Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

هداية النحو جديد · dars-006

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 19 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 49
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
”وَحَدُّ الْحَرْفِ كَلِمَةٌ لَا تَدُلُّ عَلَى مَعْنًى فِي نَفْسِهَا، بَلْ تَدُلُّ عَلَى مَعْنًى فِي غَيْرِهَا، نَحْوُ: ”مِنْ“، فَإِنَّ مَعْنَاهَا الِابْتِدَاءُ، وَهِيَ لَا تَدُلُّ عَلَيْهِ إِلَّا بَعْدَ ذِكْرِ مَا مِنْهُ الِابْتِدَاءُ، كَـ”الْبَصْرَةِ“، وَ”الْكُوفَةِ“ مَثَلًا، تَقُولُ: ”سِرْتُ مِنَ الْبَصْرَةِ إِلَى الْكُوفَةِ“۔ وَعَلَامَتُهُ أَنْ لَا يَصِحَّ الْإِخْبَارُ عَنْهُ وَلَا بِهِ، وَأَنْ لَا يَقْبَلَ عَلَامَاتِ الْأَسْمَاءِ، وَلَا عَلَامَاتِ الْأَفْعَالِ۔ وَلِلْحَرْفِ فِي كَلَامِ الْعَرَبِ فَوَائِدُ، كَالرَّبْطِ بَيْنَ الِاسْمَيْنِ، نَحْوُ: ”زَيْدٌ فِي الدَّارِ“، أَوِ الْفِعْلَيْنِ، نَحْوُ: ”أُرِيدُ أَنْ تَضْرِبَ“، أَوِ اسْمٍ وَفِعْلٍ، كَـ”ضَرَبْتُ بِالْخَشَبَةِ“، أَوِ الْجُمْلَتَيْنِ، نَحْوُ: ”إِنْ جَاءَنِي زَيْدٌ أَكْرَمْتُهُ“، وَغَيْرِ ذَٰلِكَ مِنَ الْفَوَائِدِ الَّتِي تَعْرِفُهَا فِي الْقِسْمِ الثَّالِثِ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى۔ وَيُسَمَّى حَرْفًا لِوُقُوعِهِ فِي الْكَلَامِ حَرْفًا، أَيْ: طَرَفًا، إِذْ لَيْسَ مَقْصُودًا بِالذَّاتِ، مِثْلَ الْمُسْنَدِ وَالْمُسْنَدِ إِلَيْهِ“۔ گزشتہ سبق میں آپ نے فعل کی تعریف پڑھی، اور فعل کی علامتیں پڑھیں، اور فعل کی وجہِ تسمیہ مصنف نے ذکر کی کہ فعل کو فعل کیوں کہتے ہیں بھئی۔ تو فعل کی وجہِ تسمیہ انہوں نے کیا ذکر کی کہ فعل جو ہے مصدر سے بنا ہے، اس کا اشتقاق مصدر سے ہوا ہے۔ تو مصدر اس کے لیے اصل ہے، اور مصدر کو عربی زبان میں فعل کہتے ہیں، تو جب اس کو فعل کہتے تھے تو اس اصل کے نام کی وجہ سے جو اس سے جس لفظ کا اشتقاق ہوا اس کا نام بھی کیا رکھ دیا گیا؟ فعل رکھ دیا گیا، فعل۔ ایک اور وجہ بھی میں نے ذکر کر دی تھی کہ بھئی یہ فعل کا جو معنی ہے یہ مرکب ہوتا ہے تین چیزوں سے: ایک معنیٔ مصدری، اور ایک زمانہ، اور نمبر تین: نسبت الی الفاعل۔ تو دیکھو مصدر جو ہے یہ جزء ہوا کس کا؟ فعل کا، تو ایک اس جزء کی وجہ سے پورے کا ہی نام کیا رکھ دیا گیا؟ فعل رکھ دیا گیا۔ آج ہم حرف کے بارے میں پڑھیں گے بھئی، حرف کی تعریف بھی ذکر کریں گے، اور اس کے فائدے وغیرہ اور وجہِ تسمیہ ذکر کریں گے۔ کہتے ہیں: ”وَحَدُّ الْحَرْفِ“، اور حرف کی تعریف جو ہے: ”كَلِمَةٌ“، وہ ایسا کلمہ ہے۔ کلمۃٌ آیا، آگے فعل آ رہا ہے: ”لَا تَدُلُّ“، نکرہ کے بعد فعل آئے تو وہ اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت۔ اور موصوف صفت کا ترجمہ کیسے کرتے ہیں؟ موصوف سے پہلے ایسا یا ایسی کا لفظ۔ میرے جو لفظ میں بولتا ہوں وہی دہراؤ، موصوف سے پہلے، شروع نہ کہیں شروع میں، کس سے؟ موصوف سے پہلے ایسا یا ایسی کا لفظ لے آتے ہیں۔ تو موصوف یہاں کون؟ کلمہ، تو اس سے پہلے ایسا کا لفظ ہم لائیں گے۔ تو کہتے ہیں حرف کی تعریف کہ وہ ایسا کلمہ ہے، ”لَا تَدُلُّ عَلَى مَعْنًى فِي نَفْسِهَا“، جو دلالت نہیں کرتا کسی معنی پر ”فِي نَفْسِهَا“ ای بنفسہا خود بخود، جو خود بخود کسی معنی پر دلالت نہیں کرتا، ”بَلْ تَدُلُّ عَلَى مَعْنًى فِي غَيْرِهَا“، بلکہ دلالت کرتا ہے کسی معنی پر ”فِي غَيْرِهَا“ ای بغیرہا غیر کے ذریعے، غیر کے واسطے سے۔ بھئی میں نے آپ کو بتلایا کہ یہ فی نفسہا میں جہاں بھی فی نفسہا آ رہا ہے وہاں پر فی بمعنی با کے ہے۔ اسی طرح فی غیرہا یہاں بھی فی بمعنی با کے ہے: ”فِي غَيْرِهَا“ ای بغیرہا، ورنہ ورنہ بڑی خرابی آتی ہے بھئی کس طرح دیکھو: کل بھی میں نے ذکر کیا تھا پھر ذکر کر دیتا ہوں کہ حرف وہ دلالت نہیں کرتا علی معنٰی ایسے معنی پر فی نفسہا جو اس کی اپنی ذات میں ہو۔ حرف ایسے معنی پر دلالت نہیں کرتا جو اس کی اپنی ذات میں ہو، بلکہ دلالت کرتا ہے ایسے معنی پر فی غیرہا جو کسی دوسرے کی ذات میں ہو، حالانکہ ایسا نہیں۔ ہر لفظ اپنے معنی پر دلالت کرتا ہے، کسی دوسرے لفظ کے معنی پر دلالت نہیں کرتا۔ تو دیکھو اگر فی کو با کے معنی میں نہ لو گے تو خرابی لازم آئے گی، پھر تو معنی کیا بن گیا کہ حرف اپنے معنی پہ دلالت نہیں کرتا بلکہ کسی دوسرے لفظ کے معنی پر کسی غیر کے معنی پر دلالت کرتا ہے حالانکہ یہ درست نہیں۔ تو لہٰذا فی کو کس معنی میں لو؟ با کے معنی میں: کہ حرف وہ معنی پر خود بخود دلالت نہیں کرتا بلکہ دلالت کرتا ہے معنی پر فی غیرہا ای بغیرہا غیر کے ذریعے سے، یعنی جب غیر اس کے ساتھ مل جاتا ہے تو پھر وہ اس معنی پر دلالت کرتا ہے۔ میں نے اس کی مثال ذکر کی تھی: ایک ہے لفظِ ابتداء، ابتداء کا معنی بھی شروع کرنا، اسی طرح مِنْ ہے، من کا معنی بھی ہوتا ہے شروع کرنا۔ لیکن لفظِ ابتداء میں نے جیسے ہی کہا آپ سمجھ گئے کہ اس کا کیا معنی ہے: شروع کرنا۔ لیکن میں آپ کے سامنے سارا دن مِن مِن مِن کرتا رہوں، آپ کو شروع کرنے کا معنی نہیں سمجھ میں آئے گا، جب تک اس کے ساتھ میں ایک دو لفظوں کو اور نہیں جوڑ دوں گا، جیسے میں نے مثال ذکر کی تھی: ”سِرْتُ مِنَ الْبَصْرَةِ إِلَى الْكُوفَةِ“۔ سَارَ يَسِيرُ کا معنی چلنا، ”سِرْتُ“، میں چلا، ”مِنَ الْبَصْرَةِ“، بصرہ سے، ”إِلَى الْكُوفَةِ“، کہاں تک؟ کوفہ تک۔ تو دیکھو چلنے کی ابتداء کہاں سے ہو رہی ہے؟ بصرہ سے، یہ کس نے بتایا؟ جملے میں تو شروع کرنے کا معنی نہیں، لیکن پتہ چل رہا ہے کہ یہ چلنے کی ابتداء کہاں سے ہو رہی ہے، شروع کہاں سے ہو رہا ہے؟ بصرہ سے، یہ کس نے بتایا؟ مِنْ نے۔ تو دیکھا، من کا کیا معنی ہوتا ہے؟ شروع کرنا، لیکن یہ جب تک اس کے ساتھ آپ نے چلنے کو اور بصرہ کو ذکر نہیں کیا تب تک اس کے معنی سمجھ میں نہیں آیا بھئی۔ تو کہتے ہیں حرف جو ہے وہ اپنے معنی پر خود بخود دلالت نہیں کرتا بلکہ دلالت کرتا ہے کسی معنی پر فی غیرہا ای بغیرہا کسی غیر کے ذریعے سے، یعنی غیر ملے گا تو وہ ایک معنی پر دلالت کرے گا حرف بھئی۔ ”نَحْوُ: ”مِنْ““، مثال کے طور پر من، جیسے کہ من ہے، ”فَإِنَّ مَعْنَاهَا الِابْتِدَاءُ“، اس لیے کیونکہ من کا کیا معنی ہے؟ ابتداء ہے، شروع کرنا، ”وَهِيَ لَا تَدُلُّ عَلَيْهِ“، اور یہ من اس معنی پر دلالت نہیں کرتا، یہ من اس ابتداء کے معنی پر دلالت نہیں کرتا، ”إِلَّا بَعْدَ ذِكْرِ مَا مِنْهُ الِابْتِدَاءُ“، مگر بعد اس کے کہ جب ذکر کر دیا جائے ما اس چیز کو منہ الابتداء جس سے ابتداء ہو رہی ہے۔ من اپنے معنی یعنی ابتداء پر دلالت نہیں کرتا جب تک اس کے بعد ذکر نہ کر دیا جائے ما اس چیز کو منہ الابتداء جس سے ابتداء ہو رہی ہے بھئی، اور چلنے کی ابتداء کہاں سے ہو رہی تھی؟ بصرہ سے، تو جب تک اس کے ساتھ بصرہ کا ذکر نہیں آئے گا پتہ نہیں چلے گا کہ کہاں سے ابتداء ہو رہی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَهِيَ لَا تَدُلُّ عَلَيْهِ إِلَّا بَعْدَ ذِكْرِ مَا مِنْهُ الِابْتِدَاءُ“، اور یہ من اس ابتداء کے معنی پر دلالت نہیں کرتا مگر بعد اس کے کہ جب ذکر کر دیا جائے ما اس چیز کو منہ الابتداء جس سے ابتداء ہو رہی ہے، ”كَـ”الْبَصْرَةِ“، وَ”الْكُوفَةِ“ مَثَلًا“، جیسے کہ بصرہ اور کوفہ وغیرہ بھئی۔ مثلاً مثال کے طور پر، ”تَقُولُ“، آپ کہتے ہیں: ”سِرْتُ مِنَ الْبَصْرَةِ إِلَى الْكُوفَةِ“۔ سَارَ يَسِيرُ کا معنی چلنا، ”سِرْتُ“، میں چلا، ”مِنَ الْبَصْرَةِ“، بصرہ سے، ”إِلَى الْكُوفَةِ“، کہاں تک؟ کوفہ تک۔ تو میں چلا بصرہ سے لے کر کوفہ تک بھئی۔ تو یہ چلنے کی ابتداء بصرہ سے ہو رہی ہے اور یہ کس نے بتایا؟ من نے۔ تو من کا معنی ہے شروع کرنا، لیکن یہ شروع کرنا ہمیں من سے سمجھ نہیں آ رہا تھا جب تک اس کے بعد بصرہ کا ذکر نہ آیا جس سے چلنے کی ابتداء ہو رہی ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ ”وَعَلَامَتُهُ“، اب علامت ذکر کرنے لگے ہیں۔ حرف کی تعریف تو ہمیں سمجھ میں آ گئی کہ وہ اپنے معنی پر خود بخود دلالت نہیں کرتا، کوئی اور کلمہ ساتھ ملے پھر وہ دلالت کرتا ہے، سمجھ تو ہمیں آ گیا ذہن میں، لیکن خارج میں پہچانیں گے کیسے؟ عبارت کے اندر کوئی حرف کوئی عبارت میں کوئی لفظ آئے ہمیں کیسے پتہ چلے گا یہ حرف ہے یا حرف نہیں ہے؟ تو اس کے لیے علامت چاہیے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَعَلَامَتُهُ“، اور حرف کی علامت جو ہے وہ یہ ہے: ”أَنْ لَا يَصِحَّ الْإِخْبَارُ عَنْهُ وَلَا بِهِ“، کہ نہ تو اس کے ساتھ اخبار بہ صحیح ہو اور نہ اخبار عنہ صحیح ہو، یعنی نہ تو وہ مسند الیہ بن سکے اور نہ مسند بہ۔ اسم وہ مسند الیہ بھی بن سکتا ہے اور مسند بہ بھی، اور فعل مسند بہ تو بن سکتا ہے مسند الیہ نہیں بن سکتا، اور حرف نہ مسند الیہ بن سکتا ہے اور نہ مسند بہ بن سکتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ایک علامت اس حرف کی یہ ہے کہ نہ تو اس سے اخبار عنہ ہو سکے اور نہ اخبار بہ، یعنی نہ تو وہ مسند الیہ بن سکے اور نہ مسند بہ۔ ”وَأَنْ لَا يَقْبَلَ عَلَامَاتِ الْأَسْمَاءِ، وَلَا عَلَامَاتِ الْأَفْعَالِ“، اور دوسری علامت یہ ہے کہ یہ نہ اسم کی علامتوں کو قبول کرتا ہے اور نہ فعل کی۔ لا یقبل یہ قبول نہیں کرتا علامات الاسماء اسموں کی علامتوں کو، ولا علامات الافعال اور نہ افعال کی علامتوں کو بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی یہاں تک؟ تعریف بھی کر دی، علامت بھی ذکر کر دی۔ کہ نہ مسند الیہ بن سکے گا نہ مسند بہ، اور فعل والی بھی کوئی علامت اس پر نہیں آ سکتی اور اسم والی بھی کوئی علامت اس پر نہیں آ سکتی۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ نے ہمیں بتایا کہ یہ جو حرف ہے نہ یہ مسند الیہ بن سکتا ہے نہ مسند بہ، تو کلام کے تو دو ہی اہم جزء ہیں: یا وہ مسند الیہ ہوتا ہے یا مسند بہ ہوتا ہے، دو جزء ہیں اہم۔ نہ یہ مسند الیہ بن سکتا ہے نہ مسند بہ، معلوم ہوا یہ بالکل بیکار چیز ہے، یہ حرف کیا ہے؟ بالکل بیکار چیز ہے! تو کہیں گے: نہیں بھئی نہیں، حرف بیکار نہیں ہے، حرف کے بہت زیادہ فائدے ہیں کلامِ عرب کے اندر بھئی۔ مثلاً یہ دو اسموں کے درمیان ربط دے گا۔ دو اسم ہیں الگ الگ ہیں تو ربط چاہیے ان میں، ربط دینے کی اور کوئی صورت نہیں، پھر کس کو لانا پڑے گا؟ حرف کو۔ یا دو فعلوں کے درمیان یہ ربط دیتا ہے، دو فعل ہیں الگ الگ ہیں، ربط چاہیے کوئی صورت نہیں، مجبوراً کس کو لانا پڑے گا؟ حرف کو۔ یا ایک اسم ہے ایک فعل ہے، آپ ان کے درمیان ربط لانا چاہتے ہیں تو کس کو لانا پڑے گا؟ حرف کو لانا پڑے گا بھئی۔ اور بھی اس کے بہت سے فائدے ہیں جو آگے حروف کی بحث میں ان شاء اللہ وہ کہتے ہیں مفصل بیان ہوں گے، تو یہ چند مختصراً کچھ ذکر کر دیے بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَلِلْحَرْفِ فِي كَلَامِ الْعَرَبِ فَوَائِدُ“، اور حرف کے عربی کلام کے اندر فوائد کئی فائدے ہیں، ”كَالرَّبْطِ بَيْنَ الِاسْمَيْنِ“، جیسے کہ ربط دینا دو اسموں کے درمیان۔ دو اسموں میں ربط دینا، ”نَحْوُ: ”زَيْدٌ فِي الدَّارِ““، جیسے زید گھر میں ہے۔ دیکھو ایک اسم ہے زید، ایک ہے الدار، دو اسم ہیں۔ آپ سارا دن کسی کے سامنے کہتے رہیں: زیدٌ الدارُ یا زیدٌ دارٌ، زیدٌ الدارُ، وہ کہے گا بھئی کیا ہے بات تو پوری کریں مجھے تو آپ کی بات نہیں سمجھ آ رہی! تو پھر جب آپ تو دیکھیں اب آپ فی لے کر آئیں گے: ”زَيْدٌ فِي الدَّارِ“، اب بات پوری ہو گئی اس کو سمجھ میں آ گئی، معلوم ہوا زید کہاں پر ہے؟ گھر میں ہے بھئی۔ تو دیکھو یہ زید اور الدار میں فی نے ربط دے دیا: ”نَحْوُ: ”زَيْدٌ فِي الدَّارِ““، زید اس گھر میں ہے۔ ”أَوِ الْفِعْلَيْنِ“، یا یہ ربط دے گا دو فعلوں کے درمیان بھئی: ”نَحْوُ: ”أُرِيدُ أَنْ تَضْرِبَ““۔ اريدُ، میں چاہتا ہوں، ”أَنْ تَضْرِبَ“، کہ آپ پٹائی کریں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ پٹائی کریں۔ بھئی دو فعل ہیں: ایک ہے اريدُ، ایک ہے تضربُ۔ ان دونوں میں ان نے ربط دیا، ذرا ان کو ہٹاؤ: اريدُ میں چاہتا ہوں، تضربُ آپ پٹائی کرتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں آپ پٹائی کرتے ہیں، بات ہی نہیں بن رہی، کیا معنی بھئی؟ کیا کہنا چاہتے ہو؟ میں چاہتا ہوں آپ پٹائی کرتے ہیں، نہیں، اب ان بیچ میں لے آؤ بات پوری ہو گئی: ”أُرِيدُ أَنْ تَضْرِبَ“، میں چاہتا ہوں کہ آپ کیا کریں؟ پٹائی کریں، دیکھو اب بات پوری ہو گئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ دو فعلوں میں ربط کس نے دیا؟ ان نے: ”أُرِيدُ أَنْ تَضْرِبَ“، میں چاہتا ہوں کہ آپ پٹائی کریں۔ ”أَوِ اسْمٍ وَفِعْلٍ“، یا یہ ربط دے گا ایک اسم اور ایک فعل میں یہ جو حرف ہے یہ ربط دے گا: ”كَـ”ضَرَبْتُ بِالْخَشَبَةِ““، میں نے پٹائی کی، خشبہ لکڑی کو کہتے ہیں، میں نے لکڑی سے پٹائی کی۔ اب ضربتُ فعل ہے، خشبہ لکڑی ہے، ذرا با کو ہٹا دو: ”ضَرَبْتُ الْخَشَبَةَ“، میں نے لکڑی کی پٹائی کی۔ آپ سارا دن کسی کو کہتے رہیں وہ کہے گا بھئی یہ کیسی بات کر رہے ہیں آپ: ضربت الخشبۃ، میں نے لکڑی کی پٹائی کی! ہاں جب آپ با لے آئے: ”ضَرَبْتُ بِالْخَشَبَةِ“، میں نے لکڑی کے ساتھ پٹائی کی، لکڑی کے ذریعے پٹائی کی، اب بات سمجھ میں آ گئی اچھا اچھا، معلوم ہوا لکڑی کی پٹائی نہیں کی بلکہ لکڑی کے ذریعے پٹائی کی، کیونکہ لکڑی کی پٹائی تو نہیں ہو سکتی وہ تو بے جان چیز ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو ”ضَرَبْتُ“ تو یہ با نے ربط دیا اور بات پوری ہو گئی: ”كَـ”ضَرَبْتُ بِالْخَشَبَةِ““، جیسے میں نے پٹائی کی لکڑی کے ذریعے۔ ”أَوِ الْجُمْلَتَيْنِ“، یا یہ جو حرف ہے یہ دو جملوں میں ربط دیتا ہے: ”نَحْوُ: ”إِنْ جَاءَنِي زَيْدٌ أَكْرَمْتُهُ““۔ اگر میں ”إِنْ جَاءَنِي زَيْدٌ“، اگر زید میرے پاس آیا، ”أَكْرَمْتُهُ“، تو میں اس کا اکرام کروں گا۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ یہاں یہ ان نے ربط دیا: ”جَاءَنِي زَيْدٌ“ یہ ایک جملہ ہے، ”أَكْرَمْتُهُ“ یہ دوسرا جملہ ہے، ان میں ان نے ربط دیا۔ ان کو ذرا ہٹا دیں، آپ کہیں: ”جَاءَنِي زَيْدٌ“ زید میرے پاس آیا تھا، ”أَكْرَمْتُهُ“ میں نے اس کا اکرام کیا، زید میرے پاس آیا میں نے اس کا اکرام کیا۔ زید کہے گا میں تو کبھی آپ کے پاس آیا ہی نہیں! ہاں اب ان جوڑ دو: ”إِنْ جَاءَنِي زَيْدٌ أَكْرَمْتُهُ“، اگر میرے پاس زید آیا تو میں کیا کروں گا؟ اس کا اکرام کروں گا، دیکھا معلوم ہوا اپ مستقبل کی بات کر رہے ہیں، وہ کہہ رہا ہے میں پہلے کبھی آیا ہی نہیں تھا آپ ماضی کی تو بات ہی نہیں کر رہے، کس کی بات کر رہے ہیں؟ مستقبل کی۔ تو یہ ان ہٹاؤ تو معنی کیا بن گیا؟ زید میرے پاس آیا اور میں نے اس کا اکرام کیا کس میں؟ زمانۂ ماضی میں، اور یہ جڑ ہی نہیں رہا کیونکہ زید تو آپ کے پاس آیا ہی نہیں پہلے کبھی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اب ربط کس نے دے دیا؟ ان نے دے دیا، اب جب آپ کہتے ہیں ”إِنْ جَاءَنِي“، اگر زید میرے پاس آیا تو میں اس کا اکرام کروں گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ دو جملوں میں ربط کس نے دیا؟ ان نے۔ ان ہٹاتے تو بات ہی ادھوری ہو جاتی، غلط ہو جاتی، اور ان آیا تو بات صحیح ہو گئی۔ ”نَحْوُ: ”إِنْ جَاءَنِي زَيْدٌ أَكْرَمْتُهُ““، اگر میرے پاس زید آیا تو میں اس کا اکرام کروں گا۔ ”وَغَيْرِ ذَٰلِكَ مِنَ الْفَوَائِدِ الَّتِي تَعْرِفُهَا فِي الْقِسْمِ الثَّالِثِ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى“۔ اور اس کے علاوہ بھی اور فائدے ہیں، اس کے علاوہ بھی اور فائدے ہیں بھئی، حرف کے فائدے ذکر ہو رہے ہیں نا، یا دو اسموں میں ربط دے گا یا دو فعلوں میں ربط دیتا ہے، اسی طرح ایک اسم اور ایک فعل میں بھی ربط دیتا ہے، دو جملوں میں بھی ربط، اور یہی صرف فائدے نہیں ہیں، ”وَغَيْرِ ذَٰلِكَ مِنَ الْفَوَائِدِ“، اس کے علاوہ بھی اور فائدے ہیں، ”الَّتِي تَعْرِفُهَا“، جس کو آپ جان لیں گے، ”فِي الْقِسْمِ الثَّالِثِ“، تیسری قسم میں، ”إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى“، اگر اللہ نے چاہا بھئی۔ تو وہ آگے قسم ثالث آئے گی، آپ کو انہوں نے شروع میں بتایا تھا کہ اس کتاب میں تین قسمیں ہیں: قسمِ اول، قسمِ ثانی اور قسمِ ثالث۔ قسمِ اول میں اسم کی بحث، قسمِ ثانی میں فعل کی بحث اور آخر میں قسمِ ثالث کے اندر حرف کی بحث ہے تو وہاں تفصیل آ جائے گی۔ اللہ! یہاں کتابت کی ایک بات بتلا دوں آپ کو بھئی: ”إِنْ شَاءَ“، یہ دیکھو ان شاء نون کو شین کے ساتھ ملا کر لکھا ہے، یہ غلط ہے بھئی، غلط۔ ”إِنْ“ الگ ہونا چاہیے اور ”شَاءَ“ الگ لفظ ہے بھئی۔ ”إِنْ“ یہ جو ابھی گزرا ”إِنْ جَاءَنِي“، صورت سمجھ میں آ گئی؟ جی تو یہ ”إِنْ“ الگ حرف ہے الگ کلمہ ہے اور ”شَاءَ“ الگ کلمہ ہے، دونوں کو الگ الگ لکھنا چاہیے بھئی۔ ”وَيُسَمَّى حَرْفًا“، اب حرف کی وجہِ تسمیہ ذکر کرنے لگے ہیں کہ حرف کو حرف کیوں کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: ”وَيُسَمَّى حَرْفًا“، اور حرف کو حرف کہتے ہیں، ”لِوُقُوعِهِ فِي الْكَلَامِ حَرْفًا“۔ ”الْوُقُوعِ“ تو نہیں آپ کی کتابوں میں؟ ہاں ”الْ“ نہیں ہونا چاہیے۔ ”وَيُسَمَّى حَرْفًا لِوُقُوعِهِ“، اور حرف کو حرف کہتے ہیں اس وجہ سے کہ یہ واقع ہوتا ہے، یہ آتا ہے، ”فِي الْكَلَامِ“، کلام کے اندر، ”حَرْفًا“ ای طرفاً، حرف ہو کر یعنی ایک طرف۔ حرف کا معنی ہے: طرف۔ حرف کو حرف کیوں کہتے ہیں؟ کہتے ہیں کیونکہ یہ کلام میں ایک طرف آتا ہے۔ اس پر کوئی اشکال کرے گا بھئی: ایک طرف کہاں؟ ہم آپ کو دکھاتے ہیں حرف کلام کے درمیان میں آ رہا ہے: ”زَيْدٌ فِي الدَّارِ“، دیکھو فی کہاں پر ہے؟ زید اور دار کے بیچ میں ہے، اور آپ نے تو ہمیں کیا کہا؟ حرف کو حرف کیوں کہتے ہیں کیونکہ کلام کے بیچ میں نہیں آتا بلکہ ایک طرف آتا ہے، دیکھو اس مثال میں تو یہ بیچ میں آ رہا ہے؟ تو جواب: نہیں بھئی، ایک طرف واقع ہوتا ہے اس کا یہ معنی نہیں کہ لفظوں کے اندر بیچ میں نہیں آتا، بلکہ معنی یہ ہے کہ کلام کے دو خاص حصے ہیں: ایک کو مسند الیہ کہتے ہیں ایک کو مسند بہ، نہ یہ مسند الیہ بنتا ہے نہ مسند بہ بنتا ہے، ان سے ایک طرف ہوتا ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو ایک طرف ہونے کا کیا معنی؟ کہ نہ یہ مسند الیہ بنتا ہے اور نہ مسند بہ بنتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَيُسَمَّى حَرْفًا لِوُقُوعِهِ فِي الْكَلَامِ حَرْفًا“، ای طرفاً، اور حرف کو حرف کہتے ہیں اس وجہ سے کہ یہ کلام میں حرف ہو کر یعنی ایک طرف ہو کر واقع ہوتا ہے، ”إِذْ لَيْسَ مَقْصُودًا بِالذَّاتِ“، اس لیے کیونکہ یہ مقصود بالذات نہیں ہوتا، ”مِثْلَ الْمُسْنَدِ وَالْمُسْنَدِ إِلَيْهِ“، جیسے کہ مسند اور مسند الیہ۔ یاد رکھیے کلام میں مسند اور مسند الیہ مقصود ہوتے ہیں۔ میں آپ کو بتلاتا ہوں: زید کھڑا ہے۔ تو دیکھو میرے بتلانے کا مقصد ہے زید کے بارے میں، اور کیا بات بتلانا مقصد ہے؟ کہ وہ کھڑا ہے۔ تو مسند اور مسند الیہ دونوں مقصود ہوتے ہیں جو دوسرے کو آپ بتانا چاہتے ہیں، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ایک کے بارے میں بتاتے ہیں اور ایک جو ہوتی ہے وہ بات ہوتی ہے جو دوسرے کو بتلاتے ہیں، تو جبکہ حرف وہ ایسا نہیں ہے وہ مقصود بالذات وہ اپنی ذات کے اعتبار سے مقصود نہیں ہوتا یعنی نہ وہ مسند الیہ ہوتا ہے نہ مسند بہ، ہاں اس کو کلام میں لے کر آتے ہیں کسی نہ کسی ضرورت کی بنا پر، کسی فائدے کے لیے، کیونکہ اس کے بغیر بات پوری نہیں ہوتی بھئی۔ یہ معنی ہے: ”إِذْ لَيْسَ مَقْصُودًا بِالذَّاتِ“، اس لیے کیونکہ حرف جو ہوتا ہے وہ اپنی ذات کے اعتبار سے مقصود نہیں ہوتا جیسے کہ مسند اور مسند الیہ وہ مقصود ہوتے ہیں۔ سوال: آپ نے ہمیں اسم کے بارے میں بھی بتلا دیا کہ اسم کلام میں مسند الیہ بھی بنتا ہے اور مسند بہ بھی بنتا ہے۔ فعل جو ہے وہ صرف مسند بہ بنتا ہے مسند الیہ نہیں بنتا، اور حرف نہ مسند الیہ بنتا ہے اور نہ مسند بہ۔ ہم آپ کو مثال دکھاتے ہیں کہ فعل کلام کے اندر مسند الیہ بن رہا ہے! ہم آپ کو کلام دکھاتے ہیں کہ حرف جو ہے وہ بھی کلام کے اندر مسند الیہ بن رہا ہے! مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: ”ضَرَبَ فِعْلٌ“، ضرب فعل ہے، پوری بات ہے یا نہیں؟ تو دیکھو اور کس کے بارے میں میں نے بات کی؟ ضرب کے بارے میں، کس کے بارے میں؟ ضرب کے، کہ ضرب کیا ہے؟ فعل ہے۔ تو جس کے بارے میں بات کی جائے وہ کون ہوتا ہے؟ مسند الیہ، تو دیکھو ضرب مسند الیہ ہے اس میں، اور فعلٌ کیا ہے اس کی؟ مسند اس کی خبر ہے۔ سمجھ میں آئی بات؟ اسی طرح دوسری مثال دیکھو: ”مِنْ حَرْفٌ“، من حرف ہے۔ یہ پورا کلام ہے، میں نے کس کے بارے میں بات کی؟ من، اور جس کے بارے میں بات کی جائے وہ کون ہوتا ہے؟ جس کے بارے میں بات کی جائے مسند الیہ ہوتا ہے، وہ کیا ہوتا ہے؟ تو من ہے مسند الیہ، اور کیا بات کی؟ کہ وہ حرف ہے، تو وہ مسند ہوا۔ تو دیکھا: ”ضَرَبَ فِعْلٌ“، اس میں ضرب مسند الیہ بن رہا ہے، اور آپ نے تو کہا تھا فعل مسند الیہ نہیں بنتا! ”مِنْ حَرْفٌ“، اس میں من کیا بن رہا ہے؟ مسند الیہ، اور آپ نے تو کہا تھا حرف جو ہے وہ مسند بھی نہیں بنتا اور مسند الیہ بھی نہیں بنتا! جواب، جواب: کہ بھئی ”ضَرَبَ فِعْلٌ“، اس میں جو ضرب آیا یہ ضرب فعل نہیں ہے۔ یہ ضرب؟ ہاں وہ جو ضرب ضرب کتابوں کے اندر ایک فعل آتا ہے اس کا نام ہی ہم نے ضرب رکھ دیا، کیا رکھ دیا؟ تو یہ نام ہے، عَلَم ہے، اسم ہے اس وقت۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ ضرب اس وقت فعل نہیں ہے، یہ اس ضرب وہ جو گردانوں میں آپ ضرب پڑھتے ہیں اس ضرب کا نام ہی ہم نے کیا رکھ دیا؟ اس کا نام رکھ دیا، جب نام رکھ دیا نام کیا ہوتا ہے؟ نام اسم عَلَم ہوتا ہے، اسم ہوتا ہے، تو ضرب یہاں کیا ہے؟ اسم ہے، اسم ہے۔ آپ کہیں گے یہ تو عجیب جواب ہے! یہ تو جان چھڑانے والی بات آپ کر رہے ہیں، آپ نے کیا کہہ دیا ضرب کو اسم بنا دیا، حالانکہ ضرب تو فعل ہے؟ نہیں بھئی نہیں، آپ خود غور کر لیں۔ ذرا ترجمہ کرو: ”ضَرَبَ فِعْلٌ“، ترجمہ کرو: ضرب فعل ہے۔ ضرب کا ترجمہ کیوں نہیں کر رہے بھئی؟ میں کہتا ہوں: زید کھڑا ہے، ”زَيْدٌ قَائِمٌ“، ترجمہ کرو: زید کھڑا ہے۔ یہ زید کا ترجمہ کیوں نہیں کر رہے؟ کیونکہ زید نام ہے، ناموں کا ترجمہ نہیں کیا جاتا بھئی۔ نام سے کوئی ذات مراد ہوتی ہے، وہ اس میں معنی نہیں مراد ہوتا۔ میں کہتا ہوں عبد اللہ کھڑا ہے، آپ کا ایک ساتھی ہے اس کا نام کیا ہے؟ عبد اللہ۔ ”عَبْدُ اللَّهِ قَائِمٌ“، جی ترجمہ کرو: عبد اللہ کھڑا ہے۔ بھئی عبد اللہ کا ترجمہ کیوں نہیں کرے، ترجمہ کیوں نہیں کر رہے؟ آپ کو تو کہنا چاہیے اللہ کا بندہ کھڑا ہے، لیکن آپ کیا ترجمہ کر رہے ہیں؟ عبد اللہ کھڑا ہے، عبد اللہ کھڑا ہے۔ بھئی کیوں؟ یہ عبد اللہ کا ترجمہ کیوں نہیں کر رہے؟ کیونکہ یہ نام ہے، ناموں کا ترجمہ نہیں کیا جاتا، نام میں ترجمہ نہیں مراد ہوتا، نام سے وہ ذات مراد ہوتی ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اسی طرح جب میں نے کہا ”ضَرَبَ فِعْلٌ“، ترجمہ کرو، آپ نے کہا: ضرب فعل ہے۔ بھئی یہ ضرب کا ترجمہ کیوں نہیں کر رہے؟ ترجمہ ہم یہاں کر ہی نہیں سکتے، ترجمہ کریں گے تو سارا مسئلہ خراب ہو جائے گا، پھر تو ترجمہ ہی نہیں بنے گا: اس آدمی نے پٹائی کی فعل ہے، یہ کیا بات ہوئی؟ بات ہی نہیں بن رہی! تو یہ وہ جو ضرب ہے عبارتوں میں اور گردانوں میں آتا ہے، اس کا نام ہی کیا رکھ دیا؟ ضرب رکھ دیا، یہ نام بن گیا۔ جب نام بن گیا اب اس کا ترجمہ نہیں، تو لہٰذا کیا ترجمہ آپ کرتے ہیں: ”ضَرَبَ فِعْلٌ“، آپ کیا کہتے ہیں؟ ضرب فعل ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یوں کہو: ضرب سے ضرب کا لفظ مراد ہے، ضرب سے فعل مراد نہیں، ضرب سے ضرب کا لفظ مراد ہے، اس کا نام ہی ہم نے ضرب رکھ دیا۔ جب یہ نام رکھ دیا یہ اب اسم بن گیا، یہ اسم ہے۔ تو لہٰذا مسند الیہ اسم بنا یا فعل؟ ”ضَرَبَ“، دوبارہ سنو: ”ضَرَبَ فِعْلٌ“، یہ جو ضرب ہے یہ کیا ہے؟ یہ نام ہے کس کا؟ وہ جو کتابوں میں ضرب فعل استعمال ہوتا ہے اس کا نام ہی کیا رکھ دیا؟ ضرب رکھ دیا، تو یہ جو ضرب اس وقت اس جملے میں ہے یہ اسم ہے، اور یہ مسند الیہ بن رہا تھا نا تو بات تو وہی ہو گئی، ہم نے بھی کہا تھا مسند الیہ اسم ہی بن سکتا ہے اور یہ ضرب بھی کیا ہے اس وقت؟ اسم ہے، مسند الیہ ہے، اسم ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اسی طرح میں نے کہا: ”مِنْ حَرْفٌ“، من کیا ہے؟ حرف ہے۔ اشکال کیا ہوا تھا کہ یہاں تو حرف کیا بن رہا ہے؟ مسند الیہ بن رہا ہے۔ جواب گزر گیا، یہی جواب یہاں بھی ہوگا کہ یہ یہاں من جو کتابوں میں عبارتوں میں جو من من لفظ آتا ہے نا جگہ جگہ، اس کا نام ہی ہم نے کیا رکھ دیا؟ من۔ اسی لیے جب نام رکھ دیا اب اس کا ترجمہ بھی نہیں، آپ ذرا کرو ترجمہ: ”مِنْ حَرْفٌ“، من حرف ہے۔ بھئی من کا ترجمہ کیوں نہیں کر رہے؟ آپ تو اردو بول رہے ہیں، اردو میں تو من نہیں استعمال ہوتا لیکن آپ تو اردو میں بھی من ہی بول رہے ہیں! سمجھ میں آئی بات؟ معلوم ہوا اس من کا نام ہی کیا رکھ دیا؟ من، اور یہ نا عَلَم بن گیا اور عَلَم کا ترجمہ نہیں ہوتا، ورنہ تو ترجمہ ہونا چاہیے: من حرفٌ، سے حرف ہے۔ کسی آدمی سے کہیں سے حرف ہے سے وہ کہے گا یہ کیا بات کر رہے ہو یہ تو دوری سمجھ نہیں آ رہی ہمیں، کیا کہہ رہے ہو؟ تو لہٰذا معلوم ہوا یہ جو من کیا ہے اس وقت؟ اس وقت اسم ہے، اور جب یہ اسم ہے تو یہ مسند الیہ بن سکتا ہے کیونکہ مسند الیہ تو کون بنتا ہے؟ اسم ہی بنتا ہے، فعل یا حرف نہیں بنتے۔ بات بھی سمجھ میں آئی کہ ویسے سر ہلا رہے ہیں؟ اچھی طرح؟ ہاں۔ تو ضرب کو اگر کوئی اسی طرح اور بھی کوئی بھی اشکال کرے کوئی بھی لفظ لے کر، مثلاً: ”أَكْرَمَ فِعْلٌ“، اکرم فعل، تو آپ کہیں گے اکرم فعل ہے، معلوم ہوا وہ جو عبارت میں اکرم لفظ آتا ہے اس کا نام ہی کیا رکھ دیا؟ اکرم، یہ نام ہے اس وقت، عَلَم ہے، اسم ہے، اور جب اسم ہے تو اسم تو مسند الیہ بن سکتا ہے اس لیے مسند الیہ بن رہا ہے بھئی۔ چلیے، بس بھئی بس۔ ”هَٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔ کوئی بات ایسی تو نہیں جو سمجھ میں نہ آئی ہو بھئی؟ حل ہو گیا؟ چلیے۔
104 approved lectures · 6 of 104