اعتبار کرنا پڑے گا، تعیینِ ضروری یہاں اس کے اعتبار کی ضرورت نہیں، کیونکہ وہ تو ہم نے ضرورت کی وجہ سے اس کا اعتبار کیا تھا، جب تعیینِ قصدی آگئی اب تعیینِ ضروری کا کوئی اعتبار نہیں ہے بھئی، یہ معنی ہے۔
کہتے ہیں:
”وَتَعَيَّنَ الْجُزْءُ الْأَوَّلُ ضَرُورَةَ عَدَمِ الْمُزَاحِمِ، فَإِذَا عَيَّنَ آخِرَ النَّهَارِ كَانَ التَّعْيِينُ الْقَصْدِيُّ أَوْلَى بِالِاعْتِبَارِ مِنَ الضَّرُورِيِّ“ اور پہلا جزء متعین ہو گیا عدمِ مزاحم کے ضروری ہونے کی وجہ سے کہ وہاں کوئی مقابل موجود نہیں تھا، تو اس ضرورت کی وجہ سے۔ تو جب خاوند نے دن کے آخر کو متعین کر دیا تو تعیینِ قصدی جو ہے وہ زیادہ لائق ہے کہ اس کا اعتبار کیا جائے ضروری کے مقابلے میں، تو تعیینِ قصدی جو ہے وہ زیادہ لائق ہے کہ اس کا اعتبار کیا جائے تعیینِ ضروری کے مقابلے میں، کیونکہ وہ تعیینِ ضروری تو ضرورت کی وجہ سے ہے، جب تعیینِ قصدی آ گئی اب کوئی ضرورت نہیں ہے کہ پہلے جزء میں اس کو واقع کیا جائے۔
”بِخِلَافِ قَوْلِهِ: غَدًا“ بخلاف خاوند کے قول ”غَدًا“ کے، جب اس نے فی کے بغیر ”غَدًا“ کہا تھا، ”لِأَنَّهُ يَقْتَضِي الِاسْتِيعَابَ“ اس لیے کیونکہ یہ استیعاب کا تقاضا کرتا ہے۔ جب ظرف کو بغیر فی کے ساتھ ذکر کیا جائے تو یہ کیا تقاضا کرتا ہے؟ کہ استیعاب ہونا چاہیے، ”أَنْتِ طَالِقٌ غَدًا“ یعنی عورت طلاق والی ہو کل کے ہر ہر جزء میں۔
تو کہتے ہیں:
”بِخِلَافِ قَوْلِهِ: غَدًا لِأَنَّهُ يَقْتَضِي الِاسْتِيعَابَ حَيْثُ وَصَفَهَا بِهَذِهِ الصِّفَةِ مُضَافًا إِلَى جَمِيعِ الْغَدِ“ بخلاف خاوند کے قول ”غَدًا“ کے، اس لیے کیونکہ یہ جو ”غَدًا“ ہے بغیر فی کے یہ تقاضا کرتا ہے استیعاب کا کہ یہ طلاق والی صفت پورے دن کے اندر پائی جائے، اس حیثیت سے کہ خاوند نے اس عورت کو موصوف کیا ہے اس صفت کے ساتھ اس طور پر کہ یہ صفت مضاف ہو رہی ہے سارے غد کی طرف، آنے والے سارے دن کی طرف۔
”نَظِيرُهُ إِذَا قَالَ: وَاللَّهِ لَأَصُومَنَّ عُمْرِي“ اس کی نظیر جو ہے جب کوئی شخص کہتا ہے: ”وَاللَّهِ لَأَصُومَنَّ عُمْرِي“، ”وَاللَّهِ لَأَصُومَنَّ عُمْرِي“ واللہ میں اپنی ساری عمر روزہ رکھوں گا، تو اب ساری عمر اس کو روزہ رکھنا پڑے گا، کیونکہ اس نے فی لفظ ذکر نہیں کیا۔ فی لفظ؟ تو ”عُمْرِي“ میری عمر، یہ ظرف ہے اور اس کے لیے اس نے فی ذکر نہیں کیا، یہ استیعاب کا تقاضا کرتا ہے، اس کو اب ساری عمر روزے رکھنے پڑیں گے، ایک بھی روزہ چھوٹے گا یہ حانث ہو جائے گا۔ اور دوسری صورت ہے فی کو ذکر کرتا ہے: ”وَاللَّهِ لَأَصُومَنَّ فِي عُمْرِي“ کہ واللہ میں اپنی عمر میں ضرور روزہ رکھوں گا، اب عمر بھر میں ایک بھی روزہ رکھے گا تو قسم پوری ہو گئی۔
تو کہتے ہیں:
”نَظِيرُهُ إِذَا قَالَ: وَاللَّهِ لَأَصُومَنَّ عُمْرِي“ اس غد کی نظیر جو ہے جب کوئی شخص کہتا ہے: ”وَاللَّهِ لَأَصُومَنَّ عُمْرِي“ کہ واللہ میں ضرور روزہ رکھوں گا پوری عمر، ”وَنَظِيرُ الْأَوَّلِ: وَاللَّهِ لَأَصُومَنَّ فِي عُمْرِي“ اور اوّل کی نظیر یعنی ”فِي الْغَدِ“ کی جو نظیر ہے ”وَاللَّهِ لَأَصُومَنَّ فِي عُمْرِي“ کہ واللہ میں اپنی عمر میں ضرور روزہ رکھوں گا، ”وَعَلَى هَذَا الدَّهْرُ وَفِي الدَّهْرِ“ اور اسی پر ہے الدھر اور فی الدھر بھی۔
ایک شخص کہتا ہے: ”وَاللَّهِ لَأَصُومَنَّ الدَّهْرَ“ کہ واللہ میں سارا زمانہ روزے رکھوں گا، دہر زمانے کو کہتے ہیں، تو سارے زمانے میں اب اس کو روزے رکھنے پڑیں گے۔ اور اگر فی ذکر کرتا ہے: ”وَاللَّهِ لَأَصُومَنَّ فِي الدَّهْرِ“، تو اب زمانے کے اندر ایک بھی وہ روزہ رکھ لے گا تو اس کی قسم پوری ہو گئی، اب سارے زمانے میں روزہ رکھنا ضروری نہیں، کیونکہ یہ فی جب آ جائے تو پھر یہ استیعاب کا تقاضا نہیں کرتا۔
آگے دیکھیے:
”وَلَوْ قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ أَمْسِ وَقَدْ تَزَوَّجَهَا الْيَوْمَ لَمْ يَقَعْ شَيْءٌ“ خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ أَمْسِ“، امس میں نے ابھی بتایا گذشتہ کل کو کہتے ہیں، ”أَنْتِ طَالِقٌ أَمْسِ“ تجھے گذشتہ کل طلاق ہے، اور حال یہ ہے کہ آج ہی ان کی شادی ہوئی ہے۔ شادی آج ہوئی ہے اور کیا کہہ رہا ہے؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ أَمْسِ“۔ تو یہ گذشتہ کل میں طلاق کو واقع کرنا چاہ رہا ہے اور گذشتہ کل تو یہ اس کا خاوند ہی نہیں تھا، لہٰذا اس کا یہ کلام لغو چلا جائے گا، اس سے طلاق واقع نہیں ہو گی۔
کہتے ہیں:
”وَلَوْ قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ أَمْسِ وَقَدْ تَزَوَّجَهَا الْيَوْمَ لَمْ يَقَعْ شَيْءٌ“ اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا کہ تجھے گذشتہ کل طلاق ہے اور حال یہ ہے کہ خاوند نے اسے آج کے دن میں نکاح کیا ہے تو کوئی چیز واقع نہیں ہو گی، ”لِأَنَّهُ أَسْنَدَهُ إِلَى حَالَةٍ مَعْهُودَةٍ مُنَافِيَةٍ لِمَالِكِيَّةِ الطَّلَاقِ“ اس لیے کیونکہ خاوند نے نسبت کی ہے اس طلاق کی ایک ایسی معلوم حالت کی طرف جو طلاق کے مالک ہونے کے منافی تھی، ”لِأَنَّهُ أَسْنَدَهُ“ اس لیے کیونکہ خاوند نے اس طلاق کی نسبت کی ہے ”إِلَى حَالَةٍ مَعْهُودَةٍ“ ایک ایسی معلوم حالت کی طرف ”مُنَافِيَةٍ لِمَالِكِيَّةِ الطَّلَاقِ“ جو طلاق کے مالک ہونے کے منافی تھی، معہود کا معنی مقرر اور متعین یعنی معلوم۔ گذشتہ کل تو نکاح ہی نہیں ہوا تھا، گذشتہ کل تو وہ طلاق کا خاوند مالک ہی نہیں تھا، تو خاوند نے طلاق کی نسبت کر دی ہے ایسے زمانے کی طرف جس وقت وہ طلاق کا مالک ہی نہیں تھا، تو لہٰذا اس کی یہ طلاق لغو چلی جائے گی، طلاق نہیں ہو گی۔ ہاں اگر اس کی شادی پہلے سے ہو چکی تھی، اس کی شادی پہلے ہو چکی تھی، شادی مثلاً دس سال پہلے ہوئی تھی اور اب کہتا ہے ”أَنْتِ طَالِقٌ أَمْسِ“ گذشتہ کل تجھے طلاق ہے، اور گذشتہ کل تو یہ طلاق کا مالک تھا، لہٰذا طلاق ہو جائے گی، اور فی الحال ہو جائے گی کیونکہ ماضی میں تو کوئی طلاق واقع نہیں کر سکتا، تو ماضی میں تو واقع نہیں ہو سکتی لہٰذا اسی وقت واقع ہو جائے گی۔
تو کہتے ہیں:
”لِأَنَّهُ أَسْنَدَهُ إِلَى حَالَةٍ مَعْهُودَةٍ مُنَافِيَةٍ لِمَالِكِيَّةِ الطَّلَاقِ فَيَلْغُو“ اس لیے کیونکہ خاوند نے طلاق کی نسبت کی ہے ایک ایسی حالت کی طرف جو معلوم ہے اور طلاق کے مالک ہونے کے منافی ہے، لہٰذا اس کی یہ طلاق لغو ہو جائے گی، ”كَمَا إِذَا قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ“ یہ ایسے ہی ہے جیسے کہ خاوند نے کہا ہو ”أَنْتِ طَالِقٌ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ“، ”أَنْتِ طَالِقٌ“ تجھے طلاق ہے ”قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ“ قبل اس کے کہ میں پیدا کیا گیا یعنی میری پیدائش سے بھی پہلے تجھے طلاق ہے۔ اب بھئی پیدائش سے پہلے تو تم طلاق کے مالک ہی نہیں تھے، لہٰذا یہ کلام بھی لغو چلا جائے گا۔
