فَإِنْ جَلَّلَ بَدَنَةً أَوْ أَشْعَرَهَا أَوْ قَلَّدَ شَاةً لَمْ يَكُنْ مُحْرِمًا لِأَنَّ التَّجْلِيلَ لِدَفْعِ الْحَرِّ وَالْبَرْدِ وَالذِّبَّانِ فَلَمْ يَكُنْ مِنْ خَصَائِصِ الْحَجِّ وَالْإِشْعَارُ مَكْرُوهٌ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ فَلَا يَكُونُ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ
گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ محرم نے جب بدنہ کی تقلید کر دی یعنی اس کو قلادہ پہنا دیا، اور پھر اس کے ساتھ وہ متوجہ ہوا حرم کی طرف، اس حال میں کہ وہ اس کو ہانک رہا ہو اور احرام کی نیت کی ہو، تو تلبیہ کہے بغیر ہی اس فعل کی وجہ سے بھی وہ کیا بن جائے گا؟ محرم بن جائے گا کیونکہ نیت بھی پائی گئی اور ایک ایسا فعل پایا گیا جو احرام کے خصائص میں سے ہے۔
تقلید کے بجائے اگر کوئی شخص جو ہے، بدنہ کو جھول پہنا دیتا ہے۔ جھول، جانور کے اوپر جو کپڑا وغیرہ ڈال دیا جاتا ہے۔ سردی وغیرہ سے بچانے کے لیے بھی بعض اوقات کپڑا ڈالتے ہیں اس پر۔ تو یہ جو کپڑا جانور پر ڈالا جاتا ہے، اس کو کہتے ہیں جھول پہنانا بھئی، جھول ڈالنا جانور پر۔ تو اگر کسی شخص نے جانور پر جھول ڈال دی اور پھر اس کو لے کر چل پڑا حرم کی طرف، اور نیت ہے احرام کی، حج اور عمرے کی نیت ہے، تو کیا اس سے وہ محرم بنے گا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، اس سے وہ محرم نہیں بنے گا۔ اس لیے کیونکہ ایک چیز صرف اس کی نیت تو پائی گئی، لیکن کوئی ایسا فعل نہیں پایا گیا جو خصائص احرام میں سے ہو۔ اس لیے کیونکہ یہ جھول ڈالنا جانور پر، یہ ہدی کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ بلکہ سردی اور گرمی کی وجہ سے بھی جانور پر کپڑا ڈال دیا جاتا ہے۔ جبکہ وہ قلادہ جو ڈالا جاتا تھا، اس کے گلے میں پرانا چمڑے کا ٹکڑا ڈالتے تھے یا درخت کی چھال وغیرہ لٹکاتے تھے، وہ تو عام جانور کے گلے میں کوئی نہیں پرانا جوتے کا ٹکڑا کوئی نہیں لٹکاتا، درخت کی چھال کوئی نہیں لٹکاتا، اور اسی طرح چمڑے کا ٹکڑا وغیرہ کوئی نہیں لٹکاتا۔ وہ خصائص احرام میں سے تھا، یہ جھول ڈالنا خصائص احرام میں سے نہیں، لہٰذا اس سے محرم نہیں بنے گا، بلکہ یہاں باقاعدہ زبان سے کیا کرنا پڑے گا؟ تلبیہ کہنا پڑے گا۔ نیت تو ہے، اب تلبیہ بھی کہہ لے گا تو محرم بن جائے گا۔
یا اسی طرح اگر کسی نے جانور کا، یعنی بدنہ کا اشعار کر دیا۔ اشعار، یہ بھی ایک قدیم طریقہ تھا کہ جانور کے کوہان کو زخمی کر دیا جاتا ایک طرف سے۔ نیزے وغیرہ کے ذریعے اس کے کوہان کو زخمی کر دیتے اور وہ جو خون وغیرہ نکلتا، اسی کوہان وغیرہ پر مل دیا جاتا۔ اس سے بھی دیکھنے والوں کو دیکھتے ہی پتہ چل جاتا کہ یہ جانور کہاں لے جایا جا رہا ہے؟ حرم کے لیے لے کر جائے، حرم کے لیے لے جا رہے ہیں۔ لیکن اگر کوئی یہ اشعار کر دیتا ہے، کوہان وغیرہ کو زخمی کر کے خون نکال کر اس پر لگا دیتا ہے، اس سے بھی وہ محرم نہیں بنے گا۔ اس لیے کیونکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک اشعار مکروہ ہے۔ اشعار کیا ہے؟ مکروہ ہے بھئی۔ تو جب یہ اشعار مکروہ ہے، تو پھر تو یہ حج کے افعال میں سے ہی نہ رہا، اس کا کرنا ہی مکروہ ہے۔ تو جب حج کے افعال میں سے نہیں، تو خصائص احرام میں سے کوئی خاص فعل نہیں پایا گیا، لہٰذا اس کی وجہ سے تو وہ محرم نہیں بنے گا۔ صرف اس کی نیت ہے، اور نیت سے محرم نہیں بنے گا، بلکہ کیا ضروری؟ تلبیہ کہنا ضروری ہے۔
اور صاحبین کے نزدیک اگرچہ یہ مکروہ نہیں ہے۔ صاحبین اس کو حسن کہتے ہیں کہ اچھا ہے، ٹھیک ہے ایسا کر سکتا ہے۔ لیکن ان کے نزدیک پھر بھی اس سے محرم نہیں بنے گا۔ اس لیے کیونکہ یہ جو کوہان وغیرہ کو زخمی کرنا ہے، یہ بعض اوقات علاج معالجے کی وجہ سے بھی جانور کو تھوڑا سا زخمی کر دیا جاتا ہے۔ تو لہٰذا یہ بھی خصائص احرام میں سے نہیں۔ جبکہ وہ قلادہ پہنانا، وہ قلادہ تو اور کسی وجہ سے نہیں کیا جاتا، صرف کس صورت میں کیا جاتا ہے؟ جب قربانی کے لیے جانور لے کر چلتے ہیں تو پھر ہی پہناتے ہیں، ویسے نہیں پہناتے۔ اور یہ تو علاج معالجے کے لیے بھی ہوتا ہے، لہٰذا یہ احرام کے ساتھ خاص نہ رہا۔ اور ہم نے تو کیا کہا تھا، کیسا فعل ہونا چاہیے؟ جو احرام کے خصوصیات میں سے ہو۔
اور پھر یہ بھی یاد رکھیے، یہ مسئلہ آگے صاحبِ ہدایہ بھی آپ کو بتلائیں گے کہ امام صاحب نے اشعار کو مکروہ کہا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اشعار تو احادیث سے ثابت ہے، حضور علیہ السلام نے کیا کیا؟ اشعار فرمایا۔ تو حدیث سے ثابت ہے جانوروں کا اشعار کرنا، تو اس کو انہوں نے کیسے مکروہ قرار دیا؟ تو علماء فرماتے ہیں کہ امام صاحب مطلقاً اشعار کو مکروہ نہیں کہتے، بلکہ لوگ اس کے اندر مبالغہ کرتے تھے۔ اس لیے انہوں نے مکروہ کہا ہے، وہ بیچارے جانور کو کچھ زیادہ ہی زخمی کر دیتے تھے، اس لیے امام صاحب نے اس کو مکروہ قرار دیا ہے بھئی۔ کہ اس سے تو بیچارے کو جانور کو تکلیف ہو گی، تھوڑا بہت زخمی نہیں کرتے تھے بلکہ لوگ مبالغہ کرتے تھے، اس لیے انہوں نے مکروہ قرار دیا ہے۔ اور بعضوں نے کہا کہ امام صاحب نے مطلقاً مکروہ نہیں کہا اس کو، بلکہ تقلید پر اس کو ترجیح دینے کو مکروہ لکھا ہے۔ کہ کوئی شخص کیا کرتا ہے؟ ہاں کہ اس کو ایک ہے قلادہ پہنانا اور ایک ہے اشعار، تو اشعار کو تقلید پر ترجیح دینا، یہ کیا ہے؟ مکروہ ہے بھئی، مکروہ ہے۔
تیسری صورت یہ بیان کر رہے ہیں کہ کسی نے بکری کو قلادہ پہنا دیا اور اس کو لے کر چل پڑا۔ تو کیا اس سے محرم بن جائے گا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، قلادہ عام طور پر بکری کو نہیں پہنایا جاتا، قلادہ بڑے جانور کو پہنایا جاتا ہے، اونٹ ہے، گائے بیل وغیرہ ہے، ان کو جب لے کر چلتے تو کیا کیا جاتا تھا؟ قلادہ پہنایا جاتا تھا۔ لہٰذا بکری کو قلادہ پہنانے سے اور اس کو لے جانے سے وہ محرم نہیں بنے گا بھئی۔ کیونکہ یہ معروف نہیں ہے اس طرح یہ طریقہ بھئی، عادت نہیں ہے اس پر جاری۔ تو بڑے جانور کا ہونا ضروری ہے قلادے میں۔ تو لہٰذا بکری کو بھی اگر قلادہ پہنا کر لے کر چل پڑے گا اور نیت بھی کر لی حج کی، تو اس سے وہ محرم نہیں بنے گا۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ اب دیکھیے کتاب پر۔
