آگے سبق دیکھیے بھئی:
”وَإِنْ تَزَوَّجَ حُرٌّ امْرَأَةً عَلَى خِدْمَتِهِ إِيَّاهَا سَنَةً أَوْ عَلَى تَعْلِيمِ الْقُرْآنِ فَلَهَا مَهْرُ مِثْلِهَا، وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى لَهَا قِيمَةُ خِدْمَتِهِ سَنَةً، وَإِنْ تَزَوَّجَ عَبْدٌ امْرَأَةً بِإِذْنِ مَوْلَاهُ عَلَى خِدْمَتِهِ سَنَةً جَازَ وَلَهَا خِدْمَتُهُ“
بھئی گزشتہ سبق میں صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ چاہے خلوتِ صحیحہ ہو یا خلوتِ فاسدہ ہو، دونوں صورتوں میں عورت پر عدت واجب ہو گی بھئی۔ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ خلوتِ فاسدہ کی صورت کے اندر چونکہ مانع موجود ہے، لہذا عورت پر عدت واجب نہیں ہونی چاہیے، لیکن استحساناً جو ہے عورت پر عدت کو واجب قرار دیا گیا، بطورِ احتیاط کے، اس لیے کیونکہ شک ہوتا ہے، وہم ہوتا ہے کہ شاید عورت کا رحم مشغول ہو چکا ہو۔ ان تمام موانع کے باوجود ہو سکتا ہے صحبت کر لی گئی ہو اور عورت حاملہ ہو چکی ہو۔ اور پھر بعد میں بے شک یہ خاوند اور بیوی بھی انکار کر رہے ہیں، لیکن یاد رکھو یہ جو عدت واجب ہوتی ہے یہ شریعت کا حق ہے۔ شریعت نے حکم دیا ہے کہ ”وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ“ اور اسی طرح یہ جو عدت واجب ہوئی ہے یہ اس بچے کا حق ہے، یہ اس حمل کا حق ہے کہ کہیں اس کا نسب مشتبہ نہ ہو جائے۔ تو اگر خاوند اور بیوی دونوں صحبت کا انکار کر رہے ہیں، لیکن ان کے کہنے کی وجہ سے شریعت اور بچے کے حق کو باطل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کوئی کسی دوسرے کے حق کو باطل نہیں کر سکتا، تو یہ شریعت کا حق ہے اور بچے کا حق ہے، لہذا یہ عدت عورت پر واجب ہو گی ہر حال میں۔
جبکہ اس کے مقابلے میں خلوتِ فاسدہ کی صورت میں پورے مہر کو واجب قرار نہیں دیا جائے گا، اس لیے کیونکہ مہر تو مال ہے اور مال جو ہے وہ شک کی وجہ سے کسی پر واجب نہیں کیا جاتا بھئی۔
اور اس کے بعد پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ چار قسم کی مطلقات ہیں بھئی۔ ایک وہ مطلقہ ہے جس کو متعہ دینا ہے، یعنی وہ عورت جس سے نکاح کرتے ہوئے مہر ذکر نہیں کیا تھا، وہاں مہر مثل آیا اور یہ مہر مثل صحبت کی وجہ سے یا خاوند کے صحبت سے پہلے انتقال کی وجہ سے پکا ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر اسی عورت کو صحبت سے پہلے خاوند طلاق دے دے، تو پھر مہر مثل کا نصف نہیں دینا پڑتا بلکہ متعہ دینا پڑتا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے اگر نکاح کرتے ہوئے مہر مقرر کیا تھا، لیکن صحبت سے پہلے طلاق دے دی، تو پھر نصف مہر دینا پڑتا ہے۔ اور دو عورتیں ہیں وہ جن کے ساتھ خاوند صحبت کر لے، تو اس میں اگر مہر مقرر کیا تھا تو صحبت سے وہ پورا مہر اب دینا پڑے گا، اور اگر مہر مقرر نہیں کیا تھا تو پھر مہر مثل آیا اور صحبت سے مہر مثل پکا ہو گیا تو اب وہ سارا دینا پڑے گا۔ تو یہ جو دو عورتیں ہیں جن کے ساتھ خاوند صحبت کر چکا اور جہاں پر پورا مقررہ مہر یا پورا مہر مثل خاوند کو دینا پڑا، ان دونوں عورتوں کو متعہ دینا عند الاحناف مستحب ہے۔ جبکہ ایک عورت جس کو نصف مہر ملتا تھا، اس کو متعہ دینا نہ واجب ہے اور نہ مستحب ہے۔
جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو دو مطلقات ہیں جن سے خاوند صحبت کر چکا تھا، ان کو بھی متعہ دینا واجب ہے۔ ایک تو وہ دلیل میں آیت ذکر فرماتے ہیں: ”وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ“ کہ مطلقہ عورتوں کو متعہ دینا ہے اچھے طریقے سے۔ اور نیز وہ عقلی دلیل بھی ذکر فرماتے ہیں کہ یہ متعہ جو ہے یہ شریعت نے خاوند پر بطورِ جرمانے کے واجب قرار دیا ہے، اس لیے کیونکہ اس نے عورت کو وحشت زدہ کر دیا ہے جدائی کے ذریعے، اس کو طلاق دے کر اسے وحشت زدہ کر دیا ہے اور پریشانی اور گھبراہٹ میں مبتلا کر دیا ہے، لہذا اب خاوند کے ذمے ہے کہ وہ عورت کو متعہ دے بھئی۔
البتہ وہ عورت جس کو نصف مہر ملتا ہے، اس کے بارے میں امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کو متعہ نہیں دیں گے۔ اس لیے کیونکہ وہاں پر شریعت نے جو نصف مہر واجب قرار دیا ہے، وہ بھی متعہ ہی کے طریقے پر ہے، ورنہ تو قیاس یہ تقاضا کرتا ہے اس عورت کو بھی کچھ نہیں ملنا چاہیے، کیونکہ صحبت سے پہلے خاوند نے طلاق دے دی تو عورت سے منافع بضع خاوند نے وصول ہی نہیں کیے، تو لہذا عورت اسی حالت پر ہے جس طرح نکاح سے پہلے تھی، تو گویا یہ ہوئی تو طلاق ہے لیکن یہ فسخ کے درجے میں ہے یہ۔ اور جب فسخ ہو پھر تو عورت کو کچھ بھی نہیں ملنا چاہیے، قیاس یہ تقاضا کرتا ہے۔ لیکن شریعت نے نصف مہر کو واجب قرار دیا، تو یہ متعہ ہی کے طریقے پر ہے۔ لہذا ایک متعہ اس عورت کو مل رہا ہے، تو دوسرا متعہ واجب نہیں قرار دیا جائے گا، کیونکہ متعہ کے اندر تکرار نہیں ہوتا بھئی۔
جبکہ ہمارے نزدیک یہ جو متعہ آتا ہے یہ مہر مثل کا قائم مقام ہے۔ معلوم ہوا مہر یا مہر میں سے کچھ حصہ آ رہا ہو، تو وہاں متعہ واجب نہیں ہو سکتا بھئی۔ لہذا وہ دو عورتیں جن کو پورا مہر دیا جا رہا ہے، ایک کو مقررہ مہر اور ایک کو مہر مثل، تو ان دونوں کے لیے متعہ واجب قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اور نیز آپ نے کہا کہ شریعت نے بطورِ جرمانے کے خاوند پر یہ متعہ واجب کیا ہے، تو ہم کہتے ہیں کہ خاوند نے جو عورت کو طلاق دی، یہ تو ہم بھی تسلیم کرتے ہیں کہ خاوند نے عورت کو وحشت زدہ کیا، لیکن اس وحشت زدہ کرنے میں وہ خاوند مجرم نہیں ہے، اس لیے کیونکہ طلاق کی شریعت نے اس کو اجازت دی ہے، اور جس چیز کی شریعت نے کسی کو اجازت دی ہو، اس کے کرنے میں وہ مجرم نہیں ہوتا بھئی۔ لہذا خاوند پر جرمانہ واجب قرار نہیں دیا جا سکتا۔ جب خاوند پر یہ جرمانہ نہیں ہے، لیکن پھر بھی وہ ادا کر رہا ہے، معلوم ہوا یہ فضل اور احسان کے باب سے ہے، یعنی یہ مستحب ہے، خاوند پر کوئی واجب نہیں ہے بھئی۔
اس کے بعد نکاحِ شغار کا مسئلہ آیا تھا، اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ جاہلیت کے اندر یہ نکاحِ شغار ہوا کرتا تھا کہ ایک شخص جو ہے اپنی بہن یا بیٹی کا نکاح دوسرے شخص سے کرواتا تھا اس شرط پر کہ وہ اپنی بہن یا بیٹی کا نکاح اس سے کروائے گا اور مہر کچھ بھی نہیں ہو گا۔ تو اس میں دونوں طرف سے لڑکی ہوتی تھی اور مہر نہ ہونے کی شرط ہوتی تھی، یعنی وہ جو عورتیں ہیں انہی کو ایک دوسرے کا مہر قرار دے دیا جاتا تھا، تو اس سے حضور علیہ السلام نے منع فرمایا ہے بھئی۔ شغار کا معنی بھی ہے خالی کرنا، تو اس کے اندر بھی دیکھو دونوں نکاح مہر سے خالی کر دیے جاتے تھے، مہر نہیں ہوتا تھا۔ تو بالاتفاق نکاحِ شغار باطل ہے، حضور علیہ السلام نے منع فرمایا ہے۔ لیکن اگر کوئی کر لے پھر اس کا کیا حکم ہے؟ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نکاحِ شغار باطل ہے بھئی، باطل ہے۔ جبکہ ہمارے نزدیک عند الاحناف نکاحِ شغار باطل ہے، لیکن اگر کوئی کر لے گا تو نکاح منعقد ہو جائے گا، البتہ پھر وہاں دونوں عورتوں کے لیے مہر مثل آ جائے گا۔ اور جب مہر مثل آ گیا تو اب خرابی ختم ہو گئی، خرابی یہ تھی کہ مہر تھا ہی نہیں۔ تو اس پر امام صاحب پر اشکال ہوتا ہے کہ ایک چیز کو حدیث میں منع کیا گیا، آپ اس کو کیسے جائز قرار دے رہے ہیں؟ تو جواب یہ کہ حدیث میں جس نکاحِ شغار سے منع کیا گیا ہے وہ اور چیز ہے، وہاں مہر ہوتا ہی نہیں، اور امام صاحب جس نکاح کی اجازت دے رہے ہیں وہ اور چیز ہے، وہاں دونوں کے لیے ایک مہر آ رہا ہے، لہذا وہ خرابی ختم ہو گئی جس کی وجہ سے حدیث میں منع کیا گیا تھا۔ اور میں نے بتایا یہ صرف امام صاحب کا مذہب نہیں ہے، اور بھی بہت سے فقہاء یہی فرماتے ہیں، تو اس صورت میں خرابی ختم ہو گئی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نکاحِ شغار باطل ہے، ایک تو حدیث میں آیا، اور نیز وہ فرماتے ہیں وہ عقلی دلیل بھی دیتے ہیں، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ اس صورت میں ایک ہی عورت خاوند کی منکوحہ بھی ہوئی اور دوسری عورت کے لیے مہر بھی بن گئی۔ تو گویا منافع بضع کے اندر شرکت آ گئی، نصف منافع جو ہیں ان کا مالک خاوند ہوا نکاح کی وجہ سے، اور نصف منافع کی مالک دوسری عورت ہوئی کیونکہ یہ اس کا مہر ہے اور عورت اپنے مہر کی مالک ہوتی ہے۔ تو لہذا یہاں منافع بضع کے اندر اشتراک آیا، اور حالانکہ منافع بضع کے اندر تو اشتراک نہیں آ سکتا، لہذا یہ ایجاب ہی باطل ہے، اور جب ایجاب باطل تو یہ نکاح ہی باطل ہو گیا۔
جبکہ ہمارے نزدیک اس نکاح کے اندر انہوں نے ایسی چیز کو مہر قرار دیا ہے جو مہر بننے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی۔ تو لہذا منافع بضع وہ تو مہر بننے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے، اور جب مہر میں ایسی چیز ذکر کی جائے جو مہر بننے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی جیسے شراب اور خنزیر ہے، تو وہاں پھر بالاتفاق مہر مثل آتا ہے، تو یہاں بھی مہر مثل آ جائے گا۔ تو انہوں نے جو مہر نہ ہونے کی شرط لگائی تھی وہ شرطِ فاسد تھی، اور نکاح جو ہے وہ شرطِ فاسد سے فاسد نہیں ہوتا، تو نکاح صحیح ہو جائے گا اور وہ شرط فاسد ہو جائے گی وہ جو مہر نہ ہونے کی شرط لگائی تھی۔ اور انہوں نے ایسی چیز ذکر کی مہر میں جس میں مہر بننے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ تو یوں سمجھو گویا مہر کو ذکر ہی نہیں کیا گیا، اور جب مہر کو ذکر ہی نہ کیا جائے تو وہاں مہر مثل آتا ہے، اس لیے یہاں پر مہر مثل آ گیا بھئی۔
اور پھر جواب دیا، امام شافعی رحمہ اللہ فرما رہے تھے کہ اس ایجاب کی وجہ سے شرکت آ رہی ہے، لہذا ایجاب ہی باطل ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ یہاں شرکت نہیں آ رہی، وجہ یہ ہے کہ ایک عورت دوسری عورت کے منافع بضع کی مالک بن ہی نہیں سکتی، اس میں یہ صلاحیت اور استحقاق ہی نہیں ہے۔ مرد تو نکاح کی وجہ سے ایک عورت کے منافع بضع کا مالک بن سکتا ہے، لیکن کوئی عورت دوسری عورت کے منافع بضع کی مالک ہی نہیں بن سکتی۔ تو جب دوسری عورت میں منافع بضع کا مالک بننے کی نہ صلاحیت ہے، نہ اہلیت ہے، نہ اس میں استحقاق ہے، تو لہذا شرکت آئی ہی نہیں۔ شرکت؟ تو شرکت تو تب آ سکتی تھی اگر اس میں استحقاق ہوتا، جب اس میں استحقاق ہی نہیں ہے تو شرکت بھی نہیں آ سکتی۔ البتہ انہوں نے شرطِ فاسد ذکر کی ہے وہ فاسد ہو گئی، اور نکاح صحیح ہو گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اب آئیے آج کے سبق پر:
”وَإِنْ تَزَوَّجَ حُرٌّ امْرَأَةً عَلَى خِدْمَتِهِ إِيَّاهَا سَنَةً أَوْ عَلَى تَعْلِيمِ الْقُرْآنِ فَلَهَا مَهْرُ مِثْلِهَا، وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى لَهَا قِيمَةُ خِدْمَتِهِ سَنَةً“
صورتِ مسئلہ یہ: ایک آزاد شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا اور مہر یہ مقرر کیا کہ میں ایک سال تک تمہاری خدمت کروں گا۔ یا مہر یہ مقرر کیا کہ میں تمہیں قرآن کی تعلیم دوں گا۔
تو یاد رکھو مہر کا تو مال ہونا ضروری ہے۔ قرآن میں اللہ تعالی فرماتے ہیں: ”أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ“ کہ اور عورتیں تمہارے لیے حلال ہیں، تم ان کو اپنے مالوں کے ذریعے تلاش کرو۔ معلوم ہوا مہر تو ضرور دینا پڑے گا، اور مہر مال ہونا چاہیے، جبکہ آزاد آدمی کی خدمت وہ مال نہیں ہے۔ اسی طرح تعلیم القرآن، قرآن کی تعلیم دینا یہ تو عبادت ہے بھئی، لہذا یہ بھی مال نہیں ہے۔ تو اس شخص نے تو ان چیزوں پر نکاح کیا ہے، تو ایسی چیز ذکر کر دی جو مال ہے ہی نہیں۔ تو یہ ایسے ہی ہوا جیسے کوئی مہر ذکر ہی نہیں کیا۔ تو اس صورت میں مہر مثل آ جائے گا، اب خاوند کو مہر مثل دینا پڑے گا اس عورت کو۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
بھئی یہاں تمہید کے طور پر ایک دو باتیں یاد رکھیں۔ یاد رکھو یہ جو منافع ہیں، یہ ہمارے نزدیک مال نہیں۔ مثلاً آپ ایک مہینے کے لیے ایک گھر کرایہ پر لیتے ہیں۔ اب دیکھو، آپ اس گھر کے مالک بنے ہیں یا اس گھر میں رہائش کے مالک بنے ہیں؟ رہائش کے مالک بنے ہیں، یعنی اس گھر کے منافع کے آپ مالک بنے ہیں۔ اور اسی طرح مثلاً کوئی آپ کوئی کام کرنا چاہتے ہیں، اکیلے نہیں کر سکتے، تو آپ دو چار مزدور لے آتے ہیں، وہ آپ کے لیے یہ کام کرتے ہیں۔ تو یہ جو دو چار مزدور جو آپ اجرت پر لائے، کیا آپ ان کی ذات کے مالک بن گئے یا ان کی خدمت کے مالک بن گئے؟ خدمت کے مالک بن گئے کہ یہ سارا دن آپ کے لیے کام کریں گے اور آپ انہیں اجرت دیں گے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ جو منافع ہیں، یا اسی طرح آپ کو سفر کے لیے گاڑی کی ضرورت ہے، لیکن آپ کے پاس اپنی گاڑی نہیں، تو آپ کرائے پر گاڑی لاتے ہیں۔ اب جب آپ کرائے پر گاڑی لائے، تو کیا آپ اس گاڑی کے مالک بن گئے یا گاڑی کے منافع کے مالک بنے ہیں؟ گاڑی کے منافع کے مالک بنے ہیں کہ آپ اس میں سفر کر سکتے ہیں جتنی دیر کے لیے آپ کرائے پر لائے ہیں اس کو۔
تو دیکھو منافع کی اجرت تو لی جاتی ہے عام طور پر، لیکن یاد رکھو، یاد رکھو یہ جو منافع ہیں یہ اصل میں مال نہیں۔ مال اس کو کہتے ہیں جس میں کچھ نہ کچھ بقا ہو۔ منافع میں بالکل بقا نہیں ہے۔ بھئی کیا آپ ایسا کر سکتے ہیں؟ آپ کا ایک مکان ہے، آپ کرائے پر دینا چاہتے ہیں۔ آپ پورا سال کسی کو کرائے پر نہ دیں اور اس سارے سال کی رہائش کو جمع کرتے جائیں اور پھر ساری اکٹھی ہی کسی ایک آدمی کو ایک مہینے کے لیے دے دیں؟ نہیں، آپ اس رہائش کو جمع نہیں کر سکتے۔ کیونکہ رہائش منافع ہیں اور منافع میں بقا نہیں۔ ایک لمحے کے جو منافع ہیں اگلے لمحے کے اندر وہ منافع ختم ہو چکے، نئے منافع آ گئے۔ اس سے اگلے لمحے کے اندر وہ منافع بھی ختم، نئے منافع آ گئے۔ تو ہر ہر لمحے میں نئے نئے منافع آ رہے ہیں اور سابقہ منافع ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ تو منافع کے اندر بقا نہیں، کوئی ایک بھی نفع جو ہے دو زمانوں تک باقی نہیں رہتا۔ ہر نفع ایک ایک لمحے کے ساتھ ساتھ ختم ہوتا چلا جا رہا ہے۔
تو جب منافع کے اندر بقا نہیں، تو معلوم ہوا یہ مال بھی نہیں۔ مال تو اس کو کہتے ہیں جس کو انسان جمع تو رکھ سکے، کچھ نہ کچھ تو اس کے اندر بقا ہو۔ مثلاً سونا، چاندی یا درہم، دینار ہیں۔ دیکھو یہ تو آپ جتنا عرصہ مرضی سنبھال کر رکھیں یہ آپ کے پاس محفوظ ہیں، تو یہ مال ہیں۔ اسی طرح آپ جو بھی مال دیکھ لیں گے اس میں بقا ضرور ہو گی، کسی میں تھوڑی بقا ہو گی، کسی میں زیادہ بقا ہو گی۔ گندم وغیرہ ہے، دیکھو اس کے اندر کئی ماہ تک اس میں بقا ہو گی۔ درہم اور دینار میں تو سالوں تک بقا رہے گی، لیکن گندم کے اندر اتنی زیادہ بقا نہیں، لیکن بہرحال بقا اس کے اندر ضرور ہے۔ تو مال اس کو کہتے ہیں جس میں بقا ہو، اور منافع میں بقا نہیں، لہذا یہ مال ہی نہیں۔
یہ مال ہی نہیں۔ تو اب آپ کے ذہنوں میں اشکال آئے گا کہ جب منافع مال نہیں، ان کا عوض تو لیا جاتا ہے، ان کی قیمت تو لی جاتی ہے، آپ مکان کرائے پر دیتے ہیں تو دیکھو آپ نے مکان کے منافع دوسرے کے حوالے کیے ہیں اور آپ کرائے کے اندر پیسے وصول کر رہے ہیں۔ یا آپ مزدور لائے ہیں، آپ ان کے منافع کے مالک بنے ہیں تو آپ ان کو اجرت دے رہے ہیں۔ تو آپ ان کو اجرت دے رہے ہیں، تو منافع کی قیمت تو دی جاتی ہے اور آپ ہمیں کیا بتلا رہے ہیں کہ منافع مال نہیں، تو یاد رکھو ضابطہ یہی ہے، منافع میں بقا نہیں، لہذا وہ مال ہی نہیں ہیں۔ لیکن شریعت نے منافع کی قیمت لینے کی اجازت دی اور منافع کو مال قرار دیا ضرورت اور حاجت کی وجہ سے۔ کیونکہ انسان محتاج ہے، اس کو ضرورت پیش آتی ہے، تو اس لیے شریعت نے منافع کو مال قرار دے دیا، ان کی قیمت لینے کی اجازت دے دی، ورنہ حقیقت کے اعتبار سے منافع مال نہیں کیونکہ ان میں بقا ہی نہیں۔ تو انسان محتاج تھا، ضرورت مند تھا۔ کس طرح محتاج تھا؟ مثلاً ایک آدمی کا اپنا مکان نہیں ہے، تو وہ محتاج ہے کہ وہ کوئی مکان کرائے پر لے اور اس میں رہے، تو دیکھو اس کو احتیاج ہے مکان کی۔ یا اسی طرح ایک کام ہے آپ اکیلے نہیں کر سکتے، مکان بنانا ہے یا کمرہ بنانا ہے، تو آپ مزدوروں کو لے کر آتے ہیں، آپ مستری کو لے کر آتے ہیں، تو دیکھو آپ کو حاجت ہے، آپ کو حاجت ہے، ضرورت ہے بھئی، تو اس لیے شریعت نے انسان کی ضرورت اور حاجت کی وجہ سے منافع کو مال قرار دیا، منافع کی قیمت لینے کی اجازت دی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو ایک تو یہ ضابطہ ہو گیا کہ منافع جو ہیں وہ حقیقت میں مال نہیں، شریعت نے ان کو صرف حاجت اور ضرورت کی وجہ سے مال قرار دیا ہے۔
