Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

هداية النحو جديد · dars-034

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 19 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 51
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
مبتدا خبر کی ترکیب چل رہی تھی، آپ نے پڑھا مبتدا بھی مرفوع ہوتا ہے اور خبر بھی مرفوع ہوتی ہے۔ پھر اس کے ساتھ ساتھ موصوف صفت کی ترکیب بھی میں نے ملا دی اور آپ کو بتلایا کہ موصوف اور صفت میں مطابقت ہوتی ہے، موصوف اگر معرفہ ہو تو صفت بھی معرفہ ہوگی اور اگر موصوف نکرہ ہو تو صفت بھی نکرہ ہوگی۔ اور لہٰذا آپ کو معرفہ کی پہچان ہونی چاہیے، کون کون سے ہیں معرفہ وہ آپ پڑھ چکے بھئی، گزشتہ سبق میں بھی اس کی تفصیل آ گئی تھی۔ اس کے بعد موصوف صفت کے ترجمہ کرنے کا طریقہ بتایا تھا، بھئی جہاں صرف موصوف صفت ہوں گے وہاں جملہ پورا نہیں ہوگا، بات پوری نہیں ہوگی۔ ہاں جہاں مبتدا خبر ہوں گے وہاں جملہ پورا ہوگا، بات پوری ہوگی۔ جیسے آپ کہتے ہیں ”رَجُلٌ شُجَاعٌ“، کیا ترجمہ ہوگا؟ بہادر آدمی، اور یہ دونوں نکرہ ہیں تو دوسرا ترجمہ کیا ہوگا؟ ایسا آدمی جو کہ بہادر ہے، اس کو کیا ہوا؟ ابھی بات پوری نہیں۔ اور اگر یہ معرفہ ہو ”اَلرَّجُلُ الشُّجَاعُ“، پھر کیا ترجمہ کریں گے؟ وہ بہادر آدمی۔ اور دوسرا ترجمہ کیا کریں گے؟ وہ آدمی جو کہ بہادر ہے۔ یہ موصوف صفت والے ترجمے تھے۔ اور اگر یہ پورا جملہ ہوتا: ”اَلرَّجُلُ شُجَاعٌ“، ”اَلرَّجُلُ“ معرفہ، ”شُجَاعٌ“ نکرہ، معلوم ہوا یہ تو پورا جملہ ہے، مبتدا خبر ہیں۔ اب کیا ترجمہ ہوگا ”اَلرَّجُلُ شُجَاعٌ“؟ ”اَلرَّجُلُ“، کیا معنی؟ وہ آدمی، ”شُجَاعٌ“ بہادر ہے، وہ آدمی بہادر ہے، دیکھو یہاں بات پوری ہے۔ پہلے تھا: ”رَجُلٌ شُجَاعٌ“، بہادر آدمی، اس کو کیا ہوا؟ کوئی خبر نہیں تھی، لیکن اب بتایا: وہ آدمی وہ کیا ہے؟ بہادر ہے، پورا جملہ ہے۔ طریقہ آ گیا اچھی طرح؟ جی اب آگے لکھیے بھئی، ترکیبیں کرتے جائیے جلدی جلدی بھئی: ”هٰذَا قَلَمٌ“، ”هٰذَا قَلَمٌ“۔ کیجیے ترکیب بھئی۔ ”هٰذَا“ مرفوع ”لَفْظًا“؟ نہیں، ”مَحَلًّا“، ”هٰذَا“ مرفوع ”مَحَلًّا“ مبتدا۔ مرفوع کیوں؟ مبتدا ہے، شاباش، مبتدا ہے یہ۔ ”لَفْظًا“ کیوں نہیں؟ ”مَحَلًّا“ کیوں کہا آپ نے؟ یہ اسمِ اشارہ ہے، اور اسمِ اشارہ مبنیات میں سے ہے اور مبنی کا اعراب ”مَحَلًّا“ آتا ہے۔ یعنی محل، جگہ کے اعتبار سے وہ مرفوع یا منصوب یا مجرور ہوتا ہے۔ تو مرفوع ”مَحَلًّا“ مبتدا بنا۔ مبتدا کیوں کہا آپ نے بھئی؟ ہمارے پاس دو لفظ ہیں اور ان سے جملہ پورا ہو رہا ہے اور ان میں سے ایک معرفہ ہے اور ایک نکرہ ہے، تو ہم نے معرفہ کو کیا بنا دیا؟ مبتدا، کیونکہ ”هٰذَا“ اسمِ اشارہ ہے اور اسمِ اشارہ کس میں سے ہے؟ معرفہ ہوتا ہے، جی۔ قلم، آگے ترکیب کیجیے: ”قَلَمٌ“ مرفوع ”لَفْظًا“ خبر، شاباش۔ مرفوع کیوں؟ خبر ہے، خبر پر رفع آتا ہے۔ ”لَفْظًا“ کیوں؟ اس کے رفع پر ہم باقاعدہ تلفظ کر رہے ہیں۔ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، تلفظ کر کے دکھائیے: ”قَلَمٌ“۔ فتحہ پر تلفظ کریں: ”قَلَمًا“۔ جر پہ ذرا کریں: ”قَلَمٍ“، دیکھا معلوم ہوا اس پہ تینوں طرح کا اعراب ”لَفْظًا“ آتا ہے یعنی تلفظ سے ہی پتہ چل جاتا ہے۔ اب دونوں لفظوں کا اعراب بتا دیا، روانی سے پورا جملہ پڑھ لو: ”هٰذَا قَلَمٌ“۔ ترجمہ کیجیے: یہ قلم ہے، دیکھو پوری بات ہے: یہ قلم ہے۔ اور اگر یہ ہوتا ”هٰذَا الْقَلَمُ“، الف لام ہوتا قلم پر، تو پھر کیا ترجمہ ہوتا؟ ”هٰذَا الْقَلَمُ“، یہ قلم، بھئی اس کو کیا ہوا؟ آگے بات ہی نہیں، یہ قلم، سمجھ میں آئی بات بھئی؟ موصوف صفت اور مبتدا خبر کے ترجمے میں فرق سمجھ میں آ رہا ہے؟ موصوف صفت صرف ہوں گے تو پھر جملہ پورا نہیں، بات پوری نہیں، اور اگر مبتدا خبر ہیں تو پھر بات پوری ہے۔ اب دوسرا جملہ لکھیں، اب الف لام لے آئیں قلم پر: ”هٰذَا الْقَلَمُ جَمِيلٌ“۔ جیم، یا، دال اور یا مشدد جید، لیکن جمیل کریں: ”هٰذَا الْقَلَمُ جَمِيلٌ“۔ چلیے جی، آپ کیجیے ترکیب بھئی۔ ”هٰذَا“ مرفوع ”مَحَلًّا“ موصوف۔ ”هٰذَا“ مرفوع ”مَحَلًّا“ موصوف، آگے کیجیے ترکیب بھئی: ”اَلْقَلَمُ“ مرفوع ”لَفْظًا“ صفت۔ ”هٰذَا“ مرفوع ”مَحَلًّا“ موصوف، ”اَلْقَلَمُ“ مرفوع ”لَفْظًا“ صفت۔ اچھا، اب آپ نے موصوف بنایا، آپ کو موصوف کیوں کہا آپ نے اسے؟ ہمارے پاس دو کلمے ہیں، وہ دونوں معرفہ ہیں۔ ہاں کیونکہ ہم نے ضابطہ پڑھا ہے دو یا تین یا چار معرفہ اکٹھے آ جائیں تو پہلے کو کیا بناتے ہیں؟ موصوف، اور دوسرے کو صفت۔ تو ہمارے پاس دو معرفہ آ گئے: ”هٰذَا“ بھی معرفہ، ”اَلْقَلَمُ“ بھی کیا ہے؟ معرفہ، تو دونوں کیا بنیں گے؟ موصوف صفت۔ تو ”هٰذَا“ مرفوع ”مَحَلًّا“ موصوف۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ اس نے مبتدا بننا ہے، اور ”مَحَلًّا“ کیوں؟ کیونکہ یہ مبنی ہے۔ اور موصوف کیوں؟ کیونکہ یہ معرفہ ہے اور اس کے بعد پھر ایک اور معرفہ آ رہا ہے۔ آگے کیجیے ترکیب: ”اَلْقَلَمُ“ مرفوع ”لَفْظًا“ صفت۔ یہ مرفوع کیوں؟ کیونکہ یہ صفت ہے، اور موصوف صفت کا اعراب ایک ہوتا ہے۔ وہاں آپ نے کہا تھا مبتدا ہے اور یہاں میں پوچھ رہا ہوں مرفوع کیوں تو آپ کیا جواب دے رہے ہیں؟ کیونکہ یہ صفت ہے، اور موصوف صفت کا اعراب ایک ہوتا ہے، شاباش۔ تو مرفوع ”لَفْظًا“ صفت۔ مرفوع کیونکہ صفت ہے، ”لَفْظًا“ کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، کر کے دکھائیے: ”اَلْقَلَمُ“۔ نصب پہ تلفظ کریں: ”اَلْقَلَمَ“۔ جر پہ تلفظ کریں: ”اَلْقَلَمِ“، معلوم ہوا اس پر تینوں طرح کا اعراب ”لَفْظًا“ آتا ہے یعنی اس پر ہم تلفظ کرتے ہیں باقاعدہ۔ تو یہ مرفوع ”لَفْظًا“ صفت۔ موصوف صفت مل کر مبتدا، موصوف صفت مل کر مبتدا، حالانکہ دراصل مبتدا صرف ”هٰذَا“ ہے اور ”اَلْقَلَمُ“ کیا ہے اس کی صفت ہے، بہرحال جو ہمارے ہاں رائج ہے چلو اسی طرح کرتے ہیں لیکن آپ نے یاد رکھنا ہے۔ تو موصوف صفت مل کر مبتدا، آگے؟ ”جَمِيلٌ“ مرفوع ”لَفْظًا“ صفتِ مشبہ، شاباش! ”جَمِيلٌ“ مرفوع ”لَفْظًا“ صفتِ مشبہ۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ یہ خبر ہے، شاباش، اور خبر پر رفع آتا ہے تو یہ مرفوع۔ ”لَفْظًا“ کیوں؟ اس کے رفع پر ہم باقاعدہ تلفظ کر رہے ہیں، کر کے دکھائیے: ”جَمِيلٌ“۔ نصب پہ ذرا تلفظ کیجیے: ”جَمِيلًا“۔ جر پہ تلفظ کیجیے: ”جَمِيلٍ“، معلوم ہوا اس پر تینوں طرح کا اعراب ”لَفْظًا“ آتا ہے۔ اور پھر آپ نے کہا صفتِ مشبہ، آپ کو کیسے پتہ چلا یہ صفتِ مشبہ ہے؟ کیونکہ یہ فعیل وزن ہے، فعیل وزن صفتِ مشبہ کے کئی اوزان ہیں لیکن یہ وزن تو سب سے مشہور ہے بھئی: فعیل، شریف۔ تو مرفوع ”لَفْظًا“ صفتِ مشبہ۔ اب صفتِ مشبہ آپ نے کہہ دیا تو معلوم ہوا یہ صفت کا صیغہ ہے، اس کے لیے پھر کیا چاہیے؟ فاعل چاہیے۔ آگے کوئی لفظ ہے اور؟ نہیں، تو پھر کیا کریں گے؟ اسی کے اندر ضمیر نکالیں گے، نکالیں بھئی: ”هُوَ“ ضمیر مرفوع ”مَحَلًّا“ اس کا فاعل۔ ”هُوَ“ ضمیر اس کے اندر مرفوع ”مَحَلًّا“ اس کے اندر اس کا فاعل، جی۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ فاعل ہے اور فاعل مرفوع ہوتا ہے۔ ”مَحَلًّا“ کیوں؟ کیونکہ ”هُوَ“ ضمیر ہے، مبنی ہے، اور مبنی پر اعراب ”مَحَلًّا“ آتا ہے۔ تو مرفوع ”مَحَلًّا“ اس کے لیے فاعل۔ صفتِ مشبہ اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر۔ مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ اچھا، اب روانی سے پڑھ دیجیے، ایک ایک لفظ کا اعراب پتہ چل گیا: ”هٰذَا الْقَلَمُ جَمِيلٌ“۔ ”هٰذَا الْقَلَمُ جَمِيلٌ“، ترجمہ کیجیے: ”هٰذَا الْقَلَمُ“ یہ قلم، ”جَمِيلٌ“ خوبصورت ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ ”هٰذَا الْقَلَمُ جَمِيلٌ“، یہ قلم خوبصورت ہے۔ اگلا جملہ لکھیے بھئی: ”هُوَ أُسْتَاذٌ“، ”هُوَ أُسْتَاذٌ“۔ جی، آپ کیجیے ترکیب بھئی۔ ”هُوَ“ مرفوع ”مَحَلًّا“ مبتدا۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ مبتدا ہے۔ ”لَفْظًا“ کیوں نہیں؟ ”هُوَ“ مرفوع ”مَحَلًّا“، ہاں مرفوع ”مَحَلًّا“۔ ”هُوَ“ مرفوع ”مَحَلًّا“ مبتدا، آگے: ”أُسْتَاذٌ“ مرفوع ”لَفْظًا“ اس کی خبر، شاباش۔ ”أُسْتَاذٌ“ مرفوع ”لَفْظًا“ خبر۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ خبر ہے اور خبر پر کیا آتا ہے؟ رفع۔ ”لَفْظًا“ کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، کر کے دکھائیے: ”أُسْتَاذٌ“۔ نصب پہ تلفظ کریں: ”أُسْتَاذًا“۔ جر پہ تلفظ کریں: ”أُسْتَاذٍ“، شاباش بھئی۔ تو مرفوع ”لَفْظًا“ خبر۔ اب جوڑیے ان کو، مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ روانی سے اب پڑھ دیجیے پورے جملے کو: ”هُوَ أُسْتَاذٌ“، ”هُوَ أُسْتَاذٌ“، ترجمہ کیجیے: وہ استاد ہے، وہ استاد ہے، شاباش۔ اگلا جملہ لکھیے: ”هُوَ أُسْتَاذُنَا“، ”هُوَ أُسْتَاذُنَا“۔ چلیے جی، اب پھر ترکیب کیجیے آپ۔ ”هُوَ“ مرفوع ”مَحَلًّا“ مبتدا، شاباش۔ ”هُوَ“ مرفوع ”مَحَلًّا“ مبتدا۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ مبتدا ہے۔ ”مَحَلًّا“ کیوں؟ کیونکہ ضمیر ہے، مبنیات میں سے ہے۔ اچھا تو مرفوع ”مَحَلًّا“ مبتدا، آگے: ”أُسْتَاذُنَا“، غور کر رہے ہیں لفظ پر؟ میں نے ایک ضابطہ آپ کو لکھوایا تھا: جس اسم کے ساتھ بھی ضمیرِ متصل آ جائے وہاں کیا ترکیب کرنی ہے؟ مضاف اور مضاف الیہ کی۔ ضابطہ یاد آیا؟ جس اسم، فعل کی بات نہیں کر رہا، فعل کے ساتھ فاعل کی ضمیر بھی جڑ سکتی ہے مفعول کی بھی، اسم کی بات کر رہا ہوں۔ اسم کے ساتھ جب ضمیر جڑی ہوئی آ جائے تو وہ کیا بنیں گے؟ مضاف اور مضاف الیہ بنیں گے، جی اب اس سے حل کیجیے اس کو۔ ”أُسْتَاذُ“ مرفوع ”لَفْظًا“ مضاف، شاباش! ”أُسْتَاذُنَا“، اس میں سے ”أُسْتَاذُ“ مرفوع ”لَفْظًا“ مضاف۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ اس نے خبر بننا ہے، یہ کیا ہے؟ کیونکہ یہ خبر ہے، کیا ہے؟ خبر ہے۔ ”لَفْظًا“ کیوں؟ کیونکہ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں: ”أُسْتَاذُ“۔ اچھا، اور مضاف، آپ کو کیسے پتہ چلا یہ مضاف ہے؟ کیونکہ جب بھی کسی اسم کے ساتھ ضمیر متصل ہو تو وہ مضاف اور مضاف الیہ بنتے ہیں، تو جس اسم کے ساتھ بھی ضمیرِ متصل آ جائے تو وہ آپس میں مضاف اور مضاف الیہ بنتے ہیں، جی۔ تو ”أُسْتَاذُ“ مرفوع ”لَفْظًا“ مضاف، آگے چلیے: ”نَا“ ضمیر مجرور ”مَحَلًّا“ مضاف الیہ، شاباش۔ مجرور کیوں؟ کیونکہ مضاف الیہ ہے، خبر تو گزر گئی، مضاف اور مضاف الیہ دونوں مل کر خبر بنیں گے آپ کی بات ٹھیک ہے، لیکن نا ضمیر کا اعراب مجھے بتاؤ بھئی: مجرور ”مَحَلًّا“، مجرور کیوں؟ کیونکہ مضاف الیہ ہے۔ بھئی مجرور دنیا میں دو ہی چیزیں ہیں: ایک جس پر کیا داخل ہو؟ حرفِ جر، اور دوسرا کون؟ مضاف الیہ، مضاف نہیں، کون؟ مضاف الیہ۔ جب مضاف الیہ آپ نے کہہ دیا اعراب خود بخود پتہ چل گیا بھئی، جیسے مبتدا کہتے ہی کس کا پتہ چلتا ہے؟ مرفوع ہونے کا، خبر کہتے ہی کس کا پتہ چلتا ہے؟ مرفوع ہونے کا، فاعل کہتے ہی کس کا پتہ چلتا ہے؟ مرفوع ہونے کا۔ اسی طرح جب مضاف الیہ کہہ دیا تو پھر اعراب کا بھی پتہ چل گیا کہ وہ مجرور ہے، جی اب بتائیے: نا ضمیر مجرور ”مَحَلًّا“، شاباش، نا ضمیر مجرور ”مَحَلًّا“ مضاف الیہ۔ مجرور کیوں؟ کیونکہ مضاف الیہ ہے، شاباش۔ ”مَحَلًّا“ کیوں؟ کیونکہ یہ مبنی ہے ضمیر ہے۔ تو مجرور ”مَحَلًّا“ مضاف الیہ۔ اب سمیٹیے بھئی: مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر خبر، مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ ایک ایک لفظ کا اعراب آپ نے نکال لیا، اب اس کو روانی سے پڑھ دیں جملے کو: ”هُوَ أُسْتَاذُنَا“، ”هُوَ أُسْتَاذُنَا“، ترجمہ کیجیے: وہ ہمارے استاد ہیں، ہاں وہ ہمارے استاد ہیں۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ ”أُسْتَاذُنَا“، ہمارا استاد۔ ہاں ایک شبہ آپ کے ذہن میں یہاں آئے گا: ”أُسْتَاذُنَا“، استاد مضاف کس کی طرف مضاف؟ نا ضمیر کی طرف، اور ضمیر کس میں سے ہے؟ معرفہ میں سے، اور ان پانچ میں سے کسی کی طرف جو مضاف ہوتا تھا وہ بھی کیا بن جاتا تھا؟ معرفہ، تو ”أُسْتَاذُنَا“ یہ بھی کیا بن گیا؟ معرفہ۔ ”أُسْتَاذُنَا“ آپ خود غور کر لیں: ہمارا استاد، اب یہ ہر استاد پہ بولا جائے گا یا جو صرف آپ کا استاد ہے اس کو کہیں گے؟ جو صرف آپ کا استاد ہے اس کو۔ لفظِ استاد، یہ تو ہر استاد پر صادق آئے گا کہ وہ استاد ہے، لیکن ”أُسْتَاذُنَا“ ہمارا استاد اب یہ کوئی خاص استاد آپ کا، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اس کی طرف اشارہ ہوا کہ یہ استاد ہمارا۔ اور تو یہ معرفہ بن گیا، استاد کا لفظ بھی اب کیا بن گیا؟ معرفہ۔ تو ”هُوَ“ بھی معرفہ، ضمیر یعنی، اور ”أُسْتَاذُنَا“ بھی آگے کیا آ گیا؟ معرفہ آ گیا۔ تو لہٰذا ان کو کیا بننا چاہیے؟ موصوف صفت۔ اشکال سمجھ میں آ رہا ہے؟ ”هُوَ“ ضمیر بھی کیا تھی؟ معرفہ، اور استاد کا لفظ بھی مضاف ہونے کے بعد کیا بن گیا؟ معرفہ۔ تو جواب یاد رکھنا کہ جو ضمیر ہوتی ہے یہ نہ موصوف بنتی ہے نہ صفت بنتی ہے۔ ضمیر کیا ہے؟ نہ موصوف بنتی ہے، نہ صفت بنتی ہے۔ لہٰذا اگر یہ بھی ”هُوَ“ معرفہ تو اس کو موصوف بنانا پڑے گا اور ”أُسْتَاذُنَا“ کو اس کی صفت بنانا پڑے گا حالانکہ ضمیر تو موصوف نہیں بنتی بھئی، ضابطہ سمجھ میں آیا؟ الضمیر لا یوصف ولا یوصف بہ، ضمیر نہ تو موصوف بنتی ہے اور نہ صفت بنتی ہے بھئی، تو لہٰذا موصوف صفت نہیں بن سکتے۔ تو ترجمہ آپ نے کر لیا: ”هُوَ أُسْتَاذُنَا“، وہ ہمارے استاد ہیں۔ اگلا جملہ لکھیے بھئی: ”ذٰلِكَ الْمُسَافِرُ حَاضِرٌ“، ”ذٰلِكَ الْمُسَافِرُ حَاضِرٌ“۔ چلیے جی، ترکیب کیجیے: ”ذٰلِكَ“ مرفوع ”مَحَلًّا“ موصوف۔ ”ذٰلِكَ“ مرفوع ”مَحَلًّا“ موصوف، شاباش۔ ترکیب بہت آسان ہے بھئی، تھوڑا سا آپ توجہ کریں گے انشاء اللہ چند دن میں آپ بہترین ترکیب کرنے لگیں گے۔ ہم ہدایت النحو بھی چلائیں گے ساتھ ساتھ اور کبھی کبھی یہ ترکیب والے سبق بھی بیچ میں، جو کچھ وہ بیان کرتے جائیں گے مرفوعات، منصوبات، مجرورات وہ ساتھ ساتھ ہم چلائیں گے تھوڑے تھوڑے۔ انشاء اللہ جب ہدایت النحو ختم ہوگی آپ کی ترکیب بھی بہترین ہو جائے گی بھئی، بس دعا کریں کہ کوئی رکاوٹ نہ آئے بھئی، اللہ تعالیٰ آسانی سے پورا کرنے کی توفیق دیں۔ جی دوبارہ کیجیے ترکیب: ”ذٰلِكَ الْمُسَافِرُ حَاضِرٌ“۔ ”ذٰلِكَ“ مرفوع ”مَحَلًّا“ موصوف، ”ذٰلِكَ“ مرفوع ”مَحَلًّا“ موصوف۔ مرفوع کیوں بھئی؟ مبتدا بن رہا ہے، ہاں یہ مبتدا ہے: مرفوع ”مَحَلًّا“ موصوف۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ مبتدا ہے، مبتدا ہے اور مبتدا پر رفع آتا ہے بھئی۔ دیکھا وہ مرفوعات ذہن میں رکھنے ہیں جو آپ نے ہدایت النحو میں پڑھے ہیں۔ سمجھ میں آیا؟ مرفوعات صرف وہ ہیں، ان میں کوئی موصوف کا ذکر نہیں آیا۔ تو مرفوع ”مَحَلًّا“ ہوا۔ پھر ”مَحَلًّا“ کیوں کہا؟ کیونکہ اسمِ اشارہ ہے، مبنی ہے، شاباش۔ موصوف کیسے ہے یہ آپ کو کیسے پتہ چلا؟ جب دو کلمے اکٹھے آ جائیں معرفہ، ہاں جب دو معرفہ اکٹھے آ جائیں تو اول کو موصوف بناتے ہیں عموماً اور ثانی کو صفت۔ تو مرفوع ”مَحَلًّا“ موصوف۔ آگے: ”اَلْمُسَافِرُ“ مرفوع ”لَفْظًا“ صفت۔ مسافر کون سا صیغہ ہے بھئی؟ اسمِ فاعل، شاباش، اسمِ فاعل ہے، کس باب سے ہے؟ بابِ مفاعلہ سے ہے، مقاتلٌ وزن، مسافرٌ، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ اسمِ فاعل ہے بابِ مفاعلہ سے۔ جی، ”اَلْمُسَافِرُ“ مرفوع ”لَفْظًا“ صیغہ اسمِ فاعل۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ یہ صفت ہے، اور موصوف صفت کا اعراب ایک ہوتا ہے۔ ”لَفْظًا“ کیوں کہا؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، کر کے دکھائیے: ”اَلْمُسَافِرُ“۔ نصب پہ تلفظ کریں: ”اَلْمُسَافِرَ“۔ جر پہ تلفظ کریں: ”اَلْمُسَافِرِ“، معلوم ہوا اس پر تینوں طرح کا اعراب ”لَفْظًا“ آتا ہے یعنی اس پر ہم تلفظ کرتے ہیں باقاعدہ۔ تو یہ مرفوع ”لَفْظًا“ اسمِ فاعل۔ آگے کیجیے: اسمِ فاعل جب کہہ دیا تو ترکیب پوری کرو اس کی، ”هُوَ“ ضمیر اس کے اندر اس کا فاعل، ”هُوَ“ ضمیر مرفوع ”مَحَلًّا“ اس کے اندر اس کا فاعل، جی۔ اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت ہوئی، اور موصوف صفت مل کر مبتدا، موصوف صفت مل کر مبتدا، جی۔ آگے: ”حَاضِرٌ“ مرفوع ”لَفْظًا“ صیغہ اسمِ فاعل۔ ”هُوَ“ ضمیر مرفوع ”مَحَلًّا“ اس کا فاعل، ”هُوَ“ ضمیر مرفوع ”مَحَلًّا“ اس کے اندر اس کا فاعل۔ اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر، اس میں فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر۔ مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ ایک ایک لفظ کا اعراب آپ نے نکال لیا، اب ذرا روانی سے پڑھو اس پورے جملے کو: ”ذٰلِكَ الْمُسَافِرُ حَاضِرٌ“، ”ذٰلِكَ الْمُسَافِرُ حَاضِرٌ“۔ ترجمہ کیجیے: وہ مسافر حاضر ہے، وہ مسافر حاضر ہے۔ کسی خاص مسافر کی بات چل رہی تھی نا، تو اس کی طرف اشارہ کیا کہ وہ جس کی بات چل رہی تھی وہ مسافر حاضر ہے، معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ اگلا جملہ لکھیے: عمرو۔ یہ لفظ عمرو بھی عمر کی طرح لکھتے ہیں لیکن آخر میں واؤ ڈال دیتے ہیں تاکہ فرق ہو جائے، لکھ لیا بھئی؟ عین، میم، را اور واؤ۔ تو یہ واؤ کس لیے ڈالتے ہیں آخر میں؟ تاکہ عمر سے فرق ہو جائے بھئی۔ پہلے زمانے میں جب عربی لکھتے تھے شروع میں تو اس پر زیریں زبریں، زیر زبر پیش وغیرہ نہیں تھی بھئی، یہ بعد میں علمائے اسلام نے یہ چیزیں ان کو وجود دیا، تو عرب جب لکھا کرتے تھے تو وہ واؤ کے ذریعے فرق کرتے تھے۔ عمر کے آخر میں واؤ نہیں تو عمرو کے آخر میں کیا ڈال دیا؟ واؤ بھئی، تو اس سے وہ پہچانتے تھے کیونکہ زیر زبر تو اس وقت تھی نہیں بھئی ابھی۔ تو کیا لکھا؟ عمرو۔ آگے لکھیں: ”اَلتَّاجِرُ“، اس کے بعد رجل، کریم: ”عَمْرٌو التَّاجِرُ رَجُلٌ كَرِيمٌ“۔ جی کس کی باری ہے ترکیب کی بھئی؟ کیجیے بھئی: یاد رکھیے لفظِ عمر، یہ غیر منصرف ہے، اس پر کسرہ بھی نہیں آتا اور تنوین بھی نہیں آتی: ”جَاءَنِي عُمَرُ“، تنوین نہیں ہے، عمرٌ نہیں کہنا، ”جَاءَنِي عُمَرُ“، ”رَأَيْتُ عُمَرَ“، ”مَرَرْتُ بِعُمَرَ“، عمرٍ نہیں کہنا، اس پر کسرہ نہیں آتا، اس پر نصب، تو اس کا کسرہ آتا ہی نصب کی صورت میں ہے، تو اس کا جر بھی ”لَفْظًا“ ہے۔ اور یہ لفظِ عمرو، اس پر تنوین بھی آتی ہے اور تینوں اعراب بھی آتے ہیں: ”عَمْرٌو“، ”عَمْرًا“، ”عَمْرٍو“، جی پڑھیے جی: ”عَمْرٌو“، کیا سوچ رہے ہیں بھئی؟ ”عَمْرٌو“ مرفوع ”لَفْظًا“ مبتدا، شاباش! ”عَمْرٌو“ مرفوع ”لَفْظًا“ مبتدا۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ مبتدا ہے۔ ”لَفْظًا“ کیوں کہا؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، کر کے دکھاؤ: ”عَمْرٌو“۔ نصب پہ کرو: ”عَمْرًا“۔ جر پہ کرو: ”عَمْرٍو“، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو ”عَمْرٌو“ مرفوع ”لَفْظًا“ کیا بنا؟ موصوف، شاباش! کیسے پتہ چلا آپ کو یہ موصوف ہے؟ کیونکہ دو کلمے آ رہے ہیں، دو معرفہ اکٹھے آ رہے ہیں، دو معرفہ تو پہلے کو کیا بنائیں گے؟ موصوف اور دوسرے کو صفت۔ تو موصوف ہوا، آگے: ”اَلتَّاجِرُ“ مرفوع ”لَفْظًا“ صفت، شاباش! ”اَلتَّاجِرُ“ مرفوع ”لَفْظًا“ صفت ہے لیکن پہلے کیا بناؤ؟ یہ کون سا صیغہ ہے؟ اسمِ فاعل، ہاں مرفوع ”لَفْظًا“ صیغہ اسمِ فاعل۔ مرفوع کیوں ہے یہ؟ کیونکہ موصوف کی صفت ہے اور مبتدا مرفوع تھا تو اس کی صفت بھی کیا ہوگی؟ مرفوع، کیونکہ موصوف صفت کا اعراب ایک ہوتا ہے۔ ”لَفْظًا“ کیوں کہا؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، شاباش۔ تو مرفوع ”لَفْظًا“ اسمِ فاعل، آگے کیجیے اس کی ترکیب: اس کے اندر ”هُوَ“ ضمیر، اس کا اعراب بتاؤ بھئی، جو بھی اسم آتا جائے اس کا اعراب بتاتے جاؤ ساری عبارت حل ہو جائے گی: ”هُوَ“ ضمیر مرفوع ”مَحَلًّا“ اس کا فاعل۔ اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت ہوئی۔ ”اَلتَّاجِرُ“ اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت، موصوف صفت مل کر مبتدا، شاباش۔ آگے: ”رَجُلٌ“ مرفوع ”لَفْظًا“ موصوف، شاباش۔ ”رَجُلٌ“ مرفوع ”لَفْظًا“ موصوف۔ مرفوع کیوں کہا آپ نے؟ کیونکہ موصوف ہے، خبر ہے یہ، مبتدا گزر گیا اب کس نے آنا تھا؟ خبر نے۔ تو ”رَجُلٌ“ مرفوع ”لَفْظًا“ موصوف۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ خبر ہے۔ ”لَفْظًا“ کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں: ”رَجُلٌ“، ”رَجُلًا“، ”رَجُلٍ“، تینوں طرح کا اعراب اس پر ”لَفْظًا“ آتا ہے۔ موصوف کیوں کہا آپ نے اس کو؟ کیونکہ دو نکرہ آ رہے ہیں اور ان کے بعد کوئی معرفہ نہیں ہے تو لہٰذا پہلا موصوف بنے گا اور دوسرا اس کی صفت۔ تو ”رَجُلٌ“ مرفوع ”لَفْظًا“ موصوف۔ آگے: ”كَرِيمٌ“ مرفوع ”لَفْظًا“ صفتِ مشبہ، شریفٌ وزن ہے، ”كَرِيمٌ“ مرفوع ”لَفْظًا“ صفتِ مشبہ۔ مرفوع کیوں کہا؟ صفت ہے، اور موصوف صفت کا اعراب ایک ہوتا ہے، موصوف پر رفع تھا رجل پر تو کریم پر بھی کیا آئے گا؟ رفع۔ تو مرفوع، ”لَفْظًا“ کیوں کہا؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، کر کے دکھاؤ: ”كَرِيمٌ“، ”كَرِيمًا“، ”كَرِيمٍ“، معلوم ہوا اس پر بھی تینوں طرح کا اعراب آتا ہے بھئی ”لَفْظًا“۔ تو مرفوع ”لَفْظًا“ صفتِ مشبہ، آگے: ”هُوَ“ ضمیر اس کے اندر اس کا فاعل، اعراب اس کا بھئی: ”هُوَ“ ضمیر مرفوع ”مَحَلًّا“ اس کا فاعل۔ مرفوع کیوں ہے؟ کیونکہ فاعل ہے، اور فاعل پر ہمیشہ کیا آتا ہے؟ رفع۔ ”مَحَلًّا“ کیوں کہتے ہو؟ کیونکہ مبنی ہے ضمیر ہے۔ تو صفتِ مشبہ اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر رجل کے لیے صفت۔ موصوف صفت مل کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ ایک ایک لفظ کا اعراب آپ نے نکال لیا، اب اس کو ذرا روانی سے پڑھ دیں: ”عَمْرٌو التَّاجِرُ رَجُلٌ كَرِيمٌ“۔ ہاں دیکھو وہ ضابطہ میں نے گزشتہ سبق میں بتایا تھا: ”عَمْرٌو“، آخر میں کیا آ رہا ہے؟ آخر میں تنوین ہے ”عَمْرٌو“، اور تنوین کس کا نام ہے؟ نونِ ساکن کا نام، گویا عمرو کے آخر میں نونِ ساکن ہے، اور ”اَلتَّاجِرُ“ اس میں جو الف لام ہے اس میں سے ہمزہ گر گیا، ہمزۂ وصلی ہے۔ تو اب لام بھی ساکن اور ماقبل میں عمرو کا نون بھی ساکن، تو دو ساکن اکٹھے ہو گئے تو ایک کو حرکت دینی ہے اور ”اَلسَّاكِنُ إِذَا حُرِّكَ فَيُحَرَّكُ بِالْكَسْرِ“، اس کو کسرہ کی حرکت دیں گے، کیسے پڑھیں گے؟ ”عَمْرُ نِ التَّاجِرُ رَجُلٌ كَرِيمٌ“، ”عَمْرُ نِ التَّاجِرُ رَجُلٌ كَرِيمٌ“۔ ترجمہ کیجیے: موصوف صفت کا ایک ایک کا ترجمہ پہلے کر لو، ”عَمْرُ نِ التَّاجِرُ“، اس کا ترجمہ کرو: وہ تاجر عمرو، عمر نہیں عمرو، میم ساکن ہے: وہ تاجر عمرو۔ کریم کا معنی معزز، ”رَجُلٌ كَرِيمٌ“، اب ذرا رجل کریم کا ترجمہ کرو: کریم کا معنی معزز ہے، تو ”رَجُلٌ كَرِيمٌ“ یعنی معزز آدمی۔ دیکھا ”رَجُلٌ كَرِيمٌ“ کا معنی ہوا معزز آدمی، اور ”عَمْرُ نِ التَّاجِرُ“ کا کیا معنی ہوا؟ وہ تاجر عمرو۔ اب جوڑ کے جملہ بنا لو: وہ تاجر عمرو معزز آدمی ہے، معزز آدمی ہے۔ طریقہ سمجھ میں آیا بھئی؟ موصوف صفت کا ترجمہ کر کے پھر پورا پورا جملہ بنا لیا کرو۔ اور یہاں پر وہ کہنے کی بھی نہیں ضرورت، چلو بڑھا دیا آپ نے ٹھیک ہے، وہ بھی ٹھیک ہے: وہ تاجر عمرو معزز آدمی ہے۔ ورنہ عمرو جب نام لے لیا نا تو وہ پہلے ہی متعین ہے وہاں وہ کہنے کی بھی ضرورت نہیں تو یوں بھی کہہ سکتے ہیں: تاجر عمرو معزز آدمی ہے۔ یا یوں بھی کہہ لیں دوسرا طریقہ کیا تھا موصوف صفت کے ترجمے کا؟ وہ عمرو جو کہ تاجر ہے معزز آدمی ہے، وہ عمرو جو کہ تاجر ہے معزز آدمی ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آیا؟ طریقہ سمجھ میں آ گیا بھئی اچھی طرح؟ چلیے بس بھئی، ”هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔
104 approved lectures · 34 of 104