تو کہتے ہیں:
”كَمَا إِذَا قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ“ جیسے کہ خاوند نے کہا ہو کہ تمہیں طلاق ہے میری پیدائش سے پہلے، ”وَلِأَنَّهُ يُمْكِنُ تَصْحِيحُهُ إِخْبَارًا عَنْ عَدَمِ النِّكَاحِ أَوْ عَنْ كَوْنِهَا مُطَلَّقَةً بِتَطْلِيقِ غَيْرِهِ مِنَ الْأَزْوَاجِ“۔ بھئی اس جگہ کو سمجھ لیں۔ یاد رکھو یہ جو طلاق ہے نا یہ انشاء ہے۔ طلاق کیا ہے؟ انشاء۔ ایک چیز کو وجود دے رہا ہے خاوند جس کا وجود پہلے نہیں تھا۔ ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا ہوا ہے، یہ اس کی بیوی ہے، کوئی طلاق نہیں، لیکن خاوند جیسے ہی کہے گا ”أَنْتِ طَالِقٌ“ تو فوراً طلاق ہو گئی، طلاق کا وجود آ گیا، اس سے پہلے طلاق کا وجود نہیں تھا۔ یہ اسی طرح ہے جیسے مشتری اور بائع کے درمیان ایجاب و قبول ہوتا ہے، بائع نے کہا میں نے یہ کتاب آپ کو ہزار روپے میں بیچ دی اور مشتری کہتا ہے مجھے منظور ہے، جیسے ہی یہ ایجاب و قبول کریں گے ساتھ ہی بیع پائی گئی، اس سے پہلے بیع کا وجود نہیں تھا، اور جیسے ہی بیع پائی گئی مشتری مبیع کا مالک بن گیا، تو اس کو کہتے ہیں انشاء، ایک چیز کو وجود دیا جاتا ہے جس کا پہلے وجود نہیں تھا۔ اور یاد رکھو اس انشاء بیع کے لیے یا انشاء نکاح کے لیے یا اسی طرح انشاء طلاق کے لیے عربی زبان میں کوئی لفظ مقرر نہیں۔ عربی زبان میں کوئی ایسا لفظ نہیں جس کو وضع ہی انشاء نکاح کے لیے کیا گیا ہو یا انشاء طلاق کے لیے کیا گیا ہو یا انشاء بیع کے لیے، حالانکہ انسان کو نکاح کی بھی حاجت ہے، طلاق کی بھی حاجت ہے، بیع وغیرہ اور عقدوں کی بھی حاجت ہے۔ تو جب ان عقدوں کی انشاء کے لیے کوئی لفظ ہے ہی نہیں عربی زبان میں تو پھر خبر والے الفاظ استعمال کر لیے جاتے ہیں۔ کون سے؟ خبر والے۔ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ یہ تو اصل میں خبر ہے، میں کہتا ہوں ”أَنْتَ ضَارِبٌ“ کہ آپ پٹائی کر رہے ہیں تو میرے کہنے سے تو آپ پٹائی نہیں کر رہے، میں نے تو صرف ایک خبر دی ہے ”أَنْتَ ضَارِبٌ“ کہ آپ پٹائی کر رہے ہیں۔ توجہ ہے؟ تو ”أَنْتِ طَالِقٌ“ اس میں تو صرف ایک خبر دی جا رہی ہے تو طلاق والی ہے۔ لیکن چونکہ انشاء طلاق کے لیے کوئی لفظ تھا ہی نہیں، لہٰذا اس ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کو شریعت نے انشاء طلاق کے قائم مقام کر دیا۔ انسان طلاق دینا چاہتا ہے بیوی کو، طلاق دینے کے لیے کوئی لفظ ہی نہیں ہے عربی میں، تو وہی خبر والا لفظ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ والا لفظ کس کے لیے متعین کر دیا؟ انشاء طلاق کے لیے بھی متعین کر دیا۔ اسی طرح انشاء نکاح اور انشاء بیع ان کے لیے بھی عربی زبان میں کوئی لفظ نہیں ہے تو وہاں بھی خبر والے لفظوں سے ہی کام چلایا جاتا ہے، وہ خبر والے لفظوں کو ہی شریعت نے انشاء کے قائم مقام کر دیا۔ خاوند بیوی سے کہتا ہے: میں نے تجھ سے نکاح کر لیا، اور بیوی کہتی ہے: میں نے قبول کیا، دیکھو یہ خبر ہے: میں نے نکاح کر لیا، یہ تو ایک بات بتلا رہا ہے، خبر دے رہا ہے، لیکن اسی کو شریعت نے کس کا درجہ دے دیا؟ انشاء والا۔ توجہ ہے؟ لہٰذا ”أَنْتِ طَالِقٌ“ یہ اصل میں کیا ہے؟ خبر۔ حقیقتاً یہ کلام کیسا ہے؟ خبر والا ہے، لیکن شریعت نے اس کو کس کا درجہ دے دیا؟ انشاء والا درجہ دے دیا۔ لہٰذا خاوند نے بیوی سے کہا ”أَنْتِ طَالِقٌ أَمْسِ“ تجھے گذشتہ کل طلاق ہے، اور گذشتہ کل تو ان کی شادی نہیں ہوئی تھی، ان کی تو شادی ہی آج ہوئی ہے، تو اس کو انشاء پر محمول نہیں کر سکتے کیونکہ گذشتہ کل یہ طلاق کا مالک ہی نہیں تھا۔ جب انشاء پر محمول نہیں کر سکتے تو پھر یہ کلام لغو ہو گیا، ہاں خبر پر محمول کر سکتے ہیں لہٰذا اس کو خبر پر محمول کر لیں گے۔ یہ تو کلام اصل میں ہے ہی خبر کے لیے اور خبر پر یہاں محمول کرنا ممکن بھی ہے، کس طرح؟ گویا خاوند یوں کہہ رہا ہے ”أَنْتِ طَالِقٌ أَمْسِ“، طالق سے مراد ہے اس کی عدمِ نکاح، کیونکہ جب طلاق آتی ہے تو نکاح ٹوٹ جاتا ہے، تو طالق بول کر وہ کس کا ارادہ گویا کرنا چاہ رہا ہے؟ عدمِ نکاح کا۔ خاوند نے کہا کیا؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ أَمْسِ“، لیکن اس کا ارادہ، مطلب کہنے کا یہ ہے کہ کل تو غیرِ نکاح والی تھی۔ کل تو طلاق والی تھی یعنی تو غیرِ نکاح والی تھی، ہمارا نکاح تو آج ہوا ہے، دیکھو کل کا دن تھا تو بغیر نکاح کے تھی اور آج ہم پر اللہ نے فضل کیا دیکھو ہمارا نکاح بھی ہو گیا۔ تو یہ خبر دے رہا ہے گویا ”أَنْتِ طَالِقٌ أَمْسِ“ میں وہ کیا خبر دے رہا ہے؟ کہ گذشتہ کل تو عدمِ نکاح والی تھی۔ توجہ ہے؟ یا نکاح تو ان کا آج ہوا ہے، کل تو خاوند طلاق کا مالک ہی نہیں تھا، تو اس کو ہم خبر پر محمول کر سکتے ہیں کہ ہو سکتا ہے اس عورت نے پہلے کہیں اور نکاح کیا تھا اور اس دوسرے خاوند نے اس کو طلاق دی ہوئی تھی، اس کا تو آج نکاح ہوا ہے اس خاوند کے ساتھ، تو خاوند کہتا ہے ”أَنْتِ طَالِقٌ أَمْسِ“ دیکھو کل تو طلاق والی تھی اور آج تو نکاح والی ہے، آج کیا ہے؟ نکاح والی ہے، تو دیکھو ”أَنْتِ طَالِقٌ أَمْسِ“ کو ہم خبر پر محمول کر سکتے ہیں۔ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کو تو انشاء پر محمول نہیں کر سکتے، گذشتہ کل طلاق تو واقع نہیں ہو سکتی کیونکہ گذشتہ کل خاوند طلاق کا مالک ہی نہیں تھا۔ نئی توجہ، نئی توجہ۔ دیکھو ”أَنْتِ طَالِقٌ“ یہ اصل میں ہے خبر، اصل میں کیا ہے؟ خبر، لیکن شریعت نے اس کو انشاء کے قائم مقام کر دیا ہے۔ لیکن یہاں پر آج ان کی شادی ہوئی ہے اور خاوند بیوی کو کہتا ہے ”أَنْتِ طَالِقٌ أَمْسِ“ گذشتہ کل تجھے طلاق ہے، بھئی گذشتہ کل تو آپ طلاق کے مالک ہی نہیں تھے، آپ کا نکاح ہی نہیں تھا، لہٰذا اس کا کلام لغو چلا گیا طلاق نہیں ہو گی، ہاں اس کو ہم خبر پر محمول کر لیں گے اور خبر پر محمول کرنا ممکن بھی ہے کہ طلاق سے کیا مراد لے لو؟ عدمِ نکاح۔ ”أَنْتِ طَالِقٌ أَمْسِ“ کہ مطلب کل تو غیرِ نکاح والی تھی، طلاق سے کیا مراد لے لو؟ غیرِ نکاح، دیکھو نا طلاق سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے تو لفظ وہ طلاق والا بول رہا ہے لیکن اس کا ارادہ کیا ہے؟ مطلب کیا ہے؟ کہ کل تو غیرِ نکاح والی تھی، آج الحمد للہ ہم دونوں نکاح والے ہیں، یا بیوی کو کسی اور نے طلاق دی ہوئی تھی تو خاوند کے کہنے کا مطلب یہ ہے: کل دیکھو تو طلاق والی تھی آج تو نکاح والی ہے۔ تو اس کو خبر پر محمول کرنا ممکن ہے، انشاء طلاق تو ہو نہیں سکتا اور خبر پر محمول کرنا ممکن ہے تو خبر پر ہی محمول کریں گے ہم اس کو، یہ معنی ہے۔
