أَمَّا وَزْنُ الْفِعْلِ: فَشَرْطُهُ أَنْ يُخْتَصَّ بِالْفِعْلِ، وَلَا يُوجَدُ فِي الِاسْمِ إِلَّا مَنْقُولًا عَنِ الْفِعْلِ كَشَمَّرَ وَضُرِبَ، وَإِنْ لَمْ يُخْتَصَّ بِهِ فَيَجِبُ أَنْ يَكُونَ فِي أَوَّلِهِ إِحْدَى حُرُوفِ الْمُضَارَعَةِ، وَلَا يَدْخُلُهُ الْهَاءُ، كَأَحْمَدَ، وَيَشْكُرَ، وَتَغْلِبَ، وَنَرْجِسَ۔
اسبابِ منعِ صرف ہم پڑھ رہے ہیں بھئی۔ آج اسبابِ منعِ صرف میں سے آخری سبب وزنِ فعل ذکر کریں گے بھئی۔ وزنِ فعل نام سے ہی پتہ چل رہا ہے کہ وہ اسم کس وزن پر ہوگا؟ فعل کے وزن پر ہوگا بھئی۔ اچھا تو یہ وزنِ فعل یہ بھی سبب بنے گا غیرِ انصراف کا، لیکن اس کے لیے بھی شرائط ہیں بھئی، شرائط۔ تو پہلے وہ سمجھ لیجیے۔
یاد رکھیے: وزنِ فعل سبب بنے گا غیرِ انصراف کا، لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ وزن خاص ہونا چاہیے فعل کے ساتھ۔ وہ وزن صرف فعل میں پایا جانا چاہیے، اسم میں نہ پایا جائے۔ تو وہ وزن خاص ہو کس کے ساتھ؟ فعل کے ساتھ۔ اس پر سوال آپ کے ذہن میں آئے گا، سوال یہ کہ ایک وزن جب وہ فعل کے ساتھ خاص ہے، فعل کے ساتھ خاص ہونے کا معنی یہ کہ یہ وزن اسم میں نہیں پایا جا رہا، جب اسم میں وزن نہیں پایا جا رہا یہ والا تو پھر یہ غیرِ انصراف کا سبب کیسے بنے گا؟ کیونکہ غیر منصرف تو اسم ہوا کرتا ہے، فعل تو نہیں بھئی! غیر منصرف تو کون ہوتا ہے؟ اسم، اور آپ کہہ رہے ہیں یہ وزن خاص ہو فعل کے ساتھ، جب خاص ہے تو اس کا مطلب ہے اسم میں وہ پایا نہیں جاتا، جب پایا ہی نہیں جا رہا، آ ہی نہیں رہا اسم میں، تو یہ سبب کیسے بنے گا؟ کہتے ہیں: نہیں بھئی، معنی یہ ہے کہ وہ وزن ہے تو خاص فعل کے ساتھ، اسم میں بھی اگر وہ استعمال ہوگا، آئے گا تو پھر وہ فعل ہی سے نقل ہو کر آیا ہوگا، خود اسم کے اندر اپنا ذاتی وزن وہ نہیں ہوگا بلکہ کہاں سے نقل ہو کر آیا ہے؟ فعل کے ساتھ۔
جیسے مثلاً دیکھیے بھئی، جیسے كَرَّمَ، یہ وزن خاص ہے فعل کے ساتھ، اسم میں یہ وزن نہیں پایا جاتا، لیکن آپ ایک آدمی کا نام رکھ دیتے ہیں كَرَّمَ، جب نام رکھا تو نام تو علم ہوتا ہے، اسم ہوتا ہے، تو دیکھو یہ اسم میں آ گیا یہ وزن، لیکن کہاں سے نقل ہو کے آیا یہ؟ فعل سے نقل ہو کر آیا، خود اسم کے اندر یہ وزن نہیں تھا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: أَمَّا وَزْنُ الْفِعْلِ باقی وزنِ فعل جو ہے فَشَرْطُهُ تو اس کی شرط یہ ہے أَنْ يُخْتَصَّ بِالْفِعْلِ کہ وہ وزن خاص ہو فعل کے ساتھ وَلَا يُوجَدُ فِي الِاسْمِ اور وہ اسم میں نہ پایا جائے إِلَّا مَنْقُولًا عَنِ الْفِعْلِ مگر یہ کہ اس کو نقل کیا گیا ہو کہاں سے؟ فعل سے، یعنی فعل سے نقل کر کے پھر اسم میں پایا جا سکتا ہے، ویسے اسم میں نہیں۔ كَشَمَّرَ وَضُرِبَ جیسے شَمَّرَ بھئی اور ضُرِبَ۔ تو شَمَّرَ یہ وزن فَعَّلَ وزن، فَعَّلَ جس میں عین مشدد ہے، یہ وزن اسم میں نہیں آتا، تو یہ کسی نے اپنے گھوڑے وغیرہ کا نام رکھا تھا، لیکن کہاں سے نقل کر کے؟ فعل سے۔ یہ اسی طرح ضُرِبَ، فُعِلَ، یہ فُعِلَ وزن یہ اسم میں نہیں پایا جاتا بھئی، یہ وزن خاص ہے کس کے ساتھ؟ فعل کے ساتھ۔ سو یہ بھی اب کسی کا نام وغیرہ رکھ دیں، ایک آدمی کی پٹائی ہوئی آپ نے اس کا نام ہی کیا رکھ دیا باقاعدہ؟ ضُرِبَ۔ تو دیکھا یہ اس کا اب نام اسم ہے، تو یہ کہاں سے آیا نقل ہو کر؟ فعل سے۔
تو یہ تو ایک صورت تھی کہ وزنِ فعل سبب بنے گا غیرِ انصراف کا، لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ وزن کس کے ساتھ خاص ہو؟ فعل کے ساتھ۔ اور اگر ایسا نہ ہو یعنی وہ وزن ہے تو وزنِ فعل لیکن فعل کے ساتھ خاص نہیں ہے، اسم میں بھی وہ وزن پایا جاتا ہے۔ پہلی صورت تو کیا تھی؟ وہ وزن خاص تھا کس کے ساتھ؟ فعل کے ساتھ، اسم میں پایا ہی نہیں جاتا تھا، اگر اسم میں آتا بھی تھا کہاں سے نقل ہو کر آتا؟ فعل سے۔ دوسری صورت یہ کہ ایک ایسا وزن ہے جو فعل کا وزن ہے اور اسم میں بھی وہی وزن پایا جاتا ہے، جیسے دیکھو أَكْرَمَ یہ فعل ہے أَفْعَلَ وزن، تو أَفْعَلَ یہ فعل کا وزن ہے، لیکن اسی وزن پر اسمِ تفضیل بھی آتا ہے آپ نے پڑھا ہے: أَضْرَبُ، دیکھو وہی أَكْرَمَ وزن ہے یعنی أَضْرَبُ، اور أَضْرَبُ کیا ہے؟ اسمِ تفضیل۔ یا اسی طرح صفتِ مشبہ بھی اسی وزن پر آتی ہے جیسے أَسْوَدُ یا أَبْيَضُ۔ معلوم ہوا یہ أَفْعَلُ وزن فعل کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ وزنِ فعل ہے، وزن تو فعل کا ہے لیکن فعل کے ساتھ خاص نہیں، فعل میں بھی یہ وزن پایا جاتا ہے اور اسم میں بھی پایا جاتا ہے، تو اگر ایسی صورت ہو کہ وہ وزن فعل کے ساتھ ساتھ اسم میں بھی پایا جاتا ہو پھر دوسری شرط پوری ہونی چاہیے۔
