”وَلَا يَخْرُجُ مِنَ الْمَسْجِدِ إِلَّا لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ أَوِ الْجُمُعَةِ، أَمَّا الْحَاجَةُ فَلِحَدِيثِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا: كَانَ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَا يَخْرُجُ مِنْ مُعْتَكَفِهِ إِلَّا لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ، وَلِأَنَّهُ مَعْلُومٌ وُقُوعُهَا وَلَا بُدَّ مِنَ الْخُرُوجِ فِي تَقْضِيَتِهَا فَيَصِيرُ الْخُرُوجُ لَهَا مُسْتَثْنًى“.
جی اعتکاف کا بیان چل رہا ہے اور آپ نے پڑھا اعتکاف جو ہے وہ مسجد کے اندر ٹھہرنا روزے کے ساتھ اور اعتکاف کی نیت کے ساتھ بھئی، اعتکاف کی نیت کے ساتھ۔ اور یہ بھی آپ نے پڑھ لیا کہ مرد کا اعتکاف مسجد میں ہوگا جبکہ عورت کا اعتکاف گھر میں ہوگا بھئی، گھر کے اندر۔
جی آگے بتلا رہے ہیں: ”وَلَا يَخْرُجُ مِنَ الْمَسْجِدِ إِلَّا لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ أَوِ الْجُمُعَةِ“ اور نہیں نکل سکتا مسجد سے ”إِلَّا لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ“ مگر انسانی حاجت کے لیے یعنی انسانی ضرورت کے لیے، اس سے مراد پیشاب وغیرہ کی ضرورت ہے بھئی۔ صرف اس کے لیے مسجد سے نکل سکتا ہے۔ ”أَوِ الْجُمُعَةِ“ یا جمعے کے لیے، ان دو ضرورتوں کے لیے نکل سکتا ہے۔ باقی اگر کسی اور ضرورت کے لیے وہ نکلے گا بھئی تو چاہے عیادت مریض کے لیے نکلے، چاہے نماز جنازہ وغیرہ پڑھنے کے لیے نکلے، چاہے اور کسی ضرورت کسی اور کام سے نکلے گا تو جیسے ہی نکلے گا ایک لمحے کے لیے بھی نکلے گا تو اس کا اعتکاف فاسد ہو جائے گا بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَا يَخْرُجُ مِنَ الْمَسْجِدِ إِلَّا لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ أَوِ الْجُمُعَةِ“ اور نہیں نکلے گا مسجد سے مگر انسانی حاجت کے لیے یا جمعے کے لیے۔
اب دلیل اس کی ذکر کر رہے ہیں انسانی حاجت کے لیے نکلنے کی اجازت کیوں ہے؟ تو کہتے ہیں: ”أَمَّا الْحَاجَةُ“ باقی حاجت انسانی جو ہے ”فَلِحَدِيثِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا“ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث کی وجہ سے ہے، وہ فرماتی ہیں کہ: ”كَانَ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَا يَخْرُجُ مِنْ مُعْتَكَفِهِ إِلَّا لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ“ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اعتکاف کی جگہ سے نہیں نکلتے تھے مگر انسانی حاجت کے لیے۔
آگے عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں بھئی کہ: ”وَلِأَنَّهُ مَعْلُومٌ وُقُوعُهَا“ اور نیز اس لیے کیونکہ یہ جو انسانی حاجت ہے اس کا واقع ہونا تو معلوم ہے کہ انسانی ضرورت یہ تو پیش آئے گی ہی، ”وَلَا بُدَّ مِنَ الْخُرُوجِ فِي تَقْضِيَتِهَا“ اور ضروری ہے نکلنا اس کے پورا کرنے میں، اس کے پورا کرنے کے لیے تو نکلنا ضروری ہے، ”فَيَصِيرُ الْخُرُوجُ لَهَا مُسْتَثْنًى“ تو اس کے لیے نکلنا جو ہے وہ مستثنیٰ ہوگا، اس کا استثنا ہوگا، اس کی اجازت ہوگی۔
”وَلَا يَمْكُثُ بَعْدَ فَرَاغِهِ مِنَ الطَّهُورِ لِأَنَّ مَا ثَبَتَ بِالضَّرُورَةِ يَتَقَدَّرُ بِقَدْرِهَا“.
جی اور یہ بھی یاد رکھیے بھئی یہ قضائے حاجت کے لیے نکلا تو وہاں اگر اس نے بلاوجہ ذرا زیادہ دیر لگا دی تو اس صورت میں بھی اس کا اعتکاف فاسد ہو جائے گا بھئی، سمجھ میں آیا؟ جتنی ضرورت ہے پھر فوراً واپس جلد سے جلد واپس آئے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَا يَمْكُثُ بَعْدَ فَرَاغِهِ مِنَ الطَّهُورِ“ اور وہ ٹھہرے نہ طہور سے یعنی طہارت سے فارغ ہونے کے بعد وہ ٹھہرے نہ اس جگہ پر، ”لِأَنَّ مَا ثَبَتَ بِالضَّرُورَةِ يَتَقَدَّرُ بِقَدْرِهَا“ اس لیے کیونکہ وہ چیز جو ضرورت کی وجہ سے ثابت ہوتی ہے ”يَتَقَدَّرُ بِقَدْرِهَا“ وہ بقدر ضرورت ہی ثابت ہوتی ہے، وہ بقدر ضرورت ہی ہوتی ہے۔ اور جب ضرورت پوری ہو گئی اس کے بعد وہ بلاوجہ ذرا تاخیر کرتا ہے تو یہ ضرورت سے زائد ہے لہٰذا اس کی گنجائش نہیں ہوگی، اس صورت میں اعتکاف کیا ہو جائے گا؟ فاسد ہو جائے گا۔ لہٰذا وضو کے لیے نکل سکتا ہے، وضو ضرورت ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ نماز وغیرہ کے لیے اس کو وضو کی ضرورت ہے وہ نکل سکتا ہے۔ نہانے کے لیے نہیں نکل سکتا۔ ہاں الا یہ کہ غسل فرض ہے پھر تو وہ بھی ضرورت بن گیا۔ ویسے ہی بھئی وہ نہانے کے لیے نکلنا چاہتا ہے کوئی حاجت نہیں ہے نہانے کی، صرف گرمی لگ رہی ہے یا کس وجہ سے اور وہ نہانا چاہتا ہے، نہیں بھئی اس کی بھی گنجائش نہیں۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ اس کی بھی گنجائش نہیں ہے۔ ہاں یہ کر سکتا ہے وضو کرنے گیا تھا تو جلدی سے نہا کر آ گیا۔ وضو کے بجائے کیا کر لیا وہاں اس نے؟ ہاں وضو کر لیا ساتھ ہی نہا لیا تو یہ کر سکتا ہے لیکن اس میں بھی زیادہ دیر کی اجازت نہیں ہے بھئی، جتنا جلدی سے جلدی ہو سکے فوراً پھر مسجد میں آنا پڑے گا بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَأَمَّا الْجُمُعَةُ“ بھئی جمعے کی بھی اجازت آئی تھی تو کہتے ہیں: ”وَأَمَّا الْجُمُعَةُ فَلِأَنَّهَا مِنْ أَهَمِّ حَوَائِجِهِ“ اور باقی جمعہ جو ہے تو وہ اس کی اہم ضرورتوں میں سے ہے، اہم حاجتوں میں سے ہے۔ جیسے پیشاب وغیرہ کے لیے نکلنے کا استثنا تھا کیونکہ وہ اس کے یوں کہیں طبعی ضرورت تھی، کیا تھی؟ طبعی ضرورت تھی اور جمعہ اس کے لیے اہم دینی ضرورت ہے بھئی، تو لہٰذا جمعے کے لیے نکلنے کی بھی اس کو اجازت ہوگی۔ تو کہتے ہیں: ”فَلِأَنَّهَا مِنْ أَهَمِّ حَوَائِجِهِ“ اس لیے کیونکہ جمعہ جو ہے وہ اس کی اہم حاجتوں میں سے ہے ”وَهِيَ مَعْلُومٌ وُقُوعُهَا“ اور یہ جمعہ جو ہے اس کا وقوع بھی معلوم ہے۔ جب اعتکاف میں بیٹھے گا تو اعتکاف کے ایام میں ظاہر سی بات ہے کون سا دن بھی آئے گا؟ جمعے کا دن بھی آئے گا تو اس کا وقوع ہونا بھی معلوم ہے۔ تو لہٰذا اس کی بھی اجازت ہوگی۔