”وَلِأَنَّهُ يُمْكِنُ تَصْحِيحُهُ إِخْبَارًا عَنْ عَدَمِ النِّكَاحِ“ اور اس لیے کیونکہ اس کلام کی درستگی ممکن ہے کہ اس کو درست قرار دیا جائے ”إِخْبَارًا عَنْ عَدَمِ النِّكَاحِ“ اس کو عدمِ نکاح سے خبر بناتے ہوئے، ”أَوْ عَنْ كَوْنِهَا مُطَلَّقَةً“ یا اس کو خبر بناتے ہوئے مطلقہ ہونے سے ”بِتَطْلِيقِ غَيْرِهِ مِنَ الْأَزْوَاجِ“ اس خاوند کے علاوہ کسی اور خاوند کے طلاق دینے سے۔ اس خاوند کے علاوہ کسی اور خاوند کے طلاق دینے کے ساتھ اس کے مطلقہ ہونے کی خبر پر اس کو محمول کیا جا سکتا ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آیا؟ پھر ترجمہ دیکھ لیں۔ ”وَلِأَنَّهُ يُمْكِنُ تَصْحِيحُهُ“ اس لیے کیونکہ اس کلام کو درست قرار دینا ممکن ہے ”إِخْبَارًا عَنْ عَدَمِ النِّكَاحِ“ بطورِ خبر کے عدمِ نکاح سے، عدمِ نکاح سے بطورِ خبر کے بھی اس کو صحیح قرار دینا ممکن ہے، اسی طرح ”عَنْ كَوْنِهَا مُطَلَّقَةً“ اس کو اس عورت کے مطلقہ ہونے سے خبر بنانے سے بھی اس کی تصحیح ممکن ہے ”بِتَطْلِيقِ غَيْرِهِ مِنَ الْأَزْوَاجِ“ بوجہ اس عورت کو طلاق دینے اس خاوند کے علاوہ اور خاوند کے۔ بات سمجھ میں آگئی؟
”وَلَوْ تَزَوَّجَهَا أَوَّلًا مِنْ أَمْسِ وَقَعَ السَّاعَةَ“ ہاں، میں نے بتایا اگر اس خاوند کا نکاح پہلے سے ہو چکا ہے اس عورت سے اور اب کہتا ہے ”أَنْتِ طَالِقٌ أَمْسِ“ گذشتہ کل تجھے طلاق ہے، تو پھر اس صورت میں اس وقت طلاق ہو جائے گی، اس لیے کیونکہ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ یہ کس کے قائم مقام ہے؟ انشاء کے، اس سے طلاق ہوتی ہے، اور یہ طلاق کب واقع کرنا چاہتا ہے؟ امس گذشتہ کل، ماضی میں۔ اور طلاق فی الحال تو واقع کی جا سکتی ہے ماضی میں تو کوئی واقع نہیں کر سکتا، وہ تو گزر چکا ہے، لہٰذا فی الحال ہی واقع ہو جائے گی بھئی۔
تو کہتے ہیں:
”وَلَوْ تَزَوَّجَهَا“ اور اگر اس خاوند نے اس سے شادی کی تھی ”أَوَّلًا مِنْ أَمْسِ“ کل سے پہلے، گذشتہ کل سے پہلے، ”وَقَعَ السَّاعَةَ“ تو اسی گھڑی جو ہے طلاق واقع ہو جائے گی، ”لِأَنَّهُ مَا أَسْنَدَهُ إِلَى حَالَةٍ مُنَافِيَةٍ“ اس لیے کیونکہ خاوند نے اس طلاق کی نسبت کسی منافی حالت کی طرف نہیں کی، گذشتہ کل بھی وہ طلاق کا مالک تھا، ایسا نہیں تھا کہ یہ طلاق کا مالک نہ ہو، ایسا نہیں تھا، تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ مَا أَسْنَدَهُ إِلَى حَالَةٍ مُنَافِيَةٍ“ اس لیے کیونکہ خاوند نے اس طلاق کی نسبت کسی منافی حالت کی طرف نہیں کی، ”وَلَا يُمْكِنُ تَصْحِيحُهُ إِخْبَارًا أَيْضًا“ اور نیز بطورِ خبر کے بھی اس کی تصحیح ممکن نہیں ہے۔ بطورِ خبر کے بھی اس کی تصحیح ممکن نہیں، پہلے ہم نے کیا خبر بنائی تھی؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ أَمْسِ“ کہ تو غیرِ نکاح والی تھی گذشتہ کل، طالق کو کس معنی میں لیا تھا؟ عدمِ نکاح کے معنی میں کہ ”أَنْتِ طَالِقٌ أَمْسِ“ گذشتہ کل تو غیرِ نکاح والی تھی، لیکن یہاں تو اس پر بھی محمول نہیں کر سکتے، بھئی اس آدمی سے تو اس عورت کا بہت پہلے سے نکاح ہے تو گذشتہ کل یہ غیرِ نکاح والی تھی یا نکاح والی تھی؟ گذشتہ کل بھی تو یہ نکاح والی تھی، لہٰذا اس کو خبر پر بھی ہم محمول نہیں کر سکتے۔ یہ معنی ہے: ”وَلَا يُمْكِنُ تَصْحِيحُهُ إِخْبَارًا عَنْهُ“ اور نیز اس کو خبر بناتے ہوئے بھی اس کی تصحیح ممکن نہیں ہے، ”فَكَانَ إِنْشَاءً“ تو پھر یہ جو ”أَنْتِ طَالِقٌ أَمْسِ“ ہے یہ انشاء ہو گا، ”وَالْإِنْشَاءُ فِي الْمَاضِي إِنْشَاءٌ فِي الْحَالِ“ اور ماضی کے اندر انشاء جو ہے یہ زمانہ حال میں انشاء ہے کیونکہ ماضی میں انشاء نہیں ہو سکتا، ”فَيَقَعُ السَّاعَةَ“ تو اسی گھڑی طلاق واقع ہو جائے گی۔
آگے دیکھیے:
”وَلَوْ قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ قَبْلَ أَنْ أَتَزَوَّجَكِ لَمْ يَقَعْ شَيْءٌ“ صورتِ مسئلہ یہ ہے: خاوند نے بیوی سے کہا: تجھے طلاق ہے میرے تجھ سے نکاح کرنے سے پہلے۔ میرے تجھ سے نکاح کرنے سے پہلے کے زمانے میں تجھے کیا ہے؟ طلاق ہے۔ تو کہتے ہیں اس صورت میں طلاق واقع نہیں ہو گی، اس لیے کیونکہ اس نے طلاق کی نسبت کی ہے اس زمانے کی طرف جس زمانے کے اندر یہ طلاق کا مالک ہی نہیں تھا، اپنے نکاح سے پہلے طلاق واقع کرنا چاہ رہا ہے، اپنے نکاح سے پہلے تو یہ طلاق کا مالک ہی نہیں تھا۔
”وَلَوْ قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ قَبْلَ أَنْ أَتَزَوَّجَكِ“ اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا کہ تجھے طلاق ہے قبل اس کے کہ میں نے تجھ سے نکاح کیا، ”لَمْ يَقَعْ شَيْءٌ“ تو کوئی چیز واقع نہیں ہو گی، ”لِأَنَّهُ أَسْنَدَهُ إِلَى حَالَةٍ مُنَافِيَةٍ“ اس لیے کیونکہ اس نے طلاق کی نسبت کی ہے ایک ایسی حالت کی طرف جو طلاق کے منافی ہے، وہ طلاق کا اس وقت مالک ہی نہیں تھا، ”فَصَارَ كَمَا إِذَا قَالَ: طَلَّقْتُكِ وَأَنَا صَبِيٌّ أَوْ نَائِمٌ“ تو یہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے یوں کہا ہو ”طَلَّقْتُكِ وَأَنَا صَبِيٌّ أَوْ نَائِمٌ“۔ یہ اسی طرح ہے جیسے خاوند نے یوں کہا ہو ”طَلَّقْتُكِ وَأَنَا صَبِيٌّ“ کہ میں نے تجھے طلاق دی ”وَأَنَا صَبِيٌّ“ اس حال میں کہ میں بچہ ہوں، یعنی یوں کرو، با محاورہ ترجمہ یوں کرو: ”طَلَّقْتُكِ وَأَنَا صَبِيٌّ“ کہ میں نے تمہیں طلاق دی بچہ ہونے کی حالت میں۔ بچہ ہونے کی حالت میں، لہٰذا بچہ ہونے کی حالت میں تو آپ طلاق کے مالک ہی نہیں تھے جب آپ بچے تھے بھئی، جب خاوند بچہ تھا تو اس تو طلاق کا مالک ہی نہیں تھا، لہٰذا اس صورت میں بھی یہ کلام لغو چلا جائے گا، طلاق نہیں ہو گی۔ یا خاوند کہتا ہے: ”طَلَّقْتُكِ وَأَنَا نَائِمٌ“ میں نے تجھے سوتے ہوئے طلاق دی، میں نے تجھے سوتے ہوئے طلاق دی، بھئی سوتے ہوئے تو طلاق واقع ہی نہیں ہوتی بھئی، لہٰذا طلاق واقع نہیں ہو گی۔ تو کہتے ہیں: ”فَصَارَ كَمَا إِذَا قَالَ: طَلَّقْتُكِ وَأَنَا صَبِيٌّ أَوْ نَائِمٌ“۔
تو یہ ایسے ہی ہو گیا جیسے خاوند نے کہا ہو: ”طَلَّقْتُكِ وَأَنَا صَبِيٌّ“ کہ میں نے تجھے طلاق دی بچہ ہوتے ہوئے، ”أَوْ نَائِمٌ“ یا سوئے ہوئے، ”أَوْ يَصِحُّ إِخْبَارًا عَلَى مَا ذَكَرْنَا“۔
