قَالَ: وَتَزْوِيجُ الْعَبْدِ وَالأَمَةِ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوْلَاهُمَا مَوْقُوفٌ، فَإِنْ أَجَازَ الْمَوْلَى جَازَ وَإِنْ رَدَّهُ بَطَلَ، وَكَذَلِكَ لَوْ زَوَّجَ رَجُلٌ امْرَأَةً بِغَيْرِ رِضَاهَا أَوْ رَجُلًا بِغَيْرِ رِضَاهُ، وَهَذَا عِنْدَنَا؛ فَإِنَّ كُلَّ عَقْدٍ صَدَرَ مِنَ الْفُضُولِيِّ وَلَهُ مُجِيزٌ انْعَقَدَ مَوْقُوفًا عَلَى الإِجَازَةِ.
گزشتہ سبق میں آپ نے مسئلہ پڑھا تھا کہ اگر کوئی عورت ولی کی اجازت کے بغیر خود نکاح کرتی ہے اور اپنے مہر مثل سے بہت کم مہر رکھتی ہے تو اس صورت میں اولیاء کو اعتراض کا حق ہے، امام صاحب کے نزدیک وہ قاضی کے پاس جا کر مقدمہ کر سکتے ہیں۔ اور قاضی پھر اس خاوند کو بلوائے گا اور قاضی اس سے کہے گا کہ یا تو اس عورت کا مہر بڑھا کر کتنا کر دو؟ مہر مثل کر دو یا اس سے جدائی اختیار کر لو۔ تو یہ امام صاحب کے نزدیک ہے کہ اولیاء اعتراض کر سکتے ہیں اگر لڑکی نے عورت نے اپنا مہر کم مقرر کیا ہے۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں نہیں، اولیاء کو یہ حق نہیں ہے۔ اولیاء کو یہ حق نہیں ہے۔ وجہ یہ کہ یہ خالص اس کا اپنا حق ہے۔ میں نے بتلایا تھا کہ کم سے کم مہر دس درہم ہو سکتا ہے، اس سے کم نہیں۔ تو دس درہم یہ تو حق شرع ہے۔ یعنی اس سے کم مہر ہو ہی نہیں سکتا، ہاں اس سے جو زائد ہے وہ اس عورت کا حق ہے اور زائد جب اس کا اپنا حق ہے تو اس میں یہ جتنا بھی کمی کرنا چاہے اس کے لیے جائز ہے، کیونکہ صاحب حق اپنے حق کو معاف کرے یا اپنے حق میں کمی کرے تو کوئی اس پر اعتراض نہیں کر سکتا۔
یہ اسی طرح ہے صاحبین فرماتے ہیں جیسے مہر تو زیادہ مقرر کیا ہو اور بعد میں وہ عورت اس مہر کے اندر کمی کر دے یا معاف کر دے پورا مہر تو اولیاء کو اعتراض کا حق نہیں۔ مثلاً ایک عورت کا مہر دو لاکھ مقرر ہوا تھا اور پھر بعد میں وہ اپنے خاوند سے کہتی ہے کہ میں نے سارا مہر آپ کو معاف کر دیا، یا کہتی ہے کہ مجھے دو لاکھ کے بجائے صرف دس ہزار دے دو یہی میرے لیے کافی ہے۔ تو دیکھو یہ خالص عورت کا حق ہے، اب یہ کم کر رہی ہے یا معاف کر رہی ہے تو اولیاء کو اعتراض کا کوئی حق نہیں۔ تو صاحبین فرماتے ہیں جیسے مقرر کرنے کے بعد عورت کمی کرے تو کسی کو اعتراض کا حق نہیں تو شروع نکاح کے اندر بھی وہ اپنا مہر کم کرے تو کسی کو اعتراض کا حق نہیں ہے بھئی۔ تو لہٰذا وہ ابتداء میں مہر کے کم ہونے کو قیاس کرتے ہیں مقررہ مہر میں کمی یا معاف کرنے پر۔ ایک یہ ہے ابتداء میں ہی مہر کم رکھا جائے اور ایک ہے کہ بعد میں مہر میں کمی کی جائے، تو وہ ابتداء کے اندر مہر کے اندر جو کمی ہے اس کو قیاس کرتے ہیں بعد میں جو مہر کے اندر عورت کمی کرتی ہے۔
جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ مہر ایسی چیز ہے کہ جتنا زیادہ ہو اولیاء اس پر فخر کرتے ہیں اور مہر کم ہو تو اس میں عار محسوس کرتے ہیں۔ لہٰذا اس مہر کی مشابہت ہو گئی کفاءت کے ساتھ، یعنی وہ چیزیں جن میں کفاءت معتبر تھی اور وہ وہ چیزیں تھیں جن پر لوگ فخر کرتے ہیں اور ان میں کمی ہو تو وہ عار محسوس کرتے ہیں، تو یہ مہر بھی کفاءت کے مشابہ ہو گیا۔ اور جب یہ کفاءت کے مشابہ ہو گیا اور کفاءت والی چیزوں میں تو اولیاء اعتراض کر سکتے تھے لہٰذا یہاں بھی کیا کر سکتے ہیں؟ اعتراض کر سکتے ہیں۔ اور پھر صاحب ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ یہ جو صاحب قدوری نے یہ صورت مسئلہ بنائی یہ امام محمد رحمہ اللہ کا جو مرجوع الیہ قول تھا اسی پر یہ صورت صحیح ہو سکتی ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ کا پہلا قول تو یہ تھا کہ عورت اپنی مرضی سے نکاح کرے تو منعقد تو ہوگا لیکن ولی کی اجازت پر موقوف رہے گا، ولی اجازت دے گا تو وہ نافذ ہو جائے گا، اگر ولی اجازت نہیں دے گا تو وہ باطل ہو جائے گا۔ لیکن انہوں نے پھر رجوع کر لیا تھا شیخین رحمہما اللہ کے قول کی طرف۔ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں عاقلہ، بالغہ، آزاد عورت جہاں چاہے اپنی مرضی سے نکاح کر سکتی ہے البتہ کفو کے اندر ہونا چاہیے بھئی۔ تو امام محمد رحمہ اللہ نے بھی شیخین رحمہما اللہ کے قول کی طرف رجوع کر لیا تھا۔ اور اس مسئلے میں کیا بتایا کہ صاحبین فرما رہے ہیں اولیاء اعتراض نہیں کر سکتے، مہر اگر کم بھی عورت نے مقرر کیا ہے اولیاء اعتراض نہیں کر سکتے، معلوم ہوا صاحبین کے نزدیک نکاح منعقد ہو چکا ہے، معلوم ہوا امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک بھی نکاح منعقد ہو چکا ہے اور یہ تو امام محمد رحمہ اللہ کا دوسرا قول تھا، اس کے مطابق نکاح منعقد ہوتا ہے، تو لہٰذا صاحب ہدایہ فرماتے ہیں کہ یہ صورت مسئلہ امام محمد رحمہ اللہ کے مرجوع الیہ قول کا اعتبار کیا جائے پھر ہی صحیح بنتی ہے، اور یہ مسئلہ جو ہے شہادت صادقہ ہے کہ امام محمد رحمہ اللہ نے واقعی رجوع فرما لیا تھا، اس سے پتہ چل رہا ہے۔
پھر آپ نے یہ مسئلہ پڑھا تھا کہ باپ یا دادا صغیر یا صغیرہ کا نکاح کروائیں تو وہ صغیرہ کے مہر مثل میں جتنی بھی کمی کریں یا صغیر کی بیوی کے مہر میں جتنی بھی زیادتی کر دیں ان کے لیے جائز ہے۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ باپ دادا کے لیے بھی غبن یسیر کے مثل تو کمی بیشی جائز ہے، غبن فاحش کے مثل کمی زیادتی جائز نہیں ہے۔ پھر صاحب ہدایہ نے بتلایا کہ بظاہر صاحبین کے قول سے یہ لگتا ہے کہ شاید نکاح منعقد ہو جائے گا۔ باپ اور دادا اگر غبن فاحش کے ساتھ نکاح کروائیں گے صغیر یا صغیرہ کا تو نکاح منعقد ہو جائے گا، البتہ وہ کمی بیشی جائز نہیں ہوگی، کیونکہ صاحبین کے بارے میں کیا فرمایا؟ وہ فرماتے ہیں کہ کمی بیشی جائز نہیں ہے مگر غبن یسیر جتنی۔ لَا يَجُوزُ الحَطُّ وَالزِّيَادَةُ، کمی بیشی جائز نہیں ہے مگر اتنی جتنے میں لوگ دھوکہ کھا لیتے ہیں، تھوڑی بہت کمی بیشی ہو سکتی ہے۔ تو بظاہر لگتا ہے کہ اگر باپ دادا زیادہ کمی بیشی کریں گے تو نکاح تو ہو جائے گا، کیونکہ نکاح کے اندر تو مہر کو سرے سے ذکر ہی نہ کیا جائے نکاح پھر بھی ہو جاتا ہے، تو باپ اور دادا اگر غبن فاحش کے ساتھ نکاح کروائیں گے نکاح تو ہو جائے گا البتہ وہ غبن فاحش جائز نہیں ہوگا، بظاہر یوں لگتا ہے۔ لیکن صاحب ہدایہ نے بتلایا نہیں، صاحبین کے قول کا مطلب یہ ہے کہ اگر باپ یا دادا غبن فاحش کے ساتھ نکاح کروائیں گے تو نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا، وجہ یہ کہ باپ اور دادا کو یہ جو ولایت اجبار ملی ہے یہ شفقت کی وجہ سے ہے، اور جب وہ مہر میں غبن فاحش کر رہے ہیں تو اس کے اندر تو کوئی شفقت نہیں ہے، تو اس ولایت کا دارومدار شفقت پر تھا، شفقت ہے تو ان کو ولایت بھی ہے، شفقت نہیں تو ان کو ولایت اجبار بھی نہیں، تو جب وہ غبن فاحش کے ساتھ نکاح کروا رہے ہیں تو اس میں کوئی شفقت نہیں ہے، جب شفقت نہیں ہے تو ان کو یہاں ولایت اجبار ہی نہیں ہے، جب ولایت اجبار نہیں ہے تو وہ نکاح کروا ہی نہیں سکتے، نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا۔ یہ کہتے ہیں اسی طرح ہے جیسے بیع کے اندر، یاد رکھو صغیر اور صغیرہ کے پاس اگر مال ہے تو باپ اور دادا صرف اس میں تصرف کر سکتے ہیں اور اولیاء کو تصرف کی اجازت نہیں، لیکن باپ اور دادا بھی اگر صغیر یا صغیرہ کے لیے کوئی چیز خریدتے ہیں یا بیچتے ہیں تو وہ غبن یسیر کے ساتھ تو جائز ہے غبن فاحش کے ساتھ جائز نہیں، تو جس طرح بیع کے اندر باپ اور دادا کو غبن فاحش کی اجازت نہیں اسی طرح نکاح کے اندر بھی ان کو غبن فاحش کی اجازت نہیں ہوگی بھئی، تو وہ اس نکاح کو قیاس کرتے ہیں بیع پر۔
جبکہ امام صاحب کی دلیل صاحب ہدایہ نے ذکر فرمائی کہ یہاں پر آپ نے کہا باپ اور دادا اگر غبن فاحش کے ساتھ نکاح کرواتے ہیں، مہر بہت تھوڑا رکھ دیا صغیرہ کا یا صغیر کی بیوی کا مہر بہت زیادہ رکھ دیا، تو باپ اور دادا اگر غبن فاحش کے ساتھ نکاح کرواتے ہیں آپ کہتے ہیں شفقت نہیں ہے، ہم کہتے ہیں نہیں، یوں نہ کہیں شفقت نہیں ہے، ہم یوں کہیں گے کہ شفقت ہے یا نہیں یہ ظاہر نہیں۔ یہ بات ظاہر نہیں، اس لیے کیونکہ نکاح کے اندر صرف عورت کے لیے مہر مقصود نہیں ہوتا بلکہ نکاح کے اندر مہر سے بھی بڑھ کر اور بڑے بڑے مقاصد مقصود ہوتے ہیں، ایک خاندان آباد کرنا ہے بھئی، گھر کا نظام چلانا ہے، اطمینان اور سکون کی زندگی حاصل کرنی ہے اور اس کے بعد اولاد حاصل ہوگی اور اولاد کی تربیت کرنی ہے، تو اس نکاح کے مہر کے علاوہ بھی اور بڑے بڑے مقاصد ہیں بھئی۔ تو باپ اور دادا نے اگر مہر میں کمی یا زیادتی کی ہے تو معلوم ہوا کوئی اور بڑا فائدہ ان کے مدنظر تھا، کوئی اور بڑا فائدہ ان کے مدنظر تھا، لہٰذا اب مہر کے اعتبار سے دیکھا جائے تو شفقت نہیں ہے لیکن ہو سکتا ہے دوسرے اعتبار سے کیا ہو وہاں کوئی اور بڑا فائدہ ہو، شفقت ہو، تو لہٰذا اس نکاح کے اندر جو باپ اور دادا نے کروایا اور غبن فاحش کے ساتھ کروایا، اس میں شفقت ہے یا شفقت نہیں یہ پتہ نہیں چل رہا۔ یعنی یہاں شفقت امر باطنی بن گئی اور جب ایک چیز امر باطنی بن جائے اس کا پتہ نہیں چل سکتا ایک مقام پر تو اس چیز کی دلیل پر حکم کا مدار ہو جاتا ہے۔
جیسے میں نے مثال ذکر کی تھی کہ خروج نجاست سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور نیند کی حالت میں جب انسان پہلو کے بل سویا ہو تو پھر اس وقت بھی احتمال ہے خروج نجاست کا، لیکن انسان تو سویا ہوا ہے خروج نجاست کا اس کو پتہ نہیں چلے گا بھئی، تو لہٰذا نیند کی حالت میں جب خروج نجاست یعنی وضو ٹوٹنے کی علت کا پتہ نہیں چل سکتا تو اس خروج نجاست کی جو علت ہے یعنی پہلو کے بل سونا اسی کو کیا کر دیا گیا؟ اسی پر حکم کا مدار کر دیا گیا، تو جو پہلو کے بل سوئے گا یوں سمجھیں گے گویا اس کا وضو ٹوٹ گیا ہے اب اس کو دوبارہ بعد میں وضو کرنا پڑے گا۔ تو دیکھو جب حکم کی علت کا پتہ نہ چلے تو حکم کا دارومدار کس پر کر دیا؟ اس علت کا جو سبب ہے۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے، جب باپ اور دادا نے غبن فاحش کے ساتھ نکاح کروایا ہے اب شفقت ہے یا شفقت نہیں پتہ نہیں چل رہا تو اس شفقت کی جو دلیل ہے اس پر حکم کا مدار ہو جائے گا، اور شفقت کی دلیل کیا تھی؟ کس سے پتہ چل رہا تھا شفقت ہے؟ قرب قرابت، کیونکہ قریبی رشتہ داری ہے، باپ اور دادا کی اپنی اولاد اور اولاد کی اولاد سے قریبی رشتہ داری ہے، جب شفقت کا پتہ نہیں چل سکتا تو شفقت کی جو دلیل ہے قرب قرابت اس پر حکم کا مدار ہو جائے گا، اور قرب قرابت تو باپ اور دادا میں موجود ہے لہٰذا غبن فاحش کے ساتھ ان کا نکاح بھی جائز ہو جائے گا، شفقت کا تو پتہ نہیں چل رہا لیکن شفقت کی دلیل تو موجود ہے۔ جبکہ باقی رشتہ داروں کے اندر وہ اگر غبن فاحش کے ساتھ کرواتے ہیں تو وہاں بھی شفقت کیا ہوگی؟ امر باطنی، اور حکم کا مدار پھر کس پر ہو جائے گا؟ شفقت کی دلیل پر یعنی قرب قرابت پر، اور وہاں تو قرب قرابت موجود نہیں ہے لہٰذا وہ غبن فاحش کے ساتھ نکاح کروائیں گے تو وہاں قرب قرابت ہی نہیں ہے لہٰذا وہ نکاح ہی جائز نہیں ہوگا، جبکہ باپ اور دادا میں شفقت کا تو پتہ نہیں لیکن شفقت کی دلیل موجود ہے لہٰذا وہ غبن فاحش کے ساتھ بھی نکاح کروائیں گے تو نکاح منعقد ہو جائے گا۔
اور باقی صاحبین نے اس کو قیاس کیا تھا بیع پر نکاح کو، کہ جیسے باپ اور دادا کو بیع و شراء میں غبن فاحش کی اجازت نہیں اسی طرح نکاح میں بھی ان کو غبن فاحش کی اجازت نہیں ہوگی، تو امام صاحب کی طرف سے اس کا جواب دیا صاحب ہدایہ نے کہ بھئی بیع و شراء کے اندر مال ہی تو مقصود ہوتا ہے، وہاں صرف مالیت مقصود ہے لہٰذا اگر مالیت میں کمی آئے گی تو وہ جائز نہیں ہوگا، جبکہ ہم نے بتا دیا نکاح کے اندر صرف مہر اور مہر کی مالیت مقصود نہیں ہوتی بلکہ نکاح میں مہر سے بھی بڑھ کر اور مقاصد ہوتے ہیں۔ اور اسی طرح باپ اور دادا اگر غیر کفو میں صغیر یا صغیرہ کا نکاح کروا دیں تو بھی یہ جائز ہے، اس لیے کیونکہ باپ اور دادا نکاح کروا رہے ہیں تو وہاں شفقت کا تو پتہ نہیں چل سکتا لیکن شفقت کی دلیل قرب قرابت تو موجود ہے، معلوم ہوا کوئی اور بڑا فائدہ دیکھ کر انہوں نے نکاح کروایا ہوگا، لہٰذا وہ نکاح کروا سکتے ہیں، کوئی اور ولی نہیں کروا سکتا۔ جبکہ صاحبین اس مسئلے میں بھی فرماتے ہیں کہ باپ اور دادا اگر غیر کفو میں نکاح کرواتے ہیں تو یہاں ضرر اور نقصان ظاہر ہے، صغیر یا صغیرہ کا نقصان ہو رہا ہے، غیر کفو میں نکاح ہو رہا ہے تو یہاں ضرر ظاہر ہے لہٰذا یہ جائز نہیں ہے۔
اس کے بعد پھر اگلی فصل ہم نے شروع کی تھی جس میں صاحب ہدایہ نکاح کی وکالت اور اسی طرح فضولی یا ولی وغیرہ کا جو نکاح ہے اس کو بیان فرما رہے تھے، اور مسئلہ ذکر ہوا تھا کہ نکاح میں ایک ہی شخص دونوں جانب کا متولی ہو سکتا ہے۔ لہٰذا چچا کا بیٹا اپنی بھتیجی کے ساتھ نکاح کرتا ہے جبکہ یہ خود ہی اس کا ولی بھی ہے اور کوئی ولی نہیں سب کا انتقال ہو چکا ہے، تو اب چچا کا بیٹا خود اصیل ہے اپنا نکاح کر رہا ہے اور وہ جو بھتیجی ہے اس کا یہ ولی ہے بھئی، تو لہٰذا یہ متولی ہو گیا دونوں جانب نکاح کا، اب یہ دو گواہوں کے سامنے صرف اتنا کہہ دے: میں نے فلانی سے اپنا نکاح کر دیا، یہ کہتے ہی نکاح منعقد ہو گیا، البتہ وہ صغیرہ کو بالغ ہونے کے بعد خیار بلوغ ملے گا وہ چاہے تو اس نکاح کو فسخ کر سکتی ہے۔ تو دیکھو ایک ہی شخص دونوں جانب نکاح کا متولی ہو گیا اور اس کا ایک ہی لفظ جو ہے وہ دونوں ایجاب و قبول کے قائم مقام ہو گیا۔
