کَل مولانا اَفْعَالِ مُقَارَبَہ کی بحث ہم نے پڑھی تھی۔ اَفْعَالِ مُقَارَبَہ وہ اَفْعَال ہیں جن کو اس لیے وضع کیا گیا ہے تاکہ وہ دلالت کریں خبر کے فاعل کے قریب ہونے پر۔ تو اس میں یا تو خبر فاعل کو حاصل ہونے کے قریب ہے۔ اب یہ حاصل ہونے خبر جو فاعل کو حاصل ہو گی، یا تو اس کی صرف امید ہو گی حاصل ہونے کی یا اس کا یقین ہو گا۔ اگر امید ہے تو اس کے لیے عَسٰی آتا ہے مولانا۔ اور بتایا تھا یہ فِعْلِ جَامِد ہے، اس سے صرف ماضی استعمال ہوتا ہے مولانا، کیا؟ صرف ماضی کے صیغے۔ اور عمل کے اندر یہ کَادَ کی طرح ہیں بھئی۔ تو یہ اَفْعَال ایک اسم چاہتے ہیں اور ایک خبر چاہتے ہیں۔ ان کا ایک اسم آئے گا اور خبر ان کی ہمیشہ فِعْلِ مُضَارِع ہو گی، کبھی اَنْ آئے گا اور کبھی اَنْ نہیں آئے گا۔ تو عَسٰی کے اندر اَنْ آتا ہے ہمیشہ، مثلاً عَسٰی زَيْدٌ اَنْ یَّقُوْمَ۔ ہاں کبھی کبھی عَسٰی کَادَ کی طرح ہوتا ہے اور کَادَ کے اندر خبر پر اَنْ نہیں آتا تو اس میں بھی کبھی کبھار اَنْ نہیں آتا۔
اور کَادَ جو ہے اس کے اندر وہ یقین پر دلالت کرتا ہے یعنی خبر کا حاصل ہونا قریب ہے اور یہ کیا ہے؟ امید نہیں ہے بلکہ کیا ہے اس میں؟ یقین ہے کہ قریب ہے حاصل ہو جائے بھئی اس کو۔ اور اس کی خبر بھی جو ہے فِعْلِ مُضَارِع آئے گی لیکن بغیر اَنْ کے آئے گی اور کبھی کبھی اس میں بھی عَسٰی کی طرح کیا آ جایا کرتا ہے؟ اَنْ آ جاتا ہے۔
اور تیسری قسم وہ ہیں جو کسی فعل میں شروع ہونے کے لیے آتے ہیں وہ اَفْعَال، اور وہ طَفِقَ، جَعَلَ، کَرَبَ، اَخَذَ ہیں مولانا۔ اور ان کا استعمال بھی کَادَ کی طرح ہے یعنی ان کی خبر پر بھی اَنْ داخل نہیں ہو گا۔ ہاں کبھی آ بھی جائے گا، جیسے طَفِقَ زَيْدٌ یَّکْتُبُ۔ اور اسی طرح اَوْشَکَ ہے مولانا، وہ بھی صرف قرب پر دلالت کے لیے آتا ہے بھئی۔ اصل لغوی معنی تو ہیں اَسْرَعَ جلدی کے لیکن یہاں پر یہ اَفْعَالِ مُقَارَبَہ صرف قرب پہ دلالت کے لیے آتا ہے شروع ہونے کے لیے، اور اس کا استعمال عَسٰی اور کَادَ کی طرح ہے۔ کیا معنی عَسٰی اور کَادَ کی طرح ہے؟ یعنی جیسے عَسٰی میں اَنْ آتا ہے تو اس کی خبر پر بھی کیا آئے گا؟ اَنْ آئے گا، اور جیسے کَادَ کے اندر اَنْ نہیں آتا تو کبھی اس کی خبر میں بھی اَنْ نہیں آئے گا تو دونوں طرح یہ استعمال ہوتا ہے۔
اس کے بعد مولانا دو فِعْلِ تَعَجُّب کے پڑھے تھے جن کو وضع کیا گیا ہے اِنْشَاءِ تَعَجُّب کے لیے، تعجب کے انشا کے لیے، اور دو صیغے ہیں: ایک مَا اَفْعَلَہٗ اور ایک اَفْعِلْ بِہٖ، جیسے مَا اَحْسَنَ زَيْدًا اور اَحْسِنْ بِزَيْدٍ۔ جی، تو میں نے بتلایا تھا یہ مَا جو ہے یہ اَیُّ شَیْءٍ کے معنی میں ہے، نکرہ استفہامیہ ہے بھئی۔ مَا استفہامیہ ہے اور یہ نکرہ ہوتا ہے، اور اَحْسَنَ فعل ہے اور اس کے اندر ھُوَ ضمیر اس کا فاعل ہے جو کس کو راجع ہے؟ کیونکہ مَا اَحْسَنَ زَيْدًا فعل اپنے فاعل اور زَيْدًا مفعول ہے، فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر کیا بنے گا؟ جملہ، اور جملہ ہو کر یہ خبر بنے گا کس کے لیے؟ مَا کے لیے۔ اور جب بھی جملے کو کسی سے جوڑنا ہو چاہے کسی کے لیے خبر بنائیں، چاہے جملے کو کسی کے لیے صفت بنائیں، چاہے جملے کو کسی کے لیے صلہ بنائیں، چاہے جملے کو کسی کے لیے حال بنائیں، ان تمام صورتوں میں آپ نے پڑھا ہے جملہ مستقل ہوتا ہے، وہ کسی سے جڑنے کا محتاج نہیں لیکن جب آپ اس کو جوڑ رہے ہیں تو اب کیا چاہیے؟ ربط چاہیے، عائد چاہیے، اور وہ ربط آئے گا مولانا اور یہ عموماً کس کے ساتھ آئے گا؟ ضمیر کے ساتھ بھئی، ضمیر کے ساتھ ربط آئے گا۔ اور بھی صورتیں ہیں ربط دینے کی، اس میں فاعل آ جاتا کبھی الف لام آ جاتا ہے اور کبھی مولانا بِعَیْنِہٖ اسی اسم کا تکرار ہو جاتا ہے وغیرہ وہ آپ اگلی کتابوں میں پڑھیں گے۔ فی الحال یہ یاد رکھیں بس کہ ایک طریقہ یہ ہے اور یہ اکثر ہے کہ ربط کس کے ذریعے دیا جائے گا؟ ضمیر کے ذریعے، تو یہاں بھی اَحْسَنَ کے اندر ھُوَ ضمیر ہے جو کس کو لوٹ رہی ہے؟ مبتدا مَا کو، اور اس نے ربط دے دیا اور پھر یہ خبر ہوئی اس کے لیے اور جملہ استفہامیہ انشائیہ ہوا بھئی۔
جی، اور اس کا معنی کیا بتلایا تھا؟ اَیُّ شَیْءٍ اَحْسَنَ زَيْدًا، کس چیز نے زید کو حسین بنا دیا؟ اور یہ لغت کے اعتبار سے، ترکیب کے اعتبار سے ہم ترجمہ کر رہے ہیں لیکن استعمال اس معنی میں نہیں ہے۔ استعمال اب یہ کس لیے ہو رہا ہے؟ اِنْشَاءِ تَعَجُّب کے لیے۔ معنی اب یہ نہیں ہے کہ کس چیز نے زید کو حسین بنایا، اب معنی ہے: زید کتنا حسین ہے! سمجھ میں آیا بھئی؟ تو تعجب کر رہے ہیں بھئی آپ۔
اور اسی طرح ہے اَحْسِنْ بِزَيْدٍ۔ اَحْسِنْ میں نے بتلایا تھا اس کی ترکیب بھی بتلائی تھی کہ یہ بظاہر امر ہے لیکن کس معنی میں ہے؟ ماضی کے معنی میں ہے۔ تو اَحْسِنْ بمعنی اَحْسَنَ کے ہے اور اَحْسَنَ اور بِزَيْدٍ کے اندر با زائدہ جارہ ہے اور یہ زَيْدٍ کیا ہے؟ مجرور لفظاً ہے اور مرفوع محلاً ہے، یہ فاعل ہے اَحْسَنَ کے لیے، تو فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اَحْسِنْ بِزَيْدٍ کس معنی میں ہے؟ اَحْسَنَ زَيْدٌ کے معنی میں ہے یعنی زید حسین ہو گیا۔ یہ تو ترکیب کے اعتبار سے ترجمہ ہے، اب یہ اس معنی میں نہیں ہے، اب ان کا معنی کیا ہے؟ یہاں پر جب ہم کہتے ہیں اَحْسِنْ بِزَيْدٍ، کیا معنی ہوتا ہے؟ زید کتنا حسین ہے!
جی، اور یہ بھی بتلایا تھا کہ یہ صرف انہی ابواب سے آئیں گے جن سے اِسْمِ تَفْضِیْل کے صیغے آتے ہیں، اس لیے کہ اِسْمِ تَفْضِیْل میں بھی اَفْعَلَ وزن تھا، یہاں پر بھی اَفْعَلَ یا اَفْعِلْ وزن ہے مولانا۔ تو یہاں ایک فا ہے، ایک عین ہے، ایک لام ہے۔ تو صیغے یہی دو ہیں، تو جس سے بھی بناؤ گے یہی دو صیغے لاؤ گے۔ تو اگر زائد کے باب سے بناؤ گے تو پھر کیا ہو گا؟ آپ کو زوائد کو حذف کرنا پڑے گا۔ زوائد کو حذف کریں گے تو ہمیں پتہ ہی نہیں چلے گا کہ یہ ثلاثی مجرد کے باب سے آ رہا ہے یا ثلاثی مزید وغیرہ یا رباعی کے باب سے آ رہا ہے بھئی۔
تو باقیوں میں طریقہ بتلایا تھا کہ بھئی با مَا اَحْسَنَ زَيْدًا اور اگر آپ کس سے بنانا چاہتے ہیں؟ اِسْتِخْرَاج سے، تو کیا کہیں گے؟ مَا اَشَدَّ اِسْتِخْرَاجًا یا مَا اَشَدَّ اِسْتِخْرَاجَہٗ۔ اور دوسرے طریق اَحْسِنْ بِزَيْدٍ، اس کے اندر کیا طریقہ تھا؟ اَحْسِنْ بِزَيْدٍ، زید کو ہٹا کر استخراج مصدر لگا دیں گے اور اس کے ساتھ زید کی ضمیر لگا دیں گے یا زید کا نام جو بھی آ جائے گا عبارت میں موقع محل کے مطابق بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو کیا ہو گا؟ اَشْدِدْ بِاسْتِخْرَاجِ زَيْدٍ۔ زید کا استخراج کتنا شدید ہے، کتنا زبردست ہے مولانا! استخراج معنی مسئلہ نکالنا، تو زید کتنا تعجب ہو رہا ہے مولانا زید کے استخراج پر تعجب ہو رہا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ استخراج جانتے ہو کہ نہیں جانتے بھئی؟ مسئلہ نکالنا، مسئلہ نکالنا، جیسے مولانا فقہاء کیا کرتے تھے، قرآن اور حدیث سے کیا کرتے ہیں؟ مسائل نکالتے ہیں۔ تو یہاں بھی وہی استخراج اس معنی میں ہے کہ زید کتنے شدید استخراج والا ہے، کتنے زبردست استخراج والا ہے! سمجھ میں آیا معنی بھئی؟ جی۔
اور اس کے اندر تصرف نہیں کر سکتے مولانا۔ جو ترتیب ہے وہی برقرار رکھنی ہے۔ مَا اَحْسَنَ زَيْدًا ہے تو یہی رہے گا، مَا آئے گا، پھر اَحْسَنَ اَفْعَلَ وزن آئے گا اور اس کے بعد مفعول آئے گا۔ آپ آگے پیچھے نہیں کر سکتے، کوئی اور لفظ درمیان میں نہیں لا سکتے۔ اَفْعِلْ بِہٖ، دوسرا کیا ہے؟ اَفْعِلْ بِہٖ، تو بِہٖ بعد میں ہی آ رہا ہے، اس کو مقدم نہیں کر سکتے، کوئی اور درمیان میں نہیں لا سکتے۔ یہی ترتیب رہے گی، تقدیم و تاخیر اور فصل نہیں لا سکتے۔ ہاں امام مازنی کیا فرماتے ہیں کہ ظرف کے ذریعے فصل لانا جائز ہے۔
اس کے بعد اَفْعَالِ مَدْح اور ذَم پڑھے تھے مولانا۔ مدح کے بھی دو افعال ہیں، ذم کے بھی دو افعال ہیں۔ مدح کے کون سے ہیں؟ نِعْمَ اور حَبَّذَا، اور ذم کے بِئْسَ اور سَاءَ بھئی، یہ ساروں کا استعمال تقریباً ایک جیسا ہے۔
نِعْمَ کے بارے میں بتلایا تھا کہ نِعْمَ جو ہے اس کا فاعل ہمیشہ مُعَرَّفْ بِاللَّام آئے گا: نِعْمَ الرَّجُلُ، اور آگے کیا آئے گا؟ زَيْدٌ۔ یہ زَيْدٌ کیا کہلائے گا؟ مَخْصُوْص بِالْمَدْح۔ تو نِعْمَ الرَّجُلُ میں الرَّجُلُ فاعل اور زَيْدٌ اس کا مخصوص بالمدح کہلائے گا۔ اور ترکیب میں نے بتلائی تھی، کیا ترکیب ہو گی؟ نِعْمَ فِعْل از اَفْعَالِ مَدْح، الرَّجُلُ اس کا فاعل، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر یہ خبر مقدم اور زَيْدٌ اس کا مبتدائے مؤخر۔ یا مولانا دو ترکیبیں ہیں، دو جملے بنا لیں ان کو، یہ تو ہم نے ایک جملہ بنایا، نِعْمَ الرَّجُلُ الگ جملہ ہو جائے گا اور زید کے لیے مبتدا محذوف نکال لیں، کیا بن جائے گا؟ ھُوَ زَيْدٌ، تو ھُوَ زَيْدٌ الگ جملہ ہوا مبتدا خبر اور یہ الگ جملہ ہوا بھئی۔
تو مولانا نِعْمَ کا فاعل ہمیشہ مُعَرَّفْ بِاللَّام ہو گا یا وہ مضاف ہو گا کس کی طرف؟ مُعَرَّفْ بِاللَّام کی طرف، جیسے نِعْمَ غُلَامُ الرَّجُلِ زَيْدٌ۔ اور کبھی کبھار بتلایا تھا اس کا فاعل ضمیر ہوتی ہے، ضمیرِ مبہم اس کے اندر، اور چونکہ وہ مبہم ہوتی ہے لہٰذا اس کی تمییز نکرہ منصوبہ کے ساتھ لانا ضروری ہے۔ تمییز اس کی نکرہ منصوبہ آئے گی یا مَا کے ساتھ کبھی کبھی تمییز لاتے ہیں، جیسے نِعْمَ، اس کے اندر ھُوَ ضمیر مبہم ممیز، تو آگے نِعْمَ رَجُلًا، وہ رَجُلًا اس کی کیا بن جائے گی؟ تمییز بن جائے گی۔ تو نِعْمَ فِعْل از اَفْعَالِ مَدْح اور ھُوَ ضمیر اس کے اندر مبہم ممیز اور رَجُلًا اس کی منصوب لفظاً تمییز، مبہم ممیز اپنی تمییز کے ساتھ مل کر نِعْمَ کے لیے فاعل اور باقی ترکیب پھر اسی طرح بھئی، سمجھ میں آئی بات بھئی؟ اور کبھی کبھار یہ نکرہ کے بجائے مَا تمییز آتی ہے: نِعِمَّا ہِیَ، تو نِعْمَ اور ھُوَ ضمیر اس کے اندر مبہم ممیز اور مَا بمعنی شَیْئًا کے ہے، نکرہ ہے اور یہ کیا ہے اس سے؟ تمییز ہے۔ تو مبہم ممیز اپنی تمییز سے مل کر نِعْمَ کا فاعل، باقی ترکیب اسی طرح، ہِیَ آگے مخصوص بالمدح ہے مولانا، ہِیَ کیا ہے؟ مخصوص بالمدح ہے۔
اچھا جی، اس کے بعد حَبَّذَا دوسرا تھا۔ حَبَّذَا میں بتلایا تھا کہ حَبَّ فِعْلِ مَدْح ہے اور ذَا اس کے ساتھ فاعل ہے اور یہ ذَا ہمیشہ اس کے ساتھ آئے گا اور ہمیشہ جی، ہمیشہ آئے گا، ہمیشہ آئے گا مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟
اور یہ بھی بتلایا تھا کہ مخصوص بالمدح سے پہلے یا مخصوص بالمدح کے بعد تمییز یا مولانا حال کا لانا بھی جائز، جیسے حَبَّذَا رَجُلًا زَيْدٌ، تو تمییز لائیں مولانا مخصوص بالمدح سے پہلے، یا بعد میں لے آؤ: حَبَّذَا زَيْدٌ رَجُلًا۔ یا مولانا حال لے آؤ پہلے: حَبَّذَا رَاکِبًا زَيْدٌ، یا حال لے آؤ بعد میں: حَبَّذَا زَيْدٌ رَاکِبًا، سمجھ میں آ رہی ہے ترکیب بھئی؟ جبکہ بِئْسَ اور سَاءَ بھی اسی طرح ہیں، ان کا فاعل مُعَرَّفْ بِاللَّام ہو گا یا مضاف ہو گا کس کی طرف؟ مُعَرَّفْ بِاللَّام کی طرف یا ان کے اندر ضمیر مبہم ہو گی جس کے آگے تمییز آئے گی نکرہ منصوبہ۔
اس کے بعد مولانا حُرُوْف کی بحث ہم نے شروع کی تھی۔ سب سے پہلے حُرُوْفِ جَارَّہ پڑھے۔ حُرُوْفِ جَارَّہ میں نے آپ کو بتلایا تھا وہ حروف ہیں جن کو وضع کیا گیا ہے تاکہ وہ پہنچائیں فعل کو اور معنی فعل کو، فعل کو یا شِبہِ فعل کو یا معنی فعل کو، کس تک؟ اس اسم تک جو ان کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ جیسے مثالیں دی تھیں: مَرَرْتُ بِزَيْدٍ، تو مَرَرْتُ فعل کے معنی کو زید تک کس نے پہنچایا؟ با جارہ نے۔ وَاَنَا مَارٌّ بِزَيْدٍ، مَارٌّ کا مولانا زید تک کس نے پہنچایا؟ با نے۔ اور ھٰذَا فِی الدَّارِ اَبُوْکَ، تو یہاں ھٰذَا یہاں معنی فعل پایا جا رہا ہے کیونکہ اس میں اشارہ ہے تو یہ کس معنی میں ہوا؟ اُشِیْرُ کے معنی، تو یہاں فعل تو نہیں ہے لیکن معنی فعل پایا جا رہا ہے تو اس اُشِیْرُ کو مولانا الدَّارِ تک کس نے پہنچایا؟ فِیْ نے پہنچایا، اُشِیْرُ فِی الدَّارِ۔
اور بتلایا تھا یہ انیس حروف ہیں۔ سب سے پہلے مِنْ تھا، مِنْ کئی معانی کے لیے استعمال ہوتا ہے، کبھی یہ ابتداء کے لیے آتا ہے۔ بھئی کیسے ہمیں پتہ چلے گا یہ مِنْ ابتداء کے لیے ہے؟ بتلایا تھا کہ جس کے لیے انتہاء کا آنا صحیح ہو معلوم ہو وہ مِنْ کون سا ہے؟ ابتداء کے لیے۔ میں کہتا ہوں: سِرْتُ مِنَ الْبَصْرَۃِ، میں بصرہ سے چلا، کہاں تک چلا؟ کوفہ تک، یا مکہ تک، یا مدینہ تک، تو دیکھو انتہاء کا لانا صحیح ہے یا نہیں آخر میں؟ تو جہاں انتہاء کا لانا صحیح ہو یہ علامت ہے کہ یہ مِنْ ابتداء کے لیے ہے۔
