Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-036

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 15 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 69
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے بھئی۔ فَصْلٌ: ”وَإِذَا تَزَوَّجَ النَّصْرَانِيُّ نَصْرَانِيَّةً عَلَى مَيْتَةٍ أَوْ عَلَى غَيْرِ مَهْرٍ، وَذٰلِكَ فِي دِينِهِمْ جَائِزٌ، وَدَخَلَ بِهَا أَوْ طَلَّقَهَا قَبْلَ الدُّخُولِ بِهَا أَوْ مَاتَ عَنْهَا فَلَيْسَ لَهَا مَهْرٌ، وَكَذٰلِكَ الْحَرْبِيَّانِ فِي دَارِ الْحَرْبِ، وَهٰذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“۔ گزشتہ سبق میں ہم مسئلہ پڑھ رہے تھے کہ اگر میاں بیوی کے اندر مہر کے سلسلے میں اختلاف آ جائے، تو اگر اختلاف مقدار میں ہو اور زندگی کے اندر ہو تو طرفین فرماتے ہیں کہ مہر مثل کو حکم بنایا جائے گا، اور جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خاوند کا قول معتبر ہے بھئی۔ اور اگر اختلاف جو ہے وہ اصل مسمی کے اندر ہوا تو پھر ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک مہر مثل واجب ہو گا۔ اصل مسمی میں اختلاف آیا یعنی ان دونوں میں سے ایک کہتا ہے کہ سرے سے کوئی مسمی مقرر ہی نہیں کیا تھا، اور ایک کہتا ہے کہ مسمی مقرر کیا تھا، مہر مقرر کیا تھا، پھر چاہے اس کی مقدار ذکر کرے یا نہ کرے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، مسئلے کی صورت ایک ہی طرح رہے گی۔ تو جب بھی اصل مسمی کے اندر اختلاف ہو اور زندگی کے اندر ہو تو پھر مہر مثل واجب ہو گا۔ اور اگر دونوں میں سے کسی ایک کا انتقال ہو جائے اور اس کے وارث آ کر اختلاف کر رہے ہیں دوسرے کے ساتھ، تو اس صورت میں بھی مسئلہ اسی طرح ہو گا جیسے کہ میاں بیوی کی زندگی کے اندر تھا، یعنی طرفین کے نزدیک مہر مثل کو حکم بنایا جائے گا اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک خاوند جو ہے اس کا قول معتبر ہو گا یا اگر اس کے وارث ہیں تو ان کا قول معتبر ہو گا۔ اور اگر میاں اور بیوی دونوں کا انتقال ہو گیا ہے اور اس کے بعد اختلاف آیا، تو اگر اختلاف مقدار کے اندر ہوا تو پھر امام صاحب فرماتے ہیں خاوند کے وارثوں کا قول معتبر ہے۔ یاد رکھو امام صاحب فرماتے ہیں کہ جب دونوں کا انتقال ہو جائے تو پھر مہر مثل کا کوئی اعتبار نہیں۔ لہٰذا اگر دونوں زندہ ہیں یا دونوں میں سے ایک زندہ ہے تو مہر مثل کو حکم بنائیں گے، لیکن اگر دونوں کا انتقال ہو چکا ہے اور مقدار کے اندر اختلاف آیا ہے تو پھر اس صورت میں مہر مثل کو حکم نہیں بنائیں گے بلکہ خاوند کے وارثوں کا قول معتبر ہو گا۔ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ تو فرماتے تھے ہر حال میں خاوند یا خاوند کے وارثوں کا قول معتبر ہو گا، تو وہ یہاں پر بھی یہی فرماتے ہیں۔ تو امام صاحب کے نزدیک بھی خاوند کے وارثوں کا قول معتبر اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک بھی خاوند کے وارثوں کا قول معتبر، لیکن پھر دونوں کے اندر فرق یہ ہے کہ امام صاحب قلیل کا بھی استثنا نہیں فرماتے، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ قلیل کا استثنا فرماتے ہیں کہ اگر خاوند کے وارثوں نے قلیل مہر بیان کیا کہ عام طور پر اس جیسی عورت اتنے مہر میں نکاح پر راضی نہیں ہوتی تو پھر اس صورت میں خاوند کے وارثوں کا قول معتبر نہیں ہے۔ اور جبکہ امام محمد رحمہ اللہ یہاں پر بھی فرماتے ہیں کہ جیسے مسئلہ زندگی کے اندر تھا کہ وہاں مہر مثل کو حکم بنایا جاتا تھا تو یہاں بھی مہر مثل ہی کو حکم بنایا جائے گا۔ اور اگر یہ اختلاف اصل مسمی میں ہوا تو پھر امام صاحب کے نزدیک اس کا قول معتبر جو انکار کر رہے ہیں، یعنی منکر کا قول معتبر ہے، یعنی جیسے خاوند کے وارث جو ہیں وہ مہر مسمی کا انکار کر رہے ہیں تو ان کا قول معتبر ہو گا، اور نیز اس صورت میں بیوی کے وارثوں کو کچھ بھی نہیں ملے گا کیونکہ یہاں دونوں کا انتقال ہو چکا ہے اور مہر مثل کو بھی فیصلہ نہیں بنایا جا سکتا، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ اس صورت میں مہر مثل کو فیصلہ بنایا جائے گا اور صاحبین کے قول پر فتویٰ ہے۔ اس کے بعد پھر دوسری صورت ذکر کی تھی صاحبِ ہدایہ نے کہ اگر میاں بیوی دونوں کا انتقال ہو جائے تو پھر کیا بیوی کے وارث جو ہیں وہ مہر وصول کر سکتے ہیں؟ تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ اگر مہر مسمی تھا پھر تو بیوی کے وارث وہ وصول کر لیں گے خاوند کے وارثوں سے، اور اگر خاوند نے بیوی کے لیے کوئی مہر مقرر ہی نہیں کیا تھا تو پھر اس صورت میں بیوی کے وارثوں کو کچھ نہیں ملے گا، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ یہاں جو مہر مقرر کیا تھا وہی مہر دینا پڑے گا اور اگر کوئی مہر مقرر نہیں کیا تھا تو پھر مہر مثل دیں گے، کیونکہ یہ مہر جو ہے یہ خاوند کے ذمہ دین ہوتا ہے، اور دین کی ادائیگی وراثت کی تقسیم سے پہلے کی جاتی ہے۔ ہاں ایک صورت ہے کہ اگر بیوی کا انتقال پہلے ہوا تھا تو پھر خاوند اس کا وارث بھی بن رہا ہے تو بیوی کے مال میں بھی کچھ خاوند کا حصہ آ گیا، خاوند کے ذمہ اس کا مہر دین ہے اور خاوند کا حصہ بھی اس پر کچھ آ گیا اس کے مال کے اندر، تو لہٰذا خاوند کا حصہ نکال کر باقی جو مہر ہو گا وہ بیوی کے وارثوں کو دے دیا جائے گا۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ نہیں، اس صورت میں اگر مسمی تھا پھر تو وہ دین ہے وہ تو دینا پڑے گا لیکن اگر کچھ مقرر نہیں کیا تھا پھر مہر مثل کو بھی حکم اور فیصلہ نہیں بنا سکتے، اس لیے کیونکہ جب میاں بیوی دونوں کا انتقال ہو چکا ہے، معلوم ہوا زمانہ گزر چکا ہے، تو ان دونوں کے جو ہم عمر ہیں وہ بھی ختم ہو چکے ہوں گے، تو قاضی مہر مثل کا اندازہ کس طرح لگائے گا بھئی؟ مہر مثل کا تو اندازہ اس بیوی کے ہم عمر عورتوں کے ساتھ لگایا جاتا ہے، اس جیسی عورتوں کے ساتھ اندازہ لگایا جاتا ہے، اور جب ان کے ہم عمر ہی سب ختم ہو چکے ہیں تو اب قاضی مہر مثل کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتا، لہٰذا بیوی کے وارثوں کو کچھ بھی نہیں ملے گا اگر مہر مقرر نہیں کیا تھا۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ علماء فرماتے ہیں کہ امام صاحب وہ صورت ذکر فرما رہے ہیں جب ان کے ہم عمر گزر چکے ہوں۔ اگر ان کے ہم عمر لوگ زندہ ہیں یعنی میاں بیوی کا انتقال ہوا ہے کسی حادثے کی وجہ سے، مثلاً زلزلہ آیا اور دونوں پر چھت گر پڑی دونوں کا انتقال ہو گیا جوانی کے اندر ہی، تو ابھی تو ان کے ہم عمر لوگ زندہ ہیں بھئی، تو وہاں آرام سے قاضی اندازہ لگا سکتا ہے مہر مثل کا تو وہ پھر بیوی کے وارثوں کو دیا جائے گا۔ اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ اگر خاوند کوئی چیز بیوی کی طرف بھیجے اور بیوی بعد میں کہتی ہے یہ تو آپ نے مجھے تحفہ دیا تھا، اور خاوند کہتا ہے نہیں یہ تو میں نے بطورِ مہر کے دیا تھا یعنی مہر کی ادائیگی کی تھی، تو اس صورت میں خاوند کا قول معتبر ہے، اس لیے کیونکہ چیز دینے والا خاوند ہے تو اس کو زیادہ علم ہے کہ اس نے کس نیت کے ساتھ یہ چیز بیوی کو دی تھی بھئی، لیکن پھر صاحبِ ہدایہ نے بتایا کہ وہ چیز ایسی نہیں ہونی چاہیے جو کھانے پینے کے لیے تیار کی گئی ہے، اس لیے کیونکہ مہر دے رہا ہے اس میں کچھ تو بقا ہونی چاہیے جبکہ یہ کھانے پینے کی چیز جو ہے یہ تو چند گھنٹوں کے اندر اگر استعمال نہ کی جائے تو خراب ہو جائے گی، تو اگر کوئی اعلیٰ قسم کا کھانا خاوند نے بھجوایا اور بعد میں کہتا ہے کہ یہ تو میں نے بطورِ مہر کے تمہیں دیا ہے تو پھر اس صورت میں خاوند کا قول معتبر نہیں ہے بلکہ بیوی کے قول کا اعتبار کیا جائے گا، بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر: فَصْلٌ: ”وَإِذَا تَزَوَّجَ النَّصْرَانِيُّ نَصْرَانِيَّةً عَلَى مَيْتَةٍ أَوْ عَلَى غَيْرِ مَهْرٍ، وَذٰلِكَ فِي دِينِهِمْ جَائِزٌ، وَدَخَلَ بِهَا أَوْ طَلَّقَهَا قَبْلَ الدُّخُولِ بِهَا أَوْ مَاتَ عَنْهَا فَلَيْسَ لَهَا مَهْرٌ، وَكَذٰلِكَ الْحَرْبِيَّانِ فِي دَارِ الْحَرْبِ“۔ مسلمانوں کے مہر کی تفصیل بیان کرنے کے بعد اب آگے غیر مسلموں کے مہر کا بیان شروع کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ بھئی۔ تو فرماتے ہیں: ”وَإِذَا تَزَوَّجَ النَّصْرَانِيُّ نَصْرَانِيَّةً“ جب نکاح کیا کسی عیسائی مرد نے ”نَصْرَانِيَّةً“ کسی عیسائی عورت کے ساتھ، نصرانی کہتے ہیں عیسائی کو بھئی عیسائی، جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دین پر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں جب: ”وَإِذَا تَزَوَّجَ النَّصْرَانِيُّ نَصْرَانِيَّةً“ جب نکاح کیا کسی عیسائی مرد نے ”نَصْرَانِيَّةً“ کسی عیسائی عورت کے ساتھ ”عَلَى مَيْتَةٍ“ مردار پر، کسی مردار پر کسی مردہ جانور پر ”أَوْ عَلَى غَيْرِ مَهْرٍ“ یا نکاح کیا بغیر مہر کے ”وَذٰلِكَ فِي دِينِهِمْ جَائِزٌ“ اور یہ ان کے دین میں جائز تھا ”وَدَخَلَ بِهَا“ اور پھر خاوند نے اس سے صحبت کر لی ”أَوْ طَلَّقَهَا قَبْلَ الدُّخُولِ بِهَا“ یا صحبت سے پہلے اس کو طلاق دے دی ”أَوْ مَاتَ عَنْهَا“ یا خاوند اس کو چھوڑ کر مرا ”فَلَيْسَ لَهَا مَهْرٌ“ تو اس عورت کے لیے مہر نہیں ہو گا۔ بھئی یاد رکھو یہ جو مسئلہ ذکر فرما رہے ہیں متن کے اندر، یہاں ذکر تو نصرانی ہے یعنی عیسائی، لیکن مراد ذمی ہے، کوئی بھی کافر ہو جو دار الاسلام میں رہتا ہو۔ یہ وہ ان کافروں کی بات کر رہے ہیں جو دار الاسلام میں رہتے ہیں، جبکہ جو دار الاسلام میں نہیں رہتے ان کا ذکر اسی متن کے آخر میں ہے: ”وَكَذٰلِكَ الْحَرْبِيَّانِ فِي دَارِ الْحَرْبِ“ اور اسی طرح ہیں وہ دو حربی بھی جو دار الحرب میں رہتے ہیں۔ تو لہٰذا یہ ذمیوں کا حکم بیان ہو رہا ہے، ذمی وہ غیر مسلم جو دار الاسلام میں رہتے ہیں اور سالانہ ٹیکس یعنی جزیہ ادا کرتے ہیں، اور وہ معمولی سا ٹیکس ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے پھر مملکتِ اسلامیہ سارا سال ان کی جان و مال کی حفاظت کی ذمہ دار ہوتی ہے، تو اس لیے ان کو ذمی کہا جاتا ہے کہ مملکتِ اسلامیہ کیا ہے ان کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ دار ہے بھئی۔ تو اب ایک ذمی نے نکاح کیا ہے ایک ذمیہ عورت سے اور مردار پر نکاح کیا، مردار سے مردار ہی نہیں مراد، ایسی چیز مراد ہے جو مال نہ ہو۔ بھئی دیکھو کچھ چیزیں ہیں جو سب کے نزدیک مال شمار ہوتی ہیں، جیسے درہم و دینار ہیں، گندم ہے، جو ہے، جو بھی بازار میں چیزیں خریدو فروخت جن کی کی جاتی ہے یہ سب مال ہیں۔ اور کچھ چیزیں ایسی ہیں جو غیر مسلموں کے نزدیک تو مال ہیں مسلمانوں کے نزدیک مال نہیں ہیں، جیسے شراب اور خنزیر۔ شراب اور خنزیر کی غیر مسلم بیع و شراء کرتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک مال ہے لیکن مسلمانوں کے نزدیک یہ مال نہیں۔ اور کچھ چیزیں ایسی ہیں جو نہ غیر مسلموں کے نزدیک مال ہیں اور نہ مسلمانوں کے نزدیک مال ہیں، جیسے کہ مردار ہے یا خون ہے، تو میتہ سے مراد ایسی چیز ہے جو کسی کے نزدیک بھی مال نہ ہو۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا تَزَوَّجَ النَّصْرَانِيُّ نَصْرَانِيَّةً“ اور جب نکاح کیا ایک عیسائی مرد نے ایک عیسائی عورت کے ساتھ ”عَلَى مَيْتَةٍ“ کسی مردار پر یعنی ایسی چیز پر جو مال نہیں ہے ”أَوْ عَلَى غَيْرِ مَهْرٍ“ یا نکاح کیا غیرِ مہر پر ”وَذٰلِكَ فِي دِينِهِمْ جَائِزٌ“ اور اس حال میں کہ یہ ان کے دین میں جائز ہے۔ یاد رکھو یہ شرط ضروری ہے کہ ان کے دین میں بھی جائز ہو کہ بغیر مہر کے نکاح ہو سکتا ہے، تو پھر آگے آپ کو بتلائیں گے کہ جب انہوں نے اس طرح نکاح کیا ہے اور ان کے دین میں بھی اس طرح جائز ہے تو پھر بعد میں بھی ان کا مہر نہیں ہو گا، یعنی دونوں میں سے کوئی ایک مسلمان ہو جاتا ہے، دونوں میں سے کوئی ایک مسلمان ہو جاتا ہے یا قاضی کے پاس اپنا مسئلہ لے کر آتے ہیں تو پھر قاضی یہی فیصلہ کرے گا کہ اس عورت کو کوئی مہر نہیں ملے گا کیونکہ یہ ان کے دین میں جائز ہے بھئی، اور اگر دین میں جائز نہ ہو پھر وہاں خاوند کو مہر مثل دینا پڑے گا، اگر ان کا دین بھی یہ کہتا ہے کہ بغیر مہر کے نکاح نہیں ہو سکتا تو پھر مہر مثل دینا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَذٰلِكَ فِي دِينِهِمْ جَائِزٌ“ اس حال میں کہ یہ یعنی بغیر مہر کے نکاح ان کے دین میں جائز ہے ”وَدَخَلَ بِهَا“ اور خاوند نے اس بیوی سے صحبت کر لی ”أَوْ طَلَّقَهَا قَبْلَ الدُّخُولِ بِهَا“ یا اس کو طلاق دے دی صحبت سے پہلے ”أَوْ مَاتَ عَنْهَا“ یا خاوند اس کو چھوڑ کر مرا ”فَلَيْسَ لَهَا مَهْرٌ“ تو اس عورت کے لیے مہر نہیں ہو گا۔ بھئی آپ نے پڑھا ہے کہ کوئی مسلمان اگر کسی عورت سے نکاح کرتا ہے تو وہاں پر اگر مہر ذکر کیا ہے تو وہی مقررہ مہر آئے گا، اور اگر مہر ذکر نہیں کیا تو مہر مثل آ جائے گا، اور پھر اگر خاوند نے صحبت کر لی یا صحبت سے پہلے خاوند کا انتقال ہو گیا تو یہی مہر مسمی یا مہر مثل پکا ہو جائے گا، اب یہ سارا دینا پڑے گا بھئی۔ اور اگر خاوند نے صحبت سے پہلے طلاق دے دی تو پھر اس صورت میں اگر مہر مسمی تھا تو اس کا نصف دینا پڑے گا اور اگر مہر مثل تھا یعنی مہر ذکر ہی نہیں کیا تھا تو پھر اس صورت میں متعة الطلاق دینا پڑے گا یعنی وہ تین کپڑے دینے پڑیں گے۔ لیکن امام صاحب فرماتے ہیں کہ ان تمام صورتوں میں اگر یہ ان ذمیوں کے دین میں جائز تھا پھر چاہے خاوند صحبت کرے اس عورت کے ساتھ یا خاوند کا انتقال ہو جائے یا صحبت سے پہلے اس کو طلاق دے دے، تمام صورتوں میں بیوی کو کچھ بھی نہیں ملے گا۔ تو کہتے ہیں: ”فَلَيْسَ لَهَا مَهْرٌ“ تو اس عورت کے لیے مہر نہیں ہو گا، یعنی مہر یا جو بھی مہر کے حکم میں ہے، بعض صورتوں میں متعہ ملتا ہے، بعض صورتوں میں نصف مہر ملتا ہے، بعض صورتوں میں پورا مہر ملتا ہے، تو اس عورت کو کچھ بھی نہیں ملے گا کیونکہ انہوں نے بغیر مہر کے نکاح کیا ہے اور یہ ان کے دین میں بھی جائز ہے۔ ”وَكَذٰلِكَ الْحَرْبِيَّانِ فِي دَارِ الْحَرْبِ“ اور اسی طرح ہیں دو حربی دار الحرب میں۔ یعنی دار الحرب کے اندر اگر دو حربی آپس میں اس طرح نکاح کرتے ہیں، ایک حربی مرد ایک حربی عورت سے نکاح کرتا ہے اور انہوں نے مہر مقرر نہیں کیا یا مردار پر نکاح کیا ہے تو اس صورت میں وہاں بھی کوئی مہر نہیں ہو گا، یعنی یہ وہ صورت بیان ہو رہی ہے جب میاں بیوی میں سے کوئی ایک مسلمان ہو جائے یا مسلمان تو نہیں ہوئے لیکن وہ اپنا مسئلہ ہمارے قاضی کے پاس لے آئیں، ان کے درمیان جھگڑا ہے اور وہ ہمارے قاضی کے پاس فیصلہ کروانے آ گئے ہیں تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ جیسے حربیوں کے اندر اگر انہوں نے اس طرح نکاح کیا ہے تو کوئی مہر وغیرہ نہیں آئے گا، اسی طرح ذمیوں کے اندر بھی اگر ان میں سے کوئی مسلمان ہوا یا یہ مسئلہ قاضی کے پاس لے آئے اور نکاح میں کچھ بھی مقرر نہیں کیا تو پھر مہر نہیں ملے گا بھئی۔ اور یہ بھی یاد رکھنا یہاں دار الحرب آیا، یاد رکھو اصل میں تو دار الحرب اسے کہتے ہیں جس کے ساتھ مملکتِ اسلامیہ ہر وقت حالتِ جنگ میں رہتی ہے، وہ ہے دار الحرب۔ جبکہ باقی ممالک ہر ملک کے ساتھ تو مملکتِ اسلامیہ حالتِ جنگ میں نہیں ہو گی، جیسے آج کل ہے اکثر ممالک کے ساتھ معاہدے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے ہاں سفیر بھی موجود ہوتے ہیں، تجارت بھی ہوتی ہے لوگ بھی آتے جاتے ہیں، تو یہ دار الحرب نہیں ہیں بھئی۔ لیکن یہاں دار الحرب سے دار الحرب نہیں مراد کہ جس کے ساتھ مسلمان حالتِ جنگ میں ہوں، بلکہ یہاں مطلق غیر مسلموں کا ملک مراد ہے، یعنی جہاں ہمارے حاکم کا، جہاں ہمارے خلیفہ کا حکم نہیں چلتا وہ سب اسی حکم میں ہیں بھئی۔ یعنی وہاں پر اگر کوئی دو شخص غیر مسلم آپس میں نکاح کرتے ہیں اور انہوں نے مہر کچھ بھی مقرر نہیں کیا اور یہ ان کے دین میں جائز ہے اور پھر ان میں سے کوئی ایک مسلمان ہوتا ہے یا دونوں جو ہیں وہ مسئلہ اگر ہمارے قاضی کے پاس لے آتے ہیں تو قاضی بھی انہی کے عقیدے کے مطابق فیصلہ کرے گا اور عورت کے لیے کوئی مہر یا متعہ وغیرہ نہیں ہو گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذٰلِكَ الْحَرْبِيَّانِ فِي دَارِ الْحَرْبِ“ اور اسی طرح ہیں دو حربی دار الحرب میں ”وَهٰذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور یہ امام صاحب کے نزدیک ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ چاہے ذمیوں کے درمیان ہو، وہ ذمی جو دار الاسلام میں رہتے ہیں، اور چاہے یہ مسئلہ حربیوں کے درمیان ہو جو دار الحرب میں رہتے ہیں، سب کا ایک ہی حکم ہے بھئی کہ عورت کو کچھ بھی نہیں ملے گا جب یہ ان کے دین میں جائز ہے۔ ”وَهُوَ قَوْلُهُمَا فِي الْحَرْبِيَّيْنِ“ اور یہ صاحبین کا قول ہے حربیوں میں۔ صاحبین فرماتے ہیں اگر حربیوں کے اندر اس طرح ہوا پھر تو عورت کو کچھ نہیں ملے گا لیکن اگر ذمیوں کے درمیان اس طرح کا مسئلہ پیش آیا تو پھر اس عورت کو مہر مثل ملے گا یا متعہ ملے گا جو بھی صورت ہوئی۔ تو صاحبین فرماتے ہیں کہ اگر یہ مسئلہ حربیوں کے درمیان پیش آیا پھر تو اسی طرح ہو گا، حربی عورت کے لیے قاضی مہر نہ ہونے کا فیصلہ کرے گا لیکن اگر یہ مسئلہ ذمیوں کے درمیان پیش آیا یعنی ایسے دو غیر مسلم جو دار الاسلام میں رہتے ہیں انہوں نے آپس میں نکاح کیا تھا اور ان کا عقیدہ یہ ہے کہ ان کے دین میں بغیر مہر کے بھی نکاح ہو سکتا ہے، تو بھی وہ دار الاسلام میں رہتے ہیں لہٰذا دار الاسلام کے قوانین کے مطابق ان کا فیصلہ ہو گا اور اس صورت میں اگر خاوند نے صحبت کر لی ہے یا خاوند کا صحبت سے پہلے انتقال ہو گیا ہے تو بیوی کو پورا مہر مثل ملے گا، اور اگر خاوند نے صحبت سے پہلے طلاق دے دی ہے تو پھر بیوی کو متعة الطلاق دیا جائے گا یعنی وہ تین کپڑے ملیں گے۔ تو صاحبین کے نزدیک حربیوں میں عورت کو کچھ نہیں ملے گا اور ذمی جو دار الاسلام میں رہتے ہیں وہاں عورت کو مہر مثل یا متعہ ملے گا۔ میں نے بتایا یہ وہ صورت ہے جب ان دونوں میں سے کوئی ایک مسلمان ہو جائے یا دونوں مسلمان تو نہیں ہیں لیکن ویسے مسئلہ ہمارے قاضی کے پاس لے آئے بھئی۔ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت عام ہے اور شریعت کے اندر تو حکم ہے کہ نکاح میں مال کا خرچ کرنا ضروری ہے بھئی۔ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ“ اور حضور علیہ السلام کی شریعت عام ہے، یہ تمام کفار یہ بھی حضور علیہ السلام کی امت میں سے ہیں، اگرچہ یہ اسلام نہیں لاتے مگر یہ ہیں حضور علیہ السلام کی امت میں سے، اور حضور علیہ السلام کی شریعت کا حکم ہے کہ نکاح کے اندر مال ضرور خرچ کرنا پڑے گا۔ اگر کچھ ذکر کر دیں گے تو وہی آئے گا، اگر ذکر نہیں کریں گے تو مہر مثل آ جائے گا، تو امام زفر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ چاہے ذمیوں کے درمیان پیش آئے چاہے حربیوں کے درمیان پیش آئے ہر حال میں مہر مثل آئے گا، یا اگر صحبت سے پہلے طلاق دی ہے تو متعہ دینا پڑے گا، چاہے ذمی ہوں چاہے حربی ہوں بھئی۔ دیکھیے بھئی کہتے ہیں: ”وَهُوَ قَوْلُهُمَا فِي الْحَرْبِيَّيْنِ“ اور یہی قول ہے صاحبین کا حربیوں میں ”وَأَمَّا فِي الذِّمِّيَّةِ فَلَهَا مَهْرُ مِثْلِهَا إِنْ مَاتَ عَنْهَا أَوْ دَخَلَ بِهَا“ اور باقی ذمیہ جو ہے تو اس کے لیے مہر مثل ہو گا اگر اس کا خاوند اس کو چھوڑ کر مرا یا خاوند نے اس کے ساتھ صحبت کر لی، تو پھر اس کو مہر مثل ملے گا ”وَالْمُتْعَةُ إِنْ طَلَّقَهَا قَبْلَ الدُّخُولِ بِهَا“ اور اس عورت کے لیے متعہ ہو گا اگر خاوند نے اس کو صحبت سے پہلے طلاق دے دی۔ ”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”لَهَا مَهْرُ الْمِثْلِ فِي الْحَرْبِيَّيْنِ أَيْضًا“ کہ عورت کے لیے مہر مثل ہو گا حربیوں میں بھی، یعنی اگر خاوند نے صحبت کی ہے یا صحبت سے پہلے خاوند کا انتقال ہوا تو عورت کو مہر مثل ملے گا، اور اگر صحبت سے پہلے خاوند نے طلاق دی ہے تو جیسے مسلمانوں کے اندر خاوند کو متعہ دینا پڑتا ہے یہاں بھی چاہے ذمی ہو یا حربی خاوند کو متعہ دینا پڑے گا۔ تو حاصل کلام کیا؟ امام صاحب کے نزدیک ذمیوں اور حربیوں دونوں کا ایک ہی حکم ہے عورت کو کچھ نہیں ملے گا۔ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ کے نزدیک ذمیوں اور حربیوں دونوں کا ایک ہی حکم ہے دونوں صورتوں میں عورت کو مہر مثل یا متعہ ملے گا۔ جبکہ صاحبین جو ہیں وہ حربیوں کے اندر تو امام صاحب کے ساتھ ہیں کہ عورت کو کچھ نہیں ملے گا، اور ذمیوں کے مسئلے میں امام زفر رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں کہ ذمیوں کے اندر عورت کو مہر مثل یا متعہ ملے گا۔ صورت اچھی طرح سمجھ میں آ گئی۔ اب آئیے ان کے دلائل دیکھیے بھئی: ”لَهُ“ امام زفر رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ الشَّرْعَ مَا شَرَعَ ابْتِغَاءَ النِّكَاحِ إِلَّا بِالْمَالِ“ کہ شریعت نے ”مَا شَرَعَ“ مشروع نہیں کیا ہے ”ابْتِغَاءَ النِّكَاحِ“ نکاح کو تلاش کرنے کو، شریعت نے نکاح کے تلاش کرنے کو مشروع نہیں کیا ”إِلَّا بِالْمَالِ“ مگر مال کے ساتھ۔ قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں: ”أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ“ تو کہتے ہیں شریعت نے مشروع نہیں کیا ابتغائے نکاح کو مگر مال کے ساتھ ”وَهٰذَا الشَّرْعُ وَقَعَ عَامًّا“ اور حضور علیہ السلام کی یہ شریعت عام ہو کر واقع ہوئی ہے، یعنی یہ حکم سب کے لیے ہے مسلمانوں اور کفار کے لیے ”فَيَثْبُتُ الْحُكْمُ عَلَى الْعُمُومِ“ تو یہ حکم بھی ثابت ہو جائے گا عموم کے طریقے پر، یعنی سب کے لیے ثابت ہو گا چاہے وہ ذمی ہو چاہے وہ حربی ہو سب کے اندر مال کے بغیر نکاح نہیں ہو سکتا۔ ”وَلَهُمَا“ اور صاحبین کی دلیل یہ ہے۔ صاحبین فرماتے ہیں کہ ایک دار الحرب والے ہیں ایک ذمی ہیں دونوں میں فرق ہے۔ جو دار الحرب میں رہنے والے ہیں انہوں نے ہمارے قوانین کا اپنے اوپر التزام نہیں کیا۔ یاد رکھو ایک ہے التزام اور ایک ہے الزام، التزام کا معنی ہے اپنے اوپر کوئی چیز لازم کرنا اور الزام ”أَلْزَمَ يُلْزِمُ إِلْزَامًا“ باب افعال کا معنی ہے دوسرے پر کوئی چیز لازم کرنا، تو صاحبین کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں یہ جو دار الحرب والے ہیں انہوں نے ہمارے قوانین کو خود بھی نہیں مانا یعنی خود بھی التزام نہیں کیا اپنے اوپر اور ہم بھی ان پر ان قوانین کو لازم نہیں کر سکتے کیونکہ ہمارے خلیفہ کا وہاں حکم نہیں چلتا، تو نہ یہاں پر التزام ہے اور نہ الزام ہے، تو جب نہ التزام ہے اور نہ الزام ہے تو ان پر شرعی قوانین لاگو نہیں، لہٰذا حربیوں کے اندر تو کوئی مال نہیں آئے گا۔ لیکن ذمی جو ہیں، ذمیوں نے تو ہمارے قوانین کو تسلیم کیا ہے وہ دار الاسلام میں رہتے ہیں، تو لہٰذا انہوں نے ہمارے قوانین کا اپنے اوپر التزام کیا ہے ذمیوں نے، اور نیز وہ دار الاسلام میں رہتے ہیں یہاں ہمارے پاس ولایتِ الزام بھی ہے، ہم ان پر احکام کو لازم کر بھی سکتے ہیں کیونکہ ہمارے خلیفہ کی حکومت ہے یہاں پر، تو ذمیوں نے ہمارے قوانین کو مانا بھی ہے یعنی التزام بھی موجود اور ولایتِ الزام بھی ہے کیونکہ یہاں خلیفہ کا حکم جاری ہوتا ہے، لہٰذا ذمیوں پر ہمارے احکام لازم ہوں گے اور بغیر مہر کے نکاح جائز نہیں ہو گا بھئی، اور جب بغیر مہر کے نکاح جائز نہیں تو خود بخود مہر مثل آ جائے گا، تو مہر مثل دینا پڑے گا اور اگر صحبت سے پہلے طلاق دے دی خاوند نے تو متعة الطلاق دینا پڑے گا یعنی وہ تین کپڑے، صورت سمجھ میں آ گئی۔ ”وَلَهُمَا أَنَّ أَهْلَ الْحَرْبِ غَيْرُ مُلْتَزِمِينَ أَحْكَامَ الْإِسْلَامِ“ اور صاحبین کی دلیل یہ ہے کہ اہلِ حرب جو ہیں وہ اسلام کے احکام کو اپنے اوپر لازم کرنے والے نہیں، انہوں نے خود بھی اپنے اوپر اسلام کے احکام کو لازم نہیں کیا ”وَوِلَايَةُ الْإِلْزَامِ مُنْقَطِعَةٌ لِتَبَايُنِ الدَّارِ“ اور نیز ولایتِ الزام بھی منقطع ہے ”لِتَبَايُنِ الدَّارِ“ دار کے مختلف ہونے سے، وطن کے اور ملک کے مختلف ہونے کی وجہ سے ولایتِ الزام بھی منقطع ہے، وہ الگ ملک میں رہتے ہیں جہاں ہمارے حاکم کا حکم نہیں چلتا تو ولایتِ الزام بھی منقطع ہے ”لِتَبَايُنِ الدَّارِ“ دار کے مختلف ہونے کی وجہ سے ”وَوِلَايَةُ الْإِلْزَامِ مُنْقَطِعَةٌ لِتَبَايُنِ الدَّارِ“ اور ولایتِ الزام بھی ان سے منقطع ہے دار کے مختلف ہونے کی وجہ سے ”بِخِلَافِ أَهْلِ الذِّمَّةِ“ بخلاف اہلِ ذمہ کے یعنی جو ذمی ہیں جو دار الاسلام میں غیر مسلم رہتے ہیں ”لِأَنَّهُمُ الْتَزَمُوا أَحْكَامَنَا فِيمَا يَرْجِعُ إِلَى الْمُعَامَلَاتِ“ اس لیے کیونکہ انہوں نے التزام کیا ہے ہمارے احکام کا، یعنی انہوں نے اپنے اوپر ہمارے احکام لازم کیے ہیں ”فِيمَا يَرْجِعُ إِلَى الْمُعَامَلَاتِ“ وہ احکام جو معاملات کی طرف لوٹتے ہیں۔ بھئی ایک تو ان کے دینی امور ہیں یہ جو ذمی ہیں ان کے دینی معاملات ہیں، دینی معاملات تو وہ اپنے مذہب کے مطابق چلاتے ہیں لیکن معاملات کے اندر انہوں نے ہمارے احکام کو اپنے اوپر لازم کیا ہے۔ جب انہوں نے یہاں مملکتِ اسلامیہ کے اندر ذمی بن کر رہنا قبول کیا اور سالانہ ٹیکس دیتے ہیں حکومت کے ساتھ معاہدہ کیا ہوا ہے تو انہوں نے گویا خود ہی ہمارے احکام کو تسلیم کر لیا ہے اپنے اوپر لازم کر لیا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ أَهْلِ الذِّمَّةِ لِأَنَّهُمُ الْتَزَمُوا أَحْكَامَنَا فِيمَا يَرْجِعُ إِلَى الْمُعَامَلَاتِ كَالرِّبَا وَالزِّنَا“ بخلاف ذمیوں کے انہوں نے اپنے اوپر لازم کیا ہے ہمارے احکام کو ان چیزوں میں جو لوٹتے ہیں معاملات کی طرف جیسے کہ سود ہے اور زنا ہے۔ ذمیوں کو سودی لین دین کی اجازت نہیں ہو گی مملکتِ اسلامیہ میں، اسی طرح ذمیوں کو زنا کی اجازت نہیں ہے دار الاسلام کے اندر، اگر کوئی زنا کرے گا تو اس پر حد جاری کی جاتی ہے بھئی۔ معلوم ہوا سودی لین دین نہ کرنا، زنا نہ کرنا اور اس کے احکام ان پر جاری ہونا یہ بتلاتا ہے کہ انہوں نے معاملات میں ہمارے احکام کا التزام کیا ہے ان کو تسلیم کیا ہے۔ تو یاد رکھو اگر ذمی بھی کوئی زنا کرے گا اور وہ ثابت ہو جائے تو اس پر بھی حد جاری کی جائے گی بھئی۔ ”وَوِلَايَةُ الْإِلْزَامِ مُتَحَقِّقَةٌ لِاتِّحَادِ الدَّارِ“ اور نیز ولایتِ الزام بھی متحقق ہے، ثابت ہے دار کے متحد ہونے کی وجہ سے۔ وہ دار الاسلام ہی میں رہتے ہیں تو ہمارا اور ان کا دار ایک ہی ہے لہٰذا ولایتِ الزام بھی ہے، خلیفہ کیا کر سکتا ہے ان پر ان احکام کو لازم کر سکتا ہے، تو انہوں نے خود بھی التزام کیا ہے اور نیز ہمارے پاس ولایتِ الزام بھی موجود ہے لہٰذا یہاں ان پر اسلامی احکام جاری ہوں گے، لہٰذا ذمی اگر بغیر مہر کے نکاح کریں گے تو وہ بغیر مہر کے نہیں ہو گا بلکہ وہاں مہر مثل آ جائے گا۔ ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ أَهْلَ الذِّمَّةِ لَا يَلْتَزِمُونَ أَحْكَامَنَا فِي الدِّيَانَاتِ وَفِيمَا يَعْتَقِدُونَ خِلَافَهُ فِي الْمُعَامَلَاتِ“ امام صاحب فرماتے ہیں کہ دیکھو یہ جو ذمی ہیں انہوں نے دینی معاملات کے اندر اور اسی طرح معاملات کے اندر جن میں وہ ہمارے خلاف اعتقاد رکھتے ہیں، ان چیزوں کو اپنے اوپر لازم نہیں کیا۔ بھئی وہ مملکتِ اسلامیہ میں رہتے ہیں، مملکتِ اسلامیہ کے باقی قوانین تو ان پر لازم ہیں لیکن معاملات کے اندر جس کو وہ اپنے دین کے مطابق جائز سمجھتے ہیں وہ عمل کرتے ہیں، تو دینی معاملات کے اندر بھی وہ اپنے دین کے مطابق چلتے ہیں اور معاملات کے اندر بھی جس چیز کو وہ اپنے دین کے مطابق جائز سمجھتے ہیں وہ اسی پر چلتے ہیں، چنانچہ آپ دیکھتے ہیں وہ شراب اور خنزیر کی بیع و شراء کرتے ہیں، حالانکہ مسلمانوں کو تو شراب اور خنزیر کی بیع و شراء کی اجازت نہیں ہے۔ اب دیکھو شراب اور خنزیر کی بیع و شراء یہ معاملات کے قبیل سے ہے، دو آدمیوں کے درمیان یہ معاملہ ہوتا ہے بیع و شراء والا، تو دیکھو یہ معاملات کے اندر جس چیز میں وہ ہمارے خلاف کا عقیدہ رکھتے ہیں تو اس کے اندر بھی وہ اپنے ہی عقیدے پر چلتے ہیں اور شریعت ان کو روکتی نہیں ہے، ان کو اجازت ہے وہ آپس میں شراب اور خنزیر کی بیع و شراء کر سکتے ہیں مملکتِ اسلامیہ کے اندر بھی۔ معلوم ہوا معاملات کے اندر بھی انہوں نے ہمارے قوانین کو اپنے اوپر لازم نہیں کیا، اور نیز دینی معاملات میں تو ظاہر سی بات ہے دینی معاملات تو وہ اپنے مذہب کے مطابق ہی کرتے ہیں تو ان کو بھی انہوں نے اپنے اوپر لازم نہیں کیا، تو دینی معاملات ہوں یا ان کے آپس کے معاملات ہوں جو تو وہ اپنے اعتقاد کے مطابق اس پر عمل کرتے ہیں، انہوں نے ہمارے احکام کو اپنے اوپر لازم نہیں کیا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ امام صاحب کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ أَهْلَ الذِّمَّةِ لَا يَلْتَزِمُونَ أَحْكَامَنَا“ کہ اہلِ ذمہ جو ہیں انہوں نے اپنے اوپر لازم نہیں کیا احکامنا ہمارے احکام کو ”فِي الدِّيَانَاتِ“ دینی معاملات میں یعنی ان کی عبادات وغیرہ جو ہیں ان کے اندر بھی ہمارے احکام کو اپنے اوپر لازم نہیں کیا ”وَفِيمَا يَعْتَقِدُونَ خِلَافَهُ“ اور ان چیزوں میں بھی جس میں وہ ہمارے خلاف کا عقیدہ رکھتے ہیں ”فِي الْمُعَامَلَاتِ“ معاملات میں۔ معاملات میں بھی جن چیزوں کا وہ ہمارے خلاف کا عقیدہ رکھتے ہیں اس میں بھی انہوں نے اپنے اوپر ہمارے احکام کو لازم نہیں کیا۔ اور باقی ”وَوِلَايَةُ الْإِلْزَامِ بِالسَّيْفِ وَبِالْمُحَاجَّةِ“ اور ولایتِ الزام وہ تو تلوار کے ذریعے ہوتی ہے ”وَبِالْمُحَاجَّةِ“ محاجہ کہتے ہیں بحث و مباحثہ کرنا، جیم مشدد ہے بھئی، محاجہ بھئی، اچھا یہ حجت سے ہے حجت بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَوِلَايَةُ الْإِلْزَامِ بِالسَّيْفِ وَالْمُحَاجَّةِ“ اور ولایتِ الزام تو تلوار یا بحث و مباحثے کے ذریعے ہوتی ہے۔ صاحبین نے تو کیا ذکر کیا تھا کہ ذمیوں نے ہمارے احکام کا اپنے اوپر التزام بھی کیا ہے اور نیز مملکتِ اسلامیہ کو ولایتِ الزام بھی ہے، وہ جبراً بھی ان پر کیا کر سکتی ہے ان احکام کو لازم کر سکتی ہے، تو اس کا جواب دے رہے ہیں امام صاحب کہ بھئی ولایتِ التزام بھی نہیں ہے، انہوں نے اپنے اوپر ہمارے احکام کو لازم نہیں کیا جیسے خنزیر اور شراب کی بیع و شراء ہے، اور نیز ولایتِ الزام بھی یہاں نہیں ہے کیونکہ ولایتِ الزام یعنی دوسرے پر جبراً کوئی چیز لازم کرنا یا تو وہ تلوار کے ذریعے ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ جنگ کی جائے لڑائی کی جائے یا بحث و مباحثے کے ذریعے ہوتا ہے، اور ان دونوں چیزوں سے مسلمانوں کو اور مملکتِ اسلامیہ کو منع کیا گیا ہے۔ وہ ذمی جو دار الاسلام میں رہتے ہیں ان سے جنگ نہیں کی جاتی، ان کے ساتھ کوئی بحث و مباحثے نہیں کیے جاتے، ہمیں شریعت نے یہ حکم دیا ہے کہ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو۔ ملک کے قوانین کو تو تسلیم کریں گے لیکن ان کے دینی معاملات یا جن چیزوں میں وہ تمہارے خلاف عقیدہ رکھتے ہیں وہاں ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو، نہ تلوار کے ساتھ ہمیں ان پر کسی چیز کو لازم کرنے کا حکم ہے اور نہ بحث و مباحثے کے ذریعے، ہاں اچھے طریقے سے دعوت دیتے رہو وہ دعوت دے سکتے ہو، لیکن بہر حال مملکتِ اسلامیہ کو یہاں ولایتِ الزام نہیں ہے کہ تلوار یا بحث و مباحثے کے ذریعے یہ احکام ان پر لاگو کر دیے جائیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَوِلَايَةُ الْإِلْزَامِ بِالسَّيْفِ وَبِالْمُحَاجَّةِ“ اور ولایتِ الزام تو تلوار کے ذریعے اور بحث و مباحثہ کے ذریعے ہوتی ہے ”وَكُلُّ ذٰلِكَ مُنْقَطِعٌ عَنْهُمْ“ اور یہ تلوار اور بحث و مباحثے میں سے تو ہر ایک جو ہے ان سے منقطع ہے ”بِاعْتِبَارِ عَقْدِ الذِّمَّةِ“ عقدِ ذمہ کے اعتبار سے۔ کے اعتبار سے کہ مملکت اسلامیہ نے ان سے کیا عہد کیا ہے؟ عقد ذمہ کیا ہے بھئی کہ یہ یہاں ذمی بن کر رہیں گے اور یہ اپنے دینی معاملات میں آزاد ہوں گے۔ ملکی قوانین کا ان کو خیال رکھنا پڑے گا، تو مملکت اسلامیہ ان کی جان و مال کی بھی محافظ ہے اور دینی معاملات میں ان کی آزادی کی بھی محافظ ہے۔ لہٰذا نہ ان کے ساتھ تلوار استعمال کی جائے گی اور نہ بحث و مباحثہ بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَكُلُّ ذٰلِكَ مُنْقَطِعٌ عَنْهُمْ بِاعْتِبَارِ عَقْدِ الذِّمَّةِ اور تلوار اور بحث و مباحثہ میں سے ہر ایک ان سے منقطع ہے عقد ذمہ کے اعتبار سے۔ فَإِنَّا أُمِرْنَا بِأَنْ نَّتْرُكَهُمْ وَمَا يَدِينُونَ، فَإِنَّا أُمِرْنَا پس بیشک ہم کو حکم دیا گیا ہے بِأَنْ نَّتْرُكَهُمْ کہ ہم ان لوگوں کو یعنی ذمیوں کو بھی چھوڑ دیں وَمَا يَدِينُونَ اور جس کو یہ دین بناتے ہیں اس کو بھی چھوڑ دیں۔ یعنی ہمیں یہ حکم ہے کہ ہم ذمیوں کو اور جس چیز کو یہ دین بناتے ہیں اس کو چھوڑ دیں یعنی ان کو ان کے حال پر رہنے دیں، یہ جس طرح رہنا چاہیں رہ سکتے ہیں۔ تو فَإِنَّا أُمِرْنَا بِأَنْ نَّتْرُكَهُمْ وَمَا يَدِينُونَ، وَمَا يَدِينُونَ جس کو یہ لوگ دین بناتے ہیں، مذہب بناتے ہیں۔ فَإِنَّا أُمِرْنَا بِأَنْ نَّتْرُكَهُمْ وَمَا يَدِينُونَ پس بیشک ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم ذمیوں کو اور جس چیز کو یہ دین بناتے ہیں اس کو چھوڑ دیں یعنی ان سے اعراض کریں۔ فَصَارُوا كَأَهْلِ الْحَرْبِ تو یہ اسی طرح ہو گئے جیسے کہ اہل حرب ہیں۔ امام صاحب کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے معاملات کے اندر جن چیزوں کا ہمارے خلاف عقیدہ رکھتے ہیں اس کا اپنے اوپر التزام بھی نہیں کیا اور نیز ہمیں یہاں ولایتِ الزام بھی نہیں ہے کیونکہ وہ تو تلوار یا بحث و مباحثے کے ذریعے ہوگی اور اس سے تو ہمیں شریعت نے منع کیا ہے۔ معلوم ہوا نہ یہاں التزام ہے اور نہ الزام ہے تو یہ بھی اہل حرب کی طرح ہو گئے اور اہل حرب کے اندر تو اے صاحبین آپ بھی مانتے ہیں کہ وہاں ان کے عقیدے کے مطابق ہی قاضی فیصلہ کرے گا۔ اگر مہر کے بغیر نکاح جائز ہے تو قاضی بھی کیا کہے گا کہ اس عورت کو کچھ نہیں ملے گا، تو یہ ذمی بھی اہل حرب کی طرح ہو گئے تو دونوں کا ایک ہی حکم ہوگا بھئی۔ تو کہتے ہیں: فَصَارُوا كَأَهْلِ الْحَرْبِ تو یہ ذمی بھی اہل حرب کی طرح ہو گئے۔ بِخِلَافِ الزِّنَا صاحبین نے ذکر کیا تھا کہ انہوں نے معاملات میں ہمارے قوانین کا التزام کیا ہے، ہمارے احکام کا اپنے اوپر التزام کیا ہے جیسے ربا کی ان کو بھی اجازت نہیں ہے، سودی معاملات کی، اور زنا کی بھی ان کو اجازت نہیں ہے، تو اس کا بھی جواب دے رہے ہیں امام صاحب کہ بھئی زنا، زنا تو تمام ادیان کے اندر حرام ہے۔ کوئی دین زنا کی اجازت نہیں دیتا، تو جب ان کا اپنا دین ان کو اجازت نہیں دے رہا تو پھر ان کو مملکت اسلامیہ میں کیسے اجازت ہو سکتی ہے زنا کی؟ تو اس لیے ان پر حد جاری کی جاتی ہے کیونکہ اسلام جس طرح زنا سے روکتا ہے ان کا اپنا دین بھی زنا سے روکتا ہے بھئی۔ اور نیز ربا، ربا کا تو استثناء ہے، حضور علیہ السلام نے ذمیوں سے معاہدہ فرمایا تھا تو وہاں آپ نے باقاعدہ ذکر فرمایا کہ جس نے سودی معاملہ کیا پھر ہمارا اس کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہے بھئی۔ لہٰذا آپ کا زنا اور ربا کو دلیل کے طور پر پیش کرنا صحیح نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: بِخِلَافِ الزِّنَا بخلاف زنا کے لِأَنَّهُ حَرَامٌ فِي الْأَدْيَانِ كُلِّهَا زنا تو حرام ہے سارے دینوں کے اندر۔ وَالرِّبَا مُسْتَثْنًى عَنْ عُقُودِهِمْ اور ربا یعنی سود جو ہے یہ تو ان کے عقود سے مستثنیٰ ہے یعنی ان کو اور عقود کی اجازت ہے لیکن ربا کی اجازت نہیں، سودی معاملات کی اجازت نہیں۔ تو کہتے ہیں: وَالرِّبَا مُسْتَثْنًى عَنْ عُقُودِهِمْ اور ربا یہ تو مستثنیٰ ہے ان کے عقود سے لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ حضور علیہ السلام کے اس فرمان مبارک کے، آپ نے فرمایا: أَلَا مَنْ أَرْبَى، أَلَا بھئی حرف تنبیہ ہے جس کا ترجمہ سنو یا آگاہ رہو یا خبردار، جو بھی آپ کو مناسب لگے آپ اس کا ترجمہ کر سکتے ہیں۔ تو حضور علیہ السلام نے فرمایا: أَلَا مَنْ أَرْبَى خبردار جس نے سودی معاملہ کیا، أَرْبَى يُرْبِي کا معنیٰ سودی معاملہ کرنا۔ أَلَا مَنْ أَرْبَى آگاہ رہو جس نے سودی معاملہ کیا فَلَيْسَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ عَهْدٌ تو ہمارے اور اس کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ تو دیکھا سودی معاملے کا حضور نے استثناء فرما دیا تھا کہ ذمیوں کو اس کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔ وَقَوْلُهُ فِي الْكِتَابِ أَوْ عَلَى غَيْرِ مَهْرٍ يَحْتَمِلُ نَفْيَ الْمَهْرِ وَيَحْتَمِلُ السُّكُوتَ بھئی متن کے اندر آیا تھا، متن کے اندر آیا تھا: وَإِذَا تَزَوَّجَ النَّصْرَانِيُّ نَصْرَانِيَّةً عَلَى مَيْتَةٍ أَوْ عَلَى غَيْرِ مَهْرٍ یہ عَلَى غَيْرِ مَهْرٍ یہ متن کے اندر آیا اور یہ عبارت ہے جامع صغیر کی بھئی۔ میں نے بتلایا تھا کہ ہدایہ کا متن یا تو قدوری ہوگا یا جامع صغیر بھئی۔ تو جامع صغیر کے اندر کہتے ہیں امام محمد رحمہ اللہ نے: أَوْ عَلَى غَيْرِ مَهْرٍ یہ جو الفاظ ابھی متن میں آئے۔ نکاح کیا ہے مردار پر أَوْ عَلَى غَيْرِ مَهْرٍ کے الفاظ آئے ہیں، اب اس سے کیا مراد ہے؟ اس میں دونوں احتمال ہیں۔ تو ایک صورت یہ ہے کہ بھئی نکاح کر رہے ہیں، مہر کو ذکر ہی نہیں کیا، مہر سے سکوت کر لیا، مہر پر خاموشی اختیار کر لی۔ تو اس میں بھی دیکھو غیر مہر ہے، مہر یہاں ذکر نہیں۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ باقاعدہ مہر کی صراحتاً نفی کر دیں کہ ہم نکاح کر رہے ہیں لیکن مہر کچھ نہیں ہوگا۔ تو یہ جو متن میں آیا کہ نکاح کیا غیر مہر پر، یہ دونوں صورتوں کا احتمال رکھتا ہے۔ مہر پر سکوت کر لیا جائے یا باقاعدہ مہر کی نفی کر دی جائے، دونوں صورتوں میں نکاح کس پر ہوا؟ غیر مہر پر ہوا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَقَوْلُهُ فِي الْكِتَابِ اور امام محمد رحمہ اللہ کا قول جو ہے کتاب یعنی جامع صغیر کے اندر، کون سا قول؟ یہ أَوْ عَلَى غَيْرِ مَهْرٍ یہ جو قول ہے يَحْتَمِلُ نَفْيَ الْمَهْرِ وَيَحْتَمِلُ السُّكُوتَ یہ مہر کی نفی کا بھی احتمال رکھتا ہے اور مہر سے سکوت کا بھی احتمال رکھتا ہے۔ وَقَدْ قِيلَ اور تحقیق کہا گیا ہے فِي الْمَيْتَةِ وَالسُّكُوتِ رِوَايَتَانِ کہ مردار میں اور سکوت کے اندر کہ مہر سے سکوت کر لیا جائے، مہر سے خاموشی اختیار کر لی جائے، اس بارے میں رِوَايَتَانِ دو روایتیں ہیں۔ بھئی یہ جو متن میں آیا عَلَى غَيْرِ مَهْرٍ اس میں تو دونوں احتمال ہیں جبکہ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ میتہ اور سکوت کے بارے میں امام صاحب سے دو روایتیں ہیں۔ ایک روایت تو وہ جو متن میں گزر گئی، امام صاحب کے نزدیک اگر مہر کچھ بھی نہیں ہے اور یہی ان کا عقیدہ بھی اور ان کا دین بھی یہی ہے تو پھر بیوی کو کچھ بھی نہیں ملے گا۔ جبکہ بعض فقہاء فرماتے ہیں اس سلسلے میں ایک دوسری روایت بھی ہے امام صاحب سے اور وہ صاحبین کے موافق ہے۔ اس میں وہ فرماتے ہیں کہ مہر ملے گا جیسے صاحبین فرماتے ہیں ذمیہ عورت کو ہر حال میں مہر ضرور ملے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: وَقَدْ قِيلَ فِي الْمَيْتَةِ وَالسُّكُوتِ رِوَايَتَانِ تحقیق کہا گیا ہے کہ مردار اور سکوت کے بارے میں دو روایتیں ہیں امام صاحب سے۔ وَالْأَصَحُّ أَنَّ الْكُلَّ عَلَى الْخِلَافِ صاحب ہدایہ فرماتے ہیں: وَالْأَصَحُّ اور زیادہ صحیح بات یہ ہے أَنَّ الْكُلَّ عَلَى الْخِلَافِ کہ یہ سب کے سب اختلاف پر ہیں یعنی ان سب میں اختلاف ہے، چاہے میتہ ہو، چاہے سکوت ہو مہر سے، چاہے مہر کی باقاعدہ صراحتاً نفی ہو۔ دینوں کے اندر اختلاف ہے۔ بعض فقہاء نے تو کیا کہا تھا؟ میتہ اور سکوت کے اندر دو روایتیں ہیں۔ صاحب ہدایہ فرما رہے ہیں زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ سب میں اختلاف ہے یعنی ایک ہی روایت ہے، دو روایتیں نہیں ہیں۔ بعض فقہاء کیا فرماتے ہیں؟ میتہ اور سکوت کے بارے میں امام صاحب کی دو روایتیں ہیں، ایک جو متن میں آ گئی اور ایک ان کا قول صاحبین کے مطابق بھی ہے لیکن صاحب ہدایہ فرما رہے ہیں: وَالْأَصَحُّ أَنَّ الْكُلَّ عَلَى الْخِلَافِ کہ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ سب جو ہیں اختلاف پر ہیں یعنی یہاں ایک ہی روایت ہے اختلاف والی، دوسری روایت نہیں ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: فَإِنْ تَزَوَّجَ ذِمِّيٌّ ذِمِّيَّةً عَلَى خَمْرٍ أَوْ خِنْزِيرٍ ثُمَّ أَسْلَمَا أَوْ أَسْلَمَ أَحَدُهُمَا فَلَهَا الْخَمْرُ وَالْخِنْزِيرُ۔ صورت مسئلہ یہ: ایک ذمی آدمی نے ذمیہ عورت سے نکاح کر لیا اور مہر کے طور پر شراب یا خنزیر مقرر کیے۔ مہر کیا مقرر کیا؟ شراب مقرر کی یا خنزیر مقرر کی، پھر دونوں مسلمان ہو گئے یا دونوں میں سے ایک مسلمان ہوا تو امام صاحب فرماتے ہیں اس عورت کو وہی خمر یا خنزیر ہی ملیں گے۔ اس عورت کو وہی خمر یا خنزیر ہی ملیں گے۔ تو اس پر اشکال ہوتا ہے کہ بھئی مسلمان کے لیے تو خمر اور خنزیر کا نہ تملک جائز ہے، نہ تملیک جائز ہے۔ تملک کا معنیٰ ہے خود مالک بننا اور تملیک کا معنیٰ ہے دوسرے کو مالک بنانا۔ مسلمان نہ خود شراب اور خنزیر کا مالک بن سکتا ہے، نہ کسی دوسرے کو مالک بنا سکتا ہے۔ یہاں ایک اور بات یاد رکھنا بھئی مالک بننا اور چیز ہے اور مالک ہونا اور چیز ہے بھئی۔ دیکھو ایک شخص ہے اور وہ غیر مسلم ہے اور اس کے پاس شراب موجود ہے یا خنزیر موجود ہیں تو دیکھو یہ اس شراب یا خنزیر کا مالک ہے، غیر مسلم ہے یہ آدمی بھئی۔ پھر یہ شخص مسلمان ہو گیا تو اب بھی یہ شراب اور خنزیر کا یہی شخص مالک ہے۔ تو دیکھو یہ اس شراب اور خنزیر کا مالک ہے تو یہاں تملک نہیں ہے، تملک کہتے ہیں مالک بننا۔ یعنی مسلمان مالک نہ ہو اور پھر مالک بن جائے یعنی یوں کہو نیا مالک نہیں بن سکتا۔ اگر ایک چیز پہلے سے ہی اس کی ملکیت میں موجود ہے تو وہ اس کا مالک رہے گا بھئی۔ تو ذمی مسلمان ہوا، شراب یا خنزیر اس کی ملکیت میں پہلے سے موجود تھے تو مسلمان ہونے کے بعد بھی یہ ان کا مالک ہے بھئی۔ تو یہاں تملک نہیں ہے، تملک یہ ہے کہ ایک شخص مسلمان ہے اور وہ کسی سے شراب یا خنزیر خریدتا ہے یا کوئی اس کو تحفے کے طور پر دیتا ہے اور پھر یہ اس کا مالک بن جائے یعنی تملک پایا جائے تو نہیں، تملک یعنی مالک بننا نہیں ہو سکتا۔ تو مالک ہونا تو ہو سکتا ہے لیکن مالک بننا نہیں ہو سکتا۔ تو مسلمان کے لیے نہ تملکِ خمر و خنزیر جائز ہے، نہ تملیکِ خمر و خنزیر جائز ہے۔ اب آئیے اس مسئلے پر جو متن میں تھا۔ دیکھو صورت مسئلہ یہ: ایک ذمی اور ذمیہ کے درمیان نکاح ہوا اور انہوں نے آپس میں شراب یا خنزیر مقرر کر لیے مہر کے طور پر۔ پھر دونوں مسلمان ہو گئے یا دونوں میں سے کوئی ایک مسلمان ہو گیا، تو پھر امام صاحب فرماتے ہیں اس ذمیہ عورت کو وہی شراب یا وہی خنزیر اس کو ملیں گے۔ صاحب ہدایہ اس کا معنیٰ بیان کریں گے کہ معنیٰ یہ ہے کہ وہ شراب اور خنزیر معین ہوں بھئی، غیر معین نہ ہوں۔ کیا ہوں؟ معین ہوں۔ آگے چل کر آپ کو بتلائیں گے کہ بھئی یہ جو شراب اور خنزیر جب معین ہوں تو نکاح کرتے ہی وہ عورت ان کی مالکہ بن گئی۔ وہ عورت ان کی کیا بن چکی ہے؟ بھئی شراب اور خنزیر معین ہیں، مثلاً سامنے شراب کافی ساری پڑی ہوئی ہے، ایک ذمی ایک ذمیہ سے نکاح کرتا ہے اور کہتا ہے یہ جو سامنے شراب پڑی ہے یہ بطور مہر کے میں تمہیں دوں گا یا اس کے پاس خنزیروں کا ایک ریوڑ موجود ہے سامنے، وہ کہتا ہے یہ جو خنزیروں کا ریوڑ ہے یہ تمہیں بطور مہر کے میں دوں گا تو یہ جو معین شراب اور خنزیر ہیں، یاد رکھو جیسے ہی عقد نکاح ہوگا عورت ان کی مالک بن گئی۔ تو خاوند کی طرف سے تملیک پائی گئی اور عورت کی طرف سے شراب یا خنزیر کا تملک پایا گیا لیکن یہ تو اس وقت ہوا ہے جب ابھی یہ مسلمان ہی نہیں، کفر کی حالت میں ہے اور کفر کی حالت میں جب یہ ہیں پھر تو ان کے لیے تملک اور تملیک ان کے مذہب کے مطابق جائز تھا بھئی، لہٰذا عورت اسی وقت مالک بن گئی تھی۔ تو جب یہ پہلے سے مالک بن چکی ہے تو اب مسلمان بھی ہو جائے وہ تو پہلے ہی اس کی مالک بن چکی ہے بھئی، تو یہی شراب اور خنزیر اس کے ہوں گے، بات سمجھ میں آ گئی۔ دیکھیے بھئی کہتے ہیں: فَإِنْ تَزَوَّجَ ذِمِّيٌّ ذِمِّيَّةً اگر نکاح کیا کسی ذمی نے ذمیہ عورت سے عَلَى خَمْرٍ أَوْ خِنْزِيرٍ شراب یا خنزیر پر ثُمَّ أَسْلَمَا پھر یہ دونوں مسلمان ہو گئے أَوْ أَسْلَمَ أَحَدُهُمَا یا دونوں میں سے کوئی ایک مسلمان ہوا فَلَهَا الْخَمْرُ وَالْخِنْزِيرُ تو اس عورت کے لیے وہی شراب اور خنزیر ہوں گے کیونکہ یہ پہلے سے ہی کیا بن چکی ہے اس کی؟ مالک بن چکی ہے بھئی۔ تو یہاں نہ تملک ہے اور نہ تملیک ہے۔ وَمَعْنَاهُ اور اس کا معنیٰ یہ ہے، اب دیکھو صاحب ہدایہ بیان فرما رہے ہیں: وَمَعْنَاهُ اور معنیٰ اس کا یہ ہے إِذَا كَانَا بِأَعْيَانِهِمَا جب یہ دونوں معین ہوں، إِذَا كَانَا دیکھو تثنیہ کا صیغہ ہے، إِذَا كَانَا بِأَعْيَانِهِمَا جب یہ شراب اور خنزیر دونوں معین ہوں وَالْإِسْلَامُ قَبْلَ الْقَبْضِ اور اسلام قبضے سے پہلے ہو۔ یعنی خاوند نے یہ تو کہا تھا یہ خمر یا یہ خنزیر یہ تمہیں میں مہر کے طور پر دوں گا لیکن عورت نے ابھی اس پر قبضہ نہیں کیا تھا، قبضے سے پہلے مسلمان ہو گئے۔ تو قبضے سے اب کچھ نہیں ہوتا، وہ پہلے سے مالک ہے، وہ اس پر قبضہ کر سکتی ہے، تو عورت ان کی مالک ہے، وہ قبضہ کر لے اور لے لے، پھر اس کے بعد اس کی مرضی ہے، اب اگر دونوں مسلمان ہو گئے ہیں تو پھر عورت اس شراب کو سرکے میں تبدیل کر سکتی ہے کہ شراب میں اگر نمک ڈال دیا جائے، کوئی خاص طریقہ ہوگا، اس طریقے سے اس میں نمک ڈالا جاتا ہے یا اس کو دھوپ میں رکھا جاتا ہے تو وہ سرکے میں بدل جاتی ہے اور سرکے کا استعمال اور بیع و شراء تو مسلمان کے لیے جائز ہے، تو عورت کیا کر سکتی ہے؟ اس شراب کو سرکے میں تبدیل کر سکتی ہے یا اگر نہیں تبدیل کرنا چاہتی تو شراب کو ضائع کر دے گی بھئی، شراب بہا دے گی اور اسی طرح خنزیر ہیں، خنزیر کو یا وہ قتل کروا دے گی، قتل وغیرہ کروا دے، جو بھی کرنا چاہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو دیکھو شراب اور خنزیر معین ہیں اور ان پر قبضے سے پہلے عورت کیا ہوئی ہے؟ مسلمان ہوئی ہے یا عورت ہوئی ہے یا چاہے مرد مسلمان ہوا ہے۔ بھئی اشکال یہی ہوتا ہے نا، عورت اگر مسلمان ہوئی ہے تو اس کے لیے تملک نہیں جائز اور اگر خاوند مسلمان ہوا ہے تو اس کے لیے تملیک نہیں جائز لیکن بتلایا کہ بھئی یہ تو پہلے سے ہی مالک بن چکی ہے، نہ یہاں تملک ہے، نہ تملیک ہے، چاہے مرد مسلمان ہو، چاہے عورت مسلمان ہو، لہٰذا عورت کو یہی شراب اور خنزیر ملیں گے بطور مہر کے۔ پہلے سے ہی یہ مالک بن چکی ہے بس صرف قبضہ خاوند کا ہے، اب وہ قبضہ کس کا آ جائے گا؟ بیوی کا آ جائے گا۔ تو کہتے ہیں: وَمَعْنَاهُ إِذَا كَانَا بِأَعْيَانِهِمَا وَالْإِسْلَامُ قَبْلَ الْقَبْضِ اور معنیٰ اس کا یہ ہے کہ جب یہ شراب اور خنزیر معین ہوں اور اسلام جو ہے قبضے سے پہلے ہو وَإِنْ كَانَا بِغَيْرِ أَعْيَانِهِمَا اور اگر یہ شراب اور خنزیر غیر معین ہوں۔ یعنی دیکھو ایک صورت تو یہ تھی شراب سامنے پڑی تھی کہ یہ شراب تمہیں دوں گا یا یہ خنزیروں کا ریوڑ ہے یہ میں تمہیں مہر کے طور پر دوں گا اور ایک صورت یہ ہے کہ وہ شراب اور خنزیر معین نہیں، خاوند ویسے نکاح کرتے ہوئے اس سے کہتا ہے کہ میں تمہیں مہر کے طور پر ایک من شراب دوں گا۔ اب جہاں سے بھی وہ شراب لا کر دینا چاہے وہ ذمی ذمیہ کو دے سکتا ہے، توجہ ہے؟ لیکن صورت چل رہی ہے ابھی اس نے ادا نہیں کی اور اس سے پہلے ہی دونوں یا دونوں میں سے ایک مسلمان ہو گیا۔ تو اب نکاح کس پر کیا ہے؟ غیر معین شراب پر، ایک من شراب مثلاً خاوند نے کہا کہ میں بیوی کو دوں گا یا غیر معین خنزیروں پر نکاح کیا ہے، خاوند نے بیوی سے کہا کہ میں تمہیں دس اعلیٰ قسم کے خنزیر بطور مہر کے دوں گا، تو دیکھو غیر معین خنزیروں پر نکاح کر لیا۔ تو اس صورت میں امام صاحب فرماتے ہیں کہ غیر معین شراب یا غیر معین خنزیر تھے، ان پر نکاح کیا تھا ان کی تو عورت مالک نہیں بنی تھی اس وقت۔ جب وہ شراب اور خنزیر معین ہی نہیں ہیں تو پھر عورت کو کیسے ان کا مالک قرار دیا جا سکتا ہے؟ پہلے متعین تو ہوں پھر ہی عورت کو ان کا مالک قرار دیا جا سکتا ہے۔ تو معلوم ہوا جب غیر معین شراب ہے یا غیر معین خنزیر ہیں تو عورت ابھی تک ان کی مالک نہیں بنی۔ اب جب خاوند دے گا تب مالک بنے گی اور اب تو دونوں میں سے ایک مسلمان ہو چکا ہے یا دونوں مسلمان ہو چکے ہیں۔ اگر دونوں مسلمان ہوئے ہیں تو پھر شراب اور خنزیر کا تو نہ تو تملک جائز ہے اور نہ تملیک اور اگر دونوں میں سے ایک مسلمان ہوا ہے، عورت مسلمان ہوئی ہے تو اس کے لیے تو تملکِ شراب یا تملکِ خنزیر جائز نہیں اور اگر خاوند مسلمان ہوا ہے تو خاوند کے لیے تملیکِ خمر بھی جائز نہیں اور تملیکِ خنزیر بھی نہیں جائز۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو لہٰذا اگر غیر معین شراب اور خنزیر پر نکاح کیا تھا اسلام لانے سے پہلے اور پھر بعد میں دونوں اسلام لے آئے یا دونوں میں سے ایک مسلمان ہو گیا تو امام صاحب فرماتے ہیں اگر شراب مقرر کی تھی، غیر معین شراب، تو پھر اس شراب کی قیمت دے دے گا خاوند اور اگر غیر معین خنزیر مقرر کیے تھے تو پھر وہاں مہر مثل آ جائے گا۔ شراب کی قیمت دے دیں گے اور خنزیر کی قیمت بھی نہیں دیں گے بلکہ وہاں مہر مثل آ جائے گا۔ یہ آگے چل کر ساری تفصیل صاحب ہدایہ بیان کریں گے لیکن مختصراً یہاں سمجھ لو۔ شراب میں قیمت کیوں دیں گے؟ غیر معین شراب مقرر کی تھی، امام صاحب کیا فرماتے ہیں؟ دونوں مسلمان ہو گئے یا ایک مسلمان ہو گیا اب اس کی قیمت دے دے۔ وجہ یہ کہ شراب مثلیات میں سے ہے۔ آپ نے پڑھا ہے کہ چیزیں دو قسم پر ہیں، یا تو مثلیات ہوتی ہیں یا ذوات القیم۔ مثلیات وہ چیزیں ہیں جن کا مثل بازار سے مل جاتا ہے اور مثلیات تین چیزیں ہیں: مکیلات، وہ چیزیں جن کو کسی برتن میں ماپا جاتا ہے جیسے دودھ وغیرہ ہے یا پٹرول ہے، اور موزونات جن کا وزن کیا جاتا ہے جیسے چینی وغیرہ ہے، اور کچھ معدودات متقاربہ ہیں جن کو گن کر بیچا جاتا ہے اور وہ ایک دوسرے کے قریب قریب ہوتے ہیں یعنی ان میں بہت تھوڑا فرق ہوتا ہے، اسے شمار نہیں کیا جاتا، جیسے انڈے ہیں بھئی، وہ ایک درجن یا دو درجن تعداد کے اعتبار سے بیچے جاتے ہیں۔ تو یہ جو مثلیات ہیں، یاد رکھو مثلیات کے اندر اس چیز کا مثل دینا پڑتا ہے اور باقی چیزیں ذوات القیم ہیں، قیمت والی ہیں تو وہاں اس کی قیمت دینا پڑتی ہے۔ مثلاً ایک شخص نے اگر کسی کی ایک من گندم ضائع کر دی، تو گندم کس میں سے ہے؟ مثلیات میں سے ہے، تو اس شخص پر اس کا مثل لازم ہوگا اور یہ اس کو ایک من گندم لا کر دے دے گا اور اگر کسی نے کسی کی ذوات القیم چیز ضائع کی، مثلاً کسی نے کسی کی گائے ہلاک کر دی، تو اب گائے یہ تو ذوات القیم میں سے ہے، لہٰذا اب اس شخص کو یہ نہیں کہیں گے کہ اسی جیسی گائے لا کر دو کیونکہ گائے کا تو مثل نہیں مل سکتا بھئی، ظاہری طور پر اس جیسی گائے بھی ہو پھر بھی باطنی صفات الگ الگ ہوتی ہیں، تو لہٰذا گائے ذوات القیم میں سے ہے تو وہاں پر پھر اس گائے کی قیمت اس آدمی کو دینا پڑے گی بھئی۔ تو مثلیات میں کیا دیا جاتا ہے؟ مثل، اور ذوات القیم میں قیمت دی جاتی ہے۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں جب غیر معین شراب مہر کے طور پر مقرر کی تھی تو شراب کا مثل تو شراب ہی ہے تو شراب نہیں دے سکتا بھئی کیونکہ شراب مسلمان کے لیے نہ تملک جائز ہے اور نہ تملیک، تو یہاں پر اس کی قیمت دے دے گا۔ تو مثلی کے اندر مثل دیا جائے تو کہتے ہیں اس نے عین شے دے دی۔ ایک نے دوسرے کی گندم ضائع کی ہے، اتنی ہی گندم لا کر دے دے گا تو ہم کہیں گے اس نے عین شے جو اس پر واجب تھی وہی ادا کر دی۔ تو مثلیات کے اندر مثل دیا جائے تو کہتے ہیں عین شے ادا کر دی، لہٰذا شراب کے اندر ہم قیمت واجب کریں گے۔ تو اب جب شراب کی قیمت دے رہا ہے تو یوں نہیں کہیں گے عین وہ چیز دے رہا ہے بلکہ یوں کہیں گے اس کا بدل دے رہا ہے اور شراب تو نہیں دے سکتا مسلمان کسی دوسرے کو، ہاں اس کا بدل، کوئی اور چیز تو دے سکتا ہے، تو یہاں شراب کی قیمت دے دے گا۔ جبکہ خنزیر کے اندر قیمت بھی نہیں دے سکتا، اس لیے کیونکہ خنزیر کس میں سے ہے؟ ذوات القیم میں سے اور ذوات القیم کے اندر قیمت دینا اسی طرح ہے جیسے عین وہی چیز دے رہا ہے۔ ایک شخص نے دوسرے کی گائے ہلاک کی ہے، گائے کس میں سے ہے؟ ذوات القیم میں سے، تو اس شخص پر اس گائے کی قیمت واجب ہو جائے گی، یہ اس کی قیمت اس کو دے گا اور جب قیمت دے گا تو یوں ہی سمجھا جائے گا یہ اس کو گائے ہی دے رہا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا خنزیر کے اندر جب غیر معین خنزیر مقرر کیے تھے تو خاوند کو یہ نہیں کہیں گے کہ اس کی قیمت دے دو کیونکہ اگر قیمت دے گا تو یہ تو اسی طرح ہے جیسے عین خنزیر ہی دے رہا ہے۔ کیونکہ ذوات القیم میں قیمت دینا بھی کس کی طرح ہے؟ عین اسی شے کے دینے کی طرح ہے، تو لہٰذا خنزیر کی صورت میں قیمت خاوند پر واجب نہیں کی جائے گی بلکہ وہاں پھر مہر مثل دینا پڑے گا۔ کیا آ جائے گا؟ مہر مثل، اس جیسی عورتوں کا جو مہر ہوتا ہے وہ دینا پڑے گا۔ مسئلہ سمجھ میں آیا؟ حاصل کلام پھر سمجھ لیں۔ امام صاحب کے نزدیک غیر مسلم مرد اور عورت نے آپس میں نکاح کیا ہے اور معین شراب یا معین خنزیر کو بطور مہر کے مقرر کیا ہے، پھر بعد میں ان دونوں میں سے کوئی ایک مسلمان ہو گیا قبضے سے پہلے، تو بھی امام صاحب فرماتے ہیں عورت پہلے سے مالکن بن چکی ہے ان چیزوں کی، لہٰذا یہی چیزیں اس کو دے دی جائیں گی۔ تو یہاں نہ تملیک ہے اور نہ تملک ہے اور اگر شراب اور خنزیر غیر معین ہوئے تو پھر اس صورت کے اندر وہ شراب کی تو قیمت دی جائے گی، مثلیات میں مثل دیا جائے تو یوں سمجھا جاتا ہے بعینہٖ وہی چیز دے رہا ہے لیکن شراب کا مثل تو شراب ہے وہ تو ہم دے نہیں سکتے تو یہاں اس کی قیمت دینے کا ہم حکم دے دیں گے اور یہ گویا شراب کا بدل دے رہا ہے، شراب نہیں دے رہا۔ جبکہ خنزیر کے اندر اس کی قیمت نہیں دے سکتا خاوند کیونکہ خنزیر تو ذوات القیم میں سے ہے اور ذوات القیم کے اندر قیمت دینا اسی طرح ہے جیسے عین وہی چیز دے رہا ہے، تو اگر ہم کہیں قیمت دینی پڑے گی یہ تو اسی طرح ہو گیا گویا عین خنزیر ہی دے رہا ہے تو اس لیے ہم نے کہا کہ خنزیر کے اندر قیمت بھی نہیں دے سکتا، بس یہاں پر مہر مثل آ جائے گا۔ یوں سمجھو کچھ مہر مقرر کیا ہی نہیں تھا یا ایسی چیز مہر مقرر کی ہے جو مہر بننے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی اور اس صورت میں مہر مثل آتا ہے، تو یہاں بھی مہر مثل آ جائے گا، صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ كَانَا بِغَيْرِ أَعْيَانِهِمَا اور اگر یہ شراب اور خنزیر غیر معین تھے فَلَهَا فِي الْخَمْرِ الْقِيمَةُ تو عورت کے لیے شراب میں اس کی قیمت ہوگی، شراب کی قیمت اس کو دی جائے گی وَفِي الْخِنْزِيرِ مَهْرُ الْمِثْلِ اور خنزیر کے اندر عورت کے لیے مہر مثل ہوگا وَهٰذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ اور یہ امام صاحب کے نزدیک ہے۔ یہ ساری تفصیل کس کے نزدیک ہے؟ امام صاحب کے نزدیک۔ وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ لَهَا مَهْرُ الْمِثْلِ فِي الْوَجْهَيْنِ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عورت کے لیے مہر مثل ہوگا دونوں صورتوں میں۔ یعنی چاہے شراب اور خنزیر معین ہوں، چاہے غیر معین، دونوں صورتوں میں مہر مثل عورت کو ملے گا۔ تو کہتے ہیں: وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ لَهَا مَهْرُ الْمِثْلِ فِي الْوَجْهَيْنِ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس عورت کے لیے مہر مثل ہوگا دونوں صورتوں میں۔ کون سی دو صورتیں؟ چاہے یہ معین ہوں، چاہے غیر معین ہوں۔ وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى لَهَا الْقِيمَةُ فِي الْوَجْهَيْنِ اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس عورت کے لیے قیمت ہوگی دونوں صورتوں میں۔ دونوں صورتوں میں کیا ہوگی؟ قیمت ہوگی۔ یعنی چاہے شراب اور خنزیر متعین ہوں یا غیر متعین، دونوں صورتوں میں ان کی قیمت دینا پڑے گی۔ شراب کی بھی قیمت دینا پڑے گی، خنزیر کی بھی قیمت دینا پڑے گی جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دونوں صورتوں میں مہر مثل دینا پڑے گا، شراب اور خنزیر چاہے معین ہوں، چاہے غیر معین، ان کی قیمت نہیں دیں گے بلکہ مہر مثل دیں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللّٰهُ لَهَا الْقِيمَةُ فِي الْوَجْهَيْنِ کہ اس عورت کے لیے ان کی قیمت ہوگی دونوں صورتوں میں یعنی چاہے یہ معین ہوں یا غیر معین۔ وَجْهُ قَوْلِهِمَا صاحبین کے قول کی وجہ یہ ہے، بھئی پہلے ایک دو باتیں سمجھ لیں پھر آپ کو صاحبین کی دلیل سمجھ میں آئے گی۔ یاد رکھو مبیع کے اندر قبل القبض تصرف جائز نہیں۔ مبیع میں قبل القبض تصرف جائز نہیں جبکہ ثمن کے اندر قبل القبض بھی تصرف جائز ہے۔ مثلاً دیکھو آپ کی جیب پر ایک قلم لگا ہوا ہے، میں نے آپ سے کہا کہ یہ قلم میں نے آپ سے ایک ہزار روپے میں خرید لیا، آپ نے کہا کہ مجھے منظور ہے، ایجاب اور قبول ہوتے ہی میں اس قلم کا مالک بن گیا، قلم اگرچہ ابھی آپ کی جیب پر ہے لیکن میں مالک بن چکا ہوں اور میرے ذمے آپ کے ایک ہزار بطور ثمن کے آ گئے ہیں بھئی، اب میرے ذمے ہیں بھئی۔ یہ مبیع جو ابھی آپ کے قبضے میں ہے، آپ کی جیب پر یہ قلم لگا ہوا ہے، میں اس مبیع میں تصرف کرنا چاہتا ہوں قبضہ کرنے سے پہلے ہی، مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں کہ یہ قلم رہنے دیں، یوں کریں اس کی جگہ مجھے یہ کتاب دے دیں تو یہ تو میں مبیع میں تصرف کر رہا ہوں اس پر قبضہ کرنے سے پہلے، یاد رکھو یہ جائز نہیں ہے۔ ہاں میں آپ سے قلم لے لیتا ہوں، اس پر قبضہ کر لیتا ہوں، پھر میں آپ سے کہہ سکتا ہوں یہ قلم لے لو اور اس کی جگہ مجھے کتاب دے دو، تو مبیع میں قبل القبض تصرف جائز نہیں۔ یا اسی طرح یہ قلم آپ کی جیب پر لگا ہوا ہے اور میں اس کا مالک بن چکا ہوں، ایجاب اور قبول ہو چکا ہے، اب میں ایک اور ساتھی سے کہتا ہوں کہ یہ جو قلم یہ سامنے ساتھی کی جیب پر لگا ہے، میں اس کا مالک بن چکا ہوں، یہ میں تمہیں بطور تحفے کے دیتا ہوں، یہ تم لے لو۔ نہیں بھئی، یہ تو میں مبیع میں قبل القبض تصرف کر رہا ہوں، کسی کو ہبہ کر رہا ہوں قبضے سے پہلے ہی، یہ جائز نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ میں قبضہ کر لوں پھر میں جس کو چاہوں ہبہ کر سکتا ہوں۔ یا تیسری صورت مثلاً کہ میں نے آپ سے قلم خرید لیا، قلم ابھی آپ کے قبضے میں ہے، ایک اور ساتھی سے میں کہتا ہوں کہ یہ جو قلم اس کی جیب پر لگا ہے، یہ میں نے خرید لیا ہے اور اگر اب تم خریدنا چاہتے ہو تو میں تمہیں گیارہ سو روپے میں دے دوں گا، میں نے ہزار کا خریدا ہے، تمہیں گیارہ سو روپے میں فروخت کر دوں گا، تو یاد رکھو یہ جائز نہیں ہے کیونکہ یہ میں مبیع میں قبضے سے پہلے تصرف کر رہا ہوں اور مبیع میں قبل القبض تصرف جائز نہیں۔ میں قبضہ کر لوں پھر چاہے میں اس کو توڑو، چاہے کسی کو تحفہ دوں، چاہے کسی کو بیچوں، وہ میری مرضی ہے لیکن وہ قبضے کے بعد میں تصرف کر سکتا ہوں۔ جبکہ اس کے مقابلے میں ثمن جو ہے اس میں قبل القبض بھی تصرف جائز ہے۔ آپ کے میں نے ایک ہزار روپے دینے ہیں، ابھی آپ نے وصول نہیں کیے، آپ مجھے کہتے ہیں کہ یوں کریں ہزار روپے کے بجائے مجھے یہ کتاب دے دیں تو اب آپ دیکھو ثمن کے اندر تصرف کر رہے ہیں قبضے سے پہلے اور یہ جائز ہے، آپ تصرف کر سکتے ہیں۔ تو حاصل کلام کیا ہوا کہ مبیع میں قبل القبض تصرف جائز نہیں لیکن ثمن میں قبل القبض بھی تصرف جائز ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ اچھا اب وہ قلم جو آپ کی جیب پر لگا ہوا تھا وہ میں نے آپ سے لے لیا، پہلے میں نے آپ سے عقد کیا تھا اب میں نے اس قلم پر قبضہ بھی کر لیا آپ کی اجازت سے، تو جیسے ہی میں قبضہ کروں گا اب میں اس میں جو تصرف کرنا چاہوں کر سکتا ہوں۔ معلوم ہوا عقد بیع کی وجہ سے میں اس قلم کی ذات کا مالک بن گیا تھا۔ میں اس قلم کے ذات کا مالک بن گیا تھا اور جب میں نے اس قلم پر قبضہ بھی کر لیا اب میں اس میں جو بھی تصرف کرنا چاہوں کر سکتا ہوں، معلوم ہوا قبضے سے میں تصرف کا مالک بن گیا۔ عقد سے میں ذات کا مالک بنا تھا اور قبضے کی وجہ سے تصرف کا مالک بن گیا، اس سے پہلے میں تصرف نہیں کر سکتا تھا، قبضے کے بعد ہی تصرف کر سکتا ہوں۔ معلوم ہوا قبضے کی بھی مشابہت آ گئی عقد کے ساتھ۔ قبضے کی مشابہت آ گئی کس کے ساتھ؟ عقد کے ساتھ کیونکہ عقد کی وجہ سے ملک عین حاصل ہوئی مجھے، تو قبضے کی وجہ سے ملک تصرف مجھے حاصل ہو گیا۔ جب میں نے عقد کیا تھا تو میں اس قلم کا مالک بن گیا تھا، اس کی ذات کا، تو کیا کہیں گے؟ عقد کی وجہ سے ملک عین مجھے حاصل ہوئی، اس عین کا میں مالک بن گیا اور قبضے کی وجہ سے ملک تصرف مجھے حاصل ہوئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ عقد کی وجہ سے کیا آتا ہے؟ ملک عین، اور قبضے کی وجہ سے ملک تصرف۔ معلوم ہوا قبضہ عقد کے مشابہ ہے۔ قبضہ عقد کے مشابہ ہے۔ جیسے عقد کی وجہ سے ایک ایسی چیز آئی جو پہلے نہیں تھی یعنی ملک عین پہلے نہیں تھی عقد کی وجہ سے آ گئی، اسی طرح قبضے کی وجہ سے بھی ایک ایسی چیز آ گئی جو پہلے نہیں تھی یعنی ملک تصرف جو پہلے نہیں تھی قبضے کے بعد ملک تصرف آ گئی، تو قبضے کی مشابہت ہو گئی عقد کے ساتھ۔ تو صاحبین فرماتے ہیں کہ جیسے مسلمان کے لیے شراب اور خنزیر پر عقد نہیں جائز، اسی طرح شراب اور خنزیر پر قبضہ بھی نہیں جائز کیونکہ قبضہ بھی عقد کے مشابہ ہے۔ دلیل سمجھ میں آ رہی ہے؟ صاحبین فرماتے ہیں کہ عقد کی وجہ سے ملک عین حاصل ہوتی ہے، اسی طرح قبضے کی وجہ سے ملک تصرف حاصل ہوتی ہے، تو اس قبضے کی مشابہت آ گئی عقد کے ساتھ اور شراب اور خنزیر پر تو عقد مسلمان نہیں کر سکتا تو شراب اور خنزیر پر مسلمان قبضہ بھی نہیں کر سکتا کیونکہ یہ قبضہ بھی کس کے مشابہ ہے؟ عقد کے مشابہ ہے تو دونوں کا ایک ہی حکم ہوگا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ یا دوسرے لفظوں میں یوں کہو، دوسرے لفظوں میں یوں کہو جو آگے صاحب ہدایہ جن الفاظ کو استعمال کریں گے، صاحب ہدایہ فرماتے ہیں: ہیں، کہ عقد کی وجہ سے مبیع میں ملکیت آ جاتی ہے اور قبضے کی وجہ سے یہ ملکیت پکی ہو جاتی ہے۔ بھئی دیکھو یہ قلم آپ کی جیب پر تھا، عقد کیا تو میں مالک بن گیا، لیکن میری ملکیت ابھی پختہ نہیں، اس میں زور اور تاکید نہیں کیونکہ میں ابھی بھی اس میں تصرف نہیں کر سکتا۔ لیکن جب میں قبضہ کر لوں گا تو میری ملکیت میں تاکید آ گئی، زور آ گیا، اب میں کامل مالک بن گیا اس چیز کا، اب میں اس کو بیچنا چاہوں تو بیچ بھی سکتا ہوں۔ تو معلوم ہوا قبضے کی وجہ سے ملکیت میں تاکید آتی ہے۔ تو معلوم ہوا قبضہ کس کے مشابہ ہوا؟ عقد کے مشابہ ہو گیا، تو لہٰذا دونوں کا ایک ہی حکم ہوگا۔ جب مسلمان کے لیے شراب اور خنزیر پر عقد نہیں جائز تو مسلمان کے لیے شراب اور خنزیر پر قبضہ بھی نہیں جائز ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں دیکھیے بھئی کتاب پر: ”وَجْهُ قَوْلِهِمَا“ صاحبین کے قول کی وجہ یہ ہے ”أَنَّ الْقَبْضَ“ بھئی دیکھیے! صاحبین کا قول تو الگ الگ ہے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں دونوں صورتوں میں مہر مثل آئے گا، چاہے شراب اور خنزیر معین ہو چاہے غیر معین ہو۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں دونوں صورتوں میں قیمت آئے گی، چاہے وہ شراب اور خنزیر معین ہو چاہے غیر معین۔ تو دونوں کے قول الگ الگ ہیں، تو پھر صاحب ہدایہ ان کی دلیل اکٹھی کیسے ذکر فرما رہے ہیں؟ تو وجہ یہ کہ اس بات کے اندر تو دونوں کا اتفاق ہے کہ معین اور غیر معین کا ایک ہی حکم ہوگا۔ شراب اور خنزیر معین ہو یا غیر معین، دونوں کا حکم ایک ہوگا تو بیں اعتبار دونوں میں اتفاق ہے، تو اس اعتبار سے دونوں کی اکٹھی دلیل ذکر کریں گے اور پھر آگے ایک کے نزدیک مہر مثل آتا ہے اور ایک کے نزدیک قیمت آتی ہے، وہ بھی بیان کریں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَجْهُ قَوْلِهِمَا أَنَّ الْقَبْضَ مُؤَكِّدٌ لِلْمِلْكِ فِي الْمَقْبُوضِ“ کہ قبضہ جو ہے وہ ملکیت کو پکا کرتا ہے، ملکیت میں تاکید پیدا کرتا ہے فی المقبوض، وہ چیز جس پر قبضہ کیا گیا، وہ جو مقبوض ہے اس کے اندر ملکیت میں تاکید آ جاتی ہے قبضے سے بھئی، ”فَيَكُونُ لَهُ شَبَهٌ بِالْعَقْدِ“ تو یہاں یہ لفظ شِبہٌ نہ پڑھنا بھئی، شَبَہٌ ہے۔ شِبہ کا معنی مِثل، اور شَبَہٌ مصدر ہے بمعنی مشابہت کے بھئی۔ ”فَيَكُونُ لَهُ شَبَهٌ بِالْعَقْدِ“ تو اس قبضے کی مشابہت ہے بالعقد، عقد کے ساتھ، ”فَيَمْتَنِعُ بِسَبَبِ الْإِسْلَامِ كَالْعَقْدِ“ تو یہ قبضہ بھی ممتنع ہوگا اسلام کی وجہ سے، كالعقد جیسے کہ عقد ہے، جیسے شراب اور خنزیر پر عقد اسلام کی وجہ سے ممتنع ہے تو ان پر قبضہ بھی اسلام کی وجہ سے ممتنع ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”فَيَمْتَنِعُ بِسَبَبِ الْإِسْلَامِ كَالْعَقْدِ“ تو یہ قبضہ بھی اسلام کی وجہ سے ممتنع ہوگا كالعقد جیسے کہ ان پر عقد جو ہے وہ ممتنع ہے، ”وَصَارَا كَمَا إِذَا كَانَا بِغَيْرِ أَعْيَانِهِمَا“ اور یہ اسی طرح ہو گئے جیسے کہ یہ غیر معین ہوں۔ بھئی ادھر دیکھیے! معین چیز کے اندر عقد ہوتے ہی ملکیت آ جاتی ہے۔ آپ کی جیب پر قلم لگا ہوا تھا، میں نے جیسے ہی ایجاب و قبول کیا عقد کرتے ہی اس قلم میں میری ملکیت آ گئی، مشتری اس کا مالک بن گیا، ہاں میں ابھی تصرف تو نہیں کر سکتا لیکن میں مالک بن گیا ہوں۔ لیکن اگر کوئی چیز غیر معین ہو اور اس پر عقد کیا جائے، تو یاد رکھو غیر معین کے اندر جب قبضہ کرے گا ملک عین بھی اسی وقت آئے گی اور ملک تصرف بھی اسی وقت آئے گی۔ توجہ ہے؟ مثلاً عورت سے نکاح کیا اس شخص نے اور غیر معین شراب مہر کے طور پر مقرر کی کہ میں تمہیں ایک من شراب دوں گا۔ دیکھو اب یہ شراب متعین نہیں۔ وہ جو شراب متعین تھی وہ تو عقد نکاح کرتے ہی عورت اس کی مالک بن گئی تھی، لیکن جو شراب غیر معین ہے عورت اس کی مالک نہیں کیونکہ وہ موجود ہی نہیں ہے تو مالک کیسے بنے گی عورت اس کی؟ تو خاوند جب بھی وہ غیر معین شراب لائے گا اور لا کر عورت کے حوالے کرے گا تو جس وقت عورت قبضہ کرے گی اسی وقت اس کو ملک عین بھی حاصل ہوگی اور ملک تصرف بھی حاصل ہوگی۔ توجہ ہے؟ تو معلوم ہوا معین چیز کے اندر ملک عین کب حاصل ہوتی ہے؟ جب عقد کر لے۔ توجہ ہے؟ معین چیز کے اندر ملک عین کب آئے گی؟ جب عقد کر لے، اور ملک تصرف کب آئے گی؟ جب قبضہ کر لے گا۔ جبکہ غیر معین کے اندر یہ دونوں چیزیں قبضے کے وقت آئیں گی۔ غیر معین شراب جب خاوند لا کر اس عورت کو دے گا یہ جو ذمیہ ہے، ابھی دونوں مسلمان نہیں ہوئے خاوند نے وہی شراب لا کر اس عورت کو دی تو جس وقت عورت قبضہ کرے گی اسی وقت ملک عین بھی آئے گی، اسی وقت ملک تصرف بھی آئے گی، کیونکہ اس سے پہلے وہ متعین ہی نہیں ہے۔ خاوند ایک من شراب لے بھی آئے پھر بھی متعین نہیں، ہو سکتا ہے خاوند یہ والی بھی نہ دے پھر کوئی اور لا کر عورت کو دے دے۔ توجہ ہے؟ تو جب تک وہ دے گا نہیں وہ متعین نہیں، جب متعین نہیں تو اس میں ملکیت آ ہی نہیں سکتی، ہاں جب عورت قبضہ کرے گی تو ملک عین بھی آئے گی اور ملک تصرف بھی آئے گی۔ پھر دہرا لیں یہ ضابطہ: معین چیز کے اندر جب عقد کیا جائے تو عقد کرتے ہی ملک عین آ جاتی ہے، اور جب قبضہ کر لیں گے پھر ملک تصرف آ جائے گی۔ جبکہ غیر معین کے اندر جب قبضہ کیا جائے گا، ملک عین بھی اس وقت آئے گی اور ملک تصرف بھی اس وقت آئے گی۔ تو معلوم ہوا غیر معین شراب یا خنزیر جب عورت کو خاوند دے گا تو جب عورت قبضہ کرے گی تو اسی وقت ملک عین بھی آئے گی اور ملک تصرف بھی۔ معلوم ہوا میاں بیوی دونوں مسلمان ہو جائیں یا دونوں میں سے کوئی ایک مسلمان ہو جائے تو وہ غیر معین شراب یا خنزیر اب بیوی کو بطور مہر کے نہیں دیے جا سکتے کیونکہ بیوی پر ان کے لیے قبضہ جائز نہیں، کیونکہ قبضہ کرتے ہی وہ کیا بن جائے گی؟ مالک بن جائے گی۔ تو صاحبین فرماتے ہیں جیسے غیر معین پر بیوی کے لیے قبضہ جائز نہیں تھا، معین کے اندر بھی بیوی کے لیے قبضہ جائز نہیں ہے، تو دونوں ایک دوسرے جیسے ہو گئے، دونوں کا ایک ہی حکم ہوگا۔ بات سمجھ میں آئی؟ پھر سمجھ لیں حاصل کلام: یہاں تک صاحبین کی جو دلیل ہوئی اس کا حاصل یہ ہے، وہ بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ معین شراب یا خنزیر ہوں یا غیر معین شراب یا خنزیر ہوں دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔ معین شراب یا خنزیر ہیں، وہاں پر عقد کرتے ہی ملک عین آ گئی۔ عقد جیسے ہی کیا، عورت کی ان میں کیا آ گئی؟ ملک عین، عورت ان کی ذات کی مالک بن گئی، لیکن ملک تصرف کب آتی ہے؟ جب قبضہ کر لے گی۔ تو معلوم ہوا قبضے کی مشابہت کس کے ساتھ؟ عقد کے ساتھ۔ کس کے ساتھ؟ عقد کے ساتھ۔ اور مسلمان کے لیے جیسے شراب یا خنزیر پر عقد جائز نہیں، اسی طرح مسلمان کے لیے شراب یا خنزیر پر قبضہ بھی جائز نہیں کیونکہ قبضے کی مشابہت کس کے ساتھ ہے؟ عقد کے ساتھ ہے۔ اور غیر معین کے اندر تو جب عورت قبضہ کرے گی اسی وقت مالک بنے گی، تو جیسے غیر معین کے اندر عورت کے لیے قبضہ جائز نہیں، اسی طرح معین کے اندر بھی عورت کے لیے قبضہ جائز نہیں کیونکہ اس قبضے کی مشابہت عقد کے ساتھ ہے بھئی۔ معلوم ہوا دونوں کے اندر عورت قبضہ نہیں کر سکتی تو دونوں ایک جیسے ہو گئے، دونوں کا ایک ہی حکم ہے، چاہے معین شراب یا خنزیر ہوں چاہے غیر معین شراب یا خنزیر ہوں۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا۔ پھر دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: ”وَجْهُ قَوْلِهِمَا أَنَّ الْقَبْضَ مُؤَكِّدٌ لِلْمِلْكِ فِي الْمَقْبُوضِ فَيَكُونُ لَهُ شَبَهٌ بِالْعَقْدِ فَيَمْتَنِعُ بِسَبَبِ الْإِسْلَامِ كَالْعَقْدِ وَصَارَا كَمَا إِذَا كَانَا بِغَيْرِ أَعْيَانِهِمَا“ اور یہ دونوں معین شراب اور خنزیر اسی طرح ہو گئے جیسے کہ یہ دونوں غیر معین ہوں، جیسے غیر معین میں قبضہ جائز نہیں ہوتا اسی طرح ہم نے ثابت کر دیا کہ معین میں بھی قبضہ جائز نہیں ہے تو دونوں ایک جیسے ہو گئے۔ ”وَإِذَا الْتَحَقَتْ حَالَةُ الْقَبْضِ بِحَالَةِ الْعَقْدِ“ اور جب مل گئی قبضے کی حالت عقد کی حالت کے ساتھ، یعنی جب دونوں کا ایک ہی حکم ہو گیا، جیسے شراب اور خنزیر پر عقد نہیں جائز مسلمان کے لیے، اسی طرح مسلمان کے لیے ان پر قبضہ بھی جائز نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا الْتَحَقَتْ حَالَةُ الْقَبْضِ بِحَالَةِ الْعَقْدِ“ اور جب قبضے کی حالت مل گئی عقد کی حالت کے ساتھ یعنی دونوں کا ایک ہی حکم ہو گیا، ”فَأَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ يَقُولُ: لَوْ كَانَا مُسْلِمَيْنِ وَقْتَ الْعَقْدِ“ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر یہ دونوں مسلمان ہوتے عقد کے وقت، یہ دونوں مسلمان ہوتے عقد کے وقت اور انہوں نے عقد کیا چاہے معین شراب پہ عقد کرتے چاہے غیر معین پر عقد کرتے، دونوں صورتوں میں مہر مثل نے آنا تھا تو یہاں بھی دونوں صورتوں میں مہر مثل ہی آئے گا۔ امام ابو یوسف فرماتے ہیں اتنا تو ہم نے ثابت کر دیا کہ شراب یا خنزیر معین ہوں یا غیر معین، دونوں کا ایک ہی حکم ہے، دونوں پر قبضہ نہیں کیا جا سکتا۔ دونوں کا ایک حکم ہے تو اگر یہ مرد اور عورت جنہوں نے ذمی ہونے کی حالت میں نکاح کیا تھا اور شراب یا خنزیر کو مقرر کیا تھا، اگر یہ اسلام کی حالت میں عقد کرتے اور شراب یا خنزیر پر عقد کرتے، چاہے وہ معین ہوتی چاہے غیر معین ہوتی، دونوں صورتوں میں مہر مثل نے آنا تھا تو یہاں بھی دونوں صورتوں میں مہر مثل آئے گا چاہے شراب یا خنزیر معین ہوں چاہے غیر معین ہوں۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَأَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ يَقُولُ: لَوْ كَانَا مُسْلِمَيْنِ وَقْتَ الْعَقْدِ يَجِبُ مَهْرُ الْمِثْلِ فَكَذَا هَاهُنَا“ تو اسی طرح یہاں بھی ہوگا، جب عقد کے وقت مسلمان ہوں تو مہر مثل آتا ہے، تو قبضے کے وقت بھی اگر یہ مسلمان ہیں یا دونوں میں سے ایک مسلمان ہے تو مہر مثل ہی آئے گا کیونکہ جیسے عقد جائز نہیں تھا، قبضہ بھی جائز نہیں ہے بھئی۔ ”وَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى يَقُولُ: صَحَّتِ التَّسْمِيَةُ لِكَوْنِ الْمُسَمَّى مَالًا عِنْدَهُمْ“ اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے نکاح کیا ذمی ہونے کی حالت میں اور ذمیوں کے نزدیک تو خنزیر بھی مال ہے اور شراب بھی مال ہے، لہٰذا تسمیہ تو صحیح ہے۔ ان کے نزدیک یہی مہر بن گیا، یہ جو شراب اور خنزیر ذکر کیے، لیکن اب دونوں مسلمان ہو گئے ہیں یا دونوں میں سے ایک مسلمان ہو گیا ہے اور خمر اور خنزیر کے اندر تو نہ تملک جائز ہے اور نہ تملیک جائز ہے اور اسی طرح قبضہ بھی جائز نہیں ہے، تو پھر جب ایک ایسی چیز کو مہر مقرر کیا جائے کہ خاوند جس کے دینے سے عاجز آ جائے تو پھر وہاں اس کی قیمت آیا کرتی ہے۔ مثلاً ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا اور کہا یہ جو سامنے غلام ہے یہ میں تمہیں بطور مہر کے دوں گا، اور دونوں نے نکاح کر لیا۔ خاوند نے ابھی مہر اس کے حوالے نہیں کیا تھا کہ اس سے پہلے ہی غلام کا انتقال ہو گیا، تو اب خاوند اس غلام کے سپرد کرنے سے عاجز آ گیا اور اس صورت میں بالاتفاق خاوند پر اس کی قیمت واجب ہوگی، اس کی قیمت دینا پڑے گی۔ تو معلوم ہوا کہ جب کسی چیز کو مہر مقرر کیا جائے اور خاوند اس کی ادائیگی سے عاجز آ جائے تو وہاں اس کی قیمت آیا کرتی ہے۔ تو یہاں پر بھی شراب اور خنزیر پر انہوں نے عقد نکاح کیا تھا اور حالت کفر میں کیا تھا، تو معلوم ہوا یہی شراب یا خنزیر مہر بن گئے بھئی، لیکن اب یا دونوں مسلمان ہیں یا دونوں میں سے ایک مسلمان ہے، اب خاوند یہ ادا نہیں کر سکتا، اس کے ادا کرنے سے وہ عاجز آ گیا ہے تو اب ان کی قیمت دینا پڑے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى يَقُولُ: صَحَّتِ التَّسْمِيَةُ“ کہ تسمیہ یعنی مہر کا مقرر کرنا صحیح ہے، ”لِكَوْنِ الْمُسَمَّى مَالًا عِنْدَهُمْ“ اس لیے کیونکہ مسمیٰ یعنی یہ شراب اور خنزیر ان کے نزدیک مال ہے، ”إِلَّا أَنَّهُ امْتَنَعَ التَّسْلِيمُ لِلْإِسْلَامِ“ مگر یہ کہ ممتنع ہو گیا سپرد کرنا اسلام کی وجہ سے، اسلام کی وجہ سے ادائیگی ممتنع ہو گئی، ”فَتَجِبُ الْقِيمَةُ“ تو اس کی قیمت واجب ہوگی، ”كَمَا إِذَا هَلَكَ الْعَبْدُ الْمُسَمَّى قَبْلَ الْقَبْضِ“ جیسے کہ مقررہ غلام ہلاک ہو جائے قبضے سے پہلے، تو وہاں جیسے اس کی قیمت آتی ہے۔ ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے، بھئی ادھر دیکھیے! ضابطہ آپ کو میں نے بتلایا تھا کہ بیع کرتے ہی مشتری مبیع کا مالک بن جاتا ہے تو ملک عین تو اس کو حاصل ہو گئی لیکن ملک تصرف ابھی حاصل نہیں۔ جب قبضہ کرے گا تب ملک تصرف حاصل ہوگی۔ یہ کس میں ہے؟ مبیع میں۔ کس میں ہے؟ مبیع میں۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ نکاح کا حال بیع سے مختلف ہے۔ مبیع کے اندر عقد کرنے سے صرف ملک عین آتی ہے، ملک تصرف نہیں، جبکہ نکاح کے اندر عقد نکاح کرتے ہی معین شراب اور خنزیر جو ہیں ان میں ملک عین بھی آ جاتی ہے اور ملک تصرف بھی آ جاتا ہے۔ نکاح کرتے ہی ملک عین بھی، ملک عین تو صاحبین بھی مانتے تھے بھئی، بیع کے اندر بھی اسی طرح ہے لیکن امام صاحب فرماتے ہیں نکاح کا معاملہ مختلف ہے، نکاح کے اندر عقد نکاح کرتے ہی وہ جو معین شراب اور خنزیر ہیں ان کے اندر ملک عین بھی آ گئی اور ملک تصرف بھی آ گئی، بیوی قبضے کے بغیر ہی ان میں کوئی تصرف کرنا چاہے تو تصرف کر سکتی ہے، ان کو آگے بیچ سکتی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو جب نکاح سے پہلے ہی ملک تصرف بھی آ چکی ہے اب اگر دونوں مسلمان ہو گئے، اب خاوند بیوی کے حوالے کرتا ہے یہی شراب یا خنزیر، تو مجھے بتائیے کیا قبضے کی وجہ سے کوئی ایسی چیز آئی جو پہلے نہیں تھی؟ یعنی ملک تصرف تو پہلے سے ہی بیوی کو حاصل تھا، معلوم ہوا یہاں قبضے کی وجہ سے بھی کوئی نئی چیز نہیں آئی، تو یہاں قبضے کی مشابہت عقد کے ساتھ نہیں ہے بھئی۔ جب قبضے کی مشابہت عقد کے ساتھ نہیں ہے تو مسلمان ان پر قبضہ کر سکتا ہے بھئی۔ صاحبین نے تو کہا تھا کہ قبضے کی وجہ سے ملک تصرف آتا ہے تو یہ مشابہ ہو گیا کس کے ساتھ؟ عقد کے ساتھ جس کی وجہ سے ملک عین آتا ہے، لیکن یہاں تو پہلے سے ہی ملک عین بھی آ چکی ہے اور ملک تصرف بھی، یہاں صرف ایک قبضے سے چیز نکل کر دوسرے قبضے میں جا رہی ہے، تو صرف خاوند کے قبضے سے ایک چیز نکل کر بیوی کے قبضے میں جا رہی ہے اور اس کی تو اسلام میں کوئی ممانعت نہیں ہے۔ ملکیت بھی بیوی کے لیے اسلام سے پہلے ثابت ہو چکی اور تصرف کا حق بھی بیوی کے لیے اسلام سے پہلے ہی ثابت ہو چکا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ: أَنَّ الْمِلْكَ فِي الصَّدَاقِ الْمُعَيَّنِ“ صداق مہر کو کہتے ہیں بھئی، ”أَنَّ الْمِلْكَ فِي الصَّدَاقِ الْمُعَيَّنِ يَتِمُّ بِنَفْسِ الْعَقْدِ“ کہ معین مہر کے اندر ملکیت جو ہے وہ نفس عقد سے ہی پوری ہو جاتی ہے۔ بیع کے اندر ملکیت نفس عقد سے پوری نہیں بلکہ قبضے سے ملکیت پوری ہوتی ہے۔ میں نے آپ سے قلم خریدا تو عقد کرتے ہی میں قلم کا مالک تو بنا لیکن تصرف ابھی بھی نہیں کر سکتا، تصرف کب کر سکوں گا؟ جب قبضہ کر لوں گا، تو معلوم ہوا بیع کے اندر ملکیت تام ہوگی قبضے سے، جبکہ مہر کے اندر عقد کرتے ہی ملکیت تام ہو گئی، بیوی مالک بھی بن گئی اور صاحب تصرف بھی بن گئی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ: أَنَّ الْمِلْكَ فِي الصَّدَاقِ الْمُعَيَّنِ يَتِمُّ بِنَفْسِ الْعَقْدِ“ کہ معین مہر کے اندر جو ملکیت ہوتی ہے وہ نفس عقد سے ہی تام ہو جاتی ہے، نفس عقد سے ہی پوری ہو جاتی ہے، ”وَلِهَذَا تَمْلِكُ التَّصَرُّفَ فِيهِ“ اور اسی لیے عورت اس میں تصرف کی بھی مالک ہوتی ہے، ”وَبِالْقَبْضِ يَنْتَقِلُ مِنْ ضَمَانِ الزَّوْجِ إِلَى ضَمَانِهَا“ اور قبضے کی وجہ سے وہ چیز منتقل ہوتی ہے خاوند کے ضمان سے عورت کے ضمان کی طرف۔ ضمان کہتے ہیں حفاظت اور ذمہ داری۔ بھئی دیکھو! فرق صرف اتنا ہے کہ وہ جو معین شراب اور خنزیر ہیں، عورت پہلے ہی سے ان کی مالکن بھی بن چکی ہے اور اس کو تصرف کا حق بھی مل چکا ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ ابھی تک خاوند نے عورت کے حوالے نہیں کیے تو یہ ابھی بھی خاوند کی حفاظت میں ہیں، لہٰذا اگر یہ ضائع ہو گئیں تو پھر خاوند کو ان کا بدل دینا پڑے گا۔ ان کا بدل۔ تو یہ صرف خاوند کی حفاظت میں ہیں اور ہلاک ہوئیں تو خاوند کو ضمان دینا پڑے گا، تو جب خاوند عورت کے حوالے کرے گا تو صرف خاوند کے ضمان سے وہ چیزیں نکل کر عورت کے ضمان میں چلی گئیں، اب یعنی عورت کے ضمان میں آنے کے بعد اگر یہ چیزیں ہلاک ہوئیں تو اب وہ خاوند سے کسی چیز کا مطالبہ نہیں کر سکتی کیونکہ اس کی اپنی حفاظت سے وہ چیزیں ضائع ہوئی ہیں۔ معلوم ہوا عورت مالک بھی پہلے سے ہے، صاحب تصرف بھی پہلے سے ہے، صرف قبضہ خاوند کا تھا اور اس قبضے سے وہ چیز منتقل ہوگی اور اس کی تو اسلام میں ممانعت نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَبِالْقَبْضِ يَنْتَقِلُ مِنْ ضَمَانِ الزَّوْجِ إِلَى ضَمَانِهَا“ اور قبضے کی وجہ سے وہ چیز منتقل ہو جائے گی خاوند کے ضمان سے عورت کے ضمان کی طرف، ”وَذَلِكَ لَا يَمْتَنِعُ بِالْإِسْلَامِ“ اور یہ منتقل ہونا ایک قبضے سے دوسرے قبضے کی طرف، یہ تو اسلام کی وجہ سے ممتنع نہیں ہے، ”كَاسْتِرْدَادِ الْخَمْرِ الْمَغْصُوبَةِ“ استرداد کا معنی ہے واپس لینا، واپسی کا مطالبہ کرنا، اور مغصوب جس کو غصب کیا گیا ہے۔ صورت مسئلہ یہ ہے: ایک شخص ذمی ہے غیر مسلم ہے اور اس کے پاس شراب موجود ہے، کسی نے اس کی یہ شراب غصب کر لی، توجہ ہے؟ یا اس کے پاس خنزیر موجود تھے اور کسی نے وہ خنزیر غصب کر لیے یعنی چھین کر لے گیا، تو اب غاصب پر لازم ہوتا ہے کہ وہ چیز واپس کرے، تو یہ شخص اس نے ابھی وہ چیزیں واپس نہیں لی تھیں کہ یہ مسلمان ہو گیا، تو مسلمان ہونے کے باوجود اس کا حق ہے یہ اس سے وہ شراب یا خنزیر واپس لے سکتا ہے کیونکہ یہ ابھی بھی مالک ہے۔ بھئی کوئی شخص کسی کی چیز چھین کر لے جائے تو اس سے کسی کی ملکیت ختم نہیں ہوتی، وہ شخص ابھی بھی مالک ہے، تو یہ شخص ذمی اگرچہ مسلمان ہو گیا ہے لیکن اس شراب یا خنزیر کا ابھی بھی یہی مالک ہے، یہ کوئی نیا مالک نہیں بنا پہلے سے یہی مالک ہے، توجہ ہے؟ تو لہٰذا یہ اس سے شراب اور خنزیر واپس لے سکتا ہے، اب واپس لینے کا کیا فائدہ ہوگا؟ اس کے قبضے سے چیز نکلے گی اور اس کے قبضے میں آ جائے گی اور اسلام اس سے منع نہیں کرتا۔ اسی لیے تو اس کو واپس لینے کا حق ہے، اگر اسلام اس قبضے کے انتقال سے بھی روکتا تو پھر اس کو تو واپس لینے کا حق ہی نہ ہوتا، حالانکہ بالاتفاق اس کو یہ شراب یا خنزیر واپس لینے کا حق ہے۔ معلوم ہوا ایک قبضے سے دوسرے قبضے کی طرف شراب یا خنزیر کا منتقل ہونا یہ اسلام میں ممتنع نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَذَلِكَ لَا يَمْتَنِعُ بِالْإِسْلَامِ“ اور یہ ایک قبضے سے دوسرے قبضے کی طرف منتقل ہونا یہ تو اسلام میں ممتنع نہیں ہے، ”كَاسْتِرْدَادِ الْخَمْرِ الْمَغْصُوبَةِ“ جیسے کہ غصب شدہ شراب کو واپس لینا، ”وَفِي غَيْرِ الْمُعَيَّنِ الْقَبْضُ مُوجِبٌ مِلْكَ الْعَيْنِ فَيَمْتَنِعُ بِالْإِسْلَامِ“ ہاں غیر معین میں میں نے آپ کو بتلایا تھا، امام صاحب کیا فرماتے تھے؟ کہ معین شراب یا خنزیر ہیں تو یہی عورت کو ملیں گے، خاوند یا بیوی چاہے دونوں مسلمان ہو گئے چاہے دونوں میں سے ایک مسلمان ہو گیا، یہی معین شراب یا خنزیر ملیں گے کیونکہ عقد کے وقت ہی عورت ان کی مالک بھی بن گئی تھی اور اس کو تصرف کا حق بھی مل چکا تھا بھئی، صرف اب خاوند کے قبضے سے چیز نکلے گی اور عورت کے قبضے میں چلی جائے گی۔ اور جبکہ غیر معین شراب اور خنزیر، اس میں امام صاحب فرماتے تھے کہ شراب میں قیمت دینا پڑے گی اور خنزیر میں مہر مثل آئے گا۔ اب اس کی دلیل ذکر کرنے لگے ہیں، کہتے ہیں بھئی غیر معین شراب یا خنزیر جو ہے، غیر معین شراب یا خنزیر جو ہے اس میں جب عورت ان پر قبضہ کرے گی تو اسی وقت وہ مالکن بھی بنے گی، تو اگر دونوں مسلمان ہو چکے ہیں یا دونوں میں سے کوئی ایک مسلمان ہو چکا ہے تو اس صورت میں تملک یا تملیک لازم آئے گا۔ عورت مسلمان ہوئی ہے تو تملک خمر یا خنزیر لازم آئے گا کیونکہ جس وقت قبضہ کرے گی اسی وقت وہ مالکن بھی بنے گی، اور اگر خاوند مسلمان ہوا ہے تو اسی وقت گویا خاوند اس کو مالک بنا رہا ہے جب عورت قبضہ کر رہی ہے، تو اس وجہ سے وہاں پر قبضہ ممتنع ہے۔ غیر معین شراب یا خنزیر کو مہر مقرر کیا تھا اور اب خاوند وہ نہیں دے سکتا، کیوں نہیں دے سکتا؟ کیونکہ اسی وقت تملک یا تملیک لازم آئے گا اور یہ تو مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے بھئی۔ تو جب وہ نہیں دے سکتے تو پھر شراب میں قیمت دیں گے اور خنزیر میں مہر مثل دیں گے۔ تو کہتے ہیں: ”وَفِي غَيْرِ الْمُعَيَّنِ“ اور غیر معین شراب اور خنزیر کے اندر ”الْقَبْضُ مُوجِبٌ مِلْكَ الْعَيْنِ“ قبضہ جو ہے موجب یعنی مثبت، قبضہ جو ہے ثابت کرنے والا ہے ملک عین کو بھی۔ غیر معین کے اندر تو قبضہ کرو تب ہی ملک عین بھی حاصل ہوتی ہے، تو غیر معین کے اندر قبضہ جو ہے موجب ملک العین، وہ ملک عین کو ثابت کرنے والا ہے، ”فَيَمْتَنِعُ بِالْإِسْلَامِ“ تو یہ قبضہ ممتنع ہوگا اسلام کی وجہ سے، ”بِخِلَافِ الْمُشْتَرَى“ اس کو مُشتَرَیٰ پڑھیں بھئی اسم مفعول، بخلاف مشترٰی کے یعنی وہ چیز جس کو خریدا گیا ہے، بھئی ادھر دیکھیے! خریدی ہوئی چیز میں عقد کی وجہ سے یعنی عقد بیع کی وجہ سے صرف ملک عین آتی ہے اور قبضے کی وجہ سے ملک تصرف آتی ہے، تو مشترٰی اور مہر معین میں فرق آ گیا۔ مہر معین میں ملکیت بھی آ گئی اور تصرف بھی آ گیا، لیکن مشترٰی جو چیز خریدی ہے اس کے اندر عقد کی وجہ سے ملک عین تو آئی ہے لیکن ابھی تک جب تک قبضہ نہیں کیا ملک تصرف نہیں ہے، وہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ الْمُشْتَرَى لِأَنَّ مِلْكَ التَّصَرُّفِ إِنَّمَا يُسْتَفَادُ بِالْقَبْضِ“ اس لیے کیونکہ ملک تصرف جو ہے وہ حاصل ہوگی بالقبض قبضے سے، قبضے سے ملک تصرف آئے گی۔ ”وَإِذَا تَعَذَّرَ الْقَبْضُ فِي غَيْرِ الْمُعَيَّنِ“ اور جب غیر معین کے اندر قبضہ متعذر ہو گیا، غیر معین پر قبضہ نہیں کر سکتے ورنہ کیا خرابی لازم آئے گی؟ تملک یا تملیک کی خرابی لازم آئے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا تَعَذَّرَ الْقَبْضُ فِي غَيْرِ الْمُعَيَّنِ“ اور غیر معین شراب یا خنزیر کے اندر جب قبضہ متعذر ہو گیا، قبضہ ممکن نہ رہا، ”لَا تَجِبُ الْقِيمَةُ فِي الْخِنْزِيرِ“ تو خنزیر کے اندر قیمت واجب نہیں ہوگی ”لِأَنَّهُ مِنْ ذَوَاتِ الْقِيَمِ“ اس لیے کیونکہ خنزیر کس میں سے ہے؟ ذوات القیم میں سے۔ میں نے بتایا تھا، ذوات القیم کے اندر قیمت ہی دیتے ہیں اور قیمت دینا عین شے دینے کی طرح ہے، تو اگر غیر معین خنزیر میں ہم کہیں کہ خاوند کو قیمت دینا پڑے گی تو یہ تو گویا اسی طرح ہے گویا وہ عین خنزیر ہی دے رہا ہے۔ پھر ترجمہ دیکھیے: ”وَإِذَا تَعَذَّرَ الْقَبْضُ فِي غَيْرِ الْمُعَيَّنِ لَا تَجِبُ الْقِيمَةُ فِي الْخِنْزِيرِ لِأَنَّهُ مِنْ ذَوَاتِ الْقِيَمِ فَيَكُونُ أَخْذُ قِيمَتِهِ كَأَخْذِ عَيْنِهِ“ تو خنزیر کی قیمت کا لینا ایسے ہی ہوگا جیسے کہ عین خنزیر کا لینا، ”وَلَا كَذَلِكَ الْخَمْرُ“ لیکن شراب ایسی نہیں ہے ”لِأَنَّهَا مِنْ ذَوَاتِ الْأَمْثَالِ“ اس لیے کیونکہ شراب جو ہے وہ تو ذوات الامثال میں سے ہے مثلیات میں سے ہے، اور مثلیات کے اندر مثل دیا جاتا ہے لیکن شراب کا مثل تو شراب ہی بنے گی اور شراب تو ہم دے نہیں سکتے تو پھر وہاں پر قیمت دینا پڑے گی، اور مثلیات میں مثل آتا ہے قیمت نہیں آتی، جب قیمت دے رہے ہیں تو گویا آپ شراب کا بدل کوئی اور چیز دے رہے ہیں شراب نہیں دے رہے۔ ذوات القیم میں قیمت دیں تو گویا آپ وہی چیز دے رہے ہیں، لیکن مثلیات میں اگر آپ قیمت دیں گے تو وہی چیز نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا كَذَلِكَ الْخَمْرُ لِأَنَّهَا مِنْ ذَوَاتِ الْأَمْثَالِ، أَلَا تَرَى أَنَّهُ لَوْ جَاءَ بِالْقِيمَةِ قَبْلَ الْإِسْلَامِ تُجْبَرُ عَلَى الْقَبُولِ فِي الْخِنْزِيرِ دُونَ الْخَمْرِ“ بھئی صاحب ہدایہ امام صاحب کی تائید میں مسئلہ ذکر فرما رہے ہیں۔ ضابطہ یاد رکھو، ضابطہ یہ ہے کہ جب کسی شخص کو اس کا عین حق ادا کیا جائے تو وہ اس کے لینے سے انکار نہیں کر سکتا، اگر وہ انکار کرے گا تو قاضی اس کو جبراً وہ چیز لینے پر مجبور کر دے گا۔ چنانچہ صاحب ہدایہ فرماتے ہیں: اگر اسلام لانے سے پہلے ہی یہ خاوند وہ غیر معین خنزیر کی قیمت دینا چاہتا بیوی کو، خنزیروں پر نکاح کیا ہے اور مثلاً دس خنزیر ہیں اور وہ غیر معین ہیں، اور خنزیر کس میں سے؟ ذوات القیم میں سے ہے، اور ذوات القیم کے اندر قیمت دینا گویا عین شے کو دینا ہے۔ اب صورت یہ ہوئی کہ ابھی دونوں مسلمان نہیں ہوئے، غیر معین خنزیروں پر نکاح ہوا ہے، اب خاوند ان خنزیروں کی قیمت لا کر بیوی کو دیتا ہے، بیوی کہتی ہے نہیں نہیں میں پیسے نہیں لوں گی مجھے تو خنزیر ہی چاہئیں، تو قاضی مجبور کر سکتا ہے عورت کو کہ نہیں تمہیں یہ قیمت ہی لینا پڑے گی۔ اور قاضی تو کسی کو اسی وقت مجبور کر سکتا ہے جب وہ اس کا عین حق ہو، بدل کے لینے پر قاضی مجبور نہیں کر سکتا بھئی، عین حق لینے پر قاضی مجبور کر سکتا ہے، اور اس مسئلے کے اندر خاوند قیمت دے رہا ہو بیوی انکار کر رہی ہو تو قاضی اس عورت کو مجبور کر سکتا ہے کہ تمہیں یہ قیمت ہی لینا پڑے گی، معلوم ہوا ذوات القیم میں قیمت دینا عین اس شے ہی کا دینا ہے، اسی لیے تو قاضی اس کو مجبور کر سکتا ہے، اگر یہ اس کا بدل ہوتا تو قاضی اس کو مجبور نہیں کر سکتا تھا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”أَلَا تَرَى“ کیا آپ دیکھتے نہیں ”أَنَّهُ لَوْ جَاءَ بِالْقِيمَةِ قَبْلَ الْإِسْلَامِ“ کہ اگر وہ خاوند قیمت کو لے آتا اسلام لانے سے پہلے ”تُجْبَرُ عَلَى الْقَبُولِ فِي الْخِنْزِيرِ“ تو عورت کو مجبور کیا جاتا قبول کرنے پر خنزیر کی صورت میں ”دُونَ الْخَمْرِ“ نہ کہ خمر کی، خمر شراب کی صورت میں اگر خاوند قیمت لاتا تو قاضی عورت کو مجبور نہیں کر سکتا کیونکہ شراب مثلیات میں سے ہے اور مثلیات میں مثل دیا جاتا ہے، قیمت وہ عین شے نہیں ہے بلکہ وہ بدل ہے بھئی، تو بدل پر قاضی مجبور نہیں کر سکتا۔ ”وَلَوْ طَلَّقَهَا قَبْلَ الدُّخُولِ بِهَا“ اور اگر خاوند نے اس عورت کو طلاق دے دی صحبت کرنے سے پہلے، توجہ ہے؟ تو ان صورتوں میں اگر عورت کو خاوند طلاق دیتا ہے قبل الدخول بها اس کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے ہی، ”فَمَنْ أَوْجَبَ مَهْرَ الْمِثْلِ أَوْجَبَ الْمُتْعَةَ وَمَنْ أَوْجَبَ الْقِيمَةَ أَوْجَبَ نِصْفَهَا“ تو جنہوں نے مہر مثل کو واجب قرار دیا ہے وہ کہتے ہیں کہ متعۃ الطلاق دینا پڑے گا یعنی تین کپڑے، کیونکہ جس نکاح کے اندر مہر مثل آتا ہے وہاں اگر صحبت سے پہلے طلاق دے دی جائے تو خاوند کو کیا دینا پڑتا ہے؟ متعہ دینا پڑتا ہے تو یہاں بھی متعہ ہی دینا پڑے گا، اور جنہوں نے قیمت واجب کی تھی، جنہوں نے قیمت واجب کی تھی ان کے نزدیک نصف قیمت دینا پڑے گی کیونکہ جب مقررہ مہر میں صحبت سے پہلے خاوند طلاق دے تو نصف مہر دینا پڑتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ طَلَّقَهَا قَبْلَ الدُّخُولِ بِهَا فَمَنْ أَوْجَبَ مَهْرَ الْمِثْلِ“ تو جس نے مہر مثل کو واجب کیا ہے، ان ائمہ میں سے جس نے مہر مثل کو واجب کیا ہے ”أَوْجَبَ الْمُتْعَةَ“ وہ متعہ واجب کرتے ہیں ”وَمَنْ أَوْجَبَ الْقِيمَةَ“ اور جنہوں نے قیمت کو واجب کیا ہے ”أَوْجَبَ نِصْفَهَا“ انہوں نے نصف قیمت کو واجب کیا ہے، جب خاوند صحبت سے پہلے طلاق دے۔ ”بَابُ نِكَاحِ الرَّقِيقِ“ رقیق غلام کو کہتے ہیں بھئی، مفرد پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے اور جمع پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ ”بَابُ نِكَاحِ الرَّقِيقِ“ یہ باب ہے غلاموں کے نکاح کے بیان میں، ”لَا يَجُوزُ نِكَاحُ الْعَبْدِ وَالْأَمَةِ إِلَّا بِإِذْنِ مَوْلَاهُمَا“ غلام اور باندی کا نکاح جائز نہیں ہے ”إِلَّا بِإِذْنِ مَوْلَاهُمَا“ مگر ان دونوں کے آقا کی اجازت سے۔ یاد رکھو غلام اور باندی کا نکاح کوئی اور کروائے تو وہ نکاح آقا کی اجازت پر موقوف ہے، اور اگر یہ خود کریں گے تو بھی آقا کی اجازت پر وہ نکاح موقوف ہے۔ ”وَقَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللّٰهُ يَجُوزُ لِلْعَبْدِ“ اور امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں غلام کے لیے جائز ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں غلام اپنی مرضی سے جہاں چاہے نکاح کر سکتا ہے۔ یہ اختلاف پہلے بھی گزرا تھا، ہمارے نزدیک آزاد آدمی چار نکاح کر سکتا ہے بیک وقت بھئی، یعنی چار عورتیں زیادہ سے زیادہ اپنے نکاح میں رکھ سکتا ہے آزاد آدمی، جبکہ غلام جو ہے زیادہ سے زیادہ دو عورتوں کو ایک وقت میں اپنے نکاح میں رکھ سکتا ہے، اور وہاں پر بھی امام مالک رحمہ اللہ نے اختلاف کیا تھا وہ فرماتے ہیں جیسے آزاد آدمی چار نکاح کر سکتا ہے غلام بھی چار نکاح کر سکتا ہے۔ تو یہاں پر بھی وہ اختلاف کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں غلام اپنی مرضی سے نکاح کر سکتا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہ جو غلام کو نکاح کی اجازت دی ہے شریعت نے، یہ آدمی ہونے کی حیثیت سے ہے۔ یہ آدمی ہونے کی حیثیت سے شریعت نے اس کو اجازت دی ہے نکاح کی کیونکہ غلام جو ہے وہ بھی ایک انسان ہے بھئی، کیا ہے؟ غلام بھی ایک انسان ہے ایک آدمی ہے، اور آقا جو غلام کا مالک ہوتا ہے یہ آدمی ہونے کی حیثیت سے اس کا مالک نہیں ہے بلکہ اس حیثیت سے اس کا مالک ہے کہ یہ مال ہے، غلام کو کیا شمار کیا جاتا ہے؟ مال، تو آقا مال ہونے کے اعتبار سے اس کا مالک ہے، اور یہ جو شریعت نے اس کو نکاح کا حق دیا ہے یہ آدمی ہونے کے اعتبار سے دیا ہے، اور آدمی ہونے کے اعتبار سے تو آقا اس کا مالک نہیں، جب اس حیثیت سے آقا اس کا مالک نہیں تو آدمی ہونے کی حیثیت سے جو جو اختیارات شریعت نے دیے ہیں وہ غلام ان میں آزاد ہے بھئی۔ تو لہٰذا غلام چار نکاح بھی کر سکتا ہے اور غلام جو ہے آقا کی اجازت کے بغیر بھی نکاح کر سکتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللّٰهُ يَجُوزُ لِلْعَبْدِ“ اور امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں غلام کے لیے جائز ہے ”لِأَنَّهُ يَمْلِكُ الطَّلَاقَ فَيَمْلِكُ النِّكَاحَ“ اس لیے کیونکہ غلام جو ہے وہ طلاق کا مالک ہوتا ہے تو وہ نکاح کا بھی مالک ہوگا... جو طلاق کا مالک ہوتا ہے تو وہ نکاح کا بھی مالک ہوگا۔ ان کا ضابطہ ہے بھئی کہ جو طلاق کا مالک ہوتا ہے وہ نکاح کا بھی مالک ہوتا ہے۔ اور بالاتفاق ہے احناف آپ کے نزدیک بھی غلام اپنی بیوی کو طلاق دے سکتا ہے، وہ طلاق کا مالک ہے۔ جب طلاق کا مالک ہے تو نکاح کا بھی مالک ہوگا۔ کیونکہ طلاق کس چیز کا نام ہے؟ ازالۂ نکاح کا، نکاح کو ختم کرنا۔ جب نکاح کا ختم کرنا اس کے اختیار میں ہے تو وجودِ نکاح بھی اس کے اختیار میں ہوگا بھئی، بات سمجھ میں آگئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ يَمْلِكُ الطَّلَاقَ فَيَمْلِكُ النِّكَاحَ“ اس لیے کیونکہ غلام طلاق کا مالک ہوتا ہے ”فَيَمْلِكُ النِّكَاحَ“ تو وہ نکاح کا بھی مالک ہوگا۔ اور یاد رکھو یہ اختلاف وہ صرف غلام میں کرتے ہیں، غلام اپنی مرضی سے نکاح کر سکتا ہے، اسے آقا سے اجازت لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ البتہ باندی کے اندر وہ بھی فرماتے ہیں باندی بالاتفاق باندی آقا کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں کر سکتی۔ وجہ یہ کہ آقا کے لیے باندی سے صحبت جائز ہوتی ہے، معلوم ہوا باندی کے منافع کا مالک آقا ہے، تو باندی ان منافع کا مالک کسی اور کو نہیں بنا سکتی آقا کی اجازت کے بغیر۔ آگے دیکھیے: ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے ”قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ حضور علیہ السلام کا قول ہے، آپ نے فرمایا: ”أَيُّمَا عَبْدٍ تَزَوَّجَ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَهُوَ عَاهِرٌ“ جس غلام نے بھی اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کیا ”فَهُوَ عَاهِرٌ“ تو وہ زنا کرنے والا ہے، وہ زناکار ہے بھئی۔ عَاہِر کہتے ہیں زناکار کو، تو ”فَهُوَ عَاهِرٌ“ تو وہ زناکار ہے، اس سے معلوم ہوا غلام آقا کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں کر سکتا۔ ”وَلِأَنَّ فِي تَنْفِيذِ نِكَاحِهِمَا“ اب عقلی دلیل بھی پیش کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ، نقلی دلیل بھی ذکر کر دی کہ حدیث میں آیا ہے، اور اب عقل بھی یہی کہتی ہے، قیاس بھی یہی تقاضا کرتا ہے کہ غلام کو نکاح کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ وجہ یہ کہ یاد رکھو کہ یہ جو غلام اور باندیاں ہیں ان کے اندر نکاح عیب شمار ہوتا ہے۔ تاجروں کے ہاں یہ عیب شمار ہوتا ہے، چنانچہ اس کی وجہ سے ان کی قیمت کم ہو جاتی ہے، تو تاجروں کے ہاں غلام اور باندیوں میں نکاح عیب شمار ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ فِي تَنْفِيذِ نِكَاحِهِمَا تَعْيِيبَهُمَا“ اس لیے کہ ان دونوں کے نکاح کو نافذ کرنے میں ”تَعْيِيبَهُمَا“ ان دونوں کو عیب دار بنانا ہے۔ عَیَّبَ یُعَیِّبُ تَعْیِیْب کا کیا معنی؟ عیب دار بنانا۔ تو ”وَلِأَنَّ فِي تَنْفِيذِ نِكَاحِهِمَا“ اس لیے کیونکہ ان دونوں کے نکاح کے نافذ کرنے میں ”تَعْيِيبَهُمَا“ ان دونوں کو عیب دار بنانا ہے ”إِذِ النِّكَاحُ عَيْبٌ فِيهِمَا“ اس لیے کیونکہ نکاح جو ہے ان دونوں میں عیب ہے، نکاح ان میں عیب شمار ہوتا ہے۔ چنانچہ علماء فرماتے ہیں اگر ایک شخص نے ایک غلام یا باندی کو خرید لیا اور بعد میں اس کو پتہ چلا کہ یہ تو شادی شدہ ہیں، پہلے اس کو پتہ ہی نہیں تھا، اور غلام اور باندیوں میں تو نکاح عیب شمار ہوتا ہے، اور مشتری جو ہے عیب کی وجہ سے مبیعہ واپس کر سکتا ہے، تو یہاں پر بھی یہ جو مشتری ہے یہ اس عیب کی وجہ سے اس غلام یا باندی کو واپس کر سکتا ہے۔ یہ معنی ہے ”إِذِ النِّكَاحُ عَيْبٌ فِيهِمَا“ اس لیے کیونکہ نکاح جو ہے ان دونوں میں عیب ہے ”فَلَا يَمْلِكَانِهِ بِدُونِ إِذْنِ مَوْلَاهُمَا“ لہٰذا یہ دونوں اس کے مالک نہیں ہیں آقا کی اجازت کے بغیر۔ غلام یا باندی کے اندر جو نکاح ہے یہ تاجروں کے ہاں عیب شمار ہوتا ہے، اس کی وجہ سے اس غلام یا باندی کی قیمت کم ہو جاتی ہے، لہٰذا غلام یا باندی کو نکاح کرنے کی یعنی آقا کے مال میں عیب پیدا کرنے کی اجازت نہیں ہوگی بھئی، آقا کی اجازت کے بغیر یہ دونوں اس نکاح کے مالک نہیں ہیں بھئی۔ ”وَكَذَلِكَ الْمُكَاتَبُ“ اور اسی طرح مکاتب بھی ہے، بھئی دیکھو ایک عام غلام ہے، ایک ہے مکاتب، ایک ہے مدبر، ایک ہے ام ولد۔ مکاتب وہ غلام جسے آقا نے عقدِ کتابت کر لیا ہو۔ کتابت کا معنی لکھنا نہیں ہے یہاں بلکہ کتابت اس عقد کا نام ہے، عقدِ کتابت یہ ہے کہ آقا اپنے غلام سے کہتا ہے کہ مثلاً تم دو سال کے اندر اگر بیس لاکھ روپے مجھے ادا کر دو تو تم میری طرف سے آزاد ہو۔ غلام اس عقد کو قبول کر لیتا ہے، تو یہ جو آقا اور غلام کے درمیان عقد ہوا اس کو عقدِ کتابت کہتے ہیں۔ اور یاد رکھو یہ جو مکاتب ہوتا ہے یہ آزاد آدمی کی طرح ہو جاتا ہے، یعنی آقا اس سے جبراً خدمت نہیں لے سکتا، یہ اب جائے گا، جا کر پیسے کمائے گا اور ادائیگی کر کے اپنے آپ کو آزاد کروائے گا، تو آقا اس سے جبراً خدمت نہیں لے سکتا، یہ خود خدمت کرنا چاہے وہ اس کی مرضی ہے لیکن یہ اب آزاد آدمی کی طرح ہو چکا ہے عقدِ کتابت کے بعد۔ اور نیز یاد رکھنا یہ جو مکاتب ہوتا ہے آقا اس کو آگے بیچ بھی نہیں سکتا۔ جب تک ان دونوں کے درمیان عقدِ کتابت ہے، آقا اس غلام کو آگے نہیں بیچ سکتا۔ وجہ یہ کیونکہ اب یہ غلام اپنی آزادی کے لیے کوشش کر رہا ہے اور اگر کسی اور کو بیچے گا تو اس بیچارے غلام کا حقِ آزادی ضائع ہو جائے گا، لہٰذا یہ جب تک عقدِ کتابت ہے آقا اس کو آگے نہیں بیچ سکتا۔ اور پھر اس میں یہ بھی یاد رکھنا، مثلاً دو سال میں بیس لاکھ روپے ادا کرنے ہیں تو ہر مہینے غلام جو ہے مقررہ پیسے لا کر ادا کرتا رہے گا یہاں تک کہ بیس لاکھ پورے ہو جائیں۔ تو اگر غلام پیسوں کی ادائیگی سے عاجز آ گیا، ایک دو مہینے وہ قسطیں نہ دے سکا، تو آقا قاضی کے پاس جا کر مقدمہ کر سکتا ہے اور قاضی پھر ان دونوں میں عقدِ کتابت کو فسخ کروا دے گا کہ معلوم ہوا غلام ادائیگی نہیں کر سکتا، لہٰذا عقدِ کتابت فسخ ہو جائے گا اور یہ غلام پھر عام غلام کی طرح بن جائے گا۔ یا وہ غلام خود ہی دو چار مہینے اس نے محنت کی لیکن پیسے نہیں بن رہے، وہ خود ہی آقا کو آ کر کہتا ہے کہ میں عاجز آ گیا، مجھ سے یہ پیسے نہیں ہو سکتے، تو اس صورت میں بھی وہ عقدِ کتابت ختم ہو جائے گا اور یہ پھر عام غلام کی طرح بن جائے گا اور پھر آقا کے لیے اس کو بیچنا جائز ہو جائے گا، کیونکہ اب عقدِ کتابت باقی نہیں ہے بھئی۔ تو یہ ہے مکاتب۔ اور ایک ہوتا ہے مدبر بھئی۔ مدبر وہ غلام ہے جسے آقا نے کہہ دیا کہ میرے مرنے کے بعد تو آزاد ہے۔ یاد رکھو آقا کی زبان سے جیسے ہی یہ الفاظ ادا ہوئے، اب آزادی اس غلام کا حق بن گئی، اب آقا اپنے یہ الفاظ واپس نہیں لے سکتا، اور آزادی اس غلام کا حق بن گیا اور آقا کے مرنے کے بعد اس نے ہر حال میں آزاد ہونا ہے، لہٰذا آقا اس کو آگے نہیں بیچ سکتا۔ اسی طرح امِ ولد بھئی۔ امِ ولد وہ باندی ہے کہ جس نے ایک بچے کو جنم دیا اور آقا نے اقرار کر لیا کہ یہ میرا بچہ ہے، تو یہ باندی اس آقا کی امِ ولد بن گئی۔ جب تک آقا اقرار نہیں کرے گا اس بچے کا تب تک یہ امِ ولد نہیں، لیکن جب آقا اقرار کر لے گا اب یہ اس آقا کے بچے کی ماں بن گئی، امِ ولد بن گئی، اور آزادی اس کا بھی حق بن گیا، آقا کے مرنے کے بعد اب یہ عورت بھی آزاد ہو جائے گی بھئی۔ بھئی بتلا دیا انہوں نے اوپر کہ غلام اور باندی اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں کر سکتے، تو اب آگے بتائیں گے مکاتب کا کیا حکم ہے، مدبر کا کیا حکم ہے، امِ ولد کا کیا حکم ہے، ہر ایک کی تفصیل بیان کریں گے۔ کہتے ہیں: ”وَكَذَلِكَ الْمُكَاتَبُ“ اور اسی طرح مکاتب بھی ہے، وہ بھی اپنے آقا کی اجازت کے بغیر آگے نکاح نہیں کر سکتا ”لِأَنَّ الْكِتَابَةَ أَوْجَبَتْ فَكَّ الْحَجْرِ فِي حَقِّ الْكَسْبِ“ بھئی دیکھیے یہ جو غلام ہوتا ہے اس پر پابندیاں ہوتی ہیں، یہ کوئی تصرف بھی نہیں کر سکتا، یہ غلام پر پابندیاں ہوتی ہیں یہ کوئی تصرف نہیں کر سکتا، اب جب اس نے آقا سے عقدِ کتابت کر لیا تو کمائی کے معاملے میں اس پر سے پابندی ختم ہو گئی۔ یہ اب جا کر تجارت کر سکتا ہے، مال کما سکتا ہے، تو کمائی کے معاملے میں اس پر سے پابندی ختم ہوئی ہے، باقی معاملات میں ابھی بھی یہ غلام ہے، اس پر پابندیاں برقرار ہیں، اور انہی پابندیوں میں سے ایک نکاح کی پابندی بھی تھی، وہ بھی ابھی تک برقرار ہے، تو یہ آگے نکاح نہیں کر سکتا۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْكِتَابَةَ أَوْجَبَتْ فَكَّ الْحَجْرِ فِي حَقِّ الْكَسْبِ“ أَوْجَبَتْ، أَوْجَبَ يُوجِبُ کا یہاں معنی کریں گے أَثْبَتَتْ یعنی ثابت کرنا، ثابت کیا ”فَكَّ الْحَجْرِ“ فَكٌّ کا معنی ہے چھڑانا ”الْحَجْرِ“ حجر کہتے ہیں پابندی کو ”فِي حَقِّ الْكَسْبِ“ کسب کا معنی ہے کمائی ”لِأَنَّ الْكِتَابَةَ أَوْجَبَتْ“ اس لیے کیونکہ یہ عقدِ کتابت نے ثابت کر دیا ”فَكَّ الْحَجْرِ“ پابندیوں سے چھڑانا، پابندیوں کا ختم کرنا ”فِي حَقِّ الْكَسْبِ“ کمائی کے حق میں، یعنی یہ عقدِ کتابت نے صرف کمائی کے حق میں پابندی ختم کی ہے، اور چیزوں کے حق میں پابندی ختم نہیں، نکاح کے سلسلے میں ابھی بھی پابندی برقرار ہے، یہ آقا کی اجازت کے بغیر آگے نکاح نہیں کر سکتا۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْكِتَابَةَ أَوْجَبَتْ فَكَّ الْحَجْرِ“ اس لیے کیونکہ کتابت نے پابندی ختم کرنے کو ثابت کیا ہے ”فِي حَقِّ الْكَسْبِ“ کمائی کے حق میں ”فَبَقِيَ فِي حَقِّ النِّكَاحِ عَلَى حُكْمِ الرِّقِّ“ تو یہ غلام باقی رہے گا نکاح کے حق میں ”عَلَى حُكْمِ الرِّقِّ“ غلامی کے حکم پر۔ نکاح کے سلسلے میں یہ اسی طرح غلامی کے حکم پر ہے اور غلام تو اپنی مرضی سے نکاح نہیں کر سکتا تو یہ بھی نہیں کر سکتا۔ ”وَلِهَذَا لَا يَمْلِكُ الْمُكَاتَبُ تَزْوِيجَ عَبْدِهِ“ اور اسی لیے مکاتب مالک نہیں ہے کہ وہ نکاح کروائے اپنے غلام کا، بھئی دیکھیے مکاتب جائے گا، اب پیسے کما کر لائے گا اور اپنے آپ کو آزاد کروائے گا، اور اس مکاتب نے تجارت شروع کی، کچھ مال وغیرہ بڑھتا چلا گیا، اس نے غلاموں اور باندیوں کی تجارت شروع کر دی، تو اب یاد رکھو یہ مکاتب اپنے کسی غلام کا نکاح نہیں کروا سکتا۔ اس کو وہ کام کرنے کی تو اجازت ہے جن سے کمائی ہو، جن سے پیسہ حاصل ہو، یعنی یہ اپنی باندی کا نکاح کروا سکتا ہے کیونکہ باندی کا نکاح کروائے گا تو مہر حاصل ہوگا خاوند سے یا اسی طرح باندی کی آگے اولاد جو آئے گی باندی کے بچے جو ہیں وہ بھی غلام اور باندیاں شمار ہوں گے اس مکاتب کے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اولاد آزادی اور غلامی میں ماں کے تابع ہوتی ہے، ماں اگر آزاد عورت ہے تو اولاد بھی آزاد ہوگی اور اگر ماں باندی ہے تو اولاد بھی غلام اور باندیاں ہوں گے، خاوند بے شک آزاد ہی کیوں نہ ہو، لیکن ماں اگر باندی ہے تو اس کی اولاد بھی غلام اور باندیاں ہوں گے۔ تو مکاتب اپنی باندی کا نکاح تو کروا سکتا ہے کیونکہ یہ بھی کمائی کی صورت ہے کیونکہ باندی کا مہر ملے گا یا نیز جو باندی سے اولاد حاصل ہوگی وہ بھی غلام اور باندیاں ہوں گے بھئی، تو مکاتب اپنی باندی کا نکاح کروا سکتا ہے۔ لیکن مکاتب اپنے غلام کا نکاح نہیں کروا سکتا کیونکہ غلام کا نکاح کروائے گا، یہ تو غلام کے اندر نکاح عیب شمار ہوتا ہے، اس سے تو فائدے کے بجائے نقصان ہوگا بھئی، تو مکاتب کو اس کی اجازت نہیں ہوگی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِهَذَا لَا يَمْلِكُ الْمُكَاتَبُ“ اور اسی لیے مکاتب اس بات کا مالک نہیں ہے ”تَزْوِيجَ عَبْدِهِ“ کہ وہ نکاح کروائے اپنے غلام کا ”وَيَمْلِكُ تَزْوِيجَ أَمَتِهِ“ اور وہ مالک ہے اس بات کا کہ اپنی باندی کا نکاح کروائے ”لِأَنَّهُ مِنْ بَابِ الِاكْتِسَابِ“ اس لیے کیونکہ باندی کا نکاح کروانا یہ کمائی کے باب سے ہے کہ اس سے مہر بھی ملے گا اور اولاد بھی۔ ”وَكَذَا الْمُكَاتَبَةُ لَا تَمْلِكُ تَزْوِيجَ نَفْسِهَا“ اور اسی طرح مکاتبہ جو ہے وہ مالک نہیں ہے کہ اپنی ذات کا نکاح کروائے۔ مکاتبہ کسی سے نکاح کرنا چاہتی ہے؟ نہیں بھئی، مکاتبہ کے منافع کا مالک تو آقا ہے بھئی، مکاتبہ کے منافعِ بضع کا مالک کون ہے؟ آقا ہے، تو کسی اور کی ملکیت میں اس کو تصرف کرنے کا حق نہیں، یہ کسی اور سے نکاح کر کے اس کو اپنے منافع کا مالک نہیں بنا سکتی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا الْمُكَاتَبَةُ لَا تَمْلِكُ تَزْوِيجَ نَفْسِهَا بِدُونِ إِذْنِ الْمَوْلَى“ اور اسی طرح مکاتبہ وہ مالک نہیں ہے کہ اپنی ذات کا نکاح کروائے اپنے آقا کی اجازت کے بغیر ”وَتَمْلِكُ تَزْوِيجَ أَمَتِهَا“ ہاں یہ مکاتبہ مالکہ ہے کہ یہ اپنی باندی کا نکاح کروائے ”لِمَا بَيَّنَّا“ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا، کہ یہ مکاتبہ بھی اپنی باندی کا نکاح کرے گی تو کمائی ہوگی، مہر ملے گا اور بچے ہوئے تو وہ بھی غلام اور باندیاں ہوں گے۔ ”وَكَذَا الْمُدَبَّرُ وَأُمُّ الْوَلَدِ“ اور اسی طرح مدبر اور ام ولد بھی ہیں، یعنی مدبر بھی آقا کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں کر سکتا، ام ولد بھی آقا کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں کر سکتی ”لِأَنَّ الْمِلْكَ فِيهِمَا قَائِمٌ“ اس لیے کیونکہ ان دونوں کے اندر ملکیت قائم ہے، یہ دونوں کیا ہیں؟ ابھی تک مملوک ہیں آقا کے، لہٰذا یہ آقا کی اجازت کے بغیر آگے نکاح نہیں کر سکتے۔ ”وَإِذَا تَزَوَّجَ الْعَبْدُ بِإِذْنِ مَوْلَاهُ فَالْمَهْرُ دَيْنٌ فِي رَقَبَتِهِ يُبَاعُ فِيهِ“ صورتِ مسئلہ یہ: ایک غلام نے اپنے آقا کی اجازت سے نکاح کر لیا، تو اب اس غلام پر مہر آئے گا، بیوی کا مہر دینا پڑے گا۔ آزاد عورت ہوئی تو اس کا مہر ذرا زیادہ ہوگا اور اگر باندی سے نکاح کیا ہے تو اس کا مہر ذرا کم ہوگا، لیکن غلام کو مہر دینا پڑے گا۔ اب جب غلام پر دین آیا ہے تو آقا پر لازم ہے کیونکہ آقا کی اجازت سے اس نے نکاح کیا تھا، تو آقا کو اب یہ دین یعنی یہ مہر ادا کرنا پڑے گا۔ اگر آقا ادا نہیں کرتا تو پھر اس غلام کو بیچا جائے گا اور اس کو بیچ کر یہ مہر ادا کیا جائے گا، اور آقا آقا جو ہے مانع نہیں بن سکتا اس لیے کیونکہ آقا کی اجازت سے اس نے نکاح کیا ہے، آقا کی اجازت سے اس کے اوپر یہ دین آیا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا تَزَوَّجَ الْعَبْدُ بِإِذْنِ مَوْلَاهُ“ اور جب کسی غلام نے نکاح کر لیا اپنے آقا کی اجازت سے ”فَالْمَهْرُ دَيْنٌ فِي رَقَبَتِهِ“ تو یہ جو مہر ہے یہ دین ہے اس کی گردن میں، یعنی یہ غلام کے اوپر دین ہے ”يُبَاعُ فِيهِ“ اس دین میں اس غلام کو بیچا جائے گا ”لِأَنَّ هَذَا دَيْنٌ وَجَبَ فِي رَقَبَةِ الْعَبْدِ“ اس لیے کیونکہ یہ ایسا دین ہے جو واجب ہوا ہے غلام کی ذات میں ”لِوُجُودِ سَبَبِهِ مِنْ أَهْلِهِ“ اس لیے کیونکہ اس دین کا سبب پایا گیا ہے اس کے اہل سے ”لِوُجُودِ سَبَبِهِ“ اس لیے کیونکہ اس دین کا جو سبب ہے یعنی نکاح وہ پایا گیا ہے ”مِنْ أَهْلِهِ“ اس شخص سے جو اہل نکاح ہے یعنی عاقل اور بالغ ہے۔ عاقل اور بالغ ہے بھئی۔ دیکھو نکاح جو ہے نکاح کے اندر تو مال ضرور آتا ہے، مال کے بغیر تو نکاح نہیں ہو سکتا، تو اس نے بھی نکاح کیا ہے، یہ عاقل بالغ ہے، تو عاقل بالغ نے نکاح کیا ہے، دین کا سبب پایا گیا تو اس کے اوپر دین آ گیا، بات سمجھ میں آگئی۔ ”لِوُجُودِ سَبَبِهِ مِنْ أَهْلِهِ“ اس لیے کیونکہ اس دین کا سبب یعنی نکاح پایا گیا ہے ”مِنْ أَهْلِهِ“ یہ سبب کس کی طرف سے پایا گیا؟ ”مِنْ أَهْلِهِ“ جو اس کا اہل بھی ہے یعنی عاقل بالغ ہے۔ ”وَقَدْ ظَهَرَ فِي حَقِّ الْمَوْلَى“ اور تحقیق کہ یہ جو دین ہے یہ آقا کے حق میں بھی ظاہر ہے ”لِصُدُورِ الْإِذْنِ مِنْ جِهَتِهِ“ اس لیے کیونکہ اجازت پیش آئی تھی آقا کی طرف سے۔ اجازت تو آقا کی طرف سے آئی تھی تو یہ آقا کے حق میں بھی ظاہر ہے، آقا کے حق میں ظاہر ہے لہٰذا آقا کو یہ دین ادا کرنا پڑے گا، اس کی اجازت سے یہ دین غلام پر آیا ہے، اور اگر آقا ادا نہیں کرتا تو پھر اسی غلام کو بیچا جائے گا اور جو پیسے وصول ہوں گے اس کے ذریعے یہ مہر ادا کیا جائے گا اور اگر پیسے باقی بچ گئے تو وہ آقا کے حوالے کر دیے جائیں گے۔ تو دیکھا، غلام پر آنے والا دین آقا کے حق میں ظاہر ہو اس کا مطلب یہ ہے کہ یعنی آقا کی اجازت سے یہ دین آیا ہے، آقا سبب بنا ہے اس دین کے آنے کا، لہٰذا اس صورت میں پھر یہ دین آقا کو ادا کرنا ہوتا ہے۔ اگر آقا ادا نہیں کرے گا تو آقا ہی کے اس غلام کو بیچا جائے گا، دیکھو یہ غلام بھی تو آقا ہی کا مال ہے بھئی، لہٰذا اس غلام کو بیچا جائے گا اور اس کے ذریعے ادائیگی کی جائے گی، اگر سارا دین ادا ہو سکا تو سارا ادا کیا جائے گا اور اگر سارا ادا نہ ہو سکا تو جس قدر ادا ہو سکا وہ دین ادا کر دیا جائے گا، اور اگر ادائیگی کے بعد کچھ مال بچ جائے تو پھر وہ آقا کے حوالے کیا جائے گا۔ تو بات سمجھ میں آگئی، آقا کے حق میں دین کے ظاہر ہونے کا کیا معنی ہے؟ کہ آقا کے مال میں سے اس کی ادائیگی کی جائے گی، وہ خود ادا کر دے یا پھر اس کے اس غلام کو بیچ کر اس کو ادا کیا جائے گا بھئی۔ تو آقا کے حق میں دین کے ظاہر ہونے کا معنی سمجھ میں آگیا بھئی۔ اور اگر دین آقا کے حق میں ظاہر نہ ہو، مثلاً ایک غلام جو ہے اس نے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کر لیا، اور آپ جانتے ہیں کہ آقا کی اجازت کے بغیر غلام نکاح کر لے تو وہ آقا کی اجازت پر موقوف ہوتا ہے، آقا اجازت دے گا تو وہ نکاح نافذ ہوگا اور آقا اجازت نہیں دے گا تو وہ نکاح بھی نافذ نہیں ہوگا، تو غلام نے نکاح کر لیا ہے تو صرف اس نکاح کی وجہ سے غلام پر ابھی مہر واجب نہیں ہوا کیونکہ یہ نکاح ابھی نافذ ہی نہیں ہوا، لیکن اس غلام نے نکاح بھی کر لیا اور بیوی سے صحبت بھی کر لی بھئی، اب تو مہر پکا ہو گیا، اب تو غلام پر مہر آیا، لیکن یہ نکاح تو اس نے آقا کی اجازت سے نہیں کیا تھا، لہٰذا یہ دین آقا کے حق میں ظاہر نہیں، لہٰذا یہ نہ آقا سے وصول کیا جائے گا نہ آقا کے مال یعنی اس غلام کو بیچ کر وصول کیا جا سکتا ہے۔ آقا سے بھی نہیں وصول ہو سکتا اور اس غلام کو بھی نہیں بیچا جا سکتا کیونکہ یہ غلام تو آقا کا ہے بھئی، اس صورت میں تو آقا کا نقصان ہوگا، تو یہ دین آقا کے حق میں ظاہر نہیں ہے۔ تو اس صورت میں پھر اس غلام کو نہیں بیچا جائے گا، ہاں اس غلام کے ذمے یہ دین ہے، اور جب غلام آزاد ہو جائے گا تو پھر اس کے بعد اس غلام سے اس دین کا مطالبہ کیا جائے گا، اس مہر کا یہ جو اس نے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تھا اور صحبت کی تھی، تو اب اس غلام سے اس کی آزادی کے بعد پھر اس دین کا مطالبہ کیا جائے گا، اور پتہ نہیں یہ غلام زندگی بھر آزاد بھی ہوتا ہے یا نہیں، لیکن بہرحال اس وقت اس دین کی وصولی کی کوئی صورت نہیں ہے، یہ غلام کی آزادی کے بعد ہی وصول ہو سکتا ہے اگر غلام کبھی آزاد ہو گیا۔ بات سمجھ میں آگئی۔ ”فَيَتَعَلَّقُ بِرَقَبَتِهِ“ لہٰذا اس دین کا تعلق غلام کی ذات کے ساتھ ہوگا ”دَفْعًا لِلْمَضَرَّةِ عَنْ أَصْحَابِ الدُّيُونِ“ نقصان کو دور کرنے کے لیے قرض خواہوں سے ”كَمَا فِي دَيْنِ التِّجَارَةِ“ جیسے کہ دینِ تجارت میں ہوتا ہے۔ بھئی صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص نے اپنے غلام کو اجازت دے دی کہ تم تجارت کر سکتے ہو، تو اس کو کہتے ہیں عَبْدِ مَأْذُون لَہ، عبدِ ماذون لہ یعنی وہ غلام جس کو اجازت دی گئی ہے یعنی جس کو تجارت کی اجازت دی گئی ہے۔ تو غلام کو آقا نے اجازت دے دی، غلام ذرا ہوشیار تھا، آقا نے اس کو تجارت کی اجازت دے دی کہ یہ مال کما کر لائے گا۔ اس غلام نے تجارت شروع کی لیکن اتفاق ایسا ہوا اس کو پے در پے نقصانات ہوتے چلے گئے اور اس پر کافی قرضے چڑھ گئے۔ غلام کے اوپر کافی قرضے چڑھ گئے، اب اس کے اندر دیکھو، یہ تجارت غلام نے آقا کی اجازت سے شروع کی تھی، لہٰذا یہ قرضے اب آقا کے ذمے ہے کہ یہ قرضے ادا کرے، اگر آقا قرضے ادا نہیں کرتا تو پھر اس صورت میں اس غلام کو بیچنا پڑے گا بھئی، کیونکہ آقا کی اجازت سے اس نے یہ کام شروع کیا تھا، تو یہ قرضے آقا کے حق میں بھی ظاہر ہیں، تو غلام کو بیچا جائے گا اور پھر وہ قرضے جتنے ہو سکے ادا کیے جائیں گے۔ تو کہتے ہیں کہ قرضہ جو ہے غلام کی ذات سے متعلق ہوگا ”دَفْعًا لِلْمَضَرَّةِ عَنْ أَصْحَابِ الدُّيُونِ“ وہ جو قرض خواہ ہیں ان سے نقصان کو دور کرنے کے لیے، ورنہ تو اگر آقا بھی ادا نہیں کرتا، غلام کو بھی نہیں بیچا جاتا تو قرض خواہوں کا تو نقصان ہو رہا ہے، تو ان سے نقصان کو دور کرنے کے لیے غلام کو بیچا جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”دَفْعًا لِلْمَضَرَّةِ عَنْ أَصْحَابِ الدُّيُونِ“ نقصان کو دور کرنے کے لیے قرض خواہوں سے ”كَمَا فِي دَيْنِ التِّجَارَةِ“ جیسے کہ دینِ تجارت میں ہوتا ہے، دینِ تجارت کے اندر بھی غلام پر اگر قرضے آ جائیں تو ان کو غلام کو بیچنا پڑتا ہے الا یہ کہ آقا خود سارے قرضے ادا کر دے۔ ”وَالْمُدَبَّرُ وَالْمُكَاتَبُ يَسْعَيَانِ فِي الْمَهْرِ“ اور مدبر اور مکاتب جو ہیں وہ سعی کریں گے، کوشش کریں گے مہر میں۔ بھئی انہوں نے بتایا عام غلام ہے اس کے اوپر مہر آ گیا تو اس کو بیچا جائے گا، لیکن اگر وہ غلام مکاتب یا مدبر ہے، مکاتب جس سے آقا نے عقدِ کتابت کیا ہے اور مدبر وہ غلام جسے آقا نے کہا ہے میرے مرنے کے بعد تو آزاد ہے، تو اگر ان دو غلاموں میں سے کوئی نکاح کرتا ہے، اب اس کے اوپر بھی مہر آ گیا، ان کے اوپر بھی مہر آ گیا، تو کیا ان کو بھی بیچا جائے گا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، مکاتب اور مدبر کو بیچنا جائز نہیں ہے۔ جب بیچنا جائز نہیں ہے تو پھر یہ خود کوئی کام وغیرہ کریں گے، پیسے کمائیں گے اور وہ مہر ادا کریں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْمُدَبَّرُ وَالْمُكَاتَبُ يَسْعَيَانِ فِي الْمَهْرِ“ اور مدبر اور مکاتب جو ہیں وہ سعی کریں گے یعنی کوشش کریں گے مہر میں ”وَلَا يُبَاعَانِ فِيهِ“ اور ان کو اس دین میں بیچا نہیں جائے گا، اس مہر کے سلسلے میں ان کو نہیں بیچا جائے گا ”لِأَنَّهُمَا لَا يَحْتَمِلَانِ النَّقْلَ“ اس لیے کیونکہ یہ دونوں احتمال نہیں رکھتے، کس چیز کا؟ ”النَّقْلَ مِنْ مِلْكٍ إِلَى مِلْكٍ“ کہ ان کو منتقل کیا جائے ایک ملکیت سے دوسری ملکیت کی طرف ”مَعَ بَقَاءِ الْكِتَابَةِ وَالتَّدْبِيرِ“ کتابت اور تدبیر کے باقی ہوتے ہوئے۔ کتابت باقی ہے یعنی مکاتب بھی ہے اور ایک ملکیت سے دوسری ملکیت کی طرف منتقل ہو جائے، ان میں ایسا جائز نہیں، اسی طرح مدبر جو ہے کہ مدبر بھی ہو اور ایک ملکیت سے دوسری ملکیت کی طرف منتقل بھی کر دیا جائے، یہ جائز نہیں ہے بھئی۔ یہ معنی ہے، پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”لِأَنَّهُمَا لَا يَحْتَمِلَانِ النَّقْلَ مِنْ مِلْكٍ إِلَى مِلْكٍ“ اس لیے کیونکہ یہ دونوں احتمال نہیں رکھتے کہ ان کو منتقل کیا جائے ایک شخص کی ملکیت سے دوسرے شخص کی ملکیت کی طرف ”مَعَ بَقَاءِ الْكِتَابَةِ وَالتَّدْبِيرِ“ کتابت اور تدبیر کو باقی رکھتے ہوئے ”فَيُؤَدَّى مِنْ كَسْبِهِمَا“ لہٰذا یہ مہر ادا کیا جائے گا ان دونوں کی کمائی میں سے ”لَا مِنْ نَفْسِهِمَا“ ان کی ذات میں سے نہیں، یعنی ان کو بیچ کر نہیں ادا کیا جائے گا کیونکہ بیچنا جائز نہیں، ہاں ان کی کمائی سے ادا کیا جائے گا۔ ”وَإِذَا تَزَوَّجَ الْعَبْدُ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوْلَاهُ“ اور جب غلام نے نکاح کر لیا اپنے آقا کی اجازت کے بغیر ”فَقَالَ الْمَوْلَى طَلِّقْهَا أَوْ فَارِقْهَا فَلَيْسَ هَذَا بِإِجَازَةٍ“ تو آقا نے غلام سے کہا: ”طَلِّقْهَا“ اس عورت کو طلاق دے دے ”أَوْ فَارِقْهَا“ یا اس عورت سے جدائی اختیار کر لے ”فَلَيْسَ هَذَا بِإِجَازَةٍ“ تو یہ اجازت نہیں ہے۔ صورتِ مسئلہ یہ: غلام نے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کر لیا، اور آقا کو آ کر بتلایا یا آقا کو پتہ چلا تو آقا نے کہا: ”طَلِّقْهَا“ اس عورت کو طلاق دے دے، یا ”فَارِقْهَا“ اس عورت سے جدائی اختیار کر لے، تو کیا اس کو اجازت شمار کریں گے؟ بھئی دیکھیے نا اس میں اجازت کا بھی احتمال ہے اور رد کا بھی احتمال ہے۔ یا تو آقا کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ میں اس نکاح کو رد کرتا ہوں، میں کیا کرتا ہوں؟ اس نکاح کو رد کرتا ہوں، اس کی اجازت ہی نہیں دیتا میں۔ اور دوسرا احتمال یہ بھی ہے کہ آقا کہہ رہا ہے طلاق دے دے، اور طلاق تو نکاح کے بعد آیا کرتی ہے، معلوم ہوا وہ نکاح کی اجازت دے رہا ہے کہ نکاح تو کر لیا ٹھیک ہے لیکن اب کیا کرو؟ طلاق دے دو۔ تو کیا اس کو اجازت شمار کریں گے یا اس کو رد شمار کریں گے کہ آقا نے نکاح کو رد کر دیا؟ اور آپ نے پڑھا ہے آقا جب نکاح کو رد کرے گا تو وہ نکاح باطل ہوا جو غلام نے کیا تھا، وہ باطل ہو گیا کیونکہ آقا کی اجازت پر موقوف تھا نا۔ تو معلوم ہوا غلام نے خود نکاح کیا اور آ کر آقا کو بتلایا، آقا نے کیا کہا؟ ”طَلِّقْهَا أَوْ فَارِقْهَا“ تو اس کو کس پر محمول کریں گے؟ رد پر محمول کریں گے، اجازت پر محمول نہیں کریں گے، بات سمجھ میں آگئی۔ کہتے ہیں: ”وَإِذَا تَزَوَّجَ الْعَبْدُ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوْلَاهُ“ جب کسی غلام نے نکاح کر لیا اپنے آقا کی اجازت کے بغیر ”فَقَالَ الْمَوْلَى“ تو اس کے آقا نے اس سے کہا ”طَلِّقْهَا“ اس عورت کو طلاق دے دے ”أَوْ فَارِقْهَا“ یا اس سے جدا ہو جا ”فَلَيْسَ هَذَا بِإِجَازَةٍ“ تو یہ اجازت نہیں ہے ”لِأَنَّهُ يَحْتَمِلُ الرَّدَّ“ کیونکہ اس کے اندر رد کا بھی احتمال ہے کہ آقا اجازت نہیں دے رہا بلکہ نکاح کو رد کر رہا ہے، اجازت کا بھی احتمال، رد کا بھی، دونوں احتمال ہیں، لیکن ہم نے رد پر محمول کیا بھئی۔ بھئی کیوں، جب احتمال دونوں ہے تو رد پر کیوں محمول کیا؟ ”طَلِّقْهَا“ کا معنی یہ بھی تو ہو سکتا تھا کہ نکاح ہو گیا ہے ٹھیک ہے لیکن اب کیا کرو؟ طلاق دے دو، یا ”فَارِقْهَا“ کا یہ معنی بھی تو کر سکتے تھے کہ ہاں ٹھیک ہے، نکاح تو تم نے کر لیا لیکن اب اس عورت سے جدا ہو جاؤ۔ تو اجازت پر بھی تو محمول کر سکتے تھے؟ کہتے ہیں ہاں احتمال دونوں ہیں لیکن یہ مسئلہ ہے نافرمان غلام کا، اس نے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کیا ہے، لہٰذا ایک نافرمان غلام کی حالت کے لائق یہی ہے کہ اس کو رد پر محمول کیا جائے، اجازت پر محمول نہ کیا جائے۔ بھئی دیکھو نا، اگر آقا رد کر دے گا تو وہ نکاح ہوا ہی نہیں، وہ عورت اس کی بیوی ہی نہیں کیونکہ آقا نے نکاح ہی رد کر دیا، اور اگر آپ اس کو اجازت پر محمول کریں گے گویا آقا نے یہ کہا ٹھیک ہے نکاح تو کر لیا ہے لیکن اب اس کو طلاق دے دے، تو غلام اگر طلاق نہیں دیتا، بیوی تو اس کے لیے حلال ہے جب تک بھئی، توجہ ہے؟ تو اس میں دونوں احتمال ہے رد کا بھی اور اجازت کا بھی، لیکن یہ ایک نافرمان غلام کا معاملہ ہے اور نافرمان غلام کے لائق زیادہ یہی ہے کہ اس کو اجازت پر محمول نہ کیا جائے اگرچہ اجازت کا بھی احتمال ہے، بلکہ اس کو رد پر محمول کیا جائے، اور نیز اس لیے نیز اس لیے کیونکہ رد آسان ہے اور اگر آپ اس کو اجازت اور پھر طلاق پر محمول کرتے ہیں تو وہ آسان نہیں، وجہ یہ دیکھو، اگر ہم اس کو رد پر محمول کریں گے کہ آقا نے نکاح کو ہی رد کر دیا، معلوم ہوا نکاح سرے سے آیا ہی نہیں یہاں پر، وہ جو موقوف نکاح منعقد ہوا تھا وہ نافذ ہی نہیں ہوا، باطل ہو گیا، توجہ ہے؟ تو رد کی صورت میں ایک چیز صرف دفع کرنا لازم آ رہا ہے، ایک نکاح آ رہا ہے آقا اس کو کیا کر رہا ہے؟ دفع کر رہا ہے۔ اور اگر آپ اس کو اجازت پر محمول کریں تو پھر اس صورت کے اندر ایک چیز کو پہلے ثابت ماننا پڑے گا اور پھر اس کے بعد آقا اس سے جدائی کا حکم دے رہا ہے، تو یوں کہو کہ رد کی صورت میں صرف دفعِ نکاح ہے، نکاح کو آنے ہی نہیں دیا، دفع کر دیا آقا نے، دور کر دیا۔ اور اجازت پر محمول کریں تو پھر یہاں رفعِ نکاح پر محمول کرنا پڑے گا کہ پہلے نکاح مانو، پھر طلاق وغیرہ کے ذریعے اس کو اٹھا دو، ختم کر دو، تو گویا دو چیزیں آ جائیں گی، تو رفع کے بجائے دفع پر محمول کرنا زیادہ آسان ہے کیونکہ دفع میں صرف دور کرنا ہے اور رفع کے اندر پہلے باقاعدہ نکاح کو ماننا اور پھر اس کے رفع کا حکم دینا ہے، دو چیزیں آ رہی ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”فَلَيْسَ هَذَا بِإِجَازَةٍ“ تو آقا کا ”طَلِّقْهَا“ یا ”فَارِقْهَا“ کہنا اجازت نہیں ہے ”لِأَنَّهُ يَحْتَمِلُ الرَّدَّ“ کیونکہ آقا کا یہ قول جو ہے رد کا احتمال رکھتا ہے ”لِأَنَّ رَدَّ هَذَا الْعَقْدِ وَمُتَارَكَتَهُ يُسَمَّى طَلَاقًا وَمُفَارَقَةً“ اس لیے کیونکہ اس عقد کو رد کرنا ”وَمُتَارَكَتَهُ“ اور اس کو چھوڑ دینا، متارکت کہتے ہیں باہم ایک دوسرے کو چھوڑ دینا ”وَمُتَارَكَتَهُ“ اور اس کو چھوڑ دینا ”يُسَمَّى طَلَاقًا وَمُفَارَقَةً“ اس کو بھی طلاق اور مفارقت کہتے ہیں۔ آقا نے بے شک طلاق کا لفظ استعمال کیا ہے لیکن اس قسم کے نکاح کے رد کو بھی کیا کہہ دیا جاتا ہے؟ طلاق کہہ دیا جاتا ہے، بات سمجھ میں آگئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ رَدَّ هَذَا الْعَقْدِ وَمُتَارَكَتَهُ يُسَمَّى طَلَاقًا وَمُفَارَقَةً“ اس لیے کیونکہ اس عقد کو رد کرنا اور اس کو چھوڑنا ”يُسَمَّى طَلَاقًا وَمُفَارَقَةً“ اس کو بھی طلاق اور مفارقت کہہ دیتے ہیں ”وَهُوَ أَلْيَقُ بِحَالِ الْعَبْدِ الْمُتَمَرِّدِ“ متمرد کہتے ہیں نافرمان اور سرکش بھئی، عبدِ متمرد نافرمان غلام ”وَهُوَ أَلْيَقُ بِحَالِ الْعَبْدِ الْمُتَمَرِّدِ“ اور یہ زیادہ مناسب ہے نافرمان غلام کی حالت کے کہ اس کو اجازت پر محمول نہ کیا جائے بلکہ رد پر محمول کیا جائے ”أَوْ هُوَ أَدْنَى“ یا یہ ادنیٰ ہے، ”طَلِّقْهَا“ یا ”فَارِقْهَا“ ایک صورت یہ ہے اس کو رد پر محمول کریں یعنی نکاح کو آنے ہی نہیں دیا اس کو دفع کر دیا، اور ایک یہ ہے کہ اس کو کہ آقا نے اجازت دے دی نکاح کی اور اس کے بعد چھوڑنے کا حکم دے رہا ہے یعنی اس کو رفعِ نکاح پر محمول کر لیا جائے، اور دفع آسان ہے کس کے مقابلے میں؟ یوں کہو، دفعِ نکاح آسان ہے رفعِ نکاح کے مقابلے میں، دفع میں صرف ایک چیز ہے اور رفع کے اندر پہلے نکاح کو ماننا پڑے گا پھر اس کا رفع ہوگا تو وہاں دو چیزیں ہیں، تو ادنیٰ کیا ہے؟ دفع، اور اعلیٰ کیا ہے؟ رفع، تو اس کو ادنیٰ پر محمول کیا جائے گا کیونکہ وہ آسان ہے بھئی۔ کہتے ہیں: ”أَوْ هُوَ أَدْنَى“ یا اس لیے کہ یہ جو دفع ہے یہ ادنیٰ ہے، یہ رد جو ہے یہ ادنیٰ ہے ”فَكَانَ الْحَمْلُ عَلَيْهِ أَوْلَى“ تو اس پر محمول کرنا اولیٰ ہوگا، بہتر ہوگا۔ ”وَإِنْ قَالَ طَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً“ اچھا، اس کے بجائے اگر آقا نے یوں کہا، غلام نے آ کر کہا جی میں نے تو نکاح کر لیا ہے، آقا نے اس سے کہا: ”طَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً تَمْلِكُ الرَّجْعَةَ“ اس کو ایسی طلاق دو جس میں تم رجوع کر سکو، تو یہ پھر اجازت ہے، یہ تو اجازت کیونکہ آقا اس کو طلاقِ رجعی دینے کا حکم دے رہا ہے اور طلاقِ رجعی تو نکاح کے بعد آیا کرتی ہے، معلوم ہوا آقا نکاح کی اجازت دے رہا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ قَالَ“ اور اگر آقا نے کہا ”طَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً تَمْلِكُ الرَّجْعَةَ“ کہ تو اس کو ایسی طلاق دے دے کہ تو رجوع کا مالک ہو ”فَهَذَا إِجَازَةٌ“ تو یہ پھر آقا کی طرف سے اجازت ہے ”لِأَنَّ الطَّلَاقَ الرَّجْعِيَّ لَا يَكُونُ إِلَّا فِي نِكَاحٍ صَحِيحٍ“ اس لیے کیونکہ طلاقِ رجعی تو نہیں ہوتی مگر صرف نکاحِ صحیح میں ہی ”فَتَتَعَيَّنُ الْإِجَازَةُ“ تو اس صورت میں پھر اجازت متعین ہوگی۔ بات سمجھ میں آگئی، چلیے بس بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی، حل ہو گیا، چلیے بس بھئی۔ هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
160 approved lectures · 36 of 160