دوسری شرط یہ کہ پھر اس وزن کے شروع میں حروفِ مضارع جو ہیں ان میں سے کوئی حرف ہونا چاہیے، اور مضارع کے شروع میں کون کون سے حروف آتے ہیں؟ یا ہے، تا ہے، حمزہ ہے اور نون، اور ان کا مجموعہ کیا ہے؟ أَتَيْنَ۔ تو معلوم ہوا اگر ایسا وزن ہے جو فعل کے ساتھ ساتھ اسم میں بھی پایا جاتا ہے تو اس میں پھر شرط یہ ہے کہ اس کے شروع میں حروفِ أَتَيْنَ میں سے کوئی حرف ہونا چاہیے۔ اور نیز دوسری شرط بھی آپ کو بتائیں گے کہ دوسری شرط یہ کہ اس کے ساتھ ہا نہ ملتی ہو کسی بھی حالت میں یعنی گول تا، ہا سے کیا مراد ہے؟ گول تا جو ہوتی ہے وہ نہ ملتی ہو تانیث والی۔
تو ایک اگر وہ وزن عام ہو اسم میں بھی پایا جائے فعل میں بھی پایا جائے پھر کیا ہے؟ پھر یوں کہیں، اگر وہ وزن فعل میں بھی پایا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اسم میں بھی پایا جاتا ہے تو پھر اس میں دو شرطیں ہیں: ایک شرط یہ کہ اس کے شروع میں حروفِ أَتَيْنَ میں سے کوئی حرف ہو، اور دوسری شرط یہ کہ وہ ہا کو بھی قبول نہ کرتا ہو یعنی اس کی مؤنث بنائیں تو اس کے آخر میں تا نہ آتی ہو بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟
کہتے ہیں: وَإِنْ لَمْ يُخْتَصَّ بِهِ اور اگر وہ وزن فعل کے ساتھ خاص نہیں ہے، کیا معنی خاص نہیں ہے؟ یعنی فعل میں پایا تو جاتا ہے لیکن اسی کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ اسم میں بھی وہ وزن پایا جاتا ہے فَيَجِبُ أَنْ يَكُونَ فِي أَوَّلِهِ تو پھر واجب ہے کہ ہو اس کے شروع میں، اس وزنِ فعل کے شروع میں إِحْدَى حُرُوفِ الْمُضَارَعَةِ حروفِ مضارع میں سے کوئی ایک، یعنی أَتَيْنَ میں سے کوئی ایک حرف ہو، حمزہ ہو یا تا ہو یا یاء ہو یا نون ہو، نیز دوسری شرط: وَلَا يَدْخُلُهُ الْهَاءُ اور نیز اس پر ہا بھی داخل نہ ہوتی ہو، اور میں نے بتایا ہا سے کیا مراد ہے؟ وہ گول تا ہے کیونکہ وہ حالتِ وقف میں کیا بن جاتی ہے؟ ہا بن جاتی ہے، جیسے قَائِمَةٌ اسی پر وقف کریں: قَائِمَهْ، تو دیکھیے وہ ہا بن گئی۔
كَأَحْمَدَ وَيَشْكُرَ وَتَغْلِبَ وَنَرْجِسَ چار مثالیں ذکر کر دیں: احمد کے شروع میں حمزہ ہے، یشکر کے شروع میں یا ہے، تغلب کے شروع میں تا ہے اور نرجس کے شروع میں نون ہے، تو یہ چار مثالیں۔ اور دیکھیے یہ أَفْعَلُ وزن ہے بھئی، أَفْعَلُ احمد کا، اور أَفْعَلُ وزن یہ فعل کے ساتھ ساتھ اسم میں بھی پایا جاتا ہے، اگر وہ وزن فعل کے ساتھ خاص نہ ہو یعنی فعل کے ساتھ ساتھ اسم میں بھی پایا جائے تو پھر کتنی شرطیں ہیں؟ دو: ایک تو شروع میں کیا ہے؟ حروفِ أَتَيْنَ میں سے کوئی آئے، احمد کے شروع میں بھی أَتَيْنَ میں سے ایک حرف آ رہا ہے، اور دوسری شرط کیا تھی؟ وہ ہا کو بھی قبول نہ کرے، لہٰذا اس کی مؤنث بھی أَحْمَدَةٌ نہیں آتی تو یہ بھی ہا کو قبول نہیں کرتا بھئی۔
اور اسی طرح يَشْكُرُ ہے بھئی، اور تَغْلِبُ ہے اور نَرْجِسُ ہے، تو دیکھیے ان سب کے شروع میں حرفِ مضارع بھی ہے اور یہ ہا کو قبول بھی نہیں کرتے، لہٰذا یہ سب غیر منصرف ہیں، لہٰذا ان پر کافِ جارہ داخل ہو رہا ہے اور وہ جر دیتا ہے لیکن اس کے باوجود ان پر فتحہ آئے گا، کسرہ اور تنوین نہیں: كَأَحْمَدَ، وَيَشْكُرَ، وَتَغْلِبَ، وَنَرْجِسَ۔
فَيَعْمَلُنْ مُنْصَرِفٌ تو يَعْمَلُنْ کہتے ہیں منصرف ہے، يَعْمَلُنْ کا لفظ کیا ہے؟ منصرف۔ بھئی یہ کیوں منصرف ہے؟ بھئی اس میں وہ شرطیں پوری نہیں، دیکھیے شروع میں حروفِ أَتَيْنَ میں سے کیا ہے؟ یا، يَعْمَلُنْ یہ فعل نہیں ہے تنوین آ رہی ہے اور تنوین کس کا خاصہ ہے؟ اسم کا، تو یہ اسم میں بھی وزن آیا، تو یہ وزن اسم میں بھی پایا جاتا ہے تو پھر کیا ضروری تھا؟ وزنِ فعل ہو، فعل کے ساتھ ساتھ اسم میں بھی پایا جائے تو شروع میں حروفِ أَتَيْنَ میں سے کوئی آنا چاہیے اور اس کے شروع میں کیا حروفِ أَتَيْنَ میں سے یا موجود ہے، اور دوسری شرط کیا تھی؟ کہ یہ ہا کو قبول نہ کرے، لیکن یہ شرط یہاں پوری نہیں، یہ ہا کو قبول کر لیتا ہے۔ يَعْمَلُنْ کہتے ہیں بہت کام کرنے والا اونٹ، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مثلاً جَمَلٌ يَعْمَلٌ، بہت کام کرنے والا اونٹ، اور اسی کی مؤنث کیا آتی ہے؟ يَعْمَلَةٌ، نَاقَةٌ يَعْمَلَةٌ، بہت کام کرنے والی اونٹنی، تو دیکھو یہ تو ہا کو قبول کر رہا ہے یعنی گول تا کو قبول کر رہا ہے، اور ہم نے تو کیا کہا تھا یہ ہا کو قبول نہ کرے۔