اسی طرح ایک عورت کسی شخص سے نکاح کرنا چاہتی ہے اور جس سے نکاح کرنا چاہتی ہے اسی کو اپنا وکیل بھی بنا دیا کہ تم میرے ساتھ اپنا نکاح کر دو، تو اب وہ شخص اپنا نکاح کرنا چاہتا ہے تو وہ ہے اصیل اور عورت نے اس کو اپنا وکیل بھی بنا دیا، تو اب یہ شخص اصیل بھی ہے اور وکیل بھی ہے، یہ دونوں جانب نکاح کا متولی ہو گیا، یہ دو گواہوں کے سامنے کہہ دیتا ہے: میں نے فلاں عورت سے اپنا نکاح کر دیا، تو یاد رکھو نکاح منعقد ہو جائے گا۔ یہ ہمارے نزدیک ہے۔ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ دونوں مسئلوں میں فرماتے ہیں جائز نہیں۔ دونوں مسئلوں میں فرماتے ہیں یہ جائز نہیں، اس لیے کیونکہ اس صورت میں ایک ہی شخص کا مملک اور متملک ہونا لازم آئے گا۔ مملک کا معنی ہے دوسرے کو مالک بنانے والا اور متملک کا معنی ہے خود مالک بننے والا۔ جیسے بیع کے اندر آپ ایجاب و قبول کرتے ہیں تو آپ مبیع کے مالک بن گئے تو خریدار بن گیا متملک، مالک بن گیا ہے مبیع کا، اور بیچنے والا وہ مملک بن گیا وہ اس کو مالک بنانے والا ہے، اور یاد رکھو ہمیشہ مملک اور ہوتا ہے متملک اور ہوتا ہے، ایک ہی شخص مملک اور متملک نہیں ہو سکتا۔ مثلاً آپ کہتے ہیں میں نے اس گاڑی کا مالک بنا دیا، بھئی کس کو مالک بنایا؟ میں نے اپنے آپ کو مالک بنایا، بھئی یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اپنے آپ کو کیسے مالک بنا سکتے ہیں آپ؟ تو پہلے سے اس کے مالک ہیں۔ تو مملک اور متملک ایک آدمی نہیں ہو سکتا، وہ دونوں الگ الگ ہوں گے۔ یہ اسی طرح مطالب اور مطالب، جب بیع ہوگی تو خریدار جو ہے وہ مبیع کا مطالبہ کرے گا کہ اب مبیع میرے حوالے کرو، تو وہ ہوگا مطالب، اور بیچنے والا کیا ہے؟ مطالب ہے، تو دیکھو مطالب اور ہوتا ہے مطالب اور، کسی دوسرے سے مطالبہ کیا جاتا ہے اپنی ذات سے مطالبہ نہیں کیا جاتا۔ تو ایک ہی شخص ایک ہی چیز کے اعتبار سے ایک ہی زمانے کے اندر یا مملک ہوگا یا متملک ہوگا دونوں نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح ایک ہی شخص ایک ہی چیز کے لیے ایک زمانے کے اندر یا مطالب ہوگا یا مطالب ہوگا، وہ ایک ہی چیز کے لیے ایک ہی زمانے میں مطالب اور مطالب نہیں ہو سکتا۔ تو امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نکاح کی دونوں جانب کا متولی ایک شخص نہیں ہو سکتا، کیونکہ اس صورت میں ایک ہی شخص کا مملک اور متملک ہونا لازم آئے گا یا ایک ہی شخص کا مطالب اور مطالب ہونا لازم آئے گا اور یہ نہیں ہو سکتا، اس کا تصور نہیں کیا جا سکتا، یہ ممکن ہی نہیں ہے۔
البتہ پہلے مسئلے کے اندر امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس مسئلے کے اندر چونکہ ولی خود ہی اس کا ذمہ دار ہے لہٰذا ولی والے مسئلے کے اندر تو نکاح ہو جائے گا۔ جب چچا کے بیٹے نے اپنی بھتیجی سے نکاح کیا ہے تو وہ چونکہ خود ہی ولی ہے وہاں تو مجبوری ہے، ولی کے علاوہ اور کوئی ذمہ دار نہیں ہوتا، ولی ہی تو ذمہ دار ہوتا ہے، تو لہٰذا وہاں ضرورت کی وجہ سے وہ نکاح ہو جائے گا، ایک ہی شخص دونوں جانب نکاح کا متولی بن جائے گا۔ ضابطہ کیا تھا ان کے نزدیک؟ ایک ہی شخص مملک اور متملک نہیں ہو سکتا لیکن ضرورت کی وجہ سے ولی والے مسئلے کا اس سے امام شافعی رحمہ اللہ استثناء کر دیتے ہیں کہ وہاں ضرورت کی وجہ سے وہ ایک ہی شخص متولی ہو جائے گا بھئی۔ لیکن وکیل والے مسئلے میں کہتے ہیں کوئی ضرورت نہیں ہے، وہ عورت جس شخص سے نکاح کرنا چاہتی ہے اسی کو وکیل بنانے کی کیا ضرورت ہے؟ کسی اور آدمی کو وکیل بنا دے، وہ اس آدمی سے اس کا نکاح کروا دے، تو وہاں کوئی حاجت نہیں لہٰذا وہاں ایک شخص دونوں جانب کا متولی نہیں ہو سکتا۔
اس پر پھر اعتراض میں نے ذکر کیا کہ بھئی امام شافعی رحمہ اللہ کا قول تو پیچھے گزرا تھا، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک تو ولایت اجبار صرف باپ اور دادا کو حاصل ہوتی ہے اور تو کسی کو ولایت اجبار ہی نہیں، امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک صرف باپ کو ولایت اجبار ہے، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک باپ اور دادا دونوں کو ولایت اجبار ہے اور کسی کو نہیں، جبکہ عند الاحناف باپ اور دادا کے علاوہ اور اولیاء کو بھی کیا ہے؟ ولایت اجبار حاصل ہوتی ہے۔ تو اشکال ہوتا ہے کہ پیچھے تو ولی کے مسئلے میں وہاں تو چچا کا بیٹا ولی بن رہا ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک تو چچا کا بیٹا ولی بن ہی نہیں سکتا بھئی، وہ تو صرف باپ اور دادا بنتے ہیں، تو جواب اس کا یہ جواب بعض شارحین نے لکھا کہ یہ اعتراض یہاں ہوتا ہے، البتہ اس کا یہ جواب دیا جا سکتا ہے کہ شاید یہ مسئلہ امام شافعی رحمہ اللہ کے کسی دوسرے قول پر مبنی ہو، ہو سکتا ہے ان کا کوئی اور قول ہو اس مسئلے میں کہ باپ اور دادا کے علاوہ اور عصبات بھی اولیاء بن سکتے ہیں، تو ہو سکتا ہے یہ اس پر مبنی ہو، ورنہ پیچھے جو ان کا مذہب ذکر ہوا تھا تو امام شافعی رحمہ اللہ کے اس قول پر تو یہ مسئلہ مبنی نہیں ہو سکتا۔
تو یہ تو تھا امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ کا مذہب۔ جبکہ ہمارے نزدیک نکاح کے اندر ایک ہی شخص دونوں جانب کا متولی ہو سکتا ہے، وجہ یہ کہ نکاح کے اندر جو وکیل ہوتا ہے وہ صرف معبر ہے، وہ صرف زبان سے الفاظ کی تعبیر کر رہا ہے، زبان سے الفاظ کو ادا کر رہا ہے اور وہ سفیر ہے، پیغام پہنچا رہا ہے دونوں جانب کا، اور دونوں جانب سے پیغام پہنچانے میں تو کوئی خرابی اور کوئی منافات نہیں، ایک ہی آدمی دونوں طرف کا پیغام ایک دوسرے کو پہنچا سکتا ہے۔ ہاں منافات جو ہے حقوق کے اندر ہے، کس کے اندر ہے؟ حقوق کے اندر ہے۔ بیع کے اندر حقوق کا تعلق عقد کرنے والوں سے ہوتا ہے، وکیل جو ہے وہ اگر مثلاً عقد کر رہے ہیں تو وہی وکیل ان میں سے ایک مملک بن رہا ہے اور ایک کیا بن رہا ہے؟ متملک بن رہا ہے، دو افراد ہیں دو وکیل ہیں، ایک کیا بن رہا ہے؟ مثلاً دو آدمیوں کے دو وکیل ہیں، ایک چیز کو بیچ رہا ہے دوسرا چیز کو خرید رہا ہے، یہ بیع عقد کس کے اندر ہو رہا ہے؟ وکیلوں کے اندر ہو رہا ہے، یہی وکیل جو عقد کر رہے ہیں یہ ان میں سے ایک بن جائے گا مملک اور دوسرا کیا بن جائے گا؟ متملک بن جائے گا، یا دونوں میں سے ایک مطالب بن جائے گا یعنی مطالبہ کرنے والا اور دوسرا کیا بن جائے گا؟ مطالب بن جائے گا، اس لیے کیونکہ حقوق بیع کا تعلق عقد کرنے والوں سے ہوتا ہے۔ جنہوں نے عقد کیا ہے وہی مطالبہ کریں گے اور جس سے عقد کیا اسی سے مطالبہ کیا جائے گا، تو وہی مطالب اور مطالب بنتے ہیں یا وہی مملک اور مملک بنتے ہیں، جبکہ نکاح کے اندر ایسا نہیں ہے، نکاح کے اندر حقوق عقد کا تعلق وکیل سے نہیں ہوتا، وکیل کا کام صرف پیغام پہنچانا ہے۔ چنانچہ اسی لیے جب نکاح کیا جاتا ہے تو وکیل صرف یہ نہیں کہتا میں نے نکاح کیا بلکہ باقاعدہ نام لیتا ہے کس کا نکاح کروا رہا ہے اور کس سے کروا رہا ہے، تو وہاں وکیل صرف الفاظ پہنچا رہا ہے حتی کہ وہ اپنے موکلوں کے نام باقاعدہ ان کو نکاح میں ذکر کرنا پڑتے ہیں، جبکہ بیع کے اندر وہ باقاعدہ عقد کر رہے ہیں وہاں موکل کا نام ذکر کرنے کی کوئی حاجت اور ضرورت نہیں، تو لہٰذا نکاح اور بیع میں فرق آ گیا۔
بیع کے اندر عقد کے حقوق کا تعلق جو وکیل اگر عقد کر رہے ہیں تو وکیلوں سے ہی حقوق عقد بھی متعلق ہوں گے، مطالبہ وکیل ہی کر سکتا ہے، وہ جو اس کا موکل ہے وہ مطالبہ آ کر نہیں کر سکتا، جبکہ نکاح کے اندر وکیل صرف سفیر ہے، معبر ہے، پیغام رساں ہے، لہٰذا وہ دونوں جانب کا سفیر بن سکتا ہے، حقوق عقد کا اس سے تعلق ہی نہیں ہے۔ اور پھر صاحب ہدایہ نے آپ کو یہ بھی بتایا کہ جب ایک ہی شخص دونوں جانب نکاح کا متولی ہو جائے گا تو صرف اس کا یہ کہہ دینا: میں نے فلاں کا فلاں سے نکاح کر دیا، بس یہی ایجاب و قبول دونوں کے قائم مقام ہو جائے گا، ایجاب الگ کرنا پڑے اور قبول الگ کرنا پڑے اس کی کوئی حاجت نہیں، اس کا یہ کلام ہی دو کلاموں کے قائم مقام ہے کیونکہ یہ دونوں طرف کا متولی ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔
اب آئیے آج کے سبق پر:
قَالَ: وَتَزْوِيجُ الْعَبْدِ وَالأَمَةِ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوْلَاهُمَا مَوْقُوفٌ، فَإِنْ أَجَازَ الْمَوْلَى جَازَ وَإِنْ رَدَّهُ بَطَلَ، وَكَذَلِكَ لَوْ زَوَّجَ رَجُلٌ امْرَأَةً بِغَيْرِ رِضَاهَا أَوْ رَجُلًا بِغَيْرِ رِضَاهُ۔
بھئی میں نے آپ کو بتلایا تھا فضولی کے بارے میں، غیر متعلقہ آدمی۔ ایک تو ہے کہ آپ ایک عقد خود کرتے ہیں کیونکہ شریعت نے آپ کو اختیار دیا ہے، مثلاً آپ اپنا نکاح خود کرنا چاہتے ہیں تو شریعت نے آپ کو اختیار دیا ہے آپ نکاح کر سکتے ہیں، اسی طرح آپ اپنی گاڑی خود بیچنا چاہتے ہیں شریعت نے اختیار دیا ہے آپ اپنی گاڑی بیچ سکتے ہیں، یا آپ کسی دوسرے کو وکیل بناتے ہیں کہ جاؤ جا کر میری یہ گاڑی فروخت کر دو یا جا کر میرا نکاح کروا دو، اور اگر کوئی ایک غیر متعلقہ آدمی خود ہی آپ کی گاڑی بیچ دے یا آپ کا نکاح کروا دے تو اس کو فضولی کہتے ہیں۔ مثلاً وہ خود ہی نکاح کروا کے آ گیا، آپ نے اس کو وکیل نہیں بنایا تھا، اس کو یہ ولایت حاصل نہیں تھی اس نے پھر بھی نکاح کروایا، تو یاد رکھو عِنْدَ الأَحْنَافِ، عِنْدَ الأَحْنَافِ فضولی اگر کوئی عقد کروا دیتا ہے غیر متعلقہ آدمی تو وہ اس صاحب تصرف کی اجازت پر موقوف ہے۔ مثلاً کوئی شخص آپ کی گاڑی بیچ کر آ گیا آپ کی اجازت کے بغیر تو اب یہ بیع منعقد ہو گئی عند الاحناف، البتہ آپ کی اجازت پر موقوف ہے، آپ اجازت دیں گے تو پھر یہ بیع نافذ ہو جائے گی، اگر آپ اجازت نہیں دیں گے تو یہ بیع باطل ہو جائے گی، رد ہو جائے گی، بات سمجھ میں آ گئی۔ اسی طرح ایک شخص خود بخود آپ کی اجازت کے بغیر آپ کا نکاح کروا کر آ گیا تو یہ آپ کی اجازت پر موقوف ہے، آپ اجازت دیں گے تو فضولی کا کروایا ہوا یہ نکاح نافذ ہو جائے گا، اگر آپ اجازت نہیں دیں گے تو یہ نکاح باطل ہو جائے گا۔ تو عند الاحناف فضولی جو ہے کوئی عقد کرواتا ہے تو وہ صاحب اجازت کی اجازت پر موقوف رہتا ہے۔
اب صورت مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص کے غلام یا باندی ہیں، آقا کے علاوہ کسی اور آدمی نے اس غلام یا باندی کا کہیں نکاح کروا دیا۔ اب یہ جو آدمی جس نے نکاح کروایا یہ فضولی ہے بھئی، اور غلام اور باندی تو اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں کر سکتے لہٰذا اب یہ جو نکاح کروایا ہے یہ آقا کی اجازت پر موقوف ہے، آقا اجازت دے دے گا تو یہ نکاح منعقد ہو جائے گا، نافذ ہو جائے گا، اور اگر آقا اجازت نہیں دے گا تو یہ نکاح باطل ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ ایک شخص نے کسی دوسرے کے غلام یا باندی کا نکاح کروا دیا تو یہ غلام یا باندی کا نکاح ان کے آقا کی اجازت پر موقوف ہے، وہ اجازت دے گا تو ہو جائے گا، اجازت نہیں دے گا تو نہیں ہوگا۔ یہ تو ایک صورت تھی کہ فضولی نے کسی غلام یا باندی کا نکاح کروایا۔
دوسری صورت: فضولی نے کسی آزاد آدمی یا عورت کا نکاح کروا دیا تو یاد رکھو جس آدمی یا عورت کا فضولی نے نکاح کروایا ہے وہ نکاح ان کی اجازت پر موقوف ہے۔ کسی آدمی کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر کروایا ہے تو وہ آدمی اجازت دے گا تو نکاح ہو جائے گا، وہ اجازت نہیں دے گا تو نکاح نہیں ہوگا۔ کسی عورت کا نکاح کروایا ہے فضولی نے تو وہ عورت اجازت دے دے گی تو نکاح منعقد ہو جائے گا، اگر وہ اجازت نہیں دے گی تو نکاح منعقد نہیں ہوگا، بات سمجھ میں آ گئی۔
اب دیکھیے کتاب پر:
قَالَ: صاحب قدوری فرماتے ہیں: وَتَزْوِيجُ الْعَبْدِ وَالأَمَةِ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوْلَاهُمَا اور نکاح کروانا غلام اور باندی کا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوْلَاهُمَا ان دونوں کے آقا کی اجازت کے بغیر مَوْقُوفٌ یہ نکاح کیا رہے گا؟ موقوف رہے گا۔ میں نے بتایا بھئی فضولی جب بھی عقد کرتا ہے وہ نکاح صاحب اجازت کی اجازت پر موقوف رہتا ہے، تو کہتے ہیں یہ غلام اور باندی کا نکاح کروانا ان کے آقا کی اجازت کے بغیر مَوْقُوفٌ یہ موقوف رہے گا، فَإِنْ أَجَازَ الْمَوْلَى جَازَ اگر آقا نے اجازت دے دی تو جائز ہو جائے گا، وَإِنْ رَدَّهُ بَطَلَ اور اگر آقا نے اس کو رد کر دیا تو یہ نکاح باطل ہو جائے گا۔ تو دیکھو یہاں نکاح کروایا غلام یا باندی کا، تو انہی کی اجازت پر یہ نکاح نہیں موقوف غلام یا باندی کی اجازت پر، بلکہ آقا کی اجازت پر موقوف ہے، توجہ ہے؟ جبکہ اگلے مسئلے میں جس کا نکاح کروا رہا ہے فضولی اسی کی اجازت پر نکاح موقوف ہوگا، مثلاً کسی عام آدمی یا عام عورت کا نکاح کروا دیا، تو وہ تو غلام یا باندی نہیں ہے وہ تو آزاد آدمی ہے آزاد عورت ہے جس کا نکاح کروایا گیا ہے، توجہ ہے؟ لہٰذا انہی کی اجازت پر نکاح موقوف رہے گا۔
آگے دیکھیے: وَكَذَلِكَ لَوْ زَوَّجَ رَجُلٌ امْرَأَةً اور اسی طرح اگر نکاح کروایا کسی آدمی نے امْرَأَةً کسی عورت کا بِغَيْرِ رِضَاهَا عورت کی رضامندی کے بغیر ہی، أَوْ رَجُلًا یا کسی آدمی نے کسی دوسرے آدمی کا نکاح کروایا بِغَيْرِ رِضَاهُ اس کی مرضی کے بغیر تو بھی یہی حکم ہے، یعنی جن کا نکاح کروایا ان کی اجازت پر یہ نکاح موقوف ہے۔
وَهَذَا عِنْدَنَا اور یہ ہمارے نزدیک ہے، فَإِنَّ كُلَّ عَقْدٍ صَدَرَ مِنَ الْفُضُولِيِّ اس لیے کیونکہ ہر ایسا عقد جو کسی فضولی سے صادر ہو یعنی فضولی سے پیش آئے، ہر ایسا نکاح جو کس کی طرف سے پیش آئے؟ کسی فضولی کی طرف سے، وَلَهُ مُجِيزٌ اس حال میں کہ کوئی اس کا اجازت دینے والا بھی ہو، انْعَقَدَ مَوْقُوفًا عَلَى الإِجَازَةِ یہ نکاح موقوف ہو کر منعقد ہو جائے گا عَلَى الإِجَازَةِ اس آدمی کی اجازت پر۔ اس جگہ کو سمجھ لو بھئی یہ ذرا مشکل جگہ ہے۔
