فَصْلٌ: اَلْمَجْمُوْعُ اسْمٌ دَلَّ عَلَىٰ آحَادٍ مَقْصُوْدَةٍ بِحُرُوْفِ مُفْرَدِهِ بِتَغَيُّرٍ مَّا، إِمَّا لَفْظِيٍّ كَرِجَالٍ فِيْ رَجُلٍ، أَوْ تَقْدِيْرِيٍّ كَفُلْكٍ عَلَىٰ وَزْنِ أُسْدٍ، فَإِنَّ مُفْرَدَهُ أَيْضًا فُلْكٌ، لَكِنَّهُ عَلَىٰ وَزْنِ قُفْلٍ.
آج مصنف آپ کو جمع کے بارے میں بتلائیں گے بھئی، کہ جمع کسے کہتے ہیں؟ تو سب سے پہلے تعریف کر رہے ہیں: ”اَلْمَجْمُوْعُ اسْمٌ دَلَّ عَلَىٰ آحَادٍ“۔ آحاد، افراد بھئی، افراد۔ کہ مجموعہ جو ہے وہ ایسا اسم ہے، دیکھو ”اسْمٌ“ نکرہ آیا اور اس کے بعد ”دَلَّ“ فعل آیا تو یہ اس کے لیے صفت بنے گا۔ کہ جمع وہ ایسا اسم ہے جو دلالت کرتا ہے ”عَلَىٰ آحَادٍ“، افراد پر۔ کس پر؟ افراد پر۔ تو آحاد، دیکھیے آحاد جمع کا لفظ لے کر آئے، جمع کا۔ تو آحاد، کئی افراد بھئی، کئی افراد۔ تو کہتے ہیں: ”اَلْمَجْمُوْعُ اسْمٌ دَلَّ عَلَىٰ آحَادٍ“ کہ جمع جو ہے وہ ایسا اسم ہے جو دلالت کرے کئی افراد پر۔
”مَقْصُوْدَةٍ بِحُرُوْفِ مُفْرَدِهِ“، ”بِحُرُوْفِ مُفْرَدِهِ“ یہ ہا ہے بھئی ہا، یہ تا کے نقطے اوپر لگے ہیں میری کتاب میں، یہ کتابت کی غلطی ہے۔ ”مُفْرَدَةٍ“ نہیں بلکہ ”مُفْرَدِهِ“۔ مفرد کے ساتھ ہا ضمیر جڑی ہوئی ہے بھئی۔ اچھا اور دیکھیے ”آحَادٍ“ جمع ہے اور جمع کے بعد ”مَقْصُوْدَةٍ“ واحد مؤنث کا صیغہ لائے اور میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ جمع بتاویلِ جماعت واحد مؤنث کے حکم میں ہے تو عموماً عربی میں آپ دیکھیں گے اس کی صفت واحد مؤنث لائی جاتی ہے، اسی طرح اس کی طرف واحد مؤنث کی ضمیر لوٹا دی جاتی ہے۔
جی، تو یہ ”مَقْصُوْدَةٍ“ صفت ہوئی ”آحَادٍ“ کی، اور موصوف صفت کے ترجمہ کرنے کا ایک طریقہ میں نے کیا بتلایا کہ موصوف سے پہلے ایسا یا ایسی کا لفظ لے آئیں نکرہ کے اندر۔ تو کہتے ہیں جمع جو ہے وہ ایسا اسم ہے کہ جو دلالت کرتا ہے ایسے افراد پر ”مَقْصُوْدَةٍ بِحُرُوْفِ مُفْرَدِهِ“، مقصودة کہ جن کا ارادہ کیا جائے، جن کا قصد کیا گیا ہو ”بِحُرُوْفِ مُفْرَدِهِ“ اسی کے مفرد حروف کے ساتھ، اسی کے مفرد حروف کے ساتھ ”بِتَغَيُّرٍ مَّا“ کچھ تھوڑی تبدیلی کے ساتھ۔
بھئی دیکھیے، مثلاً رجل ہے رجل، اس کی جمع میں رجال لاتا ہوں۔ دیکھو رجل دلالت کر رہا تھا ایک فرد پر لیکن رجال دلالت کر رہا ہے کئی افراد پر۔ رجال کا معنی ہے کئی آدمی، تو کئی افراد پر یہ دلالت کر رہا ہے۔ اور دیکھیے وہی مفرد کے حروف ہیں، مفرد میں کیا تھا؟ را، جیم، لام۔ را، جیم، لام۔ انہی میں تبدیلی کر دی، کیسے؟ رجل، را پر زبر تھا۔ اور رجال میں را پر زیر لے آئے۔ اس کے بعد رجل میں جیم پر پیش تھا، رجال میں جیم پر زبر آگیا اور جیم اور لام کے درمیان الف کا اضافہ کر دیا گیا، تو دیکھو رجل کی جمع کیا بن گئی؟ رجال۔ تو دیکھا وہی مفرد والے حروف ہیں، انہی میں تھوڑی سی تبدیلی پیدا کر دی۔ تو اب یہ مفرد پر نہیں دلالت کر رہے، یہ فرد پر دلالت نہیں کر رہے بلکہ اب کئی افراد پر دلالت۔ تو کس میں تبدیلی کی؟ اسی کے مفرد کے حروف میں۔
تو یہی بات بیان کر رہے ہیں، اب دیکھیے ساری تعریف بھئی: ”اَلْمَجْمُوْعُ اسْمٌ دَلَّ عَلَىٰ آحَادٍ مَقْصُوْدَةٍ بِحُرُوْفِ مُفْرَدِهِ بِتَغَيُّرٍ مَّا“ کہ جمع جو ہے وہ ایسا اسم ہے جو دلالت کرتا ہے ایسے افراد کا جن کا قصد کیا جائے، جن کا ارادہ کیا جائے ”بِحُرُوْفِ مُفْرَدِهِ“ اسی کے مفرد حروف کے ساتھ ”بِتَغَيُّرٍ مَّا“ کچھ تبدیلی کرتے ہوئے، کچھ تبدیلی کے ساتھ۔
