باب خیارِ شرط کا باب ہم نے شروع کیا تھا، میں نے بتلایا تھا خیارِ شرط وضع ہے فسخ کے لیے، عقد کو فسخ کرنے کے لیے، اس کے ذریعے جو خیار رکھے گا وہ عقد کو فسخ کر سکتا ہے۔ پھر یہاں پر تین ابواب ذکر کریں گے: پہلے خیارِ شرط کو، اس لیے کہ وہ ابتدائے حکم سے مانع ہے، پھر اس کے بعد خیارِ رویت کو، اس لیے کہ وہ تمامِ حکم سے مانع ہے، اور پھر اس کے بعد خیارِ عیب کو، اس لیے کہ وہ لزومِ حکم سے مانع ہے۔
اور امام صاحب کے نزدیک خیارِ شرط زیادہ سے زیادہ تین دن تک ہو سکتا ہے، تین دن سے زیادہ نہیں، اس لیے کہ یہ خلافِ قیاس ہے، اور جو چیز خلافِ قیاس ہوتی ہے وہ اپنے مورد پر پابند رہتی ہے، اور حدیث سے اس کا ثبوت جو آیا وہ صرف تین دن کا آیا ہے بھئی۔
جبکہ صاحبین کے نزدیک بھئی، جتنی مدت تک کے لیے بھی متعاقد کرنے والے راضی ہو جائیں، وہ عقد... وہ خیارِ شرط رکھ سکتے ہیں۔
عقد کر سـ... خیار رکھ سکتے ہیں بھئی۔
پھر اس کے بعد خیار رکھنے والا بائع بھی ہو سکتا ہے، مشتری بھی ہو سکتا ہے۔ اگر بائع نے خیار رکھا تو مبیع اس کی ملک سے نہیں نکلے گا، پھر اگر اس پر اس دوران مشتری نے قبضہ کیا اور اس کے پاس ہلاک ہو گئی، تو اس پر قیمت آئے گی، ثمن نہیں آئے گی، اس لیے کہ مقبوض علی سومِ... علی سومِ... مقبوض علی سوم الشراء ہے بھئی۔
اور ایک مقبوض علی سوم النظر... مقبوض علی وجہ النظر ہوتا ہے اور اس کے وہ امانت کے حکم میں ہوا کرتا ہے۔ فرق میں نے بتلایا تھا کہ مقبوض علی سوم الشراء وہ ہے جس کے اندر ثمن بائع ذکر کر... مشتری ثمن ذکر کرتا ہے، اگر مشتری ثمن ذکر نہ کرے، تو پھر اس صورت میں یہ مقبوض علی وجہ النظر ہوتا ہے اور یہ امانت کے حکم میں ہوتا ہے۔
اور اگر خیار مشتری نے رکھا، تو مبیع بائع کی ملک سے نکل جائے گا، اور پھر مشتری نے اگر اس پر قبضہ بھی کیا اور اس دوران اس کے پاس ہلاک بھی ہو گیا، تو اس پر ثمن آئیں گے بھئی، ثمن آئیں گے، جیسے کہ عیب دار کرنے کی صورت میں اس پر کیا آیا کرتے تھے؟ ثمن آیا کرتے تھے، اور کوئی بھی چیز ہلاکت کے قریب عموماً کیا ہو جایا کرتی ہے؟ عیب دار ہو جاتی ہے، تو جب عیب دار ہوئی تو اس صورت میں واپس نہیں ہو سکتی، جب واپس نہیں ہو سکتی تو پھر ثمن آتے ہیں، تو یہاں بھی ہلاکت سے پہلے عیب دار ہوئی تو پھر ثمن آئیں گے بھئی۔
اب اس کے بعد بھئی کہ یہ بائع کے مشتری نے خیار رکھا، بائع کی ملک سے تو نکل گئی، تو کیا مشتری کی ملک میں داخل ہوگی یا نہیں ہوگی بھئی؟ صاحبین کہتے تھے کہ یہ داخل ہو جائے گی، جبکہ امام صاحب فرماتے تھے کہ یہ داخل نہیں ہوگی، اور پھر اس اختلاف پر مرتب ہونے والے کئی مسائل ذکر کیے بھئی۔
ایک یہ مسئلہ ذکر کیا کہ اگر کسی نے اپنی دلہن کو خریدا، اپنی بیوی کو خریدا، تو امام صاحب کے نزدیک ملک چونکہ نہیں آئی تو ملکِ رقبہ اور ملکِ نکاح جمع نہیں ہوئے، لہٰذا نکاح بھی فاسد نہیں، جبکہ صاحبین کے نزدیک مشتری مالک بن چکا ہے ایامِ خیار کے اندر، تو ملکِ رقبہ آ گئی اور اس سے پہلے ملکِ نکاح تھی، یہ دونوں جمع نہیں ہو سکتے، اس تو ملکِ نکاح کیا ہو جائے گا؟ فاسد... وہ نکاح فاسد ہو جائے گا۔
اور پھر اگر اس سے وطی کر لی تو کیا واپس کر سکتا ہے یا نہیں کر سکتا؟ یہ بھی اس میں بھی اختلاف آ گیا، صاحبین کے نزدیک واپس نہیں کر سکتا، اس لیے کہ اس نے تصرف کر لیا، اور تصرف کرنا اجازت کی علامت ہے بھئی۔
جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ اگر وہ ثیبہ تھی، تو اس کا یہ وطی کرنا جو ہے یہ اجازت کی علامت نہیں ہے، بلکہ یہ تو وطی کس وجہ سے کر رہا ہے؟ نکاح کی وجہ سے کر رہا ہے۔ ہاں! اگر باکرہ تھی، تو پھر واپس نہیں کر سکتا، وہ بھی اس وجہ سے کہ عیب دار کر دیا اس نے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ جاریہ میں زوالِ بکر عیب ہے بھئی۔
اور اسی طرح یہ مسئلہ بھی اس اختلاف پر مرتب ہوا تھا، کہ امام صاحب کے نزدیک اگر کسی نے خیارِ شرط کے ساتھ اپنے قریبی محرم رشتہ دار کو خریدا، تو مدت کے دوران وہ اس پر آزاد نہیں ہوگا، جبکہ صاحبین کے نزدیک وہ مالک بن چکا ہے، جیسے ہی مالک بنا وہ حدیث متوجہ ہوئی اور فوراً وہ کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا۔
پھر ایک یہ مسئلہ بھی نکلا تھا: جس نے کسی غلام کو خریدا یہ کہہ کر "إن ملكت عبداً فهو حر"، اور خیار کے ساتھ اس کو خرید لیا بھئی۔
تو اس صورت میں جی؟ امام صاحب کے نزدیک وہ مالک ہی نہیں بنا، اس نے تو کہا تھا "إن ملكت عبداً فهو حر"، تو لہٰذا یہ آزاد بھی نہیں، جبکہ صاحبین کے نزدیک یہ مالک بن چکا ہے، لہٰذا وہ فوراً کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا، لیکن اگر اس نے "إن اشتريت" کہا تھا "إن اشتريت عبداً فهو حر"، تو بالاتفاق آزاد ہو جائے گا، کیونکہ شراء تو بالاتفاق پائی جا رہی ہے۔
اور بھئی استبراء کے بارے میں میں نے بتایا تھا کہ باندی کے اندر جب انتقالِ ملک آئے، تو مالکِ جدید کے لیے استبراء ضروری ہے بھئی۔
استبراء ضروری ہے، یعنی استبراء یعنی ایک حیض تک وہ مباشرت نہیں کر سکتا، انتظار کرے، دیکھے کہ کہیں باندی کا رحم مشغول بالحمل تو نہیں بھئی؟
مشغول بالحمل تو نہیں؟ تاکہ کہیں اختلاطِ نسب نہ آئے بھئی۔
