وَمَا اسْتُحِقَّ مِنَ الْمُدَّعَا رَدَّ الْمُدَّعِي حِصَّتَهُ مِنَ الْعِوَضِ وَرَجَعَ بِالْقُصُومَةِ فِيهِ أَيُخَاصِمُ الْمُسْتَحِقَّ فِيمَا اسْتَحَقَّهُ.
کتاب الصلح ہم نے شروع کی تھی، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ صلح تین قسم پر ہے: صلح یا اقرار کے ساتھ ہوگی، یا انکار کے ساتھ ہوگی، یا سکوت کے ساتھ ہوگی۔ اور آپ نے یہ بھی پڑھا کہ صلح مع اقرار جو ہے، وہ یا تو بیع کے حکم میں ہوگی یا اجارے کے حکم کے اندر ہوگی۔
جبکہ صلح مع انکار یا صلح مع سکوت جو ہے، وہ مدعی کی طرف دیکھتے ہوئے اس کا اور حکم ہے، اور مدعا علیہ کی طرف دیکھتے ہوئے، مدعی کی طرف دیکھتے ہوئے وہ گویا کہ معاوضہ لے رہا ہے، اور مدعا علیہ کی طرف دیکھتے ہوئے گویا کہ وہ اپنی قسم کا فدیہ دے رہا ہے اور جھگڑے کو ختم کرنے کے لیے جھگڑے کو ختم کر رہا ہے۔
تو کہتے ہیں: وَمَا اسْتُحِقَّ... صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی: ایک آدمی نے میرے اوپر گھر کا دعویٰ کر دیا کہ آپ کا فلاں گھر میرا ہے۔ میں نے نہ... میں نے یا تو انکار کیا یا سکوت کیا یعنی اقرار نہیں کیا، باقی دو صلحوں والی صورت بنائیں۔
یا تو میں نے انکار کر دیا کہ یہ قطعا یہ گھر آپ کا نہیں ہے، البتہ یہ آپ پچاس لاکھ روپے لے لیں اور اپنے دعوے سے دستبردار ہو جائیں۔ اس نے قبول کر لیا، تو یہ صلح مع انکار ہے۔ یا سکوت کیا میں نے بھئی، نہ اس کے دعوے کا اقرار کیا نہ انکار کیا، بس ویسے ہی اس کو پیسے دیے کہ لو بھئی یہ پیسے لے لو اور اپنے دعوے کو کیا کر دو؟ چھوڑ دو بھئی۔
اچھا بھئی، اس نے لے لیا بھئی۔ تو اب کچھ عرصے کے بعد بھئی... کچھ عرصے کے بعد اس گھر پر جس میں میں نے صلح کی تھی، اس کا کوئی مستحق نکل آیا۔ اب وہ جتنے حصے کا مستحق نکلے گا، اتنا حصہ بدل کا میں مدعی سے واپس لے لوں گا۔
کیا کروں گا؟ بھئی میں نے تو اس گھر کے دعوے پر کتنے پیسے دیے تھے دوسرے کو؟ پچاس لاکھ کس لیے دیے تھے؟ جی؟ کہ یہ گھر کا جھگڑا ختم ہو جائے یا اپنے دعوے کو چھوڑ دو۔ اب وہ گھر تو کسی اور کا نکل آیا، تو لہٰذا اب جتنا گھر، اگر نصف نکلا ہے، تو جو نصف سے بدل دیا تھا، وہ مدعی مجھے واپس کر دے گا اور اگر کل گھر کسی اور کا نکل آیا، تو کل عوض کیا کر دے، کل بدل مجھے واپس کر دے گا اور پھر خصومت کرے گا مدعی بھئی!
مدعی نے جو پچاس لاکھ لیے تھے، مثلاً نصف گھر کا مستحق کوئی اور نکل آیا، تو پچاس لاکھ وہ مجھے واپس کر دے گا، اور اب وہ جو پچاس لاکھ اس نے مجھے واپس لیے تھے اس نے، یہ پچاس لاکھ لے کر اس نے کیا چیز چھوڑی تھی؟ نصف گھر کا... بھئی... یعنی پچاس لاکھ لے کر پورے گھر کا دعویٰ چھوڑا تھا، تو اب چونکہ اس نے نصف رقم واپس کر دی ہے، تو نصف میں پھر وہ دعویٰ کرے گا، لیکن اب کس کے ساتھ دعویٰ کرے گا؟ اس مستحق کے ساتھ۔ کس کے ساتھ؟ اب اس کے ساتھ خصومت شروع کر دے۔
صورت سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں: وَمَا اسْتُحِقَّ مِنَ الْمُدَّعَا، مدعا میں سے جتنے کا استحقاق نکل آئے، وہ گھر یعنی مدعا جس کا دعویٰ کیا گیا تھا، اس میں سے کسی دوسرے کا جتنا حق نکل آئے، تو رَدَّ الْمُدَّعِي حِصَّتَهُ مِنَ الْعِوَضِ، تو مدعی واپس کر دے گا اس کا حصہ عوض میں سے، وَرَجَعَ بِالْقُصُومَةِ فِيهِ، اور رجوع کرے گا اس میں خصومت کے ساتھ، أَيُخَاصِمُ الْمُسْتَحِقَّ فِيمَا اسْتَحَقَّهُ، یعنی کس کے ساتھ خصومت کرے گا؟ مستحق کے ساتھ۔ بھئی پیسے لے کر اس نے دعویٰ چھوڑا تھا، اب پیسے واپس کرنے پڑے، تو پھر اب کیا کر دے گا؟ دعویٰ کرے گا اور خصومت کرے گا، لیکن اب کس کے ساتھ کرے گا؟ مستحق کے ساتھ، فِيمَا اس حصے کے اندر اسْتَحَقَّهُ، جس کا وہ مستحق نکلا ہے۔
وَمَا اسْتُحِقَّ مِنَ الْبَدَلِ رَجَعَ إِلَى الدَّعْوَى فِي كُلِّهِ أَوْ بَاعِهِ. دوسری صورت بھئی، یہ تو کیا صورت تھی؟ کس کے اندر مستحق نکل آیا؟ مدعا کے اندر۔ اگر بدل کے اندر کوئی مستحق نکل آیا، بھئی ایک آدمی نے میرے گھر پر دعویٰ کیا کہ یہ گھر میرا ہے، میں نے عوض کے طور پر اس کو دو گاڑیاں دے دیں بھئی، کہ یہ دو گاڑیاں لے لو اور اپنے دعوے کو چھوڑ دو۔ اب ان دو گاڑیوں میں سے یا تو دونوں کا کوئی اور مستحق نکل آتا ہے، یا ایک کا کوئی اور مستحق... تو جتنے... تو یہ بدلِ صلح ہے، تو بدلِ صلح کے اندر بھی جتنے حصے کا کوئی مستحق نکل آئے، اتنے ہی کے دعوے میں وہ پھر رجوع کر لے... کر لے گا۔
یہ دو گاڑیاں لے کر اس نے پورے گھر کا دعویٰ چھوڑا تھا، تو اب دونوں گاڑیاں کیا ہیں؟ کسی اور کی نکل آئیں، تو وہ پھر کیا کر دے گا؟ پورے گھر کا دوبارہ دعویٰ کر دے گا، اور اگر نصف کا کوئی اور مستحق نکل آیا، تو نصف گھر میں کیا کر دے گا؟ دوبارہ دعویٰ کر دے گا۔ یہ معنی ہے۔
وَمَا اسْتُحِقَّ مِنَ الْبَدَلِ اور وہ جو استحقاق نکل آیا بدل میں سے، رَجَعَ إِلَى الدَّعْوَى تو رجوع کرے گا دعویٰ کی طرف بھئی، فِي كُلِّهِ أَوْ بَاعِهِ، سارے کے اندر دعویٰ میں رجوع کرے گا یا بعض میں۔ بھئی، کس صورت میں سارے کے اندر رجوع کرے گا اور کس صورت میں بعض کے اندر رجوع کرے گا، تفصیل علامہ صدر الشریعہ بتنانے لگے ہیں۔
کہتے ہیں: أَيِنْ اسْتَحَقَّ بَعْضُ الْبَدَلِ اگر استحقاق نکل آیا بعض بدل کا، مِيَّدِ الْمُدَّعِي کس میں سے؟ مدعی کے قبضے۔ مدعی نے تو دو گاڑیاں لے لی تھیں، اس کے قبضے میں تھیں، اس میں سے بعض کا کوئی مستحق نکل آیا، تو رَجَعَ إِلَى دَعْوَى حِصَّةِ مَا اسْتُحِقَّ مِنَ الْمُصَالَحِ عَنْهُ تو دعویٰ کرے گا اس حصے کا جس کا استحقاق نکل آیا ہے مصالح عنہ (یعنی بدل میں... کس میں سے؟) مُصَالَحِ عَنْهُ وہ کیا ہے بھئی؟ جی؟ وہ گھر بھئی، اس کے... جتنے میں سے، جتنے... ہاں رجوع کرے گا إِلَى الدَّعْوَى مِنَ الْمُصَالَحِ عَنْهُ یہ رجوع سے متعلق ہے مولانا، سمجھ میں آیا؟ استحقاق سے متعلق نہیں کریں بھئی، ورنہ ترجمہ خراب ہوتا ہے۔ جتنے کا مستحق نکل آیا کس میں سے؟ مصالح عنہ میں سے، بھئی مصالح عنہ میں سے مستحق نکلا ہے یا مصالح علیہ میں مستحق نکلا ہے؟ مصالح علیہ میں مستحق نکلا ہے، اس لیے من المصالح علیہ کو استحقاق سے متعلق نہ کرو بلکہ کس سے متعلق کرو؟ رجوع سے، کس سے؟ تو رجوع کرے گا إِلَى الدَّعْوَى کس کی طرف؟ دعوے کی طرف، کس میں سے؟ اس حصے میں سے جس کا مستحق نکل آیا ہے، مِنَ الْمُصَالَحِ عَنْهُ میں سے، جتنے حصے کا کوئی مستحق نکلا ہے، مصالح عنہ میں اتنے حصے پر وہ دوبارہ کیا کر دے گا؟ دعویٰ کر دے گا۔
صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہ رجوع کا ذکر ہو رہا ہے, رجوع کرے گا اتنے کے دعویٰ میں بھئی۔ فرق بھی سمجھ میں آئے یا ویسے سارےلا رہے ہیں؟ نہیں سمجھ میں آیا؟ دیکھو من، اگر اس کو استحقاق سے متعلق کریں، تو ترجمہ کیا ہوا؟ کہ جتنے کا مستحق نکلا ہے کس میں سے؟ مصالح عنہ میں سے، یہ ترجمہ ہوا۔ حالانکہ مستحق مصالح عنہ میں نکلا ہے یا مصالح علیہ میں نکلا ہے؟ تو لہٰذا معلوم ہوا یہ من المصالح علیہ یہ مستحقہ سے متعلق نہیں، پھر کس سے متعلق ہے؟ یہ رجوع سے متعلق ہے۔ رجوع کرے گا دعوے میں، کس پر دعویٰ تھا؟ مصالح عنہ میں، اتنے اس میں اسے اسی قدر حصے میں رجوع کر لے گا۔
وَإِنْ اسْتَحَقَّ كُلُّهُ رَجَعَ إِلَى دَعْوَى الْكُلِّ اگر سارے گھر کا کوئی مست... سارے بدل کا کوئی مستحق نکل آیا تو رجوع کرے گا کل کے دعویٰ کی طرف، یعنی سارے میں۔ وَفِي الصُّلْحِ مَعَ الْإِقْرَارِ بھئی، اب فرق سمجھا رہے ہیں۔ صلح مع اقرار تھی، اس میں کیا حکم تھا؟ اور یہ صلح مع انکار یا صلح مع سکوت ہے، اس میں کیا حکم فرق کیا ہے؟ کہتے ہیں: بھئی، یہاں پر رجوع دعوے میں ہوگا، اور وہاں پر رجوع اس گھر میں ہی رجوع ہوتا تھا بھئی۔ صلح مع اقرار میں کیا صورت تھی؟ ایک آدمی نے میرے اوپر گھر کا دعویٰ کیا، کہ یہ گھر میرا ہے، میں نے اقرار کر لیا کہ ہاں یہ گھر آپ کا ہے، لیکن آپ کتنے پیسے مجھ سے لے لیں؟ پچاس لاکھ تو یہ میں نے اس کو بدل دے دیا، تو گھر ہوا مبدل، اور یہ رقم کیا ہوئی بدل؟ اس بدل کا کوئی، مطلب رقم نہیں دی، بلکہ کیا دیا؟ گاڑی دی بھئی، تاکہ اس کو کوئی مستحق بھی نکلے بھئی۔ تو گاڑی دی مولانا، اس کا کوئی اور مستحق نکل آیا، تو اگر سارے کا مستحق نکل آیا، تو وہ پھر رجوع کرے گا سارے گھر کی طرف، سارا گھر مجھ سے لے لے گا۔ اور اگر نصف کا بدل کا کوئی مستحق نکل آیا، تو وہ کتنے میں رجوع کر لے گا؟ نصف گھر کو اور وہ نصف مجھ سے لے لے گا، کیونکہ گھر اس کا عوض ہے بھئی، گھر کیا ہے؟ اور وہ گاڑیاں گھر کا عوض ہیں، سمجھ میں آیا؟ تو ایک عوض ہے، ایک معوض ہے، ایک بدل ہے، ایک مبدل ہے، تو بدل میں کوئی مستحق نکل آیا، تو کس کی طرف رجوع کر لے گا؟ مبدل کی طرف، اور کتنے میں رجوع کرے گا؟ جتنے کا کوئی سارے بدل کا کوئی مستحق نکلا تو سارے مبدل کو لے لے گا۔ بعض بدل کا کوئی مستحق نکلا تو بعض مبدل کو لے لے گا۔ تو وہاں رجوع ہوتا تھا مبدل میں، اور یہاں پر صلح مع انکار یا صلح مع سکوت کے اندر مبدل میں رجوع نہیں ہوگا، بلکہ دعوے مبدل میں رجوع ہوگا۔ یہاں صرف دوبارہ کیا کر دے گا؟ دعویٰ کر دے گا، کیونکہ وہ بدل لے کر اس نے کیا چیز چھوڑی تھی؟ گھر چھوڑا تھا یا بدل... وہ دعویٰ چھوڑا تھا؟ دعویٰ، بھئی گھر کا اقرار تو میں نے نہیں کیا تھا کہ یہ گھر تمہارا ہے، تو گھر نہیں چھڑوایا میں نے اس سے، صرف کیا چھڑوایا ہے؟ دعویٰ چھڑوایا ہے، تو یہاں رجوع بھی دوبارہ کس میں ہوگا؟ دعوے میں ہوگا۔ فرق سمجھ میں آیا؟ تو یہی بات ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: وَفِي الصُّلْحِ مَعَ الْإِقْرَارِ اور صلح مع اقرار کے اندر إِذَا اسْتَحَقَّ الْبَدَلُ جب استحقاق نکل آئے بدل کا، رَجَعَ إِلَى الْمُبْدَلِ تو وہ رجوع کس کی طرف کرے گا؟ دعویٰ کی طرف رجوع نہیں کرے گا، بلکہ کس کی طرف رجوع کرے گا؟ مبدل کی طرف کرے گا اور وہ مبدل واپس لے لے گا مجھ سے لِوُجُودِ إِقْرَارِ الْمُدَّعُ عَلَيْهِ کیونکہ مدعا علیہ کا وہاں اقرار پایا جا رہا ہے, وہ خود کہہ چکا تھا کہاں تھا اس نے کہ یہ آپ کا گھر ہے، وَفِى السُّكُوتِ وَالْإِنْكَارِ اور سکوت اور انکار کی صورت میں رَجَعَ إِلَى دَعْوَى الْمُبْدَلِ کس کی طرف رجوع کرے گا؟ مبدل کے دعوے کی طرف یعنی دعویٰ دوبارہ کر دے گا, یہ نہیں کہ آ کر گھر لے لے گا گھر میں نے کب اقرار کیا تھا کہ آپ کا ہے بھئی؟ تو دوبارہ دعویٰ کر دے گا۔
وَلَوْ صَالَحَ عَلَى بَاعِ دَارٍ يَدَّعِيهَا لَمْ يَصِحَّا وَحِيلَتُهُ أَنْ يَزِيدَ فِي الْبَدَلِ شَيْئًا أَوْ يُبْرِئُ الْمُدَّعِي عَنْ دَعْوَى الْبَاقِي صورتِ مسئلہ یہ ہے، صورت، زید نے میرے اوپر دعویٰ کر دیا کہ یہ گھر میرا ہے، میں نے اس کو کہا چلو بھئی، اس گھر میں سے اتنا حصہ فلاں فلاں کمرے بھئی آپ لے لیں، جو مشرقی کنارہ ہے اتنا حصہ کیا کریں؟ آپ لے لیں، اور اس پر صلح کر لی اس کے ساتھ بھئی، کیا کر لی؟ صلح تو اس کا دعویٰ کس کا تھا؟ کل گھر کا، اور عوض میں میں وہی گھر دے رہا ہوں، لیکن کل دے رہا ہوں یا بعض دے رہا ہوں؟ بعض دے رہا ہوں، کہتے ہیں یہ صلح صحیح نہیں۔ اس لیے، کہ اس کا دعویٰ تھا کل گھر کا، اور عوض میں میں وہی گھر دے رہا ہوں، لیکن کل نہیں بلکہ بعض، اور بعض کل کا عوض نہیں ہو سکتا۔
بھئی پھر کیسے اس صورت کی جائے، کیسے صحیح کیا جائے اس کو؟ کہتے ہیں بھئی ساتھ کچھ اور چیز بھی ملا دے۔ مثلاً اس نے گھر کا دعویٰ، زمین کا دعویٰ کیا، دس کنال زمین جو ہے آپ کے پاس یہ میری ہے، میں کہتا ہوں بھئی چلو! اس میں سے یہ دو کنال فلاں کنارے والے آپ لے لیں اور اپنے دعوے کو چھوڑ دیں، تو کہتے ہیں یہ صلح صحیح نہیں کیونکہ کل، کیونکہ بعض عوض نہیں بن سکتا کس کا؟ کل کا۔ پھر کیا کیا جائے؟ کہتے ہیں بھئی ساتھ تھوڑے سے پیسے بھی ملا دو، ایک درہم بھی ساتھ ملا دو، کیا کر دو؟ ایک درہم بھی ساتھ ملا دو، تو یہ جو ایک درہم ہے یہ باقی کا عوض ہو جائے گا۔ کیا ہو جائے گا؟ عوض ہو جائے گا، اب مسئلہ ٹھیک بن گیا بھئی، کہ گویا اس نے دعویٰ کیا تھا کل گھر کا، اور کل گھر میں وہ تین کنال بھی شامل تھے، تو اس پر بھی اس کا دعویٰ تھا، تو اس میں ہم نے دعویٰ من- قبول کر لیا اور وہ اس کو دے دیا، تو گویا وہ تھا ہی اس کا حق، اس نے اپنا حق لے لیا، اور باقی گھر کو جو اس نے چھوڑا ہے، اس کا عوض کیا لے لیا؟ ایک درہم ساتھ لے لیا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
یا باقی گھر سے اس کو بری کر دے کہ باقی گھر کے دعوے کو، دعوے سے بری کر دے، کہ میں باقی گھر کا دعویٰ چھوڑتا ہوں، یوں کہہ دے بھئی، کیا کہہ دے؟ میں باقی گھر کا دعویٰ چھوڑتا ہوں، یوں نہ کہے کہ پورے گھر کے عوض میں میں یہ تین کنال لے رہا ہوں، بلکہ کیا کہے؟ کہ یہ تو تھائی میرا حق، یہ تو میں نے وصول کر لیے، اور باقی گھر کا دعویٰ میں چھوڑتا ہوں۔ فرق سمجھ میں آیا؟
وَلَوْ صَالَحَ عَلَى بَاعِ دَارٍ يَدَّعِيهَا اگر صلح کر لی کسی نے عَلَى بَاعِ دَارٍ اس گھر کے ایسے گھر کے بعض پر يَدَّعِيهَا جس کا وہ کیا کر رہا تھا؟ دعویٰ کر رہا تھا، لَمْ يَصِحَّا تو یہ صلح صحیح نہیں۔ وَحِيلَتُهُ اور اس کا حیلہ یہ ہے أَنْ يَزِيدَ فِي الْبَدَلِ شَيْئًا کہ بدل میں کوئی چیز بڑھا دے، میں نے بتلایا مثلاً کیا بڑھا دے؟ ایک درہم بڑھا دے، أَوْ يُبْرِئُ الْمُدَّعِي عَنْ دَعْوَى الْبَاقِي یا بری کر دے مدعی... اندا والبا قی... باقی کے دعوے سے، باقی کا دعویٰ چھوڑ دے، باقی کے دعوے سے دستبردار ہو جائے, وہ معاف کر دے۔ إِنَّمَا لَمْ يَصِحَّا کیا کہتے ہیں بھئی؟ یہ صحیح نہیں ہے، صحیح نہیں بھئی۔ لِأَنَّ بَاعِ دَارٍ لَا يَصْلُحُ عِوَضًا عَنِ الْكُلِّ بھئی یہ صلح کیوں نہیں صحیح؟ بعضِ دار پر جو صلح کی جس پر کا وہ دعویٰ کر رہا تھا، کہتے ہیں إِنَّمَا لَمْ يَصِحَّا یہ درست نہیں ہے لِأَنَّ بَاعِ دَارٍ لَا يَصْلُحُ عِوَضًا عَنِ الْكُلِّ اس لیے کہ بعضِ دار وہ صلاحیت نہیں رکھتا کہ وہ عوض بن جائے کل دار کا، فَإِذَا زَادَ فِي الْبَدَلِ شَيْئًا بس جب وہ بڑھا دیتا ہے بدل کے اندر کوئی چیز كَدِرْهَمٍ أَوْ ثَوْبٍ جیسے کیا بڑھا دیتا ہے؟ ایک درہم یا کچھ کپڑا، يَكُونُ ذَلِكَ الشَّيْءُ عِوَضًا عَمَّا بَقِيَ فِي يَدِ الْمُدَّعَيْ عَلَيْهِ تو یہ چیز جو ہے یعنی یہ درہم یا کپڑا یہ عوض بن جائے گا اس چیز کا، اس زمین کا جو باقی ہے کس کے قبضے میں؟ مدعا علیہ کے قبضے میں، وَإِنْ أَبْرَأَهُ الْمُدَّعِي عَنْ دَعْوَى الْبَاقِي يَصِحُّ أَيْضًا اور اگر بری کر دے مدعی کس چیز سے بھئی؟ باقی گھر کے دعوے سے مدعا علیہ کو بری کر دے يَصِحُّ أَيْضًا تو اس صورت میں بھی یہ صلح صحیح ہے لِأَنَّ، بھْئی یہ کیسے صحیح ہے بھئی؟ اس پر اشکال ہوتا ہے، ضابطہ یاد رہے مولانا، آگے ذکر بھی ہو رہا ہے بھئی۔ نچلی سطر میں ہی دیکھ لیں۔ الْبَرَاءَةُ عَنِ الْأَعْيَانِ... لَمْ يَكُنْ، لَمْ يَكُنِ الْبَرَاءَةُ عَنِ الْأَعْيَانِ صَحِيحَةً بھئی، براءت عن الاعیان صحیح نہیں۔ اعیان سے براءت صحیح اعیان کو چھوڑ دینا، معاف کر دینا یہ درست نہیں۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ عین کو تو چھوڑ دینا، معاف کر دینا صحیح ہے، لیکن اعیان کو چھوڑ دینا، اس سے براءت کرنا یہ درست نہیں بھئی۔
تو بھئی یہاں پر بھی تو عین سے براءت آ رہی ہے، اس نے کیا کیا؟ دوسری صورت کیا بتلائی صلح کے صحیح ہونے کی؟ کہ بعض دار تو لے لیا باقی کا دعویٰ چھوڑ دے، تو یہ تو کیا ہوئی؟ براءت عن الاعیان ہوئی، اور براءت عن الاعیان تو صحیح ایک متعین چیز کو چھوڑ رہا ہے، یہ تو چھوڑنا صحیح نہیں۔ کہتے हैं نہیں بھئی، متعین چیز کو نہیں چھوڑ رہا، اس کے دعوے کو چھوڑ رہا ہے۔ کیا کر رہا ہے؟ اس نے کوئی اقرار کیا ہے کہ یہ گھر آپ کا تھا؟ میں نے کوئی اقرار کیا بھئی؟ نہیں بھئی، تو یہاں صرف دعویٰ ہے اس کا، میں تو انکار کر رہا ہوں یا سکوت ہے، تو یہاں براءت عن الاعیان نہیں ہے، بلکہ براءت عن دعوى الاعیان ہے، اور یہ صحیح ہے بھئی۔
کہتے ہیں لِأَنَّ هَذِهِ بَرَاءَةٌ عَنْ دَعْوَى الْأَعْيَانِ اسی لیے کہ براءت ہے اعیان کے دعوے سے وَهِيَ صَحِيحَةٌ اور یہ براءت عن دعوى الاعیان صحیح ہے وَإِنْ لَمْ يَكُنِ الْبَرَاءَةُ عَنِ الْأَعْيَانِ صَحِيحَةً اگرچہ براءت عن الاعیان صحیح نہیں، لیکن دعویٰ براء... لیکن براءت عن دعوالاعیان کیا ہے؟ صحیح ہے۔ وَالْفَرْقُ بَيْنَهُمَا يَظْهَرُ اور ہم دونوں میں فرق ظاہر ہوگا اس صورت کے اندر إِذَا كَانَ الدَّارُ فِي يَدِ الْمُدَّعَيْ عَلَيْهِ جبکہ گھر کس کے قبضے میں ہو؟ مدعا علیہ کے۔ بھئی اس نے گھر کا دعویٰ کیا تھا اور گھر تھا بھی میرے قبضے کے اندر، اس صورت میں بھئی، فَيُبْرِئُ الْمُدَّعِي عَنْ دَعْوَاهَا تو اب مدعی بری کر دیتا ہے مجھے اپنے دعوے سے، يَصِحُّ تو یہ اس کا مجھے اپنے دعوے سے بری کرنا صحیح ہے۔ وَإِنْ لَمْ يَكْنَ فِي يَدِ الْمُدَّعِ عَلَيْهِ اور اگر وہ گھر مدعا علیہ کے قبضے میں نہ تھا، یعنی میرے قبضے میں نہیں تھا، فَلَا تو پھر اب اس کا مجھے بری کرنا صحیح نہیں۔ فَلَا جیسے صورت بتلا رہے ہیں، كَمَا إِذَا مَاتَ وَاحِدٌ جیسے کہ ایک شخص کوئی مر گیا، وَتَرَكَ مِيرَاثًا اور اس نے کوئی چیز بطور میراث کے چھوڑی، فَبَرِئَ وَاحِدٌ عَنْ نَصِيبِهِ لَا يَصِحُّ بھئی، تو بری ہو گیا کوئی ایک بھئی اپنے حصے سے، یہ صحیح نہیں۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی، زید مر گیا، زید کی اولاد میں ہے بھئی، اب وہ اس کے مال کی چیزیں، سامان وغیرہ ہے، اب وہ ان سے بری ہوا، ان نہیں، وہ ان کو بطور میراث کے ملا۔ اولاد کو کیا مل گیا؟ میراث۔ اس کے مثلاً چار بیٹے ہیں صرف، اور ان چاروں کو اس کا مال ملا بطور ترکہ کے، بھئی، اب ان چار میں سے ایک کے ساتھ یہ صلح کرنا چاہتے ہیں، یا ان چار میں سے ایک کیا کرتا ہے؟ اپنے حصے کو چھوڑ دیتا ہے، کیا کرتا ہے؟ صلح کی بات نہ کریں، چھوڑ دیتا ہے، براءت بھئی۔