”أَوْ يَصِحُّ إِخْبَارًا“ یا اس کا یہ کلام صحیح ہے اخباراً باعتبار خبر ہونے کے۔ جی۔ ”عَلَى مَا ذَكَرْنَا“ اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دیا۔ خاوند کیا کہہ رہا ہے؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ قَبْلَ أَنْ أَتَزَوَّجَكِ“، تو طلاق والی ہے قبل اس کے کہ جب میں نے تجھ سے نکاح کیا۔ تو یہاں گویا وہ خبر دینا چاہ رہا ہے، طلاق بول کر عدمِ نکاح مراد ہے کہ میں نے تجھ سے نکاح نہیں کیا تھا تو اس سے پہلے تو عدمِ نکاح والی تھی۔ جی۔ تو اس کو خبر پر محمول کرنا بھی صحیح ہے، لہٰذا اس کو خبر پر محمول کریں گے۔ ”أَوْ يَصِحُّ إِخْبَارًا عَلَى مَا ذَكَرْنَا“ یہ اس لیے کیونکہ یہ کلام صحیح ہو سکتا ہے بطورِ اخبار کے ”عَلَى مَا ذَكَرْنَا“ اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دیا، کہ طلاق بول کر کیا مراد ہے؟ عدمِ نکاح مراد ہے۔
”وَلَوْ قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ مَا لَمْ أُطَلِّقْكِ أَوْ مَتَى لَمْ أُطَلِّقْكِ أَوْ مَتَى مَا لَمْ أُطَلِّقْكِ وَسَكَتَ طُلِّقَتْ“ صورتِ مسئلہ یہ: خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ مَا لَمْ أُطَلِّقْكِ“، ”أَنْتِ طَالِقٌ“ تجھے طلاق ہے ”مَا لَمْ أُطَلِّقْكِ“ جس وقت میں تجھے طلاق نہ دوں۔ جی۔ تجھے طلاق ہے جس وقت میں تجھے طلاق نہ دوں، اور یہ کہنے کے بعد خاوند خاموش ہوا، جیسے ہی خاموش ہوا طلاق ہو گئی۔ کیونکہ جیسے ہی خاموش ہوا کچھ وقت پایا گیا اور اس نے کیا کہا تھا؟ جس وقت میں تجھے طلاق نہ دوں، تو وقت پایا گیا یا نہیں جس میں طلاق دے سکتا تھا لیکن اس نے طلاق نہیں دی، لہٰذا فوراً طلاق واقع ہو جائے گی۔
”أَنْتِ طَالِقٌ مَا لَمْ أُطَلِّقْكِ“ تجھے طلاق ہے جس وقت میں تجھے طلاق نہ دوں، یعنی جب بھی ایسا وقت پایا جائے جب میں تجھے طلاق نہ دوں تو تجھے طلاق ہو جائے، تو جیسے ہی یہ خاموش ہوا یہ وقت پایا گیا جس میں یہ طلاق دے سکتا تھا لیکن اس نے دی نہیں، تو خود بخود واقع ہو جائے گی۔ جی۔ توجہ ہے؟ تو یہاں پر تین لفظ بتائیں گے: ”مَا“ استعمال کرے، ”أَنْتِ طَالِقٌ مَا لَمْ أُطَلِّقْكِ“، یا ”مَتَى“ استعمال کرے، ”أَنْتِ طَالِقٌ مَتَى لَمْ أُطَلِّقْكِ“، یا ”مَتَى مَا“ استعمال کرے، ”أَنْتِ طَالِقٌ مَتَى مَا لَمْ أُطَلِّقْكِ“۔ توجہ ہے؟ ”مَا“، ”مَتَى“ اور ”مَتَى مَا“، تینوں کا ایک ہی معنی ہے۔ ”أَنْتِ طَالِقٌ مَا لَمْ أُطَلِّقْكِ“ کیا معنی؟ تجھے طلاق ہے جس وقت میں تجھے طلاق نہ دوں۔ ”مَتَى“ لے آؤ: ”أَنْتِ طَالِقٌ مَتَى لَمْ أُطَلِّقْكِ“، تجھے طلاق ہے جس وقت میں تجھے طلاق نہ دوں۔ اور ”مَتَى مَا“ بھی اسی طرح ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ مَتَى مَا لَمْ أُطَلِّقْكِ“ کہ تجھے طلاق ہے جس وقت میں تجھے طلاق نہ دوں۔ تو تینوں کا ایک ہی حکم ہے کیونکہ ”مَا“، ”مَتَى“ اور ”مَتَى مَا“ تینوں وقت کے لیے آتے ہیں بھئی۔ تو جب بھی ایسا وقت پایا جائے گا، طلاق ہو جائے گی اور جیسے ہی وہ خاموش ہوا، ایسا وقت پایا گیا، لہٰذا فوراً طلاق ہو گئی۔ جی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ مَا لَمْ أُطَلِّقْكِ“ یہ ایک لفظ، ”أَوْ مَتَى لَمْ أُطَلِّقْكِ“ دوسرا لفظ، ”أَوْ مَتَى مَا لَمْ أُطَلِّقْكِ“ یہ تیسرا لفظ آیا۔ ”وَسَكَتَ“ یہ لفظ خاوند نے ان میں سے کوئی کہا ”وَسَكَتَ“ اور خاموش ہوا، ”طُلِّقَتْ“ تو عورت کو فوراً طلاق ہو جائے گی، ”لِأَنَّهُ أَضَافَ الطَّلَاقَ إِلَى زَمَانٍ خَالٍ عَنِ التَّطْلِيقِ“ اس لیے کیونکہ خاوند نے طلاق کی نسبت کی ہے ایسے زمانے کی طرف ”خَالٍ عَنِ التَّطْلِيقِ“ جو طلاق دینے سے خالی ہو، ”وَقَدْ وُجِدَ حَيْثُ سَكَتَ“ اور ایسا وقت پایا گیا ”حَيْثُ سَكَتَ“ جب یہ خاموش ہوا۔ جیسے ہی یہ خاموش ہوا ایسا وقت پایا گیا تو طلاق ہو گئی۔ ”وَهَذَا“ اور یہ اس لیے ہے، ”لِأَنَّ كَلِمَةَ مَتَى وَمَتَى مَا صَرِيحٌ فِي الْوَقْتِ“ اس لیے کیونکہ کلمۂ ”مَتَى“ اور اسی طرح ”مَتَى مَا“ یہ دونوں صریح ہیں ”فِي الْوَقْتِ“ وقت میں، یعنی یہ وقت کے لیے استعمال ہوتے ہیں، ”لِأَنَّهُمَا مِنْ ظُرُوفِ الزَّمَانِ“ اس لیے کیونکہ یہ دونوں ظرفِ زمان میں سے ہیں، ”وَكَذَا كَلِمَةُ مَا لِلْوَقْتِ“ اور اسی طرح کلمۂ ”مَا“ جو ہے وہ بھی وقت کے لیے آتا ہے، ”قَالَ اللَّهُ تَعَالَى“ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں: ”مَا دُمْتُ حَيًّا“۔ ”مَا دُمْتُ حَيًّا“ میں جب تک زندہ ہوں، میں جس وقت تک زندہ ہوں، تو یہ ”مَا“ کس لیے ہے یہاں؟ وقت کے معنی میں ہے۔ تو کہتے ہیں: قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”مَا دُمْتُ حَيًّا“ ”أَيْ وَقْتَ الْحَيَاةِ“ یعنی میری پوری زندگی۔ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قول ہے، جب حضرت مریم علیہا السلام ان کو لے کر آئیں، ان کی پیدائش کے بعد لوگوں کے درمیان، تو انہوں نے بچپن میں جو کلام کیا، تو وہ فرماتے ہیں: ”وَأَوْصَانِي بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّا“۔ جی۔ تو یہاں یہ ”مَا“ کس لیے آیا ہے؟ وقت کے لیے آیا ہے۔
”وَلَوْ قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ لَمْ أُطَلِّقْكِ لَمْ تُطَلَّقْ حَتَّى يَمُوتَ“ دوسری صورت۔ اب پہلے ”مَا“، ”مَتَى“ اور ”مَتَى مَا“ کا بیان گزر گیا، اور یہ سب وقت کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اب ”إِنْ“ یعنی شرط کو ذکر کریں گے۔ خاوند بیوی سے کہتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ لَمْ أُطَلِّقْكِ“ کہ تجھے طلاق ہے اگر میں تجھے طلاق نہ دوں، تجھے طلاق ہے اگر میں تجھے طلاق نہ دوں، تو یہ طلاق کب واقع ہو گی؟ کہتے ہیں: یہ آخری لمحے میں زندگی کے، جب وہ خاوند مرنے لگا، اور اب اتنا وقت بھی نہیں ہے کہ جس کے اندر وہ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کہہ سکے، جس میں وہ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کہہ سکے، تو اب طلاق ہو جائے گی۔ توجہ ہے؟ خاوند نے کیا کہا تھا؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ لَمْ أُطَلِّقْكِ“، تجھے طلاق ہے اگر میں تجھے طلاق نہ دوں، تو زندگی کے ہر ہر لمحے میں احتمال ہے، ہو سکتا ہے ابھی دے دے، ہو سکتا ہے ابھی طلاق دے دے، ہو سکتا ہے ابھی طلاق دے دے، لہٰذا طلاق واقع نہیں ہو رہی، یہ کسی بھی وقت شرط کو پورا کر سکتا ہے۔ لیکن جب زندگی کا آخری لمحہ آ گیا، اب تو یہ طلاق نہیں دے سکتا اور اس نے بھی کیا کہا تھا اگر میں تجھے طلاق نہ دوں تو تجھے طلاق ہے، تو اب آخری اس لمحے میں جب وہ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کہنے سے بھی عاجز آ گیا تو اس وقت اب طلاق واقع ہو جائے گی۔ جی۔
