Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-044

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 15 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 70
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اگے سبق دیکھیے بھئی: بَابُ الْقَسْمِ وَإِذَا كَانَ لِرَجُلٍ امْرَأَتَانِ حُرَّتَانِ فَعَلَيْهِ أَنْ يَعْدِلَ بَيْنَهُمَا فِي الْقَسْمِ بِكْرَيْنِ كَانَتَا أَوْ ثَيِّبَيْنِ أَوْ إِحْدَاهُمَا بِكْرًا وَالْأُخْرَى ثَيِّبًا، لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ”مَنْ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ وَمَالَ إِلَى إِحْدَاهُمَا فِي الْقَسْمِ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَشِقُّهُ مَائِلٌ“، وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا: ”أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ كَانَ يَعْدِلُ فِي الْقَسْمِ بَيْنَ نِسَائِهِ، وَكَانَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ هَذَا قَسْمِي فِيمَا أَمْلِكُ فَلَا تُؤَاخِذْنِي فِيمَا لَا أَمْلِكُ“. گزشتہ سبق میں آپ نے مسئلہ پڑھا تھا کہ اگر میاں بیوی میں سے کوئی ایک مسلمان ہو کر دار الحرب سے دار الاسلام آ گیا یعنی اس کا اب یہیں رہنے کا ارادہ ہے، تو اس صورت میں خود بخود ان دونوں کے درمیان جدائی واقع ہو جائے گی۔ اس لیے کیونکہ عند الاحناف تباین دار حقیقتاً بھی ہو اور حکماً بھی ہو تو اس سے جدائی آ جاتی ہے۔ تباین دار حقیقتاً ہونے کا معنی یہ ہے کہ میاں بیوی دونوں الگ الگ ملک میں ہیں۔ تو یہ دیکھو یہ تباین دار ہے حقیقتاً، حقیقتاً دونوں الگ الگ ملک میں ہیں۔ اور نیز تباین دار حکماً کا معنی یہ ہے کہ وہ پھر وہیں پر رہنے کا ارادہ کر لے اور واپسی کا ارادہ چھوڑ دے، واپسی کا ارادہ نہ ہو بھئی، تو اب حکم بھی یہی لگایا جائے گا کہ تباین دار ہے یہاں پر۔ تو تباین دار حقیقتاً بھی ہو گیا اور تباین دار حکماً بھی۔ تو جب بھی تباین دار حقیقتاً اور حکماً پایا جائے گا تو اس سے میاں بیوی کے درمیان جدائی آ جائے گی۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تباین دار یہ جدائی کا سبب نہیں ہے۔ اس لیے کیونکہ حربی بھی امان لے کر یہاں آتے ہیں اور پھر واپس چلے جاتے ہیں اور اسی طرح مسلمان بھی امان لے کر دار الحرب جاتے ہیں اور پھر واپس آ جاتے ہیں اور ان کے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ تو وہ فرماتے ہیں معلوم ہوا تباین دار سے جدائی نہیں آتی، ہاں دار کی وجہ سے صرف ولایت منقطع ہو جاتی ہے، یعنی انسان اپنی جان اور مال کا مالک نہیں رہتا، تو صرف ولایت منقطع ہوتی ہے اور نکاح پر اثر نہیں پڑتا۔ بلکہ جدائی جو آتی ہے وہ قیدی بنانے کی وجہ سے آتی ہے۔ اس لیے کیونکہ قیدی بنانا یہ تقاضا کرتا ہے کہ وہ جو قیدی ہے اس کو خالص ہونا چاہیے قید کرنے والے کے لیے، اور قید کرنے والے کے لیے وہ قیدی خالص تب ہی ہو سکتا ہے جب اس میں کسی کا حق نہ ہو حتیٰ کہ خاوند کا بھی حق نہ ہو، اس کا نکاح ٹوٹ چکا ہو، نکاح منقطع ہو چکا ہو، پھر اس کے اندر خاوند کا حق نہیں ہے، تو اب یہ خالص قید کرنے والے کے لیے ہو گیا۔ اور اسی وجہ سے وہ فرماتے ہیں کہ جب کسی کو قیدی بنایا جاتا ہے تو اس حربی کے ذمے اگر کوئی دیون بھی تھے تو وہ بھی سارے ساقط ہو جاتے ہیں، کیونکہ اگر دیون اس کے ذمے ہوں گے تو پھر تو وہ خالص قید کرنے والے کے لیے نہ ہو گا بھئی بلکہ اس میں تو قرض خواہوں کا بھی حق آ جائے گا۔ تو ان کے نزدیک قیدی بنانا یہ علت ہے جدائی کی، جبکہ ہمارے نزدیک تباین دار حقیقتاً اور حکماً ہو یہ علت ہے جدائی کی۔ تو ہم جواب دیتے ہیں کہ یہ جو تباین دار ہے حقیقتاً اور حکماً، اس کی وجہ سے نکاح کی مصلحتوں کا انتظام نہیں ہو سکتا۔ نکاح کی کیا مصلحتیں ہیں؟ کہ اس کی وجہ سے ایک نیا گھر آباد ہوتا ہے اور نیز کسرِ شہوت ہوتی ہے یعنی شہوت کا بھی علاج ہو جاتا ہے اور نیز اس سے اولاد حاصل ہوتی ہے، اولاد کی تربیت کرنا پڑتی ہے، تدبیرِ منزل کرنا پڑتی ہے یعنی گھر کا انتظام چلانا پڑتا ہے اور اسی طرح انسان کو جہاد بالنفس کا زیادہ موقع ملتا ہے، تو یہ سب نکاح کے مقاصد ہیں۔ اور جب میاں بیوی دونوں کا دار الگ الگ ہے حقیقتاً بھی اور حکماً بھی تو اب نکاح کی مصلحتیں حاصل نہیں ہو سکتیں۔ معلوم ہوا تباین دار حقیقتاً اور حکماً ہو تو یہ منافیِ نکاح ہے۔ نکاح تو اپنی ذات کی وجہ سے نہیں مشروع، نکاح تو اپنی مقاصد کے لیے مشروع ہے اور وہ مقاصد یہاں حاصل نہیں ہو سکتے۔ تو معلوم ہوا تباین دار حقیقتاً بھی ہو اور حکماً بھی ہو تو یہ منافیِ نکاح ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے محرمیت، محرم ہونا یہ نکاح کے منافی ہے۔ تو اسی طرح جیسے محرم ہونا نکاح کے منافی ہے، تباین دار حقیقتاً اور حکماً وہ بھی نکاح کے منافی ہے۔ لہٰذا اس کی وجہ سے جدائی آ جائے گی، جیسے محرمیت کی وجہ سے جدائی آ جاتی ہے اسی طرح تباین دار حقیقتاً اور حکماً کی وجہ سے بھی جدائی آ جائے گی۔ تو ہم کہتے ہیں کہ یہ تباین دار سے جدائی آئے گی اور جو قیدی بنانا، قیدی بنانا یہ تو اس کی وجہ سے تو ملکِ رقبہ حاصل ہوتی ہے، انسان اس قیدی کی ذات کا مالک بن جاتا ہے، اس کا وہ غلام یا باندی بن جائے گا، اس سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اس لیے کیونکہ ملکِ رقبہ کے ہوتے ہوئے آقا اپنے غلام یا باندی کا نکاح کروا سکتا ہے۔ معلوم ہوا ملکِ رقبہ ابتداءً نکاح کے منافی نہیں ہے تو پھر یہ بقاءً نکاح کے بھی منافی نہیں ہو گا بھئی۔ تو یہ قیدی بنانا خریدنے کی طرح ہے اور غلام یا باندی کو خریدا جائے اور ان کا نکاح ہو چکا ہو تو اس سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اور نیز آپ نے کہا کہ وہ جو قیدی ہے وہ خالص قید کرنے والے کے لیے ہونا چاہیے، تو اس کا جواب ہم دیتے ہیں کہ ہاں، قیدی بنانے سے وہ خالص ہو جائے گا قید کرنے والے کے لیے لیکن مال ہونے کے اعتبار سے، ملکِ نکاح کے اعتبار سے نہیں۔ کیونکہ یہ قیدی بنانا یہ مال ہونے کے اعتبار سے اس میں اثر کرے گا اور وہ مال یعنی وہ غلام یا باندی خالص اس کے لیے ہو جائے گا قید کرنے والے کے لیے، اس میں کسی اور کا حق نہیں رہے گا لیکن ملکِ نکاح کے اندر قیدی بنانا اثر نہیں کرتا جیسے غلام یا باندی کو خریدنا یہ ملکِ نکاح میں کوئی اثر نہیں کرتا بھئی۔ اور باقی امام شافعی رحمہ اللہ نے مستأمن کا مسئلہ ذکر فرمایا تھا کہ مستأمن پر قیاس کیا تھا کہ دیکھو مستأمن ایک دار سے دوسرے دار میں جاتا ہے اور اس کے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا، تو تباین دار ہے لیکن نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا، تو ہم جواب دیتے ہیں کہ وہاں اس کا واپسی کا ارادہ ہوتا ہے تو تباین دار حقیقتاً تو ہوا لیکن حکماً نہ ہوا لہٰذا اس لیے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ پھر اس کے بعد مسئلہ ذکر کیا صاحبِ ہدایہ نے، اگر کوئی عورت دار الحرب سے ہجرت کر کے دار الاسلام آ جائے تو جدائی تو واقع ہو جائے گی، یہ تو بتلا دیا۔ لیکن کیا اس عورت پر عدت بھی واجب ہو گی یا نہیں؟ تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ اس عورت پر عدت واجب نہیں ہے، یہ فوراً آگے نکاح کر سکتی ہے، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں نہیں، اس عورت پر عدت واجب ہو گی کیونکہ یہ دار الاسلام میں آئی ہے، یہاں آ کر جدائی واقع ہوئی ہے تو اب اس پر اسلامی احکام لازم ہیں تو اب اس کو عدت گزارنا پڑے گی۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ جو عدت ہوتی ہے یہ ماقبل کے نکاح کا اثر ہوتا ہے، ماقبل میں جو نکاح تھا اس کے احترام کو ظاہر کرنے کے لیے، اس کی عزت کو ظاہر کرنے کے لیے شریعت نے عورت پر عدت واجب کی ہے، لیکن حربی کی ملکیت کا تو کوئی احترام نہیں ہے۔ یہ عورت مسلمان ہو کر یہاں آئی ہے یا ذمیہ یہاں آئی ہے تو کس کے نکاح میں تھی؟ حربی کے نکاح میں تھی اور حربی کی ملکِ نکاح کا تو کوئی احترام نہیں ہے، لہٰذا ان پر عدت واجب نہیں ہو گی کیونکہ یہ عدت ویسے نہیں واجب ہوتی، ماقبل کے نکاح کے احترام اور عزت کے طور پر واجب ہوتی ہے اور حربی کے ملکِ نکاح کی تو کوئی عزت اور احترام نہیں ہے بھئی۔ اور پھر یہ مسئلہ بھی آپ کو بتلایا تھا کہ اگر یہ عورت حاملہ ہو تو پھر آگے نکاح نہیں کر سکتی۔ اس لیے کیونکہ یہ حمل ثابت النسب ہے۔ یہ اسی حربی کا بچہ شمار ہو گا۔ تو جب یہ حمل ثابت النسب ہے، جب ثبوتِ نسب کے اعتبار سے یہ عورت فراش ہے تو منعِ نکاح کے اعتبار سے بھی اس کو فراش شمار کیا جائے گا بطورِ احتیاط کے بھئی، ورنہ تو اجتماع بین الفراشین لازم آئے گا کہ ایک عورت دو مردوں کی فراش ہو جائے گی اور ایک عورت تو دو مردوں کا فراش نہیں ہو سکتی۔ پھر اس کے بعد مسئلہ ذکر فرمایا تھا کہ اگر میاں بیوی میں سے کوئی ایک مرتد ہو جائے تو اس صورت کے اندر بھی نکاح ٹوٹ جائے گا، ان میں جدائی آ جائے گی اور یہ فسخِ نکاح ہے شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر مرد مرتد ہوا ہے تو پھر یہ طلاق کے حکم میں ہے کیونکہ جدائی خاوند کی طرف سے آئی ہے۔ تو امام محمد رحمہ اللہ اس ارتدادِ خاوند کو اعتبار کرتے ہیں اباء خاوند پر۔ خاوند جیسے اسلام سے انکار کرتا ہے تو وہ اس کی وجہ سے جو جدائی آتی ہے اس کو طلاق شمار کیا جاتا ہے تو یہ خاوند کے ارتداد کی وجہ سے جو جدائی آئی ہے اس کو بھی طلاق شمار کیا جائے گا۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ دونوں جگہ فرماتے ہیں کہ چاہے جدائی خاوند کے انکار کی وجہ سے آئے یا خاوند کے ارتداد کی وجہ سے آئے، ہر حال میں یہ فسخِ نکاح ہے، اس لیے کیونکہ اس میں میاں بیوی دونوں کا دخل ہے۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ اباء عن الاسلام کی صورت میں تو خاوند کی طرف سے جدائی آئے تو وہ طلاق کے حکم میں ہے کیونکہ اسلام سے انکار یہ نکاح کے منافی نہیں ہے۔ بیوی مسلمان ہو گئی ہے خاوند اسلام سے انکار کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود جدائی نہیں آئی یہاں تک کہ قاضی ان میں جدائی کروا دے بھئی۔ معلوم ہوا اباء عن الانکار کے باوجود نکاح رہ سکتا ہے، وہ نکاح کے منافی نہیں، جبکہ مرتد ہونا یہ تو نکاح کے منافی ہے بھئی۔ مرتد جو ہے اس کی عصمت ختم ہو جاتی ہے، وہ نہ اپنی جان کا مالک رہا نہ اپنے مال کا مالک رہا، جب وہ اپنی کسی چیز کا مالک نہ رہا تو ملکیتِ نکاح کا بھی مالک نہ رہا تو وہ ملکیت بھی ختم ہو گئی۔ تو ارتداد کیا ہے؟ نکاح کے منافی ہے۔ لہٰذا اس کو یہاں پر طلاق قرار نہیں دیا جا سکتا، اس لیے کیونکہ ارتداد کے ساتھ ثبوتِ نکاح ہی نہیں ہو سکتا۔ اور طلاق، وہ تو رفعِ نکاح کا نام ہے، پہلے نکاح کا ثبوت تو ہو پھر اس کا رفع بھی ہو سکتا ہے، جبکہ ارتداد کے ساتھ تو نکاح کا ثبوت ہی نہیں ہو سکتا تو رفعِ نکاح کا کیا معنی بھئی؟ ارتداد کے ساتھ رفعِ نکاح کا کیا معنی ہے؟ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا ارتداد کو رفعِ نکاح یعنی طلاق قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تو طلاق جو ہے وہ رفعِ نکاح کا نام ہے اور ارتداد جو ہے وہ نکاح کے منافی ہے، ارتداد کے ساتھ نکاح کا ثبوت ہی نہیں ہو سکتا، تو اس ارتداد کو ہم طلاق قرار نہیں دے سکتے کیونکہ طلاق کس چیز کا نام ہے؟ رفعِ نکاح۔ بھئی آپ ارتداد کو کیسے رفعِ نکاح قرار دے سکتے ہیں جبکہ ارتداد تو نکاح کے منافی ہے؟ ارتداد کے ساتھ تو نکاح کا ثبوت ہی نہیں ہو سکتا۔ جب نکاح کا ثبوت نہیں ہو سکتا تو رفعِ نکاح یعنی نکاح کو اٹھانا وہ کیسے ہو گا؟ رفعِ نکاح کے لیے پہلے نکاح کا ثبوت چاہیے، کیا چاہیے؟ ایک چیز کا ثبوت ہو پھر اس کو اٹھایا جائے، اور ارتداد تو کیا ہے؟ نکاح کے منافی ہے، اس کے ساتھ تو نکاح کا ثبوت ہی نہیں ہو سکتا، جب نکاح کا ثبوت نہیں ہو سکتا تو رفعِ نکاح کہاں سے ہو گا بھئی؟ توجہ ہے؟ پہلے ایک چیز کا ثبوت ہو سکے پھر اس کا رفع بھی ہو سکتا ہے، لیکن ارتداد کے ساتھ تو ثبوتِ نکاح نہیں۔ جب ثبوتِ نکاح نہیں تو رفعِ نکاح بھی اس کو قرار نہیں دیا جا سکتا، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو لہٰذا ارتداد کو رفعِ نکاح یعنی طلاق قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ مسئلہ بیان فرمایا تھا کہ اگر میاں بیوی دونوں اکٹھے مرتد ہوئے اور پھر اکٹھے مسلمان ہو گئے تو یہ اپنے نکاح پر برقرار رہیں گے اور یہ حکم استحساناً ہے، ورنہ قیاس تو یہی تقاضا کرتا ہے کہ دونوں جیسے ہی مرتد ہوئے نکاح ٹوٹ جانا چاہیے، کیونکہ جب ایک کے مرتد ہونے سے نکاح فسخ ہوتا تھا تو دو کے مرتد ہونے سے بطریقِ اولیٰ نکاح کو فسخ ہونا چاہیے۔ لیکن استحساناً یہ حکم لگایا گیا کہ یہ اپنے نکاح پر باقی رہیں گے۔ کب؟ جب یہ دونوں اکٹھے مرتد ہوئے اور پھر اکٹھے مسلمان ہو گئے تو اب یہ اپنے نکاح پر باقی ہیں۔ اور دلیل جو ہے وہ بنو حنیفہ کا واقعہ ہے بھئی، بنو حنیفہ عرب کا ایک قبیلہ تھا حضور علیہ السلام کی وفات کے بعد یہ مرتد ہو گئے تھے، انہوں نے زکوٰۃ کی ادائیگی کا انکار کر دیا تھا، تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کی طرف لشکر بھیجے اور یہ پھر دوبارہ مسلمان ہو گئے بھئی، اور صحابہ نے ان کو تجدیدِ نکاح کا حکم نہیں دیا۔ تو یہ واقعہ سب صحابہ کے سامنے ہوا لیکن صحابہ نے ان کو تجدیدِ نکاح کا حکم نہیں دیا، تو معلوم ہوا اس پر صحابہ کا اجماع ہو گیا کہ اگر میاں بیوی اکٹھے مرتد ہوں اور پھر اکٹھے مسلمان ہوں تو ان کو تجدیدِ نکاح کا حکم نہیں دیا جائے گا، وہ اپنے نکاح پر برقرار ہیں۔ تو معلوم ہوا کہ میاں بیوی اکٹھے مرتد ہوئے اور پھر اکٹھے مسلمان ہوئے، اس کی دلیل اجماعِ صحابہ ہے۔ کیا ہے؟ اجماعِ صحابہ، اور اجماعِ صحابہ کو یہاں وہ استحسان قرار دے رہے ہیں۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا بھئی استحسان کسے کہتے ہیں؟ استحسان وہ متفق علیہ دلیل ہے کہ جس کے مقابلے میں قیاس آ رہا ہو۔ جیسے قرآن ہے اس کے مقابلے میں اگر قیاس آ رہا ہے تو ترجیح قرآن کو ہے البتہ اس کو پھر استحسان کہیں گے۔ حدیث کے مقابلے میں قیاس آ جائے تو ترجیح حدیث کو ہے، حدیث پر عمل کیا جائے گا، لیکن اس دلیل کو اب کیا کہیں گے اس حدیث کو؟ استحسان کہیں گے کیونکہ اس کے مقابلے میں قیاس موجود ہے۔ اسی طرح یہاں پر دیکھو اجماع ہے ایک طرف صحابہ کا اور ایک طرف قیاس ہے۔ قیاس تقاضا کرتا ہے کہ ایک کے مرتد ہونے سے نکاح فاسد ہوتا ہے تو دونوں کے مرتد ہونے سے بطریقِ اولیٰ نکاح فاسد ہونا چاہیے۔ تو ایک طرف قیاس ہے اور ایک طرف اجماعِ صحابہ ہے، اور اجماعِ صحابہ کو یہ کیا قرار دے رہے ہیں؟ استحسان۔ معلوم ہوا استحسان وہ متفق علیہ دلیل چاہے قرآن ہو، چاہے حدیث ہو، چاہے اجماع ہو، اس کو کہتے ہیں جب اس کے مقابلے میں قیاس آ رہا ہو۔ اور میں نے بتایا زیادہ تر استحسان کا اطلاق قیاسِ خفی پر ہوتا ہے۔ ایک قیاسِ جلی ہوتا ہے جس میں بات گہری نہیں ہوتی، ظاہر ہوتی ہے، عقل فوراً اس تک پہنچ جاتی ہے، اور ایک قیاسِ خفی ہوتا ہے جس میں غور و فکر کرنا پڑتا ہے پھر عقل وہاں تک پہنچتی ہے۔ تو یاد رکھو قیاسِ خفی کو بھی استحسان تب کہیں گے جب اس کے مقابلے میں قیاسِ جلی آ رہا ہو۔ اگر قیاسِ جلی مقابلے میں نہیں تو پھر قیاسِ خفی جتنا بھی گہرا ہو اس کو قیاس ہی کہتے ہیں استحسان نہیں کہتے۔ تو بہرحال ذکر یہاں یہ کرنا تھا کہ دیکھو یہاں اجماعِ صحابہ کو استحسان قرار دیا جا رہا ہے، یعنی ایک متفق علیہ دلیل کو، بات سمجھ میں آ گئی۔ پھر یہاں صاحبِ ہدایہ پر اشکال ہوا کہ ارتداد تو ان کی طرف سے ایک ہی وقت میں نہیں ہوا ہو گا، کوئی پہلے مرتد ہوا ہے کوئی بعد میں، تو ہو سکتا ہے خاوند پہلے مرتد ہوا ہو بیوی بعد میں مرتد ہوئی ہو، لیکن آپ کیا ذکر کر رہے ہیں کہ ان کا ارتداد بھی اکٹھا تھا اور ان کا مسلمان ہونا بھی اکٹھا تھا، تو صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ جب تاریخ مجہول ہو، تقدیم و تاخیر کا پتہ نہ چل سکے تو پھر اس کو اکٹھا ہی شمار کیا جاتا ہے۔ اور پھر یہ بھی مسئلہ ذکر کیا، اگر دونوں مرتد ہوئے اور پھر دونوں میں سے ایک مسلمان ہوتا ہے تو اس صورت میں بھی فوراً نکاح ٹوٹ جائے گا، نکاح فسخ ہو جائے گا، بات سمجھ میں آ گئی؟ کیونکہ جیسے ارتداد منافیِ نکاح ہے اسی طرح اصرار علی الارتداد یہ بھی کیا ہے؟ منافیِ نکاح۔ تو جب دونوں مرتد ہوئے ہیں اور ایک مسلمان ہو گیا تو معلوم ہوا دوسرا ارتداد پر اصرار کر رہا ہے، اور جیسے ارتداد منافیِ نکاح ہے اسی طرح اصرار علی الارتداد جو ہے یہ بھی منافیِ نکاح ہے یعنی ارتداد پر جمے رہنا، اس سے بھی نکاح فوراً فاسد ہو جائے گا، بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر: ”بَابُ الْقَسْمِ“ قسم یہ مصدر ہے بمعنی تقسیم کے، کسی چیز کو تقسیم کرنا۔ اور یہاں اس سے مراد یہ ہے کہ بیویوں کے درمیان جو راتوں کی تقسیم ہے اس میں برابری ہونی چاہیے، اس کو بیان کیا جائے گا۔ تو یہاں قسم سے کیا مراد ہے؟ بیویوں کے درمیان راتوں کی تقسیم جو ہے۔ یاد رکھو، اگر کسی شخص کی ایک سے زیادہ بیویاں ہیں تو ان کے درمیان برابری کرنا اس شخص پر لازم ہے بھئی۔ یعنی اگر ایک رات ایک بیوی کے پاس گزارتا ہے تو اسی طرح ایک رات دوسری بیوی کے پاس گزارے، اور اگر دو راتیں ایک بیوی کے پاس گزارتا ہے تو دوسری کے پاس بھی دو راتیں گزارے، اگر ایک بیوی کے پاس تین راتیں گزارتا ہے تو دوسری کے پاس بھی تین گزارنا پڑیں گی، یہ عدل اور یہ برابری اس پر لازم ہے بھئی۔ اور یہ مسئلہ بھی یاد رکھنا کہ رات کے اندر برابری ضروری ہے، دن میں برابری ضروری نہیں۔ دن میں اگر ایک بیوی کے پاس زیادہ وقت گزارتا ہے اور دوسری کے پاس کم وقت گزارتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن رات میں برابری ضروری ہے۔ چنانچہ اگر ایک بیوی کے پاس مغرب کے بعد آیا ہے تو دوسری کے پاس بھی مغرب کے بعد ہی آنا چاہیے، اگر عشاء کے بعد آیا ہے دوسری بیوی کے پاس تو یہ اس نے برابری نہیں کی بھئی۔ اور پھر یہ بھی یاد رکھنا کہ راتیں گزارنے میں برابری ضروری ہے، جتنی راتیں ایک عورت کے پاس اتنی ہی دوسری کے پاس، تو اس طرح باری باری دونوں کے پاس راتیں گزارے گا اور یہ سلسلہ اسی طرح چلے گا بھئی۔ لیکن یہ راتیں گزارنے میں برابری ضروری ہے، صحبت کے اندر برابری ضروری نہیں۔ صحبت میں برابری ضروری نہیں کہ ایک بیوی سے جتنی صحبت کی ہے اتنی ہی صحبت دوسری سے کرے، یہ برابری ضروری نہیں، لیکن ہاں ایسا بھی نہ کرے کہ ایک بیوی سے تو صحبت کرتا ہے اور دوسری کو بالکل ہی ویسے چھوڑ دیا، یہ بھی صحیح نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”بَابُ الْقَسْمِ“، یہ باب ہے تقسیم کے بیان میں یعنی بیویوں کے درمیان راتوں کی تقسیم کے بارے میں۔ ”وَإِذَا كَانَ لِرَجُلٍ امْرَأَتَانِ حُرَّتَانِ“ اور جب کسی شخص کی دو آزاد بیویاں ہوں، آزاد کی قید لگائی، اس لیے کیونکہ آگے یہ آپ کو بتلائیں گے اگر ایک بیوی آزاد ہے اور ایک باندی ہے تو پھر باندی کا حق نصف ہے، یعنی باندی کے پاس اگر ایک رات گزارتا ہے تو آزاد بیوی کے پاس دو راتیں گزارنا پڑیں گی، کیونکہ باندی کے لیے احکام میں تنصیف ہے، جیسے آزاد عورت کی تین طلاقیں ہیں تو باندی کی دو طلاقیں ہیں، آزاد عورت کی عدت تین حیض ہیں تو باندی کی عدت دو حیض ہیں، تو باندی کے لیے تنصیف ہوتی ہے، اس کے حق میں کمی ہو گی، تو اگر باندی کے پاس ایک رات گزاری ہے تو آزاد عورت کے پاس دو راتیں گزارے گا، تو اسی لیے کہا یہاں پر کہ وہ دونوں آزاد ہوں تو پھر برابری ہو گی ایک رات ایک کے پاس تو دوسری رات دوسری کے پاس۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا كَانَ لِرَجُلٍ امْرَأَتَانِ حُرَّتَانِ“ جب کسی شخص کی دو آزاد بیویاں ہوں ”فَعَلَيْهِ أَنْ يَعْدِلَ بَيْنَهُمَا فِي الْقَسْمِ“ تو اس شخص پر لازم ہے کہ وہ عدل کرے، انصاف کرے ان دونوں کے درمیان ”فِي الْقَسْمِ“ تقسیم کے اندر یعنی راتوں کی تقسیم میں ان میں برابری کرے۔ ”بِكْرَيْنِ كَانَتَا أَوْ ثَيِّبَيْنِ“ وہ دونوں چاہے باکرہ ہوں یا دونوں ثیبہ ہوں ”أَوْ إِحْدَاهُمَا بِكْرًا وَالْأُخْرَى ثَيِّبًا“ یا دونوں میں سے ایک باکرہ ہو اور ایک ثیبہ ہو، یعنی جس وقت نکاح کیا تھا تو اس وقت چاہے دونوں باکرہ تھیں یا چاہے دونوں ثیبہ تھیں یا ایک سے جب نکاح کیا تھا تو وہ باکرہ تھی اور ایک سے جب نکاح کیا تھا تو وہ ثیبہ تھی، جو بھی صورت ہو بہرحال ان میں تقسیم کے اندر برابری کرنا پڑے گی۔ ایسا نہیں ہے کہ باکرہ کا حق زیادہ ہو گا اور ثیبہ کا حق کم ہو گا، نہیں، سب میں برابری کرنا پڑے گی۔ تو یہ معنی ہے کہ ان میں برابری کرنا پڑے گی ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کی وجہ سے کہ آپ نے فرمایا: ”مَنْ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ“ کہ جس شخص کی دو بیویاں ہوں ”وَمَالَ إِلَى إِحْدَاهُمَا فِي الْقَسْمِ“ اور وہ شخص مائل ہو گیا ان دونوں میں سے کسی ایک کی طرف تقسیم میں، کسی ایک کی طرف مائل ہو گیا یعنی زیادہ راتیں اس کے پاس گزارتا ہے اور دوسری کے پاس کم راتیں گزارتا ہے، تو ایسا شخص ”جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“ قیامت کے دن آئے گا ”وَشِقُّهُ مَائِلٌ“ اور اس کا نصفِ بدن جو ہے مائل ٹیڑھا ہو گا یعنی مفلوج ہو گا۔ اس کا آدھا بدن کیا ہو گا؟ مفلوج ہو گا جو شخص، جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور ان کے درمیان وہ عدل اور انصاف کے ساتھ راتیں تقسیم نہیں کرتا۔ آگے دیکھیے: ”وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا“ اور ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ”أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ كَانَ يَعْدِلُ فِي الْقَسْمِ بَيْنَ نِسَائِهِ“ کہ حضور علیہ السلام عدل فرماتے تھے اپنی بیویوں کے درمیان تقسیم کے اندر ”وَكَانَ يَقُولُ“ اور وہ فرماتے تھے: ”اللَّهُمَّ هَذَا قَسْمِي فِيمَا أَمْلِكُ“ کہ اے اللہ، یہ میری تقسیم ہے ”فِيمَا أَمْلِكُ“ اس چیز میں جس کا میں مالک ہوں، اے اللہ، یہ میری تقسیم ہے اس چیز میں جس کا میں مالک ہوں یعنی جو میرے اختیار میں ہے ”فَلَا تُؤَاخِذْنِي فِيمَا لَا أَمْلِكُ“ پس اے اللہ، آپ میرا مواخذہ نہ فرمائیے اس چیز میں جس کا میں مالک نہیں ہوں یعنی جو میرے اختیار میں نہیں ہے ”يَعْنِي زِيَادَةَ الْمَحَبَّةِ“ یعنی محبت کی زیادتی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ازواج میں سب سے زیادہ محبت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے تھی۔ تو حضور علیہ السلام اپنی تمام ازواج کے اندر راتوں کی تقسیم میں عدل فرماتے، برابری فرماتے تھے، لیکن محبت تو حضرت عائشہ صدیقہ سے زیادہ تھی، تو اللہ سے فرماتے کہ اے اللہ، جو میرے اختیار میں تھا راتوں کی تقسیم میں، میں نے عدل سے کام لیا ہے لیکن ایک چیز جو غیر اختیاری ہے کہ عائشہ سے مجھے زیادہ محبت ہے، تو جس چیز میں میرا اختیار نہیں اس پر میرا مواخذہ نہ فرمائیے۔ تو دیکھو حدیث یہاں تک ہے: ”فَلَا تُؤَاخِذْنِي فِيمَا لَا أَمْلِكُ“، آگے جو آیا ”يَعْنِي زِيَادَةَ الْمَحَبَّةِ“ یعنی محبت کی زیادتی، یہ راوی تفسیر کر رہے ہیں کہ حضور فرما رہے ہیں اے اللہ اس چیز پر جو میرے اختیار میں نہیں اس پر میرا مواخذہ نہ فرمائیں، یعنی یہ جو مجھے زیادہ محبت ہے عائشہ صدیقہ سے اس پر میرا مواخذہ نہ فرمائیں کیونکہ یہ میرے اختیار میں نہیں ہے۔ ”وَلَا فَصْلَ فِيمَا رَوَيْنَا“ اور کوئی فرق نہیں ہے اس حدیث کے اندر جس کو ہم نے روایت کیا، بھئی پہلی حدیث کیا آئی تھی؟ ”مَنْ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ وَمَالَ إِلَى إِحْدَاهُمَا فِي الْقَسْمِ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَشِقُّهُ مَائِلٌ“، جس کی دو بیویاں ہیں اور وہ ان میں سے کسی ایک کی طرف مائل ہو گیا یعنی انصاف نہیں کیا اس نے، تو قیامت کے دن وہ آئے گا اور اس کا نصفِ بدن ٹیڑھا ہو گا یعنی مفلوج ہو گا۔ تو دیکھو اس حدیث کے اندر کوئی فرق نہیں کیا گیا باکرہ اور ثیبہ کا، جس کی بھی دو بیویاں ہیں ان میں عدل ضروری ہے، یہاں کوئی فرق نہیں ہے باکرہ اور ثیبہ کا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو چاہے دونوں باکرہ ہوں، چاہے دونوں ثیبہ ہوں یا ایک باکرہ ایک ثیبہ ہو، ہر صورت کو یہ حدیث شامل ہے، سب میں عدل کرنا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا فَصْلَ فِيمَا رَوَيْنَا“ اور کوئی فرق نہیں ہے اس حدیث کے اندر جو ہم نے روایت کر دی ”وَالْقَدِيمَةُ وَالْجَدِيدَةُ سَوَاءٌ“ اور پرانی اور نئی برابر ہیں، ایک عورت ہے اس سے پہلے سے نکاح کیا ہوا تھا اور دوسری کے ساتھ اب نکاح کیا ہے تو بھی برابری ضروری ہے، یہ نہیں کہ اس سے تو میں نے ابھی نیا نیا نکاح کیا ہے لہٰذا زیادہ راتیں اس کے پاس گزارے، نہیں نہیں، برابری ضروری ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْقَدِيمَةُ وَالْجَدِيدَةُ سَوَاءٌ“ اور پرانی اور نئی بیوی جو ہیں سواء برابر ہیں ”لِإِطْلَاقِ مَا رَوَيْنَا“ بوجہ اس حدیث کے مطلق ہونے کے جس کو ہم نے روایت کر دیا، وہی جو پہلی حدیث، اس کے اندر نئی اور پرانی کا کوئی فرق نہیں ہے، دو عورتوں میں برابری ضروری ہے۔ ”وَلِأَنَّ الْقَسْمَ مِنْ حُقُوقِ النِّكَاحِ وَلَا تَفَاوُتَ بَيْنَهُنَّ فِي ذَلِكَ“ نقلی دلیل کے بعد اب عقلی دلیل صاحبِ ہدایہ ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ یہ جو راتوں کی تقسیم ہے یہ نکاح کے حقوق میں سے ہے، جیسے نفقہ نکاح کے حقوق میں سے ہے تو نفقہ سب عورتوں کو برابری کے ساتھ دیا جاتا ہے اسی طرح یہ راتیں بھی نکاح کے حقوق میں سے ہیں لہٰذا سب عورتوں میں اس کو برابری کے ساتھ تقسیم کرنا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الْقَسْمَ مِنْ حُقُوقِ النِّكَاحِ“ اور اس لیے کیونکہ یہ جو راتوں کی تقسیم ہے یہ نکاح کے حقوق میں سے ہے ”وَلَا تَفَاوُتَ بَيْنَهُنَّ فِي ذَلِكَ“ اور اس میں کوئی فرق نہیں ہے ان بیویوں کے بیچ میں، سب کو برابری کے ساتھ حق ملے گا۔ ”وَالِاخْتِيَارُ فِي مِقْدَارِ الدَّوْرِ إِلَى الزَّوْجِ“، ”وَالِاخْتِيَارُ فِي مِقْدَارِ الدَّوْرِ“، دور کہتے ہیں چکر لگانا، دار يدور دوراناً کا کیا معنی ہے؟ چکر لگانا، تو چکر لگانے میں خاوند کا اختیار ہے، یعنی چاہے تو وہ ہر عورت کے پاس ایک ایک رات گزارے، چاہے تو ہر عورت کے پاس دو دو راتیں گزارے، چاہے ہر عورت کے پاس تین تین راتیں گزارے، تو یہ جو دیکھو چکر چلے گا تین راتیں ایک بیوی کے پاس، تین دوسری کے پاس، پھر تین راتیں پہلی کے پاس، پھر تین راتیں دوسری کے پاس، تو یہ جو راتوں کی تقسیم کا چکر چل رہا ہے یہ خاوند کا اختیار ہے، وہ تقسیم جیسے مرضی کرے لیکن برابری ہونی چاہیے۔ اگر وہ ایک ایک رات گزارتا ہے تو بھی برابری، ایک رات ایک کے پاس ہے تو دوسری دوسری کے پاس، اگر وہ دو یا تین راتیں ایک کے پاس گزارنا چاہتا ہے تو دوسری کے پاس بھی دو یا تین راتیں اسی کے برابر گزارنا پڑیں گی، تو راتوں کی وہ تقسیم کیسے کرتا ہے یہ اس کی مرضی ہے لیکن برابری ہونی چاہیے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو یہ معنی ہے: ”وَالِاخْتِيَارُ فِي مِقْدَارِ الدَّوْرِ إِلَى الزَّوْجِ“ اور چکر لگانے کی مقدار کا جو اختیار ہے وہ خاوند کے سپرد ہے۔ لِأَنَّ الْمُسْتَحَقَّ هُوَ التَّسْوِيَةُ دُونَ طَرِيقِهَا، اس کو مستحق پڑھیں بھئی حا کے فتحہ کے ساتھ اور مستحق کا یہاں ترجمہ کریں واجب کے۔ کیا ترجمہ؟ واجب۔ تو مستحق کا ترجمہ واجب کے بھئی۔ کہتے ہیں لِأَنَّ الْمُسْتَحَقَّ هُوَ التَّسْوِيَةُ دُونَ طَرِيقِهَا، اس لیے کیونکہ واجب جو ہے هُوَ التَّسْوِيَةُ وہ برابری کرنا ہے دُونَ طَرِيقِهَا نہ کہ برابری کے طریقہ۔ برابری واجب ہے، برابری کا طریقہ وہ واجب خاوند پر نہیں، وہ اپنی مرضی سے جیسے بھی رکھے۔ چاہے ایک ایک رات رکھے، چاہے دو دو راتیں، چاہے تین تین راتیں رکھے، چاہے ایک کے بعد دس راتیں گزارتا ہے، دوسری کے بعد دس راتیں گزارے، وہ جس طرح بھی اس کی تقسیم کرنا چاہے وہ کر سکتا ہے۔ تو برابری واجب ہے، برابری کا طریقہ اس پر واجب نہیں، وہ اس کی اپنی مرضی ہے۔ تو یہ معنی ہے لِأَنَّ الْمُسْتَحَقَّ هُوَ التَّسْوِيَةُ اس لیے کیونکہ واجب جو ہے وہ برابری ہے دُونَ طَرِيقِهَا نہ کہ اس برابری کا طریقہ۔ وَالتَّسْوِيَةُ فِي الْبَيْتُوتَةِ لَا فِي الْمُجَامَعَةِ، اور نیز برابری جو ہے رات گزارنے میں ہوگی لَا فِي الْمُجَامَعَةِ صحبت کرنے میں نہیں۔ صحبت کرنے میں برابری ضروری نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں وَالتَّسْوِيَةُ فِي الْبَيْتُوتَةِ لَا فِي الْمُجَامَعَةِ اور برابری جو ہے رات گزارنے میں ہوگی نہ کہ صحبت میں، لِأَنَّهَا تَبْتَنِي عَلَى النَّشَاطِ اس لیے کیونکہ صحبت کی بنیاد جو ہے وہ نشاط پر ہوتی ہے۔ نشاط کہتے ہیں کہ انسان کی طبیعت خوشگوار ہو اور وہ ہشاش بشاش اور مستعد ہو۔ نشاط کسے کہتے ہیں؟ کہ انسان کی طبیعت خوشگوار ہو اور وہ ہشاش بشاش ہو، مستعد ہو، تو اس کو نشاط کہتے ہیں، اور یہ تو انسان کے اختیار میں نہیں ہے۔ طبیعت کا خوشگوار ہونا اور انسان کا ہشاش بشاش اور مستعد ہونا یہ تو اختیاری چیز نہیں ہے، لہٰذا اس پر خاوند کو مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ بات سمجھ میں آگئی۔ تو یہ معنی ہے لِأَنَّهَا تَبْتَنِي عَلَى النَّشَاطِ اس لیے کیونکہ صحبت کی بنیاد جو ہے نشاط پر ہے۔ وَإِنْ كَانَتْ إِحْدَاهُمَا حُرَّةً وَالْأُخْرَى أَمَةً، اب باندی کا حکم آگیا۔ اگر ایک عورت آزاد ہے اور ایک باندی ہے پھر کیسے تقسیم کریں گے؟ تو میں نے بتلا دیا کہ آزاد عورت کو باندی کے مقابلے میں دوگنا حق دیا جائے گا۔ باندی کے پاس ایک رات ہے تو آزاد عورت کے پاس دو راتیں۔ اگر باندی کے پاس دو راتیں ہیں تو آزاد عورت کے پاس اس سے دوگنی یعنی چار راتیں۔ باندی کے پاس اگر تین راتیں گزاری ہیں تو آزاد عورت کے پاس دوگنی یعنی چھ راتیں۔ تو کہتے ہیں وَإِنْ كَانَتْ إِحْدَاهُمَا حُرَّةً وَالْأُخْرَى أَمَةً اور اگر ان دونوں بیویوں میں سے ایک آزاد ہے اور دوسری باندی ہے، فَلِلْحُرَّةِ الثُّلُثَانِ مِنَ الْقَسْمِ وَلِلْأَمَةِ الثُّلُثُ تو آزاد عورت کے لیے دو تہائی ہے تقسیم میں سے، وَلِلْأَمَةِ الثُّلُثُ اور باندی کے لیے ایک تہائی۔ ایک رات باندی کے پاس تو آزاد کے پاس کتنی راتیں؟ دو۔ تو گویا ہر تین راتوں میں سے ایک رات باندی کے پاس اور دو راتیں آزاد عورت کے پاس۔ تو گویا کل کتنی راتیں ہیں؟ تین۔ تین میں سے ایک ثلث، ایک تہائی، ایک رات کس کا حق؟ باندی کا۔ اور دو ثلث وہ کس کا حق؟ آزاد عورت کا۔ توجہ ہے؟ تو یہی بیان کر رہے ہیں۔ فَلِلْحُرَّةِ الثُّلُثَانِ مِنَ الْقَسْمِ آزاد عورت کے لیے دو تہائی ہے، یعنی ثلث میں سے دو حصے ہیں مِنَ الْقَسْمِ تقسیم میں سے، وَلِلْأَمَةِ الثُّلُثُ اور باندی کے لیے ایک تہائی ہے یعنی ایک ثلث ہے، بِذٰلِكَ وَرَدَ الْأَثَرُ، اسی کے ساتھ اثر وارد ہوا ہے۔ اسی کے ساتھ اثر وارد ہوا ہے۔ یاد رکھو، یاد رکھو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال کے چار نام ہیں: حدیث، اثر، خبر اور سنت۔ حضور علیہ السلام کے اقوال و افعال کے لیے کتنے نام استعمال کرتے ہیں علماء؟ چار نام۔ کبھی حدیث کا لفظ بولتے ہیں، کبھی خبر، کبھی خبر، کبھی اثر اور کبھی سنت۔ تو یہ چاروں نام ہیں حدیث کے، لیکن بعض علماء ان میں فرق کرتے ہیں جیسے صاحبِ ہدایہ۔ صاحبِ ہدایہ اثر کا نام قولِ صحابی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ صاحبِ ہدایہ اثر کا لفظ کس کے لیے استعمال کرتے ہیں؟ قولِ صحابی کے لیے۔ تو یہاں پر بھی آ رہا ہے بِذٰلِكَ وَرَدَ الْأَثَرُ، اسی کے ساتھ اثر وارد ہوا ہے یعنی قولِ صحابی آیا ہے۔ اور یہ حدیث میرے حاشیے میں دی ہوئی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ لِلْحُرَّةِ الثُّلُثَانِ مِنَ الْقَسْمِ وَلِلْأَمَةِ الثُّلُثُ، کہ آزاد عورت کے لیے تقسیم کے اندر دو ثلث ہیں اور باندی کے لیے ایک ثلث ہے بھئی۔ تو یہ کس کا قول ہے؟ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا۔ تو کہتے ہیں بِذٰلِكَ وَرَدَ الْأَثَرُ، اسی کے ساتھ اثر یعنی قولِ صحابی وارد ہوا ہے۔ وَلِأَنَّ حِلَّ الْأَمَةِ أَنْقَصُ مِنْ حِلِّ الْحُرَّةِ، اور نیز اس لیے کیونکہ باندی کا حلال ہونا یہ کم ہے آزاد عورت کے حلال ہونے کے مقابلے میں۔ یاد رکھو باندی کی حلت آزاد عورت کے مقابلے میں آدھی ہے بھئی، کم ہے۔ آپ یہ مسئلہ پہلے بھی پڑھ چکے ہیں۔ ایک شخص وہ نکاح کرنا چاہتا ہے، اس کے عقد میں کوئی عورت نہیں ہے، تو وہ آزاد عورت سے بھی نکاح کر سکتا ہے اور باندی سے بھی نکاح کر سکتا ہے۔ تو آزاد عورت کا مہر زیادہ ہوگا اور باندی کا مہر کم ہوگا۔ البتہ باندی سے جو اولاد پیدا ہوگی وہ اسی باندی کے آقا کے غلام اور باندیاں شمار ہوں گے۔ تو آزاد آدمی کو اختیار ہے جب اس کے عقد میں کوئی بیوی نہ ہو وہ آزاد عورت سے بھی نکاح کر سکتا ہے اور باندی سے بھی۔ لیکن اگر ایک شخص کے عقد میں پہلے سے ایک آزاد بیوی موجود ہے، ایک آزاد عورت اس کے عقد میں ہے، تو پھر اب اس کو باندی سے نکاح کی اجازت نہیں۔ یعنی آزاد عورت کے ہوتے ہوئے باندی سے نکاح وہ نہیں کر سکتا۔ ہاں اس کا برعکس کر سکتا ہے، اگر ایک شخص کے عقد میں پہلے سے ایک باندی موجود ہے اب وہ آزاد عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہے وہ کر سکتا ہے۔ توجہ ہے؟ تو دیکھا بعض صورتوں کے اندر باندی محلِ نکاح ہی نہیں رہتی، اس سے نکاح جائز ہی نہیں رہتا اور وہ کون سی صورت ہے؟ جب عقد میں پہلے سے آزاد عورت موجود ہو۔ تو دیکھا معلوم ہوا باندی تمام صورتوں میں حلال نہیں بلکہ بعض صورتوں میں حلال ہے، بعض صورتوں میں حلال نہیں ہے۔ تو دیکھا باندی کی حلت آزاد عورت کی حلت سے کم درجے کی ہے۔ لہٰذا حقوق کے اندر بھی باندی کا حصہ کم ہوگا آزاد عورت کے مقابلے میں۔ باندی کا ایک تہائی حصہ ہے تو آزاد عورت کے دو تہائی حصے ہوں گے۔ تو یہ معنی ہے وَلِأَنَّ حِلَّ الْأَمَةِ أَنْقَصُ مِنْ حِلِّ الْحُرَّةِ اس لیے کیونکہ باندی کا حلال ہونا یہ کم ہے آزاد عورت کے حلال ہونے کے مقابلے میں، یعنی بعض صورتوں میں باندی حلال ہی نہیں رہتی جب پہلے سے ایک آزاد عورت کسی شخص کے نکاح میں ہو۔ فَلَا بُدَّ مِنْ إِظْهَارِ النُّقْصَانِ فِي الْحُقُوقِ، تو ضروری ہے کہ اس کمی کا اظہار کیا جائے حقوق میں بھی۔ جب باندی کی حلت کم درجے کی ہے تو اس کے حقوق میں بھی کمی ہونی چاہیے، اس کا اظہار ہونا چاہیے۔ وَالْمُكَاتَبَةُ وَالْمُدَبَّرَةُ وَأُمُّ الْوَلَدِ بِمَنْزِلَةِ الْأَمَةِ، اور مکاتبہ، مدبرہ اور ام ولد یہ بھی باندی کے درجے میں ہی ہیں۔ مکاتبہ وہ عورت جسے آقا نے کہہ دیا کہ اتنا مال لے آؤ دو سال کے اندر یا تین سال کے اندر تو تم آزاد ہو، تو یہ مکاتبہ ہے۔ اور مدبرہ وہ باندی جسے آقا نے کہہ دیا میرے مرنے کے بعد تو آزاد ہے۔ اور ام ولد وہ باندی جس سے اولاد پیدا ہوئی اور پھر آقا نے اقرار کر لیا کہ یہ میری اولاد ہے تو یہ اس کی ام ولد بن گئی۔ تو ان کا کیا حکم ہے؟ صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ یہ سب بھی باندیاں ہی ہیں لہٰذا ان کے لیے بھی باندی والا ہی حکم ہوگا یعنی آزاد عورت کو دو ثلث ملیں گے تو ان کو ایک ثلث حصہ ملے گا تقسیم کے اندر۔ تو کہتے ہیں وَالْمُكَاتَبَةُ وَالْمُدَبَّرَةُ وَأُمُّ الْوَلَدِ بِمَنْزِلَةِ الْأَمَةِ اور مکاتبہ، مدبرہ اور ام ولد یہ بھی عام باندی کے درجے میں ہیں، لِأَنَّ الرِّقَّ فِيهِنَّ قَائِمٌ اس لیے کیونکہ ان کے اندر بھی غلامی موجود ہے، یہ سب بھی کیا ہیں؟ باندیاں ہی ہیں بھئی۔ آگے دیکھیے: قَالَ: وَلَا حَقَّ لَهُنَّ فِي الْقَسْمِ حَالَةَ السَّفَرِ، اب سفر کا مسئلہ ذکر کر رہے ہیں۔ یاد رکھو سفر کے اندر خاوند جس بیوی کو بھی لے جانا چاہے لے جا سکتا ہے۔ سفر کے اندر تقسیم جاری نہیں ہوگی بھئی۔ تو سفر کے اندر ان بیویوں کا کوئی حق نہیں ہے، خاوند جس کو بھی لے جانا چاہے لے جا سکتا ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ بیویوں میں قرعہ اندازی کروا لے، جس کا نام نکلے اس کو سفر پر لے جائے۔ توجہ ہے؟ دیکھیے بھئی، کہتے ہیں قَالَ: وَلَا حَقَّ لَهُنَّ فِي الْقَسْمِ حَالَةَ السَّفَرِ اور ان عورتوں کا کوئی حق نہیں ہے تقسیم میں حَالَةَ السَّفَرِ سفر کی حالت میں۔ سفر کی حالت میں تقسیم کے اندر ان عورتوں کا کوئی حق نہیں ہے، فَيُسَافِرُ الزَّوْجُ بِمَنْ شَاءَ مِنْهُنَّ تو خاوند سفر کر سکتا ہے جس کے ساتھ چاہے ان میں سے، وَالْأَوْلَى أَنْ يُقْرِعَ بَيْنَهُنَّ لیکن بہتر یہ ہے کہ خاوند ان کے درمیان قرعہ اندازی کر لے، فَيُسَافِرُ بِمَنْ خَرَجَتْ قُرْعَتُهَا تو جس کے نام قرعہ نکلے اس کے ساتھ سفر کر لے، فَيُسَافِرُ پس وہ سفر کرے بِمَنْ خَرَجَتْ قُرْعَتُهَا اس کے ساتھ جس کا قرعہ نکلے۔ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ: الْقُرْعَةُ مُسْتَحَقَّةٌ، اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: الْقُرْعَةُ مُسْتَحَقَّةٌ، یہاں بھی اس کو اسمِ مفعول پڑھنا بھئی، حا پر زبر پڑھیں اور معنی وہی کہ قرعہ واجب ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرعہ مستحب نہیں ہے بلکہ قرعہ اندازی واجب ہے۔ تو وہ فرماتے ہیں الْقُرْعَةُ مُسْتَحَقَّةٌ کہ قرعہ اندازی جو ہے وہ واجب ہے، لِمَا رُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ، بوجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا ہے کہ أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کا ارادہ فرماتے تھے أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ تو قرعہ اندازی فرماتے تھے اپنی بیویوں کے درمیان۔ تو یہ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل ہے کہ حضور علیہ السلام قرعہ اندازی کرتے تھے معلوم ہوا قرعہ اندازی واجب ہے۔ إِلَّا أَنَّا نَقُولُ: إِنَّ الْقُرْعَةَ لِتَطْيِيبِ قُلُوبِهِنَّ، مگر یہ کہ ہم کہتے ہیں إِنَّ الْقُرْعَةَ لِتَطْيِيبِ قُلُوبِهِنَّ، تطییب بھئی طَيَّبَ يُطَيِّبُ تَطْيِيبًا کا معنی ہے خوش کرنا۔ تو ہم کہتے ہیں کہ قرعہ اندازی جو ہے یہ عورتوں کے دل کو خوش کرنے کے لیے ہے بھئی، کہ وہ خوش رہیں گی، اطمینان رہے گا۔ تو اس لیے قرعہ اندازی کی جائے گی تو لہٰذا یہ قرعہ اندازی مستحب ہوگی، واجب نہیں کیونکہ یہ ان بیویوں کے دل کو خوش کرنے کے لیے ہے صرف، یہ خاوند پر کوئی واجب نہیں ہے۔ إِلَّا أَنَّا نَقُولُ مگر یہ کہ ہم کہتے ہیں إِنَّ الْقُرْعَةَ لِتَطْيِيبِ قُلُوبِهِنَّ کہ قرعہ اندازی کرنا یہ ان بیویوں کے دلوں کو خوش کرنے کے لیے ہے، فَيَكُونُ مِنْ بَابِ الِاسْتِحْبَابِ تو یہ بابِ استحباب سے ہوگا، یہ قرعہ اندازی کیا ہوگی؟ مستحب ہوگی، وَهٰذَا لِأَنَّهُ لَا حَقَّ لِلْمَرْأَةِ عِنْدَ مُسَافَرَةِ الزَّوْجِ، اور یہ اس لیے کیونکہ لِأَنَّهُ لَا حَقَّ لِلْمَرْأَةِ عورت کا کوئی حق نہیں ہے عِنْدَ مُسَافَرَةِ الزَّوْجِ خاوند کے سفر کرتے وقت۔ خاوند جب سفر پر جا رہا ہے تو عورت کا اس پر کوئی حق نہیں۔ چنانچہ اسی لیے کہتے ہیں کہ خاوند اگر کسی ایک بیوی کو بھی ساتھ نہیں لے کر جانا چاہتا تو وہ جا سکتا ہے، شرعاً بالکل اس کے لیے جائز ہے۔ ہمارے نزدیک بھی جائز اور ان کے نزدیک بھی جائز ہے۔ یہ تو ضروری نہیں کہ جس سفر میں بھی جانا ہے بیوی کو ضرور لے کر جانا ہے، نہیں، خاوند کو اجازت ہے وہ کسی بیوی کے بغیر بھی سفر کر سکتا ہے۔ جب خاوند کو بیوی کے بغیر سفر جائز ہے معلوم ہوا کسی عورت کا اس سفر میں حق نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں وَهٰذَا لِأَنَّهُ لَا حَقَّ لِلْمَرْأَةِ عِنْدَ مُسَافَرَةِ الزَّوْجِ اور یہ اس لیے کیونکہ عورت کا کوئی حق نہیں ہے خاوند کے سفر کرتے وقت، أَلَا يَرَى أَنَّ لَهُ أَنْ لَا يَسْتَصْحِبَ وَاحِدَةً مِنْهُنَّ، أَلَا يَرَى آپ کی کتابوں میں بھی یریٰ ہے۔ بھئی عموماً عربی میں أَلَا تَرَى استعمال ہوتا ہے، أَلَا تَرَى کیا آپ دیکھتے نہیں؟ کیا آپ کو علم نہیں؟ توجہ ہے؟ تو أَلَا تَرَى کا کیا معنی ہوتا ہے؟ کہ آپ دیکھتے نہیں یعنی کیا آپ کو علم نہیں؟ تو یہاں پر صاحبِ ہدایہ نے یریٰ ذکر فرمایا ہے تو آپ چاہیں تو اس کو معروف پڑھیں: أَلَا يَرَى، اور ضمیر لوٹا دیں امام شافعی رحمہ اللہ کی طرف کیونکہ ان سے اختلاف چل رہا ہے۔ أَلَا يَرَى کیا امام شافعی رحمہ اللہ یہ دیکھتے نہیں ہیں؟ کیا ان کو یہ معلوم نہیں ہے؟ أَنَّ لَهُ أَنْ لَا يَسْتَصْحِبَ وَاحِدَةً مِنْهُنَّ کہ خاوند کے لیے جائز ہے، استصحاب کا معنی ہے ساتھ رکھنا، اِسْتَصْحَبَ يَسْتَصْحِبُ کا کیا معنی؟ ساتھ رکھنا۔ أَلَا يَرَى کیا وہ دیکھتے نہیں ہیں أَنَّ لَهُ أَنْ لَا يَسْتَصْحِبَ وَاحِدَةً مِنْهُنَّ کہ خاوند ان میں سے کسی ایک کو بھی ساتھ نہ رکھے یہ خاوند کے لیے جائز ہے۔ توجہ ہے؟ تو أَلَا يَرَى کا کیا ترجمہ کر لیں؟ کیا وہ دیکھتے نہیں، یعنی کیا ان کو یہ معلوم نہیں۔ یہ دلیل دینے کا ایک انداز ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اور نیز اگر چاہیں تو آپ اس کو یُریٰ بھی پڑھ سکتے ہیں: أَلَا يُرَى، أَلَا تَرَى کا کیا معنی تھا؟ کہ آپ دیکھتے نہیں یعنی کیا آپ کو معلوم نہیں؟ تو أَلَا يُرَى کا بھی اسی طرح ترجمہ کر لیں: أَلَا يُرَى کیا یہ بات معلوم نہیں ہے أَنَّ لَهُ أَنْ لَا يَسْتَصْحِبَ وَاحِدَةً مِنْهُنَّ کہ خاوند کے لیے جائز ہے کہ ان میں سے کسی ایک کو بھی ساتھ نہ رکھے، اکیلا ہی سفر پر چلا جائے یہ خاوند کے لیے جائز ہے، معلوم ہوا خاوند کے سفر میں بیویوں کا کوئی حق نہیں ورنہ خاوند کے لیے جائز ہی نہ ہوتا بغیر بیویوں کے سفر بھئی۔ تو اس کو پھر آپ أَلَا يَرَى پڑھیں تو پھر ضمیر امام شافعی رحمہ اللہ کی طرف لوٹائیں: کیا وہ دیکھتے نہیں۔ لیکن زیادہ بہتر یہی ہے: أَلَا يُرَى پڑھیں، فعلِ مجہول پڑھیں۔ أَلَا يُرَى کیا یہ بات معلوم نہیں؟ اور آگے أَنَّ لَهُ أَنْ لَا يَسْتَصْحِبَ وَاحِدَةً مِنْهُنَّ یہ پورا جملہ اس کے لیے نائب فاعل بن جائے گا۔ یہ أن کیا کرتا ہے؟ جملے کو مفرد کے حکم میں کر دیتا ہے تو پورا جملہ بتاویلِ مفرد یہ جو ہے یہ نائب فاعل بن جائے گا یُریٰ کے لیے۔ بات سمجھ میں آگئی۔ أَلَا يُرَى کیا وہ دیکھتے نہیں أَنَّ لَهُ أَنْ لَا يَسْتَصْحِبَ وَاحِدَةً مِنْهُنَّ کہ خاوند کا یہ حق ہے کہ ان بیویوں میں سے کسی ایک کو بھی ساتھ نہ لے جائے، فَكَذَا لَهُ أَنْ يُسَافِرَ بِوَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ تو اسی طرح خاوند کے لیے جائز ہوگا کہ وہ ان میں سے کسی ایک کے ساتھ سفر کرے جس کے ساتھ وہ چاہے۔ وَلَا يُحْتَسَبُ عَلَيْهِ بِتِلْكَ الْمُدَّةِ، اور خاوند پر شمار نہیں کیا جائے گا اس مدت کو۔ یعنی خاوند جس بیوی کو لے جانا چاہے لے جا سکتا ہے، اگر قرعہ اندازی کر لے تو بہتر ہے، اگر قرعہ اندازی بھی نہیں کرتا لیکن کسی ایک کو ساتھ لے جاتا ہے تو خاوند کی مرضی ہے۔ اور مثلاً سفر پر بیوی کو لے گیا تھا اور پندرہ دن سفر میں گزار کر خاوند واپس آیا تو یہ جو پندرہ دن ہیں یہ باری میں شمار نہیں ہوں گے، یہ وہ راتوں کی تقسیم میں شمار نہیں ہوں گے، اب اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کو پندرہ دن اپنے ساتھ رکھا تھا لہٰذا دوسری بیوی کے پاس بھی پندرہ دن گزارنے پڑیں گے، ایسا نہیں ہے۔ تو اس سفر کو تقسیم کے اندر شمار نہیں کیا جائے گا۔ یہ معنی ہے وَلَا يُحْتَسَبُ عَلَيْهِ بِتِلْكَ الْمُدَّةِ اور خاوند پر اس مدت کو شمار نہیں کیا جائے گا، یعنی تقسیم میں سے اس کو شمار نہیں کیا جائے گا۔ آگے دیکھیے: وَإِنْ رَضِيَتْ إِحْدَى الزَّوْجَاتِ بِتَرْكِ قَسْمِهَا لِصَاحِبَتِهَا جَازَ، بھئی یاد رکھو اگر بیویوں میں سے کوئی ایک بیوی اپنی باری دوسری بیوی کو دینا چاہتی ہے تو کہتے ہیں یہ بھی جائز ہے کیونکہ یہ باری اس کا حق تھا تو یہ اپنا حق دوسرے کو دے سکتی ہے۔ اور بعد میں کیا پھر یہ اپنے حق میں رجوع کر سکتی ہے؟ کہتے ہیں ہاں، بعد میں یہ اپنے حق میں رجوع کر سکتی ہے۔ مثلاً پہلے اس نے اپنی باری دوسری بیوی کو دے دی کہ میرے پاس رات گزارنے کی حاجت نہیں، اسی کے پاس رات گزارا کرو۔ پھر بعد میں کہتی ہے نہیں، میں اپنی باری اس عورت کو نہیں دیتی بھئی، تو وہ اپنے حق میں رجوع کر سکتی ہے۔ تو کہتے ہیں وَإِنْ رَضِيَتْ إِحْدَى الزَّوْجَاتِ اور اگر بیویوں میں سے کوئی ایک بیوی راضی ہو گئی بِتَرْكِ قَسْمِهَا کہ وہ اپنی تقسیم کو چھوڑتی ہے یعنی اپنی باری کو چھوڑتی ہے لِصَاحِبَتِهَا اپنے ساتھی کے لیے یعنی اپنی سوکن کے لیے، جَازَ تو یہ جائز ہے، لِأَنَّ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللّٰهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَنْ يُرَاجِعَهَا وَتَجْعَلَ يَوْمَ نَوْبَتِهَا لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهَا، ام المؤمنین حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا یہ بوڑھی ہو گئی تھیں اور بعض روایات میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو طلاق دے دی، تو انہوں نے پھر حضور علیہ السلام سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں بوڑھی ہو گئی ہوں مجھے مردوں کی حاجت نہیں رہی لیکن میں چاہتی ہوں کہ قیامت کے دن میں آپ کی زوجات میں شمار کی جاؤں، اس لیے آپ رجوع فرما لیں اور میں اپنی باری عائشہ کو دیتی ہوں۔ تو کہتے ہیں حضور علیہ السلام نے ان سے رجوع فرما لیا تھا۔ تو بعض روایات میں یہ طلاق کا ذکر ہے لیکن عام روایات میں طلاق کا ذکر نہیں ہے بھئی۔ تو بہرحال حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنی باری حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو دے دی تھی اور اس کو حضور علیہ السلام نے قبول فرما لیا تھا۔ معلوم ہوا کوئی عورت اپنی باری دوسری بیوی کو دے سکتی ہے بھئی۔ کہتے ہیں لِأَنَّ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهَا اس لیے کیونکہ حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جو ہیں سَأَلَتْ رَسُولَ اللّٰهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ انہوں نے حضور علیہ السلام سے درخواست کی أَنْ يُرَاجِعَهَا کہ وہ ان سے رجوع فرما لیں، حضور نے طلاق دے دی تھی، انہوں نے حضور سے درخواست کی کہ حضور ان سے رجوع فرما لیں، وَتَجْعَلَ يَوْمَ نَوْبَتِهَا لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهَا اور یہ کہ وہ کر دیں گی اپنی باری کا دن حضرت عائشہ کے لیے۔ وہ اپنی باری کس کو دیتی ہیں؟ حضرت عائشہ کو دیتی ہیں۔ تو یہ میں نے بتایا بعض روایات میں طلاق کا ذکر ہے لیکن عام روایات میں طلاق کا ذکر نہیں ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: وَلَهَا أَنْ تَرْجِعَ فِي ذٰلِكَ، اور وہ عورت جس نے اپنی باری دوسری عورت کو دے دی تھی، وَلَهَا اس کو یہ حق ہے أَنْ تَرْجِعَ فِي ذٰلِكَ کہ وہ اس کے اندر رجوع کر سکتی ہے، لِأَنَّهَا أَسْقَطَتْ حَقًّا لَمْ يَجِبْ بَعْدُ فَلَا يَسْقُطُ، اس لیے کیونکہ اس عورت نے ایسا حق ساقط کیا تھا جو ابھی اس کے بعد واجب ہی نہیں ہوا، فَلَا يَسْقُطُ لہٰذا وہ ساقط نہیں ہوگا۔ بھئی دیکھیے نا، عورت نے کیا کہا تھا؟ ایک شخص کی کئی بیویاں ہیں ان میں سے ایک بیوی نے کہا میں اپنی باری چھوڑتی ہوں فلاں عورت کے لیے، میرے حصے کی باری جو ہے وہ بھی میں فلاں بیوی کو دیتی ہوں۔ تو یاد رکھو اس صورت میں پھر وہ رجوع کر سکتی ہے اس لیے کیونکہ وہ جن باریوں میں رجوع کر رہی ہے وہ مستقبل کی باریاں ہیں، وہ تو ابھی آئی ہی نہیں ہیں۔ ایک بات ماضی میں گزر چکی ہے اس سے تو رجوع نہیں ہو سکتا لیکن جو مستقبل میں ابھی آئی ہی نہیں اس سے رجوع ہو سکتا ہے کیونکہ ابھی وہ باریاں آئی ہی نہیں۔ باریاں آئی ہوتیں اور پھر یہ اپنا حق ساقط کر دیتی تو پھر رجوع نہیں کر سکتی تھی لیکن ابھی تو وہ باریاں اور راتیں آئی ہی نہیں ہیں لہٰذا اس کے ساقط کرنے سے بھی جو راتیں ابھی آئی ہی نہیں ہیں ان میں اس کا حق ساقط نہیں ہوا۔ ماضی کے اندر جو گزر چکی ہیں ان میں تو حق ساقط ہو چکا تھا لیکن جو راتیں ابھی آئی ہی نہیں تو اس کے ساقط کرنے سے بھی وہ باری ساقط نہیں ہوئی کیونکہ وہ ابھی آئی ہی نہیں، ان کا وجود ہی ابھی نہیں ہے، تو ابھی تو وہ آئی ہی نہیں ہیں بھئی۔ تو یہ معنی ہے لِأَنَّهَا أَسْقَطَتْ حَقًّا اس لیے کیونکہ اس عورت نے اپنا ایسا حق ساقط کیا ہے لَمْ يَجِبْ بَعْدُ جو اس ساقط کرنے کے بعد ابھی واجب ہی نہیں ہوا کیونکہ وہ ابھی راتیں آئی ہی نہیں ہیں، فَلَا يَسْقُطُ لہٰذا اس کے ساقط کرنے سے بھی وہ ساقط نہیں ہوئیں، وہ رجوع کر سکتی ہے ان میں۔ بات سمجھ میں آگئی۔ ترجمہ سمجھ میں آیا؟ ترجمہ پھر دیکھ لو، ترجمہ یہاں مشکل ہے۔ لِأَنَّهَا أَسْقَطَتْ حَقًّا اس لیے کیونکہ اس عورت نے اپنا ایسا حق ساقط کیا ہے لَمْ يَجِبْ بَعْدُ جو اس ساقط کرنے کے بعد، جو لَمْ يَجِبْ بَعْدُ أَيْ لَمْ يَجِبْ بَعْدَ الْإِسْقَاطِ، توجہ ہے؟ بعدُ مضاف الیہ چاہتا ہے تو اس کے لیے مضاف الیہ اسقاط یہاں محذوف نکالیں گے پھر ترجمہ صحیح ہوگا۔ لِأَنَّهَا أَسْقَطَتْ حَقًّا اس لیے کیونکہ اس عورت نے اپنا ایسا حق ساقط کیا ہے لَمْ يَجِبْ بَعْدُ جو ساقط کرنے کے بعد ابھی واجب ہی نہیں ہوا، وہ ابھی آیا ہی نہیں ہے، فَلَا يَسْقُطُ تو اس کے ساقط کرنے سے وہ ساقط نہیں ہوگا بھئی۔ آگے دیکھیے بھئی: كِتَابُ الرَّضَاعِ۔ یاد رکھو یہ لفظ رضاع را کے فتحہ کے ساتھ بھی آپ اسے پڑھ سکتے ہیں اور را کے کسرہ کے ساتھ یعنی رِضاع پڑھنا بھی صحیح ہے بھئی۔ اور رضاعت کہتے ہیں بچے کا ماں کی چھاتی سے دودھ پینا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ رضاعت کہتے ہیں۔ لیکن اصطلاحِ شریعت کے اندر بچے کا دودھ پینا مدتِ رضاعت کے اندر، اس کو رضاعت کہتے ہیں۔ عربی زبان میں تو مطلقاً بچے کا دودھ پینا یہ کیا کہلاتا ہے؟ رضاعت، لیکن اصطلاحِ شریعت میں اور اصطلاحِ فقہاء کے اندر رضاعت اس چیز کا نام ہے کہ مدتِ رضاعت کے اندر اندر بچہ دودھ پیئے تو اس کو رضاعت کہتے ہیں۔ تو مدتِ رضاعت عند الاحناف یاد رکھو دو سال ہے۔ دو سال کی عمر کے اندر اندر بچہ کسی عورت کا دودھ بھی پی لے گا تو رضاعت ثابت ہو جائے گی اور وہ عورت اس کی رضاعی ماں بن جائے گی اور یہ بچہ اس کا رضاعی بیٹا بن جائے گا۔ یاد رکھو، باتفاقِ ائمہ رضاعت بھی محرم ہے، رضاعت بھی محرم ہے نسب کی طرح۔ جیسے نسب کی وجہ سے بہت سے رشتے حرام ہو جاتے ہیں اسی طرح رضاعت کی وجہ سے بھی بہت سے رشتے حرام ہو جاتے ہیں۔ جیسے نسبی بہن سے نکاح حرام ہے اسی طرح رضاعی بہن کے ساتھ بھی نکاح حرام ہے۔ جیسے نسبی ماں کے ساتھ نکاح حرام ہے اس طرح رضاعی ماں کے ساتھ بھی نکاح حرام ہے۔ تو معلوم ہوا رضاعت بھی محرم ہے نسب کی طرح بھئی۔ فقہاء اس بارے میں تفصیل بیان فرماتے ہیں کہ کہاں کہاں حرمت آئے گی رضاعت کی وجہ سے۔ تو فقہاء فرماتے ہیں کہ دودھ پلانے والی جو ہے یعنی مرضعہ، مرضعہ کی طرف سے تو سارے رشتہ دار بن جائیں گے اس بچے کے۔ ایک بچے نے دو سال کی عمر کے اندر اندر ایک عورت کا دودھ پیا تو یہ عورت اس کی رضاعی ماں بن گئی اور یہ بچہ اس کا رضاعی بیٹا بن گیا۔ تو یہ عورت کیا ہے؟ مرضعہ، دودھ پلانے والی، اور یہ جو بچہ ہے جس نے دودھ پیا ہے اس کو کہیں گے رضیع۔ یہ کیا ہے؟ رضیع۔ تو یاد رکھو فقہاء فرماتے ہیں مرضعہ کی طرف سے تو سارے رشتہ دار بن جاتے ہیں۔ یعنی مرضعہ بچے کی ماں بن گئی تو مرضعہ کا خاوند بچے کا رضاعی باپ بن گیا، اور مرضعہ کی جو بہن ہے وہ بچے کی رضاعی خالہ بن گئی، اور رضاعی باپ کی جو بہن ہے وہ بچے کی رضاعی پھوپھی بن گئی، اور اسی طرح مرضعہ کی جو اولاد ہے وہ اس رضیع کے بھئی بہن بن گئے بھئی۔ تو مرضعہ کی طرف سے تو سب رشتہ دار بن جاتے ہیں لیکن رضیع جو ہے، رضیع کی طرف سے صرف زوجان اور فروع رشتہ دار بنتے ہیں۔ یہ ایک شعر لکھ لیجیے، اس میں پورا رضاعت کا قانون ذکر کیا گیا ہے۔ یہ شعر میں پہلے بھی لکھوا چکا ہوں بھئی۔ لکھیے بھئی: از جانبِ شیر دہ ہمہ خُویش شوند واَز جانبِ شیر خوار زوجان و فروع از جانبِ شیر، شین یا را، دہ دال اور گول ہا۔ از جانبِ شیر دہ ہمہ، ہا میم ہا۔ از جانبِ شیر دہ ہمہ خُویش شوند، خا واؤ یا شین، شوند شین واؤ نون دال۔ از جانبِ شیر دہ ہمہ خُویش شوند۔ یہ جو خویش لفظ ہے اس میں واؤ کو بہت معمولی سا پڑھنا ہے۔ از جانبِ شیر دہ ہمہ خُویش شوند۔ دوسرا مصرعہ: واَز جانبِ شیر خوار واَز جانبِ شیر خوار، خا واؤ الف را، شیر خوار۔ زوجان زوجان و فروع و فروع لکھ لیا؟ پھر سن لیں: از جانبِ شیر دہ ہمہ خُویش شوند واَز جانبِ شیر خوار زوجان و فروع دیکھو معنی سمجھ لیجیے، اس میں پورا رضاعت کا ضابطہ ذکر ہے۔ از جانبِ شیر دہ، شیر دہ دودھ پلانے والی۔ شیر دودھ کو کہتے ہیں فارسی زبان میں۔ از جانبِ شیر دہ دودھ پلانے والی کی طرف سے ہمہ خُویش شوند سارے رشتہ دار ہو جاتے ہیں۔ ہمہ سارے، خویش رشتہ دار۔ از جانبِ شیر دہ ہمہ خُویش شوند، دودھ پلانے والی کی طرف سے سب رشتہ دار بن جاتے ہیں، واَز جانبِ شیر خوار اور دودھ پینے والے کی طرف سے زوجان و فروع، میاں بیوی اور ان کی اولاد۔ میاں بیوی اور اولاد۔ تو مرضعہ کی طرف سے تو سارے اس کے رشتہ دار بن گئے جبکہ یہ رضیع کی طرف سے صرف میاں بیوی اور ان کی اولاد رشتہ دار بنے گی۔ دودھ پینے والے میں صرف میاں بیوی اور ان کی اولاد جو ہے وہ رشتہ دار بنیں گے۔ مثلاً دودھ پینے والا اگر لڑکا تھا تو یہ بڑا ہوا، اس نے شادی کی تو یہ دودھ پلانے والی کا رضاعی بیٹا ہے اور اس کی جو بیوی ہے وہ رضاعی ماں باپ کے لیے بہو کے درجے میں ہے بھئی، کیونکہ جیسے حقیقی بیٹے کی بیوی بہو ہوتی ہے اسی طرح رضاعی بیٹے کی بیوی بھی بہو ہے، تو یہ بہو بھی اپنے سسر پر حرام ہے بھئی۔ اپنے سسر پر حرام ہے۔ بیٹا اگر چھوڑ بھی دے اس کو اور بعد میں اس کا جو رضاعی سسر ہے وہ اس کے ساتھ نکاح کرنا چاہتا ہے، نہیں، اب اس کی کوئی صورت نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آگئی۔ تو دیکھو، دودھ پینے والا رضاعی بیٹا بنا تھا اور اس کی بیوی کیا بن گئی؟ بہو بن گئی۔ دیکھو میاں بیوی دونوں حرام۔ یہ اسی طرح اگر دودھ پینے والی لڑکی تھی، تو یہ بڑی ہوئی، اس نے نکاح کر لیا، تو وہ جو جس آدمی سے نکاح کیا، وہ اس اس لڑکی کے رضاعی ماں باپ کے لیے داماد کے درجے میں ہوا اور جیسے حقیقی داماد جو ہے وہ اپنی ساس پر حرام ہوتا ہے، اسی طرح رضاعی بیٹی کا جو داماد ہے وہ بھی ساس پر حرام ہے۔ تو دیکھا، میاں بیوی دونوں حرام ہوتے ہیں اور نیز ان کی جو اولاد ہے وہ ان کے لیے رضاعی پوتے پوتیاں اور رضاعی نواسے نواسیاں ہیں، لہٰذا وہ بھی ان پر یہ جو رضاعی ماں باپ پر حرام ہیں بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ جی دیکھیے بھئی، كِتَابُ الرَّضَاعِ۔ قَالَ: ”قَلِيلُ الرَّضَاعِ وَكَثِيرُهُ سَوَاءٌ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”قَلِيلُ الرَّضَاعِ وَكَثِيرُهُ سَوَاءٌ“ کہ تھوڑی رضاعت ہو یا زیادہ، یہ سب برابر ہیں، یعنی ان سے رضاعت ثابت ہو جائے گی۔ یاد رکھیے آگے چل کر صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رضاعت کی وجہ سے تب حرمت ثابت ہو گی جب کم از کم پانچ مرتبہ بچہ عورت کا دودھ پیے۔ کتنی مرتبہ؟ پانچ مرتبہ بچہ عورت کا دودھ پیے، پھر حرمت ثابت ہو گی، صرف ایک دفعہ دودھ پلانے سے حرمت ثابت نہیں ہو گی۔ اور نیز وہ فرماتے ہیں، ایک مجلس میں بچہ جتنی دفعہ بھی دودھ پی لے، اس کو ایک ہی شمار کریں گے۔ معلوم ہوا پانچ الگ الگ مجلسوں میں ایک بچہ ایک عورت کا دودھ پیے گا تو پھر یہ عورت اس کی رضاعی ماں بنے گی، اس سے پہلے یہ اس کی رضاعی ماں نہیں ہے۔ لیکن ہمارے نزدیک مطلقاً رضاعت جو ہے وہ محرم ہے۔ تھوڑا سا دودھ بھی اگر بچے کے پیٹ تک پہنچ گیا، چاہے قطرہ ہی کیوں نہ ہو، رضاعت ثابت ہو جائے گی اور یہ بچہ اس عورت کا رضاعی بچہ بن جائے گا اور وہ عورت اس کی رضاعی ماں بن جائے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں قَالَ، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”قَلِيلُ الرَّضَاعِ وَكَثِيرُهُ سَوَاءٌ“ کہ تھوڑی رضاعت اور زیادہ یہ سب برابر ہیں ”إِذَا حَصَلَ فِي مُدَّةِ الرَّضَاعِ“ جب یہ رضاعت حاصل ہو مدتِ رضاعت میں، یعنی دو سال کے اندر اندر بچہ دودھ پیے گا پھر وہ عورت اس کی رضاعی ماں بنے گی۔ کہتے ہیں ”إِذَا حَصَلَ فِي مُدَّةِ الرَّضَاعِ“ جب یہ رضاعت مدتِ رضاعت کے اندر حاصل ہو، یعنی اس کے اندر پائی جائے ”يَتَعَلَّقُ بِهِ التَّحْرِيمُ“ تو اس رضاعت کے ساتھ تحریم کا حکم متعلق ہو جائے گا، اس کی وجہ سے حرمت آ جائے گی ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يَثْبُتُ التَّحْرِيمُ إِلَّا بِخَمْسِ رَضَعَاتٍ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تحریم ثابت نہیں ہو گی مگر پانچ مرتبہ دودھ پینے سے۔ تحریم، حَرَّمَ يُحَرِّمُ تَحْرِيم کا کیا معنی ہے؟ حرام کرنا۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يَثْبُتُ التَّحْرِيمُ إِلَّا بِخَمْسِ رَضَعَاتٍ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تحریم جو ہے وہ ثابت نہیں ہو گی مگر پانچ مرتبہ دودھ پینے سے ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ بوجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے، آپ نے فرمایا: ”لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلَا الْمَصَّتَانِ وَلَا الْإِمْلَاجَةُ وَلَا الْإِمْلَاجَتَانِ“۔ یاد رکھو، مَصَّةٌ، صاد کے ساتھ ہے، مَصٌّ یہ بچے کا فعل ہے، یعنی بچے کا بچے کا دودھ چوسنا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مَصٌّ۔ اور إِمْلَاجَةٌ، اِملاج کہتے ہیں عورت کے فعل کو، یعنی عورت کا بچے کو دودھ پلانا۔ تو ایک بچے کا فعل ہے دودھ کا چوسنا، اور ایک عورت کا فعل ہے یعنی دودھ پلانا، تو بچے کے فعل کو کیا کہتے ہیں؟ مَصٌّ۔ اور عورت کے فعل کو کیا کہتے ہیں؟ اِملاج، یعنی دودھ پلانا۔ اور یاد رکھو، مَصَّةٌ اور إِمْلَاجَةٌ آیا حدیث کے اندر، ان دونوں میں یہ جو تا ہے یہ وحدت کی ہے۔ مَصَّةٌ کا معنی ہے ایک مرتبہ بچے کا دودھ چوسنا اور إِمْلَاجَةٌ کا معنی ہے ایک مرتبہ عورت کا بچے کو دودھ پلانا۔ توجہ ہے؟ تو یہ تا کس لیے ہے؟ وحدت کے لیے ہے۔ تو حدیث چل رہی ہے، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلَا الْمَصَّتَانِ“ کہ حرام نہیں کرتا بچے کا ایک مرتبہ دودھ چوسنا اور نہ دو مرتبہ دودھ چوسنا۔ بچے کے ایک مرتبہ دودھ چوسنے سے یا دو مرتبہ دودھ چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی ”وَلَا الْإِمْلَاجَةُ وَلَا الْإِمْلَاجَتَانِ“ اور نہ ایک مرتبہ عورت کا دودھ پلانا اور نہ دو مرتبہ دودھ پلانا۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل صاحبِ ہدایہ ذکر فرما رہے ہیں کہ ایک یا دو مرتبہ بچے کے دودھ پینے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی، یہ کس کے اندر آ گیا؟ حدیث کے اندر آ گیا۔ حدیث کا ترجمہ سمجھ میں آیا؟ ”لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلَا الْمَصَّتَانِ وَلَا الْإِمْلَاجَةُ وَلَا الْإِمْلَاجَتَانِ“ نہ ایک مرتبہ کا چوسنا حرام کرتا ہے اور نہ دو مرتبہ کا چوسنا، ”وَلَا الْإِمْلَاجَةُ وَلَا الْإِمْلَاجَتَانِ“ اور نہ ایک مرتبہ کا دودھ پلانا حرام کرتا ہے اور نہ دو مرتبہ کا دودھ پلانا۔ تو یہ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل کے طور پر صاحبِ ہدایہ نے اس حدیث کو ذکر کیا۔ لیکن اس پر اشکال ہوتا ہے کہ اے صاحبِ ہدایہ! آپ نے امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب ذکر کیا کہ پانچ مرتبہ بچہ دودھ پیے گا تو پھر حرمت ثابت ہو گی، لیکن حدیث کے اندر تو صرف یہ ذکر ہے کہ ایک یا دو مرتبہ کے پینے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی، اس میں تو کوئی پانچ مرتبہ کا ذکر نہیں ہے بھئی۔ تو اس کا جواب دیتے ہیں محشی حضرات، وہ فرماتے ہیں کہ یہاں پر ہمارے نزدیک رضاعت قلیل ہو یا کثیر ہو، حرمت ثابت ہو جائے گی، ایک قطرہ دودھ بھی بچے کے پیٹ میں پہنچ گیا تو حرمت ثابت ہو جائے گی، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک پانچ مرتبہ بچہ دودھ پیے گا پھر حرمت ثابت ہو گی۔ تو یہ جو دلیل ذکر کی ہے صاحبِ ہدایہ نے امام شافعی رحمہ اللہ کی طرف سے، اس کے ذریعے صرف احناف کے مذہب کا رد کرنا مقصود ہے کہ اے احناف! آپ تو کہتے ہو کہ ایک قطرہ بھی بچے کے پیٹ میں پہنچ گیا تو حرمت ثابت ہو جائے گی، لیکن حدیث میں تو کیا آ رہا ہے؟ ایک یا دو مرتبہ کے دودھ پینے سے حرمت ثابت نہیں ہو سکتی۔ تو جب اس حدیث کے ذریعے احناف کا مذہب رد ہو گیا، تو خود بخود شوافع کا مذہب ثابت ہو گیا۔ کیونکہ یہاں یہی تو اختلاف تھا، ان کے نزدیک پانچ رضاعتیں ہونی چاہئیں، ہمارے نزدیک ایک رضاعت بھی کافی ہے، تو جب ہمارا مذہب رد ہو گیا تو خود بخود ان کا مذہب ثابت ہو گیا، کیونکہ درمیان میں کوئی تیسرا قول تو یہاں پر نہیں ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو بہرحال اس حدیث کے اندر صرف یہ ذکر ہے کہ ایک یا دو مرتبہ کے دودھ کے پینے سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔ آگے دیکھیے: ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل جو ہے ”قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ}“ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: ﴿وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ﴾ اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ ان عورتوں کا ذکر فرما رہے ہیں جن سے نکاح حرام ہے اور ان عورتوں میں اللہ نے ذکر فرمایا: ﴿وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ﴾ تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے، وہ بھی تمہارے لیے حرام ہیں۔ اور دیکھو یہاں پر ارضاع مطلق ذکر ہے کہ جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے، یہ ذکر نہیں ہے کہ دو مرتبہ یا تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ کا ذکر یہاں پر نہیں، تو مطلقاً رضاعت جو ہے وہ اس سے حرمت ثابت ہو جائے گی۔ یاد رکھو، امام شافعی رحمہ اللہ کے لیے یہ جو حدیث ذکر کی، امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب تو یہ ہے کہ پانچ رضاعتوں سے حرمت ثابت ہو گی، ان کی دلیل حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ یہ جو قرآن کے اندر مطلقاً آیا ہے ﴿وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ﴾ تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے، پہلے اس آیت کے اندر دس رضاعتوں کا ذکر تھا، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ قرآن کے اندر ”عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ“ کا ذکر تھا، قرآن میں کیا ذکر تھا؟ ”عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ“ کہ دس معلوم رضاعتیں، یہ حرمت ثابت کرتی ہیں۔ پھر اس کے بعد یہ قرآن کا حکم منسوخ ہوا اور پھر پانچ رضاعتوں کا حکم باقی رہا کہ پانچ معلوم رضاعتیں وہ حرمت ثابت کرتی ہیں، یہ حدیث میں آتا ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث ہے، اور یہ کہتے ہیں معاملہ پھر اسی طرح رہا حضور علیہ السلام کی وفات تک۔ حدیثِ عائشہ میں کیا ذکر آتا ہے؟ کہ حرمت کے سلسلے میں اولاً قرآن میں کیا تھا؟ دس معلوم رضاعتیں ہوں گی پھر حرمت ثابت ہو گی، پھر اس کے بعد وہ حکم منسوخ ہو گیا اور کتنے کا حکم آ گیا؟ پانچ معلوم رضاعتوں والا حکم آ گیا اور حضور علیہ السلام کی وفات تک حکم اسی طرح تھا بھئی، یہ کس حدیث میں ہے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث میں ہے۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دیکھو، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث میں آ رہا ہے کہ یہ آیت مطلق نہیں تھی، اس میں دس معلوم رضاعتوں کا ذکر تھا، پھر دس میں سے پانچ جو ہیں وہ منسوخ ہو گئیں اور پانچ معلوم رضاعتوں کو محرم قرار دیا گیا، اور حضور علیہ السلام کی وفات تک حکم اسی طرح تھا، معلوم ہوا پانچ معلوم رضاعتیں پائی جائیں گی تب ہی حرمت ثابت ہو گی، بات سمجھ میں آ گئی۔ ہم جواب دیتے ہیں کہ قرآن کے اندر ﴿وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ﴾ یہ مطلق ہے بھئی، اور آپ کی حدیث جو ہے وہ خبرِ واحد ہے اور خبرِ واحد جو ہے اس کے ذریعے کتاب اللہ پر زیادتی جائز نہیں، اور نیز یہ زیادتی بھی نسخ کے درجے میں ہے، گویا آپ اس حدیث کے ذریعے کتاب اللہ کے اطلاق کو منسوخ قرار دے رہے ہیں، کتاب اللہ میں تو مطلق آیا، اس میں تو پانچ رضاعتوں کا ذکر نہیں ہے، اس سے تو اتنا پتہ چلا جو بھی دودھ پلا دے، معلوم ہوا وہ رضاعی ماں بن گئی بھئی۔ تو گویا آپ خبرِ واحد کے ذریعے کتاب اللہ کے اطلاق کو منسوخ قرار دے رہے ہیں حالانکہ خبرِ واحد کے ذریعے کتاب اللہ پر زیادتی اور کتاب اللہ کا نسخ جائز نہیں ہے بھئی۔ اور نیز علماء جواب دیتے ہیں کہ یہ حدیث قابلِ استدلال نہیں ہے، وجہ یہ، وجہ یہ کہ اس حدیث کی بعض روایتوں کے اندر تو یہ بھی ذکر ہے کہ حضور علیہ السلام کی وفات تک اس آیت کو لوگ اسی طرح تلاوت کرتے تھے، یعنی اس میں پانچ رضاعتوں کا لفظ باقاعدہ ذکر تھا، حالانکہ شوافع بھی یہاں پر یہ آیت ﴿وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ﴾ اسی طرح پڑھتے ہیں، وہ یہاں ”خَمْسُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ“ کا لفظ وہ یہاں پر نہیں پڑھتے، معلوم ہوا ان کے نزدیک بھی یہ حدیث قابلِ عمل نہیں ہے، اگر ان کے نزدیک یہ حدیث قابلِ عمل ہوتی پھر تو ”خَمْسُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ“ کا لفظ ہونا چاہیے تھا یہاں پر، لیکن وہ بھی اس لفظ کو قرآن میں نہیں پڑھتے۔ تو اس کی تو بعض روایتوں میں کیا ذکر ہے کہ حضور علیہ السلام کی وفات تک اسی طرح لوگ تلاوت کرتے تھے، پھر تو ان کو بھی کیا کرنا چاہیے تھا؟ ”خَمْسُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ“ کی تلاوت کرنی چاہیے تھی، لیکن وہ بھی اس کی تلاوت نہیں کرتے، معلوم ہوا ان کے نزدیک بھی یہ حدیث حجت نہیں ہے، وہ اس پر عمل نہیں کرتے۔ شوافع پھر جواب دیتے ہیں، شوافع پھر جواب دیتے ہیں کہ ”خَمْسُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ“ کی تلاوت منسوخ ہو چکی ہے لیکن اس کا حکم باقی ہے۔ وہ کیا کہتے ہیں؟ تلاوت منسوخ ہو چکی ہے لیکن حکم باقی ہے۔ ہم کہتے ہیں: نہیں، یہاں کوئی قرینہ موجود نہیں ہے کہ تلاوت منسوخ ہو چکی ہے، بلکہ میں نے آپ کو جیسے بتلایا کہ بعض اسی حدیث کی بعض روایتوں میں تو یہ لفظ بھی ہے کہ حضور علیہ السلام کی وفات تک لوگ اسی طرح تلاوت کرتے تھے، اور حضور علیہ السلام کی وفات کے بعد تو نسخ نہیں ہو سکتا بھئی۔ شوافع کیا کہتے ہیں؟ تلاوت منسوخ ہے اور حکم باقی ہے، تو اسی حدیث کی بعض روایتوں میں کیا آ رہا ہے کہ حضور علیہ السلام کی وفات تک لوگ اسی طرح تلاوت کرتے تھے، تو حضور علیہ السلام کی وفات کے بعد تو پھر نسخ نہیں ہو سکتا، بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا یہ حدیث قابلِ استدلال نہیں ہے بھئی، یہ حدیث قابلِ استدلال نہیں ہے بھئی۔ بعض علماء پھر یہ جواب دیتے ہیں کہ ہاں، شروع میں دس رضاعتوں کو محرم قرار دیا گیا تھا، پھر دس کے بجائے پانچ کا حکم آ گیا، پانچ رضاعتوں کو محرم قرار دیا گیا، اور آخر میں وہ آیت بھی منسوخ ہو گئی اور مطلقاً رضاعت کو محرم قرار دے دیا گیا، جیسا کہ اس وقت قرآن میں موجود ہے: ﴿وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ﴾ تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے، معلوم ہوا مطلقاً رضاعت ہو تو حرمت آ جائے گی۔ تو کتاب اللہ پر ہی عمل کیا جائے گا اور کتاب اللہ میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ﴾ تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا، اس میں مطلقاً دودھ پلانے کا ذکر ہے، پانچ مرتبہ کا یہاں پر ذکر نہیں ہے، لہٰذا مطلقاً کوئی عورت کسی بچے کو مدتِ رضاعت میں دودھ پلائے گی تو حرمت ثابت ہو جائے گی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَنَا قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ} الْآيَةَ“ اور ہماری دلیل جو ہے اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: ﴿وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ﴾ الآیۃ، ”وَقَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ اور نیز ہماری دلیل حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے، حضور فرماتے ہیں: ”يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ“ کہ رضاعت کی وجہ سے حرام ہو جاتا ہے وہ جو کہ حرام ہوتا ہے نسب کی وجہ سے، کہ رضاعت کی وجہ سے وہ سب رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام تھے۔ تو اس حدیث کو ذہن میں رکھیں بھئی، آگے صاحبِ ہدایہ بار بار اس حدیث کا حوالہ دیں گے کہ حضور کیا فرماتے ہیں: ”يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ“ رضاعت کی وجہ سے بھی وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں، جیسے نسبی ماں سے نکاح حرام اسی طرح رضاعی ماں سے بھی نکاح حرام، جیسے نسبی اولاد سے نکاح حرام اسی طرح رضاعی اولاد سے بھی نکاح حرام ہے۔ آگے دیکھیے، کہتے ہیں: ”مِنْ غَيْرِ فَصْلٍ“ بغیر کسی فصل اور فرق کے، بغیر کسی فرق کے۔ قرآن کے اندر بھی جو آیا ﴿وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ﴾ یہاں بھی قلیل اور کثیر میں کوئی فرق نہیں کیا گیا، آیت مطلق ہے۔ اور نیز حدیث میں جو آیا ”يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ“ اس کے اندر بھی رضاعت مطلقاً ذکر ہے، یہاں قلیل اور کثیر کا کوئی فرق نہیں کیا گیا۔ تو نہ قرآن کے اندر فرق ہے اور نہ حدیث کے اندر کوئی فرق کیا گیا ہے قلیل اور کثیر کا، اور ہمارا بھی یہی مذہب ہے کہ رضاعت چاہے قلیل ہو چاہے کثیر ہو، کوئی فرق نہیں ہے، ہر حال میں اس سے حرمت ثابت ہو جائے گی۔ یہ معنی ہے ”مِنْ غَيْرِ فَصْلٍ“ بغیر کوئی فرق کیے، یعنی قلیل اور کثیر میں۔ اور یاد رکھو، یہ ”مِنْ غَيْرِ فَصْلٍ“ کا تعلق دونوں سے ہے، ماقبل میں جو آیت گزری اور اسی طرح ماقبل میں جو حدیث گزری، دونوں کے ساتھ ہے کہ دونوں میں قلیل اور کثیر میں کوئی فرق نہیں کیا گیا، معلوم ہوا رضاعت چاہے قلیل ہو چاہے کثیر ہو، ہر صورت میں حرمت ثابت ہو جائے گی۔ ”وَلِأَنَّ الْحُرْمَةَ وَإِنْ كَانَتْ لِشُبْهَةِ الْبَعْضِيَّةِ“ یاد رکھو، ماقبل میں دو نقلی دلیلیں ذکر کیں، یعنی قرآن اور حدیث، صاحبِ ہدایہ نے احناف کے لیے ماقبل میں دو نقلی دلیلیں ذکر کیں، ”وَلِأَنَّ الْحُرْمَةَ“ یہاں سے عقلی دلیل بھی ذکر فرما رہے ہیں اور نیز ایک اعتراض کا جواب بھی دے رہے ہیں، نیز ایک اعتراض کا جواب بھی دے رہے ہیں، یعنی شوافع اعتراض کرتے ہیں احناف پر کہ اے احناف! مناسب یہ ہے کہ قلیل رضاعت کے ذریعے حرمت ثابت نہیں ہونی چاہیے، اس لیے کیونکہ یہ رضاعت کی وجہ سے حرمت اس لیے آتی ہے کہ یہ بچہ جب دودھ پیتا ہے تو اس دودھ کی وجہ سے اس کی ہڈیاں بنتی ہیں اور اس کا گوشت بنتا ہے، توجہ ہے؟ تو ہڈیاں اور گوشت بننے کی وجہ سے وہ بچہ جو ہے اس عورت کا جز بن جاتا ہے۔ اس بچے نے عورت کا دودھ پیا اور وہ دودھ کیا بن گیا؟ ہڈیاں اور گوشت بن گیا، تو یہ بچہ کیا بن گیا؟ عورت کا جز بن گیا، اور اپنا جز تو انسان پر حرام ہوتا ہے، اس لیے یہاں پر حرمت آ گئی۔ بچہ جب دودھ پیتا ہے تو اس دودھ سے اس کی ہڈیاں اور گوشت بنتے ہیں، گویا یہ بچے کا جز بن گیا، یہ دودھ بچے کا جز بن گیا، اور یہ دودھ تو جز تھا اس عورت کا، تو عورت کا جز بچے کا جز بن گیا، معلوم ہوا یہ بچہ عورت کا جز ہے بھئی۔ یہ بچہ کیا بن گیا؟ کیونکہ اس عورت کا جز بچے کے جسم کا حصہ بن گیا تو یہ بچہ بھی اس کے لیے جز ہو گیا، اور جز جو ہے انسان پر حرام ہوتا ہے، اس لیے یہاں پر حرمت آ جاتی ہے، جیسے اپنی نسبی اولاد انسان پر حرام ہوتی ہے کیونکہ وہ اسی کا جز ہے بھئی، تو اسی طرح یہ رضاعی بچہ بھی اپنا جز بن گیا، لہٰذا یہاں بھی حرمت آئے گی۔ تو شوافع اعتراض کرتے ہیں احناف پر کہ اے احناف! یہ جو رضاعت کی وجہ سے حرمت آتی ہے وہ اس لیے آتی ہے کیونکہ اس دودھ کی وجہ سے بچے کے گوشت اور ہڈیاں بنتے ہیں، اور قلیل دودھ کے ساتھ تو ایسا نہیں ہو سکتا بھئی، ایک آدھ قطرہ پیا ہے اس سے تو ایسا نہیں ہو سکتا کہ اس سے ہڈیاں اور گوشت بنے، معلوم ہوا کثیر دودھ پیے گا یعنی جیسے ہم نے ذکر کیا کم از کم پانچ مرتبہ دودھ پیے گا تو پھر ہم کہیں گے کہ اب اتنا دودھ ہے کہ اس سے یقیناً اس کے گوشت اور ہڈیاں بنی ہوں گی، پھر حرمت آنی چاہیے، لہٰذا قلیل کے اندر تو حرمت نہیں آنی چاہیے۔ تو اس کا جواب دیں گے صاحبِ ہدایہ کہ ہاں، آپ کی بات ہمیں تسلیم ہے کہ یہ جو حرمت آتی ہے یہ اس وجہ سے آتی ہے کہ اس دودھ کی وجہ سے بچے کے نشو و نما ہوتی ہے، وہ بچے کا جز بن جاتا ہے، اور یہ دودھ تو جز تھا اس عورت کا، تو عورت کا جز بچے کا جز بن گیا، معلوم ہوا یہ بچہ عورت کا جز ہے بھئی۔ یہ بچہ کیا بن گیا؟ کیونکہ اس عورت کا جز بچے کے جسم کا حصہ بن گیا تو یہ بچہ بھی اس کے لیے جز ہو گیا، تو یہ بچہ کیا بن گیا؟ عورت کا جز بن گیا، اور اپنا جز تو انسان پر حرام ہوتا ہے، اس لیے یہاں پر حرمت آ گئی، لیکن یہ دودھ بچے کا جز بنتا ہے یہ ایک امرِ خفی ہے، یہ ہمارے سامنے ظاہر نہیں، اور لہٰذا حکم کی بنیاد امرِ خفی پر نہیں رکھی جائے گی بلکہ امرِ ظاہر پر رکھی جائے گی، اور امرِ ظاہر تو دودھ پلانا ہے، تو لہٰذا دودھ پلانے کو ہی حرمت کا سبب قرار دیا جائے گا۔ بھئی بچہ دودھ پیتا ہے، وہ دودھ اس کی ہڈیاں اور گوشت بنائے گا، لیکن یہ تو ایک امرِ خفی ہے، ہمیں تو یہ نظر نہیں آتا، حرمت تو اسی کی وجہ سے آتی ہے یہ ہمیں بھی تسلیم ہے، لیکن یہ ایک امرِ خفی ہے، ظاہر نہیں ہے، اور امرِ خفی پر حکم کی بنیاد نہیں رکھی جائے گی بلکہ حکم تو ظاہر پر لگایا جائے گا، اور ظاہر میں تو اس عورت نے بچے کو دودھ پلایا ہے، چاہے تھوڑا ہی کیوں نہ پلایا ہو، رضاعت تو پائی جا رہی ہے لہٰذا حرمت آ جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الْحُرْمَةَ“ اور اس لیے کیونکہ یہ جو حرمت ہے رضاعت کی وجہ سے ”وَإِنْ كَانَتْ لِشُبْهَةِ الْبَعْضِيَّةِ“ بعضیت کا ترجمہ کر لیں جزئیت کے، بعضیت، بعض ہونا یعنی جز ہونا۔ تو کہتے ہیں ”وَلِأَنَّ الْحُرْمَةَ“ اس لیے کیونکہ یہ والی حرمت جو رضاعت سے آ رہی ہے ”وَإِنْ كَانَتْ لِشُبْهَةِ الْبَعْضِيَّةِ“ اگرچہ یہ جزئیت کے شبہے کی وجہ سے ہے کہ یہ بچہ ان کا کیا بن گیا ہے؟ جز، تو اگرچہ یہ جو حرمت آ رہی ہے یہ جزئیت کے شبہے کی وجہ سے ہے ”الثَّابِتَةِ بِنُشُورِ الْعَظْمِ وَإِنْبَاتِ اللَّحْمِ“ وہ جزئیت جو ہڈیوں کے مضبوط کرنے اور گوشت کی نشو و نما سے ثابت ہوتی ہے۔ نشور بھئی، نَشَرَ يَنْشُرُ نُشُوْرًا کا معنی ہے زندہ کرنا، قیامت میں اللہ تعالیٰ لوگوں کو زندہ فرمائیں گے، اس کو کہتے ہیں نشور بھئی، تو نشور کا کیا معنی؟ زندہ کرنا۔ تو یہاں نشورِ عظم کا ذکر آیا، ہڈیوں کا زندہ کرنا، مراد ہے ہڈیوں کا مضبوط کرنا، ہڈیوں کا مضبوط کرنا مراد ہے، اور إنبات اللحم کا ذکر آگے آ رہا ہے، أَنْبَتَ يُنْبِتُ إِنْبَات کا معنی ہے اگانا، جیسے بارش سبزہ اگاتی ہے، تو إنبات اللحم کا معنی کیا ہے؟ گوشت اگانا، یعنی گوشت کی نشو و نما ہونا، گوشت کی نشو و نما ہونا، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ بچہ دودھ پیے گا تو اس سے اس کے گوشت کی نشو و نما ہو گی، اس کی ہڈیاں بنیں گی، اس کی ہڈیاں زندہ ہوں گی یعنی ہڈیاں مضبوط ہوں گی، توجہ ہے؟ اب ترجمہ دیکھیے، کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الْحُرْمَةَ“ اس لیے کیونکہ یہ جو حرمت ہے رضاعت کی وجہ سے ”وَإِنْ كَانَتْ لِشُبْهَةِ الْبَعْضِيَّةِ“ اگرچہ یہ جزئیت کے شبہے کی وجہ سے ہے ”الثَّابِتَةِ بِنُشُورِ الْعَظْمِ وَإِنْبَاتِ اللَّحْمِ“ جو ہڈیوں کے مضبوط کرنے اور گوشت کی نشو و نما سے ثابت ہوتی ہے، یہ دودھ بچہ پیے گا تو اس سے گوشت کی بھی نشو و نما ہو گی اور ہڈیوں کی بھی نشو و نما ہو گی، تو لہٰذا اس سے جزئیت ثابت ہو جائے گی، اس سے کیا ثابت ہو گی؟ جزئیت ثابت ہو جائے گی، لیکن یہ تو ایک امرِ خفی ہے کہ دودھ نے گوشت اور ہڈی کو بڑھایا ہے یا بڑھایا نہیں، یہ ایک امرِ مبطن ہے تو اس پر حکم کا مدار نہیں ہو گا بلکہ حکم کا مدار ظاہر پر یعنی دودھ پلانے پر ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب پھر ایک دفعہ ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الْحُرْمَةَ“ اس لیے کیونکہ یہ جو حرمت آئی ہے رضاعت کی وجہ سے ”وَإِنْ كَانَتْ لِشُبْهَةِ الْبَعْضِيَّةِ“ اگرچہ یہ اس جزئیت کے شبہے کی وجہ سے ہے ”الثَّابِتَةِ بِنُشُورِ الْعَظْمِ وَإِنْبَاتِ اللَّحْمِ“ وہ جزئیت جو ہڈیوں کے بڑھنے اور گوشت کی نشو و نما سے ثابت ہوتی ہے، وہ جزئیت جو اس سے ثابت ہوتی ہے ”لَكِنَّهُ أَمْرٌ مُبْطَنٌ“ لیکن یہ تو ایک خفی معاملہ ہے، ایک باطنی معاملہ ہے، چھپا ہوا معاملہ ہے ”فَتَعَلَّقَ الْحُكْمُ بِفِعْلِ الْإِرْضَاعِ“ لہٰذا اس حکم کا تعلق ارضاع کے ساتھ ہو جائے گا۔ یہ حرمت اگرچہ جزئیت کی وجہ سے آئی ہے لیکن وہ ایک امرِ خفی ہے، لہٰذا اس حرمت کا تعلق ارضاع یعنی دودھ پلانے سے ہی ہو گا۔ دودھ پلا دیا تو ہم کہیں گے کہ حرمت آ گئی بھئی۔ تو کہتے ہیں ”فَتَعَلَّقَ الْحُكْمُ بِفِعْلِ الْإِرْضَاعِ“ لہٰذا یہ حرمت والا حکم متعلق ہو جائے گا دودھ پلانے کے فعل سے ”وَمَا رَوَاهُ مَرْدُودٌ بِالْكِتَابِ“ اور وہ حدیث جس کو روایت کیا امام شافعی رحمہ اللہ نے ”مَرْدُودٌ بِالْكِتَابِ“ اس کو رد کیا جائے گا کتاب اللہ کے ذریعے ”أَوْ مَنْسُوخٌ بِهِ“ یا یہ منسوخ ہے کتاب اللہ کے ذریعے، وہ جو حدیث ذکر کی: ”لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلَا الْمَصَّتَانِ وَلَا الْإِمْلَاجَةُ وَلَا الْإِمْلَاجَتَانِ“، ہم جواب دیتے ہیں کہ اس حدیث میں ہے کہ ایک دو مرتبہ کے دودھ پلانے سے حرمت ثابت نہیں، اور کتاب اللہ کے اندر کیا آیا؟ ﴿وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ﴾ تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے، یہ مطلق ہے، اس میں کوئی قلیل اور کثیر کی قید موجود نہیں ہے۔ تو یہ جو حدیث ہے، یہ آیت نازل ہونے سے پہلے کی حدیث ہو گی یا اس کے بعد کی ہو گی، دو ہی صورتیں ہیں نا؟ حدیث پہلے آئی اور کتاب اللہ بعد میں، یا کتاب اللہ پہلے ہے اور حدیث بعد میں ہے، تو اگر یہ حدیث پہلے ہے اور کتاب اللہ بعد میں آئی ہے، تو کتاب اللہ تو مطلق ہے، معلوم ہوا کتاب اللہ نے اس حکم کو منسوخ کر دیا۔ حدیث میں تو کیا تھا؟ ایک دو مرتبہ کا دودھ پلانا حرمت ثابت نہیں کرتا، لیکن پھر اس کے بعد قرآن کی آیت آ گئی اور اس میں مطلقاً رضاعت کو حرمت کا سبب قرار دیا گیا۔ معلوم ہوا کتاب اللہ کے ذریعے حدیث کیا ہو گئی؟ منسوخ۔ اور اگر اس کا برعکس مان لیں، کتاب اللہ کے اندر جو حکم تھا وہ پہلے تھا اور حدیث بعد میں آئی، تو اس کا ہم جواب یہ دیتے ہیں کہ ایک طرف ہے کتاب اللہ اور دوسری طرف حدیث ہے اور یہ حدیث خبرِ واحد ہے، یہ حدیث خبرِ واحد، تو کتاب اللہ کے اندر حکم مطلق ہے، تو اس حدیث جو خبرِ واحد ہے اس کے ذریعے کتاب اللہ پر زیادتی نہیں کی جا سکتی بھئی۔ یہ زیادتی بھی نسخ کے درجے میں ہے اور خبرِ واحد کے ذریعے تو کتاب اللہ کو منسوخ قرار نہیں دیا جا سکتا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اگر اس حدیث کو کتاب اللہ سے پہلے قرار دیا جائے تو پھر کتاب اللہ نے آ کر اس کو منسوخ کر دیا، اور اگر اس حدیث کو کتاب اللہ کے بعد قرار دیا جائے تو اس صورت میں یہ خبرِ واحد ہے اور خبرِ واحد کے ذریعے کتاب اللہ پر زیادتی جائز نہیں ہے۔ کہتے ہیں ”وَمَا رَوَاهُ مَرْدُودٌ بِالْكِتَابِ“ اور وہ حدیث جس کو انہوں نے روایت کیا ”مَرْدُودٌ بِالْكِتَابِ“ اس کو رد کیا جائے گا کتاب اللہ کے ذریعے، اگر کتاب اللہ پہلے ہے اور یہ حدیث بعد میں ہے تو بھی کتاب اللہ پر زیادتی جائز نہیں اس خبرِ واحد کے ذریعے، تو یہ حدیث اس کو رد کیا جائے گا کتاب اللہ کے ذریعے ”أَوْ مَنْسُوخٌ بِهِ“ یا اگر کتاب اللہ بعد میں ہے تو اس کتاب اللہ کے ذریعے یہ حدیث منسوخ ہو گی۔ ”أَوْ مَنْسُوخٌ بِهِ“ یا یہ حدیث منسوخ ہو گی کتاب اللہ کے ذریعے ”وَيَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ فِي مُدَّةِ الرَّضَاعِ لِمَا نُبَيِّنُ“ اور مناسب یہ ہے کہ یہ جو رضاعت ہے یہ مدتِ رضاعت کے اندر ہونی چاہیے ”لِمَا نُبَيِّنُ“ اس وجہ سے جو ہم بیان کریں گے۔ بھئی متن میں آیا تھا، متن میں: ”قَلِيلُ الرَّضَاعِ وَكَثِيرُهُ سَوَاءٌ“ تھوڑی یا زیادہ رضاعت سب برابر ہیں ”إِذَا حَصَلَ فِي مُدَّةِ الرَّضَاعِ“ کہ جب یہ رضاعت کب پائی جائے؟ مدتِ رضاعت کے اندر، اب اسی کو بیان کرنے لگے ہیں صاحبِ ہدایہ، تو فرماتے ہیں ”وَيَنْبَغِي“ اور مناسب یہ ہے ”أَنْ يَكُونَ فِي مُدَّةِ الرَّضَاعِ“ کہ یہ رضاعت مدتِ رضاعت کے اندر ہونی چاہیے ”لِمَا نُبَيِّنُ“ اس وجہ سے جو ہم بیان کریں گے، اگلی سطر میں وہ بیان فرما رہے ہیں، تو کہتے ہیں: ”ثُمَّ مُدَّةُ الرَّضَاعِ ثَلَاثُونَ شَهْرًا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، وَقَالَا: سَنَتَانِ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ، وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ: ثَلَاثَةُ أَحْوَالٍ“۔ مدتِ رضاعت کتنی ہے؟ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک مدتِ رضاعت جو ہے وہ تیس مہینے ہیں، یعنی ڈھائی سال۔ مدتِ رضاعت کتنی ہے؟ تیس مہینے یعنی ڈھائی سال ہے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک، جبکہ صاحبین اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مدتِ رضاعت دو سال ہے، دو سال ہے، اور جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مدتِ رضاعت تین سال ہے بھئی۔ تین سال کے اندر اگر کوئی بچہ کسی عورت کا دودھ پی لے گا تو رضاعت ثابت ہو جائے گی، یہ کس کے نزدیک؟ امام زفر رحمہ اللہ۔ مذاہب سمجھ میں آ گئے؟ امام صاحب کے نزدیک کتنی مدت ہے؟ تیس مہینے یعنی ڈھائی سال۔ صاحبین اور امام شافعی رحمہما اللہ کے نزدیک دو سال اور امام زفر رحمہ اللہ کے نزدیک تین سال، بھئی اب دیکھیے سب کی دلیلیں ذکر کریں گے۔ کہتے ہیں: "ثُمَّ مُدَّةُ الرَّضَاعِ ثَلَاثُونَ شَهْرًا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ"، پھر مدتِ رضاعت جو ہے وہ تیس مہینے ہے امام صاحب کے نزدیک، "وَقَالَا: سَنَتَانِ"، اور صاحبین فرماتے ہیں دو سال ہیں، "وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ"، اور یہی قول ہے امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی، "وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللهُ: ثَلَاثَةُ أَحْوَالٍ"، اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں تین سال ہیں، ثَلَاثَةُ أَحْوَالٍ۔ یاد رکھو حول سال کو کہتے ہیں، حول کسے کہتے ہیں؟ سال، تو ثَلَاثَةُ أَحْوَالٍ یعنی تین سال۔ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں تین سال ہیں۔ یاد رکھو، مدتِ رضاعت کے اندر کوئی بچہ کسی عورت کا دودھ پیئے گا تو رضاعت ثابت ہو جائے گی، اور اس مدت کے بعد دودھ پلانا حرام ہے۔ یہ مسئلہ یاد رکھنا، اس مدت کے بعد دودھ پلانا حرام ہے۔ اب ہر ایک کی دلیل دیکھیے، کہتے ہیں: "لِأَنَّ الْحَوْلَ حَسَنٌ لِلتَّحَوُّلِ مِنْ حَالٍ إِلَى حَالٍ"، امام زفر رحمہ اللہ کی دلیل پہلے بیان فرما رہے ہیں۔ ابھی میں نے بتایا مدتِ رضاعت کتنی ہے؟ تین سال امام زفر رحمہ اللہ کے نزدیک۔ تو امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ" کہ مائیں جو ہیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں، اس سے معلوم ہوا کہ کم از کم دو سال دودھ پلانا یہ بچے کا حق ہے۔ بچے کا حق کیا ہے؟ کہ ماں اس کو دو سال تک کم از کم دودھ پلائے۔ تو یہ دو سال ہوئے یہ تو بچے کا حق ہے، یہ تو دودھ پلایا ہی جائے گا، اس کے بعد کچھ مزید مدت بھی چاہیے جس کے اندر بچے کو دودھ سے چھڑا کر دوسری غذا پر یعنی روٹی وغیرہ کھانے پر اس کو لگایا جائے بھئی۔ دو سال تک تو بچے کو دودھ پلایا ہے، اب اس کے بعد بچے کو دوسری غذا کا عادی بنانا ہے، روٹی وغیرہ کا اس کو عادی بنانا ہے، تو اس کے لیے بھی کچھ مدت چاہیے جس کے اندر آہستہ آہستہ دودھ پلانے کو کم کیا جائے اور روٹی کھلانے کو بڑھایا جائے یہاں تک کہ بچہ اس مدت کے اندر پوری طرح روٹی کا عادی ہو جائے، اور اس کا اندازہ امام زفر نے ایک سال کے ساتھ لگایا ہے۔ تو دو سال رضاعت والے اور اس کے بعد یہ ایک سال جس کے اندر آہستہ آہستہ بچے کا دودھ چھڑایا جائے گا اور اسے روٹی کا عادی بنایا جائے گا، تو یہ بھی وہ ساتھ ملاتے ہیں تو کل کتنی مدت ہو گئی؟ تین سال ہو گئی، یعنی دو سال تو بچے کا حق ہے اس کو کیا کیا جائے؟ دودھ پلایا جائے، اور اس کے بعد پھر اس کا دودھ آہستہ آہستہ چھڑوایا جائے بھئی۔ تو امام زفر رحمہ اللہ کے نزدیک مدتِ رضاعت تین سال ہے۔ دلیل سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں وہ فرماتے ہیں: "لِأَنَّ الْحَوْلَ" اس لیے کیونکہ حول یعنی سال جو ہے، "حَسَنٌ" اچھا ہے، "لِلتَّحَوُّلِ" تحول کا معنی ہے منتقل ہونا، بدلنا، پلٹنا، "لِلتَّحَوُّلِ" پلٹنے کے لیے، "مِنْ حَالٍ إِلَى حَالٍ" ایک حال سے دوسرے حال کی طرف۔ امام زفر رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں: ایک سال کا وقت یہ اچھی مدت ہے جس میں ایک حال سے دوسرے حال کی طرف منتقل ہوا جا سکتا ہے، جس میں ایک حال سے دوسرے حال کی طرف منتقل ہوا جا سکتا ہے۔ چنانچہ اسی لیے زکوٰۃ بھی ایک سال گزرنے کے بعد واجب کی جاتی ہے، چنانچہ اسی لیے عنین کو بھی ایک سال کا وقت دیا جاتا ہے، کہ ایک سال ایسی مدت ہے جس میں ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل ہوا جا سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: "لِأَنَّ الْحَوْلَ حَسَنٌ لِلتَّحَوُّلِ مِنْ حَالٍ إِلَى حَالٍ"، اس لیے کیونکہ ایک سال وہ اچھا ہے بچے کے منتقل ہونے کے لیے ایک حال سے دوسرے حال کی طرف، "وَلَا بُدَّ مِنَ الزِّيَادَةِ عَلَى الْحَوْلَيْنِ لِمَا نُبَيِّنُ"، اور ضروری ہے زیادتی دو سالوں پر اس وجہ سے جو ہم بیان کریں گے۔ دو سالوں پر زیادتی ضروری ہے، قرآن میں تو دو سال ذکر ہیں لیکن دو سال پر زیادتی ضروری ہے، اور وہ وجہ میں نے ذکر کر دی کہ بچہ پہلے صرف دودھ پر زندہ تھا اب دودھ سے اس کو منتقل کرنا ہے دوسری غذا کی طرف تو اس کے لیے بھی کچھ وقت چاہیے اور اس کا اندازہ کس سے لگایا ہے امام زفر نے؟ ایک سال کے ساتھ۔ توجہ ہے؟ تو کہتے ہیں: "وَلَا بُدَّ مِنَ الزِّيَادَةِ عَلَى الْحَوْلَيْنِ لِمَا نُبَيِّنُ"، اور دو سال پر زیادتی ضروری ہے اس وجہ سے جو ہم بیان کریں گے، میں نے تو بیان کر دیا کہ یہ ایک زائد سال کیوں ہونا چاہیے؟ ایک غذا سے دوسری غذا کی طرف منتقل ہونے کے لیے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو صاحبِ ہدایہ تو آگے ذکر فرمائیں گے لیکن میں نے یہیں پر آپ کو بتلا دیا بھئی۔ تو امام زفر فرماتے ہیں: "وَلَا بُدَّ مِنَ الزِّيَادَةِ عَلَى الْحَوْلَيْنِ" کہ دو سال پر زیادتی ضروری ہے، قرآن میں تو دو سال کا ذکر آتا ہے: "وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ" کہ والدہ جو ہیں وہ اپنی اولاد کو کامل دو سال دودھ پلائیں، لیکن امام زفر فرماتے ہیں اس دو سال سے مزید بھی کچھ وقت چاہیے، دو سال تو دودھ پلانا ہے اس کے بعد دودھ سے اس کو منتقل کرنا ہے دوسری غذا کی طرف تو اس کے لیے بھی ایک سال چاہیے، تو یہ کل کتنے ہو گئے؟ تین سال۔ تو کہتے ہیں: "وَلَا بُدَّ مِنَ الزِّيَادَةِ عَلَى الْحَوْلَيْنِ لِمَا نُبَيِّنُ فَيُقَدَّرُ بِهِ"، اور دو سال پر زیادتی ضروری ہے اس وجہ سے جو ہم بیان کریں گے تو اس کا اس ایک سال کے ساتھ اندازہ لگایا جائے گا۔ "وَلَهُمَا"، صاحبین کی دلیل جو ہے، "قَوْلُهُ تَعَالَى"، اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: "وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا"، اور اس کا حمل جو ہے اور اس کا دودھ چھڑانا جو ہے تیس مہینے ہیں۔ فصال، فصال کا معنی ہے دودھ چھڑانا۔ صاحبین فرماتے ہیں کہ قرآن کے اندر اللہ تعالیٰ نے حمل اور فصال کی مدت تیس مہینے ذکر کی ہے: "وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا" کہ اس بچے کا حمل اور اس کا دودھ چھڑانا تیس مہینے ہے، اور آپ پڑھ چکے ہیں کہ کم سے کم چھ ماہ کے اندر ایک صحیح سلامت بچے کی پیدائش ہو سکتی ہے، تو حمل کی کم سے کم مدت کتنی ہے؟ چھ ماہ ہے، چھ ماہ کے اندر ایک صحیح سلامت بچے کی پیدائش ہو سکتی ہے۔ تو صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ جو تیس مہینے ہیں یہ حمل اور فصال دونوں کی مدت اللہ بیان فرما رہے ہیں، حمل اور فصال یعنی دودھ چھڑانا، یہ حمل اور دودھ چھڑانے دونوں کی مدت تیس مہینے ہے، اور حمل کی تو کم سے کم مدت کتنی ہے؟ چھ مہینے، لہٰذا اس تیس مہینے میں سے چھ مہینے نکال دو تو کتنے رہ گئے؟ دو سال۔ معلوم ہوا یہ جو تیس مہینے ذکر ہوئے اس میں چھ مہینے حمل کے ہیں اور چوبیس مہینے یعنی دو سال وہ فصال کے ہیں یعنی دودھ چھڑانے اور دودھ پلانے کے ہیں۔ تو کہتے ہیں: "وَلَهُمَا قَوْلُهُ تَعَالَى: وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا، وَمُدَّةُ الْحَمْلِ أَدْنَاهَا سِتَّةُ أَشْهُرٍ، فَبَقِيَ لِلْفِصَالِ حَوْلَانِ"، اور صاحبین کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: "وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا"، اور اس بچے کا حمل اور اس کا دودھ چھڑانا وہ تیس مہینے ہے، اور مدتِ حمل جو ہے اس کی کم سے کم مقدار جو ہے وہ چھ ماہ ہے، تو دودھ چھڑانے کے لیے باقی دو سال رہ گئے، تو دو سال مدتِ رضاعت ہے بھئی۔ نیز وہ حدیث ذکر کرتے ہیں، کہتے ہیں: "وَقَالَ النَّبِيُّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ"، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: "لَا رَضَاعَ بَعْدَ حَوْلَيْنِ"، دو سالوں کے بعد کوئی رضاعت نہیں ہے۔ تو دیکھو اس حدیث میں دو سال کے بعد رضاعت کی نفی کی گئی ہے، معلوم ہوا مدتِ رضاعت کتنی ہے؟ دو سال ہے۔ نیز قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: "وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ"، اور اس بچے کا دودھ چھڑانا دو سال کے عرصے میں ہوگا، دیکھو یہاں پر بھی دو سال کا ذکر ہے قرآن میں۔ اور نیز دوسری جگہ اللہ فرماتے ہیں: "وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ"، اور والدائیں جو ہیں وہ اپنی اولاد کو پورے دو سال دودھ پلائیں بھئی، تو اس کے اندر بھی دو سال کا ذکر ہے۔ تو صاحبین فرماتے ہیں ثابت ہو گیا کہ مدتِ رضاعت دو سال ہے، بات سمجھ میں آگئی؟ "وَلَهُ"، اب امام صاحب کی دلیل آگئی، اور امام صاحب کی دلیل جو ہے، "هَذِهِ الْآيَةُ"، یہی آیت ہے۔ امام صاحب بھی دلیل میں یہی آیت ذکر فرماتے ہیں، کون سی آیت؟ "وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا"۔ امام صاحب فرماتے ہیں دیکھو، یہاں دو چیزیں ذکر ہیں: حمل اور فصال، حمل اور فصال، اور دونوں کی مدت "ثَلَاثُونَ شَهْرًا" ذکر کی گئی ہے، اور یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس "ثَلَاثُونَ شَهْرًا" کو دونوں میں تقسیم نہ کیا جائے بلکہ ہر ایک کے لیے یہ پوری پوری مدت ثابت ہو۔ یہ اسی طرح ہے جیسے کوئی شخص جو ہے وہ اپنے دیون کی مدت بیان کرتا ہے، مثلاً ایک شخص ہے اس نے میرے ہزار درہم بھی دینے ہیں اور میرے اس نے سو قفیز گندم بھی دینی ہے، تو اب میں اس سے کہتا ہوں کہ آپ کے پاس یہ ہزار درہم اور یہ سو قفیز گندم کے لیے چھ ماہ کا وقت ہے، آپ کے لیے ہزار درہم اور سو قفیز گندم کے لیے چھ ماہ کا وقت ہے، تو دو دیون کے ساتھ میں نے مدت ذکر کر دی، تو اس کا کیا مطلب ہے؟ مجھے آپ بتائیے بھئی۔ ایک شخص دوسرے کو کہتا ہے کہ آپ پر میرے دو دین ہیں، آپ نے میرے ہزار درہم بھی دینے ہیں اور سو قفیز گندم بھی دینی ہے، تو وہ قرض خواہ اس کو کہتا ہے کہ آپ کے پاس یہ جو دو دین ہیں ان کے لیے آپ کے پاس چھ مہینے کی مدت ہے، تو اس کا کیا مطلب ہے؟ اس مدت کو ان دونوں دیون میں تقسیم کریں گے یا ہر دین کے لیے پوری پوری مدت ہوگی؟ ظاہر سی بات ہے اس کا یہ مطلب تو نہیں ہوگا کہ ہزار درہم کے لیے بھی تین مہینے ہیں اور سو قفیز کے لیے بھی تین مہینے ہیں، اس کا یہ معنی کوئی بھی نہیں لیتا، بلکہ اس کا کیا معنی لیا جاتا ہے؟ کہ دونوں کے لیے ہزار درہم کے لیے بھی چھ مہینے ہیں آپ کے پاس اور سو قفیز گندم کے لیے بھی چھ مہینے ہیں۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ تو یہاں پر بھی قرآن کے اندر حمل اور فصال دو چیزیں ذکر ہیں اور دونوں کے آگے ایک مدت ذکر ہے: "ثَلَاثُونَ شَهْرًا"، تو یہ ثلاثون شہراً کو ان دونوں میں تقسیم نہیں کریں گے بلکہ دونوں کے لیے پورے پورے ثلاثون شہراً ثابت ہو جائیں گے۔ معلوم ہوا حمل کی مدت بھی تیس مہینے اور معلوم ہوا فصال کی مدت بھی تیس مہینے یعنی ڈھائی سال ہے۔ دلیل سمجھ میں آرہی ہے امام صاحب کی؟ تو کہتے ہیں: "وَلَهُ هَذِهِ الْآيَةُ وَوَجْهُهُ أَنَّهُ تَعَالَى ذَكَرَ شَيْئَيْنِ"، اور امام صاحب کی دلیل جو ہے یہی آیت ہے، اور وجہ اس کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دو چیزوں کو ذکر فرمایا، ایک حمل اور ایک فصال، "وَضَرَبَ لَهُمَا مُدَّةً"، اور بیان کیا اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک مدت کو، ضرب کا معنی بیان کرنا بھی ہے، "وَضَرَبَ لَهُمَا مُدَّةً" اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مدت بیان فرمائی، "فَكَانَتْ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِكَمَالِهَا"، تو ان دونوں میں سے ہر ایک کے لیے یہ کامل مدت ہوگی، ہر ایک کے تیس مہینے ہوں گے، "كَالْأَجَلِ الْمَضْرُوبِ لِلدَّيْنَيْنِ"، جیسے وہ مدت جو بیان کی جائے دو دینوں کے لیے، وہ مدت جو دو دینوں کے لیے بیان کی جائے، "إِلَّا أَنَّهُ قَامَ الْمُنَقِّصُ فِي أَحَدِهِمَا"، ہاں، ایک کے حق میں منقص دلیل آگئی۔ نقص ینقص تنقیص کا معنی کمی کرنا۔ بھئی یاد رکھو، حدیث میں آتا ہے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ کوئی بھی بچہ ماں کے پیٹ میں دو سال سے زیادہ نہیں رہ سکتا چاہے معمولی سا وقت ہی کیوں نہ ہو، یعنی کوئی بھی بچہ ماں کے پیٹ میں دو سال سے زائد قطعاً نہیں رہ سکتا بھئی۔ تو یہ حدیث کے اندر آتا ہے، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث ہے۔ اور یہ بات کسی انسان کو عقل سے پتہ نہیں چل سکتی، تو یقیناً انہوں نے حضور علیہ السلام سے سنا ہوگا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو یہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا قول ہے لیکن یہ بھی حدیثِ مرفوع کے درجے میں ہے، کیونکہ یہ بات عقل سے معلوم نہیں ہو سکتی کہ کوئی بچہ دو سال سے زیادہ ماں کے پیٹ میں نہیں رہ سکتا، تو یہ حدیثِ مرفوع کے درجے میں ہے۔ اس سے پتہ چل گیا کہ حمل کی زیادہ سے زیادہ مدت دو سال ہے۔ حمل کی کم سے کم مدت کتنی ہے؟ چھ ماہ، جس میں ایک صحیح سلامت بچہ ہو سکتا ہے، اور زیادہ سے زیادہ مدت کتنی ہے؟ دو سال، بچہ زیادہ سے زیادہ دو سال ماں کے پیٹ میں رہ سکتا ہے اس سے تھوڑا سا بھی زیادہ نہیں رہ سکتا بھئی۔ تو لہٰذا آیت کے اندر تو کیا آیا: "وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا"، معلوم ہوا حمل کے بھی تیس مہینے یعنی ڈھائی سال اور فصال یعنی دودھ چھڑانے کے بھی تیس مہینے یعنی ڈھائی سال۔ لیکن حمل کے بارے میں ایک اور دلیل آگئی کہ حمل کی مدت دو سال سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ آیت سے تو کیا اندازہ ہوا؟ کہ حمل کی مدت بھی ڈھائی سال ہے بھئی، آیت سے تو کیا ثابت ہوا مدت دونوں کی بیان ہو رہی ہے، لیکن ایک اور دلیل آگئی جس نے بتایا کہ حمل کی زیادہ سے زیادہ مدت دو سال ہو سکتی ہے۔ تو لہٰذا حمل کی مدت تو دو سال قرار دے دی جائے گی لیکن فصال کی مدت تو اسی طرح تیس ماہ ہی رہے گی، وہاں پر کوئی کم کرنے والی دلیل نہیں آئی بھئی۔ تو آپ کے ذہن میں یہ اشکال نہ آئے بھئی کہ آیت سے تو پتہ چل رہا ہے حمل کی مدت تیس مہینے ہے، کتنی؟ تیس مہینے ہے، اور آپ حدیث کو ترجیح دے رہے ہیں کتاب اللہ پر بھئی، حدیث کے اندر تو دو سال کی مدت ہے اور آپ بھی کیا کہہ رہے ہیں دو سال؟ تو جواب یہ کہ بھئی یہاں کوئی آیت سے قطعی طور پر یہ پتہ نہیں چل رہا کہ حمل اور فصال دونوں کی تیس تیس مہینے مدت ہے، اگر قطعی طور پر یہ پتہ چلتا کہ دونوں کی مدت تیس تیس مہینے ہے تو صاحبین بھی اسی طرف جاتے، حالانکہ صاحبین تو کس طرف گئے ہیں؟ کہ دونوں کی ملا کر مدت تیس مہینے ہے۔ توجہ ہے؟ معلوم ہوا یہاں پر جو امام صاحب نے آیت کا معنی نکالا ہے وہ کوئی قطعی نہیں ہے، لہٰذا دوسری دلیل کے ذریعے اس میں کمی ہو سکتی ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو لہٰذا حمل کی مدت تو زیادہ سے زیادہ دو سال ہوئی لیکن دودھ چھڑانے کی مدت کے لیے تو کوئی کمی والی دلیل موجود نہیں ہے لہٰذا وہ ڈھائی سال ہی شمار کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: "إِلَّا أَنَّهُ قَامَ الْمُنَقِّصُ فِي أَحَدِهِمَا"، منقص: کم کرنے والا یعنی کم کرنے والی دلیل، "إِلَّا أَنَّهُ قَامَ الْمُنَقِّصُ فِي أَحَدِهِمَا" مگر یہ کہ ان دونوں میں سے ایک کے حق میں کمی والی دلیل آگئی، یعنی حمل کے بارے میں کمی والی دلیل آگئی، "فَبَقِيَ الثَّانِي عَلَى ظَاهِرِهِ"، تو دوسرا جو ہے وہ اپنے ظاہر پر ہی باقی رہے گا، یعنی فصال کے تیس مہینے ہی ہوں گے یعنی مدتِ رضاعت ڈھائی سال ہی ہوگی۔ "وَلِأَنَّهُ لَا بُدَّ مِنْ تَغَيُّرِ الْغِذَاءِ"، اب وہی عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں۔ امام صاحب کے نزدیک مدتِ رضاعت ڈھائی سال ہے، ڈھائی سال ہے۔ وہ فرماتے ہیں قرآن کے اندر جو دو سال کا ذکر ہے یا حدیث کے اندر جو دو سال کا ذکر ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دو سال تو رضاعت بچے کا حق ہے: "وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ" کہ دو سال دودھ پلانا یہ تو بچے کا حق ہے، لیکن اس کے بعد کچھ مدت چاہیے جس میں بچے کا دودھ چھڑایا جا سکے اور اس کو روٹی پر لگایا جا سکے، اور اس کا اندازہ امام صاحب نے چھ ماہ کے ساتھ لگایا ہے۔ یہ عقلی دلیل چل رہی ہے امام صاحب کی، پہلے نقلی دلیل تھی آیت سے ثابت ہو رہا تھا، اب عقلی دلیل کہ دو سال تو بچے کا حق ہے لیکن کچھ مدت مزید بھی ہونی چاہیے جس میں بچے کا دودھ چھڑایا جائے اور اسے روٹی پر لگایا جائے، اور اس کا اندازہ چھ ماہ کے ساتھ لگایا امام صاحب نے، تو دو سال اور چھ ماہ یہ تیس مہینے ہو گئے یعنی ڈھائی سال ہو گئے۔ اور چھ ماہ کے ساتھ اندازہ کیوں لگایا؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ حمل کی ادنیٰ مدت چھ ماہ ہے، چھ ماہ میں ایک بچہ صحیح سلامت پیدا ہو سکتا ہے۔ چھ ماہ میں بچہ صحیح سلامت پیدا ہو سکتا ہے، معلوم ہوا چھ ماہ کی مدت کافی ہے ایک غذا سے دوسری غذا کی طرف منتقل ہونے کے لیے، چھ ماہ کی مدت کافی ہے ایک غذا سے دوسری غذا کی طرف منتقل ہونے کے لیے۔ جیسے یہ بچہ جب ماں کے پیٹ میں تھا تو جو ماں کی خوراک تھی وہی اس کی خوراک تھی، تو اس وقت بچے کی غذا اور تھی، جو ماں کی غذا وہی بچے کی غذا، اور اب جب دودھ پیئے گا تو بچے کی غذا بدل گئی، اور کم سے کم حمل کی مدت کتنی ہے؟ چھ ماہ۔ تو جنین جو ماں کے پیٹ میں تھا اس کی غذا اور تھی اور چھ ماہ کے اندر ایک صحیح سلامت بچہ ہو سکتا ہے، معلوم ہوا چھ ماہ غذا کے بدلنے کے لیے کافی ہیں، چھ ماہ کے بعد دیکھو فوراً اس کو خالص دودھ اس کی غذا بن گئی۔ توجہ ہے؟ جنین کی غذا وہی ہے جو ماں کی غذا، اب اس کے بعد اس کی غذا کیا بننے والی ہے؟ خالص دودھ، صرف دودھ اب یہ پیئے گا اور کوئی چیز نہیں کھائے گا، تو چھ ماہ کے اندر دیکھو اب جنین کی پیدائش ہو گئی اور اس کی غذا بدل گئی، پہلے غذا اور تھی اب غذا، تو دیکھو یہ چھ ماہ غذا کے بدلنے کے لیے کافی ہیں۔ تو کہتے ہیں: "وَلِأَنَّهُ لَا بُدَّ مِنْ تَغَيُّرِ الْغِذَاءِ"، اور ضروری ہے غذا کا بدلنا بھی، "لِيَنْقَطِعَ الْإِنْبَاتُ بِاللَّبَنِ"، تاکہ دودھ کے ذریعے جو نشوونما ہے وہ منقطع ہو جائے، إنبات کا یہاں کیا ترجمہ کریں گے؟ نشوونما۔ وہ کہتے ہیں: "وَلِأَنَّهُ لَا بُدَّ مِنْ تَغَيُّرِ الْغِذَاءِ لِيَنْقَطِعَ الْإِنْبَاتُ بِاللَّبَنِ"، اور ضروری ہے غذا کا بدلنا تاکہ دودھ کے ذریعے جو نشوونما تھی وہ منقطع ہو جائے، "وَذَلِكَ بِزِيَادَةِ مُدَّةٍ يَتَعَوَّدُ الصَّبِيُّ فِيهَا غَيْرَهُ"، اور وہ اس طرح ہوگا کہ ایسی مدت بڑھا دی جائے، "يَتَعَوَّدُ الصَّبِيُّ فِيهَا" کہ جس کے اندر بچہ عادی ہو جائے، "غَيْرَهُ" دودھ کے علاوہ کا۔ تو اتنی مدت بڑھانی پڑے گی جس میں بچہ دوسری غذا کا عادی ہو جائے۔ تو کہتے ہیں: "وَذَلِكَ بِزِيَادَةِ مُدَّةٍ يَتَعَوَّدُ الصَّبِيُّ فِيهَا غَيْرَهُ"، اور یہ غذا کا بدلنا جو ہے ایک ایسی مدت کے بڑھانے کے ذریعے ہوگا کہ جس کے اندر بچہ دودھ کے علاوہ کا عادی ہو جائے، ترجمہ سمجھ میں آرہا ہے؟ "فَقُدِّرَتْ بِأَدْنَى مُدَّةِ الْحَمْلِ"، تو اس کا اندازہ لگایا گیا ادنیٰ مدتِ حمل کے ساتھ، "لِأَنَّهَا مُغَيِّرَةٌ"، کیونکہ یہ بھی غذا کو بدلنے والی ہے، "فَإِنَّ غَذَاءَ الْجَنِينِ يُغَايِرُ غَذَاءَ الرَّضِيعِ"، جنین وہ بچہ جو ماں کے پیٹ میں ہے، رضیع وہ جو دودھ پی رہا ہے، اور آگے ایک لفظ آ رہا ہے فطیم بھئی، فطیم وہ بچہ جس کا دودھ چھڑایا جا رہا ہے۔ تو دیکھو جو جنین تھا جو ماں کے پیٹ میں ہے اس کی غذا اور، رضیع جو دودھ پی رہا ہے اس کی غذا دودھ ہے، اور جو فطیم ہے اس کو کبھی دودھ پلایا جاتا ہے اور کبھی روٹی کھلائی جاتی ہے، توجہ ہے؟ تو فطیم کی غذا اور ہے۔ تو کہتے ہیں: "فَإِنَّ غَذَاءَ الْجَنِينِ يُغَايِرُ غَذَاءَ الرَّضِيعِ"، اس لیے کیونکہ جنین کی غذا جو ہے وہ مغایر ہوتی ہے وہ مختلف ہوتی ہے رضیع کی غذا سے، "كَمَا يُغَايِرُ غَذَاءَ الْفَطِيمِ"، جیسے کہ وہ فطیم جس کے یعنی جس کا دودھ چھڑایا جا رہا ہے جیسے کہ اس کی غذا مختلف ہوتی ہے۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں دو سال یہ تو بچے کا حق ہے اور اس کے بعد بھی کچھ مدت چاہیے جس میں بچے کا دودھ چھڑایا جائے، اور اس کا اندازہ امام زفر نے ایک سال کے ساتھ لگایا اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے چھ ماہ کے ساتھ لگایا ہے۔ "وَالْحَدِيثُ مَحْمُولٌ عَلَى مُدَّةِ الِاسْتِحْقَاقِ"، اور یہ حدیث محمول ہے مدتِ استحقاق پر۔ بھئی صاحبین کی دلیل آئی تھی، صاحبین نے حدیث بھی ذکر کی تھی: "لَا رَضَاعَ بَعْدَ حَوْلَيْنِ"، "لَا رَضَاعَ بَعْدَ حَوْلَيْنِ" دو سال کے بعد رضاعت نہیں ہے، تو اس کا جواب دے رہے ہیں، کہتے ہیں: "وَالْحَدِيثُ مَحْمُولٌ عَلَى مُدَّةِ الِاسْتِحْقَاقِ"، اور یہ حدیث محمول ہے استحقاق کی مدت پر، یعنی معنی یہ ہے، اس کے دو معنی بیان کیے علماء نے: کہ اس حدیث کے اندر مدتِ استحقاق کو بیان کیا گیا ہے یعنی دو سال دودھ پینا تو بچے کا حق ہے، دو سال دودھ پینا تو بچے کا حق، تو اس میں مدتِ استحقاق بیان کی گئی ہے۔ جبکہ بعضوں نے یہاں استحقاق کا اور معنی کیا، وہ فرماتے ہیں استحقاق سے مراد ہے ماں کا اجرت کا مستحق ہونا۔ بھئی بعض اوقات اولاد پیدا ہوئی اور پھر بعد میں میاں بیوی کے درمیان کسی وجہ سے جھگڑا آیا اور خاوند نے بیوی کو طلاق دے دی۔ اب دونوں میں جدائی آگئی، اب دیکھو وہ بچہ چھوٹا بچہ ہے دودھ پیتا بچہ ہے، اور اب ماں خاوند سے مطالبہ کرتی ہے کہ تم نے مجھے طلاق دے دی ہے اب تمہارے بچے کو میں اسی وقت دودھ پلاؤں گی اگر تم مجھے اجرت دو گے، تو وہ ماں دودھ کی اجرت کا مطالبہ کر سکتی ہے اور خاوند کو وہ اجرت دینا پڑے گی بھئی، توجہ ہے؟ جی، تو خاوند کو وہ اجرت دینا پڑے گی۔ اب یاد رکھو، علماء فقہاء فرماتے ہیں کہ دو سال کی مدت تک یہ عورت اجرت کی مستحق ہے۔ دو سال کی مدت کے اندر اندر بچے کو دودھ پلا رہی ہے تو یہ اجرت کی مستحق ہے، دو سال کے بعد بالاتفاق یہ اجرت کی مستحق نہیں، اس کے بعد اس کو اجرت نہیں دی جائے گی بھئی۔ تو یہاں جو استحقاق کا لفظ آیا کہتے ہیں اس سے وہ اجرت کی مدت کا استحقاق بیان ہو رہا ہے۔ کس طرح؟ دیکھو، حدیث میں کیا آیا تھا: "لَا رَضَاعَ بَعْدَ حَوْلَيْنِ"، دو سال کے بعد رضاعت نہیں ہے، مطلب یہ ہے کہ دو سال کے بعد عورت اب اجرت کی مستحق نہیں ہے بھئی، بات سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں: "وَالْحَدِيثُ مَحْمُولٌ عَلَى مُدَّةِ الِاسْتِحْقَاقِ"، اور یہ حدیث محمول ہے استحقاق کی مدت پر کہ یعنی اتنی مدت تک عورت اجرت کی مستحق ہے، "وَعَلَيْهِ يُحْمَلُ النَّصُّ الْمُقَيَّدُ بِحَوْلَيْنِ فِي الْكِتَابِ"، اور اسی پر محمول ہے وہ نص بھئی، میں نے بتایا نص کسے کہتے ہیں؟ قرآن اور حدیث کو۔ تو قرآن میں بھی تو ذکر آیا ہے: "وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ"۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرما رہے ہیں کہ مدتِ رضاعت تیس مہینے ہے، ڈھائی سال ہے، جبکہ قرآن میں تو کیا آیا ہے: "وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ"، یہاں تو دو سال کا ذکر ہے، تو اس کا بھی جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ قرآن کے اندر جو دو سال ذکر ہیں وہ استحقاق کے ذکر ہو رہے ہیں، یہ بچہ دو سال دودھ پینے کا مستحق ہے یا یہ عورت دو سال تک اجرت کی مستحق ہے، رضاعت دو سال تک ہے بھئی۔ تو یہ جو دو سال قرآن میں ذکر ہوئے یہ بھی اس میں بھی استحقاق کی مدت بیان کی جا رہی ہے، اور کہتے ہیں دلیل اس کی یہ ہے کہ اسی کے بعد آگے اللہ فرماتے ہیں: "فَإِنْ أَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ"، "فَإِنْ أَرَادَا"، کہ پہلے کیا ذکر کیا؟ کہ مائیں اپنے بچوں کو دو سال تک دودھ پلائیں، آگے اللہ فرماتے ہیں: "فَإِنْ أَرَادَا فِصَالًا"، پھر اگر ان دونوں نے ارادہ کیا فصالاً دودھ چھڑانے کا، یعنی میاں بیوی نے اب دودھ چھڑانے کا ارادہ کیا "عَنْ تَرَاضٍ" باہمی رضامندی سے، پھر اس کے بعد اگر انہوں نے دودھ چھڑانے کا ارادہ کیا باہمی رضامندی سے، دیکھو فا، فا آ رہی ہے، اور فا کس لیے آتی ہے؟ تعقیب مع الوصل کے۔ معلوم ہوا یہ دو سال کے بعد کا حکم بیان ہو رہا ہے، دو سال دودھ پلائیں پھر اس کے بعد اگر وہ باہمی رضامندی سے دودھ چھڑانا چاہیں، معلوم ہوا اس کے بعد بھی دودھ پلا سکتی ہے۔ اگر اس وقت دودھ چھڑانا لازم ہوتا تو اللہ یہ نہ فرماتے اگر یہ ارادہ کریں دودھ چھڑانے کا، پھر تو حکم ہونا چاہیے تھا آگے دودھ پلا ہی نہیں سکتے، لیکن اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ دو سال مائیں دودھ پلائیں، پھر اس کے بعد اگر یہ دودھ چھڑانے کا ارادہ کریں، معلوم ہوا دو سال سے زائد کی بات اب چل رہی ہے۔ تو یہ جو دو سال ذکر ہوئے یہ کس کے تھے؟ استحقاق کے ذکر ہوئے تھے، یہ مدتِ رضاعت کا ذکر نہیں ہے، بات سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں: "وَعَلَيْهِ يُحْمَلُ النَّصُّ الْمُقَيَّدُ بِحَوْلَيْنِ فِي الْكِتَابِ"، اور اسی پر محمول ہے وہ نص جو مقید ہے حولین کے ساتھ یعنی دو سالوں کے ساتھ فی الکتاب کتاب اللہ کے اندر بھئی۔ وہ نص جو کتاب اللہ میں ہے اور مقید ہے حولین کے ساتھ وہ بھی اسی استحقاق پر محمول ہے۔ دلیل سمجھ میں آگئی اچھی طرح؟ تو امام صاحب کے نزدیک مدتِ رضاعت ڈھائی سال ہے اور صاحبین کے نزدیک مدتِ رضاعت دو سال ہے، اور یاد رکھیے یہاں فتویٰ صاحبین کے قول پر ہے۔ فتویٰ صاحبین کے قول پر ہے، دو سال مدتِ رضاعت ہے اور دو سال بچے کو مائیں دودھ پلائیں، دو سال سے زائد دودھ پلانا جائز نہیں۔ جبکہ امام صاحب کے نزدیک تو مدتِ رضاعت ڈھائی سال ہے، تو بعض علماء نے ان دونوں اقوال میں تطبیق دی: کہ بچے کو دودھ پلانے کا مسئلہ ہو تو صاحبین کے قول پر فتویٰ دیا جائے گا کہ دو سال سے زائد دودھ اب ماں نہیں پلا سکتی دو سال ہی پلا سکتی ہے، اور اگر حرمت کا مسئلہ ہو تو اگر ڈھائی سال تک بھی کسی عورت نے بچے کو دودھ پلا دیا ہے تو حرمت کو ثابت مانا جائے گا، احتیاط اسی میں ہے کیونکہ حلال اور حرام ہونے کا مسئلہ ہے اور احتیاط کس میں زیادہ؟ کہ ڈھائی سال میں بھی اگر بچے نے دودھ پیا ہے تو امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ جیسے جلیل القدر فقیہ جو ہیں وہ ڈھائی سال تک مدتِ رضاعت قرار دے رہے ہیں، تو ڈھائی سال میں بھی اگر کوئی بچہ دودھ پی لیتا ہے تو وہاں بھی حرمت والا حکم لگایا جائے، احتیاط اسی میں ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو رضاعت دو سال قرار دی جائے گی اور حرمت کا مسئلہ آیا تو وہ ڈھائی سال تک بھی ثابت ہو جائے گی۔ حل ہو گیا؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
160 approved lectures · 44 of 160