تو پھر ایک حیض کے بعد پھر وہ مباشرت کر سکتا ہے۔ تو اب اس ایامِ خیار کے اندر اگر باندی کو حیض آ گیا، تو کیا پھر اس کو استبراء میں سے شمار کریں گے یا شمار نہیں کریں گے؟ صاحبین کے نزدیک یہ مالک بن چکا ہے، جب مالک بن چکا ہے تو اس کی ملک میں حیض آیا، لہٰذا یہ استبراء میں سے شمار ہوگا۔
امام صاحب کے نزدیک یہ استبراء میں سے شمار نہیں ہوگا، کیونکہ اس لیے کہ یہ ابھی مالک ہی نہیں بنا، لہٰذا اگر اجازت دے دیتا ہے، تو پھر اس کو ایک اور حیض انتظار کرنا پڑے گا۔
اور پھر اگر مشتری نے واپس کر دی اس خیارِ شرط کی وجہ سے، تو بائع... مشتری پہلے مالک بن گیا تھا، پھر بائع کے پاس واپس گئی تو انتقالِ ملک پایا گیا، لہٰذا صاحبین کے نزدیک اب بائع پر پھر استبراء لازم ہے بھئی، جبکہ امام صاحب کے نزدیک یہ مالک ہی نہیں بنا تھا، تو انتقالِ ملک نہیں آیا، بائع کے پاس واپس گئی، اور اس پر لہٰذا استبراء واجب نہیں ہے بھئی۔
اچھا! اب اگر کسی نے اپنی منکوحہ کو خریدا بھئی، اور ایامِ خیار کے اندر اس نے ایک بچے کو جنم دے دیا، وہ حاملہ تھی بھئی نکاح کی وجہ سے، اور اس نے بچے کو جنم دیا، لیکن ابھی مشتری نے قبضہ نہیں کیا تھا، صرف خیارِ شرط کے ساتھ اس کو خریدا ہے۔
تو امام صاحب کے نزدیک یہ مالک نہیں، جب مالک نہیں تو اس کی ملک میں بچے کو جنم نہیں دیا، جب اس کی ملک میں بچے کو جنم نہیں دیا تو اس کے لیے امِ ولد بھی نہیں بنے گی، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ مالک بن چکا ہے، جب مالک بن چکا ہے تو اس کی ملک میں بچے کو جنم دیا، اور ملک میں بچے کو جنم دے دے، تو پھر اس صورت میں یہ کیا بن جایا کرتی ہے؟ امِ ولد بن جایا کرتی ہے، لہٰذا واپس نہیں کر سکتا، امِ ولد کی تملیک میں نے بتلایا تھا جائز نہیں، بیچنا وغیرہ اس لیے کہ اس نے آزاد ہونا ہے، تو اسی سے اس کا حقِ آزادی جو ہے وہ خراب ہے، وہ خراب ہوتا ہے بھئی۔
تو حقِ آزادی اس کا ضائع ہوتا ہے۔
اچھا! لیکن اگر اس نے قبضہ کر لیا تھا بھئی، مشتری نے خیارِ شرط کے ساتھ اس کو خریدا اور قبضہ کر لیا تھا، پھر اس نے بچے کو جنم دیا، تو بالاتفاق پھر کیا بن جائے گی؟ امِ... اب امام صاحب بھی فرماتے ہیں واقعی امِ... یہ امِ ولد... امِ ولد بن جائے گی، اس لیے کہ ولادت عیب ہے، تو عینِ ولادت سے کے وقت گویا کہ عیب آ گیا، اور جب عیب آ گیا تو واپس نہیں کر سکتا، جب واپس نہیں کر سکتا تو یہ مالک بن گیا، تو بچے کو جنم اس کی ملکیت میں دیا، تو لہٰذا یہ کیا بن گئی اس کے لیے؟ امِ ولد بن گئی۔
پھر ایک یہ مسئلہ بھی آپ نے پڑھا تھا کہ اگر بائع... مشتری نے خیارِ شرط رکھا ہے، اور اس نے مالک کے بائع کی اجازت سے اس چیز پر قبضہ بھی کر لیا، تو اب کیا وہ بائع کے پاس... بائع کے پاس وہ اس چیز کو امانت رکھوا دیتا ہے، اور بائع کے پاس وہ چیز ہلاک ہو جاتی ہے، تو اس کا نقصان کس پر آئے گا بھئی؟ صاحبین کیا فرماتے ہیں؟ جی، مشتری پر ہی نقصان آئے گا، اس لیے کہ مشتری اس کا مالک بن چکا ہے، اور اب مالک بننے کے بعد وہ کیا کر رہا ہے؟ بائع کے پاس وہ چیز امانت رکھوا رہا ہے، تو اس کی اپنی چیز ہے بطورِ امانت کے اس کے پاس رکھوا رہا ہے، لیکن امام صاحب کے نزدیک یہ نقصان بائع پر ہی ہوگا، اس لیے کہ مشتری اس کا مالک ہی نہیں بنا، جب مالک ہی نہیں بنا تو وہ امانت کیسے رکھوا سکتا ہے بھئی؟ امانت تو اس کی چیز ہوتی تو وہ کیا کرتا اس کے پاس... ہاں، یہ زیادہ سے زیادہ اس طرح کہ اس نے کچھ دیر کے لیے قبضہ کیا تھا، پھر اس نے اپنا قبضہ ختم کر کے واپس کس کو لوٹا دی؟ بائع کو لوٹا دی، تو گویا قبضہ ہوا ہی نہیں، جو تھوڑا قبضہ کیا تھا اس کو بھی کیا کر دیا اس نے؟ ختم کر دیا، تو جب قبضہ ہوا ہی نہیں، ابھی بائع کے پاس ہی ہے مبیع، اس کے پاس ہلاک ہو جائے تو نقصان بھی کس پر آیا کرتا ہے؟ بائع پر آیا کرتا ہے۔
پھر اس کے بعد ایک مسئلہ ذکر ہوا تھا جس میں میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ عبدِ محجور وہ عام غلام کو کہتے ہیں جس کو تجارت کی آزاد... اجازت نہیں ہوتی، جبکہ دوسرا غلام جس کو تجارت کی اجازت دے دے آقا، اسے کیا کہتے ہیں؟ عبدِ ماذون کہتے ہیں بھئی، عبدِ ماذون۔
اب یاد رکھیے کہ عبدِ ماذون کے لیے تملیک بلا عوض یہ جائز نہیں، وہ کسی دوسرے کو بغیر عوض کے مال کا مالک نہیں بنا سکتا، اس لیے کہ اس کے پاس سارا کچھ جو ہے وہ مالک کا ہے، تو یہ بغیر عوض کے کسی کو بھی دے نہیں سکتا۔
ہاں، لیکن البتہ اس کو یہ حق ہے کہ وہ تملک سے انکار کر دے، کسی چیز کا مالک بننے سے... کوئی اس کو ہدیہ وغیرہ دے تو وہ انکار کر دے، قبول نہ کرے، یہ اختیار اس کو ہے۔
اب ایک شخص... ایک عبدِ ماذون تھا، اس نے بائع سے خریدی کوئی چیز خیارِ شرط کے ساتھ، اور اسی مدت کے اندر اندر بائع نے کیا کر دیے؟ پیسے معاف کر دیے، تو کیا اب اس کو واپس کر سکتا ہے یا واپس نہیں کر سکتا بھئی؟
تو امام صاحب فرماتے ہیں: واپس کر سکتا ہے، اس لیے کہ وہ ابھی مالک ہی نہیں بنا، جب مالک ہی نہیں بنا، تو مالک بننے سے انکار، عدمِ تملک یعنی کہ اس کا حق اسے حاصل ہے، تو انکار کر سکتا ہے۔
جبکہ صاحبین فرماتے ہیں: بھئی خیار رکھا تھا تو یہ مالک بن چکا ہے، جب مالک بن چکا ہے تو اس نے جب پیسے معاف کر دیے، تو چیز اب اگر یہ خیار ہم اس کو دے دیں تو یہ واپس کرے گا، جب واپس کرے گا، تو عوض کے ساتھ کرے گا یا بغیر عوض کے؟ بغیر عوض کے، کیونکہ ثمن تو وہ معاف کر چکا ہے، تو بغیر عوض کے واپس تملیک لازم آئے گی، اور عبدِ ماذون کو بلا عوض تملیک جائز نہیں ہے بھئی۔
