Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-032

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 15 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 63
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے بھئی: ﴿وَإِذَا فَرَّقَ الْقَاضِي بَيْنَ الزَّوْجَيْنِ فِي النِّكَاحِ الْفَاسِدِ قَبْلَ الدُّخُولِ فَلَا مَهْرَ لَهَا لِأَنَّ الْمَهْرَ فِيهِ لَا يَجِبُ بِمُجَرَّدِ الْعَقْدِ لِفَسَادِهِ، وَإِنَّمَا يَجِبُ بِاسْتِيفَاءِ مَنَافِعِ الْبُضْعِ، وَكَذَا بَعْدَ الْخَلْوَةِ﴾۔ بھئی گزشتہ سبق میں مسئلہ آپ نے پڑھا تھا کہ ایک شخص کسی عورت سے نکاح کرتا ہے کہ یہ جو سامنے سرکے کا مٹکا پڑا ہوا ہے، یہ میں تمہیں بطور مہر کے دوں گا۔ اور بعد میں دیکھا گیا تو وہ شراب نکلی۔ یا دوسری صورت ہے کہ ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا اور کہا کہ یہ جو سامنے غلام ہے، یہ میں تمہیں بطور مہر کے دوں گا۔ اور بعد میں دیکھا گیا تو وہ آزاد آدمی نکلا۔ تو اس صورت کے اندر دیکھو تسمیہ اور اشارہ دونوں جمع ہو رہے ہیں۔ خاوند نے اشارہ بھی کیا ہے اور اس چیز کا نام بھی لیا ہے۔ تو اس صورت میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا ضابطہ یہ ہے کہ جب تسمیہ اور اشارہ جمع ہو جائیں تو اشارے کا اعتبار ہے اس لیے کیونکہ اشارہ جو ہے ابلغ فی التعريف ہے۔ پہچان کروانے میں اشارہ اعلیٰ ہے۔ کسی چیز کی طرف جب اشارہ کر دیا جائے تو وہاں کسی قسم کا ابہام نہیں ہوتا، گویا آپ نے اس چیز پر ہاتھ رکھ کر کہہ دیا ہے کہ یہ چیز ہے بھئی۔ اور جبکہ تسمیہ کے اندر تو بعض اوقات حقیقی معنیٰ کے لیے اس کو استعمال کیا جاتا ہے لفظ کو اور بعض اوقات لفظ کو مجازی معنیٰ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ لہٰذا نام ذکر کرنے میں اتنی پہچان نہیں ہے جتنی پہچان اشارہ کرنے میں ہے۔ تو وہ فرماتے ہیں اشارہ جب اعلیٰ ہے تو اشارے کا اعتبار کیا جائے گا اور جو مشار الیہ ہے وہی مہر مسمیٰ بنے گا۔ اور اشارہ تو شراب کی طرف تھا، تو وہ شراب ہی مہر مسمیٰ بن جائے گی لیکن وہ تو مہر بن نہیں سکتی تو پھر وہاں مہر مثل آ جائے گا۔ اور غلام کہہ کر آزاد آدمی کی طرف اشارہ کیا تو یہی مشار الیہ مہر مسمیٰ بنے گا لیکن یہ تو آزاد ہے، یہ تو مہر بن نہیں سکتا تو پھر اس کی جگہ مہر مثل آ جائے گا۔ تو امام صاحب کے نزدیک دونوں صورتوں میں مہر مثل آ جائے گا۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ جب تسمیہ اور اشارہ جمع ہو جائیں تو وہ تسمیہ کا اعتبار کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ خاوند نے ایک چیز کا باقاعدہ جب نام ذکر کر دیا ہے تو عورت کو گویا لالچ دلا دیا کہ یہ چیز میں تمہیں دوں گا۔ تو لہٰذا اس صورت میں مسمیٰ آئے گا اور مسمیٰ تو ایک صورت میں سرکہ تھا تو لہٰذا اسی شراب کے ہم وزن سرکہ دینا پڑے گا۔ اور دوسری صورت میں جو مسمیٰ تھا وہ غلام تھا، لہٰذا اسی آزاد آدمی کو غلام فرض کر کے اس کی جو قیمت بنتی ہو، وہ قیمت خاوند کو دینا پڑے گی۔ اس لیے کیونکہ مثلیات کے اندر چیز کا مثل آیا کرتا ہے اور ذوات القیم میں ان کی قیمت دینا پڑتی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک یہاں تفصیل ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب تسمیہ اور اشارہ جمع ہو جائیں تو پھر دیکھا جائے گا کہ مسمیٰ اور مشار الیہ کی جنس ایک ہے یا الگ الگ ہے؟ اور پھر یہاں میں نے جنس کی بھی تعریف بتلائی تھی کہ جنس کسے کہتے ہیں؟ اس میں امام صاحب، امام ابو یوسف اور امام محمد ہمارے تینوں ائمہ آپس میں اختلاف کرتے ہیں۔ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک جنس اس چیز کو کہیں گے جو باقی چیزوں سے صورت میں بھی مختلف ہو اور منافع کے اندر بھی مختلف ہو۔ صرف صورت میں مختلف ہو تو وہ الگ جنس نہیں، یا صرف منافع میں الگ ہے وہ الگ جنس نہیں، بلکہ صورت میں بھی باقی چیزوں سے مختلف ہو اور منافع میں بھی باقی چیزوں سے مختلف ہو تو پھر ہی اس کو الگ جنس شمار کریں گے۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک وہ چیز جو دوسری چیزوں سے مختلف ہو احکام کے اندر، اس کو الگ جنس شمار کریں گے۔ اور جبکہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک منافع کا اعتبار ہے کہ جو چیز منافع کے اندر دوسری چیزوں سے الگ ہو اس کو الگ جنس شمار کریں گے۔ تو امام صاحب کے نزدیک یہ جو سرکہ اور شراب ہیں، یہ ایک ہی جنس ہیں کیونکہ ان کے منافع اگرچہ الگ ہیں، سرکہ کھانے پینے میں استعمال ہوگا اور شراب تو نشے کے لیے استعمال ہوتی ہے، منافع تو الگ ہیں لیکن صورت دونوں کی ایک ہی ہے بھئی۔ تو لہٰذا یہ ان کے نزدیک ایک ہی جنس۔ اور اسی طرح آزاد آدمی اور غلام یہ بھی ایک ہی جنس ہیں کیونکہ ان کی صورت بھی ایک جیسی ہے اور منافع بھی تقریباً ایک جیسے ہیں۔ تو امام صاحب کا ضابطہ ذکر ہو چکا کہ ان کے نزدیک ایک جنس ہو یا الگ الگ جنسیں ہوں، دونوں صورتوں میں اشارے کا اعتبار ہے۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ احکام کا اعتبار کرتے ہیں، تو ان کے نزدیک شراب اور سرکہ دونوں الگ الگ جنسیں ہیں کیونکہ سرکہ حلال ہے اور شراب حرام ہے، تو دونوں کے احکام الگ ہیں تو الگ الگ جنسیں ہیں۔ اسی طرح غلام اور آزاد آدمی، اگرچہ ان کی صورت ایک جیسی ہے لیکن ان کے احکام الگ الگ ہیں، غلام کے احکام اور ہیں، آزاد آدمی کے احکام اور ہیں، لہٰذا یہ دونوں الگ جنسیں شمار ہوں گی۔ اور ان کے نزدیک جنس چاہے ایک ہو یا الگ الگ ہو، دونوں صورتوں میں تسمیہ کا اعتبار ہے۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ جو ہیں وہ مقاصد کو دیکھتے ہیں اور مقاصد کے اندر سرکہ اور شراب دونوں کے مقاصد الگ ہیں کیونکہ سرکہ کھانے پینے میں استعمال ہوتا ہے اور شراب تو نشے کے لیے پی جاتی ہے تو دونوں کے مقاصد اور منافع الگ ہیں تو الگ الگ جنسیں ہیں۔ جبکہ آزاد آدمی اور غلام جو ہیں ان کے منافع تقریباً ایک جیسے ہیں اس لیے یہ دونوں ایک ہی جنس شمار ہوں گے۔ تو امام محمد رحمہ اللہ کا ضابطہ میں ذکر کر رہا تھا، وہ فرماتے ہیں کہ جب تسمیہ اور اشارہ جمع ہو جائیں تو اس صورت کے اندر اگر دونوں کی جنس ایک ہو تو مشار الیہ کا اعتبار ہوگا، جو بھی چیز مشار الیہ ہوئی وہی مہر مسمیٰ بن جائے گی۔ جیسے نام غلام کا ذکر کیا اور اشارہ آزاد آدمی کی طرف کیا تو دونوں کی جنس ایک ہے۔ جب جنس ایک ہے تو مشار الیہ کا اعتبار۔ جو بھی چیز مشار الیہ ہے اسی نے مہر مسمیٰ بننا ہے اور مشار الیہ تو آزاد آدمی ہے، وہ تو مہر بن نہیں سکتا تو پھر لہٰذا مہر مثل آ جائے گا۔ تو وہ اس مسئلے میں امام صاحب کے ساتھ ہیں۔ اور اگر مسمیٰ اور مشار الیہ کی جنس الگ الگ ہو تو پھر مسمیٰ کا اعتبار ہے۔ وجہ یہ کہ وہ فرماتے ہیں کہ تسمیہ کے ذریعے چیز کی حقیقت کا پتہ چل جاتا ہے، اس کی ماہیت کا پتہ چل جاتا ہے، اس کے منافع کا پتہ چل جاتا ہے، جبکہ اشارے کے ذریعے چیز کی ذات کا تو پتہ چلتا ہے کہ یہ والی چیز لیکن اس کی ماہیت اور حقیقت اور منافع کا پتہ نہیں چلتا۔ لہٰذا معلوم ہوا تسمیہ جس کے ذریعے حقیقت اور ماہیت کا پتہ چل جائے وہ تعریف کے اندر اعلیٰ و افضل ہے۔ لہٰذا اس لیے پھر جب دونوں کی جنس الگ ہو تو مسمیٰ کا اعتبار کریں گے۔ اور شراب اور سرکہ دونوں کی جنس الگ ہے کیونکہ دونوں کے مقاصد الگ الگ ہیں، منافع الگ الگ ہیں۔ تو جب جنس الگ ہو تو پھر مسمیٰ کا اعتبار ہوتا ہے اور مسمیٰ تو خاوند نے سرکہ ذکر کیا ہے، لہٰذا اس صورت میں اسی شراب کا ہم وزن سرکہ دینا پڑے گا۔ تو اس مسئلے میں امام محمد رحمہ اللہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں۔ پھر اس کی وضاحت بھی کی کہ مثلاً ایک شخص دوسرے کو یاقوت کہہ کر ایک نگینہ بیچتا ہے اور بعد میں وہ شیشہ نکلا۔ تو یہاں دیکھو دونوں چیزوں کی جنس الگ الگ ہے، یاقوت ایک قیمتی پتھر کا نام ہے اور شیشہ اور چیز ہے۔ تو جب مسمیٰ اور مشار الیہ کی جنس الگ الگ ہو تو پھر مسمیٰ کا اعتبار ہوتا ہے۔ تو معلوم ہوا مبیع جو ہے وہ مسمیٰ ہے اور مسمیٰ تو یاقوت ہے اور یاقوت تو یہاں موجود ہی نہیں، لہٰذا یہ بیع ہی منعقد نہیں ہوئی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں تاریکی کے اندر، اندھیرے میں ایک شخص نے دوسرے کو ایک قیمتی پتھر بیچا اور کہا یہ سرخ یاقوت ہے اور دوسرے نے خرید لیا، بعد میں دیکھا تو وہ سبز یاقوت تھا، تو اب دیکھو دونوں کی جنس ایک ہے اگرچہ رنگ الگ الگ ہیں، تو جب مسمیٰ اور مشار الیہ کی جنس ایک ہو تو اس صورت میں پھر مشار الیہ کا اعتبار ہوتا ہے تو مشار الیہ مبیع بنے گا، یعنی جس چیز کی طرف اشارہ کیا تھا اور مشار الیہ تو موجود ہے، لہٰذا بیع منعقد ہو گئی۔ لیکن چونکہ وصف مشتری کی رضامندی کے مطابق نہیں، لہٰذا وہ اس بیع کو رد کر سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اور پھر اس کے بعد ایک اور مسئلہ ذکر کیا صاحبِ ہدایہ نے۔ صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ اگر کسی شخص نے دو غلاموں کی طرف اشارہ کیا اور کہا یہ دو غلام میں تمہیں بطور مہر کے دوں گا اور ان دو میں سے ایک آزاد آدمی نکلا، تو پھر اس صورت میں بھی وہی ضابطے جو پیچھے ذکر ہو گئے۔ امام صاحب کے نزدیک تسمیہ اور اشارہ جب جمع ہو جائیں تو اشارے کا اعتبار ہے، یعنی مشار الیہ جو ہے وہ مہر مسمیٰ بنے گا۔ اور مشار الیہ اگر یہ دونوں غلام آزاد نکلتے پھر تو مہر مثل نے آنا تھا لیکن اس وقت تو ایک ان میں غلام ہی ہے، وہ مہر بن سکتا ہے تو وہی مہر بن جائے گا، اب مہر مثل نہیں آئے گا، یہی غلام مہر بن جائے گا۔ لیکن یہ دس درہم سے کم نہیں ہونا چاہیے کیونکہ کم سے کم مہر دس درہم ہو سکتا ہے۔ لہٰذا اگر یہ چیز دس درہم سے کم ہوئی تو دس درہم پورے کر دیں گے، لیکن مہر مثل نہیں آئے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی کیونکہ مسمیٰ خود موجود ہے۔ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تسمیہ کا اعتبار ہے اور تسمیہ میں تو دو غلام ذکر کیے ہیں، لہٰذا یہ ایک تو غلام ہے یہی دینا پڑے گا اور دوسرے آزاد آدمی کو غلام فرض کر کے اس کی قیمت لگائی جائے گی اور پھر وہ قیمت دینا پڑے گی۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو ایک غلام ہے یہی دیں گے اور مہر مثل تک پورا کر دیں گے اس کو اگر یہ مہر مثل سے کم ہے۔ فرض کرو غلام کی قیمت دو ہزار درہم ہے اور عورت کا مہر مثل تین ہزار درہم ہے، تو یہ غلام بھی دے دیں گے اور ایک ہزار ساتھ درہم زائد بھی دے دیں گے۔ تو وہ فرماتے ہیں کہ اگر یہ دونوں آزاد ہوتے تو مہر مثل نے آنا تھا، تو جب دونوں میں سے ایک آزاد نکلا تو اس صورت میں بھی مہر مثل آئے گا اور اسی کو پورا کر دیں گے، یہ ایک غلام ادا کر دیں گے اور باقی الگ درہم ساتھ دے دیے جائیں گے۔ اور یاد رکھنا میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ صاحبِ ہدایہ کا طریقہ یہ ہے کہ جب وہ مذاہب بیان کرتے ہیں تو سب سے پہلے وہ مذہب بیان کرتے ہیں جو مذہب راجح ہو، اور جب دلائل ذکر کرتے ہیں تو جو مذہب راجح ہوتا ہے اس کی دلیل سب سے آخر میں ذکر کرتے ہیں تاکہ یہ اس مذہب کی دلیل بھی ہو جائے اور باقیوں کے لیے جواب بھی ہو جائے، اور ان دونوں مسئلوں میں آپ دیکھیں صاحبِ ہدایہ نے امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل کو سب سے آخر میں ذکر فرمایا ہے، معلوم ہوا صاحبِ ہدایہ یہاں امام محمد رحمہ اللہ کے قول کو ترجیح دے رہے ہیں بھئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر: ﴿وَإِذَا فَرَّقَ الْقَاضِي بَيْنَ الزَّوْجَيْنِ فِي النِّكَاحِ الْفَاسِدِ قَبْلَ الدُّخُولِ فَلَا مَهْرَ لَهَا﴾ بھئی اب نکاحِ فاسد کی بات آ گئی۔ نکاحِ فاسد کے بارے میں مختصراً کچھ باتیں پہلے بھی گزری تھیں۔ آپ نے پڑھا تھا کہ نکاحِ فاسد اور نکاحِ باطل ایک ہی چیز ہیں۔ بیع کے اندر ایک ہوتی ہے بیع باطل، ایک ہوتی ہے بیع فاسد، دونوں الگ الگ ہیں۔ بیع باطل وہ ہوتی ہے جو ذات کے اعتبار سے ہی صحیح نہ ہو جو بیع، اور بیع فاسد وہ ہے جو ذات کے اعتبار سے تو بیع صحیح ہے لیکن وصف کے اعتبار سے وہ بیع صحیح نہیں۔ تو بیع باطل مثلاً مبیع مال ہی نہیں ہے، تو یہ بیع ذات کے اعتبار سے ہی صحیح نہیں کیونکہ مبیع مال ہی نہیں ہے۔ جبکہ بیع فاسد یہ ہے کہ مبیع مال تو ہے لیکن ساتھ کوئی ایسی چیز ذکر کر دی، کوئی ایسی شرط ذکر کر دی جس کی وجہ سے بیع میں فساد آ گیا، تو یہ بیع ذات کے اعتبار سے تو صحیح ہے کہ مبیع مال ہے لیکن وصف کے اعتبار سے صحیح نہیں، فاسد ہے بھئی۔ تو بیع فاسد اور ہوتی ہے، بیع باطل اور ہوتی ہے، لیکن نکاحِ فاسد اور نکاحِ باطل ایک ہی چیز ہے۔ اب صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک شخص اور ایک عورت جو ہیں وہ آپس میں نکاحِ فاسد کر لیتے ہیں۔ نکاحِ فاسد کر لیا، مثلاً عورت عدت کے اندر تھی، اس کو پہلے خاوند نے طلاق دے دی ہے اور آپ جانتے ہیں کہ عدت کے دوران عورت آگے نکاح نہیں کر سکتی، لیکن اس عورت نے عدت کے اندر ہی نکاح کر لیا تو یاد رکھو یہ نکاحِ فاسد ہے۔ یا اسی طرح آپ جانتے ہیں کہ ایک شخص ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ چار عورتوں کو اپنے عقد میں رکھ سکتا ہے۔ اب ایک شخص کے عقد میں چار بیویاں تھیں، اس نے ان میں سے ایک بیوی کو طلاق دے دی اور ابھی یہ چوتھی بیوی عدت کے اندر ہی ہے کہ اس نے پانچویں عورت سے نکاح کر لیا، تو یاد رکھو یہ بھی نکاحِ فاسد ہے، اس لیے کیونکہ چوتھی بیوی ابھی عدت میں ہے، ابھی پوری طرح اس کے ساتھ نکاح ختم نہیں ہوا، تو گویا بعض اعتبار سے وہ ابھی بھی نکاح میں ہے اور یہ اگلا نکاح کر رہا ہے، تو یہ تو گویا پانچ بیویاں ہو جائیں گی اس کے عقد میں اور یہ تو جائز نہیں۔ تو لہٰذا چوتھی بیوی کی عدت میں پانچویں بیوی سے نکاح کر لے گا تو اس صورت کے اندر یہ نکاحِ فاسد ہے۔ یا اسی طرح ایک شخص ایک عورت سے نکاح کرتا ہے اور مدت متعین کر دیتے ہیں کہ مثلاً ہم ایک سال کے لیے نکاح کرتے ہیں، تو اس صورت میں تو یہ تو متعہ بن گیا بھئی اور نکاحِ متعہ تو باطل ہے لہٰذا یہ نکاح بھی فاسد ہے۔ یا اسی طرح ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا بغیر گواہوں کے، بھئی گواہوں کا ہونا تو شرط ہے، گواہ ہوں گے تو نکاح ہوگا، گواہ نہیں تو نکاح بھی نہیں، تو یہ نکاح بھی فاسد ہے۔ اور یاد رکھو نکاحِ فاسد کا کوئی حکم نہیں ہے جب تک صحبت نہ کر لی جائے۔ ہاں جب خاوند صحبت کر لے گا پھر اس کے بعد احکام آ جائیں گے۔ پھر اس عورت کو مہر بھی دینا پڑے گا، پھر اس عورت پر بعد میں عدت بھی واجب ہوگی اور نیز اگر اس صحبت کی وجہ سے عورت حاملہ ہو گئی اور اس نے بچے کو جنم دیا تو یہ بچہ اسی شخص کا شمار ہوگا، یعنی اس بچے کا نسب اس شخص سے ثابت ہو جائے گا، یہ بچہ ولد الزنا شمار نہیں ہوگا بھئی۔ تو نکاحِ فاسد کا کوئی حکم نہیں ہے صحبت سے پہلے۔ اور نکاحِ فاسد میں ضروری ہے کہ جب ان کو مسئلے کا پتہ چل گیا تو پھر ضروری ہے کہ ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں میاں اور بیوی، کیونکہ ان کا نکاح ہوا ہی نہیں بھئی۔ تو اس کو کہتے ہیں متارکت، ترک سے ہے، ترک کا معنیٰ چھوڑنا، تو متارکت یعنی باہم ایک دوسرے کو یہ چھوڑ دیں گے۔ اور اگر یہ متارکت نہیں کرتے تو پھر قاضی ان کے درمیان جدائی کروا دے گا اور اس میں خاوند طلاق وغیرہ کا لفظ بھی نہیں کہے گا، اس لیے کیونکہ نکاح ہی نہیں ہوا تو طلاق کس چیز کی بھئی؟ طلاق کا مالک تو خاوند نکاح کے بعد بنتا ہے اور یہاں تو یہ نکاح ہی فاسد ہے، باطل ہے، اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ تو بس ایک دوسرے کو چھوڑنے کا پختہ ارادہ کر لیں تو یہ ان میں جدائی آ جائے گی یا قاضی فیصلہ کر دے گا، ان میں جدائی کروا دے گا۔ اور اگر خاوند بیوی کے ساتھ صحبت کر چکا ہے اور پھر باہم یہ متارکت کرتے ہیں، ان کو مسئلے کا پتہ چل گیا ہے، تو اس صورت میں خاوند کا باقاعدہ زبان سے بھی کہنا ضروری ہے کہ میں اس سے جدائی اختیار کرتا ہوں، اب میں اس عورت سے کوئی تعلق نہیں رکھوں گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم ہوا کہ نکاحِ فاسد کا کوئی حکم نہیں ہے صحبت سے پہلے، اور صحبت کے بعد پھر احکام آ جائیں گے، جیسے وطی بالشبہہ کی وجہ سے احکام آ جاتے تھے، یہاں بھی احکام آ جائیں گے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ نکاحِ فاسد کی وجہ سے بھی جو وطی کر لی جائے وہ بھی وطی بالشبہہ ہے۔ اس لیے کیونکہ اس نے وطی کر لی اس شبہے کی وجہ سے کہ شاید میرا نکاح ہو چکا ہے، تو یہ بھی کیا ہے؟ وطی بالشبہہ ہی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَإِذَا فَرَّقَ الْقَاضِي بَيْنَ الزَّوْجَيْنِ فِي النِّكَاحِ الْفَاسِدِ﴾ اور جب قاضی جدائی کروا دے میاں بیوی کے درمیان نکاحِ فاسد میں ﴿قَبْلَ الدُّخُولِ﴾ صحبت سے پہلے ہی ﴿فَلَا مَهْرَ لَهَا﴾ تو اس عورت کے لیے کوئی مہر نہیں ہوگا۔ بھئی آپ نے پڑھا ہے نکاحِ صحیح ہو وہاں پر اگر خاوند صحبت سے پہلے طلاق دے دے تو اگر مہر مقرر کیا تھا تو اس کا نصف دینا پڑے گا اور اگر صحبت کر لی تو پورا مہر دینا پڑے گا۔ جبکہ نکاحِ فاسد میں صرف عقد کیا ہے، صحبت ابھی نہیں کی، اور قاضی ان میں جدائی کرواتا ہے یا یہ آپس میں ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں تو پھر کوئی مہر وغیرہ نہیں آئے گا بھئی، کیونکہ جب تک وطی نہیں نکاحِ فاسد کا کوئی حکم نہیں ہے، وہ کالعدم ہے یعنی شمار ہی نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَإِذَا فَرَّقَ الْقَاضِي بَيْنَ الزَّوْجَيْنِ فِي النِّكَاحِ الْفَاسِدِ قَبْلَ الدُّخُولِ فَلَا مَهْرَ لَهَا لِأَنَّ الْمَهْرَ فِيهِ لَا يَجِبُ بِمُجَرَّدِ الْعَقْدِ لِفَسَادِهِ﴾ اور جب جدائی کروا دے قاضی میاں بیوی کے درمیان نکاحِ فاسد میں صحبت سے پہلے تو اس عورت کے لیے کوئی مہر نہیں ہوگا، اس لیے کیونکہ نکاحِ فاسد میں مہر جو ہے واجب نہیں ہوتا صرف عقد کر لینے سے بوجہ عقد کے فاسد ہونے کے۔ بھئی عقد کیا تو ہے لیکن وہ تو عقد فاسد ہے، اس کا تو کوئی اعتبار ہی نہیں ہے، تو لہٰذا صرف عقد کی وجہ سے کچھ بھی واجب نہیں ہوگا، جبکہ نکاحِ صحیح کے اندر صرف عقد کر لیا ہے تو مہر کا کچھ نہ کچھ حصہ آ گیا اور صحبت کر لے گا تو پھر پورا مہر آ جائے گا، صحبت سے پہلے طلاق دے دی تو نصف مہر دینا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّ الْمَهْرَ فِيهِ لَا يَجِبُ بِمُجَرَّدِ الْعَقْدِ لِفَسَادِهِ، وَإِنَّمَا يَجِبُ بِاسْتِيفَاءِ مَنَافِعِ الْبُضْعِ﴾ نکاحِ فاسد کے اندر مہر صرف عقد کی وجہ سے واجب نہیں ہوتا بوجہ عقد کے فاسد ہونے کے، اور یہ مہر تو واجب ہوتا ہے منافعِ بضع کو وصول کرنے سے، یعنی جب خاوند صحبت کر لے گا اور منافعِ بضع وصول کر لے گا اب مہر واجب ہو جائے گا، اب مہر دینا پڑے گا۔ ﴿وَكَذَا بَعْدَ الْخَلْوَةِ﴾ اور اسی طرح خلوت کے بعد بھی ہے۔ اسی طرح خلوت کے بعد بھی ہے، یعنی اگر نکاحِ فاسد میں خلوت ہو جائے تو بھی عورت کو مہر نہیں ملے گا۔ بھئی دیکھیے آپ نے پیچھے پڑھا تھا کہ خلوتِ صحیحہ کو بھی وطی کے قائم مقام کیا گیا ہے۔ ایک شخص ایک عورت سے نکاح کرتا ہے اور ایک مہر مقرر کیا۔ تو اگر اس عورت سے خاوند نے صحبت کر لی تو پورا مہر دینا پڑے گا اور اگر خلوتِ صحیحہ پائی گئی تو یہ بھی یوں سمجھو صحبت ہو گئی، لہٰذا پورا مہر دینا پڑے گا۔ تو خلوتِ صحیحہ بھی کس کے حکم میں ہے؟ صحبت ہی کے حکم میں ہے۔ لیکن یہاں تو یہ جو نکاحِ فاسد ہے، اس کے اندر یہ جو خلوت ہے یہ خلوتِ صحیحہ ہے ہی نہیں، یہ خلوتِ فاسدہ ہے۔ یہ خلوتِ فاسدہ۔ وجہ یہ کہ یہاں پر خلوت کے باوجود خاوند صحبت پر قادر نہیں۔ دیکھو نکاحِ صحیح پر ذرا پھر آ جائیں۔ نکاحِ صحیح میں جب خلوت پائی گئی تو اس خلوت کی وجہ سے خاوند صحبت پر قادر ہو گیا۔ کرے یا نہ کرے وہ اس کی مرضی ہے لیکن خلوت پر قادر ہو گیا، خلوت کا موقع اس کو مل گیا۔ تو نکاحِ صحیح میں خلوتِ صحیحہ کی وجہ سے خاوند صحبت پر قادر ہو جاتا ہے اس لیے اس کو صحبت ہی کے قائم مقام کر دیا گیا۔ جبکہ نکاحِ فاسد کے اندر تو نکاح ہوا ہی نہیں، وہاں اگرچہ خلوت بھی ہو جائے پھر بھی یہ عورت اس شخص کے لیے حلال نہیں ہے، اس شخص کے لیے اس عورت سے صحبت کرنا حرام ہے، تو یہاں دیکھو شرعی مانع موجود ہے۔ جب شرعی مانع موجود ہے تو خلوت کے باوجود خاوند صحبت پر قادر نہیں۔ جب خاوند صحبت پر قادر نہیں تو یہ خلوت صحبت کے قائم مقام بھی نہیں بنے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَكَذَا بَعْدَ الْخَلْوَةِ لِأَنَّ الْخَلْوَةَ فِيهِ لَا يَثْبُتُ بِهَا التَّمَكُّنُ﴾ اور اسی طرح خلوت کے بعد بھی ہوگا یعنی عورت کے لیے مہر نہیں ہوگا، اس لیے کیونکہ نکاحِ فاسد کے اندر جو خلوت ہوتی ہے اس کی وجہ سے خاوند کے لیے قدرت ثابت نہیں ہوتی یعنی وطی پر قدرت ثابت نہیں ہوتی کیونکہ شرعی مانع موجود ہے کہ اس عورت کے نکاحِ فاسد ہوا ہے، یہ عورت ابھی بھی اس آدمی کے لیے حلال نہیں تو یہ شرعی مانع موجود ہے اور جب مانع موجود ہو تو اس کو خلوتِ صحیحہ نہیں کہتے بلکہ خلوتِ فاسدہ کہتے ہیں۔ ﴿لِأَنَّ الْخَلْوَةَ فِيهِ لَا يَثْبُتُ بِهَا التَّمَكُّنُ فَلَا تُقَامُ مَقَامَ الْوَطْءِ﴾ اس لیے کیونکہ اس نکاحِ فاسد کے اندر جو خلوت ہے اس کے ذریعے خاوند کی وطی پر قدرت ثابت نہیں ہوتی لہٰذا اس خلوت کو وطی کے قائم مقام بھی نہیں کیا جائے گا، لہٰذا عورت کو مہر نہیں ملے گا صرف خلوت پائے جانے پر۔ ہاں جب صحبت کر لے گا پھر مہر دینا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں: ﴿فَإِنْ دَخَلَ بِهَا فَلَهَا مَهْرُ مِثْلِهَا لَا يُزَادُ عَلَى الْمُسَمَّى﴾ اگر خاوند نے اس عورت سے صحبت کر لی تو اس عورت کے لیے اس کا مہر مثل ہوگا لیکن اس کو مسمیٰ پر بڑھایا نہیں جائے گا۔ بھئی ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا ہے اور نکاحِ فاسد ہے اور نکاحِ فاسد کا تو کوئی اعتبار نہیں، لہٰذا جب تک صحبت نہیں کی مہر نہیں، لیکن جب صحبت کر لے گا اب مہر دینا پڑے گا۔ لیکن کیا یہ مسمیٰ جو مقرر کیا تھا انہوں نے آپس میں یہ والا مہر آئے گا یا مہر مثل آئے گا؟ کہتے ہیں بھئی یہ نکاح ہی نہیں، جب نکاح نہیں تو جو مقرر کیا ہے اس کا بھی کوئی اعتبار نہیں، جب اس کا کوئی اعتبار نہیں تو مہر مثل آئے گا، لہٰذا یہاں کیا دینا پڑے گا؟ مہر مثل دینا پڑے گا۔ لیکن یاد رکھو یہ مہر مثل جو اس عورت کو دیا جائے گا یہ اس جو انہوں نے آپس میں مقرر کیا ہے اس کے اندر اندر ہی یہ مہر مثل دیا جائے گا، اگر اس سے زائد ہے مہر مثل تو وہ زائد عورت کو نہیں ملے گا۔ آیا کیا ہے؟ مہر مثل۔ مسمیٰ، وہ جو مہر مسمیٰ تھا جو انہوں نے مقرر کیا وہ نہیں آیا۔ کیوں نہیں آیا؟ کیونکہ نکاح ہی نہیں صحیح۔ مسمیٰ تو تب آتا ہے جب نکاح صحیح ہو جائے۔ تو جب نکاح صحیح نہیں تو وہ مہر مسمیٰ بھی صحیح نہیں، اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ جب اس کا کوئی اعتبار نہیں تو مہر مثل آ جائے گا۔ لیکن یہ مہر مثل اگر اس مسمیٰ کے برابر ہوا یا کم ہوا تو پھر پورا مہر مثل دیں گے، مسمیٰ نہیں دیں گے۔ مثلاً مسمیٰ کتنا ہے؟ دو ہزار درہم۔ اور عورت کا مہر مثلاً ایک ہزار درہم ہے۔ تو پھر مہر مثل دے دیں گے عورت کو بس ایک ہزار درہم دیں گے۔ اور اگر مہر مثل عورت کا دو ہزار ہے اور مسمیٰ بھی کتنا تھا؟ دو ہزار۔ تو پھر بھی اسی کے اندر پورا ہو رہا ہے لہٰذا دو ہزار عورت کو دے دیں گے۔ لیکن اگر مہر مثل مسمیٰ سے زیادہ ہوا، مہر مثل تین ہزار ہے اور انہوں نے آپس میں جو نکاحِ فاسد میں مقرر کیا تھا وہ کتنا ہے؟ دو ہزار ہے۔ تو پھر اس عورت کو دو ہزار ہی ملے گا، وہ دو ہزار سے جو زائد ہے وہ نہیں ملے گا۔ وجہ یہ؟ کیونکہ اس دو ہزار میں خود عورت راضی ہو چکی ہے، گویا اس نے زائد جو تھا اس میں خود کمی کر دی ہے۔ اس نے اس میں خود کمی کر دی ہے تو یہ خود کمی پر جب راضی ہے تو لہٰذا اب دو ہزار ہی ملے گا، مہر مثل جو دو ہزار سے زیادہ ہے وہ نہیں ملے گا۔ تو کہتے ہیں: ﴿فَإِنْ دَخَلَ بِهَا فَلَهَا مَهْرُ مِثْلِهَا لَا يُزَادُ عَلَى الْمُسَمَّى عِنْدَنَا﴾ اگر خاوند نے اس عورت سے صحبت کر لی تو اس عورت کے لیے اس کا مہر مثل ہوگا، ہمارے نزدیک اس مہر مثل کو مسمیٰ پر بڑھایا نہیں جائے گا۔ یہ اس وقت ہے اگر انہوں نے کچھ مہر مقرر کیا تھا۔ آئے گا تو مہر مثل لیکن اس مسمیٰ سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن اگر انہوں نے کوئی مسمیٰ ذکر ہی نہیں کیا، پھر جتنا بھی مہر مثل ہو وہ سارا دینا پڑے گا۔ وہ سارا دینا پڑے گا۔ یاد رکھو مملکتِ اسلامیہ کے اندر جب بھی کوئی شخص وطی کرے گا کسی عورت سے تو دو چیزوں میں سے ایک ضرور آئے گی: یا مہر دینا پڑے گا یا اس شخص پر حد جاری کی جائے گی، اس کو زنا کی سزا ان پر جاری کی جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا مملکتِ اسلامیہ کے اندر کوئی بھی وطی وہ حد یا مہر سے خالی نہیں ہو سکتی۔ تو یہاں پر حد تو نہیں آئے گی کیونکہ شبۂ نکاح تو ہے، یہ تو سمجھے تھے ہمارا نکاح ہو گیا ہے، ان کو تو مسئلے کا پتہ نہیں تھا، تو حد تو نہیں آئے گی، حد تو ادنیٰ شبہے کی وجہ سے بھی ساقط ہو جایا کرتی ہے۔ تو جب حد نہیں آئی تو پھر مہر ضرور آئے گا، تو مہر مثل اس عورت کو ملے گا۔ لیکن وہ مہر مثل ہمارے نزدیک مسمیٰ پر زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ ﴿خِلَافًا لِزُفَرَ رَحِمَهُ اللهُ وَيَعْتَبِرُ بِالْبَيْعِ الْفَاسِدِ﴾ بخلاف امام زفر رحمہ اللہ کے، وہ اس کو قیاس کرتے ہیں بیع فاسد پر۔ یاد رکھو بیع فاسد میں نے آپ کو بتلایا کہ وہ بیع ہے جو ذات کے اعتبار سے تو صحیح ہے، وصف کے اعتبار سے صحیح نہیں۔ ذات کے اعتبار سے صحیح ہونے کا مطلب یہ ہے کہ مبیع مال ہے۔ ایک شخص نے دوسرے شخص کو اپنی گاڑی فروخت کی کہ میں دس لاکھ روپے میں یہ گاڑی آپ کو فروخت کرتا ہوں لیکن شرط یہ ہے کہ تین دن کے بعد میں گاڑی آپ کے حوالے کروں گا کیونکہ تین دن تک مجھے بھی گاڑی کی ضرورت ہے بھئی، مجھے کچھ کام وغیرہ کرنے ہیں۔ تو اس نے یہ شرط لگا دی۔ بھئی یہ شرط جو اس نے لگائی اس میں دیکھو بائع کا فائدہ ہے۔ تو اس شرط کی وجہ سے بیع ہی فاسد ہو گئی، وجہ یہ کہ بیع ہوتے ہی مشتری مبیع کا مالک بن جاتا ہے، لہٰذا مبیع مشتری کے حوالے کرنا چاہیے لیکن یہاں تو بائع نے مبیع کو اپنے فائدے کے لیے، اپنے استعمال کے لیے تین دن کے لیے روک لیا، یہ شرط لگا دی، تو یہ بیع فاسد ہے بھئی۔ تو یہ جو بیع فاسد ہے اس میں بائع اور مشتری گنہگار ہوں گے کیونکہ انہوں نے شریعت کے حکم کی خلاف ورزی کی، ایک ایسے طریقے پر بیع کر لی جس سے شریعت نے منع کیا تھا۔ تو لہٰذا دونوں پر ضروری ہے کہ اس بیع کو ختم کریں، فسخ کریں، ورنہ دونوں گنہگار ہوں گے۔ اور نیز یہ بیع فاسد ہے۔ بیع فاسد کے اندر مشتری جو ہے جب بائع کی مرضی سے مبیع پر قبضہ کرے گا تب مالک بنے گا، اس سے پہلے مالک نہیں۔ جبکہ عام بیع کے اندر بیع ہوتے ہی مشتری مبیع کا مالک بن جاتا ہے۔ مثلاً ایک قلم آپ کی جیب پر لگا ہوا ہے اور آپ نے مجھے کہا یہ قلم میں نے آپ کو سو روپے میں فروخت کر دیا، اور میں نے کہا میں نے قبول کیا، مجھے منظور ہے، تو جیسے ہی ایجاب اور قبول ہوا میں قلم کا مالک بن گیا، قلم بے شک آپ کی جیب پر لگا ہوا ہے لیکن اب میں یعنی مشتری اس کا مالک بن چکا ہے۔ تو عام بیع کے اندر عقد ہوتے ہی مشتری مبیع کا مالک بن جاتا ہے، جبکہ بیع فاسد اس کا تو شرعاً کوئی اعتبار نہیں ہے، وہاں صرف ایجاب اور قبول سے مشتری مالک نہیں بنے گا بلکہ جب مشتری مبیع پر قبضہ کر لے گا باقاعدہ بائع کی رضامندی کے ساتھ تو پھر مشتری اس مبیع کا مالک بنے گا۔ لیکن ان پر اس بیع کو توڑنا ضروری ہے۔ اور نیز یہ بھی یاد رکھنا بیع فاسد کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں، یہ فاسد بیع ہے، لہٰذا اس میں ثمن نہیں دینے پڑیں گے، اس چیز کی پوری قیمت دینا پڑے گی۔ بھئی قیمت جو بازار میں، مارکیٹ میں ایک چیز کا جو نرخ ہوتا ہے وہ اس کی قیمت کہلاتی ہے، اور ثمن، ثمن تو بائع اور مشتری آپس میں جو بھی طے کر لیں۔ فرض کرو مارکیٹ میں اس گاڑی کی قیمت بارہ لاکھ تھی بھئی، اور انہوں نے آپس میں ثمن کتنے طے کیے ہیں؟ دس لاکھ۔ تو یاد رکھو اس صورت میں یہ جو مشتری ہے اس پر ثمن یعنی دس لاکھ نہیں آئے، اس کو پوری قیمت دینا پڑے گی گاڑی کی یعنی بارہ لاکھ روپے۔ کیونکہ ثمن تو تب آتے اگر بیع ہوئی ہوتی، یہ بیع تو شریعت کے نزدیک فاسد ہے، اس کا اعتبار ہی کوئی نہیں، جب بیع کا اعتبار کوئی نہیں تو اس ثمن کا بھی کوئی اعتبار نہیں، لہٰذا مشتری کو قیمت دینا پڑے گی۔ لیکن بہرحال دونوں پر لازم ہے کہ اس بیع کو ختم کریں ورنہ دونوں گنہگار ہوں گے بھئی۔ تو امام زفر رحمہ اللہ اس نکاحِ فاسد کو قیاس کرتے ہیں بیع فاسد پر، اور بیع فاسد کے اندر تو بالاتفاق مبیع کی قیمت آیا کرتی ہے، جتنی بھی قیمت ہو وہ دینا پڑے گی چاہے وہ ثمن سے کم ہو جو طے کیے تھے، وہ جو ثمن طے کیے تھے یہ قیمت چاہے اس ثمن سے کم ہو چاہے زیادہ، پوری قیمت دینا پڑتی ہے۔ تو نکاحِ فاسد میں بھی وہ فرماتے ہیں تسمیہ کا کوئی اعتبار نہیں، وہ جو مہر انہوں نے آپس میں مقرر کیا تھا اس مہر کا کوئی اعتبار نہیں کیونکہ نکاح صحیح ہو پھر اس تسمیہ کا اعتبار ہوتا ہے، وہ جو آپس میں مہر مقرر کیا تھا۔ تو وہ جب نکاح صحیح ہو پھر تسمیہ کا اعتبار ہوتا ہے اور وہ مہر مسمیٰ آ جاتا ہے، لیکن یہاں تو نکاح ہی صحیح نہیں، نکاح فاسد ہے لہٰذا وہ مہر مسمیٰ نہیں آئے گا بلکہ مہر مثل آئے گا، جیسے بیع فاسد میں قیمت آتی ہے اور پھر جیسے بیع فاسد میں پوری قیمت دینا پڑتی ہے چاہے اس مقررہ ثمن سے کم ہو چاہے زیادہ، تو یہاں پر بھی نکاحِ فاسد ہے تو پورا مہر مثل دینا پڑے گا چاہے وہ مسمیٰ سے کم ہو چاہے مسمیٰ سے زیادہ ہو۔ یہ کس کی دلیل ہے؟ امام زفر رحمہ اللہ کی۔ تو کہتے ہیں: ﴿خِلَافًا لِزُفَرَ رَحِمَهُ اللهُ وَيَعْتَبِرُ بِالْبَيْعِ الْفَاسِدِ وَلَنَا أَنَّ الْمُسْتَوْفَى لَيْسَ بِمَالٍ وَإِنَّمَا يَتَقَوَّمُ بِالتَّسْمِيَةِ﴾ بخلاف امام زفر رحمہ اللہ کے، وہ اس کو قیاس کرتے ہیں بیع فاسد پر۔ اور ہماری دلیل یہ ہے، اب ہماری دلیل آ گئی، ہماری دلیل یہ ہے کہ وہ چیز جو وصول کی گئی ہے وہ مال نہیں ہے۔ یعنی خاوند نے صحبت کر لی، منافعِ بضع وصول کر لیے، لیکن یہ منافعِ بضع تو مال نہیں ہیں۔ یہ تو مال نہیں ہیں۔ ﴿وَإِنَّمَا يَتَقَوَّمُ بِالتَّسْمِيَةِ﴾ یہ جو منافعِ بضع ہیں یہ قیمت والے بن جاتے ہیں بالتسمیۃ، کس کی وجہ سے؟ تسمیہ۔ میں نے بتایا تھا تسمیہ کا معنیٰ ہے ذکر کرنا یا اس کا ترجمہ کر لیں مقرر کرنا۔ مراد ہے نکاح میں مہر مقرر کرنا۔ تو تسمیہ کا کیا معنیٰ؟ نکاح میں مہر مقرر کرنا۔ تو کہتے ہیں ہمارے نزدیک: ﴿أَنَّ الْمُسْتَوْفَى لَيْسَ بِمَالٍ﴾ یہ منافعِ بضع جو وصول کیے گئے یہ تو مال نہیں ہیں ﴿وَإِنَّمَا يَتَقَوَّمُ بِالتَّسْمِيَةِ﴾ اور یہ تو قیمت والے بنتے ہیں عقد میں مہر مقرر کرنے کی وجہ سے ہی۔ مہر اسی کا عوض ہوتا ہے نا؟ تو وہ نکاح میں جو مہر مقرر کر دیا جاتا ہے اس کی وجہ سے یہ قیمت والے بن گئے۔ ورنہ تو یہ قیمت والے نہیں، ان کی قیمت نہیں ہے۔ صرف نکاح میں شریعت نے حکم دیا ہے کہ: ﴿أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ﴾ کہ تم اپنے مالوں کے ذریعے اپنی بیویوں کو تلاش کرو، تو معلوم ہوا مال ضرور دینا پڑے گا، تو وہ اس نکاح میں جو مہر آپس میں مقرر کرتے ہیں، اس مہر مقرر کرنے کی وجہ سے وہ منافعِ بضع قیمت والے ہو گئے۔ ویسے تو وہ مال ہی نہیں تھے لیکن اس نکاح میں جو مہر مقرر کیا گیا تو وہ کیا بن گئے؟ قیمت والے ہو گئے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَلَنَا أَنَّ الْمُسْتَوْفَى لَيْسَ بِمَالٍ وَإِنَّمَا يَتَقَوَّمُ بِالتَّسْمِيَةِ﴾ ہماری دلیل یہ ہے کہ وہ چیز جس کو وصول کیا گیا ہے یعنی منافعِ بضع جو ہیں وہ مال نہیں ہیں اور یہ تو قیمت والے بنتے ہیں عقد میں مہر مقرر کرنے کی وجہ سے ہی۔ ﴿فَإِذَا زَادَتْ عَلَى مَهْرِ الْمِثْلِ لَمْ يَجِبِ الزِّيَادَةُ لِعَدَمِ صِحَّةِ التَّسْمِيَةِ﴾ تو جب یہ تسمیہ بڑھ گیا مہر مثل پر، ہم نے کیا کہا تھا؟ ہمارا مذہب کیا ہے؟ کہ مہر مثل دیں گے لیکن اسی مسمیٰ کے اندر اندر دیں گے، اس سے زائد ہو تو نہیں دیں گے۔ تو اب صورت یہ، مثلاً مسمیٰ تھا دو ہزار اور مہر مثل تھا مثلاً ایک ہزار درہم۔ مہر مثل تھوڑا ہے اور مسمیٰ کیا ہے؟ زیادہ ہے۔ تو ہمارے نزدیک مہر مثل آیا ہے وہی ایک ہزار دیں گے، یہ دو ہزار نہیں دیں گے۔ کیوں نہیں دیں گے؟ کیونکہ یہ تسمیہ ہی صحیح نہیں ہے، نکاح ہوتا تو تسمیہ صحیح ہوتا، نکاح صحیح نہیں تو یہ تسمیہ یعنی مہر کا مقرر کرنا بھی صحیح نہیں، اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ جب اس کا کوئی اعتبار نہیں تو وہی ہزار مہر مثل ہی عورت کو ملے گا۔ تو کہتے ہیں: ﴿فَإِذَا زَادَتْ عَلَى مَهْرِ الْمِثْلِ لَمْ يَجِبِ الزِّيَادَةُ لِعَدَمِ صِحَّةِ التَّسْمِيَةِ﴾ جب تسمیہ بڑھ جائے مہر مثل پر تو وہ جو زائد ہے وہ واجب نہیں ہوگا۔ تسمیہ بڑھ گیا، دو ہزار ہے، اور مہر مثل کتنا ہے؟ ایک ہزار ہے، تو یہ جو ایک ہزار سے زائد ہے یہ واجب نہیں، کیوں نہیں واجب ہوگا؟ کیونکہ اس تسمیہ کا کوئی اعتبار نہیں، کیوں نہیں اعتبار؟ کیونکہ اس نکاح کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ نکاح کا اعتبار ہوتا تو پھر اس تسمیہ کا بھی اعتبار ہوتا وہ جو مہر مقرر کیا ہے۔ تو یہ معنیٰ ہے: ﴿لَمْ يَجِبِ الزِّيَادَةُ﴾ تو یہ جو مہر مثل پر زائد ہے یہ واجب نہیں ہوگا، بس مہر مثل ہی دینا پڑے گا ﴿لِعَدَمِ صِحَّةِ التَّسْمِيَةِ﴾ بوجہ تسمیہ کے صحیح نہ ہونے کے، کیونکہ یہ تسمیہ صحیح نہیں بھئی۔ ﴿وَإِنْ نَقَصَتْ﴾ اور اگر یہ تسمیہ کم ہوا مہر مثل سے، مثلاً تسمیہ کتنا ہے؟ دو ہزار، اور مہر مثل تین ہزار ہے فرض کرو۔ اب مہر مثل زیادہ ہے اور تسمیہ کم۔ یہ مہر مثل تو تسمیہ سے زیادہ ہو رہا ہے اور عورت نے تو خود جب دو ہزار ذکر کیا ہے، معلوم ہوا دو ہزار سے زائد وہ خود کمی کر چکی ہے، اس کو معاف کر چکی ہے۔ تو لہٰذا وہ زائد نہیں دیں گے پھر یہ دو ہزار ہی دے دیں گے۔ مہر مثل تین ہزار بن رہا ہے لیکن ایک ہزار جو زائد بن رہا ہے وہ نہیں دیں گے کیونکہ عورت دو ہزار پر خود راضی ہو چکی ہے، معلوم ہوا اس نے خود ہی ایک ہزار درہم کمی کر دی ہے اپنے مہر مثل سے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ یہ معنیٰ ہے: ﴿وَإِنْ نَقَصَتْ﴾ اور اگر تسمیہ کم ہو مہر مثل سے۔ لَمْ تَجِبِ الزِّيَادَةُ عَلَى الْمُسَمَّى، تو واجب نہیں ہوگا وہ جو زائد ہے مسمیٰ پر۔ مسمیٰ دو ہزار ہے، تو دو ہزار سے زائد جو ایک ہزار ہے وہ واجب نہیں ہوگا۔ لِعَدَمِ التَّسْمِيَةِ، بوجہ تسمیہ نہ ہونے کے۔ کیونکہ اس کا تو تسمیہ ہی نہیں۔ زیادہ سے زیادہ تسمیہ کتنے کا کیا ہے؟ دو ہزار کا۔ مہر مثل کتنا ہے؟ تین ہزار۔ تو دو ہزار سے زائد کا تو تسمیہ ہی نہیں ہے۔ عورت نے اس کو ذکر ہی نہیں کیا تھا۔ عورت نے ذکر ہی کتنے کیے تھے؟ دو ہزار۔ تو دو ہزار سے زائد کا تسمیہ ہی نہیں ہے، لہٰذا وہ زائد نہیں آئے گا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں پھر دیکھیے، تو کہتے ہیں: وَإِنْ نَقَصَتْ، اور اگر تسمیہ مہر مثل سے کم ہوا، لَمْ تَجِبِ الزِّيَادَةُ عَلَى الْمُسَمَّى، تو وہ جو زائد ہے مہر مسمیٰ پر وہ واجب نہیں ہوگا، لِعَدَمِ التَّسْمِيَةِ، کیونکہ اس زائد کا تو تسمیہ ہی نہیں ہے۔ تسمیہ تو صرف دو ہزار تک کا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ بعض شارحین فرماتے ہیں کہ نکاحِ فاسد میں من وجہ تسمیہ کا اعتبار ہے، من وجہ تسمیہ کا اعتبار نہیں۔ بعض اعتبار سے تسمیہ کا اعتبار ہے، بعض اعتبار سے تسمیہ کا اعتبار نہیں۔ مثلاً دیکھو: مسمیٰ کتنا؟ دو ہزار۔ مہر مثل کتنا؟ تین ہزار۔ تو جب مہر مثل مسمیٰ سے زیادہ ہو رہا ہو تو کہتے ہیں اب مسمیٰ کا اعتبار کریں گے اور دو ہزار ہی دیں گے۔ اور اگر مہر مثل مسمیٰ سے کم ہے مثلاً ایک ہزار ہے، تو پھر اس صورت میں مسمیٰ کا اعتبار نہیں کریں گے مہر مثل ہی دیں گے۔ تو بعض شارحین کیا تقریر فرماتے ہیں کہ نکاحِ فاسد کے اندر بعض اعتبار سے دیکھا جائے تو مسمیٰ، وہ جو مہر مقرر کیا ہے، اس مسمیٰ کا اعتبار ہے، بعض اعتبار سے مسمیٰ کا اعتبار نہیں۔ اگر مہر مثل اس مسمیٰ سے زیادہ ہو رہا ہے تو مسمیٰ ہی دیں گے، مسمیٰ کا اعتبار کریں گے۔ اور اگر مہر مثل مسمیٰ سے کم ہے تو مہر مثل وہ کم والا دے دیں گے، مسمیٰ کا اعتبار نہیں کریں گے۔ تو نکاحِ فاسد میں بعض اعتبار سے مسمیٰ کا اعتبار ہے، بعض اعتبار سے مسمیٰ کا اعتبار نہیں۔ جبکہ بعض اور شارحین نے اور تقریر کی، وہ فرماتے ہیں حق یہ ہے کہ نکاحِ فاسد میں مسمیٰ کا بالکل اعتبار ہے ہی نہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ کسی بھی اعتبار سے مسمیٰ قابلِ اعتبار نہیں ہے بھئی۔ مسمیٰ کا کوئی اعتبار نہیں ہے، کیونکہ نکاحِ فاسد ہے بھئی۔ نکاحِ صحیح ہو تب مسمیٰ کا اعتبار ہوتا ہے، نکاحِ فاسد میں مسمیٰ کا اعتبار نہیں ہوتا۔ تو پھر ان پر اشکال ہوتا ہے کہ مہر مثل اگر مسمیٰ سے بڑھ جائے تو مسمیٰ ہی دیتے ہیں، مہر مثل نہیں دیتے، تو مسمیٰ کا اعتبار تو کیا جا رہا ہے اور آپ کہتے ہیں کہ نکاحِ فاسد میں مسمیٰ کا اعتبار ہی نہیں ہوتا۔ تو وہ جواب دیتے ہیں، کہتے ہیں دیکھو: وہاں پر دراصل عورت کی رضامندی آ چکی ہے، اس دو ہزار سے زائد میں اس نے خود کمی کی ہے۔ اور کمی ایک ہی شخص کی جانب سے ہو جاتی ہے، اس میں دوسرے کے قبول کرنے کا یا اس میں قبضہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ مثلاً آپ ایک چیز خریدنے دکان پر گئے، دس ہزار کی چیز ہے، دکاندار آپ کو کہتا ہے میں آپ کو پانچ ہزار روپے کی دیتا ہوں۔ تو دیکھو جو دکاندار نے کمی کر دی، اس میں وہ کمی کرنے والے کی طرف سے ہی کمی پوری ہو گئی، اس میں آپ کے لیے قبول وغیرہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ تو کمی جب کسی چیز میں کی جائے تو وہ ایک ہی شخص پر پوری ہو جاتی ہے۔ لیکن دوسرے کے لیے اگر کوئی اضافہ کرتا ہے، یعنی اس کو مالک بناتا ہے، تو وہاں قبضہ ہوگا تو وہ مالک بنے گا، قبضہ نہیں ہوگا تو مالک بھی نہیں۔ ہبہ سے سمجھ لو اس کو۔ ہبہ یاد رکھو، جب آپ کسی کو کوئی تحفہ دیتے ہیں تو صرف آپ کے کہنے سے وہ اس چیز کا مالک نہیں بنتا۔ مثلاً میرے پاس ایک کتاب پڑی ہے، میں آپ سے کہتا ہوں یہ کتاب میں نے آپ کو تحفے کے طور پر دے دی۔ تو صرف میرے یہ کہنے سے آپ مالک نہیں بنے۔ ہاں، جب آپ اس کو اٹھا لیں گے، اس پر قبضہ کر لیں گے، پھر آپ اس کے مالک بن جائیں گے۔ تو ہبہ جو ہے قبضے سے تام ہوتا ہے، پورا ہوتا ہے۔ جب جس کو ہبہ کیا گیا ہے وہ کیا کر لے؟ اس چیز پر قبضہ کر لے، پھر ہبہ پورا ہو گیا اور پھر وہ شخص مالک بنا، اس سے پہلے وہ مالک نہیں۔ تو معلوم ہوا ہبہ کے اندر دوسرے شخص کا قبضہ اور اس کا قبول کرنا بھی ضروری ہے۔ تو کمی ایک ہی آدمی کی طرف سے پوری ہو جاتی ہے لیکن زائد دینا ہے، دوسرے کو مالک بنانا ہے، جب تک وہ قبضہ نہیں کرے گا وہ اس کا مالک بھی نہیں۔ تو یہاں پر بھی جب مہر مثل ہے تین ہزار اور عورت نے مسمیٰ کتنا ذکر کیا ہے؟ دو ہزار۔ معلوم ہوا دو ہزار سے جو زائد تھا وہ عورت نے خود ہی کمی کر دی ہے اور کمی تو ایک فرد کی طرف سے بھی پوری ہو جاتی ہے۔ تو یہاں جو ہم نے کہا کہ مسمیٰ سے زائد نہیں دیں گے، وہ اس عورت کی رضامندی کی وجہ سے۔ اس کے مسمیٰ ہونے کی وجہ سے نہیں، کہ یہ اس کمی پر عورت خود راضی ہو چکی ہے، اس رضامندی کی وجہ سے اس مسمیٰ سے زائد ہم نہیں دیں گے۔ تو یہاں جو مسمیٰ سے زائد عورت کا حق تھا، عورت خود اس کو ساقط کرنے پر راضی ہو گئی ہے۔ تو اس لیے اس عورت کی رضامندی کی وجہ سے اس مسمیٰ سے زیادہ ہم نہیں دیں گے۔ یہ وجہ نہیں کہ اس مسمیٰ کا اعتبار ہے، بلکہ اس سے زائد عورت نے گویا خود ہی کیا کر دی؟ کمی کر دی، لہٰذا وہ عورت کو نہیں ملے گا۔ جبکہ اگر مہر مثل کم بنتا ہے مثلاً ایک ہزار، حالانکہ خاوند اور بیوی نے کتنا ذکر کیا تھا؟ دو ہزار ذکر کیا تھا، تو مہر مثل سے جو زائد تھا وہ تو ابھی عورت کے حوالے نہیں کیا، تو عورت اس کی مالکہ بھی نہیں بنی۔ جب عورت اس کی مالکہ نہیں بنی تو وہی ہزار ہی دینا پڑے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جیسے کسی کو کوئی چیز دی جاتی ہے، زائد چیز دی جائے تو وہ جب تک قبضہ نہ کرے وہ اس کا مالک نہیں بنتا۔ تو یہاں بھی مہر مثل تو ایک ہزار تھا، خاوند نے اگرچہ دو ہزار ذکر کیا تھا، لیکن وہ جو ہزار سے زائد ہے اس کی ابھی بھی عورت مالک نہیں بنی، وہ عورت کا ابھی بھی حق نہیں بنا، لہٰذا ہزار ہی دینا پڑے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے: بِخِلَافِ الْبَيْعِ، بخلاف بیع کے۔ یہاں سے امام زفر رحمہ اللہ کے قیاس کا جواب دے رہے ہیں۔ امام زفر رحمہ اللہ نے اس نکاحِ فاسد کو قیاس کیا تھا بیعِ فاسد پر اور بیعِ فاسد میں تو جتنی بھی قیمت ہو وہ آتی ہے، تو وہ فرماتے ہیں نکاحِ فاسد میں بھی جتنا مہر مثل ہوگا وہی آئے گا، چاہے وہ مسمیٰ سے زائد ہی کیوں نہ ہو۔ تو اس کا اب جواب دے رہے ہیں کہ نہیں، آپ نکاحِ فاسد کو بیعِ فاسد پر قیاس نہیں کر سکتے۔ وجہ یہ کہ بیعِ فاسد کے اندر جو مبیع تھا وہ مال تھا۔ مبیع کیا تھا؟ مال تھا اور اس کی کوئی نہ کوئی مارکیٹ میں قیمت ہوتی ہے۔ جبکہ یہاں پر جو منافعِ بضع ہیں وہ مال نہیں ہیں۔ عقدِ صحیح ہوگا تو پھر ان کی قیمت ہوگی، ویسے ان کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ لہٰذا آپ اس نکاحِ فاسد کو بیعِ فاسد پر قیاس نہیں کر سکتے کیونکہ دونوں میں فرق ہے۔ ایک میں عوض مال ہے، دوسرے میں عوض مال نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: بِخِلَافِ الْبَيْعِ؛ لِأَنَّهُ مَالٌ مُتَقَوِّمٌ فِي نَفْسِهِ، بخلاف بیع کے، اس لیے کیونکہ بیعِ فاسد کے اندر جو مبیع یا جو عوض ہے وہ تو مالِ متقوم ہے فی نفسہ اپنی ذات کے اعتبار سے۔ متقوم یعنی جس کی قیمت ہو، مارکیٹ میں قیمت ہو۔ لِأَنَّهُ مَالٌ مُتَقَوِّمٌ فِي نَفْسِهِ فَيَتَقَدَّرُ بَدَلُهُ بِقِيمَتِهِ، اس لیے کیونکہ بیعِ فاسد کے اندر جو عوض ہے وہ تو مالِ متقوم ہوتا ہے اپنی ذات کے اعتبار سے، لہٰذا اس کا بدل متعین ہوگا اس کی قیمت کے ساتھ۔ اس کا بدل متعین ہوگا اس کی قیمت، مبیع دیا ہے تو اس کا بدل اس کی قیمت دینا پڑے گی بھئی۔ آگے دیکھیے: وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ إِلْحَاقًا لِلشُّبْهَةِ بِالْحَقِيقَةِ فِي مَوْضِعِ الِاحْتِيَاطِ وَتَحَرُّزًا عَنِ اشْتِبَاهِ النَّسَبِ۔ میں نے آپ کو بتلایا نکاحِ فاسد میں جب خاوند صحبت کر لے تو اب عورت پر عدت بھی واجب ہے۔ اب وہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ، اور اس عورت پر عدت بھی واجب ہوگی، جب خاوند کیا کر لے؟ صحبت کر لے۔ إِلْحَاقًا لِلشُّبْهَةِ بِالْحَقِيقَةِ، الحاق، الحاق کا معنیٰ ہے ملانا، ملاتے ہوئے لِلشُّبْهَةِ شبۂ نکاح کو بِالْحَقِيقَةِ حقیقتِ نکاح کے ساتھ۔ بھئی یہاں حقیقۃً تو نکاح نہیں ہوا، صرف شبۂ نکاح ہے، یعنی ان دونوں کا کیا خیال ہے شاید ہمارا نکاح ہو چکا ہے۔ ان کو مسئلے کا پتہ نہیں تھا کہ بغیر گواہوں کے نکاح نہیں ہوتا، تو یہ کیا سمجھ رہے ہیں ہمارا نکاح ہو چکا ہے، تو یہاں حقیقتِ نکاح نہیں ہے بلکہ شبۂ نکاح ہے۔ اور شبۂ نکاح کو بھی حقیقتِ نکاح والا حکم دیا جائے گا، اور حقیقتِ نکاح کے اندر تو جب جدائی آ جائے خاوند اور بیوی کے درمیان تو وہاں عدت آتی ہے، تو یہاں پر بھی جب جدائی آ جائے جب صحبت کی ہے، تب عورت پر عدت آ جائے گی۔ تو کہتے ہیں: وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ إِلْحَاقًا لِلشُّبْهَةِ بِالْحَقِيقَةِ فِي مَوْضِعِ الِاحْتِيَاطِ، اور اس عورت پر عدت واجب ہوگی شبۂ نکاح کو حقیقتِ نکاح کے ساتھ ملاتے ہوئے احتیاط کے مقام میں۔ بھئی دیکھو، عبارت تھی: إِلْحَاقًا لِلشُّبْهَةِ، ملاتے ہوئے شبہ کو، اور میں ترجمہ کیا کر رہا ہوں؟ شبۂ نکاح کو ملاتے ہوئے۔ اور آگے ہے: بِالْحَقِيقَةِ، حقیقت کے ساتھ، اور میں ترجمہ کر رہا ہوں حقیقتِ نکاح کے ساتھ۔ وجہ یہ کہ لِلشُّبْهَةِ، الف لام داخل ہے الشبہۃ پر، معلوم ہوا ہر شبہ مراد نہیں، کوئی خاص شبہ مراد ہے اور وہ کون سا شبہ ہے؟ یہاں شبۂ نکاح مراد ہے۔ اور الحقیقۃ پر بھی الف لام داخل ہے، معلوم ہوا ہر حقیقت نہیں مراد، کوئی خاص حقیقت مراد ہے اور وہ یہاں پر کون سی حقیقت مراد ہے؟ حقیقتِ نکاح۔ تو الشبہۃ سے مراد شبۂ نکاح اور الحقیقۃ سے مراد حقیقتِ نکاح۔ تو یہ معنیٰ ہے إِلْحَاقًا لِلشُّبْهَةِ بِالْحَقِيقَةِ فِي مَوْضِعِ الِاحْتِيَاطِ، شبۂ نکاح کو حقیقتِ نکاح کے ساتھ ملاتے ہوئے احتیاط کے مقام میں۔ یہ احتیاط کا مقام ہے کیونکہ خاوند نے صحبت کی ہے۔ عورت ہو سکتا ہے حاملہ ہو چکی ہو، تو اس صورت میں اگر آگے اس کو نکاح کی اجازت دے دی جائے کہ یہ فوراً آگے نکاح کر سکتی ہے تو پھر اس صورت میں بچے کا نسب مشتبہ ہو جائے گا، پتہ ہی نہیں چلے گا یہ کس کی اولاد ہے۔ تو بچے کے نسب کو بچانے کے لیے، اس کی حفاظت کے لیے، بطورِ احتیاط کے عورت پر عدت کو واجب قرار دیا گیا۔ تو کہتے ہیں: إِلْحَاقًا لِلشُّبْهَةِ بِالْحَقِيقَةِ فِي مَوْضِعِ الِاحْتِيَاطِ وَتَحَرُّزًا عَنِ اشْتِبَاهِ النَّسَبِ، شبۂ نکاح کو حقیقتِ نکاح کے ساتھ ملاتے ہوئے احتیاط کے مقام میں اور بچنے کے لیے نسب کے اشتباہ سے، تاکہ بچے کے نسب میں کسی قسم کا کوئی اشتباہ نہ آئے۔ یاد رکھو، یہ وَتَحَرُّزًا یہ عطفِ تفسیری ہے إِلْحَاقًا کے لیے۔ عورت پر کیوں عدت واجب کی گئی؟ یہ احتیاط کا مقام تھا، تو شبۂ نکاح کو کس سے ملا دیا گیا؟ حقیقتِ نکاح کے ساتھ۔ تفسیر کر دی کہ یہاں بچے کا نسب مشتبہ ہو جائے گا، تو اشتباہِ نسب سے بچنے کے لیے اس شبۂ نکاح کو کس سے ملایا گیا ہے؟ حقیقتِ نکاح سے۔ تو کہتے ہیں: وَتَحَرُّزًا عَنِ اشْتِبَاهِ النَّسَبِ، اشتباہِ نسب سے بچنے کے لیے۔ وَيُعْتَبَرُ ابْتِدَاؤُهَا مِنْ وَقْتِ التَّفْرِيقِ لَا مِنْ آخِرِ الْوَطَآتِ۔ اچھا بھئی، اب یہ عدت کب سے شمار کی جائے گی؟ عدت کب سے شمار کی جائے گی؟ تو امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو عدت اس عورت پر واجب ہوئی ہے، یہ اس صحبت کی وجہ سے واجب ہوئی ہے، لہٰذا آخری صحبت سے اس کی عدت شمار کریں گے۔ جب دونوں نے آپس میں ایک دوسرے کو چھوڑنے کا پکا ارادہ کیا یعنی یا قاضی نے دونوں میں جدائی کروا دی، اس وقت سے عدت نہیں شمار کریں گے، بلکہ جس وقت خاوند نے آخری صحبت کر لی تھی اس سے اگلے دن سے عدت شمار کریں گے۔ تو وہ آخری وطی کا اعتبار کرتے ہیں کہ یہ عدت آئی بھی وطی کی وجہ سے تھی، لہٰذا اس کا شمار بھی آخری وطی سے ہی ہوگا۔ جبکہ ہمارے ائمہ فرماتے ہیں کہ یہ جب قاضی جدائی کروا دے گا یا باہم جب یہ دونوں ایک دوسرے کو چھوڑنے کا پکا ارادہ کر لیں گے، تو اس وقت سے عدت شمار کریں گے، آخری وطی کو نہیں دیکھیں گے۔ وہ اس کو قیاس کرتے ہیں نکاحِ صحیح پر۔ نکاحِ صحیح کے اندر جو عدت آتی ہے وہ جدائی کے بعد، طلاق کے بعد آیا کرتی ہے، تو یہاں پر بھی عدت جدائی کے بعد ہی شروع ہوگی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: وَيُعْتَبَرُ ابْتِدَاؤُهَا مِنْ وَقْتِ التَّفْرِيقِ لَا مِنْ آخِرِ الْوَطَآتِ، اور عدت کی ابتدا کا اعتبار کیا جائے گا جدائی کے وقت سے، نہ کہ آخری وطی سے۔ هُوَ الصَّحِيحُ، یہی قول صحیح ہے۔ لِأَنَّهَا تَجِبُ بِاعْتِبَارِ شُبْهَةِ النِّكَاحِ، اس لیے کیونکہ یہ عدت واجب ہوئی ہے عورت پر شبۂ نکاح کے اعتبار سے۔ کس اعتبار سے؟ شبۂ نکاح تو تھا نا، دونوں نے ایجاب بھی کیا ہے، قبول بھی کیا ہے، لیکن مثلاً خرابی کیا آئی، گواہ وہاں موجود نہیں تھے، تو شبۂ نکاح کی وجہ سے یہ عدت آئی ہے، تو لہٰذا اس کو صحیح نکاح پر قیاس کیا جائے گا اور وہاں پر جدائی کے بعد، طلاق کے بعد عدت شروع ہو جاتی ہے تو یہاں بھی جدائی کے بعد عدت شمار ہوگی بھئی۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّهَا تَجِبُ بِاعْتِبَارِ شُبْهَةِ النِّكَاحِ وَرَفْعُهَا بِالتَّفْرِيقِ، اس لیے کیونکہ یہ جو عدت واجب ہوئی ہے یہ شبۂ نکاح کے اعتبار سے واجب ہوئی ہے اور یہ شبۂ نکاح اٹھ جائے گا یعنی ختم ہو جائے گا جدائی کروانے سے۔ عدت کیوں آئی ہے؟ شبۂ نکاح کی وجہ سے، اور شبۂ نکاح کب ختم ہوگا؟ جب تفریق کروا دی جائے گی، تو پھر عدت شروع ہوگی۔ وَيَثْبُتُ نَسَبُ وَلَدِهَا، اور اس عورت کے بچے کا نسب بھی ثابت ہو جائے گا۔ یعنی یہ ولد الزنا شمار نہیں ہوگا، یہ اسی شخص کا بیٹا شمار ہوگا۔ تو کہتے ہیں: وَيَثْبُتُ نَسَبُ وَلَدِهَا لِأَنَّ النَّسَبَ يُحْتَاطُ فِي إِثْبَاتِهِ، اور اس عورت کے بچے کا نسب بھی ثابت ہوگا، اس لیے کیونکہ نسب جو ہے احتیاط کی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے میں۔ نسب کے اندر احتیاط کی جاتی ہے، جس قدر ہو سکے بچے کے لیے نسب ثابت کیا جاتا ہے۔ کیوں؟ إِحْيَاءً لِلْوَلَدِ، بچے کو زندہ کرنے کے لیے، بچے کو زندگی دینے کے لیے۔ وجہ یہ کہ اگر بچے کا نسب ثابت نہیں مانا جائے گا، بچے کا ولد الزنا مانا جائے گا اس کا نسب ثابت نہیں مانا جائے گا، پھر تو کوئی بھی اس بچے کی پرورش نہیں کرے گا، تو یہ اس بچے کی ہلاکت کا خطرہ ہے، اور اگر ہلاک نہیں بھی ہوتا تو بھی اس کی تربیت کرنے والا کوئی نہیں ہوگا اور پھر بڑے ہو کر معاشرے کے اندر بھی ایک معزز انسان کے طور پر اس کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ تو بچے کو زندگی دینے کے لیے اس لیے اس نسب کے ثابت کرنے میں احتیاط کی جاتی ہے، تاکہ بچہ ضائع نہ ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ النَّسَبَ يُحْتَاطُ فِي إِثْبَاتِهِ إِحْيَاءً لِلْوَلَدِ فَيَتَرَتَّبُ عَلَى الثَّابِتِ مِنْ وَجْهٍ، اس لیے کیونکہ نسب جو ہے احتیاط کی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے میں بچے کو زندگی دینے کے لیے، لہٰذا یہ نسب مرتب ہو جاتا ہے اس نکاح پر بھی جو من وجہ ثابت ہے۔ فَيَتَرَتَّبُ عَلَى الثَّابِتِ مِنْ وَجْهٍ، لہٰذا یہ نسب مرتب ہو جائے گا اس نکاح پر جو ثابت ہے بعض اعتبار سے۔ بھئی دیکھو، یہاں تو نکاح جو ہے حقیقت میں تو نکاح نہیں ہوا، لیکن بہرحال نکاح کی صورت تو انہوں نے بنائی تھی، ایجاب و قبول تو کیا تھا انہوں نے آپس میں، تو اس اعتبار سے نکاح صورتاً ہے، حقیقۃً نہیں۔ تو بعض اعتبار سے بھی نکاح جب ثابت ہے تو نسب کے ثابت کرنے میں احتیاط سے کام لیا جاتا ہے، لہٰذا وہ نکاح جو بعض اعتبار سے ثابت ہے اس پر بھی یہ نسب مرتب ہو جائے گا اور اس بچے کا نسب ثابت ہو جائے گا۔ یہ معنیٰ ہے: فَيَتَرَتَّبُ عَلَى الثَّابِتِ مِنْ وَجْهٍ، لہٰذا یہ نسب مرتب ہو جائے گا اس نکاح پر جو بعض اعتبار سے ثابت ہے۔ وَتُعْتَبَرُ مُدَّةُ النَّسَبِ مِنْ وَقْتِ الدُّخُولِ عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى، اور نسب کی مدت کا اعتبار کیا جائے گا صحبت کے وقت سے امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک اور اسی پر فتویٰ ہے۔ یاد رکھیے، نکاحِ صحیح کے اندر مدتِ نسب کا اعتبار کیا جاتا ہے وقتِ نکاح سے۔ مثلاً ایک عورت کا ایک شخص سے صحیح نکاح ہوا اور اس عورت نے چھ ماہ بعد بچے کو جنم دے دیا، تو کم سے کم چھ ماہ کی مدت میں ایک صحیح سلامت بچہ پیدا ہو سکتا ہے۔ تو اب اس مدتِ نسب کا اعتبار نکاحِ صحیح میں نکاح کے وقت سے کیا جائے گا۔ نکاح کے بعد چھ ماہ پورے ہونے کے بعد ایک عورت نے بچے کو جنم دیا ہے تو یہ اسی خاوند کا شمار ہوگا، اور اگر اس سے پہلے اس نے بچے کو جنم دیا تو وہ اس خاوند کا شمار نہیں ہوگا بلکہ ولد الزنا شمار ہوگا۔ تو معلوم ہوا نکاحِ صحیح میں مدتِ نسب کا اعتبار کب سے کیا جاتا ہے؟ وقتِ نکاح سے۔ کس سے؟ وقتِ نکاح سے۔ تو شیخین فرماتے ہیں: نکاحِ فاسد کے اندر بھی مدتِ نسب کا اعتبار وقتِ نکاح سے کیا جائے گا۔ یعنی جس وقت انہوں نے نکاح کیا ہے اس کے چھ مہینے پورے ہونے کے بعد عورت نے بچے کو جنم دیا تو اس کا نسب ثابت ہو جائے گا۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نہیں، یہاں پر مدتِ نسب کا اعتبار کیا جائے گا صحبت کے وقت سے۔ نکاحِ فاسد کیا ہے ایک شخص نے ایک عورت سے اور پھر اس کے ایک مہینے بعد اس نے اس عورت سے صحبت کی ہے اسی نکاحِ فاسد کی وجہ سے، اور پھر اس کے بعد اس نے پانچ مہینے کے بعد ایک بچے کو جنم دے دیا۔ تو اب نکاح کے اعتبار سے تو چھ مہینے پورے ہو گئے ہیں لیکن صحبت کے اعتبار سے پانچ مہینے گزرے ہیں، تو شیخین فرماتے ہیں نکاح کا اعتبار ہے لہٰذا یہ بچہ ثابت النسب ہے، یہ اسی شخص کا بچہ شمار ہوگا، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، صحبت کے وقت سے مدتِ نسب کا اعتبار کیا جائے گا اور صحبت کے بعد تو صرف پانچ مہینے گزرے ہیں، لہٰذا یہ بچہ ثابت النسب نہیں ہوگا، یہ اس شخص کا بچہ شمار نہیں ہوگا۔ اور یاد رکھو امام محمد رحمہ اللہ کے قول پر ہی فتویٰ ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ کے قول پر ہی فتویٰ ہے۔ وجہ یہ، وجہ یہ کہ نکاحِ صحیح جو ہے وہ داعی الی الوطی ہے، وہ وطی کی طرف دعوت دینے والا ہے، وطی کی طرف لے جانے والا ہے، کیونکہ ایک شخص کا جب ایک عورت سے نکاح ہو گیا ہے وہ جانتا ہے یہ عورت میرے لیے حلال ہو چکی ہے۔ تو نکاحِ صحیح کس کی طرف لے جانے والا ہے؟ وطی کی طرف، لہٰذا اس لیے نکاحِ صحیح کو وطی کے قائم مقام کر دیا گیا اور وہیں سے مدتِ نسب شمار کی جاتی ہے۔ جبکہ نکاحِ فاسد وہ تو فاسد ہے، اس کا تو اعتبار ہی کوئی نہیں، لہٰذا وہ وطی کی طرف داعی بھی نہیں۔ جب وہ وطی کی طرف داعی نہیں تو اس کو وطی کے قائم مقام بھی نہیں کیا جائے گا، لہٰذا نکاحِ فاسد سے مدت شمار نہیں کریں گے بلکہ جب خاوند وطی کرے گا تب سے مدت شمار کریں گے۔ تو کہتے ہیں: وَتُعْتَبَرُ مُدَّةُ النَّسَبِ مِنْ وَقْتِ الدُّخُولِ عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى، اور مدتِ نسب کا اعتبار کیا جائے گا صحبت کے وقت سے امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک اور اسی پر فتویٰ ہے۔ لِأَنَّ النِّكَاحَ الْفَاسِدَ لَيْسَ بِدَاعٍ إِلَيْهِ، اس لیے کیونکہ نکاحِ فاسد جو ہے وہ وطی کی طرف داعی نہیں ہے، وَالْإِقَامَةُ بِاعْتِبَارِهِ، اور یہ جو قائم مقام کرنا تھا، یعنی اس نکاح کو وطی کے جو قائم مقام کرنا تھا، بِاعْتِبَارِهِ وہ اسی داعی ہونے کے اعتبار سے تھا۔ نکاحِ صحیح داعی الی الوطی تھا اس لیے اس کو وطی کے قائم مقام کر دیا، لیکن نکاحِ فاسد تو داعی الی الوطی نہیں لہٰذا اس کو وطی کے قائم مقام نہیں کیا جا سکتا۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ النِّكَاحَ الْفَاسِدَ لَيْسَ بِدَاعٍ إِلَيْهِ وَالْإِقَامَةُ بِاعْتِبَارِهِ، اس لیے کیونکہ نکاحِ فاسد جو ہے وہ وطی کی طرف داعی نہیں ہے اور یہ جو نکاح کو وطی کے قائم مقام کیا جاتا ہے وہ اسی داعی ہونے کے اعتبار سے ہوتا ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: قَالَ: وَمَهْرُ مِثْلِهَا يُعْتَبَرُ بِأَخَوَاتِهَا وَعَمَّاتِهَا وَبَنَاتِ أَعْمَامِهَا، اب مہر مثل کا بیان کر رہے ہیں کہ مہر مثل کے اندر کن عورتوں کو دیکھا جائے گا؟ ایک عورت کے مہر مثل کا اندازہ لگانا ہے تو کن عورتوں کے ساتھ اس کا اندازہ لگایا جائے گا؟ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ نسب کا اعتبار باپ کی طرف سے ہوتا ہے۔ اولاد جو ہے وہ اپنے باپ کے خاندان میں سے شمار ہوتی ہے۔ لہٰذا باپ کے خاندان کے اندر جو عورتیں ہیں ان کو دیکھا جائے گا اور جو اس عورت کے جیسی ہوں اپنی صفات کے اندر تو ان کے ساتھ مہر مثل کا اس کا اندازہ لگایا جائے گا۔ مثلاً، مثلاً اس کی بہنیں ہیں کسی عورت کی بہنیں ہیں ان کے مہر کو دیکھا جائے گا، اسی طرح یا اس کے چچا کی بیٹی ہے اس کو دیکھا جائے گا وہ بھی اسی کے خاندان سے ہے، یا اس کی پھوپھیاں جو ہیں ان کو دیکھا جائے گا پھوپھیاں جو باپ کی بہنیں ہیں وہ بھی اسی کے خاندان سے ہیں، مطلب یہ ہے اسی کے خاندان کی عورتوں کے ساتھ اس کا اندازہ لگایا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: قَالَ: وَمَهْرُ مِثْلِهَا يُعْتَبَرُ بِأَخَوَاتِهَا وَعَمَّاتِهَا وَبَنَاتِ أَعْمَامِهَا، اور اس عورت کے مہر مثل کا اعتبار کیا جائے گا اس کی بہنوں کے ساتھ اور اس کی پھوپھیوں کے ساتھ اور اس کے چچوں کی بیٹیوں کے ساتھ، لِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، بوجہ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کے، آپ نے فرمایا: لَهَا مَهْرُ مِثْلِ نِسَائِهَا لَا وَكْسَ فِيهِ وَلَا شَطَطَ۔ بھئی حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا ایک عورت کا نکاح ہوا تھا اور مہر مقرر نہیں کیا گیا تھا اور صحبت سے پہلے ہی خاوند کا انتقال ہو گیا۔ ایک عورت کا نکاح ہوا ہے، مہر مقرر نہیں کیا اور صحبت سے پہلے ہی خاوند کا انتقال ہو گیا۔ اور آپ جانتے ہیں جب کوئی مہر مقرر نہ کیا جائے تو مہر مثل آ جاتا ہے، اور یہ مہر مثل خاوند صحبت کر لے تب بھی پکا ہو جاتا ہے اور صحبت سے پہلے خاوند کا انتقال ہو جائے تب بھی یہ مہر مثل پکا ہو جاتا ہے۔ دیکھیے، یہ حدیث حاشیے میں پوری دی ہوئی ہے: لِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ: قُلْتُ أَخْرَجَهُ التِّرْمِذِيُّ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ، کہ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً، ایک ایسے آدمی کے بارے میں جس نے ایک عورت سے نکاح کیا وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا، اور اس آدمی نے اس عورت کے لیے کوئی مہر مقرر نہیں کیا وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا حَتَّى مَاتَ، اور اس نے اس عورت کے ساتھ صحبت نہیں کی تھی یہاں تک کہ مر گیا، انتقال ہو گیا، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، تو حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے: لَهَا مِثْلُ صَدَاقِ نِسَائِهَا، اس عورت کے لیے اس عورت کی عورتوں کے مہر کے مثل ہوگا نِسَائِهَا، ہا ضمیر اس عورت کو راجع ہے، مِثْلُ صَدَاقِ نِسَائِهَا، اس عورت کی عورتوں کے مہر کے مثل مہر جو ہوگا، اس عورت کی عورتیں مراد ہے اس عورت کے خاندان کی جو عورتیں ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: لَهَا مِثْلُ صَدَاقِ نِسَائِهَا، اس عورت کے لیے اس کی عورتوں کے مہر کے مثل ہوگا لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ، وکس کہتے ہیں کمی کو، واؤ، چھوٹا کاف اور سین: وکس، اس کا معنیٰ ہے کمی۔ شطط بھئی، شین، طا، طا: شطط کہتے ہیں زیادتی کو۔ لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ، نہ اس میں کمی ہوگی اور نہ زیادتی، یعنی پورا اتنا ہی دیں گے۔ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ، اور اس عورت پر عدت واجب ہوگی۔ بھئی خاوند نے تو صحبت نہیں کی لیکن خاوند کا انتقال تو ہوا ہے، تو وہ انتقال والی عدت گزارے گی یعنی چار مہینے دس دن۔ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ، اور اس عورت پر عدت واجب ہوگی، وَلَهَا الْمِيرَاثُ، اور اس عورت کے لیے میراث بھی ہوگی، یہ وارثہ بنے گی اپنے خاوند کی۔ اب آئیے متن پر۔ کہتے ہیں: لِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کی وجہ سے وہ فرماتے ہیں: لَهَا مَهْرُ مِثْلِ نِسَائِهَا لَا وَكْسَ فِيهِ وَلَا شَطَطَ، کہ اس عورت کے لیے اس کی عورتوں کے مثل مہر ہوگا نہ تو اس میں کوئی کمی ہوگی اور نہ زیادتی۔ وَهُنَّ أَقَارِبُ الْأَبِ، اور یہ عورتیں جو ہیں، وَهُنَّ اور یہ عورتیں جو ہیں، أَقَارِبُ الْأَبِ اس عورت کے باپ کے رشتہ دار ہیں۔ نِسَائِهَا اس عورت کی عورتیں، اس سے کون مراد ہیں؟ کہتے ہیں: هُنَّ أَقَارِبُ الْأَبِ، اس عورت کے باپ کی رشتہ دار عورتیں، یعنی باپ کے خاندان میں سے ہیں۔ بھئی بعض شارحین نے لکھا ہے کہ وَهُنَّ أَقَارِبُ الْأَبِ یہ بھی حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہی قول ہے اور وہ تفسیر کر رہے ہیں نِسَائِهَا کی۔ لیکن دیگر شارحین فرماتے ہیں کہ یہ صاحبِ ہدایہ کا قول ہے، یہ نِسَائِهَا کی تفسیر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ، یہ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول نہیں ہے۔ تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: وَهُنَّ، اس عورت کی جو عورتیں وہ وہ عورتیں ہیں أَقَارِبُ الْأَبِ جو اس کی باپ کی رشتہ دار ہیں۔ وَلِأَنَّ الْإِنْسَانَ مِنْ جِنْسِ قَوْمِ أَبِيهِ، اور اس لیے کیونکہ انسان جو ہے وہ اپنے باپ کی قوم کی جنس میں سے ہوتا ہے، یعنی کس میں شمار ہوتا ہے؟ اپنے باپ کی قوم میں سے۔ وَقِيمَةُ الشَّيْءِ إِنَّمَا تُعْرَفُ بِالنَّظَرِ فِي قِيمَةِ جِنْسِهِ، اور کسی چیز کی قیمت جو ہے اس کو جانا جاتا ہے اسی کی جنس کی قیمت میں نظر کر کے۔ بھئی آپ نے جس چیز کی بھی قیمت کا اندازہ لگانا ہے تو اسی جنس کی چیزوں کی قیمتوں میں آپ کو نظر کرنا پڑے گی، اسی جنس کی چیزوں کی قیمتوں کو آپ کو دیکھنا پڑے گا۔ مثلاً آپ ایک سائیکل کی قیمت لگانا چاہتے ہیں تو اسی کی جنس کی یعنی دوسری سائیکلوں کی قیمتوں میں آپ کو نظر ڈالنا پڑے گی، پھر آپ کو اس سائیکل کی قیمت کا بھی اندازہ ہو جائے گا۔ یا آپ ایک موٹر سائیکل کی قیمت کا اندازہ لگانا چاہتے ہیں تو اسی کی جنس کی جو چیزیں ہیں یعنی دوسری موٹر سائیکلیں جو ہیں ان کے اندر ان کی قیمت میں آپ کو نظر ڈالنا پڑے گی، پھر آپ کو اس موٹر سائیکل کی قیمت کا بھی اندازہ ہو جائے گا۔ تو لہٰذا ایک عورت جو ہے اس کے منافعِ بضع کی قیمت لگانی ہے، توجہ ہے؟ اس کے مہر کی بات چل رہی ہے۔ تو ایک عورت کے منافعِ بضع کی قیمت کا آپ اندازہ لگانا چاہتے ہیں تو اسی کے خاندان کی جو عورتیں ہیں جو اس کے مثل ہیں، جو اس جیسی ہیں، ان کے مہر سے اس کا اندازہ لگایا جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: وَقِيمَةُ الشَّيْءِ إِنَّمَا تُعْرَفُ، کہ کسی چیز کی قیمت جو ہے اس کو جانا جاتا ہے بِالنَّظَرِ فِي قِيمَةِ جِنْسِهِ، اسی چیز کی جنس کی جو قیمت ہے اس میں نظر ڈالنے سے۔ کہتے ہیں: وَلَا يُعْتَبَرُ بِأُمِّهَا وَخَالَتِهَا، اچھا بھئی اس عورت کی ماں ہے یا اس کی خالہ ہے، کہتے ہیں اس کے ساتھ اس کے مہر کا اندازہ نہیں لگایا جائے گا کیونکہ وہ عموماً الگ خاندان کی ہوں گی، لیکن اگر وہ بھی اسی خاندان سے ہیں یعنی اس عورت کی جو ماں ہے وہ اس عورت کے باپ کے چچا کی بیٹی تھی۔ باپ نے اپنے چچا کی بیٹی سے شادی کی ہے، تو چچا کی بیٹی تو معلوم ہوا وہ بھی اسی خاندان کی ہے، تو پھر اس صورت میں اس ماں کے ساتھ بھی مہر کا اندازہ لگایا جائے گا کیونکہ وہ بھی اسی قوم کی ہے، اسی خاندان کی ہے۔ اور اگر وہ دوسرے خاندان کی ہے پھر اس کے ساتھ مہر کا اندازہ نہیں لگایا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: وَلَا يُعْتَبَرُ بِأُمِّهَا وَخَالَتِهَا إِذَا لَمْ تَكُونَا مِنْ قَبِيلَتِهَا، اور اعتبار نہیں ہے اس کی ماں کا اور اس کی خالہ کا جب یہ دونوں اس عورت کے قبیلے سے یعنی اس کے خاندان سے نہ ہوں لِمَا بَيَّنَّا، اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی کہ باپ کے خاندان کو دیکھا جائے گا۔ فَإِنْ كَانَتِ الْأُمُّ مِنْ قَوْمِ أَبِيهَا، تو اگر وہ عورت کی ماں جو ہے مِنْ قَوْمِ أَبِيهَا وہ بھی اس کے باپ کے قوم میں سے ہے بِأَنْ كَانَتْ بِنْتَ عَمِّهِ، بایں صورت کہ وہ اس کے باپ کے چچا کی بیٹی تھی، اس کے باپ کے چچا کی بیٹی تھی جس سے اس نے نکاح کیا تھا فَحِينَئِذٍ يُعْتَبَرُ بِمَهْرِهَا، تو پھر اس وقت اس کے مہر کا بھی اعتبار کیا جائے گا لِمَا أَنَّهَا مِنْ قَوْمِ أَبِيهَا، اس وجہ سے کہ یہ بھی اس کے باپ کے قوم میں سے ہے۔ وَيُعْتَبَرُ فِي مَهْرِ الْمِثْلِ، اب آپ کو بتلائیں گے کہ مہر مثل میں کن چیزوں کو مدنظر رکھا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: وَيُعْتَبَرُ فِي مَهْرِ الْمِثْلِ أَنْ تَتَسَاوَى الْمَرْأَتَانِ فِي السِّنِّ وَالْجَمَالِ وَالْمَالِ وَالْعَقْلِ وَالدِّينِ، اور مہر مثل کے اندر یہ معتبر ہے کہ دونوں عورتیں برابر ہوں فی السن، عمر میں، والجَمَال، اور حسن و جمال میں، والمَال، اور مالداری میں، والعَقْل، اور عقل کے اندر، والدِّين، اور دینداری میں۔ دین سے کیا مراد ہے؟ دینداری مراد ہے۔ دینداری میں یعنی اس کے باپ کے خاندان میں ایسی اور عورتوں کا کیا مہر ہے جن کی اسی جیسی عمر ہو، اسی جیسا حسن و جمال ہو، اسی جتنا مالدار بھی اسی کی طرح ہیں اور اسی کی طرح عقل والی بھی ہے اور اسی کی طرح دیندار بھی ہے۔ ان سب صفات کو دیکھا جائے گا۔ اس خاندان کی اور دوسری عورتیں جو ان تمام صفات میں اس عورت جیسی ہوں تو ان کا جو مہر تھا وہی اس کا بھی مہر ہوگا۔ اور اگر ساری صفات نہ مل سکیں تو جتنی موجود ہوں وہ انہی کے ساتھ دیکھ لیا جائے گا۔ اور پھر اگر باپ کے خاندان میں کوئی بھی ایسی نہیں ہے، باپ کے خاندان میں کوئی بھی ایسی نہیں ہے ان صفات والی، تو پھر اس صورت میں اور اطراف کے اور ان کے برابر کے جو خاندان ہوں وہاں ان صفات والی عورت کا جو مہر ہوتا ہے وہی اس کا مہر مثل قرار دیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں پھر دیکھیے، کہتے ہیں: وَيُعْتَبَرُ فِي مَهْرِ الْمِثْلِ أَنْ تَتَسَاوَى الْمَرْأَتَانِ فِي السِّنِّ وَالْجَمَالِ وَالْمَالِ وَالْعَقْلِ وَالدِّينِ، اور مہر مثل کے اندر معتبر یہ ہے کہ دونوں عورتیں برابر ہوں عمر میں اور حسن و جمال میں، مال میں اور عقل میں اور دینداری میں۔ دینداری سے مراد یہ ہے کہ یہ عورت جتنی دیندار ہے، دین پر عمل کرنے والی ہے اور جتنے تقویٰ والی ہے تو دوسری عورت بھی اسی جیسی ہو بھئی۔ بھئی یہ وہ چیزیں ہیں جن کے اندر لوگ رغبت رکھتے ہیں۔ دیکھو عمر ہے، ایک کم عمر والی ہے ایک زیادہ عمر والی ہے، تو لوگ کم عمر کے اندر رغبت رکھتے ہیں۔ اسی طرح ایک میں حسن و جمال زیادہ ہے، ایک میں کم ہے، تو لوگ زیادہ حسن و جمال والی میں رغبت رکھتے ہیں۔ تو ان چیزوں کی وجہ سے مہر پر اثر پڑتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں دونوں عورتیں برابر ہوں فی السن عمر میں، والجمال اور حسن و جمال میں، والمال اور مالداری میں، والعقل اور عقل میں، والدين اور دینداری میں، وَالْبَلَدِ اور شہر میں، وَالْعَصْرِ اور زمانے میں۔ شہر اور زمانے سے بھی فرق پڑ جاتا ہے۔ بعض علاقوں کے اندر مہر زیادہ ہوتا ہے اور بعض علاقوں کے اندر مہر کم ہوتا ہے، تو علاقے کے بدلنے سے بھی فرق پڑے گا۔ اور نیز وَالْعَصْرِ زمانے کا بھی فرق پڑتا ہے۔ کسی زمانے کے اندر مہر زیادہ ہوتا ہے اور بعض زمانوں کے اندر مہر کم ہوتا ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو کہتے ہیں: وَالْبَلَدِ وَالْعَصْرِ، اور شہر کے اعتبار سے بھی دونوں عورتیں برابر ہوں یعنی ایک ہی علاقے کی ہوں، اور زمانے کے اعتبار سے بھی برابر ہوں یعنی ایک ہی زمانے کی ہوں، لِأَنَّ مَهْرَ الْمِثْلِ يَخْتَلِفُ بِاخْتِلَافِ هَذِهِ الْأَوْصَافِ، اس لیے کیونکہ مہر مثل جو ہے وہ مختلف ہوتا ہے ان اوصاف کے مختلف ہونے سے، وَكَذَا يَخْتَلِفُ بِاخْتِلَافِ الدَّارِ وَالْعَصْرِ، اور اسی طرح مہر مثل مختلف ہوتا ہے دار یعنی شہر کے بدلنے سے بھی اور زمانے کے بدلنے سے بھی۔ بھئی دار اور عصر کو الگ ذکر کیا، اور باقیوں میں کہا: لِأَنَّ مَهْرَ الْمِثْلِ يَخْتَلِفُ بِاخْتِلَافِ هَذِهِ الْأَوْصَافِ۔ بھئی جب ہذہ الاوصاف کہہ دیا تو پھر دار اور عصر کو کیوں الگ ذکر کیا؟ وجہ یہ کہ ہذہ الاوصاف میں بلد اور زمانہ داخل نہیں، باقی عورت کی صفتیں ہیں۔ کم عمر ہونا، حسن و جمال والا ہونا، مالدار ہونا، عقلمند ہونا، دیندار ہونا یہ سب عورت کی صفتیں ہیں، جبکہ زمانہ اور علاقہ اور شہر یہ تو عورت کی صفت نہیں، اس لیے ان کو الگ ذکر کیا۔ تو کہتے ہیں: وَكَذَا يَخْتَلِفُ بِاخْتِلَافِ الدَّارِ وَالْعَصْرِ، اور اسی طرح مہر مختلف ہوتا ہے دار اور یعنی شہر اور زمانے کے مختلف ہونے سے۔ قَالُوا: فقہاء فرماتے ہیں: وَيُعْتَبَرُ التَّسَاوِي أَيْضًا فِي الْبَكَارَةِ، کہ باکرہ ہونے کے اندر بھی تساوی معتبر ہے۔ باکرہ ہونے میں بھی برابری معتبر ہے، اس کے اندر بھی برابری دیکھی جائے گی۔ وجہ یہ کہ باکرہ اور ثیبہ ہونے کی وجہ سے بھی لوگوں کی رغبت بدلتی ہے۔ لوگ باکرہ میں زیادہ رغبت رکھتے ہیں بمقابلہ ثیبہ کے، لہٰذا اس لیے باکرہ کا مہر زیادہ ہوتا ہے اور ثیبہ کا مہر کم ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں: قَالُوا: وَيُعْتَبَرُ التَّسَاوِي أَيْضًا فِي الْبَكَارَةِ لِأَنَّهُ يَخْتَلِفُ بِالْبَكَارَةِ وَالثُّيُوبَةِ، فقہاء فرماتے ہیں کہ بکارت کے اندر بھی برابری معتبر ہے، اس لیے کیونکہ مہر مختلف ہوتا ہے باکرہ ہونے اور ثیبہ ہونے سے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دیکھو صاحبِ ہدایہ نے آخر میں فرمایا: قَالُوا، فقہاء فرماتے ہیں باکرہ ہونے میں بھی برابری معتبر ہے۔ وجہ یہ کہ یہ جو پیچھے متن تھا اس کے اندر بکارت کا ذکر نہیں تھا۔ بکارت کو امام محمد رحمہ اللہ نے جامع صغیر میں بھی ذکر نہیں فرمایا اور صاحبِ قدوری نے بھی اپنے متن میں ذکر نہیں فرمایا۔ لہٰذا متن کے اندر تو بکارت کا ذکر نہیں تھا لیکن بعض بڑے فقہاء نے بکارت کو بھی ذکر فرمایا ہے، تو بکارت میں برابری بھی معتبر ہے۔ اس لیے صاحبِ ہدایہ نے قَالُوا کے ساتھ اس کو ذکر کیا کہ فقہاء کیا فرماتے ہیں: باکرہ ہونے میں بھی برابری معتبر ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حل ہو گیا۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔ ”وَيُعْتَبَرُ ابْتِدَاؤُهَا مِنْ وَقْتِ التَّفْرِيقِ لَا مِنْ آخِرِ الْوَطَآتِ“. اچھا بھئی اب یہ عدت کب سے شمار کی جائے گی؟ عدت کب سے شمار کی جائے گی؟ تو امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو عدت اس عورت پر واجب ہوئی ہے یہ اس صحبت کی وجہ سے واجب ہوئی ہے۔ لہٰذا آخری صحبت سے اس کی عدت شمار کریں گے۔ جب دونوں نے آپس میں ایک دوسرے کو چھوڑنے کا پکا ارادہ کیا یعنی یا قاضی نے دونوں میں جدائی کروا دی اس وقت سے عدت نہیں شمار کریں گے، بلکہ جس وقت خاوند نے آخری صحبت کر لی تھی اس سے اگلے دن سے عدت شمار کریں گے۔ تو وہ آخری وطی کا اعتبار کرتے ہیں کہ یہ عدت آئی بھی وطی کی وجہ سے تھی لہٰذا اس کا شمار بھی آخری وطی سے ہی ہوگا۔ جبکہ ہمارے ائمہ فرماتے ہیں کہ یہ جب قاضی جدائی کروا دے گا یا باہم جب یہ دونوں ایک دوسرے کو چھوڑنے کا پکا ارادہ کر لیں گے تو اس وقت سے عدت شمار کریں گے۔ آخری وطی کو نہیں دیکھیں گے۔ وہ اس کو قیاس کرتے ہیں نکاحِ صحیح پر۔ نکاحِ صحیح کے اندر جو عدت آتی ہے وہ جدائی کے بعد طلاق کے بعد آیا کرتی ہے، تو یہاں پر بھی عدت جدائی کے بعد ہی شروع ہوگی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَيُعْتَبَرُ ابْتِدَاؤُهَا مِنْ وَقْتِ التَّفْرِيقِ“ اور عدت کی ابتدا کا اعتبار کیا جائے گا ”مِنْ وَقْتِ التَّفْرِيقِ“ جدائی کے وقت سے ”لَا مِنْ آخِرِ الْوَطَآتِ“ نہ کہ آخری وطی سے۔ ”هُوَ الصَّحِيحُ“ یہی قول صحیح ہے۔ ”لِأَنَّهَا تَجِبُ بِاعْتِبَارِ شُبْهَةِ النِّكَاحِ“ اس لیے کیونکہ یہ وطی واجب ہوئی ہے عورت پر شبۂ نکاح کے اعتبار سے۔ کس اعتبار سے؟ شبۂ نکاح تو تھا نا دونوں نے ایجاب بھی کیا ہے، قبول بھی کیا ہے لیکن مثلاً خرابی کیا آئی؟ گواہ وہاں موجود نہیں تھے۔ تو شبۂ نکاح کی وجہ سے یہ عدت آئی ہے۔ تو لہٰذا اس کو صحیح نکاح پر قیاس کیا جائے گا اور وہاں پر جدائی کے بعد، طلاق کے بعد عدت شروع ہو جاتی ہے تو یہاں بھی جدائی کے بعد عدت شمار ہوگی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهَا تَجِبُ بِاعْتِبَارِ شُبْهَةِ النِّكَاحِ“ اس لیے کیونکہ یہ جو عدت واجب ہوئی ہے یہ شبۂ نکاح کے اعتبار سے واجب ہوئی ہے ”وَ رَفْعُهَا بِالتَّفْرِيقِ“ اور یہ شبۂ نکاح اٹھ جائے گا یعنی ختم ہو جائے گا ”بِالتَّفْرِيقِ“ جدائی کروانے سے۔ عدت کیوں آئی ہے؟ شبۂ نکاح کی وجہ سے، اور شبۂ نکاح کب ختم ہوگا؟ جب تفریق کروا دی جائے گی تو پھر عدت شروع ہوگی۔ ”وَيَثْبُتُ نَسَبُ وَلَدِهَا“ اور اس عورت کے بچے کا نسب بھی ثابت ہو جائے گا۔ یعنی یہ ولد الزنا شمار نہیں ہوگا، یہ اسی شخص کا بیٹا شمار ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”وَيَثْبُتُ نَسَبُ وَلَدِهَا“ اور اس عورت کے بچے کا نسب بھی ثابت ہوگا ”لِأَنَّ النَّسَبَ يُحْتَاطُ فِي إِثْبَاتِهِ“ اس لیے کیونکہ نسب جو ہے احتیاط کی جاتی ہے ”فِي إِثْبَاتِهِ“ اس کے ثابت کرنے میں۔ نسب کے اندر احتیاط کی جاتی ہے۔ جس قدر ہو سکے بچے کے لیے نسب ثابت کیا جاتا ہے۔ کیوں؟ ”إِحْيَاءً لِلْوَلَدِ“ بچے کو زندہ کرنے کے لیے، بچے کو زندگی دینے کے لیے۔ وجہ یہ کہ اگر بچے کا نسب ثابت نہیں مانا جائے گا، بچے کا ولد الزنا مانا جائے گا، اس کا نسب ثابت نہیں مانا جائے گا، پھر تو کوئی بھی اس بچے کی پرورش نہیں کرے گا تو یہ اس بچے کی ہلاکت کا خطرہ ہے، اور اگر ہلاک نہیں بھی ہوتا تو بھی اس کی تربیت کرنے والا کوئی نہیں ہوگا، اور پھر بڑے ہو کر معاشرے کے اندر بھی ایک معزز انسان کے طور پر اس کو قبول نہیں کیا جائے گا، تو بچے کو زندگی دینے کے لیے اس لیے اس نسب کے ثابت کرنے میں احتیاط کی جاتی ہے تاکہ بچہ ضائع نہ ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ النَّسَبَ يُحْتَاطُ فِي إِثْبَاتِهِ“ اس لیے کیونکہ نسب جو ہے احتیاط کی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے میں ”إِحْيَاءً لِلْوَلَدِ“ بچے کو زندگی دینے کے لیے، ”فَيَتَرَتَّبُ عَلَى الثَّابِتِ مِنْ وَجْهٍ“ لہٰذا یہ نسب مرتب ہو جاتا ہے اس نکاح پر بھی ”الثَّابِتِ مِنْ وَجْهٍ“ جو من وجہ ثابت ہے۔ ”فَيَتَرَتَّبُ عَلَى الثَّابِتِ مِنْ وَجْهٍ“ لہٰذا یہ نسب مرتب ہو جائے گا ”عَلَى الثَّابِتِ“ اس نکاح پر جو ثابت ہے ”مِنْ وَجْهٍ“ بعض اعتبار سے۔ بھئی دیکھو یہاں تو نکاح جو ہے حقیقت میں تو نکاح نہیں ہوا، لیکن بہرحال نکاح کی صورت تو انہوں نے بنائی تھی، ایجاب و قبول تو کیا تھا انہوں نے آپس میں، تو اس اعتبار سے نکاح صورتاً ہے حقیقتاً نہیں۔ تو بعض اعتبار سے بھی نکاح جب ثابت ہے تو نسب کے ثابت کرنے میں احتیاط سے کام لیا جاتا ہے لہٰذا وہ نکاح جو بعض اعتبار سے ثابت ہے اس پر بھی یہ نسب مرتب ہو جائے گا اور اس بچے کا نسب ثابت ہو جائے گا۔ یہ معنی ہے ”فَيَتَرَتَّبُ عَلَى الثَّابِتِ مِنْ وَجْهٍ“ لہٰذا یہ نسب مرتب ہو جائے گا اس نکاح پر جو بعض اعتبار سے ثابت ہے۔ ”وَتُعْتَبَرُ مُدَّةُ النَّسَبِ مِنْ وَقْتِ الدُّخُولِ عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى“. اور نسب کی مدت کا اعتبار کیا جائے گا ”مِنْ وَقْتِ الدُّخُولِ“ صحبت کے وقت سے ”عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ“ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک ”وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى“ اور اسی پر فتویٰ ہے۔ یاد رکھیے! نکاحِ صحیح کے اندر مدتِ نسب کا اعتبار کیا جاتا ہے وقتِ نکاح سے۔ مثلاً ایک عورت کا ایک شخص سے صحیح نکاح ہوا اور اس عورت نے چھ ماہ بعد بچے کو جنم دے دیا۔ تو کم سے کم چھ ماہ کی مدت میں ایک صحیح سلامت بچہ پیدا ہو سکتا ہے۔ تو اب اس مدتِ نسب کا اعتبار نکاحِ صحیح میں نکاح کے وقت سے کیا جائے گا۔ نکاح کے بعد چھ ماہ پورے ہونے کے بعد ایک عورت نے بچے کو جنم دیا ہے تو یہ اسی خاوند کا شمار ہوگا، اور اگر اس سے پہلے اس نے بچے کو جنم دیا تو وہ اس خاوند کا شمار نہیں ہوگا بلکہ ولد الزنا شمار ہوگا۔ تو معلوم ہوا نکاحِ صحیح میں مدتِ نسب کا اعتبار کب سے کیا جاتا ہے؟ وقتِ نکاح سے۔ کس سے؟ وقتِ نکاح سے۔ تو شیخین فرماتے ہیں نکاحِ فاسد کے اندر بھی مدتِ نسب کا اعتبار وقتِ نکاح سے کیا جائے گا۔ یعنی جس وقت انہوں نے نکاح کیا ہے اس کے چھ مہینے پورے ہونے کے بعد عورت نے بچے کو جنم دیا تو اس کا نسب ثابت ہو جائے گا۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں۔ یہاں پر مدتِ نسب کا اعتبار کیا جائے گا صحبت کے وقت سے۔ نکاحِ فاسد کیا ہے ایک شخص نے ایک عورت سے اور پھر اس کے ایک مہینے بعد اس نے اس عورت سے صحبت کی ہے اسی نکاحِ فاسد کی وجہ سے، اور پھر اس کے بعد اس نے پانچ مہینے کے بعد ایک بچے کو جنم دے دیا۔ تو اب نکاح کے اعتبار سے تو چھ مہینے پورے ہو گئے ہیں لیکن صحبت کے اعتبار سے پانچ مہینے گزرے ہیں، تو شیخین فرماتے ہیں نکاح کا اعتبار ہے لہٰذا یہ بچہ ثابت النسب ہے، یہ اسی شخص کا بچہ شمار ہوگا۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، صحبت کے وقت سے مدتِ نسب کا اعتبار کیا جائے گا اور صحبت کے بعد تو صرف پانچ مہینے گزرے ہیں لہٰذا یہ بچہ ثابت النسب نہیں ہوگا، یہ اس شخص کا بچہ شمار نہیں ہوگا، اور یاد رکھو امام محمد رحمہ اللہ کے قول پر ہی فتویٰ ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ کے قول پر ہی فتویٰ ہے۔ وجہ یہ، وجہ یہ کہ نکاحِ صحیح جو ہے وہ داعی الی الوطی ہے، وہ وطی کی طرف دعوت دینے والا ہے، وطی کی طرف لے جانے والا ہے، کیونکہ ایک شخص کا جب ایک عورت سے نکاح ہو گیا ہے وہ جانتا ہے یہ عورت میرے لیے حلال ہو چکی ہے۔ تو نکاحِ صحیح کس کی طرف لے جانے والا ہے؟ وطی کی طرف۔ لہٰذا اس لیے نکاحِ صحیح کو وطی کے قائم مقام کر دیا گیا اور وہیں سے مدتِ نسب شمار کی جاتی ہے۔ جبکہ نکاحِ فاسد وہ تو فاسد ہے اس کا تو اعتبار ہی کوئی نہیں، لہٰذا وہ وطی کی طرف داعی بھی نہیں۔ جب وہ وطی کی طرف داعی نہیں تو اس کو وطی کے قائم مقام بھی نہیں کیا جائے گا۔ لہٰذا نکاحِ فاسد سے مدت شمار نہیں کریں گے بلکہ جب خاوند وطی کرے گا تب سے مدت شمار کریں گے۔ تو کہتے ہیں: ”وَتُعْتَبَرُ مُدَّةُ النَّسَبِ مِنْ وَقْتِ الدُّخُولِ“ اور مدتِ نسب کا اعتبار کیا جائے گا صحبت کے وقت سے ”عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ“ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک ”وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى“ اور اسی پر فتویٰ ہے ”لِأَنَّ النِّكَاحَ الْفَاسِدَ لَيْسَ بِدَاعٍ إِلَيْهِ“ اس لیے کیونکہ نکاحِ فاسد جو ہے وہ وطی کی طرف دعوت دینے والا نہیں ہے ”وَالْإِقَامَةُ بِاعْتِبَارِهِ“ اور یہ جو قائم مقام کرنا تھا یعنی اس نکاح کو وطی کے جو قائم مقام کرنا تھا ”بِاعْتِبَارِهِ“ وہ اسی اعتبار سے تھا کہ نکاح داعی الی الوطی تھا۔ نکاحِ صحیح داعی الی الوطی تھا اس لیے اس کو وطی کے قائم مقام کر دیا لیکن نکاحِ فاسد تو داعی الی الوطی نہیں لہٰذا اس کو وطی کے قائم مقام نہیں کیا جا سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ النِّكَاحَ الْفَاسِدَ لَيْسَ بِدَاعٍ إِلَيْهِ“ اس لیے کیونکہ نکاحِ فاسد جو ہے وہ وطی کی طرف داعی نہیں ہے ”وَالْإِقَامَةُ بِاعْتِبَارِهِ“ اور یہ جو نکاح کو وطی کے قائم مقام کیا جاتا ہے ”بِاعْتِبَارِهِ“ وہ اسی داعی ہونے کے اعتبار سے ہوتا ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: ”قَالَ: وَمَهْرُ مِثْلِهَا يُعْتَبَرُ بِأَخَوَاتِهَا وَعَمَّاتِهَا وَبَنَاتِ أَعْمَامِهَا“. اب مہرِ مثل کا بیان کر رہے ہیں کہ مہرِ مثل کے اندر کن عورتوں کو دیکھا جائے گا؟ ایک عورت کے مہرِ مثل کا اندازہ لگانا ہے تو کن عورتوں کے ساتھ اس کا اندازہ لگایا جائے گا؟ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ نسب کا اعتبار باپ کی طرف سے ہوتا ہے۔ اولاد جو ہے وہ اپنے باپ کے خاندان میں سے شمار ہوتی ہے۔ لہٰذا باپ کے خاندان کے اندر جو عورتیں ہیں ان کو دیکھا جائے گا اور جو اس عورت کی جیسی ہوں اپنی صفات کے اندر تو ان کے ساتھ مہرِ مثل کا اس کا اندازہ لگایا جائے گا۔ مثلاً مثلاً اس کی بہنیں ہیں اسی عورت کی بہنیں ہیں ان کے مہر کو دیکھا جائے گا، اسی طرح یا اس کے چچا کی بیٹی ہے اس کو دیکھا جائے گا وہ بھی اسی کے خاندان سے ہے، یا اس کی پھوپھیاں جو ہیں ان کو دیکھا جائے گا پھوپھیاں جو باپ کی بہنیں ہیں وہ بھی اسی کے خاندان سے ہیں۔ مطلب یہ ہے اسی کے خاندان کی عورتوں کے ساتھ اس کا اندازہ لگایا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”قَالَ: وَمَهْرُ مِثْلِهَا يُعْتَبَرُ بِأَخَوَاتِهَا“ اور اس عورت کے مہرِ مثل کا اعتبار کیا جائے گا ”بِأَخَوَاتِهَا“ اس کی بہنوں کے ساتھ ”وَعَمَّاتِهَا“ اور اس کی پھوپھیوں کے ساتھ ”وَبَنَاتِ أَعْمَامِهَا“ اور اس کے چچاؤں کی بیٹیوں کے ساتھ ”لِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ“ بوجہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کے، آپ نے فرمایا: ”لَهَا مَهْرُ مِثْلِ نِسَائِهَا لَا وَكْسَ فِيهِ وَلَا شَطَطَ“. بھئی حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا ایک عورت کا نکاح ہوا تھا اور مہر مقرر نہیں کیا گیا تھا اور صحبت سے پہلے ہی خاوند کا انتقال ہو گیا۔ ایک عورت کا نکاح ہوا ہے، مہر مقرر نہیں کیا اور صحبت سے پہلے ہی خاوند کا انتقال ہو گیا، اور آپ جانتے ہیں جب کوئی مہر مقرر نہ کیا جائے تو مہرِ مثل آ جاتا ہے۔ اور یہ مہرِ مثل خاوند صحبت کر لے تب بھی پکا ہو جاتا ہے اور صحبت سے پہلے خاوند کا انتقال ہو جائے تب بھی یہ مہرِ مثل پکا ہو جاتا ہے۔ دیکھیے یہ حدیث حاشیے میں پوری دی ہوئی ہے: ”لِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ، قُلْتُ: أَخْرَجَهُ التِّرْمِذِيُّ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ“ کہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا ”عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً“ ایک ایسے آدمی کے بارے میں جس نے ایک عورت سے نکاح کیا ”وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا“ اور اس آدمی نے اس عورت کے لیے کوئی مہر مقرر نہیں کیا ”وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا حَتَّى مَاتَ“ اور اس نے اس عورت کے ساتھ صحبت نہیں کی تھی یہاں تک کہ مر گیا، انتقال ہو گیا، ”فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ:“ تو حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے: ”لَهَا مِثْلُ صَدَاقِ نِسَائِهَا“ اس عورت کے لیے ”مِثْلُ صَدَاقِ نِسَائِهَا“ اس عورت کی عورتوں کے مہر کے مثل ہوگا۔ ”نِسَائِهَا“ ہا ضمیر اس عورت کو راجع ہے۔ ”مِثْلِ صَدَاقِ نِسَائِهَا“ اس عورت کی عورتوں کے مہر کے مثل مہر جو ہوگا۔ اس عورت کی عورتیں؟ مراد ہے اس عورت کے خاندان کی جو عورتیں ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”لَهَا مِثْلُ صَدَاقِ نِسَائِهَا“ اس عورت کے لیے اس کی عورتوں کے مہر کے مثل ہوگا ”لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ“. وکس کہتے ہیں کمی کو، واؤ، چھوٹا کاف اور سین: وکس، اس کا معنی ہے کمی۔ شطط بھئی: شین، طا، طا: شطط، شطط کہتے ہیں زیادتی کو۔ ”لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ“ نہ اس میں کمی ہوگی اور نہ زیادتی، یعنی پورا اتنا ہی دیں گے۔ ”وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ“ اور اس عورت پر عدت واجب ہوگی۔ بھئی خاوند نے تو صحبت نہیں کی لیکن خاوند کا انتقال تو ہوا ہے، تو وہ انتقال والی عدت گزارے گی یعنی چار مہینے دس دن۔ ”وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ“ اور اس عورت پر عدت واجب ہوگی ”وَلَهَا الْمِيرَاثُ“ اور اس عورت کے لیے میراث بھی ہوگی، یہ وارثہ بنے گی اپنے خاوند کی۔ اب آئیے متن پر۔ کہتے ہیں: ”لِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ“ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کی وجہ سے وہ فرماتے ہیں: ”لَهَا مَهْرُ مِثْلِ نِسَائِهَا“ کہ اس عورت کے لیے اس کی عورتوں کے مثل مہر ہوگا ”لَا وَكْسَ فِيهِ وَلَا شَطَطَ“ نہ تو اس میں کوئی کمی ہوگی اور نہ زیادتی۔ ”وَهُنَّ أَقَارِبُ الْأَبِ“ اور یہ عورتیں جو ہیں ”وَهُنَّ“ اور یہ عورتیں جو ہیں ”أَقَارِبُ الْأَبِ“ اس عورت کے باپ کی رشتہ دار ہیں۔ ”نِسَائِهَا“ اس عورت کی عورتیں اس سے کون مراد ہیں؟ کہتے ہیں: ”هُنَّ أَقَارِبُ الْأَبِ“ اس عورت کے باپ کی رشتہ دار عورتیں۔ یعنی باپ کے خاندان میں سے ہیں۔ بھئی بعض شارحین نے لکھا ہے کہ ”وَهُنَّ أَقَارِبُ الْأَبِ“ یہ بھی حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہی قول ہے اور وہ تفسیر کر رہے ہیں ”نِسَائِهَا“ کی، لیکن دیگر شارحین فرماتے ہیں کہ یہ صاحبِ ہدایہ کا قول ہے، یہ ”نِسَائِهَا“ کی تفسیر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ یہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول نہیں ہے۔ تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”وَهُنَّ“ اس عورت کی جو عورتیں ہیں وہ وہ عورتیں ہیں ”أَقَارِبُ الْأَبِ“ جو اس کے باپ کی رشتہ دار ہیں۔ ”وَلِأَنَّ الْإِنْسَانَ مِنْ جِنْسِ قَوْمِ أَبِيهِ“ اور اس لیے کیونکہ انسان جو ہے وہ اپنے باپ کی قوم کی جنس میں سے ہوتا ہے۔ یعنی کس میں شمار ہوتا ہے؟ اپنے باپ کی قوم میں سے۔ ”وَقِيمَةُ الشَّيْءِ إِنَّمَا تُعْرَفُ بِالنَّظَرِ فِي قِيمَةِ جِنْسِهِ“ اور کسی چیز کی قیمت جو ہے اس کو جانا جاتا ہے ”بِالنَّظَرِ فِي قِيمَةِ جِنْسِهِ“ اسی کی جنس کی قیمت میں نظر کر کے۔ بھئی آپ نے جس چیز کی بھی قیمت کا اندازہ لگانا ہے تو اسی جنس کی چیزوں کی قیمتوں میں آپ کو نظر کرنا پڑے گی، اسی جنس کی چیزوں کی قیمتوں کو آپ کو دیکھنا پڑے گا۔ مثلاً آپ ایک سائیکل کی قیمت لگانا چاہتے ہیں تو اسی کی جنس کی یعنی دوسری سائیکلوں کی قیمتوں میں آپ کو نظر ڈالنا پڑے گی پھر آپ کو اس سائیکل کی قیمت کا بھی اندازہ ہو جائے گا، یا آپ ایک موٹر سائیکل کی قیمت کا اندازہ لگانا چاہتے ہیں تو اسی کی جنس کی جو چیزیں ہیں یعنی دوسری موٹر سائیکلیں جو ہیں ان کے اندر ان کی قیمت میں آپ کو نظر ڈالنا پڑے گی پھر آپ کو اس موٹر سائیکل کی قیمت کا بھی اندازہ ہو جائے گا۔ تو لہٰذا ایک عورت جو ہے اس کے منافعِ بضع کی قیمت لگانی ہے، توجہ ہے؟ اس کے مہر کی بات چل رہی ہے، تو ایک عورت کے منافعِ بضع کی قیمت کا آپ اندازہ لگانا چاہتے ہیں تو اسی کے خاندان کی جو عورتیں ہیں جو اس کے مثل ہیں، جو اس جیسی ہیں ان کے مہر سے اس کا اندازہ لگایا جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَقِيمَةُ الشَّيْءِ إِنَّمَا تُعْرَفُ“ کہ کسی چیز کی قیمت جو ہے اس کو جانا جاتا ہے ”بِالنَّظَرِ فِي قِيمَةِ جِنْسِهِ“ اسی چیز کی جنس کی جو قیمت ہے اس میں نظر ڈالنے سے۔ کہتے ہیں: ”وَلَا يُعْتَبَرُ بِأُمِّهَا وَخَالَتِهَا“ اچھا بھئی اس عورت کی ماں ہے یا اس کی خالہ ہے کہتے ہیں اس کے ساتھ اس کے مہر کا اندازہ نہیں لگایا جائے گا کیونکہ وہ عموماً الگ خاندان کی ہوں گی۔ لیکن اگر وہ بھی اسی خاندان سے ہیں یعنی اس عورت کی جو ماں ہے وہ اس عورت کے باپ کے چچا کی بیٹی تھی، باپ نے اپنے چچا کی بیٹی سے شادی کی ہے، تو چچا کی بیٹی تو معلوم ہوا وہ بھی اسی خاندان کی ہے تو پھر اس صورت میں اس ماں کے ساتھ بھی مہر کا اندازہ لگایا جائے گا کیونکہ وہ بھی اسی قوم کی ہے، اسی خاندان کی ہے۔ اور اگر وہ دوسرے خاندان کی ہے پھر اس کے ساتھ مہر کا اندازہ نہیں لگایا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يُعْتَبَرُ بِأُمِّهَا وَخَالَتِهَا“ اور اعتبار نہیں ہے اس کی ماں کا اور اس کی خالہ کا ”إِذَا لَمْ تَكُونَا مِنْ قَبِيلَتِهَا“ جب یہ دونوں اس عورت کے قبیلے سے یعنی اس کے خاندان سے نہ ہوں ”لِمَا بَيَّنَّا“ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی کہ باپ کے خاندان کو دیکھا جائے گا۔ ”فَإِنْ كَانَتِ الْأُمُّ مِنْ قَوْمِ أَبِيهَا“ تو اگر وہ عورت کی ماں جو ہے ”مِنْ قَوْمِ أَبِيهَا“ وہ بھی اس کے باپ کی قوم میں سے ہے ”بِأَنْ كَانَتْ بِنْتَ عَمِّهِ“ بایں صورت کہ وہ اس کے باپ کے چچا کی بیٹی تھی، اس کے باپ کے چچا کی بیٹی تھی جس سے اس نے نکاح کیا تھا ”فَحِينَئِذٍ يُعْتَبَرُ بِمَهْرِهَا“ تو پھر اس وقت اس کے مہر کا بھی اعتبار کیا جائے گا ”لِمَا أَنَّهَا مِنْ قَوْمِ أَبِيهَا“ اس وجہ سے کہ یہ بھی اس کے باپ کے قوم میں سے ہے۔ ”وَيُعْتَبَرُ فِي مَهْرِ الْمِثْلِ“ اب آپ کو بتلائیں گے کہ مہرِ مثل میں کن چیزوں کو مدِ نظر رکھا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَيُعْتَبَرُ فِي مَهْرِ الْمِثْلِ“ اور مہرِ مثل کے اندر یہ معتبر ہے ”أَنْ تَتَسَاوَى الْمَرْأَتَانِ“ کہ دو عورتیں برابر ہوں ”فِي السِّنِّ“ عمر میں ”وَالْجَمَالِ“ اور حسن و جمال میں ”وَالْمَالِ“ اور مالداری میں ”وَالْعَقْلِ“ اور عقل کے اندر ”وَالدِّينِ“ اور دینداری میں۔ دین سے کیا مراد ہے؟ دینداری مراد ہے۔ دینداری میں۔ یعنی اس کے باپ کے خاندان میں ایسی اور عورتوں کا کیا مہر ہے جن کی اسی جیسی عمر ہو، اسی جیسا حسن و جمال ہو، اسی جتنا مالدار بھی اسی کی طرح ہیں، اور اسی کی طرح عقل والی بھی ہے، اور اسی کی طرح دیندار بھی ہے۔ ان سب صفات کو دیکھا جائے گا۔ اس خاندان کی اور دوسری عورتیں جو ان تمام صفات میں اس عورت جیسی ہوں تو ان کا جو مہر تھا وہی اس کا بھی مہر ہوگا۔ اور اگر ساری صفات نہ مل سکیں تو جتنی موجود ہوں انہی کے ساتھ دیکھ لیا جائے گا، اور پھر اگر باپ کے خاندان میں کوئی بھی ایسی نہیں ہے، باپ کے خاندان میں کوئی بھی ایسی نہیں ہے ان صفات والی تو پھر اس صورت میں اور اطراف کے اور ان کے برابر کے جو خاندان ہوں وہاں ان صفات والی عورت کا جو مہر ہوتا ہے وہی اس کا مہرِ مثل قرار دیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں پھر دیکھیے کہتے ہیں: ”وَيُعْتَبَرُ فِي مَهْرِ الْمِثْلِ أَنْ تَتَسَاوَى الْمَرْأَتَانِ فِي السِّنِّ وَالْجَمَالِ وَالْمَالِ وَالْعَقْلِ وَالدِّينِ“ کہ دونوں عورتیں برابر ہوں عمر میں اور حسن و جمال میں، مال میں اور عقل میں اور دینداری میں۔ دینداری سے مراد یہ ہے کہ یہ عورت جتنی دیندار ہے، دین پر عمل کرنے والی ہے اور جتنے تقویٰ والی ہے تو دوسری عورت بھی اسی جیسی ہو بھئی۔ بھئی یہ وہ چیزیں ہیں جن کے اندر لوگ رغبت رکھتے ہیں۔ دیکھو عمر ہے ایک کم عمر والی ہے ایک زیادہ عمر والی ہے تو لوگ کم عمر کے اندر رغبت رکھتے ہیں، اسی طرح ایک میں حسن و جمال زیادہ ہے ایک میں کم ہے تو لوگ زیادہ حسن و جمال والی میں رغبت رکھتے ہیں، تو ان چیزوں کی وجہ سے مہر پر اثر پڑتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں دونوں عورتیں برابر ہوں ”فِي السِّنِّ“ عمر میں ”وَالْجَمَالِ“ اور حسن و جمال میں ”وَالْمَالِ“ اور مالداری میں ”وَالْعَقْلِ“ اور عقل میں ”وَالدِّينِ“ اور دینداری میں ”وَالْبَلَدِ“ اور شہر میں ”وَالْعَصْرِ“ اور زمانے میں۔ شہر اور زمانے سے بھی فرق پڑ جاتا ہے۔ بعض علاقوں کے اندر مہر زیادہ ہوتا ہے اور بعض علاقوں کے اندر مہر کم ہوتا ہے تو علاقے کے بدلنے سے بھی فرق پڑے گا، اور نیز ”وَالْعَصْرِ“ زمانے کا بھی فرق پڑتا ہے۔ کسی زمانے کے اندر مہر زیادہ ہوتا ہے اور بعض زمانے کے اندر مہر کم ہوتا ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْبَلَدِ وَالْعَصْرِ“ اور شہر کے اعتبار سے بھی دونوں عورتیں برابر ہوں یعنی ایک ہی علاقے کی ہوں ”وَالْعَصْرِ“ اور زمانے کے اعتبار سے بھی برابر ہوں یعنی ایک ہی زمانے کی ہوں۔ ”لِأَنَّ مَهْرَ الْمِثْلِ يَخْتَلِفُ بِاخْتِلَافِ هَذِهِ الْأَوْصَافِ“ اس لیے کیونکہ مہرِ مثل جو ہے وہ مختلف ہوتا ہے ان اوصاف کے مختلف ہونے سے ”وَكَذَا يَخْتَلِفُ بِاخْتِلَافِ الدَّارِ وَالْعَصْرِ“ اور اسی طرح مہرِ مثل مختلف ہوتا ہے دار یعنی شہر کے بدلنے سے بھی ”وَالْعَصْرِ“ اور زمانے کے بدلنے سے بھی۔ بھئی دار اور عصر کو الگ ذکر کیا اور باقیوں میں کہا: ”لِأَنَّ مَهْرَ الْمِثْلِ يَخْتَلِفُ بِاخْتِلَافِ هَذِهِ الْأَوْصَافِ“، بھئی جب ”هَذِهِ الْأَوْصَافِ“ کہہ دیا تو پھر دار اور عصر کو کیوں الگ ذکر کیا؟ وجہ یہ کہ ”هَذِهِ الْأَوْصَافِ“ میں بلد اور زمانہ داخل نہیں، باقی عورت کی صفتیں ہیں۔ کم عمر ہونا، حسن و جمال والا ہونا، مالدار ہونا، عقلمند ہونا، دیندار ہونا یہ سب عورت کی صفتیں ہیں جبکہ زمانہ اور علاقہ اور شہر یہ تو عورت کی صفت نہیں اس لیے ان کو الگ ذکر کیا۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا يَخْتَلِفُ بِاخْتِلَافِ الدَّارِ وَالْعَصْرِ“ اور اسی طرح مہر مختلف ہوتا ہے دار اور یعنی شہر اور زمانے کے مختلف ہونے سے۔ ”قَالُوا:“ فقہاء فرماتے ہیں ”وَيُعْتَبَرُ التَّسَاوِي أَيْضًا فِي الْبَكَارَةِ“ کہ باکرہ ہونے کے اندر بھی تساوی معتبر ہے، باکرہ ہونے میں بھی برابری معتبر ہے، اس کے اندر بھی برابری دیکھی جائے گی۔ وجہ یہ کہ باکرہ اور ثیبہ ہونے کی وجہ سے بھی لوگوں کی رغبت بدلتی ہے۔ لوگ باکرہ میں زیادہ رغبت رکھتے ہیں بمقابلہ ثیبہ کے، لہٰذا اس لیے باکرہ کا مہر زیادہ ہوتا ہے اور ثیبہ کا مہر کم ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”قَالُوا:“ فقہاء فرماتے ہیں ”وَيُعْتَبَرُ التَّسَاوِي أَيْضًا فِي الْبَكَارَةِ“ کہ بَکارت کے اندر بھی برابری معتبر ہے ”لِأَنَّهُ يَخْتَلِفُ بِالْبَكَارَةِ وَالثُّيُوبَةِ“ اس لیے کیونکہ مہر مختلف ہوتا ہے باکرہ ہونے اور ثیبہ ہونے سے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو دیکھو صاحبِ ہدایہ نے آخر میں فرمایا: ”قَالُوا:“ فقہاء فرماتے ہیں باکرہ ہونے میں بھی برابری معتبر ہے۔ وجہ یہ کہ یہ جو پیچھے متن تھا اس کے اندر بکارت کا ذکر نہیں تھا۔ بکارت کو امام محمد رحمہ اللہ نے جامع صغیر میں بھی ذکر نہیں فرمایا، اور صاحبِ قدوری نے بھی اپنے متن میں ذکر نہیں فرمایا۔ لہٰذا متن کے اندر تو بکارت کا ذکر نہیں تھا لیکن بعض بڑے فقہاء نے بکارت کو بھی ذکر فرمایا ہے، تو بکارت میں برابری بھی معتبر ہے۔ اس لیے صاحبِ ہدایہ نے ”قَالُوا:“ کے ساتھ اس کو ذکر کیا کہ فقہاء کیا فرماتے ہیں؟ باکرہ ہونے میں بھی برابری معتبر ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی، حل ہو گیا۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
160 approved lectures · 32 of 160