وَكُلُّ مَا لَا يَنْصَرِفُ إِذَا أُضِيفَ أَوْ دَخَلَهُ اللَّامُ فَدَخَلَهُ الْكَسْرَةُ، نَحْوُ: مَرَرْتُ بِأَحْمَدِكُمْ، وَبِالْأَحْمَدِ۔ الْمَقْصَدُ الْأَوَّلُ فِي الْمَرْفُوعَاتِ: الْأَسْمَاءُ الْمَرْفُوعَاتُ ثَمَانِيَةُ أَقْسَامٍ: الْفَاعِلُ، وَمَفْعُولُ مَا لَمْ يُسَمَّ فَاعِلُهُ، وَالْمُبْتَدَأُ، وَالْخَبَرُ، وَخَبَرُ إِنَّ وَأَخَوَاتِهَا، وَاسْمُ كَانَ وَأَخَوَاتِهَا، وَاسْمُ مَا وَلَا الْمُشَبَّهَتَيْنِ بِلَيْسَ، وَخَبَرُ لَا الَّتِي لِنَفْيِ الْجِنْسِ۔
گزشتہ سبق میں اسبابِ منعِ صرف کا بیان چل رہا تھا، اور اس کے بعد آخر میں انہوں نے آپ کو بتلایا کہ ایک اسم جو غیر منصرف ہو اس کو پھر منصرف کیسے بنائیں گے؟ اس کو منصرف کیسے بنایا جا سکتا ہے؟ تو انہوں نے آپ کو بتلایا کہ جہاں ایک سبب علمیت ہو، جس اسم میں دو اسبابِ منعِ صرف میں سے ایک سبب کیا ہو؟ علمیت ہو، تو اس میں سے اگر اس علمیت کو ختم کر دیا جائے تو اس صورت میں پھر وہ لفظ جو ہے منصرف بن جائے گا، منصرف بن جائے گا۔
لیکن اس میں پھر دو صورتیں تھیں: بعض میں علمیت کی شرط تھی، بعض میں علمیت کی شرط نہیں تھی، ویسے علمیت ایک سبب کے ساتھ جمع ہو جاتی تھی۔ تو جن میں علمیت شرط تھی اس میں سے بھی علمیت کو ختم کریں گے وہ منصرف بن جائے گا، جس میں علمیت شرط نہیں تھی اس میں سے بھی علمیت کو ختم کریں گے تو وہ بھی منصرف بن جائے گا، لیکن دونوں میں فرق یہ ہوگا کہ وہ جن میں علمیت شرط تھی جب آپ نے اس میں سے علمیت ختم کر دی تو علمیت کے ساتھ وہ دوسرا سبب بھی ختم ہوا، اب وہ مؤثر نہ رہا، تو وہ لفظ منصرف ہے اور اس وقت اس میں ایک بھی سبب غیرِ انصراف کا نہیں ہے۔ اور وہ جن میں علمیت شرط نہیں تھی البتہ علمیت جمع ہو گئی تھی ایک اور سبب کے ساتھ، اس میں سے جب علمیت ختم کریں گے تو وہ لفظ منصرف بن جائے گا لیکن اب بھی اس میں غیرِ انصراف کا ایک سبب باقی ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
اور اس کی مثال انہوں نے ذکر کی تھی مثلاً علمیت کیسے ختم کرتے ہیں؟ بھئی دیکھیے علم جو ہوتا ہے وہ ذاتِ معین پر دلالت کرتا ہے، آپ اگر دو، چار یا چھ کا نام اکٹھا ہی مثلاً طلحہ رکھ دیتے ہیں تو معلوم ہوا اب طلحہ میں علمیت نہیں ہے۔ اس لیے کیونکہ علم تو وہ ہے جو ایک معین ذات پر دلالت کرتا ہے، جیسے ہی اس کا نام لیں فوراً وہ ذہن میں آ جائے، لیکن یہاں جب آپ نے چار چھ کا نام طلحہ رکھا ہے اب میں آپ سے کہوں طلحہ آیا، کوئی آپ کو پتہ چلا ان میں سے کون سا والا آیا ہے؟ نہیں، تو دیکھو یہ معین ذات پر اب دلالت نہیں کر رہا، جب معین ذات پر دلالت نہیں کر رہا معلوم ہوا علمیت ختم ہو چکی ہے، کیونکہ علم تو وہ ہوتا ہے جو معین ذات پر دلالت کرتا ہے، اسی لیے انہوں نے کہا اس کی مثال کیا ذکر کی؟ جَاءَنِي طَلْحَةٌ آخَرُ، یہ آخر کا لفظ لا کر بتلا دیا کہ یہ ایک کا نام نہیں، کئیوں کا نام ہے، جماعت کا ایک نام ہے، میرے پاس دوسرا طلحہ آیا تھا، معلوم ہوا اور بھی کوئی طلحہ ہے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
اب آگے دیکھیے مصنف فرماتے ہیں: وَكُلُّ مَا لَا يَنْصَرِفُ إِذَا أُضِيفَ أَوْ دَخَلَهُ اللَّامُ فَدَخَلَهُ الْكَسْرَةُ، اور ہر وہ اسم جو غیر منصرف ہوتا ہے إِذَا أُضِيفَ جب اس کی اضافت کر دی جائے أَوْ دَخَلَهُ اللَّامُ یا اس پر لامِ تعریف یعنی الف لام داخل ہو جائے فَدَخَلَهُ الْكَسْرَةُ تو اس پر کسرہ داخل ہو جائے گا۔
بھئی یاد رکھیے: غیر منصرف کی جب اضافت کر دی جائے یعنی مضاف بنایا جائے، مضاف الیہ نہیں بلکہ مضاف، جب اس کو مضاف بنا دیا جائے یا غیر منصرف پر جب الف لام داخل ہو جائے تو پھر اس صورت میں اس پر کسرہ داخل ہو جاتا ہے۔ حالانکہ غیر منصرف پر تو کسرہ داخل نہیں ہوتا تھا، لیکن جب اس کی اضافت ہو جائے یا الف لام داخل ہو جائے تو اس پر پھر کسرہ بھی آ سکتا ہے۔ تو اب کسرہ آ گیا، تنوین تو آ نہیں سکتی کیونکہ مضاف پر تنوین نہیں آتی، اضافت کی وجہ سے تنوین ویسے ہی گر جاتی ہے تو تنوین تو نہیں آ سکتی، اور الف لام کی وجہ سے بھی تنوین گر جاتی ہے، تو غیر منصرف پر یہی دو چیزیں نہیں آتی تھیں نا: ایک کسرہ نہیں آتا تھا اور ایک تنوین نہیں آتی تھی۔ تنوین تو ابھی بھی نہیں آئے گی کیونکہ مضاف پر تنوین نہیں آتی اور جو معرف باللام ہوتا ہے اس پر بھی تنوین نہیں آتی، البتہ کسرہ اس پر آ جائے گا اگر ماقبل میں کوئی حرفِ جر ہو تو پھر اس پر کسرہ آ جائے گا۔
