Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

هداية النحو جديد · dars-009

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 19 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 40
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
”فَصْلٌ: حُكْمُهُ أَنْ يَخْتَلِفَ آخِرُهُ بِاخْتِلَافِ الْعَوَامِلِ اخْتِلَافًا لَفْظِيًّا، نَحْوُ: ”جَاءَنِي زَيْدٌ“، وَ”رَأَيْتُ زَيْدًا“، وَ”مَرَرْتُ بِزَيْدٍ“، أَوْ تَقْدِيرِيًّا، نَحْوُ: ”جَاءَنِي مُوسَى“، وَ”رَأَيْتُ مُوسَى“، وَ”مَرَرْتُ بِمُوسَى“۔ وَالْإِعْرَابُ مَا بِهِ يَخْتَلِفُ آخِرُ الْمُعْرَبِ، كَالضَّمَّةِ، وَالْفَتْحَةِ، وَالْكَسْرَةِ، وَالْوَاوِ، وَالْأَلِفِ، وَالْيَاءِ۔ وَإِعْرَابُ الِاسْمِ عَلَى ثَلَاثَةِ أَنْوَاعٍ: رَفْعٌ، وَنَصْبٌ، وَجَرٌّ۔ وَالْعَامِلُ مَا بِهِ رَفْعٌ أَوْ نَصْبٌ أَوْ جَرٌّ۔ وَمَحَلُّ الْإِعْرَابِ مِنَ الِاسْمِ هُوَ الْحَرْفُ الْأَخِيرُ۔ مِثَالُ الْكُلِّ: نَحْوُ: ”قَامَ زَيْدٌ“، فَقَامَ عَامِلٌ، وَزَيْدٌ مُعْرَبٌ، وَالضَّمَّةُ إِعْرَابٌ، وَالدَّالُ مَحَلُّ الْإِعْرَابِ۔ وَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا يُعْرَبُ فِي كَلَامِ الْعَرَبِ إِلَّا الِاسْمُ الْمُتَمَكِّنُ، وَالْفِعْلُ الْمُضَارِعُ، وَسَيَجِيءُ حُكْمُهُ فِي الْقِسْمِ الثَّانِي، إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى“۔ اچھا بھئی، گزشتہ سبق کے اندر معرب کی بحث شروع ہوئی تھی بھئی۔ سب سے پہلے انہوں نے معرب کی تعریف کی کہ معرب کسے کہتے ہیں، انہوں نے آپ کو بتلایا کہ معرب وہ ہے جس کے اندر جس کے اندر تین شرطیں پائی جائیں: پہلی شرط یہ کہ وہ ترکیب میں واقع ہو یعنی اس کے ساتھ کسی دوسرے کلمے کو جوڑا گیا ہو۔ دوسری شرط یہ کہ اس ترکیب میں اس کا عامل بھی ہو۔ اور تیسری شرط یہ کہ وہ مبنی الاصل کے مشابہ بھی نہ ہو۔ اور مبنی الاصل تین چیزیں ہیں آپ نے پڑھا: نمبر ایک فعلِ ماضی ہے، نمبر دو امرِ حاضر معروف ہے، اور نمبر تین تمام حروف ہیں۔ یہ ہیں مبنی الاصل، اور ان کے جو مشابہ ہوگا وہ بھی کیا ہوگا؟ مبنی ہوگا، اور میں نے بتلایا تھا ہر مشابہت نہیں مراد بلکہ کچھ خاص مشابہتیں مراد ہیں جو آپ اگلی کتابوں میں پڑھیں گے۔ ایک مشابہت بطورِ مثال کے میں نے ذکر کر دی تھی کہ مثلاً اسمِ اشارہ جو ہے وہ بھی مبنی ہے، اسمِ اشارہ بھی کیا ہے؟ مبنی ہے، اور وہ مبنی کیوں ہے حالانکہ وہ تو مبنی الاصل نہیں؟ وہ دراصل ان مبنی الاصل کے مشابہ ہے بھئی، اور کیا مشابہت؟ میں نے بتایا تھا کہ وہ حرف کے مشابہ ہے محتاج ہونے میں۔ جس طرح حرف اپنا معنی بتانے کے اندر محتاج ہے جب تک اس کے ساتھ کوئی دوسرا کلمہ نہیں ملے گا حرف کا معنی سمجھ میں نہیں آتا، تو حرف محتاج ہوا۔ اسی طرح اسمِ اشارہ بھی مشار الیہ کا محتاج ہے، ھٰذا، ھٰذا سے اشارہ تو کتاب کو بھی ہو سکتا ہے، قلم کو بھی ہو سکتا ہے، دیوار کو بھی ہو سکتا ہے اور چیزوں کو بھی ہو سکتا ہے۔ تو جب ھٰذا کہیں گے کیا چیز مراد ہے ہمیں پتہ نہیں چلے گا جب تک مشار الیہ کا پتہ نہ ہو۔ اور مشار الیہ کا پتہ کیسے چلے گا؟ یا تو باقاعدہ اشارۂ حسیہ کریں ہاتھ وغیرہ کسی چیز سے اشارہ کریں: ”هَٰذَا“، یہ چیز، پھر پتہ چلتا ہے کہ ھٰذا سے کتاب مراد ہے یا قلم مراد ہے، یا بعض اوقات اسی کے آگے لفظوں کے اندر وہ لفظ ذکر ہو جاتا ہے کون ہے مشار الیہ، مثلاً ”هَٰذَا الْكِتَابُ“، تو دیکھا آگے الکتاب لفظ جو آیا تو اس نے بتا دیا کہ ھٰذا کے ذریعے کس کی طرف اشارہ ہے؟ کتاب کی طرف۔ تو دیکھا اسمِ اشارہ بھی محتاج ہوا کس کا؟ مشار الیہ کا، جس طرح حرف محتاج تھا تو یہ بھی محتاج ہوا، یہ اس کی طرح ہوا اور جب یہ اس کی طرح ہوا وہ تو تھا مبنی الاصل تو یہ بھی کیا بن گیا؟ مبنی بن گیا بھئی، مبنی بن گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو لہٰذا ”قَامَ زَيْدٌ“، اس کے اندر زید معرب ہے کیونکہ اس میں تینوں شرطیں پوری ہیں: یہ ترکیب میں بھی واقع ہے، قام کے ساتھ جوڑا گیا ہے یا نہیں اس کو بھئی؟ ترکیب بھی ہے، جوڑا بھی گیا ہے، اور نیز ساتھ اس کا عامل بھی موجود ہے قام اس کو رفع دے رہا ہے، اور تیسری شرط بھی پوری ہے کہ یہ مبنی الاصل کے مشابہ نہیں، اسی لیے اس پر رفع آیا: ”قَامَ زَيْدٌ“۔ لیکن زید اکیلا لفظ ہو تو وہ وہ معرب نہیں، معرب نہیں، کیونکہ جوڑا ہی نہیں گیا، پہلی شرط ہی کیا تھی؟ کہ کسی غیر کے ساتھ جوڑا گیا ہو، تو وہ اکیلا نہیں۔ تو وہ مبنی ہے لیکن اس میں معرب بننے کی صلاحیت ہے، وہ جب ترکیب میں آ جائے گا، عامل کے ساتھ مل جائے گا تو کیا بن جائے گا؟ معرب۔ اور جبکہ هَٰؤُلَاءِ، هَٰؤُلَاءِ اسمِ اشارہ ہے جمع کے لیے، قریب کے لیے، وہ ”قَامَ هَٰؤُلَاءِ“، بے شک ترکیب میں واقع ہوا، اس پہلی شرط بھی پوری ترکیب میں ہے، اور دوسری شرط بھی پوری: کیا؟ عامل بھی ساتھ ہے۔ لیکن تیسری شرط نہیں پوری کہ یہ مبنی الاصل کے مشابہ نہیں ہونا چاہیے تھا لیکن یہ تو مشابہ ہے، لہٰذا اس لیے یہ معرب نہیں بلکہ یہ کیا ہے؟ مبنی ہے بھئی۔ اب آگے اس کا حکم بیان کرنے لگے ہیں، معرب کی تعریف آپ کو سمجھ میں آ گئی، اب اس کا حکم بیان کرنے لگے ہیں کہ اس کا حکم کیا ہے؟ تو کہتے ہیں: ”فَصْلٌ“، ای ھٰذا فصلٌ، میں نے آپ کو بتایا کہ یہ فصلٌ کیا ہے؟ خبر ہے، اس کا مبتدا محذوف ہے: یہ فصل ہے۔ اب حکم بیان کر رہے ہیں: ”حُكْمُهُ“، یہ ہا ضمیر راجع ہے معرب کو، معرب کا حکم یہ ہے: ”أَنْ يَخْتَلِفَ آخِرُهُ“، کہ بدلتا ہے اس کا آخر، ”بِاخْتِلَافِ الْعَوَامِلِ“، یہ با سببیہ ہے ای بسبب اختلاف العوامل، عوامل کے بدلنے کے سبب سے، عوامل کے بدلنے کی وجہ سے، تو معرب کا حکم یہ ہے کہ اس کا آخر بدلتا ہے عوامل کے بدلنے کی وجہ سے، ”اخْتِلَافًا لَفْظِيًّا“، یہ بدلنا یا تو لفظاً ہوگا: ”نَحْوُ: ”جَاءَنِي زَيْدٌ“، وَ”رَأَيْتُ زَيْدًا“، وَ”مَرَرْتُ بِزَيْدٍ““، ”أَوْ تَقْدِيرِيًّا“، یا یہ بدلنا تقدیراً ہوگا: ”نَحْوُ: ”جَاءَنِي مُوسَى“، وَ”رَأَيْتُ مُوسَى“، وَ”مَرَرْتُ بِمُوسَى““۔ بھئی حکم پتہ چل گیا آپ کو معرب کا؟ معرب کا کیا حکم ہے؟ کہ اس کا آخر عوامل کے بدلنے سے بدلتا ہے۔ مثلاً دیکھیے بھئی، میں کہتا ہوں: ”جَاءَنِي زَيْدٌ“، زیدٌ کے آخر دال پر اس وقت آپ کیا پڑھ رہے ہیں؟ رفع: زیدٌ۔ ”ضَرَبْتُ زَيْدًا“، اب زیداً پر کیا ہے؟ نصب ہے، پہلے رفع تھا اب نصب ہے۔ ”مَرَرْتُ بِزَيْدٍ“، میں زید پر گزرا، اب زید پر کیا ہے؟ کسرہ آیا، تو دیکھا عوامل کے بدلنے سے معرب کا آخر بدل رہا ہے۔ کبھی عامل اگر رفع والا ہے تو اس پر رفع ائے گا، عامل اگر نصب والا ہے تو اس پر نصب، اور عامل اگر جر والا ہے تو اس پر جر، یہ ہے آخر کے بدلنے کا معنی بھئی کہ اس کا آخر بدلتا ہے یعنی اس پر اعراب بدلتے ہیں بھئی۔ اور پھر یہ بدلنا یاد رکھو دو قسم پر ہے: کبھی بدلنا لفظاً ہوگا اور کبھی تقدیراً ہوگا۔ لفظاً کا یہ معنی کہ اس پر باقاعدہ تلفظ سے ہی پتہ چل جائے گا، تلفظ سے ہی پتہ چل جائے گا۔ دیکھو تلفظ سے ہی فرق آئے گا باقاعدہ تلفظ میں: ”جَاءَنِي زَيْدٌ“، ”رَأَيْتُ زَيْدًا“، ”مَرَرْتُ بِزَيْدٍ“، دیکھا رفع، نصب، جر سننے سے ہی پتہ چل رہا ہے یا نہیں چل رہا آپ کو؟ تو دیکھا یہ یہ اختلاف ہے یعنی یہ بدلنا ہے لفظوں کے اندر۔ اور لفظوں سے کیا مراد ہے؟ یعنی تلفظ میں، کس میں؟ تلفظ، یعنی زبان سے بولتے ہی آپ کو پتہ چل جاتا ہے اس وقت اس پر رفع پڑھا جا رہا ہے یا اس پر نصب پڑھا جا رہا ہے یا اس پر جر پڑھا جا رہا ہے، یہ ہے اختلافِ لفظی۔ اختلافِ لفظی کا کیا معنی؟ تلفظ میں بدل رہا ہے، تلفظ میں بدل رہا ہے، سننے سے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ اس وقت اس پر کیا پڑھا جا رہا ہے: رفع، نصب یا جر، یہ ہے اختلافِ لفظی۔ کیا معنی اختلافِ لفظی کا بیان کرو بھئی؟ کہ تلفظ میں اختلاف آ رہا ہو، تلفظ بدل رہا ہو۔ اور ایک ہے اختلافِ تقدیری۔ تقدیراً بدلتا ہے، تقدیراً کا معنی ہے فرض کر لینا، کیا معنی؟ فرض کر لینا۔ میں نے کہا: ”جَاءَنِي مُوسَى“، اس وقت یہ مرفوع ہے۔ ”رَأَيْتُ مُوسَى“، اس وقت منصوب ہے۔ ”مَرَرْتُ بِمُوسَى“، اس وقت کیا ہے؟ مجرور ہے۔ لیکن تینوں حالتوں میں ایک جیسا ہے، اخر کوئی بدل رہا ہے؟ نہیں، حالانکہ معرب کا آخر تو کیا ہے؟ بدلتا ہے، تو جواب یہ کہ یہ معرب ہی ہے، ہاں اس کا اختلاف جو ہے وہ اس کا بدل اس کے اختلاف کو ہم فرض کر لیتے ہیں، کیا کر لیتے ہیں؟ فرض کر لیتے ہیں۔ تو ”جَاءَنِي مُوسَى“، اس وقت موسیٰ پر کیا ہے؟ رفع، لیکن لفظوں میں ہے، تلفظ میں ہے یا فرض کر لیا گیا ہے؟ فرض کر لیا۔ تو یہ معنی ہے تقدیراً کا کہ وہاں کوئی مانع ہوتا ہے جس کی وجہ سے اعراب آ نہیں سکتا، اگر وہ مانع نہ ہوتا تو اعراب آ جاتا۔ اور موسیٰ کے آخر میں کیا ہے؟ الفِ مقصورہ، اور الف پر کوئی زبر، زیر، پیش آ سکتے ہیں؟ نہیں، تو یہ مانع موجود ہے، یہ مانع اگر نہ ہوتا تو رفع آ جاتا یا نہ آ جاتا؟ نصب آ جاتا یا نہ آتا؟ جر آتا یا نہ آتا؟ تینوں اعراب اس پر آ جاتے، لیکن یہاں مانع کیا ہے؟ آخر میں کیا آیا؟ الفِ مقصورہ آ رہا ہے، تو ہم نے فرض کر لیا: ”جَاءَنِي مُوسَى“، تقدیراً ہم کہتے ہیں یہ مرفوع ہے یعنی فرض کر لیا کہ اس وقت اس پر کیا ہے؟ رفع۔ ”رَأَيْتُ مُوسَى“، تقدیراً اس وقت اس پر نصب ہے یعنی ہم نے کیا فرض کر لیا ہے اس پر کون سی حرکت آ گئی ہے اب؟ حرکت کون سی آ گئی؟ نصب آ گیا ہے۔ ”مَرَرْتُ بِمُوسَى“، یہاں جر تقدیری ہے یعنی جر ہم نے فرض کر لیا ہے اس وقت اس وقت اس پر کیا ہے؟ جر ہے۔ معلوم ہوا معرب وہ ہے جس کا اس کا حکم یہ ہے کہ اس کا آخر بدلتا ہے عوامل کے بدلنے سے، عامل اگر رفع والا ہے تو اس پر رفع ائے گا، عامل اگر نصب والا ہے تو اس پر نصب آئے گا، عامل اگر جر والا ہے تو اس پر کیا ائے گا؟ جر ائے گا۔ اور یہ آخر کا بدلنا لفظاً بھی ہو سکتا ہے اور تقدیراً بھی۔ لفظاً کا کیا معنی؟ کہ باقاعدہ تلفظ سے ہی پتہ چل رہا ہے، بدل رہا ہے: ”جَاءَنِي زَيْدٌ“، ”رَأَيْتُ زَيْدًا“، ”مَرَرْتُ بِزَيْدٍ“، باقاعدہ تلفظ سنتے ہی آپ کو پتہ چل جاتا ہے اس وقت اس پہ رفع پڑھ رہے ہیں، نصب پڑھ رہے ہیں یا جر۔ تو یہ اختلاف یا تو لفظاً ہوگا یعنی تلفظ کے اعتبار سے ہوگا، ”أَوْ تَقْدِيرِيًّا“، یا کیا ہوگا؟ تقدیراً یعنی فرض کر لیا گیا کیونکہ وہاں مانع موجود ہے، وہ مانع نہ ہوتا تو پھر اس پر رفع بھی آ جاتا، نصب بھی آ جاتا اور جر بھی آ جاتا۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھیے کتاب پر، کہتے ہیں: ”حُكْمُهُ“، معرب کا حکم یہ ہے: ”أَنْ يَخْتَلِفَ آخِرُهُ“، کہ اس کا آخر بدلتا ہے، آخر مختلف ہوتا ہے یعنی آخر بدلتا ہے، ”بِاخْتِلَافِ الْعَوَامِلِ“، یہ با سببیہ ہے ای بسبب اختلاف العوامل، عوامل کے بدلنے کے سبب سے، عوامل کے بدلنے کی وجہ سے۔ تو معرب کا حکم یہ ہے کہ اس کا آخر بدلتا ہے عوامل کے بدلنے کی وجہ سے، ”اخْتِلَافًا لَفْظِيًّا“، یہ بدلنا یا تو لفظاً ہوگا: ”نَحْوُ: ”جَاءَنِي زَيْدٌ“، وَ”رَأَيْتُ زَيْدًا“، وَ”مَرَرْتُ بِزَيْدٍ““، ”أَوْ تَقْدِيرِيًّا“، یا یہ بدلنا تقدیراً ہوگا: ”نَحْوُ: ”جَاءَنِي مُوسَى“، وَ”رَأَيْتُ مُوسَى“، وَ”مَرَرْتُ بِمُوسَى““، جی۔ ”وَالْإِعْرَابُ مَا بِهِ يَخْتَلِفُ آخِرُ الْمُعْرَبِ“۔ اب اعراب کی تعریف کرنے لگے ہیں: اعراب کسے کہتے ہیں؟ معرب کی تعریف بھی بیان کر دی، اس کا حکم بھی بیان کر دیا کہ اس کا آخر بدلتا ہے یعنی اس پر اعراب بدلتا ہے، اب بتلانے لگے ہیں اعراب کسے کہتے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَالْإِعْرَابُ مَا“، اعراب جو ہے ما وہ چیز ہے، ”بِهِ يَخْتَلِفُ آخِرُ الْمُعْرَبِ“، جس کے ساتھ بدلتا ہے معرب کا آخر۔ اعراب وہ چیز ہے جس کے ساتھ معرب کا آخر بدلتا ہے۔ آگے بتلا رہے ہیں جیسے ”كَالضَّمَّةِ“، جیسے ضمہ ہے، ”وَالْفَتْحَةِ“، اور فتحہ ہے، ”وَالْكَسْرَةِ“، اور کسرہ ہے، ”وَالْوَاوِ، وَالْأَلِفِ، وَالْيَاءِ“، اور واؤ ہے، اور الف ہے، اور یا ہے۔ آپ پڑھ چکے ہیں بھئی نحومیر وغیرہ کے اندر کہ وہ 16 قسمیں اعراب کے اعتبار سے، اس میں آپ نے پڑھا تھا بعض لفظوں پر اعراب جو ہے اعراب بالحرکۃ آتا ہے، بعضوں پر اعراب بالحروف آتا ہے۔ اعراب بالحرکۃ: حرکت بدلتی ہے: ”جَاءَنِي زَيْدٌ“، ”رَأَيْتُ زَيْدًا“، ”مَرَرْتُ بِزَيْدٍ“، صرف آخر میں حرکت بدل رہی ہے: رفع، نصب اور جر، جی۔ اور بعض اوقات اعراب بدلتا ہے حروف کے بدلنے کی صورت میں: ”جَاءَنِي أَبُوكَ“، دیکھو ابوکا واؤ کے ساتھ ہے، ”رَأَيْتُ أَبَاكَ“، دیکھو الف کے ساتھ ہے، ”مَرَرْتُ بِأَبِيكَ“، دیکھو یا کے ساتھ ہے۔ تو اعراب کا بدلنا یا تو حرکت کے بدلنے سے ہوگا، وہ حرکت بدلے گی: ضمہ، فتحہ یا کسرہ کی، یا اعراب کا بدلنا کس کے ساتھ ہوگا؟ حروف کے ساتھ، حروف کی صورت میں، اور وہ حروف کیا ہو سکتے ہیں؟ واؤ بھی ہو سکتا ہے، الف بھی ہو سکتا ہے اور یا بھی۔ یہ بات سمجھ میں آ گئی؟ دوبارہ دیکھیے، کہتے ہیں: ”وَالْإِعْرَابُ مَا بِهِ يَخْتَلِفُ آخِرُ الْمُعْرَبِ“، اعراب وہ چیز ہے کہ جس کے ساتھ بدلتا ہے معرب کا آخر، ”كَالضَّمَّةِ وَالْفَتْحَةِ وَالْكَسْرَةِ“، جیسے ضمہ ہے، فتحہ ہے اور کسرہ ہے، ”وَالْوَاوِ“، واؤ مجرور پڑھنا کیونکہ یہ سب کاف کے نیچے ہیں: ”كَالضَّمَّةِ“، کاف حرفِ جر ہے نا، جر دے رہا ہے، اور الضمۃ بھی مجرور، والفتحۃ اسی پر عطف ہے وہ بھی مجرور، والکسرۃ وہ بھی مجرور، والواو والالف والیاء سارے مجرور ہیں، اور جیسے کہ واؤ ہے اور الف ہے اور یا ہے۔ ”وَإِعْرَابُ الِاسْمِ عَلَى ثَلَاثَةِ أَنْوَاعٍ: رَفْعٌ، وَنَصْبٌ، وَجَرٌّ“۔ اور اسم کا اعراب، واعراب الاسم اسم کا اعراب ”عَلَى ثَلَاثَةِ أَنْوَاعٍ“، تین قسم پر ہے، اس کی تین قسمیں ہیں: رفع، نصب اور جر، تین قسمیں ہیں۔ کبھی رفع آئے گا اسم پر، کبھی نصب آئے گا، اور کبھی جر آئے گا۔ ہاں فعل کے اندر جر نہیں آتا، فعل کے اندر فعلِ مضارع میں رفع بھی آتا ہے، نصب بھی آتا ہے، لیکن جر کے بجائے کیا آتا ہے وہاں؟ جزم آتا ہے، جزم بھئی۔ تو کہتے ہیں اسم کا اعراب تین قسم پر ہے: رفع، نصب اور جر۔ ”وَالْعَامِلُ مَا بِهِ رَفْعٌ أَوْ نَصْبٌ أَوْ جَرٌّ“۔ بھئی پہلے یہ سمجھ لیں: اوپر آیا تھا کالضمۃ والفتحۃ والکسرۃ، اور آگے اب آیا: ”رَفْعٌ وَنَصْبٌ وَجَرٌّ“، یہ اور نام آ گئے۔ یاد رکھو یہاں تین طرح کے نام ہیں، کتنے طرح کے نام ہیں؟ ان حرکتوں کے یا ان کے یہ اعراب کے تین طرح حرکت اور اعراب کے تین طرح کے نام ہیں: نمبر ایک: ضَمٌّ، فَتْحٌ، كَسْرٌ، آخر میں تا نہیں ملی ہوئی۔ ضَمٌّ، فَتْحٌ، كَسْرٌ۔ دوسرا نام ہے انہی کے ساتھ تا ملا دو: ضَمَّةٌ، فَتْحَةٌ، كَسْرَةٌ۔ اور تیسرا ہے: رَفْعٌ، نَصْبٌ، جَرٌّ۔ کتنی قسم کے نام؟ تین: نمبر ایک کیا؟ ضمٌ، فتحٌ، کسرٌ۔ دوسرا: ضمۃٌ، فتحۃٌ، کسرۃٌ۔ اور تیسرا: رفعٌ، نصبٌ اور جرٌ۔ یہ تین نام ہیں، ان میں فرق اچھی طرح سمجھ لو بھئی، فرق اچھی طرح۔ یاد رکھیے: ضَمٌّ، فَتْحٌ، كَسْرٌ جو بغیر تا کے ہیں، بغیر تا کے، یہ خاص ہیں مبنی کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ مبنی کے ساتھ۔ مثلاً هَٰؤُلَاءِ، یہ ھؤلاء کی آخر میں ہمزہ کے نیچے زیر ہے، یہ کوئی اعراب نہیں ہے، یہ مبنی کی آخر کی حرکت ہے، کیا ہے؟ حرکت ہے، یہ اعراب نہیں، یہ اسی طرح رہے گا چاہے یہ مرفوع ہو، چاہے منصوب ہو، چاہے مجرور ہو، اس اخری ہمزہ کے نیچے کیا ائے گا؟ هَٰؤُلَاءِ، اس اخری ہمزہ میں کیا ائے گا نیچے؟ کسرہ ہی رہے گا۔ تو اس کو کہیں گے یہ مبنی علی الکسر ہے، مبنی علی الکسر ہے۔ تو یہ معلوم ہوا یہ ضَمٌّ، فَتْحٌ، كَسْرٌ یہ کس کی حرکت بیان کرنے کے لیے آتے ہیں؟ مبنی کی، کس کی حرکت؟ مبنی کی حرکت بیان کرنے کے لیے آتے ہیں۔ اور دوسرا نام ہے ضَمَّةٌ، فَتْحَةٌ، كَسْرَةٌ، یہ معرب اور مبنی دونوں کے لیے استعمال ہو جاتے ہیں، معرب کے لیے بھی استعمال ہو جاتا ہے اور مبنی کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اور تیسرا نام ہے رَفْعٌ، نَصْبٌ، جَرٌّ، وہ معرب کے ساتھ خاص ہے، کس کے ساتھ؟ معرب: ”جَاءَنِي زَيْدٌ“، آپ کہیں گے زیدٌ مرفوع ہے، اس پر رفع ہے۔ ”رَأَيْتُ زَيْدًا“، زید پر نصب ہے۔ ”مَرَرْتُ بِزَيْدٍ“، زید پر کیا ہے؟ جر ہے بھئی۔ فرق سمجھ میں آ گیا؟ کتنی قسم کے نام؟ تین: رفع ضمٌ، فتحٌ، کسرٌ، اور ضمۃٌ، فتحۃٌ، کسرۃٌ، اور رفعٌ، نصبٌ، جرٌ۔ پہلا بغیر تا کے جو ہے ضمٌ، فتحٌ، کسرٌ وہ کس کے ساتھ خاص؟ مبنی کے ساتھ، مبنی کی حرکت بیان کرنے کے لیے آتا ہے۔ دوسرا جو ہے تا کے ساتھ ضمۃٌ، فتحۃٌ، کسرۃٌ وہ معرب اور مبنی دونوں کے لیے استعمال ہو جاتا ہے، معرب کے لیے بھی استعمال کر لیتے ہیں اور مبنی کے لیے بھی۔ اور تیسرا جو ہے رفعٌ، نصبٌ، جرٌ وہ کس کے ساتھ خاص؟ وہ معرب کے ساتھ اس کی حرکت بیان کرنے کے لیے۔ بھئی اعراب بھی بیان کر دیا، اعراب بھی بیان کر دیا۔ اب عامل بیان کرنے لگے ہیں کہ عامل بھئی جس کی وجہ سے رفع، نصب یا جر آتا ہے، وہ بیان کرنے لگے ہیں عامل کسے کہتے ہیں: کہتے ہیں: ”وَالْعَامِلُ مَا بِهِ رَفْعٌ أَوْ نَصْبٌ أَوْ جَرٌّ“، عامل ما وہ چیز ہے بہ رفعٌ جس کی وجہ سے رفع ہو، او نصبٌ یا نصب ہو، او جرٌ یا جر ہو۔ ”جَاءَنِي زَيْدٌ“، زیدٌ پر کیا ہے؟ رفع، تو عامل کون؟ کون رفع دے رہا ہے؟ جاء، جاء فعل جو ہے۔ ”رَأَيْتُ زَيْدًا“، زید پر اس وقت نصب ہے، تو کون عامل ہے؟ رأیتُ۔ اور ”مَرَرْتُ بِزَيْدٍ“، زید پر کسرہ ہے، کون جر دے رہا ہے؟ با ہے، با جارہ جو ہے با جارہ نے عمل کیا اور اس کو جر دیا، تو زیدٍ مجرور ہے بھئی مجرور۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْعَامِلُ مَا بِهِ رَفْعٌ أَوْ نَصْبٌ أَوْ جَرٌّ“، عامل وہ چیز ہے جس کی وجہ سے رفع ہو یا نصب ہو یا جر ہو۔ ”وَمَحَلُّ الْإِعْرَابِ مِنَ الِاسْمِ هُوَ الْحَرْفُ الْأَخِيرُ“۔ اچھا بھئی مجھے یہ بتائیے: رفع، نصب یا جر معرب پر آتا ہے، تو کہاں پر آتا ہے؟ شروع میں، درمیان میں یا آخر میں؟ ”جَاءَنِي زَيْدٌ“، رفع زا پہ آیا، یا پہ یا دال پر سب سے؟ سب سے آخر میں دال پر آیا، تو یہ جو آخری حرف ہے نا یہ ہے محلِ اعراب۔ اس پر یہ محل کا معنی جگہ، محلِ اعراب: اعراب کی جگہ، تو اس پر اعراب آیا کرتا ہے، وہی بیان کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَمَحَلُّ الْإِعْرَابِ مِنَ الِاسْمِ هُوَ الْحَرْفُ الْأَخِيرُ“، اور اعراب کی جگہ اسم میں هو الحرف الاخير وہ کیا ہے؟ آخری حرف ہے۔ ”مِثَالُ الْكُلِّ: نَحْوُ: ”قَامَ زَيْدٌ““۔ مثال الکل ان سب کی مثال، ان سب کی مثال، بھئی دیکھیے: ادھر دیکھیے، معرب کا بھی ذکر ہوا، اعراب کا بھی ذکر ہوا، اور عامل کا بھی ذکر ہوا، اور محلِ اعراب بھی ذکر ہوا۔ ان سب کی مثال اب ذکر کرنے لگے ہیں تو کہتے ہیں: مثال الکل ان سب کی مثال: ”نَحْوُ: ”قَامَ زَيْدٌ““، ”قَامَ زَيْدٌ“، جی اس میں معرب کیا؟ زیدٌ ہے۔ اعراب کیا ہے؟ رفع ہے۔ اچھا عامل کون ہے؟ قام، قام کیا ہے؟ عامل ہے، اور محلِ اعراب کیا ہے؟ دال ہے، شاباش۔ تو کہتے ہیں: ”فَقَامَ عَامِلٌ“، تو قام جو ہے وہ عامل ہے، ”وَزَيْدٌ مُعْرَبٌ“، اور زید کیا ہے؟ معرب ہے، ”وَالضَّمَّةُ إِعْرَابٌ“، اور ضمہ اعراب ہے، ”وَالدَّالُ مَحَلُّ الْإِعْرَابِ“، اور دال کیا ہے؟ محلِ اعراب ہے۔ ”وَاعْلَمْ“، یہاں سے ایک چھوٹی سی بات بیان کرنے لگے ہیں، کہتے ہیں بھئی دیکھیے یاد رکھیے معرب جو ہیں معرب جس پر اعراب آتا ہے، اعراب ظاہر ہوتا ہے، اعراب ظاہر ہوتا ہے، وہ دو چیزیں ہیں کلامِ عرب میں صرف: ایک اسمِ متمکن ہے جو ابھی پیچھے گزرا، وہی معرب اس کا کیا نام تھا؟ اسمِ متمکن، ایک وہ اسمِ متمکن ہے، اور ایک فعلِ مضارع ہے۔ فعلِ مضارع جو ہے اس پر بھی اعراب آئے گا، اور اسمِ متمکن پر بھی اعراب ائے گا، باقی کسی بھی چیز پر اعراب ظاہر نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”وَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا يُعْرَبُ فِي كَلَامِ الْعَرَبِ إِلَّا الِاسْمُ الْمُتَمَكِّنُ، وَالْفِعْلُ الْمُضَارِعُ“، اور جان لے کہ اعراب نہیں دیا جاتا کہ کلامِ عرب کے اندر مگر اسمِ متمکن پر، والفعل المضارع اور کس کو؟ اور فعلِ مضارع کو۔ ”وَسَيَجِيءُ حُكْمُهُ فِي الْقِسْمِ الثَّانِي، إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى“۔ ”وَسَيَجِيءُ“، سین مستقبل کے ساتھ خاص کر دیتا ہے اور قریب کے لیے: ”وَسَيَجِيءُ“، اور عنقریب آ جائے گا ”حُكْمُهُ“ اس کا حکم، کس کا حکم؟ فعلِ مضارع کا، اسمِ متمکن یا معرب کا حکم تو بیان کر چکے ہیں یہ پہلے ہی، تو کس کا حکم ا جائے گا؟ فعلِ مضارع کا۔ تو کہتے ہیں اور عنقریب فعلِ مضارع کا حکم آ جائے گا دوسری قسم میں، ”إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى“، اگر اللہ نے چاہا۔ تو یہ قسمِ اول چل رہی ہے، اس میں اسمِ معرب کا بیان ہے، اور قسمِ ثانی کے اندر فعل کا بیان ہوگا تو وہاں فعلِ مضارع کا بھی بیان آ جائے گا، اور قسمِ ثالث میں تو حروف کا حروف کی بحث آئے گی بھئی، حروف کی بحث۔ چلیے، بس بھئی اج کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔ تو یہ اس کا حکم بھی آپ نے یاد کرنا ہے معرب کا، اور عربی لفظ یاد کرنے ہیں، عربی لفظ بھئی۔ اور اعراب کسے کہتے ہیں یہ بھی آپ کو معلوم ہونا چاہیے، عامل کسے کہتے ہیں، محلِ اعراب وغیرہ بھئی۔ چلیے، بس بھئی۔ ”هَٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔
104 approved lectures · 9 of 104