اور کبھی کبھی یہ مِنْ مولانا بیان کے لیے آتا ہے، کسی مبہم چیز کے بیان کے لیے۔ اس کا کیا طریقہ ہے؟ اس کا کیسے ہمیں پتہ چلے گا؟ کہتے ہیں بھئی جس مِنْ کی جگہ اَلَّذِیْ کا رکھنا جائز ہو وہ کیا ہو گا؟ وہ بیان کے معنی میں ہو گا۔ جیسے قرآن میں مثال تھی، قرآن کی مثال دی: فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ، پس بچو تم گندگی سے، بھئی وہ گندگی کیا چیز ہے؟ مِنْ نے بیان کیا یعنی کہ بت۔ مِنَ الْاَوْثَانِ یعنی کہ بت۔ تو اس مِنْ کو اٹھا کر اگر اَلَّذِیْ یہاں رکھا جائے مولانا اور جن چیزوں کی ضرورت ہے، اَلَّذِیْ کا صلہ جملہ ہونا چاہیے وغیرہ تو ان چیزوں کو پورا کرتے ہوئے تو اس کے جن چیزوں کا وہ تقاضا کرتا ہے ان مقتضیات کو بھی لے آئیں تو اَلَّذِیْ کا یہاں لانا کیا ہو جائے گا؟ صحیح ہو جائے گا۔ تو یوں ہو جائے گا: فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ الَّذِیْ ھُوَ الْاَوْثَانُ، تو اَلَّذِیْ بھی لے آئے اور کیا لے آئے مولانا؟ ھُوَ بھی لے آئے۔ تو جن جن چیزوں کا وہ تقاضا کرتا ہے اِسْمِ مَوْصُوْل وہ بھی کیا کرنی پڑیں گی ساتھ؟ لانی پڑیں گی، تو بس۔ تو یہ معنی نہیں کہ لے کر آئیں گے باقاعدہ، یعنی رکھنا صحیح ہے، یہ آپ کو صرف علامت بتلا رہے ہیں، پہچان بتلا رہے ہیں کہ وہاں اِسْمِ مَوْصُوْل کا رکھنا صحیح ہو۔
اور کبھی کبھی یہ مِنْ تبعیض کے لیے آتا ہے مولانا، بعض کو بیان کرنے کے لیے۔ بھئی اس کی کیا علامت ہے؟ کہتے ہیں اس کے مِنْ کو اٹھا کر اگر لفظِ بَعْض اس کی جگہ رکھا جائے تو صحیح ہو۔ جیسے آپ کہتے ہیں: اَخَذْتُ مِنَ الدَّرَاھِمِ، کیا معنی؟ اَیْ اَخَذْتُ بَعْضَ الدَّرَاھِمِ، کیونکہ مفعول بنے گا نا، فاعل تو تُوْ ضمیر ہے، اَخَذْتُ بَعْضَ الدَّرَاھِمِ۔ تو مِنْ کو اٹھا کر کیا رکھ دیا میں نے؟ بَعْض، اور معنی صحیح، معلوم ہوا یہ مِنْ کون سا ہے؟ تبعیض کے لیے ہے۔
وَزَائِدَۃٌ، اور کبھی مِنْ کیا آتا ہے مولانا؟ زائدہ بھی آتا ہے اور اس کی کیا علامت ہے، ہمیں کیسے پتہ چلے گا زائد ہے؟ کہتے ہیں اس مِنْ کو آپ عبارت سے نکال لیں، دیکھیں معنی میں کوئی خرابی آئی کہ نہیں آئی؟ اگر کوئی خرابی نہیں آئی معلوم ہوا یہ مِنْ کیا ہے؟ زائدہ ہے، اور اگر نکالنے سے خرابی آ گئی، معنی اب صحیح نہیں بن رہا مِنْ کے بغیر تو پھر معلوم ہوا یہ زائدہ نہیں ہے، پھر وہ پہلے والی قسموں میں سے یا یہ ابتداء کے لیے ہو گا یا یہ تبعیض کے لیے ہو گا یا تبیین وغیرہ کے لیے۔ تو جیسے: مَا جَاءَنِیْ مِنْ اَحَدٍ، یہ مِنْ زائدہ ہے۔
اور یاد رکھو مولانا، آگے زوائد کی بحث بھی آئے گی، یہاں بھی آپ کو بتلا دوں، یہ جو حُرُوْفِ زَائِدَہ ہوتے ہیں یہ کسی سے متعلق نہیں ہوتے۔ حُرُوْفِ زَائِدَہ کسی سے متعلق نہیں ہوتے۔ بڑی قیمتی بات ہے مولانا ترکیب کے اعتبار سے، جہاں زائدہ آ جائے وہ کسی سے متعلق نہیں ہو گا۔ تو دیکھا، مَا جَاءَنِیْ مِنْ اَحَدٍ، یہ مِنْ کون سا ہے مولانا؟ زائدہ ہے تو اصل میں کیا بنا ہے؟ عبارت اصل میں کیا ہے؟ مَا جَاءَنِیْ اَحَدٌ، معلوم ہوا یہ مِنْ اَحَدٍ میں مِنْ جارہ زائدہ اور اَحَدٍ مجرور لفظاً لیکن معنی کے اعتبار سے ابھی ہم نے کیا بنایا مِنْ کو نکال کر؟ مَا جَاءَنِیْ اَحَدٌ، کیا بنایا تھا؟ مرفوع فاعل بنایا تھا، تو یہ مولانا مجرور ہے لفظاً اور مرفوع ہے محلاً، کیا بن رہا ہے؟ فاعل ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ اب ترکیب کیسے کریں گے؟ مَا حرفِ نفی، جَاءَ فعل، نون وقایہ، یا ضمیر اعراب بتاؤ مولانا، منصوب محلاً مفعول بہ، مِنْ جارہ زائدہ، اَحَدٍ مجرور لفظاً مرفوع محلاً فاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ کوئی مشکل ہے ترکیب میں مولانا؟ بڑی آسان ہے بھئی، تھوڑی سی محنت کریں ان شاء اللہ۔
وَلَا تُزَادُ مِنْ فِی الْکَلَامِ الْمُوْجَبِ، یاد رکھو یہاں ایک بہت بڑا اختلاف ہے مولانا نحوی، کوفہ کے نحویوں میں اور بصرہ کے نحویوں میں۔ بصرہ کے نحوی کہتے ہیں یہ جو مِنْ زائدہ آتا ہے یہ ہمیشہ کلامِ غیرِ موجب میں آتا ہے، کلامِ موجب کے اندر مِنْ زائدہ نہیں آتا۔ کلامِ موجب کس کو کہتے ہیں؟ جس میں نہی، نفی اور استفہام نہ ہو، اور کلامِ غیرِ موجب کس کو کہتے ہیں؟ جس میں نہی ہو یا نفی ہو یا استفہام ہو۔ تو وہ کہتے ہیں جس کلام میں نفی ہو، نہی ہو یا استفہام ہو اس کے اندر مِنْ زائدہ آ سکتا ہے، بصرہ والے کہتے ہیں، دوسرے کے اندر موجب کے اندر نہیں آ سکتا۔ جبکہ کوفہ والے کہتے ہیں: نہیں، آتا ہے۔ کوفہ والے کیا کہتے ہیں؟ آتا ہے بھئی۔ دلیل؟ دلیل دیتے ہیں: دیکھو بھئی کہتے ہیں، کہتے ہیں قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں بھئی، قرآن میں اللہ فرماتے ہیں بھئی، قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: اِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا، یقیناً اللہ تمام گناہوں کو بخشنے والے، بخش دیتے ہیں۔ یقیناً اللہ جس کے لیے چاہیں اس کے تمام گناہوں کو کیا کر دیتے ہیں؟ بخش دیتے ہیں۔ تو یہاں سے کیا معلوم ہوا؟ بعض گناہوں کو بخشتے ہیں یا تمام گناہوں کو بخشتے ہیں؟ جس کے لیے اللہ جس کے لیے چاہیں اللہ کیا کر دیتے ہیں؟ تمام گناہوں کو بخش دیتے ہیں، اللہ سے کوئی پوچھ نہیں سکتا مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟
تو کہتے ہیں دیکھو ایک یہ آیت ہے جس میں آ رہا ہے ذکر کہ اللہ تمام گناہوں کو بخش دیتے ہیں، اور دوسری جگہ آتا ہے قرآن کے اندر: یَغْفِرْ لَکُمْ مِّنْ ذُنُوْبِکُمْ، کیا آیا؟ یَغْفِرْ لَکُمْ مِّنْ ذُنُوْبِکُمْ، بخش دیں گے تمہارے لیے تمہارے گناہوں کو، یہ مِنْ آ رہا ہے، اور مِنْ یہاں تبعیض کے لیے ہو سکتا ہے مولانا، کیا معنی؟ تمہارے بعض گناہوں کو بخش دیں گے۔ تو آیتوں میں ٹکراؤ آ گیا، ایک آیت سے پتہ چل رہا ہے کہ سارے گناہ بخش دیں گے، دوسری سے پتہ چل رہا ہے بعض کو بخش دیں گے۔ تو یہ تو مولانا ایک میں سارے کا ذکر ہے، ایک میں بعض کا ذکر ہے، یہ تو دونوں آپس میں کیا ہے مولانا؟ اختلاف آ گیا بھئی، ایک آیت کے معنی سے ایک آیت سے کیا ثابت ہوا؟ تمام گناہوں کو بخش دیں گے، دوسری سے کیا ثابت ہوا؟ بعض کو۔ لہٰذا تو اب یہاں پر لازمی بات ہے اس اختلاف سے بچنے کے لیے ہمیں کیا کرنا پڑے گا؟ یہ مِنْ کو زائدہ ماننا پڑے گا۔
تو لازمی بات ہے مولانا اب اختلاف کو دور کرنے کے لیے ہمیں کیا کرنا پڑے گا؟ دونوں آیتوں کا معنی ایک جیسا کرنا پڑے گا اور ایک جیسا کرنے کے لیے کیا ضروری ہے کہ اب ایک اس مِنْ کو تبعیضیہ نہ بنائیں، زائدہ بنا دیں، کیا بنا دیں؟ زائدہ۔ جب زائدہ بنا دیا تو مولانا اب کیا معنی؟ یَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ، اللہ تمہارے لیے گناہوں کو بخش دیں گے یعنی سارے گناہوں کو۔ اب مولانا اس کا معنی بھی تھا سارے گناہوں کو بخش دیں گے، اس کا معنی بھی کیا بن گیا؟ سارے گناہوں کو بخش دیں گے، اب معنی ٹھیک ہو گیا۔ بات سمجھ میں آئی؟ اب آپ مجھے بتائیے، یہ یَغْفِرْ لَکُمْ مِّنْ ذُنُوْبِکُمْ اس کے اندر استفہام ہے؟ نہیں۔ نفی ہے؟ اور نہی ہے یہ؟ نہیں۔ تو دیکھو یہ کلامِ موجب ہوا یا غیرِ موجب ہوا؟ تو کلامِ موجب ہوا اور کلامِ موجب میں مِنْ زائدہ آ گیا، کلامِ موجب میں کیا آیا مِنْ؟ زائدہ۔ یہ کوفہ والوں کی دلیل ہے۔ کوفہ والے کہتے ہیں دیکھا، یہ یَغْفِرْ لَکُمْ مِّنْ ذُنُوْبِکُمْ یہ کلامِ موجب ہے اور اس کے اندر مِنْ زائدہ آیا، معلوم ہوا کلامِ غیرِ موجب نہیں، موجب کے اندر بھی کیا آ سکتا ہے؟ زائدہ۔ ہاں تو صرف غیرِ موجب میں ہی نہیں مِنْ زائدہ آتا بلکہ موجب میں بھی آتا ہے۔ نیز عرب کا ایک اور قول بھی ہے۔
کیا؟ عرب کہتے ہیں: قَدْ کَانَ مِنْ مَّطَرٍ، قَدْ کَانَ مِنْ مَّطَرٍ۔ بارش کے بارے میں پوچھا کسی سے، پوچھیں تو وہ کیا کہتا ہے؟ بارش بھئی آپ کے علاقے میں بارش ہوئی یا نہیں؟ وہ کیا کہتا ہے؟ بارش ہوئی تھی، وہ جواب میں کہے گا: قَدْ کَانَ مِنْ مَّطَرٍ، بارش ہوئی تھی، قَدْ کَانَ مِنْ مَّطَرٍ۔ اب بتائیے یہ اس میں نفی ہے قَدْ کَانَ مِنْ مَّطَرٍ میں؟ نہی ہے؟ استفہام ہے؟ اور مِنْ زائدہ ہے، اَیْ قَدْ کَانَ مِنْ مَّطَرٍ کیا معنی؟ اَیْ قَدْ کَانَ مَطَرٌ، اَیْ ثَبَتَ مَطَرٌ، یہ کَانَ کون سا ہے؟ تامہ، اور کَانَ تامہ صرف کس کو چاہتا ہے؟ فاعل کو چاہتا ہے، تو قَدْ کَانَ مَطَرٌ، تو یہ مِنْ زائدہ ہے اور مَطَرٍ مجرور لفظاً ہے لیکن مرفوع محلاً کَانَ کے لیے کیا ہے؟ فاعل ہے بھئی فاعل۔ بات سب کو سمجھ میں آ رہی ہے؟ اب دیکھو اس میں بھی مِنْ زائدہ آ گیا، کیا آ گیا؟ مِنْ زائدہ آ گیا اور یہ کلامِ موجب ہے۔ تو کوفہ والے کہتے ہیں دیکھا، قرآن سے بھی دلیل دی انہوں نے مولانا، عرب کے کلام سے بھی دلیل دے دی مولانا کہ مِنْ کلامِ موجب کے اندر کیا ہوتا ہے؟ زائدہ آتا ہے، کلامِ موجب میں بھی زائدہ آتا ہے۔
بصرہ والے نحوی اس کا جواب یہ دیتے ہیں مولانا، کہتے ہیں جو آپ نے آیت ذکر کی کہ ایک آیت میں تمام گناہوں کی مغفرت کا ذکر ہے اور ایک میں بعض کی مغفرت کا ذکر ماننا پڑتا ہے اگر مِنْ کو زائدہ نہ مانیں، وہ کہتے ہیں بھئی نہیں، ایک آیت میں تمام کا ہی ذکر ہے اور ایک میں بعض کا ہی ذکر ہے۔ ایک میں تمام گناہوں کی مغفرت کا ذکر ہے اور دوسری میں بعض، پھر اس پہ بھئی یہ تو ٹکراؤ آیا؟ کہتے ہیں نہیں نہیں، ٹکراؤ پھر بھی نہیں آیا، ایک آیت ہے امتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو امت ہے ان کے بارے میں ہے اور دوسرا جی، دوسرا نوح علیہ السلام کی امت کے بارے میں ہے۔ تو حضور کی امت سے اللہ فرما رہے ہیں کہ اللہ چاہیں تو تمام گناہوں کو تمہارے بخش دیں، اور نوح علیہ السلام کی امت سے فرمایا کیا کہ چاہیں تو بعض گناہوں کو تمہارے کیا کر دیں؟ بخش دیں۔ تو اب تو کوئی ٹکراؤ نہیں بھئی، وہ یہ آیت اس کا محل ہی الگ ہے، یہ امتِ محمدیہ کے بارے میں ہے، اور اس کا محل ہی الگ ہے، وہ کس کے بارے میں ہے؟ امتِ نوح علیہ السلام کے بارے میں ہے۔ تو اب کوئی ٹکراؤ رہا؟ نہیں، یہ ٹکراؤ تو اس وقت تھا کہ اگر دونوں کو امتِ محمدیہ کے بارے میں بنایا جائے یا دونوں کو حضرت نوح علیہ السلام کی امت کے بارے میں بنایا جائے پھر کیا ہو سکتا تھا؟ ٹکراؤ ہو سکتا تھا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا وہ کہتے ہیں یہ مِنْ تبعیضیہ ہی ہے اور یہ مِنْ زائدہ نہیں ہے، معلوم ہوا آپ کا دعویٰ صحیح نہیں۔ معلوم ہوا کلامِ موجب کے اندر مِنْ زائدہ نہیں آتا، یہ مِنْ زائدہ نہیں ہے بلکہ یہ مِنْ کون سا ہے؟ تبعیضیہ ہے، اور یہ خطاب کس کے کس کے بارے میں یہ بات چل رہی ہے؟ حضرت نوح علیہ السلام کے۔
اور یہ جو کلامِ عرب آپ نے ذکر کیا قَدْ کَانَ مِنْ مَّطَرٍ، یہ آپ کہہ رہے ہیں کلامِ موجب میں مِنْ زائدہ ہے؟ کہتے ہیں بھئی یہ مِنْ بھی زائدہ نہیں، یہ مِنْ تبعیضیہ ہے۔ مِنْ کیا ہے؟ کیا معنی؟ کچھ بارش ہوئی تھی، یہ معنی نہیں بارش ہوئی، کیا معنی؟ کچھ بارش، قَدْ کَانَ بَعْضُ مَطَرٍ، کیا ہوئی تھی؟ کچھ بارش ہوئی تھی۔ یا یہ مِنْ بیان کے لیے ہے، بیان کر رہا ہے، کچھ ہوئی تھی۔ کیا معنی؟ قَدْ کَانَ شَیْءٌ، کیا ہوئی تھی؟ مِنْ مَّطَرٍ یعنی کہ بارش، یعنی کہ بارش۔ تو یہ مِنْ بیان کے لیے ہے مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟
اس پر آپ کو اشکال ہو گا کہ مِنْ تو کَانَ کا فاعل کیا ہو جائے گا؟ شَیْئًا، شَیْءٌ بھئی، کیا فاعل بنے گا؟ شَیْءٌ مولانا، محذوف نکال لیں گے۔ اس پہ اشکال ہو گا کہ مِنْ تبعیضیہ کے بارے میں آپ نے بتایا تھا، مِنْ تبعیضیہ وہ ہوتا ہے جس کو اٹھا کر اَلَّذِیْ کا رکھنا صحیح ہو۔ اور یہاں پر تو اَلَّذِیْ کا رکھنا صحیح نہیں کیونکہ جو شَیْءٌ آپ نے نکالا ہے وہ نکرہ ہے اور اَلَّذِیْ اسم موصول جو ہے وہ معرفہ ہے، تو نکرہ کا بیان معرفہ کے ساتھ نہیں ہو سکتا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ اس کے لیے صفت وغیرہ نہیں بن سکتا۔ تو جواب یہ مولانا کہ اس میں نے بتلایا تھا کہ اس میں موصول صرف اَلَّذِیْ کو اٹھا کر رکھنا کافی نہیں، اَلَّذِیْ جن چیزوں کا تقاضا کرتا ہے وہ بھی ساری ساتھ لے آؤ تو پھر رکھنا صحیح ہو جائے، سمجھ میں آیا؟ تو اب اگر یہاں ہم کر دیں: اَلشَّیْءُ، اب مِنْ کی جگہ اَلَّذِیْ رکھنا صحیح ہو جائے گا: قَدْ کَانَ الشَّیْءُ الَّذِیْ ھُوَ مَطَرٌ، کوئی چیز ہوئی تھی، ایک چیز ہوئی تھی، وہ چیز ہوئی تھی، کیا مولانا؟ مَطَرٌ یعنی کہ اَلَّذِیْ ھُوَ مَطَرٌ جو بارش تھی۔ تو یہ تبیین والا بیان تو بس، ایک دو، تیسرا جواب بھی ایک سن لیں۔ کہتے ہیں یہ مبنی بر حکایت ہے۔ یہ مِنْ کیا ہے؟ مبنی بر حکایت ہے۔ کیسے؟ سوال کیا کسی نے، سوال کیا مولانا، سوال کیا کیا بھئی؟ کہ ھَلْ کَانَ مِنْ مَّطَرٍ؟ کسی نے دوسرے سے کیا سوال کیا؟ ھَلْ کَانَ مِنْ مَّطَرٍ؟ کیا بارش ہوئی؟ اور یہ ھَلْ کیا ہے؟ استفہام، اور استفہام کے اندر یہ جو مِنْ آ رہا ہے یہ مِنْ زائدہ ہے، اور مِنْ زائدہ کس میں آ رہا ہے؟ کلامِ غیرِ موجب کے اندر آ رہا ہے کیونکہ کیا ہے؟ ھَلْ کَانَ مِنْ مَّطَرٍ کیا ہے؟ استفہام، اور استفہام کیا ہے؟ کلامِ غیرِ موجب۔ تو کلامِ غیرِ موجب کے اندر مِنْ زائدہ آ رہا ہے اور کلامِ غیرِ موجب میں آتا بھی ہے، اس میں کوئی ایسی بات نہیں ہے۔ تو چونکہ اس کے جواب میں کہا گیا قَدْ کَانَ، جواب دینا تھا تو جواب کو سوال کے مطابق کر دیا گیا۔ سوال میں مِنْ زائدہ تھا تو جواب میں بھی کیا کر دیا گیا؟ مِنْ زائدہ کر دیا گیا اگرچہ ویسے کیا نہیں جاتا۔ تو کتنے جواب ہوئے مولانا؟ تین جواب دیے۔ اول کیا؟ یہ مِنْ کس کے لیے ہے؟ تبعیض کے لیے ہے۔ ثانی کیا؟ تبیین کے لیے ہے، بیان کے لیے ہے۔ ثالث کیا؟ یہ مبنی بر حکایت ہے، سوال کا یہ جواب واقع ہوا اور اس سوال میں مِنْ زائدہ تھا تو جواب میں بھی کیا لے آئے؟ مِنْ زائدہ لے آئے۔
اسی لیے کہتے ہیں مولانا: وَلَا تُزَادُ مِنْ، اور مِنْ کو زیادہ نہیں کیا جاتا، فِی الْکَلَامِ الْمُوْجَبِ کلامِ موجب کے اندر، خِلَافًا لِّلْکُوْفِیِّیْنَ بخلاف کس کے؟ کوفیوں کے، وَاَمَّا قَوْلُھُمْ قَدْ کَانَ مِنْ مَّطَرٍ وَّشِبْھُہٗ فَمُتَاَوَّلٌ، باقی عربوں کا یہ قول قَدْ کَانَ مِنْ مَّطَرٍ یہ قول وَشِبْھُہٗ اور اس کے جو مشابہ اور اقوال ہیں فَمُتَاَوَّلٌ ان میں تاویل کی گئی ہے بھئی، ان میں کیا کی گئی ہے؟ تاویل کی گئی ہے، جیسے ابھی میں نے بتلایا مولانا، وہ آیت میں کیا تاویل کی گئی کہ ایک آیت امتِ محمدیہ کے بارے میں ہے اور ایک امتِ نوح علیہ السلام، اور دوسرا مولانا اس کے اندر تین تاویلات میں نے بتائیں: یہ مِنْ تبعیض کے لیے ہے یا مِنْ بیان کے لیے ہے یا یہ مبنی بر حکایت ہے۔
وَاِلٰی، اس کے بعد مِنْ کے بعد اِلٰی آیا مولانا، وَھِیَ لِانْتِھَاءِ الْغَایَۃِ، یہ انتہائے مسافت کے لیے آتا ہے کَمَا مَرَّ جیسا کہ گزرا بھئی، وَبِمَعْنٰی مَعَ قَلِیْلًا، اور کبھی یہ مَعَ کے معنی میں بھی آتا ہے اِلٰی لیکن بڑا قلیل ہے، کَقَوْلِہٖ تَعَالٰی جیسے اللہ فرماتے ہیں: فَاغْسِلُوْا وُجُوْھَکُمْ وَاَیْدِیَکُمْ اِلَی الْمَرَافِقِ اَیْ مَعَ الْمَرَافِقِ، اِلٰی کس معنی میں ہے یہاں پر؟ مَعَ، تو ترجمہ: پس دھو لو تم اپنے چہروں کو اور اپنے ہاتھوں کو مَعَ الْمَرَافِقِ کہنیوں سمیت، سمجھ میں آئی بات؟ تو یہ اِلٰی بمعنی مَعَ کے ہے۔
وَحَتّٰی وَھِیَ مِثْلُ اِلٰی، اور حَتّٰی بھی ہے حروف جارہ میں سے اور یہ بھی اِلٰی کی طرح ہے یعنی انتہائے مسافت کے لیے آتا ہے، جیسے: نِمْتُ الْبَارِحَۃَ حَتَّی الصَّبَاحِ۔ بَارِحَۃَ کہتے ہیں گزشتہ رات، بَارِحَۃَ کس کو کہتے ہیں؟ گزشتہ رات۔ نِمْتُ، نَامَ یَنَامُ کا کیا معنی؟ سونا۔ نِمْتُ الْبَارِحَۃَ میں گزشتہ رات سویا حَتَّی الصَّبَاحِ صبح تک بھئی، تو حَتّٰی کس معنی میں ہے بھئی؟ انتہائے مسافت کے لیے آیا بھئی۔
وَبِمَعْنٰی مَعَ کَثِیْرًا، اور یہ بھی مَعَ کے معنی میں آتا ہے اور بڑا کثیر ہے بھئی، مَعَ کے معنی میں آنا۔ بھئی اِلٰی بھی آتا ہے انتہائے مسافت کے لیے، حَتّٰی بھی آتا ہے کس لیے؟ انتہائے مسافت کے لیے۔ اور اِلٰی بھی بمعنی مَعَ کے آتا ہے اور حَتّٰی بھی بمعنی مَعَ کے آتا ہے لیکن اِلٰی آتا ہے مَعَ کے معنی میں قلیل اور حَتّٰی آتا ہے مَعَ کے معنی میں کثیر۔ نَحْوُ: قَدِمَ الْحَاجُّ حَتَّی الْمُشَاۃِ، حاجی آ گئے یہاں تک کہ پیدل بھی، پیادہ بھی آ گئے۔ حاجی دو قسم پر تھے، کچھ سوار تھے اور کچھ پیدل تھے تو کہتے ہیں سوار تو آ گئے یہاں تک کہ پیدل جو ہیں وہ بھی آ گئے بھئی۔ اوہو، یہاں تو مَعَ کے معنی میں ترجمہ کریں مولانا: قَدِمَ الْحَاجُّ مَعَ الْمُشَاۃِ، حاجی آ گئے پیادوں سمیت، پیادوں یعنی جو پیدل حاجی تھے سوار تھے وہ پیدل سمیت آ گئے یعنی سارے آ گئے مراد یہ ہے۔
وَلَا تَدْخُلُ اِلَّا عَلَی الظَّاھِرِ، اور یہ حَتّٰی داخل نہیں ہوتا مگر صرف اسم ظاہر پر۔ بھئی اِلٰی اور حَتّٰی ایک جیسے ہیں: اِلٰی بھی انتہائے مسافت کے لیے، حَتّٰی بھی انتہائے مسافت کے لیے، اِلٰی بھی بمعنی مَعَ کے، حَتّٰی بھی بمعنی مَعَ کے، لیکن فرق ایک اور یہ ہے کہ ایک فرق تو یہ بتلایا کہ اِلٰی مَعَ کے معنی میں قلیلًا آتا ہے اور حَتّٰی مَعَ کے معنی میں کثیرًا آتا ہے، اور دوسرا فرق یہ بتلا رہے ہیں کہ یہ جو حَتّٰی ہوتا ہے یہ اسم ظاہر پہ داخل نہیں ہوتا اوہو، صرف اسم ظاہر پر داخل ہوتا ہے اور ضمیر پر داخل نہیں ہوتا لہٰذا حَتَّاہُ نہیں کہہ سکتے آپ، جبکہ اِلٰی اسم ظاہر پر بھی داخل ہوتا ہے اور ضمیر پر بھی داخل ہوتا ہے: اِلٰی زَيْدٍ، اِلَی السُّوْقِ اور اِلَیْہِ، دونوں پر داخل ہو رہا ہے، ضمیر پر بھی اور اسم ظاہر پر بھی ہو رہا ہے۔
وَلَا تَدْخُلُ اِلَّا عَلَی الظَّاھِرِ، اور داخل نہیں ہوتا الا مگر اسم ظاہر پر ہی، فَلَا یُقَالُ حَتَّاہُ لہٰذا حَتَّاہُ نہیں کہا جائے گا، خِلَافًا لِّلْمُبَرِّدِ بخلاف کس کے؟ امام مبرد کے۔ امام مبرد فرماتے ہیں کہ حَتّٰی بھی ضمیر پر داخل ہو جاتا ہے۔ کیا دلیل ہے آپ کی؟ آگے آنے والا شعر دلیل ہے، اس شعر کے اندر حَتّٰی کس پر داخل ہوا ہے؟ کاف ضمیر پر داخل ہوا ہے بھئی: فَلَا وَاللّٰہِ لَا یَبْقٰی اُنَاسٌ فَتًی حَتَّاکَ، حَتّٰی کس پہ داخل ہوا؟ ضمیر پر: حَتَّاکَ۔ تو یہ ضمیر پہ داخل ہو رہا ہے مولانا، وہ کہتے ہیں دیکھا، آپ نے کہا ضمیر پہ داخل نہیں ہوتا ہے، ہم نے عرب کا شعر پیش کر دیا مولانا جس میں انہوں نے ضمیر پہ داخل کیا۔ مصنف اس کا جواب دیں گے کہ یہ شاذ ہے، یہ کیا ہے؟ بہت نادر آیا مولانا، ایک آدھ دو دفعہ ایک چیز آنے سے کوئی ضابطہ نہیں بن جایا کرتی، ہمیں عام چاہیے، عام استعمال میں ایسا نہیں۔
خِلَافًا لِّلْمُبَرِّدِ بخلاف امام مبرد کے، وَقَوْلُ الشَّاعِرِ اور باقی شاعر کا یہ قول جو ہے: فَلَا وَاللّٰہِ لَا یَبْقٰی اُنَاسٌ فَتًی حَتَّاکَ یَا ابْنَ اَبِیْ زِیَادِ شَاذٌّ، یہ قول کیا ہے؟ شاذ ہے۔ فَلَا وَاللّٰہِ، یہ لَا زائدہ ہے مولانا، قسم کے اندر جو لَا ہے قسم سے پہلے یہ اس کو کلام میں حسن پیدا کرنے کے لیے کبھی بڑھایا جاتا ہے۔ کس لیے؟ بھئی کبھی کبھی قسم سے پہلے کیا بڑھا دیتے ہیں؟ لَا، کلام میں حسن پیدا کرنے کے لیے، کلام میں اس سے بڑا حسن پیدا ہوتا ہے۔ اور بلاغت کا نکتہ اس کے اندر یہ ہے مولانا، اس میں اشارہ ہوتا ہے اس بات کی طرف کہ جس بات پر آگے یہ قسم کھائی جا رہی ہے وہ بات اتنی واضح ہے، اتنی ظاہر ہے کہ اس پر قسم کھانے کی ضرورت نہیں، قسم کھا تو رہے ہیں ہم لیکن اس پر قسم کھانے کی ضرورت نہیں ہے، دیکھیے۔
فَلَا وَاللّٰہِ، واو قسمیہ جارہ ہے مولانا، لفظِ اللہ مجرور ہے، جار مجرور مل کر متعلق ہو جائیں گے اُقْسِمُ فعل کے ساتھ، کس سے متعلق ہوں گے؟ اُقْسِمُ فعل، اُقْسِمُ فعل اَنَا ضمیر اس کے اندر فاعل، فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر قسم، جملہ فعلیہ ہو کر قسم۔ لَا یَبْقٰی اُنَاسٌ، اُنَاسٌ لغت ہے نَاس کے اندر، آپ اَلنَّاس نہیں پڑھتے عربی میں؟ اسی میں ایک لغت ہے مولانا، تو اَلنَّاس پر تو الف لام کیا ہے؟ تعریف کا داخل ہے، باقی کیا رہ گیا؟ نَاس، اور اس نَاس کے اندر ایک لغت کیا آتی ہے؟ اُنَاس بھی ہے۔ باقی نہیں رہیں گے اُنَاسٌ لوگ، فَتًی یہ اُنَاسٌ سے بدل ہے مولانا، وہ مبدل منہ اور فَتًی کیا ہے؟ بدل، اور بدل کا بھی وہی اعراب ہوتا ہے جو کس کا ہوتا ہے؟ مبدل منہ کا ہوتا ہے، تو فَتًی بھی کیا ہے مولانا؟ اُنَاسٌ کیا ہے اعراب؟ مرفوع لفظاً، تو فَتًی بھی کیا ہو گا؟ مرفوع، کون سا مرفوع ہو گا یہ؟ یہ کیا ہے؟ مبنی ہے، معرب ہے؟ معرب ہے، اور معرب ہے تو پھر وہ نو قسموں میں سے کون سے قسم ہے؟ جی، ہاں شاباش، یہ اِسْمِ مَقْصُوْر ہے مولانا، کیا ہے؟ اِسْمِ مَقْصُوْر، بھئی اِسْمِ مَقْصُوْر کس کو کہتے ہیں؟ جس کے آخر میں الف آئے، یہ الف کبھی لفظوں میں ہو گا کبھی تقدیراً ہو گا، یہاں تقدیراً الف موجود۔ الف تو یہاں پر تقدیراً اصل میں تھا فَتَیٌ، کیا تھا؟ فَتَیٌ، پھر یہاں پر یا متحرک ماقبل فتحہ تھا، اس کو کس سے بدل دیا؟ الف سے بدل دیا، کیا بنا؟ فَتَانْ بن گیا، فَتَانْ، پھر اجتماع ساکنین آیا تنوین کے اندر اور الف کے اندر، تو کس کو گرا دیا؟ الف، کیا رہ گیا؟ فَتًی، تو الف گرا ہے التقائے ساکنین سے تو تقدیراً یہاں موجود ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تقدیراً یہاں موجود ہے، تو یہ مرفوع ہے تقدیراً مولانا، مرفوع تقدیراً ہے۔
حَتَّاکَ، حَتّٰی جارہ، کاف ضمیر مجرور محلاً۔ یَا ابْنَ اَبِیْ زِیَادِ، یَا حرفِ ندا اور منادیٰ آگے آ رہا ہے اور منادیٰ آپ نے پڑھا تھا مضاف یا مشابہ مضاف ہو تو کیا ہوا کرتا ہے؟ منصوب ہوا کرتا ہے، تو یہ بھی اِبْنَ بھی کیا ہے مولانا؟ منصوب اسی لیے ہے کیونکہ اس کی اضافت ہو رہی ہے۔ یَا ابْنَ اَبِیْ زِیَادِ، اے ابی زیاد کے بیٹے! لَا یَبْقٰی اُنَاسٌ، قسم ہے خدا کی، لَا یَبْقٰی اُنَاسٌ لوگ باقی نہیں رہیں گے، فَتًی نوجوان، نوجوان بھی باقی نہیں رہیں گے، حَتَّاکَ یہاں تک کہ تو بھی باقی نہیں رہے گا اے ابن ابی زیاد بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ دنیا فانی ہے، ہر چیز ختم ہو جانے والی ہے، اے ابن ابی زیاد کے بیٹے تمام لوگ ختم ہو جائیں گے، نوجوان ختم ہو جائیں گے یہاں تک کہ تو بھی کیا ہے؟ ختم ہو جائے گا، کسی چیز کو یہاں بقا نہیں۔ تو بہرحال محلِ استشہاد حَتَّاکَ تھا، یہاں پر حَتّٰی کاف ضمیر پہ داخل ہوا اور بتلایا شَاذٌّ، یہ شاذ ہے۔
وَفِیْ، اور مولانا چوتھا حُرُوْفِ جَارَّہ میں سے فِیْ ہے، وَھِیَ لِلظَّرْفِیَّۃِ، یہ کس لیے آتا ہے مولانا؟ ظرفیت کے لیے، یہ بتلاتا ہے کہ مابعد ظرف ہے کس کے لیے؟ ماقبل کے لیے۔ زَيْدٌ فِی الدَّارِ، زید کس کے اندر ہے؟ گھر کے اندر، معلوم ہوا یہ الدَّارِ ظرف ہے جس کے اندر کون ہے؟ زید موجود ہے۔ جیسے زَيْدٌ فِی الدَّارِ وَالْمَاءُ فِی الْکُوْزِ، اور پانی کوزے کے اندر ہے، کوزہ جانتے ہو بھئی؟ کوزہ کوزہ؟ کوزہ مولانا یہ صراحی نما برتن ہوتا ہے جس کی ٹونٹی بنی ہوتی ہے جیسے لوٹے کی ہے، لوٹے کی تو لمبی ٹونٹی ہوتی ہے، اس کی چھوٹی سی ہوتی ہے، دیکھا ہے کبھی یا نہیں دیکھا؟ ہاں آپ کے علاقوں میں استعمال دیہاتوں میں استعمال ہوتا ہے مولانا، دیہاتوں میں ابھی بھی استعمال ہوتا ہے، وضو وغیرہ کے لیے بھی، پانی پینے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، کوزہ کہتے ہیں اس کو، جی۔ وَالْمَاءُ فِی الْکُوْزِ، پانی کس کے اندر ہے؟ کوزے کے اندر ہے، کوزے کے اندر ہے، تو دیکھو کوزہ کیا ہے؟ ظرف ہے کس کے لیے؟ تو فِیْ ظرفیت کے لیے آیا۔
وَبِمَعْنٰی عَلٰی قَلِیْلًا، اور کبھی فِیْ کس معنی میں آتا ہے؟ عَلٰی کے معنی میں، لیکن یہ بڑا قلیل ہے، نَحْوُ قَوْلِہٖ تَعَالٰی جیسے اللہ فرماتے ہیں: وَلَاُصَلِّبَنَّکُمْ فِیْ جُذُوْعِ النَّخْلِ، کیا؟ بھئی وہ فرعون نے کہا تھا جو جادوگر حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئے تھے تو فرعون نے کہا تھا کہ میں تمہیں ضرور بالضرور سولی دوں گا کس پر؟ کھجور کے تنوں پر۔ جُذُوْع تنے بھئی تنے، نَخْل کھجور کے درخت کو کہتے ہیں بھئی۔ اُصَلِّبَنَّکُمْ، میں تمہیں وَلَاُصَلِّبَنَّکُمْ اور البتہ میں تمہیں ضرور بالضرور سولی دوں گا فِیْ جُذُوْعِ النَّخْلِ کھجور کے تنوں پر، تو فِیْ بمعنی عَلٰی کے ہے، اَیْ عَلٰی جُذُوْعِ النَّخْلِ کھجور کے تنوں پر دوں گا۔
وَالْبَاءُ، پانچواں مولانا با ہے حُرُوْفِ جَارَّہ میں سے، وَھِیَ لِلْاِلْصَاقِ، یہ کس لیے آتا ہے مولانا؟ الصاق کے لیے آتا ہے یعنی ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ ملانا، جوڑنا، نَحْوُ: مَرَرْتُ بِزَيْدٍ، مَرَرْتُ بِزَيْدٍ میں زید پر گزرا تو یہ با الصاق کے لیے ہے، کیا معنی؟ اَیْ اِلْتَصَقَ مُرُوْرِیْ میرا گزرنا مل گیا بِمَوْضِعٍ ایسی جگہ کے ساتھ یَقْرُبُ مِنْہُ زَيْدٌ کہ زید جس کے قریب ہے یعنی میں زید کے قریب سے گزرا۔ تو میرا گزرنا ایسی جگہ کے ساتھ مل گیا، کیا ہوا؟ مل گیا جس کے قریب کون تھا؟ زید تھا۔ تو آپ کا گزرنا مل گیا یا نہیں مولانا؟ آپ کہاں سے گزرے؟ ایسی جگہ کے قریب سے گزرے، ایسی جگہ کے ساتھ سے گزرے جس کے قریب کون تھا؟ زید تھا۔ تو الصاق کے لیے آتا ہے۔