اب سوال پیدا یہ ہوتا ہے: کیا یہ منصرف بن گیا جب اس پر الف لام آیا یا اس کی اضافت کر دی تو کیا یہ منصرف بن گیا ہے اب؟ تو اس میں علماء کا اختلاف ہے، بعض علماء فرماتے ہیں: ہاں یہ منصرف بن گیا، کیا بن گیا؟ منصرف۔ جبکہ بعض کہتے ہیں: نہیں، منصرف نہیں بنا، ہے اب بھی غیر منصرف، لیکن منصرف کے حکم میں آ گیا، وہی منصرف والا حکم اس پر لگ گیا، کیا حکم لگا؟ منصرف پر کسرہ آتا تھا اس پر بھی کیا آ گیا؟ کسرہ آ گیا، صورت سمجھ میں آ گئی؟
بھئی اس کی وجہ کیا ہے کہ جب غیر منصرف مضاف بن جائے یا معرف باللام بن جائے تو اس پر کسرہ آ جاتا ہے؟ پہلے کسرہ نہیں آ سکتا تھا اور یہ دو چیزیں آ جائیں تو پھر کسرہ آ جائے گا، اس کی کیا وجہ ہے؟ تو یاد رکھنا: تو سب سے پہلے یہ یاد رکھو کہ یہ اضافت اور الف لام یہ اسم کے بڑے خاصے ہیں، یہ اسم کے بڑے خاصے ہیں۔ آپ نے اسم کے بہت سے خاصے کتاب کی ابتدا میں پڑھے بھئی: اسم کے بہت سے خاصے پڑھے مثلاً اضافت ہے، لامِ تعریف ہے، جر کا داخل ہونا، تنوین کا اس پر آنا، اس کی تثنیہ ہونا، اس کی جمع بننا، اس کی صفت، تصغیر وغیرہ، یہ سارے کس کے خاصے تھے؟ اسم کے خاصے تھے۔ تو یاد رکھیے ان سارے خاصوں میں سے اضافت اور الف لام کا داخل ہونا یہ اسم کے بڑے خاصے ہیں، ان سب میں سے اضافت اور الف لام کیا ہیں؟ اسم کے بڑے خاصے ہیں، ان کو اسم کے بڑے خاصے کہا جاتا ہے۔
سوال پیدا ہوتا ہے: یہ اسم کے بڑے خاصے کیوں ہیں؟ تو علمائے نحو فرماتے ہیں کہ وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ اضافت اور الف لام مدلولِ اسم کو بدل دیتے ہیں، اس لیے اسم کے بڑے خاصے کہلاتے ہیں۔ کون دو بڑے خاصے کہلاتے ہیں؟ اضافت اور الف لام، یہ اسم کے بڑے خاصے کہلاتے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے یہ بڑے خاصے کیوں کہلاتے ہیں؟ تو وہ جواب دیتے ہیں کہ یہ کیا کرتے ہیں؟ مدلولِ اسم کو بدل دیتے ہیں۔ مدلول جس پر اسم دلالت کر رہا ہو، مثلاً میں نے کہا: زید، آپ کے ذہن میں کون سا ساتھی آیا ہے جس کا کیا نام ہے؟ زید، تو وہ جو اس کی ذات ہے وہ ہوئی مدلول، جیسے ہی میں زید کہوں گا اس نے اس پر دلالت کر دی آپ کے ذہن میں فوراً آ گیا۔ یا مثلاً میں کہتا ہوں: قلم، دیکھو قلم کی فوراً آپ کے ذہن میں صورت آ گئی، تو لفظِ قلم ہوا دال، دلالت کر رہا ہے، اور کس پہ کر رہا ہے؟ وہ جو قلم جس کے ذریعے لکھتے ہیں اس پر کر رہا ہے تو وہ کیا ہوا؟ مدلول، جس پر وہ دلالت کرے، جس پر کیا کرے؟ دلالت کرے۔ تو علماء فرماتے ہیں کہ یہ مدلولِ اسم کو بدل دیتا ہے جس پر اسم دلالت کر رہا ہوتا ہے۔
مثلاً دیکھیے مثال سے وضاحت ہوگی: مثلاً میرے پاس پانچ غلام سامنے کھڑے ہیں، میں نے کہا: غُلَامٌ، دیکھو اس لفظِ غلام پہلے فرد پر بھی بولا جا رہا ہے، سارے پانچوں غلام ہیں نا تو پہلا بھی کیا ہے؟ غلام، دوسرا ہے اس کو بھی یہ کہا جا سکتا ہے: غُلَامٌ، کیونکہ وہ بھی کیا ہے؟ غلام، تیسرے کو بھی کیا کہا جا سکتا ہے؟ غلام، چوتھے کو بھی غلام، پانچویں کو بھی غلام، تو معلوم ہوا دیکھو غلام کے مدلول یہ سارے افراد غلام کا مدلول ہیں، غلام ان سب پر کیا کر رہا ہے؟ دلالت کر رہا ہے، پہلا بھی مراد ہو سکتا ہے، دوسرا بھی، تیسرا بھی، چوتھا بھی اور پانچواں بھی، کیونکہ ان میں سے ہر ایک کیا ہے؟ غلام۔