اور یاد رکھو اگر عورت مر گئی تب بھی یہی حکم ہے، یعنی اگر عورت مرنے لگی اور اب عورت کی زندگی آخری لمحے چند رہ گئے، اب اتنا وقت بھی نہیں ہے کہ خاوند ”أَنْتِ طَالِقٌ“ پورا لفظ کہہ سکے تو وہ آخری لمحے کے اندر جو ہے عورت کو طلاق ہو جائے گی کیونکہ خاوند نے کہا تھا اگر میں نے تجھے طلاق نہ دی تو تجھے طلاق ہے، تو اب طلاق ہو جائے گی۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَالَ“ اور اگر خاوند نے کہا ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ لَمْ أُطَلِّقْكِ“ کہ تجھے طلاق ہے اگر میں تجھے طلاق نہ دوں، ”لَمْ تُطَلَّقْ حَتَّى يَمُوتَ“ تو عورت کو طلاق نہیں ہو گی یہاں تک کہ خاوند مر جائے، یعنی عین موت کے وقت، ”لِأَنَّ الْعَدَمَ لَا يَتَحَقَّقُ“ اس لیے کیونکہ طلاق کا نہ ہونا یہ نہیں پایا جائے گا ”إِلَّا بِالْيَأْسِ عَنِ الْحَيَاةِ“ مگر جس وقت زندگی سے مایوسی ہو جائے، جب وہ شخص کیا ہو جائے؟ زندگی سے مایوس ہو جائے، اب معلوم ہوا وہ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ بھی نہیں کہہ سکتا، تو اب اس نے عورت کو طلاق نہ دی ہے نہ دے سکتا ہے، عورت کو کیا ہو جائے گی؟ طلاق ہو جائے گی۔
تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْعَدَمَ لَا يَتَحَقَّقُ إِلَّا بِالْيَأْسِ عَنِ الْحَيَاةِ“ اس لیے کیونکہ اس طلاق کا عدم جو ہے وہ نہیں ہو سکتا مگر جس وقت زندگی سے مایوسی ہو جائے، ”وَهُوَ الشَّرْطُ“ اور یہ شرط تھی کہ جب نہ دے سکے تو پھر طلاق ہو گی، ”كَمَا فِي قَوْلِهِ“ جیسے کہ خاوند کے اس قول میں ہے: ”إِنْ لَمْ آتِ الْبَصْرَةَ“ خاوند بیوی سے کہتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ لَمْ آتِ الْبَصْرَةَ“ تجھے طلاق ہے اگر میں بصرہ نہ آیا، تو تمام زندگی احتمال ہے، ہو سکتا ہے کسی بھی وقت بصرہ چلا جائے، تو لہٰذا طلاق نہیں ہو گی، ہاں جب آخری زندگی کے ایسے لمحات آ گئے کہ اب اس کے بصرہ جانے کی کوئی صورت نہیں تو پھر اس وقت طلاق واقع ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”كَمَا فِي قَوْلِهِ“ جیسے کہ خاوند کے اس قول میں ہے: ”إِنْ لَمْ آتِ الْبَصْرَةَ“ کہ تجھے طلاق ہے اگر میں بصرہ نہ آیا، ”وَمَوْتُهَا بِمَنْزِلَةِ مَوْتِهِ“ اور بیوی کی موت بھی خاوند کی موت کے درجے میں ہے، ”هُوَ الصَّحِيحُ“ یہی قول صحیح ہے۔ بیوی بھی اگر مرنے لگی ہے اور آخری لمحے آ گئے، اب اتنا وقت بھی نہ بچا جس میں خاوند ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کہہ سکتا ہے تو اس آخری لمحے کے اندر عورت کو طلاق ہو جائے گی۔ جی۔
آگے دیکھیے: ”وَلَوْ قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ إِذَا لَمْ أُطَلِّقْكِ أَوْ إِذَا مَا لَمْ أُطَلِّقْكِ لَمْ تُطَلَّقْ حَتَّى يَمُوتَ“ جی، اب ”إِذَا“ آ گیا، ”إِذَا“۔ خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِذَا لَمْ أُطَلِّقْكِ“ کہ تجھے طلاق ہے ”إِذَا لَمْ أُطَلِّقْكِ“ جب میں تجھے طلاق نہ دوں۔ یہ ”إِذَا“ کے ساتھ ”مَا“ بھی لے آتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِذَا مَا لَمْ أُطَلِّقْكِ“۔ توجہ ہے؟ تو پھر اس صورت میں صاحبین اور امام صاحب کا اختلاف ہے۔ یاد رکھو یہ جو ”إِذَا“ ہے، ”إِذَا“، یہ ظرف ہے، لیکن یہ شرط کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ ”إِذَا“ ظرف ہے اور یہ شرط کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، اور ظرف کا پیچھے آپ حکم پڑھ چکے ہیں، ”مَتَى“ اور ”مَتَى مَا“ وغیرہ کے اندر، اس میں جیسے ہی خاموش ہوتا ہے خاوند، فوراً کیا ہو جاتی ہے؟ طلاق۔ ”أَنْتِ طَالِقٌ مَتَى لَمْ أُطَلِّقْكِ“، تو خاموش ہوتے ہی فوراً طلاق۔ اور اگر شرط کے لیے ”إِنْ“ کو لے کر آئیں: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ لَمْ أُطَلِّقْكِ“، تو آپ نے ابھی پڑھا، زندگی کے آخری لمحے میں طلاق واقع ہو گی۔ تو یہ جو ”إِذَا“ ہے یہ تو ظرف ہے لیکن یہ شرط کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اگر اس کو ظرف قرار دیں تو خاوند کے خاموش ہوتے ہی فوراً طلاق ہونی چاہیے: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِذَا لَمْ أُطَلِّقْكِ“، تجھے طلاق ہے جس وقت میں تجھے طلاق نہ دوں۔ جیسے ہی خاوند خاموش ہو گا ایسا وقت پایا گیا اور اس میں خاوند نے طلاق نہیں دی، لہٰذا عورت کو طلاق ہو جائے گی۔ اور اگر آپ اس ”إِذَا“ کو شرط کے لیے قرار دیتے ہیں جیسے ”إِنْ“ تھا تو اس وقت طلاق کب ہوتی تھی؟ زندگی کے آخری لمحے میں، تو پھر اس صورت میں بھی زندگی کے آخری لمحے میں طلاق کا حکم آئے گا۔ توجہ ہے؟ ”إِذَا“ میں دونوں احتمال ہیں، ”إِذَا“ ظرف ہے لیکن یہ شرط کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، تو اگر اس کو ظرف قرار دیا جائے تو اس کا تقاضا ہے فوراً طلاق ہونی چاہیے، یہ جو جملہ ذکر کریں گے: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِذَا لَمْ أُطَلِّقْكِ“، اور اگر اس کو شرط کے لیے قرار دیا جائے تو پھر یہ تقاضا کرتا ہے کہ زندگی کے آخری لمحے میں طلاق ہونی چاہیے۔
تو امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف ہے۔ صاحبین فرماتے ہیں: یہ ”إِذَا“ جو ہے نا حقیقت میں ظرف ہے۔ ”إِذَا“ حقیقت میں ظرف ہے اور شرط کے لیے جو یہ استعمال ہوتا ہے وہ اس کا مجازی معنی ہے، وہ اس کا مجازی معنی ہے۔ جب یہ ظرف ہے تو اس کا وہی حکم ہو گا جو ”مَتَى“ اور ”مَتَى مَا“ کا تھا، لہٰذا یہ لفظ بولتے ہی فوراً طلاق ہو جائے گی۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں، امام صاحب فرماتے ہیں کہ ”إِذَا“ ظرف بھی ہے اور شرط کے لیے بھی آتا ہے اور دونوں اس کے حقیقی معنی ہیں: ظرف بھی حقیقی معنی اور شرط بھی حقیقی معنی، تو دونوں اس کے حقیقی معنی ہیں۔ لہٰذا، لہٰذا اس صورت میں آخرِ عمر میں طلاق ہو گی۔ توجہ ہے؟ آخرِ عمر میں طلاق ہو گی۔
