Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الوقاية جزء ثالث · dars-105

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 23 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 11
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وَصُلْحُهُ عَلَى بَعْضِ جِنْسِ مَالِهِ عَلَيْهِ أَخْذٌ لِبَعْضٍ، أَخْذٌ لِبَعْضِ حَقِّهِ وَحَطٌّ لِبَاقِيهِ لَا مُعَاوَضَةً، لِأَنَّ بَعْضَ الشَّيْءِ لَا يَصِحُّ عِوَضاً لِلْكُلِّ. أچھا بھئی! اب وہ صورتیں ذکر کریں گے بھئی کہ دونوں طرف ایک ہی جنس کا مال ہو بھئی۔ یعنی جو دین تھا وہ بھی اس جنس کا ہے اور جس صلح جس پر کی وہ بھی اسی جنس پر کی بھئی۔ تو اس صورت میں کیا حکم ہے؟ کیا معاوضے والا حکم دیا جائے گا اسے یا ابرا والا حکم دیا جائے گا؟ مثلاً دیکھو ایک آدمی نے میرا پچاس لاکھ دین دینا تھا اس سے میں نے پچیس لاکھ پر صلح کر لی تو دونوں طرف ایک ہی جنس ہے دین بھی کیا تھا روپے تھے اور صلح بھی کس پر ہوئی ہے روپے پر ہوئی ہے بھئی۔ تو کیا اب اس کو عوض قرار دیں گے معاوضہ قرار دیں گے کہ میں نے پچیس لاکھ بھئی اس کا عوض کیا وصول کر لیا؟ پچاس لاکھ، پچاس لاکھ کا عوض میں نے کیا وصول کر لیا؟ تو کیا اسے معاوضے کا حکم دیں گے یا ابرا کا حکم دیں گے کہ میں نے پچیس لاکھ کیا کر دیے وصول کر لیے اور پچیس لاکھ معاف کر دیے بھئی۔ کہتے ہیں بھئی اس صورت میں یاد رکھو جب کہ صلح اسی جنس کی چیز پر ہو تو یہ ابرا کا حکم دیں گے اسے کیا دیں گے؟ ابرا کا حکم دیں گے جبکہ بعض لیا ہو اور بعض چھوڑ دیا تو بعض کو گویا اس نے وصول کر لیا اور بعض کو کیا کر دیا معاف کر دیا تو یہ معاوضہ نہیں اس لیے کہ وصول جو دین تھا وہ پچاس لاکھ تو کل تھا پچاس لاکھ اور وصول جو کیا وہ بعض ہے اور بعض کل کا عوض نہیں ہو سکتا۔ یہ معنی ہے وصُلْحُه اور مدعی کا صلح کرنا عَلى بَعْضِ جِنْسِ مَالِهِ عَلَيْهِ اپنے مال کی جنس کے بعض پر جو اس کا اپنا مال تھا اس کی جنس عَلَيْهِ کس پر تھا؟ مدعا جو اس کا اپنا مال مدعا علیہ تھا اس کی جنس پر ہی لیکن کس کے ساتھ بعض کے ساتھ یہ صلح کر لینا یہ أَخْذٌ لِبَعْضِ حَقِّهِ یہ یہ کیا ہے؟ اپنے بعض حق کو لے لینا ہے وَحَطٌّ لِبَاقِيهِ اور باقی کو چھوڑ دینا ہے لَا مُعَاوَضَةً یہ معاوضہ نہیں ہے صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ کہ دین بھی وہی جنس تھی اور صلح میں بھی وہی جنس لے رہا ہے لیکن بعض جنس لے رہا ہے تو کیا اسے معاوضے کا حکم دیں یا بعض کا لینا اور بعض کا چھوڑ دینے کا حکم دیں تو کہتے ہیں بھئی اسے معاوضے کا حکم نہیں دیں گے بلکہ گویا اس نے بعض حق وصول کر لیا اور بعض حق کو کیا کر دیا؟ چھوڑ دیا۔ لِأَنَّ بَعْضَ الشَّيْءِ لَا يَصِحُّ عِوَضاً لِلْكُلِّ اس لیے کہ بعض شے جو ہے وہ صحیح نہیں کہ عوض بن جائے کل کے لیے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہاں پر ضابطہ یاد رکھو مولانا! ضابطہ کہ اگر احسان صرف دائن کی طرف سے ہے۔ احسان اگر صرف دائن کی طرف سے ہے تو یہ صلح صحیح ہے اور یہ اسقاط ہے مولانا! یہ کیا ہے؟ اسقاط ہے، جلدی جلدی لکھ لو بھئی قیمتی ضابطہ ہے آگے کئی مسائل میں آئے گا۔ اگر احسان صرف دائن کی طرف سے ہو تو یہ صلح صحیح ہے اور یہ اسقاط ہے باقی کا۔ اور یہ اسقاط ہے باقی کا۔ اور اگر احسان دائن اور مدیون دونوں کی طرف سے پایا جائے تو یہ معاوضہ ہے۔ اور اگر احسان دائن اور مدیون دونوں کی طرف سے پایا جائے تو یہ معاوضہ ہے۔ لہٰذا معاوضے کے احکام جاری ہوں گے۔ لہٰذا معاوضے کے احکام جاری ہوں گے۔ اور سود اور شبہ سود کی صورت میں معاوضہ فاسد ہوگا ورنہ نہیں۔ اور سود اور شبہ سود کی صورت میں معاوضہ فاسد ہوگا ورنہ نہیں۔ یا یوں لکھ لو ربا اور شبہ ربا کی صورت میں معاوضہ فاسد ہوگا ورنہ نہیں۔ اور سود یا شبہ سود کی صورت میں معاوضہ کیا ہوگا؟ فاسد ہوگا ورنہ اب اگلے ضابطے اگلے مسئلے آپ نے بتلانے ہیں ضابطہ میں نے کیا لکھوایا؟ احسان اگر صرف کس کی طرف سے ہو؟ دائن کی طرف سے تو یہ اسقاط ہے اور یہ صلح درست ہے اور اگر احسان دائن اور مدیون دونوں کی طرف سے پایا جا رہا ہے تو اس صورت میں یہ معاوضہ ہے اور اس صورت میں معاوضے کے احکام جاری ہوں گے اور جہاں سود یا شبہ سود آئے گا تو وہ معاوضہ فاسد ہوگا۔ دیکھیے بھئی! صورت پہلے صورت بھئی! بھئی ایک آدمی نے دوسرے کا کتنا دینا ہے؟ ہزار درہم دین دینا ہے بھئی۔ کتنا دینا ہے؟ ایک ہزار درہم دین دینا ہے اور وہ دین خالی ہے یعنی فوری دینا ہے کیا کرنا ہے؟ فوری دینا ہے اس کا دوسرا اس کے ساتھ صلح کر لیتا ہے سو درہم خالی پر تو یہ صلح صحیح ہے یا صلح صحیح نہیں؟ دین کتنا تھا؟ ایک سو درہم اور کس قسم کے خالی تھے یا موجل تھے؟ فوری ادائیگی تھی بھئی تو اور صلح کس پر ہوئی ہے؟ ایک سو درہم پر اور یہاں بھی ادائیگی فوری ہے موجل نہیں تو اب دیکھو احسان صرف کس کی طرف سے ہے؟ دائن کی طرف سے احسان ہے کہ وہ کتنے چھوڑ رہا ہے؟ نو سو چھوڑ رہا ہے نو سو کیا کر رہا ہے؟ تو یہ اسقاط ہوا لہٰذا یہ صلح کیا ہوئی؟ صحیح ہوئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ دوسری صورت بناؤ۔ ایک ہزار درہم دین ہے اور فوری ادائیگی ہے لیکن وہ صلح کر لیتا ہے ایک ہزار درہم پر جو چھ ماہ بعد ملیں گے۔ دین کیا تھا؟ دین خالی تھا لیکن صلح کس پر ہوئی ہے؟ اسی مقدار پر لیکن کیا کر دیا اسے موجل کر دیا تو یہ صلح بھی صحیح کیونکہ احسان صرف دائن کی طرف سے پایا گیا کیا؟ پہلی صورت میں اس نے نو سو کا مال چھوڑا تھا اور اس صورت میں اس نے اجل میں کیا کیا ہے؟ اجل کو ساقط کیا ہے اور وقت اسے دے دیا وقت ادائیگی تو فوری تھی لیکن اس نے حلول کو کیا کر دیا؟ ساقط کر دیا اور اسے کیا دی گئی؟ مہلت دے دی ہاں مال میں کمی نہیں کی مال پہلے بھی دین ہزار تھا اور اب بھی کتنا ہے؟ لیکن پہلے تھا فوری اب کب آئی ادائیگی؟ مثلاً چھ مہینے بعد اجل کے ساتھ ہو گئی تو احسان صرف کس کی طرف سے ہے؟ دائن کی طرف سے لہٰذا یہ دونوں صورتیں صحیح ہے اسقاط ہے دیکھیے بھئی! فَصَحَّ عَنْ أَلْفٍ حَالٍّ فصحی ہے صلح کرنا ایک ہزار خالی سے عَلى مِائَةٍ حَالَّةٍ کتنے پر؟ ایک سو درہم خالی پر سمجھ میں آیا تو اس صورت میں اسقاط صرف کس کا ہے؟ جی؟ سو سے زائد کا اس نے یعنی نو سو کا اسقاط کر دیا أَوْ عَلَى أَلْفٍ مُؤَجَّلٍ یا صلح کرتا ہے کتنے پر بھئی الف مؤجل پر تو یہ بھی صحیح ہے فَفِي الْأَوَّلِ تو پس پہلی صورت کے اندر بھئی کہ جب اس نے صلح کی تھی سو پر يَكُونُ إِسْقَاطاً لِمَا فَوْقَ الْمِائَةِ وہ اسقاط ہے کس چیز کا؟ ما فوق ال سو سے زائد کا اسقاط ہے وَفِي الثَّانِي يَكُونُ إِسْقَاطاً لِوَصْفِ الْحُلُولِ اور ثانی میں جبکہ اس نے الفِ خالی پر صلح الفِ حالی سے صلح کر لی کس پر؟ الفِ مؤجل پر تو اس صورت میں يَكُونُ إِسْقَاطاً لِوَصْفِ الْحُلُولِ اسقاط ہے کس وصف کا؟ حلول کے وصف کا اسقاط ہے بھئی۔ تیسری صورت۔ بھئی دیکھو ایک آدمی نے میرا دین دینا ہے ایک سو ایک ہزار کھرے درہم میں اس سے صلح کر لیتا ہوں ایک سو کھوٹے درہموں پر تو یہ بھی صحیح ہے بھئی کیونکہ احسان صرف کس کی طرف سے پایا جا رہا ہے؟ دائن کی طرف سے کیسے؟ کہ میں نے نو سو بھی معاف کر دیے اور تو اصل کے اندر بھی کمی کر دی اور صفت میں بھی کمی کر دی بھئی تو نو سو درہم کو بھی میں نے ساقط کر دیا اور جودت یعنی کھرے پن کے وصف کو بھی میں نے کیا کر دیا؟ ساقط کر دیا اور سو کھوٹوں پر تو احسان صرف کس کی طرف سے ہے؟ ہاں نو سو جو چھوڑ رہا ہے وہ بھی دائن چھوڑ رہا ہے جودت کا وصف جو چھوڑ رہا ہے وہ بھی کون چھوڑ رہا ہے؟ دائن کا حق تھا وہ چھوڑ رہا ہے یہ معنی ہے۔ وََعَنْ أَلْفٍ أَيْ صَحَّ عَنْ أَلْفِ جِيَادٍ عَلَى مِائَةِ ضُيُوفٍ کس کے بدلے میں؟ ایک سو ضیوف کے بدلے میں کھوٹوں کے بدلے میں لِأَنَّهُ يَكُونُ إِسْقَاطاً لِمَا فَوْقَ الْمِائَةِ اس لیے کہ یہ اسقاط ہے کس چیز کا جو سو سے اوپر سے ان کو ساقط کر دیا وَإِسْقَاطاً لِوَصْفِ الْجَوْدَةِ اور اسقاط ہے کس چیز کا؟ کھرے پن کے وصف کا بھی فِي الْمِائَةِ مِیا کے اندر اچھا وہ کہتے ہیں فَفِي هَذِهِ الصُّوَرِ يَصِحُّ الصُّلْحُ ان تین صورتوں میں صلح کیا ہو جائے گی؟ صحیح ہو جائے گی۔ وَلَا يُشْتَرَطُ قَبْضُ بَدَلِ الصُّلْحِ اور شرط نہیں لگائی جائے گی بدل صلح پر قبضے کی بھئی یہ شرط ہم نہیں لگائیں گے کہ اسی مجلس میں بدل صلح پر قبضہ کرو بھئی۔ پہلی صورت کیا تھی؟ ایک ہزار فوری تھے ان پہ ان سے صلح کر لی کتنے پر؟ ایک سو فوری پر صورت سمجھ میں آئی؟ دوسری صورت کیا تھی؟ ایک ہزار فوری تھے ان پر صلح کر لی ایک ہزار موجل پر۔ تیسری صورت ایک سو کھرے تھے ان سے صلح کر لی کتنے پر؟ ایک سو کھوٹوں پر تو اب اس صورت میں احسان صرف کس کی طرف سے پایا گیا؟ دائن کی طرف سے لہٰذا یہ اسقاطات ہیں معاوضہ نہیں۔ جب اسقاط ہے تو اسقاط کا حکم جاری ہوا اور صحیح اگر یہ معاوضہ ہوتا تو ایک طرف سے بھی ثمن ہیں کس سے صلح کر رہا ہوں ہزار سے اور وصول کیا کر رہا ہوں وہ بھی ثمن ہے مولانا اور دونوں طرف سے ثمن ہوتے تو یہ معاوضہ بن جاتا ہوائی اور معاوض تو یہ بیع صرف بن جاتی اور بیع صرف میں آپ نے کیا پڑھا ہے کہ مجلس کے اندر ہی قبضہ عوضین پر ضروری تو یہاں پر مجلس ہی میں اس عوض پر قبضہ شرط ہوتا لیکن یہاں معاوضے کا حکم دیا ہم نے نہیں کیوں نہیں دیا؟ کیونکہ احسان صرف کس کی طرف سے پایا جا رہا ہے؟ دائن کی طرف سے مدیون نے کسی چیز کو نہیں چھوڑا بھئی سمجھ میں آیا ہاں آگے اب صورتیں آئیں گی جس میں کچھ چیز دائن چھوڑتا ہے تو کچھ چیز مدیون چھوڑتا ہے وہاں معاوضے کا حکم ہوگا تو پھر اس صورت میں وہاں معاوضے والے احکام جاری ہوں گے۔ مثلاً دیکھیے بھئی! اچھا تو चूंकि یہ اسقاط ہے اسی لیے کہا وَلَا يُشْتَرَطُ قَبْضُ بَدَلِ الصُّلْحِ شرط نہیں لگائی جائے گی بدل صلح پر قبضے کی کیونکہ یہ بدل نہیں ہے بلکہ یہ تو اسقاط ہے کیا ہے؟ اسقاط ہے جی۔ وَلَمْ يَصِحَّ اچھا صورت مسئلہ یہ ایک شخص نے میرے ایک ہزار دراہم دینے ہیں کتنے دینے ہیں؟ ایک ہزار دراہم دینے ہیں اور دراہم بھی دراہم ہیں فوری دراہم کس کے قسم کے ہیں؟ فوری ہیں اور میں اس سے صلح کر لیتا ہوں کس کے پر بھئی؟ دَنَانِيرَ پر کس پر؟ اور دَنَانِيرُ موجل ہوتے ہیں مثلاً بھئی اس نے دینے ہیں میرے ایک ہزار۔ جی؟ ایک ہزار اس نے میرے فوری دینا ہے ابھی لیکن میں اس سے صلح کر لیتا ہوں کہ چلو مجھے پچاس درہم دے دے پچاس دينار دے دینا اور کب دینا؟ چھ ماہ کے بعد دینا کیا کرنا؟ چھ ماہ کے بعد تو اب میں وہی جنس لے رہا ہوں یا دوسری جنس لے رہا ہوں؟ دوسری جنس جب دوسری جنس لے رہا ہوں تو اب اس صورت میں یہ اسقاط ہے یا معاوضہ ہے؟ کیا ہوا؟ معاوضہ بھئی جنس بدل گئی چھ درہم لے کیا رہا ہوں صلح میں دینار تو جنس بدل گئی جب جنس بدل گئی تو اب اسقاط ہم اسے بنا سکتے ہیں؟ اب اسے اسقاط نہیں بنا سکتے تو اسے کیا بنائیں گے ہم؟ معاوضہ اور جب معاوضہ ہے تو معاوضے کے احکام جاری ہوں گے اور یہ عقدِ صرف ہو گیا اور عقدِ صرف کی صورت میں عوضین پر اسی مجلس میں قبضہ ضروری تو لہٰذا جس مال پر صلح ہوئی ہے اسی مجلس میں اس پر قبضہ ضروری لہٰذا دَنَانِيرَ مُؤَجَّلَةً پر صلح کرنا صحیح ہاں دَنَانِيرَ حَالَّةً حالی پر صلح کرنا صحیح ہے۔ هَذَا مَعْنَى وَلَمْ يَصِحَّ صحیح ہے نہ صحیح نہیں ہے صلح عن دراهم کس سے صلح ہو؟ اس دراہم سے ہے اور کس پر ہے عَلَى دَنَانِيرَ مُوَجَّلَاتٍ کس پر ایسے درانیر پر جو موجل ہیں لِأَنَّ هَذَا الصُّلْحَ مُعَاوَضَةٌ کیونکہ یہ صلح معاوضہ ہے فَيَكُونُ صَرْفاً تو یہ کیا ہوا عقد صرف ہوا فَيُشْتَرَطُ قَبْضُ الدَّنَانِيرِ قَبْلَ الِافْتِرَاقِ تو شرط لگائی جائے گی دیناروں پر قبضے کی جدا ہونے سے پہلے مولانا صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ أَوْ عَنْ أَلْفٍ مُؤَجَّلٍ عَلَى نِصْفِهِ حَالًّا صورت ادھر دیکھو بھئی! حکم آپ نے بتلانا ہے۔ ایک شخص نے میرے ایک ہزار درہم دینے ہیں لیکن چھ ماہ بعد کب دینے ہیں؟ چھ ماہ بعد تو اس پر میرے الف مؤجل تھے الفِ مؤجل اب میں اس کے ساتھ صلح کرتا ہوں کہ چلو مجھے 500 درہم دے دو لیکن فوری دے دو۔ چھ ماہ بعد کتنے دینے ہیں؟ ایک ہزار اور فوری کتنے دے دو؟ 500 تو صلح کس سے ہوئی الفِ مؤجل سے اور کس پر ہوئی؟ 500 خالی پر تو کیا یہ صلح صحیح ہے یا صلح صحیح نہیں؟ بھئی دیکھو بھئی! وہی حکم جاری کرو بھئی کہ اسقاط کہ احسان دونوں کی طرف سے ہے یا ایک کی طرف سے ہے؟ آپ دیکھیں۔ آپ دیکھیں۔ دائن میں جو ہوں اپنا حق چھوڑ رہا ہوں کتنا حق چھوڑ رہا ہوں؟ 500 درہم چھوڑ رہا ہوں اور مدیون بھی اپنا حق چھوڑ رہا ہے۔ کیا؟ اجل کو چھوڑ رہا ہے اجل اس کا حق تھا کہ وہ کب دے؟ چھ ماہ بعد یہ اس کا حق تھا لیکن یہ کیا کر رہا ہے اپنے حق کو چھوڑ رہا ہے تو احسان کس کی طرف سے آیا؟ دونوں کی طرف سے آیا لہٰذا یہ کس کا حکم ہے؟ معاوضے کا حکم ہے لہٰذا یہ صلح صحیح نہیں کیونکہ 500 ایک ہزار کا عوض ربا لازم آئے گا ایک طرف ایک ہزار درہم ہیں دوسری طرف 500 دراہم ہیں تو یہ کیا لازم آئے گا؟ ربا تو یہ صلح صحیح نہیں۔ یہ معنی ہے بھئی! وَعَنْ أَوْ عَنْ أَلْفٍ مُؤَجَّلٍ عَلَى نِصْفِهِ حَالًّا بھئی بیض۔ صورت مسئلہ یہ بھئی! دراہم کو کچھ دراہم سیاہ ہیں بھئی! کچھ درہم سفید بھئی! سفید لازمی بات ہے اعلى دراہم ہیں اور سیاھ دراہم کیا ہیں؟ ادنا درجے کے ہیں تو اب بھئی! ایک آدمی نے میرے ایک ہزار سیاہ دراہم دینے تھے۔ کس قسم کے دراہم دینے ہیں؟ ایک ہزار سیاہ دراہم دینے ہیں اس نے، میں اس سے صلح کر لیتا ہوں بھئی کہ بھئی پانچ سو سفید دراہم دے دو اس کے بدلے، صلح کر لو میرے ساتھ۔ تو صلح کس سے کر رہا ہوں؟ کتنے تھے اس پر؟ ایک ہزار سیاہ اور کس پر صلح کر رہا ہوں؟ پانچ سو سفید پر تو اس صورت میں بھی کہتے ہیں احسان دونوں طرف سے پایا گیا، کیوں؟ کیونکہ میں کتنا چھوڑ رہا ہوں؟ پانچ سو دراہم چھوڑ رہا ہوں تو وہ بھی کس چیز کو اپنے حق کو چھوڑ رہا ہے؟ دینے تو اس نے سیاہ تھے لیکن کیا دے رہا ہے؟ سفید تو اس صورت میں احسان دونوں کی طرف سے پایا گیا تو یہ عقد معاوضہ ہوا، لہذا اس صورت میں کیا لازم آئے گا؟ ربا۔ ایک طرف ہزار دراہم دوسری طرف پانچ سو۔ صورت سمجھ میں آئی تو یہ درست نہیں کیونکہ وصف کا اعتبار نہیں ہوتا بھئی آپ نے پڑھا ہے ربا کے اندر جنس ایک ہو تو وصف ایک اعلیٰ ہے ایک ادنیٰ کوئی فرق نہیں پڑتا بھئی دونوں میں کیا ہونی چاہیے؟ مساوات ہونی چاہیے۔ تو ایک طرف پانچ سو دراہم ایک طرف ہزار یہ ربا لازم آئے درست نہیں۔ یہ معنی ہے عَنِ أَلْفٍ سُودًا اور صلح کرنا ایک ہزار دراہم سے اس حال میں کہ سُودًا وہ سیاہ ہوں، سُود جمع ہے اسود کی مونث یہ حال واقع ہو رہا ہے ألف سے۔ وَعَلَى نِصْفِهِ یا کس سے کس پر صلح کی؟ عوض کیا وہ لے رہا ہے؟ نصف اس کا بیزًا یہ ابیض کی جمع ہے اس حال میں کہ یہ کیا ہیں؟ سفید۔ لِأَنَّهُ يَكُونُ مُعَاوَضَةَ أَلْفِ سُودٍ اِسْ صُورَة اِس لیے کہ اس صورت میں یہ کیا ہوگا؟ ألفِ سُود ایک ہزار سیاہ کا معاوضہ ہو جائے گا بِخَمْسِ مِئَةٍ کتنے کے ساتھ بھئی؟ پانچ سو کے ساتھ وَزِيَادَةِ وَصْفٍ اور ساتھ وصف کی زیادتی کی۔ سیاہ دینے تھے لیکن کس قسم کے دے رہا ہے؟ سفید تو وصف میں زیادتی ہوئی تو یہ احسان کس کی طرف سے ہوا؟ مدیون کی طرف سے اور پیسوں میں کمی ہوئی یہ احسان کس کی طرف سے ہوا؟ دائین کی طرف سے۔ وَمَنْ أُمِرَ بِأَدَاءِ نِصْفِ دَيْنٍ عَلَيْهِ غَدًا عَلَى أَنَّهُ بَرِيءٌ مِمَّا زَادَ إِنْ قَبِلَ وَوَفَى وَوَفَى بَرِيءٌ وَإِنْ لَمْ يَفِ عَادَ دَيْنُهُ بھئی ایک آدمی ہے دوسرے سے کہ دوسرے نے اس کا ایک ہزار درہم دین دینا ہے یہ اس سے کہتا ہے، کلام سننا بھئی۔ دیکھو شرم میں آرہا ہے ادِّ إِلَيَّ خَمْسَ مِئَةٍ غَدًا تو مجھے کتنے کل ادا کر دے؟ پانچ سو اگر کل تو مجھے ادا کر دے گا تو عَلَى أَنَّكَ بَرِيءٌ مِنَ الْبَاقِي تو باقی سے تو کیا ہوگا؟ بَرِیء ایک آدمی نے دوسرے سے کہا ہزار درہم دینا ہے وہ کہتا ہے اگر کل تو مجھے پانچ سو درہم دے دے تو باقی پانچ سو سے تو بَرِیء ہے بَرِیء ہے بھئی۔ تو دوسرے نے قبول کر لیا اور پھر کہتے ہیں اگر اس نے یہ بات پوری کر دی پانچ سو اگلے دن ادا کر دیے تو اس صورت میں باقی سے وہ بری ہو جائے گا اور اگر کل اس نے پانچ سو ادا نہ کیے تو باقی پھر دین پورا کا پورا آجائے گا اس پر، دین کیا آجائے گا؟ پورا۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ وَمَنْ أُمِرَ اور جس شخص کو حکم دیا گیا بِأَدَاءِ نِصْفِ دَيْنٍ عَلَيْهِ غَدًا کس چیز کا حکم دیا گیا؟ کہ وہ ادا کرے اس نصف دین کو جو اس پر ہے غَدًا کب ادا کرے؟ کل ادا کرے عَلَى اِس شرط پر کہ أَنَّهُ بَرِيءٌ مِمَّا زَادَ کہ وہ بری ہے اس سے زیادہ سے یعنی پانچ سو سے جو زائد ہے اس سے بَرِیء ہے، اِنْ قَبِیلَ اگر مدیون نے قبول کر لیا اس شرط کو وَوَفَى اور اس کو کیا کیا؟ شرط کو پورا کر دیا بَرِیء تو وہ کیا ہو جائے گا؟ بری ہو جائے گا باقی پانچ سو سے وَإِنْ لَمْ يَفِ اور اگر اس نے اس شرط کو پورا نہ کیا هَذَا دَيْنُهُ تو اس کا دین لوٹ آئے گا پھر ہزار ہو جائے گا۔ أَيْ إِنْ قَالَ اَدِّ إِلَيَّ خَمْسِ خَمْسِ مِئَةٍ ایک شخص نے دوسرے سے کہا کہ ادا کر دے مجھے تو پانچ سو بھئی غَدًا کل کے دن عَلَى أَنَّكَ اس شرط پر کہ اَنَّكَ بَرِيءٌ مِنَ الْبَاقِي کہ تو بری ہے باقی سے فَقَبِلَهُ دوسرے نے قبول کر لیا فَعَدَّا پس اس نے ادا بھی کر دیا بَرِیءَ تو وہ کیا ہو جائے گا؟ بری ہو جائے گا وَإِنْ لَمْ يُؤَدِّ خَمْسَمِئَةٍ اور اگر اس نے پانچ سو ادا نہ کیے فِ الْغَدِ اگلے دن کے اندر عَاَدَ دَيْنُهُ تو اس کا دین پھر ہزار لوٹ آئے گا۔ وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى یہ طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک ہے وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى لَا يَعُودُ دَيْنُهُ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں بھئی۔ اس کا دین نہیں لوٹے گا وہ کل ادا کرے یا ادا نہ کرے بھئی۔ کل ادا کرے یا ادا نہ کرے اس کا دین نہیں لوٹے گا۔ دراصل یہ اختلاف آیا لفظوں کی وجہ سے، کس کی وجہ سے؟ یہ جو اس نے لفظ ادا کیے تھے اس نے کہا تھا اَدِّ إِلَيَّ خَمْسِ حَدِّ إِلَيَّ خَمْسَمِئَةٍ غَدًا عَلَى أَنَّكَ بَرِيءٌ مِنَ الْبَاقِي یہ لفظ بھئی ان لفظوں کی وجہ سے کیا آیا اختلاف۔ طرفین کیا فرماتے ہیں؟ کہ ادا کے لیے اِبراء کے لیے ادا شرط ہے۔ اِبراء کے لیے ادا وہ بری کب ہوگا؟ ادا کر دے گا تو دونوں کے ایک یہ عَلَى آیا اور عَلَى شرط کے لیے آیا ہے یہاں پر تو اِبراء مقید ہوگا کس کے ساتھ؟ ادا کے ساتھ۔ ادا کرے گا تو اِبراء ہوگا ادا نہیں کرے گا تو اِبراء بھی امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں عَلَى عوض کے لیے آیا ہے شرط کے لیے نہیں آپ اصول فقہ میں پڑھ چکے ہیں کہ عَلَى کبھی کس پر داخل ہوتا ہے؟ عوض پر بھئی داخل ہوتا ہے بھئی، کس پر داخل ہوتا ہے؟ تو یہ بمعنی باء کے ہے کیونکہ باء بھی کس لیے آیا کرتی ہے؟ عوض کے لیے آیا کرتی ہے عوض پر داخل ہوتی ہے۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ عَلَى عوض کے لیے ہے بھئی عوض کے لیے۔ کیسے عوض کے لیے ہے دیکھیے بھئی کہتے ہیں دیکھو عَلَى داخل ہو رہا ہے ادا پر یا براءت پر؟ دیکھو عبارت دیکھو اَدِّ إِلَيَّ خَمْسَمِئَةٍ غَدًا عَلَى أَنَّكَ بَرِيءٌ مِنَ الْبَاقِي تو عَلَى کس پہ داخل ہوا؟ براءت پر داخل ہوا یا ادا پر داخل ہوا؟ کس پر؟ براءت پر اور براءت شرط نہیں بن سکتی۔ بھئی شرط تو کس کو بننا چاہیے تھا؟ ادا کو تو اگر یہ ادا پر داخل ہوتا تو ہم شرط بنا دیتے لیکن اس وقت یہ کس پر داخل ہو رہا ہے؟ براءت پر یہ شرط بن ہی نہیں سکتی۔ معنی یوں بن جائے گا۔ تو مجھے پانچ سو ادا کر دے اس شرط پر کہ تو کل بری ہے، بات کوئی بنی بھئی؟ بھئی عَلَى کا مابعد کو شرط بنائیں گے بھئی عَلَى شرط پر داخل ہوتا ہے تو اب وہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں معنی ہی صحیح نہیں بنتا کیسے نہیں صحیح بنتا؟ تو مجھے کتنے ادا کر؟ پانچ سو کس شرط پہ ادا کر؟ تو کل کے تو نصف سے کل بری ہے، یہ تو کوئی بات نہ ہوئی بھئی۔ ہاں اگر یوں کہتا اگر تو مجھے پانچ سو ادا کرے گا تو باقی سے تو بری ہے، تو پھر کیا ہوتی بات؟ تو شرط ادائیگی کو بننا چاہیے براءت کو اگر تو ادا کرے گا تو تو کیا ہے؟ بری۔ نہ یہ کہ براءت کو شرط بناؤ اگر بری ہو گے تو کیا کرو گے؟ ادا کرو گے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ فرق سمجھ میں آرہا ہے دونوں میں بھئی؟ تو عَلَى کے مدخول کو شرط بننا چاہیے اور یہاں عَلَى کا مدخول شرط نہیں بن سکتا جب شرط نہیں بن سکتا تو اب ہم اس کو کس پر محمول کریں گے؟ معاوضے پر کس پر؟ معاوضے پر معاوضے پر تو گویا اس نے یہ کہا۔ تو گوجہ کہ یہ کیا ہے؟ عوض ہے کس چیز کا؟ براءت کا بھئی، براءت کا کیا ہے؟ عوض ہے جی۔ اور نصف براءت کا عوض نہیں ہو سکتا بھئی۔ نصف کی ادائیگی یہ براءت کا عوض نہیں بن سکتی تو معلوم ہوا براءت مطلق ہے بھئی۔ نصف کی ادائیگی براءت کا عوض نہیں بن سکتی بھئی سمجھ میں آیا کیونکہ براءت مال نہیں ہے بھئی سمجھ میں آیا کہ اس کا عوض مال کو بنایا جائے گا۔ تو نصف یہ اس کا براءت کا عوض نہیں بن سکتی تو عَلَى شرط کے لیے بھی نہیں ہو سکتا اور عوض کے لیے ہے یہاں پر اور عوض بھی یہاں درست نہیں بنتا تو معلوم ہوا براءت مطلق ہے گویا اس نے یوں کہا بس بھئی میں نے پانچ سو تجھے کیا کر دیے؟ معاف کر دیے اور باقی پانچ سو کب ادا کر دینا؟ کل ادا کر دینا اب وہ کل ادا کرے یا نہ کرے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ اس نے اس کو مقید نہیں کیا تو اب براءت مطلق ہو گئی چاہے وہ کل ادا کرے پانچ سو یا کل ادا نہ کرے دونوں صورتوں میں۔ دین دوبارہ واپس پانچ سو اس نے ویسے معاف کر دیے گویا یوں کہا پانچ سو تجھے میں نے کیا کر دیے؟ معاف اور کتنے مجھے کل ادا کر دے؟ پانچ سو تو جو معاف کیے ہیں وہ مقید معاف کیے ہیں یا مطلقاً معاف کر دیے؟ مطلقاً تو اب کل ادا کرے یا نہ کرے اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ دیکھیے بھئی۔ وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى لَا يَعُودُ دَيْنُهُ اس کا دین دوبارہ نہیں لوٹے گا لِأَنَّ الْبَرَاءَةَ مُطْلَقَةٌ اس لیے کہ براءت مطلق ہے کیوں؟ لِأَنَّ كَلِمَةَ عَلَى لِلْعِوَضِ اس لیے کہ کلمہ عَلَى یہاں کس کے لیے آیا ہے؟ عوض کے لیے آیا ہے وَأَدَاءُ النِّصْفِ لَا يَصْلُحُ عِوَضًا لِلْبَرَاءَةِ اور نصف کی ادائیگی یہ صلاحیت نہیں رکھتی کہ عوض بنے کس کے لیے؟ براءت کے لیے نصف مال کی ادا نصف دین کی ادائیگی یہ براءت کا عوض بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی فَبَقِيَ الْبَرَاءَةُ مُطْلَقًا تو براءت کیا ہوئی باقی رہی مطلق ہو کر یعنی مطلق براءت باقی رہی گویا اس نے مطلقاً معاف کر دیے ہیں پانچ سو بس بھئی۔ وَلَهُمَا اِمْسَ تَرَفَيْنِ کی دلیل یہ ہے کہ أَنَّ كَلِمَةَ عَلَى لِلشَّرْطِ کہ کلمہ عَلَى یہاں کس کے لیے آیا ہے؟ شرط کے لیے فَيَكُونُ الْبَرَاءَةُ مُقَيَّدَةً بِالشَّرْطِ تو براءت مقید ہے شرط کے ساتھ فَيَفُوتُ بِفَوَاتِهِ تو براءت فوت ہو جائے گی یہ شرط فوت ہو جائے گی بِفَوَاتِهِ کس کے فوت ہو جانے سے؟ مشروط کے فوت ہو جانے سے بھئی سمجھ میں آیا یہ ادائیگی کے فوت ہو جانے سے شرط بھی فوت ہو جائے گی ادا براءت کے لیے کیا شرط لگائی تھی؟ کل کے دن کی ادائیگی اور کل کے دن کی ادائیگی فوت ہوگی تو براءت بھی کیا ہو جائے گی؟ فوت ہو جائے گی وہ بھی نہیں رہے گی وَفِيهِ نَظَرٌ بھئی اور اس کلام اس دلیل میں نظر ہے بھئی۔ طرفین نے کیا دلیل ذکر کی گئی ہے عَلَى کس کے لیے آیا ہے؟ شرط کے لیے آیا ہے یہاں پر تو براءت مطلق نہیں ہے بلکہ براءت کیا ہے؟ مقید ہے ادائیگی کے ساتھ ادائیگی ہوگی تو براءت ہے ادائیگی نہیں تو براءت بھی نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں بھئی وَفِيهِ نَظَرٌ بھئی اور اس قول کے اندر صاحبين کی دلیل طرفین کی دلیل کے اندر نظر ہے لِأَنَّ كَلِمَةَ عَلَى دَخَلَتْ عَلَى الْبَرَاءَةِ اس لیے کہ یہاں پر کلمہ عَلَى کس پر داخل ہوا؟ براءت پر داخل ہوا جیسے کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرما رہے تھے فَهَذَا التَّعْلِیلُ إِنَّمَا يَصِحُّ تو یہ جو علت بیان کی کنہوں نے بھئی؟ طرفین نے إِنَّمَا يَصِحُّ یہ اسی صورت میں صحیح ہو سکتی تھی لَوْ قَالَ اگر اس شخص نے یوں کہا ہوتا دیکھو اب عَلَى کو ادا پر داخل کریں گے اوپر عَلَى کس پر داخل ہوا تھا؟ براءت پر اور اب کس پر داخل کریں گے؟ اب بات اب شرط والی صورت صحیح بن جائے گی۔ لَوْ قَالَ اگر اس نے یوں کہا ہوتا أَبْرَأُكَ عَنْ خَمْسِ مِئَتَيْنِ میں تجھے پانچ سو سے بری کرتا ہوں عَلَى اِس شرط پر کہ اَنْ تُؤَدِّيَ الْخَمْسَمِئَةَ الْأُخْرَى کہ تو کتنے ادا کر دے؟ دوسرے پانچ سو ادا کر دے باقی کے پانچ سو کیا کر دے تو؟ ادا کر دے تو اب دیکھو شرط والا معنی صحیح ہوا کیونکہ عَلَى کس پر داخل ہو رہا ہے؟ ادا پر بھئی۔ وَيُمْكِنُ أَنْ يُجَابَ عَنْهُ اور ممکن ہے کہ اس اشکال سے یہ جواب دیا جائے بِأَنَّهُ وَإِنْ كَانَ فِي اللَّفْظِ هَكَذَا کہ اگرچہ لفظوں میں تو ایسا ہے کہ عَلَى کس پر داخل ہو رہا ہے؟ جی بھئی طرفین کی دلیل پر اشکال ذکر کیا اب اس کا کیا دینا چاہتے ہیں؟ جواب انہوں نے کیا کہا تھا عَلَى کلمہ یہاں کس کے لیے آیا؟ شرط کے لیے تو اب بتلانا چاہتے ہیں اس اشکال کا یہ جواب دیا جا سکتا ہے کہتے ہیں وَإِنْ كَانَ فِي اللَّفْظِ هَكَذَا اگرچہ لفظوں میں ایسا ہی ہے کہ عَلَى کس پر داخل ہو رہا ہے؟ براءت پر لَكِنَّ فِي الْمَعْنَى كُلُّ وَاحِدٍ مُقَيَّدٌ بِالْآخَرِ لیکن معنی کے اعتبار سے ہر ایک دوسرے کے ساتھ مقید ہے براءت مقید ہے ادا کے ساتھ اور ادا مقید ہے براءت کے ساتھ لِأَنَّهُ مَا رَضِيَ بِالْبَرَاءَةِ مُطْلَقًا اس لیے کہ کہنے والا وہ راضی نہیں ہے کس کے ساتھ؟ براءت کے ساتھ مطلقاً راضی نہیں ہے بَلْ بِالْبَرَاءَةِ عَلَى تَقْدِيرِ أَدَاءِ خَمْسِ مِئَةٍ بھئی بلکہ براءت کے ساتھ وہ راضی ہے کس تقدیر پر؟ جبکہ پانچ سو کیا ہو جائیں؟ پانچ سو کی ادائیگی کی تقدیر پر وہ راضی ہے فَصَارَتِ الْبَرَاءَةُ مَشْرُوطَةً بِالْأَدَاءِ تو گویا کہ اب کیا ہوئی براءت مشروط ہو گئی کس کے ساتھ؟ ادا کے ساتھ تو لفظوں کے اعتبار سے تو عَلَى شرط کے لیے یہاں نہیں بن سکتا البتہ چونکہ کہنے والا اس کے بغیر راضی نہیں اس لیے ہم نے اس کو کس کے لیے بنا دیا؟ شرط کے لیے بنا دیا فإذا لم يؤدي فس براءت تو لہذا براءت مشروط ہوئی ادا کے ساتھ فإذا لم يؤدِ پس جب وہ ادا نہیں کرے گا هَذَا حَقُّهُ تو اس کا حق پھر کیا ہوگا؟ لوٹ آئے گا یعنی پورا دین پھر لوٹ آئے گا تقریر سمجھ میں آئی بھئی؟ هَذَا مِنْ إِمْلَاءِ الْمُصَنِّفِ کہتے ہیں یہ مصنف کی اِملا میں سے ہے۔ بھئی جو جنہوں نے متن لکھا تھا بھئی علامہ تاج الشریعہ بھئی جو علامہ صدر الشریعہ کے دادا ہیں ان کا یہ متن ہے کہتے ہیں یہ جو میں نے تقریر کی بھئی یہ کس کی اِملا میں سے ہے؟ مصنف نے ہی یہ مقام پڑھاتے ہوئے اس مقام پر یہ تقریر اِملا کروائی لکھوائی تھی بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ وَإِنْ لَمْ يُوَّقَّتْ لَمْ يَعُدْ اور اگر اس نے وقت ذکر نہ کیا تو واپس دین واپس پھر پورا نہیں لوٹے گا بھئی۔ مثلاً یوں کہا بھئی کل تم مجھے کتنے ادا کر دو؟ ہاں بلکہ وقت ذکر ہی نہیں کرتا کہ تم مجھے کتنے ادا کر دو؟ پانچ سو ادا کر دو اور پانچ سو میں نے تمہیں کیا کر دیے؟ معاف کر دیے تو مولانا یہ براءت مقید ہے یا مطلق ہے؟ یہ تو مطلق ہے صاف ظاہر ہے لفظوں سے لہذا اس صورت میں اب دین دوبارہ پورا کبھی بھی واپس نہیں لوٹے گا۔ وَإِنْ لَمْ يُوَّقَّتْ اور اگر اس نے وقت قید نہ لگائی لَمْ يَعُدْ بھئی۔ اور تو پھر دین دوبارہ نہیں لوٹے گا اِي اِنَّ لَمْ يُوَّقَّتِ الْأَدَاءَ اِي اِيعنی ادا کو وقت کے ساتھ مقید نہ کیا اس کے لیے وقت کوئی ذکر نہ کیا بَلْ قَالَ بلکہ یوں کہا اِدِّ إِلَيَّ خَمْسَ مِئَتِ خَمْسَمِئَتٍ تو مجھے پانچ سو ادا کر دے۔ وَلَمْ يَقُلْ غَدًا اور غَدًا نہ کہا اس نے فَبِهَذِهِ الصُّورَةِ تو اس صورت کے اندر اِنَّ لَمْ اِنَّ لَمْ يُؤَدِّ الدَّيْنَ اگر اس نے دین یعنی وہ پانچ سو ادا نہ کیے لَمْ يَعُدْ دَيْنُهُ تو پھر بھی اس کا پورا دین واپس نہیں لوٹے گا لِأَنَّهُ إِبْرَاءٌ مُطْلَقٌ اس لیے کہ یہ إِبراء مطلق ہے۔ وَكَذَا لَوْ صَالَحَهُ مِنْ دَيْنِهِ عَلَى نِصْفٍ يَدْفَعُهُ إِلَيْهِ غَدًا۔ وَهُوَ بَرِيءٌ مِمَّا فَضَلَ۔ وَهُوَ بَرِيءٌ مِمَّا فَضَلَ عَلَى أَنَّهُ اِنْ لَمْ يَدْفَعْهُ غَدًا فَالْكُلُّ عَلَيْهِ۔ دیکھیے بھئی صلح کرتا ہے ایک شخص دوسرے سے کیا کرتا ہے؟ وہی مسئلہ ہے لفظ تھوڑے بدل رہے ہیں اگر دوسرے نے صلح کی اپنے دین سے کیا کہا بھئی میں تم سے صلح کرتا ہوں عَلَى نِصْفٍ کتنے پر؟ نصف پر۔ نصف يَدْفَعُهُ إِلَيْهِ غَدًا جو اسے کب ادا کرے گا؟ کل کے دن میں ادا کرے گا وَهُوَ بَرِيءٌ مِمَّا فَضَلَ اس حال میں کہ وہ بری ہوگا کس سے؟ مافضل جو زائد ہے جو جو زائد ہے اس سے بری ہوگا عَلَى اِس شرط پر کہ أَنَّهُ اِنْ لَمْ يَدْفَعْهُ غَدًا کہ اگر اس نے کل کے دن اس کے حوالے نہ کیے فَالْكُلُّ عَلَيْهِ تو پھر پورا کا پورا دین اس پر ہوگا۔ وہی بات ہے صرف لفظ بدلے تو کہتے ہیں فَفِي هَذِهِ الصُّورَةِ اس صورت کے اندر اِنْ قَبِلَ اگر اس نے قبول کر لیا بَرِئَ عَنِ الْبَاقِي باقی سے کیا ہو جائے گا؟ بری ہو جائے گا جب کیا کر دے گا؟ ادا کر دے گا کیا کر دے گا؟ ادا کر دے گا۔ وَإِنْ لَمْ يُؤَدِّ فِ الْغَدِ اگر باقی اگر اس نے ادا نہ کیے کل کے دن کے اندر فَالْكُلُّ عَلَيْهِ تو پھر اس پر کیا ہوگا؟ سارا کیونکہ اب اس نے صراحتًا ذکر کر دیا پھر سارا کا سارا دین کیا ہوگا؟ تم پر ہوگا۔ اوپر آیا ہے نا فَالْكُلُّ عَلَيْهِ پھر کیا ہوگا؟ اس پر سارا اب تو صراحتًا ذکر کیا تو اب اس صورت میں اسی طرح ہوگا سارا مسئلہ بھئی۔ اب اس میں اختلاف نہیں بھئی۔ فلقد سارا کا سارا دین اس پر ہوگا كَمَا فِي الْمَسْأَلَةِ الْأُولَى جیسے کس کے اندر تھا، مسألہ اولیٰ کے اندر تھا، وَهَذَا بِالْإِجْمَاعِ اور یہ کیا ہے بالاجماع ہے۔ سمجھ میں آیا کیونکہ یہاں احتمال دوسرا ہے ہی نہیں۔ اوپر والے میں احتمال تھا تو اختلاف آیا اور یہاں دوسرا احتمال نہیں تو اختلاف بھی نہیں بھئی، تو بالاجماع ہے۔ فَإِنْ أَبْرَأَهُ عَنْ نِصْفِهِ بس اگر اس نے اس کو بری کر دیا عَنْ نِصْفِهِ کس سے؟ نصف سے، دیکھنا یہ تیسری صورت ہے۔ عَلَى أَنْ يُعْطِيَهُ مَا بَقِيَ غَدًا اس شرط پر کہ وہ اس کو دے دے گا مَا بَقِيَ کب دے دے گا؟ کل، کیا کرے گا؟ کل دے دے گا۔ فَهُوَ بَرِيءٌ تو وہ شخص کیا ہوگا؟ بری ہوگا۔ أدل الباقيَةَ أولى باقی کیا ہے وہ ادا کرے یا ادا؟ اب مولانا پہلے طرفین میں کیا فرمایا تھا؟ پہلے مسئلے میں کہ وہاں ادائی کی شرط ہے کس کے لیے؟ براءت کے لیے، لیکن اس مسئلے کے اندر یہ جو لفظ اگر اس نے استعمال کیے تو اب طرف امام ابو یوسف رَحْمَهُ اللَّهُ نے جیسے وہاں فرمایا تھا براءت مطلق ہے، طرفین بھی اس میں فرماتے ہیں کہ یہاں اس صورت میں یہاں پر بھی کیا ہو جائے گی براءت مطلق مطلق ہو جائے گی، چاہے اب وہ ادا کرے یا ادا نہ کرے دونوں صورتوں میں دین دوبارہ واپس نہیں آئے گا، پانچ سو ہی ادا کرنے پڑیں گے۔ فَإِنْ أَبْرَأَهُ عَلَى نِصْفِهِ بَری کر دیا کس سے؟ نصف دین سے، عَلَى کس پر؟ یہاں وہ بھی عَلَى کو عِوَض کے لیے بناتے ہیں، کس عِوَض پر کہ أَنْ يُعْطِيَهُ مَا بَقِيَ غَدًا بھئی! اور براءت کے لیے نصف کی ادائیگی عِوَض بن سکتی ہے؟ نصف مال کی ادائیگی یہ صَلاحِیَّت نہیں رکھتی، آپ پڑھ چکے ہیں کہ عَوَض بن جائے کس کے لیے؟ براءت کے لیے۔ تو یہاں وہ عَلَى صاحب طرفین بھی یہاں عَلَى کو کس کے لیے بناتے ہیں؟ عِوَض کے لیے ہی بناتے ہیں۔ وَقَدْ عُلِلَ فِي هَذِهِ الصُّورَةِ اور تحقیق عِلَّت بیان کی گئی ہے اس صورت کے اندر، بِمَا اسی کے ساتھ عَلَّلَ أَبُو يُوسُفَ رَحْمَهُ اللَّهُ فِي الْمَسْأَلَةِ الْأُولَى جو عِلَّت بیان کی تھی امام ابو یوسف رَحْمَهُ اللَّهُ نے مسئلہ اولیٰ میں، انہوں نے مسئلہ اولیٰ میں کیا عِلَّت بیان کی تھی؟ کہ براءت کیا ہے؟ مُطْلَق ہے۔ تو صاحبین طرفین بھی یہاں کیا فرماتے ہیں؟ براءت کیا ہے؟ مُطْلَق ہے۔ لہٰذا ادائی کی کرے یا ادائی نہ کرے، دین دوبارہ واپس نہیں آئے گا۔ وَهَذَا عَجِيبٌ اور یہ بات بڑی عَجِيب ہے، یہ پھر مولانا علامہ تاج الشریعہ کی تقریر آ گئی، کس کی تقریر آ گئی؟ علامہ تاج الشریعہ بھئی۔ علامہ تاج الشریعہ کی پھر تقریر آ گئی، انہوں نے پچھلے مسئلے میں کیا ذکر کیا تھا؟ کہ امام ابو یوسف رَحْمَهُ اللَّهُ کی تَعْلِیل تو صحیح ہے، طرفین کی تَعْلِیل صحیح، لیکن پھر اس کی ایک تاویل کر کے اسے کیا کر دیا تھا؟ صحیح قرار دے دیا تھا۔ یہاں پر وہ فرماتے ہیں علامہ تاج الشریعہ کی یہ بات بڑی عَجِيب ہے کہ اس مسئلہ کے اندر وہ تَعْلِیل صحیح امام ابو یوسف اور طرفین نے پہلے مسئلے میں کیا ذکر کیا تھا؟ کہ ادائی کو کیا بنایا تھا؟ شرط بنایا، کہتے ہیں وہ عِلَّت یہاں صحیح بنتی ہے، ادائی اس مسئلے میں کیا بن رہی ہے؟ شرط بن سکتی ہے کیوں؟ کیونکہ عَلَى کے بعد ذکر ہو رہی ہے ادائی۔ عَلَى أَنْ يُعْطِيَهُ مَا بَقِيَ غَدًا تو عَلَى کے بعد کیا ذکر ہے؟ یہ عَطَاء اور ادائی ذکر ہے، تو اب ادائی کیا بن سکتی ہے؟ شرط بن سکتی ہے، تو یہاں پر وہ عِلَّت بنتی ہے، یہاں وہ عِلَّت جاری نہیں کی اور جہاں نہیں بنتی تھی وہاں پر جاری کر دی۔ وَهَذَا عَجِيبٌ اور یہ بات عَجِيب ہے، بَلْ التَّعْلِيلُ الَّذِي ذُكِرَ مِنْ جَانِبِ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحْمَهُمَا اللَّهُ بلکہ وہ تَعْلِیل جو ذکر کی گئی تھی بھئی! سمجھ میں آئے امام ابو حنیفہ فقہا نے ذکر کی ہے یہ تَعْلِیل اور کس کی طرف سے ذکر کی ہے؟ طرفین کی طرف سے، تو فقہا نے جو تَعْلِیل پچھلے مسئلے میں طرفین کی طرف سے ذکر کی وہ وہاں صحیح نہیں بنتی تھی، تاویل کرکے ہمیں صحیح بنانا پڑی اور یہاں پر کیا ہے؟ صحیح بنتی ہے، لیکن یہاں وہ تَعْلِیل نہیں کرتے بلکہ کون سی تَعْلِیل کرتے ہیں جو امام ابو یوسف رَحْمَهُ اللَّهُ نے کی۔ تو یہ عجیب ہے، بَلِ التَّعْلِيلُ الَّذِي ذُكِرَ مِنْ جَانِبِ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ اس لیے کہ وہ تعلیل جو ذکر کی گئی طرفین رحمہما اللہ کی طرف سے اِنَّمَا يَصِحُّ فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ تو وہ تو صحیح ہوتی ہے اس مسئلہ کے اندر، لِأَنَّ الْإِبْرَاءَ مُقَيَّدٌ بِشَرْطِ هُنَا اس لیے کہ ابرأ یہاں پر مقید ہے شرط کے ساتھ، كَمَا فِي الْمَسْأَلَةِ الْأُولَىٰ جیسے کس کے، جیسے کس میں کیا گیا تھا؟ مسئلہ اولیٰ میں کہے، وَيُمْكِنُ أَنْ يُجَابَ عَنْهُ اور ممکن ہے کہ یہ جواب دیا جائے اس اشکال کی طرح کا بِأَنَّ هَذَا اِنَّمَا جَاءَ مِنْ لَفْظِ غَدًا مِنْ لَفْظِ غَدًا بھئی اس لیے کہ یہ اشکال کس کی وجہ سے آیا ہے؟ لفظ غَدًا سے آیا ہے۔ اس اشکال کس کی وجہ سے آیا؟ غَدًا کی وجہ سے آیا، یہاں پر غَدًا اعطا کے ساتھ بھئی کیا کر رہا ہے؟ غَدًا یہاں ذکر ہوا اور ما قبل میں ادا جی عَلَىٰ سے پہلے ذکر ہوا تھا بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو یہاں پر بھئی غَدًا کی وجہ سے کیا ہوا؟ یہ یہ یہ جو اختلاف آیا کہ پہلی صورت میں مسئلہ کی تعلیل طرفین نے اور ذکر کی، یہاں پر تعلیل تو کہتے ہیں ہو سکتا ہے یہ کس کی وجہ سے آیا ہو؟ لفظ غَدًا کی وجہ سے یہ اختلاف آیا ہو، کیوں؟ لِأَنَّ یہاں پر درست نہیں بنتا یہاں پر، کیوں نہیں بنتا؟ یہ لفظ غَدًا کی وجہ سے ہوگا۔ یعنی براءت براءت ادا کے ساتھ مقید نہیں ہو سکتی، یہ کس وجہ سے نہیں ہو سکتی؟ کہتے ہیں لفظ غَدًا کی وجہ سے، کس کی وجہ سے؟ سمجھ میں آیا؟ یہاں پر طرفین کیا فرماتے ہیں؟ براءت مطلق ہے یا مقید ہے؟ یہاں پر، طرفین فرماتے ہیں براءت مطلق ہے، بھئی! کیوں مطلق ہے؟ مقید کیوں نہیں بناتے؟ کہتے ہیں یہ کس کی وجہ سے ہے؟ غَدًا کے لفظ کی وجہ سے ہے بھئی۔ کہتے ہیں کیوں؟ لِأَنَّ الْإِبْرَاءَ فِي الْحَالِ ابرأ کس وقت ہے؟ فِي الْحَالِ اور اعطا کس وقت ہے؟ غَدًا دے گا وہ کب؟ کل اور ابرأ کب ہے؟ فِي الْحَالِ تو إِبْرَاءُ فِي الْحَالِ یہ مقید نہیں ہو سکتا ادا غَدًا کے ساتھ۔ إِبْرَاءُ إِبْرَاء ہے فِي الْحَالِ اور ادا کیا ہے؟ غَدًا تو إِبْرَاءُ فِي الْحَالِ یہ مقید نہیں ہو سکتا کس کے ساتھ کہ اعطائے غَدًا کے ساتھ بھئی! صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ لِأَنَّ الْإِبْرَاءَ فِي الْحَالِ دیکھیے یہی بات کر رہے ہیں، اس لیے کہ ابرأ ہے فِي الْحَالِ لَا يُمْكِنُ أَنْ يَكُونَ مُقَيَّدًا بِإِعْطَاءِ خَمْسِمِئَةٍ غَدًا بھئی ممکن نہیں ہے کہ اس کو مقید بنایا جائے کل کے دن کی پانچ سو کی ادائگی کے ساتھ مِنْ إِمْلَاءِ الْمُصَنِّفِ یہ بھی کس میں سے ہے؟ تو جب اس کو مقید نہیں کر سکتے آج کے دن کے ابرأ کو، کل کی ادا کے ساتھ مقید نہیں کیا جا سکتا۔ ابرأ ہے آج، اعطا کب ہے؟ کل، تو آج کا ابرأ آنے والے کل کے اعطا کے ساتھ مقید ہو سکتا ہے؟ اس کے ساتھ مقید نہیں ہو، جب مقید نہیں ہو سکتا تو لہٰذا اب ابرأ مقید نہ ہوا بلکہ کیا ہو گیا؟ مطلق ہو گیا، اس لیے انہوں نے مطلق بنایا۔ تو کہتے ہیں مِنْ إِمْلَاءِ الْمُصَنِّفِ اَيْ هَذَا مِنْ إِمْلَاءِ الْمُصَنِّفِ یہ بھی کس کی املا میں سے ہے؟ مصنف یعنی علامہ تاج الشریعہ کی تقریر ہے یہ بھی۔ وَلَوْ عَلَّقَ صَرِيحًا بھئی اور اگر معلق کیا صَرَااحَةً ابرأ کو، اگر ابرأ کو کیا کیا؟ بھئی دیکھو! تو تین مسئلے گزرے، اس میں ابرأ کو معلق بنا رہے تھے یا مطلق رکھ رہے تھے اور جہاں بھی معلق بنایا تھا کس کی وجہ سے بنایا تھا؟ صَرَااحَةً وہاں شرط موجود تھی یا کلمہ عَلَىٰ سے مفہوم ہو رہی تھی؟ کلمہ عَلَىٰ سے مفہوم ہو رہی تھی، تو یاد رکھو! ابرأ کو معلق کرنا یہ درست نہیں ہے، صَرَااحَةً اگر صَرَااحَةً شرط لگا کر ابرأ کو معلق کریں گے، یہ ابرأ یہ تعلیق صحیح نہیں۔ لیکن اگر ضِمْنًا معلق ہو جائے تو یہ صحیح ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ کیا؟ کہ ابرأ کو معلق کرنا کسی شرط کے ساتھ صَرَااحَةً یہ تعلیق صحیح نہیں۔ ابرأ کو معلق نہیں کیا جا سکتا اس کی تعلیق صحیح نہیں۔ بِشَرْطِ کہ شرط صَرِيح ہو، شرط کیا ہو؟ صَرِيح لیکن اگر شرط صَرِيح نہ ہو ضِمْنًا ہو تو پھر تعلیق صحیح تو ما قبل کے مسئلوں کے اندر بھئی، ایک مسئلے میں تعلیق آئی تھی، ابرأ مقید تھا کل کے دن کی ادائگی کے ساتھ بھئی، تو وہ شرط شرط صَرَااحَةً تھی یا ضِمْنًا تھی؟ ضِمْنًا تو وہ تعلیق صحیح تھی، لیکن اگر شرط صَرَااحَةً آجائے تو پھر تعلیق صحیح نہیں۔ یہ معنی ہے: وَلَوْ عَلَّقَ صَرِيحًا اور اگر ابرأ کو معلق کر دیا صَرَااحَةً كَإِنْ أَدَّيْتَ إِلَيَّ كَذَا اگر یوں کہا، دیکھو! شرط صَرَااحَةً ذکر کر رہا ہے، كَإِنْ أَدَّيْتَ إِلَيَّ 500 غَدًا فَأَنْتَ بَرِيءٌ مِمَّا بَقِيَ عبارت سمجھ میں آرہی ہے؟ صَرَااحَةً ان کے ساتھ میں شرط ذکر کر رہا ہوں، كَإِنْ أَدَّيْتَ إِلَيَّ 500 غَدًا فَأَنْتَ بَرِيءٌ مِمَّا بَقِيَ تو اِنْ أَدَّيْتَ صَرَااحَةً شرط ذکر کر رہا ہوں، یہ تعلیق صحیح نہیں۔ یا میں کہتا ہوں: إِذَا مَا أَدَّيْتَ إِذَا کے ساتھ، یا مَتَىٰ کے ساتھ إِذَا مَتَىٰ أَدَّيْتَ بھئی، سمجھ میں آیا؟ مَتَىٰ أَدَّيْتَ تو لَا يَصِحُّوكَ۔ وَلَوْ عَلَّقَ صَرِيحًا اور اگر صَرَااحَةً تعلیق کی كَإِنْ أَدَّيْتَ گویا یوں کہا، جیسے کہ مثلاً یوں کہا: كَإِنْ أَدَّيْتَ إِلَيَّ كَذَا أَوْ إِذَا يا إِذَا کے ساتھ تعلیق کی اور مَتَىٰ کے ساتھ مَتَىٰ کے ساتھ، یعنی مَتَىٰ لَا يَصِحُّ بِئْ تو یہ صحیح نہیں۔ اَيْ إِنْ قَالَ إِنْ أَدَّيْتَ إِلَيَّ كَذَا فَأَنْتَ بَرِيءٌ مِنَ الْبَاقِي اگر تو نے مجھے کیا کیا؟ اتنے پیسے ادا کر دیے تو تو بری ہے باقی سے، لَا يَصِحُّ یہ صحیح نہیں۔ لِأَنَّ الْإِبْرَاءَ الْمُعَلَّقَ لِأَنَّ الْإِبْرَاءَ الْمُعَلَّقَ تَعْلِيقًا صَرِيحًا لَا يَصِحُّ اس لیے کہ ایسا ابرأ جس کے جو کس کے ساتھ ہو؟ تعلیقِ صَرِيح ہو جس کے اندر لَا يَصِحُّ یہ صحیح نہیں ہے، فَإِنَّ الْإِبْرَاءَ فِيهِ مَعْنَى التَّمْلِيكِ اس لیے کہ ابرأ کے اندر کس کس چیز کا معنی پایا جاتا ہے؟ تملیک۔ بھئی دیکھو! آپ کو اگر آپ نے میرا پانچ سو روپیہ دین دینا ہے، میں آپ کو پانچ سو سے بری کرتا ہوں۔ تو اس کے اندر میں نے آپ کو پانچ سو کا مالک بنا دیا، تو ابرأ کے اندر کس چیز کا معنی پایا جاتا ہے؟ تملیک کا۔ فَإِنَّ الْإِبْرَاءَ فِي مَعْنَى التَّمْلِيكِ اس لیے کہ ابرأ کے اندر تملیک کا معنی پایا جاتا ہے، وَمَعْنَى الْإِسْقَاطِ اور کس چیز کا معنی بھی ہے؟ اسقاط کا معنی بھی ہوتا ہے۔ فَالْإِسْقَاطُ لَا يُنَافِي تَعْلِيقَهُ بِالشَّرْطِ پس اسقاط جو ہے وہ تعلیق بِالشَّرْطِ کے منافی نہیں ہے، کیا بات ذکر کی؟ ابرأ کے اندر کتنی چیزوں کے معنی ہیں؟ دو، اس میں تملیک کا معنی بھی ہے اور اسقاط کا معنی بھی ہے بھئی۔ اور اسقاط تو تعلیق کے منافی نہیں، لیکن تملیک تعلیق کے منافی ہے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ توجہ ہے سبق کی طرف؟ ابرأ میں کتنی چیزیں ہیں؟ دو چیزیں ہیں بھئی، تملیک بھی ہے اور اسقاط بھی ہے۔ اسقاط تو تعلیق کے منافی نہیں، لیکن تملیک کیا ہے؟ تعلیق کے اسقاط کو معلق کرنا تو صحیح، لیکن تملیک کو معلق کرنا صحیح نہیں۔ تو اب ہم اس میں دونوں معنی کی رعایت رکھتے ہیں، اگر شرط صَرِيح ہو، ابرأ کے اندر شرط کیا ہو؟ صَرِيح ہو تو ہم تملیک کے ماث کی جہت کا لحاظ رکھتے ہیں، اور تملیک کے اندر تو تعلیق صحیح نہیں۔ لہٰذا صَرِيح شرط کے ساتھ ابرأ بھی صحیح نہیں۔ اور اگر شرط کیا ہو؟ ضِمْنًا مفہوم ہو رہی ہے، صَرَااحَةً نہیں۔ تو ہم کس کی رعایت رکھتے ہیں؟ کس معنی کی؟ اسقاط کے معنی کی اور اسقاط تو تعلیق کو قبول کر لیتا ہے، لہٰذا یہ ابرأ بھی جو ضِمْنًا شرط کے ساتھ ہے تعلیق کو کیا کر لے گا؟ قبول کر لے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہی بات کر رہے ہیں: فَإِنَّ الْإِبْرَاءَ فِيهِ مَعْنَى التَّمْلِيكِ وَمَعْنَى الْإِسْقَاطِ فَالْإِسْقَاطُ لَا يُنَافِي تَعْلِيقَهُ بِالشَّرْطِ وَالتَّمْلِيكُ يُنَافِي فِيْهِ پس اسقاط جو ہے وہ تعلیق بِالشَّرْطِ کے منافی نہیں ہے، لیکن تملیک کیا ہے؟ اس کے منافی ہے۔ اِسْقَاطَ کو معلق کرنا تو صحیح، لیکن تملیک کو معلق کرنا صحیح نہیں۔ تو اب ہم اس میں دونوں معنی کی رعایت رکھتے ہیں، اگر شرط صَرِيح ہو، ابرأ کے اندر شرط کیا ہو؟ صَرِيح ہو تو ہم تملیک کے ماء طرف کی جہت کا لحاظ رکھتے ہیں، اور تملیک کے اندر تو تعلیق صحیح نہیں۔ لہٰذا صَرِيح شرط کے ساتھ ابرأ بھی صحیح نہیں۔ اور اگر شرط کیا ہو؟ ضِمْنًا مفہوم ہو رہی ہے، صَرَااحَةً نہیں۔ تو ہم کس کی رعایت رکھتے ہیں؟ کس معنی کی؟ اسقاط کے معنی کی اور اسقاط تو تعلیق کو قبول کر لیتا ہے، لہٰذا یہ ابرأ بھی جو ضِمْنًا شرط کے ساتھ ہے تعلیق کو کیا کر لے گا؟ قبول کر لے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہی بات کر رہے ہیں: فَإِنَّ الْإِبْرَاءَ فِيهِ مَعْنَى التَّمْلِيكِ وَمَعْنَى الْإِسْقَاطِ فَالْإِسْقَاطُ لَا يُنَافِي تَعْلِيقَهُ بِالشَّرْطِ وَالتَّمْلِيكُ يُنَافِي فِيهِ پس اسقاط جو ہے وہ تعلیق بِالشَّرْطِ کے منافی نہیں ہے، لیکن تملیک کیا ہے؟ اس کے منافی ہے۔ فَرَاعَيْنَا الْمَعْنَيَيْنِ ہم نے دونوں معنی کی رعایت رکھی، وَقُلْنَا اور ہم نے کہا: إِنْ كَانَ التَّعْلِيقُ صَرِيحًا اگر تعلیق کس قسم کی تھی؟ صَرِيح تھی، لَا يَصِحُّ تو صحیح یہ ہم نے کس کی رعایت رکھی؟ تعلیق اگر صَرِيح ہو تو ابرأ صحیح نہیں، کیوں نہیں صریح کی؟ کس معنی کی رعایت رکھی؟ تملیک کے معنی کی رعایت رکھی۔ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ صَرِيحًا اور اگر تعلیق صَرِيح نہ تھی، كَمَا فِي الصُّورَةِ الْمَذْكُورَةِ جیسے صورت مذکورہ میں ہے، يَصِحُّ تو پھر کیا ہے؟ صحیح ہے، اگر تال شرط صَرِيح نہ ہو، پھر ہم نے کس معنی کی رعایت رکھی؟ اسقاط کی اور اسقاط تو موعلّق بِشَرْطِ کر سکتے ہیں تو لہٰذا صحیح ہے۔ وَلَوْ قَالَ لِلْآخَرِ سِرًّا بھئی صورت مسئلہ یہ ہے۔ ایک آدمی نے میرا ایک ہزار روپیہ دین دینا ہے۔ کیا کرنا ہے؟ دین دینا ہے۔ لیکن میرے پاس کوئی بینہ وغیرہ نہیں ہے۔ میں اس کے پاس جاتا ہوں، بھئی لاؤ بھئی میرا دین ادا کر دو۔ وہ مجھے چھپ کر خفیہ طور پر کہتا ہے: دیکھو! میں تیرے مال کا اقرار نہیں کروں گا، مگر یہ کہ تو مجھے چھ مہینے کی مہلت دے دے۔ اگر تو مجھے چھ مہینے کی مہلت دے دیتا ہے، تو پھر میں تیرے مال کا کیا کر لوں گا؟ اقرار کر لوں گا۔ یا تو یوں کر کہ اس میں سے پچیس فیصد مجھے معاف کر دے گا، تو پھر میں کیا کر لوں گا تیرے لیے؟ تیرے لیے مال کا اقرار کر لوں گا۔ تو دوسرا میں اس بات کو قبول کر لیتا ہوں تو کیا یہ صحیح ہے یا صحیح نہیں، کہتے ہیں یہ صحیح ہے۔ یہ کیا ہے؟ صحیح ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے: وَلَوْ قَالَ لِلْآخَرِ سِرًّا اور ایک شخص نے دوسرے سے کہا سَرًّا پوشیدہ طور پر: لَا أُقِرُّ لَكَ بِمَالِكَ عَلَيَّ میں اقرار نہیں کروں گا تیرے لیے تیرے اس مال کا عَلَيَّ جو کس پر ہے؟ مجھ پر ہے، حَتَّىٰ تُؤَخِّرَهُ عَنِّي حَتَّىٰ تُؤَخِّرَ حَتَّىٰ تُؤَخِّرَهُ عَنِّي مگر یہ کہ تو اس کو کیا کر دے؟ مؤخر کر دے مجھ سے، أَوْ تَحُطَّهُ یا تو اس کو کیا کر دے؟ کم کر دے۔ فَفَعَلَ تو دوسرے نے ایسا کر دیا۔ صَحَّ عَلَيْهِ صَحَّ عَلَيْهِ تو یہ اس پر صحیح ہے۔ صَحَّ عَلَيْهِ أَيْ جَازَ عَلَيْهِ تو اس پر ایسا کرنا جائز ہے۔ فَصَحَّ إِجَازَةُ هَذَا التَّصَرُّفِ وَاللَّازِمُ عَلَيْهِ اور اس پر کیا ہو جائے گا؟ لازم ہو جائے گا۔ وَلَوْ عَلَنَا اور اگر اس نے اعلانیہ یوں کہا: لوگوں کے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں، اس کو کہہ رہا ہے: بھئی تیرا جو دین ہے میرے اوپر، اگر تیرا جو میرے اوپر ایک ہزار دین ہے، اگر تو مجھے چھ ماہ کی مہلت دیتا ہے تو پھر میں اقرار کروں گا ورنہ اقرار نہیں کروں گا، کہتے ہیں بس فوراً پکڑ لو اس کو، اب تو اس نے سب کے سامنے کیا کر لیا؟ اقرار کر لیا۔ وَلَوْ عَلَنَا أُخِذَ لِلْحَالِ یا أَخَذَ لِلْحَالِ اور اگر اس نے اعلان کر دیا تو اس کو پکڑ لے گا دوسرا لِلْحَالِ أَيْ فِي الْحَالِ فورا ہی بھئی! صورت سمجھ میں آگئی؟ کیونکہ اب تو اس نے خود اقرار کر لیا۔ وَلَوْ صَالَحَ أَحَدَ رَبَّيْ دَيْنٍ عَنْ نِصْفِهِ عَلَىٰ ثَوْبٍ اِتَّبَعَ شَرِيكُهُ غَرِيمَهُ بِنِصْفِهِ أَوْ أَخَذَ نِصْفَ الثَّوْبِ مِنْ شَرِيكِهِ إِلَّا أَنْ يَضْمَنَ رُبْعَ الدَّيْنِ بھئی! یہ تین مسئلے آئیں گے بھئی۔ اگلا متن بھی آ رہا ہے: وَلَوْ قَبَضَ أَحَدٌ اس سے اگلا متن بھی آ رہا ہے: وَلَوْ شَرَاعًا غَرِيمَهُ تینوں کا تعلق ہے آپس میں بھئی، کس طرح؟ دو آدمیوں کا کسی پر دین ہے، دینِ مشترک ہے۔ کیا ہے؟ دینِ مشترک بھئی۔ مثلاً! بھئی! میرا اور عامر کا ایک مشترکہ غلام تھا وہ ہم نے زید کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ اب زید نے ایک لاکھ روپیہ دینا ہے اور وہ مال ہم دونوں کا وہ دین ہم دونوں کا کیا ہے؟ مشترکہ ہے۔ اب اس میں تین صورتیں ہیں۔ ہم دونوں میں سے ایک جا کر اس سے اپنے حصے پر صلح کر لیتا ہے۔ کیا کر لیتا ہے؟ بھئی! عامر کا کتنا ہے؟ پچاس ہزار۔ لاکھ میں سے پچاس ہزار اس کا، پچاس ہزار میرا حصہ ہے۔ اس نے اپنے حصے پر صلح کر لی، ایک صورت یہ ہے۔ دوسری (یعنی کپڑا کوئی لے لیا یا کوئی اور چیز اس کے بدلے میں لے لی)۔ دوسری صورت صلح نہیں کرتا بلکہ اپنا حصہ جا کر نِصْفٌ وصول کر لیتا ہے، یہ دوسری صورت۔ تیسری صورت کہ اپنے حصے کے عِوَض کوئی چیز خرید لیتا ہے۔ کیا کر لیتا ہے؟ کتنی صورتیں ہوئیں؟ تین۔ یا تو اپنے حصے ایک ان میں سے ایک فعل کرتا ہے اور کیا کرے گا یا تو اپنے حصے کے عِوَض کے ساتھ کیا کر لے گا؟ صُلْحٌ کر لے گا یا اپنے حصے کو کیا کر لے گا؟ نِصْفٌ وصول کر لے گا، تیسری صورت یا اپنے حصے کے بدلے کوئی چیز خرید لے گا۔ تو تین صورتیں آئیں گی اور یہ تینوں الگ الگ مَتْن میں آئیں گے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ پہلی صورت بھئی۔ صُلْحٌ کر لیتا ہے، کیا کر لیتا ہے؟ صُلْحٌ کر لیتا ہے۔ بھئی میرا اور زَيْد، مَین نے اور عَمْر نے کیا بیچا ہے زَيْد پر؟ غُلَام اور اس نے کتنا مال دینا ہے؟ ایک لاکھ دینا ہے اور یہ مال میرے اور عَمْر میں مُشْتَرَكٌ ہے نِصْفٌ نِصْفٌ بھئی، پچاس ہزار عَمْر کا ہے، پچاس ہزار۔ اب عَمْر جا کر زَيْد سے صُلْحٌ کر لیتا ہے کہ چلو بھئی پچاس ہزار کے بدلے یہ مجھے اپنی موٹر سائیکل دے دو اس پر صُلْحٌ کر لیتے ہیں۔ کیا کر لیتے ہیں؟ صُلْحٌ کر لیتے ہیں، چنانچہ اس نے موٹر سائیکل لے کر آ گیا یا کپڑا لے لیا کوئی مولانا جیسے کتاب میں آئے گا اس سے اپنے حصے کے عِوَض کیا لے لیتا ہے؟ کوئی کپڑا لے لیتا ہے۔ تو بھئی اب دوسرا ساتھی کیا کرے؟ کہتے ہیں دوسرے ساتھی کو اختیار ہے چاہے تو وہ کس کا وہ مَقْرُوض کا کیا کرے؟ پیچھا کرے۔ دَيْن کس نے دینا تھا؟ زَيْد نے۔ تو دوسرا چاہے تو کس کے پیچھے جائے؟ اسی مَدْيُون کے پیچھے جائے کہ بھئی اب میرا حصہ بھی مجھے تو اس کے پیچھے بھی جا سکتا ہے، اس سے مطالبہ بھی کر سکتا ہے، اور اپنے ساتھی کے ساتھ بھی نِصْفٌ سے جو مال جس پر اس نے صُلْحٌ کی اس کا نِصْفٌ اس سے لے سکتا ہے۔ کیا کر سکتا ہے؟ نِصْفٌ لے سکتا ہے۔ تو اس نے کتنا لیا تھا؟ بھئی پچاس تو اس کا حصہ تھا، پچاس کے بدلے اس نے کیا لیا؟ کپڑا لے لیا تو یہ کیا کر لے گا دوسرا اس سے جا کر آدھا کپڑا لے لے۔ لیکن اگر وہ کپڑے وہ یہ آدھا کپڑا یہ جو کپڑا تھا سارا یہ کتنے کا عِوَض تھا؟ کتنے دَيْن کا کتنے دَيْن پر صُلْحٌ کی تھی؟ پچاس ہزار پچاس ہزار۔ تو اگر وہ یا تو نِصْفٌ کپڑا لے لے یا وہ ضَمَانَت دے دیتا ہے بھئی۔ صورت یہ کہ یہ جو کپڑا لیا ہے کتنے کا لیا ہے اس نے کتنے پر صُلْحٌ کی ہے؟ نِصْفٌ دَيْن پر۔ کتنے دَيْن پر؟ نِصْفٌ دَيْن اور اس کپڑے کے اندر نِصْفٌ اگر دوسرا ساتھی لینا چاہے تو نِصْفٌ لے سکتا ہے تو یہ کتنا حصہ بن جائے گا بھئی؟ رُبْعٌ کا۔ کتنا؟ تو بھئی پورا کپڑا ہے نِصْفٌ دَيْن میں اس کی صُلْحٌ میں تو رُبْعٌ وہ پھر وہ کپڑے کا نِصْفٌ کیا بن جائے گا یہ؟ رُبْعُ دَيْن رُبْعُ دَيْن بھئی۔ تو چاہے تو اس سے رُبْعُ دَيْن کا زَمَان لے لے اور چاہے اس سے نِصْفٌ کپڑا لے لے اسے اختیار ہے۔ کیا صورت ہوئی؟ جی! میرا اور عَمْر کا مُشْتَرَكٌ دَيْن تھا زَيْد پر، عَمْر نے کتنے پر صُلْحٌ کر لی؟ ایک کپڑے پر صُلْحٌ کر لی، میرے دو چیزوں کا اختیار ہے میں چاہوں تو کیا کروں؟ اسی مَدْيُون کا کیا کروں؟ پیچھا کروں، باقی اسی سے وصول کروں اس کو چھیڑوں ہی نہ، یا کیا کر لوں؟ اس سے وہ جو اس نے مال صُلْحٌ لیا تھا اس میں سے نِصْفٌ لے لوں، کیا کر لوں؟ نِصْفٌ لے لوں۔ لیکن اگر وہ مجھے رُبْعُ دَيْن کا زَمَان دے دے تو اب میں وہ نِصْفٌ اس سے نہیں لے سکتا بھئی۔ اب اس سے نِصْفٌ کیونکہ اس نے مجھے زَمَانَت دے دی کہ بھئی میں نے تو کتنے کا پر صُلْحٌ کی ہے نِصْفٌ اور نِصْفٌ کے اندر تمہارا حصہ کتنا بنتا ہے؟ نِصْفٌ اور وہ نِصْفٌ کتنا کہلا ہوا کل کا رُبْعٌ ہوا تو چاہو میں تمہیں زَمَانَت دیتا ہوں کہ میں رُبْعُ دَيْن تمہیں یہ وہ دے دے گا اگر اس نے ادائیگی نہ کی تو میں تمہیں اپنی طرف سے دے دوں گا، اب اس صورت میں اب وہ جو مال صُلْحٌ لیا ہے میں اس سے لے نہیں سکتا کیونکہ اس نے مجھے اس کی زَمَانَت دے دی رُبْعُ دَيْن کی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ کہ نہیں آئی سمجھ میں؟ سب کو؟ معلوم ہوا ابھی بھی بات کو نہیں آئی سمجھ میں۔ آ گئی ہے سب کو۔ دیکھو آگے تفصیل آ رہی ہے پھر دوبارہ ذکر کر دیتا ہوں۔ وَلَوْ صَالَحَ اگر صُلْحٌ کر لی أَحَدُ رَبَّيْنِ رَبَّيْنِ تثنیہ تھا بھئی نون اضافت کی وجہ سے گر گیا۔ اگر صُلْحٌ کر لی أَحَدُ رَبَّيْنِ دَيْنِنِ دَيْنَيْنِ والوں میں سے دو دَيْن والوں میں سے ایک نے دو دَيْن کے مالکوں میں سے ایک نے صُلْحٌ کر لی عَنْ نِصْفِهِ کس سے صُلْحٌ کی ہے؟ نِصْفٌ دَيْن سے صُلْحٌ کی ہے، عَلَى ثَوْبٍ کس چیز پر صُلْحٌ کی ہے؟ کپڑے پر۔ دوسرے کو اختیار ہے کیا؟ اِتَّبَعَ شَرِيكَهُ غَرِيمَهُ کہ پیچھا کرے اس کا شَرِيك کس کا پیچھا کرے؟ غَرِيمَهُ اس مَقْرُوض کا پیچھا کرے بِِنِصْفِهِ کتنے کے ساتھ؟ نِصْفٌ کے ساتھ کیونکہ اب وہ اس کا حصہ ہے تو اس سے وصول کر لے، اَوْ أَخَذَ نِصْفَ الثَّوْبِ مِنْ شَرِيكِهِ یا اس کو اختیار ہے چاہے تو کیا لے لے؟ اپنے شَرِيك سے نِصْفٌ کپڑا لے لے کیونکہ وہ اس نے کتنے کے لیے میں لیا ہے؟ پچاس ہزار کے عِوَض بن گئے اس کی صُلْحٌ میں لیا ہے۔ إِلَّا مگر اس صورت میں نِصْفٌ ثَوْب نہیں لے سکتا کب؟ کہ أَنْ يَضْمَنَ رُبْعَ الدَّيْنِ کہ وہ قابِض جو ہے وہ زَمَانَت دے دے کتنے کی؟ رُبْعُ دَيْن کی کتنے کی زَمَانَت دے دے؟ رُبْعُ دَيْن کی زَمَانَت دے دے بھئی۔ کیوں؟ فَإِنَّ الشَّرِيكَ إِنْ ضَمِنَ لَهُ رُبْعَ الدَّيْنِ اس لیے کہ شَرِيك نے جب اس کو زَمَانَت دے دی رُبْعُ دَيْنِ کی فَلَا حَقَّ لَهُ فِي الثَّوْبِ تو اب اس کا کوئی حق نہیں ہے کپڑے کے اندر۔ کیونکہ اس نے کیا دے دی اس کو زَمَانَت دے دی بھئی۔ تو وہ کپڑا تھا نِصْفٌ دَيْن پر صُلْحٌ کے ساتھ بھئی اور اس کپڑے کے نِصْفٌ میں یہ رُجُوع کر سکتا ہے اور نِصْفٌ کپڑا کل دَيْن میں سے کتنے کا عِوَض بن رہا ہے؟ رُبْعٌ کا تو یہ رُبْعٌ دَيْن عِوَض بن رہا ہے اور اس نے رُبْعٌ کی کیا دے دی اس کو زَمَانَت دے دی کہ تمہارے پچاس ہزار کی میں زَمَانَت دیتا ہوں جو اس سے پچاس ہزار وصول کرنے ہیں وہ تمہیں ضرور ملیں گے وہ تمہارا مال کہیں جاتا نہیں ہاں پچاس ہزار کی میں زَمَانَت دیتا ہوں اگر وہ پچاس ہزار ادا نہ کیے تو میں کیا کر دوں گا؟ ادا کر دوں گا تو یہ زَمَانَت صحیح ہوئی۔ کہتے ہیں هَذَا إِذَا كَانَ الدَّيْنُ مُشْتَرَكاً بَيْنَهُمَا یہ مسئلہ اس صورت میں ہے جبکہ دَيْن ان دونوں میں کیا ہو؟ مُشْتَرَكٌ ہو بِأَنْ يَكُونَ وَاجِباً بِسَبَبٍ مُتَّحِدٍ مُتَّحِدٍ بعید طور کہ وہ دَيْن واجب ہوا ہو ایسے سبب کی وجہ سے جو مُتَّحِدٌ ہے جو کیا ہے؟ ایک مُتَّحِدٌ سبب کی وجہ سے دَيْن اس پر آیا تھا، بھئی کیسے؟ كَثَمَنِ الْمَبِيعِ صَفْقَةً وَاحِدَةً جیسے اس مَبِيع کے سامان جس کو بیچا گیا ہے ایک ہی عَقْد کے ساتھ۔ کس کے ساتھ؟ ایک ہی عَقْد کے ساتھ تو یہ بھی دَيْن مُشْتَرَكٌ ہوتا ہے، دَيْن مُشْتَرَك ہمیں سمجھانا چاہ رہے ہیں بھئی۔ دیکھو، دَيْن مُشْتَرَك ایک غُلَام آپ کا ہے، ایک غُلَام میرا ہے، آپ کا غُلَام بھی پچاس ہزار کا، میرا غُلَام بھی پچاس ہزار کا، ہم دونوں مل کر ایک ہی عَقْد کے ساتھ یہ غُلَام عَمْر کے ہاتھ فروخت کر دیتے ہیں کہ یہ دونوں غُلَام بیچے آپ کو ایک لاکھ روپے میں۔ تو اب بھئی اس پر کتنا دَيْن آ گیا؟ ایک لاکھ اور اس دَيْن میں ہم دونوں شَرِيك ہیں کیونکہ جو مَبِيع تھا اگرچہ غُلَام آپ کا الگ تھا میرا الگ تھا لیکن ان دونوں کو بیچا کس کے ساتھ گیا ہے؟ ایک ہی عَقْد کے ساتھ۔ اسی لیے کہا كَثَمَنِ الْمَبِيعِ صَفْقَةً وَاحِدَةً جیسے اس مَبِيع کے سامان جس کو بیچا گیا ایک ہی عَقْد کے ساتھ، اَوْ ثَمَنِ الْمَالِ الْمُشْتَرَكِ یا ایسے مال کے سامان اس مال کے سامان جو مُشْتَرَك ہوں، بھئی اب مال مُشْتَرَك بھئی ایک غُلَام ہے اس میں آپ اور میں شَرِيك ہیں۔ آپ اور میں کیا ہیں؟ شَرِيك ہیں، اس غُلَام کو ہم نے بیچ دیا کسی ایک نے بیچ دیا دوسرے کے ہاتھ پورا غُلَام بیچ دیا بھئی۔ تو اب بھئی غُلَام مُشْتَرَك تھا نِصْف آپ کا تھا نِصْف میرا اور غُلَام کے اب صَمَن جو ہیں اس میں بھی ہم دونوں کیا ہوں گے؟ شَرِيك تو وہ دَيْن ہے تو اس دَيْن میں ہم دونوں کیا ہو گئے؟ شَرِيك۔ وَالْمَوْرُوثِ بَيْنَهُمَا اَي الْمَالِ الْمَوْرُوثِ بَيْنَهُمَا یا وہ مال کیا تھا؟ مَوْرُوث تھا ان دونوں کے درمیان۔ دو بھئی تھے بھئی، ان کے باپ نے اپنا غُلَام زَيْد کے ہاتھ فروخت کر دیا بھئی۔ تو اب زَيْد نے وہ مَادَيْن دینا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ دَيْن اور باپ کا انتقال ہوا تو اس دَيْن کے مالک کون بن گئے؟ وُرَثَة بن گئے تو اس دَيْن میں بھی دونوں کیا ہیں؟ شَرِيك ہیں، یہ مَعْنَا اَي الْمَالِ الْمَوْرُوثِ بَيْنَهُمَا یا ایسا مال تھا جو تَرَكَة تھا ان دونوں کے بیچ بھئی۔ تو یہ بھی مال دَيْن مُشْتَرَك ہے، اَوْ قِيمَةِ الْمُسْتَهْلِكِ الْمُسْتَهْلَكِ الْمُسْتَهْلَكِ الْمُشْتَرَكِ مُسْتَهْلَك پڑھنا مولانا۔ صُورَةِ مَسْأَلَةٍ یہ بھئی، میرا اور آپ کا ایک غُلَام ہے مُشْتَرَكٌ کیا ہے؟ مُشْتَرَكٌ، اس کو کسی شَخْص نے یا یوں غُلَام نہ بناؤ کوئی اور مثال بنا لو۔ کیا بنا لو؟ بھئی آپ کی اور میری گَنْدُم ہے مُشْتَرَكٌ گَنْدُم پڑی ہوئی ہے، کسی شَخْص نے وہ گَنْدُم تَلَف کر دی، ہَلَاك کر دی، جَلَا دی، تو اسے کیا دینی پڑے گی؟ قِيمَت اور گَنْدُم مُشْتَرَك تھی تو اس کی قِيمَت کا جو دَيْن آیا دوسرے پر اس دَيْن میں بھی ہم دونوں کیا ہیں؟ شَرِيك ہیں تو یہ دَيْن مُشْتَرَك کی صورتیں بتلائیں۔ یہ مَعْنَا اَوْ قِيمَةِ الْمُسْتَهْلِكِ الْمُشْتَرَكِ ایسا مُشْتَرَك وہ مُشْتَرَك وہ مُسْتَهْلَك وہ ہَلَاك کی ہوئی چیز جو کیا تھی؟ مُشْتَرَك اس کی قِيمَت بھئی۔ فَإِنَّ كُلَّمَا أَخَذَهُ أَحَدُ الشَّرِيكَيْنِ فَالْاِخَرُ اِتِّبَاعُهُ اس لیے کہ وہ جو کچھ جو کوئی ایک لے لیتا ہے دونوں شَرِيكوں میں سے تو دوسرا دوسرے کو حق ہے اِتِّبَاعُهُ اس کا پیچھا کرنے کا۔ بھئی دَيْن مُشْتَرَك کے اندر ایک ایک پائی جو وُصُول ہوگی اس میں دونوں شَرِيك ہوتے ہیں، لہٰذا ایک نے بیس ہزار وُصُول کر لیے کچھ حصّہ تو دوسرا شَرِيك کیا کر سکتا ہے اس کا پیچھا کر سکتا ہے کیونکہ بیس ہزار میں اس کا بھی نِصْفٌ ہے، کتنا حصّہ ہے؟ دس ہزار تو، تو اگر اس نے مُصَلَّل ایک لاکھ دَيْن تھا، اس نے پانچ ہزار وُصُول کیے تو دوسرے کا کتنا حصّہ ہے؟ اس پانچ ہزار میں سے ڈھائی ہزار تو وہ اس میں اس کا پیچھا کر سکتا ہے بھئی، کہ نِصْفٌ اب مجھے دو جتنا بھی وُصُول ہوتا جائے گا دونوں کیا کر سکتے ہیں اس کو دوسرے کے لیے جائز ہے پیچھا کرے اور اپنا حصّہ لے اس میں سے۔ دوسری صورت ہے مولانا صُلْح نہیں کہ وَلَوْ قَبَضَ أَحَدٌ شَيْئاً مِنَ الدَّيْنِ دونوں میں سے ایک نے قَبْضَه کر لیا کسی چیز پر مِنْ الدَّيْنِ کس میں سے؟ دَيْن میں سے۔ بھئی کچھ قَرْض وُصُول کر لیا صُلْح بھی نہیں کی کوئی چیز بھی نہیں خریدی بلکہ کیا وُصُول کیا ہے باقاعدہ؟ قَرْض ہی وُصُول کر رہا ہے۔ قَرْض کتنا تھا؟ پچاس ہزار زَيْد نے میرے دینے ہیں اور پچاس ہزار ہاں، لیکن قَرْض مُشْتَرَك ہے بھئی، قَرْض کیا ہے؟ ہاں قَرْض مُشْتَرَك ہے اس میں سے پچاس ہزار میرا حصّہ بنتا ہے پچاس ہزار عَامِر کا، عَامِر نے کتنے لے لیے زَيْد سے؟ بیس ہزار وُصُول کر لیے۔ تو بیس ہزار میں، بھئی یہ تو قَرْض مُشْتَرَك تھا تو بیس ہزار میں یقیناً میرا بھی حصّہ ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں؟ اس کا پیچھا کروں گا کہ لو بھئی میرا حصّہ اس میں سے مجھے دے دو اور دس ہزار اس سے لے لوں گا۔ اور چاہوں تو مُقْرُوض مَدْيُون کا ہی پیچھا کروں اس سے میں چلو اس نے لے لیا لے لیا میں اس کے پیچھے نہیں پڑتا کس کا پیچھا کرتا ہوں؟ کہ بیس ہزار اسے دیا ہے تو اب مجھے بھی اس کے مُطَابِق بیس ہزار تو یہ میرا حصّہ مجھے اب دو بھئی۔ وَلَوْ قَبَضَ أَحَدٌ شَيْئاً مِنَ الدَّيْنِ اور اگر قَبْضَه کر لیا دونوں میں سے کسی نے کسی چیز پر دَيْن میں سے شَارَكَهُ شَرِيكُهُ فِيْهِ تو شَرِيك ہو جائے گا اس کا شَرِيك بھی اس چیز کے اندر وَرَجَعَا عَلَى الْغَرِيمِ اور دونوں رُجُوع کریں گے کس پر؟ غَرِيم پر بِمَا بَقِيَ کس چیز کے ساتھ؟ بِمَا بَقِيَ بلکہ یوں صورت بنا لو، ایک نے پورے ایک بھئی زَيْد کا حصّہ عَامِر کا حصّہ کتنا بنتا تھا؟ پچاس، میرا بھی کتنا بنتا تھا؟ پچاس ہزار۔ بھئی اس زَيْد نے عَامِر کو پچاس ہزار دے دیے، پچاس ہزار دے دیے اب مجھے اِخْتِيَار ہے میں چاہوں تو کس کے پاس جاؤں؟ عَامِر کے پاس جاؤں اور پچاس ہزار میں سے کتنے لےلوں؟ پچاس ہزار لے لوں۔ پچیس ہزار لے لوں اور چاہوں تو کس کا پیچھا کروں؟ زَيْد کا مَدْيُون کا کہ لو اس کا حصّہ دے دیا تو میرا حصّہ بھی اب مجھے دے دو۔ لیکن اگر میں نے کس کا پیچھا کیا؟ شَرِيك کا اور اس سے پچاس ہزار لیے تھے میں کتنے لے لیتا ہوں؟ پچیس ہزار لے لیتا ہوں اب زَيْد پر کتنا مال بَاقِي ہے؟ پچاس ہزار۔ اب ہم دونوں زَيْد پر کیا پیچھا کر سکتے ہیں؟ دونوں جاتے ہیں زَيْد کو کہتے ہیں لو بھئی پچاس ہزار بَقَايَا بھی دے دو تو زَيْد عَامِر کو یہ نہیں کہہ سکتا کہ تیرا حصّہ تو میں نے تجھے دے دیا تھا کیا کیا تھا؟ دے دیا تھا کیوں؟ کیونکہ جو دیا تھا وہ صرف عَامِر کا حصّہ نہیں تھا وہ تو مالِ شِرْكَت تھا تو اس میں دونوں کیا تھے؟ شَرِيك تھے تو وہ مَقْرُوض یعنی مَدْيُون اِس شَرِيك کو روك نہیں سکتا جس کو اس نے کیا کر دیا تھا نِصْفٌ دَيْن ادا کر دیا تھا۔ یہ مَعْنَا وَرَجَعَا عَلَى الْغَرِيمِ بِمَا بَقِيَ اور دونوں رُجُوع کریں گے کس پر؟ غَرِيم پر مَابَقِيَ کے اندر اِى لَا يَكُونُ لِلْغَرِيمِ غَرِيم کے لیے یہ کہنا جائز نہیں ہے، یہ جائز نہیں ہے کہ اَنْ يَقُولَ لِلَّذِيْ أَعْطَاهُ نِصْفَ الدَّيْنِ کہ وہ کہے اس شخص سے جس کو اس نے نِصْفٌ دَيْن دے دیا تھا کہ إِنِّيْ قَدْ أَعْطَيْتُكَ حَقَّكَ کہ تیرا حصّہ تو میں تجھے دے چکا ہوں فَلَيْسَ لَكَ عَلَيَّ شَيْءٌ تو تیرا مجھ پر کچھ بھی نہیں ہے فَإِنَّمَا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ مُشْتَرَكٌ بَيْنَهُمَا اس لیے کہ جو چیز اس نے اس کو دی تھی وہ تو دونوں کے درمیان دونوں شَرِيكوں میں کیا تھی؟ مُشْتَرَكٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ شَرِيكِهِ وہ تو اس کے اور اس کے شَرِيك کے درمیان مُشْتَرَك تھی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ کہ نہیں آئی سمجھ میں؟ وَلَوْ شَرَعَ عَنْ غَرِيْمِهِ بِنِصْفِهِ شَيْئاً ضَمَّنَهُ شَرِيكُهُ رُبْعَ الدَّيْنِ اَوْ اِتَّبَعَ غَرِيْمَهُ۔ اب تیسری صورت ہے بھئی، زَيْد پر ایک لاکھ دَيْن ہے، پچاس ہزار میرا ہے، پچاس ہزار عَامِر کا ہے، عَامِر کیا کرتا ہے؟ اپنے حصے کے عِوَض اپنے دَيْن کے عِوَض کوئی چیز اس سے خرید لیتا ہے۔ کیا کر لیتا ہے؟ کوئی چیز خرید لیتا ہے۔ تو اس صورت میں دوسرے شَرِيك کو اِخْتِيَار ہے کیا اِخْتِيَار ہے؟ کہ جس نے اپنے حصے کا عِوَض لیا ہے اس سے چاہے تو کیا کرے؟ رُبْعُ دَيْن کا زَامِن لے لے رُبْعُ دَيْن کا اسے زَامِن بنا دے اور چاہے تو مَدْيُون کا پیچھا کرے۔ چاہے تو کیا کرے؟ دیکھو بھئی۔ بھئی دَيْن تھا ایک لاکھ، میرا حصّہ کتنا؟ پچاس ہزار، عَامِر کا حصّہ کتنا؟ پچاس پچاس ہزار، عَامِر نے اپنے حصے کے عِوَض میں بَيْع کر لی کوئی چیز خریدی کہ بھئی تم نے میرے زَيْد کو کہتا ہے آپ نے میرے پچاس ہزار دینے ہیں، دَيْن میں سے جو پچاس ہزار میرا حصّہ بنتا ہے آپ یوں کریں میرے حصے کے عِوَض میں مجھے کیا بیچ دیں؟ اپنی موٹر سائیکل بیچ دیں، وہ بھی پچاس ہزار کی کتنے کی؟ پچاس ہزار کی، بَيْع کی بات ہو رہی ہے مولانا بَيْع کے اندر بَرَابَرِی ہوتی ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ یہ نہیں کہ موٹر سائیکل دَسْ ہزار کی ہے وہ اس کو کیا کہتا ہے مجھے کتنے میں بیچ دو؟ پچاس ہزار پھر تو یہ صُلْح ہوئی یہ تو بَيْع نہ ہوئی مولانا۔ تو موٹر سائیکل بھی مَسَلَّن تقریباً کتنے کی ہوگی؟ پچاس ہزار کی وہ اس نے اس سے خرید لی مولانا، خرید لی۔ اب خریدنے کے بعد بھئی، دوسرے شَرِيك یعنی مجھے اِخْتِيَار ہے میں چاہوں تو زَيْد ہی کا پیچھا کروں کہ بھئی اس کے حصّہ تو وُصُول ہو چکا اب میرا حصّہ بھی مجھے ادا کر دو اور چاہے تو میں اپنے شَرِيك پر رُجُوع کروں اور اس کا پیچھا کروں اور اس کو زَامِن بنا دوں کتنے کا؟ جی رُبْعُ دَيْن کا کتنے کا؟ رُبْعُ دَيْن کا، کیونکہ جو اس نے بَيْع کی تھی وہ کُل دَيْن میں تھی یا نِصْفٌ دَيْن؟ نِصْفٌ دَيْن اور نِصْفٌ دَيْن میں سے بھی نِصْفٌ میرا ہے جو کتنا بنتا ہے؟ رُبْعٌ دَيْن تو رُبْعٌ دَيْن کا میں اس سے کیا لے سکتا ہوں؟ ضمَان لے سکتا ہوں۔ یہ مَعْنَا ہے وَلَوْ شَرَاعَ عَنْ غَرِيْمِهِ اگر ایک شریک نے خرید لیا مقروض سےبِنِصْفِهِ شَيْئًا نِصف کے عِوَض میں کوئی چیز خرید لی، ضَمَّنَهُ تو اس کو ضامِن بنا دے گا، کون ضامِن بنائے گا؟ شَرِيكُهُ اس کا شَرِیک کتنے میں ضامِن بنائے گا؟ رُبْعَ دَيْنٍ رُبع دَین کا۔ أَوِ اِتَّبَعَ غَرِيمَهُ یا پیچھا کرے کس کا؟ فَرِيبِ مَقْرُوض کا۔ سُورت تفصیل سے بتلا رہے ہیں، اِشْتَرَى أَحَدُ الشَّرِيكَيْنِ خرید لیا دو شَرِیکوں میں سے ایک نے بِنِصْفِهِ نِصف کے بدلے میں مِنَ الْغَرِيمِ غریم سے شَيْئًا کوئی چیز۔ فَلِلشَّرِيكِ الْآخَرِ تو دوسرے شَرِیک کے لیے جائز ہے کہ أَنْ يُضَمِّنَهُ رُبْعَ دَيْنٍ اس کو ضامِن بنا دے کتنے کا؟ رُبع دَین کا، لِأَنَّهُ صَارَ رَقَابِضًا نِصْفَيْنِ اس لیے کہ یہ کیا بن گیا ہے؟ نِصف دَین پر قبضہ کرنے والا، کیا بن گیا؟ نِصف دَین پر قبضہ کرنے والا بن گیا بِالْمُقَاصَّةِ مُقَاصَّة کی وجہ سے۔ کس کی وجہ سے؟ مُقَاصَّة کسے کہتے ہیں؟ ایک دَین کو دوسرے دَین کا عِوَض قرار دے کر حساب چکانا۔ بالمُقَاصة مُقَاصة کسے کہتے ہیں؟ ایک دَین کو دوسرے دَین کا عِوَض قرار دے کر حساب چکانا، حساب پورا کر دینا۔ دیکھو بھئی! زید نے ہمارا کتنا دَین دینا ہے؟ ایک لاکھ دَین دینا ہے۔ اور اب عامر نے اپنے حصے کے بدلے کیا خرید لی؟ موٹر سائیکل خریدی۔ جب موٹر سائیکل خریدی تو موٹر سائیکل کے ثمن کس پر آگئے؟ بھئی! کس نے خریدی موٹر سائیکل؟ عامر نے۔ تو موٹر سائیکل کے ثمن کس پر آگئے؟ عامر پر۔ وہ بھی کتنے آگئے؟ پچاس ہزار۔ کتنے آگئے؟ پچاس ہزار۔ تو عامر پر بھی پچاس ہزار دَین ہوا، زید پر بھی اس کا کتنا دَین ہوا؟ پچاس ہزار۔ پھر دونوں نے حساب پورا کر لیا کہ ایک دَین کو دوسرے دَین کا عِوَض دے دیا۔ پورا سمجھ میں آئی؟ تو یہاں پر بھی وہ دوسرا وہ قبضہ کرنے والا ہے نِصْفِ دَین پر بِالْمُقَاصَّةِ، کس کی وجہ سے؟ مُقَاصة کی وجہ سے؛ فَيُضَمِّنُهُ شَرِيكَهُ الرُّبْعَ، هَلَكَ هذا، الہٰذا اس کو ضامن بنا دے گا اس کا شریک کتنے کا؟ رُبْع کا، کتنے کا ضامن بنا دے گا؟ رُبْع کا۔ بِخِلَافِ، اب یہاں سے بتلا رہے ہیں: دیکھو بھئی! ایک صورت تھی صلح والی، ایک صورت ہے بیع والی۔ صلح والی صورت میں بِرَافَوْرَنْد ضامن نہیں بنانے کا ذکر کیا تھا، بلکہ کیا کہا تھا؟ کہ چاہے تو اسے نِصْف کپڑا لے لے۔ نِصْف کپڑا لے لے، اور اگر وہ اس کو نِصْفِ رُبُع کی ضمانت دے دیتا ہے تو پھر رُبُع کپڑا اس سے نہ لے۔ تو وہاں کیا کہا تھا؟ ضامن بناؤ یا اگر وہ خود ضمانت دے دیتا ہے، وہ خود ضمانت دینے کا ذکر تھا، اور یہاں بیع کے اندر کیا کہا؟ کہ دوسرا شریک اس کو کیا بنا دے؟ ضامن بنا دے۔ تو یہ فرق کیوں ہے؟ ایک میں اس کی مرضی چلے گی جس نے صلح کی ہے اور بیع کے اندر دوسرے کی مرضی چل رہی ہے کہ اس کو ہم ضامن بنا لیتے ہیں۔ کہتے ہیں بھئی! اس لیے کہ ایک مسئلے میں پہلے مسئلے میں تھی صلح، اور صلح کے اندر عموماً برابر چیز نہیں لی جاتی، بلکہ کیا کی جاتی ہے؟ کم چیز لی جاتی ہے۔ کتنی؟ تو لہٰذا اس نے جو کپڑا لیا، وہ صلح کے اندر، وہ پچاس ہزار کا ہوگا یا کم کا ہوگا؟ کم کا ہوگا، لہٰذا اب اگر ہم اسے رُبْعِ دَین یعنی پچاس ہزار کا ضامن بنا دیں، تو یہ اس کو نقصان بیچارے کو ہوا۔ اس نے تو جو کپڑا لیا تھا، وہ چالیس ہزار کا تھا، کتنے کا؟ چالیس ہزار کا، تو چالیس ہزار میں سے اب ہم اس کو رُبْعِ دَین کا ضامن بنا دیں، تو رُبْعِ دَین تو کتنا بن گیا؟ پچاس ہزار۔ کتنا؟ پچاس ہزار۔ ایک لاکھ میں سے رُبْعِ دَین کتنا ہے؟ تو اس بیچارے نے جو پورا اس کو مال ملا، وہ ہے چالیس ہزار کا، اور زمان اس پر کتنے کا آگیا؟ پچاس ہزار کا۔ تو لہٰذا اس صورت میں اب اس کی مرضی ہے کہ ضمانت دے یا ضمانت نہ دے، نِصْفِ کپڑا ہی دے دے، بیس ہزار کا خود رکھا اور بیس ہزار کا اسے دے دیا۔ تو لہٰذا ضمانت یہاں پر اس کا اختیار ہے، ورنہ تو اس بیچارے کا کیا لازم آئے گا؟ نقصان۔ کیونکہ اس نے صلح کی ہے اور صلح میں پورے مال پر صلح نہیں ہوتی، بلکہ کیا کیا جاتا ہے؟ کچھ نہ کچھ کمی ہوتی ہے۔ جبکہ دوسری صورت میں دوسرے شریک کو اختیار تھا کہ وہ اس سے زمان لے لے بھئی! رُبْعِ دَین کا، اسے ضامن بنا دے۔ کیوں اختیار دیا؟ اس لیے کہ اس نے بیع کی ہے اور بیع کی بنیاد ہوتی ہے تنگی اور بخل پر، لوگ بیع کے اندر کیا کرتے ہیں؟ اپنے ساتھی کے ساتھ بھی بیع کرتے ہیں، تو عموماً کیا کوشش ہوتی ہے؟ کہ برابر کی چیز برابر ہی میں بیچوں، نقصان وغیرہ مجھے نہ ہو۔ تو بیع کی بنیاد ہے مُمَاكَسَت پر، تنگی اور بخل پر۔ تو اس کے اندر گویا اس نے پچاس ہزار دَین کے عِوَض جو چیز وصول کی، وہ بھی تقریباً کتنے کی ہوگی؟ وہ پچاس ہزار ہی کی ہوگی۔ لہٰذا اب اگر اسے رُبْعِ دَین یعنی پچاس ہزار کا ضامن بنا دیا جائے تو اس کا کوئی نقصان نہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ لِھٰذَا کہا: فَيُضَمِّنُهُ شَرِيكَهُ الرُّبْعَ، تو ضامن بنا دے گا اسے اس کا شریک رُبْعِ دَین کا، بِخِلَافِ مَسْأَلَةِ الصُّلْحِ، بخلاف مسئلہ صلح کے؛ وَإِنَّهُ إِذَا أَخَذَ الثَّوْبَ بِطَرِيقِ الصُّلْحِ عَنِ النِّصْفِ، اس لیے کہ جب شریک نے لے لیا بھئی! کپڑے کو صلح کے طریقے پر نِصْف سے، وَمَبْنَى الصُّلْحِ عَنِ الْحَطِّ، اور صلح کی بنیاد کس پر ہے بھئی؟ کم کرنے پر ہے، چھوڑ دینے پر ہے، فَظَاهِرٌ تو ظاہر یہی ہے أَنَّ قِيمَةَ الثَّوْبِ أَقَلُّ مِنْ نِصْفِ الدَّيْنِ، کہ کپڑے کی قیمت نِصْف دَین سے کیا ہوگی؟ کم ہی ہوگی۔ فَلَوْ ضَمَّنَهُ، پس اگر اس کو، اگر وہ شریک، دوسرا شریک ضامن بنا دے رُبْعِ دَین، کتنے دَین کا؟ رُبْعِ دَین کا، فَلِتَضَرَّرَ آخِذُ الثَّوْبِ، تو کپڑا لینے والے کو نقصان ہوگا۔ اس کو ضرر آئے گا۔ فَلِأَاخِذِ الصَّوْبِ أَنْ يَقُولَ، تو لہٰذا کپڑا لینے والے کو اختیار ہے أَنْ يَقُولَ کہ وہ یوں کہے: إِنِّي مَا أَخَذْتُ إِلَّا ثَوْبًا، کہ میں نے تو صرف کپڑا ہی لیا ہے، فَإِنْ شِئْتَ فَخُذْ نِصْفَهُ، تو تو چاہے تو کیا کر لے؟ نِصْف کپڑا لے لے، تو نِصْف کپڑا اس کو دے، ضمانت نہ دے بھئی! بِخِلَافِ مَسْأَلَةِ الشِّرَاءِ، بخلاف کس کے؟ مسئلہ شِرا کے، اِذْ مَبْنَاهُ عَلَى الْمُمَاكَسَةِ، اس لیے کہ شِرا کی بنیاد کس پر ہوتی ہے؟ مُمَاكَسَت، تنگی اور بخل پر ہوتی ہے، بخل پر ہوتی ہے، بیع کے اندر لوگ بخل کرتے ہیں۔ فَلَا يَتَضَرَّرُ الْمُشْتَرِي بِضَمَانِ رُبْعِ الدَّيْنِ، لہٰذا اب اگر ہم مُشْتَرِی کو کیا کر دیں؟ رُبْعِ دَین کا ضامن بنا دیں، تو اس سے مُشْتَرِی کو کوئی ضرر لازم نہیں، اس کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ وَفِی الْإِبْرَاءِ عَنْ حَظِّهِ وَالْمُقَاصَّةِ بِدَيْنٍ سَبَقَ لَمْ يَرْجِعِ الشَّرِيكُ، صورتِ مسئلہ یہ ہے: ادھر دیکھو بھئی! زید نے دَین دینا ہے، میرا اور عامر کا کتنا بھئی؟ ایک لاکھ۔ میرا حصہ کتنا؟ پچاس ہزار۔ عامر کا حصہ کتنا؟ پچاس ہزار۔ عامر نے اپنا حصہ معاف कर दिया زید کو، کہ میں اپنے حصے کا کیا کرتا ہوں؟ چھوڑ دیتا ہوں، معاف کرتا ہوں؛ تو کیا اب میں عامر پر رُجُوع کر سکتا ہوں کہ لاؤ بھئی! مجھے اب پچاس ہزار کیا کرو؟ ادا کرو؟ کہتے ہیں نہیں بھئی! اب میں اس پر رُجُوع نہیں کر سکتا، کیونکہ اس نے کوئی چیز وصول نہیں کی بھئی! تو یہ اس نے تو صرف چھوڑا ہے اپنا حصہ۔ یہ ایک صورت۔ دوسری صورت بھئی! میں نے اور زید عامر نے مل کر غلام بیچا تھا کس پر؟ زید پر، اور کتنا دَین ہے اس پر؟ ایک لاکھ۔ لیکن زید کا پہلے سے پچاس ہزار دَین تھا عامر پر۔ زید کا پہلے سے کس پر دَین تھا؟ عامر پر پچاس ہزار دَین تھا۔ تو اب ہم نے یہ جو غلام بیچا ایک لاکھ کا، تو اس میں عامر کا حصہ کتنا؟ پچاس ہزار۔ اور میرا حصہ کتنا؟ پچاس ہزار۔ تو اب زید پر بھی دَین ہوا کتنا عامر کا؟ پچاس ہزار اور عامر پر پہلے سے تھا زید کا کتنا؟ پچاس ہزار۔ تو دونوں آپس میں حساب چکا لیتے ہیں، چلو بھئی! یہ دَین اس دَین کا عِوَض ہوا، ہم دونوں کا حساب ختم بھئی، پورا ہو گیا تو کیا اب اس صورت کے اندر شریک اب دوسرے پر رُجُوع کر سکتا ہے کہ لاؤ بھئی! تم نے تو کیا کر لیا؟ مُقَاصَّة کر کے نِصْفِ دَین وصول کیا ہے، تو مجھے اب کتنے ادا کر دو؟ پچاس ہزار مجھے ادا کرو؟ کہتے ہیں نہیں بھئی! اس نے کوئی چیز وصول نہیں کی، لہٰذا اس پر رُجُوع نہیں کر سکتا۔ یہ معنی ہے۔ وَفِی الْإِبْرَاءِ عَنْ حَظِّهِ، اور اپنے حصے سے بری کر دینے کی صورت میں، پہلی صورت، وَالْمُقَاصَّةِ بِدَيْنٍ سَبَقَ، اور مُقَاصَّة کر لینے کی صورت میں ایسے دَین کے بدلے سَبَقَ جو پہلے سے تھا، لَمْ يَرْجِعِ الشَّرِيكُ، شریک رُجُوع نہیں کر سکتا۔ أَيْ إِذَا أَبْرَأَ أَحَدُ الشَّرِيكَيْنِ الْغَرِيمَ عَنْ نَصِيبِهِ، جب بری کر دیا دو شریکوں میں سے ایک نے غَرِيم کو اپنے حصے سے، لَا يَرْجِعِ الشَّرِيكُ الْآخَرُ عَلَى ذَلِكَ الشَّرِيكِ، تو دوسرا شریک اس شریک پر رُجُوع نہیں کر سکتا، لِأَنَّ الْإِبْرَاءَ إِتْلَافٌ لَا قَبْضٌ، اس لیے کہ اِبراء یہ تو مال کو تلف کرنا ہے، مال پر قبضہ کرنا نہیں، تو کس بات کے اس سے نِصْف وصول کرتا ہے؟ وَكَذَا إِنْ وَقَعَتِ الْمُقَاصَّةُ بِدَيْنِهِ السَّابِقِ، اسی طرح اگر مُقَاصَّة واقع ہو جائے بِدَيْنِهِ السَّابِقِ اس کے اس دَین کا جو سَابِق ہے، پہلے سے ہے، صُورَت یہ بتلا رہے ہیں، صُورَتُهُ لِزَيْدٍ عَلَى عَمْرٍو خَمْسُونَ دِرْهَمًا، زید کے پہلے سے ہی عامر پر کتنے تھے؟ پچاس درہم تھے۔ فَبَاعَ عَمْرٌو وَبَكْرٌ عَبْدًا مُشْتَرَكًا بَيْنَهُمَا، پھر بیچا عامر نے اور بکر نے عَبْدًا مُشْتَرَكًا ایسا غلام جو مشترک ہے بَيْنَهُمَا ان دونوں کے بیچ مِنْ زَيْدٍ کس پر بیچا؟ زید پر بِمِائَةِ دِرْهَمٍ، کتنے کے بدلے میں؟ سو درہم کے بدلے میں۔ تو اب بھئی، حَتَّى وَجَبَ لِكُلِّ مِنْهُمَا عَلَى زَيْدٍ خَمْسُونَ دِرْهَمًا، تو ہر ایک کے واجب ہو گئے زید پر کتنے بھئی؟ پچاس درہم، وَقَعَتِ الْمُقَاصَّةُ بَيْنَ الْخَمْسِينِ الَّتِي وَجَبَتْ لِعَمْرٍو عَلَى زَيْدٍ وَبَيْنَ الْخَمْسِينِ الَّتِي كَانَتْ لِزَيْدٍ عَلَى عَمْرٍو، تو مُقَاصَّة واقع ہوا ان پچاس کے درمیان جو واجب تھے عامر کے کس پر؟ زید پر، اور وہ پچاس الَّتِي كانت جو تھے زید کے پہلے سے کس پر؟ عامر پر۔ فَلَيْسَ لِبَكْرٍ، تو بکر کے لیے جائز نہیں ہے أَنْ يَقُولَ لِعَمْرٍو، کہ وہ کیا کہے عامر سے، إِنَّكَ قَبَضْتَ الْخَمْسِينَ الَّتِي وَجَبَتْ لَكَ عَلَى زَيْدٍ، تو نے تو ان پچاس پر کیا کر لیا؟ قبضہ کر لیا جو تیرے کس پر واجب ہوئے تھے؟ زید پر، حَيْثُ وَقَعَ الْمُقَاصَّةُ بَيْنَ الْخَمْسِينِ الَّتِي وَجَبَتْ لَكَ عَلَى زَيْدٍ وَبَيْنَ الْخَمْسِينِ الَّتِي كَانَتْ لِزَيْدٍ عَلَيْكَ، اِس طور پر کہ مُقَاصَّة واقع ہوا ہے ان پچاس کے درمیان جو ثابت ہوئے ہیں تیرے پر زید پر، اور ان پچاس کے درمیان جو زید کے کس پر تھے؟ تیرے اوپر۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ فَأَدِّلِی نِصْفَهَا، تو اب تو مجھے کیا کر دے؟ اس کا نِصْفِ ادا کر دے، تو نے نِصْف گویا اپنا وصول کر لیا ہے۔ وَإِنَّمَا لَا يَكُونُ لَهُ ذَلِكَ، اور یہ حق نہیں ہے، کس کو؟ بکر کو یہ کہنے کا حق نہیں ہے، کیوں؟ لِأَنَّ عَمْرًا قَاضٍ دَيْنَهُ بِالْمُقَاصَّةِ، لَا قَابِضٌ شَيْئًا، اس لیے کہ عامر قَاضٍ ادا کرنے والا ہے، اس لیے کہ عامر ادا کرنے والا ہے دَينہُ کس چیز کو ادا کرنے والا ہے؟ عامر یہ جو مُقَاصَّة ہوا ہے، اس کے ذریعے عامر نے کچھ وصول نہیں کیا، بلکہ صرف اپنے اوپر جو دَین تھا اس کو کیا کر دیا ہے؟ ادا کر دیا ہے۔ یہ معنی ہے، اس لیے کہ عامر جو ہے وہ اپنے دَین کو ادا کرنے والا ہے مُقَاصَّة کے ذریعے، لَا قَابِضٌ شَيْئًا کسی چیز پر قبضہ کرنے والا نہیں، تو بکر اس کو کہے نِصْف مجھے دو بھئی، اس نے کسی چیز پر قبضہ ہی نہیں کیا تو آپ کو کیا چیز حوالے کرے بھئی! صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ کتابت کی غلطی ایک اور درست کر رہے ہیں: لِأَنَّ عَمْرًا، عَمْرًا واو کے ساتھ لکھا ہے، واو کے ساتھ نہیں ہونا چاہیے مولانا، الف کے ساتھ ہونا چاہیے، کیوں؟ کیونکہ عامر کے آخر میں واو لکھی جاتی ہے، عمر سے فرق کرنے کے لیے، ایک لفظ ہے عامر نام، ایک نام ہے عمر، عمر کے چونکہ غیر منصرف ہے۔ اچھا، عامر بھی اسی طرح لکھتے ہیں، عمر بھی اسی طرح لکھتے ہیں، تو پہلے یہ اعراب تو تھے نہیں بھئی، تو فرق کرنے کے لیے کیا کرتے تھے اعراب؟ عامر کے ساتھ کس کو بڑھا دیا؟ واو، یہ واو بتلاتا تھا کہ یہ عمر لفظ نہیں ہے، بلکہ کیا ہے؟ عامر ہے۔ سمجھے تو یہ واو فرق کرنے کے لیے لکھی جاتی ہے، لیکن جب عَمْرًا منسوب ہے، تنوین اس پر آگئی، اور عمر تو ہے غیر منصرف، اس پر تنوین نہیں آسکتی، تو یہاں پر جب الف لکھ دیں گے، تو یہ الف بتلا دے گا کہ عَمْرًا پر کیا رہی ہے؟ تنوین، اور تنوین تو عمر پر نہیں آسکتی، پتہ چلا یہ کون سا لفظ ہے؟ عامر ہی ہے، عمر نہیں بھئی، تو لہٰذا حالتِ نصبی کے اندر تنوین آئے جب اس پر، تو اس وقت یہ واو نہیں لکھا جاتا بھئی۔ وَلَوْ أَبْرَأَ أَحَدُهُمَا عَنِ الْبَاعِ، قُسِّمَ الْبَاقِي عَلَى سِهَامِهِ، بھئی دیکھو بھئی! زید کو میں نے اور عامر نے غلام بیچا ہے ایک لاکھ میں، زید نے اب دَین دینا ہے ایک لاکھ، میرا کتنا ہے؟ میرا حصہ ایک لاکھ میں سے کتنا؟ پچاس ہزار، عامر کا حصہ بھی کتنا؟ پچاس ہزار، پہلے گزرا تھا کہ عامر نے کل دَین کو معاف کیا، کیا تھا؟ اپنے پورے حصے کو چھوڑ دیا تھا بھئی، اپنے پورے حصے کو۔ اب ہے اپنے پورے حصے کو نہیں چھوڑتا، بلکہ بعض کو چھوڑتا ہے، مَثَلًا نِصف کو اپنے حصے کو چھوڑ دیتا ہے، کیا کرتا ہے؟ نِصْف چھوڑ دیا، اور اس کا حصہ تھا پچاس ہزار، تو نِصْف اس کا کتنا ہوا؟ پچاس ہزار، تو پچاس ہزار چھوڑ دیا، تو باقی دَین؟ تو کہتے ہیں باقی دَین جو وصول ہوگا، وہ ان کے حصوں کے بہ قدر تقسیم ہوتا جائے گا بھئی، ان کے حصوں کے بہ قدر کیا ہوگا؟ تقسیم۔ جتنا جتنا وصول ہوگا، حصوں کے بہ قدر تقسیم ہوگا، ایک رُبْع تو وہ معاف کر چکا، باقی کتنے رُبْع باقی ہیں؟ تین رُبْع، اور تین رُبْعوں میں سے ایک رُبْع عامر کا حق ہے اور دو رُبْع کس کے حق ہیں؟ میرا حق ہے، صورت سمجھ میں آئی؟ تو جتنا بھی مال وصول ہوتا جائے، وصول ہوتا جائے، اس میں سے ہم تین حصے کرتے جائیں گے، ایک حصہ عامر رکھا کرے گا، اور دو حصے میں رکھوں گا، یہاں تک کہ پورا دَین وصول ہو جائے۔ یہ معنی ہے، وَلَوْ أَبْرَأَ أَحَدُهُمَا عَنْ بَعْضٍ، اگر دونوں شریکوں میں سے ایک نے بعض دَین سے بری کیا، قُسِّمَ الْبَاقِي عَلَى سِهَامِهِ، تو باقی دَین کو تقسیم کیا جائے گا ان کے حصوں کے بہ قدر، اِذَا كَانَ الدَّيْنُ بَيْنَ الشَّرِيكَيْنِ نِصْفَيْنِ، جب ایک دَین تھا دو شریک آدمیوں میں، نِصْفَيْنِ، کتنا تھا؟ نِصْف نِصْف تھا دو شریکوں کے درمیان ایک دَین، فَأَبْرَأَهُ أَحَدُهُمَا عَنْ نِصْفِ نَصِيبِهِ، تو بری کر دیا دونوں میں سے ایک نے اپنے نِصْف حصے سے، کل دَین کا نِصْف نہیں، بلکہ اپنے حصے کے نِصْف میں سے بری کر دیا، اور وہ کتنا بنتا ہے؟ وَهُوَ رُبْع، تو قُسِّمَ الْبَاقِي أَثْلَاثًا، تو باقی دَین کس طرح تقسیم کیا جائے گا؟ تین حصے بنا کر، لِأَنَّهُ بَقِيَ لَهُ رُبْعٌ، اس لیے کہ ایک رُبْع اس کا باقی ہے، وَلِلْآخَرِ نِصْف، اور دوسرے کا نِصْفِ دَین ہے، جو کتنے رُبْع بنتا ہے؟ دو رُبْع بنتا ہے، تو کل کتنے رُبْع ہیں؟ تین رُبْع، ایک رُبْع جس نے معاف کیا اس کو ملا کرے گا، اور دو رُبْع دوسرے کو ملا کریں گے جَلِیَّ حَالِ هُوَ الْمُرَادُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
108 approved lectures · 105 of 108