وَلِلِاسْتِعَانَۃِ، اور کبھی مولانا با استعانت کے لیے بھی آتا ہے مدد کے لیے: کَتَبْتُ بِالْقَلَمِ، میں نے قلم کی مدد سے لکھا، یہ مدد کا معنی کس نے ادا کیا؟ با نے، یہ مدد کے لیے آیا۔
وَقَدْ یَکُوْنُ لِلتَّعْلِیْلِ، اور کبھی کبھار کس لیے آتا ہے مولانا؟ یعنی تعلیل، کسی چیز کی علت بیان کرنے کے لیے با لائی جاتی ہے، کَقَوْلِہٖ تَعَالٰی جیسے اللہ فرماتے ہیں: اِنَّکُمْ ظَلَمْتُمْ اَنْفُسَکُمْ بِاتِّخَاذِکُمُ الْعِجْلَ، بھئی حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور پر تشریف لے گئے، پیچھے سامری نے وہ بچھڑا بنایا گائے کا اور سونے کو پگھلا کر، اور بنی اسرائیل والوں نے کیا کر دی؟ بنی اسرائیل والوں نے اس کی عبادت شروع کر دی۔ تو موسیٰ علیہ السلام آئے اور پھر ناراض ہوئے اور سامری کو سزا ملی پھر مولانا اللہ کی طرف سے تو کیا؟ اِنَّکُمْ، اس وقت مولانا یہ قرآن میں آتا ہے: اِنَّکُمْ ظَلَمْتُمْ، یقیناً تم نے ظلم کیا ہے اَنْفُسَکُمْ اپنے نفسوں پر بِاتِّخَاذِکُمْ، با سببیہ تعلیل کے لیے، بوجہ پکڑنے تمہارے، کس کو پکڑنے؟ بچھڑے کو۔ تو تم نے اپنے تم نے جو بچھڑے کو پکڑا اور اس کو اپنا معبود بنایا، اس سبب سے تم نے کیا کیا؟ اپنے اوپر ظلم کیا ہے، اس وجہ سے تم نے، یقیناً تم نے ظلم کیا اپنے جانوں پر بوجہ بچھڑے کو معبود بنانے کے۔
وَلِلْمُصَاحَبَۃِ، اور مولانا با کس لیے آتا ہے؟ مصاحبت ساتھ مولانا، ساتھ ہونا کسی چیز کا، کَـ خَرَجَ زَيْدٌ بِعَشِیْرَتِہٖ، زید اپنے قبیلے کے ساتھ نکلا، قبیلے کے ساتھ، تو یہ نکلنا کیا تھا مولانا؟ اکٹھا تھا یا نہیں دونوں کا؟ زید قبیلے کے ساتھ تھا تو دیکھو ملے ہوئے تھے دونوں، مصاحبت کے اکٹھے تھے۔
وَلِلْمُقَابَلَۃِ، اور کبھی کبھار یہ کس لیے آتا ہے مولانا؟ مقابلے کے لیے بھی آتا ہے با: بِعْتُ ھٰذَا، سب سے زیادہ استعمال ہونے والا حُرُوْفِ جَارَّہ میں سے یہ با ہے مولانا، بہت سے معانی کے لیے آتا ہے بھئی، چند ایک انہوں نے ذکر کیے ہیں، وَلِلْمُقَابَلَۃِ اور کبھی کبھی با مقابلے کے لیے بھی آتا ہے، جیسے بِعْتُ ھٰذَا بِذَاکَ۔ بھئی آپ کیا کہتے ہیں؟ آپ نے کتاب البیوع پڑھی ہو گی اور بیوع کے اندر ایک ضابطہ پڑھا ہو گا کہ جس پر با داخل ہو وہ کیا ہو گی؟ ثمن: اِشْتَرَیْتُ الْکِتَابَ بِالْقَلَمِ، کتاب کو میں نے قلم کے مقابلے میں خریدا یعنی قلم دیا اور کیا لے لی؟ کتاب لے لی۔ اب مولانا دیکھو ایک طرف قلم ہے، ایک طرف کتاب ہے، اب اس میں ثمن کون ہے، مبیع کون ہے، آپ کو کیسے پتہ چلے گا؟ ہاں جس پر با داخل ہو وہ ثمن اور دوسرا کیا ہے؟ مبیع۔ تو یہاں پر کتاب مبیع اور قلم پر با داخل ہوئی تو قلم کیا ہے؟ ثمن ہے، معلوم ہوا آپ قلم دے کر کیا خریدا ہے؟ کتاب خریدی ہے۔ تو دیکھو یہ مقا میں نے قلم کے مقابلے میں کیا خریدی؟ کتاب، کے بدلے میں۔ بِعْتُ ھٰذَا بِذَاکَ، میں نے بیچا اس چیز کو اس چیز کے بدلے میں۔
وَلِلتَّعْدِیَۃِ، اور کبھی مولانا تعدیہ کے لیے آتی ہے، متعدی بنانے کے لیے با آتی ہے۔ ذَھَبْتُ کا کیا معنی؟ میں گیا۔ اور ذَھَبْتُ بِزَيْدٍ، میں زید کو لے گیا، تو یہ متعدی بنانے کے لیے بھی کبھی کیا لے آتے ہیں؟ با لے آتے ہیں، کَـ ذَھَبْتُ بِزَيْدٍ، میں زید کو لے گیا۔
وَلِلظَّرْفِیَّۃِ، اور کبھی کس لیے آتی ہے بھئی؟ با ظرفیت یعنی فِیْ کے معنی میں بھی آتی ہے، کَـ جَلَسْتُ بِالْمَسْجِدِ اَیْ فِی الْمَسْجِدِ، میں مسجد میں بیٹھا۔
وَزَائِدَۃٌ، اچھا، اور کبھی کبھار یہ کیا آتی ہے مولانا؟ زائدہ آتی ہے قِیَاسًا، بھئی زائدہ کہاں آئے گی؟ بھئی یاد رکھو دو جگہیں ہیں اس کے آنے کی زائدہ: ایک وہ جگہیں ہیں جو قیاسی ہیں، آپ ہی قیاس کرتے ہوئے آپ ہی اس کے مطابق زائدہ لا سکتے ہیں ان جگہوں پر، اور کچھ سماعی ہیں کہ آپ ان پر قیاس کرتے ہوئے آپ اس طرح زائدہ نہیں لا سکتے۔ تو پہلے قیاسی جگہیں بتا رہے ہیں: زائدہ آئے گی قیاساً قیاسی طور پر فِیْ خَبَرِ النَّفْیِ، کس کی خبر میں مولانا؟ نفی کی خبر مولانا، جیسے مَا زَيْدٌ بِقَائِمٍ، آپ پڑھتے ہیں مولانا مَا زَيْدٌ بِقَائِمٍ، زید کھڑا نہیں۔ لَیْسَ زَيْدٌ بِقَائِمٍ، زید کھڑا نہیں۔ تو کیا ترکیب کریں گے؟ یہ با کون سی ہے؟ یہ جو خبر میں آ رہی ہے نفی کی خبر میں، یہ با کون سی ہے؟ زائدہ، اور زائدہ کے بارے میں میں نے آپ کو کیا بتلایا تھا؟ یہ کسی سے متعلق نہیں، اب ترکیب کرو: لَیْسَ زَيْدٌ بِقَائِمٍ، لَیْسَ فِعْل از اَفْعَالِ نَاقِصَہ، آگے زَيْدٌ مرفوع لفظاً اس کا اسم، با جارہ، قَائِمٍ مجرور لفظاً اور منصوب محلاً لَیْسَ کی خبر، تو لَیْسَ اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
نَحْوُ مَا زَيْدٌ بِقَائِمٍ، تو یہ نفی کی خبر میں جو با آئی، اب آپ بھی کوئی خبر دینا چاہتے ہیں نفی کے ساتھ، مَا کے ساتھ، لَیْسَ کے ساتھ تو آپ بھی کیا کر سکتے ہیں مولانا؟ با زائدہ لا سکتے ہیں۔ وَفِی الِاسْتِفْھَامِ، اسی طرح استفہام کی خبر میں بھی لا سکتے ہیں مولانا، جیسے ھَلْ زَيْدٌ بِقَائِمٍ، یہ با بھی کیا ہے؟ زائدہ۔ تو استفہام کی خبر میں اور نفی کی خبر میں با زائدہ لا سکتے ہیں آپ بھئی۔
وَسَمَاعًا، اور سماعاً کچھ جگہیں ہیں، سماع پر موقوف ہیں، زائدہ ان میں آئے گا فِی الْمَرْفُوْعِ۔ اب یہ سماع پر وہ کون سی جگہیں ہیں؟ کہتے ہیں کبھی مرفوع کی جگہ پہ آئے گا با، کبھی منصوب پر آئے گا مولانا۔ مرفوع میں جیسے: وَفِی الْمَرْفُوْعِ نَحْوُ بِحَسْبِکَ زَيْدٌ، یہ با جارہ زائدہ ہے مولانا، با جارہ زائدہ ہے۔ تو اصل میں ہے: حَسْبُکَ زَيْدٌ، حَسْبُکَ مضاف مضاف الیہ مل کر مبتدا اور زَيْدٌ اس کی خبر، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ با جارہ زائدہ، حَسْبِ مجرور لفظاً مضاف، کاف مجرور محلاً مضاف الیہ، مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور لفظاً اور مرفوع محلاً مبتدا، زَيْدٌ اس کی خبر۔ تو دیکھو یہ مرفوع پر با داخل ہوئی کیونکہ مرفوع ہے نا مبتدا، اور یہ اب آپ نہیں کر سکتے، آپ کسی مبتدا پر با نہیں زائدہ لا سکتے، یہ سماع پر موقوف ہے، عربوں سے ہم نے اس طرح سنا ہے۔ وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَھِیْدًا، دیکھو یہ لفظِ اللہ مجرور لفظاً ہے لیکن مرفوع محلاً ہے، فاعل ہے کَفٰی کا، اللہ کافی ہے بہ اعتبار گواہ کے۔ تو کَفٰی بِاللّٰہِ، خود بتلا رہے ہیں یہ با زائدہ ہے اَیْ کَفَی اللّٰہُ۔
وَفِی الْمَنْصُوْبِ، اور اسی طرح منصوب میں بھی با کبھی زائدہ آتی ہے جو موقوف علی السماع ہے، آپ نہیں زائدہ لا سکتے، جیسے اَلْقٰی بِیَدِہٖ۔ اَلْقٰی تو خود مولانا مفعول چاہتا ہے، با لانے کی ضرورت نہیں، با لائی گئی، معلوم ہوا یہ با کون سی ہے؟ زائدہ ہے، اَلْقٰی خود نصب دے دیتا ہے: اَلْقٰی یَدَہٗ، اَلْقٰی یَدَہٗ۔ بھئی عربی میں کہتے ہیں، قرآن میں ہے: لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ، تم اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو، تم اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو لیکن ہاتھ نہیں مراد، نفس مراد ہے، تو جز بول کر کل مراد ہے، جز بول کر یعنی تم اپنے نفسوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ بولا کیا گیا یَدْ اور مراد کیا ہے؟ پوری ذات مراد ہے، پوری ذات مراد ہے، سمجھ میں آیا؟ تو تم اپنے ذاتوں کو، اپنے نفسوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ تو اب اَلْقٰی بِیَدِہٖ اَیْ اَلْقٰی یَدَہٗ، تو اس نے اپنے نفس کو ڈالا ہلاکت میں وغیرہ جو بھی آگے آ جائے گا۔ بھئی بات سمجھ میں آ رہی ہے یا زیادہ تیز چل رہا ہوں؟
وَاللَّامُ، اور ایک لام ہے مولانا جو حُرُوْفِ جَارَّہ میں سے، وَھِیَ لِلِاخْتِصَاصِ، یہ کس لیے آتا ہے؟ ایک چیز کی تخصیص کرتا ہے کہ یہ اس چیز کے ساتھ خاص ہے، جیسے اَلْجُلُّ لِلْفَرَسِ، جُلّ کس کو کہتے ہیں؟ جھول کو، کس کو کہتے ہیں؟ جھول۔ ایک ہوتی ہے زین بھئی، گھوڑے پر آپ ڈالتے ہیں نا زین، وہ چمڑے وغیرہ کی چیزیں ہوتی ہیں، وہ نہیں۔ اس سے پہلے ایک موٹا کپڑا وغیرہ دو تین کپڑے ہوتے ہیں وہ ڈالے جاتے ہیں تاکہ زین اس کو زخمی نہ کرے، وہ جو کپڑے ڈالے جاتے ہیں اس کو کیا کہتے ہیں؟ جھول کہتے ہیں، اس کو جُلّ کہتے ہیں۔ اَلْجُلُّ لِلْفَرَسِ، جھول خاص ہے کس کے ساتھ؟ گھوڑے کے ساتھ۔ یہ خاص ہونے کا معنی کس نے ادا کیا؟ لام نے۔ وَالْمَالُ لِزَيْدٍ، اور مال خاص ہے کس کے ساتھ؟ یعنی مال زید کا ہے، مال زید کا ہے۔
وَلِلتَّعْلِیْلِ، اور کبھی لام کس لیے آتا ہے؟ علت بیان کرنے کے لیے: کَـ ضَرَبْتُہٗ لِلتَّاْدِیْبِ، میں نے اس کی پٹائی کی، کیوں کی؟ ادب سکھانے کے لیے، تو پٹائی کی علت کیا ہے؟ ادب سکھانا، یہ لام نے معنی ادا کیا۔
وَزَائِدَۃٌ، اور لام کبھی کیا آئے گا؟ زائدہ آئے گا، کَقَوْلِہٖ تَعَالٰی جیسے اللہ فرماتے ہیں: رَدِفَ لَکُمْ اَیْ رَدِفَکُمْ، بھئی رَدِفَ خود متعدی ہے بغیر لام کے لیکن یہاں پر لام کو بیچ میں لایا گیا، معلوم ہوا یہ لام کیا ہے؟ زائدہ ہے۔ رَدِفَ کا معنی ہوتا ہے کسی کے پیچھے سوار ہونا، کسی کے پیچھے۔ بھئی گھوڑے پر ایک آدمی سوار ہے، ایک اور بھی ساتھ پیچھے بیٹھ جاتا ہے، یہ جو پیچھے بیٹھا ہے اس کو کہتے ہیں ردیف، کیا کہتے ہیں؟ ردیف کہتے ہیں، جو پچھلا سوار ہوتا ہے اس کو ردیف کہتے ہیں، جی۔
وَبِمَعْنٰی عَنْ اِذَا اسْتُعْمِلَ مَعَ الْقَوْلِ، اور یہ کبھی عَنْ کے معنی میں بھی آتا ہے جب اس کو استعمال کیا جائے قول کے ساتھ، جیسے کَقَوْلِہٖ تَعَالٰی جیسے اللہ فرماتے ہیں: وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ کَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَا اِلَیْہِ، کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا تھا ان لوگوں کے بارے میں جو ایمان لائے تھے، لَوْ کَانَ خَیْرًا اگر یہ ایمان بہتر ہوتا مَّا سَبَقُوْنَا اِلَیْہِ تو وہ ہم پر سبقت نہ کر جاتے اس ایمان کی طرف۔ وَفِیْہِ نَظَرٌ۔
دیکھو مولانا، قَالَ کا صلہ ہمیشہ لام آتا ہے جو مخاطب پر داخل ہوتا ہے۔ قُلْتُ لَکَ، میں نے آپ سے کہا تو آپ کون ہیں؟ مخاطب، اور آپ پر کیا داخل ہوا ضمیر پر؟ کا لام داخل ہوا۔ میں نے زید سے کہا، کیا کہیں گے بھئی؟ قُلْتُ لِزَيْدٍ، تو یہ زید مخاطب تھا تو اس پر کیا داخل کیا؟ لام۔ میں نے عمرو سے کہا، کیا کہوں گا؟ قُلْتُ لِعَمْرٍو۔ اچھا، میں نے طلبہ سے کہا، کیا کہوں گا؟ قُلْتُ لِلْطُّلَّابِ، سمجھ میں آیا؟ تو یہ لام داخل ہوتا ہے مخاطب پر۔
لیکن کبھی کبھی یہ غیرِ مخاطب پر بھی داخل ہو جاتا ہے اس صورت میں، مثال کے طور پر جیسے اس آیت کے اندر ہے مولانا۔ دیکھا، دیکھو بھئی قَالَ، وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا کہتے ہیں وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا، کہتے ہیں وہ جو کہ جنہوں نے کفر کیا لِلَّذِیْنَ، کیا آ رہا ہے مولانا قَالَ کا صلہ؟ لام آ رہا ہے، اور لام کس پہ داخل ہوتا ہے؟ مخاطب پر، تو ترجمہ یوں بنے گا: کہتے ہیں وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا، کن سے کہتے ہیں؟ ان لوگوں سے کہتے ہیں اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا جو کیا لائے تھے؟ ایمان لائے تھے یعنی کافر مومنوں سے کہتے ہیں: لَوْ کَانَ خَیْرًا اگر یہ ایمان اَیْ لَوْ کَانَ الْاِیْمَانُ خَیْرًا اگر یہ ایمان کیا ہوتا؟ بہتر ہوتا مَّا سَبَقُوْنَا، سَبَقُوْا کون سا صلہ ہے سَبَقُوْا؟ مخاطب کا ہے یا غائب کا ہے؟ سَبَقَ سَبَقَا سَبَقُوْا ماضی مولانا غائب کا صیغہ ہے۔ اگر یہ ایمان بہتر ہوتا مَّا سَبَقُوْنَا وہ لوگ سبقت نہ کر جاتے نا ہمارے اوپر۔ کیا کہتے ہیں؟ وہ لوگ ہمارے اوپر سبقت نہ کر جاتے اِلَیْہِ اس ایمان کی طرف۔