یہ ضابطہ ذکر فرما رہے ہیں عند الاحناف: فَإِنَّ كُلَّ عَقْدٍ صَدَرَ مِنَ الْفُضُولِيِّ وَلَهُ مُجِيزٌ انْعَقَدَ مَوْقُوفًا عَلَى الإِجَازَةِ، یہ ضابطہ ذکر، ضابطہ کیا؟ توجہ سے سنو، جو بھی عقد کوئی فضولی کروائے گا اور حال یہ ہے کہ اس عقد کا کوئی اجازت دینے والا ہونا چاہیے۔ اس عقد کا کوئی، وَلَهُ مُجِيزٌ کوئی ایسا شخص ہونا چاہیے جو اس عقد کی اجازت دے سکے تو پھر وہ عقد منعقد ہو جائے گا اور اس شخص کی اجازت پر موقوف رہے گا۔ کیا؟ ضابطہ کیا ہوا؟ جب بھی فضولی کوئی عقد کروائے تو وہ عقد منعقد ہوگا، کب منعقد ہوگا؟ جب اس کا کوئی اجازت دینے والا بھی ہو، اگر اجازت دینے والا ہی نہیں ہے تو پھر وہ عقد منعقد ہی نہیں ہوگا، اجازت دینے والا ہو تو پھر منعقد ہو جائے گا لیکن اس کی اجازت پر موقوف رہے گا۔ توجہ ہے؟ تو بعض علماء نے یہاں مجیز کا معنی کیا قبول کرنے والا، جب بھی فضولی کوئی عقد کرے وَلَهُ مُجِيزٌ اور اس عقد کو کوئی قبول کرنے والا ہو، یعنی ایجاب کے ساتھ ساتھ قبول بھی پایا جائے اسی مجلس میں، تو پھر وہ اجازت پر موقوف ہو کر منعقد ہو جائے گا۔ توجہ ہے؟ دیکھو مثلاً زید ہے، زید کا نکاح ایک آدمی نے کروایا اس کی اجازت کے بغیر، تو یہ آدمی ہوا فضولی اور اس نے ایک مجلس کے اندر کہا کہ میں نے زید کا نکاح فلانی عورت سے کر دیا، اور اسی مجلس میں ایک اور آدمی جو ہے اس عورت کی طرف سے قبول کرتا ہے وہ بھی فضولی ہے، دوسرا آدمی بھی زید کی طرف سے بھی فضولی، اس عورت جس سے نکاح کروایا جا رہا ہے اس کی طرف سے بھی ایک فضولی، زید کی طرف سے فضولی نے کہا میں نے زید کا نکاح اس عورت سے کر دیا اور دوسرے آدمی نے عورت کی طرف سے کیا کہا فضولی بن کر کہ میں نے زید کا نکاح اس عورت سے قبول کر لیا۔ تو بعض شارحین نے لکھا یہ مجیز سے مراد یہ قبول کرنے والا ہے۔ کون مراد ہے؟ عورت کی طرف سے بھی قبول کرنے والا تھا یا نہیں اسی مجلس میں؟ دیکھو اب ترجمہ ذرا سنو: فَإِنَّ كُلَّ عَقْدٍ صَدَرَ مِنَ الْفُضُولِيِّ ہر ایسا عقد جو صادر ہو کسی فضولی سے، وَلَهُ مُجِيزٌ اور کوئی اس کو قبول کرنے والا بھی ہو، میں نے بتایا مجیز کا بعض شارحین نے ترجمہ کیا کیا؟ اس سے کون مراد ہے؟ اجازت دینے والے سے مراد ہے قبول کرنے والا، تو مجیز کا معنی ہم قبول کرنے والے کے کر رہے ہیں ذرا، لیکن یاد رکھنا میں آگے آپ کو بتاؤں گا کہ اس سے قبول کرنے والا مراد نہیں ہے، تو بہرحال جو بعض شارحین نے تقریر کی وہ میں بیان کر رہا ہوں، وہ کیا کہتے ہیں؟ فَإِنَّ كُلَّ عَقْدٍ صَدَرَ مِنَ الْفُضُولِيِّ ہر ایسا عقد جو کسی فضولی سے صادر ہو، وَلَهُ مُجِيزٌ اور کوئی اس کو قبول کرنے والا بھی ہو یعنی اسی مجلس میں کوئی اس کو کیا کر لے؟ قبول بھی کر لے، انْعَقَدَ مَوْقُوفًا عَلَى الإِجَازَةِ تو یہ عقد اس آدمی کی اجازت پر موقوف ہو کر منعقد ہو جاتا ہے۔ منعقد تو ہو گیا لیکن اس کی اجازت پر موقوف ہے۔ توجہ ہے؟ مجیز سے کون مراد ہے؟ اسی مجلس میں کوئی قبول کرنے والا ہو، اگر اس مجلس میں قبول کرنے والا نہیں تو منعقد بھی نہیں ہوگا، کیونکہ عقد میں ایک ایجاب ہوتا ہے ایک قبول ہوتا ہے، صرف ایجاب سے تو عقد نہیں ہوتا، ایجاب کے ساتھ ساتھ کیا چاہیے؟ قبول بھی چاہیے، توجہ ہے؟ میں آپ کو اپنی کتاب بیچنا چاہتا ہوں تو جب میں کہوں گا میں نے یہ کتاب آپ کو بیچ دی تو آپ کا یہ کہنا بھی ضروری ہے میں نے خرید لی یا میں نے قبول کی، توجہ ہے؟ تو صرف ایجاب سے عقد نہیں ہوتا، ایجاب کے ساتھ قبول بھی چاہیے، تو وَلَهُ مُجِيزٌ سے کون مراد ہے؟ قبول کرنے والا مراد ہے اس کے بغیر عقد نہیں ہو سکتا۔
لیکن یاد رکھو علمائے محققین فرماتے ہیں کہ نہیں، مجیز سے مراد قبول کرنے والا نہیں ہے بلکہ مجیز سے مراد ہے اجازت دینے والا۔ پھر سنو: فَإِنَّ كُلَّ عَقْدٍ صَدَرَ مِنَ الْفُضُولِيِّ ہر ایسا عقد جو کسی فضولی کی طرف سے پیش آئے، وَلَهُ مُجِيزٌ اور کوئی اس کا، اب مجیز کا معنی قبول کرنے کے نہیں کرنے بلکہ اجازت دینے والا، وَلَهُ مُجِيزٌ اس حال میں کہ کوئی اس کا اجازت دینے والا بھی ہو، تو پھر انْعَقَدَ مَوْقُوفًا عَلَى الإِجَازَةِ تو یہ عقد جو ہے اجازت پر موقوف ہو کر منعقد ہو جائے گا۔ معلوم ہوا فضولی جب بھی کوئی عقد کروائے تو کوئی نہ کوئی اجازت دینے والا ہونا چاہیے۔ مثلاً دیکھو دو فضولی تھے انہوں نے زید اور زینب کا نکاح کروا دیا مثلاً، زید کی طرف سے ایک فضولی ہے اور زینب کی طرف سے دوسرا فضولی ہے، زید اور زینب کو نہیں پتہ انہوں نے اجازت نہیں دی لیکن دو فضولیوں نے نکاح کروا دیا، اب مجھے بتائیے یہ جو عقد ہے اس کی اجازت دینے والے موجود ہیں یا نہیں؟ اس وقت تو موقوف ہو کر منعقد ہو رہا ہے لیکن زید اجازت ادھر سے دے دے اور زینب ادھر سے اجازت دے دے گی بعد میں، اس وقت نہیں، زید بعد میں اجازت دے گا زینب بعد میں اجازت دے گی تو یہ نکاح منعقد ہو جائے گا۔ تو کیا تو دو فضولیوں نے، تو معلوم ہوا مجیز سے مراد وہ قبول کرنے والا نہیں ہے قبول کرنے والا تو وہ فضولی ہی تھا، بلکہ اجازت دینے والے سے کون مراد ہے؟ جس کے حق میں تصرف کیا جا رہا ہے، جس کی طرف سے عقد کیا جا رہا ہے اور وہ کون ہے؟ زید اور زینب ہیں، تو ہر ایسا عقد جو فضولی کرے اور اس کا کوئی اجازت دینے والا موجود ہو تو وہ عقد منعقد ہوگا موقوف ہو کر ان کی اجازت پر، بعد میں وہ اجازت دیں گے ہو جائے گا، اجازت نہیں دیں گے نہیں ہوگا، تو مجیز کوئی ضرور ہونا چاہیے۔
اگر عقد فضولی نے کروایا اور کوئی مجیز ہی نہیں ہے پھر وہ عقد موقوف ہو کر بھی نہیں منعقد ہوگا۔ بھئی اجازت دینے والا ہی نہیں ہے تو پھر موقوف ہو کر کیسے منعقد ہوگا؟ وہ منعقد ہی نہیں ہوگا، مثلاً دیکھو ایک یتیم لڑکی ہے نابالغہ ہے یا یتیم لڑکا ہے نابالغ ہے اور اس کے اولیاء میں سے کوئی بھی نہیں زندہ بھئی، اب ایک فضولی اس یتیم یا یتیمہ کا نکاح کرواتا ہے، اب مجھے بتائیے نابالغ بچہ یا بچی اپنا نکاح کر سکتے ہیں؟ وہ نکاح نہیں کر سکتے، اور مجھے بتائیے ان کے اولیاء بھی کوئی نہیں زندہ، تو معلوم ہوا کوئی اجازت دینے والا نہیں ہے اس نکاح کی، لہٰذا یہ موقوف ہو کر بھی منعقد نہیں ہوگا، یہ نکاح ہوا ہی نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کیونکہ کوئی اجازت دینے والا نہیں، کوئی ولی ہوتا تو وہ اجازت دینے والا تھا، ولی زندہ ہی نہیں ہے کوئی ایک بھی نہیں زندہ، بات سمجھ میں آ گئی؟ نہ باپ کے خاندان کی طرف سے نہ ماں کے خاندان کی طرف سے کوئی زندہ نہیں ہے، کوئی اجازت دینے والا نہیں ہے، لہٰذا وَلَهُ مُجِيزٌ کے ذریعے اس طرح کے عقد سے احتراز کیا، یعنی اگر فضولی ایسا عقد کرواتا ہے جس کا کوئی اجازت دینے والا ہے ہی نہیں تو وہ منعقد ہوگا ہی نہیں۔ اگر اجازت دینے والا ہے پھر اس کی اجازت پر موقوف ہو کر منعقد ہو جائے گا اور جا کر اجازت لینا پڑے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ یتیم اور یتیمہ کا نکاح کوئی کروائے اور اس یتیم اور یتیمہ کا کوئی ولی نہیں ہے تو یہ نکاح موقوف ہو کر بھی منعقد نہیں ہوگا کیونکہ اجازت دینے والا ہے ہی کوئی نہیں۔ آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا اگر اولیاء نہ ہوں تو قاضی ولی ہوتا ہے، آپ نے پڑھا تھا قاضی نہیں ہے تو حاکم یا بادشاہ جو ہے وہ ولی ہوتا ہے، تو وہ ولی تو موجود ہے اجازت دینے والا تو موجود ہے؟ تو شارحین جواب دیتے ہیں کہ ایسی جگہ فرض کر لیں جہاں نہ قاضی ہو نہ خلیفہ ہو یعنی دار الحرب میں، دار الحرب کے اندر کفار کا وطن ہے وہاں نہ قاضی ہے وہاں نہ مسلمانوں کی خلافت ہے، تو وہاں پر اگر ایک مسلمان یتیم یا یتیمہ جو ہے نابالغ بچہ یا نابالغ بچی ہے اس کا کوئی نکاح کرواتا ہے اب دیکھو اولیاء بھی کوئی نہیں اور قاضی اور خلیفہ بھی یہاں پر نہیں ہیں تو لہٰذا اس کا کوئی مجیز نہیں لہٰذا یہ موقوف ہو کر بھی منعقد نہیں ہوگا۔
یا دوسری صورت لے لیں دوسرا مسئلہ لے لیں، مکاتب آپ جانتے ہیں وہ غلام جسے آقا نے کہہ دیا: مثلاً تم مجھے پانچ سال میں پچاس لاکھ روپے لا کر دے دو تو تم آزاد ہو۔ آقا نے اپنے غلام سے کیا کہا؟ تم مجھے پانچ سال میں پچاس لاکھ روپے لا کر دے دو تو تم آزاد ہو، اور غلام نے یہ عقد قبول کر لیا، یاد رکھو یہ جو عقد دونوں کے درمیان ہوا آقا اور غلام میں اس کو عقد کتابت کہتے ہیں۔ اب غلام جو ہے مثلاً ہر مہینے تو ہر مہینے جتنے بھی پیسے بنتے ہیں اس حساب سے وہ ہر مہینے قسطیں ادا کرتا چلا جائے گا یہاں تک کہ پچاس لاکھ پورے کر دے، اور جب پچاس لاکھ پورے ہو جائیں گے تو یہ غلام آزاد ہو جائے گا۔ اور یاد رکھو جس دن یہ عقد کتابت کیا غلام نے اپنے آقا سے اس دن یہ غلام جو ہے اب آقا اس سے خدمت نہیں لے سکتا، اب یہ غلام آزاد آدمی کی طرح ہو گیا، یہ آقا کی خدمت نہیں کرے گا جائے گا جا کر پیسے کمائے گا اور اپنے آپ کو آزاد کروائے گا۔ توجہ ہے؟ تو یہ جو عقد ہوا یہ کیا ہے؟ عقد کتابت۔ اب مکاتب جو ہے جا کر وہ تجارت اور کاروبار کر رہا ہے، چیزیں خریدتا ہے بیچتا ہے پیسے کما رہا ہے اور لا کر آقا کو دے رہا ہے، اس مکاتب نے غلاموں کی بھی تجارت شروع کر دی، پیسے کچھ جمع ہو گئے اس نے کس کی تجارت شروع کر دی؟ غلاموں کی تجارت شروع کر دی، اب یاد رکھو یہ جو غلام ہے غلام کے اندر شادی اور نکاح یہ تاجروں کے ہاں عیب شمار ہوتا ہے، اس سے غلام کی قیمت کم ہو جاتی ہے، لہٰذا مکاتب غلاموں کی خرید و فروخت کی تو اس کو اجازت ہے لیکن اپنے غلاموں میں سے کسی غلام کا نکاح کروانے کی اس کو اجازت نہیں ہے۔ میں نے بتایا نا مکاتب خود بھی غلام ہے لیکن وہ کس کی طرح ہو گیا؟ آزاد آدمیوں کی طرح، آزاد تو نہیں ہے لیکن آزاد آدمیوں جیسا ہو گیا، بیع و شراء کر رہا ہے پیسے کما کر لا رہا ہے، اب اپنے کسی ایک غلام کا یہ نکاح کروانا چاہتا ہے، کہتے ہیں نہیں نکاح کی اس کو اجازت نہیں، کیوں نہیں کروا سکتا؟ وجہ یہ کہ اس کو تجارت اور پیسے کمانے کی شریعت نے اجازت دی ہے اور نکاح کروائے گا یہ تو غلام کے اندر عیب پیدا کر رہا ہے پھر تو یہ اس قیمت پر نہیں بکے گا بھئی، پھر اس قیمت پر یہ نہیں فروخت کر سکتا اس کو، بات سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا مکاتب اپنے غلام کا نکاح نہیں کروا سکتا۔ اب مکاتب کے غلام کا کسی فضولی نے نکاح کروا دیا، مکاتب مکاتب کا غلام ہے اور کسی فضولی نے کیا کیا؟ اس کا نکاح کروا دیا، اب دیکھیے یہ جو مکاتب کا غلام ہے اس کا یہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوا، حالانکہ فضولی کا عقد منعقد ہو جاتا ہے اجازت پر موقوف ہوتا ہے لیکن یہاں اس کا مجیز ہی کوئی نہیں ہے، یہ مکاتب کے غلام کا نکاح کروائے گا تو کون اجازت دے گا؟ مکاتب تو اجازت دے ہی نہیں سکتا کیونکہ یہ نکاح تو عیب شمار ہوتا ہے، اور مکاتب کا جو اصل مالک تھا جس کے ساتھ مکاتب نے عقد کتابت کیا تھا وہ بھی اجازت نہیں دے سکتا کیونکہ یہ اس کا غلام تو نہیں ہے یہ تو مکاتب کا غلام ہے، توجہ ہے؟ لہٰذا مکاتب کے غلام کا نکاح کوئی فضولی کرواتا ہے تو یہ موقوف ہو کر بھی منعقد نہیں ہوگا کیونکہ اس کا کوئی مجیز ہی نہیں ہے، تو فضولی کا عقد کب منعقد ہوتا ہے موقوف ہو کر؟ جب اس کا کوئی مجیز ہو، کوئی اجازت دینے والا ہو۔ معلوم ہوا مجیز سے مراد قبول کرنے والا نہیں ہے بلکہ وہ جو اس عقد کی اجازت دینے والا ہے وہ مراد ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔
اب دیکھیے کتاب پر:
فَإِنَّ كُلَّ عَقْدٍ صَدَرَ مِنَ الْفُضُولِيِّ اس لیے کیونکہ ہر ایسا عقد جو فضولی کی جانب سے پیش آئے یعنی فضولی کروائے، وَلَهُ مُجِيزٌ اور اس حال میں کہ اس عقد کا کوئی اجازت دینے والا بھی ہو، انْعَقَدَ مَوْقُوفًا تو یہ والا فضولی کا عقد منعقد ہو جائے گا موقوف ہو کر، عَلَى الإِجَازَةِ اس شخص کی اجازت پر۔
وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: تَصَرُّفَاتُ الْفُضُولِيِّ كُلُّهَا بَاطِلَةٌ
اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فضولی کے سارے تصرفات باطل ہیں۔ ہمارے نزدیک تو فضولی کسی کا نکاح کروائے یا کسی کی کوئی بیع و شراء کروا دے وہ مالک کی اجازت پر موقوف ہے، لیکن امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، فضولی کوئی عقد کروائے تو وہ ہوتا ہی نہیں، وہ سب باطل ہیں، ان کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ وہ فرماتے ہیں بھئی آپ کی گاڑی ہے کسی کو اجازت نہیں ہے کوئی اور آپ کی گاڑی بیچ دے، آپ کا نکاح ہے کسی کو اجازت نہیں آپ کی اجازت کے بغیر آپ کا نکاح کروا دے، تو وہ کیا فرماتے ہیں فضولی کے سارے تصرفات کیا ہیں؟ باطل۔