تو کہتے ہیں: فَيَعْمَلُنْ مُنْصَرِفٌ تو يَعْمَلُنْ منصرف ہے لِقَبُولِهَا الْهَا ہا کو قبول کرنے کی وجہ سے، كَقَوْلِهِمْ جیسے کہ عربوں کا قول ہے: نَاقَةٌ يَعْمَلَةٌ بہت کام کرنے والی اونٹنی، ناقہ اونٹنی کو کہتے ہیں۔
اچھا بھئی یہ اسبابِ صرف مکمل ہوئے، بھئی سب کو دہرا لیں، بھئی سب کو جلدی جلدی دہرا لیا کرو، خوب پختہ کرتے جاؤ ان کو بھئی، خوب پختہ۔ اسبابِ منعِ صرف میں سب سے پہلے آپ نے عدل پڑھا، عدل کا معنی ہوتا ہے پھیرنا، اور اصطلاح میں کسے کہتے ہیں؟ کہ لفظ کو پھیرنا اس کے صیغۂ اصلیہ سے دوسرے صیغے کی طرف، اور صیغۂ اصلیہ کسے کہتے ہیں؟ جس کا قانون تقاضا کر رہا ہو، اس سے پھیر کر ایک نیا وزن بنا لینا، اور یہ دو قسم پر ہے: عدلِ تحقیقی اور عدلِ تقدیری۔ عدلِ تحقیقی اسے کہتے ہیں جس کی ہمارے پاس کوئی دلیل موجود ہو، عدلِ تقدیری وہ ہے جس کی ہمارے پاس کوئی دلیل موجود نہ ہو بھئی۔ اور پھر آپ نے پڑھا تھا کہ یہ وزنِ فعل کے ساتھ جمع نہیں ہوتا کیونکہ عدل کے اپنے چھ اوزان ہیں اور فعل کے اپنے اوزان، تو یہ جمع نہیں ہوتے، ہاں البتہ یہ علم کے ساتھ بھی جمع ہو جاتا ہے یہ عدل اور وصف کے ساتھ بھی۔ علم کے ساتھ جمع ہو جیسے عُمَرُ اور زُفَرُ، اور وصف کے ساتھ جمع ہو جیسے ثُلَاثُ اور مَثْلَثُ اور جُمَعُ اور أُخَرُ۔
اس کے بعد آپ نے وصف کے بارے میں پڑھا کہ وہ علم کے ساتھ جمع نہیں ہوتا، وجہ میں نے اس کی آپ کو بتلائی تھی کہ وصف جو ہے وہ ذاتِ مبہم پر دلالت کرتا ہے اور علم جو ہے ذاتِ معین پر دلالت کرتا ہے، تو یہ دونوں جمع نہیں ہو سکتے اس لیے کیونکہ مبہم ہونا اور معین ہونا ایک دوسرے کی ضد ہیں، ایک آئے گی چیز تو دوسری نہیں آ سکتی۔ اور پھر آپ نے پڑھا تھا کہ وصف سبب بنے گا غیرِ انصراف کا لیکن اس کے لیے شرط ہے کہ وہ اصلِ وضع میں کیا ہونا چاہیے؟ وصف ہونا چاہیے، اگر اصلِ وضع میں وہ وصف نہیں تھا بعد میں اگر وہ وصف بن بھی جائے تو اس کا کوئی اعتبار نہیں وہ اثر نہیں دکھائے گا۔
اور اس کے بعد آپ نے تانیث کے بارے میں پڑھا، تانیث میں نے آپ کو بتلایا کہ دو قسم پر ہے: ایک تانیثِ لفظی اور ایک تانیثِ معنوی۔ تانیثِ لفظی وہ ہے جہاں لفظوں میں تانیث کی علامت ہو یعنی باقاعدہ ہم اس پر کیا کریں؟ تلفظ کریں، لفظی کا معنی جس پر تلفظ کیا جائے، سننے سے ہی دوسرے کو پتہ چل جاتا ہے کہ اس کے آخر میں یہ حرف پڑھ رہا ہے: قَائِمَةٌ، دیکھو سننے سے ہی پتہ چل رہا ہے کہ آخر میں کیا پڑھ رہا ہوں؟ تا پڑھ رہا ہوں۔ تو یہ تانیثِ لفظی ہے اور اس کی میں نے بتلایا تین قسمیں ہیں: یا تو یہ تا کے ساتھ آئے گی تانیثِ لفظی، یا الفِ مقصورہ کے ساتھ، یا الفِ ممدودہ کے ساتھ۔ جبکہ دوسری تانیثِ معنوی ہے اور اس کی میں نے بتلایا دو صورتیں بنتی ہیں تانیثِ معنوی، یعنی لفظوں میں تو کوئی تانیث والی علامت نہیں لیکن معنی کے اعتبار سے مؤنث ہے، اور اس کی دو صورتیں: یا تو وہ مؤنث کا نام ہوگا، یا عرب اس کو کیسا استعمال کرتے ہیں؟ مؤنث استعمال کرتے ہیں یعنی مؤنثِ سماعی ہے، ہم نے عربوں سے سنا ہے اسی طرح ہے تو یہ سماع پر موقوف ہے، کوئی یہاں پر علامت وغیرہ تانیث کی نہیں۔
تو ان میں سے آپ نے پڑھا تھا کہ التانیث بالالف المقصورہ اور التانیث بالالف الممدودہ جو ہے یہ دو سببوں کے قائم مقام ہیں، ان میں کوئی شرط نہیں ہے اور یہ دو سببوں کے قائم مقام ہیں: ایک تانیث، دوسرا لزومِ تانیث بھئی۔ جبکہ تانیث بالتاء کے اندر شرط ہے کہ وہ علم ہونا چاہیے، اور تانیثِ معنوی کے اندر دو شرطیں ہیں: ایک شرط یوں کہیں، تانیثِ معنوی جو ہے یہ بھی سبب بنے گی غیرِ انصراف کا، لیکن ایک صورت میں اس کو وجوباً سبب بنے گی، ایک صورت میں وجوباً سبب بنے گی غیرِ انصراف کا اور ایک صورت میں وجوباً نہیں ہوگا، وجوباً کے لیے کہ غیر منصرف ہونے کا سبب بنے وجوباً وہ اس کی دو شرطیں ہیں: کہ وہ جس لفظ میں تانیثِ معنوی ہے وہ کیا ہونا چاہیے؟ اس میں وہ علم ہونا چاہیے، علم ہونا چاہیے، اور دوسری شرط کیا کہ تین حروف سے زائد ہو، اگر تین سے زائد نہیں تو پھر درمیان والا متحرک ہو، اور اگر درمیان والا متحرک بھی نہیں ہے تو پھر کم از کم لفظ عجمی ہونا چاہیے بھئی، عجمی ہونا چاہیے۔
