بھئی گزشتہ روز مسئلہ آپ نے پڑھا تھا کہ اگر مشتری اور بائع میں عقد ہوا اور مشتری نے خیارِ شرط اپنے علاوہ کسی اور شخص کے لیے رکھا، تو پھر اس صورت میں دونوں کو خیار ہوگا۔ مشتری کو بھی خیار ہوگا اور جو اس جو تیسرا شخص ہے اس کو بھی خیار ہوگا۔ جو بھی چاہے ان میں سے اجازت دے سکتا ہے اور جو بھی چاہے بیع کو فسخ کر سکتا ہے بھئی۔
لیکن اگر ایک نے اجازت دے دی اور دوسرے نے فسخ کر دیا تو پھر کیا کریں گے؟ کہتے ہیں بھئی جس نے پہلے جس کا قول پہلے تھا اس کے مطابق عمل ہوگا بھئی۔ اگر پہلے نے اجازت دی ہے تو بیع جائز ہو گئی خیار ختم ہو چکا، اور اگر پہلے والے نے فسخ کیا ہے تو پھر بیع کیا ہو چکی؟ فسخ ہو چکی۔ اور اگر دونوں اکٹھے پائے گئے، دونوں کا قول اکٹھا تھا تو پھر اس صورت میں فسخ اولیٰ ہے اس لیے کہ فسخ قوی ہے اور اجازت ضعیف ہے بھئی۔ اس لیے کہ جو بیع مجاز ہو بھئی اس کے ساتھ تو فسخ لاحق ہو سکتا ہے، لیکن جو بیع ایک دفعہ فسخ ہو جائے وہ پھر اجازت اس کے ساتھ لاحق نہیں ہو سکتا۔
جیسے دیکھو مثال کے طور پر ایک شخص نے خیار کے ساتھ بھئی مشتری نے اپنے خیار کے ساتھ مبیعہ خریدا کہ مجھے تین دن تک فسخ کرنے کا اختیار بھی ہے، اب ایک دفعہ اس نے اجازت دے دی، تو بیع اب اس کا خیار ختم ہوا تو یہ بیع مجاز ہو گئی بھئی۔ لیکن ابھی اس نے بائع سے مبیعہ وصول نہیں کیا تھا کہ وہ مبیعہ بائع کے پاس ہلاک ہو گیا بھئی۔ جب وہ مبیعہ بائع کے پاس ہلاک ہوا تو اب ہم کیا کہیں گے کہ بیع ہی فسخ ہو گئی، اس لیے کہ بیع تو واقع ہوئی تھی مبیعہ پر اور مبیعہ ہی ختم ہوا تو عقد بھی ختم ہو گیا۔ تو یہ دیکھو بیع مجاز تھی لیکن اس نے کس کو قبول کر لیا؟ فسخ کو قبول کر لیا، فسخ لاحق ہو گیا اس کے ساتھ۔ جبکہ اس کے مقابلے میں ایک بیع جب ایک مرتبہ فسخ کر دی جائے پھر وہ اجازت کو قبول نہیں کرتی، معلوم ہوا کہ فسخ قوی ہے اور اجازت ضعیف ہے۔ تو جب دونوں کا قول اکٹھا پایا گیا یا پتہ نہیں چل رہا کس کا قول پہلے ہے تو اس صورت میں فسخ اولیٰ ہے۔
اور صاحبِ کتاب نے ذکر کیا تھا کہ فقہاء اس کی علت یہ بیان کرتے ہیں کہ بھئی دونوں کو خیار کیوں ہے؟ خیار تو صرف تیسرے کو ہونا چاہیے، اب مشتری نے جب اسے خیار دے دیا ہے تو مشتری کو خیار نہیں۔ کہتے ہیں بھئی تیسرے کے لیے خیار جو ثابت ہوا وہ نیابتاً ہوا۔ وہ اس مشتری کا نائب ہے اور جب وہ اس مشتری کا نائب ہے تو اقتضاءً مشتری کے لیے بھی کیا ثابت ہو گیا؟ خیار، کیونکہ اس کے پاس اگر ولایت ہوگی تو وہ نائب بنا سکتا ہے، اگر ولایت ہی نہیں تو وہ نائب بھی نہیں، جب اس کے پاس ولایت ہے تو اقتضاءً اس کے لیے بھی خیار ہونا چاہیے، ثابت ہوا بھئی۔
اس پر صاحبِ کتاب نے اشکال کیا تھا کہ بھئی تیسرے کے لیے خیار رکھنے کے لیے ضروری تھا کہ دونوں عقد کرنے والے اس پر راضی ہوں، بائع بھی راضی ہو پھر تیسرے کو خیار ملے گا اس لیے کہ وہ تو عقد میں شریک ہی نہیں ہے۔ تو معلوم ہوا جب بائع کی بھی رضامندی ضروری ہے تو معلوم ہوا کہ وہ صرف مشتری کا نائب نہیں ہے بلکہ دونوں کا نائب ہے۔ جب دونوں کا نائب ہے تو پھر مشتری کو خیار نہیں ہونا چاہیے، صرف کس کو خیار ہونا چاہیے؟ تیسرے شخص کو خیار ہونا چاہیے اس لیے کہ بائع کا بھی وہ نائب ہے، معلوم ہوا بائع اس کے خیار پر راضی ہے۔ تو اس کے خیار پر راضی ہونے سے یہ مطلب نہیں ہے کہ بائع کس کے خیار پر، مشتری کے خیار پر بھی راضی ہو، ہو سکتا ہے وہ اس کے خیار پر راضی نہ ہو، لہٰذا مشتری کو خیار نہیں ہونا چاہیے۔
میں نے اس کا بتلایا تھا کہ بعض علماء نے اس کا جواب دیا، وہ فرماتے ہیں بھئی کہ خیار تو مشتری نے رکھا تھا اس نے اپنا نائب اس کو بنایا ہے، باقی بائع کی رضامندی اس لیے ضروری تھی کہ یہ تیسرا شخص تصرف کر سکے اجازت کا یا فسخ کا۔ اب جب تک بائع کی رضامندی نہیں ہوگی تو وہ تیسرا تو عقد میں شریک ہی نہیں ہے تو وہ کوئی تصرف کر سکتا ہے؟ وہ تو اس لیے بائع کی اجازت ضروری تھی تاکہ اسے تصرف کا حق حاصل ہو جائے۔ تو اس لیے بائع کی اجازت ضروری تھی، تو نائب تو وہ صرف کس کا ہے؟ مشتری کا ہے۔ جب مشتری کا ہی صرف نائب ہے تو مشتری کو بھی اقتضاءً کیا حاصل ہو جائے گی؟ خیار حاصل ہو جائے گا بھئی۔