”إِمَّا لَفْظِيٌّ“ پھر یہ جو تبدیلی ہے کچھ یا تو لفظی ہوگی۔ یاد رکھیے یہ جو لفظوں میں یہ جو تبدیلی کی جائے گی کبھی تبدیلی لفظاً ہوگی یعنی باقاعدہ تلفظ سے ہی تبدیلی کا پتہ چلے گا اور بعض اوقات تلفظ سے پتہ نہیں چلتا تو وہاں تبدیلی تو آئی ہے لیکن وہ کون سی تبدیلی ہے؟ تقدیری، یعنی فرض کر لیں آپ کہ تبدیلی آچکی ہے، بظاہر لفظوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ تبدیلی لفظوں میں آجائے اس کی مثال تو میں نے بیان کر دی، رجل کی جمع کیا ہے؟ رجال۔ دیکھو تلفظ ہی بالکل الگ الگ ہے، رَجُلٌ فَعُلٌ وزن اور رِجَالٌ فِعَالٌ وزن، تو دیکھو بالکل وزن ہی الگ، تلفظ سے ہی فرق ہو رہا ہے۔
اور بعض اوقات تلفظ سے فرق نہیں ہوتا جیسے، جیسے بھئی کشتی کو عربی زبان میں فُلْكٌ کہتے ہیں، فا، لام اور چھوٹا کاف، یہ آگے آرہا ہے اگلی سطر میں ہی۔ کشتی کو کیا کہتے ہیں؟ فُلْكٌ۔ ایک ہو تب بھی کہتے ہیں فُلْكٌ، اور جمع ہو کشتیاں پھر بھی کہتے ہیں فُلْكٌ۔ تو اس پر اشکال ہوتا ہے کہ بھئی آپ نے یہ تو جمع جو ہے اس میں کیا کی جاتی ہے؟ لفظوں میں کچھ نہ کچھ تبدیلی کی جاتی ہے، کچھ تغیر ہوتا ہے، تو جواب یہ کہ یہاں تغیر آیا ہے لیکن تقدیراً ہے بھئی، آپ فرض کر لیں، لفظوں میں تو نہیں آیا لیکن تقدیراً تبدیلی ہے یہاں پر یعنی فرض کرنا پڑے گی آپ کو۔
یعنی کہ فُلْكٌ جب مفرد تھا تو یہ فُعْلٌ وزن پر تھا اور یاد رکھیے یہ فُعْلٌ وزن مفرد کے لیے بھی آتا ہے اور جمع کے لیے بھی آتا ہے، جمع کے لیے بھی آتا ہے۔ جیسے قُفْلٌ، قاف دو نقطوں والا، فا، لام۔ قفل تالے کو کہتے ہیں بھئی، تالا۔ تو قُفْلٌ جیسے یہ بر وزنِ فُعْلٌ ہے اور یہ فُعْلٌ کون سا ہے؟ مفرد والا۔ تو یوں کہیے یہ فُعْلٌ وزن مفرد کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور جمع کے لیے بھی۔ تو جب فُلْكٌ مفرد تھا تو یہ مفرد والے فُعْلٌ وزن پر تھا اور جب یہ فُلْكٌ جمع کے لیے آپ لائے تو یہ جمع والے فُعْلٌ وزن پر چلا گیا، تو بظاہر تلفظ ایک جیسا لیکن آپ فرض کر لیں تبدیلی آچکی ہے۔ پہلے یہ کون سے فُعْلٌ وزن پر تھا؟ مفرد والے، اور اب کون سے فُعْلٌ وزن پر ہے؟ دیکھا، تو بظاہر، بظاہر کوئی تبدیلی نہیں آئی لیکن آپ فرض کر لیں کیونکہ انہوں نے ضابطہ کیا بنایا ہے کہ جمع میں ہمیشہ کیا آتی ہے؟ تبدیلی آتی ہے۔ ہمارا ضابطہ، ایسا ضابطہ بنایا سارے عربی زبان کے الفاظ آگئے اس کے اندر، ایک آدھ باہر رہ گیا تھا جیسے فُلْكٌ اس میں تو تبدیلی نہیں آرہی، اس کا بھی جواب دے دیا کہ بھئی وہاں اگرچہ لفظاً تبدیلی نہیں آئی لیکن تقدیراً تبدیلی آچکی ہے۔ پہلے فُلْكٌ کس وزن پر تھا؟ مفرد والے فُعْلٌ وزن پر تھا اور اب کون سے فُعْلٌ وزن پر ہے؟ جمع والے۔ صورت سمجھ میں آگئی۔
تو کہتے ہیں وہ تبدیلی جو ہوگی، وہ جو تغیر ہوگا: ”إِمَّا لَفْظِيٌّ“ یا تو لفظی ہوگا ”كَرِجَالٍ فِيْ رَجُلٍ“ جیسے رجال کا لفظ ہے رجل کی جمع میں، ”أَوْ تَقْدِيْرِيٌّ“ یا وہ تبدیلی تقدیری ہوگی یعنی فرض کر لیں گے اگرچہ بظاہر کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
”كَفُلْكٍ عَلَىٰ وَزْنِ أُسْدٍ“ جیسے کہ فلک، أُسْدٌ۔ بھئی دیکھیے، اسد، اسد کہتے ہیں عربی زبان میں شیر کو، اس کی جمع آتی ہے أُسْدٌ، ہمزہ پر ضمہ ہے، سین ساکن ہے، أُسْدٌ بر وزنِ فُعْلٌ۔ تو لہٰذا یہ أُسْدٌ کس وزن پر ہے؟ فُعْلٌ، لیکن یہ فُعْلٌ کون سا ہے؟ جمع والا ہے۔ تو لہٰذا قُفْلٌ بھی فُعْلٌ وزن پر ہے اور أُسْدٌ بھی کون سا وزن ہے؟ فُعْلٌ وزن ہے۔ تو لہٰذا اب وہ یوں نہیں بتائیں گے آپ کو کہ یہ فُعْلٌ مفرد والا ہے، یہ یوں نہیں بتائیں گے یہ فُعْلٌ کون سا ہے جمع والا ہے، بس جب مفرد ہو تو کہیں گے مثلاً جیسے فلک، جب کہیں گے مفرد ہو تو یہ قُفْلٌ وزن پر ہے اور جب یہ، جب یہ فلک یہی فلک جمع ہو تو کہیں گے یہ أُسْدٌ وزن پر ہے یعنی اب وہ جمع والے فُعْلٌ وزن پر ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟
تو کہتے ہیں: ”كَفُلْكٍ عَلَىٰ وَزْنِ أُسْدٍ“ جیسے کہ فلک جمع جو ہے علیٰ وزنِ اسد، یہ کس وزن پر ہے؟ أُسْدٌ وزن پر ہے۔ ”فَإِنَّ مُفْرَدَهُ أَيْضًا فُلْكٌ“ اس لیے کیونکہ اس فلک کا مفرد بھی فلک ہے ”لَكِنَّهُ عَلَىٰ وَزْنِ قُفْلٍ“ لیکن وہ کس وزن پر ہے؟ وہ قُفْلٌ وزن پر ہے۔
آگے دیکھیے بھئی: ”فَقَوْمٌ وَرَهْطٌ وَنَحْوُهُ، وَإِنْ دَلَّ عَلَىٰ آحَادٍ، لَكِنَّهُ لَيْسَ بِجَمْعٍ إِذْ لَا مُفْرَدَ لَهُ“۔ کہتے ہیں بھئی قوم اور رہط جیسے الفاظ، قوم یاد رکھیے یہ مردوں کی جماعت کو کہتے ہیں، تین سے لے کر دس تک بھئی افراد ہوں، اور اسی طرح رَهْطٌ بھی مردوں کی جماعت تین سے لے کر دس تک افراد ہوں تو اس کو قَوْمٌ اور رَهْطٌ بھئی۔ تو کہتے ہیں قوم اور رہط جیسے الفاظ جو کئی افراد پر دلالت کرتے ہیں، تو کہتے ہیں: ”فَقَوْمٌ وَرَهْطٌ وَنَحْوُهُ“ قوم اور رہط اور اس جیسے الفاظ ”وَإِنْ دَلَّ عَلَىٰ آحَادٍ“ اگرچہ یہ کئی افراد پر دلالت کرتے ہیں ”لَكِنَّهُ لَيْسَ بِجَمْعٍ“ لیکن یہ جمع نہیں ہیں ”إِذْ لَا مُفْرَدَ لَهُ“ اس لیے کیونکہ ان کا مفرد نہیں۔ جمع میں آپ کو بتلایا تھا نا کہ جمع کسے کہتے ہیں؟ جو افراد پر تو دلالت کرے گا لیکن کس طرح دلالت کرے گا؟ کہ اسی کے مفرد کے حروف میں کچھ تبدیلی پیدا کریں گے آپ، اور جبکہ قَوْمٌ اور رَهْطٌ اور اس جیسے الفاظ ان کا تو مفرد ہے ہی نہیں، یہ خود ہی مفرد ہیں، قوم کی جمع اقوام۔
تو یہ تو خود ہی مفرد ہے، تو مفرد کے الفاظ یہاں یعنی اس کا کوئی الگ مفرد ہے ہی نہیں جس میں تبدیلی پیدا کر کے پھر اس کا پہلے یہ ایک پر دلالت کرتا ہو اور پھر تبدیلی کے بعد یہ تین یا زیادہ پر دلالت کرنے لگے، ایسا تو یہاں نہیں ہے۔ اور جمع میں یہ ضروری ہے کہ اس کا کوئی مفرد ہونا چاہیے یعنی جو ایک فرد پہ دلالت کرے اور پھر اس ایک والے لفظ مفرد کے لفظ میں تبدیلی پیدا کر دی جائے اور وہ پھر کئی افراد پر دلالت کرنے لگے۔ جیسے رَجُلٌ ایک فردِ رجل پہ دلالت کر رہا تھا، پھر اسی میں تبدیلی پیدا کر دی گئی تو اب وہ کیا رِجَالٌ، اب وہ کئی افراد پر دلالت کر رہا ہے۔ جبکہ قَوْمٌ اور رَهْطٌ وغیرہ میں ایسا نہیں، یہ تو خود ہی مفرد ہے اور مفرد ہونے کے باوجود یہ کتنے پر دلالت کر رہا ہے؟ تین یا تین سے زیادہ پر دلالت کر رہا ہے، تو یہ اس تعریف سے خارج ہوا۔ کہتے ہیں بھئی کوئی حرج نہیں، یہ تعریف سے خارج ہے کیونکہ جمعِ اصطلاحی کے اندر یہ داخل نہیں ہے۔ پھر یاد رکھیے اس کو اسمِ جمع کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ اسمِ جمع۔ جمع نہیں ہے بلکہ اسمِ جمع ہے۔
تو کہتے ہیں: ”فَقَوْمٌ وَرَهْطٌ وَنَحْوُهُ“ تو قوم اور رہط کا لفظ، قوم، رہط اور اس جیسے الفاظ جو ہیں ”وَإِنْ دَلَّ عَلَىٰ آحَادٍ“ اگرچہ وہ افراد پر دلالت کرتے ہیں ”لَكِنَّهُ لَيْسَ بِجَمْعٍ“ لیکن یہ جمع نہیں ہے ”إِذْ لَا مُفْرَدَ لَهُ“ اس لیے کیونکہ ان کا مفرد نہیں ہے۔ تو پھر ان کو کیا کہیں گے؟ اسمِ جمع کہتے ہیں اور یہ تین یا تین سے زیادہ پر دلالت کرتے ہیں۔