دیکھو کافر کہتے تھے مومنین سے کہ اگر ایمان بہتر ہوتا تو وہ لوگ ہم پر سبقت نہ کرتے۔ تو دیکھو اب یہاں جو ہے نا مولانا یہ لام کن پر داخل ہوا ہے؟ اَلَّذِیْنَ پر، اور یہ اَلَّذِیْنَ مخاطب نہیں ہیں غائب ہیں۔ کیا ہیں؟ بھئی مخاطب غائب ہوتا ہے یا حاضر ہوتا ہے؟ حاضر ہوتا ہے، اور قَالَ کا صلہ آ رہا ہے لام، اور لام کس پہ داخل ہوتا ہے؟ مخاطب پر، تو معلوم ہوا یہ اَلَّذِیْنَ کون ہونے چاہییں؟ حاضر ہونے چاہییں، تو کفار کہتے ہیں ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور معلوم ہوا وہ ایمان لانے والے کیا ہیں ان کے سامنے؟ حاضر ہیں، کافر ان کو کہتے ہیں کہ اگر یہ ایمان اچھی چیز ہوتی تو دیکھو ایمان لانے والے سارے غریب، غرباء، فقراء، صحابہ تھے۔ کفار بڑے بڑے دولت مند، رئیس، متکبرین تھے، وہ ایمان نہیں لاتے تھے۔ تو مومنوں کو کیا کہہ رہے ہیں کہ اگر اس ایمان کے اندر کوئی خیر ہوتی تو یہ غریب غرباء ہم سے سبقت نہ کرتے بلکہ ہم جیسے دانا اور ہوشیار لوگ ہم کیا کر لیتے؟ ہم جلدی قبول کرتے ایمان کو، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو کافر یہ کہہ رہے ہیں اور کس کو کہہ رہے ہیں؟ کیا آ رہا ہے قَالَ کا صلہ؟ لام، اور اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وہ لوگ جو کہ ایمان لائے، کس کو کہہ رہے ہیں؟ ایمان والوں کو کہہ رہے ہیں کہ اگر اس ایمان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ لوگ ہم پر سبقت نہ کر جاتے، کیا کہہ رہے ہیں؟ وہ لوگ، مَّا سَبَقُوْنَا غائب کا صیغہ ہے نا، غائب کا ترجمہ کرو: وہ لوگ ہم پر سبقت نہ کر جاتے۔ حالانکہ یہ تو نہیں کہنا چاہیے، کفار کو تو یوں کہنا چاہیے مسلمانوں سے مخاطب کر رہے ہیں کہ اگر یہ ایمان کافر کہہ رہے ہیں مسلمانوں سے، اگر یہ ایمان بہتر ہوتا تو تم لوگ ہم سے سبقت نہ کرتے، تو کہنا چاہیے تھا مَّا سَبَقْتُمُوْنَا، تم لوگ ہم سے سبقت نہ کرتے، لیکن کیا کہہ رہے ہیں؟ مَّا سَبَقُوْنَا، وہ لوگ ہم سے سبقت نہ کرتے۔ معلوم ہوا جس پہ یہ لام داخل ہو رہا ہے، اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں معلوم ہوا وہ مخاطب نہیں ہیں اس وقت، معلوم ہوا وہ مخاطب وہ غائب ہیں، اسی لیے تو آگے سَبَقُوْنَا ان کے لیے کون سا صیغہ لے کر آ رہے ہیں؟ غائب کا صیغہ لے کر آ رہے ہیں، اگر وہ حاضر ہوتے تو پھر غائب کا صیغہ لاتے؟ بھئی پھر کون سا لاتے؟ مخاطب کا لاتے، معلوم ہوا یہ لام بمعنی عَنْ کے ہے۔
یہ لام بمعنی عَنْ کے ہے، تو قَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا کافر مومنوں سے نہیں کہہ رہے، یہ لام بمعنی عَنْ کے ہے یعنی کافر مومنوں کے بارے میں کہہ رہے ہیں۔ کافر کس کے بارے میں کہہ رہے ہیں؟ آپس میں ہی باتیں کر رہے ہیں اور کیا کہہ رہے ہیں ایک دوسرے کو؟ کہ اور کس کے بارے میں باتیں کر رہے ہیں؟ مومنوں کے بارے میں باتیں کر رہے ہیں، تو ایک کافر دوسرے کو کہہ رہا ہے کہ اگر یہ مومن مومنوں کے بارے میں کہتا ہے کہ اگر یہ ایمان بہتر ہوتا تو یہ مومن جو یہ لوگ جو ہیں ہم سے سبقت نہ کر جاتے۔ اب بات صحیح ہوئی یا نہ ہوئی؟ جی، قَالَ کا صلہ کیا رہتا ہے؟ لام، اور یہ لام کس پہ داخل ہوتا ہے؟ مخاطب پر، لیکن یہاں اگر مخاطب کا معنی کریں تو پھر آگے سَبَقُوْنَا غائب کا صیغہ نہیں آنا چاہیے تھا بلکہ کون سا آنا چاہیے تھا؟ سَبَقْتُمُوْنَا آنا چاہیے تھا، مخاطب والا صیغہ آنا چاہیے تھا، اور آگے تو آ رہا ہے غائب کا صیغہ، معلوم ہوا یہ جس پر لام داخل ہو رہا ہے یہ مخاطب نہیں، یہ مخاطب نہیں تو معلوم ہوا یہ لام اپنے معنی میں نہیں کیونکہ لام تو کس پہ داخل ہوتا ہے؟ مخاطب پر، تو معلوم ہوا یہ لام کس معنی میں ہے؟ عَنْ کے بارے میں ہے یعنی یہ مومنوں سے نہیں کہہ رہے بلکہ مومنوں کے باتیں خود کر رہے ہیں آپس میں اور مومنوں کے بارے میں کہہ رہے ہیں کہ اگر یہ ایک کافر دوسرے کو کہتا ہے بھئی اگر یہ ایمان بہتر ہوتا تو یہ تو یہ غریب غرباء ہم سے سبقت نہ کرتے، ہم لوگ ہوشیار ہیں، دانا ہیں، دولت مند ہیں، ہم کیا کر لیتے؟ پہلے سے اسلام قبول کر لیتے۔ اب صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں یہ جو لام آیا ہے یہ کس معنی میں ہے؟ عَنْ کے معنی میں، اور یہ کس نے بتلایا آپ کو؟ سَبَقُوْنَا کے غائب کے صیغے نے بتلایا، کس نے بتایا؟ غائب کے صیغے نے، کیونکہ اگر یہ مخاطب ہوتے پھر کیا آنا چاہیے تھا؟ سَبَقْتُمُوْنَا کہ تم ہم سے اگر مسلمان سامنے ہوتے تو کہتے بھئی تم ہم سے سبقت نہ کر جاتے، تو یہ انہوں نے کہا نہیں، معلوم ہوا یہ غائب ہیں، صورت سمجھ میں آئی؟
وَبِمَعْنٰی عَنْ، اور کبھی کبھار مولانا لام بمعنی عَنْ کے بھی آتا ہے اِذَا اسْتُعْمِلَ مَعَ الْقَوْلِ جب کہ اس کو استعمال کیا جائے کس کے ساتھ؟ قول کے ساتھ، کَقَوْلِہٖ تَعَالٰی جیسے اللہ فرماتے ہیں: وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا تھا لِلَّذِیْنَ ان لوگوں کے بارے میں اٰمَنُوْا جو ایمان لائے تھے، لَوْ کَانَ خَیْرًا اگر یہ ایمان بہتر ہوتا مَّا سَبَقُوْنَا اِلَیْہِ تو وہ ہم پر سبقت نہ کر جاتے اس ایمان کی طرف۔
وَفِیْہِ نَظَرٌ، اور اس دلیل کے اندر نظر ہے مولانا، اشکال ہے، یہ فِیْہِ نَظَرٌ کا کلام لایا جاتا ہے مولانا کس کے لیے؟ اشکال کو ذکر کرنے کے لیے، اس کلام میں اشکال ہے بھئی۔ کیا اشکال ہے؟ کہتے ہیں بھئی نہیں، یہ لام اپنے ہی معنی میں ہے، یہ لام کیا ہے؟ اور مخاطب پر ہی داخل ہے، اور مخاطب کون ہے؟ مومنین ہی ہیں، تو کفار مومنین کی ایک جماعت کو کہہ رہے ہیں دوسری جماعت کے بارے میں۔ کفار کس سے بات کر رہے ہیں؟ مومنین سے ہی کر رہے ہیں، اور کس کے بارے میں کر رہے ہیں؟ دوسری جماعت کے بارے میں۔ تو مومنین جو سامنے کھڑے ہیں ان کو کہہ رہے ہیں بھئی کفار کہہ رہے ہیں ان مومنین کو کہہ رہے ہیں کہ اے مومنین، اگر یہ ایمان بہتر ہوتا تو وہ لوگ یعنی وہ جو غریب غرباء ہیں، وہ غریب غرباء مومنین ہیں وہ ہم پر سبقت نہ کر جاتے۔ اب صحیح ہو گیا یا نہیں معنی مولانا؟ کہ مخاطب ایک جماعت اور سَبَقُوْنَا سے مراد دوسری جماعت ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ بھئی یہ دلیل اچھی طرح سب کو سمجھ میں آ گئی؟
وَبِمَعْنَی الْوَاوِ، اور کبھی کس معنی میں آتا ہے؟ لام واو کے معنی میں بھی آتا ہے فِی الْقَسَمِ، کس کے اندر؟ قسم کے لیے آتا ہے مولانا، لام قسم کے لیے بھی آتا ہے اور قسم کے لیے آتا ہے واو تو یہ واو کے معنی میں ہوتے ہیں لیکن عام قسم میں نہیں آئے گا لام بھئی بلکہ لِلتَّعَجُّبِ، کس کے لیے آئے گا؟ تعجب کے لیے آئے گا، وہ قسم جو تعجب ہو جس تعجب کے لیے کھائی جائے اس میں کیا آئے گا؟ لام آئے گا، کَقَوْلِ الْھُذَلِیِّ جیسے ہذلی شاعر کہتا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ شعرٌ:
لِلّٰہِ یَبْقٰی عَلَی الْاَیَّامِ ذُوْ حَیَدٍ
بِمُشْمَخِرٍّ بِہِ الظَّیَّانُ وَالْاٰسُ
لِلّٰہِ یَبْقٰی، یہ لام قسم کے لیے ہے، قسم ہے اللہ کی، یَبْقٰی اَیْ لَا یَبْقٰی، یہاں لَا محذوف ہے۔ بھئی لَا کو ذکر کرتے تو شعر کا وزن برابر نہیں رہتا تھا تو لَا کو حذف کر دیا اور کوئی مسئلہ پھر بھی نہیں بنتا مولانا اس لیے کہ معنی پھر بھی ظاہر ہے۔ لَا کے بغیر معنی ہی خراب ہو جاتا ہے، معلوم ہوا جو بھی شعر کو پڑھے گا اسے خود بخود پتہ چل جائے گا کہ یہاں پر کیا ہے؟ لَا محذوف ہے۔ قسم ہے خدا کی، لَا یَبْقٰی باقی نہیں رہتا عَلَی الْاَیَّامِ زمانے پر یعنی زمانے میں، زمانے میں کوئی باقی نہیں رہتا، زمانے میں باقی نہیں رہتا ذُوْ حَیَدٍ، حَیَد کہتے ہیں گرہ دار سینگ۔ بھئی آپ نے بارہ سنگھا دیکھا ہے؟ اور اس کے سینگ میں دیکھا ہے گرہیں گرہیں سی پڑی ہوتی ہیں بھئی، ایک سینگ ہے اس سے دوسرا نکل رہا ہے، تیسرا نکل رہا ہے اور بیچ میں کیا ہیں؟ گرہیں پڑی ہوئی ہیں، یا مولانا اسی طرح بعض ہرن ہوتے ہیں ان کے سینگ وہ گھومتے ہوئے اوپر کو جاتے ہیں بھئی تو وہ گرہیں سی درمیان میں پڑی ہوتی ہیں، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو وہ مراد ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ذُوْ حَیَدٍ، تو حَیَد کس کو کہتے ہیں؟ گرہ دار سینگ، ذُوْ حَیَدٍ گرہ دار سینگوں والا، گرہ دار ذُو مال کس کو کہتے ہیں؟ مال والا، تو گرہ دار سینگوں والا باقی نہیں رہتا زمانے میں۔ بِمُشْمَخِرٍّ، مُشْمَخِرٍّ بر وزنِ مُطْمَئِنٌّ مولانا، مُشْمَخِرٌّ مُطْمَئِنٌّ، اور یہ اونچے پہاڑ کو کہتے ہیں۔ ظَیَّان چنبیلی کو کہتے ہیں بھئی، ظَیَّان چنبیلی کو کہتے ہیں، چنبیلی یاسمین۔ اٰس، اٰس نیازبو کو کہتے ہیں، نیازبو جانتے ہو بھئی؟ خوشبودار پتے ہوتے ہیں جس کے، ریحان، نیازبو۔
تو شاعر کہتا ہے، شاعر کہتا ہے اس زمانے میں کوئی باقی نہیں رہتا تو تعجب کے طور پر قسم اٹھاتا ہے اللہ کی کہ کتنے تعجب کی بات قسم خدا کی، کوئی پہاڑ کی بلند چوٹی ہو اور وہاں پر مولانا کوئی تکلیف بھی نہیں ہو گی، کوئی مصیبت بھی نہیں ہے، سبزہ بھی خوب وافر مقدار میں ہے اور وہاں ہر طرف چنبیلی کے پودے ہوں، ہر طرف نیازبو کے پودے ہوں، ہر طرف مولانا سبزہ ہے، خوشبوئیں بکھری ہوئی ہیں، ان اس سبزے کے اوپر کوئی ہرن بارہ سنگھے وغیرہ رہتے ہیں، کوئی تکلیف دینے والا نہیں لیکن پھر بھی ایک وقت آتا ہے وہ ختم ہو جاتے ہیں۔ دیکھو کوئی تکلیف بھی نہیں، پھر بھی کیا ہے وہ؟ ختم ہو جاتے ہیں، تو شاعر تعجب کا اظہار کر رہا ہے کہ قسم خدا کی زمانے میں کوئی گرہ دار سینگوں والا پہاڑ کی بلند چوٹی پر بھی باقی نہیں رہتا، ایسی پہاڑ کی بلند چوٹی جہاں پر کیا ہوں مولانا؟ چنبیلی اور نیازبو کے پودے ہوں، یعنی ہر چیز کیا ہے؟ فنا ہو جانے والی ہے۔
تو یہ مولانا لَا یہاں محذوف ہے، ذُوْ حَیَدٍ یہ فاعل ہے کس کا فاعل بھئی؟ یَبْقٰی کا، کیا ہے؟ یَبْقٰی کا فاعل۔ بِمُشْمَخِرٍّ، مُشْمَخِرٍّ معرفہ ہے، نکرہ ہے مولانا؟ نکرہ ہے، کیا ہے؟ نکرہ، اور بِہِ الظَّیَّانُ وَالْاٰسُ، اَلظَّیَّانُ وَالْاٰسُ، اَلظَّیَّانُ معطوف علیہ ہے وَالْاٰسُ اس پر کیا ہے؟ عطف معطوف ہے، معطوف معطوف علیہ مل کر مبتدائے مؤخر ہے، معطوف معطوف علیہ مل کر اور بِہٖ جار مجرور خبر مقدم ہے، بِہٖ جار مجرور کیا ہے اس کے لیے؟ خبر مقدم ہے۔ تو مبتدائے مؤخر اپنے خبر مقدم سے مل کر کیا ہوا؟ جملہ اسمیہ خبریہ ہو کر یہ صفت ہے مُشْمَخِرٍّ کی، یہ صفت ہے کس کی؟ اور یہ بِہٖ کی ھَا ضمیر مُشْمَخِرٍّ کو راجع ہے۔ اور مُشْمَخِرٍّ ہے نکرہ، اور آپ نے پڑھا ہے مولانا جملہ کس کے حکم میں ہوتا ہے؟ معرفہ ہوتا ہے یا نکرہ ہوتا ہے؟ نکرہ ہوتا ہے تو لہٰذا یہ نکرہ کے لیے جملہ کیا بن گیا؟ صفت بن گیا، ترکیب سمجھ میں آئی؟ مُشْمَخِرٍّ کیا ہے؟ نکرہ ہے موصوف، اور بِہٖ کیا ہے؟ خبر مقدم، اور اَلظَّیَّانُ وَالْاٰسُ کیا ہے؟ مبتدائے مؤخر، مبتدائے مؤخر اپنے خبر مقدم سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہو کر صفت ہوا کس کے لیے؟ مُشْمَخِرٍّ کے لیے۔ موصوف صفت مل کر مجرور، جار مجرور مل کر کس سے متعلق ہو جائیں گے؟ یَبْقٰی سے، کس سے متعلق؟ یَبْقٰی سے۔
ترکیب کچھ سمجھ میں آ گئی؟ تو ترجمہ یوں ہو گا موصوف صفت کے ساتھ: ایسے پہاڑ کی بلند چوٹی جس میں چنبیلی اور نیازبو ہوں۔ قسم خدا کی، باقی نہیں رہتے زمانے کے اندر گرہ دار سینگوں والے ایسے پہاڑ کی بلند چوٹی میں یا ایسے بلند پہاڑ میں جس کے اندر چنبیلی اور نیازبو ہوں۔
وَرُبَّ، اور حُرُوْفِ جَارَّہ میں سے ایک مولانا رُبَّ ہے، وَھِیَ لِلتَّقْلِیْلِ اور یہ کس لیے آتا ہے؟ تقلیل کے لیے آتا ہے کَمَا اَنَّ کَمِ الْخَبَرِیَّۃَ لِلتَّکْثِیْرِ جیسے کَمْ خبریہ کس لیے آتا تھا؟ کَمْ خبریہ پڑھا یا نہیں پڑھا آپ نے؟ تکثیر کے لیے آتا تھا: کَمْ رِجَالٍ لَّقِیْتُ، بہت سے آدمیوں سے میں ملا تو وہ تکثیر کا معنی دیتا تھا اور رُبَّ کس کا معنی دیتا ہے؟ تقلیل کا، لیکن یاد رکھو مولانا یہ رُبَّ کا یہ وضع کے اعتبار سے، رُبَّ وضع تو تھا تقلیل کے لیے لیکن اب استعمال تکثیر میں ہوتا ہے۔ جہاں بھی رُبَّ آ جائے اس کا کیا معنی کریں گے آپ بھئی؟ تکثیر کا، بہت سے، بہت سے۔ ہاں کبھی کبھی اب بھی یہ تقلیل کا معنی ادا کرے گا لیکن تقلیل کے معنی کے لیے کوئی قرینہ چاہیے ہو گا۔ وضع کس کے لیے تھا؟ تقلیل کے لیے، استعمال کس میں ہونے لگا؟ تکثیر میں، اور اب اگر تقلیل میں استعمال ہو گا تو اس کے لیے کیا چاہیے؟ قرینہ چاہیے۔
وَتَسْتَحِقُّ صَدْرَ الْکَلَامِ، اور یہ مولانا کیا چاہتا ہے؟ جی، صدارتِ کلام کا استحقاق رکھتا ہے یعنی مستحق ہوتا ہے، صدارتِ کلام چاہتا ہے اس لیے کہ مولانا یہ اِنْشَاءِ تَقْلِیْل کے لیے آتا ہے یا اِنْشَاءِ تَکْثِیْر کے لیے اب استعمال میں، تو جب یہ اِنْشَاءِ تَقْلِیْل کے لیے یا اِنْشَاءِ تَکْثِیْر کے لیے آتا ہے تو یہ صدارتِ کلام چاہتا ہے تاکہ کلام کی ابتداء سے ہی پتہ چل جائے تقلیل یا تکثیر کا۔