”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: الْخُرُوجُ إِلَيْهَا مُفْسِدٌ لِأَنَّهُ يُمْكِنُهُ الِاعْتِكَافُ فِي الْجَامِعِ“.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جمعے کے لیے نکلنا یہ اعتکاف کو فاسد کر دے گا ”لِأَنَّهُ يُمْكِنُهُ الِاعْتِكَافُ فِي الْجَامِعِ“ اس لیے کیونکہ اس شخص کے لیے اعتکاف ممکن ہے جامع مسجد میں۔ یعنی اس مسجد میں جہاں جمعہ ہوتا ہے تو اب اگرچہ اعتکاف کے ایام میں جمعہ آئے گا لیکن اس کو کیا کرنا چاہیے؟ اعتکاف ہی اس مسجد میں کرنا چاہیے جہاں پر جمعہ ہوتا ہو۔ جب جمعہ وہیں پر ہوتا ہے پھر تو نکلنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ لہٰذا جب اس مسجد میں وہ اعتکاف کر سکتا ہے تو جمعے کے لیے نکلنے کی بھی اس کو اجازت نہیں ہوگی اور اگر نکلے گا اعتکاف فاسد ہو جائے گا۔ یہ معنی ہے وہ فرماتے ہیں: ”الْخُرُوجُ إِلَيْهَا مُفْسِدٌ“ جمعے کے لیے نکلنا جو ہے اعتکاف کو فاسد کر دے گا ”لِأَنَّهُ يُمْكِنُهُ الِاعْتِكَافُ فِي الْجَامِعِ“ اس لیے کیونکہ اس شخص کے لیے اعتکاف کرنا ممکن ہے جامع مسجد میں یعنی جہاں جمعہ ہوتا ہے۔
”وَنَحْنُ نَقُولُ: الِاعْتِكَافُ فِي كُلِّ مَسْجِدٍ مَشْرُوعٌ وَإِذَا صَحَّ الشُّرُوعُ فَالضَّرُورَةُ مُطْلِقَةٌ فِي الْخُرُوجِ“ اور ہم کہتے ہیں کہ اعتکاف جو ہے ہر مسجد کے اندر مشروع ہے، جائز ہے ”وَإِذَا صَحَّ الشُّرُوعُ“ اور جب شروع کرنا صحیح ہے، جب شروع کرنا ہر مسجد کے اندر اعتکاف مشروع ہے معلوم ہوا ہر مسجد کے اندر اعتکاف شروع کرنا صحیح ہے جائز ہے ”فَالضَّرُورَةُ مُطْلِقَةٌ فِي الْخُرُوجِ“ تو ضرورت جو ہے وہ اجازت دینے والی ہے فی الخروج نکلنے میں، یعنی نکلنے کی جب ہر مسجد میں اعتکاف کی اجازت ہے تو ایسی مسجد میں اعتکاف کر سکتا ہے یا نہیں کر سکتا جس میں جمعہ نہیں ہوتا؟ اس میں جب ہر مسجد میں اجازت ہے تو اس مسجد میں بھی اجازت ہے جس کے اندر جمعہ نہیں ہوتا اور جب اس کے اندر وہ اعتکاف کرنا اس کا جائز ہے تو اب اس کو جمعے کے لیے نکلنے کی ضرورت ہے یا ضرورت نہیں ہے؟ تو ضرورت اب پیش آ گئی تو اور ضرورت کیا ہے؟ وہ اجازت دینے والی ہے وہ ممنوع چیز کو بھی مباح کرنے والی ہے، سمجھ میں آیا؟ تو ضرورت اب اس کی وجہ سے اس کو اجازت ہوگی۔ ”فَالضَّرُورَةُ مُطْلِقَةٌ“ تو ضرورت جو ہے وہ اجازت دینے والی ہے ”فِي الْخُرُوجِ“ نکلنے کی۔
”وَيَخْرُجُ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ“ اور وہ نکلے، بھئی کب نکلے گا؟ کہتے ہیں بھئی زوال شمس کے بعد نکلے جب سورج ڈھل جائے، سورج ڈھل جائے۔ اس لیے کیونکہ جمعے کا وقت کب ہے جب سورج ڈھل جائے اور قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں: ”إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ“ تو وہاں سعی کرنے کا حکم دیا گیا ہے جمعے کی طرف اور جمعے کا وقت کب ہے؟ جب زوال ہو جائے تو لہٰذا سعی بھی کس وقت واجب ہوگی؟ زوال کے بعد واجب ہوگی تو اس وقت نکلے۔
تو کہتے ہیں: ”وَيَخْرُجُ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ“ اور نکلے جس وقت سورج ڈھل جائے ”لِأَنَّ الْخِطَابَ يَتَوَجَّهُ بَعْدَهُ“ اس لیے کیونکہ خطاب جو ہے اللہ کی طرف سے جو حکم ہے ”يَتَوَجَّهُ بَعْدَهُ“ وہ زوال کے بعد متوجہ ہوتا ہے۔
”وَإِنْ كَانَ مَنْزِلُهُ بَعِيدًا عَنْهُ يَخْرُجُ فِي وَقْتٍ يُمْكِنُهُ إِدْرَاكُهَا“.
بھئی اگر اس کی جگہ دور ہے، وہ مسجد جامع مسجد سے دور ہے تو زوال کے بعد اگر نکلتا ہے پھر تو پہنچ ہی نہیں سکتا، تو کہتے ہیں بھئی پھر اس سے پہلے بھی نکل سکتا ہے۔ تو اس اتنے اتنا پہلے نکلے کہ کیا آرام سے جمعے تک پہنچ سکے تو پھر اس صورت میں پہلے بھی نکل سکتا ہے۔ یہ معنی ہے: ”وَإِنْ كَانَ مَنْزِلُهُ بَعِيدًا عَنْهُ“ اور اگر اس کا ٹھکانہ اس کی منزل جو ہے اس جامع مسجد سے دور ہے ”يَخْرُجُ فِي وَقْتٍ يُمْكِنُهُ إِدْرَاكُهَا“ تو وہ نکلے ایسے وقت کے اندر کہ ممکن ہو اس کے لیے جمعے کو پا لینا۔
”وَيُصَلِّي قَبْلَهَا أَرْبَعًا وَفِي رِوَايَةٍ سِتًّا“.
جی یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں کہ جمعے سے پہلے کے جو پہلے کی جو سنتیں ہیں اور جمعے کے بعد کی جو سنتیں ہیں وہ بھی جمعے کے تابع ہیں، وہ کس کے تابع ہیں؟ جمعے کے تابع ہیں۔ لہٰذا اس طرح نکلے کہ وہ سنتیں بھی ساتھ وہاں ادا کر سکے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو جیسے جمعے کے لیے اجازت ہے اسی طرح ان سنتوں کے لیے بھی کیا ہو جائے گی؟ اجازت، کیونکہ وہ اس جمعے کے تابع ہیں بھئی تابع ہیں۔
تو کہتے ہیں: ”وَيُصَلِّي قَبْلَهَا أَرْبَعًا وَفِي رِوَايَةٍ سِتًّا“ اور پڑھے وہ چار رکعتیں بھئی، یعنی جب جمعے کے لیے نکلے اور وہاں پہنچ جائے تو چار رکعتیں پڑھے ”وَفِي رِوَايَةٍ سِتًّا“ اور ایک روایت کے مطابق چھ رکعتیں پڑھے گا۔ ”الْأَرْبَعُ السُّنَّةُ وَرَكْعَتَانِ تَحِيَّةُ الْمَسْجِدِ“ ان چھ میں سے چار جو ہیں وہ سنت ہیں اور دو رکعتیں کیا ہیں؟ تحیۃ المسجد ہے کہ مسجد کے اندر داخل ہو تو اس میں تو دو رکعتیں وہ پڑھے گا۔
”وَبَعْدَهَا أَرْبَعًا أَوْ سِتًّا عَلَى حَسَبِ الِاخْتِلَافِ فِي سُنَّةِ الْجُمُعَةِ“ اور جمعے کے بعد چار رکعت یا چھ رکعت پڑھے گا ”عَلَى حَسَبِ الِاخْتِلَافِ فِي سُنَّةِ الْجُمُعَةِ“ جمعے کی سنت کے بارے میں جو اختلاف آیا ہے اس کے مطابق بھئی، امام صاحب کے نزدیک کتنی پڑھے گا؟ چار، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک چھ۔ تو یہ بھی وہ پڑھے وہاں تو اس کی بھی یعنی اجازت ہے۔
”وَسُنَّتُهَا تَوَابِعُ لَهَا فَأُلْحِقَتْ بِهَا“ اور جمعے کی سنتیں ”تَوَابِعُ لَهَا“ وہ جمعے کے تابع ہیں ”فَأُلْحِقَتْ بِهَا“ تو ان کو بھی کس کے ساتھ ملایا جائے گا؟ جمعے کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ کیا معنی؟ یعنی جیسے جمعے کے لیے اجازت ہے اسی طرح ان کے لیے بھی اجازت، جب ان کو جمعے کے ساتھ ملا دیا گیا تو جمعے کے لیے تو اجازت تھی نکلنے کی تو ان کے لیے بھی نکلنے کی اجازت ہو گئی، یعنی اتنا وقت گزارتا ہے پہلے جاتا ہے اور وہی سنتیں پھر پڑھ کے ذرا دیر سے آتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں بلکہ یہ تو جمعے کے تابع ہی ہیں بھئی۔
”وَلَوْ أَقَامَ فِي الْمَسْجِدِ الْجَامِعِ“.
یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں بھئی ویسے تو قضائے حاجت کے لیے بھی جائے اور وہاں بلا ضرورت ذرا دیر لگائے گا تو اس کا اعتکاف کیا ہو جائے گا؟ فاسد۔ تو یہاں پر اگر یہ جمعے کی نماز کے لیے گیا ہے اگر یہ وہاں مسجد میں دیر لگا دیتا ہے تو کیا اس کا اعتکاف فاسد ہو جائے گا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، یہاں اگر دیر بھی لگا دے اب اعتکاف فاسد نہیں ہوگا اس لیے کیونکہ پہلے یہ اس مسجد میں تھا اب بھی کس کے اندر ہے؟ اب بھی مسجد ہی میں ہے، البتہ اب مسجد دوسری ہے، مسجد کیا ہے؟ اور اعتکاف کے اندر بھی اپنے آپ کو کہاں روکنا ہوتا ہے؟ مسجد ہی میں روکنا ہوتا ہے، تو لہٰذا وہاں بھی چونکہ مسجد ہی ہے لہٰذا دیر بھی لگا دے گا تو اعتکاف فاسد نہیں ہوگا۔ ہاں مستحب نہیں ہے اس کے لیے کہ وہاں دیر لگائے بلکہ اس کے لیے کیا مستحب ہے؟ کہ پھر اسی مسجد میں جلدی آ جائے جہاں اس نے اعتکاف شروع کر رکھا ہے۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ أَقَامَ فِي الْمَسْجِدِ الْجَامِعِ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ لَا يَفْسُدُ اعْتِكَافُهُ لِأَنَّهُ مَوْضِعُ اعْتِكَافٍ إِلَّا أَنَّهُ لَا يُسْتَحَبُّ لِأَنَّهُ الْتَزَمَ أَدَاءَهُ فِي مَسْجِدٍ وَاحِدٍ فَلَا يُتِمُّهَا فِي مَسْجِدَيْنِ مِنْ غَيْرِ ضَرُورَةٍ“.
اور اگر وہ ٹھہرا رہا جامع مسجد میں اس سے زیادہ ”لَا يَفْسُدُ اعْتِكَافُهُ“ تو اس کا اعتکاف فاسد نہیں ہوگا ”لِأَنَّهُ مَوْضِعُ اعْتِكَافٍ“ اس لیے کیونکہ وہ جامع مسجد بھی کیا ہے؟ اعتکاف کا مقام ہے ”إِلَّا أَنَّهُ لَا يُسْتَحَبُّ“ مگر یہ کہ اس کے لیے ایسا کرنا مستحب نہیں ہے ”لِأَنَّهُ الْتَزَمَ أَدَاءَهُ فِي مَسْجِدٍ وَاحِدٍ فَلَا يُتِمُّهَا فِي مَسْجِدَيْنِ مِنْ غَيْرِ ضَرُورَةٍ“ اس لیے کیونکہ اس نے اپنے اوپر لازم کیا ہے اس اعتکاف کی ادائیگی کو ایک ہی مسجد کے اندر، تو لہٰذا اس کو پورا نہ کرے دو مسجدوں میں بغیر ضرورت کے، سمجھ میں آ گئی؟ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟
”وَلَوْ خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ سَاعَةً بِغَيْرِ عُذْرٍ فَسَدَ اعْتِكَافُهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ لِوُجُودِ الْمُنَافِي وَهُوَ الْقِيَاسُ“.
اور اگر یہ معتکف نکل آیا مسجد سے ایک گھڑی کے لیے بھی بغیر کسی عذر کے تو اس کا اعتکاف فاسد ہو جائے گا ”عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ“ امام صاحب کے نزدیک ”لِوُجُودِ الْمُنَافِي“ بوجہ منافی چیز کے پائے جانے کے، کیونکہ اعتکاف کے منافی چیز پائی گئی، اعتکاف تو کیا تھا؟ کہاں ٹھہرنا ہے؟ مسجد میں ٹھہرنا ہے اور اس صورت میں جب نکلے گا تو اعتکاف کے منافی چیز آ گئی وہ تو مسجد میں نہ رہا باہر نکل گیا تو لہٰذا اعتکاف فاسد ہو جائے گا۔ ”وَهُوَ الْقِيَاسُ“ اور یہی قیاس بھی ہے، قیاس بھی یہی تقاضا کرتا ہے کہ ایک لمحے کے لیے بھی بلاوجہ نکلے تو اس کا اعتکاف فاسد ہونا چاہیے۔
”وَقَالَا: لَا يَفْسُدُ حَتَّى يَكُونَ أَكْثَرَ مِنْ نِصْفِ يَوْمٍ وَهُوَ الِاسْتِحْسَانُ لِأَنَّ فِي الْقَلِيلِ ضَرُورَةً“.
صاحبین فرماتے ہیں کہ اس کا اعتکاف فاسد نہیں ہوگا ”حَتَّى يَكُونَ“ حتیٰ ہے آپ کی کتابوں میں؟ جی ہاں یہ حتیٰ لفظ کتابت کی غلطی ہے بھئی، ”حَتَّى يَكُونَ أَكْثَرَ مِنْ نِصْفِ يَوْمٍ“ یہاں تک کہ وہ نصف یوم سے زیادہ ہو جائے ”وَهُوَ الِاسْتِحْسَانُ“ اور یہی استحسان ہے ”لِأَنَّ فِي الْقَلِيلِ ضَرُورَةً“ اس لیے کیونکہ تھوڑے میں تو ضرورت ہے۔
صاحبین فرماتے ہیں کہ مسجد سے صرف نکلے تو فوراً ہی اعتکاف ٹوٹ جائے ایسا نہیں ہے، قیاس تو یہی تقاضا کرتا ہے لیکن استحساناً جب تک وہ نصف یوم باہر نہ گزار دے آدھا دن جب تک نہ گزار دے اس وقت تک اس کا اعتکاف فاسد نہیں، اس لیے کیونکہ تھوڑا جو ہے اس کی ضرورت پیش آ جاتی ہے کبھی اور لہٰذا اس کی اس کو اجازت ہوگی بھئی۔ لیکن بہرحال فتویٰ امام صاحب کے قول پر ہے جیسا متن میں آ گیا: ”وَلَوْ خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ سَاعَةً“ ایک گھڑی بھی نکلے گا تو اعتکاف فاسد ہو جائے گا۔
”قَالَ: وَأَمَّا الْأَكْلُ وَالشُّرْبُ وَالنَّوْمُ فَيَكُونُ فِي مُعْتَكَفِهِ“.