دوسری بات یہ یاد رکھنا کہ یہ جو امامت ہے نماز پڑھانا، یا اسی طرح اذان دینا، یا اسی طرح قرآن کی تعلیم دینا، یا اسی طرح کسی کو دین کی تعلیم دینا، یاد رکھو یہ سب عبادات ہیں، عبادت کے قبیل سے ہیں اور عبادت تو اللہ کے لیے کی جاتی ہے، عبادت کی اجرت لینا جائز نہیں۔ چنانچہ متقدمین فرماتے تھے کہ ان چیزوں کی اجرت لینا جائز نہیں۔ اگر کوئی شخص امامت کرواتا ہے تو اجرت نہیں لے سکتا، وجہ یہ کہ وہ نماز پڑھ رہا ہے اور نماز تو اس کے ذمے ویسے بھی ہے بھئی، تو یہ تو عبادت ہے بھئی، لہذا اس کی وہ اجرت نہیں لے سکتا۔ کوئی شخص اذان دے رہا ہے بھئی، اذان تو ویسے بھی مسلمانوں کے ذمے ہے کہ وہ نماز کے لیے اذان دیں گے، تو لہذا یہ عبادت ہے، اس کی اجرت نہیں لی جا سکتی۔ یا اسی طرح کوئی کسی کو قرآن کی تعلیم دیتا ہے، تو یہ بھی عبادت ہے بھئی، اللہ کے دین کی خدمت کر رہا ہے، لہذا اس کی اجرت وہ نہیں لے سکتا، یہ متقدمین کا فتوی تھا۔ تو متقدمین کے نزدیک امامت، اذان، تعلیم القرآن اور اسی طرح دینی تعلیم دینا یہ سب کیا ہیں؟ عبادت کے قبیل سے ہیں، لہذا ان کی اجرت لینا جائز نہیں۔ لیکن متاخرین نے بعد میں ان چیزوں کی اجرت لینے کی اجازت دی، وجہ یہ کہ متاخرین فقہاء فرماتے ہیں کہ اب دینی امور کے اندر سستی آ گئی ہے، تو اگر ان چیزوں کی اجرت لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی تو دین کے بہت سے کاموں میں حرج لازم آئے گا بھئی۔ اس لیے اب ان چیزوں کی اجرت لینا جائز ہے۔ کوئی شخص امامت کرتا ہے تو اس کے لیے اجرت لینا جائز، کوئی شخص اذان دیتا ہے اس کے لیے اجرت لینا جائز ہے، کوئی شخص تعلیم قرآن دیتا ہے یا دین کی تعلیم دیتا ہے تو ان کے لیے اجرت لینا جائز ہے۔ اور دراصل کہتے ہیں یہ اجرت اس چیز کی نہیں ہے، یہ اجرت تعلیم کی نہیں ہے، بلکہ یہ اجرت اپنا وقت جو دیا ہے یہ اس وقت کی اجرت ہے۔ یہ کس چیز کی اجرت ہے؟ کہ جو اس شخص نے اپنا وقت متعین کر دیا ہے اس کام کے لیے مختص کر دیا ہے، تو یہ اس کے وقت کی اجرت دی جا رہی ہے، عبادت کی نہیں بھئی، عبادت تو اللہ کے لیے ہوتی ہے، اس کی اجرت نہیں ہوا کرتی بھئی۔ تو لہذا متاخرین نے ان کی اجرت لینے کی اجازت دی۔
اب مسئلہ یہ ہے، مسئلہ یہاں ذکر انہوں نے کیا کہ ایک آزاد شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا اور مہر یہ طے کیا کہ میں ایک سال تمہاری خدمت کروں گا۔ تو بھئی مہر کا تو مال ہونا ضروری ہے اور آزاد آدمی کی خدمت تو مال نہیں۔ اجارے کے اندر شریعت نے ضرورت کی وجہ سے اجازت دی تھی، لوگ کیا ہیں اس کے محتاج ہیں، لوگوں کو حاجت تھی، لہذا اجارہ جو ہے یعنی کرائے پر چیزیں لینا، اس کے اندر شریعت نے منافع کو مال قرار دیا تھا، لیکن یہاں پر مہر کے طور پر وہ اپنی خدمت پیش کر رہا ہے، یہاں اس کی خدمت کو مال قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تو منافع اصل میں مال نہیں، لیکن اجارے کے اندر شریعت نے ان کو مال قرار دیا، ان کی قیمت لینے کی اجازت دی، کس وجہ سے؟ انسان کی ضرورت اور حاجت کی وجہ سے، اور مہر کے طور پر خدمت کو مقرر کرنے کی کوئی حاجت اور ضرورت نہیں، تو لہذا اگر آزاد آدمی نے اپنی خدمت کو مہر کے طور پر مقرر کیا ہے تو یہ مال نہیں۔ جب مال نہیں تو مہر تو ضرور آنا ہے اور مہر بھی مال ہونا چاہیے، تو پھر یہ اسی طرح ہو گا جیسے مہر کچھ ذکر ہی نہیں کیا، اور جب مہر ذکر ہی نہیں کیا تو مہر مثل آتا ہے، تو لہذا یہاں مہر مثل آئے گا۔ اور اسی طرح اگر تعلیم قرآن کو مہر مقرر کیا، بھئی تعلیم القرآن یہ بھی مال نہیں ہے، لہذا یہاں پر بھی مہر مثل آ جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ تَزَوَّجَ حُرٌّ امْرَأَةً“ اگر نکاح کیا کسی آزاد آدمی نے ”امْرَأَةً“ کسی عورت سے ”عَلَى خِدْمَتِهِ إِيَّاهَا سَنَةً“ اس شرط پر کہ وہ اس کی خدمت کرے گا ایک سال تک ”أَوْ عَلَى تَعْلِيمِ الْقُرْآنِ“ یا قرآن کی تعلیم پر اس سے نکاح کیا ”فَلَهَا مَهْرُ مِثْلِهَا“ تو اس عورت کے لیے مہر مثل ہو گا۔
”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ لَهَا قِيمَةُ خِدْمَتِهِ سَنَةً“ امام محمد رحمہ اللہ شیخین رحمہما اللہ سے اختلاف کرتے ہیں خدمت والے مسئلے میں۔ تعلیم قرآن میں تو وہ بھی اتفاق کرتے ہیں، شیخین رحمہما اللہ بھی فرماتے تھے تعلیم القرآن کو اگر مہر مقرر کیا ہے تو وہاں مہر مثل آئے گا، امام محمد رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں کہ تعلیم القرآن کی صورت میں مہر مثل آئے گا۔ البتہ اگر آزاد شخص نے اپنی خدمت کو مہر مقرر کیا ہے، تو اس صورت میں امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آزاد آدمی کی خدمت مال ہے۔ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک تو آزاد آدمی کی خدمت مال نہیں کیونکہ یہ منافع ہیں اور منافع مال نہیں، لیکن امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آزاد آدمی کی خدمت بھی مال ہے۔ جیسے اجارے کے اندر بھئی اس خدمت کی قیمت لینا جائز ہے، تو لہذا یہ معلوم ہوا مال ہے بھئی۔ لیکن یہاں پر قلب موضوع لازم آتا ہے۔ کیا لازم آتا ہے؟ قلب موضوع لازم آتا ہے۔ تو یہاں قلب موضوع لازم آتا ہے، اس لیے کیونکہ نکاح تو اس لیے مقرر کیا گیا ہے کہ عورت خادمہ ہو گی اور خاوند جو ہے وہ مخدوم ہو گا۔ عورت خدمت کرنے والی ہو گی، لیکن یہاں خاوند نے اپنی خدمت پر نکاح کیا ہے، تو خاوند خادم بن رہا ہے اور عورت مخدومہ بن رہی ہے، تو یہاں تو قلب موضوع لازم آ رہا ہے۔ قلب، قلب کا معنی پلٹنا، پلٹنا، الٹ دینا، اور موضوع وہ چیز جس کو وضع کیا گیا ہے، وہ چیز جس کو مقرر کیا گیا ہے۔ نکاح کو تو اس لیے مقرر کیا گیا تھا کہ عورت خادمہ ہو گی، لیکن یہاں قلب موضوع لازم آیا، اس مقرر کی ہوئی چیز کو الٹا دینا لازم آ رہا ہے کہ خاوند خادم بن جائے گا، لہذا یہ جائز نہیں۔ تو امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک آزاد آدمی کی خدمت مال ہے کیونکہ اس کا عوض لیا جاتا ہے اجارے کے اندر، ایک آدمی کو جب آپ مزدوری پر رکھتے ہیں تو آپ اس کو اجرت دیتے ہیں، تو آزاد آدمی کی خدمت مال ہے، لیکن یہاں پر اگر وہ بیوی کی خدمت کرے گا تو قلب موضوع لازم آئے گا، لہذا یہاں اگر اس نے اپنی خدمت مقرر کی ہے تو وہ خدمت نہیں اس کے ذمے ہو گی، بلکہ اس خدمت کی جو قیمت بنتی ہے وہ بیوی کو دینا پڑے گی۔ مثلاً یہ شخص، یہ جو خاوند ہے، اگر یہ کسی اور کے ہاں مزدوری کرتا، اس کی پورا سال خدمت کرتا، تو جو اجرت اس کی بنتی وہ اجرت اب اس بیوی کو دینا پڑے گی۔ تو یہ بیوی کی خدمت نہیں کرے گا ورنہ تو قلب موضوع لازم آئے گا، ہاں اس خدمت کی، ایک سال کی خدمت کی قیمت اب بیوی کو لا کر دے دے گا۔ یہ معنی ہے: ”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”لَهَا قِيمَةُ خِدْمَتِهِ سَنَةً“ کہ اس عورت کے لیے اس آزاد خاوند کی خدمت کی قیمت ہو گی، یعنی اگر کسی اور کی خدمت کرتا ایک سال تو جو قیمت بنتی وہ قیمت دینا پڑے گی۔
”وَإِنْ تَزَوَّجَ عَبْدٌ امْرَأَةً بِإِذْنِ مَوْلَاهُ عَلَى خِدْمَتِهِ سَنَةً جَازَ وَلَهَا خِدْمَتُهُ“ دوسری صورت: اب جو خاوند ہے وہ غلام ہے، پچھلی صورت میں خاوند آزاد تھا۔ اب ایک غلام ہے اس نے اپنے آقا کی اجازت سے ایک عورت سے نکاح کر لیا اور اس شرط پر کہ میں تمہاری ایک سال خدمت کروں گا، تو ہمارے فقہاء فرماتے ہیں کہ یہ نکاح جائز ہے اور غلام کو اس عورت کی خدمت کرنا پڑے گی۔ اس غلام کو اس عورت کی خدمت کرنا پڑے گی، تو اس پر اشکال ہوتا ہے کہ آپ نے ہمیں ابھی بتایا کہ بیوی کو خادمہ ہونا چاہیے اور یہاں پر تو یہ خاوند خادم بن رہا ہے اگرچہ غلام ہے، لیکن خادم تو بن رہا ہے بیوی کا، تو یہاں بھی تو قلب موضوع لازم آ رہا ہے؟ تو اس کا جواب آگے چل کر آپ کو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ بھئی یہ جو غلام اس بیوی کی خدمت کر رہا ہے، یہ اپنے آقا کی اجازت سے اس کی خدمت کر رہا ہے، اور آقا کی اجازت سے جب غلام کسی کی خدمت کرے تو گویا حقیقت میں وہ آقا ہی کی خدمت کر رہا ہے۔ تو یوں سمجھیں گے گویا یہ اس بیوی کی خدمت کر ہی نہیں رہا، بلکہ کس کی خدمت کر رہا ہے؟ آقا کی خدمت کر رہا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ تَزَوَّجَ عَبْدٌ امْرَأَةً بِإِذْنِ مَوْلَاهُ“ اور اگر نکاح کیا کسی غلام نے کسی عورت سے ”بِإِذْنِ مَوْلَاهُ“ اپنے آقا کی اجازت سے ”عَلَى خِدْمَتِهِ سَنَةً“ اس شرط پر کہ وہ اس کی خدمت کرے گا ایک سال تک ”جَازَ“ تو یہ جائز ہے ”وَلَهَا خِدْمَتُهُ“ اور اس عورت کے لیے اس غلام کی خدمت ہی ہو گی۔
”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى لَهَا تَعْلِيمُ الْقُرْآنِ وَالْخِدْمَةُ فِي الْوَجْهَيْنِ“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر تعلیم قرآن کو مہر مقرر کیا ہے تو تعلیم قرآن ہی مہر ہو گا، عورت کو قرآن کی تعلیم دینا ہی خاوند کے ذمے ہو گا۔ اور اگر خاوند نے اپنی خدمت مقرر کی ہے، چاہے خاوند آزاد ہے چاہے غلام ہے، دونوں صورتوں میں خاوند ہی کو بیوی کی خدمت کرنا پڑے گی۔ یاد رکھو ہمارا ضابطہ تو یہ ہے کہ مہر کا مال ہونا ضروری ہے، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک مہر کا مال ہونا ضروری نہیں۔ غیر مال بھی مہر بن سکتا ہے جیسے تعلیم القرآن، تعلیم القرآن مال نہیں لیکن ان کے نزدیک مہر بن سکتا ہے، اور اسی طرح آزاد آدمی کی خدمت وہ مال نہیں لیکن ان کے نزدیک مہر کا مال ہونا ضروری نہیں ہے لہذا یہ بھی مہر بن سکتا ہے۔ ان کا ضابطہ یہ ہے، ان کا ضابطہ یہ ہے کہ جس چیز کا عوض لینا جائز ہو، وہ خود بھی دوسری چیزوں کا عوض بن سکتی ہے۔ جس چیز کا عوض لینا جائز ہے وہ خود بھی دوسری چیزوں کا عوض بن سکتی ہے، جیسے تعلیم قرآن کا عوض لینا ان کے نزدیک جائز ہے، تو جب تعلیم قرآن کا عوض لینا جائز ہے تو تعلیم قرآن بھی کسی چیز کی عوض بن سکتی ہے۔ اسی طرح ایک شخص کسی کی خدمت کرتا ہے، مزدوری کرتا ہے، تو اس کو اجرت ملا کرتی ہے، تو جیسے آزاد آدمی کی خدمت اس کا عوض لینا جائز ہے، تو آزاد آدمی کی خدمت خود بھی عوض بن سکتی ہے، تو لہذا جب تعلیم القرآن کا عوض لینا جائز تو تعلیم القرآن خود بھی عوض بن سکتی ہے بطور مہر کے بھئی۔ تعلیم القرآن خود بھی عوض بن سکتی ہے مہر کے لیے، اور آزاد آدمی کی خدمت کا عوض لینا جائز ہے تو آزاد آدمی کی خدمت خود بھی عوض بن سکتی ہے بطور مہر کے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”لَهَا تَعْلِيمُ الْقُرْآنِ وَالْخِدْمَةُ فِي الْوَجْهَيْنِ“ کہ اس عورت کے لیے تعلیم القرآن ہی ہو گا یعنی یہی اس کا حق ہو گا ”وَالْخِدْمَةُ“ اور عورت کے لیے خدمت ہو گی ”فِي الْوَجْهَيْنِ“ دونوں صورتوں میں، یعنی خاوند چاہے آزاد ہو چاہے غلام، دونوں صورتوں میں وہ خدمت ہی اس کا حق ہو گا کہ خاوند اس کی خدمت کرے۔
”لِأَنَّ مَا يَصْلُحُ أَخْذُ الْعِوَضِ عَنْهُ بِالشَّرْطِ يَصْلُحُ مَهْرًا عِنْدَهُ“ وہی ضابطہ بیان کر رہے ہیں، ان کا ضابطہ کیا ہے؟ کہ جس چیز کا عوض لینا جائز وہ خود بھی عوض بن سکتی ہے۔ ”لِأَنَّ مَا يَصْلُحُ أَخْذُ الْعِوَضِ عَنْهُ بِالشَّرْطِ“ اس لیے کیونکہ جو چیز صلاحیت رکھتی ہے ”أَخْذُ الْعِوَضِ عَنْهُ“ کہ اس کا عوض لیا جائے ”بِالشَّرْطِ“ شرط کی وجہ سے، جو چیز صلاحیت رکھتی ہے کہ اس کا عوض لیا جائے شرط کے ذریعے ”يَصْلُحُ مَهْرًا عِنْدَهُ“ تو وہ مہر بننے کی بھی صلاحیت رکھتی ہے ان کے نزدیک۔ یہاں بالشرط کا لفظ آیا آپ اس سے پریشان ہو رہے ہوں گے، بھئی دیکھو اجارے میں اسی طرح ہوتا ہے نا، آپ مزدور لائے، آپ اس کو اجرت دیں گے، ویسے ہی اجرت دیں گے یا اس شرط پر کہ وہ آپ کا کام کرے گا؟ کام کرتے، تو دیکھو وہاں شرط لگائی جاتی ہے کہ یہ آپ کام کریں گے تو میں آپ کو اجرت دوں گا۔ اسی طرح تعلیم قرآن کوئی دیتا ہے تو گویا اس شرط پر اس کو اجرت دی جاتی ہے کہ آپ تعلیم قرآن دیں گے تو پھر آپ کو اجرت دی جائے گی، تو وہاں شرط ہوتی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ مَا يَصْلُحُ أَخْذُ الْعِوَضِ عَنْهُ بِالشَّرْطِ“ اس لیے کیونکہ جو چیز صلاحیت رکھتی ہے ”أَخْذُ الْعِوَضِ عَنْهُ“ کہ اس کا عوض لیا جائے ”بِالشَّرْطِ“ شرط کے ذریعے ”يَصْلُحُ مَهْرًا عِنْدَهُ“ تو وہ مہر بننے کی بھی صلاحیت رکھتی ہے ان کے نزدیک ”لِأَنَّهُ بِذَلِكَ تَتَحَقَّقُ الْمُعَاوَضَةُ“ اس لیے کیونکہ اسی کے ذریعے تو معاوضہ پایا جائے گا۔
بھئی دیکھو نا، جب ایک مزدور خدمت کرتا ہے، کام کرتا ہے، آپ اس کو اجرت دیتے ہیں، تو معلوم ہوا اس مزدور، یہ جو آزاد آدمی ہے، اس کے منافع کا آپ عوض دے رہے ہیں۔ فرض کرو مثلاً آپ اس کو چند گھنٹوں کے ایک ہزار روپے دیتے ہیں، تو اس کے منافع کا عوض آپ نے دیا ایک ہزار، تو یہ ایک ہزار اس کے منافع کا عوض ہو گیا۔ ایک ہزار روپے اس کے منافع کا عوض ہو گیا۔ اب ذرا دوسری طرف سے دیکھیں، آپ ایک ہزار روپیہ دے رہے ہیں، اس ایک ہزار روپے کا عوض کیا ہے؟ اس مزدور کی خدمت ہے، اس کا کام ہے بھئی۔ تو اگر ہزار اس کی خدمت کا عوض ہے، تو اس کی خدمت اس ہزار کا عوض ہے، دونوں عوض ہیں ایک دوسرے کے بھئی۔ دونوں کیا ہیں ایک دوسرے کے؟ عوض ہیں۔ تو لہذا امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس چیز کا عوض لینا جائز ہے، وہ خود بھی دوسری چیزوں کا عوض بن سکتی ہے، کیونکہ اسی سے تو معاوضہ پایا جاتا ہے۔ معاوضہ باب مفاعلہ ہے، باب مفاعلہ جانبين سے چیز کو چاہتا ہے، معلوم ہوا دونوں طرف سے عوض آنا چاہیے۔ تو اگر مزدور کی خدمت کا عوض آپ ہزار دے رہے ہیں تو آپ کی ہزار روپے کا عوض کیا ہے؟ مزدور کی خدمت ہے، دونوں ایک دوسرے کا عوض ہیں بھئی۔ تو یہاں مہر کے اندر بھی اسی طرح ہے، عورت منافع بضع حوالے کرتی ہے، تو وہ خاوند اپنی خدمت جو ہے بطور عوض کے دے رہا ہے، تو دیکھو دونوں طرف سے معاوضہ پایا جا رہا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ بِذَلِكَ تَتَحَقَّقُ الْمُعَاوَضَةُ“ اس لیے کیونکہ اسی کے ذریعے تو معاوضہ پایا جائے گا۔ جب اس کا عوض لیا جاتا ہے معلوم ہوا یہ خود بھی عوض بن سکتی ہے بھئی۔ اچھا تو یہاں معاوضہ ہونا ہی مقصود تھا، یہاں مقصود کیا تھا؟ معاوضہ ہی چاہیے، آپ عورت کے منافع بضع کے مالک بن رہے ہیں تو آپ کی طرف سے بھی کوئی عوض ہونا چاہیے، پھر ہی معاوضہ پایا جائے گا، دونوں طرف سے عوض آ رہا ہے۔ تو نکاح میں وہ فرماتے ہیں دونوں طرف سے عوض آنا چاہیے، اس کا مال ہونا ضروری نہیں ہے بھئی۔
تو یہ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ بِذَلِكَ تَتَحَقَّقُ الْمُعَاوَضَةُ“ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ اسی کے ذریعے معاوضہ پایا جائے گا ”وَصَارَ كَمَا إِذَا تَزَوَّجَهَا عَلَى خِدْمَتِهِ حُرٍّ آخَرَ بِرِضَاهُ وَعَلَى رَعْيِ الزَّوْجِ غَنَمَهَا“
بھئی دیکھیے، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اے احناف! آپ کے نزدیک خاوند تو بیوی کی خدمت نہیں کر سکتا کیونکہ قلب موضوع لازم آتا ہے۔ لیکن، لیکن اگر ایک شخص کسی عورت سے نکاح کرتا ہے
عورت کہتی ہے: مجھے مہر کیا دو گے؟ وہ آدمی کہتا ہے: میرے پاس مال تو نہیں ہے، لیکن میرا یہ ایک ساتھی ہے، یہ آپ کی ایک سال خدمت کرے گا۔
یہ آپ کے گھر کے سارے کام کر دیا کرے گا ایک سال تک۔ تو اب دیکھو، یہاں پر امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اے احناف! آپ کے نزدیک بھی یہ صورت جائز ہے۔
جی۔
