اچھا یاد رکھیے بھئی! ہمارے ہاں عبارت پڑھتے ہوئے ایک رائج غلطی ہے، ہر ایک وہ غلطی کرتا ہے اور رائج ہے، ہر ایک کرتا ہے۔ کوئی عام طالب علم ہو، چاہے کوئی ترکیب کا، عبارت کا ماہر طالب علم ہی کیوں نہ ہو، وہ بھی غلطی کرتا ہے۔ اور وہ یہ کہ ہَمْزَۂِ وَصْل وہ درجِ عبارت میں گر جاتا ہے۔ درجِ عبارت میں گر جاتا ہے لیکن وہ طالب علم ہَمْزَۂِ وَصْل کو درجِ عبارت میں بھی پڑھتے ہیں۔
جیسے آپ جانتے ہیں یہ جو ثُلَاثِی مَزِید فِیہ وغیرہ کے جو ابواب ہیں، رُبَاعِی مَزِید فِیہ، ان کے شروع میں جو ہمزہ آتا ہے وہ ہَمْزَۂِ وَصْل ہے۔ ہَمْزَۂِ وَصْل ہے جیسے: اِنْتِقَال، اِنْتِقَال۔ اِنْتِقَال کون سا باب ہے؟ بَابِ اِفْتِعَال۔ مادہ کیا ہے؟ ن-ق-ل، نون قاف لام۔ تو اِنْتِقَال بَر وَزْنِ اِفْتِعَال۔ اب یہ اِفْتِعَال کا ہمزہ وصلی ہے۔ اِفْتِعَال کا ہمزہ وصلی ہے۔ بھئی مادہ دیکھ لو نا، نون قاف لام، تو ہمزہ کیا ہے؟ وصلی۔ اور ہَمْزَۂِ وَصْلِی درجِ عبارت میں گر جاتا ہے، لیکن آپ دیکھیں گے تمام طلبہ اس کو پڑھتے ہیں۔ جیسے مثلاً اس پر الف لام لے آؤ، تو وہ اس کو کیا پڑھتے ہیں؟ اَلْ اِنْتِقَال، اَلْ اِنْتِقَال، فِي الْ اِنْتِقَال، مِنَ الْ اِنْتِقَال۔ دیکھو پڑھ رہے ہیں یا نہیں پڑھ رہے؟ آپ غور کر لیں، سب کو آپ دیکھیں گے وہ پڑھ رہے ہیں۔ اسی طرح بَابِ اِسْتِفْعَال کا ہمزہ بھی کیا ہے؟ وصلی ہے۔ یعنی جتنے وہ مزید فیہ کے ابواب وغیرہ ہیں سوائے بَابِ اِفْعَال کے، بَابِ اِفْعَال کا ہمزہ قطعی ہے، جیسے: اِسْلَام۔ تو یہاں آپ کہہ سکتے ہیں: اَلْإِسْلَامُ، یہ ہمزہ نہیں گرے گا بھئی۔ لیکن باقی سارے ہمزہ کیا ہیں؟ وہ ہَمْزَۂِ وَصْلِی ہیں اور ہَمْزَۂِ وَصْلِی اس کو درجِ عبارت میں گراتے ہیں، پڑھتے نہیں ہیں۔
صَاحِبِ کَافِیَہ جنہوں نے کَافِیَہ جیسی عظیم کتاب لکھی نَحْو کے اندر، اسی طرح انہوں نے صَرْف میں ایک انتہائی عظیم کتاب شَافِیَہ لکھی بھئی۔ لیکن شَافِیَہ بے انتہا مشکل کتاب ہے بھئی، حتیٰ کہ اب آہستہ آہستہ یہ ہمارے نصاب سے خارج ہو گئی، ورنہ یہ عموماً پڑھائی جاتی تھی، اساتذہ اس کو پڑھاتے تھے بھئی۔ تو صرف کی بے انتہا مشکل کتاب ہے، اس کے مدرس ہی نہیں ملتے تھے پڑھانے والے ہی، اتنی مشکل کتاب ہے۔ اور اس میں وہ لکھتے ہیں: ”وَإِثْبَاتُهَا وَصْلًا لَحْنٌ“، ہَمْزَۂِ وَصْل کو ثابت رکھنا وَصْلًا، کون سی حالت میں؟ وصل کی حالت میں، ”لَحْنٌ“ یہ غلطی ہے۔ تو ہَمْزَۂِ وَصْل درمیانِ عبارت میں کبھی بھی برقرار نہیں رہتا۔ اگر آپ پڑھتے ہیں تو یہ غلطی کرتے ہیں۔ تو معلوم ہوا ”فِی الْاِنْتِقَال“ پڑھنا کیا ہے؟ غلط۔ ”فِی الْاِسْتِفْعَال“ پڑھنا کیا ہے؟ غلط۔ یا اسی طرح ”مِنَ الْاِسْتِخْرَاج“ یہ ہمزہ پڑھنا کیا ہے؟ غلط ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ ہَمْزَۂِ وَصْل ہے، یہ درجِ عبارت میں گر جائے گا۔ درجِ عبارت میں گر جائے گا۔
تو سوال پیدا ہوتا ہے پھر اس کو پڑھیں گے کیسے؟ پڑھیں گے کیسے؟ بھئی آسان سی بات ہے: اَلْاِنْتِقَال، لفظِ اِنْتِقَال ہے، اس پر ذرا الف لام لے آؤ، کیا بن گیا؟ اَلْاِنْتِقَال۔ ابھی میں بتاتا ہوں پڑھنا کیسے ہے: اَلْاِنْتِقَال۔ اب اِنْتِقَال کا ہمزہ وصلی ہے، اس کو گرا دیا، تو آگے نون ساکن اور ماقبل میں ”اَلْ“ کا لام بھی ساکن۔ تو لام بھی ساکن، نون بھی ساکن، اِجْتِمَاعِ سَاکِنَیْنِ عَلَى غَیْرِ حَدِّہٖ آیا۔ اور میں نے بتایا تھا اِجْتِمَاعِ سَاکِنَیْنِ عَلَى غَیْرِ حَدِّہٖ آئے تو اول اگر حرفِ مدہ ہو یعنی واؤ، یا اور الف اور ماقبل حرکت ان کے موافق ہو تو اس کو کیا کرتے ہیں؟ گرا دیتے ہیں۔ لیکن یہاں تو اول ساکن حرفِ مدہ نہیں ہے، تو پھر دوسری صورت یہ ہے کہ پھر پہلے ساکن کو حرکت کسرہ والی دے دیتے ہیں، کیونکہ ”اَلسَّاکِنُ إِذَا حُرِّكَ حُرِّكَ بِالْكَسْرِ“، تو ساکن کو کسرہ والی حرکت دیتے ہیں۔
لیکن یاد رکھیے یہ ہر جگہ نہیں، بعض جگہ کسی عارض کی وجہ سے فتحہ کی حرکت بھی آپ دے سکتے ہیں، آپ ضمہ کی حرکت بھی دے سکتے ہیں۔ جیسے: ”دَعَوُا اللّٰهَ“، ”دَعَوُا اللّٰهَ“، یہ واؤ پر حرکت، واؤ اور آگے لام، لفظِ اللہ کا لام، دونوں ساکن تھے، اور اول حرفِ مدہ تو ہے نہیں کیونکہ واؤ سے پہلے زبر ہے۔ تو پھر اس کو حرکت دینا پڑی، اور پھر کون سی حرکت دیں؟ ضابطہ تو ہے ”اَلسَّاکِنُ إِذَا حُرِّكَ حُرِّكَ بِالْكَسْرِ“، لیکن کسرہ نہیں دیا کیونکہ کسرہ واؤ کے بالکل ضد ہے، مخالف ہے۔ تو لہٰذا پھر ضمہ والی حرکت دے دی کیونکہ ضمہ واؤ کے موافق ہے: ”دَعَوُا اللّٰهَ“۔ تو دیکھا یہاں کسرہ نہیں دیا بلکہ ضمہ دیا ایک عارض کی وجہ سے، اور وہ عارض کیا کہ یہ ساکن جو تھا واؤ تھا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
اور کبھی کبھار فتحہ دیتے ہیں جیسے: ”مِنَ اللّٰهِ“، یہ نون کو کیا دے دیا؟ فتحہ دے دیا۔ یہاں فتحہ کیوں دیا؟ کیونکہ ”مِنْ“ میں ماقبل ایک پہلے کسرہ، میم پر پہلے ہی کسرہ ہے۔ اگر نون کو بھی کسرہ دے دیں تو کسرہ تو بڑا ثقیل ہے، تو ثقل در ثقل، دو ثقل جمع ہو جائیں گے۔ لہٰذا یہاں پر کسرہ نہیں دیا بلکہ فتحہ دے دیا۔ تو ضابطہ تو یہی ہے ”اَلسَّاکِنُ إِذَا حُرِّكَ حُرِّكَ بِالْكَسْرِ“، لیکن کسی عارض کی وجہ سے بعض اوقات فتحہ بھی دیا جا سکتا ہے اور ضمہ بھی دیا جا سکتا ہے۔
اچھا، بات چل رہی تھی ”اَلْاِنْتِقَال“ کی، تو ”اَلْاِنْتِقَال“ میں اِنْتِقَال کا ہمزہ تو وصلی گر گیا، تو لام بھی ساکن، آگے نون بھی ساکن، تو اب کیا کریں گے؟ اِجْتِمَاعِ سَاکِنَیْنِ آیا، تو پھر اس صورت میں اول حرفِ مدہ ہو اس کو گرا دیتے ہیں، لیکن یہاں تو اول حرفِ مدہ بھی نہیں، تو پھر کیا کریں گے؟ پھر بھئی اس کو حرکت دیں گے اور حرکت کون سی؟ ”اَلسَّاکِنُ إِذَا حُرِّكَ حُرِّكَ بِالْكَسْرِ“، تو کسرہ والی حرکت دی، تو یوں پڑھیں گے: ”اَلِنْتِقَالُ“، لام کو کسرہ دے کر پڑھیں گے۔ ہمزہ گر چکا: ”اَلِنْتِقَالُ“، ”اَلِنْتِقَالُ“۔ دیکھو سننے والا سمجھے گا شاید یہ ”اَلْ اِنْتِقَال“ پڑھا، ”اَلِنْتِقَالُ“۔ دیکھو، ایک دفعہ میں پڑھوں گا ہمزہ کے ساتھ، ایک دفعہ پڑھوں گا میں بغیر ہمزہ کے، آپ کو فرق پتہ نہیں چلے گا: ”اَلْ اِنْتِقَالُ“، ”اَلِنْتِقَالُ“۔ کچھ پتہ چلا؟ نہیں! تو سننے والا سمجھتا ہے شاید یہ ہمزہ کے نیچے زیر پڑھ رہا ہے، نہیں، اصل طریقہ یہ ہے کہ ہمزہ گر چکا، لام کے نیچے زیر پڑھیں: ”اَلِنْتِقَالُ“۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ ہاں، ”اَلِنْتِقَالُ“۔
یہ تو تھا اگر عبارت کے شروع میں آیا۔ اگر بیچ میں آیا، پھر تو الف لام کا ہمزہ بھی گر جائے گا، ”اَلْ“ کا ہمزہ بھی گر جائے گا۔ پھر کیسے پڑھیں گے؟ پھر کیسے پڑھیں گے؟ تو بھئی بڑا آسان ہے، پھر بھی کوئی مشکل نہیں ہے، کوئی مشکل نہیں ہے۔ مثلاً ”اَلْاِنْتِقَال“ سے پہلے میں ”بَا“ لے آیا، کیا لے آیا؟ بَا جَارَّہ، بَا جَارَّہ۔ تو بَا جَارَّہ جب الف لام پر داخل ہو تو کیسے پڑھتے ہیں؟ یوں کرو، یوں کرو، پڑھنا کیسے ہے اس کے لیے ”اَلْإِسْلَام“ کے لفظ کو ذہن میں رکھیں، ”اَلْإِسْلَام“۔ کس کو پڑھنا ہے؟ یہ جو الف لام سے پہلے آئے گا۔ ”اَلْإِسْلَام“، ”اَلْإِسْلَام“، اسلام کا ہمزہ تو قطعی ہے نا، یہ تو نہیں گرے گا۔ تو ”اَلْ“ کا پہلا ہمزہ گرے گا۔ اس کے ساتھ جب کسی لفظ کو جوڑ کر آپ جیسے پڑھتے ہیں، وہی ”اَلْاِنْتِقَال“، ”اَلْاِسْتِخْرَاج“ وغیرہ میں بھی آپ پڑھنا۔
مثلاً دیکھو ”اَلْإِسْلَام“، یہاں لام کو کسرہ نہیں دینا کیونکہ اگلا ہمزہ موجود ہے، وہ گرا نہیں، وہ ہمزہ قطعی ہے۔ اب اس کے شروع میں مِن لے آؤ، نہیں، پہلے با لے آؤ، با: ”بِالْإِسْلَامِ“، ”بِالْإِسْلَامِ“۔ دیکھو ”اَلْ“ کا ہمزہ گر گیا: ”بِلْ“، با کے نیچے زیر تھا، لام ساکن ہے: ”بِالْإِسْلَامِ“۔ تو اسی طرح وہاں بھی لے آئیں، ”اَلْاِنْتِقَال“ میں کیسے پڑھیں گے؟ ”بِلْ اِنْتِقَال“؟ نہیں، ”بِلْ اِنْتِقَال“ یہ تو آپ نے پھر وہی کام کر دیا۔ لام کے نیچے کسرہ ہی پڑھو۔ ہاں، با کے نیچے زیر پڑھو، اب با کو لام کے ساتھ نہ جوڑو کیونکہ لام تو پہلے ہی متحرک ہے: ”بِـلِنْتِقَالِ“، ”بِـلِنْتِقَالِ“۔ دیکھو سننے والے کو نہیں پتہ چلے گا کہ آپ نے ”بِلْ“ پڑھا ہے یا ”بِـلِنْتِقَالِ“، ”بِـلِنْتِقَالِ“، ”بِلِنْتِقَالِ“، ”بِلِنْتِقَالِ“۔ دیکھو، پتہ چل رہا ہے کوئی؟ نہیں۔