اچھا بھئی کھانا پینا اور نیند ہے یعنی سونا یہ بھی تو اس کی ضروریات میں سے ہیں، کیا ان کے لیے نہیں نکلے گا؟ کہتے ہیں بھئی یہ چیزیں مسجد کے اندر بھی یہ اس کی ضروریات پوری ہو سکتی ہیں، مسجد کے اندر بھی کھا سکتا ہے پی سکتا ہے سو سکتا ہے لہٰذا ان کے لیے بھی نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
کہتے ہیں: ”وَأَمَّا الْأَكْلُ وَالشُّرْبُ وَالنَّوْمُ فَيَكُونُ فِي مُعْتَكَفِهِ“ اور باقی کھانا اور پینا اور سونا وہ اس کے اعتکاف کی جگہ میں ہی ہوگا ”لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَأْوًى إِلَّا الْمَسْجِدَ“ اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا سوائے مسجد کے، تو وہیں پر کیا کرتے تھے یہ آپ ضروریات یہ والی پوری فرماتے تھے۔
دوسری دلیل عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ يُمْكِنُ قَضَاؤُهَا هَذِهِ الْحَاجَةِ فِي الْمَسْجِدِ فَلَا ضَرُورَةَ إِلَى الْخُرُوجِ“ اور نیز اس لیے کیونکہ ممکن ہے پورا کرنا ان حاجتوں کو مسجد میں تو کوئی ضرورت نہیں ہے نکلنے کی۔
”وَلَا بَأْسَ بِأَنْ يَبِيعَ وَيَبْتَاعَ فِي الْمَسْجِدِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُحْضِرَ السِّلْعَةَ“.
اور ولا بأس کوئی حرج نہیں ہے ”بِأَنْ يَبِيعَ“ یہ کہ وہ اعتکاف کرنے والا بیچے ”وَيَبْتَاعَ“ اور یہ کہ وہ خریدے ”فِي الْمَسْجِدِ“ مسجد میں ”مِنْ غَيْرِ أَنْ يُحْضِرَ السِّلْعَةَ“ بغیر اس کے کہ سامان حاضر کرے بھئی۔
سامان کو حاضر کیے بغیر بھئی جس چیز کی بیع و شراء کر رہا ہے اس کو حاضر کیے بغیر صرف مسجد میں کیا کرتا ہے؟ کسی چیز کی بیع و شراء کرتا ہے تو بیع و شراء تو صرف ایجاب و قبول کا نام ہے لہٰذا ان کی بیع و شراء وہ مسجد میں کر سکتا ہے لیکن یہ یاد رکھیے یہ ہر چیز کی بیع و شراء یہاں نہیں مراد، ضرورت کی بیع و شراء، ضرورت مثلاً کوئی کھانے پینے کی چیز خریدنا چاہتا ہے کوئی اس کے لیے بیچارے کے لیے لانے والا ہی نہیں انتظام کرنے والا ہی نہیں ہے تو وہ وہیں پر کیا کرتا ہے؟ کسی سے کھانے پینے کی چیز خریدتا ہے وغیرہ، تو اس طرح کی جو ضرورت کی چیز ہے جہاں کوئی اور اس ضرورت کو پورا کرنے والا نہیں ہے تو اس کی خرید و فروخت کی اس کو اجازت ہے یہ نہیں کہ وہاں بیٹھ کر وہ باقاعدہ کاروباری معاملات شروع کر دیں، نہیں بھئی اس سے منع کیا گیا ہے۔ مسجد ان کاموں کے لیے نہیں بنی مسجد کس لیے بنی ہے؟ عبادت کے لیے بنی ہے تو لہٰذا وہاں عبادت والے امور کو سر انجام دے گا عبادت تو کرے گا باقی دنیاوی معاملات کی وہاں اجازت نہیں اور یہ بھی یہ خرید و فروخت یہ چونکہ ضرورت ہے اس کو کوئی اور اس چیز کو سر انجام دینے والا نہیں ہے تو اس صورت میں اس کے لیے گنجائش ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
یہ معنی ہے: ”وَلَا بَأْسَ بِأَنْ يَبِيعَ وَيَبْتَاعَ فِي الْمَسْجِدِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُحْضِرَ السِّلْعَةَ“ اور کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ بیچے اور خریدے مسجد میں بغیر اس کے کہ سامان حاضر کرے یعنی سامان نہیں لایا جائے گا وہاں پر، وہیں پر بس ایجاب و قبول کرے۔
”لِأَنَّهُ قَدْ يَحْتَاجُ إِلَى ذَلِكَ بِأَنْ لَا يَجِدَ مَنْ يَقُومُ بِحَاجَتِهِ“ اس لیے کیونکہ کبھی اس کو ان چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے، بیع و شراء کی ضرورت وہ معتکف جو ہے وہ محتاج ہوتا ہے اس بیع و شراء کا ”بِأَنْ لَا يَجِدَ مَنْ يَقُومُ بِحَاجَتِهِ“ بھئی ان کا محتاج ہوتا ہے با کے ذریعے صورت بتلا رہے ہیں بایں صورت ”أَنْ لَا يَجِدَ“ کہ وہ نہیں پاتا ”مَنْ يَقُومُ بِحَاجَتِهِ“ جو قائم کرے اس کی حاجت کو، جو پوری کرے اس کی، کوئی اور شخص نہیں ملتا تو اس صورت میں وہ محتاج ہوتا ہے تو لہٰذا اجازت ہے۔
”إِلَّا أَنَّهُمْ قَالُوا: يُكْرَهُ إِحْضَارُ السِّلْعَةِ لِلْبَيْعِ وَالشِّرَاءِ لِأَنَّ الْمَسْجِدَ مُحْرَزٌ عَنْ حُقُوقِ الْعِبَادِ وَفِيهِ شَغْلُهُ بِهَا“ مگر یہ کہ فقہاء فرماتے ہیں مکروہ ہے سامان کا حاضر کرنا بیع و شراء کے لیے ”لِأَنَّ الْمَسْجِدَ مُحْرَزٌ عَنْ حُقُوقِ الْعِبَادِ“ اس لیے کیونکہ مسجد جو ہے اس کو محفوظ کیا گیا ہے بندوں کے حقوق سے۔ مسجد تو صرف کس لیے ہے؟ حقوق اللہ کے لیے، اللہ کے حقوق پورے کرنے کے لیے، عبادت کے لیے ہے تو اس کو محفوظ کیا گیا ہے حقوق العباد سے ”وَفِيهِ شَغْلُهُ بِهَا“ اور اس کے اندر یعنی اگر وہ سامان حاضر کرے گا تو سامان حاضر کرنے کے اندر شغلہ بہا مسجد کو مشغول کرنا ہے اس حقوق العباد کے ساتھ حالانکہ اس سے تو مسجدوں کو محفوظ کیا گیا، لہٰذا اس کی مکروہ ہوگا۔
”وَيُكْرَهُ لِغَيْرِ الْمُعْتَكِفِ الْبَيْعُ وَالشِّرَاءُ فِيهِ“ اور غیر معتکف کے لیے مکروہ ہے بیع و شراء کرنا مسجد کے اندر۔ معتکف کو تو حاجت ہے ضرورت ہے اس لیے اس کے لیے مکروہ نہیں، باقی کوئی اور کرتا ہے اس کے لیے مکروہ ہے ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس فرمان کے، آپ نے فرمایا: ”جَنِّبُوا مَسَاجِدَكُمْ صِبْيَانَكُمْ“ ”إِلَى أَنْ قَالَ: وَبَيْعَكُمْ وَشِرَاءَكُمْ“.
حضور علیہ السلام فرمانے لگے: ”جَنِّبُوا مَسَاجِدَكُمْ صِبْيَانَكُمْ“ کہ تم دور کرو اپنی مسجدوں کو اپنے بچوں سے یعنی بچوں کو مسجدوں سے دور رکھو، بچوں کو مساجد سے دور رکھو ”إِلَى أَنْ قَالَ“ یہاں تک کہ آپ نے فرمایا حدیث طویل ہے اور تو درمیان والے الفاظ صاحبِ ہدایہ نے ذکر نہیں کیے، آخری الفاظ ذکر کر رہے ہیں یہاں تک کہ حضور نے فرمایا: ”وَبَيْعَكُمْ وَشِرَاءَكُمْ“ اور اپنی بیع اور اپنی شراء، اپنی خرید و فروخت سے بھی کیا کرو مسجد کو بچاؤ بھئی، دور رکھو۔
”قَالَ: وَلَا يَتَكَلَّمُ إِلَّا بِخَيْرٍ وَيُكْرَهُ لَهُ الصَّمْتُ“.