”ثُمَّ الْجَمْعُ عَلَىٰ قِسْمَيْنِ: مُصَحَّحٌ“ پھر جمع دو قسم پر ہے: ایک مصحح ہے اور چار پانچ لفظوں کے بعد آرہا ہے: ”وَمُكَسَّرٌ“ اور ایک جمع مکسر ہے۔ ایک جمع مصحح ہے اور ایک جمع مکسر ہے۔ جمع مصحح جس کو جمع سلامت بھی کہتے ہیں، جمع مذکر سالم اور جمع مؤنث سالم، یہ جمع سلامت ہے جس میں مفرد کا وزن جمع کے اندر بھی سلامت رہتا ہے۔ اور جمع مکسر، کسر کا معنی ہے توڑنا، مکسر جس میں مفرد کا وزن توڑ دیا گیا ہے جیسے رجل کی جمع رجال دیکھو وزن ٹوٹ گیا، اور ایک جمع سالم ہے یا جمع مصحح ہے یا پھر جمع سلامت ہے تو وہ کہ جیسے مُسْلِمٌ کی جمع کیا آئے گی؟ مُسْلِمُوْنَ۔ دیکھو مسلمون کے آخر میں واؤ اور نون ملا دیا اور اس کے شروع میں وہ مُسْلِمٌ پورا کا پورا اسی طرح موجود ہے، مفرد کا وزن اس میں سلامت ہے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ جمع سلامت کہتے ہیں بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”ثُمَّ الْجَمْعُ عَلَىٰ قِسْمَيْنِ: مُصَحَّحٌ“ پھر جمع دو قسم پر ہے، ایک جمع مصحح ہے ”وَهُوَ مَا لَمْ يَتَغَيَّرْ بِنَاءُ وَاحِدِهِ“ وہ جمع ہے کہ بدلی نہ ہو اس میں واحد یعنی اس کے مفرد کی بناء، اس کے مفرد کا وزن۔ اس میں اس کے مفرد کا وزن بدلا نہ ہو جیسے مُسْلِمُوْنَ، اس میں پورا مسلم اسی طرح سلامت ہے۔ ”وَمُكَسَّرٌ“ اور دوسری جمع مکسر ہے ”وَهُوَ مَا يَتَغَيَّرُ فِيْهِ بِنَاءُ وَاحِدِهِ“ وہ جمع ہے کہ جس میں بدل جائے اس کے مفرد کا وزن۔
”وَالْمُصَحَّحُ عَلَىٰ قِسْمَيْنِ“ پھر جمع سلامت کتنی قسم پر ہے؟ دو قسم: ایک جمع مذکر سالم اور ایک جمع مؤنث سالم۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْمُصَحَّحُ عَلَىٰ قِسْمَيْنِ“ جمع سلامت جو ہے دو قسم پر ہے ”مُذَكَّرٌ“ ایک مذکر ہے بھئی، مذکر ہے۔ اور ”فَمُذَكَّرٌ“ تو جمع سلامت کی دو قسمیں ہیں، مذکر، ایک کیا ہے؟ مذکر ہے۔ اور آگے آرہا ہے: ”وَمُؤَنَّثٌ“ دوسری قسم مؤنث ہے، ایک صفحے کے بعد جا کر آرہا ہے بھئی ”وَمُؤَنَّثٌ“، دوسری قسم کیا ہے؟ مؤنث ہے بھئی، جی۔
اچھا، تو مذکر اب جمع مذکر کے بارے میں بتلانے لگے ہیں، کہتے ہیں: ”وَهُوَ مَا“ وہ جمع ہے ”أُلْحِقَ بِآخِرِهِ“ کہ ملا دیا جائے اس کے آخر میں ”وَاوٌ“ ایسا واؤ ”مَضْمُوْمٌ مَّا قَبْلَهَا“ جس کا ماقبل کیا ہو؟ مضموم۔ یہ مَضْمُوْمٌ یہ صفت ہے واوٌ کی، واوٌ مرفوع تو مضمومٌ بھی مرفوع، واوٌ مفرد تو مضمومٌ بھی مفرد۔ تو دیکھو یہ صفت ہے اور تو یہ صفت ہے واؤ کی لیکن یہ صفت بحال متعلقہ ہی ہے۔ مسلمون، واؤ مضموم ہے یا واؤ کا ماقبل مضموم ہے؟ واؤ کا ماقبل مضموم ہے۔ اسی طرح مسلمین، آخر میں یا ملا دی، اور یا مکسور ہے یا یا کا ماقبل مکسور ہے؟ یا کا ماقبل مکسور ہے۔
تو پہلے تعریف سمجھ لیں بھئی، جمع مذکر سالم اسے کہتے ہیں جس کے آخر میں ایسا واؤ جس کا ماقبل مضموم اور نون جڑا ہوا ہو، جس کے آخر میں یوں کہیں جس کے آخر میں واؤ اور نون ہو اور اس واؤ کا ماقبل کیا ہو؟ مضموم، یا جس کے آخر میں یا اور نون ہو اور اس یا کا ماقبل مکسور ہو۔ تو کہتے ہیں جمع مذکر جو ہے: ”وَهُوَ مَا أُلْحِقَ بِآخِرِهِ“ وہ ہے کہ جس کے آخر میں ملایا جائے ”وَاوٌ“ ایسا واؤ ”مَضْمُوْمٌ مَّا قَبْلَهَا“ کہ جس کا ماقبل کیا ہو؟ مضموم۔ یاد رکھو یہ ”مَّا قَبْلَهَا“ یہ ما موصولہ ہے اور یہ نائب الفاعل ہے مضمومٌ کا، مضموم کون ہو؟ ما وہ جو قبلھا جو اس سے پہلے ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی۔ ایسا واؤ ہو کہ ”مَضْمُوْمٌ مَّا قَبْلَهَا“ کہ مضموم ہو اس کا ماقبل، ”وَنُوْنٌ مَّفْتُوْحَةٌ“ اور کیا ہو؟ نونِ مفتوحہ ہو اس کے آخر میں ”كَمُسْلِمُوْنَ“ جیسے کہ مسلمون ہے۔
”كَمُسْلِمُوْنَ“، سوال پیدا ہوتا ہے کاف جارہ ہے، مسلمون یہ تو واؤ کے ساتھ آرہا ہے حالانکہ جمع مذکر سالم وہ حالتِ نصبی جری میں کس کے ساتھ آتا ہے؟ یا کے ساتھ آتا ہے، تو پھر یہ مسلمون کیسے ہے؟ جواب یہ، یاد رکھیے یہ یہاں لفظ مراد ہے، کیا مراد ہے؟ لفظ مراد ہے۔ یوں کہیں کہ وہ جو عبارتوں میں مسلمون واؤ نون کے ساتھ آتا ہے اس کا نام ہی ہم نے مسلمون رکھ دیا، اس کا نام ہی، تو اس وقت یہ علم ہے، مراد لفظ ہے یعنی علم کے درجے میں ہے، علم کے درجے میں ہے۔ تو ”كَمُسْلِمُوْنَ“ گویا اس ھٰذا اللفظ کی تاویل میں ہے: كَمُسْلِمُوْنَ جیسے کہ مسلمون ہے، یا یوں کہیں كَهٰذَا اللَّفْظِ جیسے کہ یہ والا لفظ ہے، کون سا لفظ؟ مسلمون، مسلمون۔ تو یہ ھٰذا اللفظ کی تاویل میں ہے بھئی، بات سمجھ میں آگئی؟