تو جب ان میں سے یہ دو شرطیں پوری ہو جائیں گی تو اب تانیث اپنا اثر دکھائے گی اور لفظ کو غیر منصرف پڑھنا واجب ہوگا، لیکن اگر یہ دوسری شرط کے تین حصوں میں سے کوئی بھی صورت پوری نہ ہوئی یعنی تین حروف سے وہ زائد بھی نہیں، تانیث دوبارہ سنو: تانیثِ معنوی بھی ہے اس میں اور اس کے لیے پہلی شرط کیا تھی؟ علم ہو، اور دوسری شرط کیا تھی؟ کہ تین حروف سے زائد، یہ بھی نہیں پوری، اور دوسری درمیان والا متحرک وہ بھی نہیں ہے، تیسرا عجمی ہو، عجمی بھی نہیں ہے، تو جب ایسے لفظ آ جائے تو پھر اس کے اندر اس کو منصرف پڑھنا بھی جائز اور غیر منصرف پڑھنا بھی جائز۔ غیر منصرف پڑھنا کیوں جائز؟ کیونکہ دو سبب تو بہرحال پائے جا رہے ہیں: ایک علمیت ہے اور دوسرا تانیثِ معنوی ہے، تو دو سبب تو ہیں۔ اور لیکن اس کو منصرف پڑھنا بھی جائز کیونکہ جب دوسری شرط پوری نہیں تو لفظ کے اندر ثقل نہیں آیا ہے، جب ثقل نہیں آیا تو لفظ خفیف ہے، جب خفیف ہے تو اس پر کسرہ پڑھنا بھی جائز اور تنوین پڑھنا بھی جائز ہے۔
اس کے بعد معرفہ تھا، معرفہ جو ہے وہ سبب بنتا ہے غیرِ انصراف کا، اور اس میں سے معرفہ میں سے صرف علمیت معتبر ہے، باقی معرفہ جو ہیں اس کی قسمیں وہ معتبر نہیں وہ سبب نہیں بنیں گی، اور آپ نے یہ بھی پڑھا کہ یہ وصف کے علاوہ باقیوں کے ساتھ جمع ہو جاتا ہے۔
اس کے بعد عجمہ پڑھا آپ نے، اسبابِ منعِ صرف میں سے ایک عجمہ ہے بھئی، اور عجمہ کے لیے آپ نے شرط پڑھی کہ وہ عجمی زبان میں بھی کیا ہونا چاہیے؟ علم ہونا چاہیے، اور دوسری شرط یہ کہ وہ تین حروف سے زائد ہو اور اگر زائد نہیں ہے تو پھر کم از کم درمیان والا حرف متحرک ہونا چاہیے۔
اس کے بعد اسبابِ منعِ صرف میں سے آپ نے جمع پڑھا، جمع کے اندر آپ نے پڑھا تھا کہ یہ دو سببوں کے قائم مقام ہے بھئی جمع: ایک جمعیت اور ایک لزومِ جمعیت بھئی، لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ صیغہ منتہی الجموع کے وزن پر ہو بھئی، وہ جمع کس وزن پر ہو؟ جمع منتہی الجموع کے وزن پر ہو، اور جمع منتہی الجموع کے اوزان انہوں نے آپ کو بتلا دیے کہ الفِ جمع کے بعد دو حرف آ جائیں جیسے مَسَاجِدُ، یا ایک حرفِ مشدد آ جائے جیسے دَوَابُّ، اور یا تین حروف آ جائیں جن میں سے درمیان والا ساکن ہو جیسے مَصَابِيحُ بھئی، اور نیز دوسری شرط یہ کہ یہ ہا کو بھی قبول نہ کرتا ہو، اس لیے کیونکہ اگر یہ ہا کو قبول کرے گا تو اس کی مشابہت کس کے ساتھ آ جائے گی؟ مفرد کے ساتھ، جب مفرد کے ساتھ مشابہت آ گئی تو جمع والی جانب کیا ہوئی؟ کمزور، لہٰذا اس لیے پھر یہ سبب نہیں بنے گا۔
اس کے بعد اسبابِ منعِ صرف میں سے آپ نے ترکیب پڑھی، ترکیب کا معنی تھا جوڑنا یعنی دو یا زائد حروف کو جوڑ کر ایک لفظ بنا لیا جائے، اور ترکیب کے لیے شرط یہ تھی کہ وہ لفظ علم ہونا چاہیے، جن دو تین لفظوں کو آپ نے جوڑا ہے اس کو وہ کیا ہونا چاہیے؟ علم ہونا چاہیے، لیکن اس میں اضافت بھی نہ ہو اور اسناد بھی نہ ہو، کیونکہ اگر اضافت ہوگی اضافت تو غیرِ انصراف کے منافی ہے وہ تو غیر منصرف کو بھی کیا بنا دیتی ہے؟ منصرف بنا دیتی ہے، اور اسناد بھی نہیں ہونا چاہیے اس لیے کیونکہ اسناد آئے گا تو جملہ بن جائے گا اور جملہ تو مبنی ہوتا ہے، اور ہماری بحث تو معرب کے بارے میں چل رہی ہے کیونکہ غیر منصرف معرب ہوا کرتا ہے مبنی نہیں ہوتا بھئی۔
اس کے بعد الف نون زائدتان کے بارے میں پڑھا آپ نے، کہ الف نون زائدتان یہ بھی سبب بنیں گے غیرِ انصراف کا، اور یہ الف نون زائدتان کبھی اسمِ محض میں آئیں گے کبھی وصف میں۔ اگر اسمِ محض میں آئیں تو پھر اس میں علمیت شرط ہے جیسے عِمْرَانُ اور عُثْمَانُ، اور اگر علمیت نہ ہو پھر یہ سبب نہیں بنیں گے جیسے سَعْدَانٌ اس میں الف نون زائدتان ہے لیکن یہ شرط پوری نہیں علم نہیں ہے تو یہ منصرف ہے۔ اور اگر صفت کے اندر یہ الف نون زائدتان آئے تو اس میں شرط یہ ہے کہ اس کی مؤنث فَعْلَانَةٌ وزن پر نہیں آنی چاہیے، اگر فَعْلَانَةٌ وزن پر اس اسم کی مؤنث آتی ہو جیسے نَدْمَانٌ بھئی، ندمان کی مؤنث نَدْمَانَةٌ آتی ہے ہم نے تو کہا تھا نہیں آنی چاہیے اور یہ تو آ رہی ہے لہٰذا شرط پوری نہیں، جب شرط پوری نہیں تو نَدْمَانٌ غیر منصرف نہیں بلکہ منصرف ہوگا بھئی۔ تو ندمان کا معنی ہوتا ہے ہم نشین بھئی یا اسی طرح یہ ندامت سے بھی، شرمندہ بھی، اس کا معنی ندامت کے بھی آتے ہیں اور ہم نشین کے بھی۔