اچھا اور دیکھ لیں، ”مِنْ“ کو میں جوڑنا چاہتا ہوں ”اَلْاِنْتِقَال“ کے ساتھ، ”مِنْ“ کو، اب کیسے پڑھیں؟ دیکھو ”اَلْإِسْلَام“ کے شروع میں ذرا ”مِنْ“ لے آؤ، وہاں کیسے پڑھتے ہو؟ بالکل بعینہٖ یہاں بھی ویسے ہی پڑھنا۔ وہاں کیا تھا؟ ”مِنَ الْإِسْلَامِ“، ”مِنَ الْإِسْلَامِ“۔ وہاں آپ نے یہ نہیں دیکھنا، وہاں تو لام ساکن ہے اور ”اَلْاِنْتِقَال“ میں تو لام کیا ہے؟ متحرک ہے۔ ”اَلْاِنْتِقَال“ میں تو لام کو کسرہ ہم دے چکے ہیں یا نہیں دے چکے؟ اس میں تو ہم لام کو کسرہ دے چکے ہیں، اور ”اَلْإِسْلَام“ اس میں تو لام کیا ہے؟ ساکن ہے: ”بِالْإِسْلَامِ“۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو لام کو نہیں دیکھنا، لام سے ماقبل کو کیسے پڑھنا ہے صرف یہ دیکھو۔ جیسے ”بِالْإِسْلَامِ“ میں با کے نیچے ہم کیا پڑھ رہے تھے؟ کسرہ۔ تو ”بِـلِنْتِقَالِ“۔ ”بِالْإِسْلَامِ“ اس میں ہم با کے نیچے کیا پڑھ رہے تھے؟ کسرہ۔ تو وہی کسرہ ”بِـلِنْتِقَالِ“ میں بھی پڑھیں گے۔ صورت سمجھ... ہاں، جوڑیں گے ساتھ نہیں، کیونکہ لام پہلے ہی متحرک ہے: ”بِـلِنْتِقَالِ“۔
دوسرا لفظ ہے اب ”مِنْ“ کو جوڑو ذرا ”اَلْإِسْلَام“ سے، کیسے پڑھتے ہو؟ ”مِنَ الْإِسْلَامِ“۔ لیکن ”مِنَ“ میں نون کو تو لام کے ساتھ جوڑ رہے ہیں۔ لام سے جوڑنے کو چھوڑ دو، کیونکہ لام سے جوڑنا تو ”مِنَ الْاِنْتِقَال“ میں لام سے جوڑنا نہیں۔ صرف یہ دیکھو لام سے پہلے جو نون ہے اور میم ہے ان کو کیسے پڑھ رہے ہو؟ میم کے نیچے مِـ زیر ہے اور نون پر کیا ہے؟ فتحہ۔ بعینہٖ اسی طرح آپ نے کہاں پڑھنا ہے؟ ”اَلْاِنْتِقَال“ میں بھی۔ کیسے؟ ”مِنَ لِنْتِقَالِ“، ”مِنَ لِنْتِقَالِ“۔ صورت سمجھ میں آئی؟ ”مِنَ لِنْتِقَالِ“، لام کے نیچے اسی طرح کسرہ پڑھنا ہے، نون کو اس کے ساتھ جوڑنا نہیں ہے، ”مِنَلْ“ نہیں۔ ”مِنَ لِنْتِقَالِ“، تیز پڑھوں گا دیکھو پتہ ہی نہیں چلے گا: ”مِنَ لِنْتِقَالِ“، ”مِنَ لِنْتِقَالِ“۔ پتہ چلا کوئی؟ سننے والا سمجھا شاید میں نے ”مِنَ الْاِنْتِقَال“ پڑھا، نہیں، میں نے ”مِنَ الْاِنْتِقَال“ نہیں پڑھا، میں نے پڑھا: ”مِنَ لِنْتِقَالِ“، ”مِنَ لِنْتِقَالِ“۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
سوال یہ کہ لام کو تو ہم حرکت دے چکے، تو ”مِنْ لِنْتِقَالِ“ ہونا چاہیے، کیا ہونا چاہیے؟ ”مِنْ لِنْتِقَالِ“۔ سوال پھر دوبارہ سمجھو: ”مِنَ الْإِسْلَامِ“، ذرا اس پہ نظر کرو۔ ”مِنَ“ میں نون کو فتحہ کیوں دیا؟ کیونکہ نون بھی ساکن، آگے ”اَلْإِسْلَام“ کا لام بھی ساکن، تو اِجْتِمَاعِ سَاکِنَیْنِ آیا، اور اس صورت میں کسرہ دیتے ہیں لیکن یہاں پر کیا دے دیتے ہیں؟ فتحہ۔ تو کیا بنا؟ ”مِنَ“۔ تو یہ جو فتحہ دیا یہ اِجْتِمَاعِ سَاکِنَیْنِ کی وجہ سے دیا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو سوال: ”مِنْ لِنْتِقَالِ“، وہاں تو لام ساکن نہیں ہے، وہاں تو ”مِنْ لِنْتِقَالِ“ لام کو کیا دے چکے؟ کسرہ۔ تو ماقبل میں نون تو ساکن ہے لیکن لام تو ساکن نہیں، تو اِجْتِمَاعِ سَاکِنَیْنِ آیا ہی نہیں۔ جب اِجْتِمَاعِ سَاکِنَیْنِ آیا ہی نہیں تو نون کو فتحہ کیوں دیتے ہو؟ اشکال سمجھ میں آیا؟ جواب یہ کہ لام کو جو ہم نے حرکت دی ہے وہ اس کی اصلی حرکت ہے یا عارضی دی ہے؟ عارضی حرکت دی ہے۔ جب عارضی حرکت دی ہے تو یوں سمجھو گویا لام ابھی بھی ساکن ہی ہے، کیونکہ عارضی، یاد رکھو یہ جو عارضی حرکت ہوتی ہے وہ سکون کے حکم میں ہوتی ہے۔ عارضی حرکت کس میں ہوتی ہے؟ سکون کے حکم میں ہوتی ہے۔ جیسے زَرَّادِی کے اندر صَاحِبِ زَرَّادِی فرماتے ہیں کہ حرکتِ عارضی در حکمِ سکون است، حرکتِ عارضی کس کے حکم میں ہے؟ سکون کے حکم میں ہے۔
لہٰذا، لہٰذا ”مِنْ اَلْاِنْتِقَال“، انتقال کا ہمزہ گر گیا، کیا بنا؟ ”لِنْتِقَال“۔ پھر ”اَلْ“ کا ہمزہ بھی گر گیا، اب کیا بنا؟ ”لِنْتِقَال“۔ اب ہم کیا کرنے لگے ہیں؟ ”مِنْ“ کا نون بھی ساکن اور ”لِنْتِقَال“ لام بھی اگرچہ متحرک ہے عارضی ہے، اگرچہ متحرک ہے لیکن یہ حرکت عارضی ہے، تو گویا یوں سمجھو یہ ابھی بھی کیا ہے؟ ساکن ہے۔ جب ساکن ہے تو نون بھی ساکن، لام بھی ساکن، اِجْتِمَاعِ سَاکِنَیْنِ آیا۔ تو اِجْتِمَاعِ سَاکِنَیْنِ میں ”مِنْ“ کے نون کو کیا دے دیتے ہیں؟ فتحہ، تو اس پر فتحہ پڑھیں گے اور پھر یوں پڑھیں گے: ”مِنَ لِنْتِقَالِ“، ”مِنَ لِنْتِقَالِ“۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
اچھا، آپ ”فِی“ کو جوڑنا چاہتے ہیں ”اَلْاِنْتِقَال“ سے، پھر کیسے پڑھیں گے؟ وہی طریقہ، ”اَلْإِسْلَام“ کے شروع میں ذرا ”فِی“ کو لے جاؤ: ”فِی الْإِسْلَامِ“، ”فِی الْإِسْلَامِ“۔ اس میں تو لام ساکن ہے، لیکن اسلام میں ساکن کو نہیں دیکھنا، بس ماقبل کو دیکھو۔ ”فِی“ کو کیسے پڑھ رہے ہو صرف یہ دیکھو۔ ”فِی الْإِسْلَامِ“، کیسے پڑھ رہے ہو؟ ”فِلْ“، فا کے نیچے زیر پڑھ رہے ہو اور یا گر چکی ہے۔ ”فِی الْإِسْلَامِ“ نہیں پڑھ رہا میں، ”فِلْإِسْلَامِ“۔ بھئی یا کیوں گری؟ کیونکہ یا بھی ساکن، لام بھی ساکن، اِجْتِمَاعِ سَاکِنَیْنِ آیا، اور اول حرفِ مدہ ہے یا، اس کو گرا دیا، تو کیا بنا؟ ”فِلْإِسْلَامِ“۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ معلوم ہوا ”فِی“ کو جب ہم ”اَلْإِسْلَام“ سے جوڑتے ہیں تو یا گر جاتی ہے۔ تو بس یہ یہاں ”اَلْاِنْتِقَال“ کے ساتھ جوڑتے ہوئے بھی کیا کرو؟ یا کو گرا دو اسی طرح۔ کیسے پڑھیں گے؟ ”اَلْاِنْتِقَال“ سے جوڑو ”فِی“ کو: ”فِـلِنْتِقَالِ“، فا کے نیچے صرف زیر پڑھ دو: ”فِـلِنْتِقَالِ“۔ اور یہ یا کیوں گری؟ اِجْتِمَاعِ سَاکِنَیْنِ کہاں آیا ہے؟ یا تو ساکن ہے لیکن آگے لام تو متحرک ہے؟ ہاں، وہ عارضی حرکت ہے، وہ گویا ابھی بھی ساکن ہے، تو اِجْتِمَاعِ سَاکِنَیْنِ آیا، تو ”فِی“ کی یا حرفِ مدہ تھی وہ گر گئی، تو کیسے پڑھیں گے؟ ہاں، صرف فا کے نیچے زیر پڑھو اور آگے ”لِنْتِقَالِ“: ”فِـلِنْتِقَالِ“، ”فِـلِنْتِقَالِ“۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
تو یہ طریقہ ہے۔ بس جس لفظ کو بھی جوڑنا ہے ”اَلْإِسْلَام“ کے ساتھ اس کو جوڑ کر دیکھ لیا کرو کہ اس ماقبل والے کو کیسے آپ حرکت دے رہے ہیں یا حذف کر رہے ہیں۔ جو صورت بن رہی ہو وہی صورت کہاں پر پڑھ لو؟ انتقال میں۔ مثلاً یہی ”دَعَوْا“، ”دَعَوْا“ کو مثلاً جوڑ لیتے ہیں ویسے ہی سمجھانے کے لیے، اسے ”اَلْإِسْلَام“ سے جوڑو: ”دَعَوُا الْإِسْلَامَ“۔ معلوم ہوا واؤ پہ ضمہ دینا پڑے گا واؤ کو۔ تو یہی صورت اب یہاں بھی بنا لو: ”دَعَوُا لِنْتِقَالَ“، ”دَعَوُا لِنْتِقَالَ“۔ دیکھا، صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہ ہمارے ہاں رائج غلطی ہے، وہ اس ہَمْزَۂِ وَصْلِی جو مصادر کے ہمزہ ہیں ان کو درجِ عبارت میں بھی پڑھتے ہیں، حالانکہ درجِ عبارت میں پڑھنا ہَمْزَۂِ وَصْل کا یہ غلطی ہے بھئی، تو آپ نے آئندہ خیال رکھنا ہے بھئی، خوب اچھی طرح۔ بات سمجھ میں آگئی؟
اور دیکھ لیں مثلاً: ”اَلْاِسْتِخْرَاجُ“، ”اَلْاِسْتِخْرَاجُ“، اس کو کیسے پڑھیں گے؟ شروع میں کچھ نہ جوڑو، ویسے پڑھو: ”اَلِسْتِخْرَاجُ“، لام کو کسرہ دے دیں گے: ”اَلِسْتِخْرَاجُ“۔ ہاں، اس کے شروع میں ”فِی“ پڑھو: ”فِلِسْتِخْرَاجِ“۔ اس کے شروع میں ”مِنْ“ پڑھو: ”مِنَ لِسْتِخْرَاجِ“۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو سب میں اسی طرح طریقہ ہے، چند دن ہی آپ مشق کریں گے آپ کہیں گے یہ تو بہت آسان ہے بھئی، لیکن ہے بہرحال یہ رائج غلطی بھئی۔
اسی طرح یاد رکھیے، یاد رکھیے! آپ نے پڑھا ہے کہ جملہ اور شِبہ جملہ کو جب بھی کسی چیز سے جوڑیں، درمیان میں ربط ضروری ہے۔ اور وہ ربط، وہ جو چیز ربط دے گی یعنی رابط جو ہے، اس کی کئی صورتیں ہیں۔ ایک صورت یہ ہے کہ وہ کوئی غائب کی ضمیر ہو جو اس لفظ کی طرف لوٹے جس کے ساتھ آپ اس جملہ یا شبہ جملہ کو جوڑ رہے ہیں۔ غائب کی ضمیر ہونی چاہیے، یہ عائد کی ایک صورت تھی۔ جیسے: ”زَیْدٌ ضَارِبٌ“، ”ضَارِبٌ“ کے اندر ”هُوَ“ ضمیر ہے جو کس کو راجع ہے؟ زید کو راجع ہے۔