اس کے بعد ایک مسئلہ پڑھا تھا کہ دو غلام کسی شخص نے اس شرط پر بیچے کہ ان دونوں میں سے مجھے خیار ہے ایک کے اندر اور مجموعے کی رقم بتا دی بھئی۔ تو بتلایا تھا صاحبِ کتاب نے آپ کو کہ بیع فاسد ہوئی، اس لیے کہ مبیعہ بھی مجهول اور ثمن بھی مجهول۔ میں نے کہا تھا اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے ایک ضابطہ یاد رکھیں، وہ ضابطہ یہ ہے کہ جس مبیعہ کے اندر خیار ہوا کرتا ہے وہ غیرِ مبیعہ شمار ہوتا ہے۔ غیرِ مبیعہ کیوں شمار ہوتا ہے؟ اس لیے کہ بیع کا حکم کیا ہے؟ ملکیت، اور جس میں خیار ہے اس کے اندر ملکیت حاصل ہوتی ہے مشتری کو؟ نہیں، اس کے اندر مشتری کو ملکیت ہی نہیں حاصل، تو معلوم ہوا وہ مبیعہ نہیں۔ تو حکم کے اعتبار سے وہ غیرِ مبیعہ ہے۔ حکم کے اعتبار سے غیرِ مبیعہ ہے بھئی، اس میں ملکیت نہیں آ رہی بھئی۔
تو اب ایک آدمی تو یہاں پر کل چار صورتیں بنتی تھیں بھئی۔ چار صورتیں بھئی، دو باتوں کو یاد رکھیں ان کے اعتبار سے چار صورتیں بنتی ہیں، ایک یہ کہ محلِ خیار متعین ہو یا متعین نہ ہو، اور دوسری چیز ہر ایک کا الگ ثمن بیان کرے گا یا ہر ایک کا ثمن الگ بیان نہیں کرے گا، تو چار صورتیں ہیں۔ ایک صورت یہ کہ ہر ایک کا ثمن بھی الگ بیان کرے اور محلِ خیار بھی متعین کرے کہ اس فلاں والے غلام میں مجھے کیا ہے؟ خیار ہے، اس میں مجھے بیع کو فسخ کرنے کا حق حاصل ہے بھئی۔
اور دوسری صورت یہ تھی بھئی کہ دونوں میں سے کوئی ایک نہ تو محلِ خیار کو متعین کرتا ہے بس یہ کہہ کے دو غلام بیچ دیے ان میں سے ایک میں مجھے خیار ہے، بھئی کس کے اندر خیار ہے متعین نہیں کیا، اور ہر ایک کے الگ ثمن بھی نہیں بتائے، مجموعے کے ثمن بتا دیے دونوں کتنے کے ہیں؟ 100، تو اس صورت میں بھئی مبیعہ بھی معلوم نہیں اور ثمن بھی معلوم نہیں، اس لیے کہ ایک میں تو یقیناً خیار ہے اور جس میں خیار ہو وہ غیرِ مبیعہ اور دوسرا کیا بن جائے گا؟ مبیعہ۔ تو خیار کا تو پتہ ہی نہیں کس کے اندر ہے، پتہ نہیں کون سا والا غیرِ مبیعہ ہے، اس غیرِ مبیعہ کا پتہ چلتا تو دوسرے کا پتہ چلتا وہ کیا ہے؟ مبیعہ۔ تو مبیعہ بھی مجهول اور ہر ایک کے الگ الگ ثمن بھی اس نے نہیں بتائے تو اس مبیعہ کے ثمن بھی مجهول ہوئے بھئی۔
اور باقی دو صورتیں یہ تھیں کہ ایک محلِ خیار کو متعین کرے اور ثمن کو الگ بیان نہ کرے، یا ثمن کو تو الگ بیان کرتا ہے لیکن محلِ خیار کو متعین نہیں کرتا۔ تو ان چاروں صورتوں میں سے صرف ایک صورت میں عقد صحیح ہو جائے گا، وہ صورت جس میں محلِ خیار بھی متعین کر دے اور ثمن بھی الگ الگ بیان کر دے۔ باقی صورتوں میں کہ چاہے دونوں نہ بیان کرے یا دونوں میں سے ایک نہ بیان کرے تو پھر عقد کیا ہو جائے گا؟ فاسد، تو تین صورتوں میں عقد فاسد ہوا بھئی۔ یا تو جہالتِ مبیعہ کی وجہ سے یا جہالتِ ثمن کی وجہ سے یا دونوں کی جہالت کی وجہ سے۔
پھر ایک اشکال ہوا تھا بھئی کہ آپ نے جواز والی صورت میں کیا کہا؟ جب ایک غلام کے اندر محلِ خیار بتلا دیا کہ یہ غلام محلِ خیار ہے، اس کے غلام کے اندر مجھے عقد کو فسخ کرنے کا حق حاصل رہے گا اور ہر ایک کے الگ ثمن بھی بتلا دیے، تو اس پر پھر دوسرا اشکال ہوتا ہے کہ بھئی یہاں تو مبیعہ کو قبول کرنے کے لیے غیرِ مبیعہ کو قبول کرنے کی شرط لگا دی گئی، اور مبیعہ کے ساتھ غیرِ مبیعہ کے قبول کرنے کی شرط جب لگائی جائے تو عقد کیا ہو جایا کرتا ہے؟ فاسد۔ جیسے ایک شخص نے دو ایک غلام اور ایک آزاد ان دونوں کو ملا کر کسی کو بیچا اور کہا یہ دونوں غلام ہیں بھئی، اس کو نہیں پتہ بھئی کہ یہ کیا ہے ایک تو؟ آزاد۔ تو یہ دونوں آزاد ہیں اور ان دونوں کے اتنے پیسے ہیں بھئی، تو یہ بیع فاسد ہوگی مولانا امام صاحب کے نزدیک چاہے الگ الگ ثمن بھی بیان کر دیتا ہے دونوں کا پھر بھی کیا ہو جائے گی بیع؟ فاسد۔ اس لیے کہ ایک تو ہے غلام مبیعہ ٹھیک، لیکن آزاد آدمی تو مبیعہ نہیں، اور ان دونوں کو اس نے ایجاب میں جمع کر دیا، یہ دونوں میں نے آپ کو بیچے، الگ الگ ایجاب کیا یا ایک ہی ایجاب؟ ایک ہی ایجاب، تو ایک تو ہے مبیعہ، ایک ہے غیرِ مبیعہ، تو گویا دوسرے کو مبیعہ کے قبول کرنے کے لیے اس پر شرط عائد کر دی کہ غیرِ مبیعہ بھی تمہیں کیا کرنا پڑے گا؟ قبول کرنا پڑے گا۔ اگرچہ لفظوں میں شرط نہیں ہے لیکن ایجاب میں جب جمع کر دیا تو یہی صورت بن گئی بھئی، یہی صورت بن گئی۔ اور جب بھی ایسا کیا جائے تو عقد فاسد ہو جاتا ہے، تو یہاں پر بھی جب ایک محلِ خیار بھی متعین ہے، ہر ایک کے ثمن بھی الگ بتلا دیے، یہ دو غلام میں نے بیچے یہ جو پہلا غلام ہے اس میں میں عقد کو فسخ بھی کر سکتا ہوں، اور اس پہلے کی قیمت 200 ہے، دوسرے کی قیمت 300 ہے، آپ جس کو لینا، جی، اس کے ساتھ بیع کر لی، دوسرے نے کہا مجھے قبول ہے میں نے قبول کی بھئی۔
تو اب بھئی دیکھو جس میں خیار ہے وہ تو ہے غیرِ مبیعہ اور دوسرا کیا ہے؟ مبیعہ، اور ان دونوں کو اس نے ایک ایجاب میں جمع کر دیا، اور ایک ایجاب میں جمع کر دیا تو گویا مبیعہ کو قبول کرنے کے لیے غیرِ مبیعہ کو قبول کرنے کی شرط لگا دی، تو اس صورت میں عقد کو کیا ہونا چاہیے؟ فاسد۔ لیکن آپ کیا کہتے ہیں کہ فاسد نہیں بھئی، جب محلِ خیار اور ثمن کا پتہ ہے تو پھر فاسد نہیں، حالانکہ یہ تو فاسد ہونی چاہیے۔ تو علامہ صدر الشریعہ نے بتلایا کہ یہ جو دوسرا غلام ہے جس میں خیار ہے، جس غلام میں خیار ہے یہ من کل الوجہ غیرِ مبیعہ نہیں۔ اگر من کل الوجہ غیرِ مبیعہ ہوتا تو پھر عقد فاسد ہوتا جیسے وہ آزاد تھا، آزاد من کل الوجہ کیا تھا بھئی؟ غیرِ مبیعہ، وہ تو مبیعہ بن ہی نہیں سکتا۔ جبکہ یہ من وجہ مبیعہ ہے یہ والا غلام جس میں خیار ہے اور من وجہ مبیعہ نہیں۔ مبیعہ ہے بایں لحاظ کہ اس نے اس کو ایجاب میں جمع کیا ہے، ایجاب میں ذکر کیا ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ اور یہ محلِ بیع بھی ہے، محلِ بیع۔ اور مبیعہ نہیں ہے بایں لحاظ کہ اس میں خیار رکھا ہے، اور جس میں خیار رکھا جائے وہ کیا ہوتا ہے؟ غیرِ مبیعہ۔ تو یہ مبیعہ بھی ہے من وجہ اور غیرِ مبیعہ بھی ہے من وجہ۔
تو جو تین صورتیں ہیں جن میں بیع فاسد تھی بھئی، جن میں جہالتِ ثمن یا جہالتِ مبیعہ تھی یا دونوں تھے، ان کے اندر ہم نے اس کے غیرِ مبیعہ ہونے کا اعتبار کیا، تو مبیعہ کو قبول کرنے کے لیے غیرِ مبیعہ کی شرط گویا لگا دی گئی تو اس صورت میں وہ عقد کیا ہوئے؟ فاسد۔ جبکہ اس صورت میں ہم نے اس کو بھی مبیعہ ہونے کا اس کا بھی اعتبار کیا تو مبیعہ کو قبول کرنے کے لیے غیرِ مبیعہ کی شرط نہیں لگائی گئی بلکہ مبیعہ ہی کی کیا کی گئی ہے؟ شرط لگائی گئی ہے، تو لہٰذا بیع فاسد نہیں بھئی۔
"وَشِرَاءُ أَحَدِ الثَّوْبَيْنِ أَوْ أَحَدِ ثَلَاثَةٍ عَلَى أَنْ يُعَيِّنَ أَيًّا شَاءَ فِي ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ صَحَّ لَا إِنْ لَمْ يُشْتَرَطْ تَعْيِينُهُ وَلَا فِي أَحَدِ أَرْبَعَةٍ"۔
یہاں سے خیارِ تعیین کے بارے میں بتلا رہے ہیں بھئی۔ بھئی آپ ایک کپڑا لینے گئے دکاندار کے پاس بھئی، دکاندار نے کہا یہ کپڑا 10 کا ہے، یہ کپڑا 20 کا ہے، یہ کپڑا 30 کا ہے بھئی۔ آپ نے کہا بھئی میں اس شرط پر لیتا ہوں، یہ تین کپڑے لے جاتا ہوں، یہ ان میں سے ایک کپڑا میں خریدتا ہوں اس شرط پر کہ ان میں سے تعیین کا حق مجھے ہوگا، جس کو میں چاہوں گا کیا کروں گا؟ آپ سے لے لوں گا۔ ان تین میں سے ایک کپڑا میں نے خریدا اس شرط پر کہ مجھے کس چیز کا حق ہوگا؟ تعیین کا حق ہوگا بھئی تعیین کا۔
تو وہ تین کپڑے لے گیا اور اس نے تعیین کی کون سا کپڑا لے گا؟ نہیں، ہاں تعیین کا حق اس نے لے لیا بھئی۔ تو قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ یہ بیع فاسد ہونی چاہیے اس لیے کہ مبیعہ مجهول ہے۔ اس نے کوئی متعین کیا میں 10 والا لوں گا یا 20 والا لوں گا یا 30 والا لوں گا؟ اس نے متعین نہیں کیا۔ اور مبیعہ یا ثمن مجهول ہوں تو بیع کیا ہو جایا کرتی ہے؟ فاسد۔ تو قیاس بھی تقاضا کرتا ہے یہ بیع فاسد ہونی چاہیے اس لیے کہ مبیعہ معلوم نہیں۔ لیکن استحساناً فقہاء نے اس کی اجازت دی بھئی، حاجت کی وجہ سے۔ کس کی وجہ سے؟ حاجت کی وجہ سے، ضرورت کی وجہ سے بھئی۔ حاجت پیش آتی ہے عموماً اس قسم کی بیع کی اس لیے کہ یہ تین کپڑے ہیں یا دو کپڑے ہیں ان میں سے وہ ایک لینا چاہتا ہے اور کسی سے مشورہ کرنا چاہتا ہے یا سوچنا چاہتا ہے بھئی، تو بس حاجت کی وجہ سے اس کی اجازت دے دی۔