تو کہتے ہیں: فَإِنْ جَلَّلَ بَدَنَةً، اور اگر کسی نے جھول پہنا دی بدنہ کو، أَوْ أَشْعَرَهَا، یا اس کا اشعار کیا، أَوْ قَلَّدَ شَاةً، یا بکری کو قلادہ پہنا دیا، لَمْ يَكُنْ مُحْرِمًا، تو وہ محرم نہیں ہو گا۔ بھئی یہ تینوں فعلوں میں سے کوئی فعل کر لیا، اور ساتھ ایک اور شرط بھی ہے جو میں بار بار ذکر کر رہا ہوں، وہ کیا؟ ہاں نیت بھی ساتھ کی ہوئی ہے۔ نیت بھی کی ہے اور یہ جھول پہنا دی، یا نیت کی ہوئی ہے اور یہ اشعار کر دیا، یا نیت کی ہوئی ہے اور بکری کو قلادہ پہنا دیا، تو پھر کیا اس صورت میں محرم بنے گا؟ انہوں نے آپ کو بتلا دیا کہ نہیں، اس صورت میں محرم نہیں بنے گا۔ کہتے ہیں: لِأَنَّ التَّجْلِيلَ لِدَفْعِ الْحَرِّ وَالْبَرْدِ وَالذِّبَّانِ، اس لیے کیونکہ جھول پہنانا جو ہے یہ گرمی اور سردی کو دور کرنے کے لیے بھی ہوتا ہے، وَالذِّبَّانِ، اور مکھیوں کو دور کرنے کے لیے۔ ذبان جمع ہے ذباب کی، ذباب مکھی کو کہتے ہیں۔ تو یہ تو کبھی گرمی سردی اور مکھیوں کو دور کرنے کے لیے بھی جانور پر جھول ڈال دیتے ہیں یعنی اس پر کپڑا ڈال دیتے ہیں۔ فَلَمْ يَكُنْ مِنْ خَصَائِصِ الْحَجِّ، تو یہ حج کی خصوصیات میں سے نہیں ہے بھئی۔ وَالْإِشْعَارُ مَكْرُوهٌ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ، اور اشعار تو امام صاحب کے نزدیک مکروہ ہے۔ اوپر تین چیزیں ذکر کی تھیں نا، ہر ایک کو اب بیان کرتے جا رہے ہیں۔ وَالْإِشْعَارُ مَكْرُوهٌ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ، اور امام صاحب کے نزدیک تو اشعار مکروہ ہے۔ فَلَا يَكُونُ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ، لہٰذا یہ عبادتوں میں سے کوئی چیز نہیں، یعنی حج کی عبادتوں میں سے یہ کوئی چیز نہیں ہے۔
وَعِنْدَهُمَا، تو بھئی امام صاحب کے نزدیک تو اشعار کی وجہ سے وہ محرم نہیں بنے گا۔ صاحبین تو اس کو حسن کہتے ہیں، حسن کہتے ہیں۔ تو اس کا بھی جواب دیں گے کہ صاحبین فرماتے ہیں ٹھیک ہے اشعار کر سکتا ہے، لیکن بہرحال اشعار کبھی کبھار علاج معالجے کے لیے بھی کیا جاتا ہے، تو لہٰذا یہ احرام کی خصوصیات میں سے نہ رہا۔ تو کہتے ہیں: وَعِنْدَهُمَا إِنْ كَانَ حَسَنًا، اور صاحبین کے نزدیک اشعار اگرچہ اچھا ہے، فَقَدْ يُفْعَلُ لِلْمُعَالَجَةِ، تو کبھی کبھار یہ اشعار کیا جاتا ہے علاج معالجے کے لیے بھی، بِخِلَافِ التَّقْلِيدِ لِأَنَّهُ يَخْتَصُّ بِالْهَدْيِ، بخلاف تقلید کے وہ تو ہدی کے ساتھ خاص ہے، وہ اور کسی وجہ سے نہیں کیا جاتا۔ وَتَقْلِيدُ الشَّاةِ، اوپر کیا آیا تھا؟ أَوْ قَلَّدَ شَاةً، بھیڑ بکری کو کسی نے قلادہ پہنا دیا۔ میں پہلے ذکر کر چکا ہوں شاة کا لفظ بھیڑ بکری دونوں پر بولا جاتا ہے۔ وَتَقْلِيدُ الشَّاةِ غَيْرُ مُعْتَادٍ، اور بھیڑ بکری کو قلادہ پہنانا یہ تو غیر معتاد ہے یعنی اس کی تو عادت نہیں جاری، وَلَيْسَ بِسُنَّةٍ أَيْضًا، اور نیز یہ سنت بھی نہیں ہے، لہٰذا اس سے وہ محرم نہیں ہو گا۔
قَالَ وَالْبُدْنُ مِنَ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ، بُدن جمع آ گئی بھئی، بَدَنَةٌ مفرد تھا اور بُدْنٌ یا بُدُنٌ یہ اس کی جمع ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وَالْبُدْنُ مِنَ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ، اور بدن جو ہیں وہ ابل اور بقر میں سے ہوتے ہیں۔ میں نے بھی بتلایا آپ کو کہ بدنہ بڑا جانور جو یعنی گائے ہو، بیل ہو، یا اونٹ وغیرہ بھئی۔ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ مِنَ الْإِبِلِ خَاصَّةً، اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ خاص طور پر اونٹ میں سے ہے۔ ہمارے نزدیک بدنہ کا اطلاق گائے، بیل اور اونٹ وغیرہ ان پر ہوتا ہے، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بدنہ کا اطلاق صرف اونٹ پر ہوتا ہے بھئی، گائے بیل کو یہ شامل نہیں ہے بھئی۔ وہ دلیل ذکر کرتے ہیں، آگے امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل ذکر ہو رہی ہے۔ تو وہ فرماتے ہیں یہ خاص طور پر اونٹ میں سے ہے: لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي حَدِيثِ الْجُمُعَةِ، بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے حدیثِ جمعہ کے اندر۔ حدیثِ جمعہ کے اندر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”فَالْمُسْتَعْجِلُ مِنْهُمْ كَالْمُهْدِي بَدَنَةً، وَالَّذِي يَلِيهِ كَالْمُهْدِي بَقَرَةً“، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جو شخص جمعے کے لیے جلدی کرے، جلدی آئے، تو یہ اسی طرح ہے جیسے کوئی شخص بدنہ کی ہدی بھیجے۔ کس کی ہدی بھیجے؟ ہدی کہاں بھیجتے ہیں؟ حرم شریف، مکہ بھیجتے ہیں، قربانی کے لیے جانور جو ہے اس کو ہدی کہتے ہیں۔ تو حضور علیہ السلام فرماتے ہیں جو جمعے کے لیے جلدی آتا ہے اس کے لیے ایسا ہی اجر ہے جیسے کوئی مکہ مکرمہ قربانی کے لیے بدنہ کو بھیجے۔ کس کو بھیجے؟ تو جیسے اس کو ثواب ملتا ہے، اسی طرح جمعے کے لیے جو جلدی آتا ہے اس کو بھی ثواب ملتا ہے۔ وَالَّذِي يَلِيهِ، اور وہ جو اس کے ساتھ ملا ہوا ہو یعنی جو اس کے بعد آئے، ایک تو سب سے پہلے آنے والا ہے، ایک اس کے بعد آنے والا ہے جو اس کے ساتھ ملا ہوا ہے اس کے فوراً بعد آیا، وہ اس طرح ہے جو کہ ہدی بھیجنے والا ہے گائے بیل کی، كَالْمُهْدِي بَقَرَةً، جو شخص کیا کرنے والا ہے؟ گائے بیل کی ہدی بھیجنے والا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں دیکھو، اس حدیث میں حضور علیہ السلام نے بدنہ کے مقابلے میں بقرہ کو ذکر کیا۔ جو جلدی آئے اس کے لیے کس طرح کا ثواب ہے؟ بدنہ کی ہدی بھیجنے والے کی طرح، اور جو اس کے بعد آئے اس کے لیے بقرہ کی ہدی بھیجنے والے کا ثواب ہے۔ تو حضور علیہ السلام نے بقرہ کے مقابلے میں بدنہ کو ذکر کیا، معلوم ہوا بقرہ اور ہے اور بدنہ اور ہے۔ بقرے پر بدنہ کا اطلاق نہیں ہوتا، ورنہ حضور علیہ السلام پھر بعد میں الگ بقرہ کو ذکر نہ فرماتے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ جی۔
