Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

هداية النحو جديد · dars-012

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 19 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 44
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وَبِالْمُضَافِ إِلَى يَاءِ الْمُتَكَلِّمِ غَيْرَ جَمْعِ الْمُذَكَّرِ السَّالِمِ، كَغُلَامِي. تَقُولُ: جَاءَنِي عَصًا وَغُلَامِي، وَرَأَيْتُ عَصًا وَغُلَامِي، وَمَرَرْتُ بِعَصًا وَغُلَامِي. اَلسَّامِنُ: أَنْ يَكُونَ الرَّفْعُ بِتَقْدِيرِ الضَّمَّةِ، وَالْجَرُّ بِتَقْدِيرِ الْكَسْرَةِ، وَالنَّصْبُ بِالْفَتْحَةِ لَفْظًا، وَيُخْتَصُّ بِالْمَنْقُوصِ. اَلتَّاسِعُ: أَنْ يَكُونَ الرَّفْعُ بِتَقْدِيرِ الْوَاوِ، وَالنَّصْبُ وَالْجَرُّ بِالْيَاءِ لَفْظًا، وَيُخْتَصُّ بِجَمْعِ الْمُذَكَّرِ السَّالِمِ مُضَافًا إِلَى يَاءِ الْمُتَكَلِّمِ، تَقُولُ: جَاءَنِي مُسْلِمِيَّ. تَقْدِيرُهُ مُسْلِمُويَ، اِجْتَمَعَتِ الْوَاوُ وَالْيَاءُ، وَالْأُولَى مِنْهُمَا سَاكِنَةٌ، فَقُلِبَتِ الْوَاوُ يَاءً، وَأُدْغِمَتِ الْيَاءُ فِي الْيَاءِ، وَأُبْدِلَتِ الضَّمَّةُ بِالْكَسْرَةِ لِمُنَاسَبَةِ الْيَاءِ، فَصَارَ مُسْلِمِيَّ. وَرَأَيْتُ مُسْلِمِيَّ، وَمَرَرْتُ بِمُسْلِمِيَّ. اچھا بھئی، اعراب کے اعتبار سے اسم کی اقسام ہم پڑھ رہے ہیں اور یہ ساتویں قسم اس وقت بیان ہو رہی ہے بھئی، ساتویں قسم۔ ساتویں قسم میں انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ساتویں قسم یہ ہے کہ اس کا رفع تقدیرِ ضمہ کے ساتھ ہو، نصب تقدیرِ فتحہ کے ساتھ ہو، اور جر تقدیرِ کسرہ کے ساتھ ہو۔ معلوم ہوا اس قسم کے اندر تینوں حالتوں میں اعراب تقدیری آئے گا، یعنی آخر بدلے گا نہیں، تقدیراً رفع، نصب، جر ہوگا۔ اور تقدیراً کا کیا معنی میں نے بتلایا تھا؟ فرض کر کے، فرض کر لیا جائے گا حالت بدل رہی ہے بھئی، اگرچہ درحقیقت بدل نہیں رہی لفظوں کے اعتبار سے بھئی، لیکن فرض تو اس کو کہہ دیتے ہیں تقدیراً بدل رہی ہے حالت، تقدیراً اس وقت اس پر رفع ہے، اس وقت اس پر نصب ہے، اس وقت اس پر جر ہے۔ اور بتلایا تھا یہ اعراب خاص ہے اسمِ مقصور کے ساتھ بھئی، اسمِ مقصور۔ اور اسمِ مقصور میں نے آپ کو بتلایا کہ وہ اسم ہے جس کے آخر میں الفِ مقصورہ ہو، الفِ مقصورہ۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ الف دو قسم پر ہے: ایک الفِ مقصورہ اور ایک الفِ ممدودہ۔ الفِ مقصورہ یہ عام الف بھئی، جس کو زیادہ لمبا نہیں کرنا پڑتا، یہ الفِ مقصورہ کہلاتا ہے۔ اور بعض اوقات الفِ ممدودہ ہوتا ہے اور وہ عموماً کہ الف کے بعد ہمزہ آ جائے، تو اس الف کو پھر خوب لمبا کیا جاتا ہے بھئی، جیسے قرآن میں بھی ہے: بَنِي إِسْرَائِيلَ، اب یہ إِسْرَائِيلَ، را کے بعد الف اور الف کے بعد ہمزہ، تو اس الف کو خوب لمبا کرتے ہیں اس طرح کے الف کو۔ تو وہ اسم ہے اسمِ مقصور جس کے آخر میں الفِ مقصورہ ہو، كَعَصًا جیسے کہ عَصًا ہے۔ اور اس پر میں نے بتلایا تھا آپ کو، آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا عَصًا، عصا کے آخر میں تو الف ہم پڑھ ہی نہیں رہے، تنوین آ رہی ہے: عَصًا، عَصًا۔ تو میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ الف تقدیراً یہاں موجود ہے اور اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے گر گیا ہے، اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے اگرچہ گر چکا ہے اس وقت لیکن تقدیراً موجود ہے یعنی فرض کر لیا جائے گا کہ الف ابھی بھی کیا ہے؟ موجود ہے۔ اور اصل میں یہ کیا تھا؟ عَصَوٌ، واوی ہے واوی ہے، آخر میں واؤ تھا۔ تو یہ اصل میں تھا عَصَوٌ۔ اب دیکھو واؤ متحرک ہے اور ماقبل صاد پہ کیا ہے؟ فتحہ ہے، لہٰذا اس واؤ کو کس سے بدل دیا؟ الف سے، الف سے، اور اس واؤ پر تنوین بھی تھی اور تنوین کس چیز کا نام ہے؟ نونِ ساکن، عَصَوٌ تھا نا تو تنوین بھی تھی، وہ نونِ ساکن وہ تو ابھی بھی موجود ہے، اور اس واؤ کو کس سے بدل دیا؟ الف سے، تو اب کیا بن گیا؟ عَصَانْ۔ واؤ پر واؤ اور آخر میں کیا تھی؟ تنوین بھی تھی، اور تنوین کس کا نام؟ نونِ ساکن، وہ نونِ ساکن تو اپنی جگہ ہے اور اس واؤ کو کس سے بدل دیا؟ الف سے، تو الف بھی ساکن نون بھی ساکن، کیا بن گیا؟ عَصَانْ۔ تو یہ کون سا اجتماعِ ساکنین ہوا؟ علی حدہ یا علی غیر حدہ؟ علی غیر حدہ۔ علی حدہ میں تو ضروری تھا کہ اول ساکن حرفِ مدہ ہو، ٹھیک ہے یہاں پر اول ساکن عَصَانْ الف ہے وہ حرفِ مدہ ہے، لیکن دوسری شرط پوری نہیں کہ ثانی ساکن کو کیا ہونا چاہیے؟ مدغم ہونا چاہیے، وہ تو نونِ ساکن ہے وہاں تو کوئی ادغام نہیں ہے، کوئی شد نہیں ہے، لہٰذا معلوم ہوا یہ اجتماعِ ساکنین علی غیر حدہ ہے۔ اور جب اجتماعِ ساکنین علی غیر حدہ ہو تو پھر کیا کرتے ہیں؟ اگر اول ساکن حرفِ مدہ ہو تو اس کو گرا دیتے ہیں، تو اس الف کو گرا دیا، تو کیا رہ گیا؟ عَصًا، دیکھا؟ اب بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہاں تو اسی لیے میں نے کہا كَعَصًا، یہ صاد پر تنوین ہونی چاہیے بھئی، تنوین: كَعَصًا، اور یہاں پر الف کیا ہے؟ تقدیراً ابھی بھی موجود ہے، یوں سمجھو فرض کر لو ابھی بھی موجود ہے، صرف ایک مجبوری کی وجہ سے گرا اور وہ مجبوری کیا تھی؟ اجتماعِ ساکنین آ رہا تھا، اجتماعِ ساکنین کس کے درمیان؟ الف اور نونِ تنوین کے درمیان بھئی، تو وہ الف گر گیا۔ اب بات سمجھ میں آ گئی؟ تو عَصًا اصل میں اسمِ مقصور ہے، اس کے آخر میں کیا موجود ہے؟ الف موجود ہے اور تقدیراً ہے، فرض کر لو اگرچہ اس وقت گر چکا ہے لیکن یوں سمجھیں گویا ابھی بھی موجود ہے، یوں فرض کر لیں ابھی بھی موجود ہے۔ کیوں فرض کر لیں؟ کیونکہ بھئی وہ مجبوری کی بنا پر گرا ورنہ تو یہاں الف موجود ہے بھئی، حقیقت میں موجود تھا یا نہیں تھا؟ حقیقت میں موجود تھا، صرف اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے گر گیا وہ۔ تو یہ الف تقدیراً یہاں موجود ہے۔ ہاں اگر اس پر الف لام آ جائے تو پھر یہ الف نہیں گرتا جیسے اَلْعَصَا، اب اَلْعَصًا نہیں پڑھیں گے: اَلْعَصَا، اب دیکھو الف ہے، کیوں؟ کیونکہ الف لام اور تنوین جمع نہیں ہوتے، جب الف لام آیا آخر سے تنوین گر گئی۔ تو اصل میں کیا تھا؟ عَصَوٌ، اب اس پر ذرا الف لام لے آؤ: اَلْعَصَوُ، تنوین گر گئی۔ اَلْعَصَوُ، اب واؤ ماقبل فتحہ اس کو کس سے بدلا؟ الف سے: اَلْعَصَا، اب تنوین ہے نہیں لہٰذا وہ الف گرے گا بھی نہیں۔ اور بھی میں نے مثالیں ذکر کی تھیں جیسے مَعْنًى، الف لام ہو تو پڑھیں گے اَلْمَعْنَى، اور اگر الف لام نہ ہو تو کیا پڑھیں گے؟ مَعْنًى۔ تو آپ یہ نہ کہیں کہ یہ اسمِ مقصور نہیں ہے، مَعْنًى یہ بھی اسمِ مقصور ہے البتہ کیا کہیں گے؟ الف کیا ہے یہاں پر؟ تقدیراً موجود ہے۔ اسی طرح فَتًى، الف لام ہو تو پڑھتے ہیں اَلْفَتَى، اور ویسے پڑھتے ہیں فَتًى، فتى کا معنی جوان بھئی، فا، تا دو نقطوں والی اور یا اس کے ساتھ لکھتے ہیں، تو یہ جوان کو کہتے ہیں۔ تو یہ اب الف لام آئے گا تو اس کو پڑھیں گے اَلْفَتَى، اور اگر الف لام نہیں ہوگا تو کیا پڑھیں گے؟ فَتًى۔ اور آپ سے کوئی پوچھے یہ کون سی قسم ہے؟ آپ فوراً کہیں گے یہ اسمِ مقصور ہے، اور وہ اگر اشکال کرے کہ اس کے آخر میں تو الف ہے ہی نہیں تو آپ کیا جواب دیں گے کہ الف تقدیراً موجود ہے بھئی۔ اسی لیے انہوں نے کہا كَعَصًا بھئی، كَعَصًا۔ ہاں اگر اس پر الف لام ہوتا تو پھر اس کو ہم اَلْعَصَا پڑھتے: كَالْعَصَا۔ تو اس کا اعراب تینوں حالتوں میں تقدیری ہوگا: جَاءَنِي اگر الف لام کے بغیر پڑھتے ہیں جَاءَنِي عَصًا، رَأَيْتُ عَصًا، وَمَرَرْتُ بِعَصًا۔ اور اگر الف لام ہو پھر وہ الف ظاہر ہوگا: جَاءَنِي الْعَصَا، رَأَيْتُ الْعَصَا، وَمَرَرْتُ بِالْعَصَا۔ وَبِالْمُضَافِ إِلَى يَاءِ الْمُتَكَلِّمِ اور یہ اعراب خاص ہے اس اسم کے ساتھ جو مضاف ہو رہا ہو إِلَى يَاءِ الْمُتَكَلِّمِ، کس کی طرف؟ یائے متکلم کی طرف بھئی۔ بھئی متکلم کے لیے یا کی ضمیر آتی ہے، مثلاً کِتَابٌ، میں کہنا چاہتا ہوں میری کتاب تو کیا کہوں گا؟ كِتَابِي، كِتَابِي۔ تو وہ اسم جو مضاف ہو رہا ہو یائے متکلم کی طرف، غَيْرَ جَمْعِ الْمُذَكَّرِ السَّالِمِ، یہ حال ہے بھئی، اس حال میں کہ وہ جمع مذکر سالم کے علاوہ ہو۔ وہ جو اسم مضاف ہو رہا ہے دیکھیے یہ ایک اسم ہے، اس کے بعد یا آ رہی ہے، یہ اسم اس یا کی طرف کیا ہو رہا ہے؟ مضاف، لیکن یہ اسم جو یا کی طرف مضاف ہے جمع مذکر سالم کے علاوہ کوئی اور اسم ہونا چاہیے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اول کیا ہے؟ وہ اسم، پھر اس کے بعد کیا ہے؟ یا۔ تو اس یا سے جو ماقبل اسم جو آیا یہ کوئی بھی اسم ہو سوائے کس کے؟ جمع مذکر سالم۔ جمع مذکر سالم نہ ہو، وہ اگر یا کی طرف مضاف ہو رہا ہو اس کا یہ اعراب نہیں ہے، وہ آگے نویں قسم میں وہ بیان کریں گے اس کو بھئی۔ تو جمع مذکر سالم کے علاوہ کوئی اسم جب مضاف ہو یائے متکلم کی طرف تو اس کا بھی اعراب اسی طرح ہے یعنی تینوں حالتوں میں تقدیری ہے: رفع تقدیرِ ضمہ کے ساتھ، نصب تقدیرِ فتحہ کے ساتھ، اور جر تقدیرِ کسرہ کے ساتھ، جیسے غُلَامِي یا كِتَابِي۔ تو غلام کس کی طرف مضاف ہے؟ یائے متکلم کی طرف، تو یہ تینوں حالتوں میں اسی طرح رہے گا: جَاءَنِي غُلَامِي، رَأَيْتُ غُلَامِي، مَرَرْتُ بِغُلَامِي۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ غُلَامِي کے میم کے نیچے جو ہم زیر پڑھ رہے ہیں یہ اعراب نہیں ہے، یہ حرکت ہے اس کی، کیونکہ یا ہے اس کے بعد اور یا اپنے سے ماقبل کیا چاہتی ہے؟ کسرہ، اس لیے اس پر کسرہ ہم پڑھ رہے ہیں میم پر، یہ اعراب نہیں ہے، اسی لیے کہا تینوں حالتوں میں اس کا اعراب کیا ہوگا؟ تقدیری ہوگا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَبِالْمُضَافِ إِلَى يَاءِ الْمُتَكَلِّمِ اور وہ اسم جو مضاف ہو رہا ہو یائے متکلم کی طرف، غَيْرَ جَمْعِ الْمُذَكَّرِ السَّالِمِ اس حال میں کہ وہ جمع مذکر سالم کے علاوہ ہو، كَغُلَامِي جیسے کہ غُلَامِي بھئی۔ تَقُولُ: جَاءَنِي عَصًا وَغُلَامِي۔ اچھا یہ ایک عبارت کی بات یاد رکھیں، جگہ جگہ یہ عبارت اس طرح آ رہی ہے: جَاءَنِي عَصًا وَغُلَامِي، اس کو اب اس طرح نہیں پڑھنا: جَاءَنِي عَصًا وَغُلَامِي، یوں نہیں پڑھنا۔ یہ واؤ سے پہلے عَصًا، عصا کے آخر میں کیا پڑھ رہے ہیں ہم؟ تنوین، نونِ ساکن ہے، اور اس نونِ ساکن کے بعد واؤ آ رہا ہے، سمجھ میں آیا؟ تو یہ عبارتوں میں جگہ جگہ آ رہا ہے، یاد رکھیے ایک ضابطہ بھئی صرف کا کہ حروفِ یرملون سے پہلے اگر نونِ ساکن آ جائے تو اس کو اسی حرف کی جنس سے بدل کر اس میں ادغام کیا جاتا ہے بھئی۔ کس سے پہلے؟ حروفِ یرملون: یا، را، میم، لام، واؤ، نون۔ ان سے پہلے اگر نونِ ساکن آ جائے، ان چھ سے پہلے نونِ ساکن آ جائے تو اس نون کو بھی اسی بعد والے جو حرف آ رہا ہے اسی جیسا بنا دیں گے، اس میں بدل دیں گے اور پھر اس کا ادغام کر دیں گے۔ تو يَرْمُلُونَ: یا، را، میم، لام، واؤ، نون۔ اچھا، اب یہاں دیکھیے بھئی: جَاءَنِي عَصًا وَغُلَامِي، واؤ آ گیا بھئی، وَغُلَامِي، اور واؤ حروفِ یرملون میں سے ہے کہ نہیں ہے؟ یرملون، دیکھو واؤ آ رہا ہے، یہ اس میں سے ہے واؤ، اور اس واؤ سے پہلے نونِ ساکن آ رہا ہے: عَصًا۔ تو اس نون کو بھی اسی حرف کی جنس سے بدلتے ہیں تو اس نون کو واؤ سے بدلا اور اس کا واؤ میں ادغام کر دیا، تو کیسے پڑھیں گے؟ جَاءَنِي عَصَوَّغُلَامِي، جَاءَنِي عَصَوَّغُلَامِي، وَرَأَيْتُ عَصَوَّغُلَامِي، وَمَرَرْتُ بِعَصَوَّغُلَامِي۔ تو یہ عبارت میں اس طرح بہت زیادہ آتا ہے۔ جیسے اور پچھلی مثال نکال لیں بھئی پچھلے صفحے پر آیا تھا، پہلی قسم کی مثال آئی تھی: جَاءَنِي زَيْدٌ وَدَلْوٌ وَظَبْيٌ وَرِجَالٌ، مل گئی مثال؟ وَرَأَيْتُ زَيْدًا وَدَلْوًا وَظَبْيًا وَرِجَالًا، وَمَرَرْتُ بِزَيْدٍ وَدَلْوٍ وَظَبْيٍ وَرِجَالٍ، طریقہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ اچھا اب آئیے سبق پر۔ تو جَاءَنِي عَصًا وَغُلَامِي، وَرَأَيْتُ عَصًا وَغُلَامِي، وَمَرَرْتُ بِعَصًا وَغُلَامِي۔ اَلسَّامِنُ: آٹھویں قسم آ گئی، آٹھویں قسم۔ آٹھویں قسم یہ ہے: اَلسَّامِنُ آٹھویں قسم یہ ہے: أَنْ يَكُونَ الرَّفْعُ بِتَقْدِيرِ الضَّمَّةِ کہ رفع جو ہوگا وہ تقدیرِ ضمہ کے ساتھ ہوگا، وَالْجَرُّ بِتَقْدِيرِ الْكَسْرَةِ اور جر تقدیرِ کسرہ کے ساتھ ہوگا، وَالنَّصْبُ بِالْفَتْحَةِ لَفْظًا اور نصب فتحہ کے ساتھ ہوگا، فتحہ لفظی کے ساتھ ہوگا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ لفظ یعنی اس پر باقاعدہ ہم تلفظ کریں گے۔ بھئی ساتویں قسم میں تو رفع بھی تقدیری تھا، نصب بھی تقدیری تھا، جر بھی تقدیری تھا، لیکن آٹھویں قسم میں نصب لفظی ہوگا: رفع بھی تقدیری، جر بھی تقدیری، لیکن نصب کیا ہوگا؟ لفظی۔ لفظی کا کیا معنی؟ میں کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں، ہاں کہ ہم اس پر باقاعدہ تلفظ کریں گے، سننے سے ہی پتہ چل جائے گا کہ اس پر کیا پڑھ رہے ہیں؟ نصب۔ ورنہ باقیوں میں دیکھو تقدیراً تھا: جَاءَنِي الْعَصَا، رَأَيْتُ الْعَصَا، مَرَرْتُ بِالْعَصَا، کوئی کہیں تلفظ ہو رہا ہے کسی اعراب پہ؟ نہیں: جَاءَنِي غُلَامِي، رَأَيْتُ غُلَامِي، مَرَرْتُ بِغُلَامِي، دیکھو کہیں اعراب پر تلفظ نہیں ہو رہا تو ان کا تینوں حالتوں میں اعراب تقدیری۔ لیکن یہ جو اگلی قسم ہے آٹھویں اس کے اندر نصب کیا آئے گا؟ لفظی یعنی اس پر تلفظ کریں گے، بولنے سے ہی پتہ چل جائے گا، واضح فرق ہوگا، اور البتہ رفع اور جر کیا ہوگا؟ تقدیری ہوگا بھئی۔ وَيُخْتَصُّ بِالْمَنْقُوصِ اور یہ اعراب خاص ہے اسمِ منقوص کے ساتھ، اسمِ منقوص کے۔ اسمِ منقوص، یہ لفظ پر ہی غور کر لیں: ن، ق، ص، کیا بن رہا ہے؟ نقص یعنی ناقص، یعنی یہ ناقص ہوگا، یہ کیا ہوگا؟ ناقص ہے بھئی، لیکن عام ناقص نہیں ہے، وہ والا ناقص جس کے آخر میں یا ہو اور یا سے ماقبل کسرہ ہو، جیسے قَاضِي۔ قاضی کے آخر میں کیا ہے؟ یا، اور یا سے ماقبل کیا ہے؟ کسرہ ہے، اس کو کہتے ہیں اسمِ منقوص۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اسمِ منقوص۔ تو کہتے ہیں یہ اعراب خاص ہے بالمنقوص اسمِ منقوص کے ساتھ، خود بیان کر رہے ہیں کہتے ہیں: وَهُوَ مَا فِي آخِرِهِ يَاءٌ مَّا قَبْلَهَا مَكْسُورٌ اور وہ اسم ہے کہ اس کے آخر میں یاءٌ ایسی یا ہو مَا قَبْلَهَا مَكْسُورٌ جس کا ماقبل کیا ہو؟ مکسور ہو، كَالْقَاضِي جیسے کہ قَاضِي۔ تَقُولُ آپ کہتے ہیں: جَاءَنِي الْقَاضِي، دیکھو اَلْقَاضِي جَاءَ کے لیے فاعل بن رہا ہے اور فاعل پر کیا پڑھتے ہیں؟ رفع، لیکن میں پڑھ رہا ہوں جَاءَنِي الْقَاضِي، قَاضِيُ نہیں پڑھ رہا، یا پر میں پیش نہیں پڑھ رہا کیونکہ اس کا رفع کیا ہے؟ تقدیراً ہے۔ یاد رکھیے یہ جو یا ہے نا یا، اس پر رفع پڑھنا بھی ثقیل ہے، دشوار ہے، مشکل ہے، اور اس پر کسرہ پڑھنا بھی دشوار ہے۔ ہاں فتحہ پڑھنا آسان ہے، فتحہ۔ تو لہٰذا اس پر فتحہ جب آئے گا وہ پڑھیں گے، رفع بھی تقدیری ہوگا اور جر بھی کیا ہوگا؟ تقدیری۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یا پر، یا پر کیا پڑھنا دشوار ہے؟ ضمہ بھی اور کسرہ بھی، اور کیا پڑھنا آسان؟ فتحہ، لہٰذا فتحہ آئے گا بھئی۔ تو جَاءَنِي الْقَاضِي، دیکھا یہاں مرفوع ہے لیکن اعراب تقدیراً ہے، وَرَأَيْتُ الْقَاضِيَ یہاں قاضی مفعول بن رہا ہے اور مفعول پر نصب آتا ہے اور نصب تو اس یا پر پڑھا جا سکتا ہے اس لیے یا پر نصب آیا: رَأَيْتُ الْقَاضِيَ، وَمَرَرْتُ بِالْقَاضِي، دیکھو بِالْقَاضِي یہ یا کے نیچے زیر نہیں ہے کیونکہ یا کے اوپر کسرہ کیا ہے؟ ثقیل ہے۔ تو رفع بھی تقدیری اور جر بھی تقدیری اور نصب کیا ہے؟ لفظی ہے بھئی۔ اَلتَّاسِعُ: نویں قسم یہ ہے: أَنْ يَكُونَ الرَّفْعُ بِتَقْدِيرِ الْوَاوِ کہ رفع جو ہے وہ تقدیرِ واؤ کے ساتھ ہوگا۔ اب یہاں حرکت نہیں مقدر بلکہ واؤ، حروف، کچھ اعراب پڑھے نا آپ نے، کچھ اعراب حرکتوں کی صورت میں آتے ہیں: زَيْدٌ، زَيْدًا، زَيْدٍ، اور کچھ اعراب جو ہے وہ حروف کے ساتھ آتے ہیں: اَبُوکَ، اَبَاکَ، اَبِیکَ۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اب تو اب تقدیری اعراب ہے لیکن وہ جس میں حروف مقدر ہیں، حرکت مقدر نہیں۔ تو أَنْ يَكُونَ الرَّفْعُ بِتَقْدِيرِ الْوَاوِ کہ رفع جو ہے تقدیرِ واؤ کے ساتھ ہوگا، وَالنَّصْبُ وَالْجَرُّ بِالْيَاءِ لَفْظًا اور نصب اور جر یا کے ساتھ کہ لفظوں کے اعتبار سے، سمجھ میں آیا بھئی؟ وہ یا ملفوظ ہوگی یعنی اس پر تلفظ ہوگا۔ بھئی دیکھیے، انہوں نے آپ کو ساتویں قسم میں بتایا تھا کوئی بھی اسم مضاف ہو یائے متکلم کی طرف علاوہ جمع مذکر سالم کے تو اس کا اعراب تینوں حالتوں میں تقدیری، تو وہاں دیکھو علاوہ جمع مذکر سالم کے، جمع مذکر سالم کو نکال دیا تھا۔ اب اس کو بیان کرنے لگے ہیں: اگر جمع مذکر سالم مضاف ہو یا کی طرف یائے متکلم کی طرف تو اس کا یہ اعراب ہے یہ جو نویں قسم ہم پڑھ رہے ہیں بھئی، اور اس میں رٹا لگانے کی ضرورت نہیں، آپ خود دیکھ لیں۔ دیکھیے: جَاءَنِي مُسْلِمُونَ، اسی مسلمون کے ساتھ اب یا ملاؤ: مُسْلِمُونَ اور آگے یا ملا دی، اور یہ نون اضافت کی وجہ سے گر گیا کیونکہ آپ نے ابھی پڑھا تھا پچھلے سبق میں کہ نونِ تثنیہ اور جمع کیا ہے؟ اضافت کی صورت میں گر جاتا ہے، تو کیا بن گیا؟ مُسْلِمُویَ۔ اب دیکھیے اس کلمے کے آخر میں اس مرکب کے آخر میں واؤ اور یا جمع ہو گئے: مُسْلِمُویَ، سب سے آخر میں یا ہے اور یا سے ماقبل کیا ہے؟ واؤ ہے، واؤ اور یا جمع ہو گئے: مُسْلِمُویَ۔ اور یاد رکھنا ضابطہ ہے کہ واؤ اور یا جب اکٹھے ہو جائیں لفظ کے آخر میں، اور پہلا ان میں ساکن ہو، واؤ اور یا جمع ہو جائیں چاہے واؤ پہلے آئے چاہے یا پہلے آئے، لیکن جو پہلا ہو وہ کیا ہو؟ ساکن ہو، تو پھر اس صورت میں اس واؤ کو بھی یا کر کے یا میں ادغام کر دیتے ہیں۔ چاہے واؤ پہلے آئے چاہے بعد میں آئے جہاں بھی ہے، واؤ کو بھی یا کر کے یا میں کیا کر دیتے ہیں؟ ادغام کر دیتے ہیں۔ تو یہاں بھی دیکھیے مُسْلِمُویَ، اس میں واؤ اور یا جمع ہو گئے اور ماقبل میں واؤ ہے اور واؤ کیا ہے؟ ساکن ہے، تو اس واؤ کو بھی یا کیا اور یا میں ادغام کر دیا، اب بن گیا مُسْلِمُیَّ، مُسْلِمُویَ سے کیا بن گیا؟ مُسْلِمُیَّ۔ ضابطہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ پھر یا اپنے سے ماقبل ضمہ چاہتی ہے یا کسرہ چاہتی ہے؟ یا کے مناسب کیا ہے؟ کسرہ، واؤ کے مناسب ضمہ ہے، تو یا یہاں یا آئی ہے اور یا سے ماقبل ضمہ آ رہا ہے، تو حالانکہ یا کی مناسبت کسرہ کے ساتھ، اس لیے ماقبل میم کے ضمہ کو کس سے بدل دیا گیا؟ کسرہ سے، کیا بن گیا؟ مُسْلِمِيَّ، مُسْلِمِيَّ۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ مُسْلِمِيَّ، اب اس کو تینوں حالتوں میں ہم اسی طرح پڑھیں گے: جَاءَنِي مُسْلِمِيَّ، دیکھو حالتِ رفعی ہے، رَأَيْتُ مُسْلِمِيَّ، حالتِ نصبی ہے مفعول ہے، مَرَرْتُ بِمُسْلِمِيَّ، مجرور ہے کیونکہ با جارہ داخل ہو رہا ہے۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ جَاءَنِي مُسْلِمِيَّ، رَأَيْتُ مُسْلِمِيَّ، مَرَرْتُ بِمُسْلِمِيَّ۔ اب آپ اس میں خود غور کر لیں کہ اعراب کون سی حالت میں تقدیری ہے، کون سی حالت میں لفظی ہے۔ لفظی کا کیا معنی؟ جس پر ہم کیا کر رہے ہوں؟ تلفظ کر رہے ہوں، زبان سے ادا کر رہے ہوں۔ آپ خود دیکھیں گے کہ حالتِ رفعی میں واؤ تقدیری ہے، حالتِ نصبی جری میں اعراب تقدیری نہیں، کیسے؟ جَاءَنِي مُسْلِمِيَّ، تو مُسْلِمِيَّ میں آخر میں یا ہے اور اس سے ماقبل کیا ہے؟ مسلمون، وہی مسلمون ہے نا، اسی کی اضافت کس کی طرف ہو رہی ہے؟ یا کی طرف۔ سمجھ میں آیا؟ ابھی تو آپ کو پورے بتلایا تھا کس طرح یہ بنا ہے: مسلمون کی اضافت کس کی طرف ہو رہی ہے؟ یا کی طرف، نون گر گیا، پھر واؤ اور یا میں اکٹھے ہوئے، واؤ ساکن تھا، واؤ کو بھی یا کر کے یا میں کیا کر دیا؟ ادغام کر دیا۔ اچھا تو معلوم ہوا اس مُسْلِمِيَّ کے اندر پہلا لفظ مسلمون ہے اور دوسرا لفظ کیا ہے؟ یا ہے، اور مسلمون کا رفع کس کے ساتھ آتا ہے؟ واؤ کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ واؤ۔ اور اس وقت مُسْلِمِيَّ میں کہیں واؤ پڑھ رہا ہوں؟ نہیں پڑھ رہا، معلوم ہوا واؤ تقدیراً ہے، اس پر ہم تلفظ کر رہے ہیں کوئی واؤ پر؟ نہیں، تو لہٰذا کیا کہو گے؟ مُسْلِمِيَّ، حالتِ رفعی میں ہو جَاءَنِي مُسْلِمِيَّ، آپ سے پوچھے اس کا کوئی اعراب کیا ہے؟ آپ کیا کہیں گے؟ یہ مرفوع ہے تقدیرِ واؤ کے ساتھ۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ جَاءَ کا فاعل بن رہا ہے، اور فاعل کیا ہوتا ہے؟ مرفوع ہوتا ہے، اس پر رفع پڑھتے ہیں، اور تقدیرِ واؤ کیوں کہتے ہو؟ اس لیے کیونکہ واؤ یہاں ہے ہی نہیں، ہم اس پر تلفظ ہی نہیں کر رہے، تو جب تلفظ اعراب تو دو ہی ہیں: یا لفظی ہوگا یا تقدیری ہوگا، جب لفظی نہیں ہے اس پر ہم تلفظ نہیں کر رہے تو پھر کیا ہوا؟ تقدیری۔ تو جَاءَنِي مُسْلِمِيَّ، یہ مرفوع ہے تقدیرِ واؤ کے ساتھ۔ اچھا، رَأَيْتُ مُسْلِمِيَّ، اب کوئی آپ سے پوچھے کہ اس کا اعراب کیا ہے؟ رَأَيْتُ مُسْلِمِيَّ، مُسْلِمِيَّ کیا ہے؟ پہلا لفظ کیا؟ مسلمون، اور دوسرا کیا ہے؟ یا، یہ دونوں مضاف اب اکٹھے ہو گئے ہیں لیکن میں الگ الگ کر کے آپ کو بتا رہا ہوں تاکہ آپ کو بات سمجھ میں آ جائے، مسلمیہ میں ایک مسلمون لفظ ہے اور دوسرا کیا ہے؟ یا ہے۔ اچھا اور اس وقت یہ کون سی حالت میں آ رہا ہے؟ رَأَيْتُ مُسْلِمِيَّ، حالتِ نصبی ہے، مفعول ہے۔ رَأَيْتُ میں نے دیکھا، دیکھنے والا متکلم فاعل، اور مسلمیہ کیا ہے؟ مفعول ہے، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اور مسلمون حالتِ نصبی جری میں کس کے ساتھ آتا ہے؟ یا کے ساتھ آتا ہے، یا ماقبل مکسور۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ مسلمون کا اعراب یاد ہے کل آپ نے پڑھا تھا؟ حالتِ رفعی میں واؤ ماقبل مضموم، حالتِ نصبی جری میں یا ماقبل مکسور۔ اچھا تو جَاءَنِي مُسْلِمِيَّ، رَأَيْتُ مُسْلِمِيَّ، اب مجھے آپ بتائیے: رَأَيْتُ کے لیے مسلمیہ کیا بن رہا ہے؟ مفعول، معلوم ہوا یہاں پر مسلمون نہیں ہے بلکہ مسلمین ہے، کیا ہے؟ مسلمین، اور مسلمین کے پھر نون آخر سے گر گیا اور یا کی طرف اضافت ہوئی اور تو دو یا خود اکٹھی ہو گئیں، دو یا کیا ہوئیں؟ اکٹھی، تو یا کا یا میں کیا کر دیا؟ ادغام، کیا بن گیا؟ مُسْلِمِيَّ۔ تو وہ یا اس پر ابھی بھی ہم تلفظ کر رہے ہیں، گری ہے وہ کوئی یا؟ اس کا ادغام ہوا ہے لیکن گری تو نہیں، موجود ہے یا نہیں؟ اس پر تلفظ کر رہے ہیں یا نہیں؟ میں مُسْلِمِيَّ دو یا پڑھ رہا ہوں یا نہیں؟ یہ جو ادغام ہوتا ہے یہ دراصل کتنی یا کتنے حروف ہوتے ہیں؟ یہ دو حروف ہوتے ہیں ان کا ادغام ہوا۔ تو اس یا پر تو معلوم ہوا مسلمون کا نصب کس کے ساتھ آتا ہے؟ یا کے ساتھ، اور اس یا پر میں اس وقت تلفظ کر رہا ہوں یا نہیں مسلمیہ کے اندر؟ تلفظ میں اس پر کر رہا ہوں، کیا کر رہا ہوں؟ تلفظ، لہٰذا اس کو یہ نہ کہنا یہ اعراب تقدیری ہے بلکہ یہ اعراب کون سا ہے؟ لفظی ہے۔ معلوم ہوا جَاءَنِي مُسْلِمِيَّ، واؤ کیا ہے یہاں؟ تقدیراً ہے، لیکن رَأَيْتُ مُسْلِمِيَّ اس کا اعراب کون سا ہے؟ لفظی ہے، اور اسی طرح مَرَرْتُ بِمُسْلِمِيَّ اس میں بھی کیا ہے؟ حالتِ جری میں مسلمون کس کے ساتھ آتا ہے؟ مسلمین، یا کے ساتھ آتا ہے، اور اس وقت بھی یا ہے یا نہیں؟ ہاں تو اسی لیے انہوں نے کہا کہ دوبارہ دیکھیں کتاب پر: أَنْ يَكُونَ الرَّفْعُ بِتَقْدِيرِ الْوَاوِ کہ رفع کس کے ساتھ ہوگا؟ تقدیرِ واؤ کے ساتھ، وَالنَّصْبُ وَالْجَرُّ بِالْيَاءِ لَفْظًا اور نصب اور جر کس کے ساتھ ہوگا؟ یا کے ساتھ لفظوں کے اعتبار سے یعنی تلفظ ہوگا اس پر باقاعدہ بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ غور کر لیا آپ نے؟ سمجھ میں آیا؟ تو یہ مضاف ہے اور یا ضمیر آگے یہ جو دیکھو: جَاءَنِي مُسْلِمِيَّ، جَاءَ فعل ہے، آگے مسلمیہ اس کے لیے کیا بن رہا ہے؟ فاعل، اور مسلمیہ میں ایک مضاف ہے ایک مضاف الیہ، مضاف الیہ تو ہے یا، وہ تو مضاف الیہ تو ہمیشہ مجرور ہوتا ہے، ہاں یہ مسلمون جو شروع میں اس کے ساتھ جڑا ہوا ہے نا اس کا اعراب ہم دیکھ رہے ہیں، یہ مسلمون یہ جو جمع مذکر سالم ہے مضاف ہو رہا ہے کس کی طرف؟ یائے متکلم، وہ یا تو مجرور ہی ہے، ہم اس کی بات نہیں کر رہے، ہم اس وقت یہ جو اس کی طرف مضاف ہو رہا ہے نا مسلمون اس کی بات کر رہے ہیں، اور اس کا اعراب کیا ہوتا ہے؟ حالتِ رفعی میں واؤ، حالتِ نصبی جری میں یا۔ اور جَاءَنِي مُسْلِمِيَّ، یہاں کوئی واؤ نہیں، لہٰذا ہم کیا کہیں گے؟ رفع ہے تقدیرِ واؤ۔ لیکن نصب اور جر تو اس کا مسلمون کا آتا ہی کس کے ساتھ ہے؟ یا سے: مسلمین، اور وہ یا ابھی بھی موجود ہے نون گرا کر اسی یا کا ہم نے دوسری یا میں کیا کر دیا؟ ادغام کیا ہے، اس کو گرایا تو نہیں، لہٰذا اسی لیے حالتِ نصبی جری میں کیا کہیں گے؟ یا لفظی ہے یعنی اس پر ہم باقاعدہ کیا کر رہے ہیں؟ تلفظ کر رہے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی اب اچھی طرح؟ تو کہتے ہیں: أَنْ يَكُونَ الرَّفْعُ بِتَقْدِيرِ الْوَاوِ وَالنَّصْبُ وَالْجَرُّ بِالْيَاءِ لَفْظًا، رفع جو ہے تقدیرِ واؤ کے ساتھ اور نصب اور جر یائے لفظی کے ساتھ، وَيُخْتَصُّ بِجَمْعِ الْمُذَكَّرِ السَّالِمِ مُضَافًا إِلَى يَاءِ الْمُتَكَلِّمِ اور یہ اعراب خاص ہے جمع مذکر سالم کے ساتھ اس حال میں کہ وہ مضاف ہو رہا ہو یائے متکلم کی طرف۔ تَقُولُ: جَاءَنِي مُسْلِمِيَّ، آپ کہتے ہیں جَاءَنِي مُسْلِمِيَّ۔ میں نے آپ کو بتایا یہ مسلمیہ کس طرح بنا ہے وہ سارا بیان کرنے لگے ہیں: کہتے ہیں تَقْدِيرُهُ مُسْلِمُويَ، اس کی تقدیر کیا ہے؟ یہ اصل میں مسلمویَ تھا، اِجْتَمَعَتِ الْوَاوُ وَالْيَاءُ، جمع ہو گئے واؤ اور یا، وَالْأُولَى مِنْهُمَا سَاكِنَةٌ اور ان میں سے پہلا کیا ہے؟ ساکن، اور میں نے بھی آپ کو بتایا تھا واؤ اور یا جمع ہو جائیں چاہے واؤ پہلے ہو چاہے یا پہلے ہو، جب جمع ہو جائیں آخر میں اور اول کیا ہو؟ پہلا حرف ساکن ہو، تو کہتے ہیں: وَالْأُولَى مِنْهُمَا سَاكِنَةٌ پہلا حرف جو ہے ان دونوں میں سے ساکن تھا، فَقُلِبَتِ الْوَاوُ يَاءً تو واؤ کو پلٹ دیا گیا یا سے یعنی واؤ کو بدل دیا گیا یا کے ساتھ، وَأُدْغِمَتِ الْيَاءُ فِي الْيَاءِ اور ادغام کر دیا گیا یا کا یا میں، تو مُسْلِمُیَّ ہوا، مُسْلِمُویَ سے کیا بن گیا؟ میم کا پیش تو ابھی نہیں بدلا نا، میم کا ضمہ تو ابھی ہے، ابھی تو واؤ کو یا کر کے یا میں ادغام، اور پھر وَأُبْدِلَتِ الضَّمَّةُ بِالْكَسْرَةِ اور پھر اس ضمہ کو کس سے بدل دیا گیا؟ کسرہ، لِمُنَاسَبَةِ الْيَاءِ یا کی مناسبت کی وجہ سے کیونکہ یا کسرے کو چاہتی ہے، فَصَارَ مُسْلِمِيَّ تو کیا بن گیا؟ مُسْلِمِيَّ۔ وَرَأَيْتُ مُسْلِمِيَّ یہ حالتِ نصبی میں دیکھو یا آ رہی ہے، وَمَرَرْتُ بِمُسْلِمِيَّ یہ حالتِ جری میں ہے دیکھو با داخل ہوئی ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یاد رکھو مجرور دنیا میں صرف دو ہی ہیں: ایک مضاف الیہ اور ایک جس پر حرفِ جر داخل ہو۔ جب ایک لفظ پر حرفِ جر داخل ہو گیا ہے تو آپ نے اس کو ہمیشہ کوئی بھی پوچھے اس کا اعراب کیا ہے، چاہے اس پر پیش پڑھ رہے ہوں، زبر پڑھ رہے ہوں، زیر پڑھ رہے ہوں، کچھ بھی پڑھ رہے ہوں آپ نے اس کو نہیں دیکھنا، آپ نے صرف یہ دیکھنا ہے اس پر کیا داخل ہے؟ حرفِ جر، آپ نے فوراً کہنا ہے یہ مجرور ہے، یہ کیا ہے؟ مجرور ہے۔ ہاں آگے اس پر اگر پیش پڑھ رہے ہیں یا زبر پڑھ رہے ہیں یا زیر پڑھ رہے ہیں تو ہو سکتا ہے وہ لفظ مبنی ہو، کیا ہو؟ مبنی، اور مبنی پر تو اعراب آتا ہی نہیں لہٰذا وہ اس کی حرکت ہوگی، اعراب نہیں ہوگا، یا ہو سکتا ہے اگر زبر ہے ہو سکتا ہے وہ غیر منصرف ہو: مَرَرْتُ بِعُمَرَ۔ تو اس آپ سے کوئی پوچھے عمر کا اعراب کیا ہے؟ آپ فوراً کیا کہیں گے؟ مجرور ہے، اور کیوں مجرور ہے؟ اس پر کیا داخل ہے؟ با جارہ۔ سمجھ میں آیا؟ تو بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جس پر بھی حرفِ جر داخل ہو، جس لفظ پر بھی، اور آپ سے کوئی پوچھ لے اس کا اعراب کیا ہے آپ فوراً کیا کہیں گے؟ یہ مجرور ہے۔ یا اسی طرح جو مضاف الیہ ہو جیسے مسلمیہ کے اندر یا کیا ہے؟ مضاف الیہ، اس کا کوئی اعراب آپ سے پوچھے کہ اس یا کا کیا اعراب ہے آپ فوراً کہیں گے یہ مجرور ہے، البتہ یہ مبنی ہے کیونکہ ضمیر ہے اور ضمیر کس میں سے ہے؟ مبنیات میں سے ہے بھئی۔ تو حاصلِ کلام کیا؟ فاعل جہاں اور جو فاعل بن رہا ہو وہ ہمیشہ مرفوع ہوگا بھئی، فاعل ہمیشہ، تو فاعل پر ہمیشہ رفع، مفعول پر ہمیشہ نصب، اور جس پر حرفِ جر داخل ہو اس پر ہمیشہ جر، یا اسی طرح جو مضاف الیہ ہو ہمیشہ اس پر بھی کیا؟ جر بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اچھا اب آئیے بھئی، وہ نو قسمیں ذرا جلدی جلدی دوبارہ دہرا لیں بھئی، یہ خوب پختہ ہونی چاہئیں، ہر وقت آپ کو یاد ہونی چاہئیں بھئی یہ اعراب، معرب کے اعتبار سے تقریباً ساری بڑی قسمیں انہوں نے ذکر کر دیں بھئی۔ پہلی قسم کا رفع کس کے ساتھ تھا؟ ضمہ کے ساتھ، نصب فتحہ کے ساتھ، اور جر کسرہ کے ساتھ، اور یہ اعراب خاص ہے کس کے ساتھ؟ مفرد منصرف صحیح۔ مفرد منصرف صحیح، مفرد کہا تثنیہ اور جمع کو نکال دیا، منصرف کہا غیر منصرف کو نکال دیا، صحیح کہا ناقص کو نکال دیا بھئی۔ اور میں نے آپ کو بتایا تھا ایک صرفی صحیح ہوتا ہے ایک نحوی صحیح ہے، اور صرفی صحیح کیا تھا جس میں کوئی حرفِ اصلی حرفِ علت بھی نہ ہو اور دو حرف ایک جنس کے بھی نہ ہوں اور کوئی حرفِ اصلی ہمزہ بھی نہ ہو، دیکھو تین قیدیں تھیں اس کے اندر، لیکن نحوی صحیح یہ نہیں، نحوی نے بحث کرنی ہے اعراب سے، اور اعراب آتا ہے آخری حرف پر، لہٰذا نحویوں کے نزدیک صحیح وہ ہے جس کے آخر میں حرفِ علت نہ ہو، حرفِ علت نہ ہو۔ سمجھ میں آیا؟ اچھا تو یہ اعراب خاص ہوا مفرد منصرف صحیح کے ساتھ، اور کس کے ساتھ؟ جاری مجریٰ صحیح۔ جاری مجریٰ صحیح کسے کہتے ہیں؟ کہ وہ اسم جس کے آخر میں واؤ یا یا ہو اور ماقبل اس کا ساکن ہو، شاباش! اور نیز یہ اعراب خاص ہے کس کے ساتھ؟ جمع مکسر منصرف کے ساتھ۔ جمع مکسر کہا جمع سالم یعنی مسلمون کو نکال دیا، اور منصرف کہا غیر منصرف کو نکال دیا جیسے رجالٌ۔ اور اس کے بعد دوسری قسم تھی کہ رفع کس کے ساتھ آئے گا؟ ضمہ کے ساتھ، اور نصب اور جر کسرہ کے ساتھ: جَاءَنِي مُسْلِمَاتٌ، رَأَيْتُ مُسْلِمَاتٍ، مُسْلِمَاتًا نہیں پڑھنا، اس کا نصب آتا ہی کس شکل میں ہے؟ کسرہ کی صورت میں، لہٰذا آپ سے کوئی پوچھ لے رَأَيْتُ مُسْلِمَاتٍ آپ سے کوئی پوچھ لے یہ مجرور کیوں ہے مُسْلِمَاتٍ؟ آپ فوراً کہنا یہ مجرور نہیں ہے، یہ کیا ہے؟ منصوب ہے، مجرور کیوں نہیں؟ کیونکہ اس پہ کوئی حرفِ جر نہیں داخل ہو رہا اور اس سے پہلے کوئی مضاف بھی نہیں، یہ مفعول بن رہا ہے، تو یہ مفعول بن رہا ہے تو لہٰذا یہ منصوب ہے۔ پھر وہ کہے اگر کہ اس پر کسرہ کیوں پڑھ رہے ہو اگر یہ منصوب ہے؟ آپ کیا کہیں گے کہ یہ نصب ہی ہے، یہ نصب ہی ہے، ہاں اس کی صورت کس جیسی ہے؟ کسرہ جیسی ہے لیکن یہ کسرہ نہیں ہے، یہ نصب ہے، اس کا نصب آتا ہی اس طرح ہے: جَاءَنِي مُسْلِمَاتٌ، رَأَيْتُ مُسْلِمَاتٍ، مَرَرْتُ بِ مُسْلِمَاتٍ۔ اور تیسری قسم وہ ہے جس کا رفع کس کے ساتھ آئے؟ ضمہ کے ساتھ، اور نصب اور جر فتحہ کے ساتھ، اور یہ اعراب خاص ہے کس کے ساتھ؟ غیر منصرف کے ساتھ: جَاءَنِي عُمَرُ، میں نے آپ کو بتایا تھا غیر منصرف پر تنوین بھی نہیں آتی اور کسرہ بھی نہیں: جَاءَنِي عُمَرُ، رَأَيْتُ عُمَرَ، مَرَرْتُ بِعُمَرَ۔ اب اگر آپ سے کوئی پوچھ لے بھئی مَرَرْتُ بِعُمَرَ یہ منصوب کیوں ہے؟ تو آپ فوراً جواب میں کیا کہیں گے؟ یہ منصوب نہیں ہے، یہ مجرور ہے کیونکہ اس پر با جارہ داخل ہو رہی ہے: مَرَرْتُ بِعُمَرَ، سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو پھر اگر وہ کہے کہ اس پر پھر آپ نصب کیوں پڑھ رہے ہیں؟ آپ کیا کہیں گے نصب نہیں ہے، یہ جر ہے اور اس کا جر آتا ہی کس صورت میں ہے؟ فتحہ کی صورت میں ہے بھئی۔ اور چوتھی قسم تھی جس کا اعراب آپ نے پڑھا: رفع کس کے ساتھ؟ واؤ کے ساتھ، نصب الف کے ساتھ، اور جر یا کے ساتھ آئے گا، اور یہ اعراب خاص ہے کس کے ساتھ؟ اسمائے ستہ مکبرہ موحدہ مضافہ الی غیر یاء المتکلم۔ یہ ساری قیدیں ذکر کرنی ہیں: اسمائے ستہ ہوں، مکبرہ ہوں یعنی ان کی تصغیر نہ ہو، موحدہ ہوں یعنی ان کا مفرد ہو ان کی تثنیہ جمع نہ ہو، اور نیز وہ مضاف بھی ہوں اور مضاف بھی کس کی طرف ہوں؟ یائے متکلم کے علاوہ کی طرف، کسی اور لفظ کی طرف مضاف ہوں۔ سمجھ میں آیا؟ تو جَاءَنِي اَبُوکَ، رَأَيْتُ اَبَاکَ، وَمَرَرْتُ بِاَبِیکَ۔ اور پانچویں قسم جو ہے کہ رفع اس کا کس کے ساتھ آئے گا؟ الف کے ساتھ، اور نصب اور جر کس کے ساتھ آئے گا؟ یا ایسی یا جس کا ماقبل مفتوح ہو یعنی اس پر فتحہ ہو۔ اور یہ اعراب تین چیزوں کے ساتھ خاص تھا: تثنیہ کے ساتھ، اور کِلا جب مضاف ہو کس کی طرف؟ ضمیر کی طرف، اور اثنانِ اور اثنتانِ۔ تو رفع الف کے ساتھ اور نصب اور جر یا ماقبل مفتوح کے ساتھ، جیسے جَاءَنِي رَجُلَانِ، رَأَيْتُ رَجُلَيْنِ، مَرَرْتُ بِرَجُلَيْنِ۔ اور چھٹی قسم جو ہے اس کا رفع کس کے ساتھ آئے گا؟ واؤ ایسا واؤ جس کا ماقبل مضموم ہو، اور نصب اور جر ایسی یا جس کا ماقبل مکسور ہو، اور یہ بھی تین چیزوں کے ساتھ خاص ہے تین قسموں کے ساتھ: نمبر ایک جمع مذکر سالم، اور أُولُو کے ساتھ، اور عِشْرُونَ مَعَ أَخَوَاتِهَا کے ساتھ بھئی۔ اور اس کے بعد تقدیری اعراب شروع ہوئے تھے کہ ساتویں قسم یہ ہے کہ رفع بھی تقدیری ہوگا، نصب بھی تقدیری اور جر بھی تقدیری، اور یہ دو قسموں کے اندر آئے گا: ایک اسمِ مقصور جس کے آخر میں الفِ مقصورہ ہو، اور میں نے آپ کو بتایا الفِ مقصورہ کبھی لفظوں میں ہوتا ہے کبھی تقدیراً ہوتا ہے، اور نیز یہ اعراب خاص ہے وہ اسم جو مضاف ہو رہا ہو یائے متکلم کی طرف علاوہ جمع مذکر سالم کے، جیسے غُلَامِي۔ اور آٹھویں قسم وہ ہے کہ جس کا جس کا رفع بھی تقدیری ہوگا اور رفع یعنی رفع ہوگا تقدیرِ ضمہ کے ساتھ، اور نصب فتحہ لفظی کے ساتھ، اور جر تقدیرِ کسرہ کے ساتھ، اور یہ اعراب خاص ہے اسمِ منقوص کے ساتھ۔ اسمِ مقصور اور اسمِ منقوص ان میں عموماً متشابہ لگ جاتا ہے تو اسمِ مقصور جس کے آخر میں الفِ مقصورہ ہو، اسمِ منقوص میں نے بتایا ناقص سے ہے دیکھو ن، ق، ص آ رہا ہے، ناقص سے ہے معلوم ہوا اس کے آخر میں حرفِ علت ہوگا، اور اسمِ منقوص وہ ہے جس کے آخر میں یا ہو اور ماقبل کیا ہو؟ کسرہ ہو جیسے قَاضِي۔ تو کیا کہیں گے؟ جَاءَنِي الْقَاضِي، رَأَيْتُ الْقَاضِيَ، اور مَرَرْتُ بِالْقَاضِي۔ اور نویں قسم وہ ہے کہ اس کا رفع تقدیرِ واؤ کے ساتھ اور نصب اور جر یائے لفظی کے ساتھ ہوگا، اور یہ اعراب کس کے ساتھ خاص ہے؟ جمع مذکر سالم جب وہ مضاف ہو کس کی طرف؟ یائے متکلم کی طرف بھئی۔ چلیے بس بھئی، کافی ہے آج کے لیے، بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
104 approved lectures · 12 of 104