اس کے بعد ہم نے آج وزنِ فعل کے بارے میں پڑھا، وزنِ فعل آپ نے پڑھا کہ یہ بھی سبب بنے گا غیرِ انصراف کا لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ یہ وزن خاص ہونا چاہیے فعل کے ساتھ، اگر اسم میں بھی پایا جائے تو کہاں سے نقل ہو کر آئے؟ فعل سے۔ اور اگر وہ وزن فعل کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ فعل کے ساتھ ساتھ اسم میں بھی وہ وزن پایا جاتا ہے تو پھر دو شرطیں پوری ہونی چاہئیں: ایک کیا کہ اس کے شروع میں کیا حروفِ أَتَيْنَ میں سے کوئی حرف ہو، اور دوسری شرط کیا کہ وہ ہا کو بھی قبول نہ کرتا ہو بھئی۔
اب آگے دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: وَاعْلَمْ أَنَّ كُلَّ مَا شُرِطَ فِيهِ الْعَلَمِيَّةُ، اب واپسی کے اسباب بیان کرنے لگے ہیں، واپسی کے، کہ اب غیر منصرف کو پھر کیسے منصرف بنا سکتے ہیں؟ اس کی کیا صورت ہے؟ غیر منصرف کو مثلاً کوئی اسم تھا اس کے اندر کتنے سبب آ گئے؟ دو سبب، تو وہ کیا بن جائے گا؟ غیر منصرف۔ اب غیر منصرف کو واپس منصرف کیسے بنائیں گے؟ وہ اب آپ کو بتلائیں گے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی سب کو؟
بھئی دیکھیے یہ جو اسبابِ منعِ صرف ہیں نا آپ نے پڑھے اسبابِ منعِ صرف، کچھ وہ ہیں جن میں علمیت شرط تھی، کچھ وہ ہیں جن میں علمیت شرط تو نہیں البتہ ان کے ساتھ جمع ہو جاتی ہے۔ کچھ کیا ہیں؟ کچھ میں علمیت شرط تھی اور کچھ وہ ہیں جن میں علمیت شرط تو نہیں لیکن ان کے ساتھ علمیت جمع ہو جاتی ہے۔ اب علمیت کس کے ساتھ جمع ہو جاتی ہے؟ شرط نہیں ہے اور جمع ہو جاتی ہے تو وہ آپ سارے پر دیکھ لیں غور کر لیجیے بھئی: ایک عدل ہے ایک وزنِ فعل ہے۔ عدل میں کوئی شرط نہیں تھی علم ہونے کی، عدل کے اندر علمیت کی شرط نہیں، یہ لکھا تھا علم کے ساتھ یہ جمع ہو جاتا ہے لیکن شرط نہیں ذکر کی گئی، اور اسی طرح وزنِ فعل کے اندر بھی یہ شرط ذکر نہیں کہ علم ہونا ضروری، یہ شرط نہیں۔ ہاں البتہ ان کے ساتھ علمیت جمع ہو جاتی ہے۔ تو دیکھیے ایک لفظ تھا اس کے اندر علمیت بھی تھی اور اس میں عدل بھی تھا۔ کون سے دو سبب ہیں ایک لفظ ہے؟ ایک علمیت، ایک عدل۔ بھئی عدل کے لیے علمیت شرط تو نہیں لیکن جمع تو ہو جاتی ہے نا اس کے ساتھ، تو جیسے عُمَرُ بھئی اس میں دو سبب کیا ہیں؟ عدل بھی ہے اور علمیت، تو اس میں سے علمیت کو ختم کر دو تو یہ منصرف بن جائے گا۔ کیا کر دو؟ علمیت جب ختم کر دو گے ایک سبب ختم ہو جائے گا اور ایک سبب رہ جائے گا عدل، اور ایک سبب کی وجہ سے تو لفظ غیر منصرف نہیں بنتا۔
مثلاً عُمَرُ ہے، عُمَرُ ایک آدمی کا نام ہے، متعین آدمی کا، تو پھر اس صورت میں غیر منصرف۔ اگر آپ دو تین کا اکٹھا ہی نام رکھ دیتے ہیں: یہ بھی عمر، یہ بھی عمر، یہ بھی عمر، تو اس صورت میں یاد رکھیے علم تو وہ ہوتا ہے جو معین ذات پر دلالت کرے، اب جب تین چار کا نام آپ نے اکٹھا ہی عمر رکھ دیا تو اب میں کہتا ہوں میرے پاس عمر آیا تھا، آپ کو پتہ چلا کون سا والا آیا تھا؟ نہیں پتہ چلے گا کیونکہ ساروں کا نام آپ نے کیا رکھا ہے؟ عمر۔ تو دیکھا علمیت ختم ہو گئی، علم تو دلالت کرتا ہے ذاتِ معین پر اور یہ تو ذاتِ معین پر دلالت نہیں کر رہا، تو علمیت ختم ہو گئی۔ جب علمیت ختم ہوئی کتنے سبب رہ گئے؟ ایک رہ گیا، اور ایک کی وجہ سے وہ غیر منصرف نہیں بنتا، لہٰذا پھر یوں کہیں گے: جَاءَنِي مَثَلًا جَاءَنِي عُمَرٌ آخَرُ، میرے پاس دوسرا عمر آیا تھا یہ والا عمر نہیں، تو عُمَرٌ پڑھ رہا ہوں، دیکھا؟ اگر غیر منصرف ہوتا تو کیا پڑھتا؟ عُمَرُ، جَاءَنِي عُمَرُ، پھر تنوین نہ آتی، لیکن اب میں کیا پڑھ رہا ہوں؟ جَاءَنِي عُمَرٌ آخَرُ، رَأَيْتُ اگر ایک کا نام ہے تو میں پڑھوں گا رَأَيْتُ عُمَرَ غیر منصرف، اور اگر میں نے کئی آدمیوں کا نام رکھا ہے علمیت ختم کر دی ہے تو کیسے پڑھوں گا؟ رَأَيْتُ عُمَرًا آخَرَ، اب تنوین آ جائے گی، اور اگر غیر منصرف ہو دیکھو جر کی حالت میں یوں پڑھوں گا: مَرَرْتُ بِعُمَرَ، مَرَرْتُ بِعُمَرَ، لیکن اگر میں نے علمیت ختم کر دی تو کیسے پڑھوں گا؟ مَرَرْتُ بِعُمَرٍ آخَرَ، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اچھی طرح؟
یا اسی طرح أَحْمَدُ، احمد میں کیا دو سبب ہیں؟ وزنِ فعل اور ایک علمیت، اس میں بھی اسی طرح ہے: جَاءَنِي أَحْمَدُ غیر منصرف، رَأَيْتُ أَحْمَدَ غیر منصرف، مَرَرْتُ بِأَحْمَدَ یہ بھی کیا ہے؟ غیر منصرف۔ اب اس میں سے علمیت ذرا ختم کر دو: جَاءَنِي أَحْمَدٌ آخَرُ، رَأَيْتُ أَحْمَدًا آخَرَ، مَرَرْتُ بِأَحْمَدٍ آخَرِيْ، دیکھا؟ یہ آخر کا لفظ بتلا رہا ہے کہ علمیت ختم ہو چکی ہے، میں کہتا ہوں جَاءَنِي أَحْمَدٌ آخَرُ، میرے پاس دوسرا احمد آیا تھا، معلوم ہوا ایک اور بھی احمد ہے، تو علمیت نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ان دو میں علمیت شرط نہیں، جمع ہو جاتی ہے ان کے ساتھ، ایک عدل ہے اور ایک وزنِ فعل ہے۔