صاحب قدوری فرماتے ہیں اور وہ معتکف جو ہے وہ کلام نہ کرے ”إِلَّا بِخَيْرٍ“ مگر خیر کے ساتھ، یعنی صرف بھلائی والا کلام کرے بھئی۔ فضول اور بری بات نہ کرے، صرف بھلائی والا کلام کرے اعتکاف کے دوران۔ ”وَيُكْرَهُ لَهُ الصَّمْتُ“ اور مکروہ ہے اس کے لیے خاموش رہنا۔ اعتکاف والے کے لیے خاموش رہنا مکروہ ہے، یہ معنی نہیں کہ خاموش بیٹھ ہی نہیں سکتا بولتا ہی رہے گا، نہیں۔ معنی یہ ہے کہ عبادت سمجھ کر خاموش رہتا ہے، کیا خاموش رہتا ہے کیا سمجھ کر؟ عبادت، کہتے ہیں نہیں بھئی ہماری شریعت میں خاموش رہنا عبادت نہیں ہے۔ تو عبادت سمجھ کر خاموش رہے گا تو مکروہ ہے، ویسے خاموش رہے تو کوئی حرج نہیں ہے بھئی، سمجھ میں آئی بات بھئی؟
یہ معنی ہے ”وَيُكْرَهُ لَهُ الصَّمْتُ“ اور مکروہ ہے اس کے لیے خاموش رہنا ”لِأَنَّ صَوْمَ الصَّمْتِ لَيْسَ بِقُرْبَةٍ فِي شَرِيعَتِنَا“ اس لیے کیونکہ خاموشی کا روزہ جو ہے وہ عبادت نہیں ہے ہماری شریعت میں ”لَكِنَّهُ يَتَجَانَبُ مَا يَكُونُ مَأْثَمًا“ لیکن وہ ایک طرف رہے اس چیز سے جو گناہ ہے، ان باتوں سے ایک طرف رہے ان سے پہلو تہی کرے ان باتوں سے جو گناہ ہیں بھئی، گناہ والی باتوں سے کیونکہ گناہ والی باتیں تو ویسے نہیں جائز اور پھر اعتکاف کے اندر تو اور زیادہ برا ہے کہ یہاں تو اس نے اپنے آپ کو روکا ہی کس لیے ہوا ہے؟ اللہ کی عبادت کے لیے۔
”وَيَحْرُمُ عَلَى الْمُعْتَكِفِ الْوَطْءُ“ اور حرام ہے اعتکاف کرنے والے پر صحبت کرنا۔ اعتکاف کرنے والا بیوی سے صحبت نہیں کر سکتا یہ اس کے لیے حرام ہے ”لِقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ﴾“ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے، قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ“ اور تم ان سے صحبت نہ کرو، اپنی بیویوں سے صحبت نہ کرو ”وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ“ اس حال میں کہ تم مسجدوں میں اعتکاف کرنے والے ہو یعنی اعتکاف کی حالت میں ہو۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو وہ حرام ہے بھئی۔
”وَكَذَا اللَّمْسُ وَالْقُبْلَةُ“ اور اسی طرح چھونا یعنی ہاتھ لگانا ”وَالْقُبْلَةُ“ اور بوسہ ہے۔ تو اسی طرح چھونا اور بوسہ لینا یہ بھی یہ بھی اعتکاف کے اندر ممنوع ہے بھئی، ممنوع ہے۔ کوئی شخص اپنی بیوی کو چھو بھی نہیں سکتا اور اس کا بوسہ بھی نہیں لے سکتا بھئی۔
روزے کے اندر بھئی آپ نے پڑھا ہے کہ روزے کے اندر صحبت سے تو منع کیا گیا ہے لیکن چھونا یا بوسہ لینا وغیرہ اس سے روزے پر اثر نہیں پڑتا جبکہ اس کو اپنے نفس پر اطمینان ہو بھئی، نفس پر اطمینان ہو۔ لیکن اعتکاف کے اندر یہ ممنوع ہیں بھئی، ممنوع ہیں۔
تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا اللَّمْسُ وَالْقُبْلَةُ“ اور اسی طرح چھونا ہے اور بوسہ لینا ہے ”لِأَنَّهُ دَوَاعِيهِ“ اس لیے کیونکہ یہ دوائیِ وطی ہیں، یہ چیزیں کس کی طرف لے جانے والی ہیں؟ وطی تک لے جانے والی ہیں ”فَيَحْرُمُ عَلَيْهِ“ تو یہ بھی اس پر حرام ہوں گی ”إِذْ هُوَ مَحْظُورُهُ“ اس لیے کیونکہ وطی تو اعتکاف اعتکاف کی ممنوعہ چیزوں میں سے ہے ”كَمَا فِي الْإِحْرَامِ“ جیسے کس کے اندر ہے؟ احرام کے اندر۔ وطی اعتکاف کی ممنوعہ چیزوں میں سے ہے جیسے کہ احرام کی ممنوعہ چیزوں میں سے ہے، اور جب یہ اعتکاف کے اندر ممنوع تو جو اس تک لے جانے والی چیزیں ہیں وہ بھی کیا ہوں گی؟ ممنوع ہوں گی۔
”بِخِلَافِ الصَّوْمِ“ بخلاف کس کے؟ روزے کے، ”لِأَنَّ الْكَفَّ رُكْنُهُ لَا مَحْظُورُهُ“ اس لیے کیونکہ رکنا یعنی صحبت سے رکنا یہ روزے کا رکن ہے ”لَا مَحْظُورُهُ“ یہ اس کا ممنوع نہیں۔ صحبت سے رکنا یہ روزے کی ممنوعہ چیزوں میں سے نہیں ہے یہ روزے کا رکن ہے، یہ کیا ہے؟ روزے کا رکن ہے۔ لہٰذا جب یہ رکن ہے تو یہ اور چیزوں کی طرف متعدی نہیں ہوگا اور چیزیں اس کے ساتھ داخل نہیں کی جائیں گی کہ یہ بھی کہا جائے کہ نہ چھونا یہ بھی روزے کا رکن ہے، بوسہ نہ لینا یہ بھی کیا ہے روزے کا؟ رکن، نہیں بھئی وہاں ایسا نہیں ہوگا اور چیزوں کو رکن نہیں قرار دیا جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو وہاں پر صحبت سے رکنا روزے کا رکن ہے لہٰذا وہ اور چیزوں کی طرف متعدی نہیں ہوگا لہٰذا دوائیِ وطی جو ہے ان کو روزے کا رکن نہیں قرار دیا جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
جبکہ یہاں پر یہ یہاں پر صحبت سے رکنا یہ اعتکاف کا رکن نہیں ہے، اعتکاف کا رکن تو کیا ہے؟ مسجد میں ٹھہرنا ہے روزے کے ساتھ بھئی، تو لہٰذا یہ رکن نہیں یہ اعتکاف کی ممنوعہ چیزوں میں سے ہے جس سے منع کیا گیا ہے اور جب اس سے منع کیا گیا ہے تو جو چیز اس تک پہنچانے والی ہوں گی وہ بھی خود بخود کیا ہو جائیں گی؟ اس کے حکم میں داخل ہو جائیں گی وہ بھی ممنوع ہو جائیں گی، فرق سمجھ میں آیا بھئی؟
تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ الصَّوْمِ“ بخلاف روزے کے ”لِأَنَّ الْكَفَّ رُكْنُهُ“ اس لیے کیونکہ رکنا وہاں پر یعنی صحبت سے رکنا اس روزے کا رکن ہے ”لَا مَحْظُورُهُ“ یہ روزے کی ممنوعہ چیز نہیں ہے ”فَلَمْ يَتَعَدَّ إِلَى دَوَاعِيهِ“ لہٰذا یہ رکنا متعدی نہیں ہوگا دوائیِ دوائیِ وطی کی طرف یعنی ان کو رکن نہیں قرار دیا جا سکتا۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ اس لیے کیونکہ اگر یہاں پر بھی دوائیِ وطی کو بھی یہ حکم دیا جائے تو اس کا تو یہ مطلب ہوگا کہ یہ دوائیِ وطی سے رکنا یہ بھی روزے کا رکن ہے، اور رکن رکن تو وہ چیز ہوتی ہے جس پر اس چیز کی بنیاد ہوتی ہے وہ پائی جائے تو وہ چیز ہوتی ہے وہ چیز نہ پائی جائے تو اس چیز کا وجود بھی نہیں، تو رکن پر بنیاد ہوتی ہے تو پھر تو روزے کی بنیاد ہو جائے گی کس پر؟ دوائیِ وطی سے بھی اپنے آپ کو روکے اور تو صرف ایک شبہے کی بنیاد پر ان چیزوں کو رکن قرار دے دیا جائے گا حالانکہ رکن اس پر تو اس چیز کی بنیاد ہوتی ہے صرف شبہے کی بنیاد پر کسی چیز کو رکن نہیں قرار دیا جا سکتا بلکہ لیے بلکہ اس کے لیے باقاعدہ مضبوط شرعی دلیل چاہیے بھئی۔ تو اس کے لیے باقاعدہ مضبوط شرعی دلیل چاہیے ویسے رکنیت ثابت نہیں ہو سکتی، اسی لیے کہا: ”فَلَمْ يَتَعَدَّ إِلَى دَوَاعِيهِ“ اسی لیے یہ رکنا یہ متعدی نہیں ہوگا دوائیِ وطی کی طرف۔
”فَإِنْ جَامَعَ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا عَامِدًا أَوْ نَاسِيًا بَطَلَ اعْتِكَافُهُ“.