دلیل سنو: امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو بھی عقد کیا جاتا ہے وہ اس کے حکم کے لیے کیا جاتا ہے، مثلاً نکاح کس لیے کیا جاتا ہے؟ تاکہ وہ مرد اور عورت میاں بیوی بن جائیں، وہ ایک دوسرے کے لیے حلال ہو جائیں، توجہ ہے؟ اسی طرح بیع کی جاتی ہے، بیع کس لیے کی جاتی ہے؟ تاکہ بیع کا حکم آ جائے کہ مشتری مبیع کا مالک بن جائے، پہلے بائع مالک تھا اب کون بن گیا؟ بیع کے بعد کون مالک بن جاتا ہے؟ مشتری مالک بن جاتا ہے، تو جو بھی عقد کیا جاتا ہے وہ کس لیے کیا جاتا ہے؟ اس عقد کے حکم کے لیے، جو بھی عقد کیا جاتا ہے اس عقد کا تاکہ حکم آ جائے، نکاح کروایا جائے گا تو اس کا حکم یہ ہے اب وہ آدمی اور عورت میاں بیوی بن گئے ایک دوسرے کے لیے حلال ہو گئے، اور بیع کریں گے تو مشتری جو ہے مبیع کا مالک بن جائے گا، تو جو بھی عقد کیا جاتا ہے وہ اس عقد کے حکم کے لیے کیا جاتا ہے، اور فضولی فضولی کے پاس تو اختیار ہی نہیں ہے وہ تو حکم کو ثابت ہی نہیں کر سکتا، وہ آپ کی گاڑی بیچ کر آیا تو کیا وہ دوسرا آدمی گاڑی کا مالک بنا جس کے ہاتھ بیچی ہے؟ نہیں، وہ تو جب تک آپ اجازت نہیں دیتے ہمارے نزدیک بھی آپ اجازت دیں گے تو وہ مالک بنے گا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو فضولی جو ہے جب عقد کرتا ہے تو وہ اس بات پر قادر نہیں ہے کہ اس عقد کے حکم کو ثابت کر سکے، اور عقد تو کیا ہی کس لیے جاتا ہے؟ حکم کے لیے، تو جب وہ حکم کو ہی ثابت نہیں کر سکتا تو اس عقد کا فائدہ کیا ہوا؟ لہٰذا یہ عقد کا کوئی اعتبار نہیں یہ باطل ہے، دلیل سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: تَصَرُّفَاتُ الْفُضُولِيِّ كُلُّهَا بَاطِلَةٌ کہ فضولی کے سارے تصرفات باطل ہیں، لِأَنَّ الْعَقْدَ وُضِعَ لِحُكْمِهِ اس لیے کیونکہ عقد جو ہے اس کو وضع کیا گیا ہے لِحُكْمِهِ اس کے حکم کے لیے، عقد کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ ویسے ہی زبان ہلانا ہے یا اس کا حکم حاصل کرنا ہے؟ حکم حاصل کرنا ہے، تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الْعَقْدَ وُضِعَ لِحُكْمِهِ عقد جو ہے اس کو وضع کیا گیا ہے اس کے حکم کے لیے، وَالْفُضُولِيُّ لَا يَقْدِرُ عَلَى إِثْبَاتِ الْحُكْمِ اور فضولی قادر نہیں ہے کہ وہ اس عقد کے حکم کو ثابت کر سکے، فَتَلْغُو تو لہٰذا وہ عقد کیا ہو جائے گا؟ لغو ہو جائے گا، بے کار چلا جائے گا، فضولی عقد کروائے گا بھی تو وہ عقد بے کار ہے باطل ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں۔
وَلَنَا اور ہماری دلیل یہ ہے: أَنَّ رُكْنَ التَّصَرُّفِ صَدَرَ مِنْ أَهْلِهِ، ہم کہتے ہیں ہم کہتے ہیں کہ فضولی جس کے لیے عقد کر رہا ہے دراصل اس کی مدد کر رہا ہے، انسان ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور خیر کے کاموں میں ہمیں ایک دوسرے کی مدد کا حکم دیا گیا ہے، تو فضولی دوسرے آدمی کی چیز بیچ کر گویا اس کی مدد کر رہا ہے یا اس کا نکاح کروا کے اس کی مدد کر رہا ہے اور یہ نکاح کروایا یہ کوئی اس پر لازم نہیں ہے، اگر اس کو اس میں فائدہ نظر آئے گا اجازت دے دے گا، اگر فائدہ نظر نہیں آئے گا تو اجازت نہیں دے گا، تو اس میں کوئی نقصان نہیں ہے، فضولی کے عقد کو اگر منعقد مان لیا جائے تو اس میں کوئی نقصان نہیں ہے اس میں تو اس آدمی کا فائدہ ہے بھئی، اگر فائدہ نہیں ہے نقصان ہے تو وہ اجازت ہی نہیں دے گا۔ تو کہتے ہیں: وَلَنَا اور ہماری دلیل یہ ہے أَنَّ رُكْنَ التَّصَرُّفِ صَدَرَ مِنْ أَهْلِهِ کہ رکن تصرف صَدَرَ صادر ہوا ہے مِنْ أَهْلِهِ یعنی من اہل التصرف جو تصرف کا اہل ہے، مُضَافًا إِلَى مَحَلِّهِ اس حال میں کہ یہ منسوب ہے الی محلہ اس تصرف کے محل کی طرف۔ بھئی دیکھیے آزاد، عاقل، بالغ آدمی اس کو شریعت نے اختیار دیا ہے وہ بیع و شراء بھی کر سکتا ہے اور عقد بھی کر سکتا ہے، اسی طرح اپنا نکاح بھی کر سکتا ہے، تو ہر قسم کے وہ عقد کر سکتا ہے، آزاد آدمی کو شریعت نے اختیار دیا ہے، تو معلوم ہوا آزاد، عاقل، بالغ آدمی فی ذاتہ اپنی ذات کے اعتبار سے اہل تصرف ہے، وہ تصرفات کر سکتا ہے، توجہ ہے؟ لہٰذا ایک آزاد، عاقل، بالغ آدمی نے جو خود اپنا نکاح کر سکتا ہے وہ کسی دوسرے کا نکاح بھی کروا سکتا ہے، توجہ ہے؟ تو فی ذاتہ اس میں تصرف کرنے کی صلاحیت موجود ہے، تو اس نے یہ تصرف کیا اور کس کے ساتھ نکاح کروایا؟ وہ جو نکاح کا محل ہے یعنی وہ عورت جس کے ساتھ اس دوسرے آدمی کا نکاح ہو بھی سکتا ہے کوئی محرم وغیرہ نہیں ہے، اس کی کوئی محرم نہیں، تو کس نے تصرف کیا؟ دیکھو نا فضولی، فضولی مثلاً وہ آپ کا نکاح کرواتا ہے آپ نے اس کو اجازت نہیں دی لیکن بہرحال وہ فضولی کیا ہے؟ آزاد ہے، عاقل ہے، بالغ ہے، فی ذاتہ اس میں صلاحیت ہے نکاح والا تصرف کرنے کی یا بیع و شراء والا تصرف کرنے کی، تو یہ جو فضولی ہے یہ اپنی ذات کے اعتبار سے اہل تصرف ہے، اس نے تصرف کیا اور تصرف بھی ایسی جگہ کیا جہاں آپ کا نکاح ہو سکتا ہے، یعنی وہ عورت آپ کی محرم وغیرہ نہیں ہے تو وہ آپ کے لیے اجنبیہ ہے، تو کس نے تصرف کیا؟ ایک اہل تصرف آدمی نے جس میں فی ذاتہ اپنی ذات کے اعتبار سے تصرف کی صلاحیت ہے اس نے تصرف کیا، اور کس جگہ پر تصرف کیا؟ محل تصرف میں تصرف کیا ہے یعنی وہ عورت آپ کے لیے محرم وغیرہ نہیں، تو جب ایک ایسا شخص جس میں تصرف کی صلاحیت ہے وہ تصرف کر رہا ہے اور ایسی جگہ تصرف کر رہا ہے کہ وہ تصرف کا محل بھی ہے وہ اس عورت سے آپ کا نکاح ہو بھی سکتا ہے اور نیز اس کے منعقد ہونے میں کوئی نقصان بھی نہیں ہے تو وہ عقد منعقد ہو جائے گا، وہ عقد منعقد ہو جائے گا البتہ موقوف رہے گا وہ صاحب تصرف کے اجازت پر، وہ موقوف رہے گا صاحب تصرف کی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو فضولی کیا ہے؟ وہ اہل تصرف ہے اپنی ذات کے اعتبار سے، وہ آپ کا نکاح کروا رہا ہے تو آپ کی اجازت پر موقوف رہے گا بھئی، اس میں آپ کا کوئی نقصان نہیں، آپ کو فائدہ نظر آیا تو آپ اجازت دے دیں گے آپ کو فائدہ نظر نہیں آیا تو آپ اس کو رد کر دیں گے۔
یہ معنی ہے: وَلَنَا ہماری دلیل یہ ہے أَنَّ رُكْنَ التَّصَرُّفِ کہ تصرف کا رکن جو ہے صَدَرَ وہ پیش آیا ہے مِنْ أَهْلِهِ یعنی اہل تصرف، کس سے پیش آیا ہے؟ تصرف کا جو اہل ہے، یعنی فضولی کیا ہے؟ آزاد، عاقل، بالغ، اور ہر آزاد عاقل بالغ کیا ہے؟ وہ ہر طرح کا عقد کر سکتا ہے۔ اور دیکھو انہوں نے کہا: أَنَّ رُكْنَ التَّصَرُّفِ، تصرف کا رکن، دیکھو عقد نکاح کس چیز کا نام ہے؟ ایجاب و قبول کا۔ کس کا؟ ایجاب بھی ہونا چاہیے قبول بھی ہونا چاہیے، تو فضولی نے تو دونوں نہیں کیے ہوں گے، یا تو اس نے آپ کی طرف سے ایجاب کیا ہوگا یا آپ کی طرف سے قبول کیا ہوگا، ایک رکن اس نے ادا کیا ہے دوسرا تو دوسرے فریق نے ادا کیا ہے، توجہ ہے؟ تو ایک رکن اس فضولی نے ادا کیا ہوگا تو یہ جو رکن تصرف ادا کیا ہے کس نے ادا کیا؟ اہل تصرف نے، یعنی وہ آزاد عاقل بالغ آدمی جس میں نکاح کرنے اور کروانے کی صلاحیت ہے اس نے کیا، اور کہاں پر کیا؟ محل تصرف میں جہاں پر وہ تصرف ہو سکتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو وَلَنَا ہماری دلیل یہ ہے کہ أَنَّ رُكْنَ التَّصَرُّفِ کہ تصرف کا رکن جو ہے صَدَرَ مِنْ أَهْلِهِ یہ پیش آیا ہے اہل تصرف کی طرف سے، یعنی وہ شخص جو اپنی ذات کے اعتبار سے تصرف کا اہل ہے یعنی آزاد ہے عاقل اور بالغ، تو رکن تصرف صادر ہوا ہے اہل تصرف سے، مُضَافًا إِلَى مَحَلِّهِ اور یہ رکن تصرف جو ہے اس کی نسبت کی گئی ہے الی محلہ محل تصرف کی طرف، یعنی وہاں جس کے ساتھ نکاح ہو سکتا ہے وہ آپ کی محرم وغیرہ نہیں ہے، وَلَا ضَرَرَ فِي انْعِقَادِهِ اور کوئی نقصان بھی نہیں ہے اس عقد کے منعقد ہونے میں، فَيَنْعَقِدُ مَوْقُوفًا تو لہٰذا یہ عقد منعقد ہو جائے گا موقوف ہو کر، حَتَّى إِذَا رَأَى الْمَصْلَحَةَ فِيهِ یہاں تک کہ وہ صاحب اجازت اگر اس میں کوئی مصلحت دیکھے گا يُنْفِذُهُ تو وہ اس کو کیا کر دے گا؟ نافذ کر دے گا، اجازت دے دے گا ورنہ رد کر دے گا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔
وَقَدْ يَتَرَاخَى حُكْمُ الْعَقْدِ عَنِ الْعَقْدِ
یہ امام شافعی رحمہ اللہ کے قول کا جواب دے رہے ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ فضولی کا عقد منعقد نہیں کیونکہ عقد کس لیے کیا جاتا ہے؟ عقد کے حکم کے لیے، اور فضولی تو عقد کا حکم ثابت نہیں کر سکتا لہٰذا اس کا یہ کرنا لغو ہوگا۔ ہم کہتے ہیں کہ یوں نہ کہیں کہ حکم پایا ہی نہیں جاتا، فضولی نے عقد کروایا اور فضولی عقد کا حکم ثابت نہیں کر سکتا، ہم کہتے ہیں کہ حکم یہاں معدوم نہیں ہے حکم موخر ہو گیا ہے اور بعض اوقات حکم عقد سے موخر ہو جاتا ہے۔ عقد پایا جاتا ہے لیکن اس کا حکم کیا ہو جاتا ہے؟ موخر ہو جاتا ہے۔ مثلاً دیکھو مثلاً دیکھو جب آپ کسی سے بیع کرتے ہیں، یاد رکھو جیسے ہی آپ ایجاب اور قبول کرتے ہیں بیع نافذ ہو گئی، مثلاً آپ نے گاڑی خریدی، ایجاب اور قبول کرتے ہی آپ گاڑی کے مالک بن گئے، اور یاد رکھو یہ بیع ایجاب اور قبول کرتے ہی یہ بیع نافذ ہو گئی اور لازم ہو گئی، نافذ ہو گئی اور لازم۔ لازم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اب آپ اس بیع سے رجوع نہیں کر سکتے، اب آپ اس بیع کو فسخ نہیں کر سکتے۔ ہاں بائع اور مشتری مل کر فسخ کرنا چاہیں وہ فسخ کر سکتے ہیں، میں اس کی بات نہیں کر رہا، دونوں میں سے ایک جو ہے وہ اس بیع کو فسخ نہیں کر سکتا، صرف بائع چاہتا ہے میں بیع کو فسخ کر دوں، نہیں بھئی وہ اکیلا فسخ نہیں کر سکتا، صرف مشتری چاہتا ہے میں بیع کو فسخ کر دوں، نہیں اکیلا مشتری نہیں کر سکتا، بیع لازم ہو چکی ہے۔ ہاں دونوں مل کر فسخ کرنا چاہیں بھئی پھر تو عقد ہی ان دونوں نے آپس میں کیا تھا، ان کی مرضی ہے فسخ کر دیں، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو لہٰذا بیع جب بھی ہوگی وہ لازم ہو جائے گی، کیا ہو جائے گی؟ لازم۔ کیا معنی لازم کا؟ کہ دونوں میں سے کوئی ایک اس کو فسخ دونوں مل کر فسخ کر سکتے ہیں دونوں میں سے کوئی ایک اکیلا اس کو فسخ نہیں کر سکتا۔ توجہ ہے؟ تو بیع ہونے کے بعد کیا ہو جاتی ہے؟ لازم۔ توجہ ہے؟ میں بار بار دہرا رہا ہوں یہ سارے مسئلے کی بنیاد اسی پر ہے۔ تو بیع ہو جانے کے بعد لازم ہو جاتی ہے، بائع اور مشتری میں سے صرف کوئی ایک اکیلا اس کو فسخ کرنا چاہے فسخ نہیں کر سکتا، ہاں دونوں مل کر فسخ کریں تو وہ کر سکتے ہیں کیونکہ ان کا اپنا عقد ہے آپس میں کیا تھا۔
اور پھر میں نے آپ کو یہاں ایک خیار شرط کے بارے میں بھی بتلایا تھا کہ بعض اوقات بائع یا مشتری میں سے کوئی ایک اپنے لیے اختیار رکھ لیتا ہے کہ میں اس بیع کو دو دن میں یا تین دن میں فسخ کرنا چاہوں تو فسخ کر سکتا ہوں۔ میں اس بیع کو فسخ کرنا چاہوں تو فسخ۔ تو بائع اور مشتری آپس میں کبھی کبھی بیع کر لیتے ہیں اور دونوں میں سے کوئی ایک جو ہے وہ اختیار رکھ لیتا ہے کہ میں دو یا تین دن میں سوچوں گا، بیع ہم کر لیتے ہیں لیکن اگر میری رائے نہ بنی تو میں اس بیع کو فسخ کر دوں گا، تو اس کو خیار شرط کہتے ہیں۔ یہ خیار بائع بھی رکھ سکتا ہے، مثلاً آپ نے ایک چیز بیچی ہے لیکن آپ کو پتہ نہیں کہ یہ میں نے صحیح فیصلہ کیا ہے یا صحیح فیصلہ نہیں کیا، آپ اپنے ساتھیوں سے مشورہ کرنا چاہتے ہیں تو آپ بیع تو کر لیتے ہیں لیکن دو تین دن کا اپنے لیے خیار رکھ لیتے ہیں تو آپ اس مدت کے اندر اس بیع کو فسخ کر سکتے ہیں، اور کبھی یہ خیار مشتری رکھ لیتا ہے تو وہ بھی اپنی مدت کے اندر اس بیع کو فسخ کر سکتا ہے۔ تو یاد رکھو جب کوئی شخص خیار شرط رکھ لیتا ہے بائع یا مشتری تو جب آپس میں بیع کر رہے ہیں خیار شرط کے ساتھ تو بیع منعقد ہو گئی، بیع کیا ہو گئی؟ منعقد تو ہو گئی لیکن یہ بیع لازم نہیں ہوئی، دیکھو دونوں میں سے ایک کے پاس ابھی بھی فسخ کا اختیار ہے، حالانکہ جب بھی بیع ہوتی ہے بیع نافذ بھی ہو جاتی ہے اور لازم بھی ہو جاتی ہے لیکن یہاں پر بیع کا جو حکم ہے کہ بیع لازم نہیں ہو رہی تو عقد تو پایا گیا لیکن خیار شرط کی وجہ سے بیع لازم نہیں، تو عقد پایا گیا لیکن عقد کا حکم ابھی تک نہیں آیا۔ یا یوں کہو امام صاحب کے نزدیک مشتری مبیع کا مالک بھی نہیں بنتا جب تک چاہے بائع خیار رکھے چاہے مشتری خیار رکھے، امام صاحب کے نزدیک جب خیار شرط رکھے چاہے بائع رکھے چاہے مشتری رکھے مشتری مبیع کا مالک ہی نہیں بنتا، اور بیع کس لیے کی جاتی ہے؟ تاکہ مشتری مبیع کا مالک بن جائے، تو دیکھو بیع پائی جا رہی ہے لیکن مشتری مالک ہی نہیں بن رہا۔
تو بات چل رہی تھی، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو بھی عقد کیا جاتا ہے وہ اس کا حکم حاصل کرنے کے لیے کیا جاتا ہے اور جب فضولی عقد کرے گا تو وہ تو حکم کو ثابت کرنے پر قادر ہی نہیں ہے، حکم جب ثابت نہیں ہوگا تو عقد کا فائدہ کیا ہوا؟ لہٰذا عقد بے کار چلا گیا، بے کار ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں، لیکن ہم کہتے ہیں کہ یوں نہ کہیں کہ عقد پایا گیا اور اس کا حکم نہیں پایا گیا بلکہ یوں کہیں کہ عقد پایا گیا اور اس کا حکم موخر ہو گیا، اور کبھی کبھار حکم موخر ہو جایا کرتا ہے۔ کبھی کبھار عقد کا حکم موخر ہو جاتا ہے جیسے خیار شرط کے ساتھ بیع کی جائے تو عقد تو پایا گیا لیکن اس کا حکم کیا ہے؟ موخر ہو گیا، مشتری اس کا مالک ہی نہیں بن رہا جب تک وہ اپنا خیار رد نہ کر دے یا وہ مدت نہ گزر جائے، بات سمجھ میں آ گئی؟ اور اسی طرح وہ بیع بھی لازم نہیں، تو لہٰذا عقد کے ہوتے ہی حکم کا فوراً پایا جانا ضروری نہیں، حکم کبھی کبھار موخر بھی ہو جاتا ہے، تو فضولی نے بھی جب نکاح کروایا ہے تو ہم یوں نہیں کہیں گے کہ حکم پایا ہی نہیں گیا، مشتری مبیع کا مالک ہی نہیں بنا یا وہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوا وہ میاں بیوی بنے ہی نہیں، بلکہ ہم کہیں گے یہ نکاح اجازت پر موقوف ہے، تو دیکھو عقد نکاح پایا گیا اور اس کا حکم موخر ہو گیا، جب وہ دونوں اجازت دے دیں گے تو حکم بھی آ جائے گا، تو معلوم ہوا عقد سے کبھی کبھار حکم موخر ہو جاتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی جیسے کس میں ہے؟ خیار شرط میں ہے، تو اسی طرح فضولی کے اندر بھی حکم موخر ہو گیا ہے، یوں نہ کہیں حکم پایا ہی نہیں گیا بلکہ حکم کیا ہو گیا؟ موخر ہو گیا ہے جیسے کس میں تھا؟ خیار شرط میں۔