آپ کے نزدیک بھی عورت اپنے خاوند کی خدمت کی حقدار تو نہیں ہو سکتی، لیکن اگر خاوند کسی اور کی خدمت کی شرط لگائے تو عورت اس کی حقدار ہو سکتی ہے اور آپ کے نزدیک اس صورت میں عقد ٹھیک ہو جائے گا۔ معلوم ہوا کہ آزاد آدمی کی خدمات عوض بن سکتا ہے۔
جی۔
عوض بن سکتا ہے۔ جب آزاد آدمی کی خدمت عوض بن سکتی ہے تو خاوند کی خدمت بھی ہمارے نزدیک عوض بن سکتی ہے۔ دلیل ان کی سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو ہمارے نزدیک کسی اور شخص کی خدمت عوض بن سکتی ہے، لیکن خود خاوند اگر خدمت کرے گا تو قلب موضوع لازم آئے گا، لہٰذا وہ جائز نہیں بھئی۔
نیز امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اے احناف! آپ کے ہاں اگر خاوند نے یہ مہر منظور کر لیا کہ میں ایک سال تک تمہاری بھیڑ بکریاں چرایا کروں گا۔ بیوی کو کیا کہا؟ میں ایک سال تک تمہاری بھیڑ بکریاں چرایا کروں گا۔ تو اس صورت میں تو اے احناف! آپ بھی اس کو تسلیم کرتے ہیں کہ خاوند بیوی کی خدمت نہیں کر رہا، اس کے لیے بھیڑ بکریاں چرا رہا ہے، تو آپ کے نزدیک بھی یہ صورت جائز ہے۔ معلوم ہوا آزاد آدمی کی خدمت مہر ہو سکتا ہے۔ جب آزاد آدمی کی خدمت مہر ہو سکتا ہے تو خاوند کی خدمت بھی آزاد آدمی کی خدمت ہے، وہ بھی بیوی کا مہر ہو سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَصَارَ كَمَا إِذَا تَزَوَّجَهَا عَلَى خِدْمَةِ حُرٍّ آخَرَ بِرِضَاهُ“ اور یہ اسی طرح ہو گیا جیسے اس شخص نے اس عورت سے نکاح کیا ہے ”عَلَى خِدْمَةِ حُرٍّ آخَرَ“ اس شرط پر کہ ایک دوسرا آزاد آدمی اس کی خدمت کرے گا ”بِرِضَاهُ“ اپنی مرضی سے، رضامندی سے۔ وہ ساتھی بھی تو راضی ہو گا تو تبھی خدمت کرے گا نا، تو اس کی رضامندی کے ساتھ۔ ”وَعَلَى رَعْيِ الزَّوْجِ غَنَمَهَا“ یا اس شرط پر خاوند نے نکاح کیا عورت سے، رعی کا معنی ہے چرانا، جانوروں کو چرانا۔ ”وَعَلَى رَعْيِ الزَّوْجِ“ یا اس شرط پر کہ خاوند چرائے گا ”غَنَمَهَا“ اس عورت کی بھیڑ بکریاں۔ غنم کا معنی ہے بھیڑ بکریاں، یہ دونوں جنسوں کو شامل ہے۔ بکرے کی جنس کو بھی اور بھیڑ کی جنس کو بھی۔ اسی طرح یاد رکھو شاة کا لفظ بھئی، شاة کا لفظ بھی غنم کے مترادف ہے، اس کا معنی بھی بھیڑ بکریاں بھئی۔
تو امام شافعی رحمہ اللہ خاوند کی خدمت کو قیاس کرتے ہیں کسی دوسرے آزاد آدمی کی خدمت پر۔ اسی طرح وہ خاوند کی خدمت کو قیاس کرتے ہیں خاوند کے بکریاں چرانے پر، اور دوسرے آزاد آدمی کی خدمت تو عوض بن سکتی ہے یا خاوند کی بکریاں چرانا بھی عوض بن سکتا ہے، تو خاوند کی اپنی خدمت بھی عوض بن سکتی ہے۔ دلیل ان کی سمجھ میں آ گئی۔
آگے دیکھیے: ”وَلَنَا أَنَّ الْمَشْرُوعَ إِنَّمَا هُوَ الِابْتِغَاءُ بِالْمَالِ“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ مشروع جو ہے یعنی شریعت نے جو نکاح کا طریقہ بتلایا ہے، ”إِنَّمَا هُوَ الِابْتِغَاءُ بِالْمَالِ“ وہ مال کے ذریعے تلاش کرنا ہے۔ ﴿وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذَٰلِكُمْ أَن تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُم﴾ اور ان محرمات کے علاوہ اور عورتیں تمہارے لیے حلال ہیں کہ تم ان کو اپنے مالوں کے ذریعے تلاش کرو۔ تو ہمارے نزدیک مہر کا مال ہونا ضروری ہے۔ تو یہ پہلی دلیل ہے ہماری، ”وَلَنَا أَنَّ الْمَشْرُوعَ إِنَّمَا هُوَ الِابْتِغَاءُ بِالْمَالِ“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ نکاح کا جو مشروع طریقہ ہے یعنی جو شریعت نے ہمیں سکھلایا ہے وہ مال کے ذریعے تلاش کرنا ہے، ”وَالتَّعْلِيمُ لَيْسَ بِمَالٍ“ اور تعلیم تو مال نہیں ہے لہٰذا یہ مہر نہیں بن سکتی، ”وَكَذَلِكَ الْمَنَافِعُ عَلَى أَصْلِنَا“ اور اسی طرح منافع بھی ہیں وہ بھی مال نہیں ہیں، ”عَلَى أَصْلِنَا“ ہمارے ضابطے پر، ہمارے ضابطے کے مطابق منافع بھی مال نہیں ہیں۔
یاد رکھو، یاد رکھو، یہ جو دلیل ذکر کی ”وَلَنَا“ ہماری دلیل یہ ہے۔
جی۔
یہاں اشکال ہوتا ہے کہ بھئی امام محمد رحمہ اللہ نے تو اختلاف کیا تھا بھئی شیخین رحمہما اللہ سے۔ تعلیم القرآن کے مسئلے میں تو اتفاق کیا تھا کہ تعلیم القرآن اگر مقرر کیا ہے تو مہر مثل آئے گا ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک، لیکن اگر خاوند نے اپنی خدمت کی شرط لگائی ہے اور خاوند آزاد آدمی ہے تو شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں مہر مثل آئے گا، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس خاوند کی ایک سال کی خدمت کی جو قیمت بنتی ہے وہ قیمت دینا پڑے گی۔ تو یہاں تو آیا ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے، یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ ہمارے تینوں ائمہ کی دلیل ہے۔
جی۔
تینوں ائمہ کی، تو صاحبِ ہدایہ کو تو یوں کہنا چاہیے تھا ”وَلَهُمَا“ شیخین کے نزدیک۔ تو جواب یہ کہ بھئی امام محمد رحمہ اللہ نے اگر خدمت کے مسئلے میں اختلاف کیا ہے تو تعلیم القرآن کے مسئلے میں تو اتفاق کیا ہے، تو یہ جو دلیل ذکر کر رہے ہیں اس اعتبار سے ہے، اس میں دیکھو تعلیم القرآن کا بھی ذکر آ رہا ہے اور ساتھ ساتھ اگرچہ خدمت والا مسئلہ بھی ذکر ہے لیکن تعلیم القرآن کے حوالے سے یہاں چونکہ امام محمد رحمہ اللہ ساتھ ہیں اس لیے ”لَنَا“ کے ساتھ ذکر کیا۔ اور خدمت کے مسئلے میں وہ اختلاف کرتے ہیں تو آگے چل کر وہ پھر ان کی دلیل بھی الگ ذکر کریں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَنَا أَنَّ الْمَشْرُوعَ إِنَّمَا هُوَ الِابْتِغَاءُ بِالْمَالِ“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ نکاح کا جو مشروع طریقہ ہے وہ مال کے ذریعے تلاش کرنا ہے، ”وَالتَّعْلِيمُ لَيْسَ بِمَالٍ وَكَذَلِكَ الْمَنَافِعُ عَلَى أَصْلِنَا“ اور تعلیم تو مال نہیں ہے اور اسی طرح منافع جو ہیں وہ بھی مال نہیں ہیں ہمارے ضابطے پر۔ ”وَخِدْمَةُ الْعَبْدِ ابْتِغَاءٌ بِالْمَالِ“ اور ہاں غلام کی جو خدمت ہے، آپ نے پڑھا تھا غلام نے اگر اپنی خدمت مقرر کی ہے تو غلام کو خدمت ہی کرنا پڑے گی۔ تو اس پر بھی اشکال ہوتا ہے کہ غلام کی خدمت یہ تو منافع ہیں اور منافع تو مال نہیں، جب وہ مال نہیں تو وہ مہر نہیں بن سکتے۔ تو اس کا جواب دیں گے صاحبِ ہدایہ کہ بھئی یہاں منافع اگرچہ مال نہیں ہیں لیکن پھر بھی غلام جب اس کی خدمت کرے گا ایک سال تو گویا ایک سال کے لیے غلام اس کے حوالے کر دیا گیا اور غلام خود کیا ہے؟ خود تو مال ہے، تو گویا اس کو ایک سال کے لیے یہ مال مل گیا۔
جی۔
اس عورت کو ایک سال کے لیے یہ غلام کی ذات اس کے سپرد ہو گئی اور غلام کی ذات تو مال ہے، اس کے منافع مال بے شک نہ ہوں لیکن اس کی ذات تو مال ہے، تو جب غلام عورت کی خدمت کرے گا تو گویا غلام کی ذات اس کے حوالے کر دی ایک سال کے لیے۔ تو بایں لحاظ اس کو مال حاصل ہوا بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَخِدْمَةُ الْعَبْدِ ابْتِغَاءٌ بِالْمَالِ“ اور غلام کی خدمت جو ہے وہ مال کے ذریعے تلاش کرنا ہے، ”لِتَضَمُّنِهِ تَسْلِيمَ رَقَبَتِهِ“ اس لیے کیونکہ یہ متضمن ہے اس کی ذات سپرد کرنے کے، کہ غلام کی ذات ہی عورت کے حوالے کرنا پڑے گی اور غلام تو مال ہے بھئی۔ ”وَلَا كَذَلِكَ الْحُرُّ“ اور آزاد آدمی ایسا نہیں ہے۔ آزاد آدمی کی خدمت بھی مال نہیں اور آزاد آدمی کا رقبہ اور اس کی ذات بھی مال نہیں ہے، لہٰذا وہاں ایسا نہیں کہہ سکتے ہم کہ وہ ابتغاء بالمال ہے۔
یہ دوسری دلیل آ گئی۔ پہلی دلیل کیا تھی؟ کہ ہمارے نزدیک نکاح کا مشروع طریقہ کیا ہے؟ ابتغاء بالمال۔ اب دوسری دلیل آ گئی۔ کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ خِدْمَةَ الزَّوْجِ الْحُرِّ لَا يَجُوزُ اسْتِحْقَاقُهَا بِعَقْدِ النِّكَاحِ“ اس لیے کیونکہ آزاد خاوند کی جو خدمت ہے جائز نہیں ہے کہ عورت اس کی مستحق ہو جائے عقدِ نکاح کی وجہ سے۔ عورت عقدِ نکاح کی وجہ سے خاوند کی خدمت کی مستحق نہیں ہو سکتی، کیونکہ نکاح تو اس لیے وضع کیا گیا ہے کہ عورت خادمہ ہو گی اور اگر آپ خاوند کو خادم بنائیں گے تو یہ تو قلبِ موضوع لازم آئے گا، وہ چیز جس کو وضع کیا گیا تھا اس کو الٹ دیا گیا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ خِدْمَةَ الزَّوْجِ الْحُرِّ لَا يَجُوزُ اسْتِحْقَاقُهَا بِعَقْدِ النِّكَاحِ لِمَا فِيهِ مِنْ قَلْبِ الْمَوْضُوعِ“ اور اس لیے کیونکہ آزاد خاوند کی خدمت جو ہے جائز نہیں ہے کہ عورت اس کی مستحق ہو جائے عقدِ نکاح کی وجہ سے، اس وجہ سے کہ اس کے اندر قلب الموضوع ہے، موضوع وہ چیز جس کو مقرر کیا گیا ہے۔ تو نکاح موضوع ہے کس لیے؟ کہ عورت خادمہ ہو گی، خاوند مخدوم ہو گا۔ لیکن جب خاوند خادم بن گیا تو موضوع کو الٹ دیا گیا، قلب کا معنی الٹ دینا۔ کہتے ہیں: ”لِمَا فِيهِ مِنْ قَلْبِ الْمَوْضُوعِ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر موضوع کو پلٹ دینا ہے، موضوع کو الٹا دینا ہے۔ ”بِخِلَافِ خِدْمَةِ حُرٍّ آخَرَ بِرِضَاهُ“ بخلاف کسی دوسرے آزاد آدمی کی خدمت اس دوسرے کی رضامندی سے۔ یہ اس صورت میں قلبِ موضوع لازم نہیں آتا کیونکہ خاوند نہیں خدمت کر رہا، دوسرا آدمی عورت کی خدمت کر رہا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ خِدْمَةِ حُرٍّ آخَرَ بِرِضَاهُ“ بخلاف اس کے کہ دوسرا آزاد آدمی خدمت کرے اپنی مرضی سے، ”لِأَنَّهُ لَا مُنَاقَضَةَ“ اس لیے کیونکہ اس صورت میں تو کوئی مخالفت نہیں، کوئی قلبِ موضوع نہیں ہے۔ ”وَبِخِلَافِ خِدْمَةِ الْعَبْدِ“ اور بخلاف غلام کی خدمت کے۔ بھئی غلام کی خدمت میں بھی تو قلبِ موضوع ہے؟ تو میں نے جواب دیا کہ غلام یہ جو عورت کی خدمت کرے گا کس کی اجازت سے کرے گا؟ آقا کی اجازت سے، اور آقا کی اجازت سے جب غلام کسی کی خدمت کر رہا ہے تو گویا آقا ہی کی خدمت کر رہا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَبِخِلَافِ خِدْمَةِ الْعَبْدِ لِأَنَّهُ يَخْدُمُ مَوْلَاهُ مَعْنًى“ اور بخلاف غلام کی خدمت کے اس لیے کیونکہ وہ آقا کی خدمت کر رہا ہے معنیً معنی کے اعتبار سے، ”حَيْثُ يَخْدُمُهَا بِإِذْنِهِ وَأَمْرِهِ“ کیونکہ وہ خدمت کر رہا ہے عورت کی اپنے آقا کی اجازت سے اور اس کے حکم سے، تو معنی کے اعتبار سے یہ آقا ہی کی خدمت کر رہا ہے۔ ”وَبِخِلَافِ رَعْيِ الْأَغْنَامِ“ امام شافعی رحمہ اللہ نے قیاس میں ذکر کیا تھا کہ اے احناف! اگر خاوند اس شرط پر نکاح کرتا ہے کہ میں تمہاری بھیڑ بکریاں چراؤں گا تو اس صورت میں آپ اس کو جائز قرار دیتے ہیں، اس کو، تو اس کا بھی جواب دے رہے ہیں۔ اس کا جواب دیں گے کہ بھئی یہ جو بھیڑ بکریاں چرانا ہے یہ عورت کی خدمت نہیں ہے، یہ تو گھر کے کاموں میں سے ایک کام ہے اور گھر کے کام میاں بیوی مل کر ہی کرتے ہیں، بیوی گھر کے اندر کے کام کرتی ہے تو خاوند باہر کے کام کرتا ہے، تو لہٰذا یہ گھر کے کاموں میں سے ہے، اس صورت میں عورت کی خدمت لازم نہیں آتی، جب عورت کی خدمت لازم نہیں آتی تو اس کو مہر مقرر کرنا صحیح ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَبِخِلَافِ رَعْيِ الْأَغْنَامِ لِأَنَّهُ مِنْ بَابِ الْقِيَامِ بِأُمُورِ الزَّوْجِيَّةِ“ بخلاف بھیڑ بکریوں کے چرانے کے، اس لیے کیونکہ یہ زوجیت کے امور کے قائم کرنے کے باب سے ہے۔ زوجیت یعنی شادی، شادی کے امور کو قائم کرنے کے باب سے ہے، گویا یہ شادی کے کام ہی سرانجام دیے جا رہے ہیں، یعنی یوں کہو گھریلو کام کیے جا رہے ہیں، یا یوں کہو یہ امورِ خانہ داری میں سے ہے بھئی، لہٰذا اس سے کوئی خرابی لازم نہیں آتی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ مِنْ بَابِ الْقِيَامِ بِأُمُورِ الزَّوْجِيَّةِ فَلَا مُنَاقَضَةَ“ اس لیے کیونکہ یہ زوجیت کے امور کے قائم کرنے کے باب سے ہے، لہٰذا اس صورت میں بھی کوئی مخالفت اور کوئی منافات نہیں ہے۔ ”عَلَى أَنَّهُ مَمْنُوعٌ فِي رِوَايَةٍ“ علاوہ اس کے کہ یہ بھی ممنوع ہے ایک روایت پر۔
جی۔
یہ دوسرا جواب دے رہے ہیں۔ ایک جواب تو یہ: ہمیں آپ کی بات تسلیم ہے، عند الاحناف خاوند بکریاں چرانے کی شرط پر نکاح کر سکتا ہے۔ جبکہ کہتے ہیں دوسری روایت کے مطابق یہ بھی ممنوع ہے، یعنی عند الاحناف یہ جائز ہی نہیں ہے، خاوند بکریاں چرانے کی شرط پر بھی نکاح کرے تو یہ بکریاں چرانا نہیں ہو گا، وہاں مہر مثل ہی آ جائے گا کیونکہ قلبِ موضوع لازم آتا ہے یہاں پر بھی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور اسی دوسری روایت کو علماء نے زیادہ صحیح قرار دیا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”عَلَى أَنَّهُ مَمْنُوعٌ فِي رِوَايَةٍ“ علاوہ اس کے کہ یہ جو بکریاں چرانا جو ہے یہ بھی ممنوع ہے ایک روایت کے مطابق، یعنی بطورِ مہر کے، ویسے تو چرائے لیکن بطورِ مہر کے، بطورِ مہر اس کو طے کرنا یہ ممنوع ہے یعنی ہمیں تسلیم نہیں ہے بھئی۔
یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آگے بتلائیں گے امام محمد رحمہ اللہ نے جو اختلاف کیا تھا کہ خاوند کی ایک سال کی خدمت کی اگر شرط لگائی تو شیخین کے نزدیک مہر مثل آتا ہے اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک ایک سال کی خدمت کی قیمت دینا پڑتی ہے۔ اب اس کی دلیل ذکر فرما رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”ثُمَّ عَلَى قَوْلِ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَجِبُ قِيمَةُ الْخِدْمَةِ لِأَنَّ الْمُسَمَّى مَالٌ“ پھر امام محمد رحمہ اللہ کے قول پر خدمت کی قیمت واجب ہو گی، اس لیے کیونکہ مسمیٰ مال ہے۔ شیخین کے نزدیک تو آزاد آدمی کی خدمت مال نہیں، لیکن امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں آزاد آدمی کی خدمت مال ہے اسی لیے تو اس کا عوض لیا جاتا ہے، جبکہ شیخین فرماتے ہیں وہاں شریعت نے ضرورت کی وجہ سے اجازت دیا ہے ورنہ، ورنہ خدمت مال نہیں کیونکہ منافع ہیں اور منافع میں بقا ہی نہیں ہوتی تو وہ مال کیسے ہو گئے بھئی؟ تو کہتے ہیں: ”ثُمَّ عَلَى قَوْلِ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَجِبُ قِيمَةُ الْخِدْمَةِ لِأَنَّ الْمُسَمَّى مَالٌ“ خدمت کی قیمت واجب ہو گی اس لیے کیونکہ مسمیٰ مال ہے، ”إِلَّا أَنَّهُ عَجَزَ عَنْ تَسْلِيمِهِ“ مگر یہ کہ خاوند اس کے سپرد کرنے سے عاجز آ گیا۔
اچھا، سوال پیدا ہوتا ہے: اے امام محمد رحمہ اللہ! آپ کے نزدیک خاوند کی خدمت بھی مال ہے تو پھر تو یہی خدمت ہونی چاہیے، آپ کہتے ہیں نہیں خدمت نہیں کر سکتا بلکہ اس کی قیمت دینا پڑے گی۔ تو اس کا بھی جواب دے رہے ہیں کہ بھئی اگر خاوند کو خدمت کا حکم دیا جائے تو قلبِ موضوع لازم آئے گا، لہٰذا خاوند تو خدمت کر نہیں سکتا۔ خاوند نے مہر اپنی خدمت مقرر کی اور خاوند کی خدمت بھی مال ہے، ان کے نزدیک۔ توجہ ہے؟ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک خاوند نے اپنی خدمت مقرر کی اور خاوند کی خدمت بھی امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک مال ہے، لیکن خاوند اس خدمت کو سپرد نہیں کر سکتا کیونکہ قلبِ موضوع لازم آئے گا، اور جب خاوند ایک چیز کو مقرر کرے اور اس کے ادا کرنے سے عاجز آ جائے تو پھر اس کی قیمت آیا کرتی ہے۔
جی۔
جب خاوند ایک چیز کو مہر مقرر کرے اور اس کے ادا کرنے سے عاجز آ جائے تو پھر وہاں اس کی قیمت دینا پڑتی ہے، جیسے بالاتفاق اگر ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا اور کہا، ایک غلام کھڑا تھا خاوند نے کہا: میں تمہیں مہر کے اندر یہ والا غلام دوں گا، میں مہر میں تمہیں یہ والا غلام دوں گا اور نکاح کر لیا، اب بعد میں پتہ چلا یہ غلام تو کسی دوسرے کا غلام ہے۔ اب خاوند یہ غلام دینے پر قادر ہی نہیں ہے۔
جی۔
مالک بیچتا ہی نہیں ہے۔ اگرچہ یہ غلام مال ہے لیکن خاوند اس کی ادائیگی پر قادر نہیں، اور جب خاوند ایک مال کی ادائیگی پر قادر نہ ہو تو اس کی قیمت آیا کرتی ہے، لہٰذا خاوند کے ذمے بھی اس غلام کی قیمت آئے گی وہ اس کو ادا کرنا پڑے گی۔ تو یہاں پر بھی خاوند کی خدمت تو مال ہے لیکن وہ اس کے ادا کرنے سے عاجز آیا کیونکہ قلبِ موضوع لازم آئے گا، تو پھر اس کی قیمت دینا پڑے گی۔