تو وہ فرماتے ہیں حدیثِ جمعہ کے اندر حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”فَالْمُسْتَعْجِلُ مِنْهُمْ كَالْمُهْدِي بَدَنَةً، وَالَّذِي يَلِيهِ كَالْمُهْدِي بَقَرَةً“، کہ وہ شخص جو جلدی کرنے والا ہے لوگوں میں سے، حدیثِ جمعہ میں حضور فرما رہے ہیں، جو شخص جلدی کرنے والا ہے لوگوں میں سے یعنی جمعے کے لیے جلدی آنے والا ہے، كَالْمُهْدِي بَدَنَةً، یہ اس شخص کی طرح ہے جو بدنہ کی ہدی بھیجنے والا ہے، وَالَّذِي يَلِيهِ، اور جو اس کے ساتھ ملا ہوا ہے یعنی جو اس کے بعد آنے والا ہے، كَالْمُهْدِي بَقَرَةً، وہ بقرہ کی ہدی بھیجنے والے کی طرح ہے۔ فَفَصَّلَ بَيْنَهُمَا، اچھا بھئی، بَقَرَةً، یہاں تک حدیث کا حصہ ہے بھئی۔ آگے صاحبِ ہدایہ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل ہی ذکر فرما رہے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ کہ فَفَصَّلَ بَيْنَهُمَا، حضور علیہ السلام نے بدنہ اور بقرہ میں فصل فرمایا، ان میں تفریق کر دی، جدائی کر دی، بتلا دیا کہ بدنہ اور چیز ہے اور بقرہ اور چیز ہے۔ تو معلوم ہوا بدنہ کا اطلاق صرف اونٹ پر ہوتا ہے۔
وَلَنَا، اور ہماری دلیل یہ ہے: أَنَّ الْبَدَنَةَ تُنْبِئُ عَنِ الْبَدَانَةِ، کہ بدنہ کا لفظ جو ہے یہ خبر دیتا ہے بدانت کی۔ بدنہ کس سے ہے؟ بدانت سے ماخوذ ہے، یہ بدانت کی خبر دیتا ہے۔ اور بدانت، وَهِيَ الضَّخَامَةُ، یہ ضخیم ہونا ہے، بڑا ہونا۔ بدنہ بدانت کی خبر دیتا ہے یعنی کہ جانور چھوٹا نہیں ہے بلکہ بڑے بدن والا ہے بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ہم کہتے ہیں کہ بدنہ جو ہے یہ خبر دیتا ہے بدانت کی، وَهِيَ الضَّخَامَةُ، اور یہ ضخامت ہے یعنی بڑا ہونا ہے، بڑے بدن والا ہونا ہے۔ وَقَدِ اشْتَرَكَا فِي هَذَا الْمَعْنَى، اور تحقیق دونوں شریک ہیں اس معنی کے اندر۔ جیسے اونٹ بڑے بدن والا ہے، اس طرح گائے اور بیل بھی کیا ہیں؟ بڑے بدن والے ہیں، لہٰذا بدنہ کا لفظ دونوں کو شامل ہوا۔ وَلِهَذَا يُجْزِئُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَنْ سَبْعَةٍ، اور اسی وجہ سے ان میں سے ہر ایک سات آدمیوں کی طرف سے کافی ہو جاتا ہے۔ ایک اونٹ کے اندر کتنے آدمی قربانی میں شریک ہو سکتے ہیں؟ سات آدمی۔ اسی طرح گائے بیل کے اندر بھی، ایک گائے بیل میں کتنے آدمی شریک ہو سکتے ہیں؟ سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں۔ معلوم ہوا دونوں کیا ہیں؟ بڑے بدن والے ہیں بھئی، کہ دونوں میں سات سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں۔ یہاں تک دلیل سمجھ میں آ گئی؟
اور باقی امام شافعی رحمہ اللہ نے جو حدیث ذکر کی تھی اس کا بھی جواب دے رہے ہیں: وَالصَّحِيحُ مِنَ الرِّوَايَةِ فِي الْحَدِيثِ كَالْمُهْدِي جَزُورًا، جزور کہتے ہیں قربانی کا اونٹ یا اونٹنی جو ہو قربانی کے لیے، اس اونٹ یا اونٹنی کو کیا کہتے ہیں؟ جزور۔ ہم کہتے ہیں کہ آپ نے جو روایت ذکر کی كَالْمُهْدِي بَدَنَةً، صحیح روایتوں کے اندر كَالْمُهْدِي بَدَنَةً کا لفظ نہیں آیا، بلکہ كَالْمُهْدِي جَزُورًا کا لفظ آیا ہے۔ تو بدنہ کی جگہ کیا آیا ہے حدیث میں؟ جزور کا لفظ آیا ہے۔ تو جزور کے مقابلے میں بقرہ ذکر ہوا ہے، بدنہ کے مقابلے میں بقرہ ذکر نہیں ہوا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ وَالصَّحِيحُ مِنَ الرِّوَايَةِ فِي الْحَدِيثِ، اور حدیث میں صحیح روایت کے اندر آیا ہے: كَالْمُهْدِي جَزُورًا، وہ شخص جو ہدی بھیجنے والا ہے اونٹ کی، وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ، اور اللہ ہی درست بات کو خوب جاننے والے ہیں۔ اور بھی اس کے جوابات دیے ہیں علماء نے، بہرحال یہ ایک جواب صاحبِ ہدایہ نے ذکر کر دیا کہ حدیث میں بدنہ کا لفظ نہیں ہے بلکہ صحیح روایتوں میں جزور کا لفظ آیا ہے۔
بَابُ الْقِرَانِ
الْقِرَانُ أَفْضَلُ مِنَ التَّمَتُّعِ وَالْإِفْرَادِ، وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ الْإِفْرَادُ أَفْضَلُ، وَقَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللهُ التَّمَتُّعُ أَفْضَلُ مِنَ الْقِرَانِ
اب حجِ قران کا طریقہ بیان کریں گے۔ بَابُ الْقِرَانِ، یہ باب ہے حجِ قران کے بیان میں۔ تفصیل میں پہلے بیان کر چکا ہوں بھئی۔ کہتے ہیں: الْقِرَانُ أَفْضَلُ مِنَ التَّمَتُّعِ، کہ حجِ قران افضل ہے حجِ تمتع سے، وَالْإِفْرَادِ، اور حجِ افراد سے۔ بھئی ہمارے نزدیک سب سے افضل طریقہ حج کا جو ہے وہ حجِ قران ہے۔ قران یہ تمتع سے بھی افضل اور حجِ افراد سے بھی افضل۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سب سے افضل طریقہ جو ہے حج کا وہ حجِ افراد ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سب سے افضل طریقہ حج کا وہ حجِ تمتع ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ حجِ تمتع ہے۔ یہ اختلاف دراصل مبنی ہے اس بات پر کہ حضور علیہ السلام نے جو حج فرمایا وہ کون سا تھا؟ ہمارے نزدیک حضور علیہ السلام نے حجِ قران فرمایا تھا، اور ظاہر سی بات ہے جب حضور علیہ السلام حجِ قران فرما رہے ہیں تو یہی طریقہ سب سے افضل ہو گا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یقیناً سب سے بہتر طریقے کو اختیار کرنے والے ہیں بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ رہی ہے؟ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے جو حج فرمایا تھا وہ حجِ افراد تھا، اس لیے وہ فرماتے ہیں حجِ افراد سب سے افضل ہے۔ جبکہ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے جو حج فرمایا تھا وہ حجِ تمتع تھا، لہٰذا معلوم ہوا یہ حج سب سے افضل ہے جس کو حضور علیہ السلام نے اختیار کیا بھئی۔ اختلاف کی وجہ سمجھ میں آ گئی؟