اچھا کچھ وہ سبب تھے جن کے اندر علمیت شرط تھی، وہ کون کون سے تھے؟ ذرا ہر ایک کو دیکھتے جاؤ: عدل؟ نہیں بھئی عدل تو نہیں تھا، وصف؟ وصف کے ساتھ تو علمیت جمع ہی نہیں ہو سکتی یہ بھی نہیں، تیسرا کیا تھا؟ تانیث بالتاء، ہاں اس میں علمیت شرط تھی، اور نیز تانیثِ معنوی اس کے اندر بھی کیا تھی؟ علمیت شرط تھی۔ اور کیا آگے؟ معرفہ تو خود علمیت ہے، اس سے آگے کیا تھا؟ عجمہ میں بھی علمیت شرط تھی، جمع کے اندر کوئی علمیت کی شرط نہیں تھی، اس سے آگے چلیں؟ ترکیب کے اندر بھی علمیت شرط تھی، اور اسی طرح الف نون زائدتان، الف نون زائدتان اگر اسم میں آئیں تو پھر کیا ہے؟ علمیت شرط تھی، یہ سارے جن میں علمیت شرط ہے۔
تو ایک اسم آیا، اس میں تانیث بھی تھی، تانیث بالتاء، مثال ایک ذکر کر رہا ہوں، یہ ساروں میں یہی صورت ہے۔ علمیت بھی ایک سبب یہ ہوگا اور ایک سبب ان میں علمیت ہے، ایک سبب کیا ہے؟ علمیت، کیونکہ علمیت ان کے لیے شرط ہے نا، مثلاً قَائِمَةٌ یہ میں نے ایک عورت کا نام رکھ دیا قَائِمَةٌ، تو دیکھو تانیث بالتاء بھی ہے اور دوسری شرط تھی کہ علم ہونا چاہیے علم بھی ہے کہ یہ کیا کیا ہے ایک عورت کا نام رکھ دیا ہے، تو یوں کہیں گے: جَاءَتْنِي قَائِمَةُ، تنوین نہیں آئے گی، رَأَيْتُ قَائِمَةَ، مَرَرْتُ بِقَائِمَةَ۔ تو دو سبب کیا ہیں قائمہ میں؟ ایک تانیث ہے اور دوسرا علمیت۔ اب اس میں سے علمیت ذرا ختم کر دو، علمیت ختم کر دو، جب آپ علمیت ختم کریں گے اب اس اسم میں کتنے سبب باقی رہ گئے؟ نہیں، اب ایک بھی باقی نہ رہا۔ پچھلا جو عدل اور وزنِ فعل کے ساتھ علمیت آئی تھی وہاں علمیت ختم کرتے تھے تو عدل باقی رہ جاتا تھا اور وزنِ فعل باقی رہ جاتا تھا، عُمَرُ میں سے علمیت ختم کرو تو عدل باقی رہ گیا ایک سبب، اور اسی طرح وزنِ فعل أَحْمَدُ اس سے علمیت ختم کر دو تو پھر ایک سبب باقی رہ گیا۔
لیکن یہ والے جو سبب ذکر ہو رہے ہیں جن میں علمیت شرط ہے ان میں سے جب آپ علمیت کو ختم کریں گے تو علمیت تو ختم ہو گئی وہ دوسرا سبب وہ بھی ختم ہوا، بھئی وہ کیوں ختم ہوا؟ وجہ یہ کہ اس کے لیے علمیت شرط تھی، اور جب شرط نہیں تو مشروط بھی نہیں، وضو نہیں تو نماز بھی نہیں بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ ہاں وہ سبب بے شک وہ چیز ان میں بے شک ہے: قَائِمَةٌ میں نے اس میں سے علمیت کیا کر دی؟ ختم، اب تانیث بے شک ہے لیکن ہم ہر تانیث کی بات کر رہے ہیں یا وہ تانیث جو مؤثر بھی ہو، اثر بھی دکھائے؟ وہ تانیث جو اثر بھی دکھائے ہم تو اس کی بات کر رہے ہیں جو غیرِ انصراف کا سبب بنے، تو بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا وہ اسباب جن کے اندر علمیت شرط تھی جب اس میں سے ہم علمیت کو ختم کریں گے تو وہ دوسرا سبب بھی غیر مؤثر ہو جائے گا، وہ اپنا اثر نہیں دکھائے گا یعنی یوں کہیں وہ دوسرا سبب بھی ختم ہو جائے گا۔ اب قَائِمَةٌ جب اس میں سے میں نے علمیت ختم کر دی اب بے شک اس میں تانیث بالتاء باقی ہے لیکن یہ تانیث بالتاء سبب نہیں بن رہی، یہ مؤثر ہی نہیں، اس کا اثر ہی کوئی نہیں کیونکہ اس کے لیے تو شرط کیا تھی؟ علمیت، جب شرط نہیں تو مشروط بھی نہیں لہٰذا یہ مؤثر نہیں اثر نہیں دکھائے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟
اب دیکھیے یہ سارا یہی خود بھی بیان کریں گے: وَاعْلَمْ تو جان لے أَنَّ كُلَّ مَا شُرِطَ فِيهِ الْعَلَمِيَّةُ کہ ہر وہ، ما سے مراد سبب ہے، اسبابِ منعِ صرف کا جو سبب ذکر ہو: وَاعْلَمْ تو جان لے أَنَّ كُلَّ مَا شُرِطَ فِيهِ الْعَلَمِيَّةُ ہر وہ سبب جس کے اندر علم ہونے کی شرط لگائی گئی ہے، وہ کون کون سے ہیں جن میں علم ہونے کی شرط ہے؟ وہ خود بیان کر رہے ہیں: وَهُوَ الْمُؤَنَّثُ بِالتَّاءِ وہ مؤنث بالتاء ہے وَالْمَعْنَوِيُّ اور مؤنثِ معنوی ہے وَالْعُجْمَةُ اور عجمہ ہے وَالتَّرْكِيبُ اور ترکیب ہے وَالِاسْمُ الَّذِي فِيهِ الْأَلِفُ وَالنُّونُ الزَّائِدَتَانِ اور وہ اسم ہے جس کے اندر الف اور نون زائدتان ہیں، ان میں کیا ہے؟ علمیت شرط ہے۔ أَوْ لَمْ يُشْتَرَطْ یا ہر وہ سبب جس میں علمیت کی شرط نہیں ہے، لَمْ يُشْتَرَطْ فِيهِ ذٰلِكَ کہ اس میں علمیت کی شرط نہیں ہے وَاجْتَمَعَ مَعَ سَبَبٍ وَاحِدٍ فَقَطْ اور وہ جمع ہو گئی علمیت وہاں ایک سبب کے ساتھ صرف۔