جی۔
تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْمُسَمَّى مَالٌ“ اس لیے کیونکہ ان کے نزدیک مقررہ چیز جو ہے وہ مال ہے، ”إِلَّا أَنَّهُ عَجَزَ عَنْ تَسْلِيمِهِ لِمَكَانِ الْمُنَاقَضَةِ“ مگر یہ کہ خاوند جو ہے عاجز آ گیا اس کی ادائیگی سے لمکان المناقضة، أي لوجود المناقضة، یاد رکھنا صاحبِ ہدایہ اکثر یہ مکان جو ہے، یہ مکان کا لفظ لاتے ہیں اور دراصل یہ مصدر میمی ہے كان يكون كونا سے، تو اس کا ترجمہ وجود کے ساتھ کر لیں، ”لِمَكَانِ الْمُنَاقَضَةِ“ أي لوجود المناقضة، تو خاوند سپرد کرنے سے عاجز ہے مناقضہ پائے جانے کی وجہ سے کہ اس صورت میں مخالفت لازم آ رہی ہے، قلبِ موضوع لازم آ رہا ہے۔ ”فَصَارَ كَالتَّزَوُّجِ عَلَى عَبْدِ الْغَيْرِ“ تو یہ اسی طرح ہو گیا کہ جیسے نکاح کیا ہو کسی دوسرے کے غلام پر، اور اس صورت میں اس کی قیمت آتی ہے تو یہاں بھی اس کی قیمت آئے گی۔
”وَعَلَى قَوْلِ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى يَجِبُ مَهْرُ الْمِثْلِ“ جبکہ شیخین رحمہما اللہ کے قول پر مہر مثل واجب ہو گا اس صورت میں، ”لِأَنَّ الْخِدْمَةَ لَيْسَتْ بِمَالٍ“ اس لیے کیونکہ آزاد آدمی کی جو خدمت ہے وہ مال نہیں ہے، ”إِذْ لَا يُسْتَحَقُّ فِيهِ بِحَالٍ“ اس لیے کیونکہ عورت اس خدمت کی مستحق نہیں ہو سکتی ”فِيهِ“ اس نکاح میں ”بِحَالٍ“ کسی بھی صورت میں۔ کسی بھی حال میں عورت نکاح کے اندر خاوند کی خدمت کی مستحق نہیں ہو سکتی، کیونکہ قلبِ موضوع لازم آئے گا۔ کیا لازم آئے گا؟ قلبِ موضوع لازم آئے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْخِدْمَةَ لَيْسَتْ بِمَالٍ إِذْ لَا يُسْتَحَقُّ فِيهِ بِحَالٍ“ کیونکہ خدمت مال نہیں ہے، اس لیے کیونکہ عورت مستحق نہیں ہوتی نکاح میں خاوند کی خدمت کی کسی بھی حال میں، ”فَصَارَ كَتَسْمِيَةِ الْخَمْرِ وَالْخِنْزِيرِ“ تو یہ اسی طرح ہو گیا جیسے شراب یا خنزیر کو مقرر کیا ہو مہر میں، اور جب شراب اور خنزیر کو مہر میں مقرر کیا ہو تو وہاں مہر مثل آتا ہے، تو یہاں پر بھی مہر مثل آئے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَصَارَ كَتَسْمِيَةِ الْخَمْرِ وَالْخِنْزِيرِ“ تو یہ اسی طرح ہو گیا جیسے شراب یا خنزیر کو مقرر کیا ہو۔ ”وَهَذَا“ اور یہ اس وجہ سے، یہ جو مہر مثل واجب ہو گا وہ اس وجہ سے ہو گا ”لِأَنَّ تَقَوُّمَهَا بِالْعَقْدِ لِلضَّرُورَةِ“ اس لیے کیونکہ، بھئی انہوں نے بتایا تھا آپ کو کہ آزاد آدمی کی خدمت مال نہیں، یہ جو منافع ہیں یہ مال نہیں لیکن شریعت ان کو مال قرار دیتی ہے ضرورت اور حاجت کی وجہ سے، کس کی وجہ سے؟ ضرورت اور حاجت کی وجہ سے۔ تو ضرورت اور حاجت کی وجہ سے ان کا عوض لینا جائز ہو جاتا ہے ورنہ تو یہ مال نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو دیکھو فرماتے ہیں، کہتے ہیں: ”وَهَذَا لِأَنَّ تَقَوُّمَهَا بِالْعَقْدِ لِلضَّرُورَةِ“ اس لیے کیونکہ اس خدمت کا قیمت والا ہونا ”بِالْعَقْدِ“ عقدِ اجارہ کی وجہ سے جو ہوتا ہے ”لِلضَّرُورَةِ“ یہ لوگوں کی ضرورت اور حاجت کی وجہ سے ہوتا ہے، ”فَإِذَا لَمْ يَجِبْ تَسْلِيمُهُ فِي الْعَقْدِ“ جب خاوند کے ذمے واجب ہی نہیں ہے اس کو سپرد کرنا ”فِي الْعَقْدِ“ عقدِ نکاح میں،
جی۔
بیوی جو ہے خاوند کی خدمت کی مستحق ہو ہی نہیں سکتی عقدِ نکاح میں، اور خاوند نے ذکر تو وہی کیا ہے۔ تو جب عورت اس خاوند کی خدمت کی مستحق ہی نہیں ہو سکتی تو اس کا قیمت والا ہونا بھی ظاہر نہیں ہو گا۔
جی۔
بھئی دیکھو نا، منافع مال نہیں۔ لیکن شریعت نے اجازت دی ہے کہ عقدِ اجارہ کے اندر ان کی قیمت لگائی جا سکتی ہے۔ عقدِ اجارہ میں خدمت کی قیمت لگائی جا سکتی ہے، ان منافع کی، یہ خدمت ہے اور یہ جو منافع ہیں ان کی اجرت وصول کی جا سکتی ہے بطورِ عقدِ اجارہ کے۔ لیکن یہاں پر تو خاوند اپنی بیوی کے حوالے اپنی خدمت کر ہی نہیں سکتا نکاح کے اندر بھئی، لہٰذا اس کا قیمت والا ہونا بھی یہاں ظاہر نہیں، یعنی یہ یہاں پر مال شمار نہیں ہو گا۔ جب یہ یہاں پر مال شمار نہیں تو پھر ضابطے کے مطابق مہر مثل ہی آئے گا۔
جی۔
تو کہتے ہیں، پھر دیکھیے کہتے ہیں: ”وَهَذَا لِأَنَّ تَقَوُّمَهَا بِالْعَقْدِ لِلضَّرُورَةِ فَإِذَا لَمْ يَجِبْ تَسْلِيمُهُ فِي الْعَقْدِ“ اور یہ جو مہر مثل واجب ہوا ہے وہ اس وجہ سے ہے اس لیے کیونکہ اس خدمت کا قیمت والا ہونا عقدِ اجارہ کی وجہ سے جو ہوتا ہے یہ لوگوں کی ضرورت اور حاجت کی وجہ سے ہے، جب عقدِ نکاح کے اندر واجب نہیں ہے خاوند پر سپرد کرنا، ”فَإِذَا لَمْ يَجِبْ“ جب واجب نہیں ہے ”تَسْلِيمُهُ“ اس خدمت کو سپرد کرنا، اس خاوند کی خدمت کو سپرد کرنا ”فِي الْعَقْدِ“ اس عقد کے اندر یعنی عقدِ نکاح میں، ”لَا يَظْهَرُ تَقَوُّمُهُ“ اس کا قیمت والا ہونا بھی ظاہر نہیں ہو گا یعنی یہاں یہ مال شمار نہیں ہو گا، ”فَيَبْقَى الْحُكْمُ عَلَى الْأَصْلِ وَهُوَ مَهْرُ الْمِثْلِ“ تو حکم اپنی اصل پر ہی باقی رہے گا اور وہ مہر مثل ہے بھئی۔
تو حاصل کلام یہ کہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک آزاد کی خدمت بھی مال ہے لیکن خاوند یہ خدمت عورت کے حوالے نہیں کر سکتا کیونکہ قلبِ موضوع لازم آئے گا، اور جب مال نکاح میں ذکر کیا جائے لیکن خاوند اس کے ادا کرنے سے عاجز آ جائے تو پھر اس کی قیمت دینا پڑتی ہے، تو یہاں بھی خدمت کی قیمت دینا پڑے گی۔ جبکہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ خدمت مال ہی نہیں ہے، عورت کسی حال میں اپنے خاوند کی خدمت کی مستحق نہیں بن سکتی، تو عقدِ اجارہ کے اندر جو خدمت کی قیمت لگائی جاتی ہے وہ شریعت نے ضرورت کی وجہ سے اجازت دی ہے، لیکن یہاں پر عورت کسی بھی حال میں خاوند کی خدمت کی مستحق نہیں ہو سکتی، جب مستحق نہیں ہو سکتی تو یہاں اس کا قیمت والا ہونا اور مال ہونا بھی ظاہر نہیں، جب مال ہونا اس کا ظاہر نہیں تو یہ مال نہیں ہے اور نکاح ہوا ہے تو مہر مثل ہی آئے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
یاد رکھو یہاں جو عبارت آئی: ”لِأَنَّ الْخِدْمَةَ لَيْسَتْ بِمَالٍ إِذْ لَا يُسْتَحَقُّ فِيهِ بِحَالٍ“ بعض شارحین فرماتے ہیں ہم نے یہاں اذ کی جگہ او سنا ہے بھئی۔ یہاں کیا ہے؟ او۔ اگر او یہاں پڑھا جائے پھر تو عبارت اور بھی بہترین ہو جاتی ہے، دیکھو: ”لِأَنَّ الْخِدْمَةَ لَيْسَتْ بِمَالٍ“ اس لیے کیونکہ خدمت مال نہیں ہے۔ شیخین فرماتے ہیں، ادھر دیکھیے، شیخین فرماتے ہیں اگر خاوند نے اپنی خدمت کو ذکر کیا ہے تو خدمت نہیں آئے گی کیونکہ خدمت مال نہیں۔ اور نیز اس لیے کیونکہ عورت کبھی بھی خاوند کی خدمت کی مستحق نہیں ہوتی تو مہر مثل ہی آئے گا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْخِدْمَةَ لَيْسَتْ بِمَالٍ“ کیونکہ خدمت مال نہیں ہے، ”أَوْ“ اذ کی جگہ او پڑھیں، ”أَوْ لَا يُسْتَحَقُّ فِيهِ بِحَالٍ“ یا اس وجہ سے کہ عورت خاوند کی خدمت کی مستحق نہیں ہوتی فیہ نکاح کے اندر بحال کسی بھی حال میں۔
جی۔
بھئی پیچھے دو دلیلیں ذکر کی تھیں میں نے آپ کو بتلایا تھا، ایک دلیل کیا؟ کہ نکاح کا مشروع طریقہ کیا ہے؟ ابتغاء بالمال ہونا چاہیے۔ اور دوسری دلیل کیا ذکر کی؟ کہ عورت جو ہے آزاد خاوند کی خدمت کی مستحق عقدِ نکاح کی وجہ سے نہیں ہو سکتی۔ تو پیچھے دو دلیلیں ذکر کی تھیں، تو یہ انہی کے ساتھ یہ دونوں جڑ رہے ہیں کہ مہر مثل واجب ہو گا ”لِأَنَّ الْخِدْمَةَ لَيْسَتْ بِمَالٍ“ خدمت مال نہیں۔ پہلی دلیل کیا تھی؟ کہ نکاح کا مشروع طریقہ یہ ہے نکاح مال ہونا چاہیے، تو بتلا دیا ”لِأَنَّ الْخِدْمَةَ لَيْسَتْ بِمَالٍ“ کہ خدمت مال نہیں۔ اور دوسری دلیل کیا ذکر کی تھی؟ کہ عورت نکاح کے اندر خاوند کی خدمت کی مستحق کسی حال میں نہیں ہو سکتی، وہی آ گیا ”أَوْ لَا يُسْتَحَقُّ فِيهِ بِحَالٍ“ یا عورت خاوند کی خدمت میں مستحق نہیں ہوتی نکاح میں کسی حال پر۔ ”فَصَارَ كَتَسْمِيَةِ الْخَمْرِ وَالْخِنْزِيرِ“ تو یہ خمر اور خنزیر کے تسمیہ کی طرح ہی ہوا، یعنی مہر میں ایسی چیز ذکر کی ہے جو مہر بننے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی، اور اس صورت میں مہر مثل آتا ہے لہٰذا یہاں بھی مہر مثل آ جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
اب آگے دیکھیے: ”فَإِنْ تَزَوَّجَهَا عَلَى أَلْفٍ فَقَبَضَتْهَا وَوَهَبَتْهَا لَهُ ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ الدُّخُولِ بِهَا رَجَعَ عَلَيْهَا بِخَمْسِمِائَةٍ لِأَنَّهُ لَمْ يَصِلْ إِلَيْهِ بِالْهِبَةِ عَيْنُ مَا يَسْتَوْجِبُهُ“
بھئی یہ اب مشکل مسائل ہیں بھئی، ان کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ سب سے پہلے ایک دو باتیں یاد رکھیں۔ کہ بعض چیزیں تعین سے متعین ہو جاتی ہیں اور بعض چیزیں تعین سے بھی متعین نہیں ہوتیں، جیسے درہم اور دینار۔ یاد رکھو یہ درہم اور دینار تعین سے بھی متعین نہیں ہوتے۔
جی۔
یہ درہم اور دینار تعین سے بھی متعین نہیں ہوتے۔ مثلاً میں نے آپ کے سامنے دس درہم رکھے۔ دس درہم رکھے اور میں نے کہا کہ یہ کتاب میں نے آپ سے ان دس درہموں کے بدلے خرید لی، آپ نے کہا مجھے قبول ہے۔ تو ہمارے درمیان بیع ہو گئی۔ اب میں نے آپ سے کتاب لی اور آپ کو یہ والے درہم دینے کے بجائے جیب میں ہاتھ ڈالا اور دس درہم نکالے اور وہ آپ کے حوالے کر دیے، تو یاد رکھیے یہ میرے لیے جائز ہے۔ وجہ یہ ہے کہ درہم اور دینار تعین سے بھی متعین نہیں ہوتے۔ اب اگرچہ میں نے اشارہ کر کے کہا تھا یہ والے درہموں کے بدلے میں آپ سے یہ کتاب خریدتا ہوں لیکن یہ درہم اور دینار ہیں، یہ تعین سے بھی متعین نہیں۔ میرے ذمے بس دس درہم آ گئے، یہ والے دس درہم میرے ذمے نہیں آئے بلکہ مطلق دس درہم میرے ذمے آ گئے، تو میں دوسرے دس درہم بھی آپ کو ادا کر سکتا ہوں۔ تو درہم اور دینار تعین سے بھی متعین نہیں ہوتے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
یا مثلاً دیکھو، یہ تو تھا عقد ہم نے کیا آپس میں۔ کبھی کبھار پھر عقد فسخ کرنا پڑتا ہے۔ تو اب مثلاً آپ سے میں نے کتاب خریدی، دس درہم آپ کو میں نے دے دیے اور آپ سے کتاب لے لی۔ پھر بعد میں میں آپ کے پاس آیا کہ بھئی اس عقد کو فسخ کر لیتے ہیں، مجھے پیسوں کی ضرورت پڑ گئی ہے۔ چنانچہ آپ منظور کر لیتے ہیں۔ میں کتاب آپ کے حوالے کرتا ہوں اور آپ مجھے دس درہم دیتے ہیں۔ اب مجھے بتائیے، کیا وہی دس درہم واپس کرنا ضروری ہیں یا کوئی سے دس درہم آپ مجھے واپس کر سکتے ہیں؟ کوئی سے دس درہم آپ مجھے واپس کر سکتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ بھئی میرے والے درہم تو وہ پڑے ہیں مجھے وہ والے ہی واپس کرنا پڑیں گے، نہیں نہیں نہیں۔ درہم اور دینار متعین ہوتے ہی نہیں، تو آپ جو بھی درہم اور دینار دیں گے میرا حق ادا ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو درہم اور دینار عقد میں بھی متعین نہیں ہوتے اور اسی طرح فسخ کے اندر بھی متعین نہیں ہوتے۔
اسی طرح مکیلات اور موزونات ہیں بھئی۔ مکیلات وہ چیزیں جن کو ماپا جاتا ہے، قدیم زمانے کے اندر جیسے گندم کو ماپ کر بیچا جاتا تھا، آج کل تو زیادہ تر اس کو تول کر بیچتے ہیں لیکن قدیم زمانے میں ایک برتن تھا اس میں ماپ کر بیچتے تھے، اس کو قفیز کہتے تھے۔ ایک قفیز مثلاً ایک درہم کا ہے، دو قفیز دو درہم کے ہیں، تین قفیز تین درہم کے ہیں بھئی۔ تو ان کو مکیلات کہتے ہیں، وہ چیزیں جن کو کسی برتن میں ماپ کر بیچا جائے۔ یا جیسے مثلاً آپ دودھ خریدنے جاتے ہیں تو وہ دودھ والا ایک برتن کے اندر دودھ ماپ کر ایک لیٹر دودھ آپ کو دیتا ہے، دو لیٹر چاہیے تو دو برتن وہ بھر کر دے گا، تین لیٹر چاہیے تو تین بھر کر دے گا، تو یہ ہے ماپنا، ماپنا، یعنی کیل ہے۔
جی۔
کیل۔ اور ایک ہے موزون بھئی، وہ چیز جس کو وزن کیا جاتا ہے۔ آپ بازار بہت سی چیزیں خریدنے جاتے ہیں تو دکاندار ان کا وزن کر کے آپ کو دیتا ہے۔ مثلاً آپ چینی خریدنے گئے، آپ کو پانچ کلو چینی چاہیے تو دکاندار برتن میں ماپ کر چینی نہیں دے گا بلکہ وزن کر کے آپ کو پانچ کلو دے گا۔ جیسے درہم اور دینار کسی کے ذمے رہ سکتے ہیں اسی طرح مکیلات اور موزونات بھی کسی کے ذمے رہ سکتے ہیں۔ مثلاً میں آپ سے گاڑی خریدتا ہوں، یہ گاڑی آپ سے میں نے ہزار درہم کے بدلے خرید لی، یا آج کل روپے پیسے ہیں ان کا بھی وہی حکم ہے، روپے پیسے بھی تعین سے متعین نہیں ہوتے بھئی، یہ بھی درہم اور دینار کی طرح ہیں۔ تو اب میں نے آپ سے مثلاً ایک گاڑی خریدی ایک ہزار درہم کے بدلے یا دس لاکھ روپے کے بدلے، تو آپ راضی ہو گئے، ہم نے ایجاب و قبول کر لیا، اب میں گاڑی کا مالک بن گیا تو میرے ذمے آپ کے، اگر درہموں پر ہم نے بیع کی ہے تو آپ کے وہ ہزار درہم میرے ذمے ہیں، اور اگر ہم نے وہ دس لاکھ روپے پر بیع کی ہے تو اب آپ کے وہ دس لاکھ روپے میرے ذمے ہیں۔ تو معلوم ہوا درہم اور دینار کسی کے ذمے رہ سکتے ہیں اور یہ تعین سے متعین نہیں ہوتے، میں جہاں سے بھی ہزار درہم لاؤں میں آپ کو دے سکتا ہوں، کوئی متعین درہم نہیں ہیں بھئی۔
اسی طرح یہ جو مکیلات اور موزونات ہیں یہ بھی کسی کے ذمے میں رہ سکتے ہیں۔ مثلاً میں آپ سے گاڑی خریدتا ہوں اور میں کہتا ہوں میں آپ کو سو من گندم دوں گا اس کے بدلے یا میں آپ کو سو من چینی دوں گا اس کے بدلے میں، اب چینی بھی موزونات میں سے ہے۔ تو دیکھو اب میرے ذمے ایک سو من چینی آ گئی، تو یہ میرے ذمے ہے اور یہ متعین نہیں ہے، میں کسی بھی دکان سے چینی لے آؤں تو میں آپ کو ادا کر سکتا ہوں۔
جی۔
تو درہم اور دینار تعین سے متعین نہیں ہوتے اور یہ کسی کے ذمے رہ سکتے ہیں۔ اسی طرح مکیلات اور موزونات بھی کسی کے ذمے رہ سکتے ہیں، یہ درہم اور دینار بھی یاد رکھو موزونات میں سے ہیں۔
جی۔
ان کا وزن ہوتا ہے، درہم چاندی کا ہوتا ہے اور تین ماشے، ایک رتی اور خمس رتی اس کا وزن ہوتا ہے، جبکہ دینار وہ سونے کا ہوتا ہے اور ساڑھے چار ماشے اس کا وزن ہوتا ہے، درہم سے زیادہ ہوتا ہے اس کا وزن۔ تو یہ ساڑھے چار ماشے یہ ایک دینار ہے یا اسی کو مثقال بھی کہتے ہیں، مثقال بھی اسی دینار وزن کا نام ہے۔ تو درہم اور دینار تعین سے بھی متعین نہیں ہوتے اور کسی کے ذمے بھی رہ سکتے ہیں۔ اسی طرح مکیلات اور موزونات، وہ چیزیں جن کو ماپ کر یا وزن کر کے بیچا جاتا ہے یہ بھی کسی کے ذمے رہ سکتی ہیں، لیکن یہ تعین سے متعین بھی ہو جاتی ہیں۔
میں نے آپ سے کہا تھا میں آپ سے گاڑی خریدتا ہوں اور آپ کو سو من چینی دوں گا، دیکھو اب یہ چینی متعین نہیں ہے، میں کسی بھی دکان سے چینی لے آؤں تو میں آپ کو ادا کر سکتا ہوں۔ لیکن بعض اوقات یہ متعین ہو جائے گی جب آپ اشارہ وغیرہ کر دیں، آپ کے پاس سو من چینی کی بوریاں پڑی ہوئی ہیں، اب آپ مجھے کہتے ہیں کہ یہ والی چینی میں نے آپ کو اتنے روپے میں فروخت کر دی، اب تو دیکھو اشارہ کر دیا، اب متعین ہو گئی، اب یہی والی چینی دینی پڑے گی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو مکیلات اور موزونات وہ بھی کسی کے ذمے میں رہ سکتے ہیں اور وہ بھی ویسے تو متعین نہیں ہوتے لیکن اگر اشارہ کر دیا جائے تو وہ بھی متعین ہو جاتے ہیں، جبکہ اور چیزیں جو ہیں وہ تعین سے متعین ہو جاتی ہیں۔
جی۔
مثلاً ایک شخص جو ہے نکاح کرتا ہے اور پچاس کپڑے کے تھان پڑے ہوئے ہیں، وہ خاوند کہتا ہے یہ کپڑے بطورِ مہر کے ہوں گے، اس پر میں تم سے نکاح کرتا ہوں، تو یاد رکھو یہ سامان متعین ہو گیا، اب مہر کے طور پر یہی کپڑے دینے پڑیں گے خاوند کو۔
جی۔
تو معلوم ہوا چیزیں دو قسم کی ہیں: کچھ چیزیں وہ ہیں جو تعین سے متعین ہو جاتی ہیں اور کچھ چیزیں وہ ہیں جو تعین سے متعین نہیں ہوتیں۔ اب یہ مسئلے سمجھ لو بھئی، یہ مشکل مسئلے ہیں۔
صورتِ مسئلہ یہ ہے: ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا ایک ہزار درہم پر، کہ میں مہر کتنا دوں گا؟ ایک ہزار درہم۔ پھر اس کے بعد جب نکاح ہو گیا خاوند نے ایک ہزار درہم لیے اور بیوی کو دے دیے کہ یہ لو ایک ہزار درہم۔ عورت نے لے لیے، پھر عورت نے وہ سارے خاوند کو واپس کیے کہ میری طرف سے یہ سارے تم رکھو۔
جی۔
