Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

هداية النحو جديد · dars-036

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 19 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 43
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
ہم مبتدا اور خبر کی ترکیب کر رہے تھے۔ اگلا جملہ لکھیے بھئی: ”زَيْنَبُ قَائِمَةٌ“۔ زینب، زا کے ساتھ۔ قائمہ، آخر میں گول تا ہے۔ ”زَيْنَبُ قَائِمَةٌ“۔ چلیے جی، ترکیب کیجیے۔ ”زَيْنَبُ“: مرفوع لفظاً مبتدا۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ یہ مبتدا بن رہا ہے۔ لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں۔ تلفظ کر کے دکھائیے: ”زَيْنَبُ“۔ تنوین کیوں نہیں لائے اس پر؟ یاد رکھیے یہ غیر منصرف ہے۔ غیر منصرف پر کسرہ بھی نہیں آتا اور تنوین بھی نہیں آتی۔ اور غیر منصرف وہ اسم جس کے اندر اسبابِ منعِ صرف میں سے دو سبب ہوں، یا کوئی ایک ایسا سبب ہو جو دو کے قائم مقام ہو۔ تو اس میں دو سبب کیا ہیں؟ ایک علمیت ہے، نام ہے، اور ایک تانیثِ معنوی ہے، یہ مؤنث کا نام ہے، تو تانیث ہے۔ ایک علمیت اور ایک تانیث۔ لہٰذا ”زَيْنَبٌ“ نہیں پڑھنا بلکہ ”زَيْنَبُ“۔ حالتِ نصبی میں کیسے پڑھیں گے؟ ”زَيْنَبَ“۔ اور اگر یہ مجرور ہو تو پھر کیسے پڑھیں گے؟ پھر بھی ”زَيْنَبَ“ پڑھیں گے، شاباش۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اچھا، اگر یہ ہوتا ”زَيْنَبَ“ منصوب، تو اعراب کیسے بتاتے؟ منصوب لفظاً، دیکھو نصب پر ہم تلفظ کر رہے ہیں ”زَيْنَبَ“۔ اور اگر یہ مجرور ہوتا پھر کیسے اعراب بتاتے؟ مجرور لفظاً: ”زَيْنَبَ“ مجرور لفظاً۔ مجرور لفظاً کیوں؟ اس کے جر پر ہم تلفظ کر رہے ہیں شاباش: ”زَيْنَبَ“۔ آپ کہیں گے جر تو ہے ہی نہیں، نصب ہے؟ نہیں، یہ نصب نہیں ہے، یہ اس کا جر آتا ہی کس صورت میں ہے؟ فتحہ کی صورت میں۔ صورت فتحہ کی ہے لیکن اس پر آپ تلفظ کر رہے ہیں یا نہیں کر رہے؟ ”زَيْنَبَ“، اس فتحہ پر آپ باقاعدہ تلفظ کر رہے ہیں۔ تو غیر منصرف جو ہوتا ہے، وہ مجرور لفظاً کہیں گے اس کو، مجرور لفظاً، وہاں تقدیراً نہیں کہنا آپ نے۔ تو ”زَيْنَبُ“ مرفوع لفظاً مبتدا۔ آگے: ”قَائِمَةٌ“: مرفوع لفظاً صیغہ اسمِ فاعل۔ شاباش، مرفوع لفظاً صیغہ اسمِ فاعل۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ یہ خبر بن رہی ہے۔ لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں۔ تلفظ کر کے دکھائیے: ”قَائِمَةٌ“۔ نصب پر تلفظ کیجیے: ”قَائِمَةً“۔ جر پر تلفظ کیجیے: ”قَائِمَةٍ“۔ معلوم ہوا اس پر تینوں طرح کا اعراب لفظی آتا ہے، یعنی اس پر ہم تلفظ کرتے ہیں، سننے سے ہی پتہ چل جاتا ہے۔ تو صیغہ اسمِ فاعل ہوا، آگے۔ ”هِيَ“ ضمیر اس کے اندر اس کا فاعل، شاباش! اس کے اندر ”هِيَ“ ضمیر، اعراب اس کا؟ مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ دیکھا، کیونکہ یہ مؤنث کا صیغہ ہے تو اس کے اندر ”هُوَ“ کی ضمیر نہیں نکالنی بلکہ ”هِيَ“، اور وہ بھی کیا: ”هِيَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ فاعل ہے۔ مرفوع آپ کہہ رہے ہیں بھئی، ”هِيَ“ میں تو یا پر زبر پڑھ رہا ہوں، یہ تو منصوب ہے؟ شاباش، یہ اعراب نہیں یہ اس کی حرکت ہے کیونکہ یہ مبنی ہے، یہ اسی طرح رہتا ہے۔ تو ”هِيَ“ مرفوع محلاً فاعل۔ اب سمیٹیے اس کو: اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر۔ مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ اب پورے جملے کو روانی سے پڑھ دو: ”زَيْنَبُ قَائِمَةٌ“۔ ترجمہ کیجیے: زینب کھڑی ہے۔ شاباش، دیکھو بات پوری ہے: زینب کھڑی ہے۔ اگلا جملہ لکھیے بھئی: ”الْكِتَابُ مَوْجُودٌ“۔ ”الْكِتَابُ مَوْجُودٌ“۔ چلیے جی، اب آپ ترکیب کیجیے۔ ”الْكِتَابُ“: مرفوع لفظاً مبتدا، شاباش! ”الْكِتَابُ“ مرفوع لفظاً مبتدا۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ مبتدا ہے۔ لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، کر کے دکھائیے: ”الْكِتَابُ“۔ تنوین کیوں نہیں آئی اس پر؟ ہاں، اس پر الف لام داخل ہے اور الف لام اور تنوین اکٹھے نہیں ہوتے۔ تنوین ہو تو معلوم ہوا الف لام نہیں ہے، اور اگر الف لام آ جائے پھر تنوین نہیں رہتی۔ تو ”الْكِتَابُ“ مرفوع لفظاً مبتدا۔ آگے: ”مَوْجُودٌ“: مرفوع لفظاً صیغہ اسمِ مفعول، شاباش! ”مَوْجُودٌ“ مرفوع لفظاً صیغہ اسمِ مفعول۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ خبر ہے۔ لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں۔ رفع پر ذرا تلفظ کر کے دکھائیں: ”مَوْجُودٌ“۔ نصب پر تلفظ کریں: ”مَوْجُودًا“۔ جر پر ذرا تلفظ کریں: ”مَوْجُودٍ“۔ معلوم ہوا اس کا بھی اعراب تینوں طرح لفظاً ہی آتا ہے: رفع بھی لفظاً، نصب بھی لفظاً، اور جر بھی لفظاً، یعنی ہم اس پر تلفظ کرتے ہیں۔ صیغہ اسمِ مفعول، آگے۔ اس کے اندر ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا نائب الفاعل۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ وہ نائب الفاعل بن رہا ہے۔ بھئی، میں نے آپ کو بتایا تھا فعلِ معروف کے لیے فاعل چاہیے، اور فعلِ مجہول کے لیے نائب الفاعل۔ اور صفت کے صیغے اپنے فعل کی طرح عمل کرتے ہیں جس سے وہ بنے ہوں۔ اسمِ فاعل وہ فعلِ معروف سے بنتا ہے تو اس میں فاعل چاہیے، اور اسمِ مفعول کس سے بنتا ہے؟ فعلِ مجہول سے، اور فعلِ مجہول کے لیے کیا چاہیے تھا؟ نائب الفاعل، تو اس کے لیے بھی کیا چاہیے؟ نائب الفاعل۔ تو لہٰذا یوں کہو: ”مَوْجُودٌ“ کے اندر ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا نائب الفاعل، اس کا نائب الفاعل جی۔ اسمِ مفعول اپنے نائب الفاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر۔ مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ تو اب روانی سے پڑھ لیں پورے جملے کو: ”الْكِتَابُ مَوْجُودٌ“۔ جی، ترجمہ کیجیے: کتاب موجود ہے۔ بھئی، ”الْكِتَابُ“ کہا، ”الْكِتَابُ“ معرفہ ہے اور معرفہ کسی معین ذات پر دلالت کرتا ہے جس کی آپ کو معرفت ہوتی ہے، پہچان ہوتی ہے۔ تو کیسے ترجمہ کریں گے بھئی؟ وہ کتاب، ہاں وہ کتاب۔ کسی معین کتاب، آپ کے اور میرے درمیان بات چل رہی ہے، کسی کتاب کا ذکر ہو رہا تھا تو میں نے آپ کو کہا، آپ نے کہا وہ کتاب مجھے نہیں مل رہی، میں نے کہا وہ کتاب موجود ہے میرے پاس، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کسی معین، وہ ہاتھ سے اشارہ نہیں مراد۔ جب میں نے کہا وہ کتاب موجود ہے، تھوڑی دیر پہلے کتاب کا ذکر چل رہا تھا، میں نے کہا وہ کتاب موجود ہے، آپ سمجھ گئے یعنی کون سی کتاب مراد ہے؟ ہاں، جس کی ابھی بات چل رہی تھی۔ تو یہ وہ اشارہ کر دیا اس کی طرف جس کی بات چل رہی تھی۔ تو ”الْكِتَابُ مَوْجُودٌ“: وہ کتاب موجود ہے۔ اگلا جملہ لکھیے بھئی: ”غُلَامِي رَجُلٌ أَمِينٌ“۔ ”غُلَامِي رَجُلٌ أَمِينٌ“۔ چلیے جی، ترکیب کیجیے بھئی۔ ”غُلَامِي“: غلام مرفوع لفظاً مبتدا، شاباش! مرفوع کیوں؟ کیونکہ مبتدا ہے۔ مرفوعات آٹھ ہم نے پڑھے ہیں ان میں سے ایک کیا ہے؟ مبتدا، تو یہ مرفوع ہے۔ لفظاً کیوں کہا آپ نے؟ کیونکہ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، ذرا کر کے دکھاؤ: ”غُلَامِي“۔ یا نہیں جڑی ہوئی ساتھ اس کے؟ کیسے پڑھیں گے میم پر پیش اور آگے یا بھی پڑھنی ہے ہم نے؟ ”غُلَامِي“، کہاں ہے پیش؟ رفع کی تو تین چار صورتیں ہیں رفع کی: رفع کبھی پیش کی صورت میں آتا ہے، رفع کبھی الف کی صورت میں آتا ہے جیسے تثنیہ میں ہے، رفع کبھی واؤ کی صورت میں آتا ہے جیسے مسلمون میں ہے۔ تو یہاں تو نہ پیش پڑھ سکتے ہیں ”غُلَامِي“، نہ پیش ہے، نہ الف ہے، نہ واؤ ہے، تو لفظاً کی تو کوئی صورت یہاں ہے ہی نہیں۔ پھر؟ اس کا رفع تقدیری ہے۔ ہاں، وہ سولہ قسموں میں آپ نے پڑھا تھا: جو اسم بھی، علاوہ جمع مذکر سالم کے، جب مضاف ہو کس کی طرف؟ یائے متکلم کی طرف، تو اس کا اعراب تینوں حالتوں میں تقدیری ہوتا ہے۔ رفع بھی تقدیری، نصب بھی تقدیری، جر بھی تقدیری۔ تو یہ یا کی طرف مضاف ہے یا نہیں؟ ہاں۔ تو غلام، دوبارہ بتائیے اب ترکیب کیجیے: غلام مرفوع تقدیراً مضاف۔ پیش نہ پڑھیں نا، جو حرکت پڑھ رہے تھے اس پر وہی پڑھیں: غلامی، یا کے ساتھ ہے نا، یا کو ذرا ختم کر دیں بس: ”غُلَامِي“۔ میم کے نیچے صرف زیر پڑھیں، میم کو لمبا نہ کریں: ”غُلَامِ“۔ شاباش! غلام مرفوع تقدیراً مضاف۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ یہ مبتدا ہے۔ تقدیراً کیوں؟ کیونکہ یہ یائے ضمیر کی طرف مضاف ہے۔ پھر آپ نے کہا مضاف، آپ کو کیسے پتہ چلا مضاف ہے یہ؟ شاباش، جس اسم کے ساتھ بھی ضمیرِ متصل آ جائے، زبان سے دہراؤ: جس اسم کے ساتھ بھی ضمیرِ متصل آ جائے وہ آپس میں کیا بنتے ہیں؟ مضاف اور مضاف الیہ بنتے ہیں۔ جی، تو یہ مضاف ہوا۔ آگے ترکیب کیجیے، اگلے ضمیر پہ آئیے: یائے ضمیر مرفوع محلاً مضاف الیہ۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ مضاف الیہ بن رہا ہے؟ کیونکہ مضاف الیہ ہے اور مضاف الیہ کیا ہوتا ہے؟ مجرور ہوتا ہے، پھر کیوں نہیں غور کر رہے پہلے اعراب پر؟ یائے ضمیر مجرور محلاً، شاباش! بس جب آپ کو اتنا پتہ چل گیا یہ مضاف الیہ ہے تو ساتھ ہی دوسری بات کا خود بخود پتہ چل گیا بھئی۔ تو یائے ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ۔ مجرور کیوں؟ کیونکہ مضاف الیہ ہے۔ محلاً کیوں؟ کیونکہ ضمیر ہے، مبنیات میں سے ہے۔ جی، اب جوڑیے ان کو: غلام مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مبتدا، شاباش! بات سمجھ میں آ گئی؟ بس میں نے آپ کو کئی دفعہ بتایا ہے کہ یہ ہمارے ہاں یوں کہتے ہیں: مضاف اپنے مضاف الیہ سے، یا موصوف اپنی صفت سے مل کر کیا ہوا؟ مبتدا۔ دراصل مبتدا صرف وہ پہلا لفظ ہوتا ہے، بعد والے وہ یا مضاف الیہ ہوتا ہے یا صفت ہوتی ہے، لیکن چونکہ وہ مبتدا ہی کے ساتھ سارے متعلق ہیں اس لیے سارے کو ہی کیا کہہ دیتے ہیں؟ مبتدا کہہ دیتے ہیں۔ تو ”غُلَامِي“ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مبتدا۔ آگے: ”رَجُلٌ“: مرفوع لفظاً موصوف، شاباش! ”رَجُلٌ“ مرفوع لفظاً موصوف۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ یہ خبر ہے۔ لفظاً کیوں؟ کیونکہ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں۔ تلفظ کر کے دکھائیے: ”رَجُلٌ“۔ آپ نے کہا موصوف، آپ کو کیسے پتہ چلا یہ موصوف ہے؟ کیونکہ دو نکرہ اکٹھے آ گئے اور ان کے بعد کوئی معرفہ نہیں ہے تو یہ آپس میں کیا بنیں گے؟ موصوف صفت۔ جی، آگے۔ ”أَمِينٌ“: مرفوع لفظاً صفت۔ پھر غور کر لیں: مرفوع لفظاً صفتِ مشبہ، شاباش! امین، فعیل، شریف دیکھو، کریم، یہ عام سب سے وزن ہے، یہ یاد کر لو بھئی یاد کر لو، بار بار آ رہا ہے۔ تو ”أَمِينٌ“ مرفوع لفظاً صفتِ مشبہ۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ یہ صفت ہے، پوری بات کریں، کیونکہ یہ صفت ہے اور موصوف صفت کا اعراب ایک ہوتا ہے۔ موصوف مرفوع تھا لہٰذا صفت بھی کیا ہو گی؟ مرفوع ہو گی۔ لفظاً کیوں کہا؟ کیونکہ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، تلفظ کر کے دکھائیے: ”أَمِينٌ“۔ آگے کیجیے ترکیب: ”هُوَ“ ضمیر اس کا فاعل۔ اعراب بھئی: ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ ”هُوَ“ ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ فاعل ہے۔ محلاً کیوں کہا؟ کیونکہ مبنیات میں سے ہے، شاباش! صفتِ مشبہ اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت۔ موصوف صفت مل کر خبر۔ مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، شاباش! ایک ایک لفظ کا اعراب آپ کو پتہ چل گیا، عبارت حل ہو گئی۔ اب اس کو پڑھ لیں روانی سے بس: ”غُلَامِي رَجُلٌ أَمِينٌ“۔ ترجمہ کیجیے: غلامی کا پہلے ایک ایک حصے کا الگ ترجمہ کر لو، غلامی: میرا غلام۔ اچھا، اب اس کا دوسرے کا الگ کرو: رجل امین، صرف اس کا ترجمہ کرو موصوف صفت ہیں: دیانت دار آدمی، امانت دار آدمی۔ اب ملا دو پورے جملے کو، جملہ بنا دو اس سے: میرا غلام امین آدمی ہے، یا میرا غلام دیانت دار آدمی ہے، یا میرا غلام ایسا آدمی ہے جو کہ دیانت دار ہے، امانت دار ہے، جو بھی ترجمہ کر لیں۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ اگلا جملہ لکھیے: ”الرَّجُلَانِ كَاتِبَانِ“۔ ”الرَّجُلَانِ كَاتِبَانِ“۔ چلیے جی، ترکیب کیجیے بھئی۔ ”الرَّجُلَانِ“: مرفوع لفظاً مبتدا، شاباش! ”الرَّجُلَانِ“ مرفوع لفظاً مبتدا۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ مبتدا بن رہا ہے۔ بھئی، میں تو اس پہ زیر پڑھ رہا ہوں: ”الرَّجُلَانِ“؟ ہاں، اس کا رفع، یہ تثنیہ ہے سولہ قسموں میں سے تثنیہ، اور اس کا رفع کس کے ساتھ آتا تھا؟ الف کے ساتھ، اور الف ہے یا نہیں: ”الرَّجُلَانِ“؟ تو مرفوع لفظاً، جی مرفوع لفظاً مبتدا، شاباش بھئی! آگے: ”كَاتِبَانِ“: مرفوع لفظاً خبر۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ خبر ہے، شاباش! لفظاً کیسے ہے؟ ”الرَّجُلَانِ“، ”رَجُلَيْنِ“، ”كَاتِبَانِ“، ”كَاتِبَيْنِ“۔ جی، اب بتائیے مجھے، کیا خرابی نظر آ رہی ہے آپ کو؟ غور کرو بھئی غور کرو، کیا خرابی نظر آ رہی ہے؟ دیکھو، یہ پورا جملہ ہے، اتنا میں نے آپ کو بتا دیا ہے، یہ کیا ہے؟ جملہ ہے۔ معلوم ہوا یہ موصوف صفت تو ہے نہیں، موصوف صفت بھی اگر ہوتے تو ”الرَّجُلَانِ“ مرفوع تھا تو کاتبین نہیں ہونا چاہیے تھا، الکاتبان ہونا چاہیے تھا۔ وہ بھی تثنیہ ہے وہ بھی تثنیہ ہے، دونوں کا رفع کس کے ساتھ آئے گا ظاہر سی بات ہے؟ الف کے ساتھ۔ تو یہ پورا جملہ ہے، اور جملے میں ایک معرفہ ہے اور ایک نکرہ ہے، اور معرفہ کو کیا بناتے ہیں؟ مبتدا، اور نکرہ کو کیا بناتے ہیں؟ خبر، اور خبر بھی کیا ہوتی ہے؟ مرفوع ہی ہوتی ہے، خبر بھی کیا ہوتی ہے؟ مرفوع۔ لہٰذا اس کو مرفوع ہی ہونا چاہیے، کیا ہونا چاہیے؟ مرفوع ہی۔ تو مرفوع کیسے ہو گا؟ اس کو حالتِ رفعی میں لے جاؤ کاتبین کو: ”كَاتِبَانِ“، شاباش! کیا ہو گا؟ ”كَاتِبَانِ“۔ منصوب ہوتا تو کیا ہوتا؟ کاتبین۔ اور اسی طرح مجرور ہوتا تو بھی کیا ہوتا؟ کاتبین۔ اور ہمیں یہاں کیا چاہیے؟ رفع ہر حال میں، کیونکہ یہ کیا ہے؟ خبر، اور خبر کیونکہ مرفوع ہوتی ہے تو کس طرح ہوتا؟ کاتبان۔ معلوم ہوا یہ جس ساتھی نے جملہ بنایا اس سے غلطی ہوئی یا لکھنے والے سے غلطی ہوئی، کیونکہ یہ تو ہر حال میں خبر ہے، جب خبر ہے تو خبر نے تو ہونا ہی کیا ہے؟ مرفوع۔ منصوب یا مجرور ہو سکتی ہے؟ نہیں، تو کاتبین تو منصوب یا مجرور حالت میں اس طرح آتا ہے، حالتِ رفعی میں یہ ”كَاتِبَانِ“ ہونا چاہیے، کیا ہونا چاہیے؟ ”كَاتِبَانِ“۔ تثنیہ کا اعراب یاد کرو بھئی، تثنیہ کا کیا اعراب ہے؟ رفع کس کے ساتھ؟ الف۔ نصب اور جر؟ یا۔ اور ہمیں کیا چاہیے یہاں؟ رفع چاہیے۔ کیوں رفع چاہیے؟ کیونکہ یہ خبر ہے ظاہر سی بات ہے۔ جب خبر کہہ دیا، ساتھ ہی ایک اور بات قطعی طور پر طے ہو گئی کہ اس پر آنا کیا ہے؟ رفع ہی آنا ہے، اور اس لفظ کا رفع کس طرح آتا ہے؟ یہ تثنیہ ہے اس کا رفع الف کے ساتھ آتا ہے، اس پر پیش وغیرہ تو نہیں آتی الف آتا ہے، اور وہ الف نہیں ہے، ہونا چاہیے ہر حال میں، تو کیا ہو گا؟ ”كَاتِبَانِ“، شاباش! معلوم ہوا یہ کتابت وغیرہ کی کوئی غلطی ہے لہٰذا۔ جی، اب آگے کیجیے: ”كَاتِبَانِ“: مرفوع لفظاً صیغہ اسمِ فاعل، کیونکہ کاتب کی تثنیہ ہے نا: مرفوع لفظاً صیغہ اسمِ فاعل۔ آگے: اسمِ فاعل آ گیا اس میں کیا کرتے ہیں پھر؟ ضمیر نکالتے ہیں، آگے تو کوئی نہیں ہے اسم جو اس کا فاعل بنے، فاعل تو ہمیں ہر حال میں چاہیے۔ یہ تو کبھی نہیں ہو سکتا فعل یا صفت کا صیغہ آئے اور اس کے لیے فاعل یا نائب الفاعل نہ آئے، تو لہٰذا آگے تو کوئی نہیں اسی کے اندر ہمیں نکالنا ہے، اب کون سی ضمیر نکالیں گے؟ تثنیہ کی ضمیر نکالیں گے کیونکہ تثنیہ کا صیغہ ہے، ”هُوَ“ یا ”هِيَ“ نہیں نکالیں گے بلکہ ”هُمَا“۔ فعل کے اندر جو الف آتا تھا نا: ”ضَرَبَ ضَرَبَا“، وہ الف ہی تثنیہ کی ضمیر ہوتی تھی، وہاں ”هُمَا“ نہیں کہتے تھے بلکہ کیا کہتے تھے؟ الف، تثنیہ کی ضمیر فاعل ہے، لیکن یہ جو صفت کے صیغوں میں الف آتا ہے یہ ضمیر نہیں ہوتی، یہ تثنیہ کی علامت ہے بس۔ ”كَاتِبٌ“، تثنیہ بناؤ: ”كَاتِبَانِ“، یہ الف جو آ گیا یہ تثنیہ کی ضمیر نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ علامت ہے تثنیہ کی بس۔ سوال پیدا ہوتا ہے یہ کیوں نہیں، اس کو ضمیر کیوں نہیں کہتے؟ فعل میں جو الف آتا ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ ضمیر کہتے ہیں، اور تثنیہ کے اندر جو الف آتا ہے اس کو ضمیر نہیں کہتے اس کو کیا کہتے ہیں؟ یہ صرف تثنیہ کی علامت ہے یہ ضمیر نہیں ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ وجہ یہ کہ ضمیر تو مبنی ہوتی ہے اور مبنی کیا ہے؟ اس کی حالت برقرار رہتی ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، حالانکہ ”كَاتِبَانِ“ حالتِ رفعی میں اور حالتِ نصبی جری میں وہی الف کس سے بدل گیا؟ یا سے: ”كَاتِبَيْنِ“، یہ وہی الف کس سے بدل گیا؟ یا سے۔ معلوم ہوا وہ ضمیر نہیں، اگر ضمیر ہوتی تو صورت نہ بدلتی، یہ صورت بدل رہی ہے معلوم ہوا یہ ضمیر نہیں ہے۔ یہ دلیل یاد رکھنا بھئی، یہ پھر فرق آپ کو سمجھ میں آئے گا۔ فعل میں جو الف ہوتا ہے یا واؤ ہوتا ہے وہ ضمیر، وہ ضمیر ہوتی ہے، اور صفت کے صیغوں میں جو الف آئے یا یائے ضمیر آئے یا اسی طرح واؤ آئے ”مُسْلِمُونَ“ میں جیسے ہے، یہ ضمیریں نہیں ہیں بلکہ یہ کیا ہیں؟ یہ علامتیں ہیں، تثنیہ یا جمع کی علامتیں ہیں۔ تو اس کے اندر ”هُمَا“ ضمیر، اس کا اعراب بتاؤ ”هُمَا“ ضمیر کا: ”هُمَا“ ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ ہاں، ”هُمَا“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ وہ فاعل ہے۔ کیونکہ فاعل ہے اور فاعل ہمیشہ مرفوع ہوتا ہے۔ اور محلاً کیوں کہا؟ کیونکہ وہ ضمیر ہے اور ضمیر مبنیات میں سے ہے، شاباش! اب سمیٹیے: اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر بنی۔ ہاں، اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر۔ مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ اب روانی سے پورے جملے کو پڑھ دیں: ”الرَّجُلَانِ كَاتِبَانِ“۔ یا کو الف سے بدل دیا تھا؟ جی ہاں: ”الرَّجُلَانِ كَاتِبَانِ“۔ ترجمہ کیجیے: وہ دو مرد کاتب ہیں۔ کسی معین دو مردوں کی طرف اشارہ ہے۔ اگر ہوتا نا ”رَجُلَانِ كَاتِبَانِ“، تو معلوم ہوا کوئی غیر معین آدمی ہیں پھر یہ موصوف صفت بن جاتے اور جملہ بھی نہ رہتا، لیکن اگر صورت سمجھ میں آ گئی تو اب یہاں پر کیا ہو رہا ہے؟ الف لام آیا تو کسی معین دو مردوں، وہ دو مرد جو ہیں وہ کاتب ہیں، وہ دو مرد کاتب ہیں۔ اگلا جملہ لکھیے: ”الِامْرَأَةُ الْعَاقِلَةُ مَوْجُودَةٌ“۔ الف لکھیں، الف پھر لام الف لکھیں، یہ جو لام الف کے اندر الف ہے نا اس کے نیچے ہمزہ ڈال دیں، ہاں اور پھر میم را، پھر الف لکھیں اس کے اوپر ہمزہ ڈال دیں، الف کے اوپر ہمزہ ڈالنا ہے اور پھر گول تا لکھیں: ”الِامْرَأَةُ“۔ ”الْعَاقِلَةُ“: قاف دو نقطوں والا ہے، لام ہے اور پھر گول تا ہے۔ ”الْعَاقِلَةُ“۔ ”مَوْجُودَةٌ“: آخر میں گول تا ہے۔ چلیے جی، ترکیب کیجیے بھئی۔ ”الِامْرَأَةُ“: مرفوع لفظاً مبتدا۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ مبتدا ہے۔ لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں: ”الِامْرَأَةُ“۔ مبتدا، آگے۔ ”الْعَاقِلَةُ“: مرفوع لفظاً صیغہ اسمِ فاعل۔ مرفوع کیوں؟ خبر ہے۔ میں نے کیا ضابطہ لکھوایا تھا؟ پھر ضابطے بھول گئے لگتا ہے۔ کیا ضابطہ تھا؟ ہاں بھئی، آپ بتاؤ: جب دو معرفہ یا زیادہ معرفہ آ جائیں تو ان میں سے پہلا موصوف بنے گا اور دوسرا صفت۔ مجھے بتاؤ دونوں اسموں پر الف لام آ رہے ہیں، اتنی واضح علامت ہے معرفہ کی، آپ پھر کیسے غلطی کرتے ہو؟ یہ لگتا ہے تکرار نہ کرنے کی وجہ سے، ورنہ یہ ترکیب اب تک آپ بڑی تیزی سے کرتے اگر آپ تکرار کر رہے ہوتے سبق کا۔ میرا خیال میں ترکیب جتنے دنوں سے چل رہی ہے میں کروا کے جاتا ہوں پھر آپ اس کو ہاتھ نہیں لگاتے کہ بس گزر گئی۔ جی: ”الِامْرَأَةُ“: مرفوع لفظاً موصوف۔ ”الْعَاقِلَةُ“: مرفوع لفظاً صیغہ اسمِ فاعل۔ ”الِامْرَأَةُ“ مرفوع لفظاً موصوف، مرفوع کیوں؟ کیونکہ مبتدا ہے۔ لفظاً کیوں؟ کیونکہ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں۔ موصوف کیوں؟ کیونکہ جب دو معرفہ اکٹھے آ جائیں تو پہلا موصوف بنتا ہے اور دوسرا صفت، موصوف۔ آگے۔ ”الْعَاقِلَةُ“: مرفوع لفظاً صیغہ اسمِ فاعل۔ مرفوع کیوں؟ صفت ہے، اور موصوف صفت کا اعراب ایک ہوتا ہے، جی۔ مؤنث کی ضمیر، صیغہ مؤنث کا ہے: ”هِيَ“ ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت۔ موصوف صفت مل کر مبتدا۔ آگے: ”مَوْجُودَةٌ“: مرفوع لفظاً صیغہ اسمِ مفعول، جی۔ ”هِيَ“ ضمیر اس کے اندر اس کا نائب الفاعل۔ یہ ”مَوْجُودَةٌ“ مرفوع کیوں کہا اس کو؟ یہ خبر ہے۔ لفظاً کیوں کہا؟ ہم اس کے رفع پر تلفظ کر رہے ہیں۔ اور اس کے اندر ”هِيَ“ ضمیر اس کا نائب الفاعل، وہ کیا ہے اعراب اس کا؟ مرفوع فاعل یعنی نائب الفاعل ہونے کی وجہ سے۔ اور محلاً؟ کیونکہ مبنی ہے۔ پھر اسمِ مفعول اپنے نائب الفاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر۔ مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ اب پہلے روانی سے پڑھ دیجیے: ”الِامْرَأَةُ الْعَاقِلَةُ مَوْجُودَةٌ“۔ ترجمہ کیجیے: وہ عقل مند عورت موجود ہے۔ شاباش، وہ عاقلہ عورت موجود ہے یا وہ عقل مند عورت موجود ہے۔ سمجھ میں آیا؟ پہلے مبتدا کا صرف ترجمہ کر کے دیکھ لیا کرو: ”الِامْرَأَةُ الْعَاقِلَةُ“، کیا ترجمہ ہو گا؟ وہ عقل مند عورت، کیونکہ معرفہ ہے نا متعین کی طرف اشارہ ہے، وہ عقل مند عورت، دیکھو صفت کو موصوف پر مقدم کر دیا۔ وہ عقل مند عورت، ”مَوْجُودَةٌ“: موجود ہے۔ وہ عقل مند عورت موجود ہے بھئی۔ ترکیب ہماری ساتھ ساتھ چلتی رہے گی بھئی اسباق کے ساتھ ساتھ، اور کبھی ترکیب کے سبق شروع ہو جائیں گے، کبھی کتاب میں سے ہم سبق شروع کر دیں گے۔ اور جو چیزیں پڑھتے جائیں گے کوشش کرتے جائیں گے کچھ کچھ مثالوں کے ساتھ اس کی ترکیب کرتے رہیں، ان شاء اللہ جب تک کتاب مکمل ہو گی آپ کو بہترین ترکیب آ جائے گی بھئی۔ یہی ترکیبیں جو شروع میں آپ کو بڑی مشکل معلوم ہوں گی، لیکن دو چار دن ہی گزریں گے آپ دیکھیں گے کہ یہ تو بڑی آسان ہے، اس میں کوئی مشکل ہے ہی نہیں، اور اس طرح کی ترکیبیں جہاں کہیں بھی آئیں گی آپ آسانی سے کرتے چلے جائیں گے۔ لیکن طریقہ یاد رکھنا بھئی: یہاں جن جملوں کی میں ترکیب کرواؤں آپ سے، وہ آپ نے پھر بند کر کے نہیں رکھنا بلکہ اس کو وہ ترکیبیں پھر تین چار ساتھی مل کر بیٹھا کریں، اس کا تکرار کیا کریں، ایک ساتھی ایک جملے کی ترکیب پوری کرے جو جس طرح میں نے کروائی ہو، اور باقی ساتھی سنیں، اگر کہیں کمی آئے تو اس کو بتائیں بھئی۔ اور پھر دوسرا ساتھی دوسرے جملے کی پوری ترکیب کرے اور باقی ساتھی سنیں، جہاں کہیں وہ غلطی کرے یا وہ کچھ بھول جائے رہ جائے تو باقی ساتھی اس کو بتائیں بھئی۔ تو اس طرح آپ نے وہ سارے جملوں کی بیٹھ کر ان کا ان کی ان سارے جملوں کا آپ نے بیٹھ کر تکرار کرنا ہے، یعنی ان کی پھر دوبارہ ترکیب کرنی ہے۔ تو صرف یہ نہیں کہ مجھ سے سنا اور کاپی بند کر دی، پھر فائدہ کم ہو گا بھئی۔ ہاں، اس طریقے سے آپ چلیں گے، یہاں بھی ترکیب کریں پھر اس کا تکرار بھی کریں، ان شاء اللہ آپ دیکھیں گے دنوں کے اندر آپ کی ترکیب بہتر سے بہتر ہوتی چلی جائے گی بھئی، دنوں کے اندر۔ چلیے بس بھئی، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
104 approved lectures · 36 of 104