اور بعض اوقات جس لفظ کے ساتھ آپ اس جملہ یا شبہ جملہ کو جوڑ رہے ہیں وہ خود ہی اس کے اندر آجائے، تو اس صورت میں بھی ربط آ جائے گا، یہ عائد کی دوسری قسم ہے۔ جیسے: ”اَلْحَاقَّةُ مَا الْحَاقَّةُ“، ”اَلْحَاقَّةُ“ ہے مبتدا، اور ”مَا الْحَاقَّةُ“ ہے اس کی خبر، اور ”مَا الْحَاقَّةُ“ پورا جملہ ہے اور یہ خبر بن رہا ہے تو اس کے لیے ربط ضروری، اور وہ ربط یہاں کیا ہے کہ جس ”اَلْحَاقَّةُ“ سے آپ جوڑ رہے ہیں وہی ”اَلْحَاقَّةُ“ خود اس ”مَا الْحَاقَّةُ“ کے اندر آ گیا، تو ربط آ گیا، جوڑ آ گیا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یا جیسے: ”أَنَا قَائِمٌ“، انا کے ساتھ قائم جوڑ رہے ہیں اور قائم کے اندر خود کیا آگئی؟ انا ضمیر آگئی، تو جس سے جوڑ رہے تھے وہی ضمیر اس کے اندر آگئی۔ یا جیسے: ”أَنْتَ قَائِمٌ“، تو اس قائم میں کیا آگئی؟ انت ضمیر آگئی کیونکہ آپ اس کو انت کے ساتھ جوڑ رہے ہیں۔ میں نے آپ کو بتایا تھا کہ یہ صفت کے صیغے کو جس قسم کی ضمیر سے جوڑیں اس کے اندر بھی وہی ضمیر ہوتی ہے۔ اگر متکلم کی ضمیر سے جوڑ رہے ہیں تو اس میں متکلم کی ضمیر ہوگی، اگر غائب کی ضمیر سے جوڑ رہے ہیں تو غائب کی ضمیر ہوگی، اور اگر مخاطب کی ضمیر سے جوڑ رہے ہیں تو پھر اس میں بھی مخاطب کی ضمیر ہوگی، جیسے ”أَنْتَ قَائِمٌ“ یا ”أَنْتَ ضَارِبٌ“، تو اس کے اندر انت ضمیر ہے بھئی ضارب اور قائم میں۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
یہ عائد کی دوسری قسم۔ پہلی قسم کیا؟ کوئی غائب کی ضمیر ہو۔ دوسری صورت یہ کہ جس لفظ سے جوڑ رہے ہیں وہ خود ہی اس کے اندر آجائے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ بعض اوقات اس میں الف لام آئے گا۔ میں نے آپ کو بتایا تھا الف لام کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے، اشارہ کیا جاتا ہے۔ جیسے افعالِ مدح و ذم آپ پڑھیں گے: ”نِعْمَ الرَّجُلُ زَیْدٌ“، ”نِعْمَ الرَّجُلُ زَیْدٌ“۔ تو اس میں ایک ترکیب یہ ہے: ”نِعْمَ“ فعل از افعالِ مدح، ”اَلرَّجُلُ“ مرفوع لفظاً اس کا فاعل، اور فعل اپنے فاعل سے مل کر یہ ہے خبرِ مقدم، اور ”زَیْدٌ“ کیا ہے؟ مبتدائے مؤخر۔ سوال یہ کہ ”نِعْمَ الرَّجُلُ“ یہ تو جملہ ہوا اور اس کو آپ خبر بنا رہے ہیں ”زَیْدٌ“ مؤخر کے لیے، تو پھر تو درمیان میں ربط ضروری، عائد ہونا چاہیے، رابط ہونا چاہیے؟ تو جواب یہ کہ یہ جو ”اَلرَّجُلُ“ پر الف لام داخل ہے، یہ الف لام رابط ہے، یہ ربط دے رہا ہے، کیونکہ الف لام کے ذریعے کسی چیز کی طرف کیا ہوتا ہے؟ اشارہ ہوتا ہے۔ تو یہاں بھی الف لام کے ذریعے کس کی طرف اشارہ ہے؟ زید۔ یعنی یوں کہو یہ الف لام عہدِ خارجی ہے، اس سے کوئی متعین شخص مراد ہے اور وہ کون سا شخص ہے؟ زید۔ تو ”اَلرَّجُلُ“ سے زید خود مراد ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہ عائد آگیا۔
اور اسی طرح بعض اوقات بغیر عائد کے ہوگا جملہ، کیونکہ وہ جملہ خود اس ضمیر کی تفسیر ہے۔ جیسے ضمیرِ شان اور ضمیرِ قصہ، وہ کسے کہتے ہیں؟ ایک مبہم ضمیر ہوتی ہے، آگے آنے والا جملہ کیا کرتا ہے؟ اس کی تفسیر کرتا ہے: ”إِنَّهُ زَیْدٌ قَائِمٌ“، یقیناً شان یہ ہے کہ ”زَیْدٌ قَائِمٌ“ زید کھڑا ہے۔ سوال: یہ ”إِنَّهُ“، إِنَّ حرف از حروفِ مشبہ بالفعل، ہَا ضمیر اس کا اسم، اور ”زَیْدٌ قَائِمٌ“ پورا جملہ اس کی خبر، اور پورے جملے کو آپ کس سے جوڑ رہے ہیں؟ ”إِنَّهُ“ کی ہَا ضمیر سے، کیونکہ إنّ کی خبر کو إنّ کے اسم سے جوڑتے ہیں۔ تو عائد کیا ہے، رابط کیا ہے؟ جواب یہ کہ یہاں کسی رابط کی ضرورت نہیں، کیونکہ یہ آگے جملہ جو آ رہا ہے یہ اسی ضمیر کی تفسیر ہے۔ تو ضمیر ہوئی مفسَّر اور یہ کیا ہوئی؟ تفسیر۔ تو یہ دونوں ایک ہی چیز ہیں۔ ہَا ضمیر بھی کیا ہے؟ وہی ”زَیْدٌ قَائِمٌ“ ہے بھئی۔ تو جب دونوں میں اتحاد ہے، دونوں ایک ہی چیز ہیں تو پھر اور کیا ربط چاہیے؟ اس سے بڑھ کر ربط کیا ہوگا، دونوں ایک ہی چیز ہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو لہٰذا وہاں کسی عائد کی ضرورت نہیں کیونکہ دونوں ایک ہی چیز ہیں، ربط موجود ہے، وہ اسی کی تفسیر ہے، کوئی الگ چیز ہے ہی نہیں۔ کوئی الگ چیز ہوتی تو پھر ربط کی ضرورت ہوتی، جب الگ ہے ہی نہیں تو ربط کی بھی ضرورت نہیں، ربط پہلے سے ہی موجود ہے پورے طور پر۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
اسی طرح یاد رکھیے، بعض اوقات جو عائد ہوگا اس میں بعض اوقات معنی کی بھی رعایت رکھ لیتے ہیں، لفظوں کے بجائے کس کی رعایت رکھی؟ معنی کی رعایت رکھی۔ جیسے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا شعر ہے، یہ لکھ لیجیے بھئی:
”أَنَا الَّذِي سَمَّتْنِي أُمِّي حَيْدَرَهْ“
”أَنَا الَّذِي سَمَّتْنِي“، سین میم مشدد، تا دو نقطوں والی، نون اور یا:
”أَنَا الَّذِي سَمَّتْنِي أُمِّي حَيْدَرَهْ“
”حَيْدَرَهْ“، آخر میں گول تا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
دیکھو ترکیب کیسے ہوگی، سمجھ لو، دیکھ لو اس کو: ”أَنَا“ مرفوع محلاً مبتدا، ”اَلَّذِي“ مرفوع محلاً اسمِ موصول، مرفوع کیوں؟ کیونکہ یہ خبر ہے۔ اچھا پہلے معنی دیکھ لو: ”أَنَا الَّذِي“ میں وہ شخص ہوں، ”سَمَّتْنِي أُمِّي“ کہ میرا نام رکھا میری ماں نے ”حَيْدَرَهْ“ حیدر بھئی یعنی شیر۔ میں وہ شخص ہوں جس کی ماں نے اس کا نام شیر رکھا یعنی حیدر رکھا، بات سمجھ میں آئی؟ اچھا، اب ترکیب کیا ہوئی؟ ”أَنَا“ مرفوع محلاً مبتدا، ”اَلَّذِي“ مرفوع محلاً کیونکہ خبر ہے اسمِ موصول، اور اس میں آگے صلہ آتا ہے، اور صلے کو موصول سے جوڑنے کے لیے کیا ضروری؟ عائد اور رابط ضروری ہے۔ تو یہاں ”سَمَّتْنِي“، ”سَمَّتْ“ فعل، نام رکھا، کس نے رکھا؟ ”أُمِّي“ وہ فاعل آگے آ رہا ہے۔ نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، ”أُمِّ“ مرفوع، اعراب بولو جلدی کرو، مرفوع تقدیراً، کیونکہ آگے یہ یا ضمیر کی طرف مضاف ہے اور جو اسم بھی یا ضمیر کی طرف مضاف ہو علاوہ جمع مذکر سالم کے اس کا اعراب تینوں حالتوں میں تقدیری ہوتا ہے۔ تو ”أُمِّ“ مرفوع تقدیراً مضاف، یا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر فاعل ہوا ”سَمَّتْ“ کے لیے۔ اور آگے ”حَيْدَرَهْ“ منصوب لفظاً مفعولِ ثانی۔ نام رکھا، یہ سمّٰی دو مفعول چاہتا ہے: میری ماں نے میرا حیدر نام رکھا بھئی۔ تو فعل اپنے فاعل اور دونوں مفعولوں سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر صلہ۔
سوال: عائد کدھر ہے؟ یہاں تو غائب کی ضمیر ہے ہی نہیں، ”حَيْدَرَهْ“ اس کے آخر میں یہ جو گول ہا ہے یہ تا ہے، گول تا ہے۔ تو یہاں تو کوئی غائب کی ضمیر ہی نہیں ہے، تو عائد کدھر ہے؟ جواب یہ کہ یہ جو متکلم کی ضمیریں آ رہی ہیں یہ ربط دے رہی ہیں۔ یعنی یوں کہو یہاں پر معنی کی رعایت رکھی گئی، کیونکہ ”اَلَّذِي“ سے کون مراد ہے؟ خود متکلم مراد ہے۔ جب خود متکلم مراد ہے تو پھر یہ یا ضمیر یہ ربط دے رہی ہے، کیونکہ یا ضمیر بھی کون ہے، کس کی ہے؟ متکلم ہی کی تو ہے، بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہاں بعض اوقات جو رابط ہوتا ہے اس میں وہ معنی کی رعایت رکھی جاتی ہے، تو یہاں بھی کس کی رعایت رکھی گئی؟ معنی کی۔ ”اَلَّذِي“ اگرچہ غائب کے درجے میں ہے۔ یاد رکھو یہ جو اسمِ ظاہر ہوتا ہے نا یہ غائب کے درجے میں ہوتا ہے۔ اسمِ ظاہر جانتے ہو؟ ایک ہے ضمیر، ضمیر کے علاوہ جتنے دنیا کے اسم ہیں وہ سارے کیا ہیں؟ اسمِ ظاہر، اور اسمِ ظاہر غائب کے درجے میں ہوتا ہے، یعنی اس کی طرف غائب کی ضمیر لوٹاتے ہیں۔ تو ”اَلَّذِي“ ضمیر ہے؟ اسمِ موصول ہے، ہے تو اسم لیکن ضمیر نہیں، جب ضمیر نہیں تو یہ اسمِ ظاہر ہوا، اور اسمِ ظاہر کس کے درجے میں؟ غائب کے، جب غائب کے درجے میں ہو تو اس کی طرف ضمیر کون سی لوٹائیں گے؟ غائب کی، لیکن یہاں پر غائب کی ضمیر نہیں لوٹائی، ”اَلَّذِي“ سے خود متکلم مراد ہے: ”أَنَا الَّذِي“ میں ہوں وہ جو کہ، تو اس سے متکلم، جب متکلم مراد ہے تو یا کے ذریعے ربط دے دیا، یا بھی کس پر دلالت کر رہی ہے؟ متکلم پر۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو بعض اوقات جو رابط ہوتا ہے اس میں وہ معنی کی رعایت رکھتے ہوئے لایا جاتا ہے۔ تو حضرت علی کا شعر ہے بھئی:
”أَنَا الَّذِي سَمَّتْنِي أُمِّي حَيْدَرَهْ كَلَيْثِ غَابَاتٍ كَرِيهِ الْمَنْظَرَهْ“
یہ آپ ان شاء اللہ شاید غالباً شَرْحِ جَامِی میں جا کر پڑھیں گے بھئی۔
مبتدا اور خبر میں مطابقت کی شرائط میں نے آپ کو لکھوائی ہیں؟ بتلائی ہیں؟ وصف خاص للمؤنث نہ ہو، مشتق ہو، ضمیر ہو... نہیں لکھوائیں؟ اچھا، چلیں لکھ لیں بھئی!