تو یہ براءت عن الاعیان ہوئی یہ درست نہیں
كَمَا إِذَا مَاتَ وَاحِدٌ جیسے کہ کوئی ایک مر جائے وَتَرَكَ مِيرَاثًا بھئی اور اس نے کیا کیا؟
كَمَا اِذَا... جِی، اگر دیکھو چیز مدعا علیہ کے قبضے میں نہ ہو تو اس صورت میں براءہ بھئی صحیح نہیں ہے، کَمَا اِذَا مَاتَ وَاحِدٌ جیسے کہ کوئی ایک شخص مر گیا وَتَرَكَ مِيرَاثًا اور اس نے میراث چھوڑی فَبَرِئَ وَاحِدٌ عَنْ نَصِیْبِہِ لَا يَصِحُّ تو بری ہو گیا ان میں سے، ورثا میں سے، ورثا میں سے ایک بری ہوا، عَن نَصِیْبِہِ کس سے؟ اپنے... اس نے کہا بھئی میں اپنا حصہ چھوڑتا ہوں، آپ لوگ تقسیم کر لیں وراثت اپنے درمیان میں، میں کیا کرتا ہوں اپنا حصہ... لَا يَصِحُّ یہ صحیح نہیں ہے لِانَّ ھٰذِہِ بَرَاءَۃٌ عَنْ اِلْاَعْیَانِ اس لیے کہ یہ براءت ہے کس سے؟ اعیان سے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جی! تو متعین چیزیں ہیں اور ان سے براءت کر رہا ہے یہ درست نہیں بھئی۔
وَصَحَّ الصُّلْحُ عَنْ دَعْوَى الْمَالِ وَالْمَنْفَعَةِ صلح صحیح ہے مولانا مال کے دعویٰ سے بھی اور منفعت کے دعویٰ سے بھی۔
بھئی مال کا دعویٰ تو ابھی جیسے بات ہوئی، ایک شخص نے کیا کہا؟ کہ یہ گھر میرا ہے، میں نے اس کو کیا دیے؟ پیسے دے کر صلح کر لی، تو یہ صلح ہوئی بھئی کس سے؟ مال کے دعویٰ سے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟
اور من- منفعت کے، یعنی نفع کے دعویٰ پر بھی صلح صحیح ہے، بھئی نفع کے دعویٰ کی کیا صورت ہے؟ خود بتلائیں گے آپ کو بھئی، کہ مثلاً ایک شخص نے دعویٰ کر دیا زَید پر کہ بھئی آپ کے والد صاحب جن کا انتقال ہوا ہے، انہوں نے وصیت کی تھی کہ میرا یہ جو فلاں غلام ہے وہ آپ کی خدمت کرے گا آئندہ، تو انہوں نے غلام کی خدمت کی وصیت کی تھی میرے لیے بھئی، ایک شخص دعویٰ کر دیتا ہے، تو کہتے ہیں وہ زید اب اس سے صلح کرتا ہے کہ چلو بھئی کیا کرو؟ کچھ مال لے لو اور اپنے اس دعوے کو چھوڑ دو، تو یہ صلح صحیح ہے اور یہ صلح کس کے اوپر ہوئی ہے مولانا؟ منافع پر کہ اس نے دعویٰ کس کا کیا تھا؟ غلام کا نہیں کیا تھا کہ غلام میرا ہے، بلکہ صرف اس کے نفع کا دعویٰ کیا تھا بھئی۔
یہ معنی ہے: وَصَحَّ الصُّلْحُ عَنْ دَعْوَى الْمَالِ وَالْمَنْفَعَةِ اور صلح صحیح ہے مال کے دعویٰ سے بھی اور نفع کے دعویٰ سے بھی، قِيْلَ صُوْرَةُ الصُّلْحِ عَنْ دَعْوَى الْمَنْفَعَةِ کہا گیا ہے کہ دعویٰ نفع سے صلح کی صورت یہ ہے کہ أَنْ يَّدَّعِيَ عَلَى الْوَرَثَةِ کہ دعویٰ کرے کوئی شخص ورثا پر کہ ان الميت كان أوصى بخدمة هذا العبد کہ میت نے وصیت کی تھی اس غلام کی خدمت کی أَنَّ الْمَيِّتَ كَانَ أَوْصَى بِخِدْمَةِ هَذَا الْعَبْدِ کہ اس نے میری خدمت کیا کرے گا، وَاَنْتُ تو ایک شخص نے یہ دعویٰ کیا وَاَنۡکَرۡ الْوَرَثَةُ اور وارثوں نے انکار کیا، جی، تو اس یہ صورت بنے گی بھئی، اب وہ پھر صلح کرتے ہیں اس کے ساتھ، وَإِنَّمَا يَحْتَاجُ إِلَى ذَلِكَ بھئی محتاج ہوئے اس بات کی طرف بھئی، یہ صورت نکالنے کی طرف لِاَنَّ الرَّوَایَةَ مَحْفُوْظَۃٌ، بھئی اس کے بجائے یوں کر لے، نفع پر صلح کی صورت بنائی انہوں نے، نفع پر صلح کی کیا صورت بنائی؟ کہ ایک شخص مر گیا تھا اور اس نے وصیت کی تھی کہ یہ غلام کیا کرے گا، مدعی کی خدمت کرے گا، تو وصیت والی صورت بنائی، بھئی اجارے کی صورت بنا لیتے آپ، کیسے؟ ایک آدمی نے دوسرے پر دعویٰ کر دیا کہ بھئی آپ کا میرا تو عقد ہوا تھا کہ آپ یہ گھر مجھے کیا کریں گے، ایک سال کے لیے کرائے پر آپ نے دے دیا تھا، آپ کا میرا عقد ہو گیا تھا، اب آپس میں بھئی، مدعا علیہ کہتا ہے بھئی اس دعوے کو چھوڑ دو, یہ لو مجھ سے پانچ ہزار روپے لے لو اور اس گھر پر، گھر کے منافع کا دعویٰ کیا کر دو؟ چھوڑ دو۔ اجارے میں بھی یہ صورت بن جاتی ہے یا نہیں؟ تو یہ کیوں نہیں ذکر کی؟ کہتے ہیں اس لیے کہ اس کے اجارے کے بارے میں روایت آئی ہے باقاعدہ کہ یہ صلح درست... اگر اجارے میں ایسی صورت بنی، ایک شخص نے دوسرے پر دعویٰ کر دیا کہ آپ کا میرا عقد ہوا تھا کہ آپ مجھے فلاں چیز کیا کریں گے، فلاں گھر مثلاً ایک سال کرائے پر دیں گے اور آپ کا میرا عقد ہو چکا تھا، اب دوسرا اس سے صلح کرتا ہے تو یہ صلح کس سے ہوئی مولانا؟ گھر کے منافع سے، تو روایت ہے کہ یہ صلح درست نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
وَإِنَّمَا يَحْتَاجُ إِلَى ذَلِكَ اور محتاج ہوئے مات، بھئی! ہاں، فقہا محتاج ہوئے یہ صورت نکالنے کی طرف لِاَنَّ الرَّوَايَةَ مَحْفُوظَةٌ اس لیے کہ یہ روایت محفوظ ہے (یعنی متقدمین سے آئی ہے) اَنَّہٗ لَوِ ادَّعَى اِسْتِیْجَارَ عَیْنٍ کہ اگر کسی شخص نے دعویٰ کر دیا کسی عین، کسی معین چیز کے استجار کا (کرائے پر لینے کا کہ یہ گھر تو میں نے آپ سے کیا کیا تھا؟ کرائے پر لیا تھا) وَالْمَالِكُ يُنْکِرُہٗ اور حال یہ ہے کہ مالک اس کا انکار کر رہا ہے، صُمَّ صَالَحَا پھر دونوں باہم کیا کر لیتے ہیں؟ صلح کر لیتے ہیں، تو کہتے ہیں روایت آئی ہے لَا يَجُوْزُ کہ یہ جائز نہیں ہے بھئی، تو اس لیے انہوں نے پھر وصیت والی صورت بنائی بھئی۔
وَالْجِنَايَةِ... جی، اس کا عطف بھی اوپر مال پر ہو رہا ہے بھئی۔ کس پر؟ تو عبارت کیسے بنی؟ وَصَحَّ الصُّلْحُ عَنْ دَعْوَى الْجِنَايَةِ بھئی! صَحَّ الصُّلْحُ عَنْ دَعْوَى الْجِنَايَةِ فِي النَّفْسِ وَمَا دُونَهَا عَمْداً أَوْ خَطَأً وَالْرِّقِّ وَدَعْوَى الزَّوْجِ النِّكَاحَ۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے: ایک آدمی نے دوسرے کو قتل کر دیا، تو یہ اب قتل جان بوجھ کر بھی ہو سکتا ہے، غلطی سے بھی ہو سکتا ہے۔ جان بوجھ کر قتل کیا ہو تو قصاص آتا ہے، غلطی سے ہوا ہو تو دیتایا کرتی ہے۔ اسی طرح ایک شخص نے پر قصاص آیا، اب قصاص نفس میں بھی آ سکتا ہے، نفس کم کے اندر بھی، مثلاً قتل نہیں کیا بلکہ اس نے دوسرے کا ہاتھ کاٹ دیا، تو اس دوسرے، جس نے ہاتھ کاٹا ہے، قصاصاً اس کے ہاتھ کو بھی کیا جائے گا، کاٹا جائے گا، تو یہ قصاص ہے یا نفس کے اندر یا ما دون النفس ہے بھئی؟ ما دون نفس سے کم کے اندر، اور یہ بھی پھر خطأً بھی ہو سکتا ہے اور جان بوجھ تو جان بوجھ کر ہو تو یہاں قصاص آئے گا، خطأً ہو تو پھر کیا آئے گا؟ جی؟ یہاں پر بھی وہ دیت آئے گی جو عرش کہلاتی ہے جو نفس کم میں ہے بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو زمان آتا ہے بھئی۔ تو اب چاہے جنایت یا نفس ہو، وہ خطأً ہو یا عمداً، دونوں میں صلح صحیح۔ اور اسی طرح جنایت فی ما دون النَفْس، نفس سے کم کے اندر جنایت ہو، چاہے وہاں قصاص آ رہا ہو یا وہاں پر عرش آ رہا ہو، دونوں صورتوں میں صلح کرنا صحیح ہے۔
جی۔ اسی طرح غلامی کا دعویٰ ہے، ایک شخص دوسرے پر دعویٰ کر دیتا ہے کہ تم تو میرے غلام ہو بھئی، وہ کیا کہتا ہے بھئی یہ لو اپنا یہ کچھ مال لے لو اور اپنے دعوے کو چھوڑ دو، تو کیا یہ صلح صحیح ہے؟ کہتے ہیں ہاں، یہ صلح صحیح ہے۔ یا اسی طرح ایک شخص ایک عورت پر دعویٰ کر دیتا ہے کہ تمہارا تو میرے ساتھ نکاح ہو چکا تم میری بیوی ہو بھئی، وہ عورت اس کو کچھ مال دیتی ہے اور صلح کر لیتی ہے اس کے ساتھ، تو یہ بھی صحیح ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ یہ معنی ہے وَصَحَّ... جی، وَالْجِنَايَةِ فِي النَّفْسِ وَمَا دُونَهَا اور صحیح ہے صلح مولانا جنایت فی النفس کے اندر بھی وَمَا دُونَهَا آي ما دون النفس، نفس سے کم کے اندر بھی بھئی صلح صحیح ہے، عَمْداً أَوْ خَطَأً چاہے یہ جنایت عمدن ہو یا خطأً ہو، وَالرِّقِّ اور اسی طرح صلح صحیح ہے کس کے دعوے میں؟ غلامی کے دعوے کے اندر بھی، وَدَعْوَى الزَّوْجِ النِّكَاحَ اور اسی طرح صلح صحیح ہے خاوند... دعویٰ زوجی... کس کے اندر؟ خاوند کے دعویٰ کے اندر بھی، کس چیز کا دعویٰ کرتا ہے؟ اِنِّنِكَاحَ، جب خاوند نے دعویٰ کیا ہو نکاح کا ایک عورت پر، تو بھی صلح صحیح ہے۔