اور ایک یہ مسئلہ بھی آپ نے پڑھا کہ اگر ایک ذمی نے دوسرے ذمی سے شراب خریدی خیارِ شرط کے ساتھ، اور پھر وہ مشتری مسلمان ہو گیا، تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ اس کی شراء ہی باطل ہو گئی، اور صاحبین کیا فرماتے ہیں؟ کہ اس کا خیار باطل ہوا۔
اس لیے کہ ضابطہ یہ ہے کہ مسلمان کے لیے نہ تملکِ خمر جائز ہے، تملکِ خمر اور خنزیر جائز ہے، اور نہ تملیکِ خمر و... نہ خود مالک بن سکتا ہے، نہ دوسرے کو مالک بنا سکتا ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں: یا تو یہاں پر خیارِ شرط کو باطل کرنا پڑے گا یا شراء کو باطل کرنا پڑے گا، اگر خیارِ شرط کو باطل کرتے ہیں، تو ابھی تک یہ مالک بنا ہے؟ نہیں، تو جب فسخ کرنے کا حق بھی ختم کر دیں گے، تو یہ کیا بن جائے گا؟ مالک بن جائے گا، تو تملکِ مسلم لازم آئے گا خمر، اور مسلم کے لیے تو تملکِ خمر جائز نہیں، لہٰذا وہ شراء کو ہی باطل قرار دے دیتے ہیں۔
جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ نہیں، یہ مالک بن چکا ہے، لہٰذا اب اس کا خیار کیا ہو جائے گا؟ باطل ہو جائے گا، اس لیے کہ اگر اس کے خیار باطل نہیں ہوتا اور... تو پھر کیا کرنا پڑے گا؟ اس چیز کو واپس کرنا پڑے گا، اور جب چیز کو واپس کرے گا، تو یہ تو مالک بن چکا ہے، تو تملیکِ خمر لازم آئے گا مسلمان کے لیے، اور مسلمان کو تو تملیکِ خمر کی اجازت نہیں ہے بھئی۔
یہ تھے مسائل ثمرۂ خلاف بھئی۔
پھر اس کے بعد یہ بھی پڑھا تھا آپ نے مسئلہ بھئی، کہ خیارِ شرط جس نے رکھا ہے وہ بیع کی اجازت دے سکتا ہے اگرچہ دوسرے عقد کرنے والے کو پتہ ہی نہ ہو، لاعلمی میں بھی اجازت دے سکتا ہے، اس لیے کہ اس میں کسی کا ضرر نہیں۔
لیکن اگر وہ فسخ کرنا چاہتا ہے، تو پھر اس میں دوسرے کا ضرر ہے، لہٰذا کیا کرنا پڑے گا؟ اس مدت کے اندر اس کو بتلانا ضروری ہے، اگر مدت کے اندر اس کو نہ بتلا سکا، تو پھر بیع تام ہو جائے گی بھئی، بیع تام ہو جائے گی۔
تو مدت کے اندر بتا دیا، تو بیع فسخ ہو گئی، اگر نہ بتایا، تو بیع تام ہو گئی، اب نہیں فسخ کر سکتا۔
اور یہ بھی بتلایا تھا بھئی صاحبِ کتاب نے آپ کو کہ خیارِ عیب اور خیارِ تعیین، یہ وراثت میں دیے جائیں گے، لیکن خیارِ شرط اور خیارِ رویت، یہ وراثت کے طور پر نہیں منتقل ہوں گے بھئی۔
اس لیے خیارِ عیب اور خیارِ تعیین بھئی۔
خیارِ عیب اس لیے کہ مثلاً بھئی آپ کوئی چیز خریدتے ہیں، اب اس کے اندر کوئی عیب نکل آئے، تو شریعت نے آپ کو کیا حق دیا ہے؟ اب اس کو عیب کا کسی کا پتہ چل گیا، یہ تو اس نے عیب دار چیز مجھے دے دی ہے، واپس کر سکتے ہو۔
واپس کر... تو جیسے مشتری سلیم مبیع کا حق دار تھا، اسی طرح اس کا وارث بھی کس چیز کا حق دار ہے؟ سلیم مبیع کا، اس لیے اس کو خیارِ عیب ملے گا۔
اور خیارِ تعیین... آپ نے کسی سے دو تین چیزیں خریدیں بھئی، دو کپڑے کہ دو میں سے میں نے ایک خریدا ہے 10 درہم کے بدلے، جسے میں چاہوں گا اس کی کیا کر دوں گا؟ تعیین کر دوں گا، یہ خیارِ تعیین ہے بھئی۔
یہ بھی بھئی وارث کی طرح منتقل ہوگا، وارث کو یہ حق حاصل ہوگا بھئی۔
تو یہاں بھی ہم یہ کہتے ہیں کہ بھئی دراصل یہاں خیار نہیں منتقل ہوا، جیسے خیارِ عیب کے اندر وہ خیار نہیں منتقل ہوا تھا، ہاں، اس کو ہم نے خیارِ عیب کا حق دے دیا تھا، یہاں پر بھی خیارِ تعیین کا کیا دے دیں گے؟ حق دے دیں گے، اس لیے دے دیں گے کہ اس کے... اس نے دو چیزوں میں سے مثلاً مورث نے ایک کی تعیین کرنی تھی، لیکن تعیین وہ نہ کر سکا، تو ایک اس میں سے مورث کی تھی اور ایک کس کی تھی؟ بائع کی ہے۔
اب جب وارث جو ہے اس کے پاس چیز آئی، تو اب بھی ایک بائع کی ہے اور ایک وارث، وارث، ایک کس کی ہے؟ مورث تو مر گیا، وہ... تو ایک کس کی ہے؟ وارث کی ہے، تو دیکھو اختلاط آ رہا ہے اس کی ملک کے ساتھ غیر کی ملک کا، اور اس کو اپنی ملک جدا کرنے کا حق ہونا چاہیے یا نہیں ہونا چاہیے؟ ہونا چاہیے کہ غیر کی ملک کو جدا کرے۔
جبکہ خیارِ رویت جو ہے وہ اور خیارِ شرط جو ہیں، یہ ورثاء کی طرف منتقل نہیں ہوں گے بھئی۔
خیارِ شرط، سمجھ میں آیا؟ مثلاً کیسے بھئی؟ آپ... کسی شخص نے خیارِ شرط کے ساتھ کوئی چیز خریدی کہ مجھے اختیار ہے عقد کو فسخ کرنے کا تین دن کے اندر، اسی میں اس کا انتقال ہو گیا، تو کیا اس کے وارث کو بھی خیارِ شرط اس عقد کو فسخ کرنے کا حق حاصل ہوگا یا حاصل نہیں؟ کہتے ہیں: نہیں بھئی، اس کو نہیں ہے۔
خیارِ رویت ایک آدمی نے بغیر دیکھے کوئی چیز خریدی ہے، تو شریعت نے اسے حق دیا ہے خیارِ رویت کا کہ دیکھ کر اگر پسند نہ آئے تو کیا کر سکتا ہے؟ عقد کو فسخ کر سکتا ہے۔
تو اب ایک نے چیز بغیر دیکھے خریدی اور دیکھنے سے پہلے اس کا انتقال ہو گیا، تو کیا اب وارث کو خیارِ رویت حاصل ہے یا نہیں؟ نہیں بھئی، اس کو بھی خیارِ رویت حاصل نہیں ہے بھئی، اس لیے کہ یہ تو صرف ارادے کے نام ہیں اور ارادہ انتقال کو قبول نہیں کرتا بھئی، ایک شخص کا ارادہ دوسرے کی طرف منتقل... مورث کا جواب... مورث کا ارادہ وارث کی طرف منتقل نہیں ہو سکتا۔
وإن اشترى وشرط الخيار لغيره فأيهما أجاز أو نقض صح ذلك.
یا مولانا: وإن اشترى وشرط الخيار لغيره فأيهما أجاز أو نقض صح ذلك.