اگر وہ اعتکاف کرنے والے نے صحبت کر لی بیوی سے ”لَيْلًا أَوْ نَهَارًا“ رات کو یا دن کو ”عَامِدًا أَوْ نَاسِيًا“ جان بوجھ کر یا بھولے سے ”بَطَلَ اعْتِكَافُهُ“ تو اس کا اعتکاف باطل ہو جائے گا۔
”لِأَنَّ اللَّيْلَ مَحَلُّ الِاعْتِكَافِ“.
بھئی روزے کے اندر تو رات کے وقت رمضان کے اندر صحبت جائز ہوتی تھی لیکن یہاں رات کو بھی اجازت نہیں، اس لیے کیونکہ روزہ صرف دن کو ہوتا ہے رات کو نہیں اس لیے رات کو وہاں اجازت ہے لیکن اعتکاف وہ تو دن کو بھی ہوتا ہے اور رات کو بھی مسلسل ہوتا ہے تو لہٰذا اس لیے یہاں رات بھی اعتکاف کا وقت ہی ہے تو اس لیے رات کے وقت بھی اجازت نہیں ہوگی۔
تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ اللَّيْلَ مَحَلُّ الِاعْتِكَافِ بِخِلَافِ الصَّوْمِ“ اس لیے کیونکہ رات جو ہے وہ بھی اعتکاف کا محل ہے بخلاف روزے کے ”وَحَالَةُ الْعَاكِفِينَ مُذَكِّرَةٌ فَلَا يُعْذَرُ بِالنِّسْيَانِ“ اور نیز اعتکاف والوں کی جو حالت ہے وہ ان کو یاد کروانے والی ہے لہٰذا ان کو معذور قرار نہیں دیا جائے گا بھولنے کی وجہ سے۔
بھئی روزے کے اندر تو انسان بھولے سے اگر کر لے صحبت وغیرہ تو روزے پر اثر نہیں پڑتا، اس لیے کیونکہ روزہ تو ایک باطنی چیز ہے ظاہری اعتبار سے انسان کو کچھ کرنا پڑتا ہے روزے میں؟ ظاہری اعتبار سے کچھ بھی نہیں کرنا پڑتا لہٰذا انسان بھول جاتا ہے یاد نہیں رہتی یہ چیز، لیکن اعتکاف کے اندر تو وہ مسجد کے اندر رہتا ہے اور یہ اعتکاف کی حالت ہر وقت اس کو کیا کرتی ہے؟ اس کو یاد کرواتی رہتی ہے کہ وہ کس حالت میں ہے اس وقت؟ اعتکاف کی حالت میں ہے، لہٰذا یہاں پر بھولنے کو بھی عذر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ معنی ہے: ”وَحَالَةُ الْعَاكِفِينَ مُذَكِّرَةٌ“ معتکفین کی جو حالت ہے وہ ان کو یاد کروانے والی ہے کہ وہ حالتِ اعتکاف میں ہیں ”فَلَا يُعْذَرُ بِالنِّسْيَانِ“ تو ان کو معذور نہیں قرار دیا جائے گا بھولنے کی وجہ سے۔
”وَلَوْ جَامَعَ فِيمَا دُونَ الْفَرْجِ فَأَنْزَلَ أَوْ قَبَّلَ أَوْ لَمَسَ فَأَنْزَلَ يَبْطُلُ اعْتِكَافُهُ“.
اور اگر معتکف نے صحبت کی بیوی سے ”فِيمَا دُونَ الْفَرْجِ“ شرمگاہ کے علاوہ میں ”فَأَنْزَلَ“ تو اس کو انزال ہو گیا ”أَوْ قَبَّلَ“ یا اس نے بوسہ لیا ”أَوْ لَمَسَ“ یا اس کو چھوا یعنی ہاتھ لگایا ”فَأَنْزَلَ“ تو اس کو انزال ہو گیا ”يَبْطُلُ اعْتِكَافُهُ“ تو بھی اس کا اعتکاف باطل ہو جائے گا۔
بھئی ان چیزوں سے کیوں باطل ہوگا؟ کہتے ہیں بھئی: ”لِأَنَّهُ فِي مَعْنَى الْجِمَاعِ“ اس لیے کیونکہ یہ چیزیں بھی کس معنی میں ہیں؟ جماع کے معنی میں ہیں۔ میں نے بتلایا تھا ایک ہے صورتِ جماع ایک ہے معنیٰ جماع۔ صورت جماع تو دخول کی صورت میں ہے اور معنیٰ جماع کس صورت میں ہے؟ کہ مباشرت پائی جائے مباشرت، مرد عورت کے بدن کا ملنا اور اس کے ساتھ انزال ہو شہوت کے ساتھ تو یہ کیا ہے؟ معنیٰ جماع۔ تو یہاں پر بھی معنیٰ جماع پایا جا رہا ہے دیکھو انزال ہوا ہے شہوت کے ساتھ اور عورت کو اس نے چھوا ہے یا اس کا بوسہ لیا ہے تو لہٰذا یہ معناً جماع ہوا اور جماع تو اعتکاف کی ممنوعہ چیزوں میں سے تھا لہٰذا اس سے کیا ہو جائے گا؟ اس کا اعتکاف باطل ہو جائے گا۔
”لِأَنَّهُ فِي مَعْنَى الْجِمَاعِ حَتَّى يَفْسُدَ بِهِ الصَّوْمُ“ اس لیے کیونکہ یہ بھی جماع کے معنی میں ہے یہاں تک کہ اس سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے، روزہ بھی اس سے کیا ہو جاتا ہے؟ فاسد ہو جاتا ہے اگر یاد ہو اور پھر اس طرح کرے۔
”وَلَوْ لَمْ يُنْزِلْ لَا يَفْسُدُ“ اور اگر انزال نہ ہو تو پھر اعتکاف فاسد نہیں ہوگا۔
بھئی یہ چیزیں جو ذکر ہوئیں ان میں اگر بوسہ لیا، چھوا وغیرہ اور انزال نہ ہوا، انزال نہ ہوا تو پھر اس کا اعتکاف فاسد نہیں۔ ہاں اگرچہ اس نے بہت بڑا گناہ کیا لیکن بہرحال اس کا اعتکاف فاسد نہیں۔
تو یہ معنی ہے: ”وَلَوْ لَمْ يُنْزِلْ لَا يَفْسُدُ“ اور اگر اس کو انزال نہ ہوا تو اس کا اعتکاف فاسد نہیں ہوگا ”وَإِنْ كَانَ مُحَرَّمًا“ اگرچہ یہ بھی حرام ہے ”لِأَنَّهُ لَيْسَ فِي مَعْنَى الْجِمَاعِ“ اس لیے کیونکہ یہ جماع کے معنی میں نہیں ہے کیونکہ یہاں انزال نہیں پایا گیا ”وَهُوَ الْمُفْسِدُ“ اور جماع ہی تو فاسد کرنے والا ہے ”وَلِهَذَا لَا يَفْسُدُ بِهِ الصَّوْمُ“ اور اسی وجہ سے اس کی وجہ سے روزہ بھی فاسد نہیں ہوتا۔
”وَمَنْ أَوْجَبَ عَلَى نَفْسِهِ اعْتِكَافَ أَيَّامٍ لَزِمَهُ اعْتِكَافُهَا بِلَيَالِيهَا“.