وَكَانَ عِتْقًا بِمَالٍ وَقُلْعاً اور یہ عتق ہوگا مال کے عوض میں، کس صورت میں جب غلامی کا دعویٰ کیا تھا؟ صورتِ مسئلہ یہی بھئی۔ ایک آدمی نے دوسرے پر کیا دعویٰ کیا کہ تم میرے غلام ہو، اس نے کیا کیا؟ کچھ مال دے دیا کہ اپنے دعوے کو چھوڑ دی، یہ صلح صحیح ہے، اور یہ کیا شمار ہوگی؟ عتق بِمَالَ کہ یہ اس نے آزادی لی ہے کس کے عوض میں؟ مال کے بدلے میں۔
اور وہ جو خاوند نے عورت پر دعویٰ کیا تھا، اور عورت نے پیسے دے کر صلح کر لی، یہ کیا شمار کیا جائے گا؟ صلح شمار ہوگا کہ عورت نے پیسے دے کر اس سے اپنی جان چھڑوا دی۔ یہ معنی ہے: وَكَانَ عِتْقًا بِمَالٍ اور یہ عتق ہوگا مال کے عوض میں، دعوے رقیت کی صورت میں، وَقُلْعاً اور کیا شمار ہوگا؟ صلح شمار ہوگا جبکہ خاوند نکاح کا دعویٰ کرے، اَيْ كَانَ الصُّلْحُ عَلَى مَالٍ صلح کرنا مال پر اَنْدَا وَالرِّقِّ کس کے دعویٰ میں؟ غلامی کے دعوے میں كَانَ عِتْقًا بِمَالٍ یہ عتق ہوگا مال کے عوض میں۔
اب بھئی عتق ہوگا مال کے عوض میں یا دونوں کی طرف سے یا ایک کی طرف سے؟ دونوں کی طرف سے ہونے کی کیا صورت ہے؟
بھئی دیکھو، ایک شخص نے دوسرے پر دعویٰ کیا کہ تم میرے غلام ہو، اب وہ یا اقرار کرے گا یا انکار کرے گا یا سکوت کرے گا اور صلح کر لے گا۔ تو اگر وہ اقرار کرتا ہے کہ ہاں بھئی ٹھیک ہے، میں آپ کا غلام ہوں لیکن یہ مال لے لو اور صلح مجھ سے کر لو تو اس صورت میں یہ عِتْق بِمَال ہوا، آزادی لی ہے اس نے کس کے عوض میں؟ مال کے، اور دونوں کے حق میں یہ اسی طرح ہے۔
مدعی کے حق میں بھی یہ عِتْق بِمَال ہے، اور مدعا علیہ کے حق میں بھی یہ عِتْق بِمَال ہے۔ دوسری صورت، وہ اقرار نہیں کرتا، انکار کرتا ہے کہ نہیں بھئی! نہیں، میں آپ کا غلام نہیں۔ نہیں، یہ سکوت کرتا ہے، انکار بھی نہیں کرتا اور کچھ پیسے دے کر صلح کر لیتا ہے تو مدعی کی طرف دیکھیں تو یہ عِتْق بِمَال ہوا، اس نے یہ پیسے کس چیز کے لیے ہیں؟ جی؟ آزادی کے عوض میں لیے ہیں، اور مدعا علیہ کی طرف نظر کریں تو یہ عِتْق بِمَال نہیں ہے، بلکہ یہ اس نے کس چیز کے پیسے دیے ہیں؟ قسم کا فدیہ دیا ہے، یا جھگڑے کو ختم کرنے کے پیسے دیے ہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو تو کہتے ہیں: تو صلح فَإِنْ كَانَ الصُّلْحُ مَعَ إِقْرَارٍ اگر یہ صلح کس کے ساتھ تھی؟ اقرار کے ساتھ تھی، کَانَ عِتْقاً بِمَالٍ فِیْ حَقِّهِمَا تو یہ عِتْق ہے مال کے عوض میں فی حَقِّھِمَا دونوں کے حق میں، مدعی کے حق میں بھی اور مدعا علیہ کے حق میں بھی، حَتَّى يَسْبُطَ الْوَلَاءُ یہاں تک کہ کیا ثابت ہو، یہسُبُطُ الوالاء بھئی، یہاں تک کہ کیا ثابت ہو جائے گی؟ ولاء ثابت ہو گی۔
وَلاَ یعنی وہ وراثت، بھئی وہ غلام جب مر جائے گا جس نے وہ جس نے صلح کی تھی، وہ مر جائے گا تو اس کی وراثت کس کو ملے گی؟ آقا کو ملے گی۔ کیونکہ دونوں کے حق میں یہ کیا شمار ہو رہا ہے؟ جی! عِتْق بِالمال تو مدعی کی طرف سے بھی اور مدعا تو گویا اس نے مال دے کر اس کو آزاد کیا ہے، اور آزاد کی معتق جب مر جاتا ہے، تو اس کی میراث کس کو ملتی ہے؟ آقا کو ملتی ہے۔ تو ولاء اس لیے ثابت ہو جائے گی۔
وَلاَ اِسْتِصَابِتُ ہوگی، وَاِنْ لَمْ يَكُنْ مَعَ الْإِقْرَارِ اور اگر یہ صلح اقرار کے ساتھ نہ تھی، فَهُوَ عِتْقٌ بِمَالٍ فِیْ زَعْمِ الْمُدَّعِي تو یہ عِتْق ہے مال کے عوض میں کس کے گمان میں؟ مدعی کے گمان میں، تو یہ عِتْق بِمَال ہے۔ لَا فِي زَعْمِ الْمُتَعَالِہِ لیکن مدعا علیہ کے زعم میں یہ عِتْق بِمَال نہیں، بَلْ قَطْعُ نِزَاعٍ بلکہ یہ کیا ہے؟ قطعِ نز جھگڑے کو ختم کرنا ہے فِي زَعْمِہِ مُتَعَالِہِ کے گمان میں، فَلَا يَسْبُطُ الْوَلَاءُ لہٰذا اس صورت میں اولاء ثابت... تو میراث اب معتق کو نہیں ملے گی بھئی۔
اِلَّا اَنْ يُقِیْمَ الْمُدَّعِی الْبَيِّنَةَ مگر یہ کہ مدعی کیا بھئی! قائم کر دے، پھر اس کو ولاء میں وہ ثابت ہوگی اس کے لیے۔ وَكَانَ الصُّلْحُ قُلْعاً فِي دَاوَ زَوْجِ النِّكَاحَا اور صلح جو ہے وہ قُلع ہوگی جبکہ دعویٰ کرے خاوند نکاح کا۔
اس میں بھی دو صورتیں ہیں مولانا، یا اقرار کرے گی یا بیوی اقرار کرے گی یا انکار اور سکوت کرے گی۔ اگر اقرار کرے تو پھر صلح ہے دونوں کے حق میں، جب دونوں کے حق میں صلح ہے تو بیوی پر بھی عدت آجائے گی۔ بیوی پر کیا آجائے گی؟ عدت آجائے گی۔ اور اگر بیوی انکار کرتی ہے یا سکوت کرتی ہے، تو خاوند کی طرف نِس کے گمان میں تو یہ صلح ہے، بیوی کے گمان میں یہ صلح نہیں۔ کیونکہ وہ جو پیسے دے رہی ہے، وہ کس جان چھڑانے کے لیے دے رہی ہے؟ یا خاوند سے جان چھڑانے کے لیے دے رہی ہے یا... یا قسم کا فدیہ دے رہی ہے۔ تو اب بیوی کے حق میں یہ صلح نہیں ہے، لہٰذا اس پر عدت بھی واجب نہیں ہوگی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
تو یہی بات کر رہے ہیں: تو فَبِالْإِقْرَارِ اقرار کی صورت میں يَكُونُ قُلْعاً مُطْلَقاً یہ کیا ہوگا؟ یہ صلح کیا ہوگی؟ قُلْعاً ہوگی مطلقا (یعنی بیوی کے حق میں بھی اور خاوند کے حق میں بھی) تو لہٰذا بیوی پر عدت آئے گی۔ وَفِي الْآخَرَيْنِ اور دوسری دو صورتوں میں یعنی صلح انکار کے ساتھ ہوئی ہے یا سکوت کے ساتھ، فِي زَعْمِ الزَّوْجِ تو یہ صلح ہوگا کس کے گمان میں؟ خاوند کے گمان میں تو صلح ہوگا لَا فِي زَعْمِهَا لیکن عورت کے گمان میں یہ صلح نہیں ہے، حَتَّى لَا تَجِبَ عَلَيْهَا الْعِدَّةُ یہاں تک کہ اب اس عورت پر عدت بھی واجب نہیں ہوگی۔ وَإِنْ تَزَوَّجَتْ زَوْجاً آخَرَ جَازَا اور اگر اس عورت نے فوراً ہی پھر نکاح کر لیا کسی اور آدمی کے ساتھ تو جائزا یہ بھی کیا ہے؟ کیونکہ اس پر عدت ہے؟ نہیں بھئی! اس نے تو انکار کیا ہے یا سکوت کیا تھا بھئی۔
جَازَا جَازَ فِي الْقَضَاءِ تو قضاء میں بھی یہ دیانتَن بھی اس کی تصدیق کی جائے گی، اور قضا ان بھی کیا کی جائے گی اس کی؟ تصدیق کی جائے گی، کیا معنی؟ اگر عورت کیا کرتی ہے؟ صلح کر لیتی ہے کس کے ساتھ؟ اس شخص کے ساتھ جس نے کس چیز کا دعویٰ کیا تھا؟ نکاح کا اور صلح کرتی ہے مع انکار یا مع سکوت۔ اب صلح کرنے کے فورا بعد عورت کیا کرتی ہے؟ نکاح کسی شخص سے تو یہ نکاح جائز ہے بھئی۔ دیانتَن بھی، اور دیانتَن بھی یعنی کسی مفتی کے پاس جا کر فتویٰ لیتی ہے کہ کیا میرا نکاح جائز ہے یا جائز نہیں؟ تو مفتی فتویٰ کیا دے گا؟ جائز ہے، اور قاضی کے پاس اگر مقدمہ چلا جائے تو اس صورت میں بھی قاضی بھی کیا کرے گا اس نکاح کو جائز قرار دے گا، سمجھ میں آیا؟
باقی اصل حقیقت کیا ہے؟ کہتے ہیں بھئی اصل حقیقت تو اللہ ہی جانتے ہیں، تو وہ اس عورت کا اور اللہ کا معاملہ ہے، اگر اس وہ عورت جانتی تھی کہ میرا جس شخص سے دعویٰ کیا تھا اسی کے ساتھ میرا نکاح نہیں ہوا تھا، وہ تو اس نے غلط دعویٰ کیا تھا، تو اب اس کے لیے یہ نکاح جائز ہے، اور اگر وہ عورت جانتی تھی کہ نہیں میں تو واقعی اس کی بیوی تھی، یہ میں نے اس سے کیا کیا ہے؟ صلح کیا ہے، تو اب اس عورت کے لیے وہ نکاح کرنا جائز نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں یہ جائز ہے قَضَامَّا فِيمَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللهِ تَعَالَى باقی اللہ اور اس کے درمیان ہے، وَإِنْ عَلِمَتْ اگر وہ عورت جانتی ہے أَنَّهَا كَانَتْ زَوْجَةً لِلْأَوْوَلِ کہ وہ تو بیوی تھی پہلے شخص کی (یعنی جس نے دعویٰ کیا تھا) لَا يَحِلُّ لَهَا التَّزَوْجُ فِي عِدَّتِهِ تو اب اس عورت کے لیے جائز نہیں ہے نکاح کرنا، شادی کرنا فِی عِدَّتِهِ کس کے اندر بھئی؟ اب اس عِدّت کے اندر بھئی۔ وَإِنْ عَلِمَتْ أَنَّهَا لَمْ تَكُنْ اور اگر وہ جانتی ہے عورت کہ اَنَّهَا لَمْ تَكُنْ زَوْجَةً کہ یہ نہیں تھی (یعنی اس شخص کی بیوی نہیں تھی) حَلَّ یہ جزا ہے، تو اس کے لیے نکاح کرنا حلال ہے، جائز ہے۔
وَلَمْ يَجُزْ عَنْ دَاوَهَا النِّكَاحَا یہ دوسری صورت بھئی، اب دعویٰ کرنے والی عورت ہے۔ عورت نے ایک آدمی پر دعویٰ کر دیا کہ تم... کہ تمہارے ساتھ میرا نکاح ہو چکا تم میرے خاوند ہو، آدمی نے کہا لو بھئی، یہ کچھ مال لے لو اور میرے ساتھ صلح کر لو، کیا یہ صلح جائز ہے یا جائز نہیں۔ کہتے ہیں یہ صلح جائز یہ صلح جائز نہیں۔
صُورت سمجھ میں آئے؟ ہاں، اس میں ایک روایت یہ بھی آئی ہے کہ جائز ہے۔ بعض فقہا فرماتے ہیں، بعض روایتوں سے کیا معلوم ہوتا ہے؟ جائز ہے، بعض روایتوں سے جائز نہیں۔ دیکھیے وجہ بھی آ جائے گی، دونوں روایتیں بھی آگے آ جائیں گی۔