وَلَا تَدْخُلُ اِلَّا عَلٰی نَکِرَۃٍ مَّوْصُوْفَۃٍ، اور یہ داخل نہیں ہوتا مگر کس پر؟ ایسے نکرہ پر مَوْصُوْفَۃٍ جو کیا ہو؟ تو رُبَّ ہمیشہ رُبَّ جر دے گا اور نکرہ پر داخل ہو گا اور وہ نکرہ بھی ہمیشہ کیا ہو گا؟ یعنی اس کے آگے کیا آئے گی؟ آگے اس کی صفت آ جائے گی، جیسے: رُبَّ رَجُلٍ کَرِیْمٍ، تو رَجُلٍ پر رُبَّ داخل ہوا تو رَجُلٍ نکرہ ہے اور اس کے آگے کیا آ رہی ہے؟ صفت، رُبَّ رَجُلٍ کَرِیْمٍ لَّقِیْتُہٗ، بہت سے سخی آدمیوں سے میری ملاقات ہوئی ہے۔
اَوْ مُضْمَرٍ مُّبْھَمٍ مُّفْرَدٍ مُّذَکَّرٍ اَبَدًا، اور یا کبھی مولانا رُبَّ داخل ہوتا ہے ضمیر پر، ضمیر اور وہ ضمیر کیسی ہوتی ہے؟ مبہم ہوتی ہے، مفرد اور ہمیشہ کیا ہوتی ہے؟ مفرد ہوتی ہے اور ہمیشہ کیا ہوتی ہے؟ مذکر ہوتی ہے، اَبَدًا ہمیشہ۔ تو کبھی یہ مبہم مفرد مذکر ضمیر پر داخل ہوتا ہے جو ہمیشہ مبہم ضمیر پر داخل ہوتا ہے جو ہمیشہ مفرد مذکر رہتی ہے ہو گی، مُمَیَّزٍ تو چونکہ یہ مبہم ہے یہ آگے تمییز چاہتی ہے، مُمَیَّزٍ بِنَکِرَۃٍ مَّنْصُوْبَۃٍ جس کی تمییز کس کے ساتھ لائی جائے گی؟ نکرہ منصوبہ کے ساتھ، نَحْوُ: رُبَّہٗ، تو دیکھو رُبَّ کس پر داخل ہوا؟ ضمیر، اور یہ ضمیر کون سی ہے؟ مبہم، اور ہمیشہ کیا رہے گی؟ مفرد رہے گی، رُبَّھُمَا رُبَّھُمْ نہیں کہیں گے، اور ہمیشہ کیا رہے گی؟ مذکر رہے گی، رُبَّھَا نہیں کہیں گے، اور اس کی پھر چونکہ مبہم ہے تو آگے کیا چاہے گی؟ تمییز، اور وہ نکرہ منصوبہ آئے گی: رَجُلًا، یہ کیا ہے؟ نکرہ منصوبہ ہے: رُبَّہٗ رَجُلًا۔ تو دیکھو رَجُلًا تمییز ہے، اب چاہے دو ہوں تو رُبَّہٗ رَجُلَیْنِ، چاہے جمع ہو: رُبَّہٗ رِجَالًا، تو یہ نہیں ہم دیکھیں گے کہ تمییز مفرد ہے، تمییز تثنیہ ہے، تمییز جمع ہے، رُبَّ کے ساتھ ضمیر نے ہمیشہ مفرد ہی رہنا ہے، اس نے تثنیہ جمع کے لیے بدلنا نہیں۔ مؤنث کے لیے بھی نہیں بدلے گا: رُبَّہٗ امْرَاَۃً، دیکھا، تو امْرَاَۃً اگرچہ تمییز آئی لیکن رُبَّہَا ضمیر بدلی نہیں، کَذٰلِکَ اسی طرح۔
وَعِنْدَ الْکُوْفِیِّیْنَ، یہ تو بصرہ والے کہتے تھے اس میں ضمیر میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، کوفہ والے کہتے ہیں نہیں، بدلے گی: مذکر کے لیے مذکر، مؤنث کے لیے مؤنث، مفرد کے لیے مفرد، تثنیہ کے لیے تثنیہ، جمع کے لیے جمع، تو کیا کہیں گے؟ رُبَّہٗ رَجُلًا، رُبَّھُمَا رَجُلَیْنِ، رُبَّھُمْ رِجَالًا اور رُبَّھَا امْرَاَۃً۔ وَعِنْدَ الْکُوْفِیِّیْنَ یَجِبُ الْمُطَابَقَۃُ اور کوفہ والوں کے نزدیک مطابقت واجب ہے: نَحْوُ رُبَّھُمَا رَجُلَیْنِ وَرُبَّھُمْ رِجَالًا وَرُبَّھَا امْرَاَۃً۔
وَقَدْ تَلْحَقُھَا مَا الْکَافَّۃُ، اور کبھی کبھار اس کے ساتھ مائے کافہ مل جاتا ہے۔ مائے کافہ، کَفَّ یَکُفُّ کا معنی ہوتا ہے روکنا، یہ مَا بھی چونکہ رُبَّ وغیرہ کو عمل سے روک دیتا ہے اس لیے یہ کیا کہلاتا ہے؟ مائے کافہ کہلاتا ہے۔ تو چونکہ مولانا رُبَّ کے ہم نے کیا شرط لگائی تھی؟ یا یہ نکرہ موصوفہ پر داخل ہو گا یا یہ ضمیر پر داخل ہو گا، لیکن کبھی کبھی مائے کافہ پر داخل ہو جاتا ہے، وہ اس کو عمل سے ہی روک دیتا ہے، جب عمل سے روک دیا اب مولانا یہ جملوں پر بھی داخل ہو گا اور جملہ فعلیہ پر بھی داخل ہو گا اور جملہ اسمیہ پر، اب مولانا مفرد پر داخل ہونا ضروری نہیں۔
وَقَدْ تَلْحَقُھَا مَا الْکَافَّۃُ اور کبھی کبھار اس پر اس کے ساتھ مائے کافہ بھی مل جاتا ہے فَتَدْخُلُ عَلَی الْجُمْلَتَیْنِ تو یہ کس پر داخل ہوتا ہے؟ دو جملوں پر داخل، دونوں جملوں پر یعنی فعلیہ پر بھی اور جیسے رُبَّمَا قَامَ زَيْدٌ، تو دیکھو رُبَّ کے بعد مائے کافہ آیا تو اب یہ قَامَ پر بھی داخل ہو گیا ورنہ تو یہ فعل پر داخل نہیں ہو سکتا تھا۔ وَرُبَّمَا زَيْدٌ قَائِمٌ۔
وَلَا بُدَّ لَھَا مِنْ فِعْلٍ مَّاضٍ، اور اس رُبَّ کے لیے فِعْلِ مَاضِی کا ہونا ضروری ہے، کیوں بھئی فِعْلِ مَاضِی کا ہونا کیوں ضروری ہے رُبَّ کے لیے؟ کہتے ہیں: لِاَنَّ رُبَّ لِلتَّقْلِیْلِ الْمُحَقَّقِ اس لیے کہ رُبَّ ایسی تقلیل کے لیے آتا ہے جو واقع ہو، جو کیا ہو؟ واقع ہو، وَھُوَ لَا یَتَحَقَّقُ اِلَّا بِہٖ اور وہ حاصل نہیں ہوتی مگر ماضی ہی کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ بھئی رُبَّ کس لیے آتا ہے؟ تقلیل کے لیے، اور وہ تقلیل یقینی ہونی چاہیے یا صرف امید ہی اس کی کافی ہے؟ یقینی ہونی چاہیے، اور یقینی بات ماضی میں ہوتی ہے یا مستقبل میں ہوتی ہے؟ ماضی کی بات یقینی ہوتی ہے، مستقبل میں تو غیر یقینی ہوتی ہے کہ پتہ نہیں ہوتی ہے یا نہیں۔
وَلَا بُدَّ لَھَا مِنْ فِعْلٍ مَّاضٍ اور ضروری ہے اس کے لیے فِعْلِ مَاضِی کا ہونا لِاَنَّ رُبَّ لِلتَّقْلِیْلِ الْمُحَقَّقِ اس لیے کہ رُبَّ ایسی تقلیل کے لیے آتا ہے جو واقع ہو چکی ہو، یقینی ہو، وَھُوَ لَا یَتَحَقَّقُ اِلَّا بِہٖ اور وہ حاصل نہیں ہوتی، یَتَحَقَّقُ کا کیا ترجمہ کر رہے ہیں؟ حاصل کر رہے ہیں، اور وہ حاصل نہیں ہوتی یعنی وہ تقلیلِ یقینی، تقلیلِ محققہ کا کیا معنی کیا مولانا؟ تقلیلِ یقینی، وہ تقلیلِ یقینی حاصل نہیں ہوتی اِلَّا بِہٖ، ھَا ضمیر فِعْلِ مَاضِی کو راجع ہے، مگر کس کے ساتھ؟ فِعْلِ مَاضِی کے ساتھ۔
وَیُحْذَفُ ذٰلِکَ الْفِعْلُ غَالِبًا، اور اکثر اس فعل کو کیا کر دیا جاتا ہے؟ حذف کر دیا جاتا ہے، کَقَوْلِکَ جیسے آپ کہتے ہیں: رُبَّ رَجُلٍ اَکْرَمَنِیْ فِیْ جَوَابِ مَنْ قَالَ ھَلْ لَقِیْتَ مَنْ اَکْرَمَکَ؟ جیسے آپ کہتے ہیں: رُبَّ رَجُلٍ اَکْرَمَنِیْ، بھئی رُبَّ کس پہ داخل ہوا؟ اور نکرہ پر داخل ہو تو ہم نے کیا شرط لگائی تھی؟ اس کی صفت آنی چاہیے، یہاں تو نکرہ کی کوئی صفت نہیں نظر آ رہی مجھے؟ کیا کر دی گئی ہے؟ بھئی دیکھو فعل کی بات چھوڑو ابھی، تو وہ بات تو فعل کی چل رہی ہے وہ ابھی میں آگے بتاتا ہوں، مجھے پہلے تو یہ آپ نے پڑھی بات کہ رُبَّ کی تمیز رُبَّ کس پر داخل ہو گا؟ نکرہ پر، اور وہ نکرہ پھر ہمیشہ کیا ہو گا؟ موصوف ہو گا، تو بھئی دیکھ نہیں رہے، رَجُلٍ معرفہ ہے، نکرہ ہے؟ نکرہ ہے، اور آگے اَکْرَمَنِیْ آ رہا ہے اور اَکْرَمَنِیْ کیا ہے؟ جملہ ہے، اور جملہ کس کے حکم میں ہوتا ہے؟ نکرہ، اور کس کے لیے صفت بنتا ہے؟ نکرہ کے لیے، جملہ نکرہ کے لیے صفت بن جاتا ہے تو رَجُلٍ موصوف، اَکْرَمَنِیْ جملہ اس کی صفت۔ ضابطہ بچا ہوا ہے یا ٹوٹ گیا مولانا؟
تو رُبَّ رَجُلٍ اَکْرَمَنِیْ، رُبَّ مولانا جارہ، رَجُلٍ مجرور لفظاً موصوف، اَکْرَمَ فعل، ھُوَ ضمیر اس کے اندر فاعل جو کس کو راجع؟ رَجُل موصوف کو، سمجھ میں آیا بھئی؟ جملہ فعلیہ ہو کر رجل کے لیے کیا بن جائے گی؟ صفت۔ فِیْ جَوَابِ مَنْ قَالَ، جیسے آپ کہتے ہیں رُبَّ رَجُلٍ اَکْرَمَنِیْ فِیْ جَوَابِ مَنْ اس شخص کے جواب میں قَالَ جس نے کہا تھا: ھَلْ لَقِیْتَ مَنْ اَکْرَمَکَ؟ کیا تیری ملاقات ہوئی ہے کسی ایسے آدمی سے جس نے تیرا اکرام کیا ہو؟ ھَلْ لَقِیْتَ مَنْ اَکْرَمَکَ؟ کیا تیری ملاقات ہوئی ہے جس نے تیرا کیا کیا ہو؟ اکرام کیا ہو، آپ نے جواب میں کیا کہا؟ رُبَّ رَجُلٍ اَکْرَمَنِیْ، بہت سے ایسے لوگ جنہوں نے میرا اکرام کیا۔ آگے لَقِیْتُہٗ کو حذف کر دیتے ہیں، کیا کر دیتے ہیں؟ تو اصل کلام یوں ہے: رُبَّ رَجُلٍ اَکْرَمَنِیْ لَقِیْتُہٗ، بہت سے ایسے آدمیوں نے جنہوں نے میرا اکرام کیا ہے ان سے میری ملاقات ہوئی ہے ہوئی ہے، سمجھ میں آیا؟ تو اس لَقِیْتُہٗ کو کیوں حذف کیا؟ کیونکہ قرینہ موجود ہے، سوال اس نے پوچھا ہے، سوال میں کیا لِقاء کا ذکر آ چکا ہے، اس نے کہا تھا ھَلْ لَقِیْتَ مَنْ اَکْرَمَکَ؟ کیا کسی ایسے شخص سے تیری ملاقات ہوئی ہے جس نے تیرا اکرام کیا؟ اَیْ رُبَّ رَجُلٍ اَکْرَمَنِیْ لَقِیْتُہٗ، بہت سے ایسے آدمی جنہوں نے میرا اکرام کیا ان سے میری ملاقات ہوئی ہے، فَاَکْرَمَنِیْ صِفَۃُ الرَّجُلِ تو اَکْرَمَنِیْ صفت ہے رجل کی، وَلَقِیْتُہٗ فِعْلُھَا اور لَقِیْتُہٗ رُبَّ کا فعل ہے مولانا تو اس کو ہم نے کیا کر لیا تھا؟ حذف کر دیا تھا، وَھُوَ مَحْذُوْفٌ اور وہ محذوف ہے۔
وَوَاوُ رُبَّ، اور ایک مولانا حروف جارہ میں سے واوِ رُبَّ ہے، وَھِیَ الْوَاوُ الَّتِیْ تُبْتَدَاُ بِھَا فِیْ اَوَّلِ الْکَلَامِ اور یہ وہ واو ہے جس کے جس کے ساتھ ابتداء کی جاتی ہے اولِ کلام کے اندر بھئی، جس کے ساتھ ابتداء کی جاتی ہے کہاں پر؟ اولِ کلام میں مولانا، تو یہ واو بمعنی رُبَّ کے، دو مذاہب ہیں مولانا اس میں: بعض علماء کہتے ہیں یہ واو رُبَّ کے معنی میں ہے خود، تو یہ واو بھی جر دیتا ہے، کیا دیتا ہے؟ جر دیتا ہے، آگے مثال آ رہی ہے: کَقَوْلِ الشَّاعِرِ جیسے شاعر کہتا ہے: وَبَلْدَۃٍ، کہ واو نے جر بَلْدَۃٍ کو جر کس نے دیا؟ واو کس معنی میں ہے؟ رُبَّ کے معنی میں، تو بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ واو خود رُبَّ کے معنی میں ہے، بعض کہتے ہیں نہیں، یہ واو رُبَّ کے معنی میں نہیں، اس واو کے بعد رُبَّ محذوف ہے۔ اس واو کے بعد کون ہے؟ تو جر وہ رُبَّ دے رہا ہے، یہ واو نہیں دے رہا، اور پہلے مذہب والے کیا کہتے تھے؟ یہ واو خود ہی کیا کر رہا ہے؟ جر دے رہا ہے، یہ رُبَّ کے معنی۔
کَقَوْلِ الشَّاعِرِ جیسے شاعر کہتا ہے: وَبَلْدَۃٍ اَیْ رُبَّ بَلْدَۃٍ لَّیْسَ بِھَا اَنِیْسٌ، اَنِیْسٌ کا معنی انس کرنے والا، مانوس شخص، مانوس، اِلَّا الْیَعَافِیْرُ اِلَّا الْیَعَافِیْرُ بھئی، یَعَافِیْرُ جمع ہے یَعْفُوْر کے مولانا، یَعْفُوْر کے، اور وہ ہرن کے بچے کو کہتے ہیں، ہرن کا بچہ یا ہرن کو بھی کہتے ہیں، ہرن کا بچہ۔
عِیْسٌ مولانا، بر وزنِ بِیْضٌ، اَبْیَضُ کی مؤنث کیا آتی ہے مولانا؟ بَیْضَاءُ، اور بَیْضَاءُ کی جمع کیا آتی ہے؟ بِیْضٌ آتی ہے۔ اَحْمَرُ کی مؤنث کیا آتی ہے؟ حَمْرَاءُ، اور حَمْرَاءُ کی جمع حُمْرٌ آتی ہے، کیا آتی ہے؟ حُمْرٌ۔ اَحْمَرُ کی مؤنث حَمْرَاءُ اور حَمْرَاءُ کی جمع حُمْرٌ، اسی طرح اَبْیَضُ کی جمع اَبْیَضُ کی مؤنث بَیْضَاءُ اور بَیْضَاءُ کی جمع بِیْضٌ، وہ تھا حُمْرٌ فُعْلٌ، یہ ہے فِعْلٌ، بھئی یہ بھی دراصل فُعْلٌ تھا، یا کی وجہ سے ہم نے کیا دے دیا؟ کسرہ دے دیا، صورت سمجھ میں آئی؟ تو یہ بھی فُعْلٌ ہے۔ یہ تو یہاں بھی مولانا عِیْسٌ جو ہے اَعْیَسُ کی مؤنث آتی ہے عَیْسَاءُ جیسے اَبْیَضُ کی مؤنث بَیْضَاءُ، تو اَعْیَسُ کی مؤنث ہے عَیْسَاءُ اور عَیْسَاءُ کی جمع عِیْسٌ، اور اَعْیَسُ کہتے ہیں مولانا عمدہ اور اعلیٰ اونٹ کو، عمدہ اور اعلیٰ اونٹ۔
شاعر کہتا ہے: بہت سے ایسے شہروں پر ہمارا گزر ہوا جن میں کوئی مانوس چیز ہمیں نہ ملی، انس کرنے والی کوئی چیز نہ ملی سوائے ہرن کے بچوں کے اور عمدہ اونٹنیوں کے۔ عمدہ اور اعلیٰ اونٹنیوں اور ہرن کے بچوں کے علاوہ ان شہروں میں ہمیں اور کوئی انس کرنے والا نہیں ملا، وہ شہر اور بستیاں اجاڑ ہو گئی تھیں، ویران ہو گئی تھیں، تمام انسان وہاں سے کوچ کر گئے تھے، اب ٹوٹے پھوٹے کھنڈرات باقی ہیں اور جنگل کے اندر ان کھنڈرات کے اندر اب کنہوں نے بسیرا بسایا ہوا ہے؟ ہرنوں نے، اونٹنیوں وغیرہ نے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو شاعر کہتا ہے بہت سے میں ایسے بستیوں پر گزرا کہ جن میں ہمیں کوئی مانوس چیز نہ ملی، کوئی انس کرنے والا انسان دکھائی نہ دیا سوائے ہرن کے بچوں کے اور عمدہ اونٹنیاں۔
وَبَلْدَۃٍ اَیْ رُبَّ بَلْدَۃٍ، بہت سے شہر تھے، لَّیْسَ بِھَا اَنِیْسٌ کہ نہیں تھا ان میں کوئی انس کرنے والا، اِلَّا الْیَعَافِیْرُ مگر کون بھئی؟ ہرن کے بچے، وَاِلَّا الْعِیْسُ اور عمدہ اونٹنیاں۔ تو مقامِ استشہاد ہے وَبَلْدَۃٍ بھئی، واو رُبَّ کے معنی میں آیا۔
وَوَاوُ الْقَسَمِ، حروف جارہ میں سے ایک واوِ قسم ہے، وَھِیَ تَخْتَصُّ بِالظَّاہِرِ یہ خاص ہے کس کے ساتھ مولانا؟ اسم ظاہر کے ساتھ۔ بھئی قسم کے لیے اَصْلُ الْحُرُوْف قسم کے لیے جو اصل ہے وہ ہے با: بِاللّٰہِ، قسم کے لیے اصل لفظ کیا ہے؟ با۔ کبھی با کی جگہ استعمال ہوتا ہے واو اور کبھی پھر واو کی جگہ استعمال ہوتی ہے تا۔ اصل کیا ہے قسم کے لیے؟ با، کبھی با کی جگہ کیا استعمال ہوتا ہے؟ واو، اور کبھی واو کی جگہ بھی تا۔ تو دیکھنا جو اصل ہے اس میں سب سے زیادہ وسعت ہو گی، واو کے اندر وسعت کم ہو جائے گی، تا کے اندر وسعت مزید کم ہو جائے گی، تا کے اندر وسعت مزید کم ہو جائے گی۔ یاد رکھو یہ جو با ہے یہ اسم ظاہر پر بھی داخل ہو سکتی ہے، اسم ضمیر پر بھی داخل ہو سکتی ہے: بِاللّٰہِ، قسم کھا رہا ہوں مولانا، اور لفظِ اللہ ظاہر ہے یا ضمیر ہے؟ یہ اسم تو یہ اسم ظاہر پر داخل ہوا، سمجھ میں آیا؟ اور یہ ضمیر پر بھی داخل ہو سکتا ہے: بِکَ، یہ کس پر داخل ہوا؟ ضمیر پر۔ تو یہ با قسم کے لیے آتا ہے اور اس صورت میں یہ اسم ظاہر پر بھی داخل ہوتا ہے اور اسم ضمیر پر بھی داخل ہوتا ہے۔