یاد رکھو یہ جو ”إِذَا“ کے اندر اختلاف ہے، دراصل یہ اختلاف ہے علمائے بصرہ اور علمائے کوفہ کا۔ علمائے بصرہ فرماتے ہیں، وہی جو صاحبین کا مذہب ہے، کہ ”إِذَا“ حقیقت میں ظرف ہے اور شرط کے لیے جو استعمال ہوتا ہے یہ مجازاً استعمال ہوتا ہے۔ اور جو امام صاحب کا مذہب ہے وہ علمائے کوفہ کا مذہب ہے، علمائے کوفہ فرماتے ہیں کہ یہ جو ”إِذَا“ ہے یہ ظرف بھی ہے اور شرط بھی ہے اور یہ دونوں اس کے حقیقی معنی ہیں، دونوں میں سے ایک بھی مجازی معنی نہیں ہے۔ تو جب کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِذَا لَمْ أُطَلِّقْكِ“، تو امام صاحب فرماتے ہیں آخری لمحے میں زندگی کے طلاق ہو گی، اور صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ ”إِذَا“ ظرف ہے حقیقت میں تو وہ کہتے ہیں اس کا وہی حکم ہو گا جو ”مَتَى“ کا تھا، اور ”مَتَى“ کے اندر ”أَنْتِ طَالِقٌ مَتَى لَمْ أُطَلِّقْكِ“، وہاں فوراً طلاق ہوتی تھی، جیسے ہی خاوند خاموش ہوتا تھا فوراً طلاق ہوتی تھی، تو یہاں بھی فوراً طلاق ہو جائے گی۔ تو صاحبین کے نزدیک خاوند کے خاموش ہوتے ہی طلاق ہو جائے گی اور امام صاحب کے نزدیک زندگی کے آخری لمحے میں طلاق ہو گی جب ”إِذَا“ کا لفظ وہ استعمال کرے۔ توجہ ہے؟ اب دیکھیے تفصیل بھئی۔
”وَلَوْ قَالَ“ اور اگر خاوند نے کہا ”أَنْتِ طَالِقٌ إِذَا لَمْ أُطَلِّقْكِ“ کہ تجھے طلاق ہے جب تجھے میں طلاق نہ دوں، ”أَوْ إِذَا مَا لَمْ أُطَلِّقْكِ“ تو ”إِذَا“ کے ساتھ ”مَا“ بھی لے آیا، ”لَمْ تُطَلَّقْ حَتَّى يَمُوتَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ تو اس عورت کو طلاق نہیں ہو گی یہاں تک کہ خاوند کا انتقال ہو جائے تو اس وقت طلاق ہو گی، ”وَقَالَا“ اور صاحبین فرماتے ہیں ”تُطَلَّقُ حِينَ سَكَتَ“ کہ عورت کو طلاق ہو جائے گی جس وقت خاوند خاموش ہوا، ”لِأَنَّ كَلِمَةَ إِذَا لِلْوَقْتِ“ اس لیے کیونکہ کلمۂ ”إِذَا“ وقت کے لیے آتا ہے، یہ ظرف ہے، ”قَالَ اللَّهُ تَعَالَى“ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں: ”إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ“ جب سورج بے نور کر دیا جائے گا، جب سورج بے نور ہو جائے گا اس کی روشنی ختم ہو جائے گی، کَوَّرَ يُكَوِّرُ کا اصل معنی ہے لپیٹنا، اصل معنی کیا ہے؟ لپیٹنا، تو یہاں مراد ہے بے نور ہونا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ“ جب سورج جو ہے وہ بے نور ہو جائے گا، تو یہاں دیکھو ”إِذَا“ ظرفیت کے لیے آیا ہے، ”وَقَالَ قَائِلُهُمْ“ اور عربوں میں سے کہنے والا کہتا ہے:
”وَإِذَا تَكُونُ كَرِيهَةٌ أُدْعَى لَهَا ... وَإِذَا يُحَاسُ الْحَيْسُ يُدْعَى جُنْدُبُ“
یہ کسی قدیم شاعر کا شعر ہے عرب کے بھئی، اور دیکھو یہاں وہ ”إِذَا“ لے کر آیا ہے دونوں مصرعوں میں: ”وَإِذَا تَكُونُ كَرِيهَةٌ أُدْعَى لَهَا“، کریہۃ کہتے ہیں مصیبت کو اور جنگ کو، جی، کریہۃ ناگوار چیز یعنی مصیبت یا جنگ، ”وَإِذَا يُحَاسُ الْحَيْسُ“، حیس جو ہے یہ عرب کا کوئی حلوہ ہے جو کھجور، پنیر اور گھی سے وہ بناتے تھے، کھجور، گھی اور پنیر سے کوئی خاص میٹھا حلوہ بناتے تھے اس کو حیس کہتے ہیں، اور ”يُحَاسُ“ اسی حیس سے ہے یعنی حیس بنانا، اس کو تیار کرنا، اور ”يُدْعَى جُنْدُبُ“، جندب ایک آدمی کا نام ہے۔ یہ شاعر ہے وہ کوئی گلہ شکوہ کر رہا ہے اپنوں سے، کہتا ہے: ”وَإِذَا تَكُونُ كَرِيهَةٌ“ اور جب کوئی مصیبت یا جنگ ہوتی ہے ”أُدْعَى لَهَا“ تو مجھے اس کے لیے بلایا جاتا ہے، ”أُدْعَى“ مجھے بلایا جاتا ہے ”لَهَا“ اس کے لیے، ”وَإِذَا يُحَاسُ الْحَيْسُ“ اور جب حیس تیار کیا جاتا ہے، میٹھی چیزیں تیار کی جاتی ہیں، ”يُدْعَى جُنْدُبُ“ تو پھر جندب کو بلا لیتے ہیں لوگ بھئی۔ یعنی مصیبت میں تو مجھے یاد رکھتے ہو اور خوشی کے موقع پر مجھے یاد نہیں رکھتے۔
تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا تَكُونُ كَرِيهَةٌ أُدْعَى لَهَا“ اور جس وقت کوئی مصیبت یا جنگ ہوتی ہے تو مجھے اس کے لیے بلایا جاتا ہے، ”وَإِذَا يُحَاسُ الْحَيْسُ“ اور جب حیس تیار کیا جاتا ہے، ”يُدْعَى جُنْدُبُ“ تو جندب کو بلا لیا جاتا ہے۔ اب دیکھو یہاں پر دیکھو، توجہ سے سنو بھئی، یہاں دونوں مصرعوں میں ”إِذَا“ آیا: ”وَإِذَا تَكُونُ“ اور ”وَإِذَا يُحَاسُ“، اور یاد رکھو یہ ”إِذَا“ ظرفیہ ہے، یہ ظرف کے لیے ہے، وقت کے لیے ہے۔ وجہ یہ کہ ”إِذَا“ جب شرط کے لیے آتا ہے تو وہ جزم دیتا ہے ”إِنْ“ کی طرح: ”إِنْ تَضْرِبْ أَضْرِبْ“، اور اسی طرح ”إِذَا تَضْرِبْ أَضْرِبْ“۔ توجہ ہے؟ تو ”إِذَا“ جزم دیتا ہے، اور یہاں ”إِذَا“ کے بعد ہے ”تَكُونُ“: ”وَإِذَا تَكُونُ“، معلوم ہوا یہ ”إِذَا“ ظرفیہ ہے کیونکہ اگر یہ شرط کے لیے ہوتا تو ”تَكُونُ“ یہ تو مرفوع ہے، یہ مجزوم ہوتا تو کیسے پڑھتے؟ ”وَإِذَا تَكُونُ“، یہ ”تَكُونُ“ پر ذرا جزم لاؤ، کیسے پڑھیں گے؟ تو یہ ”إِذَا“ جب جزم دے گا ”تَكُونُ“، تو آخر میں جزم آ جائے گا: ”تَكُونْ“، اور پھر واؤ بھی ساکن، نون بھی ساکن، اجتماعِ ساکنین آیا اور اول مدہ ہو تو اس کو گراتے ہیں تو کیا بن جائے گا؟ ”تَكُنْ“۔ تو اگر یہ ”إِذَا“ شرط کے لیے ہوتا تو یوں ہوتا کلام: ”وَإِذَا تَكُنْ كَرِيهَةٌ“، لیکن شعر میں تو ”تَكُونُ“ ہے، معلوم ہوا یہ ”إِذَا“ شاعر شرط کے لیے نہیں لایا بلکہ کس لیے لایا ہے؟ ظرف کے لیے، کیونکہ یہ اس کا حقیقی معنی ہے۔ اور اسی طرح ”وَإِذَا يُحَاسُ الْحَيْسُ“، یہاں پر بھی ”إِذَا“ کے بعد ”يُحَاسُ“ مرفوع ہے، یہ جزم نہیں دے رہا ”إِذَا“، معلوم ہوا یہ ”إِذَا“ ظرف ہے۔ اگر یہ جزم دیتا تو کیسے پڑھتے؟ ”وَإِذَا يُحَسْ“ بھئی، سین ساکن ہوتا اور پھر الف بھی اجتماعِ ساکنین سے گر جاتا۔ تو صاحبین کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں یہ ”إِذَا“ جو ہے یہ وقت کے لیے آتا ہے اور شرط اس کا مجازی معنی ہے، اور عربی کا ایک شاعر بھی دیکھو اس کو استعمال کر رہا ہے اور اس کے ذریعے جزم نہیں دے رہا، معلوم ہوا وقت ہی اس کا حقیقی معنی ہے، تو یہاں اس خاوند کے قول ”أَنْتِ طَالِقٌ إِذَا لَمْ أُطَلِّقْكِ“ یہاں بھی ”إِذَا“ کس لیے ہو گا؟ وقت کے لیے ہو گا اور لہٰذا خاوند کے خاموش ہوتے ہی فوراً طلاق واقع ہو جائے گی، کیونکہ خاوند نے کیا کہا ہے؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ إِذَا لَمْ أُطَلِّقْكِ“ کہ تجھے طلاق ہے جس وقت میں تجھے طلاق نہ دوں، اور جیسے ہی خاموش ہوا ایسا وقت پایا گیا جس میں وہ طلاق دے سکتا تھا لیکن اس نے نہیں دی تو طلاق واقع ہو جائے گی۔