تو نکاح کتنے پر ہوا؟ ایک ہزار درہم۔ پھر بیوی نے اس پر کیا کر لیا؟ قبضہ۔ پھر سارا خاوند کو واپس کر دیا کہ میری طرف سے یہ تمہیں ہبہ ہے۔ اس کے بعد کوئی ایسی بات ہو گئی کہ خاوند نے صحبت سے
پہلے ہی طلاق دے دی، رخصتی ہونے سے پہلے ہی خاوند نے طلاق دے دی، تو پھر اس صورت میں یاد رکھو خاوند نصف مہر میں عورت پر رجوع کر سکتا ہے کہ میں نے تمہیں ایک ہزار مہر دیا تھا اور تمہیں تو میں نے صحبت سے پہلے طلاق دی ہے اور صحبت سے پہلے طلاق دی جائے تو نصف مہر عورت کا حق ہوتا ہے، پورا مہر عورت کا حق نہیں۔ میں نے تو تمہیں پورے ہزار دیے تھے تو لہٰذا میرے پانچ سو درہم واپس کرو، خاوند یہ کہہ سکتا ہے۔
آپ کے ذہن میں آئے گا کہ عورت نے لے کر وہی درہم اسی وقت واپس کر دیے تھے، تو جواب میں نے آپ کو بتلا دیا کہ درہم اور دینار تعیین سے بھی متعین نہیں ہوتے۔ خاوند نے جب ہزار دے دیے، عورت نے قبضہ کر لیا، پھر جب عورت وہی درہم اب خاوند کو واپس کر رہی ہے تو ہم یہ نہیں کہیں گے کہ یہ وہی درہم ہیں، ہم کہیں گے یہ بھی انہی جیسے ہیں۔ یہ ان جیسے ہیں، وہ والے نہیں۔ یعنی یہ الگ تحفہ شمار ہوگا، یوں سمجھیں گے بیوی خاوند کو تحفہ دے رہی ہے، یہ وہی مہر نہیں واپس کر رہی بلکہ یہ تحفے کے طور پر ایک ہزار دے رہی ہے، تو خاوند کو جو واپس ایک ہزار ملے ہیں وہ تو بطور تحفے کے ہیں اور اس نے جو دیے تھے وہ تو بطور مہر کے تھے بھئی، اور مہر تو عورت کا پورا نہیں بنتا، آدھا بنتا ہے، لہٰذا خاوند رجوع کر سکتا ہے کہ میرا آدھا مہر مجھے واپس کرو۔
بات سمجھ میں آ رہی ہے۔ کہتے ہیں: ”فَإِنْ تَزَوَّجَهَا عَلَى أَلْفٍ“ اگر خاوند نے نکاح کیا کسی عورت سے ”عَلَى أَلْفٍ“ ایک ہزار درہم کی شرط پر، ”فَقَبَضَتْهَا“ تو اس عورت نے ان درہموں پر قبضہ کر لیا، ”وَوَهَبَتْهَا لَهُ“ اور پھر وہ درہم ہبہ کر دیے خاوند کو واپس تحفے کے طور پر دے دیے، ”ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ الدُّخُولِ بِهَا“ پھر خاوند نے اس عورت کو طلاق دے دی اس کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے، ”رَجَعَ عَلَيْهَا بِخَمْسِ مِائَةٍ“ تو خاوند رجوع کر سکتا ہے اس پر پانچ سو میں۔ خاوند رجوع کر سکتا ہے اس پر ”بِخَمْسِ مِائَةٍ“ پانچ سو کے ساتھ، یعنی پانچ سو درہم میں اس پر رجوع کر سکتا ہے۔ کہ میں نے تمہیں ہزار درہم بطور مہر کے دیے تھے، عورت کہے گی بھئی وہ تو میں نے آپ کو واپس کر دیے تھے، تو کہے گا بھئی جو آپ نے مجھے دیے تھے وہ تو ہبہ کے تھے، وہ تو ہبہ تھا، یہ تو وہ درہم نہیں تھے جو میں نے دیے تھے، یہ تو ان کے مثل تھے بھئی، تو یہ ہبہ شمار ہوگا اور میں نے جو دیا تھا وہ تو مہر تھا، تو مہر تو مجھے واپس نہیں ملا تو لہٰذا مجھے آدھا مہر واپس دو۔
بات سمجھ میں آ گئی اور ایک اور بات یاد رکھنا۔ عورت یہ بھی نہیں کہہ سکتی میں نے تمہیں ایک ہزار تحفہ تو دیا تھا، ہبہ کے اندر تو رجوع ہو سکتا ہے، لاؤ میرے پیسے واپس کرو، نہیں۔ وجہ یہ کہ فقہاء ضابطہ ذکر فرماتے ہیں کہ ویسے عام آدمی کسی دوسرے کو ہبہ دے وہاں رجوع ہو سکتا ہے لیکن اس میں دونوں کی مرضی ہونی چاہیے اور اگر دونوں کی مرضی نہیں ہے تو پھر قاضی کے پاس جا کر وصول کرنا پڑے گا، قاضی دلوا دے گا، لیکن اگر ہبہ میاں بیوی میں سے کوئی ایک دیتا ہے دوسرے کو تو یہ ہبہ لازم ہو گیا اب اس میں رجوع بھی نہیں ہو سکتا۔ تو بیوی نے جو ایک ہزار ہبہ کے طور پر دیے ہیں اس میں رجوع بھی نہیں کر سکتی بھئی۔
تو خاوند کہہ سکتا ہے کہ میں نے تو تمہیں ہزار درہم مہر کے طور پر دیے تھے اور تم نے مجھے جو ہزار دیے وہ وہ والے درہم تو نہیں تھے، یہ تو ان جیسے تھے، یہ تو آپ نے مجھے تحفہ دیا تھا، تو اب آپ مجھے اپنا نصف مہر واپس کر دیں کیونکہ میں نے آپ کو صحبت سے پہلے طلاق دی تھی، تو خاوند کہہ سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو یہ معنی ہے ”رَجَعَ عَلَيْهَا بِخَمْسِ مِائَةٍ“ تو خاوند رجوع کر سکتا ہے اس عورت پر پانچ سو کے ساتھ، ”لِأَنَّهُ لَمْ يَصِلْ إِلَيْهِ بِالْهِبَةِ“ اس لیے کیونکہ خاوند کو نہیں پہنچا ہبہ کی وجہ سے ”عَيْنُ مَا يَسْتَوْجِبُهُ“ عین وہ چیز جس کا وہ حقدار تھا، استوجب یستوجب کا معنی ہے مستحق ہونا، حقدار ہونا۔ مجھے بتائیے، خاوند نے بیوی کو ہزار درہم دے دیے، بیوی نے اسی وقت وہ درہم لیے اور پھر خاوند کو واپس کیے، اب مجھے بتائیے خاوند کو وہی درہم ملے ہیں یا اس جیسے ملے ہیں؟ اس جیسے ملے ہیں، وہ درہم نہیں ملے کیونکہ درہم اور دینار تو تعیین سے متعین ہی نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ قبضہ کر لیا پھر بھی متعین نہیں، واپس کیے پھر بھی متعین نہیں، یہ اس جیسے ہیں وہ والے نہیں ہیں بھئی۔ تو خاوند کو جو ایک ہزار درہم ملے ہیں یہ عین وہ چیز نہیں ہے جس کا خاوند حقدار تھا، یہ تو ہبہ کے طور پر ملے ہیں۔
یہ معنی ہے ”لِأَنَّهُ لَمْ يَصِلْ إِلَيْهِ بِالْهِبَةِ عَيْنُ مَا يَسْتَوْجِبُهُ“ اس لیے کیونکہ خاوند کو نہیں پہنچی ہبہ کی وجہ سے عین وہ چیز جس کا خاوند حقدار تھا، ”لِأَنَّ الدَّرَاهِمَ وَالدَّنَانِيرَ لَا تَتَعَيَّنَانِ فِي الْعُقُودِ وَالْفُسُوخِ“ اس لیے کیونکہ درہم اور دینار جو ہیں وہ متعین نہیں ہوتے عقدوں میں اور فسخوں میں۔ عقد کیا جائے یا عقد کو فسخ کیا جائے تو درہم اور دینار متعین نہیں ہوتے۔
”وَكَذَا إِذَا كَانَ الْمَهْرُ مَكِيلًا أَوْ مَوْزُونًا آخَرَ فِي الذِّمَّةِ“ اسی طرح اگر مہر مکیلی چیز ہوئی ”أَوْ مَوْزُونًا آخَرَ“ یا کوئی دوسرا موزون ہوا، کوئی دوسرا موزون۔ بھئی یہ آخر کی قید کیوں لگائی؟ وجہ یہ کہ پیچھے درہم اور دینار کا ذکر گزرا ہے اور درہم اور دینار بھی تو موزون ہیں، تو درہم اور دینار کے علاوہ کوئی اور موزون ہو اس کا بھی یہی حکم ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَكَذَا إِذَا كَانَ الْمَهْرُ مَكِيلًا أَوْ مَوْزُونًا آخَرَ“ اور اسی طرح مہر جو ہے اگر وہ مکیلات میں سے ہوا یا کوئی دوسرا موزون ہوا ”فِي الذِّمَّةِ“ جو اس کے ذمے میں ہو۔ اسی طرح اگر کوئی مکیلات یا دوسرا موزون اس خاوند کے ذمے میں ہو، ”فِي الذِّمَّةِ“ کی قید لگائی، وجہ یہ کیونکہ مکیلات اور موزونات یہ صرف اشارے سے متعین ہوتے ہیں، مکیلات اور موزونات تعیین سے متعین ہو جاتے ہیں تو لہٰذا اسی لیے کہا کہ متعین نہ ہوں خاوند کے ذمے میں ہوں۔ بھئی دیکھو مکیل یا موزون سامنے پڑا ہے یہ تو میں اشارہ کروں گا یہ والا مکیل یا موزون یہ تو متعین ہو گیا، لیکن اگر سامنے نہیں پڑا خاوند نے کہا میں تمہیں سو من گندم دوں گا بطور مہر کے، تو اب یہ متعین ہے یا خاوند کے ذمے میں ہے؟ خاوند کے ذمے میں ہے، وہ کہیں سے بھی لا کر وہ گندم دے سکتا ہے، کوئی متعین گندم یہاں مراد نہیں ہے، تو فی الذمہ کی قید کس لیے لگائی؟ یہ بتلانے کے لیے کہ وہ متعین نہیں ہونے چاہئیں۔ تو یہ فی الذمہ کا تعلق مکیل اور موزون دونوں سے ہے، کہتے ہیں ”وَكَذَا إِذَا كَانَ الْمَهْرُ مَكِيلًا أَوْ مَوْزُونًا آخَرَ فِي الذِّمَّةِ“ اور اسی طرح اگر مہر جو ہے کوئی مکیلی چیز ہوئی یا کوئی دوسرا موزون ہوا خاوند کے ذمہ میں تو اس وقت بھی یہی حکم ہے۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ یعنی عورت قبضہ کر کے اگر واپس بھی کر دے گی، مثلاً دیکھو خاوند نے عورت سے نکاح کیا میں تمہیں سو من گندم دوں گا بطور مہر کے، تو اب یہ دیکھو گندم متعین نہیں ہے خاوند کے ذمے میں ہے، یہ کیا ہے؟ خاوند کے ذمے میں ہے، اور پھر خاوند نے سو من گندم عورت کے حوالے کر دی، بیوی نے اس سو من گندم پر قبضہ کیا اور پھر بیوی نے کہا بس یہ ساری گندم میری طرف سے تم رکھو، وہ خاوند کو ہبہ کر دیا، تو اس صورت میں بھی یہی مسئلہ ہے جو درہم اور دینار میں تھا۔ درہم اور دینار میں جیسے خاوند نصف کے اندر رجوع کر سکتا تھا تو یہاں پر بھی خاوند نصف گندم کے اندر رجوع کر سکتا ہے کہ میں نے تو تمہیں سو من گندم دی تھی لیکن میں نے تو تمہیں صحبت سے پہلے طلاق دی ہے، تمہارا حق جو ہے وہ پچاس من گندم بنتی تھی، پچاس من مجھے دے دو اب۔ عورت کہے گی بھئی میں نے تو ساری کی ساری گندم آپ کو کیا کر دی تھی؟ ہبہ کر دی تھی، دیکھو وہ گندم متعین نہیں تھی جو خاوند کے ذمہ میں تھی، عورت کے حوالے کر دے پھر بھی یہ متعین نہیں، تو خاوند کہے گا جو تم نے مجھے سو من گندم واپس کی تھی وہ میری گندم کے مثل تھی، میری گندم نہیں تھی، بات سمجھ میں آ گئی؟ جیسے درہم اور دینار میں مسئلہ تھا یہاں پر بھی اسی طرح مسئلہ ہوگا۔
تو کہتے ہیں ”لِعَدَمِ تَعَيُّنِهَا“ اس لیے کیونکہ یہ متعین نہیں ہے، یہ جو موزون آخر یا یہ جو مکیل تھا یہ متعین نہیں ہے، یہ خاوند کے ذمے میں تھے بھئی۔ اچھا تو مسئلہ کیا ہوا؟ درہم اور دینار تعیین سے متعین نہیں ہوتے، عورت اس پر قبضہ کر کے بھی واپس کر دے گی تو یوں ہی سمجھا جائے گا اس نے جو لیے تھے وہ اور تھے اور جو دیے ہیں وہ اور ہیں، دونوں ایک دوسرے کے مثل تو ہیں لیکن وہی چیز نہیں کیونکہ یہ تعیین سے متعین نہیں ہوتے۔ اور یہی حکم ہے مکیلات اور موزونات میں جب وہ متعین نہ ہوں، مثلاً خاوند نے نکاح کیا عورت کے ساتھ اور مہر یہ مقرر کیا کہ میں تمہیں ایک ہزار قفیز گندم دوں گا، یا مہر یہ مقرر کیا کہ میں تمہیں ایک ہزار من چینی دوں گا یعنی مکیلات یا موزونات میں سے کوئی مقرر کیا اور اشارے سے متعین نہیں کیا تو اب یہ خاوند کے ذمے میں آ گئے، جب خاوند کے ذمے میں آ گئے اور پھر خاوند نے یہ لا کر بیوی کے حوالے کر دیے، بیوی نے ان پر قبضہ کیا اور پھر خاوند کو واپس کر دیے کہ بس یہ میری طرف سے آپ رکھیں، تو یاد رکھو اس صورت میں بھی نصف مہر کے اندر خاوند رجوع کر سکتا ہے، وجہ یہ کہ یہ مکیلات اور موزونات بھی یہاں متعین نہیں کیونکہ ان کی طرف اشارہ نہیں کیا گیا تھا، تو جو خاوند نے بیوی کو دیے تھے وہ مہر کے طور پر تھے اور جو بیوی نے واپس کیے ہیں یہ ان کے مثل ہیں، یہ وہی والے نہیں ہیں، تو یہ ہبہ ہے لہٰذا وہ رجوع کر سکتا ہے نصف مہر میں، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
اب دوسری صورت دیکھیے، کہتے ہیں: ”فَإِنْ لَمْ تَقْبِضِ الْأَلْفَ حَتَّى وَهَبَتْهَا لَهُ ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ الدُّخُولِ بِهَا لَمْ يَرْجِعْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ بِشَيْءٍ“ دوسری صورت، ایک ہزار پر ہی نکاح کیا لیکن عورت نے قبضہ کیے بغیر ہی خاوند کو کہہ دیا کہ وہ ہزار درہم جو تم نے میرا مہر مجھے دینا تھا وہ میں نے تمہیں معاف کر دیے، وہ سارے تمہارے ہو گئے۔ پہلی صورت میں تو عورت نے قبضہ کر کے واپس کیے تھے، دوسری صورت میں عورت نے کوئی قبضہ نہیں کیا، ویسے ہی اس کو معاف کر دیے، تو اس صورت کے اندر، اس صورت کے اندر ہمارے تینوں ائمہ کا اتفاق ہے کہ دونوں میں سے کوئی کسی پر رجوع نہیں کرے گا، یوں سمجھیں گے عورت کو بھی اپنا مہر مل گیا کیونکہ اس نے خود معاف کیا ہے، اس نے اپنا مہر خود معاف کیا ہے نا؟ تو جب مہر ایک دفعہ معاف کر دیا تو اب وہ مہر کی مستحق نہ رہی، وہ تو اس نے معاف کر دیا۔ اور خاوند جو ہے وہ بھی نصف مہر میں اب عورت پر رجوع نہیں کرے گا، خاوند جو ہے وہ بھی عورت پر نصف مہر میں رجوع نہیں کرے گا، کیوں؟ کیونکہ بیوی نے اس کو سارا مہر معاف کر دیا، جب سارا مہر خاوند کو معاف کر دیا تو خاوند صحبت سے پہلے طلاق دے رہا ہے، تو عورت کا حق کتنا بنتا تھا؟ نصف، اور نصف خاوند کے پاس رہنے چاہیے تھے، اور جب بیوی نے سارے ہی معاف کر دیے تو سارے ہی خاوند کے پاس رہے، تو جب سارا ہی خاوند کے پاس باقی رہ گیا تو جو نصف اس کا حق بنتا تھا وہ بھی اسی کے پاس ہی رہ گیا۔
بھئی دیکھو نا، پھر سمجھو، پھر سمجھو۔ عورت نے بغیر قبضے ہی کے سارا مہر خاوند کو معاف کر دیا، جب عورت نے سارا مہر معاف کر دیا اور خاوند نے صحبت سے پہلے طلاق دے دی تو عورت تو مہر معاف کر چکی ہے لہٰذا عورت کو کچھ نہیں ملے گا، اور خاوند، خاوند جو ہے وہ بھی عورت پر رجوع نہیں کر سکتا کہ میرا نصف مہر مجھے دے دو، اس لیے کیونکہ خاوند کس بات کا حقدار تھا؟ کہ نصف مہر خاوند کے پاس سلامت رہنا چاہیے، نصف سلامت رہنا چاہیے، نصف تو عورت کا حق بنتا تھا، لیکن عورت نے جب سارا ہی معاف کر دیا تو سارا ہی سلامت رہ گیا، تو جو نصف خاوند کا حق بنتا تھا وہ بھی اس کے پاس سلامت رہ گیا، لہٰذا خاوند بھی عورت پر رجوع نہیں کر سکتا اور عورت بھی مہر کے سلسلے میں اب خاوند پر رجوع نہیں کر سکتی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
کہتے ہیں ”فَإِنْ لَمْ تَقْبِضِ الْأَلْفَ“ اور اگر عورت نے ایک ہزار درہم پر قبضہ نہیں کیا ”حَتَّى وَهَبَتْهَا لَهُ“ یہاں تک کہ عورت نے وہ سارا خاوند کو ہبہ کر دیا، پہلے مسئلے میں قبضہ کر کے ہبہ کیا تھا اور اب دوسرے مسئلے میں بغیر قبضے کے ہی ہبہ کر رہی ہے، تو ”حَتَّى وَهَبَتْهَا لَهُ“ یہاں تک کہ عورت نے وہ سارا اس کو ہبہ کر دیا یعنی بغیر قبضے ہی کے، ”ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ الدُّخُولِ بِهَا“ پھر خاوند نے اس عورت کو طلاق دے دی صحبت سے پہلے، ”لَمْ يَرْجِعْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ بِشَيْءٍ“ تو رجوع نہیں کرے گا دونوں میں سے کوئی ایک بھی اپنے ساتھی پر ”بِشَيْءٍ“ کسی چیز کے ساتھ، یعنی دونوں میں سے کوئی کسی چیز کے ساتھ رجوع نہیں کرے گا۔
”وَفِي الْقِيَاسِ يَرْجِعُ عَلَيْهَا بِنِصْفِ الصَّدَاقِ“ اور قیاس میں خاوند عورت پر رجوع کرے گا نصف مہر کے ساتھ، صداق مہر کو کہتے ہیں، ”وَهُوَ قَوْلُ زُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور یہی قول ہے امام زفر رحمہ اللہ کا۔ بھئی ہمارے تینوں ائمہ فرماتے ہیں میاں بیوی دونوں میں سے کوئی بھی ایک دوسرے پر رجوع نہیں کرے گا، بیوی بھی مہر کا مطالبہ نہیں کر سکتی کیونکہ اس نے سارا مہر معاف کر دیا، صحبت سے پہلے طلاق ملی ہے تو نصف مہر عورت کا حق بنتا ہے لیکن وہ تو سارا ہی معاف کر چکی ہے، تو اپنا نصف بھی اس نے معاف کر دیا، اور خاوند بھی بیوی پر رجوع نہیں کر سکتا کہ مجھے نصف مہر دے دو، اس لیے کیونکہ خاوند کس بات کا حقدار تھا؟ کہ نصف مہر خاوند کے پاس سلامت رہنا چاہیے، جب صحبت سے پہلے طلاق دے رہا ہے تو کتنا مہر خاوند کے پاس سلامت رہنا چاہیے؟ نصف سلامت رہنا چاہیے، نصف تو عورت کا حق بنتا تھا، تو نصف مہر خاوند کے پاس سلامت رہنا چاہیے تھا لیکن عورت نے جب سارا ہی معاف کر دیا تو سارا ہی سلامت رہ گیا، تو جو نصف خاوند کا حق بنتا تھا وہ بھی اس کے پاس سلامت رہ گیا۔ نئی توجہ؟ خاوند صحبت سے پہلے طلاق دے تو کتنا مہر اس کے پاس باقی رہنا چاہیے؟ نصف رہنا چاہیے، اور عورت نے جب معاف کر دیا تو نصف رہا یا سارا ہی باقی رہ گیا خاوند کے پاس؟ سارا ہی باقی رہ گیا، تو جب سارا ہی خاوند کے پاس باقی رہ گیا تو جو نصف اس کا حق بنتا تھا وہ بھی اسی کے پاس ہی رہ گیا، تو جب وہ اس کے پاس سلامت رہا تو اب یہ عورت پر رجوع نہیں کر سکتا، جبکہ امام زفر فرماتے ہیں کہ خاوند یہاں بھی نصف مہر میں عورت پر رجوع کر سکتا ہے۔
خاوند یہاں بھی نصف جیسے پچھلے مسئلے میں تھا، قبضے کے بعد عورت نے واپس کیا تھا تو وہاں نصف مہر میں خاوند رجوع کر سکتا تھا، یہاں عورت نے بغیر قبضے کے جب اس نے سارا ہبہ کیا ہے تو بھی خاوند نصف مہر میں رجوع کر سکتا ہے۔ امام زفر یاد رکھو بھئی، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے شاگردوں میں سے قیاس کے اندر سب سے بڑے ماہر امام زفر رحمہ اللہ تھے بھئی، تو امام زفر رحمہ اللہ یہاں بھی قیاس پیش فرماتے ہیں اور قیاس یہی تقاضا کرتا ہے کہ خاوند کو آدھے مہر میں رجوع کرنا چاہیے۔ صورت کون سی ہے؟ بغیر قبضے کے عورت نے سارا مہر کیا کر دیا؟ معاف، واپس نہ کہیں واپس تو تب ہے جب قبضہ کیا ہو، بغیر قبضے کے ہی عورت نے سارا مہر معاف کر دیا، تو اس صورت میں ہمارے باقی ائمہ فرماتے ہیں خاوند اور بیوی ایک دوسرے پر رجوع نہیں کریں گے بس مسئلہ ختم ہو گیا، دونوں کا حق ادا ہو گیا، لیکن امام زفر رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں کہ خاوند نصف مہر میں اس صورت میں بھی رجوع کرے گا، وہ فرماتے ہیں اس لیے کیونکہ خاوند کا جو حق تھا وہ اس کو ابھی بھی نہیں ملا۔ خاوند کا حق کیا تھا؟ کہ نصف مہر اس کے پاس سلامت رہنا چاہیے تھا، کیوں سلامت رہنا چاہیے تھا؟ طلاق قبل الدخول کی وجہ سے۔