تو کہتے ہیں: وَقَدْ يَتَرَاخَى حُكْمُ الْعَقْدِ عَنِ الْعَقْدِ اور کبھی کبھار عقد کا جو حکم ہوتا ہے وہ موخر ہو جاتا ہے عن العقد عقد سے، عقد ہو جاتا ہے لیکن اس کا حکم موخر ہو جاتا ہے وہ بعد میں آتا ہے جیسے کس میں ہے؟ خیار شرط میں ہے، تو جیسے خیار شرط میں حکم موخر ہو سکتا ہے اسی طرح فضولی جب عقد کروائے گا اس میں بھی حکم موخر ہو جائے گا۔
اچھا یہاں پر دیکھیے ایک اور قیمتی بات یہاں یاد رکھیے بھئی۔ یہ جو اوپر مسئلہ ذکر ہوا: وَتَزْوِيجُ الْعَبْدِ وَالأَمَةِ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوْلَاهُمَا مَوْقُوفٌ، میں نے کیا ترجمہ کیا؟ کہ غلام یا باندی کا نکاح آقا کے علاوہ کوئی اور فضولی کروا دے، توجہ ہے؟ جبکہ اردو کی جتنی شروحات اٹھائیں انہوں نے اس میں دو صورتیں داخل کی ہیں: کہ غلام یا باندی کا نکاح کوئی فضولی کروائے یا غلام یا باندی خود اپنا نکاح کر دیں، غلام یا باندی خود اپنا نکاح کر دیں تو بھی یہ کس کی اجازت پر موقوف ہے؟ آقا کی اجازت پر، تو غلام یا باندی کا نکاح چاہے فضولی کروائے چاہے یہ خود کروائیں دونوں صورتیں اس میں داخل کی ہیں اردو شروحات والوں نے، بات سمجھ میں آ گئی۔ لیکن عربی شروحات والوں نے یہ صورت ذکر نہیں کی بلکہ انہوں نے اس کی تفصیل زیادہ بیان ہی نہیں کی، لیکن ظاہر یہی ہے عبارت سے کہ یہاں غلام یا باندی خود اپنا نکاح کریں اس صورت کو داخل نہ کیا جائے، غلام یا باندی خود اپنا نکاح کریں وہ صورت یہاں داخل نہیں، اور دلیل کیا ہے؟ دلیل یہ جو صاحب ہدایہ نے آگے ذکر کیا، ہماری دلیل کیا ہے؟ وَلَنَا أَنَّ رُكْنَ التَّصَرُّفِ صَدَرَ مِنْ أَهْلِهِ کہ یہ جو تصرف کا رکن ہے یعنی ایجاب یا قبول یہ صادر ہوا ہے من اہلہ اہل تصرف سے، اہل تصرف کون تھا؟ فضولی، فضولی کس طرح تھا اہل تصرف؟ وہ آزاد تھا، عاقل تھا، بالغ تھا، اور جو بھی آزاد عاقل بالغ ہو وہ اہل تصرف ہوتا ہے اس کو تصرف کا اختیار ہوتا ہے، یہ صاحب ہدایہ دلیل ذکر فرما رہے ہیں دونوں مسئلوں کی، توجہ ہے؟ تو اگر غلام یا باندی اپنا نکاح خود کریں وہ اس کے اندر داخل نہیں ہو سکتا بھئی، غلام یا باندی میں تو اہلیت ہی نہیں ہے وہ تو اپنا نکاح کر ہی نہیں سکتے، اور صاحب ہدایہ کیا فرما رہے ہیں؟ صَدَرَ مِنْ أَهْلِهِ یعنی اہل تصرف، اہل تصرف نے ایجاب یا قبول کیا ہے، توجہ ہے؟ اور غلام یا باندی وہ تو اہل تصرف ہی نہیں، لہٰذا وہ صورت یہاں داخل نہیں کی جا سکتی کہ غلام یا باندی خود اپنا نکاح کروائیں، توجہ ہے؟ وہ یہاں داخل نہیں، اور نیز متن میں بھی دیکھیں: وَتَزْوِيجُ الْعَبْدِ، تزویج کا لفظ آیا، تزویج کا معنی ہوتا ہے کسی دوسرے کا نکاح کروانا، معلوم ہوا کوئی فضولی ہے جو غلام یا باندی کا نکاح کروا رہا ہے، اگر غلام یا باندی خود اپنا نکاح کریں تو پھر تزویج کا لفظ نہیں ہونا چاہیے تزوج کا لفظ ہونا چاہیے: تَزَوُّجُ الْعَبْدِ وَالأَمَةِ، غلام یا باندی کا خود نکاح کرنا یہ آقا کی اجازت پر موقوف ہے، توجہ ہے؟ معلوم ہوا یہ جو مسئلہ ہے اس کے اندر وہ صورت ذکر ہو رہی ہے کہ جب غلام یا باندی کا نکاح کوئی فضولی کروائے، خود غلام یا باندی اپنا نکاح کریں وہ یہاں ذکر نہیں، اس کو اس میں داخل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ایک تو متن میں تزویج کا لفظ آیا ہے، تزویج کا معنی ہوتا ہے دوسرے کا نکاح کروانا، معلوم ہوا کسی دوسرے نے ان کا نکاح کروایا ہے، اور نیز آگے جو دلیل ذکر کی کہ أَنَّ رُكْنَ التَّصَرُّفِ صَدَرَ مِنْ أَهْلِهِ کہ یہاں رکن تصرف اہل تصرف سے صادر ہوا ہے اور غلام اور باندی وہ تو اہل تصرف ہی نہیں ان کو تو نکاح کی اجازت ہی نہیں ہے ان میں تو اہلیت ہی نہیں ہے، توجہ ہے؟ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو غلام یا باندی اپنا نکاح کروائیں وہ اس عبارت کے تحت داخل نہیں، ہاں البتہ یاد رکھنا حکم اس کا بھی یہی ہے، وہ اس عبارت کے تحت تو داخل نہیں لیکن حکم اس کا بھی یہی ہے، غلام یا باندی اپنا نکاح کروائیں گے تو وہ آقا کی اجازت پر موقوف رہے گا، جیسے فضولی کسی کا نکاح کرواتا ہے حالانکہ فضولی کے پاس اختیار نہیں ہوتا وہ نکاح کروانے کا اسی طرح یہ غلام یا باندی جب اپنا نکاح کریں گے تو ان کے پاس اختیار نہیں ہے اپنا نکاح کروانے کا تو یہ بھی کیا ہوئے؟ فضولی ہی ہو گئے، کیا ہو گئے؟ فضولی ہو گئے، لہٰذا یہ خود اپنا نکاح کریں گے تو وہ بھی آقا کی اجازت پر موقوف رہے گا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو غلام یا باندی اپنا نکاح خود کرتے ہیں وہ اس مسئلے کے تحت داخل نہیں البتہ حکم اس کا بھی یہی ہے۔
آگے دیکھیے:
وَمَنْ قَالَ أَشْهِدُوا أَنِّي قَدْ تَزَوَّجْتُ فُلَانَةَ فَبَلَغَهَا الْخَبَرُ فَأَجَازَتْ فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِنْ قَالَ آخَرُ أَشْهِدُوا أَنِّي زَوَّجْتُهَا مِنْهُ فَبَلَغَهَا الْخَبَرُ فَأَجَازَتْ جَازَ، وَكَذَلِكَ إِنْ كَانَتِ الْمَرْأَةُ هِيَ الَّتِي قَالَتْ جَمِيعَ ذَلِكَ۔
فضولی کے بارے میں بات چل رہی ہے بھئی۔ بھئی دیکھو فضولی کسی کا نکاح کرواتا ہے یہاں آگے تین صورتیں ذکر ہوں گی:
ایک صورت یہ ہے کہ ایک ہی شخص ہے وہ دونوں طرف سے فضولی بن رہا ہے، توجہ ہے؟ تو ایک ہی شخص نکاح کا متولی بن گیا اور وہ دونوں طرف سے فضولی ہے۔
دوسری صورت: ایک ہی شخص دونوں طرف سے نکاح کا متولی بن رہا ہے لیکن ایک طرف سے وہ فضولی ہے اور ایک طرف سے مثلاً وہ اصیل ہے اپنا ہی نکاح کروا رہا ہے، توجہ ہے؟
اور تیسری صورت یہ ہے کہ دو الگ الگ فضولی نکاح کرواتے ہیں، کتنی صورتیں بن گئیں؟ تین۔
دو صورتوں میں نکاح کا متولی ایک ہی شخص ہے، اور پہلی صورت میں دونوں طرف سے وہ فضولی ہے، نہ لڑکی والوں نے اس کو کہا ہے نہ لڑکے والوں نے کہا ہے دونوں طرف سے فضولی ہے ایک ہی آدمی ہے، اور دوسری صورت کیا؟ ایک ہی شخص نکاح کا متولی ہے لیکن ایک طرف سے وہ فضولی ہے ایک طرف سے اصیل ہے یعنی اپنا نکاح وہ کر رہا ہے مثلاً کسی عورت سے حالانکہ اس عورت نے اس کو وکیل وغیرہ نہیں بنایا، یہ دو گواہوں کے سامنے کہتا ہے میں نے اپنا نکاح فلانی عورت سے کر دیا، توجہ ہے؟ اور تیسری صورت یہ ہے کہ دو فضولی ہیں دو الگ الگ افراد کی طرف سے، ایک عورت کی طرف سے فضولی ہے اور ایک مرد کی طرف سے فضولی ہے، تو اس میں یاد رکھنا، یاد رکھنا طرفین رحمہما اللہ فرماتے ہیں، طرفین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ جب نکاح کا متولی ایک ہی شخص ہو تو وہ کسی جانب سے فضولی نہیں ہونا چاہیے۔ جب نکاح کا متولی ایک ہی شخص ہو تو وہ کسی جانب سے فضولی نہیں، لہٰذا ایک ہی شخص دونوں جانب سے فضولی ہوا تو کہتے ہیں یہ بھی نکاح منعقد نہیں ہوگا، یا ایک شخص کسی عورت سے نکاح کرواتا ہے خود اصیل ہے اور عورت کی طرف سے کیا ہے؟ فضولی، تو ایک ہی شخص نکاح کا متولی ہوا، کہتے ہیں یہ بھی جائز نہیں، ہاں اگر اگر دونوں طرف سے فضولی ہیں تو پھر یہ نکاح منعقد ہو جائے گا اور ان کی اجازت پر موقوف رہے گا۔ توجہ ہے؟ یا چوتھی صورت دیکھ لو، ایک شخص اپنا نکاح کروانا چاہ رہا ہے کسی عورت سے اور عورت کی طرف سے ایک فضولی ہے، یہ شخص اصیل ہے اپنا نکاح کروا رہا ہے اور عورت کی طرف سے ایک فضولی ہے، اس نے ایجاب کیا اور فضولی نے قبول کر لیا، یہ کیا کہتا ہے میں نے فلانی سے اپنا نکاح کر دیا اور وہ دوسرا شخص کیا کہتا ہے میں نے فلانی کی طرف سے قبول کر لیا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو گویا کل چار صورتیں ہو گئیں بھئی۔ کیا؟ یا تو ایک ہی فضولی ہوگا دونوں جانب سے، یہ بھی طرفین کے نزدیک جائز نہیں، جب ایک ہی شخص نکاح کا متولی ہو تو وہ کسی طرف سے فضولی نہیں ہونا چاہیے، یا وہ اصیل ہونا چاہیے یا وکیل ہونا چاہیے یا ولی ہونا چاہیے بھئی، توجہ ہے؟ لہٰذا ایک ہی شخص دونوں جانب سے نکاح کا متولی ہو تو کسی طرف سے وہ فضولی نہ ہو، لہٰذا اگر ایک ہی شخص دونوں طرف سے فضولی ہے یہ صورت بھی طرفین کے نزدیک جائز نہیں، اگر ایک ہی شخص نکاح کا متولی ہے ایک طرف سے تو اصیل ہے وہ اپنا نکاح کر رہا ہے اور دوسری طرف سے وہ کیا ہے؟ فضولی ہے تو بھی اس صورت میں بھی یہ نکاح جائز نہیں، یہ نکاح منعقد نہیں ہوگا۔ ہاں اگر دو فضولی ہیں دونوں طرف سے الگ الگ اور وہ ایجاب و قبول کرتے ہیں تو طرفین فرماتے ہیں یہ صورت صحیح ہے، یہ ایجاب و قبول دونوں پائے جا رہے ہیں، یہ نکاح منعقد ہوگا البتہ موقوف رہے گا جن کا نکاح کروایا گیا ان کی اجازت پر۔ اور چوتھی صورت یہ ہے کہ ایک طرف سے اصیل ہے اپنا نکاح کروا رہا ہے اور دوسری طرف سے قبول کرنے والا ایک فضولی ہے بھئی، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص جب نکاح کا متولی ہو تو وہ فضولی ہو سکتا ہے۔ طرفین کیا فرماتے ہیں؟ جب ایک شخص نکاح کا متولی ہو تو وہ فضولی نہیں ہونا چاہیے، دونوں طرف سے بھی فضولی نہ ہو اور ایک طرف سے بھی فضولی نہ ہو، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، جب ایک شخص نکاح کا متولی بن رہا ہو تو وہ ایک طرف سے یا دونوں طرف سے فضولی بھی ہو سکتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔
دیکھیے بھئی: وَمَنْ قَالَ اور جس شخص نے کہا: أَشْهِدُوا، بھئی شَهِدَ يَشْهَدُ کا معنی ہے گواہ بننا، اور أَشْهَدَ يُشْهِدُ کا معنی ہے گواہ بنانا، کوئی شخص باقی لوگ جو اس کے پاس موجود ہیں ان کو گواہ بنا رہا ہے، توجہ ہے؟ ایک شخص اپنا نکاح کسی عورت سے کر رہا ہے اور جو اس کے آس پاس بیٹھے ہیں ان کو مخاطب ہو کر کیا کہتا ہے؟ أَشْهِدُوا تم لوگ کیا بن جاؤ؟ گواہ بن جاؤ۔ تو وَمَنْ قَالَ اور جس شخص نے کہا: أَشْهِدُوا تم لوگ گواہ بن جاؤ أَنِّي قَدْ تَزَوَّجْتُ فُلَانَةَ کہ تحقیق میں نے فلانی عورت سے نکاح کر لیا، فلانی عورت سے نکاح کر لیا، اب دیکھو یہ کس کا نکاح کر رہا ہے؟ اپنا، تو خود تو کیا ہوا؟ اصیل، اور عورت کی طرف سے کیا ہوا؟ فضولی ہوا، تو ایک ہی شخص نکاح کا متولی ہے اور ایک جانب سے اصیل ہے تو دوسری جانب سے فضولی، تو طرفین کیا فرماتے ہیں کہ یہ نکاح منعقد نہیں ہوگا، توجہ ہے؟ تو کہتے ہیں: وَمَنْ قَالَ اور جس شخص نے کہا أَشْهِدُوا تم لوگ گواہ ہو جاؤ أَنِّي قَدْ تَزَوَّجْتُ فُلَانَةَ کہ میں نے تحقیق فلانی عورت سے نکاح کر لیا، معلوم ہوا دونوں طرف سے اس نے ایک ہی جملہ بولا ہے کوئی قبول کرنے والا اور نہیں ہے، فَبَلَغَهَا الْخَبَرُ پھر یہ خبر اس عورت کو پہنچی فَأَجَازَتْ اس نے اجازت دے دی فَهُوَ بَاطِلٌ تو یہ نکاح کیا ہے؟ باطل۔ اگرچہ وہ اجازت دے رہی ہے لیکن طرفین کیا فرماتے ہیں جب ایک ہی شخص نکاح کا متولی ہو دونوں طرف سے تو اس کو فضولی نہیں ہونا چاہیے اور یہ تو ایک جانب سے کیا تھا؟ فضولی تھا لہٰذا اجازت وہ دے رہی ہے پھر بھی نہیں وہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوا، بات سمجھ میں آ گئی۔
دوسری صورت: ایک آدمی نے کہا تم لوگ گواہ ہو جاؤ میں نے فلانی عورت سے اپنا نکاح کر دیا، اسی مجلس میں ایک اور آدمی بولتا ہے کہتا ہے کہ تم لوگ گواہ ہو جاؤ میں نے فلانی کا نکاح اس آدمی سے کر دیا، اب ایک اصیل ہے اپنا نکاح کروا رہا ہے اور عورت کی طرف سے کون آ گیا؟ فضولی آ گیا، لہٰذا اب یہ نکاح منعقد ہوگا البتہ اس عورت کی اجازت پر موقوف ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ قَالَ آخَرُ اور اگر کسی دوسرے آدمی نے اسی مجلس میں کہا، پہلے نے کیا کہا تھا؟ أَشْهِدُوا أَنِّي قَدْ تَزَوَّجْتُ فُلَانَةَ، وَإِنْ قَالَ آخَرُ اور اگر دوسرے آدمی نے جواب میں کہا: أَشْهِدُوا أَنِّي زَوَّجْتُهَا مِنْهُ کہ تم لوگ گواہ ہو جاؤ میں نے اس عورت کا اس آدمی سے نکاح کر دیا، فَبَلَغَهَا الْخَبَرُ تو اس عورت کو یہ خبر پہنچی فَأَجَازَتْ تو اس عورت نے اجازت دے دی جَازَ تو یہ نکاح جائز ہے۔ توجہ ہے؟ آگے دلیل آئے گی، دلیل آئے گی۔
طرفین فرماتے ہیں کہ عقد نکاح کے لیے ایجاب بھی چاہیے اور قبول بھی چاہیے۔ پہلے مسئلے میں وہ شخص نکاح کا ایک ہی شخص نکاح کی دونوں جانب کا متولی تھا، اپنے لیے اصیل تھا تو عورت کے لیے کیا تھا؟ فضولی، لہٰذا جب اس نے کہا میں نے فلانی سے اپنا نکاح کر دیا تو یہ تو صرف ایجاب ہے، یہ تو صرف ایجاب ہے اور نکاح صرف ایجاب سے منعقد ہوتا ہے یا قبول بھی چاہیے؟ قبول، تو اس مجلس میں کوئی قبول کرنے والا نہیں ہے، بعد میں وہ عورت جا کر اجازت دے رہی ہے کسی اور وقت کے اندر، تو بھئی ایجاب تو مجلس تک رہتا ہے مجلس کے بعد ایجاب نہیں رہتا لہٰذا اب وہ اجازت دے بھی تو بھی نکاح منعقد نہیں، لیکن جبکہ دوسری صورت جب ایک آدمی نے کہا میں نے فلانی سے نکاح کر دیا اپنا، اصیل ہے، اور دوسری طرف سے ایک فضولی بولا کہ میں نے اس عورت کا تم سے نکاح کر دیا تو ایجاب بھی پایا گیا اور قبول بھی پایا گیا، لہٰذا یہ نکاح منعقد تو ہوا البتہ اس عورت کی اجازت پر موقوف ہو گیا، اور پھر اس عورت نے اجازت دے دی تو اب نکاح کیا ہو گیا؟ منعقد ہو گیا، نافذ ہو گیا، یہ میاں بیوی بن گئے، بات سمجھ میں آ گئی۔ یہ معنی ہے: فَبَلَغَهَا الْخَبَرُ تو اس عورت کو خبر پہنچی فَأَجَازَتْ تو اس نے اجازت دے دی جَازَ تو یہ نکاح جائز ہے یعنی یہ نکاح جائز ہو گیا۔
وَكَذَلِكَ إِنْ كَانَتِ الْمَرْأَةُ هِيَ الَّتِي قَالَتْ جَمِيعَ ذَلِكَ