اب دیکھنا مدلول بدل جائے گا: میں اضافت کر دیتا ہوں: غُلَامُ زَيْدٍ، زید کا غلام، اور ان پانچ میں سے زید کا غلام تو صرف ایک ہے، تو لہٰذا اب دیکھو غلام پانچوں میں سے ہر ایک پر بولا جا سکتا تھا لیکن غُلَامُ زَيْدٍ اضافت کی، مدلول بدل گیا، اب پانچوں پہ نہیں بولا جا سکتا، اب کتنے پر بولا جا سکتا ہے؟ صرف ایک پر، دیکھو مدلول بدلا یا نہیں؟ پہلے مدلول پانچوں تھے اب مدلول ایک ہے، اور یہ کس وجہ سے تبدیلی آئی؟ اضافت کی وجہ سے۔ اسی طرح الف لام کی وجہ سے بھی مدلول بدل جاتا ہے: غلام نکرہ تھا تو سارے یہ افراد پانچوں افراد پر غلام کا لفظ بولا جا سکتا ہے، لیکن اس پر ذرا الف لام داخل کر دو: اَلْغُلَامُ، الف لام آ جائے معلوم ہوا کوئی خاص متعین غلام مراد ہے، تو وہ خاص متعین ایک غلام ان میں سے جو ہے وہ مراد ہوا، دیکھو مدلول بدل گیا، پہلے پانچوں غلام تھے مدلول اب صرف وہ ایک متعین غلام جو ہے اس کا مدلول ہے، تو دیکھو اضافت اور الف لام کی وجہ سے اسم کا مدلول بدل جاتا ہے، اضافت اور الف لام کی وجہ سے اسم کا مدلول بدل جاتا ہے، تو یہ اسم کے بڑے خاصے ہیں یہ دونوں بھئی، بڑے خاصے ہیں۔
اب یاد رکھو، یہ جو لفظ کو ہم غیر منصرف پڑھتے ہیں، میں نے اس کی وجہ بتلائی تھی کہ اس وجہ سے کہ یہ دو سبب جب آ جاتے ہیں تو وہ اسم زبان پر ثقیل ہو جاتا ہے، اس کی ادائیگی زبان پر دشوار ہو جاتی ہے، اور جب زبان پر ادائیگی دشوار ہے تو اب عرب اس پر کسرہ اور تنوین نہیں پڑھتے کیونکہ کسرہ ثقیل حرکت ہے، بڑی ثقیل حرکت ہے، اور اسی طرح تنوین تو نونِ ساکن کا نام ہے، میں آپ کو بتلا چکا ہوں۔ تنوین کس چیز کا نام ہے؟ نونِ ساکن کا نام ہے، یعنی ایک اور حرف آ گیا نونِ ساکن بھی آخر میں، اور اب مجھے بتائیے تھوڑے حروف والے لفظ کی ادائیگی آسان ہوتی ہے یا زیادہ حروف والے لفظ کی؟ تھوڑے حروف والے کی، تو دیکھو تنوین کی وجہ سے تو ایک اور حرف بڑھ رہا ہے یعنی آخر میں نونِ ساکن بڑھ رہا ہے، تو معلوم ہوا کسرہ بھی ثقیل اور تنوین بھی ثقیل، تو جب لفظ کے اندر پہلے ہی دو سبب آ چکے ہیں تو اب پھر کسرہ اور تنوین نہیں لائیں گے ورنہ پھر لفظ میں اور ثقل پیدا ہو جائے گا اور اس کی ادائیگی بڑی دشوار ہو جائے گی، اسی لیے جب دو سبب آ جاتے ہیں تو پھر اس کے بعد عرب اس پر کسرہ اور تنوین نہیں پڑھتے، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟
اب یاد رکھو: آپ اگلی کتابوں میں پڑھیں گے کہ یہ جو دو سبب آ جاتے ہیں اسم کے اندر تو اس اسم کی مشابہت ہو جاتی ہے فعل کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ فعل کے ساتھ مشابہت ہو جاتی ہے، اور فعل پر تو کسرہ بھی نہیں آتا اور تنوین بھی نہیں آتی، کیونکہ جر وہ حرفِ جر کی وجہ سے آتا ہے اور فعل پر تو حرفِ جر داخل نہیں، اور فعل پر تنوین بھی کبھی نہیں آتی آپ نے خود دیکھا ہے، گردانیں پڑھی ہیں کوئی تنوین آتی ہے فعل پر؟ فعل پر تنوین بھی نہیں آتی اور جر بھی نہیں آتا یعنی کسرہ کی جگہ اس پر کیا آتا ہے؟ جزم آتا ہے، کیا آتا ہے؟ جزم آتا ہے، تو لہٰذا فعل پر تنوین بھی نہیں آتی، فعل پر کسرہ بھی نہیں آتا، اس لیے کیونکہ فعل ثقیل ہوتا ہے، وجہ یہ کہ فعل کی گردان ہوتی ہے، صیغے بدلتے ہیں، اس میں اور حروف آتے جاتے ہیں، تو اگر کسرہ اور تنوین بھی آ جائیں تو ثقل در ثقل آ جائے گا، لفظ کی ادائیگی بڑی مشکل ہو جائے گی، لہٰذا اس پر کسرہ اور تنوین آتے ہی نہیں، تو لہٰذا جب اسم کے اندر بھی جب دو سبب آ گئے تو اس کی مشابہت ہو گئی فعل کے ساتھ، کس کے ساتھ ہو گئی؟ فعل کے ساتھ مشابہت ہو گئی۔