بھئی صورتِ مسئلہ پہلے سمجھ لو۔
آپ نے اپنے ساتھی سے ایک کتاب خریدی۔
تو آپ ہوئے مشتری اور آپ کا ساتھی کون ہوا؟ بائع، لیکن آپ نے خیار خود نہیں رکھا، بلکہ کہا بھئی خیار زید کو حاصل ہے۔
ایک تیسرے شخص کو بھئی، اس کو کیا حاصل ہے؟ ایک اور ساتھی ہے آپ کا اس کا نام زید ہے بھئی، آپ نے کہا اس کو خیار حاصل ہے، اگر اس نے اجازت دے دی تو بیع ہو گئی، اجازت نہ دی تو پھر وہ فسخ کرنا چاہے تو فسخ کر سکتا ہے، یہ جائز ہے مولانا، یہ کیا ہے؟ جائز ہے جب دونوں عقد کرنے والے راضی ہو جائیں اس پر بھئی۔
اب آپ کون ہیں؟ مشتری، اور آپ کا ایک ساتھی جس سے آپ نے چیز خریدی وہ کون ہے؟ بائع، اور وہ زید کون ہے؟ وہ تیسرا شخص ہے بھئی۔
تو کیا آپ بھی بیع کے... کو فسخ کر سکتے ہیں، اجازت دے سکتے ہیں یا اجازت نہیں دے سکتے؟ یا وہ تیسرا ہی اب دے گا؟ کہتے ہیں: نہیں بھئی، آپ بھی کیا کر سکتے ہیں؟
اجازت دے سکتے ہیں، فسخ کر سکتے ہیں، وہ بھی اجازت بھی دے سکتا ہے اور فسخ بھی کر سکتا ہے، دونوں کر سکتے ہیں۔
سمجھ میں آیا بھئی؟
جی۔
تو جس نے بھی اجازت دے دی، خیار ختم ہو جائے گا، یا جس نے بھی دونوں میں سے فسخ کر دیا، تو عقد کیا ہو جائے گا؟
فسخ ہو جائے گا۔
اور اگر ایک نے اجازت دی اور ایک نے فسخ کیا، تو کہتے ہیں: جس نے پہلے پہل کی، اگر اجازت دینے والا پہلے تھا، تو خیار ختم ہو چکا، اور اگر فسخ کرنے والا پہلے تھا، تو عقد کیا ہو چکا؟ فسخ ہو چکا۔
بھئی اگر دونوں نے اکٹھا کہا بھئی، ایک اجازت دے رہا ہے، دوسرا فسخ کر رہا ہے، یا پتہ نہیں ہے کس نے اجازت پہلے دی ہے یا کس نے فسخ پہلے کیا ہے، اجازت دینے والے نے پہل کی ہے یا فسخ دینے والے نے پہل بھئی؟
تو پھر کہتے ہیں: اس صورت کے اندر فسخ اولیٰ ہے، کیا اولیٰ ہے؟
فسخ۔
جب دونوں نے اکٹھا ایک نے اجازت دی، دوسرے نے فسخ کیا اور یہ فعل دونوں نے اکٹھا کیا، یا یہ پتہ ہی نہیں کہ کس نے پہلے یہ کیا ہے اور دوسرے نے بعد میں قول کیا ہے، تو پھر اجازت شمار کریں یا فسخ شمار کریں؟ تو کیا کہتے ہیں؟
فسخ شمار کریں۔
کیوں؟ کہتے ہیں: اس لیے کہ فسخ قوی ہے، اجازت ضعیف ہے۔
فسخ قوی اس لیے کہ وہ بیع جس کی اجازت دے دی گئی ہو، وہ فسخ کو قبول کر لیا کرتی ہے، لیکن جو بیع ایک دفعہ فسخ ہو چکی ہو، وہ کبھی
اجازت کو قبول نہیں کرتی۔
قبول نہیں کرتی۔
مثلاً بھئی:
آپ نے ایک شخص سے ایک چیز خریدی
بغیر کسی خیارِ شرط کے،
تو آپ نے اجازت دے دی بیع کی یا نہیں دے دی بھئی؟
اجازت دے دی، بیع تو ہو گئی، کوئی خیار نہیں آپ کو، لیکن ابھی مبیع پر قبضہ نہیں ہوا تھا کہ وہ مبیع بائع کے پاس ہلاک ہو گیا۔ آپ کیا کہیں گے بھئی؟
بیع فسخ ہو گئی بھئی، جس پہ عقد واقع ہوا تھا وہی کیا ہوا؟
ابھی آپ کے پاس پہنچا نہیں وہ عقد، تو دیکھو یہ بیع تھی مجاز،
لیکن اس نے کس کو قبول کر لیا؟ فسخ کو قبول کر لیا۔ صورت سمجھ میں آئی کہ نہیں سمجھ میں آئی بھئی؟
ایک چیز آپ نے خریدی ہے، عام بیع کی ہے کسی شخص سے، ابھی اس چیز پر آپ نے قبضہ نہیں کیا، تو وہ چیز کس کے پاس ہلاک ہو گئی؟ بائع، تو یہ بیع تو اجازت تھی، اس میں تو کسی قسم کا آپ نے خیار رکھا ہی نہیں بھئی، تو لیکن اب
مبیع ہلاک ہونے کی صورت میں یہ کس کو قبول کر رہی ہے؟ فسخ کو قبول کر رہی ہے، تو بیعِ مجاز فسخ کو قبول کر لیتی ہے، لیکن بیعِ...
جو فسخ ہو چکی ہے، وہ
اجازت کو پھر قبول نہیں کرتی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ معلوم ہوا فسخ قوی ہے، اور اجازت ضعیف ہے، تو دونوں اکٹھے ہوئے ہیں، تو قوی کو ترجیح دی جائے گی، تو لہٰذا کیا شمار کیا جائے گا بھئی دونوں...؟ فسخ شمار کیا جائے گا۔
دیکیھیے بھئی:
وإن اشترى، اور اگر خریدا کسی نے بھئی، وشُرِطَ الخیارُ لغیرہ، اور خیار کی شرط لگا دی، یا وشَرْطُ الخیارِ لغیرہ، اور خیارِ شرط کس کے لیے تھا؟ اس کے علاوہ کے لیے بھئی، فأیُّہما أجاز أو نقض، پس جس نے بھی ان دونوں میں سے اجازت دے دی یا توڑ دیا عقد کو، صحَّ ذلك، تو یہ کیا ہے؟ صحیح ہے۔ فإن أجاز أحدُہما وفَسَخَ الآخرُ، اگر ایک نے اجازت دے دی اور دوسرے نے فسخ کر دیا، فالأولُ أولى، تو اول کیا ہے؟ اولیٰ ہے۔ ولو وُجِدا معاً، اور اگر دونوں قول اکٹھے پائے گئے بھئی، اجازت اور فسخ والے، فالفسخُ أولى، تو فسخ کیا ہے؟ کیوں اولیٰ ہے؟
کیونکہ یہ
قوی ہے، قوی ہے بھئی۔
قالوا، فقہاء فرماتے ہیں بھئی، لأن، علت ذکر کر رہے ہیں:
بھئی، بھئی خیار تو آپ نے تیسرے کو دیا ہے، یہ آپ کو کیوں خیار حاصل ہے بھئی؟
خیار تو آپ نے کس کے لیے رکھا تھا؟
تیسرے کے لیے، جب رکھا ہے تو آپ کو کیوں خیار حاصل ہے؟ فقہاء فرماتے ہیں: اس لیے
کہ وہ جو تیسرا ہے، وہ مشتری کا نائب ہے، کس کا نائب ہے؟
اس کو خیار کس نے دیا؟ مشتری نے دیا ہے بھئی، تو وہ مشتری کا نائب ہے، تو جب نائب کو خیار حاصل ہے، تو آپ کو بھی کیا حاصل ہونا چاہیے؟ یہ خیار دینے والے کون؟ آپ۔
تو آپ کے لیے خیار اقتضاءً ثابت ہوگا۔