اب ایک لفظ ہے اس میں علمیت آئی اور ساتھ صرف عدل آیا اور کوئی سبب نہیں، تو دو سبب کون کون سے ہوئے؟ علمیت اور عدل، تو جب علمیت ختم ہو جائے گی کتنا سبب رہ جائے گا؟ ایک۔ اگر تین سبب جمع ہوتے، کتنے جمع ہوتے؟ تین، تو علمیت ختم بھی ہو جاتی پھر بھی لفظ نے غیر منصرف رہنا تھا کیونکہ دو سبب تو پھر بھی موجود ہیں، اسی لیے انہوں نے کہا: وَاجْتَمَعَ مَعَ سَبَبٍ وَاحِدٍ اور جمع ہو جائے وہ علمیت ایک ہی سبب کے ساتھ، یعنی جن میں علمیت شرط نہیں ہے کون کون ہیں؟ عدل اور وزنِ فعل، تو ان میں علمیت شرط نہیں اور یہاں پر علمیت آ گئی ایک ہی سبب کے ساتھ، اور وہ کیا؟ علمیت آ گئی اور ایک سبب اس کو بنا لو نا یہ جو دو ذکر ہوئے: علمیت اور عدل، اور دوسری صورت علمیت اور وزنِ فعل، صرف یہ آئے ہیں، اب علمیت ختم کرو گے ایک لفظ ہے اس میں علمیت بھی ہے اور عدل بھی ہے تو علمیت جمع ہوئی ہے ایک سبب کے ساتھ، تو علمیت ختم کرو گے تو کتنے سبب رہ جائیں گے؟ ایک۔ اور اگر علمیت کے ساتھ علمیت بھی ہوتا، عدل بھی ہوتا اور فرض کرو فرض کرو کوئی ایک اور سبب بھی ہوتا تو کتنے سبب تھے؟ تین، جب تین تھے تین میں سے آپ علمیت کو ختم بھی کر دیتے پھر بھی کتنے سبب رہ جاتے؟ دو، پھر تو اس نے غیر منصرف ہی پڑھنا تھا، غیر منصرف ہی باقی رہنا تھا، اور ہم تو بات کر رہے ہیں کہ غیر منصرف کیا بن جائے؟ منصرف، معلوم ہوا علم جمع ہوگا ایک سبب کے ساتھ، دو کے ساتھ نہیں، دو کے ساتھ آیا پھر چاہے اس میں سے علمیت ختم بھی کر دو وہ پھر بھی کیا رہے گا؟ غیر منصرف، اور ہم کس کی بات کر رہے ہیں؟ منصرف کہ وہ منصرف بن جائے، اور منصرف کب بنے گا؟ جب علمیت کے ساتھ ایک سبب آیا ہو، اب علمیت کو ختم کریں گے تو کتنے باقی رہ جائیں گے؟ ایک، تو لفظ کیا بن جائے گا؟ منصرف۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔
یہ معنی ہے: وَاجْتَمَعَ مَعَ سَبَبٍ وَاحِدٍ اور وہ جمع ہو جائے علمیت ایک ہی سبب کے ساتھ صرف، وَهُوَ الْعَلَمُ الْمَعْدُولُ وَوَزْنُ الْفِعْلِ اور وہ کیا ہے؟ جن میں علمیت شرط نہیں اور جمع ہو جاتی ہے ایک ہی سبب کے ساتھ: وَهُوَ الْعَلَمُ الْمَعْدُولُ وہ علم ہے جس میں عدل کیا گیا ہو، علمیت بھی دیکھو آ گئی اور اس میں معدول جس میں عدل کیا گیا ہے، جیسے عُمَرُ اس میں عدل ہے یا نہیں؟ جب عدل ہے تو اس کو کہیں گے اسمِ معدول، کیا کہیں گے؟ یہ اسمِ معدول ہے، اور یہ علم بھی ہے تو اب یوں کہو یہ علمِ معدول ہے، یہ کیا ہے؟ علم، تو یہ دیکھا اس لیے کہا: وَهُوَ الْعَلَمُ الْمَعْدُولُ وہ علمِ معدول ہے وَوَزْنُ الْفِعْلِ اور کیا ہے؟ وزنِ فعل ہے۔ یہ دو ان میں علمیت شرط، دوبارہ ادھر سنو، ان دو میں علمیت شرط نہیں اور علمیت جمع ہو گئی ان میں سے ایک سبب کے ساتھ، تو جب علمیت کو ختم کریں گے تو باقی کتنا رہ جائے گا؟ ایک، تو وہ کیا بن جائے گا؟ منصرف۔
اسی لیے کہا یہ سارے اسماء جو ہیں کچھ میں علمیت کیا تھی؟ شرط، کچھ میں علمیت شرط نہیں تھی۔ تو جب ان میں علمیت آ گئی چاہے شرط ہے چاہے شرط نہیں، ان میں جب علمیت آ گئی اس کو پھر کیا بنا دو؟ علمیت ختم کر دو یعنی اس کو نکرہ بنا دو، جب علمیت ختم ہوگی تو کیا بن جائے گا؟ علم تو معرفہ کی قسم ہے نا، جب علمیت نکالو گے تو کیا رہ جائے گا؟ نکرہ رہ جائے گا، تو اسی لیے کہا: إِذَا نُكِّرَ صُرِفَ جب ان کو نکرہ بنا دیا جائے گا تو یہ منصرف ہو جائیں گے۔ جب ان کو کیا بنا دیا جائے؟ نکرہ، کیا معنی ہے نکرہ بنانے کا؟ یعنی علمیت ختم کر دی۔ لفظ معرفہ ہوگا یا نکرہ، دو ہی صورتیں ہیں نا، یا معرفہ ہوگا یا نکرہ، اور معرفہ ہے مثلاً علم، جب آپ نے علمیت ختم کر دی تو یہ معرفہ سے نکل کے کس میں چلا گیا؟ نکرہ بن گیا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں نُكِّرَ سے کیا مراد ہے؟ اس میں سے علمیت ختم کرنا۔ تو کہتے ہیں اسی لیے: إِذَا نُكِّرَ صُرِفَ جب ان کو نکرہ بنا دیا جائے تو یہ منصرف ہو جائیں گے۔