نیز مولانا یہ با استفہام کے لیے بھی آ سکتی ہے، استفہام پر بھی داخل ہو گی: بِاللّٰہِ اَخْبِرْنِیْ، بِاللّٰہِ اَخْبِرْنِیْ، یہ با قسمیہ ہے اور آگے کیا ہے مولانا؟ طلبِ اخبار ہے، طلبِ اخبار ہے، تو دیکھا اس کے لیے با آ گئی بھئی یا استفہام بنا لو مولانا، یہ بھی استفہام، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو با کیا ہے؟ اسم ظاہر کے لیے بھی آئے گی اور اسم ضمیر کے لیے بھی، اور مولانا استفہام کے لیے بھی یہ با قسمیہ۔ نیز اس کے ساتھ اُقْسِمُ فعل کو لفظوں میں لانا بھی جائز ہے، حذف کرنا بھی جائز ہے: اُقْسِمُ بِاللّٰہِ آپ کہہ سکتے ہیں، اور صرف بِاللّٰہِ، اُقْسِمُ کو حذف کر دیں، یہ بھی جائز ہے۔ تو فِعْلِ قَسَم کو اس کے ساتھ لفظوں میں ذکر کرنا بھی جائز اور اس کو حذف کرنا بھی کیونکہ یہ اصل ہے۔
ہاں واو کے اندر کبھی کبھی با کی جگہ کیا لے آتے ہیں مولانا؟ واو لے آتے ہیں، واو کے اندر وسعت گنجائش کم ہو جائے گی۔ با کے بارے میں کیا تھا؟ اسم ظاہر پر بھی داخل ہو گا با اور اسم ضمیر پر، جبکہ واو صرف اسم ظاہر پہ داخل ہو گا، اسم ضمیر پر داخل نہیں ہو گا، وَکَ نہیں کہہ سکتے، وَاللّٰہِ کہہ سکتے ہیں آپ، جی۔ نیز با میں کیا تھا؟ استفہام کے لیے بھی آتی ہے، غیرِ استفہام کے لیے بھی آتی ہے، لیکن واو صرف غیرِ استفہام کے لیے آئے گا، استفہام کے لیے کبھی نہیں آئے گا۔ تیسری کہ با کے ساتھ اُقْسِمُ فعل کو ذکر بھی کرنا بھی جائز تھا اور حذف کرنا بھی جائز تھا جبکہ واو کے اندر صرف حذف ہی جائز ہے، اس کو ذکر کرنا، اُقْسِمُ وَاللّٰہِ کہنا جائز، وَاللّٰہِ اَخْبِرْنِیْ کہنا جائز نہیں، صورت سمجھ میں آ گئی؟
پھر کبھی واو کی جگہ تا آتی ہے، تا میں اور بھی گنجائش کم ہو گئی۔ واو تو اسم ظاہر کے ساتھ آتا تھا، ہر اسم ظاہر کے ساتھ: وَاللّٰہِ، وَالرَّحْمٰنِ، وَالرَّحِیْمِ، سمجھ میں آیا؟ ہر اسم ظاہر کے ساتھ آ رہا ہے واو، لیکن تا صرف لفظِ اللہ کے لیے آئے گی اور کسی اسم ظاہر کے ساتھ بھی نہیں آئے گی، تو اسم ظاہر میں بھی اور گنجائش کم ہو گئی، تا صرف تَاللّٰہِ آپ کہہ سکتے ہیں، تَالرَّحْمٰنِ کہنا صحیح نہیں۔ سمجھ میں آ گئی بات سب کو؟ دیکھیے۔
وَوَاوُ الْقَسَمِ اور ایک واوِ قسم ہے حروف جارہ میں سے، وَھِیَ تَخْتَصُّ بِالظَّاہِرِ اور یہ خاص ہے اسم ظاہر کے ساتھ، نَحْوُ: وَاللّٰہِ وَالرَّحْمٰنِ، وَاللّٰہِ اور وَالرَّحْمٰنِ لَاَضْرِبَنَّ، تو دیکھا وَاللّٰہِ لفظِ اللہ پر بھی اسم ظاہر پر داخل ہوا، رحمن پر بھی، فَلَا یُقَالُ یوں نہیں کہا جائے گا: وَکَ، واو اسم ظاہر پر داخل ہوتا ہے، ضمیر پر نہیں۔
وَتَاءُ الْقَسَمِ اور ایک تائے قسم ہے، وَھِیَ تَخْتَصُّ بِاللّٰہِ وَحْدَہٗ اور یہ خاص ہے کس کے ساتھ؟ جی، بھئی تا صرف لفظِ اللہ پہ خاص داخل ہو گی اور کسی پر داخل نہیں۔ واو تو جو بھی اسم ظاہر ہو اس پہ واو آ سکتا تھا لیکن اسم ظاہر میں سے تا صرف کس پر آئے گی؟ لفظِ اللہ، وَھِیَ تَخْتَصُّ بِاللّٰہِ وَحْدَہٗ، تَخْتَصُّ بھی پڑھ سکتے ہیں تُخْتَصُّ بھی، لفظِ اللہ کے ساتھ، فَلَا یُقَالُ تَالرَّحْمٰنِ لہٰذا یہ یوں نہیں کہا جائے گا تَالرَّحْمٰنِ، تَالرَّحْمٰنِ کہنا جائز نہیں بلکہ صرف کیا کہنا جائز؟ تَاللّٰہِ۔ وَقَوْلُھُمْ تَرَبِّ الْکَعْبَۃِ شَاذٌّ، بھئی بعض عربوں کے قول میں آپ نے تو کہا یہ لفظِ اللہ کے علاوہ اور کہیں داخل نہیں ہوتی، ہم نے بعض اشعار میں پڑھا وہاں کیا آیا تَرَبِّ الْکَعْبَۃِ، تا کس پہ داخل ہوئی؟ رَبّ پر داخل ہوئی، تو جواب یہ دیا مصنف نے بتلایا شَاذٌّ، یہ کیا ہے مولانا؟ شاذ ہے یعنی آیا ہے لیکن نادر ہے، کیا ہے؟ نادر ہے، وَالنَّادِرُ کَالْمَعْدُوْمِ، تو ایک جگہ آ جائے یا دو جگہ آ جائے اس سے ہم ضابطے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
وَبَاءُ الْقَسَمِ اور بائے قسم ہے، وَھِیَ تَدْخُلُ عَلَی الظَّاہِرِ اور یہ داخل ہوتی ہے کس پر مولانا؟ ظاہر پر بھی داخل ہوتی ہے، وَالْمُضْمَرِ اور ضمیر پر بھی داخل ہوتی ہے، نَحْوُ: بِاللّٰہِ وَبِالرَّحْمٰنِ وَبِکَ، ضمیر پر بھی داخل ہوئی۔ اور میں نے دو زائد چیزیں بھی آپ کو بتلائیں اس کے ساتھ بھئی، کون سے دو زائد چیزیں کہ یہ استفہام کے لیے بھی آ سکتی ہے اور اس کے ساتھ فعل کو ذکر کرنا بھی جائز۔
وَلَا بُدَّ لِلْقَسَمِ مِنَ الْجَوَابِ، اور قسم کے لیے جواب کا ہونا بھی ضروری ہے، وَھِیَ جُمْلَۃٌ بھئی یاد رکھو وَاللّٰہِ یہ تو قسم ہوئی، اس کے لیے کیا چاہیے؟ جوابِ قسم، کس بات پہ قسم آپ اٹھا رہے ہیں اس کو کیا کہتے ہیں؟ جوابِ قسم کہتے ہیں۔ وَلَا بُدَّ لِلْقَسَمِ مِنَ الْجَوَابِ اور ضروری ہے قسم کے لیے جواب کا ہونا، وَھِیَ جُمْلَۃٌ اور یہ ایک جملہ ہوتا ہے، تُسَمَّی الْمُقْسَمَ عَلَیْھَا اس کو کیا کہتے ہیں؟ مُقْسَمْ عَلَیْہِ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ مُقْسَمْ عَلَیْہِ کہتے ہیں۔ فَاِنْ کَانَتْ مُوْجَبَۃً، اگر یہ کیا ہو؟ موجب ہو، کیا معنی؟ مثبت کلام ہو، یَجِبُ دُخُوْلُ اللَّامِ فِی الِاسْمِیَّۃِ وَالْفِعْلِیَّۃِ تو واجب ہے کس کو داخل کرنا؟ لام کو داخل کرنا فِی الِاسْمِیَّۃِ وَالْفِعْلِیَّۃِ کس کے اندر؟ جملہ اسمیہ ہو جائے، جملہ فعلیہ ہو، لام کا داخل کرنا جوابِ قسم پر واجب ہے۔ دیکھئے مولانا: وَاللّٰہِ لَزَيْدٌ قَائِمٌ، یہ لام کا لانا واجب کیونکہ جملہ مثبت ہے یا منفی ہے؟ تو لَزَيْدٌ قَائِمٌ جملہ اسمیہ ہے، اس پر لام کا داخل کرنا واجب کیونکہ مثبت ہے۔ وَوَاللّٰہِ لَاَفْعَلَنَّ کَذَا، واللہ میں ایسا ضرور کروں گا، تو یہ دیکھو جملہ فعلیہ ہے تو اس پر بھی اور مثبت ہے لہٰذا اس پر بھی لام کا داخل کرنا واجب ہے۔
وَاِنَّ فِی الِاسْمِیَّۃِ، اسی طرح اِنَّ کا لانا بھی جائز ہے، کس کے اندر؟ جملہ اسمیہ میں اِنَّ بھی لا سکتے ہو لام کے ساتھ ساتھ، جیسے: وَاللّٰہِ اِنَّ زَيْدًا لَّقَائِمٌ، تو اِنَّ بھی لے آئے جملہ اسمیہ میں، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور لامِ تاکید بھی آگے خبر پر آ رہا ہے۔
وَاِنْ کَانَتْ مَنْفِیَّۃً، اور اگر جملہ کون سا ہو مولانا؟ منفی ہو، وَجَبَ دُخُوْلُ مَا وَلَا تو پھر مولانا جوابِ قسم پر مَا یا لَا کا داخل کرنا واجب ہے، جیسے: وَاللّٰہِ مَا زَيْدٌ بِقَائِمٍ، واللہ زید کھڑا نہیں، تو یہ مَا لے کر آئے مولانا، وَوَاللّٰہِ لَا یَقُوْمُ زَيْدٌ، لَا لے کر آئے بھئی۔
وَاعْلَمْ، جان لے، اَنَّہٗ قَدْ یُحْذَفُ حَرْفُ النَّفْیِ کبھی کبھی حرفِ نفی کو کیا کر لیا جاتا ہے؟ حذف کر لیا جاتا ہے لِزَوَالِ اللَّبْسِ التباس دور ہو جانے کی وجہ سے، زائل ہونے۔ بھئی بعض جگہ التباس نہیں رہتا، جب التباس کا خطرہ ہی نہیں ہے تو حرفِ نفی کو حذف کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ کَقَوْلِہٖ تَعَالٰی جیسے مولانا ابھی پیچھے شعر میں نہیں گزرا تھا؟ کیا گزرا تھا؟ لِلّٰہِ یَبْقٰی اور میں نے کیا بتلایا تھا؟ لِلّٰہِ لَا یَبْقٰی، کیونکہ لَا کے بغیر بات بھئی صحیح بنتی تھی؟ بات صحیح نہیں بنتی تھی، آپ وہاں لَا کے بغیر ترجمہ کر کے دیکھیں، بات نہیں بنتی۔ تو کبھی حرفِ نفی کو حذف بھی کر دیا جاتا ہے لِزَوَالِ اللَّبْسِ جب کہ التباس کا خطرہ نہ ہو، کَقَوْلِہٖ تَعَالٰی جیسے اللہ فرماتے ہیں: تَاللّٰہِ تَفْتَؤُا تَذْکُرُ یُوْسُفَ، تَاللّٰہِ اَیْ لَا تَفْتَؤُا۔ بھئی آپ نے اَفْعَالِ نَاقِصَہ پڑھے یا نہیں پڑھے؟ ان میں ایک مَا فَتِئَ پڑھا یا نہیں پڑھا مولانا؟ یہ وہ مَا فَتِئَ ہے بھئی، مضارع ہوا تو مَا کو بدل دیا لَا سے اور تَفْتَؤُا کون سا صیغہ ہے؟ مخاطب کا صیغہ۔ تَاللّٰہِ قسم ہے خدا کی، لَا تَفْتَؤُا تَذْکُرُ یُوْسُفَ تو ہمیشہ یاد کرتا ہے یوسف علیہ السلام کو، تو ہمیشہ یاد کرتا ہے یوسف علیہ، تو لَا تَفْتَؤُا تھا، لَا تَفْتَؤُا کا کیا معنی بھئی؟ مَا فَتِئَ، مَا بَرِحَ کا کیا معنی تھا؟ ہمیشہ۔ تو لَا تَفْتَؤُا، تو لَا کو حذف کر دیا مولانا کیونکہ التباس کا خطرہ نہیں۔
جی، ترکیب کیسے کریں گے؟ تا قسمیہ جارہ، لفظِ اللہ مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے کس سے؟ اُقْسِمُ فعل سے، اُقْسِمُ فعل اَنَا ضمیر اس کے اندر فاعل، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر قسم۔ تَفْتَؤُا تَذْکُرُ یُوْسُفَ، لَا تَفْتَؤُا، لَا محذوف، لَا تَفْتَؤُا فِعْل از اَفْعَالِ نَاقِصَہ، اَنْتَ ضمیر اس کے اندر اس کا اسم، تَذْکُرُ فعل، اَنْتَ ضمیر اس کے اندر فاعل، یُوْسُفَ مفعول، فعل اپنے فاعل اور یُوْسُفَ، اچھا بھئی اس پہ تنوین کیوں نہیں آئی بھئی؟ علم ہے تو کیا ہوا؟ معرفہ ہے تو کیا ہوا؟ غیر منصرف ہے، یوں کہو۔ یہ کیا ہے؟ غیر منصرف ہے، کیا کیا اسباب ہیں غیر انصراف کے اس میں؟ ایک علمیت ہے شاباش، دوسرا عجمہ ہے شاباش، یہ عجمی زبان ہے، سمجھ میں آیا؟ آپ کہیں گے بھئی یہ تو قرآن میں ذکر آ رہا ہے، یہ تو عربی ہے، بھئی حضرت یوسف علیہ السلام عربی زبان ابھی بنی بھی نہیں تھی اس سے بھی پہلے کے گزرے ہیں، سمجھ میں آیا؟ اس سے پہلے گزرے ہیں تو اس وقت عربی تھی ہی نہیں تو عربی کہاں سے ہوا یہ نام؟ تو یہ عجمہ ہے اور اس میں علمیت ہے، تو تَذْکُرُ فعل اَنْتَ ضمیر فاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر خبر ہوئی کس کے لیے؟ لَا تَفْتَؤُا کے لیے، لَا تَفْتَؤُا اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر جوابِ قسم۔
وَیُحْذَفُ جَوَابُ الْقَسَمِ اِنْ تَقَدَّمَ مَا یَدُلُّ عَلَیْہِ، یاد رکھو مولانا کبھی جواب، دیکھو میں کہنا چاہتا ہوں: وَاللّٰہِ لَزَيْدٌ قَائِمٌ، واللہ زید کیا ہے؟ کھڑا ہے۔ تو لَزَيْدٌ قَائِمٌ کو کیا بنائیں گے آپ ترکیب میں؟ جوابِ قسم بھئی، جوابِ قسم بھئی، تو جوابِ قسم۔ کبھی کبھی یہ جوابِ قسم مقدم بھی ہو جاتا ہے، بھئی کس طرح؟ میں کہتا ہوں: زَيْدٌ قَائِمٌ وَّاللّٰہِ، کہتے ہیں یا نہیں کہتے؟ لیکن یاد رکھو جب یہ قسم پر مقدم ہو جائے تو پھر یہ جوابِ قسم نہیں کہلائے گا، اس لیے کیونکہ جوابِ قسم کبھی قسم پر مقدم نہیں ہو سکتا، جیسے مولانا جزا شرط پر کبھی مقدم نہیں ہو سکتی، تو کبھی جزا مقدم نظر آتی ہے لفظوں میں تو اس کو دَالٌّ بِالْجَزَاء کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ دَالٌّ بِالْجَزَاء یعنی جزا پر وہ دلالت کر رہا ہے، جزا نہیں۔ تو یہاں بھی اگر مولانا میں کہتا ہوں: زَيْدٌ قَائِمٌ وَّاللّٰہِ، تو یہ کیا ہے؟ دَالٌّ بِالْجَوَاب، دَالٌّ بِالْجَوَاب مولانا، دَالٌّ بِالْجَوَابِ الْقَسَم۔ تو سمجھ میں آیا بھئی؟ تو چونکہ اور پھر اس صورت میں جوابِ قسم کو حذف کرنا واجب کیونکہ یوں کیا کہا میں نے: زَيْدٌ قَائِمٌ وَّاللّٰہِ، پھر دوبارہ کہوں لَزَيْدٌ قَائِمٌ، یہ تو تکرار ہو گا مولانا، جب ایک چیز اس پر پہلے دلالت کر رہی ہے تو اس کو دوبارہ لانے کی ضرورت نہیں ہے، لہٰذا جب وہ پہلے ذکر ہو جائے تو پھر وہ دَالٌّ بِجَوَابِ قَسَم کہلائے گا اور اب جوابِ قسم کو کیا کر دیں گے ہم؟ حذف کر دیں گے۔
وَیُحْذَفُ جَوَابُ الْقَسَمِ، اور حذف کیا جائے گا جوابِ قسم کو اِنْ تَقَدَّمَ اگر گزر جائے پہلے، مقدم ہو جائے مَا وہ چیز یَدُلُّ عَلَیْہِ جو اس پر کیا کر رہی ہے؟ دلالت کر رہی ہے، نَحْوُ: زَيْدٌ قَائِمٌ وَّاللّٰہِ، زَيْدٌ تو دیکھو مولانا یہ زَيْدٌ قَائِمٌ دَالٌّ عَلٰی جَوَابِ الْقَسَم ہے۔ جوابِ قسم پر دلالت کر رہا ہے، یہ جوابِ قسم نہیں کیونکہ اگر یہ جوابِ قسم ہوتا تو جوابِ قسم میں تو ہم نے کہا تھا جملہ مثبت ہو تو اس پر کیا داخل کرنا واجب ہے؟ لام، اور اس پر لام آیا؟ نہیں، تو اگر یہ جوابِ قسم ہوتا پھر تو لام کا لانا واجب تھا، معلوم ہوا یہ جوابِ قسم نہیں بلکہ جوابِ قسم کیا ہے؟ محذوف اور یہ اس پر کیا کر رہا ہے؟ دلالت کر رہا ہے۔
تو اگر وہ مقدم ہو جائے پھر بھی قسم جواب کو حذف کر دیں گے، اَوْ تَوَسَّطَ الْقَسَمُ یا قسم کہاں پر آ جائے مولانا؟ درمیان میں آ جائے پھر بھی مولانا حذف کریں گے، نَحْوُ: زَيْدٌ وَاللّٰہِ قَائِمٌ، تو دیکھو زَيْدٌ قَائِمٌ کے درمیان میں وَاللّٰہِ آیا تو اب بھی یہ مولانا دَالٌّ بِالْجَزَاء ہے مولانا اور جوابِ قسم کیا ہے؟ دَالٌّ بَرْ جَوَابِ قَسَم ہے اور جوابِ قسم خود کیا ہے مولانا؟ محذوف ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے سب کو بھئی؟
