Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مختصر المعاني · dars-018

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Rawaid ullah
📍 Location Islamabad, Pakistan
📅 Approved Date 21 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 9
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
مولانا فصاحتِ کلام کی بحث چل رہی ہے۔ آپ نے پڑھا تھا، فصاحت فی الکلام وہ خالی ہونا ہے کلام کا ضعفِ تالیف سے، تنافرِ کلمات سے، اور تعقید سے، مَعَ فَصَاحَةِ الْكَلِمَاتِ، ساتھ ساتھ اس کے کلمات بھی کیا ہوں؟ فصیح ہوں۔ ضعفِ تالیف کا بتلایا تھا کہ کلام کا مشہور نحوی قانون کے خلاف ہونا۔ تنافرِ کلمات بھی بتلایا آپ کو کہ ایسے کلمات کا جمع ہو جانا کہ ان کے جمع ہونے کی وجہ سے اب ان کا زبان پر ادا کرنا ثقیل ہو جائے۔ اور تعقید کے بارے میں بھی انہوں نے بتلایا آپ کو کہ وہ کلام مشکل ہو مولانا، پیچیدہ ہو، اور کہ اس کی دلالت معنیٰ مراد پر ظاہر نہ ہو بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ جس کا ارادہ کیا گیا ہے۔ اور میں نے بتایا ایک معنیٰ لغوی ہوتا ہے، ایک معنیٰ مراد ہوتا ہے، کبھی دونوں ایک ہی ہوتے ہیں، کبھی دونوں الگ الگ ہوتے ہیں بھئی۔ الگ الگ ہوتے ہیں۔ جیسے میں نے بتایا تھا ایک اپ کا ساتھی آیا آپ کہتے ہیں: سخی آدمی آ گیا۔ دوسری صورت... تو یہ معنیٰ لغوی بھی بھی وہی، معنیٰ مراد بھی وہی۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ آپ یوں کہتے ہیں کہ حاتم طائی آ گیا۔ اب معنیٰ لغوی اور ہے اس کا اور معنیٰ مرادی اور ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں کلامِ معقد وہ ہے کہ جس کی دلالت معنیٰ مراد پر ظاہر نہ ہو کسی خلل کی وجہ سے۔ وہ خلل یا تو نظم میں ہو گا یعنی اس ترکیب کے اندر واقع ہو گا، تقدیم و تاخیر کی وجہ سے یا حذف و اضمار وغیرہ کی وجہ سے بھئی۔ یا مولانا، وَإِمَّا فِي الِانْتِقَالِ، یا وہ خلل کس میں ہو گا؟ انتقال میں ہو گا بھئی۔ انتقال میں ہو گا۔ یعنی ذہن معنیٰ لغوی سے معنیٰ مراد کی طرف جلدی انتقال نہیں کرتا بھئی۔ انتقال نہیں کرتا۔ تو تعقید کی یہ دو قسمیں ہوئیں مولانا، ایک تعقیدِ لفظی، وہ جس میں خلل کس میں آئے؟ نظم میں آئے۔ اور دوسری تعقیدِ معنوی، کہ جس میں خلل کس کے اندر آئے؟ انتقال کے اندر آئے کہ معنیٰ لغوی سے معنیٰ مراد کی طرف ذہن جلدی انتقال نہیں کرتا بھئی۔ پھر اس کے بعد فرزدق کا ایک شعر بھی ذکر کیا تھا جس میں خلل نظم کے اندر تھا: وَمَا مِثْلُهُ فِي النَّاسِ إِلَّا مُمَلَّكًا أَبُو أُمِّهِ حَيٌّ أَبُوهُ يُقَارِبُهُ تو میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ مَا مشابہ بلیس ہے۔ مِثْلُهُ کیا ہے اس کے... جی؟ جی، یہ اسم ہے مَا کا، اور یہ مبدل منہ ہے مولانا۔ اور حَيٌّ يُقَارِبُهُ اس سے بدل ہے مولانا۔ بدل مبدل منہ مل کر یہ کیا بن رہے تھے؟ مستثنیٰ منہ۔ إِلَّا حرفِ استثناء تھا اور پھر مُمَلَّكًا یہ موصوف۔ أَبُو أُمِّهِ أَبُوهُ یہ مبتدا خبر مل کر اس کے لیے صفت۔ اور موصوف صفت مل کر مستثنیٰ۔ مستثنیٰ منہ اپنے مستثنیٰ سے مل کر مَا کا اسم، اور فِي النَّاسِ، أَيْ ثَابِتًا فِي النَّاسِ، یہ اس کے لیے خبر ہوئی بھئی۔ تو اس کلام کے اندر تعقید ہے، کئی اسباب جمع ہوئے، چار اسباب ذکر کیے تھے۔ پہلا سبب کیا تھا؟ حَيٌّ يُقَارِبُهُ۔ حَيٌّ موصوف، يُقَارِبُهُ صفت، درمیان میں فصل بالاجنبی آیا: أَبُوهُ۔ دوسرے... دوسرا سبب: أَبُو أُمِّهِ مبتدا ہے، أَبُوهُ اس کی خبر ہے، مبتدا اور خبر میں فصل بالاجنبی حَيٌّ کے آیا بھئی۔ تیسرا تعقید کا سبب مولانا کہ مِثْلُهُ یہ مبدل منہ ہے اور حَيٌّ يُقَارِبُهُ اس سے بدل ہے، مبدل منہ اور بدل میں فاصلۂ کثیر آیا بھئی۔ اور چوتھا سبب کہ حَيٌّ يُقَارِبُهُ یہ کیا ہے؟ مستثنیٰ منہ ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ کیونکہ یہ بدل واقع ہو رہا ہے، اور مبدل منہ اور بدل میں سے اصل مقصود کون ہوتا ہے؟ بدل مقصود ہوتا ہے، مبدل منہ تو کو... مبدل منہ کو ویسے ہی تمہید کے طور پر ذکر کیا جاتا ہے۔ تو یہ مستثنیٰ منہ مؤخر ہوا اور مُمَلَّكًا جو مستثنیٰ ہے وہ اس پر مقدم ہے۔ تو یہ چار سبب ہوئے جس کی وجہ سے اس... یہ کلام پیچیدہ ہوا، اس کا معنی سمجھنا مشکل ہو گیا بھئی۔ اس پر پھر بعض علماء نے یہ بھی ذکر کیا تھا کہ کا اعتراض ذکر کیا علامہ تفتازانی نے کہ بعض علماء کہتے ہیں کہ ضعفِ تالیف کا جب ذکر کر دیا تھا تو اب تعقیدِ لفظی کو ذکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی بھئی۔ کیونکہ تعقیدِ لفظی اسی وقت آئے گی جب کلام کیا ہو؟ نحوی قوانین کے خلاف جاری ہو، اور جب نحوی قوانین کے خلاف جاری ہوا تو ضعفِ تالیف میں داخل ہوا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اور اب ضعفِ تالیف میں آ گیا تو معلوم ہوا تعقیدِ لفظی کو اب علیحدہ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ تو علامہ تفتازانی نے بتلایا تھا آپ کو کہ بھئی یہ بات درست نہیں ہے، ہو سکتا ہے بعض ایسی چیزیں کلام میں جمع ہو جائیں جو ہوں تو سب کی سب نحوی قوانین کے مطابق، لیکن ان کے جمع ہو جانے کی وجہ سے کلام کا سمجھنا کیا ہو؟ مشکل ہو۔ اب ضعفِ تالیف نہیں، نحوی قوانین کے خلاف نہیں لیکن پھر بھی کلام کی مراد کا سمجھنا مشکل ہو گیا۔ چنانچہ کہتے ہیں وہ جو بعض علماء نے ذکر کیا کہ یہ جو ایک سبب آپ نے یہ بھی ذکر کیا تعقید کا کہ مستثنیٰ مقدم ہے کس پر؟ مستثنیٰ منہ پر، اس کو بھی ذکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی، یہ تو نحوی قوانین کے خلاف ہے۔ تو علامہ تفتازانی کہتے ہیں بھئی دیکھا، یہ میری وجہ کی تائید ہو گئی۔ میں نے بھی یہی بات کی ہے کہ کبھی کبھار نحوی قانون کے مطابق ہوتی ہے بات لیکن کلام کی تعقید کو بڑھا دیتی ہے۔ یہاں پر بھی اسی طرح ہے، مستثنیٰ مستثنیٰ منہ پر مقدم ہوتا رہتا ہے، جائز ہے، اس کے ضابطے بیان کرتے ہیں علماء، لیکن پھر بھی یہ کلام میں کی تعقید میں کیا کر رہا ہے؟ اضافہ کر رہا ہے بھئی۔ وَإِمَّا فِي الِانْتِقَالِ، عطفٌ على قوله: إِمَّا فِي النَّظْمِ۔ اس کا عطف کس پر ہے؟ لِخَلَلٍ إِمَّا فِي النَّظْمِ پر بھئی۔ أَيْ لَا يَكُونُ الْكَلَامُ ظَاهِرَ الدَّلَالَةِ عَلَى الْمُرَادِ، یعنی کلام ظاہر الدلالۃ نہیں ہوتا مراد پر لِخَلَلٍ وَاقِعٍ فِي انْتِقَالِ الذِّهْنِ مِنَ الْمَعْنَى الْأَوَّلِ، کس چیز میں؟ ذہن کے انتقال کرنے میں، مِنَ الْمَعْنَى الْأَوَّلِ، کس سے؟ معنیٰ اول سے۔ یہ کون سا ہے معنیٰ اول؟ معنیٰ لغوی۔ خود بتلا رہے ہیں: الْمَفْهُومِ بِحَسَبِ اللُّغَةِ، جو وہ معنیٰ جو کس کے اعتبار سے مفہوم ہوا ہے؟ لغت کے اعتبار سے ہمیں سمجھ میں آیا ہے، اس سے ذہن انتقال نہیں کرتا إِلَى الثَّانِي الْمَقْصُودِ، وہ ثانی معنیٰ جو جس کا کیا کیا گیا ہے؟ جو مقصود ہے، جس کو جو مراد ہے بھئی۔ اچھا، آگے ذرا متن متن حل کر لیجیے۔ كَقَوْلِ الْآخَرِ، جیسے ایک اور شاعر کا قول ہے: سَأَطْلُبُ بُعْدَ الدَّارِ عَنْكُمْ لِتَقْرَبُوا وَتَسْكُبُ عَيْنَايَ الدُّمُوعَ لِتَجْمُدَا میں، ہاں، میں طلب کر رہا ہوں بُعْدَ الدَّارِ، گھر کی دوری کو۔ الدَّارِ میں الف لام عوض ہے مضاف الیہ سے، اصل میں ہے دَارِي، میرا گھر بھئی۔ دَارِي؟ تو مضاف الیہ کو حذف کر لیتے ہیں کبھی اور اس کے عوض میں الف لام لے آتے ہیں بھئی۔ اور یہ س جو آ رہا ہے یہ مستقبل کے لیے نہیں ہے مولانا، یہ تاکید کے لیے ہے۔ اسی لیے حال والا ترجمہ کریں گے بھئی۔ میں طلب کر رہا ہوں بُعْدَ الدَّارِ، اپنے گھر کی دوری کو کہ میں عَنْكُمْ، تم سے، کہ میرا گھر تم سے کیا ہو؟ دور ہو جائے، لِتَقْرَبُوا، تاکہ تم میرے قریب ہو جاؤ۔ تاکہ تم کیا ہو جاؤ؟ قریب ہو جاؤ۔ وَتَسْكُبُ، اس کا عطف بھی أَطْلُبُ پر ہے، اور بہا رہی ہیں عَيْنَايَ، میری آنکھیں، الدُّمُوعَ، آنسوؤں کو، لِتَجْمُدَا، تاکہ وہ خشک ہو جائیں۔ تاکہ وہ؟ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ میں طلب کر رہا ہوں اپنے گھر کی دوری کو تم سے تاکہ تم قریب ہو جاؤ، اور بہا رہی ہیں میری آنکھیں آنسوؤں کو تاکہ وہ کیا ہو جائیں؟ خشک ہو جائیں۔ دراصل اس شعر میں شاعر یہ کہنا چاہتا ہے کہ دنیا میں کسی حالت کو بقا نہیں۔ آج کوئی خوش ہے تو کل غمگین ہو گا، آج کوئی غمگین ہے تو کل وہ خوش ہو گا۔ تو اس وقت میں اپنے احباب سے گھر کے دور ہونے کو طلب کروں گا بھئی، دور ہونے کو طلب کر رہا ہوں۔ اس لیے کہ اگر اس وقت میں قریب ہونے کو طلب کروں تو ان کی قربت جب ملے گی مجھے تو مجھے خوشی حاصل ہو گی، اور خوشی بھی ایک حالت ہے اور کسی حالت کو بقا نہیں، تو اس خوشی کے بعد پھر یقیناً جدائی آئے گی اور غم کا زمانہ آئے گا اور خوشی کے بعد غم ناقابلِ برداشت ہے۔ اور تو میں یوں کرتا ہوں کہ اس وقت میں غم کو طلب کرتا ہوں، جدائی اور فراق کو طلب کرتا ہوں، اور جدائی اور فراق بھی ایک حالت ہے اور ہر حالت کو زوال ہے، تو پھر مستقبل میں کیا ہو گا؟ یہ جدائی چلی جائے گی اور کیا؟ قرب حاصل ہو گا، ملاقات حاصل ہو گی اور پھر اس میں لذت زیادہ ہو گی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ معنیٰ یہ ہے اس شعر کا۔ تو اس وقت میں گھر کے دور ہونے کو طلب کر رہا ہوں تو مستقبل میں کیا ہو گا؟ لِتَقْرَبُوا، کہ وہ احباب کیا ہو جائیں گے؟ قریب ہو جائیں گے۔ اور اس وقت میری آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں یعنی غم ہے لیکن بعد میں پھر کیا حاصل ہو گا؟ لِتَجْمُدَا، سرور حاصل ہو گا بھئی، سرور حاصل ہو گا۔ تو شاعر نے اس کلام کے اندر دو کنائے کیے مولانا۔ دو کنائے بھئی۔ ایک تَسْكُبُ عَيْنَايَ الدُّمُوعَ، ایک اس میں کنایہ ہے، اور ایک لِتَجْمُدَا، اس کے اندر کنایہ ہے بھئی۔ کنایہ۔ کنایہ کس کو کہتے ہیں بھئی؟ ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کرنا، یہ کنایہ کہلاتا ہے۔ ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کرنا، یہ کنایہ کہلاتا ہے۔ ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کرنا، یہ کنایہ۔ اب دیکھیے دو کنائے کون کون سے ہیں؟ ذرا ان پر غور کیجیے۔ تَسْكُبُ عَيْنَايَ الدُّمُوعَ، میری آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں، یہ کنایہ ہے غم سے۔ میں اس وقت کیا برداشت کر رہا ہوں؟ غم برداشت کر رہا ہوں، غم اٹھا رہا ہوں۔ تو آنکھوں کا آنسو بہانا یہ ہے ملزوم اور اس کے ساتھ لازم ہے غم۔ اس کے ساتھ کیا لازم ہے؟ اور اسی کا ارادہ کیا ہے مولانا شاعر نے، کہ اس وقت میں غم اٹھا رہا ہوں۔ لِتَجْمُدَا، یہ اس میں دوسرا کنایہ ہے تاکہ یہ خشک ہو جائیں، یہ کنایہ ہے، شاعر نے سرور سے کنایہ کیا ہے۔ خوشی سے مولانا۔ خوشی سے۔ اس لیے کہ آنکھ کے... آنکھ خشک، جمود کب آئے گا آنکھ میں؟ جبکہ آنسو نہ ہوں مولانا۔ اور آنسو کس وقت نہیں ہوں گے؟ جب غم نہ ہو۔ اور غم کس وقت نہیں ہو گا؟ جب انسان کو خوشی ہو۔ جمودِ عین کب ہو گا مولانا؟ جب انتفائے دموع ہو مولانا، آنسو نہ ہوں، ایک واسطہ۔ اور انتفائے دموع کب ہو گا؟ جب غم نہ ہو، دوسرا واسطہ۔ اور غم کس وقت نہیں ہو گا؟ جب کیا ہو؟ خوشی ہو۔ تو دیکھو جمود سے انتقال کرتا ہے ذہن سرور کی طرف، درمیان میں دو واسطے آ گئے۔ جمود کب ہو گا؟ جب آنسو نہ ہوں۔ اور آنسو کب نہیں ہوں گے؟ جب غم نہ ہو۔ اور غم کب نہیں ہو گا؟ جب خوشی ہو۔ تو دیکھو ذہن نے پہلے انتقال کیا جمود سے انتفائے دموع کی طرف، پھر انتفائے دموع سے ذہن نے انتقال کیا انتفائے حزن کی طرف کہ غم بھی نہیں ہے، پھر انتفائے حزن سے ذہن نے انتقال کیا کس کی طرف؟ خوشی کی طرف، سرور کی طرف۔ تو درمیان میں دو واسطے آ گئے بھئی۔ سمجھ میں آ رہی ہے بات سب کو؟ دو واسطے۔ تو ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کیا بھئی۔ تو پہلا کنایہ تو شاعر کا صحیح ہے کہ آنکھ سے آنسو بہانا جس کے ساتھ لازم کیا ہے؟ غم ہے۔ ذہن فوراً منتقل ہوتا ہے کس چیز کی طرف؟ جب بھی آنکھ سے آنسو بہانے کا ذکر ہو گا، ذہن میں فوراً کیا سمجھ میں آتا ہے کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ غم ہے بھئی، ذہن غم کی طرف منتقل۔ لیکن یہ جو جمودِ عین کو کنایہ بنایا سرور سے، کہتے ہیں اس میں تعقید ہے مولانا۔ ذہن فوراً اس کی طرف، سرور کی طرف انتقال نہیں کرتا۔ آنکھیں خشک ہو گئیں، اس سے یہ نہیں سمجھ میں آتا کہ خوش ہے، خوشی حاصل ہو گی، بلکہ اس سے کیا سمجھ میں آتا ہے کہ آنکھیں آنسو بہانے میں بخل کر رہی ہیں۔ آنکھیں کب... جمود کب آئے گا بھئی؟ جب وہ آنسو بہانے سے بخل کرے، اور وہ بھی غم ہی کی حالت ہوتی ہے، خوشی کی حالت نہیں۔ اردو میں بھی کہتے ہیں مولانا کہ مجھ پر اتنے مصائب آئے، اتنے غم آئے، اتنے غم آئے کہ اب تو روتے روتے آنکھیں بھی خشک ہو گئی ہیں۔ کہتے ہیں یا نہیں کہتے مولانا؟ تو کیا یہ آنکھوں کا خشک ہونا یہ سرور کی علامت ہے؟ نہیں بھئی، بلکہ یہ تو معنیٰ یہ ہے کہ اب بھی غم مجھ پر اسی طرح آ رہے ہیں لیکن اتنا رویا ہوں، اتنا رویا ہوں کہ اب آنکھیں بھی کیا کرنے لگی ہیں رونے میں؟ بخل کرنے لگی ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو وہ جو شاعر نے ارادہ کیا کہ ذہن جمود سے کس چیز کا؟ خوشی کا، اور ذہن خوشی کی طرف منتقل ہوتا ہے یا آنکھوں کے بخل کرنے اور غم کی حالت کی طرف منتقل ہوتا ہے؟ آنکھوں کے بخل کرنے کی طرف منتقل ہوتا ہے اور وہ بھی غم ہی کی حالت ہے بھئی۔ دونوں کنائے سمجھ میں آ گئے؟ تعقید سمجھ میں آئی کس جگہ پر ہے؟ جیسے دیکھو مولانا، تو یہاں واسطے آئے مولانا، کتنے واسطے آئے بھئی؟ دو واسطے آئے۔ تو جتنے کبھی کبھار واسطے بڑھ جاتے ہیں اور واسطوں کے بڑھ جانے کی وجہ سے معنیٰ لغوی تو سمجھ میں آ رہا ہے لیکن معنیٰ مراد کی طرف اب ذہن کا انتقال کیا ہوتا ہے؟ جلدی نہیں ہوتا جس سے کلام میں تعقید آ جاتی ہے۔ مثلاً میں دو کلام کرتا ہوں ذکر آپ کے سامنے۔ ایک کلام یہ ہے مولانا کہ زید سخی آدمی ہے۔ فوراً آپ کو سمجھ میں آ گئی بات۔ ایک میں کہتا ہوں: زید کثیر راکھ والا ہے۔ زید کثیر راکھ والا ہے، اب دیکھو یہ بھی مراد ذکر سخاوت ہی کا میں کر رہا ہوں۔ کیسے؟ کہ زید کثیر راکھ والا ہے، ذہن نے انتقال فوراً کیا کہ کثیر راکھ وہاں ہو گی جہاں پر زیادہ کھانے پکتے ہوں گے، اور زیادہ کھانے جہاں پکتے ہوں گے وہاں زیادہ لکڑی جلتی ہو گی ضرور۔ بلکہ یوں نہیں، جہاں راکھ زیادہ ہے دراصل وہاں لکڑی زیادہ جلی ہے۔ کیا ہوئی ہے؟ لکڑی زیادہ جلی ہے، اور لکڑی وہاں زیادہ جلی ہے جہاں کھانے زیادہ پکے ہوں، اور کھانے وہاں زیادہ پکے ہوں گے جہاں مہمان زیادہ آتے ہوں، اور جس کے پاس مہمان زیادہ آتے ہوں معلوم ہوا وہ سخی آدمی ہے۔ تو دیکھو کتنے واسطے درمیان میں آ گئے۔ کثرتِ راکھ سے انتقال کیا ذہن نے کس کی طرف؟ لکڑیوں کے زیادہ جلنے کی طرف، اور پھر اس سے انتقال کیا کھانا زیادہ پکنے کی طرف، اور پھر اس سے انتقال کیا مہمانوں کے زیادہ آنے کی طرف، اور پھر اس سے انتقال کیا کس کی طرف؟ تو واسطے کثیر ہوتے ہیں لیکن مولانا قرینے موجود ہوتے ہیں، ان قرینوں کی مدد سے انتقال کے اندر کوئی خلل واقع نہیں ہوتا۔ بعض جگہ ہو گا خلل آئے گا، بعض جگہ خلل نہیں آئے گا۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ معنیٰ نہیں کہ اس کے اندر خلل ہے کہ کثرتِ رماد سے، لیکن بہرحال واسطے تو بڑھ گئے، واسطے کیا ہوئے؟ بڑھ گئے بھئی۔ تو کبھی ایک واسطہ بھی آ جاتا ہے لیکن اس پر دلالت کرنے والے قرائن اتنے خفی ہوتے ہیں کہ اس کی دلالت مراد پر ظاہر نہیں ہوتی۔ اس مراد پر دلالت کرنے والے قرائن کیا ہوتے ہیں؟ خفی ہوتے ہیں۔ اور بعض اوقات دو، تین، چار واسطے درمیان میں آ جاتے ہیں لیکن ذہن پھر بھی فوراً کیا کر لیتا ہے؟ انتقال کر لیتا ہے، اس لیے کہ وہاں قرینے مخفی نہیں ہوتے معنیٰ مراد پر۔ اچھا، انہوں نے کیا کہا کہ کلام ظاہر الدلالۃ نہیں ہوتا کسی ایسے خلل کی وجہ سے جو واقع ہو رہا ہوتا ہے انتقالِ ذہن، ذہن کے انتقال کرنے میں معنیٰ اول سے وہ جو سمجھ میں آ رہا ہے بِحَسَبِ اللُّغَةِ إِلَى الثَّانِي الْمَقْصُودِ، لغت کے اعتبار سے، کس کی طرف انتقال؟ إِلَى الثَّانِي الْمَقْصُودِ، معنیٰ ثانی کی طرف جو کہ مقصود ہے، وَذَلِكَ بِسَبَبِ إِيرَادِ اللَّوَازِمِ الْبَعِيدَةِ، اور یہ بوجہ لانے کے لوازمِ بعیدہ کے ہوتا ہے بھئی۔ ایراد کا معنی لانا، بوجہ لانے لوازمِ بعیدہ کے بھئی۔ بھئی دیکھو، کثرتِ راکھ کے ساتھ لازم کیا تھا؟ لکڑیوں کا جلنا۔ اس کے ساتھ لازم کیا تھا؟ اس کے ساتھ لازم کیا تھا؟ اس کے ساتھ لازم کیا تھا؟ تو دیکھو لوازم میں لوازم آئے مولانا۔ تو یہ لوازم لاتے ہیں، بِسَبَبِ إِيرَادِ اللَّوَازِمِ الْبَعِيدَةِ، بوجہ لانے لوازمِ بعیدہ کا بھئی، الْمُفْتَقِرَةِ إِلَى الْوَسَائِطِ الْكَثِيرَةِ، جو محتاج ہوتے ہیں کس چیز کے؟ کثیر واسطوں کے۔ تو دیکھو کثرتِ راکھ کے ساتھ لازم ہے سخی ہونا لیکن کیا ہے، لازمِ قریب ہے یا لازمِ بعید ہے؟ جی، تو جو محتاج ہوتے ہیں کئی واسطوں کے، مَعَ خَفَاءِ الْقَرَائِنِ، ساتھ ساتھ قرینوں کے مخفی ہونے کے، الدَّالَّةِ عَلَى الْمَقْصُودِ، ایسے قرینے جو دلالت کرتے ہیں کس پر؟ مقصود پر۔ قرینہ کس کو کہتے ہیں بھئی؟ جی؟ هُوَ أَمْرٌ يُشِيرُ إِلَى الْمَطْلُوبِ، ایسی چیز جو مطلوب کی کی طرف اشارہ کر رہی ہو، اس پر دلالت کر رہی ہو اس کو قرینہ کہتے ہیں۔ هُوَ أَمْرٌ يُشِيرُ إِلَى الْمَطْلُوبِ۔ تو ساتھ وہ قرینے جو دلالت کر رہے ہوتے ہیں مقصود پر وہ بھی خفی ہوتے ہیں۔ كَقَوْلِ الْآخَرِ، جیسے ایک اور شاعر کا قول بھئی، وَهُوَ عَبَّاسُ بْنُ الْأَحْنَفِ، اور وہ کون ہے؟ عباس بن احنف، يَرْحَمُكَ اللهُ، وہ عباس بن احنف ہے بھئی۔ علامہ تفتازانی آپ کو بتلا رہے ہیں ماتن نے كَقَوْلِ الْآخَرِ کیوں کہا، كَقَوْلِهِ کیوں نہیں کہا بھئی، پہلے تو اسی طرح کہتے ہیں۔ کہتے ہیں بھئی دراصل ابھی پیچھے انہوں نے كَقَوْلِ الْفَرَزْدَقِ کہا تھا، اور اگر اب وہ کہتے كَقَوْلِهِ تو شبہ پڑتا کہ شاید یہ ھَا ضمیر بھی کس کو راجع ہے؟ فرزدق کو، حالانکہ یہ فرزدق کا شعر نہیں۔ وَلَمْ يَقُلْ كَقَوْلِهِ، اور ماتن نے كَقَوْلِهِ نہیں کہا، لِئَلَّا يُتَوَهَّمَ عَوْدُ الضَّمِيرِ إِلَى الْفَرَزْدَقِ، تاکہ یہ وہم نہ کیا جائے، تاکہ ضمیر کے فرزدق کی طرف لوٹنے کا وہم نہ کیا جائے۔ شِعْرٌ: سَأَطْلُبُ بُعْدَ الدَّارِ عَنْكُمْ لِتَقْرَبُوا میں طلب کر رہا ہوں تم سے اپنے گھر کی دوری کو تاکہ تم قریب ہو جاؤ۔ وَتَسْكُبُ بِالرَّفْعِ هُوَ الصَّحِيحُ، اور تَسْكُبُ، بعضوں نے اس کو تَسْكُبَ پڑھا ہے نصب کے ساتھ۔ علامہ تفتازانی بتلا رہے ہیں رفع کے ساتھ اس کو پڑھو: تَسْكُبُ۔ هُوَ الصَّحِيحُ، اور یہی کیا ہے؟ صحیح ہے، روایتاً بھی درایتاً بھی بھئی۔ بھئی بعضوں نے اس کو تَسْكُبَ پڑھا ہے اور اس سے پہلے اَنْ مقدر نکالا بھئی، اور پھر اس صورت میں یہ أَنْ تَسْكُبَ کا عطف ہے بُعْدَ الدَّارِ پر۔ سَأَطْلُبُ بُعْدَ الدَّارِ، میں کیا طلب کر رہا ہوں؟ گھر کے دوری کو اور آنکھوں سے آنسو کے بہانے کو، آنکھوں سے آنسوؤں کے بہنے کو کیا کر رہا ہوں؟ طلب کر رہا ہوں۔ کہتے ہیں وہ صحیح نہیں ہے بھئی نصب کے ساتھ۔ لِتَجْمُدَا، تاکہ یہ جامد ہو جائیں۔ جَعَلَ سَكْبَ الدُّمُوعِ كِنَايَةً، بنایا مصنف نے سَكْبَ الدُّمُوعِ کو کنایہ، وہ دیکھو میں نے بتایا تھا دو کنائے ہیں وہ ذکر کر رہے ہیں۔ سَكْبَ الدُّمُوعِ کو کنایہ بنایا عَمَّا يَلْزَمُ فِرَاقَ الْأَحِبَّةِ، اس چیز سے جو لازم ہے احبہ کے جدائی کے ساتھ۔ وہ کیا ہے؟ مِن بیانیہ آ رہا ہے، مِنَ الْكَآبَةِ وَالْحُزْنِ، یعنی کہ افسردگی اور غم ہے بھئی۔ کآبۃ کا معنی افسردہ ہونا، مغموم ہونا، شکستہ خاطر ہونا بھئی۔ تو کنایہ بنایا عَمَّا اس چیز سے يَلْزَمُ جو لازم ہے، کس چیز کے ساتھ لازم ہے؟ فِرَاقَ الْأَحِبَّةِ، احبہ کی جدائی کے ساتھ لازم ہے، وہ کیا چیز ہے؟ مِنَ الْكَآبَةِ وَالْحُزْنِ، یعنی کہ افسردگی اور غم۔ یعنی سَكْبَ الدُّمُوعِ کو کنایہ بنایا ہے افسردگی اور غم سے، وَأَصَابَ، اور اس میں وہ کیا ہے؟ صحیح ہے۔ لَكِنَّهُ أَخْطَأَ فِي جَعْلِ جُمُودِ الْعَيْنِ كِنَايَةً، لیکن شاعر نے خطا کی ہے، جَعَلَ، ہاں مصنف نے نہیں شاعر نے بنایا، شاعر نے۔ پیچھے بھی جَعَلَ... لَكِنَّهُ أَخْطَأَ، لیکن شاعر نے غلطی کی ہے فِي جَعْلِ جُمُودِ الْعَيْنِ كِنَايَةً، جمودِ عین کو کنایہ بنانے میں عَمَّا اس چیز سے يُوجِبُهُ، أَيْ يُثْبِتُهُ، جو کیا کرتی ہے؟ جو ثابت کرتی ہے اس کو... جو ثابت... نہیں، یوں نہیں، يُوجِبُهُ کا فاعل آگے دَوَامُ التَّلَاقِي آ رہا ہے، یہ فاعل ہے۔ شاعر نے غلطی کی مولانا جمودِ عین کو کنایہ بنانے میں عَمَّا اس چیز سے يُوجِبُهُ دَوَامُ التَّلَاقِي، جس کو ثابت کرتا ہے ملاقات کا دوام بھئی، ملاقات کا دائمی ہونا جس چیز کو ثابت کرتا ہے اس سے کنایہ بنایا۔ بھئی ملاقات کا دائمی ہونا کس چیز کو ثابت کرتا ہے؟ مِنَ الْفَرَحِ وَالسُّرُورِ، یعنی فرح اور یعنی خوشی۔ تو شاعر نے اس کو کنایہ بنایا کس سے؟ خوشی سے، خوشی سے۔ فَإِنَّ الِانْتِقَالَ مِنْ جُمُودِ الْعَيْنِ إِلَى بُخْلِهَا لَا إِلَى مَا قَصَدَهُ مِنَ السُّرُورِ، اس لیے کہ انتقال ہوتا ہے جمودِ عین سے إِلَى بُخْلِهَا، ان کے بخل کرنے کی طرف، لَا إِلَى مَا قَصَدَهُ مِنَ السُّرُورِ، نہ اس چیز کا جس کا اس نے ارادہ کیا ہے یعنی کہ سرور کا۔ تو انتقال ہوتا ہے جمودِ عین سے کس کی طرف مولانا؟ آنکھوں کے بخل بالدموع کی طرف، حَالَ إِرَادَةِ الْبُكَاءِ، رونے کی حالت میں مولانا۔ کس کی حالت میں؟ رونے کی حالت میں مولانا، آنکھیں کیا کرتی ہیں؟ بخل کرتی ہیں آنسو بہانے سے۔ وَهِيَ حَالَةُ الْحُزْنِ، اور یہ بھی کون سی حالت ہے؟ غم کی حالت ہے، عَلَى مُفَارَقَةِ الْأَحِبَّةِ، احبہ کی جدائی پر۔ لَا إِلَى مَا قَصَدَهُ مِنَ السُّرُورِ، نہ کہ اس چیز کی طرف جس کا اس نے ارادہ کیا ہے یعنی کہ خوشی کا، الْحَاصِلِ بِالْمُلَاقَاةِ، وہ خوشی جو حاصل ہو رہی ہے کس سے؟ حاصل ہو کس سے؟ ملاقات سے۔ وَمَعْنَى الْبَيْتِ، يرحمك الله، وَمَعْنَى الْبَيْتِ، اور شعر کا معنی کیا ہے؟ إِنِّي الْيَوْمَ، اب معنیٰ بیان کرنے لگے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ معنیٰ بیان۔ تو یہ اسی طرح ہے، تعقید کی مثال جیسے اردو میں ایک شعر ہے مولانا: مگس کو باغ میں جانے نہ دینا کہ ناحق خون پروانے کا ہو گا اب اس میں تعقید ہے، کیا معنیٰ بھئی؟ مگس شہد کی مکھی، شہد کی مکھی کو باغ میں نہ جانے دو بھئی کہ پروانے کا ناحق خون ہو گا بھئی، ناحق خون ہو گا۔ کہتے ہیں اس لیے کہ جب شہد کی مکھی جو ہے وہ باغ میں جائے گی بھئی تو وہ کیا کرے گی؟ پھولوں سے رس چوسے گی، شہد بنائے گی اور چھتا بنائے گی مولانا، اس چھتے میں شہد تیار کرے گی۔ جب شہد تیار ہو جائے گا تو انسان آئے گا، اور انسان آ کر شہد کو حاصل کرنے کے لیے مولانا چھتا اتارے گا، اس میں سے شہد نکال لے گا، پھر خالی چھتا بچ جائے گا، اس چھتے سے موم بنائے گا اور اس موم سے پھر شمع بنائے گا، اور پھر اس شمع کو جب وہ روشن کرے گا تو اس روشنی کو دیکھ کر پروانے آئیں گے اور اس پر جلتے ہوئے مر جائیں گے۔ تو دیکھو کہتے ہیں شہد کی مکھی کو باغ میں جانے نہ دینا کہ اس کی وجہ سے کیا ہو گا؟ پروانے کا خون ہو گا۔ تو کتنے بعید واسطے... کتنے واسطے آ گئے بھئی۔ تو دیکھیے مولانا، وَمَعْنَى الْبَيْتِ، اور شعر کا معنی یہ ہے: إِنِّي الْيَوْمَ أُطَيِّبُ نَفْسًا بِالْبُعْدِ الْيَوْمَ نکال کر بتلا دیا مولانا کہ یہ س مستقبل کے لیے نہیں ہے بھئی۔ کس کے لیے ہے سَأَطْلُبُ میں س؟ تاکید کے لیے ہے۔ آج أُطَيِّبُ، أُطَيِّبُ کا معنی تسلی دینا، خوش کرنا۔ میں تسلی دے رہا ہوں یا خوش کر رہا ہوں، تسلی... میں تسلی دے رہا ہوں نَفْسًا، نفس کو، بِالْبُعْدِ، کس کے ساتھ؟ دوری کے ساتھ، وَالْفِرَاقِ، اور جدائی کے ساتھ، وَأُوَطِّنُهَا، وَطَّنَ يُوَطِّنُ کا معنی ہے... وَطَّنَ يُوَطِّنُ کے معنی ہیں آمادہ کرنا، آمادہ کرنا۔ ھَا ضمیر راجع ہے نفس کو مولانا، نفس مؤنث ہے۔ اور میں آمادہ کر رہا ہوں نفس کو عَلَى مُقَاسَاةِ الْأَحْزَانِ، مقاساۃ کا معنی برداشت کرنا۔ احزان حزن کی جمع ہے، غم۔ اشواق مولانا شوق کی جمع ہے، لگاؤ کو کہتے ہیں۔ آج کے میں تسلی دے رہا ہوں نفس کو بِالْبُعْدِ وَالْفِرَاقِ، بعد اور جدائی کے ساتھ، وَأُوَطِّنُهَا عَلَى مُقَاسَاةِ الْأَحْزَانِ وَالْأَشْوَاقِ، اور میں اس کو آمادہ کر رہا ہوں غموں اور لگاؤ کو جھیلنے پر بھئی۔ وَأَتَجَرَّعُ، أَتَجَرَّعُ کا معنی ہے گھونٹ، گھونٹ گھونٹ پینا بھئی۔ غُصَص جمع ہے غُصَّة کی، غُصَّةٌ کی، اور یہ رنج و غم کو کہتے ہیں۔ اور ھَا ضمیر غصص کی جو ہے وہ راجع ہے مولانا اشواق کو، اشواق۔ اور میں گھونٹ گھونٹ پی رہا ہوں شوقوں کے رنج و غم کو، میں گھونٹ گھونٹ پی رہا ہوں شوقوں کے رنج و غم کو، وَأَتَحَمَّلُ لِأَجْلِهَا حُزْنًا، اور میں اٹھا رہا ہوں ان شوقوں کی وجہ سے، ھَا ضمیر پھر راجع ہے شوق کو، اور میں اٹھا رہا ہوں لِأَجْلِهَا، ان شوقوں کی وجہ سے حُزْنًا يُفِيضُ، نکرہ کے بعد کیا آ رہا ہے؟ فعل، اور یہ آپس میں کیا بنیں گے؟ اور موصوف سے پہلے کیا لے آتے ہیں؟ "ایسا" کا لفظ، اور میں اٹھاتا ہوں لِأَجْلِهَا ان شوقوں کی وجہ سے ایسے غم يُفِيضُ الدُّمُوعَ مِنْ عَيْنَيَّ، جو بہاتے ہیں آنسوؤں کو مِنْ عَيْنَيَّ، میری آنکھوں سے، لِأَتَسَبَّبَ بِذَلِكَ۔ تَسَبَّبَ بِهِ کے معنی ہوتے ہیں مولانا ذریعہ بننا اور واسطہ بننا۔ لِأَتَسَبَّبَ بِذَلِكَ، تاکہ وہ واسطہ بنے میرے لیے إِلَى وَصْلٍ، ایسے وصل تک، يَدُومُ، جو کیا ہو گا؟ دائمی ہو گا، وَمَسَرَّةٍ، اور ایسی خوشی تک، لَا تَزُولُ، جو کبھی بھی زائل نہیں ہو گی۔ فَإِنَّ الصَّبْرَ مِفْتَاحُ الْفَرَجِ، فرج مولانا راحت اور کشادگی، پس بے شک صبر جو ہے وہ راحت کی چابی ہے، وَمَعَ كُلِّ عُسْرٍ يُسْرًا، اور ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے، یہ عطف ہے ماقبل پر مولانا، إِنَّ۔ فَإِنَّ مَعَ كُلِّ عُسْرٍ يُسْرًا، تو يُسْرًا اسمِ مؤخر ہوا، منصوب ہوا۔ وَلِكُلِّ بِدَايَةٍ نِهَايَةً، اور ہر ابتدا کے لیے انتہا ہے، وَإِلَى هَذَا أَشَارَ الشَّيْخُ، يرحمك الله، اور اسی کی طرف اشارہ کیا شیخ عبد القاہر نے اپنی مشہور کتاب دلائل الاعجاز میں، وَلِلْقَوْمِ هَاهُنَا كَلَامٌ فَاسِدٌ أَوْرَدْنَاهُ فِي الشَّرْحِ، اور قوم لوگوں کا اور بلغات کا یہاں پر کلامِ فاسد ہے جس کو ہم لائے ہیں اپنی شرح کے اندر بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو علامہ تفتازانی نے یہ معنیٰ کیا اس شعر کا بھئی۔ یہ معنیٰ کیا۔ یہ معنیٰ کیا: کہ اس وقت میں صبر کروں گا، تکلیف اٹھاؤں گا، اس لیے کہ صبر کیا ہے؟ راحت کی کنجی ہے، اور ہر تنگی کے ساتھ کیا ہے؟ آسانی ہے، اور ہر ابتدا کے لیے کیا ہے؟ انتہا ہے، انتہا ہے۔ کہتے ہیں بعض علماء نے اس کا اور معنیٰ بیان کیا اس شعر کا، جس کو ہم نے اپنی شرح مطول مولانا، جس جو پہلے لکھی تھی طویل شرح اس میں ذکر کیا ہے۔ اور اور بلغات نے اور شارحین نے اس کا کیا معنیٰ بیان کیا؟ وہ لکھتے ہیں، وہ یہ بیان کرتے ہیں مولانا کہ کہ زمانہ اور رقیب انسان کے دشمن ہیں۔ انسان جو بھی کام کرنے لگتا ہے، زمانہ اور رقیب کیا کرتے ہیں؟ اس کے خلاف کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ چنانچہ اب میں آئندہ یوں کیا کروں گا کہ جو بھی میرا ارادہ ہو گا اس کو ظاہر نہیں کروں گا، اس کے عکس کو ظاہر کیا کروں گا۔ تو وہ اس جو عکس جس کو میں ظاہر کروں گا وہ سمجھیں گے شاید یہ یہی چاہتا ہے، وہ اس کے خلاف کریں گے، اور اس کے خلاف جو ہو گا وہی میری مراد ہو گی تو اس طرح میں اپنی مراد تک پہنچ جاؤں گا بھئی۔ تو جیسے میری مراد کیا ہے؟ احباب تک پہنچنا ہے اور ان کے ساتھ رہنا ہے، تو میں ظاہر کیا کرتا ہوں؟ میں ان سے دوری طلب کر رہا ہوں، تو زمانہ اور رقیب سمجھتے ہیں شاید دوری اس کا اس کی مراد ہے، وہ کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح اس کی ملاقات ہو جائے، اور حالانکہ تو وہی ملاقات کیا ہے؟ میری مراد ہے۔ تو اس طرح جو چیز میری مراد ہو، اس کے عکس کو میں کیا کرتا ہوں آئندہ؟ اس کو ظاہر کروں گا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور اس صورت میں پھر بتلایا تھا تَسْكُبُ کا عطف کس پر ہو رہا ہے؟ بُعْد پر بھئی۔ عَنْ... جیسے اردو کا ایک شاعر کہتا ہے، اردو کا، جی: مانگا کریں گے اب سے دعا ہجرِ یار کی آخر تو دشمنی ہے اثر کو دعا کے ساتھ قِيلَ فَصَاحَةُ الْكَلَامِ خُلُوصُهُ مِمَّا ذُكِرَ وَمِنْ كَثْرَةِ التَّكْرَارِ وَتَتَابُعِ الْإِضَافَاتِ كَقَوْلِهِ قِيلَ فَصَاحَةُ الْكَلَامِ خُلُوصُهُ مِمَّا ذُكِرَ وَمِنْ كَثْرَةِ التَّكْرَارِ وَتَتَابُعِ الْإِضَافَاتِ بھئی ماتن نے آپ کو بتلایا تھا کہ کلام... فصاحتِ کلام کسے کہتے ہیں؟ جو کلام خالی ہو تنافرِ کلمات سے، ضعفِ تالیف سے اور تعقید سے، تین عیوب ذکر کیے تھے۔ بعض علماء نے کہا کہ کثرتِ تکرار کا عیب بھی اس میں نہیں ہونا چاہیے، تتابعِ اضافات کا عیب بھی نہیں ہونا چاہیے۔ تو پانچ عیوب نہیں ذکر کرنے چاہیے، تین عیوب نہیں ذکر کرنے چاہیے، کتنے کرنے چاہیے؟ پانچ ذکر کرنے چاہیے۔ تو قِيلَ وَمِنْ كَثْرَةِ التَّكْرَارِ، یہ متن ہے مولانا: قِيلَ وَمِنْ كَثْرَةِ التَّكْرَارِ۔ یہ درمیان میں فَصَاحَةُ الْكَلَامِ خُلُوصُهُ مِمَّا ذُكِرَ، یہ علامہ تفتازانی نے عبارت نکال کر بتلایا کہ وَمِنْ كَثْرَةِ التَّكْرَارِ یہ واؤ عاطفہ ہے اور معطوف علیہ محذوف ہے جو یہ ہے مولانا، انہوں نے بتلایا۔ کہا گیا ہے کلام... فصاحتِ کلام اس کا خالی ہونا ہے ان چیزوں سے جو ذکر ہوئیں، وَمِنْ كَثْرَةِ التَّكْرَارِ، اور کس سے؟ کثرتِ تکرار سے، وَتَتَابُعِ الْإِضَافَاتِ، اور پے در پے اضافتوں سے بھئی۔ شِعْرٌ: وَتُسْعِدُنِي فِي غَمْرَةٍ بَعْدَ غَمْرَةٍ سَبُوحٌ لَهَا مِنْهَا عَلَيْهَا شَوَاهِدُ شعر نظر آ رہا ہے بھئی؟ وَتُسْعِدُنِي فِي غَمْرَةٍ بَعْدَ غَمْرَةٍ سَبُوحٌ لَهَا مِنْهَا عَلَيْهَا شَوَاهِدُ شاعر کہتا ہے: تُسْعِدُنِي، میری مدد کرتا ہے، فِي غَمْرَةٍ، ایک... غمرۃ کہتے ہیں سختی اور مصیبت کو، ایک مصیبت کے بعد دوسری مصیبت میں میری مدد کرتا ہے، کون مدد کرتا ہے؟ سَبُوحٌ، یہ فاعل آ رہا ہے اگلے مصرعے میں مولانا، تُسْعِدُنِي کا۔ میری مدد کرتا ہے سَبُوحٌ، أَيْ فَرَسٌ سَبُوحٌ بھئی، بتلایا موصوف محذوف ہے، أَيْ فَرَسٌ نکال کر یہ بتلا رہے ہیں بھئی۔ أَيْ فَرَسٌ حَسَنُ الْجَرْيِ، یعنی ایک ایسا عمدہ گھوڑا، حَسَنُ الْجَرْيِ، جو بہترین چلنے، اچھا چلنے والا ہے، لَا تُتْعِبُ رَاكِبَهَا، اپنے سوار کو تھکاتا نہیں۔ بھئی آپ نے کبھی گھوڑے پر سواری کی ہے؟ جی؟ مولانا گھوڑے پر سواری بڑا مشکل کام ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ سواری بڑی بڑا مشکل۔ عمدہ گھوڑا وہ شمار ہوتا ہے جو چلتے ہوئے سوار کو پتہ نہ چلنے دے کہ وہ چل رہا ہے بھئی۔ عام گھوڑا ہے اگر آپ اس پر بیٹھیں گے تو وہ گھوڑا دو قدم اٹھائے گا آپ چار دفعہ اچھلیں گے اس پر بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ بڑی تکلیف دہ سواری، اگر گھوڑا خراب چلنے والا ہو۔ سوار... میں نے تو سواری کی ہے، پتہ ہے مجھے، اتنا مشکل کام ہے اگر گھوڑا خراب چلنے والا ہو بھئی۔ گھوڑا یہاں سے چلتا چلنا شروع کرتا ہے اور ہر قدم پر انسان اس پر اچھلتا جاتا ہے، اچھلتا جاتا ہے بھئی۔ تو اب یہاں سے میرا خیال ہے کہ میرا خیال چند سو گز کا فاصلہ بھی طے کر لیں تو آپ کا سارا بدن درد کرنے لگے گا بھئی اس گھوڑے پر۔ تو عمدہ گھوڑا وہ ہے جو چلتے ہوئے پتہ ہی نہ چلے بھئی، آرام سے آپ سکون سے بیٹھے ہیں وہ چلتا جا رہا ہے بھئی اطمینان سے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کہتے ہیں فَرَسٌ حَسَنُ الْجَرْيِ، ایسا گھوڑا جو اچھا چلنے والا تھا وہ میری مدد کرتا تھا بھئی اچھا گھوڑا۔ کیا؟ کہتے ہیں: لَا تُتْعِبُ رَاكِبَهَا، کہ وہ تھکاتا نہیں اپنے سوار کو، كَأَنَّهَا تَجْرِي عَلَى الْمَاءِ، گویا کہ وہ کس پر چل رہا ہے؟ پانی پر چل رہا ہے، جیسے پانی پر مولانا کشتی چل رہی ہو تو بالکل ہموار چلتی ہے، عمدہ گھوڑا بھی اسی طرح چلتا ہے بھئی۔ لَهَا مِنْهَا عَلَيْهَا شَوَاهِدُ۔ لَهَا صِفَةُ سَبُوحٍ، یہ لَهَا کیا ہے مولانا؟ صفت ہے سَبُوحٍ کی۔ سَبُوحٌ ثَابِتَةٌ لَهَا شَوَاهِدُ۔ سَبُوحٌ، سبوح مولانا فَعُولٌ ہے بمعنیٰ فَاعِلٍ کے۔ اور آپ نے پڑھا وہ فَعُولٌ جو بمعنیٰ فَاعِلٍ کے ہو وہ مشترک ہوتا ہے بین المذکر والمؤنث، جیسے صَبُورٌ ہے، رَجُلٌ صَبُورٌ وَامْرَأَةٌ صَبُورٌ۔ تو فرس مؤنث استعمال ہے بھئی، فرس مؤنث کے لیے سبوح صفت آئی، اس لیے لَهَا ضمیر راجع کی مولانا، ھَا ضمیر مؤنث کی بھئی، کیونکہ موصوف فرس مؤنث ہے۔ تو دیکھو عبارت یوں ہے مولانا: لَهَا شَوَاهِدُ، سَبُوحٌ لَهَا شَوَاهِدُ، ایسا عمدہ چلنے والا گھوڑا، لَهَا شَوَاهِدُ، أَيْ ثَابِتَةٌ لَهَا شَوَاهِدُ۔ تو لَهَا جار مجرور ہے اور جار مجرور پڑھا ہے آپ نے آٹھ چیزوں میں سے کسی ایک چیز کے ساتھ ضرور متعلق ہو گا، تو یہاں یہ متعلق ہو گا ثَابِتَةٌ بھئی۔ تو ماقبل موصوف مؤنث تھا تو ثَابِتَةٌ بھی میں نے کیا نکالا ہے مولانا؟ مؤنث۔ نیز آگے اس کا فاعل جمع ہے اور جمع بھی بتاویل جماعت کے واحد مؤنث کے حکم میں ہے، تو شَوَاهِدُ مولانا اس کے لیے فاعل ہے۔ ثَابِتَةٌ ثابت ہیں لَهَا، اس گھوڑے کے لیے، کیا ثابت ہیں؟ شَوَاهِدُ مولانا، یہ فاعل ہے اس کے لیے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ علامات مولانا، دلائل بھئی دلائل، علامات۔ ثابت ہیں، ایسا عمدہ چلنے والا گھوڑا، لَهَا شَوَاهِدُ، کہ ثابت ہیں اس پر دلالتیں بھئی، ثابت ہیں اس پر اس میں علاماتیں ثابت ہیں۔ مِنْهَا حَالٌ مِّنْ شَوَاهِدَ، یہ مِنْهَا حال ہے شواہد سے مولانا۔ ثابت ہیں اس پر علامتیں اس حال میں مِنْهَا کہ وہ علامتیں اس... ھَا ضمیر پھر راجع ہے فرس کو، اسی گھوڑے میں سے۔ ثابت ہیں اس میں، کیا ثابت ہیں؟ علامتیں، اس حال میں کہ وہ کس میں ہیں؟ اسی گھوڑے میں ہیں۔ یہ مِنْهَا حال ہے شواہد سے۔ آپ نے پڑھا ہے نکرہ کے بعد جار مجرور آ جائے وہ اس کے لیے عموماً کیا بنیں گے؟ صفت بنے گی، نکرہ کے بعد اگر جار مجرور آئے تو وہ اس کے لیے صفت، اور یہاں مِنْهَا اگر مؤخر ہوتا تو شواہد کے لیے کیا بن جاتا؟ صفت، لیکن یہ اس پر مقدم ہو گیا تو معلوم ہوا اب صفت نہیں بن سکتا کیونکہ صفت موصوف پر مقدم نہیں ہو سکتی، تو اب حال بن گیا۔ تو شواہد... تو ثابت ہیں اس پر، اس گھوڑے پر دلائل ثابت ہیں اس حال میں کہ وہ دلائل کس میں سے ہیں؟ اسی گھوڑے کی ذات میں ہیں۔ عَلَيْهَا، اور کس پر ہیں؟ اسی گھوڑے پر ہیں۔ عَلَيْهَا، أَيْ عَلَى نَجَابَتِهَا، مضاف محذوف ہے مولانا یہاں، اس گھوڑے کی عمدگی پر، اس گھوڑے کے... غور سے سنو بھئی، مشکل ہے ذرا ترجمہ۔ کہنا یہ چاہتا ہے دیکھو، شاعر یہ کہنا چاہتا ہے کہ ہر ایک مصیبت کے بعد دوسری مصیبت آتی تھی مجھ پر لیکن میرا عمدہ چلنے والا گھوڑا میری مدد کیا کرتا تھا بھئی۔ اور اس گھوڑے کے عمدہ ہونے پر دلائل موجود تھے، اور یہ دلائل اسی کی اپنی ذات میں تھے مولانا۔ اس گھوڑے کے عمدہ ہونے پر اس کی اپنی ذات ہی میں کیا موجود تھے؟ دلائل، ایسی چیزیں موجود تھیں دلالت کر دیتی تھیں، بتلا دیتی تھیں کہ یہ گھوڑا معمولی گھوڑا نہیں، بڑا عمدہ گھوڑا ہے۔ تو اس گھوڑے کے عمدہ ہونے پر دلائل موجود تھے اور وہ اسی کے ذات میں سے تھے، ذات میں سے۔ تو لَهَا شَوَاهِدُ، اس گھوڑے کے لیے دلائل تھے، کس چیز پر دلائل تھے؟ عَلَى نَجَابَتِهَا، اس کے... عَلَيْهَا، أَيْ عَلَى نَجَابَتِهَا، اس کے عمدہ ہونے پر، بھئی کہاں پر تھے؟ کہتے ہیں: اس حال میں مِنْهَا کہ وہ اسی کے اسی میں تھے یعنی اسی کی ذات میں تھے۔ تو عَلَيْهَا مُتَعَلِّقٌ بِشَوَاهِدَ، یہ متعلق ہے مولانا شواہد کے ساتھ۔ شواہد جو ہے فَاعِلُ الظَّرْفِ، یہ ظرف کا فاعل ہے۔ کون ظرف مولانا؟ یعنی لَهَا، یعنی کہ لَهَا۔ بھئی اس کو رفع کس نے دیا لَهَا شَوَاهِدُ کو؟ جی؟ شواہد کو لَهَا نے رفع دیا ہے، یہ اس کا فاعل ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ بھئی یہ آپ کو سمجھانے کے لیے بتلایا جاتا ہے کہ لَهَا متعلق ہے کس سے؟ کس سے متعلق ہے؟ ثَابِتَةٌ سے، اور شواہد کے لیے... شواہد ثَابِتَةٌ کے لیے کیا بن رہا ہے؟ فاعل۔ معلوم ہوا اس کو رفع کس نے دیا؟ ثَابِتَةٌ نے، اس لیے کہ جیسے فعل رفع دیتا ہے، اسمِ فاعل وغیرہ بھی کیا کرتے ہیں؟ رفع دیتے ہیں۔ یہ آپ کو سمجھانے کے لیے کہا جاتا ہے، ورنہ درحقیقت ثَابِتَةٌ ختم ہو چکا، لَهَا نے اس کی جگہ لے لی ہے مولانا، اور اس لَهَا نے ہی اب آگے شواہد کو رفع دیا ہے۔ اسی ظرف نے کیا کیا ہے؟ یہی ظرف اب لَهَا، یہ جو جار مجرور ہے یہی رفع بھی دے گا اور اگر مفعول چاہتا ہے تو اس کو نصب وغیرہ بھی دے گا۔ فَاعِلُ الظَّرْفِ، یہ ظرف کا فاعل ہے، أَعْنِي لَهَا، یعنی لَهَا۔ یہ لَهَا کا فاعل ہے بھئی، ظرف کا فاعل ہے، کون سا ظرف؟ أَعْنِي لَهَا، یعنی کہ لَهَا۔ أَيْ أَنَّ لَهَا مِنْ نَفْسِهَا عَلَامَاتٍ دَالَّةً عَلَى نَجَابَتِهَا، یعنی اس گھوڑے کے لیے اس کی ذات میں ہی ایسی علامتیں ہیں، عَلَامَاتٍ دَالَّةً، جو دلالت کرنے والی ہیں عَلَى نَجَابَتِهَا، اس کے عمدہ ہونے پر بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ عَلَامَاتٍ اسم ہے أَنَّ کا، اور أَنَّ کا اسم کیا ہوتا ہے؟ منصوب، اور عَلَامَاتٍ جمع مؤنث سالم ہے اس کا نصب کس کے ساتھ آتا ہے؟ جر کے ساتھ۔ اسی لیے میں نے دَالَّةً پڑھا صفت پر تو کیا آ جائے گا؟ نصب، جی کیونکہ وہ واحد ہے، مؤنث ہے۔ تو عَلَامَاتٍ دَالَّةً عَلَى نَجَابَتِهَا، ایسی علامتیں جو دلالت کرنے والی ہیں اس کے گھوڑ... اس کے عمدگی پر۔ قِيلَ، کہا گیا ہے: التَّكْرَارُ ذِكْرُ الشَّيْءِ مَرَّةً بَعْدَ... بھئی علامہ زوزنی نے ایک اعتراض کیا کہ مصنف نے کیا عیب ذکر کیا ہے؟ بعض علماء کیا فرماتے ہیں کہ کس چیز سے کلام کو خالی ہونا چاہیے؟ کثرتِ تکرار سے بھی خالی ہونا چاہیے۔ کہتے ہیں بھئی تکرار کہتے ہیں ایک چیز کو دو دفعہ ذکر کیا جائے تو کہتے ہیں تکرار ہو گیا۔ ایک چیز آپ نے پہلے ذکر کی تھی، دوبارہ بھی ذکر کر دی تو کیا کہیں گے؟ تکرار۔ اور مصنف نے کہا کثرتِ تکرار، اور کثرت کیا ہے؟ کم از کم کتنے افراد آ جائیں؟ تین افراد آ جائیں۔ تو تکرار بھی کم از کم کتنی دفعہ آئے؟ تین دفعہ، اور ایک تکرار میں چیز کتنی دفعہ ذکر ہوتی ہے؟ دو، تو کثرتِ تکرار میں کتنی دفعہ ہوئی؟ چھ مرتبہ۔ ایک تکرار میں چیز کتنی دفعہ ذکر ہوتی ہے؟ دو دفعہ، اور ماتن نے کیا کہا: کثرتِ تکرار، معلوم ہوا تکرار کم از کم کتنی دفعہ آئے؟ تین دفعہ۔ تکرار کتنی دفعہ؟ تین، اور ہر ایک میں ایک چیز کتنی دفعہ ذکر ہے؟ دو دفعہ، دو مرتبہ اور پھر دو، تو کل کتنے ہو گئے؟ چھ۔ معلوم ہوا چھ مرتبہ ایک چیز ذکر ہو گی تو پھر اس کو کیا کہیں گے؟ کثرتِ تکرار کہیں گے۔ تو اس شعر کے اندر تکرار ہے ضمائر میں مولانا: لَهَا، مِنْهَا، عَلَيْهَا، تین ضمیریں آ گئیں مولانا، اور مصنف نے اس کو بطورِ مثال کے ذکر کیا کس کے لیے؟ کثرتِ تکرار کے لیے۔ حالانکہ اس میں تین دفعہ ضمیریں آئیں، کم از کم چھ دفعہ آتیں پھر ہم اس کو مثال بنا سکتے تھے کس کی؟ کثرتِ تکرار کی۔ اعتراض سمجھ میں آیا؟ علامہ تفتازانی رد کریں گے، کہتے ہیں بھئی کثرت سے مراد ما فوق الواحد ہے یہاں۔ جو واحد نہ ہو، بس وہ کیا ہے؟ کثیر ہے بھئی، اس میں کثرت آ گئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور تکرار کتنی دفعہ سے آتا تھا؟ دو دفعہ، اور ضمیر کتنی دفعہ آئی؟ تین مرتبہ، تو ما فوق الواحد ہو گیا، بس مولانا یہ کثرت آ گئی بھئی۔ قِيلَ: التَّكْرَارُ ذِكْرُ الشَّيْءِ مَرَّةً بَعْدَ أُخْرَى، علامہ زوزنی فرماتے ہیں، یہ قائل یہ ہیں، کہا گیا ہے کہ تکرار جو ہے وہ ذکر کرنا ہے ایک چیز کا ایک کے بعد دوبارہ، وَلَا يَخْفَى أَنَّهُ لَا يَحْصُلُ كَثْرَتُهُ بِذِكْرِهِ ثَالِثًا، اور یہ بات مخفی نہیں ہے کہ اس کی کثرت یعنی تکرار کی کثرت حاصل نہیں ہوتی مگر اس کے... اس کو تیسری دفعہ ذکر کر، یا اس ضمیر کی کثرت حاصل نہیں ہوئی اس کو تین تیسری دفعہ ذکر کرنے سے، کتنی دفعہ ذکر ہوئی ضمیر؟ تین دفعہ، بس۔ وَفِيهِ نَظَرٌ، علامہ تفتازانی رد کریں اس اعتراض کو، کہتے ہیں: لِأَنَّ الْمُرَادَ بِالْكَثْرَةِ هَاهُنَا مَا يُقَابِلُ الْوَحْدَةَ، اس لیے کہ کثرت سے یہاں کیا مراد ہے؟ جو وحدت کے مقابل ہو یعنی ما فوق الواحد مراد ہے، یعنی جس میں وحدت نہ ہو، اور وحدت کتنے میں تھی؟ دو دفعہ آتا تو ایک تکرار ہوتا تو وحدت ہوتی، اور یہ دو دفعہ ہے یا تین دفعہ؟ تو وحدت ختم ہو گئی، بس کثرت آ گئی۔ وَلَا يَخْفَى حُصُولُهَا بِذِكْرِهِ ثَالِثًا، اور مخفی نہیں ہے اس کا حصول تیسری دفعہ ذکر کرنے سے۔ چلیے مولانا، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
50 approved lectures · 11 of 50