Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

هداية النحو جديد · dars-011

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 19 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 56
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اَلْخَامِسُ: أَنْ يَكُونَ الرَّفْعُ بِالْأَلِفِ، وَالنَّصْبُ وَالْجَرُّ بِالْيَاءِ الْمَفْتُوحِ مَا قَبْلَهَا، وَيُخْتَصُّ بِالْمُثَنَّى، وَكِلَا مُضَافًا إِلَى مُضْمَرٍ، وَاثْنَانِ وَاثْنَتَانِ. اَلسَّادِسُ: أَنْ يَكُونَ الرَّفْعُ بِالْوَاوِ الْمَضْمُومِ مَا قَبْلَهَا، وَالنَّصْبُ وَالْجَرُّ بِالْيَاءِ الْمَكْسُورِ مَا قَبْلَهَا، وَيُخْتَصُّ بِجَمْعِ الْمُذَكَّرِ السَّالِمِ نَحْوُ مُسْلِمُونَ، وَأُولُو، وَعِشْرُونَ مَعَ أَخَوَاتِهَا. تَقُولُ: جَاءَنِي مُسْلِمُونَ وَعِشْرُونَ وَأُولُو مَالٍ، وَرَأَيْتُ مُسْلِمِينَ وَعِشْرِينَ وَأُولِي مَالٍ، وَمَرَرْتُ بِمُسْلِمِينَ وَعِشْرِينَ وَأُولِي مَالٍ. وَاعْلَمْ أَنَّ نُونَ التَّثْنِيَةِ مَكْسُورَةٌ أَبَدًا، وَنُونَ جَمْعِ السَّلَامَةِ مَفْتُوحَةٌ أَبَدًا، وَكِلَاهُمَا تَسْقُطَانِ عِنْدَ الْإِضَافَةِ، تَقُولُ: جَاءَنِي غُلَامَا زَيْدٍ وَمُسْلِمُو مِصْرَ. اَلسَّابِعُ: أَنْ يَكُونَ الرَّفْعُ بِتَقْدِيرِ الضَّمَّةِ، وَالنَّصْبُ بِتَقْدِيرِ الْفَتْحَةِ، وَالْجَرُّ بِتَقْدِيرِ الْكَسْرَةِ، وَيُخْتَصُّ بِالْمَقْصُورِ، وَهُوَ مَا فِي آخِرِهِ أَلِفٌ مَقْصُورَةٌ، كَعَصًا، وَبِالْمُضَافِ إِلَى يَاءِ الْمُتَكَلِّمِ غَيْرَ جَمْعِ الْمُذَكَّرِ السَّالِمِ. بحث یہ چل رہی تھی کہ معرب کی اعراب کے اعتبار سے نو قسمیں ہیں بھئی، نو قسمیں۔ پہلی قسم وہ ہے جس کا رفع ضمہ کے ساتھ، نصب فتحہ کے ساتھ اور جر کسرہ کے ساتھ آتا ہے اور اس میں تین قسمیں داخل ہیں: نمبر ایک مفرد منصرف صحیح، نمبر دو جاری مجریٰ صحیح، نمبر تین جمع مکسر منصرف۔ اس کے بعد دوسری قسم آئی تھی جس کا رفع ضمہ کے ساتھ، نصب اور جر کسرہ کے ساتھ اور یہ اعراب خاص تھا کس کے ساتھ؟ جمع مؤنث سالم۔ اور تیسری قسم وہ تھی کہ رفع اس کا ضمہ کے ساتھ اور نصب اور جر دونوں فتحہ کے ساتھ، اور یہ اعراب خاص ہے کس کے ساتھ؟ غیر منصرف کے ساتھ۔ اور اس کے بعد چوتھی قسم یہ کہ رفع واؤ کے ساتھ، نصب الف کے ساتھ اور جر یا کے ساتھ، اور یہ آپ نے پڑھا تھا خاص ہے کس کے ساتھ؟ اسمائے ستہ مکبرہ موحدہ مضافہ الی غیر یاء المتکلم۔ شاباش! آج ہم پانچویں قسم پڑھیں گے بھئی۔ اَلْخَامِسُ: پانچویں قسم یہ ہے: أَنْ يَكُونَ الرَّفْعُ بِالْأَلِفِ کہ رفع کس کے ساتھ آئے گا؟ الف کے ساتھ۔ وَالنَّصْبُ وَالْجَرُّ بِالْيَاءِ الْمَفْتُوحِ مَا قَبْلَهَا، اور نصب اور جر ایسی یا کے ساتھ، بِالْيَاءِ ایسی یا کے ساتھ، الْمَفْتُوحِ مَا قَبْلَهَا جس کا ماقبل مفتوح ہو۔ بھئی دیکھیے: رَجُلَانِ اور رَجُلَيْنِ، اس مثال کو ذہن میں رکھیں۔ رَجُلَانِ: دیکھو تثنیہ ہے، اس کا اعراب حالتِ رفعی میں الف کے ساتھ، اور حالتِ نصبی اور جری میں رَجُلَيْنِ ایسی یا، دیکھو یا ہے اور یا سے ماقبل لام پر کیا ہے؟ فتحہ ہے، تو ایسی یا جس کا ماقبل کیا ہوگا؟ مفتوح ہوگا۔ آگے اگلی جو قسم آ رہی ہے: مُسْلِمِينَ، وہاں یا سے ماقبل مکسور ہے، یا سے ماقبل کسرہ ہے، لیکن اس قسم کے اندر یا سے ماقبل فتحہ ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: اَلْخَامِسُ أَنْ يَكُونَ الرَّفْعُ بِالْأَلِفِ پانچویں قسم یہ ہے کہ رفع الف کے ساتھ ہو، وَالنَّصْبُ وَالْجَرُّ بِالْيَاءِ الْمَفْتُوحِ مَا قَبْلَهَا اور نصب اور جر ایسی یا کے ساتھ کہ اس کا ماقبل مفتوح ہو، اس یا کا ماقبل مفتوح ہو یعنی اس پر ماقبل والے حرف پر فتحہ ہو۔ وَيُخْتَصُّ بِالْمُثَنَّى اور یہ اعراب خاص ہے تثنیہ کے ساتھ۔ کس کے ساتھ؟ تثنیہ۔ تثنیہ بھئی وہ ہے جس کے آخر میں ہم الف نون بڑھا دیتے ہیں مفرد کے آخر میں، الف نون۔ رَجُلٌ سے رَجُلَانِ، دیکھو الف نون بڑھا دیا آخر میں، اور رَجُلٌ کا معنی تھا ایک آدمی، رَجُلَانِ کا کیا معنی؟ دو آدمی۔ لہٰذا یہ اعراب خاص ہے تثنیہ کے ساتھ۔ وَكِلَا اور کِلا کے ساتھ، مُضَافًا إِلَى مُضْمَرٍ اس حال میں کہ وہ کِلا مضاف ہو مُضْمَرٍ ضمیر کی طرف۔ کس کی طرف؟ ضمیر کی طرف۔ یاد رکھیے یہ کِلا بطورِ تاکید کے استعمال ہوتا ہے، بطورِ تاکید کے، اور یہ کبھی کبھار مضاف ہوتا ہے ضمیر کی طرف، کبھی اسمِ ظاہر کی طرف۔ کبھی کس کی طرف مضاف ہوتا ہے؟ ضمیر، اور کبھی کبھار اسمِ ظاہر کی طرف۔ اسمِ ظاہر کسے کہتے ہیں؟ یاد رکھو جو ضمیر نہیں وہ اسم اسمِ ظاہر ہے۔ یہ ضمیر کے مقابلے میں ہے۔ ھُوَ ضمیر ہے یا اسمِ ظاہر؟ ضمیر ہے۔ اَنْتَ اسمِ ظاہر ہے کہ ضمیر؟ اَنْتَ ضمیر ہے بھئی۔ ضمیریں نہیں جانتے بھئی، کیوں پریشان ہو گئے ہو؟ اَنْتَ کیا ہے؟ ضمیر۔ اَنَا کیا ہے؟ ضمیر۔ ھِیَ کیا ہے؟ ضمیر۔ اور جو ضمیر نہیں وہ اسم اسمِ ظاہر ہے۔ اب آپ سے کوئی پوچھے: جِدَارٌ، دیوار کو کہتے ہیں، جدار ضمیر ہے یا اسمِ ظاہر ہے؟ آپ فوراً کہیں گے اسمِ ظاہر ہے، کیونکہ ضمیر نہیں۔ یا تو ضمیر ہوگی یا کیا ہوگا؟ اسمِ ظاہر۔ تو ضمیر کے علاوہ جتنے اسم ہیں وہ سارے کیا ہیں؟ اسمِ ظاہر ہیں۔ لہٰذا آپ مجھے بتائیے: کِتَابٌ ضمیر ہے یا اسمِ ظاہر ہے؟ اسمِ ظاہر ہے۔ اور قَلَمٌ ضمیر ہے یا اسمِ ظاہر ہے؟ اسمِ ظاہر ہے بھئی۔ اور نَحْنُ ضمیر ہے یا اسمِ ظاہر ہے؟ ضمیر ہے۔ اور اَنْتُمَا ضمیر ہے یا اسمِ ظاہر ہے؟ ضمیر ہے۔ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو اسمِ ظاہر کس کے مقابلے میں ہے؟ ضمیر کے مقابلے میں۔ یا تو اسم ضمیر ہوگا یا کیا ہوگا؟ اسمِ ظاہر۔ جو ضمیر نہیں وہ اسمِ ظاہر ہے بھئی۔ تو یہ کِلا کبھی مضاف ہوتا ہے ضمیر کی طرف اور کبھی مضاف ہوتا ہے کس کی طرف؟ اسمِ ظاہر کی طرف۔ اور یہاں یہ قید بڑھا رہے ہیں کہ وَكِلَا مُضَافًا إِلَى مُضْمَرٍ کِلا اس حال میں کہ وہ مضاف ہو کس کی طرف؟ ضمیر کی طرف۔ تو اس صورت میں اس کا یہ اعراب ہے کہ حالتِ رفعی میں کس کے ساتھ؟ الف کے ساتھ، اور حالتِ نصبی جری میں یا ماقبل مفتوح بھئی، یا ماقبل مفتوح۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ مثلاً میں کہتا ہوں: جَاءَنِي الرَّجُلَانِ كِلَاهُمَا، دیکھو یہ تاکید کے طور پر آیا۔ جَاءَنِي الرَّجُلَانِ آئے میرے پاس وہ دو آدمی، كِلَاهُمَا دونوں۔ جَاءَنِي الرَّجُلَانِ كِلَاهُمَا میرے پاس وہ دونوں آدمی آئے، یوں ترجمہ کریں گے۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ تو دیکھیے جَاءَنِي الرَّجُلَانِ، اَلرَّجُلَانِ تثنیہ ہے، اس کا بھی یہی اعراب حالتِ رفعی میں الف کے ساتھ، کیونکہ یہ فاعل بن رہا ہے نا اس وقت اور فاعل پر کیا آتا ہے؟ رفع۔ جَاءَنِي میرے پاس آئے، کون آئے؟ اَلرَّجُلَانِ، دیکھو یہ جَاءَ کا فاعل ہے، یہ آنے کا فعل کس نے کیا؟ الرَّجُلَانِ، یہ فاعل ہے اور فاعل پر کیا آتا ہے؟ رفع۔ تو اس پر اور یہ ہے تثنیہ، اور تثنیہ کا رفع کس کے ساتھ آتا ہے؟ الف کے ساتھ۔ تو جَاءَنِي الرَّجُلَانِ، تو اب آپ سے کوئی پوچھے یہ الرَّجُلَانِ کا اعراب کیا ہے؟ جَاءَنِي الرَّجُلَانِ، تو نون کے نیچے زیر دیکھ کر یہ نہ کہہ دینا کہ یہ تو مکسور ہے۔ نہیں بھئی! یہ دیکھنا آپ کہ یہ نو قسموں میں سے کون سی قسم ہے، آپ غور کریں دیکھیں آپ کو پتہ لگ جائے گا یہ تو تثنیہ ہے اور تثنیہ کا اعراب اس وقت تثنیہ کس کے ساتھ آ رہا ہے؟ الف کے ساتھ، معلوم ہوا یہ مرفوع ہے، کیونکہ ہم نے پڑھا تھا کہ تثنیہ کا رفع کس کے ساتھ آتا ہے؟ الف، اور نصب اور جر کس کے ساتھ آتا ہے؟ یا ماقبل مفتوح کے ساتھ۔ تو جَاءَنِي الرَّجُلَانِ كِلَاهُمَا، دیکھو کِلَاھُمَا بھی اسی طرح آیا، کِلا الف کے ساتھ آیا۔ اور میں کہتا ہوں: رَأَيْتُ الرَّجُلَيْنِ كِلَيْهِمَا، دیکھو اَلرَّجُلَيْنِ یہ بھی کس کے ساتھ آیا حالتِ نصبی میں؟ یا ماقبل مفتوح، اور كِلَيْهِمَا یہ بھی دیکھو یا ہے كِلَيْ اور اس سے پہلے لام پر کیا ہے؟ فتحہ، تو یا ماقبل مفتوح ہے، اور كِلَيْهِمَا دیکھو ضمیر کی طرف مضاف ہو رہا ہے، ضمیر کی طرف مضاف ہے۔ اور مَرَرْتُ بِالرَّجُلَيْنِ كِلَيْهِمَا، دیکھا یہاں بھی اسی طرح ہے۔ تو معلوم ہوا کہ کِلا جب مضاف ہو ضمیر کی طرف تو اس وقت حالتِ رفعی میں الف کے ساتھ اور نصبی جری میں یا ماقبل مفتوح۔ اور یاد رکھیے كِلْتَا کا بھی یہی اعراب ہے۔ كِلْتَا، مذکر کے لیے کِلا استعمال ہوتا ہے اور مؤنث کے لیے كِلْتَا استعمال ہوتا ہے: كِلْتَاهُمَا، كِلْتَيْهِمَا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اور یاد رکھیے، یاد رکھیے یہ وہ صورت ہے جب کِلا مضاف ہو ضمیر کی طرف۔ اگر کِلا مضاف ہو اسمِ ظاہر کی طرف، مثلاً كِلَا الرَّجُلَيْنِ، دیکھو کس کی طرف مضاف ہے؟ اسمِ ظاہر کی طرف۔ جَاءَنِي كِلَا الرَّجُلَيْنِ۔ تو یاد رکھو جب یہ کِلا مضاف ہو اسمِ ظاہر کی طرف جیسے كِلَا الرَّجُلَيْنِ، تو اس صورت میں تینوں حالتوں میں یہ اسی طرح رہے گا اور اس کا اعراب تقدیری ہوگا۔ کیا ہوگا؟ تقدیری۔ ہاں پھر یہ قسم نہیں ہوگی، جب اسمِ ظاہر کی طرف مضاف ہو تو پھر اعراب تینوں حالتوں میں تقدیری، اور پھر یہ پانچویں قسم نہیں ہوگی کیونکہ پانچویں قسم میں تو کہہ دیا کہ جب کِلا مضاف ہو کس کی طرف؟ ضمیر کی طرف۔ تو وہ تینوں حالتوں میں پھر وہ تقدیری ہوگا: جَاءَنِي كِلَا الرَّجُلَيْنِ، رَأَيْتُ كِلَا الرَّجُلَيْنِ، مَرَرْتُ بِكِلَا الرَّجُلَيْنِ۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کہتے ہیں: وَكِلَا أَوْ كِلَا مُضَافًا إِلَى مُضْمَرٍ یا کِلا جو اس حال میں کہ وہ مضاف ہو ضمیر کی طرف۔ میں نے بتایا آپ کو کہ کِلا بھی اسی طرح ہے اور اس کی مؤنث كِلْتَا بھی اسی طرح ہے، اس کا بھی وہ بھی یہی قسم ہے، اس کا بھی یہی اعراب ہے۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کِلا کو ذکر کیا، كِلْتَا کو مؤنث کو کیوں نہیں ذکر کیا؟ جواب یہ کہ مذکر اصل ہے اور مؤنث اس کی فرع ہے، یعنی یوں کہو اس کے تابع ہے، اس کے کیا ہے؟ تابع ہے۔ تو جب اصل کو ذکر کر دیا تو تابع خود بخود آ گیا کیونکہ وہ تو اسی کے تابع ہے، جیسا کِلا کا اعراب ویسا ہی کس کا اعراب؟ كِلْتَا کا۔ جب کِلا آ گیا معلوم ہوا كِلْتَا کا بھی یہی اعراب ہے۔ وَاثْنَانِ وَاثْنَتَانِ اور اسی طرح یہ اعراب ہے اثنانِ اور اثنتانِ کا بھی۔ اِثْنَانِ مذکر کے لیے دو، دو مذکر، اور اِثْنَتَانِ مؤنث کے لیے، اس کا معنی بھی دو۔ ان کا بھی یہی اعراب ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ مثلاً آپ کہتے ہیں: جَاءَنِي اثْنَانِ، رَأَيْتُ اثْنَيْنِ، مَرَرْتُ بِاثْنَيْنِ، دیکھا؟ حالتِ رفعی میں الف کے ساتھ، حالتِ نصبی جری میں یا ماقبل مفتوح کے ساتھ۔ اس پر آپ کے ذہنوں میں اشکال آئے گا کہ پیچھے تثنیہ کو تو ذکر کر دیا تھا، پھر دوبارہ یہ اثنانِ اور اثنتانِ کو کیوں ذکر کر رہے ہیں؟ اعتراض سمجھ میں آیا؟ تثنیہ کا پیچھے ذکر آ گیا یا نہیں؟ تو آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا تثنیہ کا تو پیچھے ذکر ہو گیا تھا، پھر یہ اثنانِ اور اثنتانِ کو کیوں ذکر کیا؟ جواب: یاد رکھنا یہ اثنانِ اور اثنتانِ تثنیہ نہیں ہیں بھئی! کس نے کہا یہ تثنیہ ہیں؟ تثنیہ تو وہ ہوتا ہے جس کا کوئی مفرد ہوتا ہے اور اس مفرد کے آخر میں پھر الف نون کا اضافہ کرو تو وہ تثنیہ بن جاتا ہے، جیسے رَجُلٌ اسی کے آخر میں الف نون لگایا کیا بن گیا؟ رَجُلَانِ۔ تو دیکھا ایک رَجُلٌ الگ تھا اس کے آخر میں الف نون لگایا، اور رَجُلٌ استعمال ہوتا ہے یا نہیں کلامِ عرب میں؟ رَجُلٌ بھی استعمال ہوتا ہے، اسی کے آخر میں الف نون کا اضافہ کر دیا تو کیا بن گیا؟ تثنیہ بن گیا۔ لیکن اثنانِ اور اثنتانِ تثنیہ نہیں ہیں، ان کے آخر سے الف نون ہٹائیں: اِثْنٌ، اِثنٌ کبھی استعمال ہوتا ہے عربی کے اندر؟ نہیں بھئی، اس کا مفرد نہیں ہے۔ سمجھ میں آیا؟ ہاں معنی بے شک اس کا دو ہے، اثنانِ اور اثنتانِ کا معنی بے شک دو ہے، لیکن اصطلاح اصطلاح میں تثنیہ وہ ہے جس کے آخر میں الف نون کا اضافہ کیا جائے، وہ مفرد بھی استعمال ہوتا ہو اور الف نون کا اضافہ کر کے پھر اس سے تثنیہ بنا لیا جائے، اور اثنانِ اور اثنتانِ ایسے نہیں ہیں کہ ان کو بغیر الف نون کے تو ان کو تو استعمال ہی نہیں کرتے، حالانکہ ایک مفرد کا ہونا ضروری جس کے آخر میں کیا بڑھایا جائے؟ الف اور نون۔ جواب سمجھ میں آ گیا بھئی؟ لہٰذا یہ تثنیہ نہیں، معنی بے شک ان کا دو ہے لیکن یہ تثنیہ نہیں بھئی۔ اب پھر اعتراض آپ کے ذہن میں ایک اور اعتراض آئے گا کہ یہاں اثنانِ، اثنتانِ یہ مؤنث کو کیوں ذکر کیا؟ اثنانِ کہہ دیتے تو مذکر آ جاتا تو مؤنث تو اس کے تابع ہے، اس کی فرع ہے، وہ خود بخود آ جاتی، اس کو ذکر کرنے کی ضرورت نہیں؟ اعتراض سمجھ میں آیا؟ جواب یہ کہ نہیں بھئی، یہ کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اعتراض نہیں ہے، ہونا بھی یہ چاہیے، مذکر کا ذکر ہوا ہے تو ساتھ اس کے علیحدہ مؤنث کا بھی ذکر ہو۔ پیچھے اعتراض بنتا تھا کہ کِلا کے ساتھ كِلْتَا کو کیوں نہیں ذکر کیا حالانکہ وہ مؤنث ہے؟ وہاں ہم اعتراض بنا ہم نے جواب دے دیا کہ چونکہ مذکر اصل ہے مؤنث اس کے فرع ہے لہٰذا تابع ہے لہٰذا اس لیے جب مذکر کا ذکر آ گیا تو گویا مؤنث کا بھی ذکر آ گیا، وہاں ہم نے جواب دے دیا تھا، اور یہاں اعتراض یہ محلِ اعتراض نہیں ہے، ہونا بھی یہی چاہیے کہ کیا دونوں کو ذکر کرنا چاہیے، پیچھے کیوں نہیں کیا؟ وہاں ہم نے وجہ بتا دی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھیے سب کی مثال ذکر کرنے لگے ہیں۔ تَقُولُ آپ کہتے ہیں: جَاءَنِي الرَّجُلَانِ كِلَاهُمَا وَاثْنَانِ وَاثْنَتَانِ۔ جَاءَنِي الرَّجُلَانِ: الرَّجُلَانِ کیا ہے؟ تثنیہ، دیکھو الف کے ساتھ آیا حالتِ رفعی میں، فاعل بن رہا ہے۔ كِلَاهُمَا الف کے ساتھ آیا، ضمیر کی طرف مضاف ہے۔ اِثْنَانِ الف کے ساتھ اور اِثْنَتَانِ بھی الف۔ جَاءَنِي الرَّجُلَانِ كِلَاهُمَا وَاثْنَانِ وَاثْنَتَانِ، وَرَأَيْتُ الرَّجُلَيْنِ كِلَيْهِمَا وَاثْنَيْنِ وَاثْنَتَيْنِ، یہاں دیکھیے سب حالتِ نصبی میں ہیں اور اعراب کیا ہے؟ یا ماقبل مفتوح ہے۔ وَمَرَرْتُ بِالرَّجُلَيْنِ كِلَيْهِمَا وَاثْنَيْنِ وَاثْنَتَيْنِ، اور دیکھیے اور یہ مجرور ہیں اور حالتِ جری میں بھی کیا ہے؟ یا ماقبل مفتوح ہے بھئی۔ اَلسَّادِسُ چھٹی قسم: أَنْ يَكُونَ الرَّفْعُ بِالْوَاوِ الْمَضْمُومِ مَا قَبْلَهَا، چھٹی قسم یہ ہے: أَنْ يَكُونَ الرَّفْعُ بِالْوَاوِ کہ رفع ہو ایسے واؤ کے ساتھ الْمَضْمُومِ مَا قَبْلَهَا جس کا ماقبل کیا ہو؟ مضموم ہو۔ جیسے مُسْلِمُونَ، دیکھو واؤ ہے اور واؤ سے ماقبل میم پر کیا ہے؟ ضمہ ہے، تو یہ واؤ ماقبل مضموم، اور حالتِ نصبی جری میں کیا کہتے ہیں؟ مُسْلِمِينَ، یا ماقبل مکسور ہے، یہی بیان کریں گے۔ کہتے ہیں: وَالنَّصْبُ وَالْجَرُّ بِالْيَاءِ الْمَكْسُورِ مَا قَبْلَهَا اور نصب اور جر جو ہے ایسی یا کے ساتھ کہ جس کا ماقبل مکسور ہو، وَيُخْتَصُّ بِجَمْعِ الْمُذَكَّرِ السَّالِمِ اور یہ اعراب خاص ہے جمع مذکر سالم کے ساتھ۔ جمع مذکر سالم وہ جس میں مفرد کا وزن سالم رہتا ہے۔ مُسْلِمٌ سے کیا بنا؟ مُسْلِمُونَ، دیکھو اسی مسلم کے آخر میں واؤ نون ملا دیا تو مسلمون بن گیا۔ تو مفرد کا وزن جمع میں بھی آ کر سلامت ہے، ٹوٹا نہیں۔ جبکہ پہلے مثال گزری تھی: رَجُلٌ کی جمع کیا؟ رِجَالٌ، دیکھا اس میں رجل کا لفظ نہیں، صورت ہی پوری بدل گئی۔ یہاں پوری صورت نہیں بدلی، صرف آخر میں کیا ہوا ہے؟ مسلمون میں واؤ نون کا اضافہ، تو یہ جمع مذکر سالم ہے۔ تو کہتے ہیں: وَيُخْتَصُّ بِجَمْعِ الْمُذَكَّرِ السَّالِمِ اور یہ اعراب خاص ہے جمع مذکر سالم کے ساتھ، نَحْوُ مُسْلِمُونَ وَأُولُو وَعِشْرُونَ مَعَ أَخَوَاتِهَا۔ اچھا، نَحْوُ مُسْلِمُونَ یہ مثال ذکر کر دی جیسے کہ مسلمون ہے جمع مذکر سالم۔ وَأُولُو، اس کا عطف ہے جمع مذکر سالم پر، اور یہ اعراب پیچھے کیا بتایا؟ یہ اعراب خاص ہے بِجَمْعِ الْمُذَكَّرِ السَّالِمِ وَأُولُو اور کس کے ساتھ خاص ہے؟ أُولُو کے ساتھ۔ أُولُو، بھئی أُولُو جمع ہے ذُو کی مِنْ غَيْرِ لَفْظِهِ یعنی معنی کے اعتبار سے اس کی جمع ہے، لفظوں کے اعتبار سے اس کی جمع نہیں۔ ذُو، ذُو کا کیا معنی؟ مثلاً آپ کہتے ہیں: ذُو مَالٍ، مال والا۔ ذو مال کا کیا معنی؟ مال والا۔ اور جمع ہوں تو پھر کہیں گے: أُولُو مَالٍ، مال والے۔ کیا کہیں گے؟ أُولُو مَالٍ۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو یعنی یہ معنی کے اعتبار سے جمع ہے اس کی، لفظوں کے اعتبار سے جمع نہیں بھئی۔ ذُو میں تو ذال اور واؤ تھا، یہاں کہیں ہے ذال اور واؤ؟ تو یہ لفظ الگ ہے لیکن معنی اس کی جمع والا ادا کرتا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو أُولُو کا بھی یہ ہے اعراب: أُولُو، حالتِ رفعی میں کہیں گے أُولُو مَالٍ، حالتِ نصبی جری میں کیا کہیں گے؟ یا ماقبل مکسور بناؤ بھئی: أُولِي مَالٍ۔ دیکھو أُولُو مَالٍ، واؤ ماقبل مضموم ہے یا نہیں أولو کے اندر؟ واؤ اور ماقبل لام پر کیا ہے؟ ضمہ۔ حالتِ نصبی جری میں لے جاؤ اس کو: أُولِي مَالٍ، یا ماقبل مکسور۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ اعراب خاص ہے جمع مذکر سالم کے ساتھ اور أُولُو کے ساتھ، وَعِشْرُونَ مَعَ أَخَوَاتِهَا اور عِشْرُونَ ساتھ اپنی اخوات کے، اپنی بہنوں کے۔ عِشْرُونَ کس کو کہتے ہیں؟ بیس کو۔ عِشْرُونَ کا بھی یہی اعراب۔ اس کی جو بہنیں ہیں، بہنیں کہا، اخوات کہا۔ جو ثَلَاثُونَ، أَرْبَعُونَ، خَمْسُونَ، چالیس، پچاس، ساٹھ، ستر، اسی، نوے عربی میں کیسے کہیں گے؟ ثَلَاثُونَ، أَرْبَعُونَ، خَمْسُونَ، سِتُّونَ، سَبْعُونَ، ثَمَانُونَ، تِسْعُونَ۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ ہیں اس کے اخوات۔ بھئی ان کو اخوات کیوں کہا عِشْرُونَ کے؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ عِشْرُونَ ہے کلمۃٌ، کلمہ ہے یا نہیں؟ عِشْرُونَ کلمہ ہے اور ثَلَاثُونَ بھی کیا ہے؟ کلمہ، اور کلمہ کے آخر میں تا آ رہی ہے یعنی گول تا، سمجھ میں آیا، مؤنث۔ تو جب کلمہ ہے تو مؤنث ہوا اور جب مؤنث ہوا تو آپس میں یہ بھئی ہوئے یا بہنیں ہو گئیں گویا کہ؟ بہنیں ہو گئیں، جیسے بہنیں ایک دوسرے کے مشابہ ہیں یہ کلمات بھی کیا ہیں ایک دوسرے کے مشابہ۔ تو کہتے ہیں: وَعِشْرُونَ مَعَ أَخَوَاتِهَا اور عِشْرُونَ جو اس کی بہنیں ہیں، لیکن ترجمہ یوں نہ کرو، یوں ترجمہ کرو: وَعِشْرُونَ مَعَ أَخَوَاتِهَا اور عِشْرُونَ ساتھ اس کے جو مشابہ ہیں، اس جیسے کلمات ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ میں نے ذکر کر دیا کہ بہنیں کیوں کہہ دیا، کیونکہ جیسے بہنیں ایک دوسرے کے مشابہ ہوتی ہیں اسی طرح یہ لفظ بھی کیا ہیں، یہ کلمے بھی ایک دوسرے کے مشابہ ہیں۔ تو یہ اعراب کس کس کے ساتھ ہوا خاص؟ جمع مذکر سالم، أُولُو اور عِشْرُونَ مَعَ أَخَوَاتِهَا۔ تَقُولُ اب دیکھو حالتِ رفعی میں دیکھنا، سب میں واؤ ماقبل مضموم ہوگا۔ تَقُولُ: جَاءَنِي مُسْلِمُونَ وَعِشْرُونَ وَأُولُو مَالٍ۔ دیکھو مسلمون واؤ نون کے ساتھ، عشرون واؤ نون ماقبل مضموم ہے، اور أولو میں بھی اسی طرح واؤ ماقبل مضموم ہے۔ اب حالتِ نصبی میں کس کے ساتھ آئیں گے؟ یا ماقبل مکسور: وَرَأَيْتُ مُسْلِمِينَ وَعِشْرِينَ وَأُولِي مَالٍ۔ اور حالتِ جری میں بھی کس کے ساتھ آئیں گے؟ یا ماقبل مکسور: وَمَرَرْتُ بِمُسْلِمِينَ، دیکھو با جارہ داخل ہو رہی ہے، جر دے رہی ہے۔ رَأَيْتُ مُسْلِمِينَ کے اندر یہ مفعول بن رہے تھے اور مفعول کیا ہوتا ہے؟ منصوب۔ اب ان پر کیا داخل ہو رہی ہے؟ با، اور با کیا ہے؟ جر دیتی ہے تو یہ مجرور ہیں: وَمَرَرْتُ بِمُسْلِمِينَ وَعِشْرِينَ وَأُولِي مَالٍ۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہاں ایک نکتہ یاد رکھنا بھئی: أُولُو، دیکھو أُولُو لفظ لکھا ہوا ہے آپ کے سامنے: أُولُو۔ آپ ذرا غور کریں أُولُو میں جو شروع میں الف یعنی ہمزہ ہے اس کے بعد بھی ایک واؤ ہے، اور حالانکہ اس واؤ کو پڑھ نہیں رہے ہم۔ أُولُو پڑھ رہا ہوں یا اُلُو پڑھ رہا ہوں؟ اُلُو۔ دیکھو معلوم ہوا یہ پہلا واؤ جو ہے اس کو ہم پڑھ نہیں رہے۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے اس کو کیوں لکھا جاتا ہے؟ جب اس کو پڑھا نہیں جاتا، اگر یہ واؤ پڑھا جاتا تو یوں پڑھنا چاہیے تھا: اُولُو مَالٍ، لیکن ہم کیا پڑھ رہے ہیں؟ أُولُو مَالٍ، ہم تو اس کو پڑھتے نہیں ہیں، عرب اس کو پڑھتے نہیں ہیں، تو سوال پیدا ہوتا ہے اس کو کیوں لکھا جاتا ہے؟ تو جواب یاد رکھنا۔ بھئی دیکھیے أُولُو کے بارے میں آپ نے پڑھ لیا، حالتِ رفعی میں کیسے پڑھیں گے؟ أُولُو مَالٍ۔ اور حالتِ نصبی جری میں کیسے پڑھیں گے؟ أُولِي مَالٍ۔ اچھا یہ أُولِي میں سے واؤ کو ذرا پہلا واؤ جو لکھنے میں ہے اس واؤ کو اگر ہٹا دیں اور آپ أُولِي لکھیں، کیسے لکھیں گے؟ الف یعنی ہمزہ ہے شروع میں، پھر لام اور پھر یا۔ تو اگر اعراب نہیں ہوں گے تو یوں لگے گا یہ إِلَى لکھا ہوا ہے، کیا لکھا ہوا ہے؟ إِلَى۔ اسی طرح ہے نا، الف لام یا: إِلَى۔ تو چونکہ أُولِي حالتِ نصبی جری میں لکھا جائے تو اس کی مشابہت ہے إِلَى کے ساتھ، تو کسی پڑھنے والے سے کوئی پڑھنے والا غلطی سے کہیں اس کو إِلَى نہ پڑھ جائے، تو اس کے دونوں میں فرق کرنے کے لیے إِلَى اور أُولِي میں، حالتِ نصبی جری میں واؤ کو لکھا جاتا ہے ساتھ۔ اب دیکھو اب لکھا أُولِي واؤ کے ساتھ، اور إِلَى ہے بغیر واؤ کے، تو دیکھتے ہی پڑھتے ہی دیکھتے ہی فوراً کتاب میں لکھا ہوا ہے دیکھتے ہی پتہ چل جائے گا کہ یہ کیا لکھا ہے؟ أُولِي لکھا ہوا ہے، إِلَى نہیں، کیونکہ إِلَى میں تو الف کے بعد لام آتا ہے پھر یا آتی ہے اور أُولِي میں الف کے بعد واؤ لکھ دیا۔ تو حالتِ نصبی جری میں واؤ لکھا گیا تاکہ إِلَى سے فرق ہو جائے، اور جب حالتِ نصبی جری میں واؤ لکھا گیا تو حالتِ رفعی کے اندر بھی واؤ کا اضافہ کر دیا تاکہ ساری حالتیں ایک ہی جیسی رہیں ان میں کوئی فرق نہ رہے، یہ نہیں کہ بعض حالتوں میں واؤ لکھنا ہے بعض میں نہیں لکھنا۔ بات سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ آگے دیکھیے بھئی: وَاعْلَمْ أَنَّ نُونَ التَّثْنِيَةِ مَكْسُورَةٌ أَبَدًا، وَنُونَ جَمْعِ السَّلَامَةِ مَفْتُوحَةٌ أَبَدًا اور جان لے تو کہ نونِ تثنیہ جو ہوتا ہے مَكْسُورَةٌ أَبَدًا وہ ہمیشہ مکسور ہوتا ہے، وَنُونَ جَمْعِ السَّلَامَةِ اور جمع سلامت کا نون جو ہوتا ہے مَفْتُوحَةٌ أَبَدًا وہ ہمیشہ مفتوح ہوتا ہے۔ بھئی دیکھیے: رَجُلَانِ یہ نون تثنیہ والا ہے، مُسْلِمُونَ یہ نون کون سا ہے؟ یہ جمع والا ہے۔ لیکن دیکھو رَجُلَانِ نون کے نیچے کیا پڑھ رہے ہیں؟ زیر پڑھ رہے ہیں۔ تو دیکھو معلوم ہوا تثنیہ والا نون ہمیشہ کیا ہوتا ہے؟ مکسور: جَاءَنِي رَجُلَانِ، رَأَيْتُ رَجُلَيْنِ۔ دیکھو حالتِ رفعی ہو یا نصبی ہو، جری ہو، نونِ تثنیہ کے نیچے ہمیشہ کیا آتا ہے؟ زیر یعنی وہ مکسور ہوتا ہے، اور نونِ جمع مذکر سالم پر ہمیشہ زبر آتا ہے: مُسْلِمُونَ دیکھو نون مفتوح ہے، اور مُسْلِمِينَ حالتِ نصبی جری میں بھی نون کیا ہے؟ مفتوح ہے۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو یہی بات بیان کر رہے ہیں کہ نونِ تثنیہ جو ہے مَكْسُورَةٌ أَبَدًا وہ مکسور ہوتا ہے ہمیشہ، وَنُونَ جَمْعِ السَّلَامَةِ مَفْتُوحَةٌ أَبَدًا اور جمع سلامت کا نون ہمیشہ مفتوح ہوتا ہے۔ اور یہ اعراب نہیں ہے ان کے اوپر جو آ رہا ہے، یہ نون پر جو کسرہ آ رہا ہے تثنیہ میں اور نون پر جو فتحہ آ رہا ہے جمع مذکر، یہ اعراب نہیں ہے یہ ان کی حرکت ہے، کیا ہے؟ حرکت۔ اعراب تو ماقبل والا حرف ہے واؤ، یا، الف، یا جو آ رہا ہے۔ وَكِلَاهُمَا تَسْقُطَانِ عِنْدَ الْإِضَافَةِ اور یہ دونوں اضافت کے وقت گر جاتے ہیں۔ جب تثنیہ کی اضافت کی جائے تو نونِ تثنیہ گر جاتا ہے، نونِ تثنیہ۔ مثلاً بھئی، کتاب کی تثنیہ کیا آئے گی؟ كِتَابَانِ، اور اس کی اب اضافت کرو ذرا زید کی طرف: كِتَابَانِ زَيْدٍ، اور پھر نون کو درمیان سے گرا دو کیا بن گیا؟ كِتَابَا زَيْدٍ۔ سمجھ میں آیا؟ تو دیکھو جب بھی اس کی اضافت ہوگی آگے مضاف الیہ جب بھی آئے گا تو یہ تثنیہ والا نون گر جائے گا، اگر کوئی اس کو لکھتا ہے یا پڑھتا ہے وہ غلط کر رہا ہے، کلامِ عرب میں ایسا نہیں ہوتا بلکہ نون گر جاتا ہے۔ تو كِتَابَانِ زَيْدٍ نہیں کہیں گے کبھی بھی بلکہ کیا کہیں گے؟ كِتَابَا زَيْدٍ۔ اسی طرح جو نونِ جمع ہوتا ہے وہ بھی جب اضافت کی صورت میں یعنی جب مضاف بنتا ہے تو گر جاتا ہے، مثلاً بھئی مُسْلِمُونَ، اس کی اضافت کرو ذرا مصر کی طرف، مصر شہر کو کہتے ہیں، تو کیسے پڑھیں گے؟ مُسْلِمُو مِصْرَ، وہ نون گر جائے گا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: وَكِلَاهُمَا تَسْقُطَانِ عِنْدَ الْإِضَافَةِ اور یہ دونوں جو ہیں نون، یعنی کون سے نون؟ ایک نونِ تثنیہ اور ایک نونِ جمع، یہ دونوں تَسْقُطَانِ ساقط ہو جاتے ہیں یعنی گر جاتے ہیں عِنْدَ الْإِضَافَةِ اضافت کے وقت۔ تَقُولُ آپ یوں کہتے ہیں: جَاءَنِي غُلَامَا زَيْدٍ وَمُسْلِمُو مِصْرَ آئے میرے پاس زید کے دو غلام اور شہر کے مسلمان۔ تو دیکھو دونوں میں نون کیا ہے؟ اضافت کی وجہ سے گر گیا۔ معلوم ہوا تثنیہ کا جب مضاف بنے گا اس کا نون گر جائے گا اور اسی طرح جمع مذکر سالم جب مضاف بنے گا تو اس کا نون گر جائے گا بھئی۔ اب ذرا پہلے پچھلے دہرا لو بھئی، دہرا لو بھئی۔ بار بار ان کا تکرار کیا کرو، دہرایا کرو، خوب پختہ ازبر ہو جائیں۔ پانچویں قسم پڑھی آپ نے آج، پانچویں قسم کا اعراب کیا تھا؟ رفع الف کے ساتھ، نصب اور جر یا ماقبل مفتوح کے ساتھ، اور یہ اعراب تین چیزوں کے ساتھ آئے گا: نمبر ایک تثنیہ، تین اسموں کا، نمبر ایک تثنیہ، نمبر دو کِلا، پوری بات کریں کِلا جبکہ وہ مضاف ہو کس کی طرف؟ ضمیر کی طرف، اور اسی طرح اثنانِ اور اثنتانِ کا یہی اعراب ہے۔ اور چھٹی قسم آپ نے پڑھی کہ اس کا رفع کس کے ساتھ؟ واؤ ماقبل مضموم، اور نصب اور جر کس کے ساتھ آئے گا؟ یا ماقبل مکسور، اور یہ اعراب بھی تین چیزوں کے ساتھ تین قسم کے اسموں کے ساتھ خاص ہیں: نمبر ایک جمع مذکر سالم، نمبر دو عِشْرُونَ مَعَ أَخَوَاتِهَا، اور نمبر تین أُولُو کے ساتھ، أُولُو بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جی۔ آگے دیکھیے بھئی: اَلسَّابِعُ: ساتویں قسم جو ہے: أَنْ يَكُونَ الرَّفْعُ بِتَقْدِيرِ الضَّمَّةِ، وَالنَّصْبُ بِتَقْدِيرِ الْفَتْحَةِ، وَالْجَرُّ بِتَقْدِيرِ الْكَسْرَةِ کہ رفع جو آئے گا وہ تقدیرِ ضمہ کے ساتھ آئے گا، وَالنَّصْبُ بِتَقْدِيرِ الْفَتْحَةِ اور نصب تقدیرِ فتحہ کے ساتھ، وَالْجَرُّ بِتَقْدِيرِ الْكَسْرَةِ اور جر تقدیرِ کسرہ کے ساتھ۔ تقدیر کا معنی ہے فرض کر لینا، یعنی یہاں پر لفظوں کے اندر رفع نہیں نظر آئے گا آپ کو، لفظوں کے اندر رفع نہیں نظر آئے گا، نصب نظر نہیں آئے گا اور کسرہ نظر نہیں آئے گا بھئی، کسرہ نظر نہیں آئے گا۔ بھئی اب پہلے اعراب جو گزرے ابھی تک ان میں آپ دیکھ رہے تھے حالتِ رفعی اور نصبی جری وغیرہ میں فرق آتا تھا، تلفظ سے ہی پتہ چل جاتا تھا۔ مُسْلِمُونَ: میں کون سی حالت پڑھ رہا ہوں؟ حالتِ رفعی ہے۔ مُسْلِمِينَ: سنتے ہی آپ کو پتہ چل گیا معلوم ہوا یہ کون سی حالت ہے؟ حالتِ نصبی ہے یا حالتِ جری ہے۔ رَجُلَانِ: سننے سے ہی پتہ چل رہا ہے کون سی حالت ہے؟ حالتِ رفعی۔ رَجُلَيْنِ: کون سی حالت ہے؟ حالتِ نصبی یا جری۔ اَبُوکَ: بتائیے بھئی کون سی حالت ہے؟ حالتِ رفعی۔ اَبَاکَ: حالتِ نصبی۔ اَبِیکَ: حالتِ جری۔ زَيْدٌ: کون سی حالت ہے؟ حالتِ رفعی۔ زَيْدًا: حالتِ نصبی۔ زَيْدٍ: حالتِ جری۔ دیکھو ابھی تک جتنی قسمیں گزری تھیں ان میں اعراب کا باقاعدہ اعراب لفظی تھا، اعراب کیا تھا؟ لفظی۔ لفظی کا کیا معنی؟ کہ باقاعدہ تلفظ سے ہی پتہ چل جاتا ہے۔ دیکھو میں صرف تلفظ کر رہا ہوں زبان سے اور آپ کو پتہ چلتا جا رہا ہے کہ اس پر اس وقت رفع پڑھا جا رہا ہے یا نصب یا جر، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ اعرابِ لفظی کہتے ہیں۔ تو ابھی تک جتنی قسمیں گزریں ان کے اندر اعرابِ لفظی تھا یعنی باقاعدہ تلفظ سے ہی رفع اور نصب جر وغیرہ میں فرق ہو جاتا تھا۔ اب اعراب کی وہ قسمیں آئیں جو تقدیری ہیں، جو تقدیری ہیں، یعنی وہاں پر تلفظ سے فرق کا پتہ نہیں چلے گا۔ تلفظ سے حالتِ رفعی میں کچھ اور آئے، حالتِ نصبی میں کچھ اور آئے، حالتِ جری میں کچھ اور آئے، تلفظ سے ہی پتہ چل جائے ایسا نہیں ہوگا۔ تو یہاں تبدیلی تو آئے گی لیکن تقدیراً آئے گی، یعنی ہم فرض کر لیں گے کہ تبدیلی آ گئی ہے، اگرچہ بظاہر لفظوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، لیکن ہم کیا فرض کر لیں گے؟ تبدیلی آ چکی، حالتِ رفعی میں کچھ اور تھا، حالتِ نصبی جری میں کچھ اور ہے۔ تو یہی بیان کر رہے ہیں کہ ساتویں قسم یہ ہے: أَنْ يَكُونَ الرَّفْعُ بِتَقْدِيرِ الضَّمَّةِ کہ رفع تقدیرِ ضمہ کے ساتھ ہوگا، نصب تقدیرِ فتحہ کے ساتھ اور جر تقدیرِ کسرہ کے ساتھ۔ یعنی یوں کہیں کہ ساتویں قسم کے تینوں اعراب تقدیراً ہوں گے، کیا ہوں گے؟ تقدیراً ہوں گے یعنی رفع بھی تقدیراً ہوگا، نصب بھی تقدیراً اور جر بھی تقدیراً ہوگا بھئی۔ تقدیراً کا معنی ہے فرض کر لینا، گویا فرض کر لیں گے اس کی حالت بدلتی جا رہی ہے، بدل تو بظاہر نہیں رہی لیکن فرض کیا کر لیں گے؟ بدل رہی ہے۔ تو کہتے ہیں رفع تقدیرِ ضمہ کے ساتھ ہوگا، نصب تقدیرِ فتحہ کے ساتھ اور جر تقدیرِ کسرہ کے ساتھ۔ وَيُخْتَصُّ بِالْمَقْصُورِ اور اعراب کی یہ قسم خاص ہے اسمِ مقصور کے ساتھ۔ بھئی اسمِ مقصور کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: وَهُوَ مَا فِي آخِرِهِ أَلِفٌ مَقْصُورَةٌ وہ ہے جس کے آخر میں الفِ مقصورہ ہو۔ کیا ہو؟ الفِ مقصورہ ہو بھئی۔ یاد رکھیے ایک الفِ مقصورہ ہے، ایک الفِ ممدودہ ہے۔ یہ جو عام الف ہوتا ہے اس کو الفِ مقصورہ کہتے ہیں، مقصورہ قصر سے ہے، چھوٹا، چھوٹا الف ہے، یہ عام الف۔ اور ایک الفِ ممدودہ ہوتا ہے جس کو لمبا کرتے ہیں، قرآن میں بھی آپ دیکھتے ہیں بعض الف ہوتے ہیں ان کے اوپر باقاعدہ مد لکھا ہوتا ہے جن کو خوب لمبا کرنا ہوتا ہے، تو وہ الفِ ممدودہ جو ہے وہ الف ہے جس کے بعد ہمزہ آئے۔ الفِ ممدودہ کون سا ہے؟ جس کے بعد ہمزہ آئے۔ جیسے اِسْرَائِيلَ، بنی اسرائیل، قرآن میں آپ دیکھتے ہیں: اِسْرَا، را کے بعد الف ہے یا نہیں؟ اور اس الف کے بعد کیا ہے؟ ہمزہ: اِسْرَائِيلَ۔ اسی لیے اس الف پر مد ڈلا ہوگا اس کو خوب لمبا کرتے ہیں: اِسْرَائِيلَ۔ یہ ہے الفِ ممدودہ، خوب لمبا کرنا، اور باقی جو عام الف ہیں جو عام الف ہیں اس کو کیا کہتے ہیں؟ الفِ مقصورہ کہتے ہیں۔ تو اسمِ مقصور اس کو کہیں گے جس کے آخر میں کیا ہو؟ الفِ مقصورہ ہو جیسے مُوسَى، دیکھو عام سا الف ہے، لمبا تو نہیں کرنا پڑتا نا، تو عام الف۔ تو جَاءَنِي مُوسَى، رَأَيْتُ مُوسَى، مَرَرْتُ بِمُوسَى۔ تو انہوں نے آپ کو بتلا دیا بھئی کہ اسمِ مقصور وہ ہے کہ جس کے آخر میں الفِ مقصورہ ہو بھئی، الفِ مقصورہ یعنی عام الف ہو یعنی الفِ ممدودہ نہ ہو۔ تو جس اسم کے آخر میں الفِ مقصورہ ہو انہوں نے آپ کو بتایا کہ اس کا اعراب تینوں حالتوں میں تقدیری ہوگا: رفع بھی تقدیری، نصب بھی تقدیری اور جر بھی تقدیری۔ رفع ہوگا تقدیرِ ضمہ کے ساتھ یعنی فرض کر لو جب حالتِ رفعی میں ہے تو فرض کر لو اس پر ضمہ آ گیا ہے، اور نصب جو ہے تقدیرِ فتحہ کے ساتھ ہوگا جب حالتِ نصبی میں ہو تو فرض کر لو کہ اس پر فتحہ آ گیا ہے، اور جب حالتِ جری میں ہو تو فرض کر لو کہ اس پر کسرہ آ چکا ہے۔ جیسے دیکھیے مُوسَى، اس کے آخر میں الفِ مقصورہ ہے، دیکھو عام الف ہے، لمبا الف اس کو لمبا نہیں کرنا زیادہ بھئی، یہ الفِ مقصورہ عام الف، مُوسَى۔ اب آپ کہتے ہیں: جَاءَنِي مُوسَى، یہاں یہ فاعل بن رہا ہے، مرفوع ہے۔ رَأَيْتُ مُوسَى، یہاں یہ مفعول بن رہا ہے، منصوب ہے۔ اور مَرَرْتُ بِمُوسَى، یہاں یہ مجرور ہے، با جارہ اس پر داخل ہے۔ تینوں حالتوں میں یہ یکساں ہے: جَاءَنِي مُوسَى، رَأَيْتُ مُوسَى، مَرَرْتُ بِمُوسَى۔ تو یہ تو بدل نہیں رہا، تو معرب تو وہ ہے جس کا آخر عوامل کے بدلنے سے بدلتا ہے، تو یہ تو بدل نہیں رہا، پھر یہ کیسے معرب؟ تو جواب دے دیا کہ بھئی فرض کر لو یہ بدل رہا ہے۔ کیا کر لو؟ فرض کر لو۔ جب حالتِ رفعی میں ہے فرض کر لو اس پر ضمہ آ چکا ہے، جب حالتِ نصبی میں ہو فرض کر لو اس پر فتحہ آ چکا ہے، اور جب حالتِ جری میں ہو تو فرض کر لو اس پر کسرہ آ چکا ہے۔ اس لیے کیونکہ یہاں ایک مانع موجود ہے۔ وہ کیا؟ الف ہے آخر میں، الف، اور الف ہمیشہ ساکن ہوتا ہے، نہ اس پر زبر آ سکتا ہے، نہ زیر، نہ پیش۔ تو اس مجبوری کی وجہ سے اعراب ظاہر نہیں ہو رہا بھئی، اگر یہ مجبوری نہ ہوتی یہاں الف نہ ہوتا تو اعراب کیا ہو جاتا؟ ظاہر ہو جاتا بھئی۔ تو لہٰذا یہاں ایک مانع ہے، ایک رکاوٹ موجود ہے، اس رکاوٹ کی وجہ سے اعراب ظاہر نہیں ہو رہا، لہٰذا آپ فرض کر لیں کہ حالت بدل رہی ہے، اگرچہ بدل نہیں رہی حقیقت میں لیکن فرض کر لیں کہ حالت بدل رہی ہے، حالت بدل رہی ہے۔ تو کہتے ہیں: وَيُخْتَصُّ بِالْمَقْصُورِ اور اعراب کی یہ قسم خاص ہے اسمِ مقصور کے ساتھ، وَهُوَ مَا فِي آخِرِهِ أَلِفٌ مَقْصُورَةٌ اور وہ اسم ہے کہ جس کے آخر میں الفِ مقصورہ ہو، كَعَصًا۔ بھئی آپ کی کتابوں میں ہو سکتا ہے عَصَا ہو، یاد رکھیے عَصَا نہیں، یہ عَصًا لفظ ہے، صاد کے اوپر تنوین ہونی چاہیے، دو زبر ہونے چاہیے: عَصًا۔ جیسے کہ عَصًا ہے، یہ کیا ہے؟ اسمِ مقصور ہے، یہ کیا ہے؟ اسمِ مقصور ہے۔ کیا لفظ؟ عَصًا۔ آپ کہیں گے عَصًا، عصا کے آخر میں تو تنوین ہے الف تو ہے ہی نہیں؟ عصا کے آخر میں اشکال سمجھ میں آ رہا ہے؟ آپ کہیں گے عصا کے آخر میں تو تنوین ہے الف تو ہے ہی نہیں، اور بات تو چل رہی ہے کس کی؟ اسمِ مقصور کی، اور اسمِ مقصور کسے کہتے ہیں جس کے آخر میں الف ہو، الف ہو بھئی۔ اچھا، تو آپ کہیں گے یہاں تو الف ہے نہیں، یہاں تو آخر میں تنوین ہے، تو ہم کہیں گے جواب میں کہ یہاں الف موجود ہے تقدیراً۔ الف کیا ہے؟ تقدیراً موجود ہے یعنی فرض کر لو موجود ہے یہاں پر، فرض کر لو موجود ہے۔ تو دراصل وہ تو وہ اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے گرا ہے تو یوں سمجھیں گویا ابھی بھی موجود ہے، یوں فرض کر لیں کہ ابھی بھی موجود ہے بھئی۔ اور کس طرح وہ الف گرا؟ تو یاد رکھیے پہلے دو تین مقدمات سمجھ لیں، ان شاء اللہ پوری بات آپ کو سمجھ میں آ جائے گی۔ سب سے پہلے یہ یاد رکھیے کہ یہ جو تنوین ہے یہ نونِ ساکن کا نام ہے۔ تنوین نونِ ساکن کو کہتے ہیں، نونِ ساکن کا نام ہے۔ کس طرح؟ دیکھیے میں آپ کے سامنے ایک لفظ لکھوں گا آپ نے اس کو پڑھنا ہے: میں نے لکھی زاء، یاء، دال، اور دال کے اوپر دو پیش ڈال دیے، کیا لکھا؟ ز، ی، د، اور دال کے اوپر دو پیش ڈال دیے۔ اب میں آپ سے کہتا ہوں پڑھو اس کو، آپ پڑھیں کیا پڑھیں گے؟ زَيْدٌ۔ سوال: بھئی یہ آخر میں نون کہاں سے پڑھ رہے ہو؟ میں نے تو کوئی نون نہیں لکھا، میں نے تو ز، ی، د لکھی ہے اور دال کے اوپر دو پیش ڈالے ہیں اور آپ کیا پڑھ رہے ہیں؟ زَيْدٌ، دیکھو زبان سے ادا کریں: زَيْدٌ، آخر میں نون پڑھ رہے ہیں آپ بھئی، یہ نون کہاں سے آیا؟ تو جواب آپ دیں گے کہ یہ جو آخر میں تنوین ہے یہ نونِ ساکن کا نام، یہ تنوین نونِ ساکن ہے، تنوین نونِ ساکن کا نام ہے، تو یہ نون جو ہے یہ وہ تنوین ہم پڑھ رہے ہیں: زَيْدٌ۔ تو معلوم ہوا تنوین کس چیز کا نام ہے؟ نونِ ساکن کا نام ہے۔ دوسری بات، دوسری بات آپ نے صرف کے اندر ضابطہ پڑھا ہوگا کہ واؤ یا یا متحرک ہوں اور ماقبل فتحہ ہو تو ان کو تو اس واؤ یا یا کو الف سے بدلتے ہیں۔ واؤ یا یا متحرک ہوں یعنی ان پر حرکت ہو، ساکن نہ ہوں، کوئی بھی حرکت ہو، ضمہ ہو، فتحہ ہو یا کسرہ، جو بھی حرکت ہو، واؤ اور یا ہیں متحرک اور ماقبل والے حرف پر فتحہ ہونا چاہیے، زبر ہونی چاہیے، تو اس واؤ اور یا کو الف سے بدلتے ہیں۔ جیسے قَالَ، اصل میں کیا تھا؟ قَوَلَ۔ دیکھو واؤ متحرک ہے اس پر حرکت ہے اور اس سے ماقبل قاف پر کیا ہے؟ زبر، تو اس واؤ کو کس سے بدل دیا؟ الف سے، کیا بن گیا؟ قَالَ۔ اسی طرح بَاعَ، اصل میں کیا تھا؟ بَيَعَ۔ یا متحرک ہے اور ماقبل با پر کیا ہے؟ فتحہ، اور قانون ہے کہ واؤ یا یا متحرک ہوں اور ماقبل کیا ہو؟ فتحہ ہو، اس کو کس سے بدلتے ہیں؟ الف سے، تو اس بَيَعَ کی یا کو کس سے بدل دیا؟ الف سے، کیا بن گیا؟ بَاعَ بن گیا بھئی، بَاعَ بن گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو پہلی بات کیا ہوئی کہ تنوین نونِ ساکن کا نام ہے۔ دوسری بات کیا ہوئی کہ واؤ اور یا متحرک ہوں اور ماقبل فتحہ ہو تو اس کو الف سے بدل دیتے ہیں۔ تیسری بات یاد رکھیے بھئی، تیسری بات یہ کہ جب دو ساکن اکٹھے ہو جائیں، جب دو ساکن اکٹھے ہو جائیں تو پھر دیکھو کہ ان میں سے پہلا ساکن جو ہے وہ حرفِ مدہ تو نہیں؟ اگر پہلا ساکن حرفِ مدہ ہو تو پھر اس کو گرا دیں گے، حذف کر دیں گے۔ کیا ضابطہ؟ اگر دو ساکن اکٹھے ہو جائیں اور پہلا ساکن کیا ہو؟ حرفِ مدہ ہو، سمجھ میں آئی بات، تو اس حرفِ مدہ کو کیا کریں گے؟ گرا دیں گے، جبکہ اجتماعِ ساکنین علی غیر حدہ ہو۔ ایک ہوتا ہے اجتماعِ ساکنین علی حدہ اور ایک اجتماعِ ساکنین علی غیر حدہ۔ یہ تو صرف کی باتیں ہیں، چلیے میں پھر بیان کر دیتا ہوں۔ اجتماعِ ساکنین علی حدہ جائز ہوتا ہے، وہاں دو ساکن آتے ہیں لیکن ان کا پڑھنا جائز ہوتا ہے، اور اس میں ضروری ہے کہ پہلا ساکن حرفِ مدہ ہو اور ثانی ساکن مدغم ہو۔ ثانی ساکن مدغم ہو جیسے فَارٌّ، فَارٌّ الف بھی ساکن اور فا، دو را آخر میں آ رہی ہیں، یہ جو راء مشدد ہے یہ کتنی را ہیں؟ دو، جو حرفِ مشدد ہوتا ہے وہ دو حرف ہوتے ہیں دراصل۔ تو فَارٌّ الف بھی ساکن اور پہلی را بھی ساکن، تو یہ دو ساکن اکٹھے ہو گئے، یہ اجتماعِ ساکنین ہے، دو ساکنوں کا جمع ہونا ہے، لیکن یہ علی حدہ ہے، یہ جائز ہے، لہٰذا اس کو اسی طرح پڑھیں گے: فَارٌّ۔ اور بعض اوقات دو ساکن جمع ہوتے ہیں لیکن ان کا جمع ہونا جائز نہیں ہوتا بھئی دو ساکنوں کا، تو اس کے علاوہ جتنی صورتیں ہیں وہ اجتماعِ ساکنین علی غیر حدہ کی ہیں۔ تو اجتماعِ ساکنین علی حدہ کیا کہ پہلا ساکن حرفِ مدہ ہو اور ثانی کیا ہو؟ مدغم ہو یعنی اس کا ادغام ہوا ہو، اس پر شد ہو۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اچھا، اب پہلے یہ سمجھ لیں کہ حرفِ مدہ کسے کہتے ہیں؟ یاد رکھیے: واؤ، الف، یا، ان سے ماقبل اگر ماقبل والے حرف کی حرکت ان کے موافق ہو تو ان کو حرفِ مدہ کہتے ہیں۔ مثلاً الف سے پہلے والے حرف پر زبر ہو جیسے قَالَ، دیکھو الف ہے درمیان میں اور الف سے پہلے کیا ہے؟ قاف پر زبر، تو اس الف کو حرفِ مدہ کہیں گے، کیا کہیں گے؟ مدہ۔ مد کا معنی ہے کھینچنا، کھینچنا، یہ اسی فتحہ کو کھینچ کر لمبا کر دیتا ہے الف۔ بھئی دیکھیے، ذرا الف کے بغیر پڑھو: قاف ہے اس پر بھی زبر ہے اور لام ہے اس پر بھی زبر ہے، کیسے پڑھیں گے؟ قَلَ، دیکھو قاف پر زبر اور لام پر بھی زبر: قَلَ۔ اب درمیان میں ذرا الف لے آؤ، اب اس کو ذرا پڑھو: قَالَ، کیا فرق پڑا؟ اس الف نے کیا فائدہ دیا؟ اسی قاف کے زبر کو کھینچ کر لمبا کر دیا، پہلے تھا قَلَ، اب ہے قَالَ۔ دیکھو اسی زبر کو کیا کر رہے ہیں آپ؟ کھینچ کر لمبا کر رہے ہیں، یہ فائدہ کون دے رہا ہے؟ الف۔ اسی لیے الف سے پہلے جب فتحہ ہو تو الف کو حرفِ مدہ کہتے ہیں، اور الف سے پہلے ہمیشہ ہی فتحہ آتا ہے، وہاں تو اور کوئی صورت آئے گی ہی نہیں۔ ہاں واؤ اور یا میں معاملہ مختلف ہے، وہاں واؤ کے موافق ہے ضمہ یعنی پیش، واؤ سے ماقبل اگر پیش ہو تو اس کو حرفِ مدہ کہیں گے، اگر پیش نہ ہو یعنی زبر ہو، فتحہ ہو ماقبل والے حرف پر تو اس کو حرفِ مدہ نہیں کہیں گے، حرفِ لین کہیں گے: لام، یا، نون، حرفِ لین۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو حرفِ مدہ کسے کہتے ہیں؟ الف سے قبل جب کیا ہو؟ فتحہ۔ واؤ سے قبل ضمہ یعنی پیش ہو، اور یا سے ماقبل کسرہ ہو یعنی زیر ہو۔ ان کو حروفِ مدہ کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ یہ اپنے سے ماقبل والی حرکت کو کھینچ کر لمبا کر دیتے ہیں، جیسے مُسْلِمُونَ اس سے ذرا واؤ کو نکال دو: مُسْلِمُنَ، اسی میں اب واؤ لے آؤ: مُسْلِمُونَ، اسی ضمہ کو دیکھو اب آپ کھینچ کر لمبا کر رہے ہیں، ضمہ پہلے بھی تھا اب صرف کیا کر رہے ہیں اس کو؟ لمبا کر رہے ہیں: مُسْلِمُونَ۔ یا اور مثال لے لو، یا کی مثال لے لو، جیسے مِنْ لفظِ مِن ہے، میم کے نیچے زیر ہے اور آگے نون ہے: مِن، اب درمیان میں ذرا یا بڑھا دو: مِین، بس، کیا فائدہ ہوا؟ یا نے اسی کسرہ کو کھینچ کر لمبا کر دیا، تو واؤ، الف اور یا ان سے ماقبل کی حرکت اگر ان کے موافق ہو یعنی الف سے ماقبل کیا ہو؟ فتحہ، واؤ سے ماقبل کیا ہو؟ ضمہ، اور یا سے ماقبل کسرہ ہو تو ان کو حرفِ مدہ کہتے ہیں، اور الف سے پہلے تو ہمیشہ ہی فتحہ آتا ہے وہاں تو اور کوئی صورت آئے گی نہیں۔ ہاں واؤ اور یا میں اور صورت بھی آ سکتی ہے کہ ماقبل میں فتحہ وغیرہ فتحہ بھی آ سکتا ہے، تو پھر اس صورت میں اگر واؤ سے ماقبل ضمہ نہیں ہے بلکہ فتحہ ہے تو پھر اس کو حرفِ لین کہیں گے، اور اسی طرح یا سے ماقبل اگر کسرہ نہیں ہے بلکہ فتحہ ہے تو اس کو حرفِ لین کہیں گے، لین، جیسے دیکھو بھئی: مَوْتٌ، درمیان میں واؤ ہے اور ماقبل والے حرف پر فتحہ ہے تو اس واؤ کو حرفِ مدہ نہیں کہیں گے بلکہ حرفِ لین کہیں گے، اور اسی طرح جیسے خَيْرٌ دیکھو یا سے ماقبل خا پر کیا ہے؟ فتحہ ہے تو اس یا کو حرفِ مدہ نہیں کہیں گے بلکہ کیا کہیں گے؟ حرفِ لین کہیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو حرفِ مدہ، مد کا معنی ہے کھینچنا، لمبا کرنا، تو یہ جب حروفِ مدہ ہوں تو پھر یہ کیا فائدہ دیتے ہیں؟ اپنے سے ماقبل کی حرکت کو کھینچ کر لمبا کر دیتے ہیں، اور اگر ان کے ماقبل کی حرکت ان کے موافق نہ ہو تو پھر ان کو حرفِ مدہ نہیں کہتے بلکہ حرفِ لین کہتے ہیں، جیسے دیکھو بھئی: نَوْمٌ، نون، واؤ، میم۔ واؤ سے ماقبل کیا ہے؟ نون، اور نون پر کیا ہے؟ فتحہ، تو یہ واؤ حرفِ مدہ ہے یا حرفِ لین ہے؟ حرفِ لین ہے۔ جب یہ حرفِ لین ہے معلوم ہوا حرفِ مدہ نہیں، مد کسے کہتے تھے؟ کیونکہ وہ حرکت کو کھینچ کر لمبا کرتا تھا، جب یہ مدہ ہی نہیں ہے تو حرکت کو کھینچ کر لمبا بھی نہیں کریں گے، لہٰذا نَوْوْوْم پڑھنا ٹھیک نہیں بلکہ کیا پڑھیں گے؟ نَوْم۔ اسی لیے اکثر مؤذن حضرات بھئی فجر کی اذان میں غلطی کرتے ہیں اور کس طرح اذان دیتے ہیں: اَلصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْوْوْوْم، خوب لمبا کرتے ہیں۔ بھئی خوب لمبا کیوں کر رہے ہو؟ یہ واؤ تو حرفِ مدہ ہے ہی نہیں، یہ تو کیا ہے؟ حرفِ لین ہے، لہٰذا اس کو لمبا نہیں کرنا چاہیے، عرب کی اذانیں آپ سن لیں بھئی، عرب کی اذان، وہ اس لفظ کو بڑا مختصر ادا کریں گے: اَلصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ۔ دیکھا، مختصر سا ادا کر دیں گے، طریقہ سمجھ میں آیا بھئی؟ کیونکہ یہ حرفِ مدہ ہی نہیں ہے بھئی۔ تو حرفِ مدہ کسے کہتے ہیں؟ واؤ، الف اور یا جب ان سے ماقبل کی حرکت ان کے موافق ہو، موافق ہونے کا کیا معنی؟ الف سے پہلے فتحہ ہو، واؤ سے ماقبل ضمہ ہو اور یا سے ماقبل کسرہ ہو، اور یہ بھی میں نے بتایا الف سے پہلے تو ہوگا ہی فتحہ لیکن واؤ اور یا میں کسرہ اور ضمہ کی جگہ فتحہ بھی آ سکتا ہے۔ تو کتنی باتیں ہوئیں؟ پہلی بات کہ تنوین نونِ ساکن کا نام ہے۔ دوسری بات کہ واؤ اور یا متحرک ہوں اور ماقبل فتحہ ہو تو اس کو کس سے بدلتے ہیں؟ الف سے بدلتے ہیں۔ تیسری بات یہ میں نے بیان کی کہ اجتماعِ ساکنین دو قسم پر ہے: ایک اجتماعِ ساکنین علی حدہ اور ایک اجتماعِ ساکنین علی غیر حدہ۔ اجتماعِ ساکنین علی حدہ یہ جائز ہے اور اجتماعِ ساکنین علی غیر حدہ یہ جائز نہیں۔ اجتماعِ ساکنین علی حدہ جو جائز ہے وہ کون سا ہے؟ کہ اول ساکن، دو ساکن اکٹھے ہو جائیں اور اول ساکن حرفِ مدہ ہو اور ثانی ساکن کیا ہو؟ مدغم ہو، اس کا ادغام ہوا ہو یعنی دو حرف ہوں، مشدد ہو وہ بھئی، جیسے فَارٌّ، دیکھا الف بھی ساکن اور پہلی را بھی ساکن، یہ راء مشدد کتنی را ہیں؟ دو، اور پہلی را کیا ہے؟ ساکن، تو الف بھی ساکن اور را بھی، دو ساکن اکٹھے ہو گئے لیکن یہ اجتماعِ ساکنین علی حدہ ہے کیونکہ دونوں شرطیں پوری: پہلی شرط کیا کہ اول ساکن حرفِ مدہ ہو، یہاں بھی الف کیا ہے؟ ماقبل فتحہ، تو الف کیا ہے حرفِ مدہ، اور ثانی ساکن کیا ہے؟ مدغم ہے، اس کا ادغام ہوا ہے ایک اور را کے اندر بھئی۔ اور ایک ہے اجتماعِ ساکنین علی غیر حدہ، تو جو اس کے علاوہ ساکنین کے جمع ہونے کی جتنی بھی صورتیں ہیں وہ اجتماعِ ساکنین علی غیر حدہ ہے، وہاں پر وہاں پر پھر اگر وہ دو ساکنوں میں سے پہلا حرفِ مدہ ہو تو اس کو گرا دیں گے۔ اگر دو ساکن اکٹھے ہوئے اور ہو اجتماعِ ساکنین علی غیر حدہ تو دیکھو پہلا ساکن حرفِ مدہ ہے یا حرفِ مدہ نہیں؟ اگر پہلا ساکن حرفِ مدہ ہو تو اس کو گرا دیں گے، اور اگر پہلا ساکن حرفِ مدہ نہیں تو پھر اس کو حرکت دے دیں گے اور عموماً کسرہ والی حرکت دیتے ہیں، اسی لیے آپ نے قانون پڑھا ہے: اَلسَّاكِنُ إِذَا حُرِّكَ حُرِّكَ بِالْكَسْرِ کہ ساکن کو جب حرکت دی جاتی ہے تو کون سی حرکت دی جاتی ہے؟ کسرہ والی۔ جیسے دیکھیے، جیسے لَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ آپ پڑھتے ہیں: لَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ، دیکھو لَمْ نَجْعَلْ، لَم نے جزم دیا تو نَجْعَلْ کا لام ساکن ہے، اور آگے ہے اَلْأَرْضَ، اور آپ جانتے ہیں کہ الف لام جو ہوتا ہے تعریف والا اس کا ہمزہ وصلی ہے، درمیانِ عبارت میں گر جاتا ہے، تو اَلْأَرْضَ ہمزہ شروع والا گر گیا، اب آگے لام ساکن ہے، اَلْأَرْضَ، لام بھی ساکن، تو لَمْ نَجْعَلْ یہ لام بھی ساکن اور آگے اَلْأَرْض جو آ رہا تھا اس کا تو ہمزہ گر گیا تو لام بھی کیا ہے؟ ساکن، تو دو ساکن اکٹھے ہو گئے اور ان میں سے اول حرفِ مدہ ہے؟ دونوں لام ساکن اکٹھے ہوئے ہیں تو پہلا بھی لام ہے، وہ واؤ، الف یا یا تو ہے ہی نہیں، حرفِ مدہ ہے ہی نہیں۔ جب حرفِ مدہ نہ ہو اولِ ساکن تو پھر اس کو کسرہ والی حرکت دے دیتے ہیں، اسی لیے لام کو کسرہ والی حرکت دے دی: لَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ۔ تو یہ لام کو کسرہ والی حرکت دی، تو ضابطہ سمجھ میں آیا کہ جب اجتماعِ ساکنین علی غیر حدہ ہو تو پھر دیکھو کہ دو ساکنوں میں سے پہلا ساکن حرفِ مدہ ہے یا حرفِ مدہ نہیں؟ اگر حرفِ مدہ ہو تو اس کو گرا دو تو اجتماعِ ساکنین ختم ہو جائے گا، ایک گر گیا ایک رہ گیا، اور اگر پہلا ساکن حرفِ مدہ نہیں تو پھر اس کو کون سی حرکت دے دو؟ کسرہ والی حرکت دے دو، اب بھی اجتماعِ ساکنین ختم ہو گیا، ایک کو آپ نے حرکت دے دی ایک ساکن رہ گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھیے بھئی، پھر سن لو دوبارہ ایک دفعہ۔ چند باتیں میں نے ذکر کیں، بات چل رہی تھی کَعَصًا، عَصًا، آپ کے ذہن میں اشکال آیا کہ یہ اسمِ مقصور کی مثال ہے اور اسمِ مقصور تو اس کو کہتے ہیں جس کے آخر میں الفِ مقصورہ ہو یعنی الف ہو، تو یہاں تو عَصًا یہاں تو تنوین ہے آخر میں الف ہے ہی نہیں، تو میں نے بتایا کہ پہلے دو تین چیزیں یاد رکھیں: نمبر ایک کہ تنوین جو ہے وہ نونِ ساکن کا نام ہے۔ دوسری بات یہ کہ واؤ یا یا متحرک ہوں اور ماقبل والے حرف پر فتحہ ہو تو ان کو کس سے بدلتے ہیں؟ الف سے بدلتے ہیں۔ تیسری بات یہ ذکر کی کہ حرفِ مدہ کسے کہتے ہیں؟ واؤ، الف اور یا جبکہ ان کے ماقبل ان کی حرکتیں ماقبل والے حرف کی حرکت ان کے موافق ہو تو ان کو حرفِ مدہ کہتے ہیں، اور چوتھی بات یہ ذکر کی کہ اجتماعِ ساکنین دو قسم پر ہے: ایک علی حدہ وہ جائز ہے اور ایک علی غیر حدہ وہ جائز نہیں، جب اجتماعِ ساکنین علی غیر حدہ ہو تو پھر یہ دو ساکنوں میں سے دیکھو اول کیا ہے؟ اگر حرفِ مدہ ہے تو اس کو گرا دو، جب ایک ساکن گر گیا تو ایک رہ گیا تو مسئلہ کا حل ہو گیا، اور دوسری صورت یہ کہ اگر پہلا اگر پہلا حرفِ مدہ نہیں تو پھر اس کو کسرہ والی حرکت دے دو اور جب اس کو آپ نے حرکت دے دی تو اب صرف ایک ساکن رہ گیا تو مسئلہ حل ہو گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھیے بات چل رہی تھی کہ عَصًا، بات یہ کی میں نے آپ کو بتلایا کہ عَصًا میں الف تقدیراً موجود ہے، عَصًا میں الف تقدیراً موجود ہے بھئی، کس طرح تقدیراً موجود ہے؟ بھئی دیکھیے یہ اصل میں تھا عَصَوٌ، واوی ہے واوی ہے، آخر میں واؤ تھا۔ توجہ ہے؟ عصا لاٹھی کو کہتے ہیں، لاٹھی، تو یہ اصل میں تھا عَصَوٌ۔ اب دیکھو واؤ متحرک ہے اور ماقبل صاد پہ کیا ہے؟ فتحہ ہے، لہٰذا اس واؤ کو کس سے بدل دیا؟ الف سے، الف سے، اور اس واؤ پر تنوین بھی تھی اور تنوین کس چیز کا نام ہے؟ نونِ ساکن، عَصَوٌ تھا نا تو تنوین بھی تھی، وہ نونِ ساکن وہ تو ابھی بھی موجود ہے، اور اس واؤ کو کس سے بدل دیا؟ الف سے، تو اب کیا بن گیا؟ عَصَانْ۔ توجہ ہے؟ واؤ پر واؤ اور آخر میں کیا تھی؟ تنوین بھی تھی، اور تنوین کس کا نام؟ نونِ ساکن، وہ نونِ ساکن تو اپنی جگہ ہے اور اس واؤ کو کس سے بدل دیا؟ الف سے، تو الف بھی ساکن نون بھی ساکن، کیا بن گیا؟ عَصَانْ، تو یہ کون سا اجتماعِ ساکنین ہوا علی حدہ یا علی غیر حدہ؟ علی غیر حدہ۔ علی حدہ میں تو ضروری تھا کہ اول ساکن حرفِ مدہ ہو، ٹھیک ہے یہاں پر اول ساکن عَصَانْ الف ہے وہ حرفِ مدہ ہے، لیکن دوسری شرط پوری نہیں کہ ثانی ساکن کو کیا ہونا چاہیے؟ مدغم ہونا چاہیے، وہ تو نونِ ساکن ہے وہاں تو کوئی ادغام نہیں ہے، کوئی شد نہیں ہے، لہٰذا معلوم ہوا یہ اجتماعِ ساکنین علی غیر حدہ ہے۔ اور جب اجتماعِ ساکنین علی غیر حدہ ہو تو پھر کیا کرتے ہیں؟ اگر اول ساکن حرفِ مدہ ہو تو اس کو گرا دیتے ہیں، تو اس الف کو گرا دیا تو کیا رہ گیا؟ عَصًا، دیکھا؟ اب بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہاں تو اسی لیے میں نے کہا کَعَصًا، یہ صاد پر تنوین ہونی چاہیے بھئی، تنوین: کَعَصًا، اور یہاں پر الف کیا ہے؟ تقدیراً ابھی بھی موجود ہے۔ یوں سمجھو فرض کر لو ابھی بھی موجود ہے، صرف ایک مجبوری کی وجہ سے گرا اور وہ مجبوری کیا تھی؟ اجتماعِ ساکنین آ رہا تھا، اجتماعِ ساکنین کس کے درمیان؟ الف اور نونِ تنوین کے نونِ تنوین کے درمیان بھئی، تو وہ الف گر گیا۔ اب بات سمجھ میں آ گئی؟ تو عَصًا اصل میں اسمِ مقصور ہے، اس کے آخر میں کیا موجود ہے؟ الف موجود ہے، کیا موجود ہے؟ الف موجود ہے اور تقدیراً ہے، فرض کر لو اگرچہ اس وقت گر چکا ہے لیکن یوں کہیں اگرچہ گر چکا ہے لیکن آپ یوں سمجھیں گویا ابھی بھی موجود ہے، یوں فرض کر لیں ابھی بھی موجود ہے۔ کیوں فرض کر لیں؟ کیونکہ بھئی وہ مجبوری کی بنا پر گرا ورنہ تو یہاں الف موجود ہے بھئی، حقیقت میں موجود تھا یا نہیں تھا؟ حقیقت میں موجود تھا، صرف اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے گر گیا وہ۔ تو یہ تو یہ الف تقدیراً یہاں موجود ہے۔ ہاں اگر اس پر الف لام آ جائے تو پھر یہ الف نہیں گرتا جیسے اَلْعَصَا، اب اَلْعَصًا نہیں پڑھیں گے: اَلْعَصَا، اب دیکھو الف ہے، کیوں؟ کیونکہ الف لام اور تنوین جمع نہیں ہوتے، جب الف لام آیا آخر سے تنوین گر گئی۔ تو اصل میں کیا تھا؟ عَصَوٌ، اب اس پر ذرا الف لام لے آؤ: اَلْعَصَوُ، تنوین گر گئی۔ اَلْعَصَوُ اب واؤ ماقبل فتحہ اس کو کس سے بدلا؟ الف سے: اَلْعَصَا، اب تنوین ہے نہیں لہٰذا وہ الف گرے گا بھی نہیں۔ اسی طرح مَعْنًى لفظ ہے: اَلْمَعْنَى، جب اس پر الف لام نہ ہو تو پڑھیں گے مَعْنًى، اصل میں کیا تھا؟ وہ یائی ہے: مَعْنَیٌ، عصا تو واوی ہے نا واؤ تھا آخر میں، اور معنی کیا ہے یائی: مَعْنَیٌ، پھر یا کو ماقبل فتحہ کی وجہ سے کس سے بدلا؟ الف سے، کیا بن گیا؟ مَعْنَانْ، اور پھر الف اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے گر گیا کیا بن گیا؟ مَعْنًى، لہٰذا مَعْنًى پر الف لام نہ ہو تو تنوین کے ساتھ پڑھیں گے، اور اگر اور اگر اس پر الف لام ہو تو پھر الف نہیں گرے گا، پھر کیسے پڑھیں گے؟ اَلْمَعْنَى۔ اسی طرح ہے فَتًى، فا، تا دو نقطوں والی ہے اور یا ہے اور تا پر تنوین ڈال دیں دو زبریں: فَتًى، فا، تا اور یا، اصل میں کیا تھا؟ فَتَیٌ، پھر یا کس سے بدلی الف سے کیا بنا؟ فَتَانْ، پھر الف اجتماعِ ساکنین سے گر گیا کیا بن گیا؟ فَتًى، اور اگر الف لام داخل ہو تو پھر یا نہیں پھر الف نہیں گرے گا کیسے پڑھیں گے؟ اَلْفَتَى، تو فتى فتن نوجوان کو کہتے ہیں بھئی، جوان کو، جوان کو۔ سمجھ میں آئی بات؟ اچھا جی۔ تو کہتے ہیں یہ خاص ہے اسمِ مقصور کے ساتھ، وَهُوَ مَا فِي آخِرِهِ أَلِفٌ مَقْصُورَةٌ اور وہ اسم ہے کہ جس کے آخر میں الفِ مقصورہ ہو کَعَصًا جیسے کہ عَصًا ہے۔ تو یہ اس کے ساتھ اعراب خاص ہے۔ وَبِالْمُضَافِ إِلَى يَاءِ الْمُتَكَلِّمِ اور اس اسم کے ساتھ جو مضاف ہو یائے متکلم کی طرف، غَيْرَ جَمْعِ الْمُذَكَّرِ السَّالِمِ اس حال میں کہ وہ جمع مذکر سالم کے علاوہ ہو۔ وہ اسم جو مضاف ہو کس کی طرف؟ یائے متکلم کی طرف۔ چلیے بس کرتے ہیں بھئی، باقی پھر پڑھیں گے اگلے سبق میں۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
104 approved lectures · 11 of 104