وَعَنْ لِلْمُجَاوَزَۃِ، اور عَنْ کس لیے آتا ہے بھئی؟ مجاوزت کے لیے یعنی ایک چیز دوسری سے دور ہو جائے، ایک چیز دوسری سے دور ہو جائے۔ دیکھیے مولانا، رَمَیْتُ جیسے کہہ رہے ہیں: نَحْوُ رَمَیْتُ السَّھْمَ عَنِ الْقَوْسِ اِلَی الصَّیْدِ، میں نے سہم کہتے ہیں تیر کو، میں نے تیر پھینکا عَنِ الْقَوْسِ کہاں سے؟ تیر میں نے پھینکا، میں نے تیر پھینکا عَنِ الْقَوْسِ کمان سے اِلَی الصَّیْدِ کس کی طرف؟ شکار کی طرف، تو جب آپ نے پھینکا تو تیر کیا ہوا؟ دور ہوا، سمجھ میں آیا؟
وَعَلٰی لِلِاسْتِعْلَاءِ، اور عَلٰی کس لیے آتا ہے؟ استعلاء، ایک چیز دوسری چیز کے اوپر بلند ہے یہ بتلانے کے لیے: زَيْدٌ عَلَی السَّطْحِ، کیا معنی؟ زید چھت پر ہے، تو بلند کون ہوا؟ زید، اور کس پر ہوا؟ چھت پر، تو یہ کس کا اس کا یہ معنی کس نے ادا کیا؟ عَلٰی نے۔ وَعَلٰی لِلِاسْتِعْلَاءِ اور عَلٰی استعلاء کے لیے آتا ہے، نَحْوُ زَيْدٌ عَلَی السَّطْحِ زید چھت پر ہے۔
وَقَدْ یَکُوْنُ عَنْ وَعَلٰی اِسْمَیْنِ اِذَا دَخَلَ عَلَیْھِمَا مِنْ، اور کبھی کبھار عَنْ اور عَلٰی، وَقَدْ یَکُوْنُ عَنْ وَعَلٰی کبھی عَنْ اور عَلٰی جو ہیں اِسْمَیْنِ وہ کیا ہوتے ہیں؟ دو اسم ہوتے ہیں اِذَا دَخَلَ عَلَیْھِمَا مِنْ جب ان پر مِنْ داخل ہو جائے، جب ان پر کیا داخل ہو جائے؟ مِنْ داخل ہو جائے، کَمَا تَقُوْلُ جیسے کہ آپ کہتے ہیں: جَلَسْتُ مِنْ عَنْ یَّمِیْنِہٖ، میں اس کی دائیں جانب بیٹھ گیا۔ جَلَسْتُ مِنْ عَنْ یَّمِیْنِہٖ، بھئی یہ مِنْ کس پہ داخل ہو رہا ہے؟ عَنْ، اور عَنْ تو حرفِ جر ہے اور مِنْ داخل ہو رہا ہے عَنْ پر اور حالانکہ حرفِ جر تو ہمیشہ کس پہ داخل ہوتا ہے؟ اسم پہ داخل ہوتا ہے، معلوم ہوا یہ عَنْ جو یہاں آیا یہ اس وقت حرفِ جر نہیں ہے بلکہ یہ کیا ہے؟ اسم ہے اور یہ بمعنی جانب کے ہے، اَیْ مِنْ جَانِبِ یَمِیْنِہٖ، جَلَسْتُ مِنْ جَانِبِ یَمِیْنِہٖ۔ تو کیسے آپ کو پتہ چلا یہ عَنْ بمعنی جانب کے ہے؟ اس پر کیا داخل ہو رہا ہے؟ مِنْ، اس نے بتلایا کہ یہ عَنْ حرفِ جر نہیں ہے اس وقت، یہ اسم ہے کس معنی میں؟ جانب کے معنی میں۔ جَلَسْتُ مِنْ عَنْ یَّمِیْنِہٖ نیچے لکھا بھی ہوا ہے: اَیْ عَنْ جَانِبِ، میں اس کی دائیں جانب۔ وَنَزَلْتُ مِنْ عَلَی الْفَرَسِ، دیکھو عَلٰی پر کیا داخل ہوا؟ مِنْ، اور مِنْ تو کیا ہے؟ حرفِ جر، اور حرفِ جر تو کس پہ داخل ہوتا ہے؟ اسم پر، اور یہ تو یہاں کس پہ داخل ہو رہا ہے؟ عَلٰی پر، معلوم ہوا یہ عَلٰی حرفِ جر یہاں پر نہیں بلکہ کیا ہے؟ اسم ہے اور بمعنی فَوْق کے ہے، اَیْ نیچے لکھا ہوا ہے: اَیْ نَزَلْتُ مِنْ فَوْقِ الْفَرَسِ، میں گھوڑے کے اوپر سے اترا، میں گھوڑے پر سے اترا۔ تو آپ کو کیسے پتہ چلا یہ عَلٰی اسم ہے مولانا بمعنی فَوْق کے؟ اس پر مِنْ داخل، تو سمجھ میں آیا؟ تو یہ عجیب بات آج آپ نے پڑھی کہ کبھی کبھار مولانا عَنْ کس معنی میں ہوتا ہے؟ جانب کے معنی میں، اسم ہوتا ہے، اور کبھی عَلٰی کس معنی میں ہوتا ہے؟ فَوْق کے معنی میں ہوتا ہے اور اسم ہوتا ہے۔ ہاں مضاف مضاف الیہ۔
وَالْکَافُ لِلتَّشْبِیْہِ، اور کاف کس لیے آئے گا مولانا؟ تشبیہ کے لیے آئے گا، نَحْوُ: زَيْدٌ کَعَمْرٍو، زید کس کی طرح ہے؟ زید عمرو جیسا ہے، تو یہ تشبیہ کا معنی کس نے ادا کیا؟ کاف نے، نَحْوُ زَيْدٌ کَعَمْرٍو۔
وَزَائِدَۃٌ، اور کاف کیا آتا ہے کبھی کبھار مولانا؟ زائدہ بھی آتا ہے، کَقَوْلِہٖ تَعَالٰی جیسے اللہ کیا فرماتے ہیں؟ کَقَوْلِہٖ تَعَالٰی جیسے اللہ فرماتے ہیں: لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْءٌ، اللہ کے مثل کوئی چیز نہیں۔ تو یہاں دیکھو ایک مِثْل آ رہا ہے اور کاف بھی کس لیے آتا ہے؟ تشبیہ اور مثلیت بیان کرنے کے لیے آتا ہے، تو معلوم ہوا یہ کاف کیا ہے؟ زائدہ ہے اس لیے کہ کاف بھی مثل کے معنی میں ہوتا ہے، تو اگر اب اگر اس کاف کو ہم زائدہ نہ بنائیں تو معنی خراب ہوتا ہے، کیا معنی ہوتا ہے؟ اللہ کے مثل کا مثل نہیں، معلوم ہوا اللہ کا تو مثل ہے اور اللہ کے مثل کا مثل نہیں، یہ تو معنی خراب ہو گیا کیونکہ مقصد تو کیا بتلانا ہے کہ اللہ کا کوئی مثل ہی نہیں، تو یہ کاف زائدہ ہے، سمجھ میں آیا؟ تو کاف کبھی زائدہ بھی آتا ہے اور زائدہ آپ نے پڑھا ہے کسی سے متعلق نہیں ہوتا۔
اچھا یہ تو ایک، اور دوسری تقریب بھی میں نے پہلے بھی شاید کی تھی کہ یہ کاف جو ہے زائدہ نہیں، یہ کیا ہے؟ مثل کے معنی میں ہے اور کلام بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ کلام کنایۃً ہے، کیا ہے؟ کنایۃً۔ اور ایک ہوتا ہے کنایہ اور ایک ہوتا ہے صراحۃً کلام بھئی، وَالْکِنَایَۃُ اَبْلَغُ مِنَ الصَّرَاحَۃِ، مِنَ التَّصْرِیْحِ، کنایہ کیا ہوتا ہے؟ تصریح سے زیادہ افضل ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ افضل اور اعلیٰ ہوتا ہے، اس لیے کہ تصریح کے اندر دعویٰ تو ہوتا ہے، دلیل نہیں ہوتی اور کنائے کے اندر دعوے کے ساتھ ساتھ دلیل بھی ذکر ہوتی ہے، کنائے میں دعوے کے ساتھ ساتھ کیا ذکر ہوتی ہے؟ دلیل بھی ذکر ہوتی ہے۔ مثلاً میں کہنا چاہتا ہوں: زید لمبے قد والا ہے، میں یہ کہنا چاہتا ہوں، ایک سیدھا سیدھا میں کہتا ہوں: زید لمبے قد والا ہے، یہ صراحت سے تصریح ہے، یہ کیا ہے؟ میں نے صراحۃً کہہ دیا، اور یہ گویا ایک دعویٰ ہو گیا، ساتھ دلیل ہے کوئی؟ کوئی دلیل نہیں۔ جبکہ ایک کنایہ کہتا ہے کنایہ، میں کہتا ہوں: زید کی حمائل لمبی ہے، حمائل کہتے ہیں وہ چمڑا جس سے تلوار لٹکائی جائے مولانا، تو میں نے کیا کہا: زید کی حمائل لمبی ہے، یہ کنایہ ہے اور مراد کیا ہے؟ زید لمبا ہے، لمبے قد والا ہے، لیکن میں نے صراحۃً کہا یا کنایۃً کہا؟ تو وہی معنی میں نے ادا کیا لیکن کنائے کے ساتھ، میں نے کہا: زید کی حمائل لمبی ہے، کیا معنی؟ زید لمبے قد والا ہے۔ تو اب یہ دعویٰ بھی آ گیا، دلیل بھی ساتھ آ گئی۔ دعویٰ کیا؟ زید لمبے قد والا ہے، دلیل کیا؟ اس کی حمائل لمبی ہے، یہ دلیل ہے، لمبے قد والا ہو گا تو حمائل لمبی ہو گی، لمبے قد والا نہیں تو حمائل بھی لمبی تو دیکھو ایک کنایہ ہوتا ہے، ایک کیا ہوتا ہے؟ تصریح ہوتی ہے، اور کون کون زیادہ افضل ہے؟ کنایہ افضل ہے بھئی، اَلْکِنَایَۃُ اَبْلَغُ مِنَ التَّصْرِیْحِ بھئی، کیونکہ کنائے میں کیا ہوتا ہے؟ دعویٰ مع الدلیل کے ہوتا ہے، سمجھ میں آئی؟
تو یہاں بھی اسی طرح ہے، بعض علماء کہتے ہیں یہ کنائے پر مبنی ہے: لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْءٌ، اللہ کے مثل کا مثل کوئی نہیں۔ دعویٰ ہے اللہ کا مثل کوئی نہیں اور کنایۃً کیا کہا گیا؟ اللہ کا، اللہ کے مثل کا مثل کوئی نہیں۔ کیسے؟ دعویٰ کیا ہے؟ اللہ کا مثل نہیں، اور کنایہ کہا کیا گیا؟ اللہ کے مثل کا مثل تو یہ کنایہ کیوں لایا گیا تاکہ دلیل بھی ساتھ آ جائے، تاکہ کیا آ جائے؟ بات وہی ہے لیکن ذرا اس کو حسین رنگ دیا گیا مولانا، نہایت حسین، بلیغ، فصیح کلام استعمال کیا گیا، کس طرح؟ دیکھو میں کہتا ہوں: زید کا بھئی نہیں، زید کا یہ صراحۃً ہے، اور ایک میں کنایۃً کہتا ہوں: زید کے بھئی کا بھئی نہیں۔ کیا کہتا ہوں؟ معنی اس کا بھی وہی ہے زید کا بھئی نہیں، تو ایک تھا صراحۃً زید کا بھئی نہیں اور ایک کیا ہے؟ زید کے بھئی کا بھئی کس طرح بھئی؟ دیکھو یہ زید ہے، یہ کون ہے؟ یہ اس کا بھئی ہے، تو اگر زید کا بھئی ہو یہ، تو اس کا بھی بھئی ہو گا یا نہیں ہو گا؟ کون ہو گا؟ زید خود۔ تو جب میں کہہ رہا ہوں زید کے بھئی کا بھئی نہیں، معلوم ہوا زید کا کوئی بھئی کیونکہ اگر زید کا بھئی ہوتا تو اس کے بھئی کا بھی کون ہوتا؟ بھئی ہوتا بھئی۔ تو یہاں بھی کیا کہا گیا؟ اللہ کا مثل نہیں، اور کس انداز میں کہا گیا؟ اللہ کے مثل کا مثل نہیں، تو اللہ کے مثل کا مثل نہیں، معلوم ہوا اللہ کا بھی کوئی مثل نہیں کیونکہ اگر اللہ کا مثل ہوتا تو اس مثل کا بھی کیا ہوتا؟ مثل ہوتا جو کہ ذاتِ باری تعالیٰ خود ہوتے بھئی۔ تو دعویٰ بھی آ گیا اور دلیل بھی آ گئی، دعویٰ کیا؟ اللہ کا مثل نہیں، دلیل کیا؟ کہ اللہ کے مثل کا مثل نہیں۔ کَقَوْلِہٖ تَعَالٰی جیسے اللہ فرماتے ہیں: لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْءٌ، اللہ کے مثل کوئی نہیں چیز۔
وَقَدْ تَکُوْنُ اسْمًا کَقَوْلِ الشَّاعِرِ، اور کبھی کبھار یہ اسم بھی ہوتا ہے، کاف کیا ہوتا ہے مولانا؟ اسم ہوتا ہے، کَقَوْلِ الشَّاعِرِ جیسے شاعر کہتا ہے:
یَضْحَکْنَ عَنْ کَالْبَرَدِ الْمُنْھَمِّ
یَضْحَکْنَ عَنْ کَالْبَرَدِ الْمُنْھَمِّ، یَضْحَکْنَ جمع مؤنث کا صیغہ ہے، وہ عورتیں ہنستی ہیں، عَنْ عَنْ داخل ہو رہا ہے کس پر مولانا؟ کاف پر، کیا؟ کاف پر۔ یہ دلیل ہے اور عَنْ تو کیا ہے؟ حرفِ جر، اور حرفِ جر کس پر داخل ہوتا ہے؟ اسم پر، معلوم ہوا یہ کاف یہاں پر کیا ہے؟ اسم ہے، جیسے مولانا عَنْ پر کیا داخل ہوا تھا؟ مِنْ، عَلٰی پر کیا داخل ہوا تھا؟ مِنْ، تو عَنْ کس کے معنی میں تھا؟ جانب کے معنی میں، اور عَلٰی کس کے معنی میں تھا؟ فَوْق کے معنی میں، تو یہاں پر بھی عَنْ داخل ہو رہا ہے کس پر؟ کاف پر، یہ دلیل ہے اس بات کی کہ کاف حرفِ جر نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ اسم ہے اور کس معنی میں ہے؟ مِثْل کے معنی میں، کس معنی میں؟ مِثْل کے معنی۔ یَضْحَکْنَ وہ ہنستی ہیں عَنْ مِّثْلِ الْبَرَدِ الْمُنْھَمِّ ایسے دانتوں کے ساتھ کَالْبَرَدِ جو اولوں کی طرح ہیں، اَلْمُنْھَمِّ ایسے اولے جو پگھلنے والے ہوں۔ یہ تشبیہ دی ہے مولانا، کس میں؟ سفیدی اور چمک دمک کے اندر ان کے دانت کس کی طرح ہیں؟ اولوں کی طرح ہیں۔
وَمُذْ وَمُنْذُ لِلزَّمَانِ، اور مُذْ اور مُنْذُ کس لیے آتے ہیں؟ زمانے کے لیے۔ بھئی آپ نے ظروف کے اندر بھی مُذْ اور مُنْذُ پڑھے تھے اور آپ کو میں نے بتلایا تھا کہ مُذْ اور مُنْذُ کبھی جارہ بھی آتے ہیں اور کبھی ظرف، اور اس وقت وہ کیا بنتے ہیں؟ مبتدا بنتے ہیں، کیا بنتے ہیں؟ مبتدا، اور ان کے مابعد کیا ہوتی ہے؟ خبر، تو لہٰذا ان کے مابعد مرفوع ہوا کرتا ہے، اور یہ جب جارہ آئیں گے تو لازمی بات ہے جر دیں گے تو ان کا مابعد ہمیشہ کیا ہو گا؟ مجرور ہو گا۔
وَمُذْ وَمُنْذُ لِلزَّمَانِ اور مُذْ اور مُنْذُ زمانے کے لیے آتے ہیں، اِمَّا لِلِابْتِدَاءِ یا تو یہ ابتداء کے لیے زمانے کی ابتداء بیان کریں گے فِی الْمَاضِی کس میں؟ زمانہ ماضی کے اندر، کَمَا تَقُوْلُ فِیْ شَعْبَانَ جیسے کہ آپ شعبان کے مہینے میں کسی سے کہتے ہیں: مَا رَاَیْتُہٗ مُذْ رَجَبٍ، میں نے اس کو رجب سے دیکھا ہی تو دیکھو یہ کسی چیز کی زمانے کی ابتداء آپ کو اس کو بتلا رہے ہیں کہ میرے نہ دیکھنے کی ابتداء کب سے ہوئی ہے؟ رجب سے ہوئی ہے۔ اَوْ لِلظَّرْفِیَّۃِ فِی الْحَاضِرِ، یا یہ مُذْ اور مُنْذُ کس لیے آتے ہیں مولانا؟ ظرفیت کے لیے آتے ہیں فِی الْحَاضِرِ زمانہ حاضر کے اندر، نَحْوُ: مَا رَاَیْتُہٗ مُذْ شَھْرِنَا، میں نے نہیں دیکھا اس کو اپنے مہینے سے یعنی اس مہینے سے جس میں میں ہوں، میں نے اس کو اس مہینے سے نہیں دیکھا، وَمُنْذُ یَوْمِنَا یعنی اَیْ فِیْ شَھْرِنَا وَفِیْ یَوْمِنَا، اپنے دن میں اور اپنے مہینے میں۔ کیا مراد ہے اپنے مہینے اور اپنے دن میں؟ جس میں ہم موجود ہیں، جس میں جو ابھی چل رہا ہے، تو میں نے اس کو اپنے دن میں یعنی آج سے نہیں دیکھا، میں نے اج سارے دن سے نہیں دیکھا۔
وَخَلَا وَعَدَا وَحَاشَا لِلِاسْتِثْنَاءِ، خَلَا، عَدَا اور حَاشَا کس لیے آتے ہیں مولانا؟ استثناء کے لیے آتے ہیں، جیسے آپ کیا نَحْوُ: جَاءَنِی الْقَوْمُ خَلَا زَيْدٍ، میرے پاس آئی ایسی قوم جو خالی تھی کس سے؟ زید سے یعنی زید کے علاوہ باقی سارے آئے، وَحَاشَا عَمْرٍو ایسی قوم آئی جو عمرو سے خالی تھی یعنی عمرو نہیں تھا، وَعَدَا بَکْرٍ ایسی قوم آئی جس میں بکر نہیں تھا یعنی بکر کے علاوہ آئے سارے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یاد رکھو یہ خَلَا، عَدَا، حَاشَا کبھی فعل بھی آتے ہیں اور کبھی جارہ، جارہ آئے تو دیکھو مابعد کو جر دیا اور جب فعل آئیں گے تو مابعد کو نصب دیں گے، کیا دیں گے؟ نصب۔ تو خَلَا اور عَدَا اگر یہ جملے کے شروع میں آ جائیں، کس کے شروع میں آ جائیں؟ یا ان کے شروع اس سے پہلے مَا آ جائے: مَا خَلَا، مَا عَدَا تو پھر اس صورت میں یہ ہمیشہ نصب دیں گے۔ خَلَا اور عَدَا مولانا کیا آتے ہیں؟ جارہ بھی آتے ہیں اور فعل بھی آتے ہیں اور ان کے شروع خصوصاً اگر یہ جملے کے ابتداء میں آ جائیں اور ان سے پہلے کیا آ جائے؟ مَا آ جائے تو پھر یہ کیا ہوں گے؟ فعل ہوں گے اور مابعد کو کیا دیں گے؟ نصب دیں گے۔
چلیے جی، ھٰذَا ھُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِحَقِیْقَۃِ الْکَلَامِ۔