وَلَمْ يَجُزْ عَنْ دَاوَهَا النِّكَاحَا اور صلح جائز نہیں ہے عورت کے دعوے نکاح کے اندر، زُكِرَ فِي الْهِدَايَةِ ذكر کیا گیا ہے ہدایہ کے اندر کہ ان فِي بَاعِ نُسَخِ مُخْتَصَرِ الْقُدُورِي جَوَازَ الصُّلْحِ کہ مختصر القدوری کے بعد نسخوں کے اندر صلح کا جواز ہے، کیا آیا ہے؟ ہدایہ کے بعد نسخوں میں؟ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں صلح کا جواز آیا ہے، بھئی کس طرح جواز آیا ہے؟ کہتے ہیں بِاَنْ يُجْعَلَ بَدَلُ الصُّلْحِ زيَادَةً فِي الْمَحْرِ کہ جو بدل صلح ہے اس کو کیا قرار دیا گیا ہے؟ اس کو مہر میں زیادتی بنایا گیا ہے۔
بھئی دیکھو، پہلے صورت تھی جو جائز تھی، خاوند نے دعویٰ کیا تھا اور عورت نے پیسے دے کر صلح کر لی، ہم نے اس کو کیا بنا دیا؟ صلح بنایا، کیونکہ صلح کے اندر کیا ہوتی ہے؟ عورت پیسے دیتی ہے اور خاوند سے جدائی ہوتی ہے۔ تو اس صلح کے اندر بھی کیا تھی؟ کیا صورت تھی؟ عورت پیسے دے رہی تھی، دعویٰ کرنے والا کون تھا؟ تو اس کو صلح بنانا ٹھیک تھا۔ لیکن اب دوسری صورت ہے، دعویٰ کرنے والی ہے عورت اور پیسے کون دے رہا ہے؟ خاوند، اب اس کو ہم صلح بنا سکتے ہیں؟ صلح نہیں بنا سکتے بھئی۔
پھر یہ پیسے کس چیز کے لے رہی ہے بھئی؟ جی؟ تو یہ شراں تو یہ کوئی صورت ایسی نہیں ہے کہ طلاق عورت کو دی جائے اور پیسے بھی کون دے؟ خاوند دے۔ کہتے ہیں ہاں، اس کی تاویل کرتے ہیں، یوں کرتے ہیں کہ یوں سمجھا جاتا ہے گویا یہ شخص یہ جو پیسے دے رہا ہے، مہر میں زیادتی کر رہا ہے
کر رہا ہے کیا کر رہا ہے مہر میں زیادتی۔ مثلاً پہلے جو مقرر ہوا تھا اس سے یہ اتنے پیسے اب زائد دے رہا ہے بطور مہر کے بھئی۔ صورت سمجھ میں ائی؟ یہ معنی ہے۔ بِأَنْ يُجْعَلَ بَدَلُ الصُّلْحِ زِيَادَةً فِي الْمَهْرِ کہ بدلہ صلح کو وہ زيادة في المهر بنایا جاتا ہے، وفي بعض نسخ آدم الجوازي اور قدوری کے بعض نسخوں میں عدم جواز آیا ہے کہ یہ صلح جائز نہیں تھی جس میں مرد پیسے دے رہا ہے۔
فصاحب الوقاية نے اختیار کیا اس صلح کو، دیکھو اوپر آیا ہے لَمْ يَجُزْ کہ یہ جائز نہیں۔ لِأَنَّ الصُّلْحَ إِنْ جُعِلَ مِنْهُ فُرْقَةً اس لیے کہ صلح کو اگر کیا بنا دیا جائے؟ اگر جدائی قرار دیا جائے خاوند سے، فَالْعِوَضُ لَمْ يَشْرَعْ إِلَّا مِنْ جَانِبِهَا تو عوض مشروع نہیں ہے مگر کس کی جانب سے؟ صرف عورت کی جانب سے۔ بھئی اس صلح کو اگر ہم یا تو جدائی قرار دیں گے یا جدائی قرار دیں۔ اگر اس صلح کو ہم جدائی قرار دیتے ہیں کہ اس صلح کی وجہ سے عورت کو کیا حاصل ہو رہی ہے؟ جدائی۔ تو اس صورت میں بھی عوض کس کی جانب سے مشروع ہے؟ عورت کی جانب سے مشروع ہے۔ عورت جدائی کی صورت میں کیا دیتی ہے؟ پیسے دیتی ہے اور عوض دیتی ہے اور پھر یہ کیا کہلاتا ہے؟ خلع۔ خلع کے اندر عوض عورت دیتی ہے۔
تو اس صلح کو اگر ہم یا تو ہم جدائی قرار دیں گے یا جدائی قرار دیں۔ اگر جدائی بناتے ہیں تو اس صورت میں عوض عورت کو دینا چاہیے مرد کو۔ اور اگر اس صلح کو ہم جدائی قرار نہیں دیتے تو پھر یہ کس چیز کے پیسے دے رہا ہے؟ تو عوض یہ مال کے عوض میں کوئی اور چیز نہیں آئی۔ لہٰذا درست نہیں۔ بھئی۔ تو چاہے اس صلح کو جدائی قرار دیں پھر بھی صحیح نہیں بات بنتی۔ اور اگر اس صلح کو ہم جدائی قرار نہ دیں پھر بھی بات صحیح نہیں۔ اگر جدائی قرار دیں تو پیسے عورت کو دینے چاہیے مرد کو نہیں۔ اور اگر ہم اس کو صلح قرار نہ دیں تو پھر کس چیز کے پیسے دے رہا ہے؟ بھئی سمجھ میں آیا؟ مقابل کوئی چیز ہے ہی نہیں۔
یہ معنی ہے لِأَنَّ الصُّلْحَ إِنْ جُعِلَ مِنْهُ فُرْقَةً اس لیے کہ صلح کو اگر مِنْهُ یعنی من الزوج اگر خاوند سے صلح قرار دیا جائے فَالْعِوَضُ لَمْ يَشْرَعْ إِلَّا مِنْ جَانِبِهَا تو عوض تو مشروع نہیں ہے مگر عورت کی جانب سے خلع کے جیسے بنتا ہے، اور اگر اس صلح کو جدائی نہ بنایا جائے، فالبَدَلُ لَا يَقَعُ فِي مُقَابَلَةِ شَيْءٍ تو اس صورت میں بدل واقع نہیں ہوا کسی چیز کے۔ پیسے دے رہا ہے، پیسے کس چیز کے مقابلے میں ہیں؟ کوئی مقابل میں چیز ہی نہیں۔
وَلَا عَنْ دَعْوَى الْحَدِّ اور اسی طرح صلح صحیح نہیں ہے حد کے دعویٰ سے بھی۔ ایک آدمی نے دوسرے پر دعویٰ کر دیا حد قذف کا کہ اس نے مجھ پر زنا کی تہمت لگائی ہے کیا؟ زنا کی تہمت لگائی ہے۔ مدعی کہتا ہے بھئی لو مجھ سے اتنا مال لے لو اور کیا کہو؟ دعوے حد کو چھوڑ دو۔ کہتے ہیں یہ درست نہیں اس لیے کہ حد، حد وہ سزائیں ہیں من جانب جو من جانب اللہ مقرر ہیں مولانا۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ حق اللہ ہے۔ حد کیا ہے دراصل؟ حق اللہ ہے۔ تو حق یہ ہے حق اللہ اور عوض لے رہا ہے یہ شخص بھئی۔ تو حق ہے غیر کا اور غیر کے حق میں کہ عوض میں کوئی چیز لینا جائز ہے یا جائز نہیں ہے بھئی؟ درست نہیں۔ اپنا حق ہو اس کے عوض میں تو انسان چیز لے سکتا ہے بھئی، صلح کر سکتا ہے، غیر کے حق میں صلح صحیح نہیں۔ اور صلح صحیح نہیں ہے حد کے دعویٰ سے لِأَنَّهُ حَقُّ اللَّهِ تَعَالَى اس لیے کہ وہ اللہ کا حق ہے۔
وَلَا إِذَا قَتَلَ مَازُونٌ آخَرَ عَمْداً فَصَالَحَ عَنْ نَفْسِهِ صورت مسئلہ یہ ہے بھئی۔ ایک عبد ماذون ہے، آقا نے جسے تجارت کی اجازت دی ہے، اس نے کسی شخص کو قتل کر دیا بھئی۔ اب وہ عبد ماذون خود صلح کرتا ہے اُس مقتول کے اولیاء کے ساتھ بھئی۔ کیا کرتا ہے؟ آقا نے تجارت کی اجازت دی ہے، تجارت کر رہے ہیں، مال تو ہے اس کے پاس بھئی، یہ کیا کرتا ہے اب صلح کر دیتا ہے بھئی چلو کچھ مال لے لو اور میری جان کیا کر دو؟ چھوڑ دو، میرے اوپر اب مجھ پر قصاص کا دعویٰ نہ کرو۔ سمجھ میں آیا؟
تو صلح کر لو اور میرے اوپر قصاص کا دعویٰ چھوڑ دو بھئی۔ تو وہ صلح کرتا ہے اپنے نفس پر بھئی۔ اپنے نفس کو کیا کرتا ہے؟ مال دے کر چھڑواتا ہے۔ کہتے ہیں یہ جائز نہیں اس کے لیے، کیوں؟ لِأَنَّ رَقَبَتَهُ لَيْسَ مِنْ تِجَارَتِهِ کیونکہ اس کے آقا نے اسے تجارت کی اجازت دی ہے، اور تجارت کے لیے مال میں تصرف کرنا تو جائز ہے، لیکن اس کا اپنا نفس جو ہے، اپنا رقبہ وہ مال تجارت میں سے نہیں ہے۔ لہٰذا اس میں تصرف کرنا اور اس کو چھڑوانا اس کے لیے جائز نہیں۔
دوسری صورت، عبد ماذون نے خود نہیں قتل کیا، عبد ماذون ہے، وہ تجارت کر رہا ہے، تجارت میں اس نے غلام خریدا، اس کے اس غلام میں کیا کیا آگے قتل کر دیا، تو اب اس غلام کے اس کا کیا کرتا ہے؟ صلح کرتا ہے اور اس کی جان چھڑواتا ہے، کہتے ہیں یہ صلح اس کے لیے جائز ہے، اس لیے کہ غلام جو خریدا اس نے یہ اس نے اپنی کمائی کے ذریعے خریدا ہے، یہ مال تجارت میں سے ہے اس کے، اور اس کے اندر تصرف کرنا اس کے لیے جائز ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟
یہ معنی ہے وَلَا إِذَا قَتَلَ مَازُونٌ اور جائز نہ اس صورت میں صلح جائز ہے اذا قتل ماذون جب قتل کر دے کوئی ماذون بھئی، آخر کس کو قتل کرے؟ کسی دوسرے کو، عَمْداً اور کیسے قتل کرے؟ جان بوجھ کر، فَصَالَحَ عَنْ نَفْسِهِ پھر صلح کرتا ہے اپنے نفس سے، یعنی اپنے نفس کے عوض میں مال دے کر اپنے آپ کو چھڑواتا ہے۔ کہتے ہیں جائز نہیں، کیوں؟ لِأَنَّ رَقَبَتَهُ لَيْسَ مِنْ تِجَارَتِهِ اس لیے کہ اس کی جو رقَبہ ہے وہ تجارت میں سے نہیں ہے، فَلَا تَجُوزُ لَهُ التَّصَرُّفُ فِيهَا لہٰذا اس کے لیے جائز نہیں ہے اس کے اندر تصرف کرنا۔
وَصَحَّ الصُّلْحُ عَنْ نَفْسِ عَبْدٍ لَهُ مگر صحیح ہے اس عبد ماذون کا صلح کرنا عن نفس عبد لہ اپنے ایک غلام کے نفس سے، ایسا اس کا اپنا ایسا غلام قَتَلَ رَجُلاً عَمْداً جس نے کیا کیا تھا؟ کسی دوسرے شخص کو... جی۔ لِأَنَّ عَبْدَهُ مِنْ كَسْبِهِ اس لیے کہ جو اس کا غلام ہے، عبد ماذون کا جو غلام ہے من كسبه وہ اس کی کمائی میں سے ہے، فَيَصِحُّ التَّصَرُّفُ فِيهِ وَاسْتِخْلَاصُهُ تو صحیح ہے اس عبد ماذون کا اس کے اندر تصرف کرنا اور اس کو چھڑوانا۔
وَالصُّلْحُ عَنْ مَغْصُوبٍ تَلِفَ بِأَكْثَرَ مِنْ قِيمَتِهِ أَوْ عَرْضٍ اور اسی طرح صلح صحیح ہے بھئی۔ پیچھے کیا آیا تھا؟ صح صلحہ تو یہ اسی پر عطف ہے۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی۔ ایک آدمی نے کیا کیا؟ میری گاڑی غصب کر لی۔ کیا کر لی؟ گاڑی غصب کر لی اور پھر وہ گاڑی اس کے پاس ہلاک ہو گئی۔ اب میں اس کے ساتھ صلح کرتا ہوں بھئی۔ صلح کرتا ہوں۔ تو اس پر قیمت آ رہی تھی، صلح کر لی اور صلح میں میں نے کیا لے لیا؟ مثلاً گاڑی کی قیمت کتنی تھی؟ پانچ لاکھ، لیکن میں اس سے کتنے پر صلح کر لیتا ہوں؟ چھ لاکھ پے، قیمت سے زیادہ مال پر صلح کرتا ہوں۔
تو یہ صلح صحیح ہے امام صاحب کے نزدیک بھئی۔ صاحبین کے نزدیک یہ صلح صحیح نہیں۔ صاحبین کے نزدیک یہ صلح صحیح نہیں۔ قیمت سے زائد پر صلح کرنا جب کہ مغصوب تلف ہو چکا ہے، یہ صاحبین کے نزدیک درست اور امام صاحب کے نزدیک صحیح ہے۔ لیکن اگر پیسے نہیں لیتا بھئی عوض میں، میں سامان لے لیتا ہوں۔ کیا لیتا ہوں؟ سامان لے لیتا ہوں، تو اب دونوں کے نزدیک صلح صحیح ہے، چاہے سامان قیمت سے بڑھ کر ہی کیوں نہ ہو۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