آپ کے لیے خیار... خیار کی ولایت ثابت ہوگی تو آپ کسی کو نائب بنا سکتے ہیں، اگر آپ کے لیے خیار کی ولایت نہ ہوتی، تو آپ کسی کو نائب بنا سکتے تھے؟ نہیں، نائب نہیں بنا سکتے تھے۔
تو آپ کو خیار کی ولایت تھی، تو اسی لیے آپ نے اس دوسرے کو کیا بنایا؟ نائب بنایا، تو جب نائب کو خیار حاصل ہے، تو اقتضاءً آپ کو بھی کیا حاصل ہو جائے گا؟ آپ کو بھی خیار حاصل ہوگا۔
کیونکہ آپ ہی نے تو اس کو نائب بنایا ہے۔
تو وہ علت ذکر کر رہے ہیں کہ دونوں کو کیوں خیار ہوگا، کہتے ہیں: لأن شرطَ الخیارِ لغیرِ العاقدِ إنما یثبتُ بطریقِ النیابةِ، اس لیے کہ خیارِ شرط جو ہے، غیرِ عاقد کو، یعنی وہ تیسرا جو ہے، إنما یثبتُ، اس کے لیے ثابت ہوتی ہے بطریقِ النیابةِ، کس طریقے پر؟ نیابت کے طریقے پر، کہ وہ آپ کا نائب ہے عن العاقدِ، عقد کرنے والے سے، آپ سے۔ فیثبتُ له اقتضاءً، تو ثابت ہوگا خیار بھئی، عقد کرنے والے، یعنی مشتری کے لیے اقتضاءً، کس طریقے پر؟ اقتضاءً اس کے لیے ثابت ہوگا بھئی۔
جب وہ نائب بنا رہا ہے، تو نائب تبھی بنا سکتا ہے جب اس کو خود پہلے کیا حاصل ہو؟
خیار کی ولایت حاصل ہو بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟
أقولُ، یہاں سے صاحبِ کتاب بھئی، علامہ صدر الشریعہ فقہاء کے قول کو ذکر کیا، اب اس پر ایک اعتراض کرنا چاہتے ہیں بھئی۔
فقہاء... فقہاء تو کیا فرماتے ہیں بھئی؟
نائب کو بھی حاصل ہے، اور مشتری کو بھی خیار حاصل ہے۔
نائب کو اس لیے کہ اسے نائب بنا دیا گیا، اور مشتری کو اس لیے کہ اس نے اس کو نائب بنایا ہے، تو جب نائب کو حاصل ہے، تو اس کو بھی اقتضاءً کیا ہے؟ حاصل ہے، کیونکہ اس پہ ولایت ہوگی تو یہ نائب بنا سکے گا، ورنہ نہیں بنا سکتا۔
علامہ صدر الشریعہ فقہاء کے اس قول پر اپنا ایک اعتراض ذکر کر رہے ہیں بھئی۔
اعتراض یہ:
کہتے ہیں بھئی: یہ جو نائب کے لیے خیار ثابت ہوا، اس میں مشتری کے ساتھ ساتھ بائع کی رضامندی بھی ضروری تھی، اگر بائع رضامند نہیں ہوتا، تو پھر اس تیسرے شخص کے لیے خیار ثابت نہیں ہو سکتا، اس لیے کہ وہ عقد کرنے والا ہے؟ عقد میں داخل ہے؟ نہیں بھئی۔
تو عقد میں شامل... عقد میں تو وہ شامل ہی نہیں تھا، تو اس کے لیے خیار کہاں سے ثابت ہو؟
تو مشتری اگر اس کو نائب بنا رہا ہے، تو بائع کی رضامندی بھی ضروری ہے، جب بائع کی رضامندی بھی ضروری ہوئی، تو معلوم ہوا وہ صرف مشتری کا نائب نہیں ہے، بلکہ کس کا نائب ہے؟ دونوں کا نائب ہے، بلکہ دونوں کا نائب ہے۔
صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
تو جب دونوں کا نائب ہوا،
تو اس پر تو بائع راضی ہے۔
بائع راضی ہے کہ اس کو کیا حاصل ہونا چاہیے؟
خیارِ شرط اس کو حاصل ہوگا، بائع اس پر راضی ہے، لیکن اس کے خیار پر راضی ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ بائع مشتری کے خیار پر بھی راضی ہے بھئی۔
بائع کیا ہے؟ مشتری کے خیار پر بھی راضی ہے۔
بھئی، فقہاء لکھتے ہیں بھئی کہ نائب کو تو خیار حاصل ہے، لیکن مشتری کو بھی کیا حاصل ہوگا؟ خیار حاصل ہوگا، اس لیے کہ وہ ہے نائب، جب نائب کو ہے، تو جو اصل ہے اس کو بھی کیا حاصل ہوگا؟ خیار حاصل ہوگا۔
علامہ صدر الشریعہ اس پر رد کر رہے ہیں، فقہاء پر ایک اعتراض کر رہے ہیں، اعتراض یہ کر رہے ہیں کہ بھئی آپ نے مشتری کو بھی خیار دیا، مشتری کو خیار نہیں ہونا چاہیے۔
مشتری کو خیار نہیں... صرف نائب کو ہونا چاہیے۔ کیوں نہیں ہونا چاہیے؟ کہتے ہیں: اس لیے کہ وہ نائب جو ہے صرف مشتری کا نہیں ہے، بلکہ کس کا ہے؟ دونوں کا ہے، کس کا ہے؟ دونوں کا۔ ٹھیک ہے، نائب تو مشتری کا ہے، لیکن بائع کی رضامندی بھی ضروری ہے یا نہیں؟ اگر بائع نہیں رضامند ہوتا کہ نہیں بھئی، وہ تو تیسرا ہے اس کو میں نہیں دیتا، تو پھر مشتری اس کو نائب بنا سکتا ہے؟ مشتری اس کو نائب بھی نہیں بنا سکتا۔
تو معلوم ہوا بائع کی رضامندی بھی ضروری، جیسے مشتری کی رضامندی تھی اسی طرح بائع کی بھی رضامندی، تو معلوم ہوا وہ ایک کا نائب ہے یا دونوں کا نائب ہے؟ دونوں کا نائب ہے، تو معلوم ہوا اسے بائع نے بھی اپنا نائب بنایا ہے، کیا بنایا ہے؟ جب دونوں کا نائب ہے، تو بائع کا بھی نائب ہوا یا نہیں ہوا؟ بائع کا بھی، تو بائع نے بھی اسے اپنا نائب بنایا ہے، معلوم ہوا بائع بھی اس کے خیار پر راضی ہے۔
تو بائع اگر اس کے خیار پر راضی ہو، تو اس کے ساتھ یہ ضروری تو نہیں ہے کہ بائع مشتری کے خیار پر بھی راضی ہو۔
اور اس کے خیار پر ہو سکتا ہے راضی ہو، اس کے خیار پر راضی نہ ہو، لہٰذا اس کو خیار نہیں ہونا چاہیے۔
مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟
أقولُ، بھئی علامہ صدر الشریعہ فرماتے ہیں: میں کہتا ہوں، إذا اشترى، کہ جب خریدا کسی نے، على أن الغير بالخیارِ، اس شرط پر کہ غیر کو خیار ہے، لا یثبتُ الخیارُ إلا برضاءِ المتعاقدینِ، تو خیار ثابت نہیں ہوگا اس تیسرے کے لیے مگر دونوں عقد کرنے والوں کی رضامندی سے، فیکونُ نائباً عن المتعاقدینِ، تو وہ دونوں عقد کرنے والوں سے نائب ہوگا۔
ثم رضى البائعِ بخیارِ الغيرِ، ثم رضى البائعِ بخیارِ الغيرِ...