اور یہاں سوال یہ کہ یہاں پھر بھی مسلمون کیوں لائے؟ مسلمین ہی لے آتے، مجرور ہی لے آتے؟ جواب یہ کہ بھئی یہ واؤ نون کی مثال ذکر کی جا رہی ہے تو اس کو واؤ نون ہی کے ساتھ ذکر کرنا پڑے گا، کس کے ساتھ؟ واؤ نون کے ساتھ ہی۔ اور یہاں اس لیے کیونکہ مثال آپ واؤ اور نون کی دے رہے ہیں، یہاں یا اور نون والا لائیں گے تو مثال تو نہیں بنے گی۔ انہوں نے کیا بتلایا: ایسا واؤ جس کا ماقبل کیا ہو؟ مضموم ہو، اگر یہاں کاف کی وجہ سے جر دے دیں پھر تو اس میں تو واؤ رہا ہی نہیں تو پھر اس کی مثال ہی نہیں بن سکے گی۔ تو یہ ھٰذا اللفظ کی تاویل میں ہے بھئی۔ تو اس کا اعراب یاد رکھیے، جو لفظ مراد ہو اس کا اعراب ہمیشہ تقدیراً بتلاتے ہیں، کیسے بتلاتے ہیں؟ تقدیراً۔ جیسے یہاں کیسے کہیں گے؟ كَمُسْلِمُوْنَ، کاف جارہ اور جس پر بھی حرفِ جر داخل ہو وہ کیا ہوتا ہے؟ مجرور، تو ہے یہ اس وقت بھی مجرور ہی ہے بھئی، تو کاف جارہ اور مسلمون مجرور تقدیراً، مجرور تقدیراً، تو مراد اللفظ ہے، مجرور تقدیراً ہے۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ مجرور تقدیراً ہے۔
تو جہاں پر بھی، یاد رکھیے جہاں پر بھی لفظ مراد ہوگا وہاں اس کا اعراب تقدیراً بتائیں گے بھئی، تقدیراً بتائیں گے۔ اور اسی طرح یاد رکھیے اعرابِ حکائی بھی ہوتا ہے، بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک لفظ کسی جگہ کسی حکایت میں، کسی واقعے میں، کسی عبارت میں، کسی شعر میں اس جس طرح استعمال ہوا ہوتا ہے آپ بعینہٖ اسی شکل میں، اسی اعراب کے ساتھ اس کو دوسری جگہ پر ذکر کرتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ جیسے مثلاً فرض کریں اوپر کوئی عبارت ہوتی اور اس میں لکھا ہوتا ”مُسْلِمُوْنَ“، اس میں کیا لکھا ہوتا؟ مسلمون۔ اب آپ آگے اس کی شرح بیان کر رہے ہیں اور آپ شرح میں کہتے ہیں: جیسے اوپر مسلمون کا لفظ ہے، کیا کہتے ہیں؟ تو دیکھو اب یہ مسلمون آپ کہاں سے نقل کر رہے ہیں؟ اوپر والی عبارت سے۔ تو ایک جگہ سے اس کو حکایت کر رہے ہیں، اس کو نقل کر رہے ہیں۔ تو ایک حکایت سے آپ اس کو نقل کر رہے ہیں، ایک عبارت سے، تو اس کو کہیں گے اور اسی اعراب کے ساتھ ذکر کرتے ہیں جس اعراب کے ساتھ وہ وہاں آیا تھا، اور وہاں مثلاً کیا تھا؟ جَاءَنِيْ مُسْلِمُوْنَ، واؤ نون کے ساتھ آیا تھا تو آپ اسی مسلمون کو اٹھا کر اپنی عبارت میں ذکر کرتے ہیں اور کیا کہتے ہیں؟ مثلاً بھئی مثلاً دیکھو، اوپر آئی تھی عبارت: جَاءَنِيْ مُسْلِمُوْنَ، اب آپ طلباء کو سمجھا رہے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ دیکھو بھئی فاعل جو ہوتا ہے مرفوع ہوتا ہے جیسے کہ اوپر والی عبارت میں آیا مسلمون، تو آپ کیا کہیں گے؟ نَحْوُ مُسْلِمُوْنَ، جیسے کہ مسلمون ہے اوپر والی عبارت میں۔ اب دیکھو نَحْوُ مُسْلِمُوْنَ، دیکھو نحو مضاف ہے، مسلمین ہونا چاہیے تھا لیکن آپ کیا کرتے ہیں؟ آپ اسی لفظ کو جیسا حکایت میں آیا تھا اسی اعراب کے ساتھ اس کو اپنی عبارت میں ذکر کرتے ہیں تو اب نَحْوُ مُسْلِمُوْنَ، نحو ہے مضاف اور مسلمون مجرور تقدیراً کیونکہ اعراب تو اعرابِ حکائی ہے اس کا، اعرابِ حکائی کیا ہے اس کا؟ یعنی جو جیسا وہاں آیا تھا وہی یہاں ذکر کرتے ہیں۔ وہاں واؤ نون کے ساتھ یعنی رفع کے ساتھ تھا تو آپ نے یہاں بھی رفع کے ساتھ ذکر کیا مسلمون۔ تو یہ تو ہے اعرابِ حکائی، کون سا ہے؟ اعرابِ حکائی۔ لیکن خود اس کا یہاں پر اعراب کیا ہوگا؟ تو یاد رکھیے نحو مسلمون، نحو کیا ہے؟ مضاف، اور مسلمون یہ ہے تو مجرور کیونکہ مضاف الیہ ہمیشہ کیا ہوتا ہے؟ مجرور، تو اس کا اعراب پھر تقدیراً بتلاتے ہیں کہ مجرور تقدیراً ہے۔ تو یوں کہیں گے: نَحْوُ مُسْلِمُوْنَ، نحو مرفوع لفظاً مضاف، مسلمون مجرور تقدیراً اور مرفوع لفظاً باعرابِ حکائی۔ مرفوع، لفظاً مرفوع ہے کون سے اعراب کے ساتھ؟ اعرابِ حکائی، وہ اعراب جو حکایت میں تھا وہی اعراب آپ بیان کر رہے ہیں۔ تو کیسے کہیں گے نحو مسلمون؟ نحو مرفوع لفظاً مضاف اور مسلمون مجرور تقدیراً اور مرفوع لفظاً باعرابِ حکائی بھئی۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟
تو بتانے کا مقصد یہ تھا کہ اعرابِ حکائی جہاں آئے وہاں اصل اعراب تقدیراً پھر بیان کیا جاتا ہے۔ اسی طرح جب کوئی لفظ مراد ہو جیسے یہاں پر تھا كَمُسْلِمُوْنَ، لفظ مراد ہے، یہاں حکایت نہیں ہے بلکہ باقاعدہ لفظ مراد ہے کہ یہ واؤ نون کے ساتھ یہ لفظ آرہا ہے دیکھو، تو یہاں پر بھی اعراب کیسے بتائیں گے؟ تقدیراً بتائیں گے، محلاً نہیں کیونکہ محلاً اعراب مبنی میں آتا ہے، یہ مبنی نہیں ہے بھئی، تو یہ تقدیراً اعراب بتلائیں گے۔ جہاں لفظ مراد ہو وہاں بھی اعراب تقدیراً اور جہاں اعرابِ حکائی ہو وہاں پر بھی اصل اعراب جو ہوگا وہ کیا ہوگا؟ تقدیراً ہوگا بھئی۔
تو کہتے ہیں جمع مذکر سالم وہ ہے کہ جس کے آخر میں ایسا واؤ ہو جس کا ماقبل مضموم ہو اور نونِ مفتوحہ ہو كَمُسْلِمُوْنَ جیسے مسلمون، ”أَوْ يَاءٌ مَّكْسُوْرٌ مَّا قَبْلَهَا“ یا ایسی یا ہو، مَّكْسُوْرٌ کہ مکسور ہو مَّا قَبْلَهَا اس یا کا ماقبل۔ یہ مَّكْسُوْرٌ کون سی صفت ہے؟ صفت بحال متعلقہ ہی ہے یعنی لفظوں میں تو صفت ہے یا کی لیکن وہ یا نہیں مکسور بلکہ اس کا ماقبل مکسور ہے تو یہ صفت بحال متعلقہ ہی ہے۔ اور یہ مَّا قَبْلَهَا، یہ ما موصولہ اس کا کیا اعراب ہے؟ مرفوع ہے، کیوں مرفوع ہے؟ محلاً، یہ نائب فاعل ہے مکسورٌ کا۔ مکسور کون ہے؟ مَّا قَبْلَهَا وہ جو اس یا سے ماقبل ہے۔ تو وہ جمع مذکر سالم جس کے آخر میں یائے مکسور آئے جس کے آخر میں ایسی یا ہو مکسورٌ ما قبلھا جس کا ماقبل مکسور ہو ”وَنُوْنٌ كَذٰلِكَ“ اور ایسا ہی نون ہو یعنی نونِ مفتوحہ ہو، کیا ہو؟ اور نونِ مفتوحہ ہو۔
”لِيَدُلَّ عَلَىٰ أَنَّ مَعَهُ أَكْثَرَ مِنْهُ“ تاکہ یہ دلالت کرے عَلَىٰ أَنَّ اس بات پر کہ مَعَهُ کہ اس کے ساتھ أَكْثَرَ مِنْهُ۔ یہ أَكْثَرَ، أَنَّ کا اسم ہے کیونکہ أنّ کس پر داخل ہوتا ہے؟ مبتدا خبر پر داخل ہوتا ہے۔ اور میں پہلے ذکر کر چکا کہ جار مجرور یا ظرف آجائے وہ کبھی مبتدا نہیں بنتے، اگر شروع میں آ بھی جائیں وہ دراصل کیا ہوں گے؟ خبرِ مقدم۔ تو یہ مَعَهُ کیا ہے؟ ظرف ہے، اور تو معلوم ہوا یہ خبرِ مقدم ہے اور اکثر کیا تھا؟ مبتدائے مؤخر تھا، پھر اس پر أنّ داخل ہوا تو یہ مَعَهُ اب کیا ہے؟ أنّ کی خبرِ مقدم، اور أَكْثَرَ اس کا اسمِ مؤخر ہے، اور أنّ کیا کرتا ہے؟ اپنے اسم کو نصب دیتا ہے۔ تو ہمیشہ یاد رکھنا إنّ، أنّ وغیرہ کے بعد اگر جار مجرور آجائے یا ظرف آجائے تو وہ اس کی خبرِ مقدم ہوگی اور آگے آنے والا لفظ وہ اس کا اسمِ مؤخر ہوگا، تو اس پر پھر آپ نے نصب پڑھنا ہے بھئی۔