مبتدا اور خبر میں مطابقت کے لیے چار شرائط ہیں۔
مبتدا اور خبر میں مطابقت کے لیے چار شرائط ہیں:
شرطِ اول: خبر مشتق ہو۔ خبر مشتق ہو۔
نمبر دو: اس میں کوئی ضمیر ہو جو مبتدا کی طرف لوٹے، جو مبتدا کی طرف لوٹے۔ جیسے: ”زَیْدٌ ضَارِبٌ“، ”زَیْدٌ ضَارِبٌ“۔ دیکھو ”زَیْدٌ“ ہے مبتدا اور ”ضَارِبٌ“ ہے خبر، اور یہ ”ضَارِبٌ“ کیا ہے؟ مشتق ہے، مشتق کا صیغہ، اور اس کے اندر ”هُوَ“ ضمیر ہے جو کس کی طرف لوٹ رہی ہے؟ زید کی طرف۔ تو لہٰذا اب مطابقت ضروری ہے، لہٰذا اب مؤنث ہو تو یوں کہیں گے: ”هِنْدٌ ضَارِبَةٌ“، لکھیے بھئی! جیسے ”هِنْدٌ ضَارِبَةٌ“۔ دیکھو مشتق کا صیغہ ہے کہ نہیں بھئی خبر؟ اور اس میں ضمیر بھی ہے، لہٰذا مبتدا کے ساتھ مطابقت ضروری: مذکر کے لیے مذکر، مؤنث کے لیے مؤنث، تثنیہ کے لیے تثنیہ، جمع کے لیے جمع بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟
تیسری شرط: خبر ایسا وصف نہ ہو جو مؤنث کے ساتھ خاص ہو۔ خبر ایسا وصف نہ ہو جو مؤنث کے ساتھ خاص ہو۔ جیسے: ”طَالِقٌ“، ط-ا-ل-ق، ”طَالِقٌ“ طلاق سے ہے طلاق سے، ”طَالِقٌ“، ”حَامِلٌ“، ”حَامِلٌ“، ”مُرْضِعٌ“، ”مُرْضِعٌ“، م-ر-ض-ع۔ دیکھو یہ وصف خاص ہیں عورت کے ساتھ۔ ”طَالِقٌ“ طلاق والی کون ہوتی ہے؟ عورت۔ ”حَامِلٌ“ حاملہ کون ہوتی ہے؟ عورت۔ ”مُرْضِعٌ“ دودھ پلانے والی وہ کون ہے؟ عورت۔ مردوں میں یہ صفات ہیں ہی نہیں، لہٰذا یہاں تا کے ذریعے فرق کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔ بھئی دیکھیے نا، دیکھیے، آپ مذکر کے لیے کہتے ہیں ”ضَارِبٌ“ اور مؤنث کے لیے کہتے ہیں ”ضَارِبَةٌ“۔ اسی طرح مؤنث کے لیے کہتے... مذکر کے لیے آپ کہتے ہیں ”قَائِمٌ“ اور مؤنث کے لیے کہتے ہیں ”قَائِمَةٌ“، تا کے ذریعے فرق کرتے ہیں، کیونکہ وہ وصف مذکر مؤنث دونوں میں ہو سکتا ہے، پٹائی کرنے والا مرد بھی ہو سکتا ہے اور عورت بھی، تو فرق کرنے کے لیے پھر مؤنث کے لیے تا لاتے ہیں۔ قیام کرنے والا مرد بھی ہو سکتا ہے عورت بھی ہو سکتی ہے، تو دونوں کے لیے یہ صفت ہو سکتی ہے تو فرق کرنے کے لیے کیا لاتے ہیں؟ تا۔ لیکن اگر وصف ایسا ہے جو خاص ہے مؤنث کے ساتھ، مرد میں وہ مذکر میں وہ پایا ہی نہیں جاتا، تو پھر فرق کے لیے تا لانے کی بھی ضرورت نہیں۔ لہٰذا یہ ”طَالِقٌ“، ”حَامِلٌ“، ”مُرْضِعٌ“ اس میں تا لانے کی ضرورت نہیں، یوں کہیں گے: ”اَلْمَرْأَةُ طَالِقٌ“، لکھیں بھئی: ”اَلْمَرْأَةُ“، یہ امرأۃ کا ہمزہ بھی وصلی ہے یہ گر جائے گا: ”اَلْمَرْأَةُ طَالِقٌ وَحَامِلٌ وَمُرْضِعٌ“۔
صورت سمجھ میں آگئی؟ اور اس ”طَالِقٌ“ میں کون سی ضمیر ہوگی؟ ”هِیَ“ نکالیں گے، ”هُوَ“ نہیں، کیونکہ یہ تو مذکر کے لیے وصف ہے ہی نہیں، تو اس میں بغیر تا جوڑے ہی مؤنث کی ضمیر نکالیں گے: ”هِیَ“۔ ”حَامِلٌ“ میں بھی ”هِیَ“، اور ”مُرْضِعٌ“ میں بھی ”هِیَ“ ضمیر: ”اَلْمَرْأَةُ مُرْضِعٌ“ وہ عورت دودھ پلانے والی ہے تو ”هِیَ“ ضمیر، ”اَلْمَرْأَةُ حَامِلٌ“ وہ عورت حاملہ ہے اس میں بھی کیا ضمیر؟ ”هِیَ“ ضمیر، ”اَلْمَرْأَةُ طَالِقٌ“، طالق میں بھی کون سی ضمیر؟ ”هِیَ“ ضمیر ہے۔ لیکن ایک بات یاد رکھیے، یہ ”حَامِلٌ“ وہ صورت ہے جب حمل ہے، حاملہ ہو۔ ایک حامل کا معنی بوجھ اٹھانا ہے، وزن اٹھانا، وہ تو مرد بھی اٹھاتا ہے، عورت بھی کوئی بوجھ اٹھا سکتی ہے، مرد بھی اٹھا سکتا ہے، تو اگر وہ معنی ہو پھر مذکر کے لیے ”حَامِلٌ“ اور مؤنث کے لیے ”حَامِلَةٌ“ کہیں گے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
چوتھی شرط: وہ وصف، وہ وصف مُسَاوٍ لِلْمُذَكَّرِ وَالْمُؤَنَّثِ نہ ہو۔ وہ وصف مُسَاوٍ لِلْمُذَكَّرِ وَالْمُؤَنَّثِ نہ ہو، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ یعنی پہلے سمجھ لو اس کو، یعنی وہ جو وصف آ رہا ہے آگے خبر کی صورت میں ہے، وصف، وہ ایسا وصف نہ ہو جو مذکر اور مؤنث کے لیے یکساں رہتا ہے، بدلتا ہی نہیں ہے، بدلتا ہی نہیں ہے، مذکر کے لیے بھی وہی صیغہ مؤنث کے لیے بھی، ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ آگے لکھیے: اور وہ چار قسم کے صیغے ہیں، اور وہ چار قسم کے صیغے ہیں:
نمبر ایک: فَعِیل بِمَعْنَى مَفْعُول۔ فَعِیل بِمَعْنَى مَفْعُول، جیسے: ”جَرِیحٌ“ بِمَعْنَى ”مَجْرُوحٍ“، ج-ر-ی-ح، جیسے: ”جَرِیحٌ“ بِمَعْنَى ”مَجْرُوحٍ“۔ یاد رکھیے یہ ”جَرِیحٌ“ مذکر اور مؤنث دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، وہ فَعِیل جو کس معنی میں ہو؟ مفعول کے معنی میں ہو۔ یہ جریح کس معنی میں ہے؟ مجروح یعنی زخمی۔ تو یہ مذکر مؤنث دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، کیسے کہتے ہیں؟ ”اَلرَّجُلُ جَرِیحٌ“، ”اَلْمَرْأَةُ جَرِیحٌ“۔ یہاں تا کے ذریعے فرق نہیں کریں گے کیونکہ یہ دونوں کے لیے یکساں رہتا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہ اب یہاں آپ اشکال نہیں کر سکتے کہ یہ تو مطابقت نہیں، بھئی مطابقت کے لیے ہم نے کہا تھا چار شرطیں ہوں اور ان میں سے ایک شرط یہ تھی کہ وہ فَعِیل بِمَعْنَى مَفْعُول نہ ہو، اور یہ تو فَعِیل بِمَعْنَى مَفْعُول ہے لہٰذا یہاں آپ یہ نہ کہیں کہ تا لانی پڑے گی۔
اور دوسرا وزن... میں نے بتایا نا وہ وصف مُسَاوٍ لِلْمُذَكَّرِ وَالْمُؤَنَّثِ نہ ہو اور وہ چار وزن ہیں: نمبر ایک کیا؟ فَعِیل بِمَعْنَى مَفْعُول نہ ہو۔ نمبر دو: فَعُول بِمَعْنَى فَاعِل نہ ہو۔ فَعُول بِمَعْنَى فَاعِل نہ ہو، جیسے ”صَبُورٌ“ بِمَعْنَى ”صَابِرٍ“، صبور صاد کے ساتھ، جیسے ”صَبُورٌ“ بِمَعْنَى ”صَابِرٍ“۔ یہ بھی یاد رکھو، یہ وہ فَعُول جو بمعنی فاعل کے ہو وہ مذکر اور مؤنث کے لیے یکساں رہتا ہے: ”اَلْمَرْأَةُ صَبُورٌ“، ”اَلرَّجُلُ صَبُورٌ“، دیکھا یہ دونوں کے لیے یکساں رہتا ہے۔ نمبر تین: مبالغے کا صیغہ، نمبر تین: مبالغے کا صیغہ۔ ذرا عبارت دوبارہ پڑھو میں نے لکھوائی کیا، شروع سے: وہ وصف مُسَاوٍ لِلْمُذَكَّرِ وَالْمُؤَنَّثِ نہ ہو۔ نمبر ایک: فَعِیل بِمَعْنَى مَفْعُول نہ ہو۔ ”جَرِیحٌ“ بِمَعْنَى ”مَجْرُوحٍ“، وہ یہ چار وزن ہیں یہ نہیں ہونے چاہیے، صورت سمجھ میں آگئی؟ تو فَعِیل بِمَعْنَى مَفْعُول بھی نہ ہو اور فَعُول بِمَعْنَى فَاعِل بھی نہ ہو اور نمبر تین مبالغے کا صیغہ بھی نہ ہو۔ مبالغے کا صیغہ بھی نہ ہو، جیسے ”ضَارِبٌ“ کے اندر مبالغہ کر کے کہتے ہیں: ”ضَرَّابٌ“، جیسے ”ضَارِبٌ“ میں سے مبالغے کا صیغہ ہے: ”ضَرَّابٌ“ ضاد کے ساتھ، تو یہ مذکر مؤنث کے لیے یکساں رہتا ہے: ”اَلرَّجُلُ ضَرَّابٌ“ وہ مرد بہت پٹائی کرنے والا ہے، ”اَلْمَرْأَةُ ضَرَّابٌ“ وہ عورت بہت پٹائی کرنے والی ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
اور نمبر چار: وہ اسمِ تفضیل مستعمل بہ مِن نہ ہو، وہ اسمِ تفضیل مستعمل بہ مِن نہ ہو۔ اسمِ تفضیل مستعمل بہ مِن، یعنی اسمِ تفضیل کے استعمال کے کتنے طریقے پڑھے آپ نے؟ تین: اضافت، الف لام، اور مِن۔ تو مِن کے ساتھ، اسمِ تفضیل مستعمل بہ مِن نہ ہو، جیسے: ”اَلصَّلَاةُ خَیْرٌ مِنَ النَّوْمِ“، ”اَلصَّلَاةُ خَیْرٌ مِنَ النَّوْمِ“۔ تو دیکھو ”اَلصَّلَاةُ“ مؤنث ہے، آگے آپ کہیں ”خَیْرٌ“ یہ تو مذکر کا صیغہ آ گیا، تو مطابقت نہیں؟ جواب: مطابقت کے لیے ہم نے شرائط پڑھی تھیں، ان میں سے ایک شرط یہ تھی کہ خبر اسمِ تفضیل مستعمل بہ مِن نہ ہو، یہ تو اسمِ تفضیل مستعمل بہ مِن ہے، تو لہٰذا یہ مذکر مؤنث کے لیے یکساں رہتا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اور پھر ”خَیْرٌ“ میں کون سی ضمیر نکالیں گے؟ ”هِیَ“ نکالیں گے۔ مذکر کے لیے ”هُوَ“، مؤنث کے لیے ”هِیَ“، تثنیہ کے لیے تثنیہ، جمع کے لیے جمع، کیونکہ یہ سب کے لیے یکساں رہتا ہے بھئی۔
میں نے جو عبارت لکھوائی نا، ذرا اس میں سے وہ ہے وہ چار قسم کے صیغے ہیں، یہ والا جملہ ذرا الگ لکھ دیں، اس کے گرد قوس لگا دیں، قوس لگا دیں، دونوں طرف بریکٹ لگا دیں اس کے: اور وہ چار قسم کے صیغے ہیں، ٹھیک ہے؟ یہ بیچ میں سے نکل گیا۔ اب عبارت یوں بن گئی: مبتدا خبر میں مطابقت کے لیے چار شرائط ہیں۔ چوتھی شرط کیا ہے کہ وہ وصف مُسَاوٍ لِلْمُذَكَّرِ وَالْمُؤَنَّثِ نہ ہو، یعنی یوں کر دیں: یعنی فَعِیل بِمَعْنَى مَفْعُول نہ ہو، فَعِیل بِمَعْنَى مَفْعُول نہ ہو، یہ ”نہ ہو“ سب کے ساتھ جوڑ دیں اب، فَعِیل بِمَعْنَى مَفْعُول نہ ہو، اور فَعُول بِمَعْنَى فَاعِل نہ ہو، اور مبالغے کا صیغہ نہ ہو، اور اسمِ تفضیل مستعمل بہ مِن نہ ہو، اب بات ٹھیک بن گئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہ چار شرائط ہیں بھئی۔