صورت سمجھ میں آ رہی ہے سب کو؟ حاجت کی وجہ سے۔ تو یہ استحساناً اجازت ہوئی، ورنہ قیاس کی رو سے تو یہ کیا ہونا چاہیے تھا؟ جائز نہیں۔ لیکن اس میں یاد رکھو یہ زیادہ سے زیادہ تین کے اندر جائز ہے، تین کپڑوں میں، تین چیزوں میں، تین سے زیادہ کے اندر اس کی اجازت نہیں۔ اس لیے کہ تین قسم کی چیزوں میں تین قسمیں آ گئیں، اعلیٰ بھی، ادنیٰ بھی اور متوسط بھی۔ تین انواع کی چیزیں ہو سکتی ہیں، اعلیٰ، ادنیٰ اور متوسط۔ تو تین سے ضرورت پوری ہو جاتی تھی تو تین میں حاجت تھی اس لیے تین میں اجازت دے دی۔ اگر تین سے زیادہ اس شرط پر خریدتا ہے تو پھر بیع کیا ہو جائے گی؟ فاسد بھئی، فاسد ہو جائے گی، بیع فاسد ہو جائے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تین سے زیادہ میں بیع فاسد ہو جائے گی۔
اچھا دیکھیے بھئی، "وَشِرَاءُ أَحَدِ الثَّوْبَيْنِ" اور خریدنا دو کپڑوں میں سے ایک کو "أَوْ أَحَدِ ثَلَاثَةٍ" یا تین میں سے ایک کو بھئی "عَلَى" اس شرط پر "أَنْ يُعَيِّنَ أَيًّا شَاءَ" کہ وہ متعین کر دے گا جس کو بھی چاہے گا "فِي ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ" تین دن کے اندر "صَحَّ" تو یہ کیا ہے؟ صحیح ہے یہ خریدنا۔ "لَا إِنْ لَمْ يُشْتَرَطْ تَعْيِينُهُ" لیکن صحیح نہیں ہے اگر شرط نہ لگائی گئی مبیعہ کی تعیین کی۔ ها ضمیر کس کو راجع؟ مبیعہ کو، اگر مبیعہ کی تعیین کی شرط نہ لگائی گئی یا یوں معروف پڑھ لو "إِنْ لَمْ يَشْتَرِطْ تَعْيِينَهُ" اگر اس نے اس مبیع، مشتری نے مبیعہ کی تعیین کی شرط نہ لگائی تو پھر صحیح نہیں ہے بھئی۔ تعیینِ مبیعہ مثلاً بھئی، تین کپڑے لے کر جا رہا ہے تو یہ بتانا ضروری ہے بھئی کہ میں نے ایک خریدا، اس میں سے ایک خریدتا ہوں یا دو خریدتا ہوں۔ یہ نہ کہے کوئی خرید لوں گا، ایک یا دو خرید لوں گا بھئی، بغیر تعیین کے، تعیین کرنا ضروری ہے کہ ایک خریدوں گا یا دو خریدوں گا ان میں سے۔ اس لیے کہ پھر اس صورت میں اگر تعیین نہیں کرتا تو پھر تو جہالت اور بڑھ جاتی ہے بھئی۔ پہلے مبیعہ کا پتہ نہیں ہے ان میں سے مبیعہ کون سا ہے، پھر یہ بھی نہیں پتہ پتہ نہیں ایک لے گا تین میں سے یا دو لے گا، تو جہالت اور بڑھ گئی، تو شیوعِ جہالت کی وجہ سے پھر بھی بیع کیا ہو جائے گی؟ فاسد ہو جائے گی۔ اسی لیے کہا اگر شرط تعیین کی نہ لگائی تو پھر بھی صحیح نہیں بھئی۔
"وَلَا فِي أَحَدِ أَرْبَعَةٍ" اور نہ ہی چار میں سے ایک کے اندر صحیح ہے، یعنی تین سے زیادہ کے اندر یہ جائز نہیں۔ بھئی کیوں؟ تین میں کیوں دی؟ چار میں کیوں نہیں دی؟ کہتے ہیں "لِأَنَّ الْقِيَاسَ عَدَمُ الْجَوَازِ" اس لیے کہ قیاس تو اس بیع کے عدمِ جواز کا تقاضا کر رہا ہے، قیاس تو کہتا ہے تین میں بھی نہیں ہونی چاہیے، اس لیے کہ مبیعہ مجهول ہے۔ "لَكِنَّا اسْتَحْسَنَّا فِي ثَلَاثَةٍ" لیکن ہم نے کیا کیا بھئی؟ استحسان کیا "فِي ثَلَاثَةٍ" تین کے اندر، استحساناً ان میں اجازت دی "لِمَكَانِ الْحَاجَةِ" مقامِ حاجت ہونے کی وجہ سے بھئی۔ "فَإِنَّ الثَّلَاثَةَ مُشْتَمِلَةٌ عَلَى الْجَيِّدِ وَالرَّدِيءِ وَالْمُتَوَسِّطِ" اس لیے کہ تین مشتمل ہوتے ہیں جید، ردی اور متوسط، تینوں انواع آ گئیں۔ "وَفِي الزَّائِدِ عَلَى الثَّلَاثَةِ" اور تین سے زائد میں بھئی حاجت ہے؟ تین سے زائد میں حاجت بھی نہیں۔ "فَأَبْقَيْنَاهُ عَلَى الْأَصْلِ" تو ہم نے بھی اس کو باقی رکھا اس کی اصل پر "وَهُوَ عَدَمُ الْجَوَازِ" اور وہ عدمِ جواز ہے بھئی عدمِ جواز۔
تو خیارِ تعیین کا پتہ چلا بھئی آپ کو اچھی طرح؟ کہ تین چیزیں خریدتا ہے کہ تین چیزیں لے، تین میں سے ایک چیز خریدتا ہے اس شرط پر کہ ان میں سے مجھے تعیین کرنے کا حق ہے، جسے چاہوں ایک کو متعین کر لوں بیع کے لیے بھئی۔
اب یاد رکھو، اس میں دو قول ہیں۔
امام محمد اپنی کتاب جامع صغیر جو ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس میں خیار شرط بھی ضروری ہے۔ خیار تعیین کے اندر کیا ضروری ہے؟ خیار شرط بھی ضروری ہے۔