یہی بات کہہ رہے ہیں والصلح عن مغصوب تلفا اور صلح کرنا ایسے مغصوب سے تلفا جو کیا؟ جو اس نے کیا کر دیا ہے؟ غاصب نے تلف کر دیا ہے بأكثر من قيمته کتنے کے عوض میں؟ اس کی قیمت سے زیادہ کے ساتھ أو عرض یا کس کے بدلے میں؟ سامان کے بدلے میں، یہ صحیح ہے هذا عند ابی حنیفة رحمہ اللہ یہ امام صاحب کے نزدیک ہے وَعِنْدَهُمَا لَا يَصِحُّ صاحبین کے نزدیک یہ صحیح نہیں۔
لَا يَصِحُّ بأكثر من الثَمَنِ قیمت سے زائد کے ساتھ صحیح نہیں ہے یہ صلح بھئی۔ إِلَّا أَنْ يَكُونَ زِيَادَةً يَتَغَابَنُ النَّاسُ فِيهَا مگر یہ کہ وہ اتنی زیادتی ہو کہ جس میں لوگ بھی اتنے دھوکہ دیا کرتے ہیں۔ مثلاً گاڑی کی قیمت کتنی تھی؟ پانچ لاکھ، اور وہ صلح کر لیتا ہے پانچ لاکھ دس ہزار میں یا چار لاکھ نوے ہزار میں تو اتنی کمی بیشی تو ہو ہی جاتی ہے۔ گاڑی کی قیمت قطعا پانچ لاکھ تھی یا بعض قیمت لگانے والوں کے نزدیک پانچ لاکھ تھی؟ بعض، بعض ہو سکتا ہے اس کی پانچ لاکھ دس ہزار لگاتے، پانچ لاکھ دس ہزار، بعض اس کی قیمت چار لاکھ نوے، تو اتنی کمی بیشی ہوتی ہے، اتنا لوگ دھوکہ دے دیا کرتے ہیں تو اتنی کمی بیشی ہو صاحبین فرماتے ہیں پھر تو صلح صحیح، لیکن اس سے زیادہ لے لے پیسے تو صحیح نہیں۔
کیونکہ لِأَنَّ حَقَّهُ فِي الْقِيمَةِ اس لیے کہ بھئی۔ بھئی وہ گاڑی تو ہلاک ہو گئی، جب گاڑی ہلاک ہو گئی، تو اب اس جس چیز جس کی چیز غصب ہوئی تھی بھئی، اس کا حق اب گاڑی کے ساتھ متعلق نہ رہا، بلکہ کس کے ساتھ متعلق ہو گیا؟ قیمت کے ساتھ۔ گاڑی باقی ہے؟ گاڑی تو ختم ہو گئی، تو اس کا عوض کیا بن گیا؟ قیمت۔ تو گاڑی سے اس کا حق ختم ہو چکا، اب اس کا حق کس میں ہے؟ قیمت کے اندر ہے، لہٰذا اب زیادہ لیتا ہے تو یہ اس صورت میں ربما لازم آئے گا بھئی۔
قیمت کتنی ہو سکتی تھی گاڑی کی؟ یا پانچ لاکھ ہو سکتی ہے، یا پانچ لاکھ پانچ ہزار ہو سکتی ہے مثلاً، یا پانچ لاکھ دس ہزار ہو سکتی ہے، تو یہ تو ٹھیک ہے بھئی، تو عوض لے رہا ہے، یہ اس کی قیمت لے رہا ہے، لیکن اگر اس سے زیادہ لیتا ہے، تو یہ اس کا کیا لازم آئے گا؟ سود لازم آئے گا۔ سود لازم آئے گا بھئی، کیا لازم آئے گا؟ سود لازم آئے گا۔
لِأَنَّ حَقَّهُ فِي الْقِيمَةِ اس لیے کہ اس شخص کا حق تو قیمت کے اندر تھا، فَالزَّائِدُ رِبًا تو زائد کیا ہے؟ ربا۔ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ بَلْ حَقُّهُ فِي الْهَالِكِ بَاقٍ کہ اس شخص کا حق ہلاک ہونے والی چیز میں اب بھی باقی ہے۔ بھئی وہ امام صاحب فرماتے ہیں ابھی ہم قیمت کی طرف ہمارا انتقال نہیں ہوا، بلکہ حق کس کے اندر ہے؟ ہلاک ہونے والی چیز کے اندر باقی اب بھی حق باقی ہے، چنانچہ اس کی مثال ذکر کرتے ہیں بھئی، امام صاحب فرماتے ہیں دیکھو ایک آدمی تھا، اس کا غلام دوسرے نے غصب کر لیا، اور غصب کرنے کے بعد وہ غلام اس کے پاس کیا ہوا؟ ہلاک ہوا، جب غلام ہلاک ہو گیا، تو اب آقا اس سے کیا وصول کرتا؟ قیمت، لیکن آقا نے کیا کیا؟ قیمت چھوڑ دی بھئی، قیمت چھوڑ دی۔
اب قیمت چھوڑنے کے باوجود غلام کا کفن دفن کرنا یہ آقا کے ذمے ہے۔ کس کے ذمے ہے؟ معلوم ہوا ہلاکت کے باوجود آقا کا غلام کے ساتھ حق متعلق ہے، اسی لیے کفن دفن کس پر آ رہا ہے؟ آقا پر، تو دیکھا معلوم ہوا ہلاکت ہونے کے باوجود مالک کا حق اسی ہلاک ہونے والی چیز کے ساتھ متعلق ہوتا ہے۔ ہاں، یہ حق منتقل ہو جاتا ہے قیمت کی طرف کب؟ جب قاضی فیصلہ کر دے۔
اب اگر یہ مسئلہ قاضی کے پاس چلا جائے اور قاضی فیصلہ کر دے، بھئی چونکہ تم نے غلام غصب کیا تھا، اب کیا دو اس کے؟ اس کے عوض میں قیمت دو، تو مولانا کس کی طرف حق منتقل ہو گیا؟ قیمت کی طرف منتقل ہوگا، ہو گیا، اور اب اس صورت میں قیمت سے زائد لینا امام صاحب بھی فرماتے ہیں درست نہیں۔ لیکن قضائے قاضی سے قبل قیمت کی طرف انتقال نہیں ہوا، حق ابھی بھی کس سے وابستہ ہے؟ اسے غلام یا اسی گاڑی کے ساتھ وابستہ ہے۔ اب جب گاڑی کے ساتھ وابستہ ہے، تو گاڑی کے عوض میں کوئی شخص چاہے پانچ لاکھ لے، چاہے چھ لے، چاہے سات لے، یہ تو اس کی مرضی ہے بھئی۔
یہ اس کی مرضی ہے بھئی، لیکن اگر قیمت کی طرف انتقال ہو جائے، تو اب قیمت اس پر دین ہو گئی، تو دین کتنا ہوا؟ پانچ لاکھ ہوا اور یہ لینا چاہتا ہے اس سے چھ لاکھ تو یہ ایک لاکھ زائد کیا بن جائے گا؟ سود بن جائے گا، لہٰذا یہ جائز نہیں۔
لیکن امام صاحب کیا فرماتے ہیں؟ ابھی بھی اس کا حق کس سے وابستہ ہے؟ اسی ہلاک ہونے والی چیز سے، جب ہلاک ہونے والی چیز سے حق وابستہ ہے، تو یہ اس کا عوض لے رہا ہے، تو عوض میں جو بھی چیز جتنا بھی مال لینا چاہے کیا ہوتا ہے؟ میں آپ کو اپنے دس روپے والا قلم آپ کو سو روپے میں بیچنا چاہوں، تو جائز ہے یا جائز نہیں ہے؟ تو عوض میں جتنا بھی مال لینا چاہے انسان لے سکتا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ ان حَقَّهُ فِي الْهَالِكِ کہ اس شخص کا حق کس چیز کے اندر تھا؟ ہلاک ہونے والی چیز کے اندر باقی وہ باقی ہے، فامتناعہ بأكثر لا يكون ربا تو اس کا عوض لینا زائد کے ساتھ یہ ربا نہیں ہے، فَإِنَّ الزَّائِدَ عَلَى الْمَالِيَّةِ فِي مُقَابَلَةِ الصُّورَةِ اس لیے کہ زائد علی المالیات جو ہوتا ہے، مالیت سے جو زائد ہوتا ہے وہ کس صورت میں ہوتا ہے؟ مقابلے کی صورت میں ہوتا ہے۔ کس صورت میں؟ مقابلے کی صورت میں۔ بھئی آپ کہیں کہ یہ جو گاڑی کے میں چھ لاکھ روپے لے رہا ہوں، ہے تو پانچ لاکھ کی میں کیا لے رہا ہوں؟ چھ لاکھ، یہ زائد ہی لے رہا ہوں، کہتے ہیں نہیں بھئی، اس کو زائد نہیں کہہ سکتے۔ زائد اس وقت کہتے ہیں جب دونوں کی صورت ایک جیسی ہوتی۔
مثلاً آپ پر میرا دین ہے پانچ لاکھ، میں آپ سے کتنے لے رہا ہوں؟ چھ لاکھ۔ اب دونوں کی صورت ایک جیسی ہے۔ اب کہہ سکتے ہیں پانچ لاکھ تو پانچ لاکھ کے مقابلے میں ہوئے اور یہ ایک لاکھ کیا ہو گئے؟ زائد ہو گئے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ لیکن اگر صورت ایک جیسی نہ ہو، جیسے غصب تو کی تھی گاڑی، اور عوض میں کیا لے رہا ہوں؟ مال لے رہا ہوں، سونا یا چاندی لے رہا ہوں، تو اب صورت ایک جیسی ہے؟ صورت ایک جیسی نہیں۔ جب صورت ایک جیسی نہیں ہے، تو ایک کو زائد کہنا، ایک کو کم کہنا، یہ بات ہی نہیں بنتی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
یہ معنی ہے فَإِنَّ الزَّائِدَ عَلَى الْمَالِيَّةِ فِي مُقَابَلَةِ الصُّورَةِ اس لیے کہ مالیات پر جو زائد ہوگا، وہ مقابل صرف کس صورت میں ہوگا؟ صورت کے مقابلہ، جبکہ ایک دونوں طرف صورت ایک جیسی ہو، ایک ہی جنس ہو، ایک ہی چیز ہو. ایک طرف بھی درہم، دوسری طرف بھی درہم، اب کمی بیشی پتہ لگ سکتی ہے کہ ایک طرف پانچ ہیں، ایک طرف سات ہیں، معلوم ہوا دو کیا ہیں؟ زائد۔ لیکن جب جنس ایک جیسی نہ ہو، تو پھر کمی بیشی کا پتہ نہیں چل سکتا۔
وَفِي مُوسِرٍ أَعْتَقَ نِصْفَهُ وَصَالَحَ عَنْ بَاقِيهِ بِأَكْثَرَ مِنْ نِصْفِ قِيمَتِهِ بَطَلَ الْفَضْلُ صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی، بھئی آپ جانتے ہیں ایک غلام ہے، دو آدمیوں میں مشترک ہے، ایک نے اپنے نصف کو آزاد کر دیا، تو پورا غلام ہی کیا ہو جائے گا؟ آزاد۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ نصف آزاد ہو اور نصف غلام ہو۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو لہٰذا دو ایک غلام تھا، دو آدمیوں میں مشترک تھا بھئی، اور ایک نے اپنے نصف کو کیا کر دیا؟ ایک دولت مند تھا، اس نے اپنے نصف کو آزاد کر دیا، جب نصف آزاد ہوا تو باقی بھی نصف کیا ہو گیا؟ آزاد ہو گیا بھئی، آزاد ہو جاتا ہے، تو لہٰذا اب یہ کیا کرتا ہے اس کے ساتھ؟ خصومت کرتا ہے، تو یہ دعویٰ کرتا ہے اس پر تو یہ صلح کرتے ہیں آپس میں بھئی، اور صلح کرتے ہیں غلام کی نصف قیمت سے زائد پر، کہتے ہیں یہ درست نہیں بھئی، نصف قیمت پر تو صلح ہے، نصف قیمت سے زائد پر صلح صحیح نہیں۔
بھئی یہ کیا وجہ ہے؟ یہاں پر بھی کیا تلف ہوا ہے اس کا؟ نصف غلام، اور عوض کیا مل رہا ہے؟ قیمت تو جنس ایک ہے، جنس الگ الگ ہے؟ جنس الگ الگ ہے، تو وہاں پر جیسے قیمت سے زائد رہنا جائز تھا، یہاں پر بھی قیمت سے زائد لینا جائز ہونا چاہیے، لیکن یہاں امام صاحب فرماتے ہیں جائز کہتے ہیں اس کی کیا وجہ؟ کہتے ہیں بھئی اس کی وجہ یہ کہ یہ مسئلہ منصوص علیہ ہے، اس کے بارے میں نص آئی ہے، حدیث آ گئی، جب حدیث آ گئی تو ہم، ہم احناف ہیں مولانا، حدیث آ جائے تو قیاس کو ہم کیا کر دیتے ہیں؟ ترک کر دیتے ہیں، تو ہم نے قیاس کو ترک کیا اور حدیث کے مطابق فیصلہ کیا کہ نصف حدیث سے پتہ چلا کہ کتنی آئے گی؟ نصف قیمت آئے گی، جب نصف قیمت حدیث میں صراحتاً مذکور ہو گئی، تو اب اس سے زائد لینا صحیح نہیں۔
