Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الوقاية جزء ثالث · dars-081

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 18 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 36
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وَغُرِّمَ رَجُلَانِ شَهِدَا مَعَ امْرَأَةٍ ثُمَّ رَجَعُوا لَاحِقًا لِأَنَّهُ لَمْ يَثْبُتْ بِشَهَادَةِ الْمَرْأَةِ الْوَاحِدَةِ شَيْءٌ۔ بَھْ گزشتہ سبق میں یہ مسائل چل رہے تھے کہ اگر گواہ رجوع کر لیں تو ان پر کس صورت میں زمان آئے گا اور کس صورت میں زمان نہیں آئے گا۔ جِی! آپ نے پڑھا تھا کہ اعتبار جو ہے باقی گواہوں کا ہے کہ کس قدر نصابِ شہادت باقی ہے اس کے اعتبار سے زمان آئے گا، رجوع کرنے والوں کا اعتبار نہیں۔ مثلاً دیکھئے! تین گواہوں نے ایک مسئلے میں گواہی دی تھی، اس میں ان تین میں سے ایک نے رجوع کر لیا تو اس پر کتنا زمان آئے گا بھئی؟ اس پر کوئی بھی زمـ… کچھ بھی زمان نہیں آئے گا، اس لیے کیونکہ اعتبار باقی کا ہے اور باقی ابھی بھی دو گواہ ہیں اور نصابِ شہادت پورا ہو رہا ہے، دو ہی گواہ چاہیے تھے، دونوں پورے ہیں تو اس تیسرے جتنے رجوع کیا اس پر کوئی زمان نہیں۔ لیکن اگر اب ایک اور نے بھی رجوع کر لیا، تو اب کیا ہوگا؟ باقی کتنے رہ گئے؟ ایک تو نصفِ نصاب باقی ہے، معلوم ہوا نصف نہ رہا تو اس نصف کا زمان آ جائے گا اور دونوں پر آئے گا، جن دونوں نے رجوع کیا تھا ان پر کتنا آ جائے گا؟ نصف زمان آ جائے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو اعتبار باقی کا ہے۔ تو آج آپ کو بتلا رہے ہیں وَغُرِّمَ رَجُلَانِ شَهِدَا مَعَ امْرَأَةٍ۔ صورتِ مسئلہ بھئی یہ ہے کہ دو آدمیوں نے اور ایک عورت نے کسی مسئلے میں گواہی دی، کس نے گواہی دی؟ دو آدمیوں نے اور ایک عورت نے گواہی دی، پھر ساروں نے رجوع کر لیا بھئی، ساروں نے کیا کر لیا؟ رجوع کر لیا تو اب کتنا زمان کس پر کتنا آئے گا؟ صاحبِ کتاب آپ کو بتلا رہے ہیں کہ دو آدمی جو ہیں، ان پر تو زمان آئے گا نصف آدھے پر آ جائے گا اور نصف آدھے پر، عورت پر کوئی زمان نہیں آئے گا بھئی۔ گواہ کتنے تھے؟ دو مرد اور ایک عورت اور ان ساروں نے رجوع کر لیا تو مردوں پر تو تاوان اور زمان آئے گا لیکن عورت پر کوئی زمان نہیں۔ بھئی عورت پر کیوں نہیں زمان آئے گا؟ کیونکہ اس لیے بھئی! کیونکہ وہ ایک عورت ہے اور ایک عورت کی گواہی تو معتبر ہی نہیں۔ لہذا اس سے کوئی اثر نہیں پڑا، ہاں دو مردوں کی وجہ سے گواہی قبول ہوئی تھی اور انہی پر کیا آ جائے گا؟ زمان آ جائے گا۔ یہ معنی ہے وَغُرِّمَ رَجُلَانِ۔ جِی! زمان تاوان آئے گا بھئی کن پر؟ دو آدمیوں پر بھئی۔ آگے آ رہا ہے لَاحِقًا اسی پر عطف ہے وَغُرِّمَ رَجُلَانِ لَاحِقًا، دو مردوں پر تو زمان آئے گا عورت پر نہیں۔ آچھا! کون سے دو مرد؟ کہتے ہیں غُرِّمَ رَجُلَانِ وہ دو مرد ان ان دونوں پر زمان آئے گا شَهِدَا جن دونوں نے گواہی دی مَعَ امْرَأَةٍ کس کے ساتھ؟ کسی ایک عورت کے ساتھ، ثُمَّ رَجَعُوا پھر ان سب نے رجوع کر لیا، جمع کی ضمیر مولانا! دونوں مردوں نے بھی اور عورت نے بھی، پھر ان ساروں نے رجوع کر لیا تو دو مردوں پر زمان آئے گا بھئی، وہ زمان بنائے جائیں گے، لَاحِقًا عورت کو زمان نہیں بنایا جائے گا۔ کیوں بھئی؟ عورت پر کیوں نہیں آئے گا؟ کہتے ہیں لِأَنَّهُ لَمْ يَثْبُتْ بِشَهَادَةِ الْمَرْأَةِ الْوَاحِدَةِ شَيْءٌ اس لیے کہ کسی ایک عورت کی گواہی سے کوئی چیز ثابت نہیں ہوتی، تو اس پر کچھ نہیں آئے گا۔ ہاں! دو عورتیں ہوتیں تو پھر الگ مسئلہ تھا، وہ گزر چکا بھئی۔ وَلَا يَضْمَنُ الرَّاجِعُ فِي نِكَاحٍ بِمَهْرٍ مُسَمًّى شَهِدَا عَلَيْهَا أَوْ عَلَيْهِ۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی، صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک عورت ہے، ایک مرد پر دعویٰ کر دیتی ہے کہ اس نے میرے ساتھ نکاح کیا ہے۔ کیا کیا ہے؟ نکاح کیا ہے جِی! يا مولانا! مرد ہے کسی عورت پر کیا دعویٰ کر دیتا ہے؟ کہ اس کا میرے ساتھ کیا ہوا ہے؟ نکاح ہوا ہے اور دو گواہ بھی قاضی کے پاس پیش کر دیتا ہے اور قاضی فیصلہ کر دیتا ہے کہ یہ عورت کیا ہوئی تمہاری؟ بیوی ہے یا اور یا عورت نے دعویٰ کیا مرد پر اور قاضی نے کیا فیصلہ کر دیا کہ یہ تمہارا شوہر ہے بھئی۔ جِی! اچھا۔ اب اس صورت میں جب نکاح ہوا، دوسرے پر کیا آئے گا؟ خاوند پر کیا آیا کرتا ہے؟ مہر آتا ہے، تو اب مہر بھئی یہاں کل چھ سورتیں بنیں گی۔ یا تو گواہوں نے گواہی دی ہوگی مہرِ مثل پر، اس کے برابر پر یا اس سے کم پر یا اس سے زیادہ۔ اور گواہی یا عورت کے خلاف ہوگی یا کس کے خلاف ہوگی؟ مرد۔ تو مثلاً عورت کے خلاف گواہی دی تو بھی تین سورتیں، یا مہر کتنے کے کس کے برابر ہوگا؟ مہرِ مثل کے برابر ہوگا یا کم ہوگا یا زیادہ۔ تین صورتیں یہ۔ یا مرد کے خلاف گواہی دی، عورت گواہ لے کر آئی تھی اور وہ جو گواہی کتنے مہر پر دی؟ مہرِ مثل کے برابر ہوگا یا کم ہوگا یا زیادہ۔ تو تین صورتیں یہ ہوئیں بھئی، کل کتنی صورتیں ہوئیں؟ چھ، تین عورت جب دعویٰ کرے اور تین وہ صورتیں جب مرد دعویٰ کرے۔۔ جِی! تو یاد رکھو، ان چھ صورتوں میں سے صرف ایک صورت میں زمان آئے گا، جبکہ گواہ رجوع کر لیں، باقی صورتوں میں اگر گواہ رجوع کر لیں تو ان پر کوئی زمان نہیں۔ کون سی صورت میں زمان آئے گا؟ کہتے ہیں وہ صورت جبکہ دعویٰ کس کی طرف سے ہو؟ عورت کی طرف سے ہو۔ کس نے کیا ہو؟ عورت کی طرف سے دو گواہ… عورت دعویٰ کرنے والی ہو اور مردوں نے وہ گواہوں نے گواہی دی اور مہر کتنا ذکر کیا جو مہرِ مثل سے زائد تھا۔ صورتیں جِلی تفصیل سے دیکھو بھئی! دعویٰ کرنے والی ہے عورت بھئی۔ کیا دعویٰ کیا؟ کہ اس شخص نے مجھ سے کیا کیا ہے؟ نکاح کیا ہے۔ اب عورت نے دعویٰ کیا، گواہ پیش کر دیے اور گواہوں نے نکاح پر گواہی دی، لیکن مہر کتنا ذکر کریں گے وہ؟ یا مہرِ مثل کے برابر ہوگا یا کم ہوگا یا زیادہ۔ کم ہو، برابر ہونے کی صورت میں بھئی، بھئی جب مہرِ مثل کے برابر مہر انہوں نے ذکر کیا تو یہاں پر دیکھیے، آدمی کو وہ مہر دینا پڑے گا، کیا کرنا پڑے گا؟ دوسرے خاوند اب خاوند کو مہر دینا پڑے گا اور خاوند کا جو یہ نقصان ہوا، یہ جو اس کو مہر دینا پڑا، یہ عوض کے ساتھ اس کو اس لیے یہ رقم گئی ہے یا بِلَا عوض کے گئی ہے بھئی؟ جِی! بھئی! اسے مل کے بُزَع حاصل ہوئی ہے یا نہیں حاصل ہوئی؟ جِی! تو یہاں پر اگرچہ اس کا اطلاق تو کیا اس نے مال تو تلف ہوا اس کا، لیکن کس کے ساتھ ہوا؟ عوض کے ساتھ، اور عوض کے ساتھ جو اطلاق ہو وہ لَا اِطْلَاقِ کی طرح ہے، گویا کوئی چیز تلف ہی نہیں۔ بھئی جب اس کا عوض مل گیا تو گویا کوئی چیز تلف ہی نہیں ہوئی۔ تو ان سوات کی صورت میں بھئی خاوند کا اگرچہ مال تلف ہوا لیکن عوض کے ساتھ ہوا، تو گویا یہ کس کی طرح ہے؟ لَا تلف کی طرح، کوئی بھی چیز اس کی تلف نہیں۔ جب کوئی بھی چیز تلف نہیں ہوئی تو زمان آئے گا بھئی گواہوں کے رجوع کرنے سے ان پر؟ نہیں۔ بھئی۔ دوسری صورت بھئی، گواہوں نے کتنے کی گواہی دی تھی؟ کم کی گواہی دی تھی اور پھر بعد میں رجوع کر لیا تو بھئی! آدمی کا مال تلف ہوا لیکن عوض کے ساتھ برابر تلف ہوا یا کم مال تلف ہوا؟ اس سے بدتر اعلیٰ، ان پر کوئی زمان نہیں۔ تیسری صورت بھئی، کہ مثلاً مہرِ مثل بنتا تھا ایک لاکھ اور گواہوں نے کتنے کی گواہی دی بھئی؟ سوا لاکھ یا ڈیڑھ لاکھ کی بھئی، تو اس صورت میں، لا تو وہ عوض کے برابر ہوا اور باقی جو پچاس ہزار زاید ہے، یہ اس کا بِلا عوض کے تلف کروا دیا ان گواہوں نے، لہذا جب رجوع کریں گے تو ان پر کتنا زمان آ جائے گا؟ صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ پچاس ہزار، یہ وہ صورت ہے جس میں زمان آئے گا۔ اس کا عکس کر لیں مولانا، دعویٰ کرنے والا مرد ہے، مرد دو گواہ لے آیا اور انہوں نے گواہی دے دی کہ اس شخص کا نکاح ہوا ہے اس عورت کے ساتھ بعد میں ان گواہوں نے رجوع کر لیا، تو نکاح مہر جو انہوں نے ذکر کیا یا مہرِ مثل کے برابر ہوگا، تو اس صورت میں تو بھئی کوئی تلف عورت کا نہیں، کچھ تلف نہیں، بھئی عوض مل گیا اسے۔ اور اگر مہرِ مثل سے زائد کا دعویٰ گواہوں نے گواہی دی، دعویٰ کس کی طرف سے؟ مرد کی طرف سے اور مہر کتنا ذکر کیا؟ زیادہ۔ تو گواہوں نے گواہی دی کہ اس عورت سے اس مرد نے نکاح کیا ہے اور مہر ہے ڈیڑھ لاکھ، جبکہ مہرِ مثل بنتا تھا ایک لاکھ، تو عورت کو کتنے زیادہ مل گئے؟ پچاس ہزار زیادہ مل گئے، تو عورت کا کوئی نقصان ہوا؟ نہیں، اسے تو الٹا فائدہ ہو گیا، نقصان تو نہیں ہوا۔ تیسری صورت کہ مہرِ مثل سے کم ذکر کیا، گواہوں نے گواہی دی کہ اس عورت کا نکاح ہوا ہے اس مرد کے ساتھ اور مہر ہے پچاس ہزار، جبکہ مہرِ مثل کتنا ہے؟ ایک لاکھ۔ تو عورت کا نقصان ہوا کہ نہیں ہوا؟ ہوا، پچاس ہزار کا نقصان ہوا، کیونکہ اس کا مہر تھا ایک لاکھ اور اس کو ملے کتنے؟ پچاس ہزار، تو نقصان ہوا تو اس صورت میں جب گواہ رجوع کریں گے تو ان پر ضمان آئے گا کتنے کا؟ پچاس ہزار کا۔ تو یہ صورتیں ہیں، صاحبِ کتاب اس کو تفصیل سے بیان کر رہے ہیں۔ وَلَا يَضْمَنُ الرَّاجِعُ فِي نِكَاحٍ بِمَهْرٍ مُسَمًّى شَهِدَا عَلَيْهَا أَوْ عَلَيْهِ۔ صورتِ مسئلہ یہ بھئی! صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک عورت ہے، ایک مرد پر دعویٰ کر دیتی ہے کہ اس نے میرے ساتھ نکاح کیا ہے۔ کیا کیا ہے؟ نکاح کیا ہے۔ جِی! يا مولانا، مرد ہے کسی عورت پر کیا دعویٰ کر دیتا ہے؟ کہ اس کا میرے ساتھ کیا ہوا ہے؟ نکاح ہوا ہے اور دو گواہ بھی قاضی کے پاس پیش کر دیتا ہے اور قاضی فیصلہ کر دیتا ہے کہ یہ عورت کیا ہوئی تمہاری؟ بیوی ہے یا اور یا عورت نے دعویٰ کیا مرد پر اور قاضی نے کیا فیصلہ کر دیا کہ یہ تمہارا خام شوہر ہے بھئی۔ جِی! اچھا۔ اب اس صورت میں جب نکاح ہوا، دوسرے پر کیا آئے گا؟ خاوند پر کیا آیا کرتا ہے؟ مہر آتا ہے، تو اب مہر بھئی یہاں کل چھ صورتیں بنیں گی۔ یا تو گواہوں نے گواہی دی ہوگی مہرِ مثل پر، اس کے برابر پر یا اس سے کم پر یا اس سے زیادہ۔ اور گواہی یا عورت کے خلاف ہوگی یا کس کے خلاف ہوگی؟ مرد۔ تو مثلاً عورت کے خلاف گواہی دی تو بھی تین صورتیں، یا مہر کتنے کے کس کے برابر ہوگا؟ مہرِ مثل کے برابر ہوگا یا کم ہوگا یا زیادہ۔ تین صورتیں یہ۔ یا مرد کے خلاف گواہی دی، عورت گواہ لے کر آئی تھی اور وہ جو گواہی کتنے مہر پر دی؟ مہرِ مثل کے برابر ہوگا یا کم ہوگا یا زیادہ۔ تو تین صورتیں یہ ہوئیں بھئی، کل کتنی صورتیں ہوئیں؟ چھ، تین عورت جب دعویٰ کرے اور تین وہ صورتیں جب مرد دعویٰ کرے۔ جِی! تو یاد رکھو، ان چھ صورتوں میں سے صرف ایک صورت میں زمان آئے گا، جبکہ گواہ رجوع کر لیں، باقی صورتوں میں اگر گواہ رجوع کر لیں تو ان پر کوئی زمان نہیں۔ کون سی صورت میں زمان آئے گا؟ کہتے ہیں وہ صورت جبکہ دعویٰ کس کی طرف سے ہو؟ عورت کی طرف سے ہو۔ کس نے کیا ہو؟ عورت کی طرف سے دو گواہ… عورت دعویٰ کرنے والی ہو اور مردوں نے وہ گواہوں نے گواہی دی اور مہر کتنا ذکر کیا جو مہرِ مثل سے زائد تھا۔ صورتیں جِلی تفصیل سے دیکھو بھئی! دعویٰ کرنے والی ہے عورت بھئی۔ کیا دعویٰ کیا؟ کہ اس شخص نے مجھ سے کیا کیا ہے؟ نکاح کیا ہے۔ اب عورت نے دعویٰ کیا، گواہ پیش کر دیے اور گواہوں نے نکاح پر گواہی دی، لیکن مہر کتنا ذکر کریں گے وہ؟ یا مہرِ مثل کے برابر ہوگا یا کم ہوگا یا زیادہ۔ کم ہو، برابر ہونے کی صورت میں بھئی، بھئی جب مہرِ مثل کے برابر مہر انہوں نے ذکر کیا تو یہاں پر دیکھیے، آدمی کو وہ مہر دینا پڑے گا، کیا کرنا پڑے گا؟ دوسرے خاوند اب خاوند کو مہر دینا پڑے گا اور خاوند کا جو یہ نقصان ہوا، یہ جو اس کو مہر دینا پڑا، یہ عوض کے ساتھ اس کو اس لیے یہ رقم گئی ہے یا بِلَا عوض کے گئی ہے بھئی؟ جِی! بھئی! اسے مل کے بُزَع حاصل ہوئی ہے یا نہیں حاصل ہوئی؟ جِی! تو یہاں پر اگرچہ اس کا اطلاق تو کیا اس نے مال تو تلف ہوا اس کا، لیکن کس کے ساتھ ہوا؟ عوض کے ساتھ، اور عوض کے ساتھ جو اطلاق ہو وہ لَا اِطْلَاقِ کی طرح ہے، گویا کوئی چیز تلف ہی نہیں۔ بھئی جب اس کا عوض مل گیا تو گویا کوئی چیز تلف ہی نہیں ہوئی۔ تو ان سوات کی صورت میں بھئی خاوند کا اگرچہ مال تلف ہوا لیکن عوض کے ساتھ ہوا، تو گویا یہ کس کی طرح ہے؟ لَا تلف کی طرح، کوئی بھی چیز اس کی تلف نہیں۔ جب کوئی بھی چیز تلف نہیں ہوئی تو زمان آئے گا بھئی گواہوں کے رجوع کرنے سے ان پر؟ نہیں۔ بھئی۔ دوسری صورت بھئی، گواہوں نے کتنے کی گواہی دی تھی؟ کم کی گواہی دی تھی اور پھر بعد میں رجوع کر لیا تو بھئی! آدمی کا مال تلف ہوا لیکن عوض کے ساتھ برابر تلف ہوا یا کم مال تلف ہوا؟ اس سے بدتر اعلیٰ، ان پر کوئی زمان نہیں۔ تیسری صورت بھئی، کہ مثلاً مہرِ مثل بنتا تھا ایک لاکھ اور گواہوں نے کتنے کی گواہی دی بھئی؟ سوا لاکھ یا ڈیڑھ لاکھ کی بھئی، تو اس صورت میں، لا تو وہ عوض کے برابر ہوا اور باقی جو پچاس ہزار زاید ہے، یہ اس کا بِلا عوض کے تلف کروا دیا ان گواہوں نے، لہذا جب رجوع کریں گے تو ان پر کتنا زمان آ جائے گا؟ صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ پچاس ہزار، یہ وہ صورت ہے جس میں زمان آئے گا۔ اُس کا عکس کر لیں مولانا، دعویٰ کرنے والا مرد ہے، مرد دو گواہ لے آیا اور انہوں نے گواہی دے دی کہ اس شخص کا نکاح ہوا ہے اس عورت کے ساتھ بعد میں ان گواہوں نے رجوع کر لیا، تو نکاح مہر جو انہوں نے ذکر کیا یا مہرِ مثل کے برابر ہوگا، تو اس صورت میں تو بھئی کوئی تلف عورت کا نہیں، کچھ تلف نہیں، بھئی عوض مل گیا اسے۔ اور اگر مہرِ مثل سے زائد کا دعویٰ گواہوں نے گواہی دی، دعویٰ کس کی طرف سے؟ مرد کی طرف سے اور مہر کتنا ذکر کیا؟ زیادہ۔ تو گواہوں نے گواہی دی کہ اس عورت سے اس مرد نے نکاح کیا ہے اور مہر ہے ڈیڑھ لاکھ، جبکہ مہرِ مثل بنتا تھا ایک لاکھ، تو عورت کو کتنے زیادہ مل گئے؟ پچاس ہزار زیادہ مل گئے، تو عورت کا کوئی نقصان ہوا؟ نہیں، اسے تو الٹا فائدہ ہو گیا، نقصان تو نہیں ہوا۔ تیسری صورت کہ مہرِ مثل سے کم ذکر کیا، گواہوں نے گواہی دی کہ اس عورت کا نکاح ہوا ہے اس مرد کے ساتھ اور مہر ہے پچاس ہزار، جبکہ مہرِ مثل کتنا ہے؟ ایک لاکھ۔ تو عورت کا نقصان ہوا کہ نہیں ہوا؟ ہوا، پچاس ہزار کا نقصان ہوا، کیونکہ اس کا مہر تھا ایک لاکھ اور اس کو ملے کتنے؟ پچاس ہزار، تو نقصان ہوا تو اس صورت میں جب گواہ رجوع کریں گے تو ان پر ضمان آئے گا کتنے کا؟ پچاس ہزار کا۔ تو یہ صورتیں ہیں، صاحبِ کتاب اس کو تفصیل سے بیان کر رہے ہیں۔ وَلَا يَضْمَنُ الرَّاجِعُ فِي نِكَاحٍ بِمَهْرٍ مُسَمًّى اور زمان نہیں ہوگا رجوع کرنے والا فی نکاح نکاح کے مسئلے میں بِمَهْرٍ مُسَمًّى اس مہر کے عوض میں جو مہر مسمیٰ ہو، شَهِدَا عَلَيْهَا أَوْ عَلَيْهِ کہ جس پر کیا کیا تھا ان دو گواہوں نے؟ گواہی دی تھی عَلَيْهَا عورت کے خلاف چاہے دی ہو أَوْ عَلَيْهِ یا اس مرد کے خلاف یعنی دونوں طرف سے جس طرف سے بھی گواہ آ جائیں، لیکن جب وہ مہرِ مسمیٰ پر گواہی دیں اور بعد میں رجوع کر لیں تو دونوں میں سے کسی پر کوئی زمان نہیں۔ ایک صورت میں آئے گا إِلَّا مَا نَقَصَ عَنْ قِيمَةِ مَبِيعِهِ مگر وہ جو کم ہو مبیع کی قیمت سے۔ تو پھر اس صورت میں زمان آئے گا۔ دیکھیے! بیع کے مسئلے میں بھی اسی طرح ہے چھ صورتیں بنیں گی۔ مثلاً میں ہوں بائع، آپ ہیں مشتری بھئی۔ میں نے آپ کو ایک کتاب بیچی ہے یا میں نے آپ پر دعویٰ کر دیا، کتاب ہے آپ کی، مولانا! میں مشتری ہوں بھئی۔ میں کون ہوں؟ کتاب آپ کی ہے اور کتاب کی قیمت ہے 100 روپیہ۔ میں نے دعویٰ کر دیا کہ بھئی قاضی کے پاس کہ اس شخص نے یہ کتاب مجھے بیچی ہے اور کتنے میں بیچی ہے؟ برابر میں بھی دعویٰ ہو سکتا ہے، کم میں بھی ہو سکتا ہے اور زیادہ۔ میں نے گواہ پیش کر دیے، تو میں میرے گواہ ذکر کریں گے بھئی کہ ہمارے سامنے یہ بیع ہوئی تھی یا اس نے ہمارے سامنے یہ اقرار کیا تھا کہ اس کتاب اس نے بیچی ہے اور کتنے میں بیچی؟ یا تو کہیں گے 50 میں بیچی یا کہیں گے 100 میں بیچی یا 150 میں، یعنی دعویٰ کم کا ہوگا، برابر کا ہوگا یا زیادہ کا۔ یا اس کا عکس کریں، دعویٰ ہو رہا ہے بائع کی طرف سے بھئی۔ کتاب بھی آپ کی ہے اور آپ ہی نے مجھ پر دعویٰ کر دیا کہ اس شخص نے مجھ سے یہ کتاب خریدی ہے قاضی صاحب اور دو گवाہ بھی پیش کر اب وہ دعویٰ کتنے میں ہوگا مولانا؟ کتاب ہے 100 کی یا تو وہ گواہ گواہی دیں گے اور کتنے میں کہیں گے بھئی؟ یہ کتاب 50 کی بیچی یعنی قیمت سے کم بیچی، یا کتنے کی بیچی؟ 100 کی یعنی برابر میں بیچی یا کتنے میں بیچی؟ 150 زیادہ میں بیچی۔ تو یہاں بھی کل کتنی صورتیں ہوئیں بھئی؟ چھ صورتیں ہوئیں بھئی، چھ صورتیں۔ اچھا۔ تو کہتے ہیں بیع کے مسئلے میں بھی رجوع کرنے والے پر زمان نہیں آئے گا إِلَّا مَا نَقَصَ عَنْ قِيمَةِ مَبِيعِهِ مگر وہ جو کم ہو مبیع کی قیمت سے۔ یاد رکھو یہاں پر صرف وہ صورت ذکر کی جا رہی ہے۔ زمان دو صورتوں میں آتا ہے، لیکن متن میں ایک صورت ذکر ہوئی۔ یہ متن کی جو صورت ہے وہ بائع کے دعوے سے متعلق ہے۔ دیکھیے! ہم چھ صورتیں بناتے ہیں تفصیل سے۔ دعویٰ کرنے والا میں، میں ہوں مشتری۔ کتاب آپ کی ہے، اب میں نے دعویٰ کتنے میں کیا تھا؟ مثلاً 100 روپے کی کتاب ہے، میں نے دعویٰ بھی کتنے کا کیا ہے؟ 100 ہی میں مجھے بیچی ہے یہ کتاب، دو گواہ بھی پیش کر دیے، بعد میں ان گواہوں نے کیا کر لیا؟ رجوع کر لیا۔ اب آپ بتلائیے مولانا! آپ کو مجھے کتاب دینا پڑی اور میں نے آپ کو 100 روپیہ دیا، آپ کی کوئی چیز تلف ہوئی؟ نہیں! 100 کی کتاب تھی، آپ کو عوض بھی کتنا ملا؟ 100 اور تو اطلاق بَعِوَض کس کی طرح ہے؟ لَا اطلاق کی طرح ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو کوئی صورت میں زمان نہیں آئے گا۔ دوسری صورت، گواہوں نے زیادہ پر گواہی دے دی۔ کتاب آپ کی ہے 100 کی اور میرے گواہوں نے کتنے ذکر کر دیے؟ 150 ذکر کر دیے، آپ کو کتاب دینی پڑی، میں نے آپ کو 150 روپیہ دیا بھئی، آپ کی کوئی چیز تلف ہوئی؟ آپ کی کوئی چیز تلف نہیں ہوئی، بلکہ آپ کو 100 روپے کے کی بجائے کتنا مل گیا؟ 150 روپیہ مل گیا، تو آپ کی کوئی چیز تلف، لہذا اس صورت میں بھی اگر گواہ رجوع کر لیں تو ان پر کوئی زمان نہیں، کیونکہ انہوں نے آپ کی کوئی چیز تلف نہیں کی۔ تیسری صورت بھئی، اگر انہوں نے گواہی دی کہ کتاب کتنے کی بیچی تھی اس نے؟ 50، کم قیمت سے کم ذکر کر دی۔ اب کتاب تو ہے 100 کی اور انہوں نے گواہی دی تو آپ کو میں نے 50 دی اور آپ سے کتاب لے لی، بعد میں ان گواہوں نے رجوع کر لیا تو آپ کا کتنا تلف ہوا بھئی؟ 