اب یہ مشابہت کس طرح ہو گئی فعل کے ساتھ بھئی؟ کہتے ہیں بھئی دیکھو اس میں جیسے اسم میں یہ دو سبب آئے اسی طرح فعل میں بھی دو چیزیں ہوتی ہیں، دو فرعیتیں ہوتی ہیں، بہرحال زیادہ تفصیل میں نہیں جاتا بحث مشکل ہو جائے گی انشاء اللہ اگلی کتابوں میں آپ پڑھیں گے، ٹھیک ہے؟ کہ فعل میں بھی دو فرعیتیں ہوتی ہیں تو اسم میں بھی دو سبب آ گئے، دو فرعیتیں آ گئیں تو یہ اس جیسا ہو گیا، اور جب اس جیسا ہوا تو فعل پر تو کسرہ اور تنوین نہیں آتے لہٰذا اب اس اسم پر بھی کسرہ اور تنوین نہیں آئیں گے، معلوم ہوا اسم پر کسرہ اور تنوین نہیں آتے غیر منصرف پر، کیوں نہیں آتے؟ کیونکہ اس کی مشابہت کس کے ساتھ آ گئی؟ فعل کے ساتھ آ گئی، اور کس وجہ سے مشابہت آئی؟ میں نے بتلایا بس اتنا یاد رکھیں کہ بس اس کی فعل کے ساتھ مشابہت آئی اور کیسے آئی وہ اگلی کتابوں میں آپ پڑھ لیں گے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اس کی مشابہت آ جاتی ہے فعل کے ساتھ، اور فعل پر تو کسرہ اور تنوین نہیں آتے لہٰذا اب اس اسم پر بھی کسرہ اور تنوین نہیں آئیں گے، صورت سمجھ میں آ گئی۔
اب دیکھو جب ایک اسم غیر منصرف تھا انہوں نے آپ کو کیا بتلایا کہ غیر منصرف پر جب اس کی اضافت کر دی جائے یا اس پر کیا داخل ہو جائے؟ الف لام، تو اس پر پھر کسرہ بھی آ جاتا ہے، کسرہ، وجہ اس کی یہ اب سنو اب آپ کو بات سمجھ میں آئے گی، کہ دیکھو جب اسم پر الف لام آ گیا یا اس کی اضافت ہو گئی تو اضافت اور الف لام تو اسم کے بڑے خاصے ہیں، کیا شمار ہوتے ہیں؟ اسم کے بڑے خاصے شمار ہوتے ہیں، تو یہ جو اسم تھا غیر منصرف تھا اس کی مشابہت کس کے ساتھ تھی؟ فعل کے ساتھ، توجہ ہے سبق کی طرف؟ یہ جو اسم غیر منصرف جس پر ابھی الف لام یا اضافت ہم کریں گے ابھی نہیں کی، یہ جو اسم غیر منصرف تھا اس کی مشابہت کس کے ساتھ تھی؟ فعل، لیکن جب اس کی اضافت کر دی یا اس پر الف لام آ گیا تو الف لام اور اضافت تو اسم کے بڑے خاصے ہیں تو وہ مشابہت کمزور ہو گئی، اب اس کے یہ اسم والی جہت راجح ہو گئی۔ پہلے کون سی جانب راجح تھی؟ فعل والی جانب، اس کے ساتھ مشابہت راجح تھی، لیکن اب تو اسم کے بڑے خاصے آ گئے، الف لام آ گیا یا اضافت آ گئی بھئی، تو لہٰذا یہ اسم والی جانب راجح ہو گئی، اس میں قوت آ گئی، جب قوت آ گئی تو لہٰذا وہ مشابہت کمزور پڑ گئی تو اب اس پر کسرہ آ سکتا ہے، تنوین بھی آ جاتی لیکن تنوین تو اضافت کی وجہ سے ویسے ہی گر جاتی ہے اور الف لام کی وجہ سے بھی تنوین گر جاتی ہے، البتہ کسرہ چونکہ آ سکتا تھا تو وہ کسرہ آ گیا، تقرير سمجھ میں آ گئی؟
حاصلِ کلام کیا ہوا؟ الف لام اور اضافت اسم کے بڑے خاصے ہیں اور یہ جو غیر منصرف ہوتا ہے اس کو غیر منصرف پڑھا جاتا ہے کیونکہ مشابہت کس کے ساتھ؟ فعل کے ساتھ، لیکن جب اس پر اسم کے بڑے خاصے آ گئے تو وہ مشابہت والی جانب کمزور ہو گئی اور اسم والی جانب قوی ہو گئی، اسم والی جانب قوی ہو گئی اور جب اسم والی جانب قوی ہوئی تو اسم پر تو کسرہ بھی آتا ہے اور تنوین، لہٰذا اب اس پر کسرہ آ جائے گا، تنوین تو مانع موجود ہے تنوین تو نہیں آ سکتی لیکن کم از کم کسرہ آ جائے گا، تقرير سمجھ میں آ گئی۔
اب دیکھیے پھر کتاب پر: وَكُلُّ مَا لَا يَنْصَرِفُ اور ہر وہ اسم جو منصرف نہیں ہوتا یعنی غیر منصرف ہوتا ہے إِذَا أُضِيفَ جب اس کی اضافت کر دی جائے أَوْ دَخَلَهُ اللَّامُ یا اس پر لامِ تعریف داخل ہو جائے فَدَخَلَهُ الْكَسْرَةُ تو اس پر کسرہ داخل ہو جاتا ہے، نَحْوُ مثال کے طور پر: مَرَرْتُ بِأَحْمَدِكُمْ، دیکھو احمد غیر منصرف تھا بھئی: جَاءَنِي أَحْمَدُ، رَأَيْتُ أَحْمَدَ، مَرَرْتُ بِأَحْمَدَ، کیا تھا؟ غیر منصرف، لیکن اب اس کی اضافت کر دی کم ضمیر آخر میں آ گئی: میں تمہارے احمد پر سے گزرا، تو أَحْمَدِكُمْ، مَرَرْتُ بِأَحْمَدِكُمْ کسرہ آ گیا، یا بِالْأَحْمَدِ ای مَرَرْتُ بِالْأَحْمَدِ، تو دیکھو با کی وجہ سے الف لام آ گیا تو اب کسرہ آ گیا بھئی، سمجھ میں آئی بات؟
بھئی آپ مجھے بتائیے: غیر منصرف پر جر آ سکتا ہے یا نہیں آ سکتا؟ شاباش! جر آ سکتا ہے، جر تو آتا ہے بھئی، جب حرفِ جر غیر منصرف پر آئے گا تو جر تو آئے گا، ہاں اب دوسرا سوال: غیر منصرف پر کسرہ آتا ہے یا نہیں؟ کسرہ نہیں آتا بھئی، شاباش! تو جر اور کسرہ میں فرق سمجھ آ رہا ہے؟ کسرہ بے شک نہیں آ رہا، فتحہ آ رہا ہے: مَرَرْتُ بِأَحْمَدَ، تو آپ کیا کہیں گے یہ اس وقت مجرور ہے تو جر تو آئے گا لیکن جر وہ صورت میں کس کی ہوگا؟ فتحہ کی صورت میں ہوگا، تو آپ نے صرف یہ کہنا ہے اس پر کسرہ نہیں آ سکتا، یہ نہ کہنا اس پہ جر نہیں آ سکتا، جر تو اس پر آ رہا ہے، یہ جر ہی تو ہے صورت صرف فتحہ والی ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔
اب دیکھیے آگے بھئی، اب مرفوعات شروع ہو رہے ہیں۔ الْمَقْصَدُ الْأَوَّلُ فِي الْمَرْفُوعَاتِ: پہلا مقصد مرفوعات کے بیان میں، بھئی جن پر رفع آئے گا، رفع آئے گا۔ اور رفع آپ نے پڑھا کبھی رفع ضمہ کی صورت میں آتا ہے: جَاءَنِي زَيْدٌ، اور کبھی رفع واؤ کی صورت میں آئے گا: جَاءَنِي أَبُوكَ، اور کبھی رفع الف کی صورت میں آئے گا: جَاءَنِي رَجُلَانِ یہ مرفوع ہے، اسی طرح جَاءَنِي مُسْلِمُونَ یہاں بھی رفع کس کی صورت میں ہے؟ واؤ کی صورت میں۔ معلوم ہوا رفع جو ہے ضمہ کی صورت میں بھی آ سکتا ہے، رفع جو ہے واؤ کی صورت میں بھی آ سکتا ہے، اور رفع جو ہے الف کی صورت میں بھی آ سکتا ہے، اور کبھی رفع تقدیراً بھی آتا ہے: جَاءَنِي الْقَاضِي، رَأَيْتُ الْقَاضِيَ، مَرَرْتُ بِالْقَاضِي، تو جَاءَنِي الْقَاضِي دیکھو قاضی فاعل ہے لیکن اعراب کون سا اس کا؟ تقدیری، تو ضمہ معلوم ہوا کبھی تقدیری ہوتا ہے اور کبھی لفظی ہوتا ہے۔
لفظی یعنی اس پر ہم باقاعدہ تلفظ کرتے ہیں، جو ابھی مثالیں گزریں جَاءَنِي زَيْدٌ سننے سے ہی تلفظ سے ہی آپ کو پتہ چل رہا ہے یا نہیں میں اس پر ضمہ پڑھ رہا ہوں؟ تو اس کو لفظی کہیں گے یعنی اس پر ہم تلفظ کرتے ہیں۔ جَاءَنِي أَبُوكَ تو یہ کون سا ہے؟ لفظی ہے یا تقدیراً ہے؟ لفظی ہے۔ اور جَاءَنِي رَجُلَانِ یہاں بھی کون سا ہے؟ لفظی ہے، الف پر ہم باقاعدہ تلفظ کر رہے ہیں۔ اور جَاءَنِي مُسْلِمُونَ یہاں پر بھی رفع کیا ہے؟ لفظی ہے یعنی اس پر ہم باقاعدہ تلفظ کر رہے ہیں۔
تو اب اس مقصد کے اندر مرفوعات بیان کریں گے۔ اب یاد رکھنا اب ترکیب کی باتیں شروع ہو رہی ہیں، اور خوب تکرار کرنا ہے ان چیزوں کا، انشاء اللہ یہ چیزیں آپ نے سمجھ لیں اچھی طرح اور یاد کر لیں، آپ کے لیے عبارت بالکل آسان ہو جائے گی، کوئی عبارت دے دیں گے آپ ذرا بھی پریشان نہیں ہوں گے، آرام سے اعراب نکال لیں گے۔ کیونکہ اعراب تو تین ہی ہیں: یا رفع آئے گا، یا نصب آئے گا، یا جر آئے گا۔ تو آپ کو عبارت دے دی جائے آپ اس میں دیکھ لیں گے ایک ایک اسم کو دیکھتے جاؤ: کس پہ رفع پڑھنا ہے، کس پہ جر پڑھنا ہے، کس پہ فتحہ پڑھنا ہے، پھر اسی کو روانی سے پڑھ دو، طریقہ سمجھ میں آیا عبارت کس طرح حل کی جاتی ہے؟ ایک ایک اسم کا اعراب نکال لیتے ہیں کہ یہ مرفوع ہے یا منصوب ہے یا مجرور، ایک لفظ کا پتہ چل گیا پھر اس سے اگلے لفظ میں چلے جاؤ اس کو بھی دیکھ لو، پھر تیسرے کو دیکھ لو، چوتھے کو دیکھ لو، اور پھر روانی سے سارے کو پڑھ دو۔
تو اب سب سے پہلے یہ مرفوعات بیان کریں گے، یہ جو چیزیں بیان کریں گے یاد رکھنا یہ عبارت میں آئیں تو ان پر آپ نے رفع پڑھنا ہے۔ مثلاً مبتدا ہے یا جیسے فاعل ہے، فاعل ہے، تو آپ جب بھی فاعل آپ کو پتہ چل جائے یہ لفظ فاعل بن رہا ہے تو اس کا اعراب بھی ساتھ ہی آپ کو پتہ چل جائے گا، معلوم ہوا اس پہ کون سا اعراب پڑھنا ہے؟ رفع والا۔ پھر آپ اس میں غور کریں گے، غور کریں گے کہ یہ لفظ معرب ہے یا مبنی ہے؟ یہ ہے تو فاعل اور فاعل پر کیا پڑھا جاتا ہے؟ رفع، لیکن رفع یاد رکھو ایک رفع ہوگا مبنی پر، ایک رفع ہوگا معرب پر۔
تو ایک رفع جو ہے کس پر آئے گا؟ مبنی پر، اور ایک کس پر آئے گا؟ معرب پر۔ یاد رکھو مبنی تو وہ ہے جس کی حالت بدلتی ہی نہیں ہے، چاہے رفع ہو چاہے نصب ہو چاہے جر ہو برقرار رہتا ہے، اس میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، اس نے جوں کا توں رہنا ہے جیسا وہ ہے، تو اس میں اس کے لیے ہم کہتے ہیں: یہ مرفوع ہے محلاً، محل یعنی جگہ، عربی میں محل کا کیا معنی ہے؟ جگہ، تو محلاً یہ مرفوع ہے، کیا معنی؟ اس جگہ کے اعتبار سے یہ مرفوع ہے، مثلاً میں کہتا ہوں: جَاءَنِي هٰؤُلَاءِ، آئے میرے پاس یہ لوگ، اب هٰؤُلَاءِ کیا ہے؟ اسمِ اشارہ، اور اسمِ اشارہ مبنیات میں سے ہے، تو یہ حالتِ رفعی ہو، نصبی ہو، جری ہو، تینوں صورتوں میں هٰؤُلَاءِ ہمزہ کے نیچے کسرہ ہی رہے گا، کیونکہ یہ مبنی ہے، مبنی کی صورت نہیں بدلتی، چاہے یہ رفع کے مقام میں آئے چاہے یہ نصب والی جگہ پر آئے چاہے جر والی جگہ پہ، تو پھر اس کا اعراب کیسے بتائیں گے کہ یہ محلاً مرفوع ہے یا محلاً منصوب ہے یا محلاً مجرور، یعنی محلاً مرفوع کا کیا معنی؟ جگہ کے اعتبار سے یہ مرفوع ہے، یہ جگہ رفع والی ہے جہاں پر یہ آ رہا ہے کیونکہ یہ فاعل بن رہا ہے اور فاعل کیا ہوتا ہے؟ مرفوع، تو یہ فاعل کی جگہ آ رہا ہے تو جگہ کے اعتبار سے یہ مرفوع ہے، یعنی اگر یہاں کوئی معرب ہوتا تو رفع ظاہر بھی ہو جاتا، لیکن چونکہ یہ مبنی ہے رفع ظاہر نہیں، تو مبنی کے لیے ہمیشہ اعراب کس طرح بتلاتے ہیں؟ محلاً۔
لہٰذا جو بھی لفظ آئے سب سے پہلے آپ نے یہ دیکھنا ہے: یہ مبنی ہے یا معرب؟ اگر مبنی ہو تو پھر آپ سمجھ جائیں کہ اس نے جیسا یہ ہے اس نے ایسا ہی رہنا ہے، اور چاہے اس پر رفع آ رہا ہو تو آپ کہیں گے مرفوع محلاً، نصب آ رہا ہو تو آپ کیا کہیں گے؟ منصوب محلاً، اور جر والی جگہ ہو تو کیا کہیں گے؟ مجرور محلاً، یعنی یہ جگہ کے اعتبار سے مجرور ہے یا منصوب ہے یا مرفوع ہے۔ اور اگر وہ معرب ہو لفظ تو معرب کا اعراب تو دو ہی طرح ہوتا ہے آپ نے پڑھا ہے: کبھی لفظاً ہوتا ہے یعنی اس پر ہم باقاعدہ تلفظ کرتے ہیں، کبھی تقدیراً ہوتا ہے، وہ نو قسمیں جو انہوں نے ان سولہ کو نو میں بند کر دیا تھا ابھی صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا نو قسمیں ہیں، ان نو میں سے پھر آپ غور کر لیا کریں کہ اس پہ رفع کون سا والا آئے گا؟ یہ کون سی قسم ہے ان میں سے؟ اگر وہ کیا ہو؟ مفرد منصرف صحیح ہو تو آپ سمجھ جائیں اس پر رفع کس کے ساتھ آتا ہے؟ ضمہ کے ساتھ، تنوین آتی ہے: جَاءَنِي زَيْدٌ، رَأَيْتُ زَيْدًا، مَرَرْتُ بِزَيْدٍ۔ اور اگر وہ اسمائے ستہ مکبرہ موحدہ مضافہ الی غیر یائے متکلم والا ہے تو پھر آپ سمجھ جائیں یہ ہے تو مرفوع تو اس کو واؤ کے ساتھ پڑھنا ہے: جَاءَنِي أَبُوكَ۔ اور اگر وہ کس میں سے ہو مثلاً اسمِ منقوص ہے جس کے آخر میں یا اور یا سے ماقبل کسرہ ہو تو سمجھ جائیں یہ مرفوع تو ہے لیکن اس کا اعراب تقدیراً ہے: جَاءَنِي الْقَاضِي، صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو دیکھو جب بھی کوئی عبارت میں اسم آئے گا، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ آپ نے عبارت کو کس طرح حل کرنا ہے وہ بیان کر رہا ہوں، جب بھی عبارت میں کوئی دیکھنے لگیں ایک ایک اسم کا اعراب نکالتے جاؤ ایک ایک اسم کا، اور پھر سارے کو کیا کر دو؟ روانی سے پڑھ دو۔ مثلاً میں کہتا ہوں: زَيْدٌ قَائِمٌ، دیکھیے زَيْدٌ پر میں کیا پڑھ رہا ہوں؟ رفع، کیوں رفع پڑھ رہا ہوں؟ کیونکہ یہ مبتدا ہے، اور مبتدا پر ابھی بتلائیں گے آپ کو کہ مبتدا مرفوع ہوتا ہے، تو میں نے ان نو قسموں میں غور کیا کہ اس پر آنا تو رفع ہی ہے، یہ کون سی قسم ہے ان نو میں سے؟ تو دیکھا یہ مفرد منصرف صحیح تھا اور اس کا رفع کس کے ساتھ آتا ہے؟ ضمہ کے ساتھ، تو میں نے پڑھا: زَيْدٌ۔ آگے لفظ قَائِمٌ دیکھا تو میں نے دیکھا یہ خبر بنے گی کیونکہ مبتدا کے لیے کیا چاہیے؟ یہ خبر، اور یہ پورا جملہ بن رہا ہے مل کر اور بات پوری ہو رہی ہے اس کے اندر، اور خبر بھی آپ کو یہ بتلائیں گے مرفوعات میں سے ہے، جب مرفوعات میں سے ہے تو اس پر اتنا تو طے ہو گیا پڑھنا رفع ہی ہے، اب کون سا رفع پڑھیں؟ تو پہلے غور کریں یہ مبنی ہے یا معرب ہے؟ دیکھا تو مبنی نہیں ہے، مبنی ہوتا تو مرفوع محلاً ہوتا، مبنی نہیں معلوم ہوا یہ معرب ہے، جب معرب ہے اب اس پہ غور کرو ان نو قسموں میں سے یہ کون سی قسم ہے؟ ہم نے اس پر بھی غور کیا تو پتہ چلا یہ مفرد منصرف صحیح ہے، اس پر بھی رفع ضمہ کے ساتھ آتا ہے، اس لیے ہم نے پڑھا: قَائِمٌ، زَيْدٌ قَائِمٌ، صورت سمجھ میں آ گئی۔