”لِيَدُلَّ عَلَىٰ أَنَّ مَعَهُ أَكْثَرَ مِنْهُ“ تاکہ یہ دلالت کرے اس بات پر کہ اس کے ساتھ اس سے زیادہ ہیں، اس یعنی اس جیسے، بھئی دیکھو۔ مسلم کا معنی تھا ایک مسلمان۔ سب سے پہلے تثنیہ پہ آجائیں ذرا، ہم نے تثنیہ کی بحث پڑھی تھی۔ تثنیہ کسے کہتے تھے؟ جس کے آخر میں الف نون یا یا نون ملا دیتے ہیں، اس بات پر دلالت کرنے کے لیے کہ اس کے ساتھ اسی جیسا یعنی اسی کی جنس کا ایک اور فرد بھی ہے۔ جیسے، جیسے رجل، رجل مفرد تھا، اسی کے آخر میں میں نے الف نون لگایا، رَجُلَانِ۔ یہ الف اور نون اس بات پر دلالت کر رہا ہے کہ اس رجل کے ساتھ جس کے ساتھ آپ نے کیا ملایا؟ الف نون، اس رجل کے ساتھ اسی کی جنس کا یعنی ایک اور رجل بھی ہے، اسی کی جنس کا ایک اور فرد بھی ہے یعنی ایک اور رجل بھی ہے۔ تو رَجُلَانِ نے کیا بتلایا؟ ایک رجل ہے یا اب اس رجل کے ساتھ اسی جیسا ایک اور رجل بھی ہے؟ جس کے ساتھ اسی جیسا ایک اور رجل بھی ہے۔ اور میں نے بتلایا تھا اسی جیسا، اس کا یہ معنی نہیں کہ اسی جیسی شکل و صورت، حلیہ وغیرہ اس کی طرح ہو بلکہ معنی یہ کہ جنس اسی کی، جیسے وہ رجل ہے یہ دوسرا بھی کیا ہے؟ رجل ہے، ایک ہی جنس ہے دونوں کی۔ تو رَجُلَانِ، پھر سنو، رجلان تثنیہ ہے کس کی؟ رجل کی۔ رجل کے آخر میں الف نون ملا کر کیا بنایا گیا؟ تثنیہ، اس بات پر دلالت کرنے کے لیے کہ یہ جو رجل جس کے ساتھ الف نون ہم نے ملایا ہے، اس رجل کے ساتھ جب یہ رجلان بن گیا اب اس کے ساتھ اسی جیسا یعنی اسی کی جنس کا ایک اور فرد بھی ہے یعنی ایک اور مرد بھی ہے، تو کل کتنے مرد ہو گئے؟ دو۔ صورت سمجھ میں آگئی۔
اب یہی، یہی جمع میں دیکھ لیں، جیسے مسلم، مسلم، جمع مذکر سالم کی بات چل رہی ہے نا؟ مسلم مفرد تھا، اسی مسلم کے آخر میں ہم نے واؤ اور نون ملا دیا یا یا اور نون ملا دیا، تو مثلاً واؤ نون ملایا، مُسْلِمُوْنَ۔ یہ واؤ اور نون اس بات پر دلالت کر رہے ہیں کہ یہ جو مسلم جو پہلے کیا تھا؟ مفرد تھا۔ اسی کے ساتھ اب، اسی کے ساتھ اب کیا ہے؟ اور اس سے دیکھو، تثنیہ میں رجلان، پہلے کیا تھا؟ رجل، ایک۔ رجل کیا تھا؟ ایک۔ اسی کے ساتھ ایک اور آگیا تو یہ جو ایک اور آیا یہ بھی اس پہلے کی طرح ہے یعنی وہ بھی ایک تھا، یہ بھی کیا ہے؟ ایک ہے، تو رجلان ہو گیا، صورت سمجھ لیکن مسلمون میں ایسا نہیں، مسلمون میں پہلے کیا تھا؟ مسلم ایک تھا۔ اب جب بن گیا مسلمون، اب اس ایک مسلم کے ساتھ ہم نے کیا ملایا ہے؟ واؤ اور نون، تو اس ایک تو اب مسلمون کس بات پر دلالت کر رہا ہے؟ اس مسلم کے ساتھ اسی جیسا یعنی ایک ہی اور مسلم ہے یا اس سے زیادہ اور مسلم ہیں؟ دیکھو یہ خود تو ہے ایک، تو اسی کا مثل بھی کیا ہوگا؟ ایک، اسی کا مثل بھی کیا ہوگا؟ ایک، تو اس کے ساتھ اسی کا مثل ہو پھر تو یہ تو تثنیہ بنے گا حالانکہ مسلمون تو تثنیہ نہیں وہ تو کیا ہے؟ جمع۔ معلوم ہوا اسی کے ساتھ اس کا مثل یعنی اسی جیسا ایک نہیں ہے بلکہ اس سے زیادہ اس جیسے ہیں۔ یہ خود تو ہے ایک، ایک سے زیادہ کیا ہوئے کم از کم؟ دو، تو کم از کم اس کے ساتھ دو یا تین یا چار، اور چاہے دو ہوں چاہے تین یا چار، وہ اس ایک سے کیا ہیں؟ اس سے زیادہ ہیں، اس سے کیا ہیں؟ بھئی دیکھو نا، دوبارہ سمجھو، دوبارہ سمجھو۔
تثنیہ کی تعریف، تثنیہ کسے کہتے تھے؟ مثلاً رجل، رجل کتنے پر دلالت کر رہا ہے؟ ایک فرد پر۔ اسی رجل کے آخر میں ہم نے الف نون ملا دیا یا یا اور نون ملا دیے، اب رجلان بن گیا، تو یہ جو الف اور نون ملائے یہ کس بات پر دلالت کر رہے ہیں؟ کہ دیکھو پہلے تھا رجل، اب اس رجل کے ساتھ اسی کے مثل ایک اور بھی ہے۔ اسی کے مثل یعنی جیسے یہ ایک رجل ہے، دوسرا بھی ایک رجل ہے تو وہ بھی اسی کے مثل ہو گیا، جنس بھی یہی اور اسی کے برابر یہ ایک ہے وہ بھی کیا ہے؟ ایک، تو کل کتنے ہو گئے؟ دو۔ تو اب ہو گیا رجلان، تو یہ الف نون نے کیا بتایا کہ رجل جو پہلے ایک تھا اب اس کے ساتھ اسی جیسا ایک اور بھی ہے یعنی یہ دو ہیں۔ رجلان کتنے ہیں؟ دو آدمی ہیں۔
