Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مختصر المعاني · dars-002

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Rawaid ullah
📍 Location Islamabad, Pakistan
📅 Approved Date 15 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 49
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
جی لکھیے مولانا! قرآن کلام اللہ ہے قرآن کلام اللہ ہے قرآن کلام اللہ ہے جو اللہ کے آخری رسول جو اللہ کے آخری رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر 23 سال کے عرصے میں پر 23 سال کے عرصے میں تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہوتا رہا تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہوتا رہا اور قیامت تک کے لیے اور قیامت تک کے لیے تمام بنی نوع انسان کے لیے ہدایت ہے تمام بنی نوع انسان کے لیے ہدایت ہے بھئی، ابھی کون چھینکا؟ الحمد للہ کیوں نہیں کہا بھئی آپ؟ کوئی چھینکے بھئی، الحمد للہ کہے بھئی زور سے بھئی۔ سب سنیں۔ اور سب جواب دیں یرحمک اللہ بھئی۔ قرآن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قرآن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ معجزہ ہے کا وہ معجزہ ہے جو آج بھی زندہ ہے جو آج بھی زندہ ہے اور قیامت تک موجود رہے گا اور قیامت تک موجود رہے گا البتہ اس بات میں علماء کے کئی اقوال ہیں علماء کے کئی اقوال ہیں کہ قرآن کس اعتبار سے معجزہ ہے کہ قرآن کس اعتبار سے معجزہ ہے یہ ابھی کون چھینکا ہے ادھر؟ ابھی میں نے کیا بات کی؟ جی؟ تو وہاں کی ہم سنیں سارے باری باری۔ (الحمد للہ، یرحمک اللہ) بس، شاباش۔ بھئی یہ سنت ہے، سنت۔ اور علماء نے بھی اس کو ترک کیا ہوا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ حدیث میں آتا ہے جو چھینکے اسے الحمد للہ کہنا چاہیے کہ قرآن کس اعتبار سے معجزہ ہے۔ قولِ اول قولِ اول بعض علماء فرماتے ہیں بعض علماء فرماتے ہیں کہ قرآن معجزہ ہے کہ قرآن معجزہ ہے بوجہ ذکرِ مغیبات کے بوجہ ذکرِ مغیبات بھئی م، غ، ی، ب، الف بوجہ ذکرِ مغیبات کے یعنی اس میں غیب کی خبریں دی گئی ہیں یعنی اس میں غیب کی خبریں دی گئی ہیں اور کوئی کلام ایسا نہیں اور کوئی کلام ایسا نہیں جس میں غیب کی خبریں دی گئی ہوں جس میں غیب کی خبریں دی گئی ہوں اور وہ حرف بہ حرف پوری ہو جائیں اور وہ حرف بہ حرف پوری ہو جائیں قولِ ثانی بعض علماء فرماتے ہیں بعض علماء فرماتے ہیں کہ قرآن معجزہ ہے کہ قرآن معجزہ ہے اپنے اسلوبِ بیان کی وجہ سے کہ قرآن معجزہ ہے اپنے اسلوبِ بیان کی وجہ سے قرآن کا اندازِ بیان بڑا عجیب ہے قرآن کا اندازِ بیان بڑا عجیب ہے تو کہیں قرآن میں جنت کا ذکر چل رہا ہوتا ہے پھر اچانک جہنم کا ذکر شروع ہو جاتا ہے، کبھی تخویف ہے تو کبھی تبشیر ہے مولانا، کبھی نصیحتیں چل رہی ہیں تو کبھی احکام، حکم دیا جاتا ہے مولانا، اور کہیں پر دعائیں چل رہی ہیں، عجیب انداز ہے قرآن کا بھئی۔ واقعات چلتے چلتے اچانک حکم شروع ہو جائے گا، کہیں مولانا جنت کا ذکر چلتے چلتے ایک دم جہنم کا ذکر شروع ہو جائے گا، کہیں ایک دم نصیحتیں شروع ہو جائیں گی، کہیں ایک دم احکام دیے جا رہے ہیں، کہیں دعائیں ذکر ہیں مولانا، کہیں ڈرایا جا رہا ہے، کہیں خوشخبریاں سنائی جا رہی ہیں، عجیب انداز ہے قرآن کا۔ قولِ ثالث قولِ ثالث بعض علماء فرماتے ہیں بعض علماء فرماتے ہیں کہ قرآن معجزہ ہے اپنی تاثیر کے اعتبار سے اپنی تاثیر کے اعتبار سے یہ دلوں پر بہت تیزی سے اثر انداز ہوتا ہے یہ دلوں پر بہت تیزی سے اثر انداز ہوتا ہے اور کسی کلام میں اتنی تاثیر نہیں (الحمد للہ، یرحمک اللہ) اور کسی کلام میں اتنی تاثیر نہیں قرآن میں اللہ نے عجیب تاثیر رکھی ہے مولانا، اور کیوں نہ ہو یہ کلام اللہ ہے بھئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت دشمن ہوتے تھے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم، زبان پیغمبر کی ہوتی تھی اور ایک مرتبہ قرآن سنتے تھے تھوڑا سا، اسی وقت دل پہ اتنا اثر ہوتا، دل پگھل جاتے، اسی وقت ایمان لے آتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر۔ تو یہ قرآن کی... حضرت مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ کے قرآن میں اتنی تاثیر تھی مولانا، کہ دور دور سے ہندو ان کے قرآن کو سننے کے لیے ان کے جلسوں میں آیا کرتے تھے بھئی، وزیراعظم تک ان کے آتے تھے بھئی قرآن سننے کے لیے۔ بہت سے ایسے واقعات ہیں بھئی۔ ابھی کہتے ہیں کچھ عرصہ قبل کی بات ہے، کوئی قاری مصر، روس گیا بھئی۔ وہاں کوئی ان کا پروگرام تھا، وہاں اس نے قرات کی اور کہتے ہیں غیر مسلم وہاں بڑی کثرت سے اس میں آئے تھے اور ان کے وزراء بڑے بڑے، وزیراعظم وغیرہ، صدر۔ تو تلاوت کی کہتے ہیں تو اتنا اثر ہوا دلوں پر، تمام لوگوں پر گریہ طاری ہو گیا، سب کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے بھئی، چاہے مسلم تھا چاہے غیر مسلم۔ عجیب تاثیر ہے قرآن میں۔ قولِ رابع قولِ رابع بعض علماء فرماتے ہیں کہ قرآن معجزہ ہے کہ قرآن معجزہ ہے بوجہ عدمِ خلق کے بوجہ عدمِ خلق کے خلق کا معنی ہے پرانا ہونا بھئی۔ خلق کا معنی ہے پرانا ہونا، قاف دو نقطوں والا بھئی۔ یعنی قرآن پرانا نہیں ہوتا اس کی جتنی بھی تلاوت کی جائے یعنی قرآن پرانا نہیں ہوتا اس کی جتنی بھی تلاوت کی جائے یعنی اس کی لذت ختم نہیں ہوتی مولانا یعنی اس کی لذت ختم نہیں ہوتی بھئی اور کوئی کتاب مولانا ایک آدھ مرتبہ پڑھنے کے بعد انسان اس کو دوبارہ پڑھنے کو انسان کا دل نہیں کرتا، لیکن قرآن کلام اللہ ہے اس کو جتنی مرتبہ بھی پڑھا جائے جتنی مرتبہ بھی پڑھا جائے مولانا، اس کی لذت ختم نہیں ہوتی بھئی، ہر مرتبہ نئی لذت محسوس ہوتی ہے۔ قولِ خامس قولِ خامس قرآن معجزہ ہے قرآن معجزہ ہے عجائبات پر مشتمل ہونے کی وجہ سے قرآن معجزہ ہے عجائبات پر مشتمل ہونے کی وجہ سے 1400 سال گزر گئے، قرآن کے عجائبات ختم ہونے میں نہیں آ رہے اور کبھی ختم ہو بھی نہیں سکتے۔ قرآن کی ہزارہا تفاسیر لکھی گئیں قرآن کی ہزارہا تفاسیر لکھی گئیں بعض تفاسیر کئی کئی سو جلدوں میں ہیں لیکن قرآن کے لیکن قرآن کے اسرار و رموز اسرار و رموز اور نکات ختم ہونے میں نہیں آتے اور نکات ختم ہونے میں نہیں آتے ہر مفسر نت نئے نکات بیان کرتا ہے جنہیں سن کر عقل دنگ رہ جاتی ہے ہر مفسر نت نئے نکات بیان کرتا ہے جنہیں سن کر عقل دنگ رہ جاتی ہے اور کوئی کتاب ایسی نہیں اور کوئی کتاب ایسی نہیں قولِ سادس قولِ سادس جمہور علماء فرماتے ہیں جمہور علماء فرماتے ہیں کہ قرآن معجزہ ہے اپنی فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے کہ قرآن معجزہ ہے اپنی فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے یعنی یہ اتنا فصیح و بلیغ کلام ہے کہ انسان کہ انسان ایسا کلام لانے سے عاجز ہے بلکہ تمام مخلوق ایسا کلام لانے سے عاجز ہے الگ سطر مولانا۔ الگ سطر لکھیے۔ قرآن جس زمانے میں نازل ہوا قرآن جس زمانے میں نازل ہوا اس وقت عرب کی فصاحت و بلاغت اپنے عروج پر تھی اس وقت عرب کی فصاحت و بلاغت اپنے عروج پر تھی بلاغت کا، ان کی بلاغت کا ہر طرف چرچا تھا ہر طرف چرچا تھا اپنی اس فصاحت و بلاغت ہی کی وجہ سے وہ غیر عرب کو عجمی کہتے تھے عجمی کہتے تھے یعنی گونگا یعنی گونگا عجمی کا یعنی گونگا۔ تو گویا ان کا یہ دعویٰ تھا تو گویا ان کا یہ دعویٰ تھا کہ ہمارا کلام کہ ہمارا کلام فصاحت و بلاغت میں فصاحت و بلاغت میں اتنا اعلیٰ درجے کا ہے اتنا اعلیٰ درجے کا ہے کہ باقی تمام دنیا کے لوگوں کا کلام کہ باقی تمام دنیا کے لوگوں کا کلام ہمارے کلام کے مقابلے میں ہمارے کلام کے مقابلے میں لا کلام ہے لا کلام ہے، اس کی کوئی حیثیت نہیں اس کی کوئی حیثیت نہیں مگر انہی عرب لوگوں کے سامنے جب قرآن کا نزول شروع ہوا تو قرآن کا مقابلہ انہوں نے تو قرآن کا مقابلہ انہوں نے اپنے کلام سے کرنے کی بجائے اپنے کلام سے کرنے کی بجائے تلوار سے شروع کر دیا تلوار سے شروع کر دیا کیونکہ وہ جانتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ اتنا اعلیٰ اور ارفع کلام ہے اتنا فصیح و بلیغ کلام ہے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ اتنا اعلیٰ اور ارفع کلام ہے اتنا فصیح و بلیغ کلام ہے کہ ہم کبھی بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے کہ ہم کبھی بھی اس کا مقابلہ اپنے کلام کے ساتھ نہیں کر سکتے سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ، تو عربوں کے پاس دو راستے تھے مولانا قرآن کا مقابلہ کرنے کے لیے۔ ایک تو آسان راستہ تھا بھئی قرآن کے مقابلے میں کیا کیا جائے؟ ویسا ہی کلام ذکر کیا جائے بھئی۔ اور دوسرا راستہ تھا کہ تلوار اٹھائی جائے۔ پہلا راستہ بڑا آسان تھا اور دوسرا راستہ کتنا مشکل ہے بھئی، لیکن اس کے باوجود انہوں نے جنگ کا راستہ اپنایا کیونکہ وہ جانتے تھے یہ اتنا فصیح، فصیح و بلیغ کلام ہے کہ ہم کبھی بھی اس جیسا کلام پیش نہیں کر سکتے۔ عرب کو تو اپنی فصاحت پر اتنا گھمنڈ تھا کہ اپنے شعراء کے قصائد انہوں نے بیت اللہ میں لٹکا رکھے تھے تاکہ جو دنیا سے یہاں آئے حج وغیرہ دیگر مواقع پر، وہ ذرا ہماری فصاحت و بلاغت کو دیکھ لے بھئی۔ چنانچہ کہتے ہیں، ایک مرتبہ جب قرآن کا نزول شروع ہوا، کسی نے سورۃ الکوثر لکھ کر بیت اللہ میں لٹکا دی بھئی۔ قرآن کی مختصر ترین سورت ہے۔ اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم، إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ، فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ، إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ۔ تو انہی میں سے عربوں ہی میں سے کسی نے اس کے نیچے لکھ دیا: ”مَا هَذَا كَلَامُ الْبَشَرِ“۔ یہ انسانی کلام نہیں ہے۔ تین جملے ہیں مختصر سے، غور تو کریں بھئی۔ لیکن انہوں نے تین، ان کو دیکھ کر ہی فیصلہ کر دیا یہ انسانی کلام... کتنی فصاحت ہو گی، کتنی بلاغت ہو گی اس جملے کے، ان تین جملوں کے اندر مولانا۔ بعد میں بھی کوشش، کوشش بھی بعض نے کی بھئی اس جیسا کلام بنانے کی مگر نہیں بنا سکے۔ پانچویں چھٹی صدی میں ایک بہت بڑا کہتے ہیں فصیح و بلیغ شخص تھا، بہت بڑا ادیب تھا بھئی، وہ اس کی فصاحت و بلاغت کا ڈنکا چار دانگِ عالم میں بج رہا تھا۔ اس نے کہا کہ میں اس قرآن کے مقابلے میں اپنا کلام لے کر آتا ہوں بھئی، لیکن میری تمام ضروریات پوری کی جائیں۔ بادشاہوں نے اس سے بڑا کہا، انعام وغیرہ کے وعدے کیے بھئی جو کچھ مانگو گے مال دیں گے، سب گھر دیں گے، سب کچھ محلات دیں گے، قرآن کا کے مقابلے میں کوئی کلام لے کر آؤ۔ اس نے کہا یہ تو کوئی مشکل بات نہیں، آپ مجھے اطمینان والی جگہ دے دیں اور اتنے عرصے تک مجھے کوئی تنگ نہ کرے، میں اطمینان سے اپنا کام کروں۔ چنانچہ خوب سہولتیں وغیرہ اس کو فراہم کر دی گئیں، وہ کمرے میں چلا گیا مولانا۔ چھ مہینے کے بعد پتہ کرنے گئے کہ اس نے اب تک کتنا کام کیا ہے بھئی، کتنا لکھ چکا ہے۔ کہتے ہیں دیکھا وہ کاغذ قلم اٹھائے بیٹھا، کاغذ اور قلم اٹھائے ہوئے بیٹھا ہے اور اس کے پاس کاغذوں کا ڈھیر پڑا ہوا ہے مولانا۔ اس سے پوچھا کتنا کلام لکھا ہے بھئی؟ اس نے کہا ابھی میں ایک جملہ بھی نہیں لکھ سکا۔ میں جو بھی اپنا جملہ لکھتا ہوں اور پھر اس کا موازنہ قرآن کی آیات سے کرتا ہوں، تو مجھے اپنا کلام بچوں کا سا، ردی اور بے کار سا کلام معلوم ہوتا ہے، میں اس صفحے کو اٹھا کر پھاڑ کر پھینک دیتا ہوں، نیا جملہ لکھتا ہوں، اس کا موازنہ کرتا ہوں تو وہ بھی اسی طرح لگتا ہے۔ چھ ماہ ہو گئے میں ابھی تک ایک جملہ قرآن کے مقابلے میں تیار نہیں کر سکا بھئی۔ تو جمہور کے نزدیک قرآن معجزہ ہے اپنی فصاحت اور بلاغت کے اعتبار سے۔ اس لیے قرآن کی فصاحت و بلاغت کو سمجھنے کے لیے علمِ بلاغت کا جاننا ضروری ہے۔ اسی لیے قرآن کی فصاحت و بلاغت کو جاننے کے لیے قرآن کی فصاحت و بلاغت کو جاننے کے لیے علمِ بلاغت ضروری ہے، علمِ بلاغت کا سیکھنا ضروری ہے مثال کے طور پر مثال کے طور پر قرآن میں آتا ہے إِنَّكِ كُنتِ مِنَ الْخَاطِئِينَ إِنَّكِ كُنتِ مِنَ الْخَاطِئِينَ بظاہر یہاں مِنَ الْخَاطِئَاتِ ہونا چاہیے تھا بظاہر یہاں مولانا مِنَ الْخَاطِئَاتِ ہونا چاہیے تھا کیونکہ ماقبل میں مؤنث کی ضمیر، مؤنث کا صیغہ ہے مولانا، إِنَّكِ كُنتِ مِنَ... تو بظاہر مِنَ الْخَاطِئَاتِ ہونا چاہیے تھا۔ یہ مِنَ الْخَاطِئِينَ کیوں لایا گیا؟ اس میں کیا نکتہ ہے؟ یہ آپ کو علمِ بلاغت بتلائے گا۔ یہ مِنَ الْخَاطِئِينَ لانے میں کیا نکتہ ہے، کیا سر ہے، کیا راز ہے، یہ آپ کو علمِ بلاغت بتلائے گا۔ اسی طرح قرآن میں ہے: وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ یہاں بھی بظاہر وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتَاتِ ہونا چاہیے بھئی کیونکہ ماقبل میں کیا ہے؟ مؤنث کا صیغہ ہے مولانا، كَانَتْ۔ تو یہ مِنَ الْقَانِتِينَ کیوں لایا گیا؟ یہ آپ کو علمِ بلاغت سے معلوم ہو گا۔ اسی طرح قرآن میں آتا ہے: يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ قُلْ هِيَ مَوَاقِيتُ لِلنَّاسِ قُلْ هِيَ مَوَاقِيتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ قُلْ هِيَ مَوَاقِيتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا ہلال، چاند کے بارے میں بھئی، کہ چاند شروع میں اتنا باریک ہوتا ہے پھر بڑھتا چلا جاتا ہے، بڑھتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ مکمل گول ہو جاتا ہے، پھر کم ہونا شروع ہو جاتا ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کی کیا وجہ ہے؟ جواب میں اس کے فائدے ذکر کیے گئے جواب میں جواب میں اس کے فائدے ذکر کیے گئے کہ اس سے لوگ اپنے اوقات معلوم کرتے ہیں مولانا، کہ لوگ اس سے اوقات معلوم کرتے ہیں بھئی، حج کے اوقات کا پتہ چلتا ہے۔ تو بظاہر جواب سوال کے مطابق نہیں تو بظاہر جواب سوال کے مطابق نہیں ایسا کیوں ہے؟ اس میں کیا نکتہ ہے؟ یہ آپ کو علمِ بلاغت بتلائے گا۔ اسی طرح قرآن میں ہے: اسی طرح قرآن میں ہے: يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ (تم کیوں نہیں لکھ رہے بھئی؟ جی؟) يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلْ مَا أَنفَقْتُم مِّنْ خَيْرٍ قُلْ مَا أَنفَقْتُم مِّنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ وَالْأَقْرَبِينَ وَالْيَتَامَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَابْنِ السَّبِيلِ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ کیا خرچ کریں؟ یعنی کیا چیز اللہ کے راستے میں دیں؟ کیا چیز اللہ کے راستے میں دیں؟ کیا چیز خرچ کریں؟ جواب میں یہ نہیں کہا گیا کہ کیا خرچ کریں جواب میں یہ نہیں کہا گیا کہ کیا خرچ کریں بلکہ یہ بتلایا گیا کہ کن پر خرچ کریں کہ کن پر خرچ کریں تو بظاہر یہاں بھی جواب سوال کے مطابق نہیں جواب سوال کے مطابق نہیں اس کی وجہ بھی علمِ بلاغت سے ہی معلوم ہو گی اس کا نکتہ بھی علمِ بلاغت ہی سے معلوم ہو گا اسی طرح قرآن میں ہے: وَمَا لِيَ لَا أَعْبُدُ الَّذِي وَمَا لِيَ لَا أَعْبُدُ الَّذِي فَطَرَنِي فَطَرَنِي، ط کے ساتھ بھئی وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ تو بظاہر یہاں وَإِلَيْهِ أُرْجَعُ ہونا چاہیے تھا متکلم کا صیغہ مولانا۔ تو بظاہر یہاں وَإِلَيْهِ أُرْجَعُ ہونا چاہیے تھا متکلم کا صیغہ، کیونکہ ماقبل میں کیا ہے؟ متکلم کے صیغے، متکلم کی ضمیریں ہیں، پھر ایک دم جمع مخاطب کا صیغہ لایا گیا، اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کا پتہ آپ کو صرف علمِ بلاغت ہی سے چلے گا۔ بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
50 approved lectures · 2 of 50