اسی طرح یاد رکھیے، یاد رکھیے! ہمارے ہاں ایک رائج غلطی یہ ہے کہ عبارت کبھی کتاب میں آ جاتی ہے اور لکھا ہوتا ہے: ”هٰذَا مَصْدَرٌ مَبْنِيٌّ لِلْفَاعِلِ“، کیا لکھا ہوتا ہے؟ مثلاً ”هٰذَا مَصْدَرٌ مَبْنِيٌّ لِلْفَاعِلِ“، کبھی لکھا ہوتا ہے: ”هٰذَا مَصْدَرٌ مَبْنِيٌّ لِلْمَفْعُولِ“۔ تو طلبہ سے جب پوچھا جائے اس کا کیا معنی ہے؟ تو وہ کہتے ہیں جب لکھا ہو ”هٰذَا مَصْدَرٌ مَبْنِيٌّ لِلْفَاعِلِ“، وہ کہتے ہیں اس کا معنی یہ ہے کہ یہ جو مصدر آیا ہے یہ اسمِ فاعل کے معنی میں ہے، حالانکہ اس کا یہ معنی نہیں ہے بھئی۔ اور جب لکھا ہو ”هٰذَا مَصْدَرٌ مَبْنِيٌّ لِلْمَفْعُولِ“، طلبہ سے پوچھو تو وہ کہتے ہیں اس کا معنی یہ ہے کہ یہ مصدر اسمِ مفعول کے معنی میں ہے، حالانکہ اس کا یہ معنی نہیں ہے بھئی۔ یہ رائج غلطی ہے، اکثر طلبہ یہی سمجھتے ہیں بھئی، یہی سمجھتے ہیں۔
تو اس میں سب سے پہلے تو ایک قیمتی بات یاد رکھیں بھئی، یہ جو ہم گردان کرتے ہیں صَرْفِ صَغِیر، صَرْفِ صَغِیر، نام ہی بتلا رہا ہے صغیر، یہ چھوٹی گردان ہے۔ ہر گردان سے تقریباً عموماً ایک ایک صیغہ لے رہے... لیتے ہیں: ”ضَرَبَ يَضْرِبُ ضَرْبًا“، ”ضَرَبَ“ دیکھو پوری ماضی سے صرف ایک صیغہ لیا، ”يَضْرِبُ“ پورے مضارع کے چودہ صیغوں میں سے صرف ایک لیا، ”ضَرْبًا“ آگے مصدر بھی بتا دیا، آگے: ”فَهُوَ ضَارِبٌ“، اسمِ فاعل سے ایک صیغہ لے لیا، ”وَضُرِبَ يُضْرَبُ ضَرْبًا“، پھر ”ضُرِبَ“ فعلِ ماضی مجہول سے صرف ایک صیغہ لیا، ”يُضْرَبُ“ فعلِ مضارع مجہول سے ایک صیغہ لیا، پھر آگے آ گیا ”ضَرْبًا“، ”ضَرْبًا“۔ سوال: یہ تو صَرْفِ صَغِیر ہے، اس میں تو پوری پوری گردان سے ایک صیغہ لے رہے ہیں، تو ایک دفعہ جب ”ضَرْبًا“ مصدر آ گیا تھا اس کو دوبارہ ذکر کرنے کی کیا ضرورت؟ یہ تو زائد آ گیا، حالانکہ یہ تو کیا ہے؟ صَرْفِ صَغِیر ہے۔ اشکال سمجھ میں آیا؟
تو جواب یاد رکھیے کہ ہمارے بزرگوں کا کوئی بھی کام حکمت سے اور فائدے سے خالی نہیں۔ یہ دوسرا ”ضَرْبًا“ وہ ویسے نہیں لے کر آئے کہ پہلے جیسی شکل بنا دیں اس کی، وہاں ضرباً تھا یہاں بھی ضرباً ہو، نہیں! بلکہ یہ بتلانے کے لیے کہ وہ جو ”ضَرْبًا“ تھا وہ مَصْدَرِ مَعْرُوف تھا، اور یہ جو ”ضَرْبًا“ ہے یہ مَصْدَرِ مَجْهُول ہے بھئی، مَصْدَرِ مَجْهُول ہے۔ اور نیز اس بات کی طرف اشارہ کرنے کے لیے کہ عربی میں جو وزن مَصْدَرِ مَعْرُوف کا ہوتا ہے وہی وزن مَصْدَرِ مَجْهُول کا بھی ہوتا ہے، مَصْدَرِ مَجْهُول کے لیے کوئی الگ وزن اور صیغہ نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو پہلا ”ضَرْبًا“ جو تھا اس کا معنی تھا پٹائی کرنا، ”ضَرْبًا“ پٹائی کرنا یعنی مارنا، اور دوسرے ”ضَرْبًا“ کا معنی ہے پٹائی ہونا یعنی مارے جانا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ پہلے کا معنی ہے مارنا، دوسرے کا معنی ہے مارے جانا یعنی پٹائی ہونا۔ صورت سمجھ میں آئی؟
اور دیکھ لیں: شُرْب، ”شُرْبٌ“ کا معنی ہے، ایک معنی ہے پینا، یہ ہے مَصْدَرِ مَعْرُوف۔ اور ایک ہے مَصْدَرِ مَجْهُول: ”شُرْبٌ“ کا معنی ہے پیا جانا، پانی پیا جاتا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اور دیکھ لو: اَکَلَ یَاْکُلُ کا معنی ہوتا ہے کھانا، تو اَکْل، ”أَكَلَ يَأْكُلُ أَكْلًا“، یہ اَکْل معروف ہو مَصْدَرِ مَعْرُوف تو اس کا معنی ہوتا ہے کھانا کھانا، اور ایک اَکْل مجہول ہے تو اس کا معنی ہے کھایا جانا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو دیکھو اردو میں دونوں میں فرق ہو رہا ہے: کھانا اور کھایا جانا، دیکھو الگ ہیں، پینا اور پیا جانا، دیکھو الگ ہیں، مارنا اور مارے جانا، دونوں الگ ہیں، لیکن عربی میں دونوں کے لیے ایک ہی صیغہ استعمال ہوتا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
تو یہ جو مَصْدَرِ مَعْرُوف ہے اس کو کہتے ہیں ”مَصْدَرٌ مَبْنِيٌّ لِلْفَاعِلِ“، ”مَصْدَرٌ مَبْنِيٌّ لِلْفَاعِلِ“۔ بھئی دیکھو اور وضاحت میں کر دوں: دیکھو ”ضَرَبَ“ فعل ہے، معروف ہے یا مجہول؟ معروف۔ اور فعلِ معروف کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ فاعل چاہیے۔ اور ایک ہے ”ضُرِبَ“، یہ کیا ہے؟ فعلِ مجہول، اس کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ نَائِبُ الْفَاعِل چاہیے، اور نائب الفاعل دراصل کون ہوتا ہے؟ مفعول ہوتا ہے، کون ہوتا ہے؟ مفعول ہوتا ہے۔ تو ”ضَرَبَ“ ایک فعل ہے جس کو بنایا گیا ہے، کس کے لیے؟ فاعل کے لیے یا مفعول کے لیے؟ اس کی اسناد کس کی طرف ہوتا ہے؟ فاعل، تو اس کو فاعل کے لیے بنایا گیا ہے۔ جو فعلِ معروف ہے اس کو کس کے لیے بنایا گیا ہے؟ فاعل کے لیے بنایا گیا ہے، یعنی فاعل کی طرف اس کا اسناد کیا جاتا ہے۔ اور فعلِ مجہول کو کس کے لیے بنایا گیا ہے؟ نائب فاعل یعنی مفعول کے لیے، یعنی اس کا اسناد کس کی طرف کیا جاتا ہے؟ مفعول کی طرف کیا جاتا ہے۔ تو یوں کہیں گے کہ... اور بنانے کے لیے عربی میں لفظ آتا ہے ”بَنَى يَبْنِي“ تعمیر کرنا، بنا دینا، ”بَنَى يَبْنِي“، اسی سے اسمِ مفعول آئے گا ”مَبْنِيٌّ“ جس کو بنایا گیا ہے، بَر وَزْنِ ”مَرْمِيٌّ“۔
تو ”ضَرَبَ“ ہم کہیں گے: ”ضَرَبَ فِعْلٌ مَبْنِيٌّ لِلْفَاعِلِ“، ”ضَرَبَ“ ایسا فعل ہے جس کو بنایا گیا ہے ”لِلْفَاعِلِ“ کس کے لیے؟ فاعل کے لیے۔ اور ”ضُرِبَ فِعْلٌ مَبْنِيٌّ لِلْمَفْعُولِ“، ”ضُرِبَ“ ایسا فعل ہے جس کو بنایا گیا ہے کس کے لیے؟ مفعول کے لیے یعنی نائب فاعل۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اسی طرح ”يَضْرِبُ“ مضارع کو لے لو: ”يَضْرِبُ فِعْلٌ مَبْنِيٌّ لِلْفَاعِلِ“، اور ”يُضْرَبُ فِعْلٌ مَبْنِيٌّ لِلْمَفْعُولِ“۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ مبنی کا کیا معنی ہو؟ جس کو بنایا گیا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
تو ”مَصْدَرٌ مَبْنِيٌّ لِلْفَاعِلِ“ اس کا معنی کیا ہے؟ یہ ایسا مصدر ہے جس کو کس کے لیے بنایا گیا ہے؟ فاعل کے لیے، یعنی یہ مَصْدَرِ مَعْرُوف ہے، بس اتنا بتا رہے۔ اور جب کہا جائے ”مَصْدَرٌ مَبْنِيٌّ لِلْمَفْعُولِ“ تو یہ بتانا مقصد یہ ہے کہ یہ مصدر کس کے لیے بنایا گیا ہے؟ مفعول کے لیے، یعنی یہ مَصْدَرِ مَجْهُول ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
اب یاد رکھو، یہ جو مصدر ہوتا ہے نا مصدر، یہ کبھی کبھار اسمِ فاعل کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ جیسے ”زَیْدٌ عَدْلٌ“، اور یہ عدل بمعنی عادل کے ہے: أَيْ ”زَیْدٌ عَادِلٌ“۔ زید عدل ہے یا عدل کرنے والا ہے؟ عدل کرنے والا ہے، زید خود عدل نہیں ہے بلکہ عدل کرنے والا ہے، عدل تو مصدر ہے۔ اور مصدر تو صفت ہوتا ہے اور زید تو ذات ہے، تو لہٰذا زید عدل نہیں بلکہ ”زَیْدٌ عَادِلٌ“، تو یہ عدل کس معنی میں؟ عادل۔ تو مصدر کبھی اسمِ فاعل کے معنی میں ہوتا ہے، جیسے یہاں ”عَدْلٌ“ ہے تو مصدر لیکن یہ دراصل کس معنی میں ہے؟ عادل، اسمِ فاعل کے معنی میں ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
اور اسی طرح یاد رکھو، مصدر کبھی مفعول کے معنی میں ہوتا ہے جیسے خَلْق بمعنی مخلوق کے۔ خَلْق استعمال کرتے ہیں یا نہیں آپ؟ اور یہ کس معنی میں ہے؟ مخلوق کے معنی میں ہے۔ تو مصدر کبھی اسمِ فاعل کے معنی میں ہوتا ہے اور مصدر کبھی اسمِ مفعول کے... اچھا میں نے بتایا تھا ایک ہوتا ہے فاعل، ایک ہوتا ہے اسمِ فاعل، دونوں میں فرق پتہ ہے؟ فاعل کسے کہتے ہیں؟ شاباش! فاعل وہ ہے جس کو فعل یا صفت کا صیغہ رفع دے: ”ضَرَبَ زَیْدٌ“، یہ ”زَیْدٌ“ کیا ہے؟ فاعل، کیونکہ اس کو فعل رفع دے رہا ہے۔ اور ایک ہے اسمِ فاعل، اسمِ فاعل وہ مخصوص وزن جو آپ نے اب گردانوں میں پڑھا: ”ضَارِبٌ“، ”مُكْرِمٌ“، ”مُسْتَخْرِجٌ“، یہ کیا ہیں؟ اسمِ فاعل: ضارب، مانع، فاتح، یہ سب کیا ہیں؟ اسمِ فاعل، وہ دیکھا مخصوص وزن کا نام ہے۔ اور ایک ہے مفعول اور ایک ہے اسمِ مفعول، مفعول کسے کہتے ہیں؟ شاباش! جس کو فعل یا صفت کا صیغہ نصب دے: ”ضَرَبْتُ زَیْدًا“، یہ ”زَیْدًا“ کیا ہے؟ مفعول ہے، اس کو فعل نصب دے رہا ہے۔ اور ایک ہے اسمِ مفعول، اسمِ مفعول کسے کہتے ہیں؟ گردان میں وہ جو مخصوص صیغہ ہم نے پڑھا: ”مَضْرُوبٌ“، ”مَمْنُوعٌ“، ”مَنْصُورٌ“، ”مُكْرَمٌ“، ”مُسْتَخْرَجٌ“، یہ سارے کیا ہیں؟ اسمِ مفعول۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟
تو لہٰذا جب کبھی عبارت میں لکھا ہو ”هٰذَا مَصْدَرٌ مَبْنِيٌّ لِلْفَاعِلِ“، طلبہ سمجھتے ہیں شاید اس کا معنی یہ ہے کہ یہ مصدر اسمِ فاعل کے معنی میں ہے، یعنی یہ عدل کس معنی میں ہے؟ عادل کے معنی میں ہے، حالانکہ یہ بات نہیں۔ وہاں صرف یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ مَصْدَرِ مَعْرُوف ہے۔ پھر یہ آگے اسمِ فاعل کے معنی میں ہے یا نہیں وہ الگ بات ہے، وہ ذکر نہیں کی جا رہی، ہو سکتا ہے ہو، ہو سکتا ہے نہ ہو۔ صرف ”هٰذَا مَصْدَرٌ مَبْنِيٌّ لِلْفَاعِلِ“ کیا بتایا گیا؟ کہ یہ مَصْدَرِ مَعْرُوف ہے۔ اور جب لکھا ہو ”هٰذَا مَصْدَرٌ مَبْنِيٌّ لِلْمَفْعُولِ“، اس نے صرف اتنا بتایا کہ یہ مَصْدَرِ مَجْهُول ہے، آگے یہ اسمِ مفعول کے معنی میں ہے یا نہیں وہ یہاں پر ذکر نہیں، وہ الگ بات ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
ہاں، اگر آپ کو یہ بتا دیں کہ یہ مصدر اسمِ فاعل کے معنی میں ہے، کیا بتا دیں؟ اب آپ کو دو باتوں کا پتہ چل گیا: ایک تو یہ کہ یہ مصدر اسمِ فاعل کے معنی میں ہے، دوسرا یہ بھی پتہ چلا یہ کون سا مصدر ہے؟ یہ مَصْدَرِ مَعْرُوف ہے، دیکھا ایک زائد بات کا پتہ چل گیا۔ اور جب یہ کہا جائے یہ مصدر اسمِ مفعول کے معنی میں ہے تو یہاں بھی آپ کو اب دو باتوں کا پتہ چل گیا، کیا؟ کہ یہ تو مفعول کے معنی میں ہے ایک یہ بات پتہ چلی، دوسرا یہ مَصْدَرِ مَجْهُول ہے یہ بھی پتہ چلا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ لہٰذا جب آپ کو یہ کہا جائے کہ یہ مصدر مَبْنِی لِلْفَاعِل ہے تو صرف اتنا پتہ چلا یہ مَصْدَرِ مَعْرُوف ہے، دوسری بات کا پتہ نہیں چلا کہ یہ فاعل کے معنی میں ہے یا نہیں۔ جب آپ کو یہ کہا جائے یہ مصدر مَبْنِی لِلْمَفْعُول ہے تو صرف آپ کو یہ پتہ چلا کہ یہ مصدر کیا ہے؟ مجہول ہے، یہ مصدر مَبْنِی لِلْمَفْعُول ہے تو صرف یہ پتہ چلا یہ مصدر مجہول ہے، یہ پتہ نہیں چلا کہ یہ اسمِ مفعول کے معنی میں ہے یا نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی اچھی طرح؟
تو جب آپ کو یہ بتا دیا جائے، جب لکھا ہو ”هٰذَا مَصْدَرٌ مَبْنِيٌّ لِلْفَاعِلِ“، صرف کیا پتہ چلا؟ یہ مَصْدَرِ مَعْرُوف ہے، یہ پتہ نہیں چلا کہ یہ اسمِ فاعل کے معنی میں ہے یا نہیں ہے، وہ الگ بات ہے، وہ کبھی ہو بھی سکتا ہے اور کبھی نہیں بھی۔ اور جب لکھا ہو ”هٰذَا مَصْدَرٌ مَبْنِيٌّ لِلْمَفْعُولِ“ تو صرف کیا پتہ چلا؟ یہ مَصْدَرِ مَجْهُول ہے، پھر آگے یہ اسمِ مفعول کے معنی میں ہے یا نہیں وہ الگ بات ہے، اس کا پتہ نہیں چلا، ہو سکتا ہے ہو، ہو سکتا ہے نہ ہو۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
یہی وجہ ہے، یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات آپ کو فعل کے ساتھ بھی ایسے لفظ ملیں گے۔ جیسے عبارت میں مثلاً ”يَضْرِبُ“ آیا، ”يَضْرِبُ“، تو اب پتہ نہیں پڑھنے والے کو پتہ چلے گا یا نہیں کہ یہ ”يَضْرِبُ“ ہے، وہ کہیں اس کو ”يُضْرَبُ“ نہ پڑھ جائے۔ تو پھر مصنفین وہاں پر جہاں ایسا احتمال ہو، خطرہ ہو، وہاں لکھ دیتے ہیں: ”فِعْلٌ مَبْنِيٌّ لِلْفَاعِلِ“، ”فِعْلٌ مَبْنِيٌّ لِلْفَاعِلِ“، یہ ایسا فعل ہے جس کو فاعل کے لیے بنایا گیا ہے، کیا معنی؟ فعلِ معروف ہے۔ اور اگر فعلِ مجہول ہو تو وہاں لکھ دیتے ہیں: ”فِعْلٌ مَبْنِيٌّ لِلْمَفْعُولِ“، یہ فعل کس کے لیے بنایا گیا؟ مفعول کے لیے، یعنی فعلِ مجہول ہے۔ اعراب زیر زبر بھی ڈال سکتے ہیں، لیکن زیر زبر سے تو کاتب غلطی بھی کر سکتا ہے، لیکن جب آگے ”مَبْنِيٌّ لِلْفَاعِلِ“ لکھا اس میں تو غلطی نہیں ہوگی، وہ تو کاتب اسی طرح لکھے گا، تو اگر اعراب غلط بھی لگ جائیں پھر بھی پڑھنے والے کو پتہ لگ جائے گا کہ یہ فعلِ معروف ہے یا فعلِ مجہول۔ تو دیکھا یہ بات فعل کے ساتھ بھی لکھی ہوتی ہے: ”مَبْنِيٌّ لِلْفَاعِلِ“۔
تو پھر تو اس کا معنی اگر وہ والا معنی کریں جو عام طلبہ کرتے ہیں: مصدر کے ساتھ لکھا ہوتا ہے ”مَبْنِيٌّ لِلْفَاعِلِ“ تو وہ کہتے ہیں یہ اسمِ فاعل کے معنی میں ہے، پھر تو یہ عبارت فعل کے ساتھ بھی لکھی ہوتی ہے: ”فِعْلٌ مَبْنِيٌّ لِلْفَاعِلِ“، حالانکہ کوئی بھی اس بات کا قائل نہیں کہ فعل کس معنی میں ہو؟ اسمِ فاعل کے معنی میں۔ یا ”فِعْلٌ مَبْنِيٌّ لِلْمَفْعُولِ“ تو یہ فعل کس معنی میں ہوگا؟ اسمِ مفعول کے معنی میں، حالانکہ کوئی بھی اس کا قائل نہیں۔ معلوم ہوا بات وہی ہے جو میں بیان کر رہا ہوں کہ ”مَصْدَرٌ مَبْنِيٌّ لِلْفَاعِلِ“ کا کیا معنی؟ کہ یہ مَصْدَرِ مَعْرُوف ہے۔ اور ”مَصْدَرٌ مَبْنِيٌّ لِلْمَفْعُولِ“ کا کیا معنی؟ کہ یہ مَصْدَرِ مَجْهُول ہے۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟
اب ایک اور ایک دو اور رائج غلطیاں جو ہمارے ہاں ہیں وہ بھی سمجھ لو بھئی۔ مثلاً دیکھیے، لکھیے بھئی، لکھیے بھئی: ”يَا زَيْدُ“، جملہ ندائیہ کی ترکیب بھئی، جملہ ندائیہ کی ترکیب:
”يَا زَيْدُ عَمْرٌو قَائِمٌ“
”عَمْرٌو قَائِمٌ“
جی، یہ ترکیب ہم نے کی ہے پہلے؟ جی؟ اچھا۔
”يَا“ حرفِ ندا قائم مقام ”أَدْعُو“ فعل کے۔ ”يَا“ حرفِ ندا، منادیٰ کی بحث میں کچھ غالباً... کچھ بھی نہیں کی؟ ہاں، مختصراً کی ہوگی۔ تو بہرحال، ”يَا“ حرفِ ندا قائم مقام ”أَدْعُو“ فعل کے۔ ”أَدْعُو“ فعل، ”أَنَا“ ضمیر اس کے اندر فاعل: ادعو میں بلا رہا ہوں، میں پکار رہا ہوں۔ اچھا، ”أَدْعُو“ فعل، ”أَنَا“ ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ انشائیہ ہو کر ندا، یہ کیا ہے؟ جملہ انشائیہ۔ ہاں، نہیں: ”يَا“ حرفِ ندا قائم مقام ”أَدْعُو“ فعل کے، ”أَدْعُو“ فعل ”أَنَا“ ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً فاعل، اور ”زَيْدُ“ مبنی بر ضم منصوب محلاً مفعول بہ۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہو کر ندا۔
اور آگے ”عَمْرٌو قَائِمٌ“، عمرو مرفوع لفظاً مبتدا، قائم مرفوع لفظاً صیغہ اسمِ فاعل، اس کے اندر ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع؟ عمرو کو۔ اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، اسمیہ خبریہ ہو کر جوابِ ندا۔ یہ کیا ہوا؟ جوابِ ندا۔ ندا اپنے جوابِ ندا سے مل کر جملہ ندائیہ ہوا، کیا ہوا؟ جملہ ندائیہ۔ توجہ ہے؟ اب ہمارے ہاں رائج غلطی کیا ہے؟ وہ کہتے ہیں جملہ ندائیہ انشائیہ ہوا، یہ غلطی ہے۔ کیونکہ جملہ ندائیہ میں دو جملے ہیں: ایک ندا جو پہلا حصہ ہے: ”يَا زَيْدُ“ أَيْ ”أَدْعُو زَيْدًا“، یہ کیا ہے؟ ندا۔ اور آگے کیا ہے؟ جوابِ ندا، اور دونوں جملے الگ الگ ہیں۔ تو یہ جو پہلا جز ہے یہ جملہ انشائیہ ہے: ”يَا زَيْدُ“، یہ کیا ہے؟ انشائیہ ہے۔ اس کے کہنے والے کو کوئی سچا یا جھوٹا نہیں کہہ سکتا۔ میں کسی کو آواز دیتا ہوں ”يَا زَيْدُ“، کوئی مجھے نہیں کہہ سکتا کہ یہ سچ بول رہا ہے یا جھوٹ بول رہا ہے، کیونکہ اس میں سچ جھوٹ کی بات ہی نہیں، یہ تو انشا ہے۔