یہ مصدر ہے مولانا، مصدر، سمجھ میں آیا؟ رَضِيَ يَرْضَى رِضًى ورِضَاءً۔
تو رِضًى بھی مصدر آتا ہے، رِضَاءً بھی، تو اسی کو اس کو اسی طرح فعل نہ پڑھیں بھئی، فعل نہ پڑھیں۔
ثم رضى البائعِ بخیارِ الغيرِ لا یقتضی رضاہ بخیارِ المشترِی۔
پھر بائع کا راضی... بائع کا راضی ہو جانا بخیارِ الغيرِ، غیر کے خیار... بھئی، بائع کا غیر کے خیار پر لازم ہونا لا یقتضی، یہ اس بات کا تقاضا نہیں کرتا، کس بات کا؟ رضاہُ، کہ وہ کیا ہے؟ وہ راضی ہے بخیارِ المشترِی، کس پر؟ مشتری کے خیار پر، لہٰذا مشتری کو خیار نہیں ہونا چاہیے بھئی۔ اعتراض سمجھ میں آیا؟
فقہاء نے تو کہا تھا دونوں کو، اس کو نیابتاً اور اس کو اقتضاءً۔
علامہ صدر الشریعہ فرماتے ہیں: نہیں، یہ ایک کا نائب نہیں ہے بلکہ دونوں کا نائب ہے، اس لیے کہ بائع کی رضامندی بھی ضروری ہے، تو معلوم ہوا دونوں کا نائب ہے، جب دونوں کا نائب ہے تو بائع اس کی نیابت پر تو راضی ہے، اس کے خیار پر تو راضی ہے، لیکن ضروری نہیں کہ وہ اس کے خیار پر بھی راضی ہو، لہٰذا اسے خیار حاصل نہیں ہونا چاہیے۔
بعض پھر علماء اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ بھئی، یہ نائب اس کو بنا کون رہا ہے؟ مشتری بنا رہا ہے، کون بنا رہا ہے؟ مشتری بنا رہا ہے، تو یہ نائب مشتری ہی کا ہے۔
البتہ، بائع کی رضامندی ضروری تھی، تو اس کا نائب نہیں بنا، صرف بائع کی رضامندی ضروری تھی، کیوں؟ تاکہ وہ تیسرا تصرف کر سکے۔
وہ تو عقد میں شامل ہی نہیں تھا، تو بائع اگر راضی نہ ہو تو وہ تصرف کر سکتا ہے؟ نہیں، تو بائع کی رضامندی صرف اس لیے ضروری تھی تاکہ تصرف کر سکے۔
تو نائب یہ صرف کس کا ہے؟ مشتری کا ہے۔
سمجھ میں آیا؟ تو بائع کی رضامندی صرف اس لیے ضروری تھی تاکہ وہ تصرف کر سکے، اجازت دے سکے یا فسخ کر سکے۔
تو اجازت یا فسخ دینا تبھی اس کے تصرف جائز ہوگا جب کون راضی ہو اس پر؟ بائع، تو بائع کی رضامندی اس لیے ضروری تھی، تو نائب تو صرف یہ کس کا ہے؟ مشتری کا، اور جب مشتری کا نائب ہے تو جب اس کے لیے نیابتاً ثابت ہوا خیار، تو مشتری کے لیے بھی لازمی طور پر کہنا پڑے گا کہ اقتضاءً اس کے لیے بھی خیار ثابت، ثابت ہے۔
وبیعُ عبدینِ بالخیارِ فی أحدِہما صحَّ إن فُصِّلَ ثمنُ کلٍّ وعُيِّنَ محلُّ الخیارِ، وفَسَدَ فی الأوجُہِ الباقیةِ۔
بھئی، یہ مسئلہ یہاں چار صورتیں بنیں گی، لیکن پہلے ایک ضابطہ سمجھ لو۔
ضابطہ اہم بھئی۔
دیکھیے بھئی! آپ مجھے بتائیے:
امام صاحب کے نزدیک اگر مـ... کہ کوئی شخص خیارِ شرط کے ساتھ کسی چیز کو خریدتا ہے،
چاہے خیار بائع کا ہو، چاہے خیار مشتری کا ہو، تو کیا مشتری اس چیز کا مالک بنتا ہے؟ مشتری اس چیز کا مالک نہیں بنتا۔
تو بیع کا حکم کیا ہے؟
بیع کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟
تو بیع تو پائی جا رہی ہے، لیکن ملکیت نہیں پائی جا رہی۔
صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
جی۔
تو یاد رکھو!
جو چیز خیارِ شرط کے ساتھ بیچی جائے،
جو چیز خیارِ شرط کے ساتھ بیچی جائے،
وہ
حکم، یعنی ملکیت کے اعتبار سے غیر مبیعہ شمار ہوتی ہے۔
جو چیز خیارِ شرط کے ساتھ بیچی جائے،
وہ حکم، یعنی ملکیت کے
اعتبار سے
غیر مبیعہ،
وہ حکم، یعنی ملکیت کے اعتبار سے غیر مبیعہ شمار ہوتی ہے بھئی۔
بلند آواز سے کہا کرو۔
ضابطہ لکھ لیا بھئی؟ ضابطہ کیا ہوا کہ جو چیز کس شرط کے ساتھ بیچی جائے؟ خیار کی شرط کے ساتھ بیچی جائے، اس میں چونکہ ملکیت نہیں آتی، تو ملکیت یا اور وہ حکم ہے، تو حکم کے اعتبار سے وہ کیا ہے؟ غیر مبیعہ، مبیعہ ہوتا تو پھر تو کیا ہونا چاہیے تھا فوراً؟ ملکیت آنی چاہیے، ملکیت نہیں آ رہی، تو عقد کے اعتبار سے تو یہ مبیعہ ہے، لیکن ملکیت کے اعتبار سے یہ مبیعہ نہیں ہے بھئی، نہیں ہے۔
یہ ضابطہ یاد رکھنا بھئی۔
اب دیکھیے بھئی!
ایک شخص دوسرے کو ایک ہی ایجاب کے ساتھ
دو یا زیادہ چیزیں بیچتا ہے۔
کس کے ساتھ؟
ایک ہی ایجاب میں جمع کر رہا ہے۔
مثلاً بھئی:
آپ کے ساتھی نے آپ کو دو کتابیں بیچیں یہ کہہ کر:
کہ یہ دو کتابیں... آپ نے خواہش ظاہر کی مثلاً بھئی، یہ دو کتابیں آپ سے میں خریدنا چاہتا ہوں۔ اس نے کہا: یہ دو کتابیں میں نے آپ کو بیچیں
اس شرط پر کہ ان میں سے ایک میں مجھے خیار حاصل ہے۔
ہا؟
کتنے کے بدلے میں؟
100 روپے کے بدلے میں۔
کتنے کے بدلے میں؟
آپ کے ساتھی نے کیا کہا؟ "میں نے آپ کو یہ دو کتابیں بیچیں 100 روپے کے بدلے میں
اس شرط پر کہ ان میں سے ایک میں مجھے خیار حاصل ہے۔"
معلوم ہوا ایک کے اندر میں بیع کو فسخ کر سکتا ہوں، کیا کر سکتا ہوں؟ بیع کو فسخ کر... صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ اب آپ مجھے بتائیے!
کیا اس نے
وہ کتاب متعین کی جس کے اندر اس نے خیار رکھا ہے؟
اس نے وہ متعین نہیں کی۔ بھئی دیکھو، یہ دو کتابیں ہیں بھئی، اس نے یہ دو آپ کو بیچی ہیں اور اس نے کہا: "ان دو میں سے مجھے ایک میں خیار ہے"، لیکن اس نے تعیین نہیں کی۔ اگر وہ یہ کہتا کہ "اس کتاب میں مجھے خیار ہے"
تو جس میں خیار ہو، وہ شمار ہوتا ہے غیر مبیعہ۔
معلوم ہوا مبیعہ یہ ہے۔
معلوم ہوا مبیعہ یہ ہے۔
تو اگر ایک میں وہ تعیین کر دیتا کہ اس کے اندر مجھے خیار ہے، تو جس میں خیار ہو وہ غیر مبیعہ شمار ہوتا ہے، تو دوسرا کیا بن جاتا؟ مبیعہ، لیکن اس نے کوئی تعیین کی؟ تو مبیعہ معلوم ہوا یا مجهول ہوا؟ مجهول ہوا بھئی۔
اور نیز
اس نے کہا: "دونوں کتابیں 100 میں بیچیں"، کیا ہر ایک کے الگ الگ پیسے بیان کیے؟ نہیں، تو مبیعہ بھی مجهول اور اس مبیعے کے ثمن بھی مجهول، کہ یہ کتنے کی ہے، وہ کتنے کی ہے، کوئی پتہ نہیں ہے۔
تو یہ عقد فاسد ہوا،
کیونکہ مبیعہ بھی مجهول اور ثمن بھی مجهول۔
مجهول۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟
تو یہاں کل چار صورتیں بنتی ہیں مبیع اور ثمن کے اعتبار سے، پہلی صورت کیا ہوگی؟
یوں کہو، یا یوں کہو:
کہ
دونوں کے ثمن الگ الگ بیان کرے گا یا الگ بیان نہیں کرے گا؟
اور مبیعہ کو... محلِ خیار کو متعین کرے گا یا متعین نہیں کرے گا؟ تو دو چیزیں ہیں: دونوں کے ثمن الگ الگ بیان کرے گا یا نہیں کرے گا؟ محلِ خیار کو متعین کرے گا یا متعین نہیں کرے گا؟ تو ان دونوں کے اعتبار سے چار صورتیں ہوئیں۔ پہلی صورت: یہ جو ابھی بیان ہوئی، نہ تو محلِ خیار اس نے متعین کیا اور نہ
دونوں کے ثمن الگ الگ... اس نے تو مجموعہ کتاب کی دو کتابوں کی کتنے بتائے؟ 100 روپے، ہر ایک کے الگ الگ پیسے نہیں، اور کس کتاب میں خیار ہے؟ اس نے کوئی متعین کیا؟ نہیں بھئی، تو مبیعہ بھی مجهول اور ثمن بھی مجهول۔
مجهول۔
دوسری صورت یہ:
کہ
محلِ خیار بھی متعین کر دے اور ہر ایک کے الگ الگ ثمن بھی بتلا دے۔
مثلاً کیسے؟
میں نے کہا: "میں نے آپ کو یہ دو کتابیں بیچیں، یہ والی کتاب 50 روپے کی اور دوسری بھی 50 روپے کی، اس شرط پر کہ یہ جو پہلی کتاب ہے
اس کے اندر مجھے کیا ہے؟ خیار حاصل ہے۔"
تو دیکھا! اس نے محلِ خیار بھی متعین کر دیا اور ہر ایک کے الگ الگ ثمن بھی...