اور میں نے کیا تفصیل بتائی؟ جن میں علمیت شرط تھی وہ بھی منصرف بن جائیں گے جب علمیت ختم کر دو، کچھ میں علمیت شرط نہیں تھی وہاں سے بھی علمیت ختم کرو تو کیا بن جائیں گے؟ منصرف، دونوں منصرف بنیں گے لیکن دونوں میں فرق آئے گا۔ فرق کیا؟ جن میں علمیت شرط تھی وہ بغیر کسی سبب کے رہ گئے، کیونکہ علمیت ختم، علمیت تو آپ نے ختم کی اور علمیت دوسرے سبب کے لیے بھی شرط تھی تو شرط ختم تو مشروط بھی ختم، تو دوسرا سبب بھی کیا ہوا؟ ختم۔ معلوم ہوا وہ بغیر کسی سبب کے رہ گئے اور عدل اور وزنِ فعل ان میں تو علمیت شرط نہیں تھی، اس میں سے علمیت ختم بھی کر دو ایک سبب تو باقی رہ گیا۔ تو نکرہ سب بن جائیں گے لیکن کچھ وہ ہیں جو ایک سبب کے ساتھ رہ جائیں گے باقی اور کچھ وہ ہیں جن میں پھر کوئی بھی سبب نہیں رہے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: إِذَا نُكِّرَ صُرِفَ جب اس کو نکرہ بنا دیا جائے تو یہ منصرف ہو جائے گا، أَمَّا فِي الْقِسْمِ الْأَوَّلِ فَلِبَقَاءِ الِاسْمِ بِلَا سَبَبٍ باقی پہلی قسم کے اندر، پہلی قسم کون سی تھی جس میں علمیت شرط تھی، وہ منصرف بن جائے گا: فَلِبَقَاءِ الِاسْمِ بِلَا سَبَبٍ اس وجہ سے کہ اسم باقی رہ گیا بغیر کسی سبب کے۔ علمیت آپ نے ختم کی اور دوسرا سبب خود ختم ہو گیا، کیوں ختم ہوا؟ کیونکہ شرط ختم، جب شرط ختم تو مشروط بھی ختم، اسی لیے کہا: أَمَّا فِي الْقِسْمِ الْأَوَّلِ فَلِبَقَاءِ الِاسْمِ بِلَا سَبَبٍ باقی پہلی قسم کے اندر اس اسم کا باقی رہ جانا بغیر کسی سبب کے، وَأَمَّا فِي الثَّانِي فَلِبَقَائِهِ عَلَى سَبَبٍ وَاحِدٍ اور باقی دوسری قسم میں وہ اسم کے باقی رہنے کی وجہ سے ایک ہی سبب پر، وہ ایک ہی سبب رہ گیا، وہ کس میں تھا؟ عدل اور وزنِ فعل میں۔ بات بھی سب کو سمجھ میں آئی کہ مشکل ہے؟ کچھ اسباب میں علمیت شرط، کچھ میں علمیت جمع تو ساتھ ہو جاتی ہے لیکن شرط نہیں، جن میں علمیت شرط اس میں سے جب علمیت کو ختم کریں گے تو دوسرا سبب بھی کیا ہو جائے گا؟ ختم، تو اسم منصرف بن گیا لیکن اب اس میں کوئی ایک سبب ہے یا دونوں ہی ختم ہو گئے؟ دونوں ہی ختم، تو اسم منصرف بن گیا بغیر کسی سبب کے یعنی اس میں اب کوئی بھی سببِ غیرِ انصراف باقی نہیں، اور کچھ کے اندر علمیت شرط تو نہیں تھی البتہ جمع ہو جاتی تھی اس میں سے جب علمیت ختم کریں گے تو اسم منصرف بن جائے گا لیکن ابھی بھی اس میں ایک سبب باقی رہے گا۔
یہ معنی ہے: وَأَمَّا فِي الثَّانِي فَلِبَقَائِهِ عَلَى سَبَبٍ وَاحِدٍ اور باقی دوسرے کے اندر وہ اسم کے باقی رہنے کی وجہ سے ایک ہی سبب پر، تَقُولُ آپ کہتے ہیں: جَاءَنِي طَلْحَةُ دیکھو غیر منصرف پڑھ رہا ہوں کیونکہ علم ہے، اور آپ کہتے ہیں: وَطَلْحَةٌ آخَرُ ای جَاءَنِي طَلْحَةٌ آخَرُ، یہ آخر کا لفظ کیا بتلا رہا ہے؟ میرے پاس دوسرا طلحہ آیا تھا، معلوم ہوا دو یا تین یا چار کا نام آپ نے کیا رکھا ہے؟ طلحہ۔ تو علم تو معین ذات پر دلالت کر رہا ہے اب یہ معین ذات پر دلالت نہیں کر رہا تو معلوم ہوا آپ نے علمیت ختم کر دی، جب علمیت ختم کر دی تو طلحہ کیا بن گیا؟ منصرف، اسی لیے کہا: جَاءَنِي طَلْحَةٌ آخَرُ، تنوین آ گئی۔ اور اب آپ مجھے بتائیے طَلْحَةٌ کے اندر علمیت آپ نے ختم کر دی اور دوسرا سبب کیا تھا؟ تانیث بالتاء، وہ بھی اب سبب نہیں، وہ بھی ختم ہوئی۔ تانیث بے شک ہے لیکن ہم ہر تانیث کی بات نہیں کر رہے ہم تو وہ تانیث جو غیر منصرف ہونے کے اندر مؤثر بھی ہو، اور وہ کیا تھا کہ تانیث بالتاء کے لیے کیا شرط تھی؟ علمیت، جب علمیت ختم تو تانیث بالتاء بھی غیر مؤثر ہو گئی، تانیث بے شک ہے لیکن غیر مؤثر ہے یعنی کوئی سبب نہیں بن رہی۔
وَقَامَ عُمَرُ دیکھا غیر منصرف ہے، علم ہے، پھر علمیت ختم کر دی: عُمَرٌ آخَرُ، یوں کہتے ہیں: قَامَ عُمَرٌ آخَرُ، دیکھو علمیت ختم تو یہ منصرف بن گیا، اور اب اس میں ایک سبب ہے عدل کیونکہ عدل میں شرط نہیں تھی علمیت۔
وَضَرَبَ أَحْمَدُ یہ غیر منصرف ہے علمیت ابھی ہے، اب علمیت ختم کرو: وَأَحْمَدٌ آخَرُ ای ضَرَبَ أَحْمَدٌ آخَرُ، یہ وزنِ فعل کی مثال، ایک سبب ابھی اس میں باقی ہے۔
بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ مشکل تو نہیں؟ آسان بحث ہے، اتنی لمبی میں نے اس بار بار تکرار کروایا اس کا اچھی طرح تکرار کرو، اگر پھر بھی کوئی مشکل لگے تو پھر مجھے بتائیے۔
کچھ میں ایک سبب باقی رہ جائے گا، کچھ میں ایک بھی سبب باقی نہیں رہے گا۔ ایک سبب کس میں رہے گا؟ عدل اور وزنِ فعل، یہ یوں کہو وہ اسباب جن میں علمیت شرط نہیں، اور کچھ میں کوئی بھی سبب نہیں رہے گا یہ کون سے اسباب ہیں جن میں علمیت شرط تھی۔
چلیے بس بھئی، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