خیار شرط کا کیا معنی ہوگا؟ ایک میں تو بیع کرتا ہوں، تین دن، تین دن میں میں ان میں سے ایک پسند کر لوں گا، اس میں میں نے بیع کر لیا آپ کے ساتھ بھئی۔
اور فسخ کرنے کا بھی مجھے حق حاصل ہے، چاہوں تو ایک بھی نہ لوں۔ ایک میں تو بیع میں نے کر لیا آپ کے ساتھ اس وقت، کر لی یا نہیں کر لی؟ بیع ہو گئی، ہاں اب تعیین کروں گا میں، مجھے تین دن کا اختیار ہے۔
لیکن مجھے فسخ کا حق بھی حاصل ہے، میں اس کو کیا کر سکتا ہوں؟ ہاں ہو سکتا ہے بھئی کپڑے لے جائے، تین میں سے میں نے ایک پسند کرنا ہے، ایک بھی نہ پسند آئے، تو کیا کرتا ہے بیع کو؟ تو یہ معلوم ہوتا ہے امام محمد رحمہ اللہ کی کتاب جامع صغیر سے معلوم ہوا خیار تعیین کے ساتھ خیار شرط بھی ضروری ہے، اس کے بغیر صحیح نہیں۔
جبکہ دوسری روایت جامع کبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ اس خیار تعیین کے ساتھ خیار شرط ضروری نہیں ہے بھئی۔ خیار شرط لگا بھی سکتا ہے، عقد کو فسخ کرنے کا بھی کی شرط لگا سکتا ہے اور چاہے تو نہ لگائے، مرضی ہے بھئی۔
یہ کس سے معلوم ہوتا ہے؟ جامع کبیر سے۔ تو معلوم ہوا دو روایتیں آ گئیں بھئی، دو روایتیں۔
اور تو بعض علماء نے ایک کو اختیار کیا، وہ کہتے ہیں خیار تعیین کے ساتھ خیار شرط ضروری ہے اور بعض علماء اس طرف چلے گئے کہ نہیں بھئی، خیار شرط تعیین کے ساتھ خیار شرط ضروری نہیں۔
تو اگر یہ قول لیں کہ خیار شرط کے ساتھ خیار تعیین ضروری، خیار تعیین کے ساتھ خیار شرط ضروری نہیں۔
تو پھر تین دن کی مدت زیادہ سے زیادہ مقرر کرنا ضروری ہے۔
مدت مقرر کرنا پھر کیا ہے؟ ضروری۔
بھئی خیار شرط ہوتا تو وہ تو ہوتا ہی کتنے دن تک ہے؟ تین دن تک۔
تو اگر خیار شرط ضروری قرار نہ دیں، تو پھر اس صورت میں مدت کی تعیین کرنا ضروری۔
ضرور کتنے دنوں میں تعیین کرو گے؟ ایک میں کرو گے، دو میں کرو گے یا تین میں بھئی۔
اور متن بھی اسی روایت پر مشتمل ہے، معلوم ہوا انہوں نے خیار شرط کو تو نہیں ذکر کیا، لیکن تین ایام کو کیا کر دیا متن میں؟ ذکر کر دیا، معلوم ہوا ان کے نزدیک بھی اولی کیا ہے؟ کہ خیار تعیین کے ساتھ خیار شرط ضروری نہیں۔
البتہ مدت کا متعین کرنا ضروری ہے بھئی، ضروری ہے۔
اور نیز یہ بھی یاد رکھو، یہ جو چیزیں لے کر گیا ہے، جتنے کی بیع کر لی وہ تو مبیع ہے، باقی امانت کے حکم میں ہیں۔
کس کے حکم میں ہیں؟ امانت۔ امانت کے حکم میں ہیں۔
ایک مبیع ہوگا ان میں سے، اگر ایک کی بات کی، دو کی بات کی تھی تو دو مبیع ہوں گے اور ایک کیا ہوگا؟ ایک امانت ہوگا۔
ایک امانت ہوگا۔
اور پھر اگر ان میں سے کوئی ایک عیب دار ہو گیا، یا ہلاک ہو گیا، مثلاً ایک کی بیع کی تھی، تو وہ ایک تین میں سے ابھی متعین اس نے کرنا ہے کہ ان میں سے ایک عیب دار ہو گیا یا ہلاک ہو گیا، تو کہتے ہیں بس بھئی! وہ مبیع کے طور پر کیا ہو گیا؟ متعین ہو گیا۔
کیونکہ اب اس کو واپس اس نے تو واپس کرنے تھے یا نہیں کرنے تھے بھئی؟ اب واپس نہیں کر سکتا تو یہ معلوم ہو یہ مبیع کے طور پر متعین اور باقی کیا ہیں؟ امانت ہیں۔
امانت۔
تو اس کے ثمن دینے پڑیں گے جتنے اس کے بتائے تھے، دس والا ہوا ہے تو دس دینے پڑیں گے، بیس والا خراب ہوا ہے تو بیس دینے پڑیں گے، تیس والا خراب ہوا تو تیس بھئی تیس۔
اور اگر سارے ہلاک ہو جائیں، پھر کیا کریں گے؟ تین تھے، تینوں ہلاک ہو گئے بھئی۔
کہتے ہیں بھئی، پھر تینوں کے ثمن میں سے، تین نہ، دو، دو بناؤ ذرا، دو سے سمجھانا آسان ہو جائے گا آپ کو۔
بھئی دو لیے تھے کہ دو میں سے ایک لوں گا، دونوں ہی ہلاک ہو گئے بھئی، اگر ایک ہلاک ہوتا تو پھر وہ تو مبیع متعین تھا، دوسرا کیا شمار ہوتا؟ امانت۔
امانت شمار ہوتا۔
اب اگر دو میں سے دونوں ہلاک ہوئے، پھر دیکھو، پہلے کون سا ہلاک ہوا ہے؟ جو پہلے ہلاک ہوا ہے یا پہلے عیب دار ہوا، وہ تھا مبیع اس کے آئیں گے ثمن اور دوسرا تھا امانت، اس کا کوئی ضمان نہیں۔
اگر یہ بھی نہیں پتہ کون سا پہلے ہلاک ہوا، یا دونوں اکٹھے ہلاک یا عیب دار ہوئے، تو اس صورت میں دونوں میں امانت کا بھی شیووع ہے اور مبیع ہونے کا بھی شیووع ہے۔