جی، تو جب اس کے اندر خیار رکھا پہلی کتاب کے اندر، تو یہ دوسری کیا بن گئی؟ یہ مبیعہ بن گئی، تو مبیعہ معلوم ہے، مجهول ہے؟ معلوم ہے، مبیعہ معلوم ہوا۔ اور پھر اس مبیعے کے ثمن معلوم ہیں یا مجهول ہیں؟ معلوم ہیں، تو مبیعہ بھی معلوم، ثمن بھی معلوم، لہٰذا یہ صورت درست ہے بھئی، یہ صورت درست ہے۔
اگلی دونوں صورتیں بھی فاسد ہیں مولانا، پہلی صورت بھی فاسد تھی، اگلی آخری دو بھی فاسد ہیں، ایک صورت کیا ہوئی؟
صحیح، جس کے اندر مبیعہ بھی معلوم اور ثمن بھی معلوم۔ اگلی دو صورتوں میں ایک ایک کو لے آؤ، دوسرے کو نہ لاؤ، مثلاً پہلی صورت میں کیا کہو؟
محلِ خیار تو متعین ہے، لیکن ہر ایک کے ثمن متعین نہیں، معلوم نہیں۔ تیسری صورت: محل...
خیار تو متعین نہیں ہے، لیکن ہر ایک کے الگ ثمن متعین ہیں، معلوم ہیں، ذکر کر دیتا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ مثلاً کیا صورت بنائی؟
بائع نے ایک بیچی، "میں نے آپ کو یہ دو کتابیں بیچیں اس شرط پر..." کس کو ہم نے متعین کرنا ہے؟ محلِ خیار کو، اور ہر ایک کے ثمن الگ الگ نہیں ذکر کرنے۔ میں نے آپ کو کہا، "یہ دو کتابیں میں نے آپ کو بیچیں، کتنے کے بدلے؟ کہ یہ مجموعہ 100 روپے کے بدلے، جبکہ اس پہلی کتاب میں، یہ والی کتاب کے اندر مجھے عقد کو فسخ کرنے کا خیار ہے۔" تو اب ہر ایک کے ثمن تو الگ بیان نہیں کیے، لیکن محلِ خیار کیا کر دیا؟ جب اس کتاب، پہلی میں میں نے خیار رکھا، تو معلوم ہوا دوسری کیا بن گئی؟ مبیعہ بن گئی، تو مبیعہ معلوم ہوا یا مجہول؟ مبیعہ معلوم ہوا، اور ثمن بھئی؟ ثمن مجہول، ثمن تو میں نے مجموعہ ذکر کیے ہیں ہر ایک کے الگ الگ نہیں، تو لہٰذا یہ بیع بھی فاسد ہوئی، اس لیے کیونکہ ضابطہ وہی ضابطہ آپ پڑھ چکے ہیں پہلے بھئی، بیع کے اندر ثمن مجہول ہوں یا مبیعہ مجہول ہو، تو بیع کیا ہو جایا کرتی ہے؟ فاسد ہو جایا کرتی ہے۔
چوتھی صورت بھئی، محلِ خیار متعین نہیں کرتا، ہر ایک کے الگ الگ قیمت بتلا دیتا ہے۔ مثلاً میں نے آپ کو یہ دو کتابیں بیچیں بھئی، میں نے کہا، "یہ دو کتابیں میں نے آپ کو بیچیں، یہ پہلی کتاب 50 روپے کی، یہ دوسری کتاب بھی 50 روپے کی، اس شرط پر کہ ان دونوں میں سے کسی ایک میں مجھے خیار ہے۔" تو میں نے محلِ خیار کو متعین کیا؟ نہیں، تو محلِ خیار... ثمن تو معلوم ہیں، لیکن مبیعہ کیا ہے؟ مجہول ہے، لہٰذا یہ صورت بھی کیا ہوئی؟ فاسد۔ یہاں تک مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ دیکھیے بھئی:
وبيع عبدين، تو یہ سمجھ میں آیا یہ ایک ہی ایجاب میں ذکر کر رہا ہے سب کو، وبيع عبدين، اور بیچنا دو غلاموں کو، بالخيار في أحدهما، دونوں میں سے کسی ایک میں خیار کے ساتھ بھئی، صح، یہ صحیح ہے، کب؟ إن فصل ثمن كل، اگر جدا جدا کر دیے ہر ایک کے ثمن کو، وعين محل الخيار، اور محلِ خیار کو بھی متعین کر دیا، ایک صورت میں بیع صحیح، وفسد في الأوجه الباقية، اور فاسد ہو جائے گی باقی صورتوں کے اندر بیع، وہ کتنی صورتیں ہیں؟ تین صورتیں۔ وہ یہ ہیں مولانا، خود بیان کر رہے ہیں: وهي ما إذا لم يفصل الثمن، جس وقت کہ وہ ثمن کو الگ الگ جدا جدا بیان نہ کرے، ایک صورت، ثمن کو بھی الگ الگ بیان نہ کرے ہر ایک کے، ولم يعين محل الخيار، اور محلِ خیار کو بھی متعین نہ کرے، تو ثمن بھی مجہول اور مبیعہ بھی مجہول، أو فصل الثمن ولم يعين، تیسری صورت بھئی کیا؟ ثمن تو ہر ایک کے الگ بیان کر دیتا ہے، تو ثمن تو معلوم ہو گئے، لیکن ولم يعين، محلِ خیار متعین نہیں، تو مبیعہ مجہول ہوا، أو عين، یا چوتھی صورت کہ متعین تو کر دیتا ہے محلِ خیار کو، ولم يفصل، لیکن ثمن کو الگ الگ بیان نہیں کرتا، تو یہ تینوں صورتیں فاسد ہوئیں بھئی، کیوں؟ لجهالة الثمن والمبيع، ثمن اور مبیعہ دونوں کی جہالت کی وجہ سے بھئی، أو جهالة أحدهما، یا دونوں میں سے کسی ایک کی، ان تین صورتوں میں سے پہلی صورت جس میں ثمن بھی الگ الگ بیان نہیں کیے اور محلِ خیار بھی متعین نہیں کیا، تو ثمن بھی مجہول، مبیعہ بھی مجہول۔ دوسری صورت میں ثمن تو الگ الگ ذکر کر دیے، لیکن محلِ خیار متعین نہیں کیا، تو پھر اس صورت میں مبیعہ مجہول، لیکن اور اگر محلِ خیار تو متعین کرتا ہے، لیکن ہر ایک کے ثمن الگ بیان نہیں کرتا، تو اس صورت میں ثمن مجہول ہو جائیں گے۔
بقي أن في صورة الجواز، یہاں سے پہلے یہ سمجھ لو بھئی!
