Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

هداية النحو جديد · dars-020

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 19 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 41
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
فَصْلٌ: الْفَاعِلُ كُلُّ اسْمٍ قَبْلَهُ فِعْلٌ أَوْ صِفَةٌ أُسْنِدَ إِلَيْهِ عَلَى مَعْنَى أَنَّهُ قَامَ بِهِ لَا وَقَعَ عَلَيْهِ، نَحْوُ: قَامَ زَيْدٌ، وَزَيْدٌ ضَارِبٌ أَبُوهُ عَمْرًا، وَمَا ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا۔ گزشتہ سبق میں مرفوعات کی بحث ہم نے شروع کی تھی، یعنی وہ چیزیں جو عبارت میں، وہ اسماء جو عبارت میں آ جائیں تو ان پر رفع پڑھا جائے گا، ان کا ذکر ہوا تھا، اور مصنف نے آپ کو بتلایا تھا کہ مرفوعات جو ہیں وہ آٹھ قسم کے ہیں، اور ان میں سے پہلی قسم فاعل ذکر ہوئی تھی۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ مرفوعات وہ اسماء جن پر رفع آئے، اور رفع کبھی محلاً آتا ہے، کبھی لفظاً آتا ہے، کبھی تقدیراً آتا ہے۔ محلاً رفع جو ہے وہ مبنی میں آتا ہے، اور لفظاً اور تقدیراً یہ معرب کے اندر آتا ہے۔ وہ نو قسمیں ابھی جو مصنف نے غیر منصرف سے پہلے ذکر کی تھیں ان میں آپ نے پڑھا کہ بعض کا اعراب لفظاً ہے یعنی اس پر باقاعدہ ہم تلفظ کرتے ہیں، تلفظ کرنے سے ہی رفع، نصب، جر کا فرق ہو جاتا ہے، سننے والے کو پتہ چل جاتا ہے یہ اس وقت اس پر رفع پڑھ رہا ہے یا نصب پڑھ رہا ہے یا جر پڑھ رہا ہے۔ اور بعضوں کا اعراب ان میں سے تقدیراً تھا یعنی لفظوں کے اعتبار سے ان میں کوئی تبدیلی نہیں آتی تھی، البتہ تقدیراً ان میں تبدیلی آتی تھی یعنی فرض کر لیتے تھے ہم کہ اس میں تبدیلی آ رہی ہے، کہیں رفع آ رہا ہے، کہیں نصب آ رہا ہے، کہیں جر آ رہا ہے۔ تو رفع کتنی قسم پر آئے گا؟ کبھی محلاً ہوگا، کبھی لفظاً ہوگا، اور کبھی تقدیراً۔ محلاً کس کے اندر؟ مبنی کے اندر، اور معرب ہو تو پھر وہ لفظاً ہوگا یا تقدیراً، وہ آپ نے پھر غور کرنا ہے یہ نو قسموں میں سے کون سی قسم ہے۔ تو ان میں سے دیکھ کر آپ اعراب کا پتہ چلائیں گے کہ اس پر لفظاً اعراب آنا ہے یا تقدیراً آنا ہے۔ تو انہوں نے آپ کو بتلا دیا کہ مرفوعات آٹھ ہیں بھئی، ان کے نام انہوں نے گنوا دیے، اب ہر قسم کی تفصیل بیان کریں گے بھئی، مفصل بحث کریں گے ہر قسم کے بارے میں۔ تو سب سے پہلے وہ فاعل کے بارے میں بتلا رہے ہیں، کہتے ہیں: الْفَاعِلُ كُلُّ اسْمٍ قَبْلَهُ فِعْلٌ أَوْ صِفَةٌ أُسْنِدَ إِلَيْهِ عَلَى مَعْنَى أَنَّهُ قَامَ بِهِ لَا وَقَعَ عَلَيْهِ، کہ فاعل ہر ایسا اسم ہے جس سے پہلے ایسا فعل یا ایسی صفت ہو جس کا اسناد اس کی طرف ہو، اس معنی پر کہ وہ فعل یا صفت اس کے ساتھ قائم ہو، اس پر واقع نہ ہو۔ اب یہ ساری بھئی یہاں ترکیب کی باتیں آ گئیں، ترکیب بھی ہم بھئی ساتھ ساتھ کچھ نہ کچھ چلاتے رہیں گے اور اس طرح آپ کی مشق بھی ہوتی چلی جائے گی بھئی، انشاء اللہ کتاب کے اختتام تک اچھی خاصی ترکیب کا طریقہ آپ جان لیں گے۔ ترکیب بہت ضروری ہے بھئی، ترکیب آپ کو آتی ہے تو آپ کو کوئی بھی عربی کتاب دے دی جائے آپ بہترین عبارت پڑھ سکتے ہیں بھئی، حل کر سکتے ہیں اسے۔ یاد رکھیے بھئی: ہر فعلِ معروف کے لیے فاعل چاہیے، اور ہر فعلِ مجہول کے لیے نائب الفاعل چاہیے یعنی مَفْعُولُ مَا لَمْ يُسَمَّ فَاعِلُهُ چاہیے، اسی کا نام نائب الفاعل ہے۔ تو ہر فعل کے لیے یا فاعل چاہیے یا نائب الفاعل چاہیے، فعلِ معروف کے لیے فاعل چاہیے تو فعلِ مجہول کے لیے نائب فاعل۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ فعل آ جائے فعلِ معروف اور آگے فاعل نہ آئے، اسی طرح ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ فعلِ مجہول آ جائے اور آگے اس کا نائب الفاعل نہ آئے بھئی۔ اور پھر یہ جو فاعل ہے یا نائب الفاعل ہے، کبھی یہ ضمیر کی صورت میں ہوں گے اور کبھی اسمِ ظاہر ہوگا۔ مثلاً میں کہتا ہوں: ضَرَبَ، آگے کوئی اسم نہیں اور ضَرَبَ کے لیے تو فاعل چاہیے، تو اسی کے اندر ضمیر نکالتے ہیں: هُوَ، وہ اس کے لیے فاعل ہے۔ اور کبھی اسمِ ظاہر آگے آ جاتا ہے: ضَرَبَ زَيْدٌ، اب یہ زَيْدٌ فاعل ہے اور ضَرَبَ کے اندر کوئی ضمیر نہیں ہے، کیونکہ اس کے لیے ایک فاعل چاہیے تھا اور وہ آگے اسمِ ظاہر آ گیا تو اب اس کے اندر ضمیر نہیں، فاعل ایک ہی آئے گا، دو یا تین نہیں آ سکتے، جب ایک فاعل آگے آ رہا ہے اسمِ ظاہر تو پھر ضمیر نہیں ہے اس کے اندر۔ اچھا بھئی اسمِ ضمیر اور اسمِ ظاہر آیا، میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ کچھ تو ضمیریں ہیں جو آپ نے پڑھی ہیں: هُوَ، هُمَا، هُمْ، هِيَ، هُمَا، هُنَّ وغیرہ، أَنَا، نَحْنُ، أَنْتَ، أَنْتُمَا، أَنْتُمْ، یہ ضمیریں ہیں، اور جو اسم ضمیر نہیں اس کو کہیں گے اسمِ ظاہر ہے۔ تو اسمِ ظاہر ضمیر کے مقابلے میں ہے، جو ضمیر نہیں وہ کیا ہے؟ اسمِ ظاہر ہے، اور جو اسمِ ظاہر نہیں وہ کیا ہوگا؟ ضمیر ہوگی۔ اب آپ مجھے بتائیے: نَحْنُ ضمیر ہے یا اسمِ ظاہر ہے؟ ضمیر ہے، شاباش! أَنْتَ ضمیر ہے یا اسمِ ظاہر ہے؟ ضمیر ہے۔ كِتَابٌ ضمیر ہے یا اسمِ ظاہر ہے؟ اسمِ ظاہر ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ضمیر اور اسمِ ظاہر کا فرق سمجھ میں آ گیا؟ تو ہر فعل کے لیے فاعل یا نائب فاعل ضرور چاہیے، اور وہ فاعل یا نائب فاعل ضمیر بھی ہو سکتی ہے اور اسمِ ظاہر بھی۔ اگر ضمیر فاعل ہے تو پھر اسمِ ظاہر فاعل نہیں آ سکتا، اور اگر اسمِ ظاہر فاعل ہے تو ضمیر فاعل نہیں آ سکتی، کیونکہ ایک فاعل ہے۔ اور فاعل یا نائب فاعل یہ دونوں مرفوع ہوا کرتے ہیں، فاعل پر بھی رفع آئے گا اور نائب الفاعل پر بھی کیا آئے گا؟ رفع۔ جب آپ کو کوئی بتلا دے کہ یہ فاعل ہے ساتھ ہی آپ ایک اور بات فوراً سمجھ جائیں کہ اس پر رفع پڑھنا ہے۔ جب آپ کو کوئی بتا دے یہ نائب الفاعل ہے فوراً آپ سمجھ گئے کہ اس پہ کون سا اعراب پڑھنا ہے؟ رفع پڑھنا ہے، کیونکہ نائب الفاعل بھی مرفوعات میں سے ہے انہوں نے آپ کو بتلایا بھئی۔ تو گویا ہر فعل کے لیے فاعل یا نائب فاعل ضرور چاہیے، کیا کبھی ایسا ہو سکتا ہے کہ فعل آ جائے اور فاعل یا نائب فاعل نہ آئے؟ نہیں، ایسا کبھی بھی نہیں، جب بھی فعل آئے گا وہ ہمیشہ کس کا تقاضا کرے گا؟ فاعل یا نائب فاعل کا، فعلِ معروف ہے تو فاعل کا تقاضا کرے گا، فعلِ مجہول ہے تو نائب فاعل کا تقاضا کرے گا۔ آسان لفظوں میں یوں کہو کہ فعل ہر حال میں ایک اسم کو رفع دینا چاہتا ہے، فعل ہر حال میں ایک اسم کو رفع دینا چاہتا ہے، اور جس اسم کو یہ رفع دے وہ اس کا فاعل کہلاتا ہے اگر یہ فعلِ معروف ہے، اور اگر اس نے اسم کو رفع تو دیا ہے لیکن یہ فعلِ مجہول ہے تو پھر اس کو اس کا نائب الفاعل کہتے ہیں۔ تو معلوم ہوا فعلِ معروف بھی ایک اسم کو رفع دے گا، فعلِ مجہول بھی ایک اسم کو رفع دے گا، فعلِ معروف میں وہ جس کو رفع دے اسے اس کا فاعل کہیں گے اور فعلِ مجہول میں جس کو وہ رفع دے اسے اس کا نائب الفاعل کہیں گے، بات سمجھ میں آ گئی۔ اور یہ فاعل اور نائب فاعل ضمیر بھی ہو سکتے ہیں اور اسمِ ظاہر بھی۔ ضمیر فاعل یا نائب فاعل آ گئی تو پھر آگے اسمِ ظاہر نہیں آئے گا، اور اگر اسمِ ظاہر فاعل یا نائب فاعل آ رہا ہے تو پھر فعل کے لیے فاعل یا نائب فاعل کی ضمیر نکالنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تو فعل کا فاعل ضمیر بھی آ سکتی ہے اور اسمِ ظاہر بھی آ سکتا ہے۔ دیکھیے: ضَرَبَ زَيْدٌ، کوئی آپ سے پوچھے ترکیب کرو، کیا ترکیب کریں گے؟ ضَرَبَ فعل، زَيْدٌ فاعل، اعراب بھی بتانا ہے آپ نے، ہر اسم کا اعراب نکالتے جائیں پوری عبارت حل ہو جاتی ہے۔ آپ عبارت پڑھ رہے ہیں، جو اسم آتا جائے اس کا کیا کرتے جائیں؟ اعراب نکالتے جائیں: اس کا رفع ہے، نصب ہے یا جر۔ تو لہٰذا ضَرَبَ زَيْدٌ اس کی آپ ترکیب کر رہے تھے: ضَرَبَ فعل، زَيْدٌ مرفوع، پھر مرفوع، منصوب، مجرور جو بھی آپ نے بیان کرنا ہے پھر بتاؤ یہ محلاً ہے یا لفظاً ہے یا تقدیراً ہے؟ مرفوع لفظاً، شاباش! زَيْدٌ دیکھو رفع پر میں تلفظ کر رہا ہوں، سننے سے ہی آپ کو پتہ چل رہا ہے: زَيْدًا اب میں کس پر تلفظ کر رہا ہوں؟ نصب پر، زَيْدٍ اب میں کس پر تلفظ کر رہا ہوں؟ جر پر، دیکھو سننے سے ہی آپ کو پتہ چلتا جا رہا ہے، یہ ہے اعرابِ لفظی۔ تو ضَرَبَ زَيْدٌ کی پھر ترکیب کریں: ضَرَبَ فعل، زَيْدٌ مرفوع لفظاً فاعل، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ۔ اب آپ سے کوئی کہے: ضَرَبَ زَيْدٌ، ضَرَبَ فعل، هُوَ ضمیر اس کے اندر اس کا فاعل، آپ فوراً کہیں: نہیں بھئی نہیں، اس کے اندر ضمیر نہیں ہو سکتی، کیونکہ آگے ایک اسمِ ظاہر آ رہا ہے، اور فعل نے ایک ہی اسم کو رفع دینا ہوتا ہے، جب آگے اسمِ ظاہر کو یہ رفع دے رہا ہے وہ اس کا فاعل ہے تو پھر اس کے اندر ضمیر نہیں نکالیں گے ورنہ تو کتنے فاعل بن جائیں گے؟ دو، اور دو تو فاعل نہیں ہو سکتے، ایک ہی فاعل ہوگا، عطف کے ذریعے ہو سکتے ہیں: ضَرَبَ زَيْدٌ وَعَمْرٌو وَبَكْرٌ، لیکن وہ بھی دراصل وہ عطف کے ذریعے ایک ہی بن جاتے ہیں، ان میں آپس میں پہلے عطف ہوتا ہے اور پھر وہ فاعل بنتے ہیں تو فاعل ایک ہی ہوتا ہے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو فعل کا فاعل یا نائب فاعل جو ہے وہ ایک اسم ہوگا جس کو وہ رفع دے گا، اور آپ کو میں نے ابھی بتایا فعلِ معروف کس کو رفع دے گا؟ فاعل کو، فعلِ مجہول کس کو رفع دے گا؟ نائب فاعل کو۔ وہ بھی اسی طرح ہے مثلاً: ضُرِبَ عَمْرٌو، ترکیب کریں گے بھئی، کیا ترکیب ہوگی؟ آپ بتائیے بھئی: ضُرِبَ فعلِ مجہول، عَمْرٌو نائب فاعل، اعراب بھئی: مرفوع لفظاً، شاباش! ضُرِبَ فعلِ مجہول، عَمْرٌو مرفوع لفظاً نائب الفاعل، فعل اپنے نائب الفاعل سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ ترکیب سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ ترکیب بہت آسان ہے، بس تھوڑی سی آپ ذرا توجہ رکھیں، یہ جو باتیں میں آپ کو بتا رہا ہوں ان کا تکرار کرتے رہیں انشاء اللہ آپ دیکھیں گے ترکیب تو کوئی مشکل ہے ہی نہیں بھئی۔ اچھا حاصلِ کلام کیا ہوا؟ ہر فعل کے لیے فاعل یا نائب فاعل کا ہونا ضروری ہے، فعل آ جائے اور فاعل یا نائب فاعل نہ آئے ایسا کبھی بھی نہیں ہو سکتا، جب بھی فعل آئے گا وہ ہمیشہ کس کا تقاضا کرے گا؟ فاعل یا نائب فاعل کا۔ فاعل کا تقاضا کون سا فعل کرے گا؟ فعلِ معروف، نائب الفاعل کا تقاضا کون سا کرے گا؟ فعلِ مجہول بھئی۔ اور یہ فاعل یا نائب فاعل ضمیر بھی ہو سکتی ہے اور اسمِ ظاہر بھی۔ ضَرَبَ اس کے اندر کیا فاعل ہے؟ هُوَ، اور ضُرِبَ اس کے اندر نائب الفاعل کیا ہے؟ اس میں بھی هُوَ ہے۔ اب ایک اور بات یاد رکھنا: فاعل یا نائب فاعل جس کو فعل نے رفع دینا ہے وہ ہمیشہ فعل کے بعد آئیں گے، کبھی بھی فعل پر مقدم نہیں ہو سکتے۔ اگر ایک اسم فعل پر مقدم ہے اور کوئی آپ سے کہتا ہے کہ یہ جو بعد میں فعل آ رہا ہے یہ اس کے لیے فاعل ہے، نہیں بھئی ایسا نہیں، فاعل یا نائب فاعل ہمیشہ کس کے بعد آئیں گے؟ فعل کے بعد آئیں گے، فعل پر مقدم نہیں ہو سکتے، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ فعل جب بھی آئے گا وہ ایک اسم کو رفع دے گا اور وہ اسم اس کا فاعل یا نائب الفاعل کہلائے گا، اور وہ فاعل اور نائب فاعل ہمیشہ فعل کے بعد ہوں گے، کبھی بھی فعل پر مقدم نہیں ہو سکتے۔ اگر ایک اسم فعل پر مقدم ہے وہ کچھ اور تو ترکیب میں بن سکتا ہے فاعل یا نائب فاعل نہیں بن سکتا۔ مثلاً اب وہی ترکیب، پہلے ترکیب تھی: ضَرَبَ زَيْدٌ، ضَرَبَ زَيْدٌ، اب اسی ترکیب کو ذرا الٹ دیں: زَيْدٌ ضَرَبَ، پہلے کیا تھا؟ ضَرَبَ زَيْدٌ، اس میں زید کیا تھا؟ فاعل تھا، مرفوع لفظاً تھا۔ اب دوسری ترکیب ہے: زَيْدٌ ضَرَبَ، آپ سے کوئی پوچھے اس زَيْدٌ ضَرَبَ کی ترکیب کرو، آپ کیسے ترکیب کریں گے؟ ہاں اب یہ زَيْدٌ مرفوع ہے لیکن یہ مبتدا بن رہا ہے، یہ ضَرَبَ کا فاعل نہیں کیونکہ فاعل جو ہے کبھی بھی فعل پر مقدم نہیں ہوتا، یہ تو مقدم ہو رہا ہے، تو ترکیب یوں ہوگی: زَيْدٌ مرفوع لفظاً مبتدا، آپ نے پڑھا یہ جو آٹھ قسمیں انہوں نے آپ کو مرفوعات کی گنوائیں ان میں ایک مبتدا بھی تھا وہ بھی کیا ہوتا ہے؟ مرفوع ہوتا ہے، تو یہاں کیسے پڑھیں گے؟ زَيْدٌ مرفوع لفظاً مبتدا، آپ سے کوئی پوچھ لے مرفوع کیوں ہے یہ؟ آپ فوراً کیا کہیں گے؟ مبتدا ہے، مبتدا ہمیشہ مرفوع ہوتا ہے۔ آپ سے کوئی پوچھ لے یہ لفظاً آپ نے کیوں کہا؟ آپ فوراً کہیں گے: اس کے رفع پر میں تلفظ کر رہا ہوں: زَيْدٌ، نصب ہوتا تو میں پڑھتا: زَيْدًا، جر ہوتا تو میں پڑھتا: زَيْدٍ، تو اس کا اعراب لفظی ہے، یہ نو قسموں میں سے کیا ہے؟ مفرد منصرف صحیح ہے بھئی جس کا اعراب تینوں حالتوں میں لفظی ہوتا ہے۔ تو اب ترکیب ہم کر رہے تھے زَيْدٌ ضَرَبَ کی: زَيْدٌ مرفوع لفظاً مبتدا، آگے ترکیب کیسے ہوگی؟ ضَرَبَ فعل، خبر تو بنے گی لیکن پہلے اس کی اپنی ترکیب تو کریں بھئی: ضَرَبَ فعل، آگے؟ شاباش! اس کے اندر هُوَ ضمیر، اس ضمیر کا بھی اعراب مجھے بتا دو: اس کے اندر هُوَ ضمیر آ گئی اس کا اعراب بتاؤ: مرفوع، کیوں مرفوع بھئی؟ وہ فاعل بن رہا ہے بھئی، هُوَ ضمیر جو اس کے اندر ہے وہ فاعل ہے، اور آپ نے ابھی پڑھا کہ فاعل پر ہمیشہ رفع پڑھتے ہیں وہ مرفوع ہوتا ہے۔ اچھا مرفوع تو ہے، کون سا مرفوع ہے هُوَ ضمیر؟ محلاً، شاباش! تو ضَرَبَ فعل، هُوَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، اب آپ سے کوئی پوچھ لے یہ هُوَ ضمیر مرفوع کیوں؟ آپ فوراً کیا جواب دیں گے؟ کیونکہ یہ فاعل ہے اور فاعل پر ہمیشہ رفع پڑھتے ہیں وہ مرفوع ہوتا ہے، اور کوئی آپ سے پوچھ لے یہ محلاً کیوں کہا آپ نے؟ آپ فوراً کیا کہیں گے؟ کیونکہ یہ مبنی ہے اور مبنی کا اعراب لفظاً نہیں ہوتا بلکہ محلاً ہوتا ہے۔ تو دوبارہ سنو: زَيْدٌ ضَرَبَ، زَيْدٌ مرفوع لفظاً مبتدا، ضَرَبَ فعل، هُوَ ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ اچھا یاد رکھو یہ جو ضمیر ہوتی ہے نا ضمیر غائب کی، اس کا مرجع دیکھنا پڑتا ہے، یہ کس کو لوٹ رہی ہے؟ هُوَ وہ، بھئی یہ وہ سے کون مراد ہے؟ مرجع چاہیے بھئی، کس کی طرف اشارہ ہے؟ اس کو مرجع کہتے ہیں جس کی طرف اشارہ ہو، سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو ضمیریں آپ نے پڑھا ہے تین قسم کی ہیں: کچھ غائب کی ضمیریں ہیں: هُوَ، هُمَا، هُمْ، هِيَ، هُمَا، هُنَّ، یہ غائب کی ضمیریں ہیں، کچھ مخاطب کی ضمیریں ہیں: أَنْتَ، أَنْتُمَا، أَنْتُمْ، أَنْتِ، أَنْتُمَا، أَنْتُنَّ، اور کچھ متکلم کی ضمیریں ہیں: أَنَا اور نَحْنُ وغیرہ بھئی۔ تو یاد رکھنا یہ جو تین قسم کی ضمیریں ہیں غائب کی، مخاطب کی اور متکلم کی، ان میں سے صرف غائب کی ضمیر کا مرجع ہوتا ہے، مخاطب اور متکلم کی ضمیر کا مرجع نہیں ہوتا۔ کس کا مرجع ہوتا ہے؟ غائب کی، کیوں؟ کیونکہ غائب کی ضمیر کا معنی ہے وہ، بھئی کون وہ؟ پتہ چلنا چاہیے زید مراد ہے، عمر مراد ہے، بکر مراد ہے، کون مراد ہے بھئی اس سے؟ کیا چاہیے اس کے لیے؟ مرجع چاہیے، کس طرف کو یہ ضمیر لوٹ رہی ہے، کس کی طرف اشارہ ہو رہا ہے؟ جبکہ مخاطب اور متکلم کی ضمیر کا مرجع نہیں تلاش کیا جاتا، کیوں؟ کیونکہ متکلم تو وہ ہوتا ہے جو بات کرنے والا ہے، مخاطب وہ ہے جو اس کے سامنے موجود ہے، تو جب بات کرنے والا اور جس سے بات کی جا رہی ہے دونوں آمنے سامنے موجود ہیں تو یہاں پر میں کہتا ہوں: أَنَا، میں بات کر رہا ہوں اور میں أَنَا کہتا ہوں کیا اس أَنَا میں کوئی شک اور شبہ ہے کہ اس سے کون مراد ہے؟ نہیں، یہ تو بات کرنے والا ہی مراد ہے جو بات کر رہا ہے، اور أَنْتَ سے جو میرے سامنے بیٹھا ہوا ہے جس سے میں بات کر رہا ہوں وہ مراد ہے، اس میں بھی کسی قسم کا شک اور شبہ نہیں۔ تو متکلم اور مخاطب کی ضمیر کا مرجع نہیں ہوتا اس لیے کیونکہ وہاں کسی قسم کا اشتباہ نہیں ہوتا، متکلم خود بات کرنے والا ہے سب کو پتہ ہے یہ متکلم ہے، أَنَا سے یہی مراد ہے، مخاطب جو اس کے سامنے ہے وہ اس سے مراد ہے، ہاں البتہ هُوَ ضمیر وہ، بھئی کون وہ؟ اس کے لیے مرجع چاہیے۔ تو ضمیریں کتنی قسم کی؟ تین: ایک غائب کی، مخاطب کی اور متکلم کی، اور مرجع صرف کس کا ہوتا ہے؟ غائب کی ضمیر کے لیے مرجع چاہیے، مخاطب اور متکلم کی ضمیر کے لیے مرجع تلاش کرنے کی ضرورت نہیں بھئی، ان کے لیے مرجع نہیں ہوتا۔ اچھا ہم ترکیب کر رہے تھے زَيْدٌ ضَرَبَ کی: زَيْدٌ مرفوع لفظاً مبتدا، ضَرَبَ فعل، اس کے اندر هُوَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو لوٹ رہی ہے زَيْدٌ کو، کس کو لوٹ رہی ہے؟ زَيْدٌ کو لوٹ رہی ہے، اور پھر ضَرَبَ فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ، فعل اپنے فاعل یا نائب فاعل سے مل کر ہمیشہ جملہ بنتا ہے، تو ضَرَبَ فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر یہ خبر ہوئی مبتدا کی، خبر ہوئی، تو دیکھو پورا جملہ خبر بن رہا ہے، پورا جملہ۔ اب آپ سے کوئی پوچھے یہ جو ضَرَبَ ہے اس کا کیا اعراب ہے؟ آپ کیا کہیں گے؟ یہ پورا جملہ خبر بن رہا ہے اور خبر کا اعراب کیا ہوتا ہے؟ خبر بھی مرفوعات میں سے ہے تو آپ کہیں گے یہ جملہ مرفوع ہے، فعل نہیں کہنا فعل نہیں مرفوع، پورا جملہ مرفوع ہے۔ فعل اپنے فاعل وغیرہ سے مل کر جملہ بنے گا اور جملہ بن کے پھر وہ کیا ہوگا؟ مرفوع۔ تو اب آپ سے کوئی پوچھے یہ جو ضَرَبَ جملہ ہے اس کا اعراب کیا ہے؟ آپ فوراً کیا کہیں گے؟ مرفوع ہے۔ اب اگر وہ آپ سے پوچھ لیتا ہے کون سا مرفوع ہے: لفظاً ہے، تقدیراً ہے یا محلاً ہے؟ آپ کیا کہیں گے؟ جملے کا اعراب میں نے آپ کو بتایا تھا کہ جملہ مبنی ہے، جملہ کیا ہے؟ مبنی، میں نے آپ کو بتایا تھا کہ جملہ مبنیات میں سے ہے، حتیٰ کہ بعض علماء نے تو کہا کہ جملہ مبنی الاصل ہے، آپ نے پڑھا مبنی الاصل تین چیزیں ہیں: تمام حروف، فعلِ ماضی اور فعلِ امر، تو تین چیزیں ہیں دیکھو: حروف ہیں تمام اور فعلِ ماضی ہے اور فعلِ امر ہے، اس میں دیکھو جملے کا ذکر نہیں تو یہ تین مبنی الاصل ہیں، لیکن بعض علماء کہتے ہیں نہیں جملہ بھی کیا ہے؟ مبنی الاصل ہے، جبکہ دیگر علماء فرماتے ہیں نہیں جملہ مبنی تو ہے لیکن مبنی الاصل نہیں، جب یہ مبنی ہے تو اس کا اعراب کس طرح بتائیں گے؟ محلاً۔ لہٰذا زَيْدٌ ضَرَبَ کے اندر صرف یہ ضَرَبَ کا فعل نہیں خبر بن رہا بلکہ پورا جملہ یہ اپنے فاعل سے ملا اور پھر یہ خبر بنا، تو یہ جملہ ہوا اور جملے کا اعراب کیسے ہوتا ہے؟ محلاً ہوتا ہے، تو یہ پھر اس طرح مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ ترکیب سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ ترکیب بڑی دلچسپ چیز ہے بھئی، سیکھ لیں گے بڑی آسانی ہو جائے گی، بڑی آسانی بھئی۔ خلاصہ پھر سن لو، میں بار بار تکرار کرواؤں گا بھئی، خوب اچھی طرح ذہن نشین کر لو: آپ نے پڑھا ہر فعل کے لیے فاعل یا نائب فاعل چاہیے اور وہ فاعل یا نائب فاعل اس پر ہمیشہ کون سا اعراب آئے گا؟ رفع والا، اور وہ فاعل یا نائب فاعل جو ہے ضمیر بھی ہو سکتی ہے اور اسمِ ظاہر بھی ہو سکتا ہے، لیکن چاہیے ایک ہی فاعل یا نائب فاعل، دو تین نہیں، لہٰذا جب ایک فاعل کو اس فعل نے رفع دے دیا تو پھر آگے دوسرا فاعل نہیں آ سکتا، بات سمجھ میں آ گئی؟ عطف کے ذریعے آ سکتا ہے، بغیر عطف کے نہیں آتا بھئی۔ اور فاعل یا نائب فاعل ضمیر بھی ہو سکتی ہے اور اسمِ ظاہر بھی، اگر فاعل یا نائب فاعل ضمیر ہوئی تو پھر اسمِ ظاہر آگے فاعل یا نائب فاعل نہیں بنے گا، اور اگر فاعل یا نائب فاعل اسمِ ظاہر ہوا تو پھر ضمیر اس کے لیے نہیں نکالنی پڑے گی، اور پھر میں نے آپ کو یہ بات بھی بتائی کہ فاعل یا نائب فاعل ہمیشہ فعل کے بعد آتا ہے، کبھی بھی فعل پر مقدم نہیں ہو سکتا، اسی لیے آپ نے کہا: ضَرَبَ زَيْدٌ، ضَرَبَ فعل اور زَيْدٌ مرفوع لفظاً اس کے لیے فاعل، لیکن اسی زید کو جب میں نے مقدم کیا: زَيْدٌ ضَرَبَ، تو آپ نے اس کو پھر فاعل نہیں بنایا بلکہ کیا بنایا؟ مبتدا بنایا۔ تو مفعول وغیرہ فعل پر مقدم ہو جاتے ہیں لیکن فاعل یا نائب فاعل کبھی بھی فعل پر مقدم نہیں ہو سکتے، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اب مجھے بتائیے: ترکیب کر رہا ہے ایک طالب علم: ضَرَبَ زَيْدٌ، وہ کہتا ہے: ضَرَبَ فعل، هُوَ ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل، آپ فوراً کیا کہیں گے؟ کہ نہیں یہ ترکیب صحیح نہیں، کیوں نہیں صحیح؟ کیونکہ آگے زید ہے اس پر بھی آپ رفع پڑھ رہے ہیں اور رفع معلوم ہوا یہاں فعل نے دیا ہے اور تو کوئی لفظ ہے نہیں، جب فعل نے اس کو رفع دیا ہے فعل تو صرف اپنے فاعل یا نائب فاعل کو رفع دیتا ہے معلوم ہوا اس کو آپ فاعل بنا رہے ہیں، اور جب فاعل اس کو بنا دیا تو اب هُوَ ضمیر نہیں نکالیں گے، بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ اب ایک اور چھوٹی سی اور بات یاد رکھو: یاد رکھیے جس طرح فعل کے لیے ہمیشہ فاعل یا نائب فاعل چاہیے، اسی طرح صفت کے صیغے جو ہیں، صفت کے صیغے: اسمِ فاعل، اسمِ مفعول، صفتِ مشبہ، اسمِ تفضیل اور مبالغے کے صیغے، اسمِ فاعل جیسے ضَارِبٌ، اسمِ مفعول جیسے مَضْرُوبٌ، صفتِ مشبہ جیسے شَرِيفٌ، كَرِيمٌ، اسمِ تفضیل جیسے أَضْرَبُ، اور جو مبالغے کے صیغے ہیں مثلاً ضَرَّابٌ وغیرہ، یہ صفت کے صیغے ہیں: اسمِ فاعل، اسمِ مفعول، صفتِ مشبہ، اسمِ تفضیل اور مبالغے کے صیغے، جیسے فعل کے لیے فاعل یا نائب فاعل ضرور چاہیے، بغیر فاعل یا نائب فاعل کے فعل نہیں آ سکتا، اسی طرح یہ صفت کے صیغے بھی ہمیشہ فاعل یا نائب فاعل چاہیں گے، بغیر فاعل یا نائب فاعل کے یہ نہیں آئیں گے بھئی۔ بھئی ایک ہوتا ہے فاعل، ایک ہوتا ہے اسمِ فاعل، دونوں میں فرق ہے: فاعل وہ ہے جس کو فعل نے رفع دیا ہو آگے: ضَرَبَ زَيْدٌ، یہ زَيْدٌ کیا ہے؟ فاعل ہے، اسمِ فاعل نہیں، اسمِ فاعل، اسمِ مفعول وہ مخصوص وزن ہے جو آپ نے گردانوں میں پڑھا: ضَارِبٌ، یہ اسمِ فاعل ہے، ضَارِبٌ کیا ہے؟ اسمِ فاعل، اور ضَرَبَ زَيْدٌ، یہ زَيْدٌ کیا ہے؟ فاعل ہے، تو فرق سمجھ میں آیا؟ فاعل کیا ہوتا ہے جس کو فعل رفع دیتا ہے، اور اسمِ فاعل وہ مخصوص وزن جو کس میں پڑھا آپ نے؟ گردان میں، کون سا وزن؟ ضَارِبٌ۔ ایک ہوتا ہے مفعول، ایک ہوتا ہے اسمِ مفعول، اور مفعول وہ ہے جس کو فعل نصب دے: ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا، یہ عَمْرًا کیا ہے؟ مفعول ہے، اسمِ مفعول نہیں، اسمِ مفعول وہ مخصوص وزن کا نام ہے جو کس میں پڑھا آپ نے؟ گردانوں میں، کون سا وزن ہے؟ مَضْرُوبٌ، مَفْعُولٌ، تو فاعل اور اسمِ فاعل فرق سمجھ میں آ گیا؟ مفعول اور اسمِ مفعول فرق سمجھ میں آیا؟ ہاں تو اب میں فاعل یا مفعول کی بات نہیں کر رہا، میں اسمِ فاعل، اسمِ مفعول، صفتِ مشبہ، اسمِ تفضیل اور مبالغے کے صیغے، یہ صفت کے صیغے ہیں، اور یہ بھی اپنے فعل کی طرح عمل کرتے ہیں۔ ضَارِبٌ، ضَرَبَ سے بنا ہے اور ضَرَبَ ہمیشہ کس کا تقاضا کرتا تھا؟ فاعل کا، تو یہ ضَارِبٌ بھی فاعل کا تقاضا کرے گا، اس کے لیے بھی فاعل چاہیے، اور اسی کی طرح وہ فاعل کبھی ضمیر بھی ہو سکتی تھی اور کبھی اسمِ ظاہر بھی، یہاں بھی اس ضَارِبٌ کے لیے بھی فاعل چاہیے، وہ فاعل ضمیر بھی ہو سکتی ہے اسی کے اندر اور اسمِ ظاہر بھی ہو سکتا ہے، اور اس کے فاعل پر بھی رفع آئے گا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ جیسے ضَرَبَ کے فاعل پر کیا آتا تھا؟ رفع آتا تھا۔ اچھا تو اسمِ مفعول مثلاً مَضْرُوبٌ، یہ فعلِ مجہول سے بنتا ہے: ضُرِبَ سے، اور ضُرِبَ کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ نائب الفاعل، تو مَضْرُوبٌ کے لیے بھی ہمیشہ نائب الفاعل چاہیے۔ شَرِيفٌ صفتِ مشبہ ہے اس کے لیے بھی ہمیشہ کیا چاہیے؟ فاعل چاہیے۔ اسمِ تفضیل ہے: أَضْرَبُ، اس کے لیے بھی ہمیشہ کیا چاہیے؟ فاعل چاہیے۔ اور مبالغے کے صیغے بھی اس کے لیے بھی ہمیشہ کیا چاہیے؟ فاعل چاہیے، بات سمجھ میں آ گئی۔ معلوم ہوا یہ صفت کے صیغے بھی اپنے فعل جیسا عمل کرتے ہیں جس فعل سے بنے ہوں گے، اگر یہ فعلِ معروف سے بنے ہیں تو ان کے لیے فاعل چاہیے، اگر فعلِ مجہول سے بنے ہیں تو اس کے لیے نائب الفاعل، بلکہ آسان لفظوں میں یوں کہو کہ اسمِ مفعول جو ہے ان میں سے اس کے لیے نائب الفاعل چاہیے اور باقی صفت کے صیغوں کے لیے فاعل چاہیے۔ اور فاعل جیسے فعل کا فاعل ضمیر بھی آ سکتی ہے اور اسمِ ظاہر بھی آ سکتا ہے، اسی طرح صفت کے صیغوں کا فاعل ضمیر بھی آ سکتی ہے اور اسمِ ظاہر بھی۔ مثلاً میں اب آپ سے ترکیب پوچھتا ہوں: زَيْدٌ ضَارِبٌ، ترکیب کریں: زَيْدٌ مرفوع لفظاً مبتدا، ضَارِبٌ مرفوع لفظاً صیغہ اسمِ فاعل، اور اسمِ فاعل کے لیے کیا چاہیے؟ فاعل چاہیے، تو اس کے آگے کوئی اسم آ رہا ہے؟ نہیں، آگے اسمِ ظاہر تو کوئی نہیں، اب اسی کے اندر کیا نکالنا پڑے گی؟ ضمیر، اسی کے اندر ضمیر: هُوَ ضمیر، اب اس ضمیر کا اعراب بتاؤ: مرفوع محلاً، مرفوع کیوں؟ کیونکہ وہ فاعل ہے ضَارِبٌ کے لیے، اور محلاً کیوں کہا آپ نے؟ کیونکہ مبنی ہے اس کا اعراب محلاً آتا ہے، اور یہ ضمیر کس کو لوٹ رہی ہے؟ زَيْدٌ کو لوٹ رہی ہے، دیکھو زید بھی مفرد مذکر، ضمیر هُوَ بھی کون سی ہے؟ مفرد مذکر، ضمیر اور مرجع میں دیکھو مطابقت بھی ہے، آپ نے یہ بھی غور کرنا ہے کہ ضمیر اور مرجع میں مطابقت۔ لہٰذا ضَارِبٌ صیغہ اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر، مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، بات سمجھ میں آ گئی؟ اس میں دیکھو ضَارِبٌ نے کس کو رفع دیا؟ ضمیر کو، کبھی یہ اسمِ ظاہر کو بھی رفع دے گا جیسے ضَرَبَ کرتا تھا: ضَرَبَ کبھی هُوَ ضمیر کو رفع دیتا تھا اور کبھی آگے آنے والے اسمِ ظاہر کو، یہ بھی اسی طرح کرے گا۔ دوسری ترکیب: زَيْدٌ ضَارِبٌ أَبُوهُ، زَيْدٌ ضَارِبٌ أَبُوهُ، اب کوئی آپ سے ترکیب پوچھے: زَيْدٌ مرفوع لفظاً مبتدا، ضَارِبٌ مرفوع لفظاً صیغہ اسمِ فاعل، خبر ہے، لفظاً اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں۔ آگے بھئی: أَبُوهُ، اب یاد رکھو جس اسم کے ساتھ بھی ضمیر آ جائے وہ آپس میں مضاف اور مضاف الیہ بنتے ہیں: أَبُوهُ دیکھو ہا ضمیر ساتھ ملی ہوئی ہے تو یہ کیا بن گئے؟ مضاف اور مضاف الیہ، ہاں أَبُو کا اعراب: مرفوع لفظاً مضاف، واؤ پر ہم باقاعدہ تلفظ کر رہے ہیں، اور ہا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ فاعل کس کے لیے؟ ضَارِبٌ کے لیے، اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر، مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ اب آپ سے کوئی پوچھے پہلے تو تھا زَيْدٌ ضَارِبٌ، آپ نے ضَارِبٌ میں هُوَ ضمیر نکالی تھی، اب ہے زَيْدٌ ضَارِبٌ أَبُوهُ، اب آپ سے کوئی کہے ضَارِبٌ کے اندر هُوَ ضمیر، آپ فوراً کیا کہیں گے؟ نہیں، فاعل ایک آیا کرتا ہے، جب یہ آگے أَبُو کو رفع دے رہا ہے وہ اس کا فاعل ہے تو اب ضَارِبٌ کے اندر کوئی ضمیر نہیں ہے بھئی ضَارِبٌ کے اندر۔ تو دیکھو اب مجھے بتاؤ أَبُوهُ، یہ أَبُو، اب اسمِ ظاہر ہے یا ضمیر ہے؟ اسمِ ظاہر ہے۔ تو زَيْدٌ ضَارِبٌ میں جو ضَارِبٌ آیا اس نے ضمیر کو رفع دیا تھا اور زَيْدٌ ضَارِبٌ أَبُوهُ میں ضَارِبٌ نے اسمِ ظاہر کو رفع دیا ہے، تو دیکھا یہ صفت کے صیغے بھی کس کی طرح عمل کرتے ہیں؟ اپنے فعل کی طرح، اگر جیسے فعل کبھی ضمیر کو رفع دیتا ہے اور کبھی اسمِ ظاہر کو، اسی طرح یہ بھی ضمیر کو کبھی رفع دیتے ہیں اور کبھی اسمِ ظاہر کو رفع دیتے ہیں، صورت سمجھ میں آ گئی۔ اب صرف دو چھوٹی چھوٹی ترکیبیں ذرا جلدی جلدی کر لیجیے بھئی: زَيْدٌ مَضْرُوبٌ، زَيْدٌ کا اعراب: مرفوع لفظاً مبتدا، مَضْرُوبٌ مرفوع لفظاً خبر، صیغہ اسمِ مفعول، مَضْرُوبٌ کے لیے کیا چاہیے؟ نائب الفاعل چاہیے، آگے کوئی لفظ ہے نائب الفاعل؟ نہیں، تو اسی کے اندر کیا نکالیں گے؟ هُوَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا نائب الفاعل، اسمِ مفعول اپنے نائب الفاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا: زَيْدٌ مَضْرُوبٌ، زید کی پٹائی کی گئی ہے۔ اب دوسری ترکیب کرو: زَيْدٌ مَضْرُوبٌ أَبُوهُ، اچھا پہلے وہ جو ایک ترکیب آئی تھی اس کا ترجمہ تو کر لیں: زَيْدٌ ضَارِبٌ کیا معنی تھا؟ زید پٹائی کرنے والا ہے، اور دوسرا تھا: زَيْدٌ ضَارِبٌ أَبُوهُ، اس کا کیا معنی ہوگا؟ زید کہ اس کا باپ پٹائی کرنے والا ہے، فرق سمجھ میں آیا بھئی؟ اب یہاں پر بھی: زَيْدٌ مَضْرُوبٌ، زید کہ اس کی پٹائی کی گئی ہے، اور زَيْدٌ مَضْرُوبٌ أَبُوهُ اس کا کیا معنی ہوگا؟ زید کہ پٹائی کی گئی ہے اس کے باپ کی، ترکیب سمجھ میں آ رہی ہے؟ زَيْدٌ مرفوع لفظاً مبتدا، مَضْرُوبٌ مرفوع لفظاً صیغہ اسمِ مفعول، أَبُو مرفوع لفظاً مضاف نائب الفاعل، اور ہا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر نائب الفاعل کس کے لیے؟ مَضْرُوبٌ کے لیے، تو اسمِ مفعول اپنے نائب الفاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر، مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ ترکیب سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ ہاں یہ آسان باتیں ہیں ترکیب کی کہ ہر فعل کے لیے فاعل یا نائب فاعل ضرور چاہیے، وہ فاعل یا نائب فاعل ضمیر بھی ہو سکتی ہے اور اسمِ ظاہر بھی ہو سکتا ہے، اور وہ ہمیشہ فعل کے بعد آئیں گے کبھی بھی فعل پر مقدم نہیں، جب فعل پر مقدم ہو گئے تو وہ کچھ اور تو بن سکتے ہیں فاعل یا نائب فاعل نہیں، اور صفت کے صیغے بھی اپنے فعل جیسا ہی عمل کرتے ہیں اور وہ بھی فاعل یا نائب فاعل کا تقاضا کرتے ہیں، اور وہ صفت کے صیغے کون سے ہیں؟ اسمِ فاعل ہے، اسمِ مفعول ہے، صفتِ مشبہ ہے، اسمِ تفضیل ہے اور مبالغے کے صیغے ہیں، ان میں سے اسمِ مفعول نائب الفاعل کا تقاضا کرتا ہے اور باقی سارے کس کا تقاضا کرتے ہیں؟ فاعل کا تقاضا کرتے ہیں۔ اور پھر میں نے آپ کو فرق بھی بتلایا کہ ایک ہوتا ہے فاعل، ایک ہے اسمِ فاعل، اور فاعل وہ ہے جس کو فعل یا صفت کا صیغہ کیا کرے؟ رفع دے، اور اسمِ فاعل وہ مخصوص وزن جو آپ نے گردانوں میں پڑھا ہے۔ اسی طرح ایک ہے مفعول اور ایک ہے اسمِ مفعول، اور مفعول کسے کہتے ہیں؟ جسے فعل یا صفت کا صیغہ نصب دے، صرف فعل نصب دیتا ہے یا صفت کے صیغے بھی اسی طرح نصب دیتے ہیں؟ صفت کے صیغے بھی، صرف فعل رفع دیتا ہے یا صفت کے صیغے بھی اسی طرح رفع دیتے ہیں؟ صفت کے صیغے بھی۔ اسی لیے میں نے کہا فاعل وہ ہے کہ جس کو فعل یا صفت کا صیغہ رفع دے، اور مفعول وہ ہے جس کو فعل یا صفت کا صیغہ نصب دے، اور اسمِ فاعل کیا ہے؟ وہ مخصوص وزن جو کس میں پڑھا ہم نے؟ گردان میں، وہ مخصوص صیغہ، اور اسمِ مفعول کسے کہتے ہیں؟ وہ مخصوص صیغہ جو کس میں پڑھا ہم نے؟ گردان میں پڑھا بھئی۔ چلیے بس بھئی، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
104 approved lectures · 20 of 104