50 تلف ہوا، کیونکہ میں نے کتاب لی تو مجھے کتاب ملی 100 والی اور مجھے دینا کتنا پڑا؟ 50، تو میرے تو 50 روپے تلف ہوئے، کس کی وجہ سے تلف ہوئے؟ ان گواہوں کی وجہ سے۔ لہذا جب انہوں نے رجوع کر لیا، تو ان پر کتنا زمان آ جائے گا؟ وہ جو اقل ذکر کیا تھا جتنا، وہ کیا کر وہ زمان آ جائے گا کن پر؟ ان گواہوں پر آ جائے گا۔ مشتری پر نہیں بھئی! مشتری کے گواہوں پر آئے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ انہوں نے گواہی دی تھی، ان کی وجہ سے قاضی نے یہ فیصلہ کیا تھا۔ تو دیکھئے بھئی! سمجھ میں آیا؟ دعویٰ کرنے والا مشتری، تو یہ صورت متن میں ذکر ہے إِلَّا مَا نَقَصَ عَنْ قِيمَةِ مَبِيعِهِ مگر وہ جو مبیع کی قیمت سے کم ہو۔ وہ زمان آئے گا۔ اگر دعویٰ کرنے والا بائع ہو، مثلاً آپ نے مجھ پر دعویٰ کیا تھا، کتاب بھی آپ کی، دعویٰ بھی آپ نے کیا کہ یہ کتاب اس نے مجھ سے خرید لی ہے، کتنے میں خریدی ہے؟ زائد قیمت بتلاؤ بھئی! غلام ہے 2000 کا، آپ نے دعویٰ کتنے کا کیا؟ 3000 کا، گواہوں نے گواہی دے دی، میں نے آپ کو 3000 دے دیا اور آپ سے غلام لے لیا، بعد میں ان گواہوں نے رجوع کر لیا، تو میں نے آپ کا کتنا مال تلف کیا؟ آپ کو تو زیادہ مل گیا، آپ کا 2000 کا غلام گیا اور ملے اپ کو کتنے؟ 3000، تو گواہوں نے آپ کا کچھ تلف کیا؟ آپ کو تو زیادہ مل گیا، اس لیے اس پر کوئی زمان نہیں۔ یہ معنی ہے فَإِنْ كَانَ دَاعَمِنَ الْمُشْتَرِي فَلا زَمَانَة تو اس صورت میں کوئی زمان نہیں۔ وَمَا هَذِهِ الْمَسْأَلَةُ غَيْرُ مَذكُورَةٍ فِي الْمَتْنِ اور یہ مسئلہ متن کے اندر مذکور نہیں۔ بھئی یہ کیا بات ہوئی؟ میں نے بھی یہی تقریر کی۔ صاحبِ صدر الشریعہ جو کر رہے ہیں بھئی، صاحبِ صدر الشریعہ کہہ رہے ہیں کہ متن میں وہ صورت ذکر ہے جب دعویٰ کرنے والا مشتری ہو، وہ صورت متن میں ذکر نہیں جبکہ دعویٰ کرنے والا کون ہو؟ بائع۔ بھئی یہ آپ نے کہاں سے نئی بات شروع کر دی؟ متن میں کہاں ذکر ہے کہ دعویٰ کرنے والا مشتری ہو؟ متن میں کوئی ذکر ہے دعویٰ کرنے والا مشتری ہو؟ آپ نے اپنی طرف سے بڑھا دی، علامہ صدر الشریعہ بتلا رہے ہیں آپ کو کہ یہ بعد میں ویسے نہیں ذکر کر رہا، یہ بات عبارت سے مفہوم ہو رہی ہے، اس لیے کہ عبارت میں فِی بَيْعٍ کا لفظ آیا۔ کس کا لفظ کیا لفظ آیا؟ یعنی مشتری نے دعویٰ کیا ہے کس چیز کا؟ بیع کا بھئی، کس چیز کا؟ بیع کا۔ اور اگر دعویٰ کرنے والا کون ہوتا بائع؟ تو پھر فِی شِرَاءٍ ان کا لفظ ہونا چاہیے تھا متن میں۔ کیا لفظ ہونا چاہیے تھا؟ فِی شِرَاءٍ۔ سمجھ میں آئی بھئی صورت؟ یہی بات اب ذکر کریں گے تفصیل کے ساتھ دیکھئے! کہتے ہیں: وَهَذِهِ الْمَسْأَلَةُ غَيْرُ مَذْكُورَةٍ فِي الْمَتْنِ لِأَنَّ وَضْعَ الْمَسْأَلَةِ فِي الْمَتْنِ اس لیے کہ متن کے اندر جو مسئلہ، مسئلے کی جو وضع ہے، جو صورت بنائی گئی ہے، فِيمَا اس صورت میں جب دعویٰ مِنْ الْمُشْتَرِي جب دعویٰ کس کی طرف سے ہو؟ مشتری کی طرف سے ہو، فَإِنَّ عِبَارَةَ الْهِدَايَةِ هَكَذَا اس لیے کہ ہدایہ کی عبارت یوں ہے، یہ آگے دیکھئے ہدایہ کی عبارت ہے: وَإِنْ شَهِدَا بِبَيْعٍ اگر گواہی دی دو گवाہوں نے کس پر بھئی گواہی دی؟ بیع پر۔ دیکھا۔ ہدایہ میں بھی بِبَيْعٍ کا لفظ آیا ہے۔ وَإِنَّ هَذَا الْكَلَامَ إِنَّمَا يُقَالُ علامہ صدر الشریعہ فرما رہے ہیں کہ اس قسم کا کلام جو ہے اس وقت کہا جاتا ہے اِذَا دَعَا الْمُشْتَرِي جبکہ کیا کرے؟ مشتری دعویٰ کرے کہ ان الْبَايِعَ بَاعَ کہ بائع نے یہ چیز بیچی ہے، فَأَنْكَرَ الْبَايِعُ الْبَيْعَ پھر انکار کرتا ہے بائع بیع کا، فَشَهِدَ الشُّهُودُ عَلَى الْبَيْعِ تو پھر گواہ گواہی دیتے ہیں کس پر بھئی؟ بیع پر۔ وَإِنْ كَانَ دَاعَمِنَ الْبَائِعِ اور اگر دعویٰ بائع کی طرف سے ہو، فَالْبَايِعُ يَدَّعِي تو بائع یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ان الْمُشْتَرِيَ اشْتَرَى مِنِّي هَذَا الْعَبْدَ بِكَذَا کہ مشتری نے یہ غلام مجھ سے اتنے کے بدلے خریدا ہے، وَعَلَيْهِ الثَّمَنُ اور اس پر کیا ہیں واجب ہیں؟ اس پر ثمن لازم ہیں، فَدَّنْكَرَ الْمُشْتَرِي شِرَاءَهُ فَشَهِدَ الشُّهُودُ پھر گواہی کیا کرتے ہیں؟ گواہی دیتے ہیں کہ انَّهُ اشْتَرَى الْعَبْدَ بِكَذَا کہ اس نے اتنے کا یہ غلام خریدنے کے بدلے خریدا ہے، وَعَلَيْهِ الثَّمَنُ اور اس پر یہ ثمن ہیں۔ فَلْعِبَا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ ہدایہ میں کیا عبارت آئی تھی؟ وَإِنْ شَهِدَا بِبَيْعٍ اور یہ بھی بِبَيْعٍ کا لفظ اس صورت میں استعمال ہوتا ہے جبکہ دعویٰ کرنے والا کون ہو؟ مشتری ہو۔ اور اگر دعویٰ کرنے والا کون ہو؟ بائع تو پھر اس صورت میں صحیح عبارت یوں ہے ان يُقَالَ کہ یوں کہا جائے شَهِدَا عَلَى الشِّرَاءِ دو گواہوں نے گواہی دی کس پر؟ شرا پر۔ یوں ہونی چاہیے پھر صحیح عبارت۔ فَعُلِمَ پس جہاں یہ پتہ چل گیا، یہ جان لیا گیا کہ ان صورتِ مسئلۃ الهدایۃ فِي دَعْوَى الْمُشْتَرِي کہ ہدایت کے اندر جو صورتِ مسئلہ ہے وہ کس کی ہے؟ جب مشتری دعویٰ کرے، سمجھ میں آیا؟ وَهَذَا دَقِيقٌ تَفَرَّدَ بِهِ خَاطِرِي یہاں سے علامہ صدر الشریعہ بتا رہے ہیں بھئی، کہ یہ نکتہ آپ کو ہر جگہ نہیں ملے گا مولانا، کتابوں میں یہ نکتہ نہیں ملتا، یہ نکتہ اللہ میں اللہ تعالی نے میرے دل میں ڈالا بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو کہتے ہیں وَهَذَا دَقِيقٌ یہ بڑی باریک بات ہے، تَفَرَّدَ بِهِ خَاطِرِي خاطر دل کو کہتے ہیں، خاطري میرا دل۔ تَفَرَّدَ بِهِ خَاطِرِي اکیلا ہوا اس کے ساتھ میرا دل، یعنی میرے ہی دل میں یہ بات آئی ہے، کسی اور نے یہ بات ذکر نہیں کی، عجیب نکتہ، کتنا عجیب اور پیارا نکتہ انہوں نے ذکر کیا کہ یہ صورت صرف شرا کے دعویٰ کرنے والا جب مشتری ہو، صرف وہ صورتیں ذکر ہیں متن میں، وہ بائع کے دعوے والی صورتیں نہیں ذکر، اور فرق کس سے پتہ چلا کہ متن میں کیا لفظ آیا؟ فِی بَيْعٍ کا لفظ آیا، اور اگر دعویٰ کرنے والا بائع ہو تو پھر کیا ہونا چاہیے تھا؟ عَلَى شِرَاءٍ ہونا چاہیے تھا۔ چلیے مولانا! ہذا هو المرام، والله اعلم بحقیقتہ الکلام۔
108 approved lectures · 81 of 108