توجہ سے سنو، امام زفر بڑی گہری بات فرما رہے ہیں، امام زفر فرماتے ہیں خاوند کا یہ حق تھا کہ وہ صحبت سے پہلے طلاق دے رہا ہے لہٰذا نصف مہر خاوند کے پاس سلامت رہنا چاہیے طلاق قبل الدخول کی وجہ سے۔ یہ وجہ ساتھ ضرور ملانا، خاوند کے پاس نصف مہر سلامت رہنا چاہیے کس کی وجہ سے؟ طلاق قبل الدخول کی وجہ سے سلامت رہنا چاہیے، اور یہ جو عورت نے اس کو مہر معاف کیا یہ تو طلاق سے پہلے معاف کیا ہے، تو یہ ابراء کی وجہ سے خاوند کے پاس سلامت رہا، سارا مہر جب خاوند کے پاس رہا تو جو خاوند کا حق تھا نصف مہر وہ بھی خاوند کے پاس سلامت رہا لیکن طلاق قبل الدخول کی وجہ سے سلامت رہا یا ابراء یعنی عورت کے معاف کر دینے کی وجہ سے سلامت رہا؟ ابراء کی وجہ سے، کیونکہ عورت نے تو طلاق سے پہلے معاف کیا تھا، تو یہ جو خاوند کے پاس نصف مہر سلامت رہا یہ ابراء کی وجہ سے رہا، اس کا سبب ابراء ہے، حالانکہ خاوند کا حق کیا تھا؟ کہ نصف مہر طلاق قبل الدخول کی وجہ سے سلامت رہنا چاہیے۔ تو سلامت تو رہا ہے لیکن سبب الگ الگ ہیں، ایک وہ ہے جو سلامت رہے طلاق قبل الدخول کی وجہ سے، ایک وہ ہے جو سلامت رہے ابراء کی وجہ سے، دونوں الگ الگ چیزیں ہیں کیونکہ سبب الگ تو چیز بھی الگ شمار ہوتی ہے۔
پھر سنو، امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں خاوند صحبت سے پہلے طلاق دے رہا ہے لہٰذا خاوند کا یہ حق ہے کہ نصف مہر اس کے پاس سلامت رہنا چاہیے طلاق قبل الدخول کی وجہ سے، اور عورت نے تو سارا مہر معاف کر دیا، جب سارا معاف کر دیا تو نصف بھی سلامت رہا لیکن یہ نصف طلاق قبل الدخول کی وجہ سے سلامت نہیں رہا بلکہ ابراء کی وجہ سے سلامت رہا کہ عورت نے معاف کر دیا تھا، تو سبب الگ ہے۔ تو خاوند کا حق کیا؟ خاوند کا حق یہ کہ نصف مہر اس کے پاس سلامت رہنا چاہیے، کس وجہ سے؟ طلاق قبل الدخول کی وجہ سے سلامت رہنا چاہیے، اور اب بھی نصف مہر خاوند کے پاس سلامت رہا لیکن وہ طلاق قبل الدخول کی وجہ سے نہیں سلامت رہا عورت کے معاف کر دینے کی وجہ سے عورت کے ابراء کی وجہ سے سلامت رہا، تو جو خاوند کا حق تھا وہ اور تھا اور جو خاوند کو ملا ہے وہ اور ہے لہٰذا خاوند بیوی پر رجوع کر سکتا ہے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں ”وَفِي الْقِيَاسِ يَرْجِعُ عَلَيْهَا بِنِصْفِ الصَّدَاقِ“ اور قیاس میں خاوند رجوع کر سکتا ہے بیوی پر نصف مہر کے ساتھ، ”وَهُوَ قَوْلُ زُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور یہی قول ہے امام زفر رحمہ اللہ کا بھی، ”لِأَنَّهُ سَلِمَ الْمَهْرُ لَهُ بِالْإِبْرَاءِ“ اس لیے کیونکہ مہر سلامت رہا خاوند کے لیے ابراء کی وجہ سے اس بیوی کے معاف کر دینے کی وجہ سے، ”فَلَا تَبْرَأُ“ لہٰذا بیوی بری نہیں ہوگی ”عَمَّا يَسْتَحِقُّهُ بِالطَّلَاقِ قَبْلَ الدُّخُولِ“ بیوی بری نہیں ہوگی اس نصف مہر سے جس کا خاوند مستحق ہے طلاق قبل الدخول کی وجہ سے۔ تو جس کا خاوند طلاق قبل الدخول کی وجہ سے مستحق ہے وہ تو خاوند کو نہیں ملے، یہ جو ملے ہیں یہ تو ابراء کی وجہ سے ملے ہیں، تو دونوں کا سبب الگ، جب سبب الگ تو چیزیں بھی الگ، تو خاوند کا عین حق اس کو ابھی بھی نہیں ملا وہ بیوی پر رجوع کر سکتا ہے۔
ترجمہ سمجھ میں آیا؟ کہتے ہیں ”لِأَنَّهُ سَلِمَ الْمَهْرُ لَهُ بِالْإِبْرَاءِ“ اس لیے کیونکہ سارا مہر سلامت رہا خاوند کے لیے ابراء کی وجہ سے عورت کے معاف کرنے کی وجہ سے، یعنی سبب الگ ہے، ”فَلَا تَبْرَأُ عَمَّا يَسْتَحِقُّهُ“ لہٰذا عورت بری نہیں ہو سکتی اس نصف مہر سے جس کا خاوند مستحق ہے ”بِالطَّلَاقِ قَبْلَ الدُّخُولِ“ طلاق قبل الدخول کی وجہ سے۔ یعنی عورت نے جو دیا ہے وہ تو ابراء کی وجہ سے دیا ہے، طلاق قبل الدخول کی وجہ سے تو نہیں دیا، تو طلاق قبل الدخول کی وجہ سے خاوند کو نصف دینا پڑے گا۔
”وَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ“ تو یہ تو تھا قیاس، قیاس کے مطابق خاوند ابھی بھی نصف مہر میں رجوع کر سکتا ہے بیوی پر، لیکن ہمارے تینوں ائمہ کیا فرماتے ہیں؟ میاں بیوی میں سے کوئی ایک بھی دوسرے پر رجوع نہیں کر سکتا، معلوم ہوا ان کی دلیل استحسان ہے یعنی قیاس خفی ہے، ان کی دلیل کیا ہے؟ استحسان ہے، کیونکہ استحسان قیاس خفی کو اس وقت کہتے ہیں جب اس کے مقابلے میں کیا آئے؟ قیاس جلی، اور یہاں قیاس جلی امام زفر نے ذکر کر دیا، اور ہماری دلیل اب استحسان ہے، تو کہتے ہیں: ”وَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ“ اور استحسان کی وجہ یہ ہے ”أَنَّهُ وَصَلَ إِلَيْهِ عَيْنُ مَا يَسْتَحِقُّهُ“ کہ خاوند کو پہنچ گیا عین وہ نصف مہر جس کا وہ مستحق تھا، خاوند کو عین وہ نصف حق پہنچ گیا جس کا وہ مستحق تھا ”بِالطَّلَاقِ قَبْلَ الدُّخُولِ“ طلاق قبل الدخول کی وجہ سے۔ طلاق قبل الدخول کی وجہ سے خاوند کا جو حق بنتا تھا کہ نصف مہر خاوند کے لیے سلامت رہنا چاہیے تو نصف مہر تو خاوند کے لیے سلامت رہا، اگرچہ سبب بدل گیا ہے، طلاق قبل الدخول کی وجہ سے یہ نصف مہر سلامت نہیں رہا بلکہ ابراء کی وجہ سے سلامت رہا ہے، اگرچہ سبب بدل گیا ہے لیکن سبب کی پرواہ نہیں کی جائے گی، بس جب حقدار کو حق مل رہا ہے تو سبب اگر مختلف بھی ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ خاوند بھی کتنے کا حقدار تھا؟ کہ نصف مہر سلامت رہنا چاہیے، اور جب عورت نے معاف کر دیا تب بھی کیا ہوا؟ نصف مہر اس کے لیے سلامت رہا، تو لہٰذا خاوند کو اس کا حق مل گیا، اگرچہ سبب بدل گیا، ملنا تو چاہیے تھا طلاق قبل الدخول کی وجہ سے لیکن ملا کیوں ہے؟ ابراء کی وجہ سے، تو سبب بے شک بدل گیا ہے لیکن سبب مقصود نہیں ہوتا، سبب خود مقصود نہیں ہوتا بلکہ مقصود یہ ہے کہ حقدار کو اس کا حق مل جائے اور خاوند جو حقدار تھا اس کا حق اسے مل گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
کہتے ہیں ”وَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ“ استحسان کی وجہ یہ ہے ”أَنَّهُ وَصَلَ إِلَيْهِ عَيْنُ مَا يَسْتَحِقُّهُ بِالطَّلَاقِ قَبْلَ الدُّخُولِ“ کہ پہنچ گیا ہے خاوند کو عین وہ نصف مہر جس کا وہ طلاق قبل الدخول کی وجہ سے مستحق تھا، ”وَهُوَ بَرَاءَةُ ذِمَّتِهِ عَنْ نِصْفِ الْمَهْرِ“ اور وہ خاوند کا حق کیا تھا؟ ”بَرَاءَةُ ذِمَّتِهِ عَنْ نِصْفِ الْمَهْرِ“ کہ خاوند کا ذمہ نصف مہر سے بری ہونا چاہیے۔ خاوند کا ذمہ نصف مہر سے بری ہونا چاہیے تھا طلاق کی وجہ سے یعنی نصف مہر اس کے لیے سلامت رہنا چاہیے تھا، اور جب پورا ہی عورت نے بری کر دیا تو نصف مہر سے بھی بری کر دیا یا نہیں کر دیا؟ تو خاوند کو اس کا حق مل گیا بھئی۔
تو کہتے ہیں پھر ترجمہ دیکھیے، کہتے ہیں ”وَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ“ استحسان کی وجہ یہ ہے ”أَنَّهُ وَصَلَ إِلَيْهِ“ کہ خاوند کو پہنچ گیا ہے ”عَيْنُ مَا يَسْتَحِقُّهُ“ عین وہ نصف مہر جس کا وہ مستحق تھا ”بِالطَّلَاقِ قَبْلَ الدُّخُولِ“ طلاق قبل الدخول کی وجہ سے، خاوند کو عین اس کا حق پہنچ گیا ہے، اور عین حق اس کا کیا تھا وہ اب بیان کر رہے ہیں ”وَهُوَ بَرَاءَةُ ذِمَّتِهِ عَنْ نِصْفِ الْمَهْرِ“ اور وہ یہ کہ خاوند کا ذمہ بری ہونا چاہیے تھا نصف مہر سے، جب عورت نے سارا معاف کر دیا تو نصف مہر سے بھی اس کا ذمہ کیا ہو گیا؟ تو سارے کے اندر نصف بھی آ گیا، تو اس نصف مہر سے خاوند کا ذمہ بری ہو گیا، ”وَلَا يُبَالَى بِاخْتِلَافِ السَّبَبِ“ اور پرواہ نہیں کی جائے گی اختلاف سبب کی، سبب کے مختلف ہونے کی ”عِنْدَ حُصُولِ الْمَقْصُودِ“ جس وقت مقصود حاصل ہو رہا ہو، خاوند کو جب اس کا حق مل رہا ہے اگرچہ سبب الگ ہے، ملا ہے ابراء کی وجہ سے، ملنا کس لیے چاہیے تھا؟ طلاق قبل الدخول کی وجہ سے، تو سبب کے اختلاف سے کچھ نہیں ہوتا، اس کی پرواہ نہیں کی جائے گی جب مقصود حاصل ہو رہا ہے خاوند کو اس کا حق مل رہا ہے۔ تو یہ معنی ہے ”وَلَا يُبَالَى بِاخْتِلَافِ السَّبَبِ عِنْدَ حُصُولِ الْمَقْصُودِ“ اور کوئی پرواہ نہیں کی جائے گی سبب کے مختلف ہونے کی جس وقت مقصود حاصل ہو رہا ہو۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
”وَلَوْ قَبَضَتْ خَمْسَ مِائَةٍ ثُمَّ وَهَبَتِ الْأَلْفَ كُلَّهَا الْمَقْبُوضَ وَغَيْرَهُ أَوْ وَهَبَتِ الْبَاقِيَ“ اب دوسری صورت آ گئی۔ پہلی صورت کیا تھی؟ عورت نے قبضہ کر کے واپس کر دیے تھے، عورت نے قبضہ کر کے ہبہ کر دیا تھا تو خاوند نصف مہر میں رجوع کر سکتا ہے کیونکہ خاوند کو عین اس کا حق نہیں ملا، توجہ ہے؟ جو بیوی کو دیے تھے وہ اور درہم تھے، جو بیوی نے دیے ہیں وہ اور درہم ہیں۔ دوسری صورت کیا تھی کہ عورت نے بغیر قبضے کے ہی سارا مہر معاف کر دیا، تو ہمارے ائمہ فرماتے ہیں میاں بیوی میں سے کوئی ایک دوسرے پر رجوع نہیں کرے گا، جبکہ امام زفر فرماتے ہیں کہ نصف مہر میں یہاں بھی خاوند رجوع کر سکتا ہے۔
اب تیسری صورت آ گئی کہ بیوی نے کچھ مہر پر قبضہ کیا ہے سارے پر نہیں، کچھ پر قبضہ کیا ہے اور پھر وہ کچھ بھی خاوند کو واپس کر دیے اور باقی بھی معاف کر دیے، یا جو کچھ مقدار پر اس نے قبضہ کر لیا ہے وہ تو واپس نہیں کیے لیکن باقی کے معاف کر دیے، تو یہاں دو صورتیں اکٹھی ہیں۔ عورت نے سارے پر قبضہ نہیں کیا بلکہ کچھ پر قبضہ کیا ہے، پھر اس میں دو صورتیں ہیں، یہ جو کچھ پر قبضہ ہے یہ بھی عورت واپس کر دے گی اور باقی کا بھی سارا معاف کر دے گی، ایک صورت، یا جو عورت نے وصول کر لیا وہ تو واپس نہیں دے رہی لیکن باقی کا وہ معاف کر دیتی ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو پھر اس صورت میں کیا مسئلہ ہوگا؟ تو امام صاحب جو ہیں وہ جو باقی رہ جائے گا اس کا اعتبار کرتے ہیں اور صاحبین جس پر قبضہ کیا ہے عورت نے اس کا اعتبار کرتے ہیں۔
توجہ ہے؟ صورت کیا؟ مہر کتنا ہے؟ ہزار، عورت نے کچھ پر قبضہ کر لیا، مثلاً نصف پہ، عورت نے نصف پر قبضہ کر لیا اور باقی کا نصف معاف کر دیا یا یہ والے بھی واپس کر دیے اور باقی بھی معاف کر دیے۔ تو اس صورت میں صاحبین فرماتے ہیں کہ عورت نے جتنے پر قبضہ کیا ہے اس کے نصف میں خاوند رجوع کر سکتا ہے۔ مثلاً مہر کتنا تھا؟ ایک ہزار، عورت نے پانچ سو لے لیے، پانچ سو لینے کے بعد عورت چاہے یہ پانچ سو اپنے پاس ہی رکھے اور باقی والا معاف کر دے، یا یہ پانچ سو بھی واپس کر دے اور سارا ہی معاف کر دے، توجہ ہے؟ دونوں صورتوں میں صاحبین فرماتے ہیں چاہے عورت یہ پانچ سو بھی واپس کرے یا نہ کرے، یہ جو عورت نے جس پر قبضہ کر لیا ہے اس کے نصف میں خاوند رجوع کرے گا۔
صاحبین اس کو قیاس کرتے ہیں جب بیوی کل پر قبضہ کرتی تھی اور جب بیوی سارے پر قبضہ کر کے واپس کرتی تھی تو نصف کے اندر وہاں خاوند رجوع کر سکتا تھا، تو یہاں اگر نصف کے اندر بیوی نے قبضہ کیا ہے تو اس نصف کے نصف کے اندر خاوند رجوع کر سکتا ہے۔ صاحبین کیا فرماتے ہیں؟ جب بیوی کل پر قبضہ کرتی تھی تو نصف میں خاوند رجوع کر سکتا تھا، تو بیوی جب سارے پر قبضہ کرتی تھی تو خاوند نصف میں رجوع کر سکتا تھا، تو اگر سارے پر بیوی نے قبضہ نہیں کیا کچھ مقدار پر قبضہ کیا ہے تو جتنے پر بیوی نے قبضہ کیا ہے اس کے نصف میں خاوند رجوع کر سکتا ہے۔ تو صاحبین کے نزدیک مقبوض کا اعتبار ہے، جتنے پر بیوی نے قبضہ کیا ہے، اگر بیوی کل پر قبضہ کرتی تھی تو خاوند اس کے نصف میں رجوع کرتا تھا، تو اگر بعض پر قبضہ کرے گی تو اس بعض کے نصف میں خاوند رجوع کر سکتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟
جبکہ امام صاحب کے نزدیک جو خاوند کے لیے سلامت رہا اس کا اعتبار کیا جائے گا، خاوند کے لیے نصف سلامت رہنا چاہیے تھا، اگر نصف خاوند کے لیے سلامت رہ گیا ہے، بیوی نے کچھ لے لیا اور کچھ خاوند کے لیے رہ گیا، تو اگر وہ جو سلامت رہا ہے وہ نصف ہے تو خاوند بیوی پر رجوع نہیں کرے گا اور اگر وہ نصف سے کم ہے تو اس کو نصف پورا کروا لے گا، اس کو نصف پورا کروا لے گا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ دیکھو صاحب ہدایہ اس کو اور اچھے الفاظ میں بیان کریں گے۔
”وَلَوْ قَبَضَتْ خَمْسَ مِائَةٍ“ اور اگر عورت نے پانچ سو درہم پر قبضہ کر لیا ”ثُمَّ وَهَبَتِ الْأَلْفَ كُلَّهَا“ پھر وہ سارا ہزار اس نے ہبہ کر دیا ”الْمَقْبُوضَ وَغَيْرَهُ“ جو جس پر قبضہ کیا تھا وہ بھی اور غیر مقبوض جو تھا وہ بھی سارا معاف کر دیا، پانچ سو درہم لیے خاوند سے، مہر کتنا تھا؟ ایک ہزار، لیے کتنے؟ پانچ سو مثلاً، اور پھر یہ پانچ سو بھی واپس کر دیے اور جو پانچ سو باقی تھے وہ بھی معاف کر دیے، سارا واپس کر دیا۔ ”أَوْ وَهَبَتِ الْبَاقِيَ“ یہ دوسری صورت، یہ جو پانچ سو لے لیے ہیں یہ تو واپس نہیں کیے لیکن باقی جو پانچ سو بچ گئے تھے وہ سارے اس کو ہبہ کر دیے کہ وہ تم ہی رکھو وہ مجھے دینے کی ضرورت نہیں، وہ میں نے تمہیں ہبہ کر دیے۔ دونوں صورتیں، تو کہتے ہیں ”أَوْ وَهَبَتِ الْبَاقِيَ“ یا بیوی نے باقی جو ہے اس خاوند کو ہبہ کر دیا، یہ جو قبضہ کیا وہ نہیں واپس کیا باقی ہبہ کر دیا، ”ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ الدُّخُولِ بِهَا“ پھر خاوند نے اس کو صحبت سے پہلے طلاق دے دی، ”لَمْ يَرْجِعْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ“ اچھا، ”لَمْ يَرْجِعْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ بِشَيْءٍ“ بھئی اس مسئلے کو نصف میں ہی رکھیں، میں نے تو کہا بعض پہ اگر قبضہ کیا ہے، توجہ ہے؟ نصف پہ رکھیں کہ بیوی نے جو مہر مقرر تھا اس کے نصف پر قبضہ کیا اور پھر وہ مقبوض بھی اور غیر مقبوض سارا خاوند کو ہبہ کر دیا، یا مقبوض تو واپس نہیں کیا باقی والا جو ہے وہ سارا خاوند کو ہبہ کر دیا، تو ان دونوں صورتوں میں بھی امام صاحب فرماتے ہیں کہ بیوی نے نصف پر قبضہ کیا ہے تو خاوند کے لیے نصف سلامت رہ گیا، اور خاوند کے لیے بھی نصف سلامت ہی رہنا چاہیے تھا تو خاوند کو اس کا حق مل گیا، تو بیوی پر وہ رجوع نہیں کر سکتا اور بیوی بھی رجوع نہیں کر سکتی کیونکہ اس نے خود معاف کیا ہے بھئی۔
جبکہ صاحبین فرماتے ہیں مقبوض کا اعتبار ہے، جب عورت کل پہ قبضہ کرتی تھی تو خاوند اس کل کے نصف میں رجوع کرتا تھا، تو جب بیوی نے نصف میں قبضہ کیا ہے تو اس نصف کے نصف میں خاوند رجوع کرے گا اور ڈھائی سو درہم واپس لے لے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ دلیل ان کی آ رہی ہے آگے۔ تو کہتے ہیں ”لَمْ يَرْجِعْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ بِشَيْءٍ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ تو دونوں میں سے کوئی ایک بھی رجوع نہیں کرے گا اپنے ساتھی پر کسی چیز کے ساتھ امام صاحب کے نزدیک، کیونکہ خاوند کا حق کتنا تھا؟ کہ نصف مہر اس کے پاس سلامت رہنا چاہیے، تو عورت نے تو آدھے پر ہی قبضہ کیا ہے چاہے اس نے واپس کیا ہے یا واپس نہیں کیا تو آدھا تو اس خاوند کے پاس سلامت رہا، خاوند کو اس کا حق مل چکا ہے بھئی۔
”وَقَالَا“ اور صاحبین فرماتے ہیں ”يَرْجِعُ عَلَيْهَا بِنِصْفِ مَا قَبَضَتْ“ کہ خاوند عورت پر رجوع کرے گا اس کا نصف جس پر عورت نے قبضہ کیا تھا، کیوں؟ کہتے ہیں ”اعْتِبَارًا لِلْبَعْضِ بِالْكُلِّ“ قیاس کرتے ہوئے بعض کو کل پر، جب کل پر عورت قبضہ کرتی تھی تو خاوند نصف میں رجوع کر سکتا تھا، تو جب بعض پر عورت قبضہ کرے گی تو اس بعض کے نصف میں خاوند رجوع کرے گا۔ یہ معنی ہے ”اعْتِبَارًا لِلْبَعْضِ بِالْكُلِّ“ قیاس کرتے ہوئے بعض کو کل پر، ”وَلِأَنَّ هِبَةَ الْبَعْضِ حَطٌّ فَيَلْحَقُ بِأَصْلِ الْعَقْدِ“ اور نیز کیونکہ صاحبین کا ضابطہ یہ ہے، صاحبین کا ضابطہ یہ ہے کہ مہر کے اندر جس مقدار پر قبضہ نہیں کیا اور معاف کر دی وہ اصل عقد کے ساتھ ہی لاحق ہو جاتا ہے۔ مہر کتنا ہے؟ ایک ہزار، عورت نے کتنے پر یہاں قبضہ کیا؟ نصف پر، تو باقی نصف عورت نے معاف کر دیا، تو
