Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

هداية النحو جديد · dars-030

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 19 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 45
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
گزشتہ سبق میں ہم نے مبتدا اور خبر کے بارے میں پڑھنا شروع کیا تھا۔ آپ نے پڑھا کہ مبتدا اور خبر یہ دونوں بھی مرفوعات میں سے ہیں، یعنی ان دونوں پر بھی کون سا اعراب آئے گا؟ رفع کا اعراب آئے گا، رفع آئے گا بھئی۔ اور مبتدا اور خبر کسے کہتے ہیں؟ انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ مبتدا اور خبر دو ایسے اسم ہیں جو عواملِ لفظیہ سے خالی ہوتے ہیں، اور ان میں سے ایک مسند الیہ ہوتا ہے یعنی جس کی طرف اسناد کیا گیا ہو، اور ایک مسند بہ ہوتا ہے یعنی جس کا اسناد کیا گیا ہو۔ تو جس کی طرف اسناد کیا گیا ہو وہ مبتدا ہے، اور جس کا اسناد کیا گیا ہو وہ خبر ہے بھئی، وہ خبر ہے۔ جیسے زَيْدٌ قَائِمٌ، تو زید کی طرف قائم کا اسناد ہو رہا ہے تو زید مبتدا ہے، اور قائم جو ہے اس کا اسناد ہو رہا ہے زید کی طرف تو یہ خبر ہے بھئی۔ تو ان دونوں پر کون سا اعراب آئے گا؟ رفع پڑھیں گے، رفع آئے گا بھئی۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ آسان لفظوں میں یوں کہیے کہ جملہ اسمیہ کے اندر وہ جس کے بارے میں بات کی جائے اسے کہتے ہیں مبتدا، اور جو بات کی جائے اسے خبر کہتے ہیں، خبر کہتے ہیں۔ تو ورنہ تو مبتدا بھی ایک لفظ ہے، خبر بھی ایک لفظ ہے، اگر ان میں ربط نہیں تو دونوں الگ الگ لفظ ہیں جملہ پورا نہیں۔ لیکن جب ان دونوں کو آپ نے ربط دے دیا یعنی مبتدا پر وہ خبر والا حکم لگا دیا تو دونوں میں اسناد آ گیا، تو مبتدا اب کیا ہے؟ وہ مسند الیہ ہے اس کی طرف اسناد کیا گیا ہے، اور خبر مسند بہ ہے یعنی اس کا اسناد کیا گیا ہے۔ تو بس آپ نے آسان طریقے سے یوں پہچاننا ہے مبتدا اور خبر کو جملہ اسمیہ میں۔ میں جملہ اسمیہ کی بات کر رہا ہوں، جملہ فعلیہ کی بات نہیں، جملہ اسمیہ جس کا پہلا جز اسم ہوا کرتا ہے جبکہ جملہ فعلیہ جس کا پہلا جز کیا ہوتا ہے؟ فعل ہوا کرتا ہے۔ تو جملہ اسمیہ کے اندر وہ چیز جس کے بارے میں بات کی جائے وہ ہوگا مبتدا اور جو بات کی جائے وہ ہوگی خبر ہوگی بھئی۔ اور آپ نے پڑھا تھا کہ مبتدا اور خبر کے اندر عامل جو ہے وہ معنوی ہوتا ہے، یعنی کوئی لفظ نہیں ہوتا، آپ سے کوئی پوچھے کہ کون سا لفظ اس مبتدا میں یا اس خبر میں عامل ہے؟ تو آپ کہیں گے مبتدا اور خبر میں لفظ عامل نہیں ہوتا، ان میں عاملِ لفظی نہیں ہے بلکہ عاملِ معنوی ہے، ایک معنوی چیز ہے معنوی چیز بھئی، اور وہ کیا؟ وہ ابتداء ہے۔ اور ابتداء کے بارے میں آپ نے پڑھا: ابتداء کسے کہتے ہیں کہ اسم کا خالی ہونا عاملِ لفظی سے اس طور پر کہ اس کی طرف کسی کا اسناد ہو یا اس کا اسناد کسی کی طرف ہو، یہ کیا ہے؟ ابتداء۔ تو اب صرف مبتدا اور خبر رہ گئے ان میں ابتداء عامل ہے اور کسی کے اندر ابتداء عامل نہیں ہے۔ کیا تعریف پڑھی ابتداء کی؟ اسم کا خالی ہونا عاملِ لفظی سے اس طور پر کہ اس کی طرف کسی کا اسناد ہو، یہ تعریف کس پر صادق آئی؟ مبتدا، کہ وہ خالی۔ اور یا اس کا اسناد کسی کی طرف ہو رہا ہو، اسم کا خالی ہونا عاملِ لفظی سے اس طور پر کہ اس کا اسناد کسی کی طرف ہو رہا ہو تو یہ کس میں کون داخل ہوا؟ خبر داخل، اس کا اسناد کسی کی طرف ہو، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ ہے ابتداء۔ اور پھر آپ نے یہ بھی پڑھا تھا کہ مبتدا کے اندر اصل یہ ہے کہ وہ معرفہ ہونا چاہیے، معرفہ ہونا چاہیے، اور خبر کے اندر اصل یہ ہے کہ وہ نکرہ ہونی چاہیے۔ نیز اسی طرح مبتدا کے اندر اصل یہ ہے کہ وہ مقدم ہوگا، اور خبر کے اندر اصل یہ ہے کہ وہ مؤخر ہوگی مؤخر ہوگی۔ مبتدا میں اصل یہ ہے کہ وہ معرفہ ہوگا اس لیے کیونکہ معرفہ وہ ہے جو کسی معین اور معلوم ذات پر دلالت کرتا ہے یعنی جس کی آپ کو پہچان ہوتی ہے، پہچان ہوتی ہے۔ میں نے مثلاً آپ کا ایک ساتھی ہے زید، میں آپ سے کہتا ہوں کہ زید میرے پاس کل آیا تھا، آپ فوراً سمجھ گئے کہ کس کے بارے میں بات کی جا رہی ہے؟ زید وہ جو ایک متعین ساتھی ہے آپ کا اس کے بارے میں بات ہو رہی ہے۔ تو مبتدا متعین ہوگا، معرفہ ہوگا، پھر ہی اس پر آپ حکم لگائیں گے یعنی اس کی کوئی بات کریں گے تو دوسرے کو فائدہ حاصل ہوگا یعنی کوئی بات اس کو معلوم ہوگی، بات سمجھ میں آ گئی؟ اگر معرفہ نہیں ہے اس کی پہچان نہیں ہے تو پھر اس کو کوئی فائدہ بھی نہیں ہوگا۔ مثلاً میں کہتا ہوں: کوئی آدمی، کوئی آدمی کھڑا ہوگا۔ دیکھا؟ کوئی آدمی کھڑا ہوگا۔ اب کوئی آدمی کون ہے؟ کوئی تعین ہی نہیں ہے، تو اس بات کا فائدہ ہی نہیں، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یا میں کہتا ہوں: کوئی غلام محنتی ہے، اب اس بات کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ہاں میں کہتا ہوں: وہ غلام محنتی ہے، اب آپ کو فائدہ ہوا پتہ چل گیا وہ والا غلام کس قسم کا ہے؟ محنتی ہے۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ متعین کے بارے میں بات ہوگی تو کلام کا فائدہ بھی ہوگا۔ تو معلوم ہوا مبتدا میں اصل کیا ہے؟ معرفہ ہونا چاہیے، اس کی پہچان ہونی چاہیے، جب میں نے کہا وہ غلام دیکھو اس کی طرف اشارہ کر دیا تو آپ کو پہچان ہو گئی کہ اس آدمی کی بات ہو رہی ہے، اس غلام کی بات ہو رہی ہے کہ یہ کیا ہے؟ محنتی ہے۔ تو لہٰذا مبتدا کا معرفہ ہونا ضروری، مبتدا کو معرفہ ہونا چاہیے پھر ہی کلام کا فائدہ ہوگا بھئی۔ لہٰذا اسی لیے مبتدا کے اندر اصل یہ ہے کہ وہ معرفہ ہونا چاہیے، اور خبر کے اندر اصل یہ ہے کہ وہ نکرہ ہونی چاہیے کیونکہ وہ خبر کسے کہتے ہیں؟ وہ جو بات آپ کر رہے ہیں، وہ بات نکرہ ہو یعنی جس کی پہچان نہ ہو، جس کا دوسرے کو پتہ نہ ہو، اگر پتہ نہیں ہے تو پھر ہی کلام کا کیا ہوگا؟ فائدہ ہوگا، آسان لفظوں میں آپ کو سمجھانے کے لیے تعبیر کر رہا ہوں بھئی۔ اور اسی طرح مبتدا جو ہے اصل اس کے اندر یہ ہے کہ وہ مقدم ہو اور خبر کے اندر اصل یہ ہے کہ وہ مؤخر ہو، اس لیے کیونکہ جب مثلاً میں نے کہا کہ زید کھڑا ہے، زید کھڑا ہے تو زید ہے مبتدا اور کھڑا ہے اس کی خبر ہے، تو مبتدا یاد رکھیے یہ موصوف کے درجے میں ہوتا ہے، بھئی میں نے زید کی ایک صفت اور وصف آپ کے سامنے بیان کیا یا نہیں کیا کہ زید کیا ہے؟ کھڑا ہے یعنی وہ قیام کے ساتھ موصوف ہو رہا ہے۔ تو مبتدا موصوف کے درجے میں ہوتا ہے اور خبر جو ہوتی ہے وہ اس کی صفت کے درجے میں ہوتی ہے، اور موصوف مقدم ہوتا ہے اور صفت مؤخر ہوتی ہے، اس لیے مبتدا میں اصل یہ ہے کہ اس کو مقدم ہونا چاہیے اور خبر میں اصل یہ ہے کہ مؤخر ہونی چاہیے۔ تو اب آگے ہم بھئی ترکیب کو بھی ساتھ ساتھ چلائیں گے، انشاء اللہ تعالیٰ آپ کے لیے ترکیب بہت آسان ہو جائے گی اور آپ کی ترکیب کی بنیاد بن جائے گی اور بہت سی ایسی رائج غلطیاں جو طلباء کے اندر ہیں ان کا آپ کو علم ہو جائے گا ان سے آپ بچ جائیں گے بھئی۔ تو ترکیب میں بھئی یاد رکھیے ابھی آپ نے پڑھ لیا کہ مبتدا کیا ہے؟ معرفہ ہوگا۔ مبتدا میں اصل کیا ہے کہ وہ معرفہ ہونا چاہیے اور خبر میں اصل کیا ہے کہ وہ نکرہ ہونی چاہیے، تو لہٰذا اب آپ کو معرفہ اور نکرہ کی پہچان ہونی چاہیے، پھر ہی ترکیب آپ جلدی کر سکیں گے، آسانی سے سیکھ سکیں گے۔ اور معرفہ آپ پڑھ چکے کل بھی میں نے آپ کو بتلایا تھا، معرفہ کل کتنے ہیں؟ سات ہیں: تمام ضمیریں ہیں، اسمائے اشارہ ہیں، اسمائے موصولہ ہیں، اور علم ہے کسی کا نام جو ہوتا ہے، اسی طرح معرف باللام ہے جس پر الف لام آ جائے، یا ان پانچ میں سے کسی کی طرف جو مضاف ہو مثلاً غُلَامُهُ دیکھو ہا ضمیر کی طرف غلام کا لفظ مضاف ہے، غلام تو خود نکرہ ہے لیکن جب ہا ضمیر کی طرف مضاف ہوا اب کیا بن گیا؟ معرفہ۔ یا اسی طرح غُلَامُ هَذَا جب ھٰذَا اسم اشارہ کی طرف مضاف ہوا تو اسم اشارہ تو معرفہ تھا تو غلام کا لفظ بھی کیا بن گیا؟ معرفہ۔ یا غُلَامُ الَّذِي ضَرَبَكَ دیکھو الذی کی طرف غلام کا لفظ مضاف ہوا اور الذی تو اسم موصول ہے معرفہ ہے تو غلام کا لفظ بھی کیا بن گیا؟ معرفہ۔ یا مثلاً میں کہتا ہوں غُلَامُ الرَّجُلِ اس آدمی کا غلام، اب یہ دیکھو یہ بھی متعین ہوا، صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ یا غُلَامُ زَيْدٍ میں کہتا ہوں زید کا غلام، تو دیکھو ویسے میں نے غلام کہا، نہ یہ ضمیر ہے، نہ یہ اسم اشارہ ہے، نہ یہ اسم موصول ہے، نہ یہ کسی کا نام ہے، نہ یہ نہ اس پر الف لام داخل ہے، نہ یہ ان میں سے کسی کی طرف مضاف ہے تو یہ نکرہ ہے۔ تو نکرہ کو اس طرح آپ نے پہچاننا ہے کہ آپ دیکھ لیں یہ ضمیر تو نہیں، یہ اسم اشارہ تو نہیں، یہ اسم موصول تو نہیں، اس پر الف لام تو نہیں داخل، اور یہ کسی کا نام تو نہیں، تو یہ آپ سمجھ جائیں کہ یہ کیا ہے؟ نکرہ ہے بھئی نکرہ ہے۔ اور نکرہ وہ ہے جو کسی غیر معین ذات پر دلالت کرتا ہے یعنی جو متعین نہیں ہوتی، آسان لفظوں میں جس کی آپ کو پہچان نہیں ہوتی بھئی، جبکہ معرفہ وہ ہے جو کسی معین ذات پر دلالت کرتا ہے یعنی جس کی آپ کو پہچان ہوتی ہے۔ مثلاً میں نے کہا: اَلرَّجُلُ، وہ آدمی، کسی متعین آدمی کی طرف اشارہ کیا، آپ سمجھ گئے کہ نہیں سمجھے کہ کس کی بات کرنے لگا ہوں؟ آپ سمجھ گئے کیونکہ متعین تھا، آپ کو معلوم تھا بھئی۔ یا مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: زَيْدٌ، وہ زید آپ کے ایک ساتھی کا نام ہے، آپ فوراً سمجھ گئے کہ یہ کس کے بارے میں بات ہو رہی ہے؟ زید کے بارے میں ہو رہی ہے، آپ کے جو دوسرے ساتھی ہیں عبداللہ، بکر، خالد وغیرہ ان کے بارے میں بات نہیں ہو رہی۔ اسی طرح جب میں کہتا ہوں: ھُوَ، ھُو ضمیر کسی متعین کی طرف لوٹے گی، آپ فوراً سمجھ گئے کہ ھُو سے کون مراد ہے، کس کی بات کی جا رہی ہے۔ یا اسم اشارہ ہے میں کہتا ہوں: ھٰذَا، ایک چیز کی طرف میں نے اشارہ کر دیا، آپ فوراً سمجھ گئے کہ اس کی بات ہونے لگی ہے کسی دوسری چیز کی بات نہیں ہو رہی بھئی۔ یا اسم موصول ہے: اَلَّذِي ضَرَبَكَ، وہ آدمی جس نے آپ کی پٹائی کی تھی، جَاءَنِي وہ میرے پاس آیا، تو جب میں نے کہا الذی ضربک، وہ آدمی جس نے آپ کی پٹائی کی تھی، آپ فوراً سمجھ گئے کہ کس آدمی کی بات ہو رہی ہے۔ تفصیل سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو معرفہ کسے کہتے ہیں جس کی جو جس کی پہچان ہوتی ہے سننے والے کو اور وہ متعین ہوتا ہے بھئی، جبکہ نکرہ وہ ہے جو متعین نہیں ہوتا، غیر متعین پر دلالت کرتا ہے غیر متعین پر۔ لہٰذا اب آپ کو ترکیب آگے آپ نے سیکھنی ہے تو معرفہ اور نکرہ کی آپ کو پہچان ہونی چاہیے: معرفہ، معرفہ کتنے ہیں کل؟ سات ہیں۔ کون کون سے ہیں؟ ضمیریں ہیں، اسمائے اشارہ ہیں، اسمائے موصولہ ہیں، معرف باللام ہے یعنی جس پر الف لام آ جائے، اور علم ہے کسی کا نام ہو، یا ان کی طرف کوئی لفظ کوئی نکرہ کیا ہو رہا ہو؟ مضاف ہو وہ بھی معرفہ، اور اسی طرح ایک معرفہ بالنداء ہے وہ نکرہ جس پر کیا داخل ہو جائے؟ حرفِ نداء، تو جیسے الف لام کی وجہ سے کوئی لفظ معرفہ بن جاتا ہے یا حرفِ نداء کی وجہ سے بھی وہ معرفہ بن جاتا ہے، لیکن وہ وہ ہماری اس وقت بحث سے خارج ہے اس کو ہم نہیں ذکر کریں گے کیونکہ یہاں مبتدا اور خبر کی بحث کر رہے ہیں تو وہ جس پر حرفِ نداء داخل ہو وہ منادیٰ ہوتا ہے وہ مبتدا یا خبر نہیں بنتا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ معرفہ کی قسمیں اب ہر وقت آپ کے ذہن میں ہونی چاہئیں، اور نیز آپ کو میں نے بتایا تھا کہ یہ جو اعراب ہوتا ہے رفع ہو، نصب ہو یا جر، یہ محلاً بھی ہو سکتا ہے، یہ لفظاً بھی ہو سکتا ہے اور تقدیراً بھی ہو سکتا ہے۔ محلاً کس کے اندر آئے گا؟ مبنی میں، مبنی میں، اور لفظاً اور تقدیراً کس کے اندر اعراب آئے گا؟ معرب کے اندر۔ تو لہٰذا اب آپ کو مبنی کی بھی پہچان ہونی چاہیے، پھر ہی ترکیب کا فائدہ آپ کو ہوگا۔ اور مبنیات آگے چل کر صاحبِ ہدایۃ النحو بھی آپ کو بتلائیں گے کہ مبنیات جو ہیں وہ آٹھ ہیں لیکن یاد رکھیے تین عام استعمال ہوتے ہیں ان میں سے، وہ تو ابھی سے آپ کو معلوم ہونے چاہئیں، آگے وہ آٹھ بھی ذکر ہو جائیں گے کون کون سے آٹھ ہیں مبنیات، لیکن کم از کم تین وہ تو ہر وقت آپ کے ذہن میں ہونے چاہئیں اور وہ وہی ہیں جو پہلے تین معرفہ میں گزرے: تمام ضمیریں مبنیات ہیں، اسمائے اشارہ مبنی ہیں اور اسمائے موصولہ یہ کیا ہیں؟ مبنی ہیں۔ ضمیریں جانتے ہو یا نہیں جانتے؟ آپ پڑھ چکے ہیں بھئی ان کے بارے میں: ھُوَ، ھُمَا، ھُمْ وغیرہ۔ اور اسمائے اشارہ: ھٰذَا، ھٰذَانِ، تِلْكَ وغیرہ بھئی، یہ کیا ہیں؟ اسمائے اشارہ: أُولَئِكَ، هَؤُلَاءِ یہ سب اسمائے اشارہ ہیں بھئی اور یہ بھی ان کا اعراب آپ نے محلاً بتانا ہے۔ اور اسمائے موصولہ: اَلَّذِي، اَللَّذَانِ، اسی طرح اَلَّتِي، اَللَّتَانِ وغیرہ، یہ سب کیا ہیں؟ اسمائے موصولہ۔ یہ آ جائیں تو ان کا اعراب آپ نے کس طرح بتانا ہے؟ محلاً، یعنی یہاں لفظاً یا تقدیراً اعراب نہیں ہوگا، لفظوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ تو معلوم ہوا خلاصہ یہ کہ جملہ اسمیہ ہو آپ کے پاس اور جملہ اسمیہ تو اس کے دو جز ہوں گے: ایک مبتدا ہوگا اور ایک خبر، مبتدا اور خبر۔ یاد رکھیے جملہ اسمیہ چاہے اس جملے میں دس لفظ ہوں چاہے بیس لفظ ہوں، مل ملا کر دو حصے بن جائیں گے: ایک مبتدا اور ایک خبر۔ کچھ لفظ مبتدا کی طرف ہو جائیں گے اور کچھ کس کی طرف ہو جائیں گے؟ خبر کی طرف، تو بالاخر جب ان کو ملا لیں گے آپ تو دو ہی حصے بنیں گے: ایک کیا کہلائے گا؟ مبتدا، اور دوسرا کیا کہلائے گا؟ خبر کہلائے گا بھئی۔ یہ بات سمجھ میں آ گئی؟ جملہ اسمیہ میں کتنے حصے بنیں گے؟ دو: نمبر ایک مبتدا، نمبر دو خبر۔ مبتدا جس کے بارے میں بات کی جائے اور خبر وہ جو بات کی جائے بھئی۔ لہٰذا آپ کے پاس دو اسم ہیں اور ان دو اسموں سے پورا جملہ بن رہا ہے، اور ان میں سے ایک معرفہ ہے اور ایک نکرہ ہے تو یاد رکھو ابھی آپ نے پڑھا: مبتدا میں اصل کیا ہے؟ معرفہ ہونا، اور خبر میں اصل کیا ہے؟ نکرہ ہونا۔ تو دو اسم ہیں آپ کے پاس، ان دونوں سے پورا جملہ بن رہا ہے بات پوری ہو رہی ہے تو جو معرفہ ہے اس کو بناؤ مبتدا اور جو نکرہ ہے اس کو بناؤ خبر۔ جیسے مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں، لکھیے بھئی ترکیب کیجیے بھئی کاپی پر، کاپیاں آپ کے پاس ہوں اور یہ مثالیں ساتھ ساتھ حل کرتے جائیں بھئی: اَللَّهُ أَحَدٌ دیکھیے، اب پہلے مجھے یہ بتائیے یہ پورا جملہ ہے یا جملہ نہیں؟ اس کا ذرا معنی کرو، ترجمہ کرو: اللہ ایک ہے، دیکھو بات پوری ہے کہ پوری نہیں؟ پوری ہے، معلوم ہوا یہ جملہ ہے۔ اور یہاں کوئی فعل آیا؟ نہیں، بلکہ شروع میں اسم ہے، معلوم ہوا یہ کون سا جملہ ہے؟ جملہ اسمیہ ہے۔ اور میں نے آپ کو بتایا جملہ اسمیہ ہو اور آپ کو پتہ چل جائے کہ پورا جملہ ہے اور دو لفظ ہوں، ایک معرفہ ہو ایک نکرہ ہو تو معرفہ کو کیا بناؤ؟ مبتدا، اور نکرہ کو کیا بناؤ؟ خبر۔ اب بتائیے لفظِ اللہ یہ معرفہ ہے کہ نکرہ ہے؟ معرفہ ہے، کیونکہ یہ علم ہے، نام ہے اللہ تعالیٰ کی ذات کا بھئی، تو یہ معرفہ ہوا۔ اور اَحَدٌ کے بارے میں بتاؤ، یہ معرفہ ہے کہ نکرہ ہے؟ یہ ضمیر ہے؟ غور کرو ذرا، ضمیر ہے؟ ھُوَ، ھُمَا، ھُمْ میں سے کچھ ہے؟ نہیں، پھر غور کرو یہ اسم اشارہ تو نہیں؟ ھٰذَا، ھٰذَانِ وغیرہ بھئی، یہ اسم اشارہ بھی نہیں ہے۔ اچھا اسم موصول ہوگا؟ اَلَّذِي، اَلَّتِي وغیرہ، یہ وہ بھی نہیں ہے۔ اَحَدٌ یہ کسی کا نام ہے؟ نام بھی نہیں۔ اچھا اس پر الف لام داخل ہے؟ الف لام بھی داخل نہیں۔ اچھا یہ آگے کسی معرفہ کی طرف مضاف تو نہیں ہو رہا؟ اس کے بعد کوئی ضمیر یا اسم اشارہ یا اسم موصول یا علم یا معرف باللام تو نہیں آ رہا؟ تو یہ ان میں سے کسی کی طرف مضاف بھی نہیں، آگے کوئی مضاف الیہ آ رہا ہے؟ نہیں آ رہا، تو یہ ان میں سے کسی کی طرف مضاف بھی نہیں ہے، تو معلوم ہوا یہ نکرہ ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ لفظ کے بارے میں کیا غور کریں کہ یہ ضمیر تو نہیں، یہ اسم اشارہ تو نہیں، یہ اسم موصول تو نہیں، یہ علم تو نہیں، یہ معرف باللام تو نہیں ہے، یا اس کے آگے تو کوئی معرفہ نہیں آ رہا اس کے ساتھ جڑا ہوا جو مضاف الیہ بن رہا ہو اس کے لیے؟ تو سمجھ جائیں پھر یہ کیا ہے؟ نکرہ ہے۔ اب ہمارے پاس دو لفظ ہیں: ایک لفظ ہے معرفہ اور ایک ہے نکرہ، اور آپ نے ابھی بتایا اس کا کیا معنی ہے؟ اللہ ایک ہے، معلوم ہوا جملہ پورا ہے، بات پوری ہے، اور پہلا جز کیا ہے؟ اسم ہے، اسم ہے تو معلوم ہوا اب ان میں سے ایک کو مبتدا بنائیں گے اور ایک کو کیا بنائیں گے؟ خبر، کیونکہ جملہ اسمیہ تبھی پورا ہوتا ہے جب مبتدا بھی موجود ہو اور خبر بھی موجود ہو۔ اب آپ غور کریں اس کے اندر جو معرفہ ہو اس کو بنا دیں مبتدا اور جو نکرہ ہو اس کو کیا بنا دیں؟ خبر، تو کس کو مبتدا بنائیں گے؟ لفظِ اللہ کو، اور خبر کسے بنائیں گے؟ اَحَدٌ کو۔ اچھا اب ترکیب کر کے مجھے بتائیے بھئی، ترکیب کیجیے بھئی: لفظِ اللہ: مرفوع لفظاً مبتدا، شاباش! لفظِ اللہ مرفوع لفظاً مبتدا۔ آپ نے تین چیزیں کہیں: مرفوع، لفظاً، مبتدا۔ تینوں کا مجھے جواب دینا ہے آپ نے کیوں کہا، بغیر سوچے نہیں بولنا، آپ نے بتانا ہے وجہ بتانی ہوگی آپ جو کچھ کہیں گے۔ پہلے آپ نے مرفوع کہا، مرفوع کیوں کہا، منصوب یا مجرور کیوں نہیں کہا؟ شاباش، کیونکہ مبتدا ہے اور مبتدا ہم نے پڑھا ہے وہ کس میں سے ہے؟ مرفوعات میں سے ہے، اس پر رفع آتا ہے۔ دوسری بات کا جواب دیں: آپ نے کہا مرفوع لفظاً، لفظاً کیوں کہا؟ اس کے رفع پر ہم باقاعدہ تلفظ کر رہے ہیں۔ ذرا تلفظ رفع کا اس پر کر کے دکھائیے: اَللَّهُ، دیکھو یہ ہا پر کیا پڑھ رہے ہیں؟ رفع، پیش پڑھ رہے ہیں، تو مرفوع لفظاً۔ اور پھر آپ نے کہا یہ مبتدا ہے، کیسے آپ کو پتہ چلا کہ یہ مبتدا ہے؟ مبتدا ہے ہاں کیونکہ ہمارے پاس دو اسم ہیں اور ان دونوں سے بات پوری ہو رہی ہے جملہ پورا ہو رہا ہے، اور دونوں اسم ہیں معلوم ہوا یہ پورا جملہ ہے یعنی جملہ اسمیہ ہے اور جملہ اسمیہ کے تو دو ہی جز ہوتے ہیں: ایک مبتدا ہوتا ہے اور ایک خبر ہوتی ہے، یہ دونوں ہوتے ہیں تو بات پوری ہوتی ہے اور یہاں بھی بات پوری ہو رہی ہے معلوم ہوا دونوں موجود ہیں، تو ایک کو مبتدا بنانا پڑے گا ایک کو کیا بنائیں گے؟ خبر، اور مبتدا کس کو بناتے ہیں؟ جو معرفہ ہوتا ہے، اور خبر کسے بناتے ہیں؟ جو نکرہ ہو، تو یہ معرفہ تھا اس لیے اس کو مبتدا بنایا۔ آگے بھئی ترکیب کیجیے: اَحَدٌ: مرفوع لفظاً خبر، شاباش! اَحَدٌ مرفوع لفظاً خبر۔ مرفوع کیوں کہا آپ نے؟ کیونکہ خبر ہے اور خبر پر ہمیشہ کون سا اعراب آتا ہے؟ رفع۔ اور لفظاً کیوں کہا؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ یہ نہ کہنا اس پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، اس پر اس سے تو مراد احد لفظ ہے اور لفظ تو کہتے ہی اس اسے ہیں جس پر تلفظ کیا جاتا ہے، بلکہ بات ہم کر رہے ہیں اعراب کی کہ یعنی اس کے اعراب پر ہم باقاعدہ تلفظ کر رہے ہیں اور اعراب کون سا ہے اس پر؟ رفع: اَحَدٌ، دیکھو میں رفع سننے سے ہی آپ کو پتہ چل گیا: اَحَدٌ۔ نصب پڑھوں گا آپ کو سننے سے ہی پتہ چل جائے گا: اَحَدًا، اَحَدٍ، اَحَدٍ میں کون سا اعراب پڑھ رہا ہوں؟ جر، دیکھو سننے سے ہی آپ کو پتہ چل رہا ہے، تو یہاں پر بھی رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں تو یہ ہوا مرفوع لفظاً، اور خبر آپ نے کہا، آپ کو کیسے پتہ چلا یہ خبر ہے؟ ہاں کیونکہ یہ جملہ اسمیہ ہے اور جملہ اسمیہ کے اندر مبتدا گزر چکا ہے اور باقی کیا چاہیے؟ خبر، اور آگے تو اور کوئی لفظ ہے نہیں تو ظاہر سی بات ہے یہی کیا بنے گی؟ خبر، اس لیے۔ اب اس کو دیکھو آپ کو دونوں لفظوں کے اعراب کا پتہ چل گیا، مثلاً آپ کتاب کی عبارت پر حل کر رہے ہیں اس کا معنی سمجھتے جا رہے ہیں اور اعراب نکالتے جا رہے ہیں، تو جب سارے لفظوں کا اعراب آپ کو پتہ چل جائے اب اس کو روانی سے پڑھ دیا کریں، اب اس پورے جملے کو روانی سے پڑھ دیں بھئی: اَللَّهُ أَحَدٌ، دیکھا بھئی؟ ترکیب آپ نے کر لی، تو مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ تو اس میں مسند الیہ کون؟ لفظِ اللہ، اور مسند بہ کون؟ اَحَدٌ۔ آسان لفظوں میں کس کے بارے میں بات کی گئی؟ اللہ کے بارے میں، اور کیا بات کی گئی؟ کہ وہ ایک ہے، تو جس کے بارے میں بات کی گئی وہ وہ بنے گا مبتدا، اور جو بات کی گئی وہ خبر ہے یعنی یوں کہو کہ اللہ کی ذات پر احد ہونے کا حکم لگایا گیا یعنی یہ بات بتلائی گئی کہ اللہ ایک ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ اگلا جملہ لکھیے بھئی: هُوَ رَجُلٌ دیکھو یاد رکھو، بعض اوقات ترکیب سے ترجمے کا پتہ چلے گا اور کبھی ترجمے سے آپ کو ترکیب کا پتہ چلے گا، کبھی ترکیب سے کس کا پتہ چلے گا؟ ترجمے کا، یعنی ترکیب آئے گی تو ترجمہ صحیح ہوگا، ترکیب صحیح نہیں کر رہے تو ترجمہ بھی صحیح نہیں، تو کبھی ترکیب کا پتہ آپ کو چل جائے گا اس سے آپ پھر ترجمہ حل کر لیں گے کہ یہ معنی بنتا ہے ترکیب کے مطابق، اور کبھی ترجمے کا پہلے ہی پتہ چل جائے گا اس جملے کو دیکھتے ہی سنتے ہی اور اس ترکیب سے ترجمے کا پتہ چل جائے گا اور ترجمے سے پھر آپ کو ترکیب بھی سمجھ میں آ جائے گی۔ مثلاً دیکھیے کیا لکھا: هُوَ رَجُلٌ، اب مجھے بتائیے اس کا کیا معنی ہے؟ وہ ایک آدمی ہے، وہ آدمی ہے، تو یہ پورا جملہ ہے؟ اب جی ترکیب کیجیے بھئی: هُوَ: اعراب سب سے پہلے اعراب بتانا ہے: هُوَ مرفوع محلاً مبتدا، اچھا اب بتا آپ نے تین لفظ کہے: مرفوع، محلاً، مبتدا۔ مرفوع کیوں کہا؟ مبتدا بنے گا اور مبتدا کس میں سے ہے؟ مرفوعات میں سے ہے۔ محلاً آپ نے کہا، محلاً کیوں کہا؟ کیونکہ یہ کیا ہے؟ ضمیر ہے اور ضمیر کس میں سے ہے؟ مبنیات میں سے، اس پر اعراب محلاً آتا ہے۔ تیسری بات آپ نے کہی کہ یہ مبتدا ہے، آپ کو کیسے پتہ چلا یہ مبتدا ہے؟ ہاں کیونکہ ہمارے پاس هُوَ رَجُلٌ ایک جملہ ایک جملہ ہے جس میں دو ہی لفظ ہیں اور ان دو میں سے یہ معرفہ ہے اور دوسرا نکرہ ہے، اور تو پھر اس صورت میں کیا کرتے ہیں؟ معرفہ کو مبتدا بناتے ہیں، اور یہ معرفہ ہے کیونکہ معرفہ کی اقسام میں آپ نے ضمیریں پڑھا ہے بھئی، تو مرفوع محلاً مبتدا۔ اور رَجُلٌ کا اعراب بتاؤ بھئی: مرفوع لفظاً خبر، مرفوع کیوں کہا؟ کیونکہ خبر ہے اور خبر مرفوعات میں سے ہے۔ لفظاً کیوں کہا؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں۔ ذرا تلفظ کرو: رَجُلٌ، نصب پر ذرا تلفظ کرو: رَجُلًا، جر پر کرو بھئی: رَجُلٍ، دیکھو سننے سے ہی پتہ چل رہا ہے تو یہ مرفوع لفظاً خبر۔ آپ نے کہا یہ خبر ہے، آپ کو کیسے پتہ چلا یہ خبر ہے؟ ہاں کیونکہ جملہ اسمیہ ہے اور مبتدا گزر چکا ہے تو اب کون رہ گئی؟ خبر، اور نیز اس لیے کیونکہ یہ نکرہ ہے، نکرہ ہے، یہ ضمیر بھی نہیں، یہ اسم اشارہ بھی نہیں ہے، یہ اسم موصول بھی نہیں ہے، یہ کسی کا نام بھی نہیں، اور یہ معرف باللام بھی نہیں ہے، اور نیز آگے اس کے آگے کوئی مضاف الیہ معرفہ بھی نہیں آ رہا جس کی طرف مضاف ہو کر یہ معرفہ بن جاتا، تو یہ معرفہ کی کوئی بھی قسم نہیں تو معلوم ہوا پھر کیا ہے؟ نکرہ ہے۔ تو لہٰذا دو اسم تھے: ایک معرفہ تھا ایک نکرہ، معرفہ کو ہم نے مبتدا بنایا اور نکرہ کو خبر۔ اب آپ نے ایک ایک لفظ کا اعراب نکال لیا، اب اس کو روانی سے پڑھیں: هُوَ رَجُلٌ، ترجمہ کیجیے: وہ آدمی ہے، وہ آدمی ہے۔ اگلا جملہ لکھیے بھئی: هَذَا زَيْدٌ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے آپ کو؟ ترجمہ سمجھ میں آئے گا ترکیب بھی سمجھ میں آ جائے گی، ترجمہ کیا ہے؟ یہ زید ہے، معلوم ہوا جملہ پورا ہے۔ جب جملہ پورا ہے اور فعل تو آیا نہیں اسم ہی آ رہے ہیں، معلوم ہوا کون سا جملہ بنے گا؟ جملہ اسمیہ، اور کتنے لفظ ہیں یہاں پر؟ دو ہی لفظ ہیں، اور جملہ اسمیہ میں تو ایک مبتدا ہوتا ہے ایک خبر، تو لہٰذا ایک مبتدا بنے گا اور ایک کیا بنے گا؟ خبر بنے گی۔ اور اب بتائیے بھئی حل کیجیے عبارت بھئی، اعراب بتائیے: هٰذَا پہلے اعراب بتاؤ: مرفوع محلاً مبتدا۔ اب بتائیے بھئی مرفوع کیوں؟ شاباش، کیونکہ یہ مبتدا ہے، اور محلاً کیوں کہا؟ شاباش، کیونکہ یہ اسم اشارہ ہے مبنیات میں سے اس کا اعراب محلاً آتا ہے تو مرفوع محلاً، اور یہ کیا ہے؟ مبتدا۔ اور آگے چلیے: زَيْدٌ، اعراب اس کا بتائیے: مرفوع لفظاً خبر، شاباش! مبتدا گزر گیا تھا اب خبر آگے رہ گئی تو مرفوع لفظاً خبر۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ یہ خبر ہے، اور لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، تلفظ کر کے دکھائیے: زَيْدٌ، نصب پر تلفظ کریں: زَيْدًا، جر پہ کریں: زَيْدٍ، تو دیکھو اس کا اعراب لفظاً ہوتا ہے تینوں حالتوں میں، معلوم ہوا یہ مفرد منصرف صحیح ہے بھئی۔ ایک ایک لفظ کا آپ نے اعراب نکال لیا، اب اس کو جملے کو روانی سے پڑھ دیں: هَذَا زَيْدٌ، ترجمہ کیجیے: یہ زید ہے، یہ زید ہے۔ ترکیب سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو لہٰذا اس میں آپ کو معرفہ اور نکرہ کی پہچان ہونی چاہیے بھئی۔ لہٰذا معرفہ کی قسمیں کل اچھی طرح یاد کر کے آئیں، ان کے اوپر نظر ڈال کر آئیں بھئی، گزشتہ جو جس کتاب میں بھی آپ نے پڑھا تھا یا کسی بھی کتاب میں آپ کو مل جائیں وہاں دیکھ لیں ان کی مثالیں دیکھ لیں کہ یہ معرفہ ہیں: ضمیریں، اسمائے اشارہ وغیرہ۔ اور نیز آپ کو مبنی بھی ہر وقت ذہن میں ہونا چاہیے، مبنی تو زیادہ ہیں لیکن کم از کم تین ہر وقت ذہن میں ہوں جہاں بھی آئیں فوراً پہچان جائیں، اور وہ بڑے آسان ہیں، کون کون سے ہیں تین؟ تمام ضمیریں ہیں، ضمیر جب آ جائے آپ سمجھ جائیں تو مبنی ہے، یا اسی طرح اسم اشارہ آ جائے آپ سمجھ جائیں مبنی ہے تو اسم اشارہ پہ بھی نظر ڈال کر آئیں کل کہ کون کون سے ہوتے ہیں اسمائے اشارہ، اور اسمائے موصولہ پہ بھی نظر ڈال کے آئیں کہ کون کون سے ہوتے ہیں اسم موصول، تو یہ تین جب بھی آ جائیں آپ نے ان کا اعراب ہمیشہ محلاً بتلانا ہے، لفظاً یا تقدیراً نہیں بتلانا بھئی۔ ترکیب سمجھ میں آ گئی؟ تو هَذَا زَيْدٌ مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا بھئی، جملہ اسمیہ۔ تو آسان لفظوں میں مبتدا وہ جس کے بارے میں بات کی جائے اور خبر وہ جو بات کی جائے بھئی، جو بات کی جائے۔ ترکیب ہماری ساتھ ساتھ چلتی رہے گی بھئی اسباق کے ساتھ ساتھ، اور کبھی ترکیب کے سبق شروع ہو جائیں گے، کبھی کتاب میں سے ہم سبق شروع کر دیں گے اور جو جو چیزیں پڑھتے جائیں گے کوشش کرتے جائیں گے کچھ کچھ مثالوں کے ساتھ اس کی ترکیب کرتے رہیں، انشاء اللہ جب تک کتاب مکمل ہوگی آپ کو بہترین ترکیب آ جائے گی بھئی۔ یہی ترکیبیں جو شروع میں آپ کو بڑی مشکل معلوم ہوگی لیکن دو چار دن ہی گزریں گے آپ دیکھیں گے کہ یہ تو بڑی آسان ہے اس میں کوئی مشکل ہے ہی نہیں، اور اس طرح کی ترکیبیں جہاں کہیں بھی آئیں گی آپ آسانی سے کرتے چلے جائیں گے، لیکن طریقہ یاد رکھنا بھئی: یہاں جن جن جملوں کی میں ترکیب کرواؤں آپ سے وہ آپ نے پھر بند کر کے نہیں رکھنا بلکہ اس کو وہ ترکیبیں پھر تین چار ساتھی مل کر بیٹھا کریں اس کا تکرار کیا کریں، ایک ساتھی ایک جملے کی ترکیب پوری کرے جو جس طرح میں نے کروائی ہو اور باقی ساتھی سنیں، اگر کہیں کمی آئے تو اس کو بتائیں بھئی، اور پھر دوسرا ساتھی دوسرے جملے کی پوری ترکیب کرے اور باقی ساتھی سنیں جہاں کہیں وہ غلطی کرے یا وہ کچھ بھول جائے رہ جائے باقی ساتھی اس کو بتائیں بھئی۔ تو اس طرح آپ نے وہ سارے جملوں کی بیٹھ کر ان کا ان کی ان سارے جملوں کا آپ نے بیٹھ کر تکرار کرنا ہے یعنی ان کی پھر دوبارہ ترکیب کرنی ہے۔ تو صرف یہ نہیں کہ مجھ سے سنا اور کاپی بند کر دی پھر فائدہ کم ہوگا بھئی، ہاں اس طریقے سے آپ چلیں گے یہاں بھی ترکیب کریں پھر اس کا تکرار بھی کریں، انشاء اللہ آپ دیکھیں گے دنوں کے اندر آپ کی ترکیب بہتر سے بہتر ہوتی چلی جائے گی بھئی، دنوں کے اندر۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
104 approved lectures · 30 of 104