یہ معنی ہے وَفِي مُوسِرٍ أَعْتَقَ نِصْفَهُ وَصَالَحَ عَنْ بَاقِيهِ بِأَكْثَرَ مِنْ نِصْفِ قِيمَتِهِ بَطَلَ الْفَضْلُ اور اس صورت کے اندر بھئی، کہ موسرین جی کہ کیا تھا بھئی؟ کس صورت میں؟ خوشحال شخص کی صورت، ایسے خوشحال شخص بھئی، أَعْتَقَ نِصْفًا لَهُ جس نے آزاد کر دیا ایسے نصف کو جو اس کا تھا بھئی، جس نے اپنے نصف کو کیا کر دیا؟ آزاد کر دیا وَصَالَحَ عَنْ بَاقِيهِ اور صلح کر لی باقی پر بھئی، بِأَكْثَرَ مِنْ نِصْفِ قِيمَتِهِ نصف اس کی نصف قیمت سے زیادہ کے ساتھ بَطَلَ الْفَضْلُ تو جو زائد ہے وہ نصف سے وہ باطل ہے، ہَذَا بِالِاتِّفَاقِ یہ بالاتفاق ہے مولانا۔ امام صاحب کو بھی یہ مسئلہ، صاحبین کا بھی یہی مسئلہ، اَمَّا عِنْدَهُمَا فَظَاهِرٌ صاحبین کا نظریہ تو بات ظاہر ہے، کیونکہ انہوں نے ماقبل مسئلے میں بھی کیا فرمایا تھا؟ کیا لازم آتا ہے؟ ربا۔ کیونکہ یہاں پر غلام سے انتقال ہو گیا نصف غلام سے کس کی طرف؟ نصف قیمت کی طرف بھئی، تو اب زائد لینا ربا ہوگا۔ واما عندہ، لیکن امام صاحب کے نزدیک فلان القیمۃ منصوص عليها اس لیے کہ قیمت یہاں پر کیا ہے؟ منصوص علیہ ہے، اس کے بارے میں نص آئی ہے، ہاؤ نا یہاں پر۔
فَلَا يَجُوزُزِيَادَةٌ عَلَيْهَا، لِہٰذَا یہاں پر زیادتی کرنا جائز نِصْفِ قِیْمَتْ سے زیادہ سے زیادہ لینا جائز نہیں۔ وَثَمَّةَ، ثَمَّةَ اس میں اشارہ ہے اور وہاں پر جو پچھلا مسئلہ تھا غَيْرُ مَنْصُوصٍ عَلَيْهَا، یہ قِیْمَتْ کیا تھی؟ مَنْصُوصٌ عَلٰی... اں، اوہ، جی! اس کے بارے میں نص نہیں آئی تھی بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اور یہ دیکھیے تین نمبر حاشیے میں وہ حدیث دی ہوئی ہے۔
وَھُوَ قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ۔ بھئی، وہ نص جو ہے حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے: مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا، شِقْص کہتے ہیں حصے کو، جس نے آزاد کر دیا کسی حصے کو مِنْ عَبْدٍ مُشْتَرَكٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ شَرِيكِهِ، جس نے آزاد کر دیا ایک حصے کو ایسے عبد میں سے جو مشترک ہے اس کے اور اس کے شریک کے درمیان، قُوِّمَ عَلَيْهِ نَصِيبُ شَرِيكِهِ۔ حدیث میں کیا آ رہا ہے؟ قِیْمَتْ لگائی جائے گی اس پر کس چیز کی قِیْمَتْ بھئی؟ نَصِيبُ شَرِيكِهِ اس کے شریک کے حصے کی قِیْمَتْ لگائی جائے گی، تو وہ نِصْفِ قِیْمَتْ ہوئی، اور لہٰذا معلوم ہوا نِصْفِ قِیْمَتْ اس پر آئے گی، تو نِصْفِ قِیْمَتْ سے زائد لینا صحیح نہیں۔
وَلَوْ صَالَحَ بِعَرْضٍ صَحَّ، لیکن اگر صلح کر لی سامان کے بدلے، صَحَّ، پھر کیا ہے؟ اب سامان چاہے نِصْفِ قِیْمَتْ سے زائد ہی کیوں نہ ہو۔ سمجھ میں آیا؟ صلح کیا ہو جائے گی؟ صَحَّ، کیونکہ اب سامان عِوَض بن جائے گا۔ کیا بن جائے گا؟ عِوَض۔ تو اب زیادتی ظاہر نہیں ہوگی بھئی۔ جبکہ اگر مال لیتا ہے، پیسے لیتا ہے، دِرْھَم و دَنَانِیر، پھر زیادتی ظاہر ہوتی تھی۔
وَلَوْ صَالَحَ بِعَرْضٍ صَحَّ۔ اور اگر صلح کر لی سامان کے عِوَض میں، صَحَّ، تو پھر صلح صحیح ہے، وَإِنْ كَانَ قِيمَتُهُ أَكْثَرَ مِنْ قِيمَةِ نِصْفِ الْعَبْدِ، اگرچہ اس سامان کی قیمت جو ہے نِصْفِ عَبْد کی قیمت سے زیادہ ہو، کیونکہ یہاں کیا بن جائے گا؟ عِوَض بن جائے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اب زیادتی ظاہر نہیں ہوگی کیونکہ صورت بدل گئی۔ ایک طرف کیا ہے نِصْفِ عَبْد ہے اور دوسری طرف سامان ہے، تو سامان جِنس الگ الگ ہے، اس سے زیادتی ظاہر نہیں ہوگی۔
وَبَدَلُ الصُّلْحِ عَنْ دَمٍ عَمْدٍ أَوْ عَلَى بَعْضِ دَيْنٍ يَدَّعِيهِ يَلْزَمُ الْمُوَكِّلَ لَا وَكِيلَهُ۔ بھئی دیکھو، مال کے دعوے میں تھا ایک شخص کا، ایک شخص نے میرے اوپر دعویٰ کر دیا کہ یہ میرا گھر ہے، میں نے ایک شخص کو وکیل بنا کر بھیجا کہ جاؤ بھئی، اس نے میرے گھر کا دعویٰ کیا ہے، تم اس سے میری طرف سے صلح کر لو۔ پچاس لاکھ کے بدلے میں وکیل جاتا ہے اور جا کر صلح کر لیتا ہے، تو یہ پچاس لاکھ موکل پر لازم ہوئے یا وکیل پر؟ وہ کس سے مطالبہ کرے گا؟ کہتے ہیں بھئی اس کی صلح کس کے ساتھ آکر کس کے ساتھ ہوا؟ وکیل سے، لہٰذا مطالبہ بھی کس سے کرے گا؟ وکیل سے کرے گا، اور پھر وکیل کس پر رجوع کرے گا؟ موکل پر۔ تو لہٰذا صلح عن مال کی صورت میں عِوَض کس پر لازم ہوتا ہے؟ وکیل پر، کس پر لازم ہوتا ہے؟ کیونکہ عقد کس نے کیا؟ عقد صلح وکیل نے کیا۔ صورت سمجھ میں آئی؟
لیکن اگر صلح ہوئی دَمِ عَمد سے، ایک آدمی نے دوسرے کو قتل کر دیا تھا، اور پھر کسی کو وکیل بنا کر بھیجا کہ بھئی وہ مجھ پر کیا ہے ان کا وہ دَمِ عَمد کا دعویٰ کریں گے، تم کیا کرو میری طرف سے جا کر صلح کر دو، قصاص چھوڑ دیں اور دس لاکھ روپے لے لیں۔ وکیل گیا، اس نے میری طرف سے صلح کر لی، تو کیا اب یہ مال وکیل پر لازم ہوگا یا موکل پر؟ کہتے ہیں بھئی اس صورت میں مال موکل پر لازم ہوگا، وکیل پر نہیں۔ کیونکہ قصاص کا دعویٰ وکیل پر نہیں ہے بلکہ کس پر ہے؟ قصاص کی وصولی صرف کس سے ہو سکتی ہے؟ موکل پر۔
تو اس صورت میں مولانا، اب یہ مال بھئی بَدَلُ الصُّلْحِ عَنْ دَمِ عَمد سے، تو اس صورت میں مال وکیل پر لازم نہیں ہوگا بلکہ کس پر لازم ہوگا؟ موکل۔ اِبْتِدَاً ہی موکل پر لازم ہو جائے گا، اس لیے کہ صلح جب مال کے عِوَض میں ہوتی تھی تو وہ بَیع بن جاتی تھی، اور بَیع میں جو عقد کیا کرتا ہے اسی پر عِوَض لازم ہوتا ہے، لیکن یہاں پر صلح کس پر ہو رہی ہے؟ دَمِ عَمد پر، تو ایک طرف تو ہوا مال، لیکن دوسری طرف مال نہیں ہے، تو اب اس کو بَیع بنانا ممکن نہیں۔ جب بَیع بنانا ممکن نہیں، تو اب عِوَض وکیل پر نہیں لازم، بلکہ کس پر لازم ہے؟ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
یا دوسری صورت بھئی، کہ صلح کرتا ہے بَاضِ دَيْنِ پر۔ ایک آدمی نے میرے اوپر پچاس لاکھ کا دعویٰ کر دیا، میں نے آپ کو وکیل بنا کر بھیجا کہ جاؤ بھئی! پچاس لاکھ پر اس سے صلح کر لو۔ تو میں نے بَاضِ دَيْنِ پر صلح کے لیے آپ کو وکیل بنایا، کُل دَيْنِ پر یا بَاضِ دَيْنِ پر؟ بَاضِ دَيْنِ پر۔ بَاضِ دَيْنِ پر صلح کے لیے وکیل بنایا، تو اب یہ آپ جا کر اس کے ساتھ صلح کر لیتے ہیں، پچاس لاکھ پر صلح ہو گئی بھئی۔ تو یہ پچاس لاکھ کیا وکیل پر لازم ہوں گے یا موکل پر؟ کہتے ہیں بھئی دیکھو، اس صورت میں جب پچاس لاکھ پر صلح ہوئی، معلوم ہوا پچاس لاکھ اس نے معاف کر دیے، پچاس لاکھ اس نے کیا کر دیے؟ ان کا دعویٰ اس نے چھوڑ دیا، تو یہ جو دعویٰ چھوڑا پچاس لاکھ کا، اس کا نفع کس کو ہوا؟ وکیل کو یا موکل کو؟ موکل۔ تو نفع جب موکل کو ہو رہا ہے، تو جو مال بھی لازم ہوگا وہ کس پر ہوگا؟ موکل ہی پر ہوگا، وکیل پر نہیں ہوگا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ یہ معنی ہے۔
وَبَدَلُ الصُّلْحِ عَنْ دَمِ عَمد سے جو بَدَلُ صلح آیا، بھئی صلح ہوئی اور اس کا جو بدل دیا مال دیا، کس سے صلح ہوئی ہے دَمِ عَمد سے، اَوْ عَلَى بَاضِ دَيْنٍ يَدَّعِيهِ، یا صلح ہوئی ہے کس پر بھئی؟ بَاضِ دَيْنِ پر، جس کا وہ دعویٰ کر رہا تھا، اس بَاضِ دَيْنِ پر۔ دعویٰ مثلاً کتنے کا تھا؟ پچاس لاکھ، اور بَاضِ دَيْنِ کتنا ہے؟ پچاس لاکھ پر صلح ہوئی ہے، تو اس صورت میں يَلْزَمُ الْمُوَكِّلَ، دونوں صورتوں میں یہ بَدَلُ صلح کس پر لازم ہوگا؟ یہ خبر ہے۔ بَدَلُ الصُّلْحِ مبتدا تھا، اور يَلْزَمُ الْمُوَكِّلُ اس کی خبر ہے۔ اس صورت میں یہ بَدَلِ صلح کس پر لازم ہوگا؟ موکل پر، لَا وَكِيلَهُ، وکیل پر لازم نہیں۔