اچھا اور مثلاً دوسری مثال لو: الرَّجُلَانِ غُلَامَانِ، الرَّجُلَانِ غُلَامَانِ، دیکھو الرَّجُلَانِ، آپ نے دیکھا الرَّجُلَانِ غُلَامَانِ وہ دو آدمی غلام ہیں، الرَّجُلَانِ یہ کیا بن رہا ہے؟ مبتدا، اور مبتدا پر کیا ہوتا ہے؟ رفع، اور رفع دیکھا سب سے پہلے اتنا پتہ چل گیا یہ مرفوع ہوگا، اور آگے غُلَامَانِ یہ کیا اس کی خبر، معلوم ہوا اس پر بھی رفع ہی آئے گا کیونکہ خبر بھی کس میں سے ہے؟ مرفوعات میں سے۔ اب آپ غور کر لیں دونوں میں کہ سب سے پہلے الرَّجُلَانِ کو دیکھیں یہ کہ یہ مبنی ہے یا معرب؟ دیکھا تو مبنی تو یہ نہیں ہے، تو پھر دیکھیں وہ نو قسموں میں سے یہ کون سی قسم ہے؟ ہم نے غور کیا یہ نو قسموں میں سے کون سی قسم ہے؟ تثنیہ ہے، کیا ہے؟ تثنیہ، اور تثنیہ تو پڑھنا تو رفع ہی ہے، تو ان نو قسموں میں سے ہم نے دیکھا یہ تثنیہ ہے اور تثنیہ کا رفع کس کے ساتھ آتا ہے؟ الف کے ساتھ، تو لہٰذا اسی لیے دیکھو یہاں الف ہے: الرَّجُلَانِ، الف پر میں تلفظ کر رہا ہوں یا نہیں کر رہا؟ جی، اور غُلَامَانِ اس کو دیکھا یہ بھی مبنی تو نہیں ہے، مبنی ہوتا تو اعراب محلاً آتا، معرب ہے تو معرب میں دیکھ لو پھر اعراب لفظی ہے یا تقدیری ہے؟ ہم نے غور کیا یہ ان نو قسموں میں سے کون سی قسم ہے؟ دیکھا یہ بھی تثنیہ ہے، اور تثنیہ کا رفع کس کے ساتھ آتا ہے؟ الف، لہٰذا اسی لیے غُلَامَانِ کہا، غُلَامَيْنِ نہیں کہا: الرَّجُلَانِ غُلَامَانِ۔
معلوم ہوا رفع کی تین ہی صورتیں ہیں: جو بھی اسم آئے گا وہ یا مرفوع ہوگا یا منصوب ہوگا یا مجرور، یہی تین صورتیں ہیں نا۔ اور رفع محلاً بھی ہو سکتا ہے، رفع لفظاً بھی ہو سکتا ہے، رفع تقدیراً بھی ہو سکتا ہے، تین ہی قسمیں ہیں: رفع میں کتنی حالتیں ہیں؟ تین: یا محلاً، یا لفظاً، یا تقدیراً۔ محلاً کس میں آئے گا؟ مبنی میں، اور لفظاً اور تقدیراً کس میں آئیں گے؟ معرب میں آئیں گے بھئی، آسان سی بات ہے۔ اسی طرح نصب بھی تین طرح ہی آنا ہے: یا وہ محلاً ہوگا یا لفظاً ہوگا یا تقدیراً ہوگا، وہ آپ نے نکالنا ہے کہ کون سا اس پہ پڑھنا ہے، آپ کو اتنا پتہ چل جائے اس پہ پڑھنا نصب ہے، یہ مفعول بن رہا ہے اس پہ تو نصب ہی پڑھنا ہے، جب نصب پڑھنا ہے تو نصب کی تو تین ہی صورتیں بنتی ہیں: یا محلاً ہوتا ہے اگر مبنی ہو، اور اگر معرب ہو پھر یا لفظاً ہوتا ہے یا تقدیراً ہوتا ہے، وہ نو قسموں میں غور کر کے آپ نے پھر نکالنا ہے کہ یہاں پر لفظاً آئے گا نصب یا تقدیراً آئے گا، کون سی قسم ہے یہ ان میں سے، صورت سمجھ میں آ گئی۔
تو معلوم ہوا رفع کبھی کیا ہوتا ہے؟ محلاً، رفع کبھی لفظاً، اور رفع کبھی تقدیراً ہوتا ہے، دیکھو کتنا آسان ہو گیا اب آپ کے لیے عبارت میں اعراب نکالنا۔ غور کریں گے کہ یہ مرفوعات میں سے ہم نے پڑھا تھا یا منصوبات میں سے پڑھا تھا یا مجرورات میں سے، اور پھر اتنا پتہ چل جائے کہ اس پہ رفع پڑھنا ہے تو آپ غور کر لیں کہ اس پر کون سی صورت آئے گی یہاں: محلاً آئے گا رفع یا لفظاً آئے گا یا تقدیراً آئے گا۔
تو مرفوعات کے اندر دیکھو جو چیزیں یہ ذکر کرنے لگے ہیں کتاب کے اندر، ان میں سے جو بھی عبارت میں آ جائے آپ کو پتہ لگ جائے کہ یہ تو مبتدا ہے، آپ فوراً سمجھ جائیں اس پر کیا پڑھنا ہے؟ رفع، پھر آگے غور کر لیں کہ رفع محلاً پڑھنا ہے یا رفع لفظاً ہوگا یا رفع تقدیراً ہوگا؟ یا اسی طرح اگر مثلاً اس میں خبر ہے، خبر آ گئی تو آپ کو پتہ چل گیا جب یہ خبر ہے تو اس پر کیا پڑھنا ہے؟ رفع پڑھنا ہے، تو پھر دیکھ لیں کہ یہ مبنی ہے یا معرب؟ مبنی ہے تو رفع کون سا آئے گا؟ محلاً، اور اگر معرب ہے تو لفظاً یا تقدیراً آئے گا بھئی۔