تو دونوں کے آدھے آدھے ثمن دے دے، وہ تھے بطور مبیع کے اور آدھا آدھا جو ہلاک ہوا، وہ بطور امانت کے تھا بھئی۔
صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ دیکھیے۔
अच्छा بھئی، اگلا مسئلہ دیکھیے، واخذہ بالشفعۃ دار بیعت بجنب ما شری فیہ الخیار رضائون بھئی۔
بھئی! آپ نے شفعہ کے بارے میں پڑھا ہوگا بھئی۔
شفعہ کسے کہتے ہیں؟ مثلاً آپ کے گھر کے پڑوس والا ساتھ والا گھر فروخت ہو رہا ہے، تو شریعت نے آپ کو حق دیا ہے کہ اس کو آپ لے لیں بھئی، کیا کریں آپ؟ لے لیں۔
اس لیے کہ پتہ نہیں کیسا پڑوسی آئے گا، اور پڑوسی آپ کے سر پر مسلط رہتا ہے، اس نے تو رہنا ہی وہیں پر ہے، اگر ہو سکتا ہے وہ شریر آدمی ہوا تو انسان کی زندگی بہت تکلیف میں ہو جاتی ہے بھئی، گھر آ کر ہی تو سکون ملتا ہے، وہ گھر پر بھی سکون نہیں کرنے دیتا بھئی۔
समझ में आया؟
تو بعض لوگ بڑے شریر ہوتے ہیں بھئی، بڑے شریر۔
تو شریعت نے آپ کو حق دیا ہے کہ آپ کیا کر سکتے ہیں؟ اس زمین پر شفعہ کر دیں اور بائع یا مشتری سے وہ زمین جتنے میں اس نے بیچی ہے، آپ اتنے ہی پیسے ادا کر کے لے لیں۔
زبردستی، وہ مانتے ہیں یا نہیں مانتے، بس شریعت نے آپ کو حق دیا ہے، آپ لے سکتے ہیں۔
اس کو کہتے ہیں شفعہ بھئی، تفصیل تو وہاں پڑی ہوگی کہ ایک شریک کو طے خلیت ہوتا ہے، اور ایک جار ہوتا ہے، وغیرہ بھئی، پڑھ رہے ہیں یا نہیں شفعہ کے باب؟ ہاں، وہاں تین قسمیں۔
अच्छा! अब आपने एक घर کو खरीदा بھئی، خیار شرط کے ساتھ۔
آپ نے زید سے مکان خریدا اور کہا بھئی، یہ مکان میں نے آپ سے بیس لاکھ روپے میں خرید لیا، لیکن مجھے تین دن کے اندر اس بیع کو فسخ کرنے کا حق بھی ہے۔
تو کس کے ساتھ خریدا ہے؟ خیار شرط کے ساتھ۔
اب اس کے جو مکان آپ نے خیار شرط کے ساتھ خریدا ہے، اس کے ساتھ والا مکان بک رہا تھا، یا بک گیا، آپ نے فورا بک گیا بھئی، آپ نے فوراً اس پہ شفعہ کر دیا۔
कहते हैं भئی! आपने जब शिफा कर दिया, तो आपका خیار ساقط ہو گیا، اب آپ وہ گھر واپس نہیں کر سکتے جو پہلے والا تھا۔
کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کہ شفعہ تو کیا جاتا ہے پڑوس کی وجہ سے یا شرکت وغیرہ کی وجہ سے۔
اور ابھی تو وہ اس مکان کے آپ مالک ہی نہیں بنے، آپ نے تو خیار شرط کے ساتھ خریدا ہے، تو پڑوسی آپ بنے ہیں؟ جب پڑوسی نہیں بنے، تو آپ شفعہ کر سکتے ہیں؟ شفعہ بھی نہیں کر سکتے، لیکن آپ تو شفعہ کر رہے ہیں، معلوم ہوا آپ نے بیع کی اجازت دے دی ہے، اس مکان پہ آپ راضی ہو گئے ہیں، اپنے خیار کو ساقط کر دیا، اور جب آپ مالک بن چکے ہیں، تو اب آپ کے پڑوس میں مکان فروخت ہوا، آپ نے اس پر کیا کر دیا؟ شفعہ کر دیا۔
صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو اپنے ساتھ، اس جس مکان میں خیار شرط رکھا، اس کے ساتھ والے مکان پہ شفعہ کرنا، یہ علامت ہوگا رضامندی پر، اور آپ کا خیار کیا ہو جائے گا؟ ساقط۔
دیکھیے بھئی۔
واخذہ اور لے لینا مشتری کا بالشفعۃ شفہ کے ذریعے داراً ایسے گھر کو لے لینا، شفعہ کے ذریعے بیعت، جس کو بیچا گیا ہے، بجنب ما اس گھر کے پہلوں میں، ما سے کیا مراد ہے بھئی؟ وہ گھر یا وہ زمین بھئی، جو جس کو آپ نے کس کے ذریعے خریدا تھا؟ خیار شرط کے ذریعے۔
تو ایسا گھر جو بیچا گیا ہے، بجنب ما اس زمین کے پہلوں میں شرت فیہ الخیار، جس میں کیا شرط لگائی گئی تھی؟ خیار کی شرط لگائی گئی تھی۔
جس گھر میں خیار کی شرط لگائی گئی تھی، اس کے پہلوں میں وہ جو مکان بکا ہے، اس کو مشتری کیا کرتا ہے شفعہ کے ذریعے لے لیتا ہے، تو یہ اس کا لینا رضائون بھئی، پہلی بیع پر رضا ہے بھئی، رضامندی۔
اي اشتری دارا خریدا کسی نے کسی مکان کو، گھر کو علی اس شرط پر کہ انہو بالخیار کہ اس کو خیار ہے، فبیع دار فبیع دار بجنب تلک الداری، تو ایک اور گھر بیچا گیا اس گھر کے پہلوں میں، واخذھا المشتر، اور اس کو لے لیا مشتری نے بشفعۃ شفہ کے ذریعے فہذا الاخذ دلیل رضائین بھئی۔
تو یہ اس کا لے لینا، یہ رضامندی کی دلیل ہے۔
رضامندی کی دلیل ہے، کس چیز کی رضامندی بھئی؟ بشراء تلک الداری، اس پہلے گھر کی خرید کی پر رضامندی کی دلیل ہے، لان الاخذ بالشفعۃ یقتضی اجازۃ فی شراء المشبوع بہی۔
دیکھو بھئی!