لِأَنَّ الصُّلْحَ فِي هَاتَيْنِ الصُّورَتَيْنِ لَيْسَ بِمَنْزِلَتِ الْبَيْعِ، اس لیے کہ صلح ان دونوں صورتوں کے اندر بَیع کے درجے میں نہیں ہے، اَمَّا فِي الْأَوَّلِ فَظَاهِرٌ، پہلی صورت کے اندر تو ظاہر ہے بھئی، دَمِ عَمد والی صورت میں تو ظاہر ہے، ایک طرف سے مال ہے، دوسری طرف سے مال نہیں، تو بَیع نہیں بن سکتی۔ وَأَمَّا فِي الثَّانِي، دوسری صورت کے اندر تو بھئی ایک طرف سے پچاس لاکھ کا دعویٰ ہے، دوسری طرف سے پچاس لاکھ چاہ رہے ہیں، تو یہ تو بَیع بن سکتی ہے، کہتے ہیں بھئی فَلِأَنَّهُ أَخْذُ الْبَعْضِ وَحَطُّ الْبَاقِي، بھئی اس لیے نہیں بن سکتی، اس لیے کہ اس کے اندر بَعْض کا لینا ہے اور باقی کو چھوڑ دینا ہے، فَيَرْجِعُ الْحُقُوقُ إِلَى الْمُوَكِّلِ، تو اس صورت میں لہٰذا حقوق کس کی طرف لازم ہوں گے، لوٹیں گے؟ موکل کی طرف۔ إِلَّا أَنْ يَضْمَنَهُ، اِلَّا اَنْ يَضْمَنَهُ، اَيِ الْوَكِيلُ، مگر یہ کہ ضمانت دے دے اس کو بھئی، وکیل بھئی، وکیل کیا کرے؟ ضمانت دے دے۔ اگر ضمانت دے دی تو اب اس پر مال آئے گا، لیکن کس اعتبار سے؟ ضمانت کی وجہ سے مال آئے گا۔ بھئی! میں نے وکیل کو بھیجا، اس نے میرے اوپر کیا کیا؟ صلح چاہے دَمِ عَمد میں تھی یا کس کے اندر تھی؟ بَاضِ دَيْنِ کے اندر تھی۔ پچاس لاکھ کا دعویٰ تھا، میں نے کہا جا کر پچاس لاکھ پر صلح کر لو، اس نے صلح کر لی، اور دونوں صورتوں میں وکیل ضمانت بھی دے دیتا ہے کہ یہ پچاس لاکھ وصول کر کے دینا کس کی ذمہ داری؟ اگر موکل نے نہ دیے تو میں دوں گا، تو اب تو اس نے باقاعدہ ضمانت دے دی ہے، تو اب اس پر لازم ہوں گے، لیکن اس وجہ سے نہیں کہ وہ وکیل ہے، اس وجہ سے کہ وہ کفیل ہے۔
إِلَّا أَنْ يَضْمَنَهُ الْوَكِيلُ، مگر یہ کہ ضمانت دے دے اس کو وکیل، فَحِينَئِذٍ يَكُونُ الْبَدَلُ عَلَيْهِ لِأَجْلِ الْكَفَالَةِ، تو اس صورت میں بدل وکیل پر آئے گا، کس وجہ سے؟ لِأَجْلِ الْكَفَالَةِ کی وجہ سے بھئی۔ وَفِيمَا هُوَ كَبَيْعٍ لَزِمَ وَكِيلَهُ، اور ان صورتوں صلح کی ان صورتوں کے اندر کہ وہ بَیع کی طرح ہوں، لَزِمَ وَكِيلَهُ، تو بَدَلِ صلح کس پر لازم ہوگا؟ وکیل پر۔ اَيْ فِيمَا يَكُونُ صُلْحًا عَنْ مَالٍ عَلَى مَالٍ مِنْ غَيْرِ جِنْسِ الْمُصَالَحِ عَنْهُ، اس صورت کے اندر کہ صلح کب؟ صلح ہو مال سے، اور کس پر صلح ہو؟ عَلَى مَالٍ، مال پر صلح ہو، مِنْ غَيْرِ جِنْسِ الْمُصَالَحِ عَنْهُ، لیکن جبکہ مصالح عنہ کی جِنس میں سے نہ ہو، دعویٰ اس کا کس کا تھا؟ جی! بھئی دعویٰ تھا اس کا، مثلاً دعویٰ اس نے کیا تھا گاڑی کا، اور میں کیا دے رہا ہوں اس کو؟ پیسے دے رہا ہوں، تو جِنس ایک ہے یا الگ الگ ہے؟ الگ الگ۔ تو مصالح عنہ ہے گاڑی، اور مصالح علیہ کیا ہے؟ دِرْھَم و دَنَانِير ہیں، تو اس صورت کے اندر یہ بَیع بن جائے گی بھئی، اور بَیع بنے گی، جبکہ مال کیا ہو؟ وہ مال کیا ہو؟ صلح کس پر ہو بھئی؟ بھئی اس نے دعویٰ کس کا کیا تھا؟ گاڑی، تو گاڑی ہوئی مصالح عنہ، یہ بھی مال ہے، اور میں نے عِوَض کیا دیا؟ دِرْھَم و دَنَانِير دیے، تو وہ بھی مال ہے، اور مصالح- یہ مصالح علیہ ہوا، اور دونوں کی جِنس ایک ہے یا الگ الگ ہے؟ الگ الگ ہے، نِیْز وَيَكُونُ مَعَ إِقْرَارٍ، کہ صلح بھی کس کے ساتھ ہو؟ بھئی اقرار کی صورت میں ہی بَیع بنتی تھی یا باقی صورتوں میں بھی بَیع بن جاتی تھی؟ اقرار والی صورت میں۔ تو اس صورت میں یہ جو بَدَلِ صلح ہے، جب وہ بَیع بن جائے گا اور اس کے لیے ضروری ہے کہ مصالح علیہ اور مصالح عنہ کی جِنس الگ الگ ہو، اور کس کے ساتھ ہو صلح؟ اِقْرَارِ کے ساتھ ہو، اس صورت میں یہ بَیع بن گئی اور بدل کس پر آئے گا؟ وکیل پر لازم آئے گا۔ صورت سمجھ میں آئی؟
وَإِنْ صَالَحَ فُضُولِيٌّ وَضَمِنَ الْبَدَلَ أَوْ أَضَافَ إِلَى مَالِهِ أَوْ أَشَارَ إِلَى نَقْدٍ، یہ نَقْدٍ لفظ ہے بھئی۔ أَوْ أَشَارَ إِلَى نَقْدٍ أَوْ عَرْضٍ بِلَا نِسْبَةٍ إِلَى نَفْسِهِ، أَوْ أَطْلَقَ وَنَقَدَ، صَحَّ، وَإِنْ لَمْ يَنْقُدْ، إِنْ أَجَازَهُ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ لَزِمَهُ الْبَدَلُ وَإِلَّا رُدَّ۔ فُضُولِي جانتے ہو یا نہیں جانتے بھئی؟ جو شخص آپ کی طرف سے کوئی عقد وغیرہ کرتا ہے اور آپ نے اسے وکیل نہیں بنایا، آپ نے اس کام کا اسے حکم نہیں دیا، وہ کیا کہلاتا ہے؟ فُضُولِي کہلاتا ہے، یعنی ایک اجنبی ہے۔
ایک شخص ہے، صورت دیکھو ادھر۔ ایک شخص نے میرے اوپر دعویٰ کر دیا کہ یہ گھر میرا ہے جو آپ کے پاس ہے، اس نے دعویٰ کیا ایک اجنبی شخص یعنی جسے میں نے حکم نہیں دیا، کوئی میرا جاننے والا، وہ کیا کرتا ہے اس کے ساتھ جا کر صلح کر لیتا ہے۔ لیکن صلح کے اور صلح کے اندر بھئی، جو بَدَلِ صلح ہے اس کی نسبت اپنی طرف کرتا ہے۔ مثلاً کیا کہتا ہے کہ صلح کر لو بھئی، اس مکان کو کیا کرو؟ اس کا دعویٰ چھوڑ دو، اور اس کے عِوَض میں آپ کو یہ اپنے دَس لاکھ روپے دے دیتا ہوں، تو نسبت کس کی طرف گئی؟ بَدَلِ صلح کی نسبت کہ میں اپنے میں سے مال میں سے یہ بَدَلِ صلح دیتا ہوں، چاہے وہ اب سامان ہو، مثلاً کہے میں آپ کو بدلے میں اپنا یہ گھر دے دیتا ہوں، یا وہ نَقْدِی ہو، میں اپنے یہ دَس لاکھ آپ کو دے دیتا ہوں، تو اپنی طرف نسبت کر دیتا ہے، بَدَلِ صلح کی نسبت کس کی طرف کرتا ہے؟ اپنی طرف کہ یہ میرے مال میں سے ہے۔ یا اپنی طرف نسبت نہیں کرتا، بلکہ اس کی طرف اشارہ کر دیتا ہے کہ آپ صلح کر لیں، عِوَض میں آپ کو یہ والی گاڑی دوں گا، یا عِوَض میں آپ کو میں یہ والے پیسے جو پڑے ہیں آپ کو دوں گا، اشارہ کر دیتا ہے۔ تو یہ صلح صحیح ہے، مولانا! کیا ہے؟ اور وہ اس وہ دے دیتا ہے، ادائیگی کر دیتا ہے، تو صلح صحیح ہو گئی، یا مولانا مطلقاً صلح کرتا ہے، اپنی طرف بھی نسبت نہیں کرتا کہ میں اپنی گاڑی آپ کو دوں گا عِوَض میں، یہ اور اشارہ بھی نہیں کرتا کہ یہ والی گاڑی آپ کو میں دے دوں گا، بلکہ مطلق کہتا ہے کہ صلح کر لو وہ جو آپ نے مکان کا دعویٰ کیا ہے کتنے پر صلح کر لو؟ دَس لاکھ پر صلح کر لو۔ اب اس دَس لاکھ کی نسبت اس نے اپنی طرف کی کہ میرے ہیں یہ، کہ میرے دَس، میں تمہیں اپنی طرف سے دَس لاکھ دے دوں گا، نہیں بھئی، نسبت نہیں کی بھئی۔ اا۔۔۔ اا، یا۔ جی! اشارہ بھی نہیں کیا کہ یہ والے دَس لاکھ، مطلق ذکر کیا بھئی کہ دَس لاکھ پر صلح کر لو۔
تو کہتے ہیں بھئی، اگر صلح وہ دَس لاکھ ادا کر دیتا ہے، تو بھی صلح صحیح، لیکن اگر مطلق ذکر کیے اور ادائیگی نہیں کی، تو اس صورت میں مُدَّعٰی عَلَيْهِ پر موقوف ہے، اگر وہ قبول کر دیتا ہے اس صلح کو، تو اس پر وہ مال لازم ہو جائے گا، اور اگر قبول نہیں کرتا تو کیا ہو جائے گا یہ؟ رد ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ یہ معنی ہے۔ وَإِنْ صَالَحَ فُضُولِيٌّ وَضَمِنَ الْبَدَلَ، اور صلح کی ایک فضولی نے، عَنْ جَانِبِ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ، کس کی طرف سے؟ مدعی علیہ کی جانب سے، مَعَ الْمُدَّعِي، کس کے ساتھ صلح کی؟ مدعی کے ساتھ، وَضَمِنَ بَدَلَ الصُّلْحِ، اور ضامن ہوا بدل صلح کا، أَوْ قَالَ، یا یوں کہا، دیکھیں اپنی طرف نسبت کرے گا۔ صَالَحْتُكَ عَلَى أَلْفِ دِرْهَمٍ مِنْ مَالِي، میں تجھ سے صلح کرتا ہوں ایک ہزار درہم پر اپنے مال میں سے، أَوْ عَلَى أَلْفِ هَذَا، یا اس ایک ہزار پر جو میرے ہیں، ألفی اپنی طرف نسبت کر رہا ہے یا نہیں؟ یعنی أَوْ عَلَى أَلْفِ هَذَا، یعنی یا یہ میرے جو ہزار ہیں اس پر میں صلح کرتا ہوں، أَوْ عَلَى عَبْدِ هَذَا، یا یہ جو میرا غلام ہے اس پر صلح کرتا ہوں، تو دیکھو اپنی طرف نسبت کر رہا ہے۔ أَوْ قَالَ، یا دیکھیے مولانا اب اشارہ کرے گا۔ کہتا ہے صَالَحْتُكَ عَلَى هَذَا الْأَلْفِ، میں تیرے ساتھ صلح کرتا ہوں اس ایک ہزار درہم پر، أَوْ عَلَى هَذَا الْعَبْدِ، یا میں تیرے ساتھ صلح کرتا ہوں اس غلام پر، تو دیکھو نقدی بھی ذکر کر رہا ہے تو بھی یہی حکم ہے، یا سامان یعنی غلام ذکر کر رہا ہے تو بھی یہی حکم۔ اچھا، مِنْ غَيْرِ، تو دیکھو اس میں اشارہ کر رہا ہے مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْسُبَهُمَا إِلَى نَفْسِهِ، بغیر اس کے کہ ان کی نسبت کس کی طرف کرے؟ اپنی طرف کرے، اپنی طرف نسبت کیے بغیر صرف اشارہ کیا اس نے۔ أَوْ أَطْلَقَ، یا کیا کرتا ہے؟ مطلق چھوڑتا ہے، یعنی نہ اشارہ کرتا ہے اور نہ اپنی طرف نسبت کرتا ہے، وَقَالَ، اور کہتا ہے صَالَحْتُكَ عَلَى أَلْفِ دِرْهَمٍ، میں تیرے ساتھ صلح کرتا ہوں ایک ہزار درہم پر، وَنَقَدَهُ، اور کیا کر دیے اس نے؟ نقد بھی دے دیے، ادائیگی بھی کر دی۔ فَفِي هَذِهِ الصُّورَةِ، تو اس تمام صورتوں کے اندر صَحَّتِ الصُّلْحُ، صلح کیا ہو جائے گی؟ صحیح۔ اور یاد رکھو، یہ فضولی کی طرف سے احسان شمار ہوگا، لہٰذا اب وہ مدعی علیہ پر رجوع نہیں کر سکتا کہ میں نے آپ کی طرف سے اتنا مال صلح میں دیا تھا، اب مجھے کیا کرو آپ ادائیگی کرو۔ بھئی! اس نے کوئی حکم دیا تھا دینے کا؟ نہیں بھئی۔
وَإِنْ لَمْ يَنْقُدِ الْأَلْفَ، اور اگر اس نے صلح تو کر لی ہزار مطلق پر، لیکن ادائیگی نہیں کی، تو کہتے ہیں إِنْ أَجَازَهُ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ، تو اگر اجازت کس نے دے دی؟ مدعی علیہ نے اجازت دے دی، لَزِمَهُ الْبَدَلُ، تو اس پر لازم ہو جائے گا وہ ہزار، وَإِلَّا فَلَا، اور اگر نہیں کی، تو اس پر لازم بھی نہیں ہوگا۔ چلیے مولانا! ہذا هو المرام، واللہ اعلم بحقيقة الكلام۔