اب دیکھیے کتاب پر بھئی: الْمَقْصَدُ الْأَوَّلُ فِي الْمَرْفُوعَاتِ پہلا مقصد مرفوعات میں یعنی ای فی بیان المرفوعات، کس کے بیان میں؟ مرفوعات کے بیان میں، یعنی وہ اسم جو مرفوع ہوتے ہیں۔ اب وہ آٹھ ہیں وہ بتلانے لگے ہیں، کہتے ہیں: الْأَسْمَاءُ الْمَرْفُوعَاتُ ثَمَانِيَةُ أَقْسَامٍ وہ اسم جو مرفوع ہوتے ہیں وہ آٹھ قسم پر ہیں: الْفَاعِلُ نمبر ایک کیا ہے؟ فاعل، جہاں فاعل آ جائے آپ سمجھ جائیں اس پر کیا پڑھنا ہے؟ رفع۔ وَمَفْعُولُ مَا لَمْ يُسَمَّ فَاعِلُهُ اور وہ مفعول جس کا فاعل ذکر نہ ہو یعنی نائب الفاعل جس کو ہم کیا کہتے ہیں؟ نائب الفاعل، وہ مفعول جس کا فاعل ذکر نہ ہو، دیکھیے بھئی: میں کہتا ہوں: ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا، ضَرَبَ فعل، زَيْدٌ اس کے لیے فاعل اور عَمْرًا کیا ہے؟ مفعول ہے۔ تو دیکھو زَيْدٌ فاعل ہے اور فاعل پر کیا پڑھتے ہیں؟ رفع، آگے عَمْرًا مفعول آ رہا ہے اور اس مفعول کا فاعل عبارت میں ذکر ہے یا ذکر نہیں؟ عمر کی پٹائی کس نے کی؟ زید نے، دیکھو زید ذکر ہے: ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا، تو یہ مفعول ما لم یسم فاعلہ نہیں ہے بلکہ اس کا تو فاعل ذکر ہے بھئی، بلکہ کبھی آپ دیکھتے ہیں فعل کو مجہول لے کر آتے ہیں: ضَرَبَ کو بدل دیا کس سے؟ ضُرِبَ سے، فاعل کو حذف کر لیا اور عَمْرٌو کو کیا کیا؟ اس کا نائب فاعل بنا دیا: ضُرِبَ عَمْرٌو، عمر کی پٹائی کی گئی، بھئی کس نے کی پٹائی؟ ہے تو یہ ابھی بھی مفعول ہی لیکن اس کو اصطلاح میں کیا کہتے ہیں؟ مَفْعُولُ مَا لَمْ يُسَمَّ فَاعِلُهُ، وہ مفعول جس کا فاعل ذکر نہیں، فاعل ذکر نہیں، تو یہ مرفوع فعل کا اسناد اس کی طرف ہے کیونکہ فعلِ مجہول ہے: عمر کی پٹائی کی گئی، لیکن کس نے کی؟ کون ہے پٹائی کرنے والا؟ فاعل کون اس ضرب کا؟ وہ اس جملے میں ذکر نہیں، لہٰذا اس کو کیا کہتے ہیں؟ مَفْعُولُ مَا لَمْ يُسَمَّ فَاعِلُهُ جس کے فاعل کو ذکر نہیں کیا گیا۔ تو یہ بھی مرفوع ہوتا ہے، دیکھو پہلے زَيْدٌ مرفوع تھا کیونکہ فعلِ معروف تھا پیچھے: ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا، فعلِ معروف فاعل کو رفع دیتا ہے اور فعلِ مجہول نائب الفاعل یعنی وہ جو مفعول تھا پہلے اس کو رفع دیتا ہے اور فاعل کو حذف کر لیا جاتا ہے اس کو ذکر نہیں کیا جاتا بھئی۔
تو کہتے ہیں آٹھ قسمیں یہ ہیں: نمبر ایک فاعل ہے، وَمَفْعُولُ مَا لَمْ يُسَمَّ فَاعِلُهُ اور دوسرا مفعول ما لم یسم فاعلہ ہے یعنی نائب الفاعل ہے، وَالْمُبْتَدَأُ اور تیسرا مرفوعات میں سے وہ مبتدا ہے، جب آپ کو پتہ چل جائے یہ لفظ مبتدا ہے تو آپ نے ہمیشہ اس پر کیا پڑھنا ہے؟ رفع، اور پھر رفع کی کون سی حالت ہے: محلاً، لفظاً یا تقدیراً وہ آپ نے پھر خود غور کر لینا ہے۔ وَالْخَبَرُ اور چوتھا مرفوعات میں سے وہ خبر ہے، خبر جب آپ کو پتہ چل جائے کہ یہ لفظ کیا بن رہا ہے؟ خبر، تو اس پر رفع ہی پڑھنا ہے، پھر اس میں آپ غور کر لیں کہ رفع کون سا پڑھنا ہے: محلاً یا لفظاً یا تقدیراً۔ وَخَبَرُ إِنَّ وَأَخَوَاتِهَا، ”إِنَّ“ اور اس کے جو مشابہ کلمات ہیں ان کی خبر، یہ بھی مرفوع ہوتی ہے۔ وَاسْمُ كَانَ وَأَخَوَاتِهَا، کَانَ اور اس کے جو مشابہ ہیں ان کا اسم: ”إِنَّ“ کی خبر اور کَانَ کا اسم۔ وَاسْمُ مَا وَلَا الْمُشَبَّهَتَيْنِ بِلَيْسَ اور اسم ما اور لا کا، وہ ما اور لا الْمُشَبَّهَتَيْنِ بِلَيْسَ جو کس کے مشابہ ہیں؟ لَيْسَ، وہ ما اور لا جو لیس کے مشابہ ہیں ان کا اسم بھی کیا ہوگا؟ مرفوع ہوگا، اس پر رفع پڑھنا ہے۔ وَخَبَرُ لَا الَّتِي لِنَفْيِ الْجِنْسِ اور خبر اس لا کی الَّتِي لِنَفْيِ الْجِنْسِ جو کس لیے ہو؟ نفیِ جنس، یعنی لا نفیِ جنس کی خبر، یہ آٹھ ہیں مرفوعات۔ یہ جب عبارت میں آئیں آپ کو پتہ چل جائے کہ یہ لفظ یا تو مبتدا ہے یا خبر ہے یا یہ ”إِنَّ“ کی خبر ہے یا کَانَ کا اسم ہے یا یہ ما ولا کا اسم ہے یا لا نفیِ جنس کی خبر ہے، تو بس آپ نے اس پر رفع پڑھنا ہے، پھر غور کر لینا ہے رفع آئے گا کون سا یہاں پر: دیکھ لیں یہ مبنی ہے یا معرب ہے؟ اگر مبنی ہو تو سمجھ جائیں رفع محلاً ہے اور اگر معرب ہو تو پھر دیکھیں لفظی آئے گا یا تقدیری وہ نو قسموں میں غور کر لیں، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
چلیے بس بھئی، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