تو کہتے ہیں: ”فَصَارَ بِمَنْزِلَةِ مَتَى وَمَتَى مَا“ صاحبین کی بات چل رہی ہے، تو کہتے ہیں: ”فَصَارَ بِمَنْزِلَةِ مَتَى وَمَتَى مَا“ تو یہ جو ”إِذَا“ ہے یہ ”مَتَى“ اور ”مَتَى مَا“ کے درجے میں ہو گیا، ”وَلِهَذَا لَوْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ“ اور اسی وجہ سے اگر خاوند نے اپنی بیوی سے کہا ”أَنْتِ طَالِقٌ إِذَا شِئْتِ“ کہ تجھے طلاق ہے ”إِذَا شِئْتِ“ جس وقت تو چاہے، یاد رکھو بعض اوقات خاوند بیوی کو طلاق کا اختیار دے دیتا ہے، طلاق کا اختیار دے دیتا ہے، پھر یہ اختیار بعض اوقات صرف مجلس تک رہتا ہے، جس مجلس میں بات چیت چل رہی ہے اسی مجلس تک عورت کے پاس اختیار ہوتا ہے، اور بعض اوقات خاوند ایسے لفظ استعمال کر لیتا ہے کہ پھر وہ اختیار مجلس میں بھی رہتا ہے اور مجلس کے بعد بھی اس کو وہ اختیار ہوتا ہے۔ مثلاً اگر خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شِئْتِ“، تجھے طلاق ہے اگر تو چاہے، تجھے طلاق ہے اگر تو چاہے، دیکھو یہاں اس نے کوئی وقت کو ذکر نہیں کیا، ”إِنْ“ لے کر آیا ہے، تو لہٰذا یہ اختیار مجلس تک ہے۔ خاوند نے اختیار دے دیا ہے، بیوی مجلس کے اندر جدائی کا فیصلہ کر سکتی ہے، اپنے آپ کو طلاق دے سکتی ہے، لیکن جیسے ہی مجلس ختم ہو گی یہ اختیار ختم ہو جائے گا۔ بعد میں عورت اپنے آپ پر طلاق واقع نہیں کر سکتی۔ لیکن اگر خاوند یوں کہتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِذَا شِئْتِ“، تجھے طلاق ہے جس وقت تو چاہے، تو خاوند نے اس کو وقت کے ساتھ مقید کر دیا، جس وقت تو چاہے، لہٰذا یہ صرف مجلس تک اختیار نہیں رہے گا، مجلس کے بعد بھی جب عورت چاہے اپنے آپ کو طلاق دے سکتی ہے۔ تو صاحبین کی دلیل چل رہی ہے، صاحبین فرماتے ہیں کہ جب خاوند اپنی بیوی سے کہتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِذَا شِئْتِ“، ”إِذَا“ لے کر آئے، تو اے امام صاحب! آپ بھی کہتے ہیں یہاں ”إِذَا“ ظرفیت کے لیے ہے اور اس کا ترجمہ وقت کے ساتھ کریں گے: تجھے طلاق ہے جس وقت تو چاہے، معلوم ہوا مجلس کے بعد بھی اس عورت کو اختیار رہے گا آپ کے نزدیک۔ جی۔ تو صاحبین کے نزدیک بھی اس عورت کو مجلس کے بعد اختیار ہے اور امام صاحب کے نزدیک بھی اس عورت کو مجلس کے بعد اختیار ہے۔ تو صاحبین فرماتے ہیں دیکھا! یہاں ”إِذَا“ آیا ہے، اگر یہ شرط کے لیے بناتے آپ تو پھر یہ ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شِئْتِ“ کے معنی میں ہوتا، اور ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شِئْتِ“ کے اندر تو اختیار کب تک رہتا ہے؟ مجلس تک، کب تک رہتا ہے؟ مجلس تک، لیکن آپ نے یہاں ”أَنْتِ طَالِقٌ إِذَا شِئْتِ“ میں آپ بھی فرماتے ہیں کہ مجلس کے بعد بھی عورت کو اختیار ہے، معلوم ہوا آپ نے یہاں ”إِذَا“ کو ”إِنْ“ کے معنی میں نہیں لیا۔ جی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا ”إِذَا“ کے اندر اصل معنی وقت ہی ہے بھئی۔ دلیل بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں؟
تو کہتے ہیں: ”وَلِهَذَا لَوْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ“ اور اسی لیے خاوند نے اگر اپنی بیوی سے کہا ”أَنْتِ طَالِقٌ إِذَا شِئْتِ“ کہ تجھے طلاق ہے جب تو چاہے، ”لَا يَخْرُجُ الْأَمْرُ مِنْ يَدِهَا بِالْقِيَامِ مِنَ الْمَجْلِسِ“ تو عورت کے ہاتھ سے معاملہ نہیں نکلتا مجلس سے اٹھ جانے سے بھی، ”كَمَا فِي قَوْلِهِ مَتَى شِئْتِ“ جیسے کہ خاوند کے قول ”مَتَى شِئْتِ“ کے اندر ہے، خاوند اگر اپنی بیوی سے کہتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ مَتَى شِئْتِ“، تو اس صورت میں بھی مجلس کے بعد بھی اس کو اختیار رہتا ہے، تو ”إِذَا“ کے اندر بھی اے امام صاحب! آپ فرماتے ہیں کہ مجلس کے بعد اختیار رہے گا، معلوم ہوا آپ نے ”إِذَا“ کو کس معنی میں لیا ہے؟ ”مَتَى“ کے معنی میں یہاں پر۔
تو کہتے ہیں: ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے ”أَنَّهُ يُسْتَعْمَلُ فِي الشَّرْطِ أَيْضًا“ کہ یہ جو ”إِذَا“ ہے یہ شرط میں بھی استعمال ہوتا ہے، یعنی شرط بھی اس کا حقیقی معنی ہے، ”قَالَ قَائِلُهُمْ“ عربوں میں سے کہنے والا کہتا ہے:
”وَاسْتَغْنِ مَا أَغْنَاكَ رَبُّكَ بِالْغِنَى ... وَإِذَا تُصِبْكَ خَصَاصَةٌ فَتَجَمَّلِ“
”وَاسْتَغْنِ“ اور تو بے نیاز رہ، تو بے نیازی کو اختیار کر، ”مَا أَغْنَاكَ“ یہ ”مَا“ وقت کے لیے ہے، ”مَا أَغْنَاكَ“ جب تک تجھے بے نیاز رکھے ”رَبُّكَ“ آپ کا رب ”بِالْغِنَى“ مالداری کے ذریعے۔ شاعر کسی کو نصیحت کر رہا ہے کہ جب تک تیرا رب تجھے مالداری کے ذریعے بے نیاز رکھے تو لوگوں سے بے نیاز رہ، کسی کی پروا نہ کر، کسی کی پروا نہ کر، ”وَإِذَا تُصِبْكَ خَصَاصَةٌ“، خصاصۃ کہتے ہیں محتاجی، تنگدستی اور فقر کو، ”وَإِذَا تُصِبْكَ خَصَاصَةٌ“ اور جب تجھے کوئی محتاجی یا فقر پہنچے ”فَتَجَمَّلِ“ تو تو زینت اختیار کر، تو تو زینت اختیار کر، یعنی صبر کے ساتھ رہ، کسی کے سامنے اپنے غم اور دکھ کا اظہار نہ کر ورنہ لوگ تیری عزت نہیں کریں گے بھئی، تو اپنے فقر و فاقے اور غربت کو چھپا کر رکھو۔ پھر دیکھیے ترجمہ: ”وَاسْتَغْنِ مَا أَغْنَاكَ رَبُّكَ بِالْغِنَى“ کہ تو بے نیازی کو اختیار کر جب تک مالداری کے ذریعے آپ کا رب آپ کو بے نیاز رکھے، ”وَإِذَا تُصِبْكَ خَصَاصَةٌ فَتَجَمَّلِ“ اور جب آپ کو فقر اور محتاجی پہنچے تو پھر ”فَتَجَمَّلِ“ تو زینت اختیار کر، یعنی صبر سے کام لے، تو یہ امام صاحب کی دلیل ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ ”إِذَا“ شرط کے لیے بھی آتا ہے، یہاں دوسرے مصرعے میں دیکھو: ”وَإِذَا تُصِبْكَ“، یہ ”إِذَا“ جزم دے رہا ہے ”تُصِبْ“ کو، اور آگے ”فَتَجَمَّلِ“ وہاں پر فا جزائیہ بھی آ رہی ہے جو شرط کے جواب میں فا آتی ہے، تو لہٰذا معلوم ہوا ”إِذَا“ شرط کے لیے بھی آتا ہے۔ ”إِذَا“ یہ عربی کا ایک شاعر دیکھو ”إِذَا“ کو شرط کے لیے استعمال کر رہا ہے اور اس کے ذریعے ”تُصِبْ“، ”تُصِبْكَ“ اس پر جزم آ رہا ہے، ورنہ تو اصل میں ہونا چاہیے تھا ”تُصِيبُكَ“۔ امام صاحب کی دلیل چل رہی ہے، کہتے ہیں: ”فَإِنْ أُرِيدَ بِهِ الشَّرْطُ لَمْ تُطَلَّقْ فِي الْحَالِ وَإِنْ أُرِيدَ بِهِ الْوَقْتُ تُطَلَّقُ فَلَا تُطَلَّقُ بِالشَّكِّ وَالِاحْتِمَالِ“ امام صاحب فرماتے ہیں: خاوند نے بیوی سے کیا کہا ہے؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ إِذَا لَمْ أُطَلِّقْكِ“ یا ”إِذَا مَا لَمْ أُطَلِّقْكِ“، ”إِذَا“ کہا ہے یا ”إِذَا مَا“۔ ادھر دیکھیے، ادھر دیکھیے، خاوند کے لفظوں پر ذرا نظر رکھنا: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِذَا لَمْ أُطَلِّقْكِ“۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں اگر اس ”إِذَا“ کو وقت کے لیے قرار دیا جائے تو خاموش ہوتے ہی فوراً طلاق ہو جائے گی، اور اگر اس ”إِذَا“ کو شرط کے لیے قرار دیا جائے تو موت کے وقت طلاق ہو گی۔ تو خاوند نے جب یہ لفظ کہہ دیے تو اس کے بعد اب طلاق کے آنے میں شک آ گیا۔ جی۔ طلاق میں کیا آ گیا؟ شک آ گیا کیونکہ یہاں دونوں احتمال موجود ہیں، اگر آپ اس ”إِذَا“ کو وقت کے لیے قرار دیتے ہیں تو فوراً طلاق ہے، اور اگر آپ اس کو شرط کے لیے قرار دیتے ہیں تو موت کے وقت طلاق ہے۔ تو جب خاوند نے یہ کلام کہہ دیا اور اس کے بعد خاموش ہوا تھوڑی دیر، تو اب شک آ گیا، پتہ نہیں طلاق ہوئی ہے یا طلاق نہیں ہوئی۔ ”إِذَا“ کو ظرف کے لیے بنائیں تو طلاق ہو چکی، ”إِذَا“ کو شرط کے لیے قرار دیں تو طلاق نہیں ہوئی۔ تو طلاق کے آنے میں شک آ گیا، اور نکاح تو تھا یقینی، اس عورت کے ساتھ خاوند کا جو نکاح کیا تھا؟ یقینی تھا، جب وہ نکاح یقینی تھا تو شک والی طلاق سے وہ نکاح ختم نہیں ہو گا بلکہ اس کے لیے طلاق بھی یقینی چاہیے۔ دلیل سمجھ میں آئی امام صاحب کی؟ امام صاحب کیا فرماتے ہیں کہ ”إِذَا“ کے اندر شرط کا بھی احتمال ہے اور ظرف کا بھی احتمال ہے، اگر آپ اس ”إِذَا“ کو ظرف بنائیں، وقت کے لیے قرار دیں تو فوراً طلاق ہونی چاہیے، اور اگر آپ ”إِذَا“ کو شرط کے لیے قرار دیں تو پھر موت کے وقت طلاق ہونی چاہیے، لہٰذا خاوند نے جب یہ لفظ کہے اور پھر خاموش ہو گیا تو اب شک آ گیا کہ پتہ نہیں طلاق ہو گئی یا موت کے وقت ہو گی، توجہ ہے؟ تو طلاق کے آنے میں شک آ گیا اور جب طلاق کے آنے میں شک آ گیا تو اس مشکوک طلاق کی وجہ سے یقینی نکاح کو باطل قرار نہیں دیا جا سکتا، تو نکاح آخرِ عمر میں جا کر ہی ٹوٹے گا بھئی۔ جی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: ”فَإِنْ أُرِيدَ بِهِ الشَّرْطُ“ اگر یہ جو خاوند نے الفاظ کہے تھے اس میں جو ”إِذَا“ تھا اس کے ذریعے اگر شرط کا ارادہ کیا، شرط کا ارادہ کیا گیا ”لَمْ تُطَلَّقْ فِي الْحَالِ“ تو عورت کو طلاق نہیں ہو گی فی الحال، ”وَإِنْ أُرِيدَ بِهِ الْوَقْتُ“ اور اگر اس ”إِذَا“ کے ذریعے وقت کا ارادہ کیا گیا ”تُطَلَّقُ“ تو عورت کو طلاق ہو جائے گی، ”فَلَا تُطَلَّقُ بِالشَّكِّ وَالِاحْتِمَالِ“ لہٰذا اس شک اور احتمال کی وجہ سے عورت کو طلاق نہیں ہو گی، ”بِخِلَافِ مَسْأَلَةِ الْمَشِيئَةِ“ بخلاف مسئلۂ مشیئت کے۔ مشیئت کا مسئلہ کیا تھا؟ صاحبین فرماتے تھے کہ دیکھو کوئی خاوند اپنی بیوی سے کہتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِذَا شِئْتِ“، تو آپ کے نزدیک بھی اختیار صرف مجلس تک نہیں رہے گا، مجلس کے بعد بھی رہے گا۔ تو اس کا بھی جواب دے رہے ہیں کہ وہاں بھی اسی طرح مسئلہ ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِذَا شِئْتِ“، اگر اس ”إِذَا“ کو شرط کے لیے قرار دیا جائے، توجہ ہے؟ شرط کے لیے قرار دیا جائے تو اختیار صرف مجلس میں رہے گا، مجلس کے بعد نہیں رہے گا، اور اگر اس ”إِذَا“ کو اگر وقت کے لیے قرار دیا جائے تو اختیار مجلس کے بعد بھی رہے گا۔ توجہ ہے؟ تو جب خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِذَا شِئْتِ“، تو اختیار کا ملنا تو یقینی ہو گیا، عورت کو اختیار مل گیا، عورت کو اختیار مل گیا، لیکن جب مجلس ختم ہوئی اب اس اختیار کے باطل ہونے میں شک آ گیا کہ پتہ نہیں اختیار باطل ہوا ہے یا ابھی بھی باطل، تو شک، تو اختیار کا آنا تو یقینی تھا تو شک کی وجہ سے وہ یقینی چیز ختم نہیں ہو گی بلکہ مجلس کے بعد بھی عورت کو اختیار رہے گا۔ دلیل بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں؟ خاوند نے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِذَا شِئْتِ“، تو اختیار ملنا تو یقینی ہے، اختیار تو ملا ہے، اور پھر جب مجلس ختم ہوئی تو اب شک آ گیا کہ پتہ نہیں اختیار ختم ہوا ہے یا اختیار اس کے بعد بھی باقی ہے، تو شک کی وجہ سے اختیار کو ختم نہیں قرار دیا جا سکتا، مجلس کے بعد بھی اختیار باقی رہے گا۔ جیسے وہاں شک کی وجہ سے طلاق واقع نہیں ہو سکتی تھی، یہاں شک کی وجہ سے اختیار ختم نہیں ہو سکتا۔
کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ مَسْأَلَةِ الْمَشِيئَةِ“ بخلاف مشیئت والے مسئلے کے۔ بھئی وہ جو اوپر آیا تھا نا ”إِذَا شِئْتِ“، شاء یشاء کا کیا معنی؟ چاہنا، مشیئت اس کو کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ مَسْأَلَةِ الْمَشِيئَةِ“ بخلاف مشیئت کے مسئلے کے، ”لِأَنَّهُ عَلَى اعْتِبَارِ أَنَّهُ لِلْوَقْتِ“ اس لیے کیونکہ وہاں جو ہے وہ ”إِذَا“ اس اعتبار سے کہ وہ وقت کے لیے ہے ”لَا يَخْرُجُ الْأَمْرُ مِنْ يَدِهَا“ معاملہ اس عورت کے ہاتھ سے نہیں نکلے گا، بایں اعتبار کہ ”إِذَا“ کس لیے ہو؟ وقت کے لیے ہو۔ ”وَعَلَى اعْتِبَارِ أَنَّهُ لِلشَّرْطِ يَخْرُجُ“ اور اس اعتبار سے کہ یہ ”إِذَا“ شرط کے لیے ہے معاملہ اس عورت کے ہاتھ سے نکل جائے گا، ”وَالْأَمْرُ صَارَ فِي يَدِهَا“ اور معاملہ تو عورت کے ہاتھ میں آ چکا ہے، یعنی اختیار ملنا تو یقینی ہے، ”فَلَا يَخْرُجُ بِالشَّكِّ وَالِاحْتِمَالِ“ تو وہاں بھی شک اور احتمال کی وجہ سے معاملہ اس کے ہاتھ سے نہیں نکلے گا بلکہ مجلس کے بعد بھی رہے گا۔
”وَهَذَا الْخِلَافُ فِيمَا إِذَا لَمْ تَكُنْ لَهُ نِيَّةٌ“ صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ یہ جو امام صاحب میں اور صاحبین میں اختلاف ہے کہ جب ”إِذَا“ خاوند نے استعمال کیا ہے، خاوند نے کیا کہا ہے؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ إِذَا لَمْ أُطَلِّقْكِ“، کہتے ہیں: یہ صاحبین اور امام صاحب میں جو اختلاف ہے یہ اس وقت ہے جب خاوند نے کوئی نیت نہ کی ہو۔ اور اگر خاوند نے نیت کی ہے تو اگر اس نے وقت کی نیت کی ہے تو پھر وہ وقت کے اعتبار سے اسی اسی وقت طلاق ہو جائے گی، اور اگر اس نے شرط کی نیت کی ہے تو پھر موت کے وقت ہی طلاق ہو گی بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا الْخِلَافُ فِيمَا إِذَا لَمْ تَكُنْ لَهُ نِيَّةٌ“ اور یہ جو اختلاف ہے امام صاحب اور صاحبین میں ”فِيمَا“ یہ اس صورت میں ہے ”إِذَا لَمْ تَكُنْ لَهُ نِيَّةٌ“ جب خاوند کی کوئی نیت نہ ہو، ”أَمَّا إِذَا نَوَى الْوَقْتَ“ باقی خاوند نے اگر وقت کی نیت کر لی ”يَقَعُ فِي الْحَالِ“ تو اسی وقت طلاق واقع ہو جائے گی، یعنی جیسے ہی خاموش ہو گا۔ ”وَلَوْ نَوَى الشَّرْطَ“ اور اگر خاوند نے شرط کی نیت کی ”يَقَعُ فِي آخِرِ الْعُمُرِ“ تو اس کے آخری عمر میں یہ طلاق واقع ہو گی، ”لِأَنَّ اللَّفْظَ يَحْتَمِلُهُمَا“ اس لیے کیونکہ یہ ”إِذَا“ کا لفظ دونوں کا احتمال رکھتا ہے: وقت کا بھی اور شرط کا بھی بھئی۔
چلیے بس بھئی، ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