تو قران افضل ہے تمتع اور افراد سے، یہ ہمارے نزدیک۔ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ الْإِفْرَادُ أَفْضَلُ، اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں حجِ افراد افضل ہے۔ وَقَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللهُ التَّمَتُّعُ أَفْضَلُ مِنَ الْقِرَانِ، اور امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمتع افضل ہے قران کے مقابلے میں۔ دلیل بھئی، امام مالک رحمہ اللہ کی دلیل، وہ فرماتے ہیں: لِأَنَّ لَهُ ذِكْرًا فِي الْقُرْآنِ وَلَا ذِكْرَ لِلْقِرَانِ فِيهِ، وہ فرماتے ہیں کیونکہ تمتع کا ذکر قرآن میں آیا ہے، وَلَا ذِكْرَ لِلْقِرَانِ فِيهِ، اور قران کا ذکر قرآن میں نہیں۔ اور ظاہر سی بات ہے جس کا ذکر قرآن میں آئے وہ یقیناً افضل ہے باقی دو کی بہ نسبت بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو وہ فرماتے ہیں قرآن میں اس کا ذکر آیا ہے، قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ﴾، ﴿فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ﴾، تو دیکھو حجِ تمتع کا ذکر آیا بھئی، اور قران کا ذکر نہیں بھئی۔
وَلِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ، اور امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل جو ہے: قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے، آپ نے فرمایا: ”الْقِرَانُ رُخْصَةٌ“، قران رخصت ہے۔ قران کیا ہے؟ رخصت ہے۔ اور ایک ہے عزیمت اور ایک ہے رخصت، تو حضور علیہ السلام قران کو رخصت قرار دے رہے ہیں۔ معلوم ہوا افراد کیا ہے؟ وہ عزیمت ہے اور عزیمت اولیٰ ہوتی ہے، کس کے مقابلے میں؟ رخصت کے مقابلے میں۔ جیسے دیکھیے، ایک شخص مسافر ہے، مسافر کو شریعت نے رخصت دی ہے کہ وہ چاہے تو رمضان کا روزہ حالتِ سفر میں نہ رکھے، بعد میں کیا کر لے اس کی؟ قضا کر لے۔ تو یہ چھوڑنا اس کے لیے رخصت ہے، لیکن افضل کیا ہے؟ عزیمت کیا ہے؟ اس کو کیا کرنا چاہیے؟ روزہ رکھنا عزیمت ہے بھئی، اور وہ افضل ہے۔ تو معلوم ہوا عزیمت کیا ہوتی ہے؟ افضل ہوتی ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”الْقِرَانُ رُخْصَةٌ“، قران رخصت ہے، جی یہ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل۔
اور نیز وہ فرماتے ہیں، اور بھی دلیل وہ دیتے ہیں، کہتے ہیں: وَلِأَنَّ فِي الْإِفْرَادِ زِيَادَةَ التَّلْبِيَةِ وَالسَّفَرِ وَالْحَلْقِ، کہ افراد کے اندر تلبیہ، سفر اور حلق کی زیادتی ہے۔ تلبیہ، سفر اور حلق کی زیادتی ہے کس کے اندر؟ حجِ افراد میں، حجِ افراد میں۔ وہ فرماتے ہیں کہ قران میں حج بھی کر رہا ہے اور عمرہ بھی کر رہا ہے، اور افراد میں صرف حج کر رہا ہے۔ لہٰذا، لہٰذا حجِ افراد والا جو تلبیہ کہے گا وہ صرف کس کے لیے ہو گا؟ صرف حج کے لیے۔ اور قران والا جو تلبیہ کہے گا وہ حج کے لیے بھی ہے اور عمرے کے لیے بھی ہے، گویا وہ دونوں کی طرف تقسیم ہو رہا ہے۔ اور کیا افضل ہے کہ تلبیہ دونوں کے لیے ہو یا صرف حج کے لیے الگ تلبیہ ہو وہ افضل ہے؟ ظاہر سی بات ہے ایک تلبیہ صرف حج ہی کے لیے ہے، اور ایک تلبیہ دو چیزوں کے لیے ہے، تو یہ افضل ہے کہ ایک تلبیہ ایک ہی چیز کے لیے ہو بھئی، تقسیم وہاں نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
اور نیز قران والا جو سفر کرتا ہے وہ عمرے اور حج دونوں کے لیے کرتا ہے، جبکہ افراد والا جو سفر کرتا ہے وہ صرف کس کے لیے ہے؟ حج کے لیے۔ ایک چیز، ایک سفر دو چیزوں کے لیے ہو، وہ تو تقسیم ہو جائے گا۔ ادھا ایک کے لیے گویا، ادھا دوسرے کے لیے۔ ویسے صورت بتانے کے لیے سمجھا رہا ہوں، تقسیم آ رہی ہے یا نہیں؟ یا یوں کہو کہ آپ دس روپے ایک ساتھی کو دیتے ہیں، اور ایک صورت کہ آپ دس روپے دو ساتھیوں کو دیتے ہیں، تو دیکھو وہ تقسیم ہو رہے ہیں دس روپے دو ساتھیوں میں۔ اور ایک صورت کیا ہے؟ سارے دس روپے کیا کرتے ہیں آپ؟ ایک ہی ساتھی کو دے رہے ہیں، تو کس میں اس کا فائدہ زیادہ ہے؟ ظاہر سی بات ہے کہ سارا کیا ہو؟ ایک کے لیے ہی ہو۔ تو یہاں پر بھی ایک سفر ہے صرف حج کے لیے اور وہ حجِ افراد میں ہے، اور ایک سفر ہے دونوں کے لیے وہ کس کے اندر ہے؟ حجِ قران کے اندر۔ تو کون سا افضل ہوا؟ حجِ افراد کا، کیونکہ وہ سفر صرف حج کے لیے ہے۔
اور حلق یعنی سر کا منڈوانا استرے سے، استرے سے سر کے بال صاف کروانا۔ قران کے اندر آخر میں جا کر کیا کرے گا؟ سر استرے سے صاف کرے گا، اور یہ حجِ قران میں یہ سر کا منڈوانا حج کے احرام سے حلال ہونے کے لیے بھی ہے اور عمرے کے احرام سے حلال ہونے کے لیے بھی ہے۔ تو ایک ہی حلق ہوا کس کے لیے؟ دو احراموں کے لیے۔ اور حجِ افراد میں جو حلق ہوا وہ صرف کس کے احرام سے حلال ہونے کے لیے ہے؟ حج کے احرام سے حلال ہونے کے لیے ہے، تو وہاں تقسیم نہیں۔ تو معلوم ہوا کہ حجِ افراد کیا ہے؟ افضل ہے، کیونکہ اس میں تلبیہ بھی زائد صرف حج کے لیے، سفر بھی زائد کہ صرف کس کے لیے ہے؟ حج کے لیے، اور حلق بھی زائد کہ صرف کس کے لیے ہے؟ حج کے لیے ہے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟
وَلَنَا، اور ہماری دلیل قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے، آپ نے فرمایا: ”يَا آلَ مُحَمَّدٍ، أَهِلُّوا بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مَعًا“، اے آلِ محمد! اے آلِ محمد، یعنی اے محمد کے خاندان والو! ”أَهِلُّوا بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مَعًا“، تم احرام باندھو حج اور عمرے دونوں کا۔ أَهَلَّ يُهِلُّ إِهْلَالٌ کا معنی ہوتا ہے آواز بلند کرنا، یعنی تلبیہ کے ساتھ آواز بلند کرنا مراد ہے۔ حاجی بھی کیا کرتا ہے جب احرام باندھتا ہے تو تلبیہ بلند آواز سے کہتا ہے، تو یہاں کیا مراد ہے؟ آواز بلند کرنا کس کے ساتھ؟ تلبیہ کے ساتھ۔ تو حضور علیہ السلام اپنے خاندان والوں سے کیا فرما رہے ہیں؟ بھئی یاد رکھو، یہ آل کا لفظ آیا، آل۔ شاید میں نے شروع میں ذکر کیا ہو۔ تو یہ آل کا لفظ جو ہے نا آل، یہ کئی معانی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ آل سے مراد ہیں گھر والے، اسی طرح آل کا معنی خاندان والے بھی آتا ہے، اور اسی طرح آل کا معنی متبعین جو ہیں حضور علیہ السلام کی جو اتباع کرنے والے ہیں، تو موقع محل کے مطابق جو مناسب معنی ہو وہ کیا جاتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تفصیل دیکھنی ہو تو اس کے لیے والد صاحب مولانا محمد موسیٰ روحانی بازی رحمہ اللہ ان کی کتاب ہے "النهج السهل إلى مباحث الآل والأهل"، آل اور اہل کی مباحث ہیں، اور مکمل تفصیل وہاں مل جائے گی آپ کو بھئی۔ تو یہاں پر خاندان کا، اس کا ترجمہ خاندان کے کریں یہ مناسب بنتا ہے۔ ”يَا آلَ مُحَمَّدٍ“، اے محمد کے خاندان والو! یہ حضور علیہ السلام فرما رہے ہیں اپنے خاندان والوں سے، اے آلِ محمد، اے محمد کے خاندان والو! ”أَهِلُّوا بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مَعًا“، تم تلبیہ کہو حج اور عمرے دونوں کا اکٹھے ہی۔ دونوں کا اکٹھے ہی تلبیہ کہو۔ معلوم ہوا حضور علیہ السلام کس حج کا حکم دے رہے ہیں؟ حجِ قران کا، کہ حج اور عمرے کا اکٹھا تلبیہ کہو اور یہ حجِ قران میں ہوتا ہے۔ معلوم ہوا حجِ قران افضل ہے جب ہی حضور علیہ السلام اپنے خاندان والوں کو دونوں کا حکم دے رہے ہیں۔
وَلِأَنَّ فِيهِ جَمْعًا بَيْنَ الْعِبَادَتَيْنِ، اور نیز اس لیے کیونکہ قران کے اندر دو عبادتوں کا جمع کرنا ہے۔ قران میں حج بھی ہے اور عمرہ بھی ہے، اور حجِ افراد میں صرف کیا ہے؟ صرف حج ہے، اور ایک عبادت کے بجائے دو عبادتوں کا ہونا افضل ہے۔ فَأَشْبَهَ الصَّوْمَ مَعَ الِاعْتِكَافِ، وَالْحِرَاسَةَ فِي سَبِيلِ اللهِ مَعَ صَلَاةِ اللَّيْلِ، تو یہ مشابہ ہو گیا وہ روزہ جو اعتکاف کے ساتھ ہو، وَالْحِرَاسَةَ فِي سَبِيلِ اللهِ، اور وہ پہرہ داری اللہ کے راستے میں، مَعَ صَلَاةِ اللَّيْلِ، جو رات کی نماز کے ساتھ ہو یعنی تہجد کے ساتھ ہو۔ بھئی ایک ہے عام روزہ، اور ایک ہے روزہ مع اعتکاف۔ ظاہر سی بات ہے، کون سی صورت افضل ہے؟ روزے کے ساتھ اعتکاف بھی ہو۔ اسی طرح ایک شخص جہاد پر گیا اور وہاں پر وہ مجاہدین رات کے وقت کیا کرتا ہے؟ ان مجاہدین کی حفاظت کرتا ہے، ہاں رات کے وقت پہرہ دیتے ہیں جو، تو ایک ہے رات کو ویسے صرف پہرہ دینا، وہ بھی عظیم عبادت، لیکن ایک ہے پہرے کے ساتھ ساتھ وہ تہجد بھی پڑھ لیتا ہے، تو کون سی صورت افضل ہے؟ کہ پہرے کے ساتھ تہجد بھی ہو۔ تو کیونکہ یہاں دو عبادتیں آ گئیں، جیسے روزے اور اعتکاف کی صورت میں دو عبادتیں آ گئیں اور یہ ظاہر سی بات ہے کہ ایک عبادت کے مقابلے میں دو عبادتیں افضل ہیں، تو حجِ قران میں بھی اسی طرح ہے، حج اور عمرہ دونوں ہیں، دو عبادتیں ہیں، تو یہ حجِ افراد کے مقابلے میں افضل ہے کیونکہ دو عبادتیں اس میں آ گئیں۔ فَأَشْبَهَ الصَّوْمَ مَعَ الِاعْتِكَافِ، تو یہ مشابہ ہوا اس روزے کے جو اعتکاف کے ساتھ ہو، وَالْحِرَاسَةَ فِي سَبِيلِ اللهِ مَعَ صَلَاةِ اللَّيْلِ، اور یہ مشابہ ہوا اللہ کے راستے میں اس پہرہ داری کے مَعَ صَلَاةِ اللَّيْلِ جو کس کے ساتھ ہو؟ تہجد کی نماز کے ساتھ ہو۔
وَالتَّلْبِيَةُ غَيْرُ مَحْصُورَةٍ، امام شافعی رحمہ اللہ نے کیا ذکر فرمایا تھا کہ حجِ افراد افضل کیونکہ اس میں تلبیہ بھی زیادہ صرف حج کے لیے، اور نیز اس کے اندر سفر بھی زیادہ، اور نیز اس کے اندر حلق بھی زیادہ۔ اس کا جواب دے رہے ہیں کہ کہتے ہیں: وَالتَّلْبِيَةُ غَيْرُ مَحْصُورَةٍ، اور تلبیہ وہ تو غیر محصور ہے یعنی اس کی تو کوئی حد نہیں۔ حصر کا معنی ہے بند کرنا، بند کرنا۔ محصور، بند کیا ہوا یعنی جس کی کوئی خاص تعداد مقرر ہو، بند ہو۔ تو کہتے ہیں تلبیہ تو غیر محصور ہے، اس کی تو کوئی حد نہیں ہے۔ لہٰذا وہ تو حجِ قران والے کو کیا کرنا چاہیے؟ وہ حجِ افراد کرنے والے کے مقابلے میں وہ زیادہ تلبیہ کہنا چاہیے اس کو بھئی۔ تو اس کی تو کوئی حد نہیں ہے، جتنا زیادہ کہنا چاہے کہہ سکتا ہے۔ لہٰذا حجِ قران کرنے والے کو کیا کرنا چاہیے؟ حجِ افراد کے کرنے والے کے مقابلے میں زیادہ تلبیہ کہنا چاہیے، تو اس سے تو مسئلہ حل ہو جائے گا۔ اور نیز آپ نے کیا کہا؟ سفر زیادہ ہے، ہم کہتے ہیں سفر تو وسیلہ ہے حج تک، حج کرنے کا۔ سفر تو حج کرنے کا وسیلہ ہے، سفر خود مقصود نہیں ہے بلکہ سفر کے ذریعے مقصود کیا ہے؟ حج ہے۔ لہٰذا سفر کی زیادتی سے حجِ افراد کی فضیلت ثابت نہیں ہوتی۔ اور نیز آپ نے کیا کہا؟ حلق زائد ہے اس کے اندر، ہم کہتے ہیں حلق بھی جو کیا جاتا ہے وہ تو احرام سے نکلنے کے لیے ہے، وہ تو عبادت سے نکلنے کے لیے ہے، لہٰذا اس کو بھی فضیلت کی وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: وَالتَّلْبِيَةُ غَيْرُ مَحْصُورَةٍ وَالسَّفَرُ غَيْرُ مَقْصُودٍ وَالْحَلْقُ خُرُوجٌ عَنِ الْعِبَادَةِ فَلَا يَتَرَجَّحُ بِمَا ذَكَرَ، کہ تلبیہ جو ہے اس کی تو کوئی حد مقرر نہیں ہے، اور سفر وہ تو غیر مقصود ہے، وَالْحَلْقُ خُرُوجٌ عَنِ الْعِبَادَةِ، اور حلق جو ہے وہ تو عبادت سے نکلنا ہے، فَلَا يَتَرَجَّحُ، حجِ افراد ترجیح نہیں پا سکتا، بِمَا ذَكَرَ، ان چیزوں کی وجہ سے جس کو کس نے ذکر کیا؟ امام شافعی رحمہ اللہ نے ذکر کیا۔
وَالْمَقْصُودُ بِمَا رَوَى نَفْيُ قَوْلِ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ: إِنَّ الْعُمْرَةَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ مِنْ أَفْجَرِ الْفُجُورِ، بھئی امام شافعی رحمہ اللہ نے حدیث بھی تو ذکر کی تھی کہ حضور علیہ السلام نے کیا فرمایا ہے کہ ”الْقِرَانُ رُخْصَةٌ“، کہ حجِ قران رخصت ہے۔ تو ہم کہتے ہیں کہ اس حدیث کے ذریعے دراصل مقصد یہ ہے کہ اہلِ جاہلیت کا ایک قول تھا، وہ ایک بات کہا کرتے تھے، اور وہ یہ، وہ کہتے تھے کہ حج کے مہینوں میں یعنی شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ، ان کے ان مہینوں میں عمرہ کرنا بدترین گناہ ہے۔ وہ کہتے تھے ان مہینوں میں عمرہ کر ہی نہیں سکتے، بلکہ کیا کرنا پڑے گا صرف؟ حج کرنا پڑے گا۔ تو ان مہینوں میں عمرہ کرنا بدترین گناہ ہے۔ تو حضور علیہ السلام ان کا رد کرتے ہوئے فرما رہے ہیں: ”الْقِرَانُ رُخْصَةٌ“، کہ قران کیا ہے؟ رخصت ہے، یعنی اس کی ہمیں رخصت دے دی گئی ہے اللہ کی طرف سے، اجازت دے دی گئی ہے۔ ہم اشہرِ حج ہی میں، حج کے ساتھ ساتھ کیا کر سکتے ہیں؟ عمرہ بھی کر سکتے ہیں۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو ہم کہتے ہیں: وَالْمَقْصُودُ بِمَا رَوَى نَفْيُ قَوْلِ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ، اور مقصود اس حدیث کے ذریعے جس کو امام شافعی رحمہ اللہ نے روایت کیا وہ نفی کرنا ہے جاہلیت والوں کے اس قول کی، وہ یہ کہتے تھے: إِنَّ الْعُمْرَةَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ مِنْ أَفْجَرِ الْفُجُورِ، کہ عمرہ جو ہے حج کے مہینوں میں یہ بدترین گناہ ہے۔