صاحبین کا ضابطہ یہ ہے وہ غیر مقبوض جس پہ عورت نے قبضہ نہیں کیا اور اس کو معاف کر دیا، وہ کمی اصلِ عقد میں شمار کی جائے گی۔ اب یوں سمجھا جائے گا کہ نکاح کے وقت مہر ایک ہزار رکھا ہی نہیں تھا، پانچ سو رکھا تھا۔ یہ جو بعد میں معاف کیا ہے بغیر قبضے کے، یہ کس کے ساتھ مل جائے گا؟ اصلِ عقد کے ساتھ۔ وہ اس کو قیاس کرتے ہیں بیع پر۔ یاد رکھو، بیع کے اندر آپ پڑھ چکے ہیں، بائع جو ہے ثمن میں کمی کر سکتا ہے۔ ایک چیز ہزار روپے کی ہے، بائع مشتری کو کہہ سکتا ہے مجھے صرف پانچ سو دے دو۔ اسی طرح مشتری ثمن میں زیادتی کر سکتا ہے۔ ہزار روپے کی چیز ہے، مشتری کہتا ہے یہ لو میری طرف سے پندرہ سو روپے آپ رکھو۔ تو بیع کے اندر ثمن کے اندر جو کمی یا زیادتی کی جائے وہ اصلِ عقد کے ساتھ مل جاتی ہے، یوں سمجھا جاتا ہے عقد ہی اتنے میں ہوا تھا۔ مثلاً میں نے آپ سے کتاب خریدی ایک ہزار روپے کی، اور پھر جب میں نے آپ کو ہزار دینے لگا تو آپ نے کہا مجھے صرف پانچ سو دے دو، تو آپ نے کمی کر دی، تو میں نے پانچ سو آپ کو دے دیے۔ اب یوں سمجھا جائے گا آپ کا میرا عقد ہوا ہی پانچ سو پر ہے، حالانکہ عقد تو ہزار پر ہوا تھا، لیکن کیا سمجھا جائے گا؟ گویا عقد ہی پانچ سو پر ہوا ہے، وہ جو کمی ہے وہ اصلِ عقد میں شامل ہو جائے گی، اصلِ عقد کے ساتھ مل جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو صاحبین فرماتے ہیں: جیسے بیع کے اندر کمی کی جائے تو وہ اصلِ عقد کے ساتھ لاحق ہو جاتی ہے، اسی طرح نکاح کے اندر اگر قبضہ کیے بغیر ہی عورت کچھ معاف کرے گی تو اصلِ عقد کے اندر جو مہر تھا تو یہ کمی اسی کے اندر شمار ہو گی۔ مثلاً مہر کتنا تھا؟ ہزار۔ عورت نے قبضہ کتنے پر کیا ہے؟ پانچ سو پر۔ تو باقی پانچ سو عورت نے معاف کر دیے۔ تو صاحبین فرماتے ہیں: یہ پانچ سو جو عورت نے بغیر قبضے کے معاف کیے ہیں، یہ اصلِ عقد کے ساتھ لاحق ہو جائے گی۔ گویا وہیں پر مہر ہزار نہیں مقرر ہوا تھا بلکہ پانچ سو مقرر ہوا تھا۔ تو اب عورت نے قبضہ کتنے پر کیا ہے؟ پانچ سو پر، اور پانچ سو عورت نے بغیر قبضے کے ہی معاف کر دیے، تو گویا عورت کا مہر تھا ہی کتنا؟ پانچ سو۔ اور خاوند نے بھی کتنے دیے ہیں؟ پانچ سو۔ مہر بھی پانچ سو تھا، خاوند نے بھی پانچ سو دیے ہیں، اور طلاق صحبت سے پہلے دی ہے، اور جب طلاق صحبت سے پہلے دی جائے تو عورت کو پورا مہر ملتا ہے یا نصفِ مہر؟ نصفِ مہر ملتا ہے، لہٰذا خاوند اس پانچ سو میں سے ڈھائی سو واپس وصول کر لے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے۔
کہتے ہیں: ”وَقَالَا: يَرْجِعُ عَلَيْهَا بِنِصْفِ مَا قَبَضَتْ“ کہ خاوند رجوع کرے گا اس عورت پر اس کے نصف کے ساتھ جس پر عورت نے قبضہ کیا ہے، ”اعْتِبَارًا لِلْبَعْضِ بِالْكُلِّ“ قیاس کرتے ہوئے بعض کو کل پر، ”وَلِأَنَّ هِبَةَ الْبَعْضِ حَطٌّ“ اس لیے کیونکہ بعض کا ہبہ کرنا یہ کمی ہے، یہ کم کرنا ہے، ”وَلِأَنَّ هِبَةَ الْبَعْضِ حَطٌّ“ اس لیے کیونکہ بعض کا ہبہ کرنا، یعنی وہ بعض جس پر ابھی قبضہ نہیں کیا، ”لِأَنَّ هِبَةَ الْبَعْضِ حَطٌّ“ اس لیے کیونکہ ہبہ کرنا اس بعض کا جس پر قبضہ نہیں کیا ”حَطٌّ“ یہ مہر میں کمی کرنا ہے، ”فَيَلْحَقُ بِأَصْلِ الْعَقْدِ“ تو یہ اصلِ عقد کے ساتھ ہی مل جائے گی یہ کمی، تو گویا مہر تھا ہی کتنا؟ پانچ سو تھا بھئی۔
”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے: ”أَنَّ مَقْصُودَ الزَّوْجِ حَصَلَ“ کہ خاوند کا مقصود حاصل ہو گیا۔ عورت نے تو نصف مہر پر قبضہ کیا ہے تو خاوند کا مقصود حاصل ہو گیا۔ بھئی، وہ کیا مقصود ہے خاوند کا؟ کہتے ہیں: ”وَهُوَ سَلَامَةُ نِصْفِ الصَّدَاقِ بِلَا عِوَضٍ“ اور وہ یہ کہ خاوند کے لیے نصفِ مہر سلامت رہے، ”بِلَا عِوَضٍ“ بغیر کسی عوض کے۔ بھئی، یاد رکھو، اگر عوض آ گیا تو پھر یوں سمجھیں گے مہر سلامت ہی نہ رہا۔ مثلاً عورت نے کتنے پر قبضہ کیا ہے یہاں؟ پانچ سو پر، اور باقی پانچ سو وہ خاوند کو کہتی ہے: یوں کرو، مجھے یہ کپڑے کا ایک تھان دے دو اس کے عوض میں، وہ باقی پانچ سو میں نے آپ کو معاف کر دیے۔ وہ پانچ سو آپ کو میں نے معاف کر دیے۔ اب خاوند کے پاس دیکھو پانچ سو سلامت رہے، لیکن ویسے ہی سلامت رہے یا خاوند کو اس کا عوض دینا پڑا؟ عوض دینا پڑا، ایک کپڑے کا تھان دینا پڑا، تو معلوم ہوا خاوند کو اس کا حق نہیں ملا۔ خاوند کا حق تو کیا تھا؟ کہ اس نے صحبت سے پہلے طلاق دی ہے، لہٰذا نصفِ مہر خاوند کے پاس سلامت رہنا چاہیے بغیر کسی عوض کے۔ اور خاوند کے پاس جو نصف سلامت رہا ہے وہ بغیر عوض کے رہا ہے یا عوض کے ساتھ باقی رہا ہے؟ عوض کے ساتھ، لہٰذا خاوند کو اس کا حق نہیں ملا، پھر خاوند رجوع کر سکتا ہے۔ لیکن یہاں وہ صورت ذکر ہو رہی ہے کہ عورت نے عوض نہیں لیا، بغیر عوض کے ہی خاوند کو وہ معاف کر دیے، تو خاوند کے لیے نصفِ مہر سلامت رہا بلا عوض کے، تو خاوند کو اس کا حق مل گیا۔
تو یہ معنی ہے۔ ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّ مَقْصُودَ الزَّوْجِ حَصَلَ وَهُوَ سَلَامَةُ نِصْفِ الصَّدَاقِ بِلَا عِوَضٍ فَلَا يَسْتَوْجِبُ الرُّجُوعَ عِنْدَ الطَّلَاقِ“ استوجب یستوجب کا معنی: مستحق ہونا، حقدار ہونا۔ ”فَلَا يَسْتَوْجِبُ“ لہٰذا خاوند حقدار نہیں ہے ”الرُّجُوعَ عِنْدَ الطَّلَاقِ“ کہ وہ بیوی پر رجوع کرے طلاق کے وقت، کیونکہ خاوند کو اس کا حق مل چکا ہے۔ ”وَالْحَطُّ لَا يَلْتَحِقُ بِأَصْلِ الْعَقْدِ فِي النِّكَاحِ“ اب امام صاحب کی طرف سے جواب دے رہے ہیں صاحبین کو۔ صاحبین کیا فرماتے تھے؟ کہ اگر نکاح کے بعد بھی بیوی اگر مہر میں کمی کرتی ہے تو وہ کمی اصلِ عقد کے ساتھ لاحق ہو جاتی ہے، اصلِ عقد ہی گویا کم مہر پر ہوا تھا۔ امام صاحب فرماتے ہیں: نہیں، بیع کے اندر تو اگر ثمن میں کمی کی جائے گی وہ اصلِ عقد کے ساتھ لاحق ہو جائے گی، لیکن نکاح کے اندر اگر کمی کی جائے گی تو وہ اصلِ عقد کے ساتھ لاحق نہیں ہو گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْحَطُّ لَا يَلْتَحِقُ بِأَصْلِ الْعَقْدِ فِي النِّكَاحِ“ اور کمی جو ہے وہ اصلِ عقد کے ساتھ نہیں ملے گی نکاح میں۔ ”أَلَا تَرَى“ کیا آپ دیکھتے نہیں ”أَنَّ الزِّيَادَةَ فِيهِ لَا تَلْتَحِقُ حَتَّى لَا تَنَصَّفُ“ یاد رکھو یہ جو ”لَا تَنَصَّفُ“ ہے، یہ اصل میں ہے ”لَا تَتَنَصَّفُ“۔ یہاں ”حَتَّى“ کے بعد ”أَنْ“ مقدر نہیں ہو گا، لہٰذا رفع ہی پڑھیں گے: ”حَتَّى لَا تَتَنَصَّفُ“۔ اور آپ نے ضابطہ پڑھا ہے صرف کے اندر کہ بابِ تفعل یا بابِ تفاعل ان کے شروع میں دو تائے مفتوحہ جمع ہو جائیں، یعنی دو تا آ جائیں اور دونوں پر زبر ہو تو دونوں میں سے ایک کو حذف کرنا جائز۔ تو ”لَا تَتَنَصَّفُ“ کہنا بھی جائز اور ”لَا تَنَصَّفُ“ کہنا بھی جائز۔ جیسے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ﴾ حالانکہ اصل میں کیا ہے؟ تتنزل۔ تو یہاں پر بھی ایک تا کو حذف کر لیا گیا۔ ”أَلَا تَرَى أَنَّ الزِّيَادَةَ فِيهِ لَا تَلْتَحِقُ حَتَّى لَا تَنَصَّفُ“ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ مہر کے اندر جو زیادتی ہے ”لَا تَلْتَحِقُ“ وہ بھی اصلِ عقد کے ساتھ نہیں ملتی ”حَتَّى لَا تَنَصَّفُ“ یہاں تک کہ وہ بھی آدھا نہیں ہوتا۔
بھئی، پیچھے مسئلہ گزرا تھا، پیچھے مسئلہ گزرا تھا ہمارے تینوں ائمہ فرماتے ہیں: مثلاً عورت کا مہر ایک لاکھ مقرر کیا ہے اور بعد میں خاوند کہتا ہے میں تمہیں ایک لاکھ نہیں دوں گا دو لاکھ مہر دوں گا، دو لاکھ مہر دوں گا، تو ہمارے ائمہ فرماتے ہیں یہ جو بعد میں زیادتی کی ہے یہ خاوند پر لازم ہے، اگر اس نے صحبت کر لی تو اب یہ سارا مہر دینا پڑے گا۔ لیکن اگر صحبت سے پہلے خاوند نے طلاق دے دی تو ہمارے تینوں ائمہ فرماتے ہیں کہ وہ جو عقد میں مقرر کیا تھا اسی کا نصف دینا پڑے گا، جو بعد میں مقرر کیا ہے اس کا اعتبار نہیں۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا پہلا قول یہ تھا کہ بعد والے کا بھی اعتبار ہے، لیکن ان کا آخری قول طرفین کے ساتھ تھا بھئی۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں: جیسے مہر کے اندر زیادتی کی جائے تو وہ اصلِ عقد کے ساتھ نہیں ملتی، وہ اصلِ عقد کے ساتھ نہیں ملتی، صحبت سے پہلے طلاق دے گا تو جو عقد میں مقرر کیا تھا اسی کا نصف دینا پڑے گا بعد والے کا کوئی اعتبار نہیں، تو مہر کے اندر جو زیادتی ہے وہ اصلِ عقد کے ساتھ نہیں ملتی تو مہر کے اندر جو کمی بھی عورت کرے گی وہ بھی اصلِ عقد کے ساتھ نہیں ملے گی۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں: ”أَلَا تَرَى“ کیا آپ دیکھتے نہیں ”أَنَّ الزِّيَادَةَ فِيهِ“ کہ مہر کے اندر جو زیادتی کی جائے ”لَا تَلْتَحِقُ“ وہ ملتی نہیں ہے، یعنی وہ اصلِ عقد کے ساتھ نہیں ملتی ”حَتَّى لَا تَنَصَّفُ“ یہاں تک کہ وہ بھی آدھا نہیں ہوتا۔ جو بعد میں زیادتی کی ہے اس کو آدھا نہیں کیا جاتا، جو عقد میں مقرر کیا تھا اسی کو آدھا کیا جاتا ہے۔
یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ حاصلِ کلام یہاں تک یہ ہوا کہ صاحبین کے نزدیک اعتبار مقبوض کا ہوتا ہے جس پر عورت نے قبضہ کیا ہے، تو مہر ہی گویا اتنا تھا تو نصف کے اندر خاوند اس میں رجوع کر سکتا ہے۔ اور جبکہ امام صاحب کے نزدیک اعتبار اس کا ہے جو خاوند کے لیے سلامت رہا، تو خاوند کے لیے نصف سلامت رہنا چاہیے، تو اگر خاوند کے لیے نصف سلامت رہا ہے تو خاوند کا حق ادا ہو گیا۔ تو امام صاحب کے نزدیک اعتبار کس کا ہے؟ جو خاوند کے پاس سلامت رہا، اور صاحبین کے نزدیک اعتبار کس کا ہے؟ جس پر عورت نے قبضہ کیا ہے، اس کے نصف میں خاوند رجوع کرے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اب اسی میں دیکھو: ”وَلَوْ كَانَتْ وَهَبَتْ أَقَلَّ مِنَ النِّصْفِ“ اب چوتھی صورت آ گئی۔ پھر دہرا لیں ساری صورتیں:
پہلی صورت: کہ مہر ایک ہزار مقرر کیا اور عورت نے سارے ایک ہزار پر قبضہ کیا اور پھر وہ واپس کر دیے، ہبہ کر دیے خاوند کو، تو پھر اس وقت ہمارے نزدیک نصفِ مہر کے اندر خاوند رجوع کرے گا کیونکہ درہم و دینار تعین سے متعین نہیں ہوتے، تو جو خاوند نے ہزار دیے تھے مہر والے وہ اور تھے اور جو بیوی نے ہبہ کیے وہ گویا اور تھے۔
اس کے بعد پھر یہ صورت ذکر کی: اگر عورت بغیر قبضے کے ہی سارا مہر معاف کر دے، تو اس صورت کے اندر ہمارے تینوں ائمہ فرماتے ہیں کہ میاں بیوی ایک دوسرے پر رجوع نہیں کر سکتے کیونکہ خاوند کو اس کا حق مل گیا۔ خاوند کا حق کیا تھا؟ کہ اس کو نصفِ مہر سے براءت ملنی چاہیے، اور جب عورت نے سارا معاف کر دیا تو وہ نصفِ مہر بھی اس کے اندر آ گیا۔
اور پھر تیسری صورت ذکر کی: اگر عورت نصف پر قبضہ کرتی ہے، تو پھر اس صورت میں صاحبین کے نزدیک جس پر قبضہ کیا اس کا اعتبار ہے، اس کے نصف میں خاوند دوبارہ رجوع کر سکتا ہے، جبکہ امام صاحب کے نزدیک جو خاوند کے لیے سلامت رہا، باقی رہا ہے، جو سلامت رہا ہے اس کا اعتبار ہے، تو اگر خاوند کے لیے آدھا سلامت رہا ہے تو وہ رجوع نہیں کرے گا۔
تو اب چوتھی صورت آ گئی۔ چوتھی صورت یہ ہے کہ عورت نے جو ہبہ کیا ہے وہ نصف سے کم ہبہ کیا ہے۔ تیسری صورت میں تو کیا تھا؟ نصف ہبہ کیا تھا۔ اب چوتھی صورت ہے کہ عورت نے نصف سے کم ہبہ کیا اور باقی پر قبضہ کر لیا، مثلاً آٹھ سو پر قبضہ کر لیا اور دو سو معاف کر دیے، دو سو ہبہ کر دیے، تو نصف سے کم ہبہ کیا ہے، تو اب کیا مسئلہ ہو گا؟ تو صاحبین کے نزدیک اسی طرح مقبوض کا اعتبار ہے اور عورت نے آٹھ سو پر قبضہ کیا ہے تو گویا مہر ہی آٹھ سو تھا، اور عورت کو تو صحبت سے پہلے طلاق دی ہے تو اس کو آٹھ سو نہیں ملنا چاہیے، کتنا ملنا چاہیے؟ چار سو، تو چار سو کے اندر خاوند رجوع کر لے گا۔ تو صاحبین کے نزدیک جس پر قبضہ کیا اس کا اعتبار ہے، اس کے نصف میں خاوند رجوع کر لے گا۔ جبکہ امام صاحب کے نزدیک جو خاوند کے لیے سلامت رہا اس کا اعتبار ہے۔ آٹھ سو عورت نے لے لیے لیکن دو سو تو خاوند کے لیے سلامت رہے، اور خاوند کے لیے کتنا سلامت رہنا چاہیے تھا؟ پانچ سو سلامت رہنا چاہیے تھا، لہٰذا امام صاحب کے نزدیک خاوند تین سو مزید عورت سے وصول کر لے گا تو اب خاوند کے لیے پانچ سو سلامت ہو گئے۔ تو صاحبین کے نزدیک جب عورت نے آٹھ سو پر قبضہ کیا ہے اور دو سو معاف کیے ہیں تو خاوند چار سو میں رجوع کرے گا، اور امام صاحب کے مطابق تین سو میں رجوع کرے گا تاکہ پانچ سو پورے ہو جائیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ كَانَتْ وَهَبَتْ أَقَلَّ مِنَ النِّصْفِ“ اور اگر عورت نے نصف سے کم ہبہ کر دیا ”وَقَبَضَتِ الْبَاقِيَ“ اور باقی پر قبضہ کر لیا ”فَعِنْدَهُ يَرْجِعُ عَلَيْهَا إلَى تَمَامِ النِّصْفِ“ تو امام صاحب کے نزدیک خاوند عورت پر رجوع کرے گا نصف کے پورا ہونے تک، یعنی نصف کو پورا کر لے گا۔ دو سو سلامت رہ گئے ہیں تو تین سو اور لے کر پانچ سو پورے کر لے گا۔ ”وَعِنْدَهُمَا بِنِصْفِ الْمَقْبُوضِ“ اور صاحبین کے نزدیک خاوند رجوع کرے گا عورت پر نصفِ مقبوض کے ساتھ، یعنی آٹھ سو جس پر اس نے قبضہ کیا ہے اس کا نصف یعنی چار سو واپس لے سکتا ہے۔
آگے دیکھیے: ”وَلَوْ كَانَ تَزَوَّجَهَا عَلَى عِرْضٍ فَقَبَضَتْ أَوْ لَمْ تَقْبِضْ فَوَهَبَتْ لَهُ ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ الدُّخُولِ بِهَا لَمْ يَرْجِعْ عَلَيْهَا بِشَيْءٍ“ صورتِ مسئلہ یہ: اب خاوند نے سامان پر عورت سے نکاح کیا ہے، مثلاً کپڑے کے پچاس تھان پڑے ہوئے ہیں، یا کچھ برتن بنے ہوئے پڑے ہیں کافی سارے، یا مثلاً فرنیچر پڑا ہوا ہے کافی سارا، خاوند نے اس سارے پر عورت سے نکاح کر لیا، اور یہ چیزیں تو تعین سے متعین ہو جاتی ہیں لہٰذا یہ متعین ہیں۔ اب خاوند نے یہ ساری چیز عورت کو دے دی کہ لو یہ میری طرف سے مہر تم رکھو، تو پھر وہ عورت اس خاوند کو معاف کر دیتی ہے۔ چاہے قبضہ کرے چاہے قبضہ نہ کرے، دونوں صورتوں میں، دونوں صورتوں میں یاد رکھو خاوند کو اس کا حق مل گیا، خاوند اب رجوع نہیں کر سکتا، کیونکہ سامان تو تعین سے متعین ہو جاتا ہے۔ تو جب خاوند نے بیوی کو دیا تو بیوی چاہے قبضہ کر کے پھر واپس کر رہی ہے تو معلوم ہوا وہی چیز واپس کر رہی ہے، وہی مہر ہی واپس کر رہی ہے کوئی اور چیز واپس نہیں، درہم و دینار وغیرہ میں تو ہم کہتے تھے کہ یہ وہ چیز واپس نہیں کر رہی اور چیز واپس کر رہی ہے، لیکن یہاں پر تو جو مہر پر جس پر قبضہ کیا تھا وہی چیز واپس کر رہی ہے، لہٰذا خاوند کا بھی یہی حق تھا اس کو یہ آدھی چیز واپس ملنی چاہیے تھی، تو اس کو آدھی مل گئی ہے یا پوری مل گئی ہے تو خاوند کا حق ادا ہو جائے گا۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ كَانَ تَزَوَّجَهَا عَلَى عِرْضٍ“ اور اگر خاوند نے نکاح کیا عورت سے کسی سامان پر، دیکھو یعنی ایسی چیز جو تعین سے متعین ہو جاتی ہے، ”فَقَبَضَتْ أَوْ لَمْ تَقْبِضْ“ تو وہ عورت نے اس پر قبضہ کر لیا یا قبضہ نہیں کیا، یعنی دونوں صورتوں میں مسئلہ ایک ہی ہو گا، تو عورت نے اس پر قبضہ کر لیا یا اس نے قبضہ نہیں کیا ”فَوَهَبَتْ لَهُ“ تو خاوند کو وہ ہبہ کر دیا، قبضہ کر کے ہبہ کر دیا یہ لو واپس لے لو، یا بغیر قبضے ہی کے کیا کہا؟ میں نے معاف کر دیا، میں نے ہبہ کر دیا، ”ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ الدُّخُولِ بِهَا“ پھر خاوند نے اس عورت کو طلاق دے دی صحبت سے پہلے، ”لَمْ يَرْجِعْ عَلَيْهَا بِشَيْءٍ“ تو خاوند رجوع نہیں کرے گا اس عورت پر کسی بھی چیز کے ساتھ۔ خاوند رجوع نہیں کر سکتا کیونکہ خاوند کو وہ سارا سامان واپس مل گیا۔ اور خاوند کا حق تو نصف میں تھا، تو جب سارا مل گیا تو اس میں نصف بھی آ گیا، اور وہی چیز واپس ملی ہے جس کا یہ حقدار تھا کیونکہ یہ وہی سامان ہے، یہ تعین سے متعین ہو چکا ہے بھئی۔