یہ گھر جس پہ آپ نے شفہ کیا یہ تو ہے مشبوع، اس پر کیا کیا گیا ہے؟ شفہ۔
اور اس پر شفہ کیا کس کی وجہ سے؟ وہ جو گھر آپ نے خیار شرط کی وجہ سے خریدا تو وہ ہوا مشبوع بہی، اس کی وجہ سے کیا کیا گیا ہے؟ شفہ۔
تو معلوم ہو جب آپ یہ مشبوع کو لے رہے ہیں شفعہ کے ذریعے، تو معلوم ہوا مشبوع بہی میں آپ بیع پر راضی ہو چکے۔
لان الاخذ بالشفعۃ اس لیے کہ شفعہ کے ذریعے لے لینا یقتضی تقاضا کرتا ہے اجازۃ فی شراء المشبوع بہی، مشبوع بہی کی خرید میں اجازت کا تقاضا کرتا ہے کہ اس میں اجازت دے دی ہے بھئی۔
وخیار شرط المشتریین یسقط برضا احدہما و کذا خیار العیب والرویۃ۔
بھئی دیکھو اب صورت مسئلہ یہ ہے، مشتری کئی تھے، انہوں نے خیار شرط رکھا بھئی۔
کئی آدمی گئے، انہوں نے مل کر ایک مکان خریدا بھئی۔
مل کر بھئی۔
یا کوئی بھی چیز خریدی بھئی۔
اور اس شرط پر خریدی انہوں نے بائع سے کہ ہمیں اس عقد کو فسخ کرنے کا حق بھی ہے، تو معلوم ہوا خیار شرط کے ساتھ خریدی ہے۔
اب یہ دو ہوں گے یا تین جتنے بھی ہیں، ان میں سے ایک نے رضامندی کا اظہار کر دیا، کیا کر دیا؟ رضامندی دو نے، مثلاً فرض کرو، کم سے کم والی صورت، دو نے مل کر ایک مکان خریدا ہے یا ایک گاڑی مل کر دونوں نے خریدی ہے، خیار شرط کے ساتھ، اور پھر ان میں سے ایک راضی ہو جاتا ہے، کہتے ہیں جب ایک راضی ہو گیا تو دوسرے کا خیار بھی ساقط ہوا، وہ اس کو واپس نہیں کر سکتا۔
کیوں نہیں کر سکتا؟ کہتے ہیں اس لیے کہ جب ایک راضی ہوا تو اس کے حصے میں تو بیع ہو گئی، وہ کیا بن گیا؟ نصف کا نصف کا مالک بن گیا، اب اگر دوسرے کا خیار باقی رہے، تو اس کا حصہ کیا کرنا پڑے گا؟ وہ رد کر سکتا ہے، وہ واپس دے گا، جب واپس دے گا تو آدھی چیز کا مالک ایک بن چکا ہے، اور آدھی کا مالک کون ہوا؟ بائع ہوا، تو پہلے جب اس نے چیز لی تھی، تو پوری چیز لی تھی، کوئی اس میں عیب نہیں تھا، لیکن اب جب واپس کر رہا ہے، تو اس میں شرکت کا عیب آ چکا۔
اب پوری چیز واپس کر رہا ہے یا آدھی کر رہا ہے؟ آدھی تو شرکت کا عیب آیا یا نہیں آیا؟ یاد رکھو، اعیان کے اندر شرکت عیب ہے بھئی، چیزوں کے اندر، مثلاً گاڑی وغیرہ خریدی۔
گاڑی وغیرہ، گاڑی کی مثال بناؤ بھئی۔
صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کیوں عیب کیوں ہے؟
کہتے ہیں بھئی، بائع اور وہ ایک مشتری اب تو شریک بن جائیں گے۔
تو پہلے تو بائع کی اکیلے کی گاڑی تھی، اپنی مرضی سے جب چاہتا اس کو استعمال کرتا تھا، اب تو آپس میں کیا کرنا پڑے گی؟ شرکت ہے، تقسیم کریں گے بھئی، ایک دن تو استعمال کر، ایک دن میں کرتا ہوں، ایک دن تم کرو، ایک دن میں کرتا ہوں، تو یہ تکلیف کا باعث بنی یا نہیں بنی بھئی؟ تو یہ اس لیے اعیان کے اندر جو ہے، شرکت کیا شمار ہوتی ہے؟ عیب شمار ہوتی ہے۔
اس لیے بھئی، دوسرے کا خیار بھی ساقط ہوگا، ورنہ چیز عیب کے ساتھ واپس کرنا لازم آئے گا۔
وخیار شرط المشتریین اور دو مشتریوں کا جو خیار شرط ہے، یسقط برضا احدہما وہ ساقط ہو جائے گا، برضا احدہما دونوں میں سے کسی ایک کی رضامندی سے بھئی۔
समझ में आया؟
اس طرح ایک رد کر دے تو دوسرا اب اس کی اجازت نہیں دے سکتا بھئی، وکذا خیار العیب والرویۃ اسی طرح خیار عیب اور خیار رویت ہیں بھئی۔
خیار عیب بھئی آپ جانتے ہو آپ کوئی چیز خریدتے ہیں، بعد میں پتہ چلتا ہے اس میں تو کوئی عیب ہے، اس نے مجھے عیب دار چیز دی ہے، تو شریعت نے آپ کو عقد کو فسخ کرنے کا حق دیا ہے، یہ خیار عیب کہلاتا ہے۔
اب دو آدمیوں نے بھئی ایک چیز خریدی۔
مل کر، کوئی خیار نہیں رکھا، لیکن بعد میں اس میں عیب کا پتہ چل گیا، ایک کہتا ہے چلو کوئی حرج نہیں بھئی، کوئی حرج نہیں۔
اسی طرح میں رکھتا ہوں، دوسرا کہتا ہے نہیں، مجھے یوں قبول نہیں ہے، میں واپس کرتا ہوں۔
تو ایک نے اجازت دے دی تو دوسرے کا خیار بھی کیا ہو جائے گا؟ ساقط ہو جائے گا۔
اسی طرح خیار رویت ہے بھئی، ایک چیز دو آدمیوں نے یا تین نے بغیر دیکھے خرید لی، دیکھنے کے بعد ایک کو پسند آئی، باقی کو، باقیوں کو پسند نہیں آئی، تو بس ایک نے جب اجازت دے دی، تو باقیوں کا خیار بھی کیا ہو گیا؟ ساقط ہو گیا۔