وَلِلْقِرَانِ ذِكْرٌ فِي الْقُرْآنِ، اب امام مالک رحمہ اللہ کی دلیل کا بھی جواب دے رہے ہیں۔ انہوں نے کیا ذکر کیا تھا؟ کہ حجِ تمتع افضل ہے کیونکہ اس کا ذکر قرآن میں ہے اور حجِ قران کا ذکر قرآن میں نہیں ہے۔ ہم کہتے ہیں حجِ قران کا ذکر بھی ہے قرآن میں۔ دیکھیے آگے ذکر فرما رہے ہیں کہاں پر اللہ اس کا ذکر فرماتے ہیں۔ کہتے ہیں: وَلِلْقِرَانِ ذِكْرٌ فِي الْقُرْآنِ، اور قران کا ذکر بھی قرآن میں ہے، لِأَنَّ الْمُرَادَ مِنْ قَوْلِهِ تَعَالَى، اس لیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اس قول سے مراد جو ہے، یہ جو قول ہے: ﴿وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ﴾، کہ تم لوگ پورا کرو حج اور عمرے کو اللہ کے لیے، ہم کہتے ہیں اللہ کے اس قول سے مراد: أَنْ يُحْرِمَ بِهِمَا مِنْ دُوَيْرَةِ أَهْلِهِ، کہ وہ حج کرنے والا احرام باندھے ان دونوں کا، حج اور عمرے دونوں کا احرام باندھے، مِنْ دُوَيْرَةِ أَهْلِهِ، اپنے اہلِ و عیال کے گھر سے ان دونوں کا احرام باندھے، عَلَى مَا رَوَيْنَا مِنْ قَبْلُ، بوجہ اس کے جس کو ہم نے روایت کر دیا پہلے۔ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں: ﴿وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ﴾، اس کا کیا معنی ہے؟ کہ دونوں حج اور عمرے کا دونوں کا احرام باندھا جائے، کہاں سے باندھا جائے؟ اپنے اہلِ و عیال کے گھر سے۔ اور اپنے اہلِ و عیال کے گھر سے جب دونوں کا احرام باندھا جائے یہ کون سا حج ہوتا ہے؟ یہ حجِ قران ہوتا ہے۔ تو معلوم ہوا یہاں کس کا ذکر کیا جا رہا ہے؟ حجِ قران کا، معلوم ہوا اس کا بھی ذکر قرآن میں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
ثُمَّ فِيهِ تَعْجِيلُ الْإِحْرَامِ وَاسْتِدَامَةُ إِحْرَامِهِمَا مِنَ الْمِيقَاتِ إِلَى أَنْ يَفْرُغَ مِنْهُمَا، وَلَا كَذَلِكَ التَّمَتُّعُ، فَكَانَ الْقِرَانُ أَوْلَى مِنْهُ، جوابات سب کے گزر گئے۔ اب وجہِ ترجیح بھی ذکر کر رہے ہیں۔ بھئی قران حجِ افراد سے تو افضل ہے، یہ تو دلیلیں گزر گئیں۔ ان جوابات کے ضمن میں ہی کیا آ گئیں؟ دلیلیں آ گئیں کہ افراد میں ایک عبادت ہے اور قران میں دو عبادتیں ہیں، اور ظاہر سی بات ہے کہ دو عبادتیں کیا ہیں؟ ایک عبادت کے مقابلے میں افضل۔ باقی تیسرا طریقہ تھا حج کا حجِ تمتع، اس سے بھی یہ حجِ قران افضل ہے۔ اس لیے کیونکہ حجِ تمتع والا گھر سے عمرے کا احرام باندھ کر چلتا ہے اور حج کا احرام بعد میں باندھتا ہے، آٹھویں کو یا آٹھویں کے قریب باندھ لیتا ہے۔ آٹھویں ذوالحجہ کو یا آٹھویں کے قریب وہ حج کا احرام باندھتا ہے۔ اور حجِ قران میں گھر سے ہی حج اور عمرے کا احرام باندھتا ہے، تو یہاں حج کا احرام دیکھو جلدی شروع ہو گیا، جلدی شروع ہو گیا۔ اور نیز تمتع میں عمرہ کرنے کے بعد پھر حلال ہو جاتا ہے اور کچھ روز جو مکہ میں گزارتا ہے راحت سے گزارتا ہے، کوئی پابندی نہیں ہوتی احرام کی۔ خوشبو بھی لگا سکتا ہے، بال بھی کاٹ سکتا ہے، ناخن بھی کاٹ سکتا ہے، بیوی بھی حلال ہے۔ تو دیکھو اس میں کوئی پابندی نہیں۔ اور حجِ قران میں شروع سے جو احرام باندھا ہے وہ حج اور عمرے دونوں کا ہے، تو حج کا بھی ہوا، لہٰذا بیچ میں وہ حلال نہیں ہوتا، عمرہ کر کے حلال نہیں ہوتا، بلکہ جب حج پورا کر لے گا بالکل آخر میں، پھر جا کر کیا ہو گا؟ وہ دونوں احراموں سے حلال۔ تو اس کے اندر دیکھو احرام کا دوام بھی زیادہ ہے، پابندی زیادہ ہے۔ جب پابندی زیادہ ہے معلوم ہوا اس میں مشقت زیادہ ہے، اور ظاہر سی بات ہے ایک وہ عبادت جس میں مشقت کم ہو، ایک وہ عبادت جس میں مشقت زیادہ ہو، کون سی عبادت افضل ہے؟ جس میں مشقت زیادہ ہو بھئی۔ اس وجہ سے معلوم ہوا حجِ قران تمتع کے مقابلے میں بھی افضل ہے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: ثُمَّ فِيهِ تَعْجِيلُ الْإِحْرَامِ، پھر حجِ قران کے اندر احرام کو جلدی کرنا ہے یعنی احرام کو جلدی باندھنا ہے، وَاسْتِدَامَةُ إِحْرَامِهِمَا مِنَ الْمِيقَاتِ، استدامت کا معنی دائم رہنا، مسلسل رہنا، اور مسلسل ان دونوں کے احرام کا باقی رہنا ہے، مِنَ الْمِيقَاتِ، میقات سے لے کر، إِلَى أَنْ يَفْرُغَ مِنْهُمَا، یہاں تک کہ وہ ان دونوں سے یعنی حج اور عمرے سے فارغ ہو جائے، وَلَا كَذَلِكَ التَّمَتُّعُ، اور تمتع تو ایسا نہیں ہے، اس میں تو احرام جلدی بھی نہیں ہوتا حج کا، اور نیز اس میں تو احرام مسلسل بھی نہیں رہتا، فَكَانَ الْقِرَانُ أَوْلَى مِنْهُ، تو قران جو ہے تمتع سے اولیٰ ہے، اس سے افضل ہے، بہتر ہے۔
