Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

هداية النحو جديد · dars-056

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 19 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 56
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
”اَلثَّالِثُ مَا أُضْمِرَ عَامِلُهُ عَلَى شَرِيطَةِ التَّفْسِيرِ، وَهُوَ كُلُّ اسْمٍ بَعْدَهُ فِعْلٌ أَوْ شِبْهُهُ يَشْتَغِلُ ذٰلِكَ الْفِعْلُ عَنْ ذٰلِكَ الِاسْمِ بِضَمِيرِهِ أَوْ مُتَعَلِّقِهِ بِحَيْثُ لَوْ سُلِّطَ عَلَيْهِ هُوَ أَوْ مُنَاسِبُهُ لَنَصَبَهُ، نَحْوُ: زَيْدًا ضَرَبْتُهُ، فَإِنَّ زَيْدًا مَنْصُوبٌ بِفِعْلٍ مَحْذُوفٍ مُضْمَرٍ وَهُوَ ضَرَبْتُ، يُفَسِّرُهُ الْفِعْلُ الْمَذْكُورُ بَعْدَهُ وَهُوَ ضَرَبْتُهُ، وَلِهٰذَا الْبَابِ فُرُوعٌ كَثِيرَةٌ“۔ صاحبِ ہدایت النحو وہ جگہیں بیان کر رہے ہیں جہاں پر مفعول بہ کے فعل کو حذف کرنا واجب ہے۔ اور انہوں نے آپ کو بتلایا کہ وہ چار جگہیں ہیں۔ اور ان چار میں سے ایک پہلی جگہ جو ہے وہ سماعی ہے، سماع پر موقوف ہے کوئی ضابطہ نہیں، جبکہ باقی تین جگہیں قیاسی ہیں۔ یعنی وہاں پر آپ بھی اسی قانون کے مطابق اس فعل کو حذف کریں گے اور مفعول بہ کو ذکر کریں گے۔ اور ان قیاسی تین جگہوں میں سے پہلی جگہ جو ہے وہ تحذیر ہے، اور تحذیر کل آپ نے پڑھا کہ وہ اسم ہے جو ”اِتَّقِ“ کی تقدیر کے ساتھ معمول ہو، یعنی وہاں ”اِتَّقِ“ یا ”اِتَّقِ“ جیسا کوئی فعل محذوف ہوتا ہے، اور کس لیے؟ مابعد سے ڈرانے کے لیے جیسے ”إِيَّاكَ وَالْأَسَدَ“۔ تو یہاں یہ مخاطب جو ہے اس کو ڈرانا ہے مابعد یعنی ”اَلْأَسَدَ“ سے جس کا آگے بعد میں ذکر آ رہا ہے۔ اور ”إِيَّاكَ وَالْأَسَدَ“ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اس کی اصل کیا ہے؟ ”اِتَّقِ نَفْسَكَ عَنِ الْأَسَدِ وَاتَّقِ الْأَسَدَ عَنْ نَفْسِكَ“، تو اصل یہ ہے۔ پھر دونوں طرف سے جار مجرور کو حذف کر دیا گیا تو ”اِتَّقِ نَفْسَكَ وَاتَّقِ الْأَسَدَ“ یہ دو رہ گئے۔ پھر ان میں سے بھی ”اِتَّقِ“ فعل کو حذف کر دیا گیا تو ”إِيَّاكَ وَالْأَسَدَ“ باقی رہ گیا بھئی۔ یہ دوسری صورت تھی تحذیر کی کہ جس میں محذر منہ کو مکرر ذکر کیا جائے، یعنی وہ چیز جس سے ڈرایا جا رہا ہے اس کو مکرر ذکر کیا جائے۔ جیسے اس کی مثال انہوں نے ذکر کی ”اَلطَّرِيقَ“ مکرر۔ تو یہ جو پہلا ”اَلطَّرِيقَ“ ہے اس کا فعل محذوف ہے، اور جو دوسرا لفظ آتا ہے وہ پہلے کی تاکید ہوتا ہے اور اس کا بھی وہی اعراب جو پہلے کا ہے۔ اور یہ قیاسی ہے، یعنی ایسی کوئی بھی جگہ آ جائے جہاں کسی کو ڈرانا یا بچانا مقصود ہو آپ اس طرح کا کلام استعمال کر سکتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ مثلاً دیوار گرنے لگی ہے، آپ کا ساتھی کھڑا ہے، تو آپ فوراً کہہ سکتے ہیں ”اَلْجِدَارَ“ مکرر۔ دیکھا؟ تو جو بھی اس طرح ہو تو دونوں طریقوں میں سے جو بھی طریقہ اختیار کرنا چاہیں کر سکتے ہیں۔ اب وہ چار جگہیں جہاں مفعول بہ کے فعل کو حذف کرنا واجب ہے ان میں سے تیسری قسم آج ہم پڑھیں گے، اور یہ جو قیاسی میں سے دوسری جگہ ہے۔ قیاسی کل تین ہیں تو ان میں سے دوسری جگہ ہے۔ تو کہتے ہیں: ”اَلثَّالِثُ مَا أُضْمِرَ عَامِلُهُ عَلَى شَرِيطَةِ التَّفْسِيرِ“۔ ”مَا أُضْمِرَ عَامِلُهُ“، وہ اسم کہ جس کے عامل کو مقدر کر لیا جائے، ”أُضْمِرَ“ مقدر کر لیا جائے، وہ اسم جس کے عامل کو مقدر کر لیا جائے ”عَلَى شَرِيطَةِ التَّفْسِيرِ“، شریطہ اور شرط کا ایک معنی ہے، ای ”عَلَى شَرْطِ التَّفْسِيرِ“، کس شرط پر؟ تفسیر کی شرط پر کہ آگے اس کی تفسیر آئے۔ بھئی دیکھیے، یہ ایک اسم ہے اور یہ کیا بن رہا ہے؟ مفعول بہ، اور اس سے ماقبل کیا ہے اس کا فعل۔ آپ اس کے فعل کو حذف کر لیتے ہیں، کس شرط پر؟ کہ آگے اسی کی تفسیر آ رہی ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو جب آگے تفسیر آ رہی ہے تو اب اس فعل کی ضرورت نہ رہی، تو لہٰذا اس کو کیا کر دیا گیا؟ حذف کر دیا گیا۔ یہ معنی ہے ”مَا أُضْمِرَ عَامِلُهُ عَلَى شَرِيطَةِ التَّفْسِيرِ“، وہ اسم ہے کہ جس کے عامل کو مقدر کر لیا جائے تفسیر کی شرط پر۔ تو یہ تو اس کا نام انہوں نے ذکر کیا ”مَا أُضْمِرَ عَامِلُهُ عَلَى شَرِيطَةِ التَّفْسِيرِ“۔ بھئی دیکھیے، قیاسی جگہیں چل رہی ہیں، پہلی جگہ کون سی ہے؟ تحذیر، دوسری ہے ”مَا أُضْمِرَ عَامِلُهُ عَلَى شَرِيطَةِ التَّفْسِيرِ“۔ بھئی یہ کہتے کس کو ہیں؟ کہتے ہیں: ”وَهُوَ كُلُّ اسْمٍ“ وہ ہر ایسا اسم ہے ”بَعْدَهُ فِعْلٌ“ جس کے بعد کیا ہو؟ فعل ہو ”أَوْ شِبْهُهُ“ یا شبہ فعل ہو، ”يَشْتَغِلُ ذٰلِكَ الْفِعْلُ عَنْ ذٰلِكَ الِاسْمِ“، اشتغل کا صلہ آگے آ رہا ہے ”عَنْ“، اور اشتغل کا معنی ہوتا ہے مشغول ہونا، اور اشتغل کا صلہ جب ”عَنْ“ آ جائے تو اس کا معنی ہوتا ہے اعراض کرنا، منہ موڑنا۔ کہ وہ ہر ایسا اسم ہے جس کے بعد فعل یا شبہ فعل ہو، اور اعراض کر رہا ہو یعنی منہ موڑ رہا ہو وہ فعل اس اسم سے، کیوں؟ ”بِضَمِيرِهِ“ اس کی ضمیر کی وجہ سے ”أَوْ مُتَعَلِّقِهِ“ یا اس اسم کے متعلق کی وجہ سے، کیونکہ وہ فعل اس کی ضمیر یا اس کے متعلق میں عمل کر رہا ہے تو اب اس اسم میں عمل نہیں کر سکتا، ”بِحَيْثُ“ اس طور پر ”لَوْ سُلِّطَ عَلَيْهِ هُوَ“ کہ اگر اس اسم پر اسی فعل کو مسلط کر دیں ”أَوْ مُنَاسِبُهُ“ یا اس فعل کے کسی مناسب کو ”لَنَصَبَهُ“ تو وہ اس کو نصب دے۔ بھئی دیکھیے، اس کی وضاحت مثالوں سے ہو گی بھئی۔ اپنے سامنے کاپی پر یہ دو مثالیں لکھ لیجیے بھئی۔ اچھا بھئی پہلی مثال لکھیے: ”زَيْدًا ضَرَبْتُهُ“، ”زَيْدًا ضَرَبْتُهُ“، اور اس سے نیچے دوسری مثال لکھیے: ”زَيْدًا ضَرَبْتُ غُلَامَهُ“، ”زَيْدًا ضَرَبْتُ غُلَامَهُ“۔ لکھ لیں بھئی دونوں مثالیں؟ اچھا اب دیکھیے پہلی مثال پر ذرا آئیے: ”زَيْدًا ضَرَبْتُهُ“۔ اب یہ ”زَيْدًا“ منصوب ہے، سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس میں کون سا فعل عمل کر رہا ہے؟ کس وجہ سے یہ منصوب ہے؟ تو ہم نے دیکھا اس کے بعد ایک ”ضَرَبْتُ“ فعل آ رہا ہے، تو ہم اس کو عامل بنانا چاہتے ہیں ”زَيْدًا“ میں تاکہ وہ عامل بن جائے اور ”زَيْدًا“ اس کے لیے مفعول بن جائے۔ ہم بنانا چاہتے ہیں لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ یہ جو بعد میں ”ضَرَبْتُ“ آ رہا ہے یہ ”زَيْدًا“ میں عمل نہیں کر سکتا۔ کیوں نہیں عمل کر سکتا؟ وجہ اس کی یہ کہ ”ضَرَبْتُ“ کے لیے ایک مفعول چاہیے، اور وہ اس کے ساتھ ہا ضمیر جڑی ہوئی ہے۔ بھئی دیکھیے، پٹائی کرنا، ضرب کا کیا معنی ہے؟ پٹائی کرنا۔ دیکھو ضرب کا فعل کب پایا جائے گا؟ جب ایک ضارب بھی ہو پٹائی کرنے والا ہو، اور ایک مضروب ہو، تو پھر ہی ضرب کا فعل پایا جائے گا۔ کبھی ایسا ہو سکتا ہے صرف پٹائی کرنے والا ہو اور مضروب کوئی نہ ہو؟ پٹائی ہو سکتی ہے؟ پٹائی ہو ہی نہیں سکتی جب تک ایک ضارب کے ساتھ ساتھ کیا نہ ہو؟ مضروب۔ اور کیا ایک ہی مضروب سے پٹائی پائی جائے گی یا دو یا تین کا ہونا ضروری؟ ایک ہی کافی ہے بھئی۔ دو یا تین ہوں ٹھیک ہے ان میں بھی ضرب تو آ گئی، لیکن ایک سے بھی ضرب کا وجود پایا جائے گا یا نہیں پایا جائے گا؟ ضرب کا وجود پایا جائے گا۔ معلوم ہوا ضرب کے لیے ایک ہی مفعول چاہیے اور اس سے فعل کا وجود آ جاتا ہے۔ بھئی ایک مضروب ہو، آپ ہوں ضارب اور وہ ہو مضروب، آپ اس کی پٹائی کریں، ضرب کا فعل پایا گیا یا نہیں پایا گیا؟ کوئی کہہ سکتا ہے کہ ضرب کا فعل نہیں پایا گیا دو یا تین ہونے چاہیے تھے مضروب؟ نہیں، ضرب کا فعل تو پایا گیا۔ ضرب کا معنی ہوتا ہے پٹائی کرنا اور پٹائی کے لیے ایک ضارب چاہیے تو ایک مضروب۔ جیسے اکل، ہمزہ کاف لام، اکل کا معنی ہے کھانا۔ کھانے کے لیے کیا چاہیے؟ ایک عاقل کھانے والا چاہیے اور ایک ماکول وہ چیز جس کو کھایا جائے۔ تو ایک بھی چیز ماکول پائی جائے تو کھانے کا فعل پایا جائے گا۔ لیکن کوئی چیز ماکول ہو ہی نہ تو کھانے کا فعل ہو ہی نہیں سکتا۔ آپ کسی کو کہیں میں نے کھایا لیکن ماکول کوئی چیز نہیں تھی، وہ کہے گا یہ کیسے ہو ہی نہیں سکتا، اکل کا فعل تو ماکول کے بغیر ہو ہی نہیں سکتا۔ اکل تو کہتے ہی کس کو ہیں جس میں کسی چیز کو کھایا جائے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ضرب کہتے ہی کس کو ہیں جس میں کسی کی پٹائی کی جائے، تو ایک ہی مضروب ہو اس سے پٹائی کا فعل پایا جائے گا۔ لہٰذا معلوم ہوا ”ضَرَبْتُ“ کے لیے کتنے مفعول چاہئیں؟ ایک چاہیے، دو یا تین کی ضرورت نہیں۔ تو اس ”زَيْدًا ضَرَبْتُهُ“، ”زَيْدًا“ منصوب ہے، اس کے بعد ”ضَرَبْتُهُ“ آ رہا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ ”ضَرَبْتُ“ جو بعد میں آ رہا ہے کیا کرے؟ زید میں عمل کرے اور اس کو نصب دے، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ”ضَرَبْتُهُ“ اس کے ساتھ تو ہا ضمیر جڑی ہوئی ہے، اور وہ ضمیر بھی زید ہی کو لوٹ رہی ہے، کس کو لوٹ رہی ہے؟ زید۔ تو ”ضَرَبْتُ“ کے لیے تو ایک مفعول چاہیے تھا، وہ تو ضمیر ساتھ جڑی ہوئی ہے، لہٰذا وہ ”زَيْدًا“ میں عمل نہیں کر سکتا، کیونکہ وہ ایک مفعول چاہتا تھا اور وہ آ چکا ہے بات پوری ہو چکی ہے۔ تو دیکھو زید ایک اسم ہے جس کے بعد ایک فعل آ رہا ہے، اور وہ فعل اس زید سے اعراض کر رہا ہے، اس میں عمل نہیں کر رہا، یعنی اس سے منہ موڑ رہا ہے۔ کیوں منہ موڑ رہا ہے؟ کیوں نہیں عمل کر رہا اس میں؟ توجہ ہے؟ مثال پر نظر ہے؟ یہ ”زَيْدًا“ ایک اسم ہے، اس اسم کے بعد کیا ہے؟ فعل، اور وہ فعل اس ”زَيْدًا“ میں عمل کر رہا ہے کہ اس سے منہ موڑ رہا ہے؟ منہ موڑ رہا ہے۔ کیوں منہ موڑ رہا ہے؟ کیونکہ وہ اس کی ضمیر میں عمل کر رہا ہے، کیا کر رہا ہے؟ اس کی ضمیر میں عمل کر رہا ہے۔ ہاں، اگر اسی فعل کو ہم زید پر مسلط کریں تو وہ اس کو نصب دے سکتا ہے۔ کس طرح؟ اس زید سے پہلے ایک اور ”ضَرَبْتُ“ نکال لو: ”ضَرَبْتُ زَيْدًا“۔ اور سب سے پہلے ذرا بعد والے کا ترجمہ کر لو، یہ ”زَيْدًا“ کو ذرا ہٹا دو، ”ضَرَبْتُهُ“ کیا معنی؟ میں نے پٹائی کی اس کی، اس سے کون مراد ہے؟ زید۔ معلوم ہوا میں نے کس کی پٹائی کی؟ زید کی۔ اچھا اب اس ”زَيْدًا“ سے پہلے ذرا ایک ”ضَرَبْتُ“ نکالیں، ”ضَرَبْتُ“ نکال لیا، تو اب یہ ”زَيْدًا“ اس کے لیے کیا بن گیا؟ مفعول۔ تو ”ضَرَبْتُ زَيْدًا“ کا کیا معنی ہوا؟ میں نے زید کی پٹائی کی، اور ”ضَرَبْتُهُ“ کا بھی کیا معنی تھا؟ میں نے زید کی پٹائی کی۔ معلوم ہوا اسی ”ضَرَبْتُ“ کو ہم ماقبل میں نکال سکتے ہیں، معنی صحیح رہتا ہے۔ تو اب مقامِ استشہاد یہ ”زَيْدًا“ ہے بھئی۔ بات چل رہی ہے ”مَا أُضْمِرَ عَامِلُهُ عَلَى شَرِيطَةِ التَّفْسِيرِ“، اس اسم کی جس کے عامل یعنی فعل کو کیا کر لیا جائے؟ حذف کر لیا جائے کس شرط پر؟ تفسیر کی شرط پر۔ تو دیکھو یہ ”زَيْدًا“ کا فعل جو ”ضَرَبْتُ“ تھا اس کو حذف کر لیا گیا، کیوں حذف کر لیا گیا؟ کیونکہ آگے اس کی تفسیر آ رہی تھی بھئی۔ آگے اس کی تفسیر آ رہی تھی بھئی، اس کی تفسیر ہم لائے ہی اسی وجہ سے تاکہ اس فعل کو کیا کر دیں؟ حذف کر دیں۔ اصل میں تو تھا ”ضَرَبْتُ زَيْدًا“، اصل میں کیا تھا؟ صرف یہ تھا ”ضَرَبْتُ زَيْدًا“۔ پھر ہم نے اس ”ضَرَبْتُ“ کو حذف کیا، کیوں حذف کیا؟ کیونکہ ہم آگے کیا لانا چاہتے ہیں؟ اس کی تفسیر لانا چاہتے ہیں، چنانچہ آگے ہم نے ”ضَرَبْتُهُ“ لے آئے بھئی۔ جب تفسیر آ گئی تو اب مفسَّر کو نہیں لا سکتے کیونکہ اس کو تو ہم نے حذف ہی کس لیے کیا تھا تاکہ آگے اس کی تفسیر لائیں، اب اس کو نہیں لا سکتے۔ تو اب ”زَيْدًا“ منصوب رہ گیا، اس کا فعل محذوف ہے اور اس کے بعد ایک فعل آ رہا ہے، اور وہ فعل اس سے منہ موڑ رہا ہے کیونکہ وہ اس کی ضمیر میں عمل کر رہا ہے، لیکن اگر اسی فعل کو اس اسم پر کیا کر دیں؟ مسلط کر دیں اس سے پہلے نکال لیں یعنی اس پر مسلط کر دیں تو وہ کیا کر سکتا ہے؟ اسے نصب دے سکتا ہے، اور معنی میں کوئی خرابی آئی؟ نہیں، ”ضَرَبْتُهُ“ کا بھی معنی ہے زید کی پٹائی کی اور ”ضَرَبْتُ زَيْدًا“ کا بھی کیا معنی؟ میں نے زید کی پٹائی کی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ترکیب کیسے کریں گے؟ ”زَيْدًا“ منصوب لفظاً مفعول بہ ہے فعلِ مقدر ”ضَرَبْتُ“ کے لیے، اور وہ فعلِ مقدر کیا ہے؟ ”ضَرَبْتُ“۔ اور اس کی کیا ترکیب ہو گی؟ ”ضَرَبْتُ“ فعل با فاعل اور اس کے اندر تا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر مفسِّر۔ کیا بن گیا؟ مفسَّر، جملہ فعلیہ ہوا اور یہ مفسِّر ہے۔ آگے ”ضَرَبْتُهُ“: ”ضَرَبْتُ“ فعل با فاعل، اس کے اندر تا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، اور یہ ہا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر تفسیر، بس یہ ترکیب ہو گئی۔ تو اس مثال میں ”زَيْدًا ضَرَبْتُهُ“، ”مَا أُضْمِرَ عَامِلُهُ عَلَى شَرِيطَةِ التَّفْسِيرِ“ وہ کون ہے؟ ”زَيْدًا“ ہے، یہ جو منصوب ہے۔ اس کے عامل کو کیا کر لیا گیا؟ مقدر، کس شرط پر؟ تفسیر کی شرط پر کہ آگے ہم اس کی کیا لا رہے ہیں؟ تفسیر۔ تو یہ ”زَيْدًا“ ہے ”مَا أُضْمِرَ عَامِلُهُ عَلَى شَرِيطَةِ التَّفْسِيرِ“۔ دوسری مثال پر آئیے: ”زَيْدًا ضَرَبْتُ غُلَامَهُ“۔ یہ بھی اسی طرح ہے، ”زَيْدًا“ منصوب ہے، اور منصوب ہے اور اس کے بعد کیا آ رہا ہے؟ فعل ہے۔ کتاب کی عبارت پر نظر ہے؟ کس کو کہتے تھے ”مَا أُضْمِرَ عَامِلُهُ عَلَى شَرِيطَةِ التَّفْسِيرِ“؟ ”وَهُوَ كُلُّ اسْمٍ بَعْدَهُ فِعْلٌ“، ہر وہ ایسا اسم ہے جس کے بعد کیا ہو؟ فعل ہو۔ تو دیکھو پہلی مثال میں بھی ”زَيْدًا“ ایک اسم ہے اور اس کے بعد ”ضَرَبْتُهُ“ فعل ہے۔ دوسری مثال میں بھی دیکھو ”زَيْدًا“ ایک اسم ہے اور ”ضَرَبْتُ“ اس کے بعد فعل ہے۔ اچھا اب آئیے دوسری مثال پر: ”زَيْدًا“ منصوب لفظاً ہے اور اس کے بعد ایک فعل آ رہا ہے، اب اس فعل کو ہم کس پر مسلط کرنا چاہتے ہیں؟ زید پر تاکہ یہ اس کو نصب دے، لیکن ہم مسلط نہیں کر سکتے، کیوں نہیں کر سکتے؟ ابھی وجہ ذکر کی پہلی مثال میں، کیونکہ ”ضَرَبْتُ“ ایک مفعول چاہتا ہے، اور اس کے بعد ”غُلَامَهُ“ یہ غلام کیا آ رہا ہے؟ یہ مفعول آ رہا ہے، تو یہ ”زَيْدًا“ کو مفعول نہیں بنا سکتا کیونکہ اس کے لیے ایک مفعول چاہیے تھا اور وہ آگے آ رہا ہے تو دوسرے کو مفعول نہیں بنا سکتے۔ پھر ہم کیا کرتے تھے؟ اسی فعل کو ماقبل والے اسم پر مسلط کرتے تھے، ہم اس کو یہاں مسلط کرنا چاہتے ہیں لیکن اس کو بھی مسلط نہیں کر سکتے، کیونکہ اس صورت میں معنی خراب ہو جائے گا۔ کس طرح معنی خراب ہو گا؟ دیکھیے، ذرا بعد والے جملے پر نظر رکھو: ”ضَرَبْتُ غُلَامَهُ“، میں نے پٹائی کی ”غُلَامَهُ“ ای غلامِ زید، کس کی؟ زید کے غلام کی۔ معلوم ہوا پٹائی زید کی ہوئی ہے کہ زید کے غلام کی ہوئی ہے؟ زید کے غلام کی پٹائی ہوئی ہے، اور اگر ماقبل میں ہم اسی فعل کو نکال لیں ”ضَرَبْتُ زَيْدًا“، تو ”ضَرَبْتُ زَيْدًا“ کا تو معنی ہو گا زید کی پٹائی ہوئی ہے، تو یہ تو معنی نہ رہا، یہ تو میں نہیں کہنا چاہتا، میں تو کیا کہنا چاہتا تھا؟ میں نے کس کی پٹائی کی ہے؟ زید کے غلام کی پٹائی کی ہے۔ معلوم ہوا یہاں ”ضَرَبْتُ“ کو مسلط نہیں کر سکتے، کیونکہ معنی صحیح نہیں رہتا، مابعد جملے کا مطلب ہے کہ زید کے غلام کی پٹائی ہوئی اور ماقبل کا معنی بن جائے گا زید کی پٹائی ہوئی، حالانکہ وہ تو اسی کی تفسیر بیان کر رہا ہے وہ کوئی الگ جملہ نہیں۔ پھر کیا کریں؟ کہتے ہیں اگر اسی فعل کو مسلط نہیں کر سکتے تو اس کے کسی مناسب کو مسلط کرو، اس کے مناسب کو مسلط کرو اور وہ نصب دے سکے۔ تو وہ اس کا مناسب یہاں ہے ”أَهَنْتُ“۔ میں نے اہانت کی، ”أَهَنْتُ زَيْدًا“ میں نے زید کی اہانت کی ”ضَرَبْتُ غُلَامَهُ“ میں نے اس کے غلام کی پٹائی کی۔ بھئی دیکھیے، جو بڑا آدمی ہو گا جو طاقتور آدمی ہو گا اس کے غلام یا ملازم کو بھی کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا۔ دنیا میں بھی آپ ایسا دیکھتے ہیں یا نہیں دیکھتے بھئی؟ جو طاقتور آدمی ہے اس کے غلام یا ملازم کو بھی کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا کیونکہ سب لوگ اس سے ڈرتے ہیں، اور اگر کوئی اس کے غلام یا ملازم کو ہاتھ لگائے تو وہ اس کو اپنی اہانت اور اپنی تذلیل سمجھتا ہے اور پھر وہ بھی مقابلے پر اتر آتا ہے۔ آپ عام دیکھتے ہوں گے اسی طرح بھئی، سمجھ میں آئی بات؟ تو لہٰذا جب آپ نے کہا ”ضَرَبْتُ غُلَامَهُ“ میں نے کس کی پٹائی کی؟ زید کے غلام کی، تو معلوم ہوا آپ نے کیا کی ہے؟ زید کی اہانت کی ہے، اس کی تذلیل کی ہے، معلوم ہوا آپ نے اس کو بڑا نہیں سمجھا، اگر آپ اس کو بڑا سمجھتے تو کبھی آپ کی جرات نہ ہوتی کہ اس کے غلام کو ہاتھ لگاتے۔ تو جب آپ نے اس کے غلام کی پٹائی کی تو گویا کیا کر دی؟ اس کی اہانت کر دی، اس کی تذلیل کر دی، تو لہٰذا یہاں پر ”ضَرَبْتُ غُلَامَهُ“ اس کا مناسب کیا ہے؟ ”أَهَنْتُ زَيْدًا“، میں نے زید کی اہانت کی، کس طرح اہانت کی؟ ”ضَرَبْتُ غُلَامَهُ“ میں نے اس کے غلام کی پٹائی کی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور اچھا یہاں دوسرا یہ دیکھیے: پچھلی مثال میں تھا ”ضَرَبْتُهُ“، یہ فعل کس میں مشغول تھا؟ اسی اسم کی ضمیر میں، ہا ضمیر کس کو لوٹ رہی تھی؟ زید کو، تو یہ فعل کس میں مشغول تھا؟ اسی اسم کی ضمیر میں جس کے فعل کو مقدر کیا گیا تھا۔ دوسرے میں دیکھیں ”زَيْدًا ضَرَبْتُ غُلَامَهُ“، یہاں جو مابعد والا فعل ہے وہ ماقبل جو اسم آیا تھا اس اسم کی ضمیر میں نہیں مشغول بلکہ اس کے متعلق میں مشغول ہے۔ زید کا غلام زید سے متعلق ہے یا نہیں؟ اس کا زید سے تعلق ہے کہ تعلق نہیں ہے؟ تعلق ہے۔ تو یہاں پر فعل کس میں مشغول ہے؟ وہ جو ماقبل میں اسم آیا ہے اس کے متعلق میں، ”غُلَامَهُ“ اس زید کا، غلام کس کا ہے؟ زید کا، اور غلام جب زید کا ہے تو غلام زید کے ساتھ تعلق ہے کہ تعلق نہیں؟ تو پچھلی مثال میں تو ”ضَرَبْتُ“ فعل مشغول تھا اس زید کی ضمیر میں، اور اس مثال میں یہ ”ضَرَبْتُ“ کس میں مشغول ہے؟ زید کے متعلق میں۔ اور اسی فعل کو تو یہاں ہم مسلط نہیں کر سکتے البتہ اس کے مناسب ایک اور فعل وہ کیا ہے؟ ”أَهَنْتُ“۔ کیونکہ ”ضَرَبْتُ غُلَامَهُ“ میں نے اس کے غلام کی پٹائی کی، اس کے مناسب کیا فعل ہے؟ معلوم ہوا میں نے کیا کی؟ زید کی اہانت کی، تو ”أَهَنْتُ“ فعل یہاں معلوم ہوا محذوف ہے۔ تو ترکیب پھر کس طرح ہو گی؟ ”زَيْدًا“ منصوب لفظاً مفعول بہ ہے فعلِ مقدر ”أَهَنْتُ“ کے لیے، اور ”أَهَنْتُ“ فعل با فاعل اور تا ضمیر اس میں مرفوع محلاً فاعل، اور فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر مفسِّر۔ اور آگے ”ضَرَبْتُ غُلَامَهُ“ اس کی تفسیر، اور اس کی ترکیب کیا ہو گی؟ ”ضَرَبْتُ“ فعل با فاعل، تا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، ”غُلَامَ“ منصوب لفظاً مضاف، منصوب کیوں؟ مفعول بہ ہے، لفظاً کیوں؟ اس کے نصب پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، اور مضاف کیوں؟ ضمیرِ متصل ہے اس کے ساتھ، اور پھر اس کا اعراب بتاؤ؟ ہا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، مجرور کیوں؟ مضاف الیہ ہے، محلاً کیوں؟ ضمیر ہے۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مفعول بہ ہوا ”ضَرَبْتُ“ فعل کے لیے، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر تفسیر۔ سمجھ میں آئی بات؟ ”زَيْدًا ضَرَبْتُ غُلَامَهُ“، مقامِ استشہاد کیا ہے؟ ”مَا أُضْمِرَ عَامِلُهُ عَلَى شَرِيطَةِ التَّفْسِيرِ“ کون ہے اس میں؟ ”زَيْدًا“، کون ہے؟ ”زَيْدًا“، اس کے عامل کو کیا کر لیا گیا؟ مقدر، کیوں کیا گیا مقدر؟ اس شرط پر مقدر کیا گیا کہ آگے اس کی کیا آ رہی ہے؟ تفسیر آ رہی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور نیز یہاں تو فعل مقدر تھا نا: ”ضَرَبْتُ زَيْدًا ضَرَبْتُهُ“ اور ”أَهَنْتُ زَيْدًا ضَرَبْتُ غُلَامَهُ“، دونوں میں کیا مقدر نکالا؟ فعل۔ کبھی کبھار شبہ فعل بھی مقدر نکالتے ہیں موقع محل کے مطابق، کیونکہ آپ کو میں نے بتایا ہے کہ شبہ فعل بھی کس کی طرح عمل کرتا ہے؟ فعل کی طرح، وہی اسم فاعل اسم مفعول وغیرہ یہ بھی کس کی طرح عمل کرتے ہیں؟ فعل کی طرح ہی عمل کرتے ہیں، تو وہ بھی بعض جملوں میں وہ محذوف ہوں گے موقع محل کے مطابق جس قسم کا جملہ ہو بھئی۔ مثلاً اس اسم کے بعد اگر اسم فاعل یا اسم مفعول وغیرہ ہے اور وہ اس میں عمل نہیں کر سکتا، کیوں نہیں عمل کر سکتا؟ کیونکہ وہ اس کی ضمیر میں یا اس کے متعلق میں مشغول ہے، تو پھر ماقبل میں وہی شبہ فعل ماقبل میں محذوف نکال لیں گے یا اس کا کوئی مناسب جو ہے وہ محذوف نکال لیں گے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اب دوبارہ دیکھیے کتاب پر عبارت بھئی، اور ان دو مثالوں پر بھی نظر رکھنا پھر آپ کو عبارت سمجھ میں آئے گی۔ کہتے ہیں: ”اَلثَّالِثُ“ تیسری قسم جو ہے ”مَا أُضْمِرَ عَامِلُهُ عَلَى شَرِيطَةِ التَّفْسِيرِ“، وہ اسم ہے کہ جس کے عامل کو مقدر کر لیا جائے ”عَلَى شَرِيطَةِ التَّفْسِيرِ“ کس شرط پر؟ تفسیر کی شرط پر۔ بھئی کسے کہتے ہیں؟ اب تعریف لگانا بھئی: ”وَهُوَ كُلُّ اسْمٍ“ وہ ہر ایسا اسم ہے، دونوں مثالوں میں جو ”زَيْدًا“ ہے نا اس میں نظر رکھنا، وہ ہر ایسا اسم ہے ”بَعْدَهُ فِعْلٌ أَوْ شِبْهُهُ“ جس کے بعد کیا ہو؟ فعل یا شبہ فعل ہو۔ دونوں میں آپ دیکھیں ”زَيْدًا“ کے بعد کیا ہے؟ فعل ہے، فعل یا شبہ فعل ہے۔ دونوں کے بعد ایسا فعل یا شبہ فعل ہے: ”يَشْتَغِلُ ذٰلِكَ الْفِعْلُ عَنْ ذٰلِكَ الِاسْمِ“ کہ اعراض کر رہا ہو، منہ موڑ رہا ہو وہ فعل اس اسم سے۔ کیوں؟ منہ کیوں موڑ رہا ہے؟ ”بِضَمِيرِهِ“ اس کی ضمیر کی وجہ سے، یہ کس میں تھا؟ پہلی مثال میں۔ ”أَوْ مُتَعَلِّقِهِ“ یا اس کے متعلق کی وجہ سے منہ موڑ رہا ہے، یہ کس مثال میں تھا؟ دوسری مثال میں۔ ”بِحَيْثُ“ اس طور پر ”لَوْ سُلِّطَ عَلَيْهِ هُوَ“ اگر مسلط کر دیا جائے علیہ اس اسم پر ”هُوَ“ اسی فعل کو، یہ کس میں تھا؟ پہلی مثال میں اسی فعل کو مسلط کیا تھا دوسری میں اس کے مناسب کو، تو یہی ذکر کر رہے ہیں: اس طور پر ”لَوْ سُلِّطَ عَلَيْهِ هُوَ“ اگر مسلط کر دیا جائے اس اسم پر اسی مابعد والے فعل کو ”أَوْ مُنَاسِبُهُ“ یا اس کے مناسب کو ”لَنَصَبَهُ“ تو وہ البتہ اس کو نصب دے۔ ”نَحْوُ: زَيْدًا ضَرَبْتُهُ“، جیسے ”زَيْدًا ضَرَبْتُهُ“۔ ”فَإِنَّ زَيْدًا مَنْصُوبٌ بِفِعْلٍ مَحْذُوفٍ مُضْمَرٍ“، پس بے شک زید کا لفظ جو ہے وہ منصوب ہے ایک ایسے فعل کی وجہ سے جو محذوف ہے مضمر ہے مقدر ہے ”وَهُوَ ضَرَبْتُ“، اور وہ کیا ہے؟ وہ محذوف فعل ”ضَرَبْتُ“ ہے، ”يُفَسِّرُهُ الْفِعْلُ الْمَذْكُورُ بَعْدَهُ“، اور اس ”ضَرَبْتُ“ کی تفسیر کر رہا ہے وہ فعل جو اس کے بعد مذکور ہے۔ بعد بھی وہی ”ضَرَبْتُ“ ہے، تو اس محذوف ”ضَرَبْتُ“ کی تفسیر یہی والا دوسرا ”ضَرَبْتُ“ کر رہا ہے۔ توجہ ہے؟ زید کے بعد ایک ”ضَرَبْتُ“ ہے اور زید سے پہلے ایک ”ضَرَبْتُ“ محذوف، تو یہ جو بعد والا ”ضَرَبْتُ“ ہے وہ جو محذوف ”ضَرَبْتُ“ تھا اس کی تفسیر کر رہا ہے، یہ معنی ہے۔ تو ”يُفَسِّرُهُ الْفِعْلُ الْمَذْكُورُ بَعْدَهُ“، اس ”ضَرَبْتُ“ کی تفسیر یہ والا فعل کر رہا ہے جو اس اسم کے بعد مذکور ہے، اور وہ کون سا فعل مذکور ہے؟ ”وَهُوَ ضَرَبْتُهُ“، وہ ”ضَرَبْتُهُ“ کا فعل ہے۔ ”وَلِهٰذَا الْبَابِ فُرُوعٌ كَثِيرَةٌ“، اور اس باب کی بہت سی فروعات ہیں بھئی۔ فرع اصل میں کہتے ہیں شاخ کو، درخت کی شاخیں نہیں ہوتیں بھئی؟ تو جیسے ایک تنے سے بہت سی شاخیں نکلتی ہیں، اسی طرح وہ فرما رہے ہیں کہ اس باب کی بہت سی فروعات ہیں، بہت سی شاخیں نکلتی ہیں، یعنی اس سے بہت سے مسائل نکلتے ہیں، اس قسم کے بہت سے نحوی مسائل ہیں جو اسی قسم سے تعلق رکھتے ہیں جس میں معمول کے فعل کو حذف کر لیا جاتا ہے اور بعد میں آنے والا فعل کیا کرتا ہے؟ اس کی تفسیر کرتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یوں کر لیں ترجمہ: ”وَلِهٰذَا الْبَابِ فُرُوعٌ كَثِيرَةٌ“، اس باب کی بہت سی قسمیں ہیں۔ یہاں تو انہوں نے مختصر ایک بات ذکر کر دی کہ ایک اسم ہو اور وہ مفعول بہ ہو گا، کیا ہو گا؟ مفعول بہ ہے، اور یہ ضروری نہیں کہ یہ مفعول بہ ہی ہو، مفعول فیہ وغیرہ بھی ہو سکتا ہے، لیکن سب کو ذکر نہیں کیا باقیوں کی طرف صرف اشارہ کر دیا کہ ”وَلِهٰذَا الْبَابِ فُرُوعٌ كَثِيرَةٌ“، اس باب کی بہت سی فروعات ہیں اور قسمیں ہیں جو آپ اگلی کتابوں میں پڑھ لیں گے۔ بس اتنا یہاں اچھی طرح سمجھ لیں کہ مفعول بہ میں بھی ایسا ہوتا ہے اور اس کے فعل کو حذف کرنا واجب ہوتا ہے، کیونکہ آگے آنے والا فعل اس کی تفسیر کر رہا ہوتا ہے۔ تو لہٰذا اب یہاں پہلے فعل کو ذکر نہیں کر سکتے، کیوں نہیں ذکر کر سکتے؟ کیونکہ دوسرے فعل کو لائے ہی اس شرط پر ہیں کہ وہ کیا کر رہا ہے؟ اس فعلِ محذوف کی تفسیر، تو اس کو حذف کریں گے تو تفسیر لائے ہیں، یا آگے آپ تفسیر لائے ہی کس وجہ سے ہیں؟ کیونکہ پہلے فعل کو آپ نے کیا کر لیا؟ حذف۔ تو اس کو حذف کیا اسی شرط پر کہ آگے ہم کیا کریں گے؟ اس کی تفسیر۔ جب اس کو حذف ہی اس لیے کیا ہے کہ آگے ہم تفسیر لے آئیں تو اب اس کو ذکر کرنا جائز نہیں، بات سمجھ میں آ گئی۔ عبارت حل ہو گئی ساری؟ وہ دو مثالوں پر نظر رکھنا اور پھر اس کی عبارت کو پڑھتے جانا، دیکھنا ساری عبارت حل ہو جائے گی بھئی، حل ہو جائے گی۔ ”بِحَيْثُ لَوْ سُلِّطَ عَلَيْهِ هُوَ“ ہاں، وہ فعل یا شبہ فعل اس سے اعراض کر رہا ہے۔ کیوں اعراض کر رہا ہے؟ کیونکہ اس کی ضمیر میں یا اس کے متعلق میں عمل کر رہا ہے، اس کی وجہ سے۔ لیکن اس طور پر ہے کہ اگر اسی فعل کو اس پر مسلط کر دیں یا اس کے مناسب کو تو وہ اس کو نصب دے سکے۔ چلیے بس بھئی: ”هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔
104 approved lectures · 56 of 104