لانہ ان ردہ الاخر یکون معیبا بعیب الشرکتہ اس لیے کہ ایک نے جب اجازت دے دی ہے، تو دوسرا جب اس کو رد کرے گا، تو یہ عیب دار ہوگی کس چیز کے ساتھ بھئی؟ عیب شرکت کے ساتھ، وبھما جبکہ صاحبیں فرماتے ہیں للاخر ولایۃ الرد دوسرے کو اب بھی خیار حاصل ہے، اب بھی وہ اس کو ولایت رد حاصل ہے، لان الخیار ثابت لکل واحد اس لیے کہ خیار دونوں میں سے ہر ایک کو ہر ایک کے لیے ثابت تھا بھئی۔
تو یہ جو متن میں مسئلہ ذکر ہوا یہ امام صاحب کے مسلک کے اور ان کے قول کے مطابق بھئی۔
صاحبیں فرماتے ہیں کوئی حرج نہیں بھئی، دونوں کو اس نے خیار دیا تھا، تین نے خریدا تھا، تینوں کو کیا تھا؟ خیار تھا بھئی۔
و عبد مشري بشرط قبضه أو قطبه ووجد بخلافه أخذ بثمينه أو ترك۔
عبد بھئی، کوئی ایسا غلام مشری، جس کو خریدا گیا ہے، مشری، مبی کی طرح بھئی، اس میں مفعول کا صیغہ ہے۔
کوئی ایسا غلام جس کو خریدا گیا ہے بشروط قبضہی اور قطبی قبض مستر ہے، روٹی پکانے کی شرط پر یعنی اس کو روٹی پکانا آتی ہے، اور قطبی یا اس کے کاتب ہونے کی شرط پر۔
अच्छा۔
ووجد بخلافہ، اور وہ اس شرط کے خلاف پایا گیا، یعنی خریدا اس شرط پہ کہ بھئی، اسے روٹی پکانا آنی چاہیے، پتہ چلا اسے تو روٹی پکانا نہیں آتی، صرف کھانا آتی ہے بھئی۔
अच्छा, یا خریدا بھئی کہ اس کو کیا آنی چاہیے بھئی؟ کتابت آنی چاہیے، لیکن پتہ چلا نہیں بھئی، اس کو کتابت نہیں آتی بھئی، سمجھ میں آیا؟ پڑھا لکھا ہے معلوم ہوا۔
अच्छा भाई۔
تو اس کو لے لیا بھئی۔
اب پتہ چلا وہ وصف تو اس میں ہے ہی نہیں، تو کیا ثمن میں کمی ہوگی یا ثمن میں کمی نہیں ہوگی بھئی؟
آپ بتلائیے بھئی۔
نہیں، اس لیے کہ یہ وصف ہیں، اور وصف کے مقابلے میں ثمن نہیں آیا کرتے، تو لہٰذا لینا چاہے تو پورے پیسے دے کر لے، لیکن چونکہ وہ وصف مرغوب فوت ہو گیا جس کی وجہ سے جس کے لیے وہ اس کو لینا چاہ رہا تھا، تو اب اس کو کیا دیا جائے گا؟ اختیار۔
خیار اختیار ہے، یہ ترک کر سکتا ہے واپس کر سکتا ہے اس کو بھئی۔
समझ में आया؟
یہ معنی ہے۔
کہتے ہیں لانہ الاوصاف اس لیے کہ اوصاف جو ہیں لا یقابلھا شیوء من الثمن اس کے مقابلے میں ثمن میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا بھئی، وصف کی کمی زیادتی سے ثمن میں کمی بیشی نہیں ہوتی۔
اس پر اشکال ایک ہوتا ہے بھئی۔
کہ اس نے خریدا غلام اور شرط لگائی کہ یہ اس کو روٹی پکانا، کھانا بنانا آنا چاہیے یا اس کو کتابت آنی چاہیے۔
یہ تو اس نے عقد کے اندر شرط لگا دی۔
اور شرط سے اس کو کیا ہو، بیع کیا ہو جایا کرتی ہے؟ فاسد۔
کہتے ہیں نہیں بھئی! ہر شرط سے بیع نہیں فاسد ہوتی، وہاں آپ کو بتلایا ہوگا یہ بھی کہ مقتضائے عقد کے خلاف کوئی شرط ہو، تو پھر عقد کیا ہو جایا کرتا ہے؟ فاسد۔
یہ تو کوئی مقتضائے عقد، مقتضائے عقد کے خلاف ہو، مثلاً ایک چیز آپ نے اپنے ساتھی کو بیچی اور اس کے ساتھ یہ شرط لگا رہے ہیں، اس شرط پہ تجھے یہ سائیکل میں بیچتا ہوں کہ ایک مہینے تک
اس پر ٹیوشن میں پڑھاؤں گا بھئی۔ بھئی عجیب بات ہے، آپ بیچ آج رہے ہو اور مہینے تک آپ اس سے نفع اٹھاتے رہو گے بھئی، یہ عقد کے خلاف ہے۔ ابھی بیچ رہے ہو تو کیا کرو؟ ابھی اس کے حوالے کرو، ابھی اس کے حوالے کرو۔
تو وہ اگر مقتضائے عقد کے خلاف شرط ہو، پھر عقد فاسد ہوا کرتا ہے بھئی۔ یا اس میں کسی ایک کا نفع ہو یا معقود علیہ کا نفع ہو، اور یہ تو مقتضائے عقد کے خلاف شرط نہیں ہے، شرط لگا رہا ہے دراصل یہ وصف بیان کر رہا ہے، صورت شرط کی ہے۔
اس نے کہا میں نے یہ غلام خریدا اس شرط پر کہ اسے کھانا بنانا آنا چاہیے۔ لگائی تو شرط لیکن دراصل وہ یوں کہنا چاہتا ہے بھئی مجھے ایک باورچی غلام میں آپ سے خرید رہا ہوں، کس قسم کا غلام؟ باورچی یا کاتب غلام تو یہ وصف بیان کر رہا ہے، صورت شرط کی ہے صرف بھئی، اس سے عقد فاسد نہیں ہوگا، چلیے بس مولانا ھذا ہو المرام، واللہ اعلم بحقیقت الکلام۔