وَقِيلَ: الِاخْتِلَافُ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ بِنَاءً عَلَى أَنَّ الْقَارِنَ عِنْدَنَا يَطُوفُ طَوَافَيْنِ، اچھا بھئی، بعض علماء نے یہ ذکر کیا کہ ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا جو اختلاف ہے، ہمارے نزدیک قران افضل اور ان کے نزدیک افراد افضل ہے، اس اختلاف کی وجہ دراصل یہ ہے کہ ہمارے نزدیک حجِ قران کرنے والا دو طواف کرتا ہے اور دو ہی سعی کرتا ہے۔ دو طواف کرتا ہے اور دو سعی۔ ایک طواف عمرے کا اور ایک سعی کس کی؟ عمرے کی، پھر ایک طواف حج کا اور ایک سعی کس کی؟ حج کی، تو دو طواف اور دو سعی کرتا ہے۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ جو ہیں ان کے نزدیک یہاں پر تداخل ہو جاتا ہے۔ عمرے اور حج کا جو طواف ہے ان میں تداخل ہو جاتا ہے، ایک ہی طواف دونوں کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ اسی طرح عمرے کی سعی ہے اور حج کی سعی ہے، ان دونوں میں بھی کیا ہو جاتا ہے؟ تداخل، تو ایک ہی سعی کافی ہو جاتی ہے عمرے کے لیے بھی اور حج کے لیے بھی۔ تو ہمارے نزدیک حجِ قران والا دو طواف کرتا ہے اور دو سعی، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک حجِ قران والا ایک طواف کرتا ہے اور ایک ہی سعی بھئی۔ تو اس وجہ سے اختلاف ہے۔ ہمارے نزدیک چونکہ دو طواف اور دو سعی ہیں، یہ افضل ہیں حجِ افراد کے مقابلے میں جس میں ایک طواف اور ایک سعی ہوتی ہے۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک حجِ افراد افضل ہے، اس لیے کیونکہ وہ فرماتے ہیں کہ حجِ افراد میں جو ایک طواف اور ایک سعی کی وہ صرف حج کے لیے، اور حجِ قران میں بھی ایک ہی طواف ہے اور ایک ہی سعی ہے لیکن یہ حج اور عمرے دونوں کے لیے ہے۔ تو ایک وہ طواف اور سعی ہے جو صرف حج کے لیے ہو، ایک وہ طواف اور سعی ہے جو حج اور عمرے دونوں کے لیے ہو، اور ظاہر سی بات ہے کہ وہ صورت افضل ہے جس میں طواف اور سعی صرف کس کے لیے ہو؟ حج کے لیے ہو، جہاں تقسیم لازم نہ آئے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اس وجہ سے وہ حجِ افراد کو ترجیح دیتے ہیں، کیونکہ ان کے ہاں حجِ قران میں ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی ہے۔ اور ہم اس لیے حجِ قران کو افضل کہتے ہیں کیونکہ ہمارے نزدیک حجِ افراد میں تو ایک طواف اور ایک سعی ہے لیکن حجِ قران میں دو طواف اور دو سعی ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: وَقِيلَ: الِاخْتِلَافُ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ، اور کہا گیا ہے کہ ہمارے اور امام شافعی رحمہ اللہ کے درمیان جو اختلاف ہے، بِنَاءً، وہ اس بنا پر ہے، اس وجہ سے ہے، عَلَى أَنَّ الْقَارِنَ عِنْدَنَا يَطُوفُ طَوَافَيْنِ وَيَسْعَى سَعْيَيْنِ، کہ قارن جو ہے ہمارے نزدیک وہ دو طواف کرتا ہے اور دو سعی کرتا ہے، وَعِنْدَهُ طَوَافًا وَاحِدًا وَسَعْيًا وَاحِدًا، اور ان کے نزدیک ایک ہی طواف کرتا ہے اور ایک ہی سعی کرتا ہے۔
قَالَ: وَصِفَةُ الْقِرَانِ، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں اور قران کی صفت یعنی قران کا طریقہ جو ہے وہ یہ ہے: أَنْ يُهِلَّ بِالْعُمْرَةِ وَالْحَجِّ مَعًا مِنَ الْمِيقَاتِ، کہ حاجی جو ہے وہ تلبیہ کہے عمرے اور حج کا اکٹھا ہی، مِنَ الْمِيقَاتِ، کہاں سے؟ میقات سے، وَيَقُولُ عَقِيبَ الصَّلَاةِ، اور نماز کے بعد کہے۔ کون سی نماز بھئی؟ ہاں احرام کی دو چادریں باندھ لیں، پھر دو رکعت سنت پڑھ لیے، اس کے بعد کیا یوں کہے بھئی وہ، اس کے بعد وہ یوں کہے: ”اللَّهُمَّ إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَيَسِّرْهُمَا لِي وَتَقَبَّلْهُمَا مِنِّي“، اے اللہ! میں حج اور عمرے دونوں کا ارادہ کرتا ہوں، تو اے اللہ آپ ان دونوں کو میرے لیے آسان فرما دیجیے اور ان دونوں کو میری طرف سے قبول فرما لیجیے۔ تو دونوں کا احرام باندھتا ہے شروع سے ہی۔ لِأَنَّ الْقِرَانَ هُوَ الْجَمْعُ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، اس لیے کیونکہ قران جو ہے وہ جمع کرنا ہے حج اور عمرے کے بیچ بھئی، ان دونوں کو جمع کرنا ہے، مِنْ قَوْلِكَ، اور یہ آپ کے اس قول سے ماخوذ ہے: ”قَرَنْتُ الشَّيْءَ بِالشَّيْءِ“، آپ عربی زبان میں کہتے ہیں: ”قَرَنْتُ الشَّيْءَ بِالشَّيْءِ“، کب کہتے ہیں؟ ”إِذَا جَمَعْتَ بَيْنَهُمَا“، جب آپ دو چیزوں کو جمع کر دیں۔ جب آپ دو چیزوں کو ملا دیں تو پھر عربی زبان میں کیسے کہیں گے؟ ”قَرَنْتُ الشَّيْءَ بِالشَّيْءِ“، میں نے ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ ملا دیا، جمع کر دیا۔ تو یہاں پر بھی کیا کیا گیا، اس احرام کے اندر حج اور عمرے کو جمع کر دیا گیا، تو اس لیے اس کو حجِ قران کہتے ہیں۔
وَكَذَا إِذَا أَدْخَلَ حَجَّةً عَلَى عُمْرَةٍ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ لَهَا أَرْبَعَةَ أَشْوَاطٍ، صورت یہ کہ ایک آدمی نے اشہرِ حج میں، حج کے مہینوں میں عمرہ کیا، اور عمرے کے افعال کیا کیا ہوتے ہیں میں تفصیل بیان کر چکا ہوں۔ طواف کرنا ہے اور اس کے بعد سعی کرنی ہے اور اس کے بعد پھر بال کٹوا کر حلال ہو جائے گا۔ تو ایک آدمی نے حج کے مہینوں میں عمرہ شروع کیا، اور طواف شروع کر دیا۔ اور طواف میں کل کتنے چکر لگائے جاتے ہیں بیت اللہ کے؟ سات چکر۔ اور سات میں سے ابھی چار چکر کم از کم باقی ہیں۔ سات میں سے؟ کیونکہ سات کا سات میں سے چار ہوں، یہ چار اکثر ہیں، زیادہ ہیں یعنی سب سے زیادہ۔ اور آپ پڑھ چکے ہیں: ”لِلْأَكْثَرِ حُكْمُ الْكُلِّ“، اکثر شے کے لیے کل کا حکم ہوتا ہے بھئی، کل کا حکم ہوتا ہے۔ لہٰذا اس شخص نے طواف شروع کر دیا لیکن ابھی اکثر طواف باقی ہے، یعنی کم از کم کتنا باقی ہے؟ چار طواف باقی ہے۔ چاہے اس نے ابھی ایک چکر لگایا ہو، چاہے دو لگائے ہوں، چاہے تین لگائے ہوں، ابھی کتنے باقی ہیں؟ اکثر طواف کے چکر باقی ہیں۔ اور اسی دوران وہ نیت کر لیتا ہے حج کی بھی، کر کیا رہا ہے؟ عمرہ، اور عمرے کا احرام باندھا ہوا ہے۔ اور اسی دوران وہ کس کی نیت کر لیتا ہے؟ حج کی بھی نیت کر لیتا ہے، تو یاد رکھیے اس صورت میں بھی اب یہ اس کا حج حجِ قران بن جائے گا بھئی۔ کیا بن جائے گا؟ حجِ قران بن جائے گا۔ اس لیے کیونکہ ابھی عمرے کا اکثر حصہ باقی، اور جب اکثر باقی تو گویا ”لِلْأَكْثَرِ حُكْمُ الْكُلِّ“، گویا کل عمرہ ہی ابھی باقی ہے۔ اور اس سے پہلے ہی اس نے کیا کر لیا؟ حج کی بھی نیت کر لی، تو یہ احرام حج اور عمرے دونوں کا ہو گیا، اور حج اور عمرے دونوں کا احرام ہو تو اس حج کو کیا کہتے ہیں؟ حجِ قران کہتے ہیں۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: وَكَذَا إِذَا أَدْخَلَ حَجَّةً عَلَى عُمْرَةٍ، اور اسی طرح ہے مسئلہ جب کوئی شخص داخل کر دے حج کو عمرے پر، کس پر داخل کر دے؟ عمرے پر، قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ لَهَا أَرْبَعَةَ أَشْوَاطٍ، قبل اس کے کہ وہ طواف کرے عمرے کے لیے چار چکر، یعنی چار چکر پورے کرنے سے پہلے پہلے اس نے حج کو بھی داخل کر دیا عمرے میں۔ لِأَنَّ الْجَمْعَ قَدْ تَحَقَّقَ، اس لیے کیونکہ جمع کرنا تحقیق پایا گیا۔ کہ ایک ہی احرام میں حج بھی جمع ہو گیا اور عمرہ بھی جمع۔ إِذِ الْأَكْثَرُ مِنْهَا قَائِمٌ، اس لیے کیونکہ اکثر جو ہے وہ عمرے میں سے قائم ہے، ابھی بھی موجود ہے یعنی باقی ہے اس کے ذمے۔ وَمَتَى عَزَمَ عَلَى أَدَائِهِمَا، اور جب وہ ارادہ کر لے ان دونوں کی ادائیگی کا، فَيَسْأَلُ التَّيْسِيرَ فِيهِمَا، تو وہ اللہ سے دعا کرے ان دونوں میں آسانی کی بھئی، آسانی کی دعا کرے بھئی۔ وَقَدَّمَ الْعُمْرَةَ عَلَى الْحَجِّ فِيهِ، اور مقدم کرے عمرے کو حج پر اس صورت میں۔ کیا کرے؟ عمرے کو حج پر مقدم کرے، کیونکہ یہ حجِ قران بن گیا اور حجِ قران میں کیا ہوتا ہے؟ عمرہ پہلے ہوتا ہے اور حج بعد میں ہوتا ہے۔
وَكَذَلِكَ يَقُولُ لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ مَعًا، اور اسی طرح وہ شخص یوں کہے، تلبیہ کہنے لگا نا تلبیہ، تلبیہ کہنے لگا، احرام کی چادریں باندھ لیں، اور دو رکعت جو سنت ہے وہ بھی پڑھ لیے، اور اب نیت کرنے لگا ہے اور تلبیہ کہنے لگا ہے تو تلبیہ یوں کہے۔ وَكَذَلِكَ يَقُولُ، اور یوں کہے: ”لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ مَعًا“، وہاں تو کیا کہتا تھا حجِ افراد میں؟ ”لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ“، لیکن یہاں کس طرح کہے؟ ”لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ مَعًا“، کہ عمرہ اور حج دونوں کا اکٹھا ہی لبیک، یعنی دونوں کے لیے میں کیا کہتا ہوں؟ تلبیہ کہتا ہوں، دونوں کے لیے اے اللہ میں حاضر ہوں۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ ”لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ مَعًا“، کہ حج اور عمرے دونوں کا اکٹھا ہی میں لبیک کہتا ہوں یعنی اے اللہ ان کے دونوں کے لیے اکٹھا ہی میں حاضر ہوں۔
لِأَنَّهُ يَبْدَأُ بِأَفْعَالِ، یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں کہ ”لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ مَعًا“، لفظوں پر توجہ ہے بھئی؟ اس میں عمرے کا لفظ پہلے آیا اور حج کا ذکر بعد میں آیا بھئی۔ یہ کیا وجہ عمرے کو پہلے کیوں ذکر کیا؟ بتلا رہے ہیں بھئی اس لیے کیونکہ عمرہ پہلے کیا جاتا ہے لہٰذا اس کو پہلے ذکر کرے اور حج کو بعد۔ لیکن اگر کوئی اس کا عکس کر دیتا ہے، حج کو پہلے ذکر کرتا ہے اور عمرے کو بعد میں اور یوں کہتا ہے: ”لَبَّيْكَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مَعًا“، تو بھی کوئی حرج نہیں۔ اس لیے کیونکہ درمیان میں واؤ آیا اور واؤ صرف جمع کا فائدہ دیتا ہے۔ ”جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو“، آیا میرے پاس زید اور عمرو، کون پہلے آیا؟ کوئی تفصیل نہیں اس کلام کے اندر، کیونکہ درمیان میں واؤ آیا۔ اس کلام نے صرف اتنا فائدہ دیا اور یہ بتلا دیا کہ میرے پاس زید بھی آیا ہے اور میرے پاس عمرو بھی آیا ہے۔ ”جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو“، زید کا لفظ پہلے ہے، عمرو کا لفظ بعد میں ہے، لیکن اس کا یہ معنی نہیں کہ زید پہلے آیا ہو اور عمرو بعد میں آیا ہو تبھی یہ کہہ سکتے ہیں، بلکہ جو بھی صورت ہوئی، چاہے حقیقت میں زید پہلے آیا ہو اور عمرو بعد میں، پھر بھی آپ کہہ سکتے ہیں ”جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو“۔ چاہے دونوں بالکل اکٹھے آئے تب بھی آپ کہہ سکتے ہیں ”جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو“۔ عمرو پہلے آیا ہو اور زید بعد میں آیا ہو لیکن لفظوں میں آپ پھر بھی زید کو مقدم کر کے کہہ سکتے ہیں ”جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو“، کیونکہ واؤ صرف کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ جمع کا فائدہ دیتا ہے، جیسے کہ آپ علمِ نحو کے اندر اور اسی طرح اصولِ فقہ کے اندر آپ پڑھ چکے ہیں تفصیل بھئی۔ تو لہٰذا تقدیم و تاخیر سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ يَبْدَأُ بِأَفْعَالِ الْعُمْرَةِ فَكَذَلِكَ يَبْدَأُ بِذِكْرِهَا، اس لیے کیونکہ یہ شخص جو ہے وہ ابتدا کرتا ہے عمرے کے افعال کے ساتھ تو اسی طرح ابتدا کرے گا عمرے کے ذکر کے ساتھ، وَإِنْ أَخَّرَ ذَلِكَ فِي الدُّعَاءِ وَالتَّلْبِيَةِ لَا بَأْسَ بِهِ، اور اگر اس نے مؤخر کر دیا عمرے کو دعا میں اور تلبیہ کے اندر لَا بَأْسَ بِهِ تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، لِأَنَّ الْوَاوَ لِلْجَمْعِ، اس لیے کیونکہ واؤ جو درمیان میں آیا ”بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ“، یہ جو واؤ درمیان میں آیا لِلْجَمْعِ یہ کس لیے ہے؟ جمع کے لیے ہے بھئی۔
وَلَوْ نَوَى بِقَلْبِهِ، بھئی صورت یہ، ایک شخص ہے اس نے اس نے حجِ قران کا ارادہ کیا، لیکن تلبیہ وہی پڑھا ”لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ“، یہ لفظ اس نے نہیں کہے ”لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ مَعًا“، تو کہتے ہیں کوئی حرج نہیں۔ دل سے ارادہ کر لیا تو کافی ہے، زبان سے کہنا ضروری نہیں، جیسے نماز کے لیے۔ زبان سے نیت نہیں کہتا، صرف دل سے نیت کر لیتا ہے تو یہ کافی ہے یا کافی نہیں ہے؟ کافی ہے، تو یہاں پر بھی جب دل سے نیت ہے تو وہ کافی ہے اگرچہ زبان سے نہ کہے۔ یہ معنی: وَلَوْ نَوَى بِقَلْبِهِ، اور اگر اس نے نیت کی دل سے، وَلَمْ يَذْكُرْهُمَا فِي التَّلْبِيَةِ، اور ان دونوں کو اس نے ذکر نہیں کیا تلبیہ کے اندر، أَجْزَأَهُ، تو یہ بھی اس کے لیے کافی ہے، اعْتِبَارًا بِالصَّلَاةِ، قیاس کرتے ہوئے نماز پر۔
چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