اور یاد رکھو یہ بھی استحسان ہے کہ خاوند اس پر رجوع نہیں کرے گا۔ قیاس یہاں بھی تقاضا کرتا ہے کہ خاوند کو نصفِ مہر میں، اس نصفِ سامان میں رجوع کرنا چاہیے، وجہ یہ ہے کہ یہ جو نصف خاوند کو ملا ہے یہ عورت کے معاف کر دینے کی وجہ سے ملا ہے، اور حالانکہ خاوند کا حق کیا تھا؟ کہ اس کو طلاق قبل الدخول کی وجہ سے ملنا چاہیے تھا، تو سبب الگ الگ ہو گئے۔ تو امام زفر فرماتے ہیں: خاوند کو جو سامان ملا ہے وہ ابراء کی یا ہبہ کی وجہ سے ملا ہے، اور خاوند حقدار کس کا تھا؟ کہ اس کو نصف ملے طلاق قبل الدخول کی وجہ سے، تو جو سامان ملا ہے وہ اور ہے اور جو خاوند کا حق تھا وہ اور ہے، وہ اس کو ابھی بھی نہیں ملا، لہٰذا نصف سامان میں وہ رجوع کر سکتا ہے۔ یہ کون فرماتے ہیں؟ امام زفر رحمہ اللہ۔
تو کہتے ہیں: ”وَفِي الْقِيَاسِ، وَهُوَ قَوْلُ زُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ: رَجَعَ عَلَيْهَا بِنِصْفِ قِيمَتِهِ“ اور قیاس میں اور وہی قول ہے امام زفر رحمہ اللہ کا: خاوند رجوع کرے گا عورت پر اس کی نصفِ قیمت کے ساتھ۔ خاوند رجوع کرے گا نصفِ قیمت عورت سے لے لے گا، امام زفر فرماتے ہیں۔ سوال: نصفِ قیمت کیوں؟ وہی سامان نصف دینا چاہیے عورت کو، لیکن آپ کیا فرما رہے ہیں؟ وہ عورت کو نصف قیمت دینا پڑے گی، خاوند کے حوالے کرنا پڑے گی۔ وجہ یہ کہ سامان تو اس نے سارا خاوند کو واپس کر دیا تھا، تو سامان تو اس وقت خاوند کے قبضے میں ہے، تو وہ تو عورت دے ہی نہیں سکتی اب، تو ظاہر سی بات ہے پھر اس کی قیمت ہی دینا پڑے گی بھئی، ایک مال کسی کے ذمے ہو اور وہ چیز نہیں دے سکتا تو پھر کیا دینا پڑتا ہے؟ اس کی قیمت دینا پڑتی ہے۔
تو امام زفر فرماتے ہیں: ”رَجَعَ عَلَيْهَا بِنِصْفِ قِيمَتِهِ“ خاوند رجوع کرے گا عورت پر اس سامان کی نصف قیمت کے ساتھ، ”لِأَنَّ الْوَاجِبَ فِيهِ رَدُّ نِصْفِ عَيْنِ الْمَهْرِ“ اس لیے کیونکہ اس صورت کے اندر واجب یہ ہے کہ عینِ مہر کا نصف واپس کیا جائے، عینِ مہر کا نصف واپس کیا جائے ”عَلَى مَا مَرَّ تَقْرِيرُهُ“ اس بنا پر جو تقریر گزر گئی، اس وجہ سے جس کی تقریر گزر گئی کہ خاوند کو جو ملا ہے وہ ہبہ کی وجہ سے ملا ہے اور خاوند کو ملنا جو چاہیے تھا وہ طلاق قبل الدخول کی وجہ سے ملنا چاہیے تھا، تو خاوند کا جو حق ہے وہ اس کو ابھی بھی نہیں ملا تو وہ رجوع کر سکتا ہے۔ ”عَلَى مَا مَرَّ تَقْرِيرُهُ“ اسی بنا پر جس کی تقریر گزر گئی۔
آگے دیکھیے: ”وَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ“ ہمارے ائمہ کیا فرماتے ہیں؟ امام زفر فرماتے ہیں نصف میں خاوند رجوع کرے گا جب سامان عورت نے سارا واپس کر دیا ہے، تو امام زفر فرماتے ہیں آدھے میں خاوند رجوع کر سکتا ہے، ہمارے ائمہ فرماتے ہیں خاوند رجوع نہیں کر سکتا۔ تو وہ استحسان ہے، اب اس کی وجہ بھی ذکر فرما رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ“ استحسان کی وجہ یہ ہے: ”أَنَّ حَقَّهُ عِنْدَ الطَّلَاقِ سَلَامَةُ نِصْفِ الْمَقْبُوضِ مِنْ جِهَتِهَا“ اس لیے کیونکہ خاوند کا حق جو ہے طلاق کے وقت کہ خاوند کے لیے نصفِ مقبوض سلامت رہنا چاہیے تھا اس عورت کی جانب سے۔ بھئی، عورت قبضہ کرے یا نہ کرے، دونوں صورتوں میں ایک ہی مسئلہ ہے، توجہ ہے؟ تو بہرحال مقبوض والی صورت میں دیکھ لیں: نصفِ مقبوض، جب عورت نے سارے پر قبضہ کیا پھر سارا خاوند کو واپس کر دیا، تو خاوند کا حق کیا تھا؟ نصفِ مقبوض اس کے پاس واپس آنا چاہیے، اور جب عورت نے وہ سارا سامان واپس کیا ہے تو نصفِ مقبوض بھی واپس آ گیا یا نہیں؟ کیونکہ یہ تو وہ چیزیں ہیں جو تعین سے متعین ہو جاتی ہیں، اگرچہ سبب بدل گیا لیکن چیز تو وہی ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
تو کہتے ہیں: ”وَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ أَنَّ حَقَّهُ عِنْدَ الطَّلَاقِ سَلَامَةُ نِصْفِ الْمَقْبُوضِ مِنْ جِهَتِهَا“ استحسان کی وجہ یہ ہے کہ طلاق کے وقت خاوند کا حق یہ ہے کہ نصفِ مقبوض جو ہے خاوند کے لیے سلامت رہے، یعنی اس کو واپس مل جائے ”مِنْ جِهَتِهَا“ اس عورت کی جانب سے۔ یاد رکھو یہ ”مِنْ جِهَتِهَا“ کی قید لگائی ہے۔ مثلاً اس عورت نے یہ سارا سامان آگے بیچ دیا تھا اور اس آدمی جس نے خریدا تھا اس نے وہ سارا خاوند کو واپس کر دیا، تو اب خاوند کو سارا مل تو گیا اور خاوند کا حق تو نصف تھا، تو جب سارا مل گیا تو نصف بھی مل گیا، لیکن کیا اس عورت کی طرف سے ملا ہے یا یہ کسی اور کی طرف سے ملا ہے؟ یہ تو کسی اور کی طرف سے ملا ہے۔ خاوند کا حق تو یہ تھا کہ بیوی کی طرف سے نصفِ مقبوض سلامت رہنا چاہیے تھا، لہٰذا اگر کسی اور کی طرف سے ملا ہے تو پھر خاوند رجوع کر سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: ”أَنَّ حَقَّهُ عِنْدَ الطَّلَاقِ سَلَامَةُ نِصْفِ الْمَقْبُوضِ مِنْ جِهَتِهَا وَقَدْ وَصَلَ إلَيْهِ“ اور تحقیق یہ نصفِ مقبوض تو خاوند کو پہنچ گیا ہے، اس کو مل گیا ہے، ”وَلِهَذَا لَمْ يَكُنْ لَهَا دَفْعُ شَيْءٍ آخَرَ مَكَانَهُ“ اور اسی لیے عورت کا یہ حق نہیں ہے کہ وہ کوئی اور چیز دے دے اس سامان کی جگہ۔ جب یہ سامان عورت کے پاس موجود ہے، خاوند نے دیا ہے عورت نے قبضہ کر لیا، درہم و دینار تو متعین نہیں ہوتے لیکن یہ سامان تو متعین ہے، جب یہ متعین ہے تو اسی کا آدھا خاوند کو واپس کرنا پڑے گا۔ اس کے عوض عورت کہے: نہیں، یہ سامان میں خسارہ رکھوں گی، تمہیں میں آدھے کی قیمت دے دیتی ہوں۔ نہیں، خاوند کا حق یہ معین چیز ہے، یہی واپس کرنا پڑے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یعنی جبراً ایسا عورت نہیں کر سکتی۔ اگر خاوند راضی ہے: ٹھیک ہے سامان تم رکھو مجھے پیسے دے دو آدھے، تو وہ تو ٹھیک ہے، لیکن عورت جبراً کہے: نہیں، میں کسی صورت سامان واپس نہیں دوں گی تمہیں پیسے ہی لینے پڑیں گے، تو کہتے ہیں: نہیں، عورت کا یہ حق نہیں ہے۔ کیونکہ خاوند کا حق اس نصفِ مقبوض میں ہے اور وہ چیز تو خود موجود ہے لہٰذا وہی واپس کرنا پڑے گی۔
کہتے ہیں: ”وَلِهَذَا“ اور اسی وجہ سے ”لَمْ يَكُنْ لَهَا“ عورت کے لیے یہ جائز نہیں ہے ”دَفْعُ شَيْءٍ آخَرَ مَكَانَهُ“ کہ وہ کوئی اور چیز اس سامان کی جگہ پر دے دے، ”بِخِلَافِ مَا إذَا كَانَ الْمَهْرُ دَيْنًا“ بخلاف اس صورت کے کہ جب مہر دین ہوتا تھا، وہ پہلی صورت۔ جب مہر ایک ہزار تھا خاوند نے سارا بیوی کو دے دیا، عورت نے قبضہ کر کے واپس کیا تو وہاں ہم نے کیا کہا تھا؟ کہ خاوند نصف میں رجوع کرے گا، کیونکہ عورت نے جس پر قبضہ کیا تھا وہ اور درہم و دینار تھے اور جو خاوند کو واپس کیے ہیں وہ اور درہم و دینار ہیں، تو جو دین اس کے ذمے تھا وہاں جب عورت ہبہ کرتی تھی تو وہاں خاوند کو اپنا حق نہیں ملا، اور یہاں تو سامان ہے جو تعین سے متعین ہو جاتا ہے اور بعینہٖ وہی سامان خاوند کو واپس مل چکا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ مَا إذَا كَانَ الْمَهْرُ دَيْنًا“ بخلاف اس صورت کے کہ جب مہر دین ہو، وہاں خاوند نصف میں رجوع کرتا تھا، اگرچہ وہ سارا واپس کر دیا تھا پھر بھی وہ رجوع کر سکتا تھا۔
”وَبِخِلَافِ مَا إذَا بَاعَتْ مِنْ زَوْجِهَا“ اور بخلاف اس صورت کے جب کہ وہ خاوند کے ہاتھ اس کو بیچ دے۔ یاد رکھو باع کا صلہ من آتا ہے: ”إِذَا بَاعَتْ مِنْ زَوْجِهَا“، یہ من صلہ ہے باع کا۔ جس کے ہاتھ کوئی چیز بیچی جائے اس پر من داخل کرتے ہیں۔ مثلاً میں کہتا ہوں: ”بِعْتُ الْكِتَابَ“، میں نے کتاب بیچ دی۔ کس کے ہاتھ بیچی؟ زید کے ہاتھ، تو میں یوں کہوں گا: ”بِعْتُ الْكِتَابَ مِنْ زَيْدٍ“، میں نے یہ کتاب بیچ دی زید کے ہاتھ پر۔ جیسے اشتریت کا صلہ من آتا ہے: ”اشْتَرَيْتُ مِنْ زَيْدٍ“، میں نے زید سے خرید لیا، تو جیسے اشتریت کا صلہ من آتا ہے اسی طرح بعت کا صلہ بھی من آتا ہے اور یہ اس شخص پر داخل ہو گا جس کے ساتھ بیع کی ہے، جس کے ہاتھ پر وہ چیز فروخت کی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَبِخِلَافِ مَا إذَا بَاعَتْ مِنْ زَوْجِهَا“ اور بخلاف اس صورت کے جبکہ عورت نے وہ سامان بیچ دیا ہو اپنے خاوند کے ہاتھ۔ مہر سامان طے ہوا تھا، مثلاً پچاس تھان تھے کپڑے کے، خاوند نے وہ عورت کو دے دیے، پھر عورت نے وہ تھان خاوند کو بیچ دیے، پیسے لے لیے ان کے، اور پھر خاوند نے صحبت سے پہلے طلاق دے دی، تو اس صورت میں اب دیکھو خاوند کو تو وہ تھان مل چکے ہیں، اب آپ یہ نہیں کہیں گے خاوند کو عین اس کا حق مل گیا کیونکہ تھان تو تعین سے متعین ہو جاتے ہیں اور خاوند کو وہ مل چکے ہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ کیوں؟ کیونکہ خاوند کا حق یہ تھا کہ اس کو بلا عوض کے وہ ملنے چاہیے تھے اور یہاں تھان تو اس کو عوض کے ساتھ ملے ہیں، گویا خاوند کو ابھی بھی اس کا حق نہیں ملا تو وہ رجوع کر سکتا ہے۔ یہ معنی ہے: ”وَبِخِلَافِ مَا إذَا بَاعَتْ مِنْ زَوْجِهَا“ اور بخلاف اس صورت کے جبکہ عورت وہ سامان بیچ دے اپنے خاوند کے ہاتھ، ”لِأَنَّهُ وَصَلَ إلَيْهِ بِبَدَلٍ“ اس لیے کیونکہ یہ سامان خاوند کو پہنچا ہے بدل کے عوض میں، حالانکہ ویسے ملنا چاہیے تھا لیکن یہ بدل کے عوض میں ملا ہے لہٰذا ابھی بھی خاوند رجوع کر سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
آگے دیکھیے: ”وَلَوْ تَزَوَّجَهَا عَلَى حَيَوَانٍ أَوْ عُرُوضٍ فِي الذِّمَّةِ فَكَذَلِكَ الْجَوَابُ“ دوسری صورت بھئی: ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا کسی حیوان پر۔ حیوان کی جنس متعین ہونی چاہیے، حیوان میں تو بکری بھی آ جائے گی، حیوان میں تو گائے بھی آ جائے گی، گھوڑا بھی آ جائے گا، اونٹ بھی آ جائے گا، تو صرف حیوان نہیں کہا، جنس باقاعدہ متعین کی کہ میں تمہیں ایک گائے دوں گا مہر کے طور پر، یا میں تمہیں ایک گھوڑا دوں گا مہر کے طور پر۔ اب دیکھو اس نے جنس بتائی ہے، کس قسم کا ہو گا یہ تو نہیں بتایا، گھوڑے تو ادنیٰ بھی ہو سکتے ہیں، متوسط بھی ہو سکتے ہیں، اعلیٰ بھی ہو سکتے ہیں۔ تو گھوڑا تو ذکر کیا لیکن کس قسم کا ہو گا گھوڑا یہ مجہول ہے، اس کا پتہ نہیں۔ یا اسی طرح کوئی سامان ذکر کیا کہ مثلاً تمہیں میں فلاں قسم کے کپڑے کے پچاس تھان دوں گا، تو اب وہ سامان ذکر کیا، اب یہاں دیکھو وہ متعین نہیں، گھوڑا یا گائے وہاں موجود نہیں ہے، ویسے کہہ رہا ہے میں تمہیں ایک گائے دے دوں گا، یا کہہ رہا ہے میں تمہیں پچاس فلاں قسم کے کپڑے کے تھان دے دوں گا۔ تو اب کپڑے کے اندر بھی مختلف کوالٹیاں ہوتی ہیں، ادنیٰ بھی ہو سکتا ہے، اعلیٰ بھی اور متوسط بھی۔ تو یاد رکھو، اگر اس طرح بیع کی جائے تو بیع فاسد ہے، کیونکہ اس صورت میں بائع اور مشتری میں جھگڑا ہو گا۔ مثلاً بائع کہتا ہے میں نے تمہیں ایک لاکھ میں نے ایک گھوڑا فروخت کر دیا، تو یاد رکھو یہ بیع فاسد ہے کیونکہ گھوڑا وہاں موجود نہیں ہے، بائع بعد میں چاہے گا میں ادنیٰ سا گھوڑا دے دوں اور مشتری چاہے گا مجھے اعلیٰ گھوڑا ملنا چاہیے، تو بعد میں لڑائی جھگڑا ہو گا۔ لہٰذا بیع کے اندر جہالت قابلِ قبول نہیں۔ بیع کی بنیاد تنگی پر ہوتی ہے، بیع کی بنیاد تنگی پر ہوتی ہے بھئی۔ مشتری بائع سے بحث کرتا ہے کہ اتنے کی یہ چیز دے دو یا اتنے پیسوں کی دے دو، تو بیع کی بنیاد تنگی پر ہوتی ہے، لہٰذا وہاں پر اگر جہالت آئے گی تو وہاں جھگڑا ہو گا، اور جو بھی بیع جھگڑے تک پہنچانے والی ہو وہ فاسد ہے، تو لہٰذا یہ بیع بھی فاسد ہو گی اگر جانور کی تعین نہیں کی، وہ متعین نہیں ہے۔ اور اسی طرح سامان میں بھی ہے، لیکن نکاح کی بنیاد نرمی پر ہے اس لیے کیونکہ نکاح کے اندر اصل مقصود مال نہیں ہوتا۔ تو اب ایک شخص ایک عورت سے نکاح کرتا ہے اور کوئی حیوان ذکر کرتا ہے کہ میں تمہیں مہر کے طور پر ایک گائے دوں گا، یا میں مہر کے طور پر تمہیں فلاں قسم کے پچاس کپڑے کے تھان دوں گا، تو اس صورت میں بھی مسئلہ ایسے ہی ہو گا۔ یعنی خاوند پچاس تھان لے آیا، اگرچہ متعین نہیں تھے لیکن جب آ کر عورت کے حوالے کرے گا تو اب یہ تھان کیا ہو گئے؟ متعین ہو گئے۔ اور پھر وہ عورت سارے واپس کر دیتی ہے تو خاوند کو اپنا حق مل گیا، اس کو بھی نصف تھان ملنے چاہیے تھے طلاق کی وجہ سے، اور جب سارے مل گئے تو نصف بھی اس کے اندر آ گئے۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ تَزَوَّجَهَا عَلَى حَيَوَانٍ“ اور اگر خاوند نے نکاح کیا اس عورت سے کسی حیوان پر، یعنی اس کی جنس متعین ہے، ”أَوْ عُرُوضٍ فِي الذِّمَّةِ“ یا ایسے سامان کے بدلے جو خاوند کے ذمے میں ہے، یعنی متعین نہیں ہے وہاں پر موجود نہیں ہے کہ فلاں قسم کے پچاس تھان میں دوں گا، ”فَكَذَلِكَ الْجَوَابُ“ تو بھی جواب اسی طرح ہے، یعنی صورتِ مسئلہ اسی طرح ہے، چاہے عورت قبضہ کر کے واپس کرے چاہے قبضے سے پہلے معاف کر دے۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْمَقْبُوضَ مُتَعَيَّنٌ فِي الرَّدِّ“ اس لیے کیونکہ یہاں پر بھی جس پر قبضہ کیا گیا وہ متعین ہے واپس کرنے میں، ”وَهَذَا لِأَنَّ الْجَهَالَةَ تُحُمِّلَتْ فِي النِّكَاحِ“ اور یہ اس لیے کیونکہ یہ جو جہالت ہے، یعنی کہ حیوان کس قسم کا ہونا چاہیے یا سامان کون سی کوالٹی کا ہونا چاہیے، تو یہ جو جہالت ہے یہ کہتے ہیں نکاح میں برداشت کر لی جاتی ہے۔ بیع کی بنیاد تنگی پر ہوتی ہے، اس بیع میں اس قسم کی جہالت برداشت نہیں کی جائے گی، لیکن نکاح کی بنیاد نرمی پر ہوتی ہے کیونکہ نکاح میں مال مقصود نہیں ہوتا، تو اس لیے نکاح میں اس طرح کی جہالت برداشت کر لی جائے گی۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْجَهَالَةَ تُحُمِّلَتْ فِي النِّكَاحِ“ اس لیے کیونکہ یہ جہالت جو ہے یہ نکاح میں برداشت کر لی جاتی ہے، ”فَإِذَا عُيِّنَ“ پھر جب اس کی تعین کر دی جائے گی، مثلاً وہ پچاس تھان لے آیا اب عورت کے حوالے کر رہا ہے، تو اب پہلے تو متعین نہیں تھے لیکن اب تو کیا ہو گئے؟ متعین ہو گئے، تو یہی تھان جب خاوند کو عورت واپس کرے گی تو خاوند کا حق ادا ہو گیا۔ یا وہ جانور جب وہ لے آیا عورت کے حوالے جب کر رہا ہے تو پہلے تو جانور متعین نہیں تھا لیکن اب تو جب قبضہ عورت نے کیا متعین ہو گیا، تو اسی کا نصف خاوند کو واپس ملنا چاہیے تھا، اور جب عورت نے سارا جانور ہی واپس کر دیا تو خاوند کا جو نصف حق بنتا تھا وہ اس کو مل گیا بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”فَإِذَا عُيِّنَ يَصِيرُ كَأَنَّ التَّسْمِيَةَ وَقَعَتْ عَلَيْهِ“ تو جب وہ چیز متعین ہو گئی تو یہ اسی طرح ہو گیا گویا کہ تسمیہ اسی پر واقع ہوا تھا، یعنی گویا اسی کو مہر مقرر کیا گیا تھا نکاح میں۔ بھئی، نکاح میں اس نے کہا تو تھا میں تمہیں ایک گھوڑا دوں گا، تو متعین نہیں، اعلیٰ، متوسط یا ادنیٰ۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ایک تو یہ یاد رکھو اس صورت میں فقہاء پھر فرماتے ہیں متوسط درجے کا حیوان دینا پڑے گا، یا اسی طرح کپڑے کی قسم تو بتا دی لیکن اس کی کوالٹی نہیں بتائی تو وہاں بھی متوسط درجے کا کپڑا مراد ہو گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اب صورت یہ ہے: نکاح کیا ہے وہ جانور بھی متعین نہیں، وہ پچاس تھان بھی متعین نہیں، لیکن جب لا کر حوالے کر دے گا تو یہ کیا ہو جائیں گے؟ متعین، اور یوں سمجھا جائے گا اسی جانور پر ان کا نکاح ہوا تھا، نکاح کے وقت ہی گویا انہوں نے اس جانور کو کیا کیا تھا؟ متعین کیا تھا۔ تو یہ معنی ہے: ”فَإِذَا عُيِّنَ“ تو جب وہ چیز متعین ہو جائے گی عورت کے قبضے کی وجہ سے، ”يَصِيرُ كَأَنَّ التَّسْمِيَةَ وَقَعَتْ عَلَيْهِ“ تو یہ ایسے ہی ہو جائے گا کہ گویا تسمیہ اسی پر واقع ہوا تھا، یعنی اسی کو نکاح میں مقرر کیا گیا تھا۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ جب نکاح کیا جائے ایسی چیز پر جو تعین سے متعین ہو جاتی ہے، جیسے سامان ہے یا جانور وغیرہ، وہ چاہے متعین ہوں سامنے پڑے ہوں یا خاوند کے ذمے میں آ جائیں، دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔ خاوند کو وہ چیزیں اب بیوی نے جب واپس کر دیں تو بیوی کی طرف سے چیزیں ملی ہیں اور بغیر عوض کے ملی ہیں، لہٰذا خاوند کا حق ادا ہو گیا، اب وہ بیوی پر رجوع نہیں کر سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حل ہو گیا۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