Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

هداية النحو جديد · dars-085

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 19 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 46
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
”فَصْلٌ: اِعْلَمْ أَنَّ الِاسْمَ عَلَى قِسْمَيْنِ: مَعْرِفَةٌ وَنَكِرَةٌ، اَلْمَعْرِفَةُ اسْمٌ وُضِعَ لِشَيْءٍ مُعَيَّنٍ، وَهِيَ سِتَّةُ أَقْسَامٍ: اَلْمُضْمَرَاتُ، وَالْأَعْلَامُ، وَالْمُبْهَمَاتُ أَعْنِي أَسْمَاءَ الْإِشَارَاتِ وَالْمَوْصُولَاتِ، وَالْمُعَرَّفُ بِاللَّامِ، وَالْمُضَافُ إِلَى أَحَدِهَا إِضَافَةً مَعْنَوِيَّةً، وَالْمُعَرَّفُ بِالنِّدَاءِ.“ گزشتہ سبق میں ہم نے معرفہ اور نکرہ کے بارے میں پڑھنا شروع کیا تھا بھئی۔ مصنف نے آپ کو بتلایا کہ معرفہ وہ اسم ہے جس کو کسی معین چیز کے لیے وضع کیا جائے، یعنی کسی معین ذات پر، معین چیز پر وہ دلالت کرے، اور پھر بتلایا تھا کہ اس کی چھ قسمیں ہیں: ضمیریں ہیں، عَلَم یعنی نام ہیں، مبہمات یعنی اسمائے اشارہ اور اسمائے موصولہ ہیں، معرف باللام ہے، ان میں سے کسی ایک کی طرف مضاف ہو اضافت معنوی کے ساتھ، اور معرفہ بالنداء ہے بھئی، معرفہ بالنداء۔ تو گزشتہ سبق کے آخر میں ہم الف لام کی قسمیں پڑھ رہے تھے بھئی۔ میں نے آپ کو بتلایا کہ الف لام دو قسم پر ہے: ایک الف لام اسمی اور ایک الف لام حرفی۔ الف لام اسمی وہ ہے جو اسم فاعل اور اسم مفعول کے صیغوں پر داخل ہو بھئی، اسم فاعل اور اسم مفعول کے صیغوں پر داخل ہو، اور یہ الف لام دراصل اسم موصول ہے بمعنی ”الَّذِي“۔ تو ”الضَّارِبُ“ کس معنی میں ہوا؟ ”الَّذِي يَضْرِبُ“، اور ”الْمَضْرُوبُ“، ”الَّذِي يُضْرَبُ“ کے معنی میں ہوا بھئی۔ پھر یہاں تھوڑی سی تفصیل اور یاد رکھیے بھئی۔ آپ نے پڑھا کہ وہ الف لام جو اسم فاعل اور اسم مفعول کے صیغوں پر داخل ہو وہ دراصل کیا ہے؟ اسم موصول بھئی۔ پھر علماء فرماتے ہیں کہ ہر اسم فاعل اور اسم مفعول پر جو الف لام داخل ہو وہ اسم موصول نہیں، بلکہ ایسا اسم فاعل اور ایسا اسم مفعول جو حدوث کے معنی میں ہو، اس پر داخل ہونے والا الف لام کیا ہے؟ اسم موصول۔ کون سے اسم فاعل اور اسم مفعول؟ جو حدوث کے معنی میں ہوں۔ اور وہ اسم فاعل اور اسم مفعول جو ثبوت کے معنی میں ہوں، اس پر جو الف لام داخل ہوتا ہے وہ الف لام اسمی نہیں بلکہ الف لام حرفی ہے بھئی۔ اب حدوث اور ثبوت کا فرق سمجھ لیں بھئی۔ حدوث جس میں ایک چیز کا ہونا ہو، پہلے نہ ہو، پھر پائی جائے اور پھر ختم ہو جائے، دیکھو ایک چیز ہوئی۔ مثلاً دیکھیے: ”ضَرَبَ زَيْدٌ“، زید نے پٹائی کی۔ زید نے پٹائی کی تو زید کیا ہوا؟ ضارب۔ تو یہ ضرب پہلے نہیں تھی، پھر پائی گئی اور پھر گزر بھی گئی۔ تو یہ ہے حدوث، ایک چیز کا ہونا، یہ چیز ہوتی ہے اور گزر جاتی ہے۔ تو زید کو ہم کہیں گے ضارب ہے، کب؟ جب وہ ضرب لگا رہا ہو۔ جب ضرب نہیں لگا رہا تو وہ ضارب نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ مثلاً زید عمرو کی پٹائی کر رہا ہے، تو کچھ دیر پہلے وہ زید ضارب نہیں تھا، لیکن اس وقت کیا ہے؟ ضارب ہے، اور جیسے ہی ضرب روکے گا، اب زید ضارب نہیں۔ تو یہ ہے حدوث، جس میں دیکھو ایک چیز کا ہونا پایا جا رہا ہے۔ جب تک وہ چیز ہے، یہ ضارب ہے، جب تک وہ ضرب نہیں... اور جب وہ ضرب نہیں تو یہ ضارب بھی نہیں۔ جبکہ اس کے مقابلے میں ثبوت ہوتا ہے کہ جس میں ایک صفت دوسری چیز کے لیے ثابت ہو جائے، پائی جائے، تو وہاں ہونا نہیں ہوتا، بار بار ہو اور ختم ہو جائے ایسا نہیں ہوتا۔ یعنی وہ صفت ایک دفعہ آ گئی تو ساتھ جڑی رہتی ہے۔ ضارب کی صفت تو دیکھو پہلے نہیں تھی، پھر آئی اور پھر جیسے ہی ضرب ختم ہوئی، ضارب کی صفت بھی کیا ہو گئی؟ ختم ہو گئی۔ لیکن اس کے مقابلے میں اور صفت دیکھ لو، جیسے مومن، ایمان، دیکھو ایک آدمی ایمان لے کر آتا ہے تو اب یہ صفت اس کے ساتھ قائم ہے۔ اس کو ہر وقت ہم کیا کہیں گے؟ یہ مومن ہے، یہ ایسا نہیں ہے کہ ایمان کبھی ہے کبھی ختم، کبھی ہے کبھی ختم، ایسا نہیں۔ بلکہ یہ صفت ہے تو اس کے ساتھ مستقل ہے، مسلسل ہے۔ تو اس کو کہتے ہیں ثبوت۔ یا جیسے عالم، عالم، دیکھو صفتِ علم جب ایک شخص کے ساتھ قائم ہو گئی، تو اب اس کو کیا کہتے ہیں کہ یہ عالم ہے، اور یہ عالم ہونے کی صفت کیا کبھی رہتی ہے اور کبھی ختم ہوتی ہے یا اب مستقل رہتی ہے؟ یہ مستقل، دوام کے ساتھ اس کے ساتھ رہتی ہے۔ تو اس کو کہتے ہیں ثبوت۔ اس میں حدوث نہیں ہے، ایک چیز ہو، پائی جائے اور پھر ختم ہو جائے ایسا نہیں ہے۔ تو فرق سمجھ میں آیا بھئی؟ حدوث کیا ہوتا ہے؟ جس میں ایک چیز کا ہونا ہو، ہونا پایا جائے، اور پہلے نہ ہو، پائی جائے اور پھر ختم بھی ہو جائے۔ تو جب تک وہ صفت ہے، تو اس کو اس صفت کے ساتھ موصوف بھی کریں گے، اور جیسے ہی وہ ختم ہو گی، اب اس صفت کے ساتھ موصوف بھی نہیں۔ اور مثال لے لیں، جیسے دیکھیے ”سَمَعَ“ کا معنی سننا، ”سَامِعٌ“ اس کو کہیں گے جو آواز کو سن رہا ہے۔ مثلاً آپ ایک جگہ پر بیٹھے ہیں، کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی، تو آپ اس وقت سامع نہیں ہیں، کوئی چیز سن نہیں رہے۔ ہاں، پھر جیسے ہی آواز آئی آپ فوراً سامع بن گئے، آپ نے اس آواز کو سنا، اور جیسے ہی آواز ختم ہوئی، اب پھر وہ سامع والی صفت ختم۔ تو دیکھو اس میں ہے حدوث، سننا، ایک چیز کا سننا۔ یا جیسے شرب، شرب کا معنی ہے پینا، آپ جیسے ہی پانی پینے لگے، اب آپ بن گئے شارب، اس سے پہلے شارب نہیں تھے، اور جیسے ہی پانی پینا بند کریں گے، اب آپ شارب نہیں ہیں۔ تو دیکھو حدوث، حدوث میں کیا ہوتا ہے؟ ایک چیز نہیں ہوتی، پائی جاتی ہے اور پھر ختم ہو جاتی ہے۔ اور ثبوت میں کیا ہوتا ہے؟ ایک چیز کے لیے ایک دوسری صفت کا ثبوت ہوتا ہے، ثابت ہوتی ہے، اس میں بار بار ختم ہونا نہیں ہوتا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو علماء فرماتے ہیں: وہ اسم فاعل یا اسم مفعول جو حدوث کے معنی میں ہوں، ان پر جو الف لام داخل ہوتا ہے وہ الف لام اسمی ہوتا ہے اور بمعنی ”الَّذِي“ کے ہوتا ہے۔ تو لہٰذا ”الضَّارِبُ“ کس معنی میں ہوا؟ ”الَّذِي يَضْرِبُ“، ”الْمَضْرُوبُ“ کس معنی میں ہوا؟ ”الَّذِي يُضْرَبُ“، ”الشَّارِبُ“ کس معنی میں ہوا؟ ”الَّذِي يَشْرَبُ“، اور ”الْمَشْرُوبُ“ یہ کس معنی میں ہوا؟ ”الَّذِي يُشْرَبُ“، اور ”السَّامِعُ“ کس معنی میں ہوا؟ ”الَّذِي يَسْمَعُ“، اور ”الْمَسْمُوعُ“ کس معنی میں ہوا؟ ”الَّذِي يُسْمَعُ“۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جبکہ اس کے مقابلے میں وہ اسم فاعل یا اسم مفعول جو ثبوت کے معنی میں ہیں، حدوث کے معنی میں نہیں ہیں، کس معنی میں ہیں؟ ثبوت کے معنی میں ہیں، ان پر جو الف لام داخل ہوتا ہے وہ الف لام اسمی نہیں بلکہ الف لام حرفی ہے۔ لہٰذا ”الْمُؤْمِنُ“ یہاں پر الف لام ”الَّذِي“ کے معنی میں نہیں ہے بھئی، یا ”الْعَالِمُ“ یہاں پر الف لام ”الَّذِي“ کے معنی میں نہیں ہے۔ فرق سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو یہ ہے الف لام اسمی۔ تو الف لام اسمی کسے کہتے ہیں؟ جو ایسے اسم فاعل اور اسم مفعول پر داخل ہو جو حدوث کے معنی میں ہو بھئی، حدوث کے معنی میں۔ اس کے مقابلے میں الف لام حرفی ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ الف لام حرفی یہ حرف ہے، یہ اسم نہیں، جبکہ پچھلا الف لام تو کیا تھا؟ اسم موصول تھا، اسم تھا۔ جبکہ الف لام حرفی، حرف ہے، اور یہ کسی لفظ کو معرفہ بنانے کے لیے آتا ہے، جب یہ کسی لفظ پر داخل ہو جائے تو اس کو معرفہ بنا دیتا ہے بھئی۔ اور اس کی بہترین تعبیر میں نے بتلائی تھی آپ کو کہ الف لام حرفی وہ ہے جس کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جائے۔ تو اب اشارہ یا تو جنس کی طرف ہو گا یا افراد کی طرف۔ اگر اشارہ جنس کی طرف ہو تو اس کو الف لام جنسی کہتے ہیں، اگر اشارہ افراد کی طرف ہو، پھر دیکھیں گے سارے افراد کی طرف اشارہ ہے یا بعض کی طرف۔ اگر تمام افراد کی طرف اشارہ ہے تو اس کو الف لام استغراقی کہیں گے، اگر بعض افراد کی طرف اشارہ ہے تو پھر وہ بعض افراد خارج میں متعین ہوں گے یا متعین نہیں ہوں گے۔ اگر وہ افراد خارج میں متعین ہیں تو پھر اس کو الف لام عہد خارجی کہیں گے۔ عہد کا کیا معنی؟ متعین ہونا۔ تو عہد خارجی، جس کے افراد خارج میں متعین ہیں، اور اگر وہ بعض افراد خارج میں متعین نہیں تو پھر اس کو الف لام عہد ذہنی کہتے ہیں بھئی، عہد ذہنی کہتے ہیں۔ اور اس کی مثالیں میں ذکر کر رہا تھا بھئی، مثالیں ذکر کر رہا تھا۔ جیسے ”اَلرَّجُلُ خَيْرٌ مِنَ الْمَرْأَةِ“، تو یہاں ”اَلرَّجُلُ“ کے اندر بھی الف لام آیا، ”اَلْمَرْأَةُ“ کے اندر بھی الف لام آیا، تو یہ الف لام اسمی تو ہے نہیں، کیونکہ رجل اور مرأة یہ نہ اسم فاعل ہے اور نہ اسم مفعول، تو یہ الف لام حرفی ہوا۔ پھر اس میں غور کیا کہ یہ الف لام کون سا الف لام؟ اس میں جنس کی طرف اشارہ ہے یا افراد کی طرف اشارہ ہے؟ غور کیا تو پتہ چلا کہ یہاں جنس کی طرف اشارہ ہے، افراد کی طرف نہیں۔ جنسِ رجل بہتر ہے جنسِ امرأۃ سے، یعنی اس جنس کو، اس ماہیت کو اللہ نے فوقیت نصیب فرمائی ہے، اس کو بہتر بنایا ہے۔ افراد نہیں، کیونکہ اگر افراد کی طرف دیکھا جائے پھر تو بہت جگہ یہ غلط بھی ثابت ہو جاتا ہے، جیسے میں نے مثال دی تھی ایک ایمان والی عورت اور ایک کافر مرد، ان میں کون بہتر ہے؟ ظاہر سی بات ہے ایمان والی عورت بہتر ہے، حالانکہ کہا کیا جا رہا ہے ”اَلرَّجُلُ خَيْرٌ مِنَ الْمَرْأَةِ“، تو یہ تو برعکس ہو رہا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ الف لام کون سا ہوا؟ الف لام جنسی ہوا بھئی، جس میں جنس اور ماہیت کی طرف اور حقیقت کی طرف اشارہ ہے، افراد کی طرف نہیں۔ اور اگر افراد کی طرف اشارہ ہو، تو پھر دیکھیں گے تمام افراد کی طرف اشارہ ہے یا بعض کے؟ اگر تمام کی طرف اشارہ ہو تو اس کو الف لام استغراقی کہتے ہیں، جیسے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”وَالْعَصْرِ ۙ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ“، قسم ہے زمانے کی، یقیناً تمام انسان خسارے میں ہیں۔ یہ تمام انسان، ”اَلْإِنْسَانُ“ کا ترجمہ کیا کیا جا رہا ہے؟ تمام انسان۔ کیوں؟ یہ تمام کس کا ترجمہ ہے؟ یہ الف لام کا ہے، کیونکہ الف لام استغراقی ہے یہاں پر، کہ تمام انسان خسارے میں ہیں، ”إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ“، مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے بھئی۔ تو یہ ”اَلْإِنْسَانُ“ میں الف لام کیا ہے؟ استغراقی ہے، استغراقی ہے۔ اور الف لام عہد خارجی، الف لام عہد خارجی وہ جس کے افراد کیا ہوں؟ خارج میں متعین ہوں۔ مثلاً دیکھیے، مثلاً دیکھیے میں آپ سے کہتا ہوں: ”جَاءَنِي رَجُلٌ أَمْسِ“، ”جَاءَنِي رَجُلٌ أَمْسِ“، میرے پاس ایک آدمی آیا تھا، امس گزشتہ کل، کل میرے پاس ایک آدمی آیا تھا۔ اب میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ میں نے پھر اس آدمی کا اکرام کیا۔ تو میں آگے کہوں گا، مثلاً پہلے میں نے کیا کہا ”جَاءَنِي رَجُلٌ“، دیکھو نکرہ لے کر آیا، کیونکہ آپ اس کو نہیں جانتے، آپ نے اس کو نہیں دیکھا، آپ کو اس کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہے، تو اس لیے میں نکرہ لے کر آیا ”جَاءَنِي رَجُلٌ أَمْسِ“، کل میرے پاس کوئی ایک آدمی آیا تھا۔ اب میں آپ کو بتلانا چاہتا ہوں میں نے اس آدمی کا اکرام کیا، تو میں ”فَأَكْرَمْتُ رَجُلًا“ یوں نہیں کہوں گا، کیونکہ ”فَأَكْرَمْتُ رَجُلًا“ اس کا معنی تو بن جائے گا: تو پھر میں نے اکرام کیا رجلاً ایک آدمی کا، اب معلوم نہیں وہی آدمی ہے یا کوئی اور، لیکن میں تو اسی آدمی کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہوں، تو اب میں رجل کو معرفہ لاؤں گا، ”فَأَكْرَمْتُ الرَّجُلَ“، الف لام لے آیا رجل پر، تو پھر میں نے اکرام کیا ”الرَّجُلَ“، دیکھو الف لام حرفی آیا، اور الف لام حرفی کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ ہوتا ہے، تو یہاں بھی اس آدمی کی طرف اشارہ ہے، تو ”الرَّجُلَ“ کا ترجمہ کریں گے: اس آدمی، وہ آدمی، ”فَأَكْرَمْتُ الرَّجُلَ“، تو میں نے اس آدمی کا اکرام کیا۔ یہ اس آدمی، یہ اس، یہ کس کا ترجمہ میں کر رہا ہوں؟ الف لام، یہ اشارہ کیا جا رہا ہے۔ تو یہاں سے ایک اور بات بھی پتہ چل گئی آپ کو کہ معرفہ کسے کہتے ہیں؟ جو کسی معین ذات پر دلالت کرے۔ معین ذات ہونے کا یہ معنی نہیں کہ آپ نے اس کی شکل دیکھی ہو، آپ اس کو جانتے ہوں، آپ اس کو پہچانتے ہوں، نہیں نہیں۔ بلکہ متکلم اور مخاطب، متکلم بات کرنے والا اور مخاطب، ان کے درمیان جو بھی چیز متعین ہو گئی، جیسے دیکھو رجل کا ایک دفعہ ذکر آ گیا، اب آگے میں نے کیا ذکر کیا؟ ”اَلرَّجُلُ“، الف لام کے ساتھ اس کو ذکر کیا، کیونکہ وہ متعین ہو گیا تھا آپ کے اور میرے درمیان۔ آپ سمجھ گئے کہ وہی آدمی مراد ہے جس کا ابھی ذکر ہوا تھا، حالانکہ نہ آپ نے اس کی شکل دیکھی ہے، نہ آپ کو اس کے بارے میں کسی اور تفصیل وغیرہ کا پتہ ہے، کسی چیز کا نہیں پتہ، لیکن پھر بھی ایک دفعہ ذکر آ گیا تو چیز کیا ہو گئی؟ متعین ہو گئی۔ تو اس میں دیکھنا یا نام وغیرہ کا پتہ ہونا وغیرہ ضروری نہیں، جیسے میں نے کیا کہا: ”جَاءَنِي رَجُلٌ“، کل میرے پاس ایک آدمی آیا تھا، ”فَأَكْرَمْتُ الرَّجُلَ“، تو پھر میں نے اس آدمی کا اکرام کیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور جب میں نے کہا ”فَأَكْرَمْتُ الرَّجُلَ“، پھر میں نے اس آدمی کا اکرام کیا، آپ سمجھ گئے یا نہیں سمجھ گئے کس آدمی کی بات ہو رہی ہے؟ آپ سمجھ گئے کہ ابھی جس آدمی کا ذکر چل رہا تھا، معلوم ہوا دیکھا ایک دفعہ ذکر کرنے سے وہ چیز متعین ہو گئی تھی، آپ فوراً سمجھ گئے کہ فلاں آدمی مراد ہے، کون سا آدمی؟ جس کا ابھی ذکر چل رہا تھا، یہ نہیں کہ آپ نے اس کی شکل دیکھی ہو، آپ کو اس کے نام وغیرہ کا پتہ ہو، یہ ضروری نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یا جیسے، جیسے قرآن میں اس کی مثال ہے، قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”أَرْسَلْنَا إِلَىٰ فِرْعَوْنَ رَسُولًا“، ہم نے بھیجا فرعون کی طرف ”رَسُولًا“ ایک پیغمبر، دیکھو نکرہ آیا، ہم نے فرعون کی طرف ایک پیغمبر بھیجا، ایک رسول بھیجا۔ اب دیکھیے رسول کا ذکر ایک دفعہ آ گیا، پہلی مرتبہ نکرہ آیا، ہم نے فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا، لیکن جب ایک دفعہ ذکر آ گیا اب کیا ہو گیا؟ متعین ہو گیا، تو لہٰذا آگے اللہ فرماتے ہیں: ”فَعَصَىٰ فِرْعَوْنُ الرَّسُولَ“، دیکھو الف لام آ گیا، ”فَعَصَىٰ“ پس نافرمانی کی فرعون نے ”الرَّسُولَ“ اس رسول کی، تو فرعون نے نافرمانی کی اس رسول کی، دیکھو ایک دفعہ ذکر ہوا تو وہ متعین ہوا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ کون سا الف لام ہے؟ الف لام عہد خارجی، یعنی جس میں اشارہ ہے بعض افراد کی طرف اور وہ افراد کیا ہیں؟ خارج میں متعین ہیں، پھر وہ ایک فرد بھی ہو سکتا ہے، دو بھی ہو سکتے ہیں، زیادہ بھی ہو سکتے ہیں۔ ”رَجُلٌ“، ”اَلرَّجُلُ“، ”رَجُلَانِ“، ”اَلرَّجُلَانِ“، دیکھو ”اَلرَّجُلَانِ“ کا کیا ترجمہ کرو گے؟ وہ دو آدمی، دیکھو کوئی متعین آدمی مراد ہیں۔ ”رِجَالٌ“، کچھ آدمی، اور ”اَلرِّجَالُ“، وہ آدمی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ بعض افراد ایک بھی ہو سکتا ہے، دو بھی ہو سکتے ہیں، دو سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں۔ تو اگر تمام افراد کی طرف الف لام کے ذریعے اشارہ کیا جائے تو یہ الف لام استغراقی، اگر بعض کی طرف، بعض متعین کی طرف اشارہ کیا جائے تو الف لام عہد خارجی، اور وہ متعین جو بعض ہیں، وہ ایک بھی ہو سکتا ہے، دو بھی ہو سکتے ہیں اور زیادہ بھی، جیسے ”اَلرَّجُلُ“، ”اَلرَّجُلَانِ“ اور ”اَلرِّجَالُ“۔ اور اگر وہ افراد خارج میں متعین نہیں، وہ بعض افراد جن کی طرف الف لام کے ذریعے کیا کیا گیا؟ اشارہ، خارج میں متعین نہیں، تو پھر اس کو الف لام عہد ذہنی کہتے ہیں بھئی، الف لام عہد ذہنی۔ الف لام عہد ذہنی کی بڑی پیاری مثال قرآن میں موجود ہے، حضرت یعقوب علیہ السلام نے حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں سے ان کے بارے میں فرمایا، تو جیسے ان کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے ان کے پاس آئے اور آ کر انہوں نے کہا کہ آپ حضرت یوسف علیہ السلام کو ہمارے ساتھ بھیج دیجیے، ہمارے ساتھ جنگل میں وہ کھیل لے گا، حضرت یعقوب علیہ السلام فرمانے لگے: ”أَخَافُ أَن يَأْكُلَهُ الذِّئْبُ“، ”أَخَافُ“ مجھے خوف ہے ”أَن يَأْكُلَهُ“ کہ ان کو کھا لے گا ”الذِّئْبُ“ کوئی بھیڑیا۔ تو ”الذِّئْبُ“، ”ذِئْبٌ“ بھیڑیے کو کہتے ہیں، اور اس پر الف لام آیا، اور یاد رکھیے یہ الف لام عہد ذہنی ہے۔ آپ خود غور کر لیجیے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کیا فرما رہے ہیں؟ ”أَخَافُ أَن يَأْكُلَهُ الذِّئْبُ“، مجھے خوف ہے کہ ان کو بھیڑیا کھا جائے گا۔ اب مجھے بتائیے، کسی چیز کی حقیقت اور جنس دوسرے چیز کو کھاتی ہے یا اس کے افراد کھا لیتے ہیں؟ بھیڑیا، یوں کہیں بھیڑیے کی حقیقت کسی چیز کو کھاتی ہے یا بھیڑیے کے افراد کسی چیز کو کھا لیتے ہیں؟ بھیڑیے کے افراد چیزوں کو کھا لیتے ہیں، بھیڑیے کی حقیقت چیزوں کو نہیں کھاتی۔ تو پھر معلوم ہوا یہ الف لام جنسی نہیں، کیونکہ حقیقت اور جنس مراد نہیں، افراد مراد ہیں۔ پھر غور کیا: کیا تمام افراد مراد ہیں؟ کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کو یہ خوف تھا کہ ساری دنیا کے بھیڑیے مل کر ان کے بیٹے کو کھا جائیں گے؟ نہیں، معلوم ہوا یہ الف لام استغراقی بھی نہیں، تمام بھیڑیے بھی مراد نہیں ہیں۔ اچھا، تمام بھیڑیے نہیں مراد، تو کیا کوئی معین بھیڑیا مراد تھا؟ جس کی طرف حضرت یعقوب علیہ السلام کا اشارہ تھا کہ مجھے خوف ہے ”أَن يَأْكُلَهُ الذِّئْبُ“ کہ ان کو وہ بھیڑیا کھا جائے گا، وہ جو ایک خاص بھیڑیا ہے وہ کھا... کیا کوئی خاص بھیڑیا مراد تھا؟ نہیں، خاص بھیڑیا بھی مراد نہیں، معلوم ہوا یہ الف لام عہد خارجی بھی نہیں ہے۔ تو پھر معلوم ہوا یہ الف لام عہد ذہنی ہے بھئی، الف لام عہد ذہنی۔ اور یاد رکھیے، الف لام عہد ذہنی جب کسی لفظ پر داخل ہو تو وہ اس کو معرفہ تو ضرور بنا دیتا ہے، کیونکہ الف لام حرفی جس لفظ پر بھی داخل ہو اس کو کیا بنا دیتا ہے؟ معرفہ۔ لیکن یہ جو الف لام عہدی جو ہے، یہ جس لفظ پر داخل ہو اسے لفظوں کے اعتبار سے تو معرفہ بناتا ہے، لیکن معنی کے اعتبار سے وہ اسی طرح نکرہ کا نکرہ رہتا ہے۔ ”ذِئْبٌ“ کا معنی تھا کوئی ایک بھیڑیا، ”الذِّئْبُ“ کا معنی بھی ہے کوئی ایک بھیڑیا۔ اسی لیے دیکھو ترجمہ بھی میں نے یہی کیا: ”أَخَافُ“ مجھے خوف ہے ”أَن يَأْكُلَهُ الذِّئْبُ“ کہ ان کو کوئی بھیڑیا کھا جائے گا۔ دیکھا؟ تو ”الذِّئْبُ“ پر الف لام بے شک آ گیا، لیکن یہ ابھی بھی اس کا یہ کیا ہے؟ نکرہ کا نکرہ ہی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو الف لام عہد ذہنی جس لفظ پر داخل ہو، لفظوں کے اعتبار سے وہ معرفہ بن جاتا ہے، یعنی وہ مبتدا وغیرہ بھی بن سکتا ہے، کیونکہ مبتدا میں اصل یہ ہے نا معرفہ ہونا چاہیے، تو وہ مبتدا وغیرہ بن سکتا ہے، لیکن معنی کے اعتبار سے وہ کیا ہوتا ہے؟ نکرہ ہوتا ہے، لہٰذا اس کا نکرہ والا ترجمہ کریں گے بھئی۔ جی، الف لام کی اقسام کا اچھی طرح پتہ چل گیا؟ اچھا، آگے دیکھیے بھئی: ”وَالْعَلَمُ مَا وُضِعَ لِشَيْءٍ مُعَيَّنٍ لَا يَتَنَاوَلُ غَيْرَهُ بِوَضْعٍ وَاحِدٍ“. بھئی دیکھیے، معرفہ کی کئی اقسام ذکر ہوئیں، معرفہ کی کئی اقسام ذکر ہوئیں۔ ان میں سے ضمیروں کے بارے میں آپ پڑھ چکے ہیں، ”وَالْأَعْلَامُ“ علم کے بارے میں ابھی ہم نے نہیں پڑھا، مبہمات یعنی اسمائے اشارہ اور اسمائے موصولہ وہ بھی ہم پڑھ چکے ہیں، معرف باللام وہ آسان ہے، معرف باللام کسے کہتے ہیں؟ جس پر الف لام داخل ہو، اور ”وَالْمُضَافُ إِلَىٰ أَحَدِهَا إِضَافَةً مَعْنَوِيَّةً“ اضافت کے بارے میں بھی ہم پڑھ چکے ہیں اور یہ بھی واضح ہے بھئی، واضح ہے، کہ ضمیر کی طرف مضاف ہو گا یا علم کی طرف، اسمائے اشارہ... اور معرف بالنداء یہ بھی ہم پڑھ چکے ہیں معرفہ بالنداء۔ تو صرف کیا رہ گیا؟ علم رہ گیا۔ تو لہٰذا اب باقی سب بیان ہو چکے یا واضح ہیں، صرف علم باقی تھا، اس کے بارے میں مصنف فرماتے ہیں: ”وَالْعَلَمُ مَا وُضِعَ لِشَيْءٍ مُعَيَّنٍ“، کہ علم وہ ہے، وہ اسم ہے جس کو وضع کیا جائے ”لِشَيْءٍ مُعَيَّنٍ“ کسی معین چیز کے لیے، مثلاً جیسے کسی شخص کا نام ہے زید، وہ جب پیدا ہوا اس کے والدین نے اس کے لیے کیا نام مقرر کر دیا؟ زید، تو دیکھو یہ زید کیا ہے؟ علم ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَالْعَلَمُ مَا وُضِعَ لِشَيْءٍ مُعَيَّنٍ“، علم جو ہے وہ اسم ہے جس کو وضع کیا جائے کسی معین چیز کے لیے، ”لَا يَتَنَاوَلُ غَيْرَهُ بِوَضْعٍ وَاحِدٍ“، ”لَا يَتَنَاوَلُ“ وہ شامل نہ ہو ”غَيْرَهُ“ اس کے علاوہ کو ”بِوَضْعٍ وَاحِدٍ“ ایک ہی وضع سے۔ بھئی اس کے ذریعے دراصل بعض اوقات آپ دیکھتے ہیں دو یا تین ساتھیوں کے نام زید ہیں، یا دو یا تین کے نام عبد اللہ ہیں، تو آپ نے تو پڑھا علم کسے کہتے ہیں؟ جو کسی معین ذات پر کیا کرے؟ دلالت کرے۔ اب دیکھیے اب آپ عبد اللہ کہتے ہیں لیکن پتہ نہیں چلتا کون سا والا عبد اللہ مراد ہے، یا زید کہتے ہیں تو پتہ نہیں چلتا کون سا والا زید مراد ہے، مثلاً دو یا تین کا نام زید ہے، تو پھر یہ تو علم کی تعریف سے خارج ہو رہا ہے کہ آپ نے کیا کہا تھا؟ کسی ایک معین چیز کے لیے وضع کیا جائے، یہ تو ایک کے لیے وضع نہیں ہے، یہ تو کئیوں کے لیے وضع ہے۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ بھئی ایک وقت میں جب وضع کیا تھا تو ایک ذات کے لیے وضع کیا تھا، دوسرے کے لیے الگ وضع کیا گیا۔ مثلاً ایک آدمی ہے، اس کا بیٹا پیدا ہوا تو اس نے اس بیٹے کا نام زید رکھا۔ تو دیکھو یہ اس لفظِ زید کو وضع کر رہا ہے، مقرر کر رہا ہے اپنے بیٹے کے لیے، تو صرف اپنے بیٹے کے لیے مقرر کر رہا ہے یا ساتھ ساتھ کسی اور کے لیے بھی وہ اس نام کو مقرر کر رہا ہے؟ صرف اپنے بیٹے کے لیے مقرر کر رہا ہے، تو اس نے اس... یعنی اس وضع میں غیر کو یہ شامل نہیں، اس وضع میں یہ صرف اسی ایک کو شامل ہے۔ دوسرے نے اپنے بیٹے کا نام زید رکھا، تو دیکھو اس کی وضع میں بھی کوئی اور شامل نہیں، وہ بھی صرف اپنے بیٹے کے لیے کیا کر رہا ہے؟ وضع کر رہا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم ہوا علم وہ ہے جو کسی معین ذات پر دلالت کرے اور جب اس کو وضع کیا گیا تھا، اس وقت وہ اسی ایک ذات کو شامل تھا اور ذاتوں کو شامل نہیں تھا۔ اگر دو یا تین کے لیے اکٹھا وضع کیا جائے پھر وہ نکل جائے گا اس سے بھئی، پھر وہ نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو لہٰذا دو یا تین کا نام اگر زید ہے تو کوئی حرج نہیں، یہ پھر بھی علم کے اندر داخل ہے، کیونکہ ان میں سے ہر ایک کے لیے ان کے والدین نے الگ الگ وضع کیا تھا، اور ایک وضع کے وقت دوسرا اس میں داخل نہیں تھا۔ تو کہتے ہیں ”وَالْعَلَمُ مَا وُضِعَ لِشَيْءٍ مُعَيَّنٍ“، علم وہ ہے جس کو وضع کیا جائے کسی ایسی معین چیز کے لیے کہ ”لَا يَتَنَاوَلُ غَيْرَهُ“، کہ وہ شامل نہ ہو، وہ نام شامل نہ ہو ”غَيْرَهُ“ اس معین چیز کے علاوہ کسی اور کو ”بِوَضْعٍ وَاحِدٍ“ ایک ہی وضع میں۔ ایک وقت میں ایک ہی کے لیے نام رکھا گیا زید، دو یا تین کے لیے نام نہیں رکھا گیا۔ ”وَأَعْرَفُ الْمَعَارِفِ الْمُضْمَرُ“، ”اَلْمُضْمَرُ الْمُتَكَلِّمُ“. اب یاد رکھیے یہ معرفہ کی جو اقسام آپ نے پڑھیں ان میں تعریف برابر درجے کی نہیں ہے، مثلاً ضمیریں ہیں وہ بھی معرفہ، علم ہے وہ بھی معرفہ، تو اب آپ یہ نہ کہیں دونوں معرفہ ہیں، دونوں برابر درجے کے معرفہ ہیں، نہیں نہیں۔ ان میں تعریف برابر درجے کی نہیں ہے، کسی میں تعریف زیادہ ہے، کسی میں تعریف کم ہے، تو اب کس میں تعریف سب سے زیادہ؟ تو اب آپ کو بتلائیں گے کہ سب سے زیادہ تعریف ضمیروں کے اندر ہے، کس کے اندر؟ ضمیروں کے اندر سب سے زیادہ تعریف ہوتی ہے۔ اور پھر ضمیروں کے اندر، ضمیریں تو تین قسم کی ہیں: متکلم، مخاطب اور غائب۔ سب سے زیادہ تعریف متکلم کی ضمیر میں ہے۔ تعریف؟ تعریف کا معنی ہے پہچان، پہچان۔ دیکھو معرفہ کسے کہتے ہیں؟ جو کسی معین چیز پر دلالت کرتا ہے، یعنی جس کی آپ کو پہچان ہوتی ہے۔ میں نے کہا ”جَاءَنِي رَجُلٌ أَمْسِ“، کل میرے پاس ایک آدمی آیا تھا، ”فَأَكْرَمْتُ الرَّجُلَ“، تو میں نے اس آدمی کا اکرام کیا۔ دیکھو ”اَلرَّجُلُ“ کیا ہے؟ معرفہ، اور آپ کو اس معرفہ کی پہچان ہے یا نہیں؟ آپ کو پتہ چل رہا ہے کون سا آدمی مراد ہے، وہی جو کل میرے پاس آیا تھا، تو دیکھو پہچان، تعریف کا کیا معنی ہے؟ پہچان۔ تو سب سے زیادہ تعریف متکلم کی ضمیر میں ہے، ”أَنَا“، ”أَنَا“، کیونکہ انسان سب سے زیادہ اپنے آپ کو پہچانتا ہے۔ اس کے بعد مخاطب کی ضمیر کا درجہ ہے، ”أَنْتَ“، کیونکہ مخاطب سامنے موجود ہوتا ہے، تو اس کا درجہ دوسرے نمبر پر ہے بھئی۔ اور تیسرا درجہ غائب کی ضمیر کا ہے، ”هُوَ“ بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَأَعْرَفُ الْمَعَارِفِ“، اور اعرف المعارف جو ہے یعنی تمام معرفہ میں جو زیادہ معرفہ ہے جس میں تعریف زیادہ ہے، ”اَلْمُضْمَرُ الْمُتَكَلِّمُ“ وہ متکلم کی ضمیر ہے ”نَحْوُ أَنَا“ جیسے ”أَنَا“، ”وَنَحْنُ“ اور ”نَحْنُ“، ”ثُمَّ الْمُخَاطَبُ“ پھر مخاطب کی ضمیر ہے ”نَحْوُ أَنْتَ“ جیسے ”أَنْتَ“، ”ثُمَّ الْغَائِبُ“ پھر غائب کی ضمیر ہے ”نَحْوُ هُوَ“ جیسے ”هُوَ“۔ یہ تو تھا پہلا درجہ، ضمیریں، اور ان میں بھی درجے بتلا دیے۔ اس کے بعد ”ثُمَّ الْعَلَمُ“، پھر درجہ کس کا ہے؟ علم کا درجہ ہے۔ ”ثُمَّ الْمُبْهَمَاتُ“، پھر تیسرا درجہ کس کا؟ مبہمات کا ہے، یعنی اسمائے اشارہ اور اسمائے موصولہ۔ ”ثُمَّ الْمُعَرَّفُ بِاللَّامِ“، پھر اگلا درجہ جو ہے معرف باللام کا ہے۔ ”ثُمَّ الْمُعَرَّفُ بِالنِّدَاءِ“، پھر معرفہ بالنداء کا درجہ ہے۔ اور مضاف؟ بھئی مضاف تو رہ گیا، وہ اسم جو معرفہ کی طرف مضاف ہو جائے وہ بھی کیا بن جاتا ہے؟ معرفہ، اس کا کون سا درجہ ہے؟ کہتے ہیں بھئی مضاف کا وہی درجہ ہے جو اس کا مضاف الیہ ہو، یعنی اگر اس کی اضافت ضمیر کی طرف ہے، ”غُلَامِي“، تو یہ ”غُلَامِي“ غلام معرفہ ہے، کس درجے کا معرفہ؟ پہلے درجے کا، کیونکہ یہ یا ضمیر، متکلم کی ضمیر کی طرف مضاف ہے۔ اور اگر علم کی طرف مضاف ہو، ”غُلَامُ زَيْدٍ“، یہ کس درجے کا ہے؟ یہ دوسرے درجے کا ہے، دوسرے درجے کا۔ اور اگر مضاف ہو کس کی طرف؟ مبہمات کی طرف، مبہمات کی طرف ”غُلَامُ هٰذَا“ یا ”غُلَامُ الَّذِي ضَرَبَكَ“، یہ تیسرے درجے میں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور اگر، اور اگر معرف باللام کی طرف مضاف ہو جیسے ”غُلَامُ الرَّجُلِ“، تو یہ چوتھے درجے کا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَالْمُضَافُ فِي قُوَّةِ الْمُضَافِ إِلَيْهِ“، اور مضاف جو ہوتا ہے مضاف الیہ کی قوت میں ہوتا ہے یعنی اس کے درجے میں ہوتا ہے۔ ”وَالنَّكِرَةُ مَا وُضِعَ لِشَيْءٍ غَيْرِ مُعَيَّنٍ كَرَجُلٍ وَفَرَسٍ“، اور نکرہ وہ ہے جس کو مقرر کیا گیا ہو، جس کو وضع کیا گیا ہو کسی غیر معین چیز کے لیے، ”كَرَجُلٍ وَفَرَسٍ“ جیسے رجل اور فرس۔ رجل کا معنی؟ کوئی ایک آدمی۔ زید، عمرو، بکر سب کیا ہیں؟ رجل، ہر ایک پر صادق آتا ہے، کسی یہ معین کے لیے وضع نہیں۔ فرس؟ فرس، کوئی گھوڑا، تو یہ ہر فرس پر صادق آئے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو معرفہ جو معین ذات پر دلالت کرے، اور نکرہ جو غیر معین ذات پر دلالت کرے بھئی۔ بھئی یاد رکھیے، یاد رکھیے۔ انہوں نے بتلایا کہ اعرف المعارف ان... یہ جو معرفہ کی اقسام ذکر کیں، ان میں سب سے زیادہ تعریف کس کے اندر ہے؟ ضمیروں میں۔ لیکن یاد رکھیے بھئی یاد رکھیے، علی الاطلاق سب سے زیادہ تعریف لفظِ اللہ میں ہے بھئی۔ سب سے زیادہ تعریف کس میں ہے؟ لفظِ اللہ میں، یعنی یہ تمام معارفوں سے زیادہ معرفہ ہے۔ امام سیبویہؒ جو نحو کے عظیم امام گزرے ہیں اور جن کی بات نحو کے اندر ایک پہاڑ کی طرح مضبوط سمجھی جاتی ہے، ان کی وفات کے بعد کسی نے ان کو خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ تو فرمانے لگے کہ اللہ نے میری مغفرت فرما دی۔ پوچھا کس بات پر؟ فرمایا کہ اس وجہ سے کہ میں اس بات کا قائل تھا کہ لفظِ اللہ علی الاطلاق اعرف المعارف ہے بھئی۔ سب سے زیادہ تعریف کس لفظ میں ہے؟ لفظِ اللہ کے اندر ہے بھئی، تو اس پر اللہ نے میری مغفرت فرما دی۔ تو علی الاطلاق اعرف المعارف لفظِ اللہ ہے۔ اور اسی طرح یاد رکھیے، انکر النکرات، علی الاطلاق جس میں سب سے زیادہ تنکیر ہے، جس میں سب سے زیادہ عموم ہے، وہ لفظِ ”شَيْءٌ“ ہے۔ لفظِ... تو انکر النکرات کیا ہے؟ ”شَيْءٌ“ بھئی، اس میں سب سے زیادہ عموم ہے، یہ ہر چیز اس کے اندر آ جاتی ہے بھئی۔ اچھا، ایک اور چھوٹی سی بات رہ گئی وہ بھی سن لیں۔ اچھا بھئی، یہاں یاد رکھیے، یہ معرف باللام کو تو ذکر کیا انہوں نے، لیکن معرف بالمیم کو ذکر نہیں کیا۔ عرب کے بعض قبیلے تھے، وہ الف لام کے بجائے الف میم تعریف کے لیے استعمال کرتے تھے۔ الف لام کے بجائے الف میم، تو یہ تو ہے معرف باللام، اس کو کیا کہیں گے؟ معرف بالمیم۔ اس کو ذکر نہیں کیا مصنف نے، کیونکہ وہ قلیل، چند ایک کی لغت میں تھا، عام سب کیا بولتے تھے؟ الف لام بھئی۔ البتہ ایک حدیث میں اس کا ذکر آتا ہے، یہ آپ کے حاشیے میں دی ہوئی ہے بھئی: ”لَيْسَ مِنَ امْبِرِّ امْصِيَامُ فِي امْسَفَرِ“. مل گئی حدیث بھئی؟ بھئی یہ حاشیے میں آپ کی حدیث دی ہوئی ہے: ”لَيْسَ مِنَ امْبِرِّ امْصِيَامُ فِي امْسَفَرِ“. ”لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ“، ”اَلْبِرُّ“، ”اَلصِّيَامُ“، بِر کسے کہتے ہیں؟ ”اَلْبِرُّ“ نیکی کو، ”اَلصِّيَامُ“ روزوں کو، اور ”اَلسَّفَرُ“ سفر کو بھئی۔ یہ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں تھے اور سفر میں تھے تو ایک صحابی ضعیف تھے، وہ بے ہوش ہو گئے روزے کی وجہ سے، روزے کی وجہ سے۔ شریعت نے تو آسانی دی ہے بھئی، سفر ہو، مشقت ہو تو پھر روزہ نہیں رکھنا چاہیے خاص طور پر اگر تکلیف میں پڑنے کا اندیشہ ہو۔ تو انہوں نے سفر میں بھی تھے لیکن پھر بھی انہوں نے روزہ رکھا، تو تکلیف اور مشقت کی وجہ سے بے ہوش ہو گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی گئی، آپ تشریف لائے اور اس موقع پر آپ نے فرمایا: ”لَيْسَ مِنَ امْبِرِّ امْصِيَامُ فِي امْسَفَرِ“. تو یہ الف لام کے بجائے کیا استعمال فرمایا؟ الف میم استعمال فرمایا، تو یہ ان لوگوں کی لغت تھی، وہ الف لام کے بجائے کیا بولتے تھے؟ الف میم، تو حضور علیہ السلام نے بھی ان کے انداز میں کلام فرمایا، ورنہ عام عرب تو الف لام استعمال کرتے ہیں۔ تو دراصل یہ الف لام ذرا سب کی جگہ لے آئیں: ”لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ“، تو الف لام تھا، اس کی جگہ کیا لے آئیں؟ میم۔ اب کیسے پڑھیں گے؟ ”لَيْسَ مِنَ امْبِرِّ امْصِيَامُ فِي امْسَفَرِ“. کیا معنی؟ ”لَيْسَ مِنَ امْبِرِّ امْصِيَامُ فِي امْسَفَرِ“، سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔ سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔ دیکھو کتنی مشقت تکلیف میں پڑ گئے وہ بھئی۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ مصنف نے یہ الف لام کو تو ذکر کیا، معرف بالمیم کو ذکر نہیں کیا، تو میں نے جواب ذکر کر دیا کہ عام لغت یہ نہیں تھی، تو یہ چند ایک قبیلوں کی لغت تھی، عام لغت الف لام کے ساتھ تھی بھئی، اس لیے مصنف نے الف لام کو تو ذکر کیا الف میم کو ذکر نہیں کیا بھئی۔ تو روانی میں اس کو یوں پڑھیں گے بھئی: ”لَيْسَ مِنَ امْبِرِّ امْصِيَامُ فِي امْسَفَرِ“. چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ.
104 approved lectures · 85 of 104