اگر عقد میں مبیعہ کے ساتھ غیرِ مبیعہ کے قبول کرنے کی شرط لگائی جائے، تو عقد فاسد ہو جاتا ہے۔
یہ ساری بات شرح میں بھی آ جائے گی یہیں پر کتاب میں۔ کیا میں ذکر کر رہا ہوں بھئی؟ اگر بیع میں غیرِ مبیعہ کو... مبیعہ کو، یوں کہیں۔ اگر بیع میں مبیعہ کو قبول کرنے کے لیے غیرِ مبیعہ کو قبول کرنے کی بھی شرط لگائی گئی، تو عقد کیا ہو جائے گا؟ فاسد۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ کیا بات ہوئی؟ عقد کے اندر مبیعہ کو قبول کرنے کے لیے کس کی شرط لگا دی؟ غیرِ مبیعہ کو قبول کرنے کی، تو عقد فاسد۔ مثلاً ایک آدمی ہے، اس نے دوسرے آدمی کو ایک غلام اور ایک آزاد آدمی بیچ دیا کہ یہ کہہ کر کہ "یہ دونوں غلام ہیں بھئی۔" ایک غلام تھا اور دوسرا کیا تھا؟ آزاد تھا، اس نے بیچا بھئی کہ "یہ دونوں غلام ہیں، میں آپ کو بیچتا ہوں ایک لاکھ روپے میں۔" تو عقد کیا قرار دیں گے آپ؟ فاسد، اس لیے کہ غلام تو مبیعہ ہے، لیکن آزاد آدمی مبیعہ ہے؟ نہیں، تو غلام کو تو بیچ سکتا ہے، یہ تو مبیعہ ہے، اور آزاد آدمی مبیعہ نہیں، لیکن ایجاب میں دونوں کو اکٹھا کر دیا، جب ایجاب میں اکٹھا کر دیا، تو آپ نے ضابطہ پڑھا ہے، کتاب کے شروع میں آپ نے پڑھا تھا، کہ جب ایجاب ہو جائے، تو دوسرے کو مشتری کیا کرے گا بھئی؟ ایجاب... ایجاب ہو جائے، تو دوسرے کو ساری چیز کو قبول کرنا پڑے گا، یہ نہیں کر سکتا بعض کو قبول کرے اور بعض کو قبول نہ کرے، ورنہ تفریقِ صفقہ لازم آئے گا، ضابطہ یاد آیا کہ نہیں بھئی؟ تو یہاں پر بھی ساری چیز کو اس کو قبول کرنا پڑے گا، اور ساری چیز کو قبول کر رہا ہے، تو ایک تو مبیعہ ہے، دوسرا کیا ہے؟ غیرِ مبیعہ، تو مبیعہ کو قبول کرنے کے لیے گویا کہ غیرِ مبیعہ کی شرط لگا دی گئی، اگرچہ لفظوں میں ذکر نہیں ہے، لیکن ایجاب میں تو ذکر ہے، تو یہ گویا ہے اسی طرح کہ مبیعہ کو قبول کرنے کے لیے غیرِ مبیعہ کو شرط لگائی جا رہی ہے، اور اس صورت میں عقد کیا ہو جایا کرتا ہے؟ فاسد ہو جاتا ہے۔
تو لہٰذا ایک صورت جائز تھی، باقی صورتیں تو فاسد تھیں۔ باقی صورتیں... لیکن ایک صورت جو جائز تھی مولانا، اس کے اندر آپ نے... میں نے آپ کو دو کتابیں بیچیں یا نہیں بیچیں بھئی؟ ایک ہی ایجاب کے ساتھ یا الگ الگ ایجاب کے ساتھ؟ ایک ہی ایجاب کے ساتھ، اور ان میں سے ایک میں خیار ہے، دوسرے میں خیار نہیں، اور جس میں خیار نہیں وہ تو مبیعہ ہے، اور جس میں خیار ہے وہ تو مبیعہ نہیں، تو مبیعہ کو قبول کرنے کے لیے کس چیز کی شرط لگا دی میں نے؟ غیرِ مبیعہ کو قبول کرنے کی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو لہٰذا عقد کو کیا کہنا چاہیے؟ فاسد، لیکن آپ کہتے ہیں کہ وہ صورت جس میں ہر ایک کے ثمن بھی الگ بیان کر دے، محلِ خیار بھی کیا کر دے؟ متعین کر دے، تو بیع کیا ہو جائے گی؟ صحیح، اگرچہ یہاں پر بھی وہ شرط موجود ہے کہ مبیعہ کو قبول کرنے کے لیے غیرِ مبیعہ کو قبول کرنا ضروری ہے۔
تو جواب اس کا علامہ صدر الشریعہ آپ کو دیں گے۔ کہیں گے بھئی کہ یہ جو دوسرا ہے، من کل الوجہ غیرِ مبیعہ نہیں، من کل الوجہ غیرِ مبیعہ نہیں ہے۔ بھئی دیکھو، میں نے آپ کو یہ کتاب، دو کتابیں بیچیں، اس کتاب میں میں نے خیار رکھا، پہلی میں؟ تو یہ من کل الوجہ غیرِ مبیعہ نہیں ہے، من وجہ مبیعہ ہے، من وجہ غیرِ مبیعہ۔ بھئی، وہ جو مثال میں ذکر کی غلام اور آزاد آدمی کی، آزاد آدمی تو من کل الوجہ غیرِ مبیعہ ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ لیکن یہ جو غلام بیچ... یہ جو کتاب میں بیچ رہا ہوں، یہ محلِ بیع ہے یا نہیں بھئی؟ ہے، تو یہ من وجہ مبیعہ ہے، من وجہ مبیعہ نہیں، مبیعہ ہے بایں اعتبار کہ ایجاب میں نے اس کا بھی کیا ہے، دونوں کا کیا ہے یا نہیں کیا؟ ایجاب میں نے اس کا بھی کیا ہے، اور غیرِ مبیعہ ہے بایں اعتبار کہ اس میں خیار ہے، اس میں کیا ہے؟ خیار ہے، تو خیار جس میں ہو وہ مبیعہ ہوتا ہے یا غیرِ مبیعہ؟ وہ غیرِ مبیعہ، لیکن تو خیار کے اعتبار سے یہ غیرِ مبیعہ ہوا، اور ایجاب کے اندر آنے کے اعتبار سے یہ کیا ہوا؟ مبیعہ، تو اس میں دو جہتیں آ گئیں، تو دو جہتیں آ گئیں بھئی، تو پہلی صورت کے اندر ہم نے اس کے مبیعہ ہونے کی جہت کا اعتبار کیا، اور باقی صورتوں کے اندر ہم نے اس کے غیرِ مبیعہ ہونے کا... جب پہلی صورت میں مبیعہ ہونے کا اعتبار کیا، تو مبیعہ کو قبول کرنے کے لیے غیرِ مبیعہ کے قبول کرنے کی شرط نہ ہوئی، کیونکہ اب تو دونوں کیا بن گئے؟ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ اب تو دونوں کیا بن گئے؟ مبیعہ بن گئے، دونوں مبیعہ بن گئے، جی۔
اور وہ صورتیں جن کے اندر ثمن اور مبیعہ مجہول تھے یا دونوں میں سے کوئی ایک مجہول تھا، اس صورت کے اندر بھئی، اس صورت کے اندر... اس صورت کے اندر ہم نے اس کے غیرِ مبیعہ ہونے کی کا اعتبار کیا، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو جس چیز میں خیار تھا، وہ خیار کے اعتبار سے غیرِ مبیعہ، اور ایجاب میں شامل ہونے کے اعتبار سے مبیعہ، تو اس میں دونوں صورتیں آ گئیں، تو ہم نے وہ جو صورت جس کے اندر مبیعہ میں بھی جہالت نہیں اور ثمن میں بھی جہالت نہیں، ہم نے کون سی رخ کا... کون کس چیز کا اعتبار کیا اس کے؟ مبیعہ ہونے کا اعتبار کیا، تاکہ کہیں بیع فاسد نہ ہو جائے، اور باقی دو تین صورتوں کے اندر ثمن یا مبیعہ یا دونوں مجہول تھے، تو وہاں پر ہم نے اس کے غیرِ مبیعہ ہونے کا اعتبار کیا، تو غیرِ مبیعہ کو قبول کرنے کی شرط آ گئی، اور اس صورت میں عقد کیا ہو جایا کرتا ہے؟ فاسد، تو حتى يفسد العقد، تاکہ عقد فاسد ہو جائے، اور اس صورت میں کہ ان دونوں میں سے ہر ایک معلوم تھا، ہم نے اس بات کا اعتبار کیا کہ یہ مبیعہ ہے، حتى لا يفسد العقد، تاکہ عقد فاسد نہ ہو جائے۔ مسئلہ اچھی طرح سمجھ میں آ گیا سب کو بھئی؟ چلیے بس مولانا، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