بھئی یہ مسئلہ میں شروع میں بتلا چکا ہوں کہ منت کے ذریعے جب کوئی آپ اعتکاف اپنے اوپر لازم کرتے ہیں تو وہاں روزہ بھی خود بخود لازم ہو جائے گا کیونکہ روزہ اعتکاف کی شرائط میں سے ہے۔ سمجھ میں آ گئی بات؟ تو ایک شخص پانچ دن کا اعتکاف اس کی منت اس نے مانی روزے کو اس نے ذکر بھی نہیں کیا لیکن اگر وہ کام ہو جاتا ہے تو اس پر پانچ دن کا اعتکاف مع روزوں کے روزوں کے ساتھ اس پر لازم ہوگا بھئی، یہی ذکر کر رہے ہیں۔
ہاں اور یہاں یہ بتلا رہے ہیں کہ جو شخص دنوں کا ذکر تو کرتا ہے راتوں کو اس نے ذکر ہی نہیں کیا کہ اے اللہ اگر میرا یہ کام ہو گیا میں پانچ دن کا اعتکاف کروں گا تو یاد رکھیے راتیں خود بخود ساتھ شامل ہو جائیں گی۔ راتیں خود بخود شامل ہو جائیں گی، تو پانچ دن بھی اور ان کی جو راتیں بھی ہیں وہ بھی داخل ہو جائیں گی۔ اور رات آتی ہے رات آتی ہے پہلے اور دن آتا ہے بعد میں، تو لہٰذا وہ راتیں پانچ راتیں جو ہیں وہ بھی ساتھ ملانا پڑیں گی، ساتھ ملانا پڑیں گی۔
اور یہ بھی ایک بات یاد رکھنا بھئی اگر کوئی شخص اعتکاف فاسد کر دیتا ہے اعتکاف کو مثلاً رمضان کے اندر بیٹھا تھا سنت اعتکاف، درمیان میں کسی وقت وہ باہر نکل آیا مسجد سے تو اعتکاف فاسد ہوا۔ یا اسی طرح اسی طرح اس نے منت پانچ دن کے اعتکاف کی مانی تھی دو دن بعد یہ کسی وجہ سے نکل آیا تو اعتکاف کیا ہوا؟ فاسد۔
تو اس صورت میں یاد رکھیے جس دن کا اعتکاف فاسد کیا ہے نا جس دن کا اس اعتکاف کی قضا بھی اس پر لازم ہوگی، اس کی قضا بھی لازم ہوگی لہٰذا ایک دن ایک رات کا اعتکاف پھر کرے گا یہ اس کی قضا کے طور پر۔ وہ جس دن والا اعتکاف اس نے فاسد کیا ہے نا اس کی قضا آئے گی اور ساتھ رات بھی ملائے گا تو ایک رات اور ایک دن کا اعتکاف اس کو قضا کرنا پڑے گی اور وہ مثلاً اس نے رمضان کا اعتکاف اس کا تھا سنت اعتکاف، اس میں چوتھے پانچویں دن یہ نکل آیا تو یاد رکھو اس کا اعتکاف فاسد ہوا اب صرف اس کے ذمے ایک دن رات اعتکاف کی قضا کرنا پڑے گی اس کو اور روزے کے ساتھ کرنا پڑے گی آپ پڑھ چکے ہیں تو روزہ رکھے گا اور ایک دن رات کا اعتکاف پھر کر لے گا تو قضا ادا ہو جائے گا۔ اور باقی وہ سنت اعتکاف وہ تو ختم ہی ہو گیا کیونکہ نکل آیا، صورت سمجھ میں ہاں جتنا جتنے دن کا اعتکاف ہوا تھا اس کا ثواب اس کو ملا یہ نہیں کہ اس کا ثواب ہی نہیں ملا، وہ ثواب ملا لیکن بہرحال سنت اعتکاف نہ رہا کیونکہ سنت تو کیا تھا؟ پورا پورا عشرے کا اعتکاف تھا دو چار دن کا اعتکاف نہیں بھئی۔
تو اور ہاں واجب کے اندر جب کوئی شخص منت مانتا ہے اب اس نے مثلاً پانچ چھ دن کی منت مانی ہے تو یہ اعتکاف اس پر واجب ہو گیا اور اس کے اندر آپ پڑھ چکے مسلسل ہونا بھی ضروری ہے۔ میں نے ذکر کیا تھا کہ اس کے اندر مسلسل ہونا بھی ضروری ہے آگے صاحبِ ہدایہ بھی آپ کو بتلائیں گے، لہٰذا اگر یہ درمیان میں ایک دن ایک دو دن کے بعد ہی نکل آتا ہے تو اس پر بھی اس ایک دن رات کے اعتکاف کی قضا اس کے ذمے ہے اور وہ منت والا ابھی بھی پورا نہیں وہ پھر دوبارہ سے رکھنا پڑے گا اور مسلسل پانچ دن کرے گا۔ یہ نہیں کہ دو دن کر چکا ہے اب پھر بعد میں تین دن مزید کر لے تو پورا ہو جائے گا، نہیں نہیں مسلسل ہونا ضروری ہے لہٰذا پھر دوبارہ نئے سرے سے کیا کرنا پڑے گا؟ پانچ دن کا اعتکاف کرنا پڑے گا اور روزوں سمیت اور راتیں بھی ساتھ شامل ہوں گی۔
تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ أَوْجَبَ عَلَى نَفْسِهِ اعْتِكَافَ أَيَّامٍ لَزِمَهُ اعْتِكَافُهَا بِلَيَالِيهَا“ اور جس نے واجب کیا اپنے اوپر چند دنوں کا اعتکاف ”لَزِمَهُ اعْتِكَافُهَا بِلَيَالِيهَا“ تو اس شخص پر لازم ہوگا ان دنوں کا اعتکاف ”بِلَيَالِيهَا“ ساتھ ان دنوں کی راتوں کے، ان کی راتیں بھی آ جائیں گی ”لِأَنَّ ذِكْرَ الْأَيَّامِ عَلَى سَبِيلِ الْجَمْعِ يَتَنَاوَلُ مَا بِإِزَائِهَا مِنَ اللَّيَالِي“ اس لیے کیونکہ دنوں کا ذکر کرنا جمع کے طریقے پر یہ شامل ہوتا ہے مع ان چیزوں کو بھی ”بِإِزَائِهَا“ جو اس کے مقابلے میں ہیں ”مِنَ اللَّيَالِي“ یعنی کہ راتیں۔ دنوں کو جب جمع کے صیغے کے ساتھ ذکر کیا جائے، بھئی دن کو عربی میں کیا کہتے ہیں؟ یوم اور جمع کیا ہے؟ ایام، تو ایام کا لفظ جب بولا جائے تو وہ دنوں کے ساتھ ساتھ راتوں کو بھی شامل ہوتا ہے صرف دن مراد نہیں ہوتے بلکہ راتیں بھی مراد ہوتی ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ مثلاً ایک شخص دوسرے سے کہتا ہے: ”مَا رَأَيْتُكَ مُنْذُ أَيَّامٍ“ میں نے کئی دنوں سے آپ کو نہیں دیکھا، تو اس کا کیا معنی ہوتا ہے صرف دنوں کو نہیں دیکھا راتوں کو نظر آتے رہے ہو یا راتیں بھی ساتھ شامل ہوتی ہیں؟ راتیں بھی شامل ہوتی ہیں بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟
یہ معنی ہے: ”لِأَنَّ ذِكْرَ الْأَيَّامِ عَلَى سَبِيلِ الْجَمْعِ يَتَنَاوَلُ مَا بِإِزَائِهَا مِنَ اللَّيَالِي“ اس لیے کیونکہ دنوں کا ذکر کرنا جمع کے طریقے پر یہ شامل ہوتا ہے ان راتوں کو بھی جو اس کے مقابلے میں ہوتی ہیں۔ ”يُقَالُ“ کہتے ہیں عربی زبان میں: ”مَا رَأَيْتُكَ مُنْذُ أَيَّامٍ“ میں نے نہیں دیکھا آپ کو کئی دنوں سے ”وَالْمُرَادُ بِلَيَالِيهَا“ اور مراد کیا ہوتا ہے؟ ان کی راتوں سمیت بھئی، ان کی راتوں کے ساتھ۔