اور اسی طرح ہوگا مسئلہ اگر وہ عورت ہے جس نے یہ سارا کچھ کہا ہے، یہ سارا کہنے والی اگر عورت ہے، مثلاً عورت کے پاس کئی افراد بیٹھے ہوئے ہیں اور عورت ان کے سامنے کہتی ہے کہ گواہ رہو میں نے فلاں آدمی سے اپنا نکاح کر دیا، توجہ ہے؟ اب دیکھو یہ اپنا نکاح کر رہی ہے تو اصیل ہے اور اس آدمی کی طرف سے یہ کیا ہے عورت؟ فضولی ہے، اس نے تو اس کو نکاح کا نہیں کہا، لہٰذا بعد میں وہ آدمی اجازت دے بھی تو یہ نکاح منعقد نہیں ہوگا کیونکہ ایک ہی شخص نکاح کا متولی ہوا دونوں طرف سے، وہ عورت خود اصیل ہے اور آدمی کی طرف سے کیا ہے؟ فضولی، اور جب ایک ہی شخص نکاح کا متولی ہو تو اس کو کسی طرف سے فضولی نہیں ہونا چاہیے حالانکہ یہ تو ایک طرف سے فضولی ہے۔ لیکن اگر اسی عورت نے یوں کہا کہ تم لوگ گواہ ہو جاؤ میں نے اس آدمی سے اپنا نکاح کر دیا، اور مجلس کے اندر ہی ایک آدمی کہتا ہے کہ تم لوگ گواہ ہو جاؤ میں نے اس آدمی کی طرف سے نکاح قبول کر لیا، تو اب عورت ہوئی اصیل اور وہ آدمی کیا ہوا؟ فضولی، وہ آدمی کیا ہوا؟ فضولی، تو یہ دونوں الگ الگ افراد ہیں، تو اس صورت میں یہ نکاح موقوف ہو کر منعقد ہو گیا، اب وہ آدمی اجازت دے دے گا تو نافذ بھی ہو جائے گا یہ میاں بیوی بن جائیں گے اور اگر وہ اجازت نہیں دے گا تو نافذ نہیں ہوگا۔ یہ معنی ہے: وَكَذَلِكَ إِنْ كَانَتِ الْمَرْأَةُ هِيَ الَّتِي قَالَتْ جَمِيعَ ذَلِكَ اور اسی طرح ہے اگر وہ عورت ہے جس نے یہ سارا کچھ کہا ہے، وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى اور یہ طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔
اچھا بھئی یہاں اوپر متن میں آیا: وَمَنْ قَالَ أَشْهِدُوا أَنِّي قَدْ تَزَوَّجْتُ فُلَانَةَ، بھئی یاد رکھو یہ فُلَانَةَ یہ غیر منصرف ہے۔ یہ غیر منصرف ہے، عموماً طلباء اس کو منصرف پڑھتے ہیں فُلَانَةً تنوین کے ساتھ پڑھتے ہیں بھئی، آپ کی کتاب میں تنوین ہے کہ نہیں فُلَانَةً پر؟ بعض کتابوں میں باقاعدہ تنوین لکھی گئی ہے تو یاد رکھو یہ رائج غلطی ہے بھئی، یہ غیر منصرف ہے یہ منصرف نہیں۔ توجہ ہے؟ اور اس میں دو سبب ہیں غیر انصراف کے: ایک تو یہ علم کے درجے میں ہے، یاد رکھو یہ فلاں اور فلانہ یہ کنایہ ہوتا ہے علم سے۔ جب آپ کسی کے سامنے کسی کا نام نہیں ذکر کرنا چاہتے تو پھر فلاں یا فلانہ کا لفظ بولتے ہیں، مثلاً آپ اپنے ساتھی سے زید کے بارے میں بات کر رہے تھے کہ زید میرے پاس آیا تھا میں نے اس کا اکرام کیا اور پھر زید نے یوں کہا اور میں نے یوں کہا، تو آپ زید کا ذکر کر رہے ہیں، اتنے میں ایک تیسرا آدمی آپ کی مجلس میں آ گیا اب آپ اس کو نہیں بتانا چاہتے کہ میں زید کی بات کر رہا تھا تو اب آپ زید کے بجائے فلاں کہیں گے، تو پھر فلاں نے یوں کہا اور فلاں نے یوں کہا اور میں نے یہ جواب دیا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اب دیکھو اب آپ وہ نام کے بجائے فلاں کا لفظ استعمال کر رہے ہیں، تو یہ جو فلاں اور فلانہ کے لفظ ہیں یہ کنایہ ہوتے ہیں علم سے، علم کی جگہ ان کو استعمال کیا جاتا ہے، تو جب یہ علم سے کنایہ ہیں تو یہ علم ہی کے درجے میں ہیں، کس کے درجے میں؟ علم، چنانچہ اسی لیے ان پر الف لام بھی داخل نہیں کرتے، فلاں اور فلانہ پر الف لام بھی داخل نہیں کرتے تو یہ علم کے درجے میں ہے۔ تو بات چل رہی تھی فُلَانَةَ کی، میں نے بتایا ایک تو یہ اس میں علمیت ہے یہ علم کے درجے میں ہے اور دوسرا اس میں یہ تائے تانیث بھی ساتھ جڑی ہوئی ہے تو دو سبب آ گئے علمیت اور تانیث اس لیے یہ غیر منصرف ہے، تو یہ غیر منصرف ہے اور حوالہ بھی یاد رکھو بھئی، حوالہ بھی یاد رکھو، علامہ رضی علامہ رضی جنہوں نے قافیہ کی عظیم شرح لکھی ہے بھئی، قافیہ کی دو شرحیں نہایت عظیم ہیں: ایک شرح جامی اور ایک علامہ رضی کی شرح ہے جو قافیہ کی بڑی گہری باتیں وہ ذکر فرماتے ہیں۔ تو علامہ رضی ذکر فرماتے ہیں اس بات کو کہ یہ فُلَانَةَ غیر منصرف ہے اور وہ یہ ذکر فرماتے ہیں قافیہ کی جو شرح ہے اس میں دوسری جلد میں صفحہ 110 پر، دوسری جلد میں صفحہ 110 پر وہ یہ ذکر فرماتے ہیں اور آج کل تو مختلف مکتبوں کے چھاپے ہوتے ہیں تو ہو سکتا ہے صفحے آگے پیچھے ہو جائیں کسی کو حوالہ نہ ملے تو یاد رکھیں کہ قافیہ کے اندر جہاں صاحب قافیہ معرفہ اور نکرہ کی بحث شروع کرتے ہیں وہاں وہ علم کی تعریف کرتے ہیں، معرفہ کے اندر وہ کس کو ذکر کرتے ہیں؟ علم کو، علم کی تعریف کرتے ہیں تو اس مقام پر جو علامہ رضی نے شرح کی ہے علم کی، علم کے بارے میں باتیں ذکر کی ہیں وہاں انہوں نے یہ ذکر فرمایا ہے کہ فُلَانَةَ یہ غیر منصرف ہے، اور نیز یہ بھی ذکر فرمایا ہے کہ چونکہ معرفہ ہے فلاں اور فلانہ لہٰذا اس لیے ان پر الف لام بھی داخل نہیں ہوتا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو آپ نے اس پر تنوین نہیں پڑھنی غیر منصرف پڑھنا ہے بھئی: أَشْهِدُوا أَنِّي قَدْ تَزَوَّجْتُ فُلَانَةَ، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
جی آگے دیکھیے: وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى، کہتے ہیں یہ سارا جو ہم نے ذکر کیا یہ طرفین کے نزدیک ہے۔ پہلی صورت میں جب اس آدمی دونوں طرف سے نکاح کا متولی ہوا تھا خود اصیل تھا اور عورت کی طرف سے فضولی تھا تو وہ نکاح باطل ہوگا، اور دوسری صورت میں جب دو الگ الگ فضولی ہیں نکاح منعقد ہو جائے گا، یہ کس کے نزدیک ہے؟ طرفین کے نزدیک۔
وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ: إِذَا زَوَّجَتْ نَفْسَهَا غَائِبًا فَبَلَغَهُ فَأَجَازَ جَازَ
اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب عورت نے نکاح کیا اپنی ذات کا غَائِبًا کسی غائب آدمی سے فَبَلَغَهُ تو اس آدمی کو یہ خبر پہنچی فَأَجَازَ تو اس آدمی نے اجازت دے دی جَازَ تو یہ نکاح جائز ہے۔ عورت نے نکاح کیا خود کیا ہے؟ کس کا نکاح کر رہی ہے عورت؟ اپنا، تو خود کیا ہوئی؟ اصیل، اور اس آدمی کی طرف سے کیا ہوئی؟ فضولی، تو امام ابو یوسف فرماتے ہیں نکاح منعقد ہو جائے گا۔ اسی طرح اگر مرد تھا، توجہ ہے؟ مرد نے اگر نکاح کیا کس کا نکاح کیا؟ اپنا، تو خود کیا ہوا؟ اصیل، اور عورت کی طرف سے وہی مرد کیا ہے؟ فضولی۔ توجہ ہے؟ بھئی طرفین تو فرماتے ہیں ایک ہی شخص جب نکاح کا متولی ہو تو اس کو فضولی نہیں ہونا چاہیے کسی طرف سے بھی، اگر وہ دونوں طرف سے فضولی ہوا تو بھی نکاح باطل، اگر ایک طرف سے فضولی ہوا تو بھی نکاح باطل، لیکن امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک مرد نے کسی عورت سے نکاح کیا ہے اور وہی مرد نکاح کی دونوں جانب کا متولی ہے اپنا نکاح کر رہا ہے عورت کے ساتھ، تو خود ہوا اصیل عورت کے لیے کیا ہوا؟ فضولی، تو امام ابو یوسف فرماتے ہیں یہ نکاح منعقد ہو جائے گا وہ عورت اجازت دے گی تو نکاح جائز ہو جائے گا، اور اسی طرح اگر عورت نے کسی آدمی سے نکاح کیا عورت اپنے لیے کیا ہوئی؟ اصیل اور اس آدمی کے لیے کیا ہوئی؟ فضولی اور وہ آدمی بعد میں اجازت دے دیتا ہے تو یہ نکاح منعقد ہو جائے گا۔ طرفین کے نزدیک منعقد نہیں ہوگا اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک منعقد ہو جائے گا۔
تو یہ جو انہوں نے کہا نا: وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ: إِذَا زَوَّجَتْ نَفْسَهَا غَائِبًا، عورت نے اپنا نکاح کیا کسی غائب آدمی سے، تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے جو عورت کے مسئلے میں یہ بتلا رہے ہیں، پیچھے چونکہ بات آخر میں عورت کی چل رہی تھی بات سمجھ میں آ گئی؟ عورت ہی اصیل بھی ہے اور فضولی بھی ہے تو اس کو ذکر کر دیا، مرد میں بھی یہی حکم ہے، مرد ہی اصیل بھی ہو اور فضولی بھی ہو تو پھر وہ نکاح کیا ہو جائے گا؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک منعقد ہو جائے گا۔
وَحَاصِلُ هَذَا: أَنَّ الْوَاحِدَ لَا يَصْلُحُ فُضُولِيًّا مِنَ الْجَانِبَيْنِ، أَوْ فُضُولِيًّا مِنْ جَانِبٍ وَأَصِيلًا مِنْ جَانِبٍ عِنْدَهُمَا خِلَافًا لَهُ
اور اس اختلاف کا حاصل یہ ہے أَنَّ الْوَاحِدَ لَا يَصْلُحُ کہ ایک ہی آدمی طرفین کے نزدیک ایک ہی آدمی لَا يَصْلُحُ وہ صلاحیت نہیں رکھتا فُضُولِيًّا مِنَ الْجَانِبَيْنِ کہ وہ فضولی بنے دونوں طرف سے۔ ادھر دیکھیے میں نے کیا ضابطہ بتایا؟ ایک ہی آدمی اگر نکاح کا متولی بنے گا تو وہ کسی ایک طرف سے بھی فضولی نہیں، اگر وہ ایک طرف سے فضولی ہوا یا دونوں طرف سے فضولی ہوا تو یہ نکاح منعقد نہیں ہوگا، وہی بیان کر رہے ہیں: وَحَاصِلُ هَذَا اور اس اختلاف کا حاصل یہ ہے کہ أَنَّ الْوَاحِدَ لَا يَصْلُحُ فُضُولِيًّا مِنَ الْجَانِبَيْنِ اور اس اختلاف کا حاصل یہ ہے کہ ایک آدمی وہ صلاحیت نہیں رکھتا کہ وہ فضولی بن جائے دونوں جانب سے، أَوْ فُضُولِيًّا مِنْ جَانِبٍ وَأَصِيلًا مِنْ جَانِبٍ یا ایک جانب سے تو وہ فضولی بن رہا ہو اور ایک جانب سے وہ اصیل بن رہا ہو، یہ وہ صلاحیت نہیں رکھتا عِنْدَهُمَا طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک، خِلَافًا لَهُ بخلاف امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے، ان کے نزدیک ایک ہی آدمی دونوں جانب سے فضولی بن سکتا ہے یا ایک جانب سے اصیل اور دوسری جانب سے فضولی ایک ہی آدمی بن سکتا ہے بھئی۔
آگے دیکھیے بھئی:
وَلَوْ جَرَى الْعَقْدُ بَيْنَ الْفُضُولِيَّيْنِ أَوْ بَيْنَ الْفُضُولِيِّ وَالأَصِيلِ جَازَ بِالإِجْمَاعِ، هُوَ يَقُولُ: لَوْ كَانَ مَأْمُورًا مِنَ الْجَانِبَيْنِ يَنْفُذُ، فَإِذَا كَانَ فُضُولِيًّا يَتَوَقَّفُ، وَصَارَ كَالْخُلْعِ وَالطَّلَاقِ وَالإِعْتَاقِ عَلَى مَالٍ، وَلَهُمَا: أَنَّ الْمَوْجُودَ شَطْرُ الْعَقْدِ لِأَنَّهُ شَطْرٌ حَالَةَ الْحَضْرَةِ فَكَذَا عِنْدَ الْغَيْبَةِ، وَشَطْرُ الْعَقْدِ لَا يَتَوَقَّفُ عَلَى مَا وَرَاءِ الْمَجْلِسِ كَمَا فِي الْبَيْعِ، بِخِلَافِ الْمَأْمُورِ مِنَ الْجَانِبَيْنِ لِأَنَّهُ يَنْتَقِلُ كَلَامُهُ إِلَى الْعَاقِدَيْنِ، وَمَا جَرَى بَيْنَ الْفُضُولِيَّيْنِ عَقْدٌ تَامٌّ، وَكَذَا الْخُلْعُ وَأُخْتَاهُ لِأَنَّهُ تَصَرُّفُ يَمِينٍ مِنْ جَانِبِهِ حَتَّى يَلْزَمُ فَيَتِمُّ بِهِ۔
اور اگر یہ عقد جاری ہوا دو فضولیوں کے درمیان، جی اگر دو فضولیوں میں ہو پھر عقد ہوگا یا نہیں؟ پھر تو عقد ہو جائے گا، ابھی تو بتایا ایک ہی آدمی اگر نکاح کا متولی ہو پھر اس کو کسی طرف سے فضولی نہیں ہونا چاہیے، لیکن اگر دونوں فضولی الگ الگ ہیں پھر تو ایک آدمی نکاح کا متولی نہ ہوا، پھر تو نکاح منعقد ہو جائے گا البتہ اجازت لینا پڑے گی۔ تو یہ معنی ہے: وَلَوْ جَرَى الْعَقْدُ بَيْنَ الْفُضُولِيَّيْنِ اور اگر یہ عقد جاری ہوا دو فضولیوں کے درمیان، أَوْ بَيْنَ الْفُضُولِيِّ وَالأَصِيلِ یا ایک فضولی اور ایک اصیل، مثلاً آدمی نے کہا تھا میں نے اپنا نکاح کر دیا تو یہ ہے اصیل، اور اسی مجلس میں ایک آدمی کہتا ہے میں نے اس عورت کی طرف سے قبول کر لیا تو یہ کیا ہوا؟ فضولی، ایک اصیل ہے اور ایک فضولی ہے پھر تو الگ الگ ہیں دونوں، پھر تو نکاح منعقد ہو جائے گا البتہ اجازت پر موقوف رہے گا۔ یہ معنی ہے، پھر دیکھیے عبارت: کہتے ہیں وَلَوْ جَرَى الْعَقْدُ بَيْنَ الْفُضُولِيَّيْنِ اور یہ اگر عقد جاری ہوا دو فضولیوں کے درمیان أَوْ بَيْنَ الْفُضُولِيِّ وَالأَصِيلِ یا ایک فضولی ہے اور ایک اصیل ہے ان کے درمیان یہ عقد جاری ہوا جَازَ بِالإِجْمَاعِ تو یہ بالاتفاق جائز ہے۔ بالإجماع کا کیا معنی؟ ہمارے تینوں ائمہ کا اتفاق مراد ہے، بالإجماع أَيْ بالاتفاق بھئی، تو یہ بالاتفاق ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک جائز ہے۔
هُوَ يَقُولُ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں اب ان کی دلیل آ گئی: لَوْ كَانَ مَأْمُورًا مِنَ الْجَانِبَيْنِ يَنْفُذُ اگر یہ مامور ہوتا دونوں جانب سے تو نکاح نافذ ہو جاتا۔ ادھر دیکھیے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل بھئی: امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں جیسے ایک شخص جب دونوں طرف سے وکیل بن جائے ایک ہی آدمی تو وہ دونوں طرف سے نکاح کا متولی ہوا، اب وہ دو گواہوں کے سامنے کہہ دے میں نے فلاں کا فلاں سے نکاح کر دیا تو اس سے کیا ہوتا ہے؟ نکاح منعقد ہو جاتا ہے۔ تو جیسے ایک آدمی جب دونوں طرف سے وکیل ہوتا ہے وہ جب ایک جملہ بولتا ہے کہ میں نے فلاں کا فلانی سے نکاح کر دیا تو وہ نکاح منعقد ہو جاتا ہے، اسی طرح اگر ایک ہی شخص دونوں جانب سے فضولی ہو کر یہ جملہ کہے گا تو نکاح اسی طرح موقوف رہے گا جیسے فضولی کا نکاح منعقد ہو کر کیا ہوتا ہے؟ موقوف رہتا ہے، تو یہ نکاح بھی منعقد ہو کر موقوف رہے گا۔ کیا بات ہوئی؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ اس فضولی کو قیاس کرتے ہیں وکیل پر۔ ایک ہی شخص مثلاً دونوں طرف سے وکیل بن گیا نکاح کا، لڑکی والوں نے بھی زید کو اپنا وکیل بنایا لڑکے والوں نے بھی زید کو اپنا وکیل بنایا، تو یہ دیکھو دونوں جانب سے وکیل ہوا، دونوں جانب سے مامور ہوا۔ امر کا کیا معنی؟ حکم، مامور جس کو حکم دیا گیا ہے یعنی جس کو وکیل بنایا گیا۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک ہی شخص دونوں طرف سے وکیل ہو کر نکاح کا متولی ہو سکتا ہے اور یہ نکاح کرواتا ہے تو جب گواہوں کے سامنے یہ والا وکیل صرف اتنا کہہ دے میں نے فلانی کا فلاں سے نکاح کر دیا تو وہ نکاح منعقد ہو جاتا ہے۔ تو دونوں طرف سے ایک ہی آدمی جب مامور ہو یعنی وکیل ہو تو اس کے کہنے سے نکاح منعقد ہو جاتا ہے تو اسی طرح اگر دونوں طرف سے ایک ہی آدمی فضولی بنے گا تو نکاح پھر بھی ہونا چاہیے البتہ اجازت پر موقوف رہے گا، بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: هُوَ يَقُولُ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لَوْ كَانَ مَأْمُورًا مِنَ الْجَانِبَيْنِ کہ اگر یہ شخص جو نکاح کروانے والا ہے یہ اگر مامور ہو دونوں جانب سے یعنی دونوں طرف سے اس کو حکم دیا گیا ہے، لڑکی والوں نے بھی اس کو حکم دیا ہماری لڑکی کا نکاح کروا دو اور لڑکے والوں نے بھی حکم دیا کہ اس لڑکی سے اس لڑکے کا نکاح کروا دو تو یہ وکیل جو ہے: لَوْ كَانَ مَأْمُورًا مِنَ الْجَانِبَيْنِ اگر یہ نکاح کروانے والا دونوں جانب سے مامور ہوا یعنی وکیل ہوا يَنْفُذُ تو اس کے کہنے سے جیسے نکاح نافذ ہو جاتا ہے فَإِذَا كَانَ فُضُولِيًّا تو اگر یہ دونوں طرف سے فضولی ہے يَتَوَقَّفُ تو اس کا نکاح موقوف ہونا چاہیے، ایک شخص دونوں جانب سے نکاح کا متولی ہو سکتا ہے، اگر دونوں طرف سے وکیل ہے تو نکاح نافذ ہو جائے گا اور اگر دونوں طرف سے فضولی ہے تو نکاح موقوف رہے گا، نکاح ہونا چاہیے، توجہ ہے؟ معلوم ہوا وہ اس فضولی کو کس پر قیاس کرتے ہیں؟ وکیل پر، جیسے وکیل دونوں جانب سے ایک ہی شخص متولی ہو سکتا ہے اسی طرح فضولی بھی ایک ہی شخص دونوں جانب سے ہو سکتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔
وَصَارَ كَالْخُلْعِ وَالطَّلَاقِ وَالإِعْتَاقِ عَلَى مَالٍ اور یہ اسی طرح ہو گیا جیسے خلع ہے اور طلاق ہے اور اعتاق ہے علی مال۔ بھئی ان کو سمجھ لیں: خلع، خُلْعٌ۔ خلع اس کو کہتے ہیں کہ عورت جو ہے وہ خاوند سے اپنی جان چھڑاتی ہے مال دے کر۔ کوئی عورت ہے اپنے خاوند سے تنگ ہے وہ اس سے جان چھڑانا چاہتی ہے تو عورت اس کو کہتی ہے کہ مجھ سے خلع کر لو میں تمہیں پانچ لاکھ روپے دے دیتی ہوں، تو اس کو خلع کہتے ہیں، یعنی عورت کا پیسے دے کر خاوند سے اپنے آپ کو چھڑوانا۔ اور یاد رکھو اس میں طلاق کا لفظ استعمال نہیں ہوتا، بس عورت کہے گی میں خلع کرتی ہوں یا خاوند کہہ دیتا ہے میں کیا کرتا ہوں؟ خلع کرتا ہوں، تو اس کے اندر ہمیشہ عورت پر مال آتا ہے اور اس میں طلاق کا لفظ نہیں ہوتا، ہاں البتہ ہوتا یہ طلاق کے حکم میں ہے۔ جب جدائی آ جائے گی عورت نے کہا اور مرد نے قبول کر لیا، عورت نے کیا کہا کہ مجھ سے دس لاکھ روپے لے لو اور مجھ سے خلع کر لو، خاوند نے کہا مجھے قبول ہے، جیسے ہی خاوند نے قبول کہا ساتھ ہی مرد اور عورت میں جدائی آ گئی، اب اس عورت کے ذمے وہ پیسے آ گئے وہ اس کو ادا کرنے پڑیں گے۔ توجہ ہے؟ تو اس کے اندر دیکھو طلاق کا لفظ بولا تو نہیں گیا البتہ حکم طلاق والا ہی ہے یہ ایک طلاق بائن کے حکم میں ہے، توجہ ہے؟ لیکن اگر اس کے بجائے طلاق کا لفظ باقاعدہ عورت ذکر کرتی ہے یا مرد ذکر کرتا ہے، عورت کہتی ہے کہ مجھ سے پانچ لاکھ لے لو اور مجھے طلاق دے دو، خلع کا لفظ نہیں بولتی کیا کہتی ہے؟ پانچ لاکھ لے لو اور مجھے طلاق دے دو تو اس کو طلاق علی عوض کہتے ہیں، عوض لے کر طلاق دی، تو یہ بھی طلاق بائن کے حکم میں ہے میاں بیوی میں جدائی آ جائے گی۔ تو خلع میں بھی خاوند اور بیوی میں جدائی اور بیوی پر مال آئے گا لیکن اس میں طلاق کا لفظ نہیں ہوگا، اور طلاق علی مال اس کے اندر بھی مال لے کر طلاق دیتا ہے خاوند، بات سمجھ میں آ گئی۔ اور ایک ہے اعتاق علی مال کہ آقا اپنے غلام کو کہتا ہے کہ میں نے تمہیں دس لاکھ روپے کے بدلے آزاد کیا، غلام کہتا ہے مجھے قبول ہے، جیسے ہی غلام نے قبول کہا ساتھ ہی وہ آزاد ہو گیا لیکن اب اس کو وہ دس لاکھ روپے لا کر آقا کو دینے پڑیں گے، تو یہ دیکھو اعتاق علی مال ہے، اعتاق علی عوض ہے، آزاد کیا ہے عوض اور مال لے کر، توجہ ہے؟ تو خلع میں بھی عورت کیا دیتی ہے؟ مال، البتہ خلع کے اندر طلاق کا لفظ ذکر نہیں ہوتا، حکم طلاق والا ہی ہے لیکن طلاق کا لفظ ذکر نہیں، اور طلاق علی عوض کے اندر طلاق کا لفظ بھی ذکر ہوگا اور اس میں خاوند پیسے بھی لیتا ہے، اور جبکہ اعتاق علی مال میں آقا اپنے غلام کو مال کے بدلے آزاد کرتا ہے۔ توجہ ہے؟
بات چل رہی تھی امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی، مسئلہ یہ ذکر ہوا تھا کہ طرفین کے نزدیک ایک ہی شخص جب نکاح کا متولی ہو تو اس کو کسی طرف سے بھی فضولی نہیں ہونا چاہیے نہ ایک جانب سے اور نہ دونوں جانب سے، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، جب ایک شخص نکاح کا وکیل ہو کر متولی ہو سکتا ہے ایک شخص دونوں طرف کا تو فضولی ہو کر بھی وہ دونوں طرف کا متولی ہو سکتا ہے۔ چنانچہ وہ جو مسئلہ پیچھے ذکر ہوا تھا، ایک آدمی نے مجلس کے اندر کہا: تم لوگ گواہ رہو میں نے فلانی سے اپنا نکاح کر دیا، تم لوگ گواہ رہو میں نے فلانی سے اپنا نکاح کر دیا، اب دیکھو مجلس میں کوئی اور قبول کرنے والا نہیں ہے، پہلی صورت، دوسری صورت میں تو ایک اور آدمی نے کہا تھا میں نے قبول کر لیا وہ صورت نہیں پہلی صورت، جب یہی آدمی اس آدمی نے کیا کہا میں نے فلانی عورت سے اپنا نکاح کر دیا، تو یہ اپنا نکاح کروا رہا ہے اپنے لیے ہے یہ اصیل اور عورت کے لیے کیا ہے؟ فضولی، تو طرفین نے کیا فرمایا تھا؟ یہ نکاح باطل ہے، بعد میں وہ عورت اجازت دے گی بھی تو بھی منعقد نہیں ہوگا۔ تو طرفین فرماتے ہیں دیکھو یہاں اس مجلس میں ایک آدمی نے کلام کیا ہے اور ایک آدمی جو کلام کرے اس کو ایجاب کہتے ہیں، اور ایجاب کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ قبول چاہیے، تو اس مجلس میں کوئی اور قبول کرنے والا ہی نہیں ہے اور قبول تو مجلس کے اندر ہی ہو سکتا ہے بعد میں قبول نہیں، تو لہٰذا یہ جو آدمی کا کلام ہے یہ عقد کا ایک جز ہے پورا عقد نہیں، اور ایک جز کی وجہ سے عقد منعقد نہیں ہوتا بلکہ عقد کے لیے دوسرا جز یعنی قبول بھی چاہیے، اور اس مجلس میں تو قبول نہیں، بعد میں وہ عورت قبول کرے بھی وہ تو مجلس ہی الگ ہے تو اس قبول کا کوئی اعتبار نہیں، تو اس آدمی کا کلام کیا تھا؟ یہ پورا عقد تھا یا عقد کا ایک جز تھا؟ عقد کا ایک جز تھا اور ایک جز کی وجہ سے عقد منعقد نہیں ہوتا، بات سمجھ میں آ گئی۔
وہ کہتے ہیں دیکھو طرفین کی دلیل چل رہی ہے: طرفین فرماتے ہیں اگر اسی مجلس میں وہ عورت موجود ہوتی فرض کرو اس وقت یہ آدمی یوں کہتا: تم لوگ گواہ رہو میں نے اس عورت سے اپنا نکاح کر لیا، تو تم بتائیے صرف یہ کہنے سے نکاح ہو جانا تھا یا عورت کی طرف سے قبول بھی ضروری تھا؟ عورت اسی مجلس میں موجود ہے اس کی طرف سے قبول بھی ضروری ہے، تو عورت کی موجودگی کے اندر جب یہ عقد کا صرف ایک جز ہے تو عورت کی غیر موجودگی میں بھی یہ کیا ہوگا؟ عقد کا ایک جز ہی رہے گا لہٰذا اس سے عقد پورا نہیں ہوگا، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَهُمَا طرفین کی دلیل یہ ہے أَنَّ الْمَوْجُودَ شَطْرُ الْعَقْدِ کہ وہ جو موجود ہے یعنی یہ جو اس آدمی کا کلام ہے شَطْرُ الْعَقْدِ یہ عقد نکاح کا ایک جز ہے لِأَنَّهُ شَطْرٌ حَالَةَ الْحَضْرَةِ اس لیے کیونکہ یہ اس عورت کی موجودگی کی حالت میں ایک جز ہے یہ والا کلام فَكَذَا عِنْدَ الْغَيْبَةِ تو اس کی غیبت یعنی غیر موجودگی میں بھی یہ کیا ہوگا؟ عقد کا ایک جز ہی ہوگا، وَشَطْرُ الْعَقْدِ لَا يَتَوَقَّفُ عَلَى مَا وَرَاءِ الْمَجْلِسِ اور عقد کا جز جو ہوتا ہے وہ مجلس کے مابعد پر موقوف نہیں ہوتا، اسی مجلس میں قبول چاہیے مجلس کے بعد قبول پر موقوف نہیں، بعد میں قبول نہیں آ سکتا۔ بھئی جس مجلس میں ایجاب کیا جائے اسی مجلس میں قبول ضروری ہے، مجلس کے بعد قبول آئے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں، یہی بیان کر رہے ہیں: وَشَطْرُ الْعَقْدِ اور عقد کا ایک جز جو ہوتا ہے لَا يَتَوَقَّفُ وہ موقوف نہیں ہوتا عَلَى مَا وَرَاءِ الْمَجْلِسِ مجلس کے پیچھے یعنی مجلس کے بعد پر وہ موقوف نہیں، مجلس ختم تو وہ ایجاب بھی ختم، بعد میں قبول کیا بھی جائے اس کا کوئی اعتبار نہیں، كَمَا فِي الْبَيْعِ جیسے کس کے اندر ہوتا ہے؟ بیع کے اندر ہوتا ہے، آپ کسی سے کوئی چیز خرید رہے ہیں آپ ایجاب کرتے ہیں کہ یہ کتاب آپ سے میں نے سو روپے میں خرید لی تو وہ اسی مجلس میں قبول کر سکتا ہے مجلس کے بعد وہ قبول کرے بھی تو اس کا کوئی اعتبار نہیں، اسی مجلس میں وہ قبول کرے گا تو بیع ہو جائے گی اسی مجلس میں قبول نہیں کرے گا بعد میں قبول کرے بھی تو بیع منعقد نہیں، بات سمجھ میں آ گئی؟ كَمَا فِي الْبَيْعِ جیسے کہ بیع میں ہے اور باقی عقدوں میں ہے۔
بِخِلَافِ الْمَأْمُورِ مِنَ الْجَانِبَيْنِ، امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے یہ جو فضولی جو دونوں طرف کا متولی ہے، ایک طرف سے اصیل ہے اور دوسری طرف سے فضولی ہے تو یہ جو شخص جو دونوں طرف سے نکاح کا متولی ہے البتہ ایک طرف سے فضولی ہے اس کو قیاس کیا تھا اس وکیل پر جو دونوں طرف سے نکاح کا متولی تھا، توجہ ہے؟ تو فرماتے تھے کہ جیسے وہ وکیل کے صرف کلام کرنے سے نکاح ہو جاتا ہے وہاں کسی قبول کی ضرورت، وہ وکیل ہے نا لڑکی والوں نے بھی زید کو وکیل بنایا لڑکے والوں نے بھی زید کو وکیل بنایا اب زید دو گواہوں کے سامنے کہتا ہے میں نے فلانی کا فلاں سے نکاح کر دیا بس نکاح منعقد ہو گیا یہاں کسی قبول وغیرہ کی ضرورت نہیں، تو امام ابو یوسف فرماتے ہیں جیسے وہ ایک شخص جو دونوں طرف سے وکیل ہے اور نکاح کا متولی ہے تو جیسے صرف اس کے کلام سے نکاح منعقد ہو جاتا ہے تو اسی طرح جب ایک ہی شخص نکاح کا متولی ہے اور ایک طرف سے یا دونوں طرف سے وہ فضولی ہے تو اس کے کلام سے بھی نکاح منعقد ہونا چاہیے البتہ موقوف ہونا چاہیے۔ تو اب طرفین کی طرف سے جواب دے رہے ہیں امام ابو یوسف رحمہ اللہ کو کہ آپ اس فضولی کے کلام کو جو دونوں طرف سے وکیل ہے اس کے کلام پر قیاس نہیں کر سکتے، آپ اس فضولی کے کلام کو وہ جو وکیل ہے دونوں طرف سے اس کے کلام پر قیاس نہیں کر سکتے، اس لیے کیونکہ وہ تو دونوں طرف سے وکیل ہے تو اس کا کلام دو کلاموں کے درجے میں ہے، وہ ایجاب بھی ہے اور قبول بھی ہے، جبکہ فضولی تو ایسا نہیں اس کو تو کسی نے مقرر نہیں کیا اس کا کلام دو کلاموں کے درجے میں نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: بِخِلَافِ الْمَأْمُورِ مِنَ الْجَانِبَيْنِ بخلاف اس شخص کے جس کو حکم دیا گیا ہے دونوں جانب سے یعنی دونوں طرف سے جو وکیل ہے، لِأَنَّهُ يَنْتَقِلُ كَلَامُهُ إِلَى الْعَاقِدَيْنِ اس لیے کیونکہ وہ جو وکیل ہے اس کا کلام منتقل ہو جاتا ہے عقد کرنے والوں کی طرف، یعنی وہ موکل کی طرف منتقل ہو گیا گویا اس وکیل کا کلام دو کلاموں کے درجے میں ہو گیا۔
وَمَا جَرَى بَيْنَ الْفُضُولِيَّيْنِ عَقْدٌ تَامٌّ اور اسی طرح وہ جو دو فضولیوں کے درمیان جاری ہوا ہے عَقْدٌ تَامٌّ وہ عقد تام ہے، دوسری صورت آ گئی، اگر عقد کرنے والے ایک ہی فضولی نہیں ہے بلکہ دو الگ الگ فضولی ہیں، توجہ ہے؟ تو ایجاب بھی پایا گیا اور قبول بھی پایا گیا، تو یہاں صرف عقد کا ایک جز نہیں ہے دونوں جز موجود ہیں اس لیے یہ عقد منعقد ہو جائے گا، لیکن اگر ایک ہی شخص نکاح کا متولی ہے اور ایک طرف سے کیا ہے؟ فضولی، تو اس کا کلام دو کلاموں کے درجے میں نہیں اس سے نکاح منعقد نہیں ہوگا، بات بھی سمجھ میں آ رہی ہے کہ نہیں۔ وَمَا جَرَى بَيْنَ الْفُضُولِيَّيْنِ عَقْدٌ تَامٌّ، بھئی بات یہ چل رہی تھی نا طرفین فرماتے ہیں وہ شخص جو اپنا نکاح کسی عورت سے کر رہا ہے اور عورت مجلس میں نہیں ہے یا عورت نکاح کر رہی ہے اور جس سے نکاح کر رہی ہے وہ اس مجلس میں نہیں، تو گویا ایک ہی شخص نکاح کی دونوں جانب کا متولی ہوا، اپنے لیے اصیل ہوا اور دوسرے کے لیے فضولی، تو اس کا کلام دو کلاموں کے درجے میں نہیں، یہ تو عقد کا ایک جز صرف ایجاب پایا گیا قبول ہے نہیں لہٰذا یہ عقد باطل ہو گیا۔ لیکن اگر دو فضولی موجود ہیں تو پھر تو ایجاب بھی پایا گیا اور قبول بھی پایا گیا تو وہ عقد تام ہے وہ منعقد ہو جائے گا۔ یہ معنی ہے: وَمَا جَرَى بَيْنَ الْفُضُولِيَّيْنِ عَقْدٌ تَامٌّ اور وہ جو دو فضولیوں کے درمیان جاری ہو وہ تو عقد تام ہے یعنی پورا عقد ہے کیونکہ اس میں ایجاب بھی ہے اور قبول بھی ہے۔
