Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مختصر المعاني · dars-137

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Rawaid ullah
📍 Location Islamabad, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 55
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
کل کے سبق میں مولانا ہم نے زہیر ابن ابی سلمیٰ کا شعر پڑھا تھا جس کے اندر استعارہ بالکنایہ اور استعارہ تخییلیہ ہونے کا بھی امکان تھا اور استعارہ تحقیقیہ ہونے کا بھی امکان تھا بھئی۔ صَحَا الْقَلْبُ عَنْ سَلْمَى وَأَقْصَرَ بَاطِلُهْ وَعُرِّيَ أَفْرَاسُ الصِّبَا وَرَوَاحِلُهْ قرار آ گیا دل کو سلمیٰ کی محبت سے اور وہ باز، اور باز آ گیا اس قلب کا باطل، یعنی اس کے خواہشات کی طرف میلان جو تھا وہ اس سے رک گیا۔ وَعُرِّيَ أَفْرَاسُ الصِّبَا وَرَوَاحِلُهْ اور جوانی کے زمانے کے گھوڑے اور سواریاں ننگی ہو گئیں یعنی ان سے، گھوڑوں سے زین اور اونٹوں سے کجاوے وغیرہ اتار لیے گئے اور وہ معطل ہو گئے۔ اس شعر کے اندر شاعر نے صبا کو تشبیہ دی ہے۔ تشبیہ دی ہے مولانا سفر کے ساتھ، کسی نوع کے سفر کے ساتھ بھئی۔ جی۔ اور سفر کے ساتھ۔ اور وجہ تشبیہ کیا تھی، یہ ذکر کی تھی انہوں نے کہ اشتغال تامہ ہے جیسے سفر میں اشتغال تامہ اور اسی طرح انسان دشوار گزار اور مشکل راہوں پر سفر کرتا ہے بغیر پرواہ کیے ہلاکت کا، اور بغیر بچے ہوئے لڑائی اور فساد سے، اسی طرح جوانی کے زمانے میں ہوتا ہے میلان خواہشات کی طرف، لذتوں کی طرف میلان کے وقت ہوتا ہے بھئی۔ تو وہ یہ کہنا چاہتا ہے شاعر کہ وہ چیزیں جو میں محبت کے زمانے میں کیا کرتا تھا یعنی جہالت اور گمراہیوں وغیرہ کے کام، ان سب کو میں نے ترک کر دیا ہے تو اس کے آلات معطل پڑے ہیں۔ جیسے کہ سفر کے کرنے کے، پورا کرنے کے بعد سفر کے آلات کیا ہوتے ہیں؟ معطل پڑے ہوتے ہیں۔ تو یہاں صبا کو تشبیہ دی ہے سفر کے ساتھ اور ذکر مشبہ ہے، تو یہ کیا ہوا؟ استعارہ بالکنایہ ہوا اور پھر اس صبا کے لیے افراس اور رواحل ثابت کیے جو لازم ہیں کس کے ساتھ؟ سفر کے ساتھ، یہ استعارہ بالکنایہ، استعارہ تخییلیہ ہوا بھئی۔ اور اس میں استعارہ تحقیقیہ ہونے کا بھی امکان تھا کہ صبا کے اندر تشبیہ نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ استعارہ کس کے اندر ہے؟ افراس اور رواحل کے اندر ہے۔ کہ اس کی تشبیہ دی ہے نفس کے دوامی اور اس کی شہوتوں اور قوتوں کو کس کے ساتھ؟ افراس اور رواحل کے ساتھ۔ اور وجہ تشبیہ کیا؟ کہ دونوں پرمشقت چیز تک پہنچنے کا وسیلہ اور ذریعہ ہیں۔ تو مشبہ بہ کو ذکر کر دیا مشبہ کے لیے اور یہ کیا کہلاتا ہے؟ استعارہ کہلایا، کہلاتا ہے۔ یا مولانا افراس سے مراد وہ اسباب ہیں جو، جن کو جوانی کے زمانے میں اختیار کیا جاتا ہے گمراہی کے لیے جیسے کہ مال ہے، مطلوبہ چیزیں ہیں اور مددگار وغیرہ ہیں بھئی۔ تو اس صورت میں بھی افراس مشبہ بہ اور وہ اسباب ہوئے مشبہ، اور مشبہ بہ بول کر کیا مراد ہے؟ مشبہ مراد ہے، تو یہ استعارہ تحقیقیہ ہوا بھئی۔ اس کے بعد ہم نے دوسری فصل شروع کی تھی جس فصل کے اندر مصنف حقیقت، مجاز، استعارہ بالکنایہ اور استعارہ تخییلیہ کی چند مباحث ذکر کریں گے، وہ مباحث جو علامہ سکاکی نے ذکر کی ہیں لیکن مصنف کے، مصنف نے ان کو کیا کیا؟ رد، مصنف ان کو اس فصل کے اندر رد کریں گے، مصنف اس فصل میں ان کو رد اور ان پر اعتراضات ذکر کریں گے بھئی جو مصنف کے کلام کے موافق نہیں ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ چنانچہ کہتے ہیں مصنف نے ذکر کیا کہ علامہ سکاکی نے حقیقت لغویہ کی یہ تعریف کی ہے: الْكَلِمَةُ الْمُسْتَعْمَلَةُ فِيمَا وُضِعَتْ لَهُ مِنْ غَيْرِ تَأْوِيلٍ فِي الْوَضْعِ کہ وہ کلمہ ہے جو استعمال کیا جائے ایسے معنیٰ کے اندر جس کے لیے اس کو وضع کیا گیا ہے اور بغیر، وضع میں تاویل کیے بغیر، وضع میں تاویل کیے بغیر۔ یہ وضع میں تاویل کیے بغیر، مِنْ غَيْرِ تَأْوِيلٍ فِي الْوَضْعِ، اس قید کو کیوں بڑھایا؟ یہ بتلا رہے ہیں آپ کو کہ اس کے ذریعے استعارہ سے کیا کیا؟ احتراز کیا اس لیے کہ استعارہ بھی معنی موضوع لہ میں مستعمل ہے لیکن یہ موضوع لہ کیا ہے؟ تاویلاً ہے، حقیقتاً نہیں ہے۔ تو مِنْ غَيْرِ تَأْوِيلٍ جب کہا تو یہ تاویلی، وضع تاویلی خارج ہوئی تو استعارہ کیا ہوا؟ خارج ہوا۔ اس لیے کہ استعارہ کے اندر ہم کیا کرتے ہیں کہ تاویل کرتے ہیں مشبہ کو بھی کس کی جنس میں سے بناتے ہیں؟ مشبہ بہ کی جنس میں سے بناتے ہیں کہ اس کے دو افراد ہیں ایک متعارف اور ایک غیر متعارف، اور یہ جو کلمہ ہے یہ استعمال ہو رہا ہے اپنے معنی موضوع لہ کے اندر ہی لیکن کس طور پر؟ تاویل کے طور پر، یعنی غیر متعارف کے پر اس کا اطلاق ہو رہا ہے بھئی۔ وَعَرَّفَ السَّكَّاكِيُّ الْمَجَازَ اللُّغَوِيَّ بِالْكَلِمَةِ الْمُسْتَعْمَلَةِ فِي غَيْرِ مَا هِيَ مَوْضُوعَةٌ لَهُ بِالتَّحْقِيقِ اور تعریف کی ہے علامہ سکاکی نے مجاز لغوی کی ان الفاظ کے ساتھ: بِالْكَلِمَةِ الْمُسْتَعْمَلَةِ، کہ وہ کلمہ ہے جو استعمال ہو مولانا، کس کی تعریف چل رہی ہے مجاز لغوی کی، استعمال ہو غیر ما ہی موضوعۃ لہ، غیر موضوع لہ کے اندر مولانا، فِي غَيْرِ مَا، اس معنی میں جو غیر ہے، هِيَ مَوْضُوعَةٌ لَهُ، جس کے لیے یہ کلمہ وضع ہے، بِالتَّحْقِيقِ بھئی، یعنی حقیقتاً اس کے لیے وضع۔ مجاز لغوی کس کو کہتے ہیں بھئی، علامہ سکاکی کیا تعریف کر رہے ہیں؟ کہ کلمہ استعمال ہو رہا ہے ایسے معنیٰ کے اندر کہ کلمہ اس معنیٰ کے لیے وضع نہیں حقیقتاً، تاویلاً ہے یعنی، یعنی تاویلاً، حقیقتاً نہیں۔ اسْتِعْمَالًا فِي الْغَيْرِ استعمال کرتے ہوئے، کس کے اندر؟ یہ جو استعمال ہے غیر کے اندر ہے، غیر موضوع لہ کے اندر ہے۔ بِالنِّسْبَةِ إِلَى نَوْعِ حَقِيقَتِهَا نوع کی اضافت حقیقت کی طرف بیانیہ ہے یعنی وہ نوع کیا ہے؟ اس کلمے کی حقیقت ہے۔ غیر کے اندر نسبت کرتے ہوئے اس نوع کی طرف، وہ نوع جو اس کلمے کی حقیقت ہے۔ مَعَ قَرِينَةٍ مَانِعَةٍ ساتھ ایسا قرینہ جو مانع ہو، عَنْ إِرَادَةِ مَعْنَاهَا اس کلمے کے معنی سے، فِي ذَلِكَ النَّوْعِ اس نوع کے اندر بھئی، اس، جس کے ذریعے کنایہ کو نکال رہے ہیں بھئی۔ کس کو نکال رہے ہیں؟ کنایہ کو، کیونکہ کنایہ کے اندر معنی حقیقی کا بھی ارادہ کیا جا سکتا ہے، جبکہ اس کے اندر معنی حقیقی کا، معنی مجازی میں مستعمل تو ہے لیکن اور ساتھ ساتھ معنی حقیقی کا ارادہ بھی نہیں ہو سکتا بھئی۔ اچھا، یہاں تک مولانا مَعْنَاهَا فِي ذَلِكَ النَّوْعِ، یہ علامہ سکاکی نے مجاز کی تعریف کی، مجاز لغوی کی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ دیکھو، دوبارہ دیکھو ذرا۔ وہ کلمہ ہے جو استعمال ہو علاوہ اس معنیٰ کے، هِيَ مَوْضُوعَةٌ لَهُ، جس کے لیے اس کلمے کو وضع کیا گیا ہے، بِالتَّحْقِيقِ، حقیقی طور پر۔ حقیقتاً جس معنیٰ کے لیے وضع کیا گیا تھا اس کے غیر میں کلمے کو استعمال کیا جائے بھئی۔ بِالتَّحْقِيقِ کی قید کیوں بڑھائی علامہ، بھئی علامہ سکاکی نے؟ جی؟ تاکہ استعارہ بھی اس کے اندر داخل ہو جائے مولانا۔ اس لیے کہ استعارے کے بارے میں آپ نے کیا پڑھا کہ یہ موضوع لہ میں استعمال ہو رہا ہے یا غیر موضوع لہ میں؟ موضوع لہ ہی میں استعمال ہو رہا ہے لیکن یہ موضوع لہ ہے تاویلی۔ تو اگر صرف یہ بِالتَّحْقِيقِ نہ کہیں تو پھر تو استعارہ مجاز سے خارج ہوا حالانکہ وہ بھی کیا ہے؟ داخل ہے۔ تو اس کو داخل کرنے کے لیے بِالتَّحْقِيقِ کی قید بڑھائی کہ موضوع لہ کون سا موضوع لہ؟ حقیقتاً، جو حقیقتاً موضوع لہ ہے اس کے غیر میں استعمال ہو، مثلاً مولانا میں لفظ اسد بولتا ہوں اور مراد کیا ہے؟ رجل شجاع، تو میں نے کیا دعویٰ کر دیا کہ رجل شجاع بھی کس کی جنس میں سے ہے؟ اسد کی جنس میں سے ہے، ایک فرد متعارف ہے اور ایک فرد، تو اب اسد کا اطلاق جو میں رجل شجاع پر کر رہا ہوں یہ معنی موضوع لہ ہے اس کا یا غیر موضوع لہ ہوا؟ جب میں تاویل کر دی، اس کو اس کا فرد بنا دیا تو کلمہ کس میں استعمال ہو رہا ہے؟ موضوع لہ، ہاں تاویل کی وجہ سے، یہ موضوع لہ کیسے بنا؟ تاویل کی وجہ سے، اگر تاویل نہ ہوتی پھر تو یہ موضوع لہ نہیں تھا۔ تو اب استعارے کے اندر دیکھو، اسد کے اندر استعارہ ہے، اسد بول کر کیا مراد لے رہا ہوں؟ اور رجل شجاع بھی کیا ہے؟ اس کا معنی موضوع لہ ہے، لیکن موضوع لہ کون سا ہے؟ تاویلاً، اور موضوع لہ حقیقی کون سا ہے؟ اسد، موضوع لہ حقیقی کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا موضوع لہ حقیقی کے علاوہ میں ہو۔ موضوع لہ، اگر صرف یہ کہہ دیتے موضوع لہ کے علاوہ میں ہو، تو موضوع لہ تو ایک حقیقتاً ہے اور ایک تاویلاً ہے، تو حقیقتاً کے تو علاوہ بن جاتا لیکن تاویلاً کے علاوہ، تو وہ پھر بھی موضوع لہ میں داخل، اس کے اندر مولانا داخل نہ ہوتا بھئی، تو اس کو داخل کرنے کے لیے بِالتَّحْقِيقِ کی قید لگائی بھئی۔ اسْتِعْمَالًا فِي الْغَيْرِ بِالنِّسْبَةِ إِلَى نَوْعِ حَقِيقَتِهَا استعمال کرتے ہوئے غیر کے اندر، غیر سے کیا مراد ہے؟ غیر موضوع لہ، استعمال کرتے ہوئے کلمے کو غیر موضوع لہ میں، غیر موضوع لہ میں کس طور پر ہے مولانا؟ بِالنِّسْبَةِ إِلَى نَوْعِ حَقِيقَتِهَا، نوع کے لفظ کو ذرا نکال دیں مولانا، ویسے ہی کر لیتے ہیں ہم، نسبت کرتے ہوئے اس کلمے کی حقیقت کی طرف، اس کلمے کی جس نوع میں اس کی استعمال کر رہے ہیں اس کی حقیقت کے اعتبار سے۔ یہ اصل میں یہ الفاظ اضافہ کیا علامہ سکاکی نے اس لیے کہ حقیقت اور مجاز دونوں کی پڑھا تھا آپ نے چار چار قسمیں ہیں، تو تعریف ہو رہی ہے مجاز کی تو مجاز کی بھی تاکہ وہ چار قسمیں اس میں داخل ہو جائیں اور وہ کون سی تھیں مولانا؟ کتنی تقسیم کیسے کی تھی؟ مجاز کی چار قسمیں ہیں، مجاز لغوی، عرفی عام، عرفی خاص اور شرعی۔ تو ان انواع کو داخل کرنے کے لیے انہوں نے یہ قید ذکر کی کہ وہ غیر ہو وہ معنیٰ جو موضوع لہ ہے، موضوع لہ حقیقی سے، بھئی مجاز میں کیا ہوتا ہے؟ موضوع لہ حقیقی میں استعمال ہوتا ہے یا غیر موضوع لہ حقیقی میں؟ غیر موضوع لہ حقیقی میں استعمال ہوتا ہے لیکن اس اصطلاح میں جس میں تکلم کیا جاتا ہے، اگر اہل شریعت کی اصطلاح میں کلام کیا جائے اور صلوٰۃ سے کیا مراد لیں مولانا؟ صلوٰۃ سے ہم کیا مراد لیں؟ دعا مراد لیں، اب دیکھو لفظ صلوٰۃ لغت کے اعتبار سے یہ اس کا معنی حقیقی ہے لیکن اس نوع میں جس کے اندر ہم کلام کر رہے ہیں، اس اصطلاح میں جس کے اندر ہم کلام کر رہے ہیں اس اعتبار سے یہ دعا جو صلوٰۃ کا معنی ہے یہ حقیقی ہے یا مجازی؟ ہم بات کس اصطلاح میں کر رہے ہیں؟ اور اہل شریعت کی اصطلاح میں اس کا حقیقی معنی کیا ہے؟ صلوٰۃ، اور دعا جو لغوی اعتبار سے اس کا حقیقی معنی ہے وہ شرعی اعتبار سے اس کا کون سا معنی ہے؟ مجازی معنی ہے، تو لفظ صلوٰۃ بولا اور اس سے مراد لی دعا، تو وہ جو حقیقت کی جو نوع ہے جس کے اندر ہم کیا کر رہے ہیں؟ جس میں یہ استعمال ہوا ہے جس نوع کے اندر، اس کی حقیقت کے اعتبار سے یہ کیا ہے؟ غیر ہے یعنی موضوع لہ کا غیر ہے یعنی مجاز ہے بھئی۔ اسْتِعْمَالًا فِي الْغَيْرِ بِالنِّسْبَةِ إِلَى نَوْعِ حَقِيقَتِهَا اس کلمے کی حقیقت کی نوع کی طرف نسبت کرتے ہوئے، جی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ترجمہ آخر سے کریں۔ اس کلمے کی حقیقت کی نوع کی طرف نسبت کرتے ہوئے، وہ استعمال کس کے اندر ہے مولانا؟ غیر کے اندر ہے۔ مَعَ قَرِينَةٍ مَانِعَةٍ، اور ساتھ کوئی ایسا قرینہ بھی ہو جو مانع ہو، عَنْ إِرَادَةِ مَعْنَاهَا، اس کے، اس کلمے کے معنی حقیقی کے ارادے سے مانع بھی ہو، فِي ذَلِكَ النَّوْعِ، کون سا معنی حقیقی؟ کہتے ہیں فِي ذَلِكَ النَّوْعِ، جو اس نوع کے اندر معنی حقیقی ہے اس سے مانع کوئی موجود ہو مولانا۔ وَقَوْلُهُ بِالنِّسْبَةِ مُتَعَلِّقٌ بِالْغَيْرِ جی، کہتے ہیں علامہ تفتازانی بتلا رہے ہیں بھئی یہ جو علامہ سکاکی نے تعریف کی اس میں ایک لفظ آیا تھا بِالنِّسْبَةِ، بِالنِّسْبَةِ إِلَى نَوْعِ حَقِيقَتِهَا، یہ جار مجرور ہے، جار مجرور کسی چیز سے متعلق ہونا چاہتا ہے تو یہ کس سے متعلق ہے؟ کہتے ہیں مُتَعَلِّقٌ بِالْغَيْرِ، بِالنِّسْبَةِ سے پہلے جو الْغَيْرِ آیا یہ اس غیر سے متعلق ہے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے مولانا کہ غیر تو کیا ہے؟ جار مجرور تو آٹھ چیزوں سے متعلق ہوتے ہیں مولانا: فعل ہو، اسم فاعل، اسم مفعول، مصدر، صفت مشبہ، اسم تفضیل اور اور جی؟ اسم فعل ہے اور، کون سی آٹھ چیزیں ہیں بھئی؟ فعل ہے، مصدر ہے، اسم فاعل ہے، اسم مفعول، صفت مشبہ، اسم تفضیل، مبالغے کا صیغہ اور اسم فعل، بھئی یہ آٹھ چیزیں، ان سے متعلق، تو یہ غیر تو ان آٹھ میں سے کوئی ایک بھی نہیں ہے، اس کے ساتھ یہ کیسے متعلق ہو گیا؟ جواب یہ ہے مولانا کہ غیر بمعنی مغایر کے ہوا، غیر کس کے معنی میں؟ مغایر کے معنی میں ہوا تو اب یہ مولانا مشتق کے معنی میں ہو گیا اب اس سے متعلق ہو سکتا ہے بھئی۔ وَاللَّامُ فِي الْغَيْرِ لِلْعَهْدِ اور الْغَيْرِ پر جو انہوں نے الف لام داخل کیا وہ کون سا ہے؟ الف لام عہدی ہے اور الف لام عہدی کے ذریعے کسی متعین چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے، تو ہر غیر نہیں مراد بلکہ غیر موضوع لہ مراد ہے۔ ہر غیر نہیں مراد بلکہ غیر موضوع لہ مراد۔ خود بتلا رہے ہیں: أَيِ الْمُسْتَعْمَلَةِ فِي مَعْنًى غَيْرِ الْمَعْنَى الَّذِي الْكَلِمَةُ مَوْضُوعَةٌ لَهُ کہ استعمال ہو ایسے معنیٰ کے اندر جو غیر ہو اس معنیٰ سے کہ جس کے لیے کلمے کو وضع کیا گیا تھا، فِي اللُّغَةِ، کس کے اندر؟ لغت میں، أَوِ الشَّرْعِ، یا شریعت میں، أَوِ الْعُرْفِ، یا عرف میں، غَيْرًا، یہ غیر ہو، بِالنِّسْبَةِ إِلَى نَوْعِ حَقِيقَةِ تِلْكَ الْكَلِمَةِ، اس کلمے کی حقیقت کی نوع کی طرف نسبت کرتے ہوئے، جس نوع میں کلام ہے اس نوع کی طرف نسبت کرتے ہوئے وہ کلمہ معنی موضوع لہ میں استعمال نہ ہو بلکہ کس میں ہو؟ غیر موضوع لہ میں۔ حَتَّى لَوْ كَانَ نَوْعُ حَقِيقَتِهَا لُغَوِيًّا حتیٰ کہ اگر اس کی حقیقت، کلمے کی حقیقت کی نوع کون سی تھی؟ لغوی تھی، تَكُونُ الْكَلِمَةُ قَدِ اسْتُعْمِلَتْ فِي غَيْرِ مَعْنَاهَا اللُّغَوِيِّ تو کلمہ استعمال ہوا کس کے اندر؟ تو کلمہ استعمال ہو گا مولانا غیر معنی لغوی کے، کلمہ استعمال ہو غیر معنی لغوی کے اندر، فَيَكُونُ مَجَازًا لُغَوِيًّا تو پھر یہ کیا بن جائے گا؟ مجاز لغوی، وَعَلَى هَذَا الْقِيَاسُ اور اسی قیاس پر، یعنی اگر اس کی نوع کی حقیقت شرعی ہو اور کلمہ استعمال ہو غیر معنی شرعی کے اندر تو پھر یہ کیا بن جائے گا؟ مجاز شرعی، اور اگر اس کلمے کی نوع مولانا وہ کیا ہو؟ عرفی خاص ہو تو اگر کلمہ استعمال ہو غیر معنی عرفی خاص میں تو پھر یہ کیا بن جائے گا؟ مجاز عرفی خاص، اور اگر اس کلمے کی نوع کیا ہو؟ عرفی عام ہو تو کلمہ استعمال ہو غیر معنی عرفی عام میں تو پھر یہ کیا بن جائے گا؟ مجاز عرفی عام۔ وَلَمَّا كَانَ قَوْلُهُ اسْتِعْمَالًا فِي الْغَيْرِ بِالنِّسْبَةِ إِلَى جی، یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں بھئی۔ بھئی اوپر جو آپ کو علامہ سکاکی کی عبارت بتلائی کہاں کہاں تک ہے بھئی ان کی عبارت؟ الْكَلِمَةِ الْمُسْتَعْمَلَةِ سے شروع ہو رہی ہے اور دو سطروں تک فِي ذَلِكَ النَّوْعِ، یہاں تک یہ کس کی عبارت ہے؟ علامہ سکاکی کی عبارت ہے۔ لیکن یہ عبارت ذکر کی علامہ تفتازانی نے بھئی، مصنف نے اپنی کتاب آگے متن آ رہا ہے اس کے اندر علامہ سکاکی کی عبارت ذکر کی ان الفاظ کے ساتھ، دیکھو وہی بات کر رہے ہیں لیکن الفاظ تھوڑے بدل دیے: فِي غَيْرِ مَا وُضِعَتْ لَهُ، اور اوپر کیا تھا؟ فِي غَيْرِ مَا هِيَ مَوْضُوعَةٌ لَهُ بِالتَّحْقِيقِ، فِي اصْطِلَاحٍ بِهِ التَّخَاطُبُ مَعَ قَرِينَةٍ مَانِعَةٍ عَنْ إِرَادَتِهِ، تو دیکھو درمیان میں یہ فِي اصْطِلَاحٍ بِهِ التَّخَاطُبُ لے آئے۔ بات کس کی کر رہے ہیں مصنف؟ صاحب تلخیص قول کس کا نقل کر رہے ہیں؟ اوپر خود کہا علامہ سکاکی نے مجاز لغوی کی یہ تعریف کی ہے، حالانکہ ان کے یہ الفاظ تو نہیں ہیں، ان کے الفاظ تو وہ اوپر جو ذکر کیے دو سطروں میں، الفاظ تو انہوں نے وہ ذکر کیے۔ تو انہوں نے ایک ذکر کیا تھا اپنی عبارت کے اندر: اسْتِعْمَالًا فِي الْغَيْرِ بِالنِّسْبَةِ إِلَى نَوْعِ حَقِيقَتِهَا، انہوں نے کیا ذکر کیا تھا علامہ سکاکی نے؟ مل گئی عبارت بھئی؟ یہ اسْتِعْمَالًا فِي الْغَيْرِ بِالنِّسْبَةِ إِلَى نَوْعِ حَقِيقَتِهَا، یہ علامہ سکاکی نے ذکر کی ہے، یہ الفاظ ذکر کیے ہیں اور مصنف انہی کی عبارت کو نقل کر رہے ہیں اور یہ عبارت بیچ میں نہیں لائے بلکہ اس کی جگہ انہوں نے کیا رکھ دیا؟ فِي اصْطِلَاحٍ بِهِ التَّخَاطُبُ، یہ الفاظ رکھ دیے بھئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو اشکال ہوا انہوں نے ایسا کیوں کیا بھئی؟ علامہ سکاکی کے جو الفاظ تھے ان کو اس سے کیوں بدلا؟ جواب یہ ہے مولانا کہ وہ جو علامہ سکاکی جو بات کہنا چاہتے تھے وہ یہی تھی فِي اصْطِلَاحٍ بِهِ التَّخَاطُبُ، لیکن ان کے الفاظ اتنے واضح نہیں تھے لہٰذا مصنف نے ان کو کس سے بدل دیا؟ زیادہ واضح الفاظ سے جو مقصود پر اچھی طرح کیا کریں؟ دلالت کریں۔ وَلَمَّا كَانَ قَوْلُهُ جب تھا علامہ سکاکی کا یہ قول: اسْتِعْمَالًا فِي الْغَيْرِ بِالنِّسْبَةِ إِلَى نَوْعِ حَقِيقَتِهَا یہ الفاظ جو تھے علامہ سکاکی کے، بِمَنْزِلَةِ قَوْلِنَا یہ ہمارے اسی قول کے درجے میں ہیں: فِي اصْطِلَاحٍ بِهِ التَّخَاطُبُ کے درجے میں ہیں، مَعَ كَوْنِ هَذَا أَوْضَحَ وَأَدَلَّ باوجود اس کے کہ یہ الفاظ کیا ہیں؟ زیادہ واضح ہیں اور زیادہ دلالت کرنے والے ہیں مقصود پر، اس وجہ سے أَقَامَهُ الْمُصَنِّفُ مَقَامَهُ تو مصنف نے ان الفاظ کو ان الفاظ کے قائم مقام کر دیا، آخِذًا بِالْحَاصِلِ مِنْ كَلَامِ السَّكَّاكِيِّ کلام سکاکی کے جو حاصل تھا اس سے اخذ کرتے ہوئے۔ کلام سکاکی سے جو بات حاصل ہو رہی تھی، مفہوم ہو رہی تھی اس سے انہوں نے یہ اخذ کیا اور ان کو بدل دیا ان فِي اصْطِلَاحٍ بِهِ التَّخَاطُبُ بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ زیادہ واضح ہے بھئی۔ فَقَالَ، اچھا جی، فَقَالَ، چنانچہ فرمایا: فِي غَيْرِ مَا وُضِعَتْ لَهُ، غیر موضوع لہ کے اندر، بِالتَّحْقِيقِ فِي اصْطِلَاحٍ بِهِ التَّخَاطُبُ، اس اصطلاح میں جس کے ساتھ تکلم کیا جائے، مَعَ قَرِينَةٍ مَانِعَةٍ عَنْ إِرَادَتِهِ، ساتھ ایسا قرینہ ہو جو مانع ہو، عَنْ إِرَادَتِهِ، أَيْ إِرَادَةِ مَعْنَاهَا فِي ذَلِكَ الِاصْطِلَاحِ، اس اصطلاح کے اندر اس کلمے کا جو معنیٰ ہے اس کے ارادے سے کیا ہو کوئی؟ مانع قرینہ موجود ہو۔ اس کے ذریعے کس کو نکال رہے ہیں؟ کنایہ کو خارج کر رہے ہیں بھئی، کیونکہ کنایہ بھی غیر موضوع لہ میں استعمال ہوتا ہے لیکن موضوع لہ کا ارادہ بھی، جبکہ یہاں پر موضوع لہ کا ارادہ کیوں قرینہ مانعہ موجود ہوتا ہے۔ وَأَتَى السَّكَّاكِيُّ بِقَيْدِ التَّحْقِيقِ اور لے کر آئے علامہ سکاکی تحقیق کی قید، علامہ سکاکی نے کیا لفظ ذکر کیا؟ بِالتَّحْقِيقِ کا لفظ اپنی عبارت میں ذکر کیا تھا بھئی۔ یہ کیوں ذکر کیا وہ بتلائیں گے۔ وَأَتَى السَّكَّاكِيُّ بِقَيْدِ التَّحْقِيقِ علامہ سکاکی تحقیق کی قید لے کر آئے، حَيْثُ قَالَ اس طور پر کہ انہوں نے یوں کہا: مَوْضُوعَةٌ لَهُ بِالتَّحْقِيقِ اچھا یہ کیوں لے کر آئے؟ لِتَدْخُلَ فِيهِ أَيْ فِي تَعْرِيفِ الْمَجَازِ تاکہ داخل ہو جائے مجاز کی تعریف کے اندر، الِاسْتِعَارَةُ الَّتِي هِيَ مَجَازٌ لُغَوِيٌّ تاکہ مجاز بھی داخل ہو جائے، جو کہ استعارہ بھی داخل ہو جائے جو کہ مجاز لغوی ہے، عَلَى مَا مَرَّ بناء پر اس کے جو کہ گزرا ہے، مِنْ أَنَّهَا مُسْتَعْمَلَةٌ فِيمَا وُضِعَتْ لَهُ بِالتَّأْوِيلِ کہ یہ استعمال ہے کلمے کا اس معنی کے اندر جس کے لیے اس کو وضع کیا گیا ہے، بھئی استعارہ میں بھی کلمہ موضوع لہ میں مستعمل ہے یا غیر موضوع لہ میں؟ موضوع لہ میں، لیکن موضوع لہ حقیقتاً ہے یا تاویلاً؟ تاویلاً ہے، یعنی موضوع لہ حقیقی میں استعمال، جب موضوع لہ حقیقی میں استعمال نہیں تو یہ کیا بن گیا؟ مجاز بن گیا، کیا بن گیا؟ مجاز، کیونکہ انہوں نے کہا تھا موضوع لہ حقیقی میں استعمال نہ ہو تو مجاز ہے، اسی لیے تحقیق کا لفظ مجاز کی تعریف میں ذکر کیا۔ تو یہ موضوع لہ کے اندر استعمال ہو رہا ہے لیکن تاویل کے ساتھ نہ کہ تحقیق کے ساتھ۔ فَلَوْ لَمْ يُقَيَّدِ الْوَضْعُ بِالتَّحْقِيقِ اگر مقید نہ کیا جاتا وضع کو بِالتَّحْقِيقِ کی قید کے ساتھ، لَمْ تَدْخُلْ هِيَ فِي التَّعْرِيفِ تحقیق کے ساتھ اگر وضع کو قید نہ کیا جاتا تو یہ داخل بھی نہ ہوتا تعریف کے اندر، کیوں؟ لِأَنَّهَا لَيْسَتْ مُسْتَعْمَلَةً فِي غَيْرِ مَا وُضِعَتْ لَهُ بِالتَّأْوِيلِ اس لیے کہ یہ استعمال نہیں ہو رہا، کس کے اندر؟ غیر موضوع لہ بالتاویل میں، استعارہ کس میں ہے؟ موضوع لہ تاویلی میں استعمال ہو رہا ہے، غیر موضوع لہ تاویلی میں، بھئی استعارہ میں کیا کیا میں نے؟ اسد کو کس پر لفظ پر بولا؟ کس معنی پر؟ رجل شجاع، اور رجل شجاع اس کا معنی کون سا ہے موضوع لہ ہے یا غیر موضوع لہ؟ اور موضوع لہ کون سا ہے؟ تاویلی، تو یہ موضوع لہ تاویلی میں کلمہ استعمال ہو رہا ہے غیر موضوع لہ تاویلی میں استعمال نہیں ہو رہا۔ وَظَاهِرُ عِبَارَةِ الْمِفْتَاحِ هَاهُنَا فَاسِدٌ اور مفتاح کی ظاہری عبارت اس مقام پر فاسد ہے، لِأَنَّهُ قَالَ اس لیے کہ علامہ سکاکی فرماتے ہیں، جی، علامہ سکاکی بھی یہی بات بتلانا چاہتے ہیں کہ بِالتَّحْقِيقِ کی قید میں نے اس لیے لگائی تاکہ کہیں استعارہ خارج نہ ہو جائے، وہ بھی مجاز کی تعریف میں داخل ہو جائے کیونکہ استعارہ بھی مجاز ہے حقیقت نہیں۔ تو وہ علامہ سکاکی یہ عبارت لائے: وَقَوْلِي بِالتَّحْقِيقِ اور میرا یہ قول بِالتَّحْقِيقِ جو ہے، احْتِرَازٌ عَنْ أَنْ لَا يَخْرُجَ الِاسْتِعَارَةُ یہ احتراز ہے اس بات سے کہ استعارہ نہ نکلے، کس سے احتراز ہے؟ کہ استعارہ نہ نکلے۔ تو استعارے کے نہ نکلنے سے احتراز کیا، معلوم ہوا وہ نکل گیا۔ معلوم ہوا نکل گیا۔ تو استعارے کو مجاز سے نکالنا مقصد ہے یا داخل کرنا مقصد ہے؟ تو ان کی عبارت سے کیا مفہوم ہو رہا ہے؟ کہ اس کو نکال رہے ہیں، اس کو کیا کر رہے ہیں؟ حالانکہ اس کو تو داخل کر رہے ہیں، تو ظاہری عبارت ان کی صحیح نہیں، تو جواب اس کا آگے ذکر کریں گے کہ یا تو اس "لا" کو زائدہ مان لیا جائے۔ اس "لا" کو کیا کر لیا جائے؟ کبھی کبھار "لا" کو زائد لے آتے ہیں مولانا عبارت میں حسن پیدا کرنے کے لیے، تو یہاں پر بھی "لا" کو ذکر کیا گیا صرف کس سے؟ عبارت میں، ہاں، ورنہ یہ مقصود نہیں، اور عبارت یوں بن گئی: احْتِرَازٌ عَنْ أَنْ يَخْرُجَ الِاسْتِعَارَةُ استعارے کے نکلنے سے احتراز ہے، استعارہ تعریف سے نکل نہ جائے تاکہ وہ تعریف میں داخل رہے، اب بات صحیح بن گئی مولانا۔ دوسرا جواب ذکر کریں گے مولانا، کہ یہ "عن" بمعنی "لام" کے ہے، تعلیل کے لیے آیا ہے، یہ احتراز ہے لِئَلَّا يَخْرُجَ الِاسْتِعَارَةُ، تاکہ کہیں استعارہ نکل نہ جائے، یعنی اس کو بھی داخل ہونا چاہیے۔ وَظَاهِرٌ أَنَّ الِاحْتِرَازَ إِنَّمَا هُوَ عَنْ خُرُوجِ الِاسْتِعَارَةِ اور ظاہر یہ ہے کہ احتراز کس سے ہونا چاہیے؟ خروج استعارہ، استعارہ کو نکلنا نہیں چاہیے، لَا عَنْ عَدَمِ خُرُوجِهَا عدم خروج سے احتراز نہیں ہونا چاہیے بھئی، فَيَجِبُ أَنْ يَكُونَ لَا زَائِدَةً پس واجب ہے کہ "لا" کیا ہو؟ پہلا جواب، "لا" کیا ہو؟ زائدہ ہو، أَوْ يَكُونَ الْمَعْنَى احْتِرَازٌ لِئَلَّا يَخْرُجَ الِاسْتِعَارَةُ یا دوسرا جواب، معنی یہ ہو، احتراز ہے تاکہ کہیں استعارہ خارج نہ ہو جائے بلکہ کیا ہو؟ داخل ہو۔ تو دیکھو وہی عبارت ہے احتراز عن، "عن" کی جگہ صرف کیا لے آئے؟ لام، احْتِرَازٌ لِئَلَّا يَخْرُجَ الِاسْتِعَارَةُ۔ وَرُدَّ مَا ذَكَرَهُ السَّكَّاكِيُّ اور رد کیا گیا ہے اس کو جو ذکر کیا علامہ سکاکی نے، جی۔ یہاں سے علامہ، بھئی علامہ سکاکی کی دو تعریفیں ذکر کیں، ایک حقیقت کی جو انہوں نے تعریف کی تھی اور دوسری مجاز کی، حقیقت کی تعریف کے اندر وہ ایک کلمہ لائے تھے مِنْ غَيْرِ تَأْوِيلٍ فِي الْوَضْعِ، اور مولانا مجاز کی تعریف کے اندر وہ ایک کلمہ لائے ہیں بِالتَّحْقِيقِ، کس کو لائے ہیں؟ حقیقت میں جب کہا مِنْ غَيْرِ تَأْوِيلٍ فِي الْوَضْعِ تو اس کے ذریعے کس کو نکالا تھا؟ استعارے کو، اور مجاز میں جب بِالتَّحْقِيقِ کہا تو اس کے ذریعے کس کو داخل کیا تھا؟ استعارے کو داخل کیا، یہاں سے مصنف رد کریں گے کہ یہ دونوں قیدیں جو ذکر کیں علامہ سکاکی نے ان کو ذکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی، اس لیے کہ وضع کا لفظ آ گیا اور وضع جب مطلق بولا جائے تو اس سے کیا مراد ہوتا ہے؟ فرد کامل مراد ہوتا ہے، اور وضع کا فرد کامل کون؟ حقیقی، جس میں وضع کیا ہو؟ حقیقتاً ہو تاویلاً نہ ہو۔ الْمُطْلَقُ إِذَا يُطْلَقُ يُرَادُ بِهِ الْفَرْدُ الْكَامِلُ یہ ضابطہ کہاں جاری ہوتا ہے مولانا؟ جی؟ بھئی جب ایک چیز کے افراد کئی ہوں اور ان میں بعض اعلیٰ ہوں بعض ادنیٰ ہوں، یعنی کلی مشکک میں یہ بولا جاتا ہے، کس کے اندر؟ کلی مشکک کے اندر بولا جاتا ہے مولانا، اس کے علاوہ کے اندر نہیں بولا جائے گا، کیونکہ کلی مشکک کے اندر ہی بعض افراد اعلیٰ، کامل، بعض افراد ادنیٰ، تو پھر کیا کہا جاتا ہے کہ مطلق جب بول دیا تو کون سا مراد لیں گے؟ اعلیٰ، اگر کلی مشکک نہیں ہے متواطی ہے سارے افراد برابر ہیں پھر تو سارے ہی کیا ہیں؟ کامل ہیں تو پھر وہاں پر یہ قانون جاری نہیں ہو گا۔ تو مولانا یہاں اب آگے وہ اعتراض ذکر کریں گے کہ حقیقت کی تعریف میں علامہ سکاکی نے مِنْ غَيْرِ تَأْوِيلٍ فِي الْوَضْعِ یہ الفاظ بڑھائے اور مجاز کی تعریف کے اندر یہ بِالتَّحْقِيقِ کا لفظ ذکر کیا، یہ دونوں قیدیں ذکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی اس لیے کہ وضع کا ذکر ہوا اور وضع جب مطلق ہو تو اس سے مراد فرد کامل ہوتا ہے اور وضع کا فرد کامل کیا ہے؟ وضع حقیقی ہے نہ کہ وضع تاویلی، تو لہٰذا جب وضع حقیقی فرد کامل ہی مراد ہوئی تو تاویلی کا امکان ہی نہیں رہا، جب تاویلی کا امکان ہی نہیں تو اس کو داخل کرنے یا خارج کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ وَرُدَّ مَا ذَكَرَهُ السَّكَّاكِيُّ اور رد کیا گیا ہے اس کو جس کو ذکر کیا علامہ سکاکی نے، بِأَنَّ الْوَضْعَ وَمَا يُشْتَقُّ مِنْهُ كَالْمَوْضُوعِ مَثَلًا إِذَا أُطْلِقَ لَا يَتَنَاوَلُ الْوَضْعَ بِتَأْوِيلٍ کہ وضع اور وضع سے جو مشتق ہونے والے کلمات ہیں یعنی کہ موضوع وغیرہ، جب ان کو مطلق ذکر کیا جائے تو یہ وضع تاویلی کو شامل نہیں۔ کیوں نہیں شامل؟ کہتے ہیں: لِأَنَّ السَّكَّاكِيَّ نَفْسَهُ قَدْ فَسَّرَ الْوَضْعَ بِتَعَيُّنِ اللَّفْظِ بِإِزَاءِ الْمَعْنَى بِنَفْسِهِ اس لیے کہ علامہ سکاکی نے خود تفسیر کی ہے وضع کی کہ لفظ متعین ہو جائے معنی کے مقابلے میں خود بھئی بِنَفْسِهِ، یعنی خود اس معنی پر کیا کرے لفظ دلالت کرے، کسی قرینے وغیرہ کا محتاج نہ ہو، جیسے لفظ اسد بولتے ہیں تو یہ خود کس معنی پر دلالت کرتا ہے؟ حیوان مفترس پر، لیکن اگر آپ اس سے رجل شجاع مراد لیتے ہیں تو یہ خود اس پر دلالت نہیں کرے گا اس کے لیے کوئی قرینہ چاہیے، مثلاً میں کہتا ہوں رَأَيْتُ أَسَدًا يَرْمِي، یہاں جب تک يَرْمِي نہیں آئے گا اسد سے مراد رجل شجاع بھی سمجھ میں نہیں آئے گا۔ قَالَ: وَقَوْلِي بِنَفْسِهِ علامہ سکاکی فرماتے ہیں کہ میرا یہ قول جو ہے بِنَفْسِهِ، احْتِرَازٌ عَنِ الْمَجَازِ الْمُعَيَّنِ بِإِزَاءِ مَعْنَاهُ بِقَرِينَةٍ یہ احتراز ہے ایسے مجاز سے جو متعین ہو اپنے معنی کے مقابلے میں قرینے کے ساتھ، مثلاً اسد سے کیا مراد لے رہا ہوں بھئی؟ رجل شجاع مراد لے رہا ہوں، تو دیکھو یہ مجاز ہے جو متعین ہے اور کس معنی میں ہے اپنے رجل شجاع کے معنی میں ہے بھئی، تو یہ بِقَرِينَةٍ کس کے ساتھ ہے؟ قرینے کے، تو اس بِنَفْسِهِ کے ذریعے اس سے احتراز ہوا اس لیے کہ یہ قرینے کے ساتھ ہے، قرینے کے ساتھ اس معنی پر دلالت کر رہا ہے خود نہیں کر رہا بھئی۔ وَلَا شَكَّ أَنَّ دَلَالَةَ الْأَسَدِ عَلَى الرَّجُلِ الشُّجَاعِ إِنَّمَا هُوَ بِالْقَرِينَةِ اور اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ اسد کی دلالت رجل شجاع پر یہ قرینے ہی کے ساتھ ہو گی، فَلَا حَاجَةَ إِلَى تَقْيِيدِ الْوَضْعِ فِي تَعْرِيفِ الْحَقِيقَةِ بِعَدَمِ التَّأْوِيلِ پس اس وقت مولانا کوئی حاجت نہیں ہے کہ مقید کیا جائے وضع کو حقیقت کی تعریف میں کس کے ساتھ؟ عدم تاویل کے ساتھ، اور مجاز کی تعریف میں بِالتَّحْقِيقِ، تو مجاز کی تعریف میں بِالتَّحْقِيقِ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں اور حقیقت کی تعریف میں عدم تاویل کو ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ اللَّهُمَّ إِلَّا أَنْ يُقْصَدَ زِيَادَةُ الْإِيضَاحِ لَا تَتْمِيمُ الْحَدِّ جی، تو ایک جواب تسلیمی ہے ایک جواب منعی ہے۔ تسلیمی جواب یہ کہ ٹھیک ہے آپ کی بات درست ہے کہ یہ بِالتَّحْقِيقِ کو عبارت میں ذکر نہیں کرنا، تعریف میں ذکر نہیں کرنا چاہیے تھا اور اسی طرح عدم تاویل کو تعریف کے اندر ذکر نہیں کرنا چاہیے تھا، یہ بات ہمیں تسلیم ہے لیکن ذکر کیا صرف زیادہ وضاحت کے لیے، کس لیے؟ بات کی زیادہ اچھی طرح وضاحت ہو جائے اس لیے ذکر کیا، یہ پہلا جواب۔ یعنی تسلیم کیا ضرورت نہیں تھی لیکن ذکر صرف کس لیے کیا ہے؟ جی، تو اللَّهُمَّ کے ساتھ جواب دیا، اللَّهُمَّ سے کمزور جواب ذکر کیا جاتا ہے مولانا۔ وَيُمْكِنُ الْجَوَابُ یہاں سے دوسرا منعی جواب دے رہے ہیں کہ نہیں، ان قیدوں کو ذکر کرنا بے فائدہ نہیں بلکہ ان کو ذکر کرنا ضروری ہے ان کا فائدہ ہے، دیکھیے بھئی۔ اللَّهُمَّ إِلَّا أَنْ يُقْصَدَ زِيَادَةُ الْإِيضَاحِ ارادہ کیا جائے زیادہ سے ایضاح کا، لَا تَتْمِيمُ الْحَدِّ نہ کہ حد کو تمام کرنا، یہاں حد کو تام کرنے کا ارادہ نہیں ہے ان قیدوں کو جو ذکر کیا گیا ان سے حد تام ہو جائے گی، ان کے بغیر بھی حد تھی لیکن کیا ہو جائے گی؟ زیادہ ایضاح ہو جائے گی، زیادہ وضاحت ہو جائے گی۔ وَيُمْكِنُ الْجَوَابُ اور یہ جواب بھی ممکن ہے، بِأَنَّ السَّكَّاكِيَّ لَمْ يَقْصِدْ أَنَّ مُطْلَقَ الْوَضْعِ بِالْمَعْنَى الَّذِي ذَكَرَهُ يَتَنَاوَلُ الْوَضْعَ بِالتَّأْوِيلِ کہ علامہ سکاکی نے یہ ارادہ نہیں کیا کہ مطلق وضع اس معنی کے ساتھ جس کو انہوں نے ذکر کیا، وضع کا کیا معنی انہوں نے ذکر کیا تھا؟ لفظ کا متعین ہونا کسی معنی کے لیے بِنَفْسِهِ، خود مولانا یعنی بغیر کسی قرینے کے لفظ کسی معنی پر کیا کرے؟ دلالت کرے۔ تو یہ معنی جو انہوں نے وضع کا ذکر کیا تھا تو یہ مولانا، یہ نہیں کہتے علامہ سکاکی کہ مطلق وضع يَتَنَاوَلُ الْوَضْعَ بِالتَّأْوِيلِ، یہ کس کو شامل ہے؟ وضع تاویلی کو۔ خلاصۂ کلام یہ کہ اعتراض کیا کیا انہوں نے علامہ سکاکی پر؟ کہ یہاں پر مطلق وضع ذکر ہے دونوں تعریفوں میں اور جب مطلق وضع ذکر ہے تو اس سے مراد ہو گا فرد کامل، جب فرد کامل مراد ہے تو تاویلی کے داخل ہونے یا نکلنے کا کوئی امکان، جی، تو تاویلی کے داخل ہونے کا امکان نہیں لہٰذا قید لگا کر اس کو خارج کرنے یا داخل کرنے کی ضرورت بھی نہیں۔ تو جواب یہ کہ علامہ سکاکی یہ نہیں کہتے کہ بھئی مطلق وضع وضع تاویلی کو شامل ہے۔ آپ نے کیا کہا؟ مطلق وضع وضع تاویلی کو شامل نہیں ہے کیونکہ الْمُطْلَقُ إِذَا يُطْلَقُ يُرَادُ بِهِ الْفَرْدُ الْكَامِلُ، نیز آپ نے تعریف بھی ذکر کر دی اس کی، تو مطلق وضع یہ تو علامہ سکاکی بھی کہتے ہیں کہ مطلق وضع اس کے اندر وضع تاویلی شامل نہیں لیکن یہاں پر لفظ میں اشتراک آ گیا۔ کس طرح؟ کہ ایک تو یہ تھا کہ لفظ متعین ہو ایک معنی کے لیے جو مطلق وضع ہے اور ایک وہ جو استعارے کے اندر آیا کہ استعارے میں بھی ہم نے کہا کہ اسد کا لفظ کس کے لیے وضع ہے؟ رجل شجاع کے لیے، لیکن یہ وضع کیسی ہے؟ تاویلی ہے، کیا ہے؟ تاویلی ہے، تو اب دیکھو وضع کے لفظ میں یہ جو استعارے کی تعریف میں آپ نے کہا وضع تاویلی بھی ذکر کر دی، اس کی وجہ سے اشتراک آ گیا، معلوم ہوا وضع کتنی قسم پر ہو گئی؟ دو قسم پر، ایک ہے حقیقی اور ایک کیا ہے؟ تاویلی ہو گئی، جب اشتراک آ گیا، ایک لفظ کئی معانی کے لیے مشترک ہو تو پھر وہاں کوئی قرینہ قائم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جس کے ساتھ پتہ چلے کہ یہاں پر کون سا معنی مراد ہے، تو یہاں پر بھی مولانا چونکہ اشتراک آ گیا تھا ایک وضع تاویلاً آ گئی اور ایک وضع حقیقتاً آ گئی تو علامہ سکاکی نے قرینہ قائم کیا ہے اپنی عبارت کے اندر یہ بتلانے کے لیے کہ یہاں وضع تاویلی نہیں مراد بلکہ کیا مراد ہے؟ وضع حقیقی مراد ہے۔ دیکھیے: وَيُمْكِنُ الْجَوَابُ بِأَنَّ السَّكَّاكِيَّ لَمْ يَقْصِدْ أَنَّ مُطْلَقَ الْوَضْعِ يَتَنَاوَلُ الْوَضْعَ بِالتَّأْوِيلِ، بَلْ مُرَادُهُ أَنَّهُ قَدْ عَرَضَ لِلَفْظِ الْوَضْعِ اشْتِرَاكٌ عارض ہو گیا اس لفظ کو، لفظ وضع کو اشتراک عارض ہوا، بَيْنَ الْمَعْنَى الْمَذْكُورِ اس معنی میں جو مذکور ہوا، وَبَيْنَ الْوَضْعِ بِالتَّأْوِيلِ فِي الِاسْتِعَارَةِ اور وضع تاویلی کا معنی بھی مولانا کس میں؟ استعارہ میں، وہ بھی آ گیا تو اشتراک عارض ہو گیا اس کلمے کو، فَقَيَّدَهُ بِالتَّحْقِيقِ تو انہوں نے مقید کیا اس کو تحقیق کے ساتھ، لِيَكُونَ قَرِينَةً عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ بِالْوَضْعِ مَعْنَاهُ الْمَذْكُورُ لَا الْمَعْنَى الَّذِي يُسْتَعْمَلُ فِيهِ أَحْيَانًا تو قرینہ قائم کیا کیونکہ لفظ مشترک کیا چاہتا ہے؟ قرینہ چاہتا ہے، لفظ مشترک بھئی دو تین چار معنی ہیں ایک لفظ کے، آپ نے وہ لفظ بولا تو اس کے چار معنی تھے کون سا معنی مراد ہیں؟ قرینہ چاہتا، یہ لفظ قرینہ چاہتا ہے کہ قرینہ قائم کیا جائے تاکہ جس سے کیا پتہ چلے کہ کون سا معنی مراد ہے، تو یہ یہاں علامہ سکاکی نے بھی قرینہ قائم کیا تاکہ یہ قرینہ بن جائے عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ بِالْوَضْعِ، کہ وضع سے مراد مَعْنَاهُ الْمَذْكُورُ، معنی مذکور ہی ہے، لَا الْمَعْنَى الَّذِي يُسْتَعْمَلُ فِيهِ أَحْيَانًا، نہ کہ وہ معنی ہے جس کے اندر وہ کبھی کبھار استعمال ہو جاتا ہے استعارے کے اندر، وَهُوَ الْوَضْعُ بِالتَّأْوِيلِ اور وہ کیا ہے؟ وضع بالتاویل ہے۔ وَبِهَذَا يَخْرُجُ الْجَوَابُ عَنْ سُؤَالٍ آخَرَ کہتے ہیں اس سے جواب ثانی سے ایک اور سوال کا جواب بھی نکل آیا بھئی، ایک اور سوال بھی پیدا ہوتا تھا اس کا جواب بھی نکل آیا، یہی جواب بنے گا، سوال کیا؟ وَهُوَ أَنْ يُقَالَ: لَوْ سُلِّمَ تَنَاوُلُ الْوَضْعِ لِلْوَضْعِ بِالتَّأْوِيلِ وہ یہ کہ یہ کہا جائے کہ اگر تسلیم کر لیا جائے کہ وضع شامل ہے کس کو؟ وضع تاویلی کو، اگر مطلق وضع شامل ہے کس کو؟ وضع تاویلی کو، حالانکہ ہم نے کہا ہے کہ مطلق وضع وضع تاویلی کو شامل ہے؟ ہم نے تو کہا ہے مطلق وضع وضع تاویلی کو شامل نہیں مطلق وضع، لیکن پھر جب وضع استعارے کے اندر آپ نے تاویلی معنی میں استعمال کی تو اب اشتراک آ گیا، اب کیا آ گیا؟ اشتراک آ گیا، کہ اگر تسلیم کر لیا جائے، تو یہ جواب کی طرف میں نے اشارہ کیا بھئی، اگر تسلیم کر لیا جائے تَنَاوُلُ الْوَضْعِ لِلْوَضْعِ بِالتَّأْوِيلِ کہ وضع شامل ہے کس کو؟ وضع تاویلی کو، فَلَا تَخْرُجُ الِاسْتِعَارَةُ أَيْضًا تو پھر بھی استعارہ اس سے خارج نہیں ہوتا، کیوں؟ لِأَنَّهُ يَصْدُقُ عَلَيْهَا أَنَّهَا مُسْتَعْمَلَةٌ فِي غَيْرِ مَا وُضِعَتْ لَهُ فِي الْجُمْلَةِ اس لیے کہ استعارے پر یہ بات صادق اتی ہے کہ یہ استعمال ہوا ہے غیر موضوع لہ کے اندر فی الجملہ، کس کے اندر؟ غیر موضوع لہ میں فی الجملہ۔ دیکھو ذرا، اس پر آؤ، عبارت پر آؤ، علامہ سکاکی کے عبارت پر بھئی۔ بھئی بِالتَّحْقِيقِ کی قید نہیں کہا، ہم نے بِالتَّحْقِيقِ کی قید علامہ سکاکی نے کیوں زیادہ کی؟ استعارے کو بھی کہ وضع تحقیقی، وضع تحقیقی کے غیر میں استعمال ہو، اور وہ استعارہ بھی کیا ہے؟ وضع تحقیقی کے غیر میں استعمال ہے یعنی کس میں استعمال ہے؟ وضع تاویلی میں، تو بِالتَّحْقِيقِ کی قید لگائی تاکہ مجاز کی تعریف میں استعارہ بھی داخل ہو جائے، کہتے ہیں بِالتَّحْقِيقِ کو ہٹا دو پھر بھی استعارہ نہیں نکلتا تعریف میں داخل رہے گا، تو بِالتَّحْقِيقِ کے ذریعے داخل کرنے کی ضرورت ہی، جب ویسے پہلے سے ہی داخل ہے تو بِالتَّحْقِيقِ کے ذریعے آپ اس کو کیسے داخل کر رہے ہیں؟ کیسے داخل ہے؟ دیکھیے بھئی: فَلَا تَخْرُجُ الِاسْتِعَارَةُ أَيْضًا اگر یہ قید نہ ہوتی تو بھی کیا ہوتا؟ استعارہ خارج، لِأَنَّهُ يَصْدُقُ عَلَيْهَا أَنَّهَا مُسْتَعْمَلَةٌ فِي غَيْرِ مَا وُضِعَتْ لَهُ اس لیے کہ اس پر صادق آ رہی ہے یہ بات کہ یہ کلمہ استعمال ہو رہا ہے کس کے اندر؟ غیر موضوع لہ کے اندر، فِي الْجُمْلَةِ مجموعی اعتبار سے، کیا ہے؟ یا اجمالی اعتبار سے، کسی نہ کسی طور پر یہ غیر موضوع لہ میں ہے اور مجاز بھی کس کو کہتے تھے جو کس میں ہو؟ غیر موضوع لہ میں، تو یہ فی الجملہ غیر موضوع لہ میں ہے، اگرچہ تاویلاً تو نہیں ہے لیکن حقیقتاً یہ کیا ہے؟ بھئی غیر موضوع لہ دو قسم پر ہوا نا، موضوع لہ حقیقتاً اور موضوع لہ تاویلاً، اور مجاز کس کو کہتے ہیں جو کس میں استعمال ہو؟ غیر موضوع لہ میں، تو یہ غیر موضوع لہ میں فی الجملہ ہے، کیا ہے؟ فی الجملہ ہے، اگرچہ تاویلاً تو غیر موضوع لہ میں نہیں ہے لیکن حقیقتاً تو کیا ہے یہ غیر موضوع لہ میں ہے، تو وضع، تو بِالتَّحْقِيقِ کی ضرورت ہی نہیں ہے مولانا۔ أَعْنِي الْوَضْعَ بِالتَّحْقِيقِ یعنی کہ وضع بالتحقیق کے اعتبار سے۔ إِذْ غَايَةُ مَا فِي الْبَابِ باب سے مراد یہ بحث ہے مولانا یہ جو وضع کی انہوں نے کی مولانا یہ مقام، اس لیے کہ انتہاء اس بحث کے اندر یہ ہے، نہایت اس بحث کے اندر یہ ہے یا مولانا غایت بمعنی مقصد کے بھی آتی ہے تو مقصد اس باب کے اندر یہ ہے: أَنَّ الْوَضْعَ يَتَنَاوَلُ الْوَضْعَ بِالتَّحْقِيقِ وَالتَّأْوِيلِ کہ وضع جو ہے وہ شامل ہے کس کو؟ وضع کس کو شامل ہے؟ وضع تحقیق کو بھی، تحقیقی کو بھی شامل ہے، وَالتَّأْوِيلِ، اور وضع تاویلی کو بھی شامل ہے، لَكِنْ لَا جِهَةَ لِتَخْصِيصِهِ بِالْوَضْعِ بِالتَّأْوِيلِ لیکن کوئی جہت نہیں ہے کہ اس کی، کوئی وجہ نہیں ہے کہ اس کی تخصیص کی جائے کس کے ساتھ؟ وضع تاویلی کے ساتھ، صرف وضع تاویلی کے ساتھ تخصیص کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے، حَتَّى يَخْرُجَ الِاسْتِعَارَةُ الْبَتَّةَ یہاں تک کہ استعارہ قطعی طور پر کیا ہو جائے؟ خارج ہو جائے، ذرا آؤ بھئی متن، اس پہ آؤ، تعریف میں آپ کو یہ اعتراض سمجھاؤں بھئی۔ یہ ایک اور اس سوال کے بتلا رہے ہیں کہ ایک اور سوال بھی ہماری تقریر سے حل ہوا، انہوں نے تقریر کیا کی جواب ثانی کی؟ جواب ثانی کی تقریر یہ کہ علامہ سکاکی یہ نہیں کہتے کہ مطلق وضع وضع تاویلی کو شامل ہے۔ وہ تو کہتے ہیں، وہ بھی یہی کہتے ہیں مطلق وضع صرف وضع تحقیقی ہی کو شامل ہے وضع تاویلی کو شامل، تو مطلق وضع صرف کس کو شامل ہے؟ لیکن یہی لفظ وضع، یہی وضع کی ایک قسم وضع تاویلی استعمال ہوئی ہے کس کے اندر؟ استعارے کے اندر، وہاں بھی وضع ہے لیکن کون سی وضع ہے؟ تاویلی، تو دیکھو ایک مطلق وضع تھی ایک وہ وضع تاویلی تھی مولانا، تو اب اشتراک آ گیا وہ بھی وضع تو ہے اور یہ بھی کیا ہے؟ وضع ہے، تو وضع ایک حقیقی ہو گئی اور ایک کیا ہو گئی؟ تاویلی، تو اب جب بھی لفظ آئے گا تو امکان ہو گا بھئی اس لفظ کے تو دو معنی ہیں، ایک وضع حقیقی ہے، ایک حقیقی ہے اور ایک کیا ہے؟ پتہ نہیں کون سا، اشتراک آ گیا تو اب قرینہ قائم کرنے کی ضرورت ہے کہ یہاں کون سا مراد ہے، تو انہوں نے کیا کیا؟ قرینہ قائم کر دیا کہ یہاں پر وضع حقیقی مراد ہے وضع تاویلی مراد، اور جب وضع حقیقی مراد ہے تو استعارہ تو کیا ہے وضع حقیقی کے اندر، موضوع لہ حقیقی میں استعمال ہو رہا ہے؟ موضوع لہ حقیقی میں استعمال نہیں ہو رہا تو وہ موضوع لہ حقیقی کے غیر میں استعمال ہو رہا ہے اور جب غیر میں استعمال ہوا تو کیا بن گیا؟ مجاز بن گیا، یہ، یہ تقریر کی، اس تقریر سے ایک اور سوال کا کہتے ہیں جواب نکل آیا، سوال یہ پیدا ہوتا تھا کہ بھئی بِالتَّحْقِيقِ کی قید کی پھر بھی ضرورت نہیں، اس لیے کہ اس میں ذکر ہو گیا هِيَ مَوْضُوعَةٌ لَهُ، جس معنی کے لیے اس کلمے کو کیا کیا گیا ہو؟ وضع کیا گیا ہو، اور وضع چلو ہم مان لیتے ہیں کہ وضع کیا ہے؟ شامل ہے وضع حقیقی کو بھی اور وضع تاویلی کو بھی شامل ہے، تو جب انہوں نے کہا کہ مجاز کس کو کہتے ہیں کلمہ استعمال ہو غیر موضوع لہ کے اندر، کس میں؟ غیر موضوع لہ میں، تو مجاز، جو استعارہ ہے وہ حقیقتاً تو غیر موضوع لہ میں استعمال نہیں ہو رہا لیکن تاویلاً تو، نہیں تاویلاً تو غیر موضوع لہ میں استعمال نہیں ہو رہا لیکن حقیقتاً تو کس میں استعمال ہو رہا ہے؟ استعارہ بھئی اسد بول کر کیا مراد لے رہے ہیں؟ تو حقیقتاً یہ موضوع لہ میں ہے؟ نہیں، اور تاویلاً یہ کس میں ہے؟ تو جب صرف کہہ دیا موضوع لہ کے غیر میں استعمال ہو، کس میں استعمال ہو؟ تو موضوع لہ کے کتنے افراد ہیں؟ دو، ایک حقیقتاً اور ایک، تو موضوع لہ کے غیر میں یہ استعمال ہو رہا ہے، استعارہ کس میں استعمال ہو رہا ہے؟ غیر میں، کس اعتبار سے؟ حقیقت والے فرد کے اعتبار سے نہ کہ تاویل والے، تاویل والے کے اعتبار سے تو یہ موضوع لہ ہی میں استعمال ہو رہا ہے لیکن حقیقت کے اعتبار سے کس میں استعمال ہو رہا ہے؟ غیر، تو اجمالاً یعنی مجموعی اعتبار سے کلمہ موضوع لہ میں ہوا یا غیر موضوع لہ میں؟ غیر موضوع لہ میں، ایک اعتبار سے تو بن گیا یا نہیں بن گیا غیر موضوع لہ میں؟ جب ایک اعتبار سے بھی غیر موضوع لہ میں آ گیا تو اس تعریف کے اندر کیا ہوا؟ داخل ہو گیا، ہم نے بھی یہی کہنا تھا یہ کلمہ استعمال ہو رہا ہے کس کے اندر؟ غیر موضوع لہ میں، اور بِالتَّحْقِيقِ کے بغیر بھی یہ کس میں داخل ہوا؟ اس غیر موضوع لہ میں استعمال ہوا تو داخل ہوا بھئی۔ سمجھ میں آئی بھئی؟ تو لہٰذا یہاں غیر، موضوع لہ سے صرف تاویلی مراد لیتے تو پھر مجاز خارج ہو رہا تھا، اور یہاں تاویلی مراد لے سکتے ہیں قطعی طور پر؟ بھئی تاویلی مراد لیتے موضوع لہ تاویلی، تو استعارہ موضوع لہ تاویلی میں استعمال ہو رہا ہے یا موضوع لہ تاویلی کے غیر میں استعمال ہو رہا ہے؟ جی؟ موضوع لہ، استعارہ موضوع لہ تاویلی میں استعمال ہے یا موضوع لہ تاویلی کے غیر میں استعمال ہے؟ موضوع لہ تاویلی ہی میں تو استعمال ہو رہا ہے۔ کس میں ہو رہا ہے؟ بھئی اسد کا لفظ ہم نے تاویلاً کیا کہا کس کے لیے وضع ہے؟ رجل شجاع کے لیے بھی وضع ہے تو یہ موضوع لہ تاویلی میں استعمال ہو رہا ہے۔ اچھا، وَرُدَّ أَيْضًا، یہ ایک اور اعتراض کر رہے ہیں مولانا۔ اعتراض یہ کہ مصنف فرماتے ہیں کہ مصنف نے بھئی اپنی تعریف میں کیا ذکر کی تھی علامہ سکاکی، سکاکی نے مجاز کی کیا تعریف ذکر کی؟ جو مصنف نے جس کو نقل کیا اپنے الفاظ میں: فِي اصْطِلَاحٍ بِهِ التَّخَاطُبُ، اس کے اندر یہ لفظ آ رہے ہیں۔ تعریف ملی بھئی مجاز کی؟ فِي اصْطِلَاحٍ بِهِ التَّخَاطُبُ، یہ رد کر رہے ہیں علامہ سکاکی کا کہ آپ نے مجاز کے اندر تو فِي اصْطِلَاحٍ بِهِ التَّخَاطُبُ کی قید لگائی حالانکہ حقیقت کے اندر بھی کیا لگانی چاہیے تھی؟ فِي اصْطِلَاحٍ بِهِ التَّخَاطُبُ، اس لیے کہ حقیقت کی بھی کتنی تین چار قسمیں ہیں، حقیقت شرعی، عرفی، لغوی، عرفی عام اور عرفی خاص، تو وہاں بھی اصطلاح بہ التخاطب، جس اصطلاح میں تکلم ہو رہا ہے اس کے اعتبار سے دیکھا جائے کہ کلمہ موضوع لہ میں استعمال ہو تو کیا کہلائے گا؟ حقیقت کہلائے گا، تو حقیقت جیسے مجاز کے اندر یہ قید لگائی حقیقت کے اندر بھی یہ قید اس کی تعریف میں بھی بھئی۔ وَرُدَّ أَيْضًا اور رد کیا گیا ہے اس چیز کو بھی جس کو ذکر کیا ہے، بِأَنَّ التَّقْيِيدَ بِاصْطِلَاحٍ بِهِ التَّخَاطُبُ أَوْ مَا يُؤَدِّي مَعْنَاهُ کہ اصطلاح بہ التخاطب کی جو قید ہے یا وہ چیز جو اس کا معنی ادا کرے، یعنی وہ جو الفاظ علامہ سکاکی نے یہ الفاظ تو ذکر نہیں کیے تھے مع، کیا ذکر انہوں نے اصطلاح بہ التخاطب ذکر کیا تھا یا ان کے اپنے الفاظ تھے مولانا کہ اسْتِعْمَالًا فِي الْغَيْرِ بِالنِّسْبَةِ إِلَى نَوْعِ حَقِيقَتِهَا؟ تو یہ جو الفاظ تھے چاہے یہ الفاظ استعمال کریں چاہے علامہ سکاکی والے الفاظ ہوں، ذکر ہونا چاہیے تھا ان دونوں میں سے کسی ایک چیز کو حقیقت کی تعریف کے اندر بھی بھئی، كَمَا لَا بُدَّ مِنْهُ فِي تَعْرِيفِ الْمَجَازِ جیسے کہ یہ الفاظ ضروری تھے مجاز کی تعریف کے اندر، لِيَدْخُلَ فِيهِ تاکہ اس کے اندر داخل ہو جاتا، نَحْوُ الصَّلَاةِ إِذَا اسْتَعْمَلَهُ الشَّارِعُ فِي الدُّعَاءِ مَجَازًا لفظ الصلوۃ جب استعمال کرے اس کو شارع کس کے اندر؟ دعا کے اندر مجازاً، كَذَلِكَ لَا بُدَّ مِنْهُ فِي تَعْرِيفِ الْحَقِيقَةِ اسی طرح قید ضروری ہے مولانا کس کے اندر؟ حقیقت کی تعریف میں بھی، لِيَخْرُجَ عَنْهُ نَحْوُ هَذَا اللَّفْظِ تاکہ اس قسم کے الفاظ نکل جائیں، لِأَنَّهُ جیسے مولانا یہ استعمال کیا جائے لفظ صلوٰۃ کو کس کے اندر؟ شارع استعمال کرتا ہے لفظ صلوٰۃ کو نماز کے معنیٰ میں، شارع صلوٰۃ کو کس کے اندر؟ نماز کے معنی میں، تو یہ حقیقت ہے یا مجاز؟ حقیقت ہے لیکن لغت کے اعتبار سے تو یہ کیا ہے؟ مجاز، حقیقت کس اعتبار سے ہے؟ فِي اصْطِلَاحٍ بِهِ التَّخَاطُبُ، جس اصطلاح میں تکلم ہوا ہے اس اعتبار سے کیا ہے؟ حقیقت ہے، تو لہٰذا یہ قید کس میں ذکر ہونی چاہیے تھی؟ حقیقت کی تعریف میں بھی ذکر ہونی چاہیے تھی۔ لِأَنَّهُ مُسْتَعْمَلٌ فِيمَا وُضِعَ لَهُ فِي الْجُمْلَةِ اس لیے کہ یہ لفظ استعمال ہو رہا ہے معنی موضوع لہ کے اندر فی مجموعی اعتبار سے، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَا وُضِعَ لَهُ فِي هَذَا الِاصْطِلَاحِ اگرچہ وہ وضع نہیں کیا گیا اس معنی کے لیے اس اصطلاح کے اندر، جی۔ اعتراض سمجھ میں آیا؟ کیا اعتراض ہوا یہاں پر بھئی؟ مجاز میں کیا قید ذکر کی؟ فِي اصْطِلَاحٍ بِهِ التَّخَاطُبُ، کہ مجاز کے اندر دیکھا جائے ہم کس اصطلاح میں بات کر رہے ہیں، اس اصطلاح میں آ کر دیکھو کہ کلمہ موضوع لہ میں استعمال نہیں ہو رہا تو کیا کہلائے گا؟ مجاز، تو حقیقت میں بھی اسی طرح ہے کہ جس اصطلاح میں تکلم کر رہے ہیں اس اصطلاح کے اندر دیکھو کہ کلمہ موضوع لہ میں استعمال ہو رہا ہے تو کیا کہلائے گا؟ تو لہٰذا اس میں بھی یہ قید ضروری تھی۔ وَيُمْكِنُ الْجَوَابُ اور ممکن ہے جواب، بِأَنَّ قَيْدَ الْحَيْثِيَّةِ مُرَادٌ فِي تَعْرِيفِ الْأُمُورِ الَّتِي تَخْتَلِفُ بِاخْتِلَافِ الِاعْتِبَارَاتِ وَالْإِضَافَاتِ کہ حیثیت کی قید مراد ہوتی ہے ان امور کی تعریف کے اندر جو بدلتے ہیں مولانا اعتبارات اور اضافت کے، بھئی دیکھو، اب صلوٰۃ کا لفظ ہے، تو وہ چیزیں جو اعتبارات اور نسبتوں کے بدلنے سے بدل جاتی ہیں وہاں حیثیت کی قید خود بخود موجود ہوتی ہے، اس کو ذکر نہیں کیا جاتا بھئی، کہ سننے والا خود ہی سمجھ جائے گا، مثلاً صلوٰۃ کا لفظ ہے، اس کے معنی اگر میں کیا کروں؟ دعا کے کروں، تو دعا کے کروں، تو میں نے کیا تعریف کیا کی تھی کہ کلمہ اس معنیٰ کے لیے وضع ہے تو یہ کیا کہلائے گا؟ صلوٰۃ کا لفظ مثلاً میں کسی معنی میں استعمال کروں تو آپ دیکھیں گے کہ لفظ اگر اس معنیٰ کے لیے وضع ہے تو پھر کیا کہلائے گا؟ اور اگر اس معنیٰ کے لیے وضع نہیں تو مجاز کہلائے گا، تو اس کا اس پر اعتراض ہوا کہ بھئی اس میں جس اصطلاح میں بات ہو رہی ہے اس کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے، اگر اس اصطلاح کے اندر وہ معنیٰ غیر موضوع لہ ہے اگرچہ دوسری اصطلاح میں کیا ہے وہ معنیٰ موضوع لہ ہی کیوں نہ ہو لیکن پھر بھی یہ حقیقت نہیں کہلائے گا کیونکہ جس اصطلاح میں بات ہو رہی ہے اس میں یہ موضوع لہ نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ جیسے صلوٰۃ کا لفظ دعا میں استعمال کیا جائے مولانا، اب یہ اگر اہل شریعت کی اصطلاح میں بات ہو رہی ہے اور صلوٰۃ کا کیا معنی مراد لیتے ہیں آپ؟ دعا، تو اب دیکھو لفظ استعمال ہو رہا ہے معنی موضوع لہ ہی کے اندر، لیکن اس اصطلاح کے اعتبار سے نہیں، کس اصطلاح کے اعتبار سے؟ اہل لغت کے اعتبار سے، اہل لغت کے اعتبار سے ہو رہا ہے، تو لہٰذا کہتے ہیں فِي اصْطِلَاحٍ بِهِ التَّخَاطُبُ کی قید کیا تھی؟ ضروری تھی، کیا تھی؟ ضروری تھی تاکہ یہ خارج ہو جاتا۔ تو جواب دے رہے ہیں کہ بھئی یہاں اس قسم کی جہاں ایک ہی کلمہ مثلاً اعتبارات کے بدلنے سے حکم بدلتا ہے، صلوٰۃ اگر بمعنی دعا کے ہے اور اہل شریعت کی اصطلاح میں ہے تو یہ کیا کہلائے گا؟ مجاز، اور اگر صلوٰۃ بمعنی دعا کے ہے اور اہل لغت کی اصطلاح میں ہے تو کیا کہلائے گا؟ توجہ ہے بھئی؟ جی۔ صلوٰۃ کا لفظ کس معنی میں ہو؟ دعا کے معنی میں، اور کن کے نزدیک؟ اہل شریعت کے نزدیک، تو یہ کیا ہو گا؟ مجاز، اور اگر یہی صلوٰۃ اسی دعا کے معنی میں ہو لیکن اہل لغت کے نزدیک ہو تو پھر حقیقت، تو دیکھو اضافت اور نسبت کے بدلنے سے ایک کلمہ، ایک ہی کلمہ کبھی حقیقت بن رہا ہے اور کبھی مجاز بن رہا ہے، تو اس قسم کی جگہوں میں جہاں اعتبارات کے بدلنے سے کیا بنتا ہو؟ کیا ہوتا ہو؟ اختلاف آتا ہو، تو وہاں پر حیثیت کی قید ملحوظ ہوتی ہے، تو یہاں بھی حیثیت کی قید ملحوظ ہے، جب حیثیت کی قید ملحوظ ہے تو فِي اصْطِلَاحٍ بِهِ التَّخَاطُبُ کی ضرورت ہی نہیں، کس طرح؟ دیکھو کہ کلمہ حقیقت کی یہ تعریف کی، وہ کلمہ ہے جو استعمال ہو کس کے اندر؟ معنی موضوع لہ کے اندر اس حیثیت سے کہ یہ اس کا معنی موضوع لہ ہے، اس حیثیت سے کہ یہ اس کا، بھئی دیکھو میں اہل شریعت کی اصطلاح میں بات کرتا ہوں اور صلوٰۃ بول کر کیا مراد لیتا ہوں؟ توجہ سے بھئی، صلوٰۃ بول کر کیا مراد لیتا ہوں؟ دعا، تو دیکھو یہ کلمہ استعمال ہو رہا ہے کس کے اندر؟ کس میں؟ نماز، کیا کریں بھئی؟ صلوٰۃ پہلے نماز کے معنی میں لو، صلوٰۃ حقیقت کے لیے حقیقت کی پہلی مثال بتانا، صلوٰۃ کا اہل شریعت کی اصطلاح میں بات کرتا ہوں میں اور صلوٰۃ بول کر کیا مراد لیتا ہوں؟ نماز، اور میں نے تعریف کیا کی تھی حقیقت کی؟ کہ وہ کلمہ ہے جو کس کے اندر استعمال ہو؟ معنی موضوع لہ کے اندر استعمال ہو، اب حیثیت کی قید لگاؤ، اس حیثیت سے کہ یہ کلمہ اس معنی کے لیے وضع ہے، تو صلوٰۃ کا لفظ کس پر بولا جا رہا ہے؟ نماز پر، اس حیثیت سے کہ یہ کلمہ اسی معنی کے لیے کیا ہے؟ وضع ہے، تو اگر اس حیثیت سے اطلاق ہوا تو معلوم ہوا یہ میں اپنی اصطلاح کے مطابق بات کر رہا ہوں اور یہ کیا بن گیا؟ حقیقت، اور اگر اس سے مراد لیتا ہوں میں دعا، تو دیکھو میں بول رہا ہوں کلمہ، کلمہ استعمال ہو رہا ہے کس کے اندر؟ جی؟ فی الجملہ تو یہ موضوع لہ ہے، فی الجملہ یہ کیا ہے؟ کیونکہ اہل لغت کے نزدیک صلوٰۃ کے معنی دعا کے ہیں، حقیقت، تو صلوٰۃ کا لفظ معنی موضوع لہ میں فی الجملہ کیا ہے؟ استعمال ہو رہا ہے، لیکن اس حیثیت سے کہ یہ لفظ اسی معنی کے لیے وضع ہے، اہل شریعت کے نزدیک یہ حقیقت نہیں بنے گا بلکہ کیا بنے گا؟ کیونکہ اہل شریعت کے نزدیک تو یہ اس معنی کے لیے وضع نہیں ہے، تو لہٰذا حیثیت کی قید سے یہ خود بخود نکل جائے گا۔ وَلَا يَخْفَى أَنَّ الْحَقِيقَةَ وَالْمَجَازَ كَذَلِكَ حقیقت اور مجاز بھی اسی طرح ہیں، لِأَنَّ الْكَلِمَةَ الْوَاحِدَةَ بِالنِّسْبَةِ إِلَى الْمَعْنَى الْوَاحِدِ قَدْ تَكُونُ حَقِيقَةً وَقَدْ تَكُونُ مَجَازًا بِحَسَبِ وَضْعَيْنِ مُخْتَلِفَيْنِ اس لیے کہ ایک ہی کلمہ کبھی کبھار ایک ہی معنی کے اعتبار سے قد تکون حقیقۃ وقد تکون مجازاً، کبھی حقیقت ہوتا ہے اور کبھی مجاز بحسب وضعین مختلفین، دو مختلف وضعوں کے اعتبار سے، فَالْمُرَادُ أَنَّ الْحَقِيقَةَ هِيَ الْكَلِمَةُ الْمُسْتَعْمَلَةُ فِيمَا هِيَ مَوْضُوعَةٌ لَهُ مِنْ حَيْثُ إِنَّهُ مَوْضُوعَةٌ لَهُ مراد یہ ہے کہ کلمہ، حقیقت وہ کلمہ ہے جو استعمال ہو اس معنی کے اندر جس کے لیے اس کو وضع کیا گیا ہے، اس حیثیت سے استعمال ہو کہ یہ اسی معنی کے لیے وضع ہے، لَا سِيَّمَا وَأَنَّ تَعْلِيقَ الْحُكْمِ بِالْوَصْفِ مُفِيدٌ لِهَذَا الْمَعْنَى خاص طور پر مولانا جب حکم کو معلق کیا جائے کسی وصف کے ساتھ یعنی کسی وصف پر حکم کو لگایا جائے مولانا تو مفيد لهذا المعنى، وہ بھی اسی معنی کا فائدہ دیتا ہے۔ تو دیکھو یہاں بھی ہم نے کیا کہا؟ استعمال کے ساتھ، استعمال کیا ہے مولانا؟ کلمہ، الْكَلِمَةُ الْمُسْتَعْمَلَةُ، کیا ذکر ہو رہا ہے؟ وصف ذکر ہو رہا ہے، کیا ذکر ہو رہا ہے؟ مستعمل ہو، استعمال کیا گیا ہو، تو یہ وصف ہے کلمے پر۔ تو اس پر ہم حکم لگا رہے ہیں کیا، کس چیز کا؟ کس میں ہو؟ معنی موضوع لہ کے اندر ہو، تو یہاں پر تو جب کسی وصف پر کوئی حکم لگایا جائے تو اس کی علت کیا ہوتی ہے؟ وہی وصف ہوتا ہے۔ میں نے کہا عالم کا اکرام کرو، تو میں نے کیا حکم لگایا بھئی؟ تو معلوم ہوا یہ اکرام کی علت کیا ہے؟ علم ہے، کیا ہے؟ اس شخص کی ذات نہیں ہے بلکہ علم ہے وجہ اکرام، تو یہاں بھی یہاں پر بھی کلمہ کون سا ذکر ہوا؟ کلمہ مستعملہ، وصف ذکر ہوا اور تو جب وصف ذکر ہوا آگے حکم ذکر کیا جا رہا ہے تو حکم کا تعلق کس سے آئے گا؟ وصف سے، وصف اس کی علت بنے گا۔ تو یہاں پر بھی جیسے کیا کہا انہوں نے؟ موضوع لہ ہو، موضوع لہ استعمال ہو کلمہ کس کے اندر؟ موضوع لہ کے اندر، اس حیثیت سے کہ یہ استعمال ہو رہا ہے موضوع لہ میں، اس حیثیت سے کہ یہ استعمال ہو رہا ہے موضوع لہ میں مولانا، كَمَا يُقَالُ: الْجَوَادُ لَا يُخَيِّبُ سَائِلَهُ جیسے کہا جاتا ہے جواد، سخی آدمی یا جواد، وہ کیا کرتا ہے؟ نامراد نہیں کرتا اپنے سائل، مانگنے والے کو اپنے سے، أَيْ مِنْ حَيْثُ إِنَّهُ جَوَادٌ اس حیثیت سے کہ وہ کیا ہے؟ سخی آدمی ہے، تو دیکھو جواد پر حکم لگایا تو علت کیا ہے؟ سخی ہونا ہے کہ سخی ہونے کی وجہ سے وہ کیا کرتا ہے؟ تو بات یہ بتلا رہے تھے آپ کو مولانا کہ حیثیت کی، وہ امور جو اعتبارات کے بدلنے سے بدل جاتے ہیں وہاں حیثیت کی قید ملحوظ ہوا کرتی ہے۔ جیسے کہا جاتا ہے الْجَوَادُ لَا يُخَيِّبُ سَائِلَهُ کہ سخی آدمی اپنے مانگنے والے کو نہ کیا کرتا ہے؟ نامراد، خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا، أَيْ مِنْ حَيْثُ إِنَّهُ جَوَادٌ، اس حیثیت سے کہ وہ سخی ہے، اس حیثیت سے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ جو حکم لگایا سخی آدمی پر یہ کس حیثیت سے لگایا ہے؟ سخی ہونے کی حیثیت سے لگایا ہے۔ فَحِينَئِذٍ يَخْرُجُ عَنِ التَّعْرِيفِ مِثْلُ لَفْظِ الصَّلَاةِ الْمُسْتَعْمَلِ فِي عُرْفِ الشَّرْعِ فِي الدُّعَاءِ پس اس صورت میں تعریف سے نکل جائے گا مثل لفظ صلوٰۃ جس کو استعمال کیا گیا ہو عرف شرع کے اندر کس کے اندر؟ دعا کے اندر، دیکھو کس طرح حیثیت کی قید کا فائدہ اپ کو بتلا رہے ہیں: لِأَنَّ اسْتِعْمَالَهُ فِي الدُّعَاءِ لَيْسَ مِنْ حَيْثُ إِنَّهُ مَوْضُوعٌ لِلدُّعَاءِ اس لیے کہ اس لفظ کا استعمال دعا کے اندر اس حیثیت سے نہیں ہے کہ یہ وضع ہی کس کے لیے ہے؟ بھئی اہل شریعت ہیں اور لفظ کو صلوٰۃ کو کس پر بولا؟ دعا کے معنی میں، تو یہ لفظ صلوٰۃ اس حیثیت سے کس حیثیت سے ہے کہ یہ اسی کے لیے وضع ہے یا اس کے لیے وضع نہیں ہے؟ اس حیثیت سے کہ یہ اس کے لیے وضع نہیں ہے، بَلْ مِنْ حَيْثُ إِنَّ الدُّعَاءَ جُزْءٌ مِنَ الْمَوْضُوعِ لَهُ بلکہ اس حیثیت سے کہ دعا موضوع لہ کا، اس لیے کہ دعا کا لفظ تو وضع تھا صلوٰۃ کے لیے اور صلوٰۃ نام ہے کس چیز کا؟ دعاؤں کا اور افعال وغیرہ کا، تو دعا بھی ایک جزء ہے اس نماز کا، تو یہ کل بول کر کیا مراد ہے؟ جزء مراد ہے، تو معلوم ہوا یہ موضوع لہ نہیں بلکہ کیا ہے؟ غیر موضوع لہ ہے۔ وَقَدْ يُجَابُ اور کبھی کبھار یہ بھی جواب دیا جاتا ہے، جی، اور یہ بھی جواب دیا جاتا ہے، یہ بھی جواب دیا جاتا ہے لیکن یہ جواب، قَدْ يُجَابُ سے کمزور جواب کو ذکر کیا جاتا ہے مولانا، بِأَنَّ قَيْدَ اصْطِلَاحِ بِهِ التَّخَاطُبِ مُرَادٌ فِي تَعْرِيفِ الْحَقِيقَةِ کہ اصطلاح بہ التخاطب کی قید مراد ہے تعریف حقیقت میں۔ بھئی اعتراض کیا تھا؟ فِي اصْطِلَاحٍ بِهِ التَّخَاطُبُ کی قید مجاز میں تو ذکر کی، حقیقت میں ذکر نہیں کی حالانکہ حقیقت کی تعریف میں بھی اس کو کیا کرنا چاہیے تھا؟ کہتے ہیں بھئی ذکر تو نہیں کی لیکن مراد ہے، مراد وہاں پر ہے، جواب یہ ہے۔ بھئی کیوں نہیں ذکر کیا؟ کہتے ہیں اس لیے کہ اس فن کے اندر بحث کی جاتی ہے مجاز سے، حقیقت سے بحث ہی لہٰذا اس کی تعریف میں فِي اصْطِلَاحٍ بِهِ التَّخَاطُبُ کو ذکر نہیں کیا، لیکن یہ مولانا آگے ذکر کریں گے یہ جواب صحیح نہیں، کہ بھئی اگر اس فن کا مقصد نہیں ہے تو اس کا یہ معنی نہیں کہ اس کی تعریف بھی وہ کامل نہ کریں، جب تعریف کر رہے ہیں تو تعریف پوری ہی ہو گی۔ لَكِنَّهُ اكْتَفَى بِذِكْرِهِ فِي تَعْرِيفِ الْمَجَازِ لیکن علامہ سکاکی نے اکتفاء کیا کہ اس فِي اصْطِلَاحٍ بِهِ التَّخَاطُبُ کو صرف تعریف مجاز ہی میں ذکر کریں، لِكَوْنِ الْبَحْثِ عَنِ الْحَقِيقَةِ غَيْرَ مَقْصُودٍ فِي هَذَا الْفَنِّ اس لیے کہ بحث کرنا حقیقت سے یہ اس فن کے اندر مقصود نہیں ہے، وَبِأَنَّ اللَّامَ فِي الْوَضْعِ لِلْعَهْدِ اور لام وضع کے اندر کس لیے ہے؟ عہدی ہے، لِلْعُهْدَةِ نہیں مولانا، لِلْعَهْدِ، أَيِ الْوَضْعِ الَّذِي وَقَعَ بِهِ التَّخَاطُبُ اور لام وضع کے اندر کس لیے ہے؟ عہدی ہے، یعنی الوضع الذی وقع بہ التخاطب، یہ دوسرا جواب دیا بعضوں نے، بعضوں نے دوسرا جواب دیا مولانا کہ وضع کیا ہے؟ عام وضع نہیں مراد بلکہ وہ وضع ہے الذی وقع بہ التخاطب، جس کے ساتھ کیا کیا گیا ہے؟ تخاطب کیا گیا ہے، تو فِي اصْطِلَاحٍ بِهِ التَّخَاطُبُ خود بخود آ گیا، وضع سے کیا مراد ہے؟ وہ وضع جو کس کے اندر ہو؟ فِي اصْطِلَاحٍ بِهِ التَّخَاطُبُ میں ہو، تو یہ مراد یہ ہے الف لام سے اس کی طرف اشارہ ہے، فَلَا حَاجَةَ إِلَى هَذَا الْقَيْدِ لہٰذا جب اس کی طرف اشارہ ہو گیا تو اس قید کی کرنے، ذکر کرنے کی ضرورت، وَفِي كِلَيْهِمَا نَظَرٌ اور ان دونوں جوابوں میں نظر ہے مولانا، اعتراضات ہیں بھئی، اس لیے کہ آپ نے کیا کہا؟ الْوَضْعِ کے اندر الف لام سے کس کی طرف اشارہ ہے؟ فِي اصْطِلَاحٍ بِهِ التَّخَاطُبُ، وہ وضع جو اصطلاح تخاطب کے اندر ہو، کہتے ہیں نہیں بھئی کلام میں کوئی ایسی دلالت نہیں ہے، یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟ آپ نے ذکر، اس اشارہ مراد لے رہے ہیں حالانکہ کلام میں کچھ تو دلالت ہونی چاہیے تھی، یہاں کوئی ایسی دلالت نہیں ہے کہ اس سے فِي اصْطِلَاحٍ بِهِ التَّخَاطُبُ والی وضع مراد لی جا سکے۔ وَاعْتَرَضَ أَيْضًا عَلَى تَعْرِيفِ الْمَجَازِ اور یہ بھی اعتراض کیا گیا ہے مولانا مجاز کی، وَاعْتَرَضَ، یہ بھی اعتراض کیا ہے، مصنف نے اعتراض کیا ہے علیٰ تعریف المجاز، مجاز کی تعریف پر، بِأَنَّهُ يَتَنَاوَلُ الْغَلَطَ کہ علامہ سکاکی نے جو مجاز کی تعریف کی وہ کس کو شامل ہے؟ غلط کو بھی شامل ہے، مثلاً میں آپ کو ایک کتاب دیتا ہوں اور کہتا ہوں: خُذْ هَذَا الْفَرَسَ، لو بھئی یہ گھوڑا پکڑ لو۔ اب یہ مجاز ہے؟ نہیں مجاز، لیکن علامہ سکاکی کی تعریف اس پر بھی بولی جا رہی ہے، اس کو، اس کو بھی کیا ہے؟ شامل ہے۔ لِأَنَّ الْفَرَسَ فِي قَوْلِهِ: خُذْ هَذَا الْفَرَسَ مُشِيرًا إِلَى كِتَابٍ بَيْنَ يَدَيْهِ، مُسْتَعْمَلٌ فِي غَيْرِ مَا وُضِعَ لَهُ اس لیے کہ فرس کا لفظ اس قول کے اندر: خُذْ هَذَا الْفَرَسَ، اشارہ کرتے ہوئے کس کی طرف؟ اپنے سامنے کتاب کی طرف، اب یہ فرس کس میں استعمال ہو رہا ہے؟ غیر موضوع لہ میں، وَالْإِشَارَةُ إِلَى الْكِتَابِ قَرِينَةٌ عَلَى أَنَّهُ لَمْ يُرِدْ بِالْفَرَسِ مَعْنَاهُ الْحَقِيقِيَّ اور کتاب کی طرف اشارہ کرنا یہ قرینہ ہے کہ اس نے ارادہ نہیں کیا فرس کے ساتھ معنی حقیقی کا۔ بھئی میں نے جب کہا لو یہ گھوڑا پکڑ لو، تو گھوڑا بول کر کیا مراد لے رہا ہوں؟ کتاب مولانا، تو یہ کتاب کی طرف اشارہ یہ قرینہ ہے یہ بتلا رہا ہے کہ یہاں فرس کا لفظ اپنے معنی میں استعمال نہیں بلکہ اس سے کیا مراد ہے؟ کتاب، تو یہ کہا تو کہنے والے نے غلطی سے کہہ دیا لیکن مجاز کی تعریف اس پر بھی صادق آئی کہ لفظ استعمال ہو رہا ہے غیر موضوع لہ میں اور ساتھ قرینہ بھی موجود ہے جو بتلا رہا ہے کہ موضوع لہ یہاں مراد نہیں ہے۔ چلیے جی مولانا، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
50 approved lectures · 69 of 50