ہاں، آگے، آگے جوابِ ندا جو ہے وہ جملہ انشائیہ بھی ہو سکتا ہے اور جملہ خبریہ بھی۔ جیسے یہاں کیا آیا؟ ”عَمْرٌو قَائِمٌ“، یہ جملہ خبریہ ہے۔ اور اگر اس کی جگہ ہوتا: ”اِضْرِبْ عَمْرًا“، تو امر آ جاتا، وہ کیا تھا؟ جملہ انشائیہ: اضرب فعل، انت ضمیر فاعل، اور عمراً مفعول، فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہو کر جوابِ ندا۔ تو ہمارے ہاں رائج غلطی یہ ہے کہ ندا اور جوابِ ندا کو ملا کر کہتے ہیں جملہ ندائیہ انشائیہ ہوا، حالانکہ یہ درست نہیں۔ دراصل غلطی کی وجہ یہ ہے کہ ابتدائی نحو کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے، جیسے نَحْوِ مِیر وغیرہ ہے کہ ندا انشا کی قسم ہے، ندا کیا ہے؟ انشا۔ تو وہ اس سارے کو انشا پھر بنا دیتے ہیں، حالانکہ ندا سے مراد صرف پہلا حصہ ہے: ”يَا زَيْدُ“، یہ ہے ندا، یہ کیا ہے؟ ندا۔ اس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا نہیں کہہ سکتے۔ آگے جو جوابِ ندا ہے وہ تو جملہ خبریہ بھی ہو سکتا ہے اور جملہ انشائی بھی۔ اور جملہ خبریہ ہو تو اس کے کہنے والے کو تو سچا یا جھوٹا کہہ سکتے ہیں، جیسے ابھی بات کی: ”يَا زَيْدُ“، میں ایک آدمی سے آواز دے کر کہتا ہوں اے زید! ”عَمْرٌو قَائِمٌ“ عمرو کھڑا ہے، دوسرا آدمی کہہ سکتا ہے ہاں یہ سچ بول رہا ہے یا یہ جھوٹ بول رہا ہے، کہہ سکتا ہے یا نہیں؟ حالانکہ اگر یہ انشا ہوتا سارا جملہ ندائیہ، تو وہ سچ جھوٹ کی تو بات ہی پھر وہاں نہ چلتی، لیکن وہ کہہ سکتا ہے۔ اور وہ مجھے سچا یا جھوٹا کس بنا پر کہے گا؟ جوابِ ندا کی بنیاد پر، یہ جو میں نے آگے کہا نا ”عَمْرٌو قَائِمٌ“، اس پر وہ مجھے کہے گا یہ سچ بول رہا ہے یا یہ جھوٹ بول رہا ہے۔ دیکھا، تو جوابِ ندا وہ جملہ انشائیہ بھی ہو سکتا ہے اور جملہ خبریہ بھی۔
تو جب دونوں کو ملا دو تو پھر جملہ ندائیہ انشائیہ نہ کہو، بس صرف اتنا کہو: جملہ ندائیہ۔ اور اس جملے میں دو جز ہیں دراصل: ایک ندا اور ایک جوابِ ندا۔ ندا جو ہے وہ ہمیشہ کیا ہوگا؟ انشا۔ لیکن جوابِ ندا وہ انشا بھی ہو سکتا ہے اور خبر بھی۔
اسی طرح جملہ قسمیہ میں بھی ہے، اس کی بھی ایک ترکیب کر لو۔ جیسے: ”وَاللّٰهِ لَزَيْدٌ قَائِمٌ“، ”وَاللّٰهِ لَزَيْدٌ قَائِمٌ“۔ ترکیب کیا ہوگی صرف سمجھ لیں: واؤ قسمیہ جارہ، جر دیتا ہے، لفظِ اللہ مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے فعلِ محذوف ”أُقْسِمُ“، میں قسم کھاتا ہوں ”أُقْسِمُ“، بابِ افعال ہے، ”أُقْسِمُ“ فعل کے ساتھ۔ ”أُقْسِمُ“ فعل اس کے اندر ”أَنَا“ ضمیر مرفوع محلاً فاعل، فعل اپنے فاعل اور متعلق وہ جو ”وَاللّٰهِ“ ہے، فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہو کر قسم، جملہ فعلیہ انشائیہ ہو کر قسم۔ آگے ”لَزَيْدٌ قَائِمٌ“، لام تاکید کے لیے، اور زید مرفوع لفظاً مبتدا، قائم مرفوع لفظاً صیغہ اسمِ فاعل، اس کے اندر ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع؟ زید کی طرف۔ اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہو کر جوابِ قسم۔ قسم جوابِ قسم سے مل کر جملہ قسمیہ ہوا۔ بعض اس کو کہتے ہیں جملہ قسمیہ انشائیہ ہوا، یہ رائج غلطی ہے، اکثر اسی طرح کہتے ہیں: جملہ قسمیہ انشائیہ ہوا۔
اور غلطی کی وجہ وہی ہے کہ نَحْوِ مِیر وغیرہ میں لکھا ہوا ہے کہ قسم انشا کی قسم ہے۔ بھئی اس سے مراد صرف ”وَاللّٰهِ“ یہ پہلا جز مراد ہے: ”وَاللّٰهِ“، اس میں کوئی کسی کو سچا یا جھوٹا نہیں کہہ سکتا کیونکہ اس میں تو خبر ہے ہی نہیں، اس میں تو قسم کھائی جا رہی ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اور جوابِ قسم وہ خبر بھی ہو سکتی ہے، وہ انشا بھی ہو سکتا ہے۔ اور جیسے یہاں پر کیا ہے؟ خبر۔ جیسے میں نے ایک آدمی سے کہا: ”وَاللّٰهِ لَزَيْدٌ قَائِمٌ“، تو دوسرا کہہ سکتا ہے ہاں یہ سچ بول رہے ہیں، یا کہہ سکتا ہے ہاں یہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ دیکھا، یہ سچ اور جھوٹ کس بنیاد پر کہہ رہے ہیں؟ اگر یہ جملہ قسمیہ انشائیہ ہوتا پھر تو سچا اور جھوٹا کہنے کی بات ہی نہیں تھی کیونکہ انشا میں تو سچا اور جھوٹا نہیں کہا جا سکتا دوسرے کو، تو وجہ کیا ہے؟ یہ جو کہا جا رہا ہے سچا یا جھوٹا، یہ جوابِ قسم کے اعتبار سے کہا جا رہا ہے بھئی، کس کے اعتبار سے؟ جوابِ قسم کے اعتبار سے کہا جا رہا ہے۔ تو قسم اور ہے، جوابِ قسم اور۔ قسم وہ ہے انشا، لیکن جوابِ قسم وہ انشا بھی ہو سکتا ہے اور خبر بھی ہو سکتا ہے۔ اور جب پورے دونوں جزوں کو ملائیں تو صرف جملہ قسمیہ کہیں، جملہ قسمیہ انشائیہ نہ کہیں، کیونکہ اس میں دو جملے ہیں، دونوں کا الگ الگ حکم ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ لیکن ہمارے ہاں رائج غلطی یہ ہے کہ جملہ ندائیہ میں بھی کہہ دیتے ہیں جملہ ندائیہ انشائیہ ہوا، اور قسمیہ میں بھی کہہ دیتے ہیں جملہ قسمیہ انشائیہ ہوا، اور یہ درست نہیں ہے بھئی، بات سمجھ میں آگئی بھئی؟
اسی طرح یاد رکھیے، ایک اِسْمِ مَنْسُوب ہوتا ہے۔ کسی بھی اسم کے آخر میں یائے مشدد لگا دیتے ہیں نسبت کے لیے، جیسے لاہور کے آخر میں یائے مشدد لگا دی: ”لَاهُورِيٌّ“، کیا معنی؟ لاہور والا، یعنی جس کی لاہور کی طرف نسبت ہے، لاہور کی طرف منسوب ہے۔ ”بَاكِسْتَانِيٌّ“، کیا معنی؟ پاکستان کی طرف منسوب۔ تو اس کو کہتے ہیں اِسْمِ مَنْسُوب: لاہوری، پاکستانی۔ اور یہ کیا ہے؟ یہ جاری مجرائے صحیح ہے۔ میں نے بتایا تھا جس اسم کے آخر میں بھی یائے مشدد یا واؤ مشدد آ جائے وہ جاری مجرائے صحیح ہوتا ہے اور اس پر تینوں طرح کے اعراب آ سکتے ہیں: ”لَاهُورِيٌّ“، ”لَاهُورِيًّا“، ”لَاهُورِيٍّ“۔ کیونکہ یائے مشدد دراصل کتنی یا ہیں؟ دو یا۔ آخری متحرک ہے اور ماقبل والی ساکن، اور جاری مجرائے صحیح بھی کسے کہتے ہیں کہ آخر میں یا یا واؤ ہو اور ماقبل کیا ہو؟ ساکن۔ تو اس پر تینوں اعراب آ سکتے ہیں، ورنہ یا اور واؤ پر ضمہ بھی ثقیل ہوتا ہے اور کسرہ بھی ثقیل ہوتا ہے، وہ ان پر آتے ہی نہیں ہیں، لیکن اس پر آئیں گے جس کے آخر میں کیا ہو؟ یائے مشدد یا واؤ مشدد ہو، یہ جاری مجرائے صحیح ہے۔ اور یہ جس کے آخر میں یائے مشدد لگا کر اس کو کہتے ہیں اِسْمِ مَنْسُوب، یہ ”لَاهُورِيٌّ“ کیا ہے؟ اِسْمِ مَنْسُوب ہے، اور یاد رکھیے اِسْمِ مَنْسُوب، مَنْسُوب کون سا صیغہ ہے؟ مفعول، اور اسمِ مفعول کے لیے کیا چاہیے؟ نَائِبُ الْفَاعِل، تو اس کے اندر بھی ہمیشہ نائب الفاعل نکالیں گے۔
صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ اگر خبر بن رہا ہے تو اس کو مبتدا سے جوڑیں گے، اگر یہ صفت بن رہا ہے تو اس کو موصوف سے جوڑیں گے، وہی طریقہ جو شبہ جملہ والا تھا، تو ”لَاهُورِيٌّ“ اِسْمِ مَنْسُوب، اس کے اندر ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا نائب الفاعل۔ منسوب نا، مفعول وزن ہے، تو اس کے اندر ضمیر کیا ہوگی؟ نائب الفاعل ہوگی جیسے اسمِ مفعول میں ہوتی ہے، بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہ جس کے آخر میں یائے مشدد لگے وہ کیا ہوتا ہے؟ اِسْمِ مَنْسُوب، اور اس میں بھی ضمیر نکالتے ہیں اور وہ کیا ہوتی ہے؟ نائب الفاعل۔ بعض اس کو مُنْتَسِب کی تاویل میں لیتے ہیں، یعنی اسمِ فاعل بنا لیتے ہیں: ”مُنْتَسِبٌ“، بعض تو کیا کہتے ہیں: ”اِسْمٌ مَنْسُوبٌ“، اسمِ مفعول کی تاویل میں، بعض کہتے ہیں: ”اِسْمٌ مُنْتَسِبٌ“، ”مُفْتَعِلٌ“، تو اسمِ فاعل کی تاویل میں کر لیتے ہیں، وہ پھر جو ”هُوَ“ ضمیر ہوتی ہے اس کو فاعل بناتے ہیں۔ اسمِ فاعل کے لیے فاعل چاہیے اور اسمِ مفعول کے لیے نائب الفاعل۔ تو صرف تاویل کا فرق ہے، آپ چاہیں اِسْمِ مَنْسُوب کہیں، چاہے اِسْمِ مُنْتَسِب کہیں، بس اس میں ایک ضمیر ہوگی۔ اگر اِسْمِ مَنْسُوب بنایا ہے تو اس کو نائب الفاعل کہو، اور اگر اِسْمِ مُنْتَسِب اس کو آپ نے کہا ہے تو وہ فاعل کی ضمیر ہوگی، اور زیادہ تر اِسْمِ مَنْسُوب کی تاویل میں استعمال ہوتا ہے، بات سمجھ میں آگئی بھئی؟
اسی طرح یاد رکھیے، جب ”اِبْنٌ“ کا لفظ دو عَلَمَیْن کے درمیان آ جائے، ”اِبْنٌ“ کا لفظ دو عَلَمَیْن میں آ جائے، تو ”اِبْنٌ“ کا ہمزہ وصلی ہے، یاد رکھیے اور ہَمْزَۂِ وَصْلِی درجِ عبارت میں گر جاتا ہے۔ لیکن ضابطہ یہ ہے کہ ہَمْزَۂِ وَصْلِی تلفظ سے گرتا ہے کتابت سے نہیں گرتا، لکھا جاتا ہے۔ ہَمْزَۂِ وَصْلِی کو لکھتے ہیں لیکن پڑھتے نہیں، لیکن جب ”اِبْنٌ“ کا لفظ دو عَلَمَیْن کے درمیان آ جائے جیسے ”زَيْدُ بْنُ عَمْرٍو“، ”زَيْدُ بْنُ عَمْرٍو“، تو ابن کا لفظ کس میں آیا؟ زید اور عمرو دو عَلَمَیْن کے درمیان، تو اس کا ہمزہ کتابت سے بھی گرا دیتے ہیں، کتابت سے بھی گرا دیتے ہیں تخفیف کے لیے، کیونکہ اس طرح کے نام عربی میں کثرت سے استعمال ہوتے ہیں ابن کے ساتھ۔ اور پھر یہ بھی یاد رکھیے، پھر پہلا اسم جو ہے اس پر سے تنوین کو بھی گرا دیتے ہیں، ورنہ تو کیا تھا؟ ”زَيْدٌ“، زید کے آخر میں نون ساکن اور ابن کی با بھی ساکن، تو اس نون کو کسرہ دینا چاہیے، یوں پڑھنا چاہیے: ”زَيْدُ نِبْنُ عَمْرٍو“، لیکن تخفیف چونکہ کثرت سے استعمال ہوتے ہیں اور کثرت تقاضا کرتی ہے خفت کا کہ لفظ ہلکا ہونا چاہیے، تو اس کے آخر سے وہ تنوین بھی گرا دیتے ہیں، تو کیسے پڑھیں گے؟ ”زَيْدُ بْنُ عَمْرٍو“، ”زَيْدُ نِبْنُ عَمْرٍو“ نہیں پڑھیں گے بلکہ ”زَيْدُ بْنُ عَمْرٍو“۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟
اور اسی طرح یہ بھی یاد رکھیے بھئی، ترکیب کے اندر آپ نے پڑھا ہے جار مجرور کے لیے ہمیشہ متعلق چاہیے، یہ متعلق ہوتے ہیں اور ان کے لیے کیا چاہیے؟ متعلق، اور وہ متعلق آٹھ چیزوں میں سے ایک ضرور ہوگا: یا فعل ہوگا، یا مصدر، یا اسمِ فاعل، یا اسمِ مفعول، یا صفتِ مشبہ، یا اسمِ تفضیل، یا مبالغے کا صیغہ، یا اسمِ فعل ہوگا بھئی۔ تو اگر ان میں سے کوئی عبارت میں موجود ہے اور وہ جار مجرور اس سے جڑ سکتے ہیں تو جوڑ دیں گے، ورنہ اس کے لیے محذوف نکالیں گے۔ لیکن کچھ حروفِ جارہ ہیں، کچھ حروفِ جارہ وہ کلام میں آ بھی جائیں کسی سے متعلق نہیں ہوتے، جیسے ”رُبَّ“ ہے، ”رُبَّ“ جارہ ہے، جر دیتا ہے، لیکن یہ کسی سے متعلق نہیں ہوتا بھئی، کسی سے متعلق نہیں ہوتا۔ مثلاً جیسے: ”رُبَّ رَجُلٍ كَرِيمٍ لَقِيتُهُ“، لکھیے بھئی، یہ ترکیب کر لیجیے: ”رُبَّ رَجُلٍ كَرِيمٍ لَقِيتُهُ“۔ ”رُبَّ“ جارہ، اور ”رَجُلٍ“ مجرور لفظاً ہے، لیکن یہ مبتدا بنے گا، کیونکہ اس جار مجرور نے کسی سے جڑنا نہیں، تو یہ رُبّ جر تو دے رہا ہے، لفظوں کے اعتبار سے یہ مجرور ہے، مجرور لفظاً ہے لیکن مرفوع ہے محلاً مبتدا ہے، اور ”كَرِيمٍ“ اس کی صفت، اور آگے ”لَقِيتُهُ“ اس کو جوابِ رُبّ کہتے ہیں اور یہ اس کی خبر ہے بھئی۔ تو ”رَجُلٍ كَرِيمٍ“ یہ کیا ہے دراصل؟ لفظوں کے اعتبار سے مجرور، لیکن محل کے اعتبار سے مرفوع ہے مبتدا ہے، اور ”لَقِيتُهُ“ اس کی خبر ہے۔ ترکیب سمجھ میں آگئی؟ تو یہ ”رُبَّ“ جو ہے جارہ ہے لیکن یہ کسی سے جڑتا نہیں، کسی سے متعلق نہیں ہوتا۔
اسی طرح ”لَعَلَّ“ ہے، ”لَعَلَّ“، یاد رکھیے ”لَعَلَّ“ حروفِ مشبہ بالفعل میں سے ہے لیکن یہ کبھی کبھار جر بھی دیتا ہے، کبھی کبھار یہ ”لَعَلَّ“ کیا کرتا ہے؟ جر بھی دیتا ہے، تو پھر اس وقت یہ کسی سے متعلق نہیں ہوگا۔ اسی طرح ”حَاشَا“ ہے، حروفِ استثنا میں سے آپ نے پڑھا ہے ”حَاشَا“، وہ بھی جر دیتا ہے لیکن وہ بھی کسی سے متعلق نہیں ہوتا۔ اسی طرح ”خَلَا“ اور ”عَدَا“ ہے حروفِ استثنا میں سے، تو یہ ”خَلَا“ اور ”عَدَا“ یہ بھی کسی سے متعلق نہیں ہوتے بھئی، بات سمجھ میں آگئی؟ تو یہ ”رُبَّ“، ”حَاشَا“، ”خَلَا“، ”عَدَا“ وغیرہ، ”لَعَلَّ“، یہ حروفِ جارہ کسی سے متعلق نہیں ہوتے۔
اسی طرح بعض اوقات حرفِ جر زائد آ جاتا ہے، بعض حروفِ جارہ زائد آتے ہیں بھئی کلام کے اندر، یاد رکھیے وہ بھی کسی سے متعلق نہیں ہوتے بھئی۔ جیسے مثلاً: ”لَيْسَ زَيْدٌ بِقَائِمٍ“، ”لَيْسَ زَيْدٌ بِقَائِمٍ“۔ ”لَيْسَ“ کیا کرتا ہے؟ افعالِ ناقصہ میں سے ہے، اپنے اسم کو رفع دیتا ہے اور خبر کو نصب، تو اصل میں ہونا چاہیے تھا ”لَيْسَ زَيْدٌ قَائِمًا“، لیکن کبھی کبھار اس کی خبر پر با جارہ زائدہ آ جاتی ہے: ”لَيْسَ زَيْدٌ بِقَائِمٍ“۔ تو یہ با جارہ ہے زائدہ ہے، یہ کسی سے متعلق نہیں ہوگی۔ باقی ترکیب اسی طرح ہوگی: ”لَيْسَ“ فعل از افعالِ ناقصہ، ”زَيْدٌ“ مرفوع لفظاً اس کا اسم، با جارہ زائدہ، ”قَائِمٍ“ مجرور لفظاً، منصوب محلاً، مجرور لفظاً کیونکہ با جر دے رہی ہے اور منصوب محلاً کیونکہ وہ لیس کی خبر ہے، اور اس کے اندر ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع؟ لیس کے اسم کو، کیونکہ لیس کی خبر کو لیس کے اسم سے جوڑتے ہیں، تو اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر لیس کی خبر۔ لیس اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ ترکیب سمجھ میں آگئی؟ تو یہ ”قَائِمٍ“ پر جو با ہے وہ زائدہ ہے، وہ کسی سے متعلق نہیں ہوگی۔ تو یہ جو حروفِ جارہ زائدہ ہوتے ہیں یہ بھی کسی سے متعلق نہیں ہوتے بھئی۔
”وَيُخْتَصُّ بِالْمُتَعَدِّي“، اور یہ فعلِ مجہول جو ہے، ”فِعْلُ مَا لَمْ يُسَمَّ فَاعِلُهُ“، اسی کو کیا کہتے ہیں؟ فعلِ مجہول بھی، یہ خاص ہے متعدی کے ساتھ۔ یعنی فعلِ متعدی ہی سے فعلِ مجہول آئے گا، جو فعل کیا ہو؟ متعدی ہو، یعنی جس کے لیے آگے مفعول چاہیے ہوتا ہے، مفعول چاہیے ہوتا ہے۔ تو یہاں یاد رکھیے کہ ایک تو مفعول بہ ہوتا ہے فعل کا صریح، صاف لفظوں میں جس پہ فعل نصب دیتا ہے، مثلاً میں نے کہا: ”ضَرَبْتُ زَيْدًا“، یہ ”زَيْدًا“ کیا ہے؟ مفعول بہ ہے اور اس کو فعل نصب دے رہا ہے، تو وہ معمول جو مفعول بہ ہے اور جس میں فعل براہِ راست عمل کر کے اس کو نصب دے رہا ہے اس کو کہتے ہیں مَفْعُول بِہ صَرِیح بھئی، ص-ر-ی-ح، صریح، یعنی واضح، واضح مفعول بہ ہے یا صاف صاف کیا ہے؟ مفعول بہ ہے صاف لفظوں میں ہے، واضح پتہ چل رہا ہے یہ کیا ہے؟ مفعول بہ۔
لیکن بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ آپ ایک اور معمول بھی لانا چاہتے ہیں، ایک اور مفعول بہ بھی لانا چاہتے ہیں لیکن فعل اس میں عمل نہیں کر سکتا۔ مثلاً دیکھیے: ”ضَرَبْتُ زَيْدًا“، اب میں بتانا یہ چاہتا ہوں میں نے زید کی لاٹھی سے پٹائی کی، تو میں عصا، لاٹھی کو کیا کہتے ہیں؟ عَصَا، میں عصا کو بھی ذکر کرنا چاہتا ہوں ساتھ، لیکن ”ضَرَبْتُ“ تو ایک مفعول چاہتا تھا اور وہ ”زَيْدًا“ مفعول بہ آ چکا، اب یہ عصا کو نصب نہیں دے سکتا، تو مجبوری بن گئی اب کیا کریں؟ میں تو ذکر کرنا چاہتا ہوں، تو پھر اس صورت میں یاد رکھیے حروفِ جارہ کا سہارا لیتے ہیں، کس کا؟ حروفِ جارہ کا۔ تو میں یوں کہوں گا: ”ضَرَبْتُ زَيْدًا بِالْعَصَا“، ”ضَرَبْتُ زَيْدًا بِالْعَصَا“۔ تو یہ جو زید ہے یہ ہے مَفْعُول بِہ صَرِیح، اور یہ جس پر حرفِ جر داخل ہوتا ہے یاد رکھیے یہ بھی مفعول بہ ہوتا ہے لیکن اس کو غَیْرِ صَرِیح کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ تو یہ ”زَيْدًا“ ہوا مَفْعُول بِہ صَرِیح، اور ”بِالْعَصَا“ میں یہ جو عصا ہے یہ ہے مَفْعُول بِہ غَیْرِ صَرِیح بھئی، تو یہ بھی دراصل کیا ہے؟ مفعول بہ ہے۔
تو بتانا میں یہ چاہتا تھا، انہوں نے کہا کہ فعلِ مجہول ہمیشہ کس سے آئے گا؟ ”فِعْلُ مَا لَمْ يُسَمَّ فَاعِلُهُ“، اسی کو کیا کہتے ہیں؟ فعلِ مجہول بھی کہتے ہیں، تو فعلِ مجہول کس سے آئے گا؟ انہوں نے کہا خاص ہے متعدی کے ساتھ، یعنی صرف فعلِ متعدی سے آئے گا۔ لیکن یاد رکھیے متعدی پھر دو قسم پر ہوا: ایک وہ ہے جو براہِ راست متعدی ہو: ”ضَرَبْتُ زَيْدًا“، یہ کیا ہے؟ براہِ راست متعدی ہے، اس کا مفعول آ رہا ہے، اور ایک بعض اوقات فعل متعدی ہوتا ہے لیکن بواسطۂ حرفِ جر کے ہوتا ہے، کس کے؟ بواسطۂ حرفِ جر کے وہ متعدی ہوتا ہے، تو دونوں اس میں داخل ہو گئے، چاہے فعل متعدی ہو براہِ راست اور چاہے فعل متعدی ہو بواسطۂ حرفِ جر کے، تو یہ دونوں اس میں آ گئے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ کیونکہ فعلِ مجہول میں کیا کیا جاتا ہے؟ فاعل کو حذف کر لیتے ہیں اور مفعول بہ کو اس کا قائم مقام کر دیتے ہیں: ”ضَرَبْتُ زَيْدًا“، اب ”ضَرَبْتُ“ سے یہ تا ضمیر تو ختم ہو جائے گی، یہ ”ضُرِبَ“ بن جائے گا اور ”زَيْدًا“ یہ نائب الفاعل بن جائے گا اور مرفوع ہو جائے گا، تو کیا کہیں گے؟ ”ضُرِبَ زَيْدٌ“، زید کی پٹائی کی گئی۔ تو مفعول بہ ہوگا تو وہ نائب الفاعل بنے گا، اگر مفعول بہ ہے ہی نہیں تو پھر نائب الفاعل کسے بناؤ گے؟ صورت سمجھ میں آگئی؟
تو لہٰذا فعلِ مجہول خاص ہے کس کے ساتھ؟ فعلِ متعدی کے ساتھ، یعنی یہ صرف فعلِ متعدی سے بنے گا۔ لیکن میں نے بتا دیا فعلِ متعدی پھر دو قسم پر ہے: ایک فعل جو متعدی ہے براہِ راست، اور ایک فعل جو متعدی ہے بواسطۂ حرفِ جر کے، تو دونوں اس میں داخل ہو گئے، چاہے براہِ راست متعدی ہو اس سے بھی فعلِ مجہول آ جائے گا، اور چاہے بواسطۂ حرفِ جر کے متعدی ہو تو اس سے بھی کیا آ جائے گا؟ فعلِ مجہول آ جائے گا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَيُخْتَصُّ بِالْمُتَعَدِّي“، اور یہ فعل یعنی فعلِ مجہول جو ہے خاص ہے متعدی کے ساتھ، یعنی فعل یہ اسی سے آئے گا۔ چلیے بس بھئی، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