وَكَذَا الْخُلْعُ وَأُخْتَاهُ اور اسی طرح خلع اور اس کی جو دو بہنیں ہیں، یعنی وہ جو تین مسئلے ذکر کیے تھے امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے، امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے فضولی کے اس نکاح کو کس پر قیاس کیا تھا؟ خلع پر اور طلاق علی مال پر اور اعتاق علی مال پر، تو تین چیزوں پر قیاس کیا تھا۔ وہاں پر خاوند صرف کسی مجلس میں کہہ دے میں نے اس عورت سے دس لاکھ میں خلع کر لیا اور وہاں کوئی قبول کرنے والا نہیں ہے، پھر بھی آپ کہتے ہیں کسی اور مجلس میں وہ عورت قبول کرے گی تو یہ خلع ہو گیا حالانکہ کوئی قبول کرنے والا نہیں، یا اسی طرح خاوند کہتا ہے میں نے اپنی بیوی کو دس لاکھ روپے کے عوض طلاق دے دی اب یہاں کوئی قبول کرنے والا نہیں ہے عورت کسی اور مجلس میں قبول کرے گی تو یہ طلاق ہو جائے گی، یا آقا نے کہا میں نے اپنے غلام کو دس لاکھ روپے کے عوض آزاد کر دیا غلام نے کسی اور مجلس میں بعد میں جا کر کہتا ہے مجھے قبول ہے، تو دیکھو یہاں ایک ہی آدمی کے کلام پر عقد پورا ہو رہا ہے، یہاں کوئی قبول کرنے والا نہیں، توجہ ہے؟ تو اس کا بھی جواب دیں گے اب طرفین کی طرف سے کہ بھئی یہ جو کلام ہے نا یہ جو خلع ہے اور یہ جو طلاق علی مال ہے اور یہ جو اعتاق علی مال ہے یہ دراصل تعلیق ہے، کیا ہے؟ تعلیق ہے، اور تعلیق جو ہے وہ تعلیق کرنے والے سے ہی پوری ہو جاتی ہے اس میں کسی قبول کی ضرورت نہیں، تعلیق آپ جانتے ہو ایک چیز کو کسی دوسری چیز پر معلق کرنا۔ مثلاً کوئی خاوند اپنی بیوی سے کہتا ہے اگر تو اس فلاں گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے، تو دیکھو طلاق کو معلق کر دیا اس گھر کے اندر جانے پر، عورت جیسے ہی اس گھر میں جائے گی فوراً اس کو طلاق ہو جائے گی، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ تعلیق بھئی، عَلَّقَ يُعَلِّقُ تَعْلِيقًا بھئی، کسی شرط کے ساتھ کسی حکم کو معلق کرنا۔ تو طرفین جواب دے رہے ہیں کہ یہ جو خلع ہے یہ طلاق اور اعتاق علی مال جو ہیں یہ دراصل تعلیق ہیں بھئی، یہ کیا ہیں؟ تعلیق، اور تعلیق میں کسی قبول کی ضرورت نہیں ہوتی، تعلیق میں کسی قبول کی ضرورت نہیں، بھئی خاوند نے کہا اپنی بیوی سے اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے، مجھے بتائیے کیا عورت کا اس کو قبول کرنا ضروری ہے؟ نہیں، عورت قبول کرے یا نہ کرے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا یہ تعلیق ہے، اس میں قبول کی ضرورت ہی نہیں یہ صرف ایک آدمی کے کہنے سے ہی بات پوری ہو گئی، اب عورت اس گھر میں جائے گی تو طلاق ہو جائے گی، تو تعلیق میں دوسرے کے قبول کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسی طرح یہ جو خلع اور طلاق اور اعتاق علی مال ہیں یہ بھی تعلیق ہیں، تو آپ اس فضولی کے نکاح کو ان پر قیاس نہیں کر سکتے بھئی، کیونکہ فضولی کا جو نکاح تھا وہ تعلیق نہیں تھی وہ معلق نہیں کر رہا تھا نکاح کو کسی چیز کے ساتھ، وہ تو نکاح باقاعدہ کر رہا تھا، اور یہ جو خلع اور اعتاق اور طلاق علی مال ہیں یہ کیا ہیں؟ تعلیق، کس طرح تعلیق ہیں؟ گویا خاوند نے یوں کہا: اگر عورت مجھے دس لاکھ روپے دینا منظور کرتی ہے تو میں نے اس سے خلع کر لیا، یہ تو خاوند نے تعلیق کر دی، تعلیق کر دی اور تعلیق مجلس پر نہیں ہوتی بھئی، مجلس پر بند نہیں ہوتی، تو وہ جب بھی عورت اس کو قبول کر لے گی تو یہ خلع ہو جائے گا، یا طلاق علی عوض دیکھو کہ اگر وہ عورت مجھے دس لاکھ روپے دینا منظور کرتی ہے تو میری طرف سے اس کو طلاق ہے، یہ تعلیق ہو گئی، تعلیق مجلس پر بند نہیں رہتی۔ دیکھو خاوند نے ایک مجلس میں کہا اپنی بیوی سے: اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے، تو مجھے بتائیے کیا یہ تعلیق صرف اسی مجلس تک رہے گی یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ یہ تعلیق ہمیشہ کے لیے ہے، ساری زندگی جب بھی یہ عورت اس گھر میں جائے گی تو اس کو طلاق ہو جائے گی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو یہاں پر بھی جو آدمی نے کہا نا، توجہ سے سمجھو، آدمی نے جب کہا خلع کیا، کیا کہا تھا؟ کہ میں اپنی بیوی سے دس لاکھ روپے پر خلع کرتا ہوں، تو طرفین فرماتے ہیں یہ دراصل تعلیق کر رہا ہے اور تعلیق صرف تعلیق کرنے والے پر بات پوری ہو جاتی ہے اس میں دوسرے کے قبول کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی، تو اس نے تعلیق کر دی کہ عورت اگر مجھے دس لاکھ دینا منظور کرتی ہے تو میں اس سے کیا کرتا ہوں؟ خلع کرتا ہوں، تو اس نے تعلیق کر دی، جیسے اس نے تعلیق کی تھی کہ اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے، وہ جب بھی اس گھر میں جائے گی اس کو طلاق ہو جائے گی، یہاں پر بھی اس نے تعلیق کر دی ہے تو جب بھی وہ قبول کرے گی خلع ہو جائے گا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ تعلیق ہے۔
چنانچہ اسی لیے اسی لیے اس سے خاوند رجوع نہیں کر سکتا اب، خاوند اس سے رجوع نہیں، ایک ہوتا ہے ایجاب و قبول، ایجاب میں رجوع کیا جا سکتا ہے جب تک قبول نہ آیا ہو۔ مثلاً میں نے آپ سے کہا یہ کتاب میں نے آپ کو سو روپے میں بیچ دی، آپ اس کو قبول کر سکتے ہیں اسی مجلس میں، لیکن آپ کے قبول کرنے سے پہلے پہلے میں نے کہا نہیں نہیں بھئی میں نہیں بیچنا چاہتا، تو بس ایجاب ختم ہو گیا اب آپ قبول کر ہی نہیں سکتے بھئی، تو ایجاب کے اندر قبول سے پہلے پہلے رجوع کیا جا سکتا ہے، لیکن تعلیق ایک دفعہ زبان سے نکل گئی وہاں رجوع نہیں ہو سکتا، خاوند نے اپنی بیوی سے کہا اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے، اب اس سے خاوند رجوع نہیں کر سکتا اب یہ ساری عمر یہ طلاق معلق ہے خاوند اب رجوع نہیں کر سکتا، جب عورت اس گھر میں جائے گی طلاق ہو جائے گی، توجہ ہے؟ معلوم ہوا ایجاب میں رجوع کیا جا سکتا ہے قبول سے پہلے پہلے لیکن تعلیق میں رجوع نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کیا فرماتے تھے؟ انہوں نے اس فضولی کے نکاح کو کس پر قیاس کیا تھا؟ خلع اور طلاق علی عوض اور اعتاق علی عوض پر، تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ یہ جو خلع اور طلاق علی عوض اور اعتاق علی عوض یہ صرف جب یہ جو خاوند نے جملہ کہا کہ میں اپنی بیوی سے دس لاکھ پر خلع کرتا ہوں، بیوی نے اور مجلس میں قبول کر لیا تو وہ ہو جائے گا، یا خاوند نے کہا میں دس لاکھ کے عوض اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہوں عورت نے بعد میں کسی مجلس میں قبول کر لیا تو طلاق ہو جائے گی، یا آقا نے کہا میں نے اپنے غلام کو دس لاکھ روپے کے عوض آزاد کر دیا غلام نے کسی اور مجلس میں قبول کر لیا، تو ان تمام صورتوں میں یاد رکھو طرفین فرماتے ہیں یہ تعلیق ہے، یہ ایجاب ہے ہی نہیں، اور دلیل اس کی یہ ہے کہ خاوند یا آقا اب اس کلام سے رجوع نہیں کر سکتا۔ خاوند نے کہا اگر وہ دس لاکھ منظور کرتی ہے تو میں خلع کرتا ہوں، بعد میں کہتا ہے نہیں نہیں نہیں میں نہیں کرتا، نہیں بھئی اب آپ رجوع نہیں کر سکتے، رجوع نہ کرنا بتلا رہا ہے کہ یہ ایجاب نہیں تھا بلکہ کیا تھا؟ تعلیق تھی، آقا نے کہا میں اپنے غلام کو دس لاکھ روپے کے عوض آزاد کرتا ہوں، بعد میں کہتا ہے نہیں نہیں میں نہیں آزاد کرتا، نہیں بھئی آپ رجوع نہیں کر سکتے تعلیق ہو چکی اب غلام جب بھی اس کو قبول کرے گا تو غلام آپ کے ہاتھ سے نکل جائے گا، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کیا فرما رہے تھے کہ فضولی کے صرف کلام سے نکاح منعقد ہونا چاہیے جیسے خلع اور طلاق اور اعتاق علی عوض کے اندر ایک ہی آدمی کے کلام سے وہ عقد کیا ہو رہا تھا؟ منعقد ہو رہا تھا، تو اس کا جواب دے دیا کہ آپ اس فضولی کے نکاح کو ان پر قیاس نہیں کر سکتے کیونکہ فضولی کا جو کلام ہے وہ صرف ایجاب ہے اور جبکہ یہ خلع اور طلاق اور اعتاق علی مال یہ تعلیق ہیں، اور فرق یہ ہے کہ ایجاب سے رجوع ہو سکتا ہے لیکن تعلیق سے رجوع نہیں ہو سکتا تو یہاں یہ رجوع نہیں کر سکتے لہٰذا یہ تعلیق ہے، تو آپ اس فضولی کے نکاح کو تعلیق پر قیاس نہیں کر سکتے، تعلیق اور چیز ہے ایجاب اور چیز ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: وَكَذَا الْخُلْعُ وَأُخْتَاهُ اور اسی طرح خلع اور اس کی جو دو بہنیں ہیں وہ بھی کیا ہے؟ پورا عقد ہے کیونکہ وہ تعلیق ہے، لِأَنَّهُ تَصَرُّفُ يَمِينٍ مِنْ جَانِبِهِ اس لیے کیونکہ یہ جو تینوں ہیں ان میں سے ہر ایک تصرف یمین ہے من جانبہ اس مرد کی طرف سے۔ میں نے کیا کہا یہ تینوں کیا ہیں؟ تعلیق، اور صاحب ہدایہ فرما رہے ہیں یہ تصرف یمین ہے، یمین کہتے ہیں قسم کو، یمین کس کو کہتے ہیں؟ قسم۔ یاد رکھو فقہ کے اندر تعلیق کو بھی یمین کہتے ہیں۔ تعلیق کو بھی یمین، یہ تعلیق کیا ہے؟ خاوند نے کہا اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے، توجہ ہے؟ اور قسم کسے؟ مثلاً کوئی آدمی قسم کھاتا ہے واللہ میں فلاں کام نہیں کروں گا، توجہ ہے؟ تو تعلیق اور چیز ہے یمین اور، لیکن فقہ کے اندر تعلیق کو بھی یمین کہتے ہیں۔ فقہ کے اندر تعلیق کو بھی یمین کہتے ہیں، وجہ یہ کہ جیسے قسم کھائی جاتی ہے کسی کام پر ابھارنے کے لیے یا کسی کام سے روکنے کے لیے اسی طرح تعلیق بھی کسی کام پر ابھارنے کے لیے یا کسی کام سے روکنے کے لیے ہوتی ہے۔ مثلاً ایک آدمی ہے وہ کہتا ہے واللہ میں یہ کام ضرور کروں گا، دیکھو اب اس نے قسم کھا لی، اس نے اس لیے قسم کھائی ہے تاکہ اپنے نفس کو ابھارے کہ یہ اب کرنا ہی پڑے گا اب تو قسم کھا لی ہے، توجہ ہے؟ یا ایک آدمی کہتا ہے واللہ میں یہ کام نہیں کروں گا، تو قسم کس لیے کھائی؟ اس کام سے اپنے آپ کو روکنے کے لیے، توجہ ہے؟ تو قسم کسی کام پر ابھارنے اپنے آپ کو کسی کام پر ابھارنے یا روکنے کے لیے کھائی جاتی ہے، اسی طرح تعلیق بھی کسی کام پر ابھارنے یا روکنے کے لیے کی جاتی ہے۔ خاوند نے کہا بیوی سے: اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے، یہ کس لیے تعلیق کر رہا ہے؟ اس گھر سے اس کو روکنے کے لیے تعلیق کر رہا ہے، توجہ ہے؟ تو تعلیق بھی اسی طرح کسی کام پر ابھارنے یا روکنے کے لیے، یا دوسری صورت لے لو ابھارنے کے لیے: خاوند بیوی سے کہتا ہے اگر تو شام تک اس گھر کے اندر نہ گئی تو تجھے طلاق ہے، یہ کیا کر رہا ہے اس کو؟ ابھار رہا ہے تمہیں جانا پڑے گا اس گھر میں آج شام تک ورنہ تمہیں کیا ہو جائے گی؟ طلاق۔ تو جیسے قسم کسی کام پر کبھی ابھارنے کے لیے ہوتی ہے کبھی روکنے کے لیے، اسی طرح تعلیق بھی کسی کام پر ابھارنے کے لیے ہوتی ہے یا کسی کام سے روکنے کے لیے، تو حاصل کلام یہ کہ تعلیق کو بھی یمین کہتے ہیں اس لیے کیونکہ جس طرح یمین کسی کام پر ابھارنے یا روکنے کے لیے ہوتی ہے اسی طرح تعلیق بھی کسی کام پر ابھارنے یا روکنے کے لیے ہوتی ہے۔
یہاں ایک اور قیمتی بات یاد رکھنا: فقہ کے اندر تعلیق کو بھی یمین کہتے ہیں لیکن اس تعلیق کو جس میں کسی کام پر ابھارا جا رہا ہے یا روکا جا رہا ہے، ہر تعلیق کو یمین نہیں کہتے۔ ہر تعلیق کو یمین نہیں، میں نے ابھی مثال ذکر کر دی: خاوند کہتا ہے اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق، معلوم ہوا روکنا چاہ رہا ہے اس کو یمین کہیں گے، روکنے کے لیے یہ تعلیق ہے، یا خاوند کہتا ہے بیوی کو اگر تو اس گھر میں شام تک نہ گئی تو تجھے طلاق، معلوم ہوا اب اس کو ابھار رہا ہے کہ اس کو وہاں جانا پڑے گا، تو یہ جو تعلیق ہے جس میں کسی کام پر ابھارا جا رہا ہے یا کسی کام سے روکا جا رہا ہے اس تعلیق کو یمین کہیں گے، ہر تعلیق کو یمین نہیں کہیں گے۔ اگر ایک شخص تعلیق کرتا ہے لیکن نہ وہاں ابھارنا ہے نہ روکنا ہے اس کو یمین نہیں کہیں گے، مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ کل جب سورج طلوع ہوگا تو اس وقت میری بیوی کو طلاق ہے۔ کل جب سورج طلوع ہوگا تو اس وقت میری بیوی کو طلاق ہے، تو دیکھو کل صبح سورج طلوع ہوگا تو اس کی بیوی کو طلاق ہو جائے گی، اب یہاں نہ ابھارنا ہے کسی کام پر اور نہ کسی کام سے روکنا ہے، تو تعلیق تو ہے لیکن اس کو یمین نہیں کہیں گے، تو یمین کس تعلیق کو کہتے ہیں؟ جس میں کسی کام پر ابھارنا یا روکنا ہو بھئی، یہ قیمتی بات یاد رکھنا بھئی۔ تو فقہ میں تعلیق کو بھی کیا کہتے ہیں؟ یمین کہتے ہیں، توجہ ہے؟ تو لہٰذا یہ خلع اور طلاق اور اعتاق علی مال یہ تینوں کیا ہیں؟ تعلیق ہیں، بات سمجھ میں آ گئی۔
یہ معنی ہے: لِأَنَّهُ تَصَرُّفُ يَمِينٍ مِنْ جَانِبِهِ اس لیے کیونکہ یہ خلع وغیرہ یہ ان میں سے ہر ایک تصرف یمین ہے اس مرد کی جانب سے حَتَّى يَلْزَمُ، یہ حتی کے بعد یلزم مرفوع پڑھنا ہے بھئی، حتی ویسے نصب دیتا ہے فعل مضارع کو لیکن یہاں ملا عبد الغفور حاشیے میں فرماتے ہیں بھئی، ملا عبد الغفور یہ شاگرد ہیں ملا جامی رحمہ اللہ کے اور بہت بڑے عالم ہیں اور کمال کا حاشیہ لکھتے ہیں ہدایہ کے مشکل مقامات کو حل کرتے چلے جاتے ہیں، تو ملا عبد الغفور فرماتے ہیں کہ یہ حتی ابتدائیہ ہے لہٰذا اس کے مابعد کا ماقبل پر عطف نہیں ہے، جب عطف نہیں ہے تو ان وغیرہ یہاں مقدر نہیں ہوگا لہٰذا اس پر رفع پڑھیں گے حَتَّى يَلْزَمُ، بات سمجھ میں آ گئی۔ میں نے آپ کو کیا بتایا کہ ایجاب جو ہے ایجاب سے رجوع ہو سکتا ہے لیکن تعلیق سے رجوع نہیں ہو سکتا، یہی بیان کر رہے ہیں کہ دیکھو پھر سنو: لِأَنَّهُ تَصَرُّفُ يَمِينٍ مِنْ جَانِبِهِ اس لیے کیونکہ یہ خلع وغیرہ ان میں سے ہر ایک وہ تصرف یمین ہے اس مرد کی طرف سے حَتَّى يَلْزَمُ یہاں تک کہ یہ اس پر لازم ہو جاتا ہے یعنی وہ رجوع نہیں کر سکتا وہ لازم ہو گیا ہے، فَيَتِمُّ بِهِ تو یہ اسی پر تام ہو گیا۔ تو وہ اسی قسم کھانے والے پر، اسی تعلیق کرنے والے پر تام۔ دیکھو تعلیق پھر سنو، تعلیق کے اندر دوسرے کا قبول ضروری ہے یا صرف ایک ہی آدمی پر تعلیق پوری ہو جاتی ہے ایک ہی آدمی کے کلام سے؟ ایک ہی آدمی کے کلام سے تعلیق پوری ہو جاتی ہے، اسی طرح قسم ایک ہی آدمی کے کلام سے قسم منعقد ہو جاتی ہے یا دوسرے کا قبول کرنا بھی ضروری ہے؟ ایک ہی آدمی قسم اٹھائے گا کہ واللہ میں یہ کام نہیں کروں گا تو دیکھو قسم تو منعقد ہو گئی، اسی طرح تعلیق بھی منعقد ہو گئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو تعلیق اور قسم جو ہیں وہ ایک ہی آدمی پر بات پوری ہو جاتی ہے وہاں دوسرے کے قبول کی ضرورت نہیں، تو یہی فرما رہے ہیں کہ یہ جو خلع وغیرہ ہیں یہ تعلیق ہیں، اسی لیے یہ لازم بھی ہو گئے رجوع بھی نہیں کر سکتا اور نیز یہ تعلیق ہیں اور تعلیق تو ایک آدمی پر پوری ہو جاتی ہے لہٰذا یہ بھی ایک آدمی پر ہی بات پوری ہو گئی، یہ معنی ہے کہ حَتَّى يَلْزَمُ فَيَتِمُّ بِهِ یہاں تک کہ یہ جو تصرف کیا ہے یہ لازم ہو جاتا ہے یعنی اب اس سے رجوع نہیں کر سکتا فَيَتِمُّ بِهِ تو جب یہ تصرف یمین ہے فَيَتِمُّ بِهِ تو اسی ایک آدمی پر ہی یہ پورا ہو جائے گا، دوسرے کے لیے اس میں قبول کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے بھئی۔
چلیے بس بھئی بات سمجھ میں آ گئی، حل ہو گیا، چلیے بس بھئی: هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