جبکہ مسلمون میں دیکھو، مسلم کتنے پر دلالت کر رہا تھا؟ ایک پر، ایک پر دلالت کر رہا تھا۔ اور جمع کم از کم کتنے پر دلالت کرتا ہے؟ تین یا تین سے زیادہ پر۔ تو مسلم دلالت کر رہا تھا ایک، اب اس کے ساتھ کم از کم کتنے اور ہوں تو پھر یہ جمع بنے گا؟ کم از کم دو اور چاہیے، دو اور چاہیے۔ دو یا تین یا چار، جتنے بھی اور ہو جائیں وہ سب اس میں آجائیں گے لیکن کم از کم کتنے چاہیے؟ دو۔ تو اس ایک مسلم، اس کے آخر میں واؤ اور نون ملا دیا، اب یہ کس پر دلالت کر رہا ہے؟ جمع پر، اور جمع کم از کم کتنے ہوتے ہیں؟ تین یا تین سے زیادہ۔ تو یہ واؤ اور نون اس بات پر دلالت کر رہے ہیں کہ یہ جو ایک مسلم تھا اس کے ساتھ، اس کے ساتھ اس سے زیادہ اسی جیسے اور بھی ہیں، اس سے زیادہ۔ یہ خود کتنا ہے؟ ایک، تو اس سے زیادہ کون ہوئے؟ دو، تو یعنی اس کے ساتھ اس سے زیادہ یعنی دو ہوں یا تین ہوں یا چار ہوں یعنی ایک سے زیادہ۔ اس ایک کے ساتھ اس سے زیادہ اسی جیسے اور بھی ہیں، بات سمجھ میں آگئی؟ اس ایک کے ساتھ اس سے زیادہ، اس سے زیادہ کتنے؟ دو کم از کم، یا اور زیادہ، دو یا زیادہ، اس سے زیادہ ہو گئے وہ اس کے ساتھ ہیں۔ تو اب پہلے یہ ایک تھا اور زیادہ کتنے؟ دو یا تین یا چار، تو وہ اب یہ ساروں کا مجموعہ بن گیا، ان سب پر یہ دلالت کر رہا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
تو یہ مسلم ہوا ایک، اور اس سے زیادہ کتنے ہو گئے؟ دو۔ ہاں تو دوسری طرف ذرا صرف یہ دو رکھو، ایک طرف ہے ایک مسلم، اسی ایک مسلم کے آخر میں ہم نے کیا جوڑ دیا؟ واؤ اور نون۔ یہ واؤ اور نون اس بات پر دلالت کر رہے ہیں کہ یہ جو مسلم ہے اب اکیلا نہیں ہے، اس کے ساتھ اور بھی ہیں اور وہ اور جو ہیں وہ اس کے برابر ہیں، اگر اس کے برابر ہیں تو یہ تو ایک ہے تو وہ بھی کتنا ہوگا؟ ایک، تو یہ تو کل کتنے ہو جائیں گے؟ دو، حالانکہ مسلمون تو دو پہ دلالت نہیں کر رہا بلکہ دو سے زیادہ۔ معلوم ہوا اس ایک مسلم کے ساتھ اب اور بھی ہیں جو اس سے زیادہ ہیں یعنی کم از کم دو یا دو یا دو سے زیادہ ہیں، تو اس ایک کے ساتھ اس سے زیادہ اوروں کو بھی جوڑ دیا تو کتنے بن گئے؟ تین یا چار یا پانچ بن گئے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اب جمع پر دلالت ہو گئی۔
تو یہی بات بیان کر رہے ہیں کہ اس کے آخر میں ایسی یا ہو مکسورٌ ما قبلھا جس کا ماقبل مکسور ہو ”وَنُوْنٌ كَذٰلِكَ“ اور ایسا ہی نون ہو یعنی مفتوح نون بھی ہو، ”لِيَدُلَّ عَلَىٰ أَنَّ مَعَهُ“ تاکہ وہ دلالت کرے اس بات پر کہ اس کے ساتھ، وہ جس کے ساتھ آپ نے کیا جوڑا ہے واؤ اور نون یا یا اور نون، کہ اس کے ساتھ ”أَكْثَرَ مِنْهُ“ اور زیادہ ہیں منہ اس سے، اس سے زیادہ اور بھی ہیں یعنی وہ خود ایک ہے اور ایک سے زیادہ دو یا تین اس کے ساتھ اور بھی ہیں تو جمع بن گیا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
”نَحْوُ مُسْلِمِيْنَ“ جیسے مسلمین، ”وَهٰذَا فِي الصَّحِيْحِ“ یہ تو صحیح کے اندر تھا بھئی۔ صحیح نحوی صحیح مراد ہے، نحوی بحث کرتا ہے اعراب سے لہٰذا نحوی صحیح کسے کہیں گے؟ جس کے آخر میں حرفِ علت نہ ہو وہ ہے صحیح، اور اگر آخر میں حرفِ علت ہے تو وہ ہے ناقص بھئی۔ تو کہتے ہیں یہ جو ہم نے ضابطہ بیان کیا: آخر میں واؤ اور نون جوڑ دو یا یا اور نون جوڑ دو، ایسا واؤ ہو جس کا ماقبل مضموم ہو اور یا ایسی ہو جس کا ماقبل مکسور ہو، یہ صحیح کے اندر تھا۔ ناقص کے اندر وہاں کیا کریں گے؟ وہاں جمع مذکر سالم کیسے بنائیں گے؟ چلیے بس بھئی، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيْقَةِ الْكَلَامِ۔