”وَكَانَتْ مُتَتَابِعَةً وَإِنْ لَمْ يَشْتَرِطِ التَّتَابُعَ“ اور نیز وہ ایام جو ہیں وہ پے در پے ہوں گے مسلسل ہوں گے اگرچہ اس نے تتابع کی شرط نہیں لگائی۔ منت ماننے والے نے اگرچہ ان ایام کے مسلسل ہونے کی اور پے در پے ہونے کی شرط نہیں لگائی اس نے تو صرف اتنا کہا تھا کہ اے اللہ اگر میرا یہ کام ہوا میں پانچ دن اعتکاف بیٹھوں گا تو اس نے مسلسل ہونے کو ذکر نہیں کیا لیکن خود بخود تتابع کیا ہو جائے گا؟ ثابت ہو جائے گا وہ ایام مسلسل ہوں گے۔ یہ معنی ہے: ”وَكَانَتْ مُتَتَابِعَةً“ اور وہ ایام جو ہیں مسلسل ہوں گے ”وَإِنْ لَمْ يَشْتَرِطِ التَّتَابُعَ“ اگرچہ اس نے مسلسل ہونے کی شرط نہیں لگائی ”لِأَنَّ مَبْنَى الِاعْتِكَافِ عَلَى التَّتَابُعِ“ اس لیے کیونکہ اعتکاف کی بنیاد تتابع پر ہے مسلسل ہونے پر ہے ”لِأَنَّ الْأَوْقَاتَ كُلَّهَا قَابِلَةٌ لَهُ“ اس لیے کیونکہ اوقات جو ہیں وہ سارے کے سارے وہ اعتکاف کے قابل ہیں، دن بھی اور رات بھی وہ سب اعتکاف کے قابل ہیں ”بِخِلَافِ الصَّوْمِ“ بخلاف روزے کے ”لِأَنَّ مَبْنَاهُ عَلَى التَّفَرُّقِ“ روزے کی بنیاد تفرق یعنی جدا ہونے پر ہے ”لِأَنَّ اللَّيَالِيَ غَيْرُ قَابِلَةٍ لِلصَّوْمِ“ اس لیے کیونکہ راتیں جو ہیں وہ روزوں کے قابل نہیں۔
بھئی بتلا رہے ہیں روزے کی اگر کوئی منت مانتا ہے اے اللہ اگر میرا یہ کام ہوا میں پانچ روزے رکھوں گا، اس سے تتابع نہیں آئے گا چاہے وہ پانچ روزے مسلسل رکھے چاہے الگ الگ کر کے رکھے دونوں صورتیں ٹھیک ہیں لیکن کیونکہ روزوں کی بنیاد جدا جدا ہونے پر ہے کیونکہ ہر دو روزوں کے درمیان رات آتی ہے اور رات تو روزے کا وقت نہیں ہے اس میں تو روزہ نہیں ہوتا تو لہٰذا روزے ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں لیکن اعتکاف کے اندر تو راتیں بھی شامل ہوتی ہیں تو وہاں اس لیے کیا آ جائے گا؟ تتابع آ جائے گا۔
تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ الصَّوْمِ“ بخلاف روزے کے ”لِأَنَّ مَبْنَاهُ عَلَى التَّفَرُّقِ“ اس لیے کیونکہ روزے کی بنیاد جدا ہونے پر ہے ”لِأَنَّ اللَّيَالِيَ غَيْرُ قَابِلَةٍ لِلصَّوْمِ“ اس لیے کیونکہ راتیں جو ہیں وہ روزے کی صلاحیت نہیں رکھتی وہ روزے کے قابل نہیں ہیں ”فَيَجِبُ عَلَى التَّفَرُّقِ“ تو لہٰذا روزہ واجب ہوگا جدا جدا طریقے پر ”حَتَّى يَنُصَّ عَلَى التَّتَابُعِ“ یہاں تک کہ وہ شخص تصریح کر دے مسلسل ہونے پر۔
بھئی ایک آدمی ہے وہ پانچ روزوں کی منت مانتا ہے تو پانچ الگ الگ رکھ سکتا ہے حتیٰ کہ وہ تصریح کر دے پھر تتابع آئے گا۔ خود کہتا ہے اے اللہ اگر میرا یہ کام ہوا تو میں مسلسل پانچ روزے رکھوں گا اب تو اس نے خود کیا کیا؟ اپنی زبان سے تصریح کر دی کہ روزے کس طرح کے ہوں گے؟ مسلسل ہوں گے تو اس صورت میں پھر تتابع شرط ہوگا۔ یہ معنی ہے: ”حَتَّى يَنُصَّ عَلَى التَّتَابُعِ“ یہاں تک کہ وہ تصریح کر دے مسلسل ہونے پر۔
”وَإِنْ نَوَى الْأَيَّامَ خَاصَّةً صَحَّتْ نِيَّتُهُ لِأَنَّهُ نَوَى الْحَقِيقَةَ“.
اور اگر اس شخص نے اعتکاف کرنے والے نے صرف دنوں کی نیت کی ہے، کیا نیت کی ہے؟ دنوں کی نیت کی ہے کہ اے اللہ میں پانچ دن کا اعتکاف کروں گا لیکن اس کا ارادہ کیا ہے؟ باقاعدہ دل میں اس کا ارادہ ہے کہ دن ہی دن مراد ہیں راتیں مراد نہیں ہیں تو پھر جیسی اس نے نیت کی اسی طرح کا اعتکاف اس پر واجب ہو جائے گا یعنی اب راتیں شامل نہیں ہوں گی۔
یہ معنی ہے: ”وَإِنْ نَوَى الْأَيَّامَ خَاصَّةً“ اور اگر اس نے دنوں کی نیت کی خاص طور پر ”صَحَّتْ نِيَّتُهُ“ تو اس کی نیت صحیح ہے ”لِأَنَّهُ نَوَى الْحَقِيقَةَ“ اس لیے کیونکہ اس نے حقیقت کی نیت کی ہے، اس نے کس کی نیت کی ہے؟ حقیقت کی نیت کی ہے۔ حقیقت میں یوم یوم کس کو کہتے ہیں؟ دن کا جو وقت ہے رات کو یہ شامل نہیں ہوتا تو اس نے بھی اسی کی نیت کی ہے لہٰذا صحیح ہے بھئی۔
”وَمَنْ أَوْجَبَ اعْتِكَافَ يَوْمَيْنِ يَلْزَمُهُ بِلَيَالِيهِمَا وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ: لَا تَدْخُلُ اللَّيْلَةُ الْأُولَى“.
صورت مسئلہ یہ کہ جمع کے صیغے کے ساتھ جب آپ اعتکاف کی اعتکاف کی منت مانتا ہے جمع کے صیغہ ایام کے ساتھ وہ ذکر کرتا ہے پھر تو راتیں شامل ہیں لیکن اگر مثلاً وہ دو دنوں کا اعتکاف مانتا ہے اس کی منت مانتا ہے تو کیا ان میں بھی دونوں راتیں دو راتیں آئیں گی یا صرف بیچ والی ایک رات آئے گی؟ بیچ والی ایک رات۔ تو امام صاحب کے نزدیک بھئی وہ دونوں راتیں ساتھ آئیں گی، بات سمجھ میں آئی؟ دو دن ہیں تو ان کے ساتھ راتیں بھی کتنی آ جائیں گی؟ دو راتیں آ جائیں گی۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، صرف بیچ والی دو دنوں کے جو درمیان والی ایک رات ہے وہ آ جائے گی اس لیے کیونکہ تتابع مسلسل ہونا تبھی ہو سکتا ہے نا جب اس رات کو بھی بیچ میں کیا کیا جائے؟ شامل کیا جائے، اگر اس رات کو نکالتے ہیں پھر تو دونوں دنوں کا اعتکاف الگ الگ ہو جائے گا حالانکہ اس میں کیا ضروری ہے اعتکاف میں؟ تتابع مسلسل ہونا ضروری، چنانچہ وہ فرماتے ہیں بیچ والی رات اس ضرورت کی وجہ سے آ جائے گی لیکن باقی اس سے پہلے والی رات نہیں آئے گی اس لیے کیونکہ جمع کے صیغے کے اندر تو ٹھیک ہے جب ایام کا لفظ جمع بولا جائے تو اس کے ساتھ راتیں بھی شامل ہوتی ہیں لیکن مفرد اور تثنیہ میں ایسا نہیں ہے، مفرد اور تثنیہ یوم یا یومان کا لفظ بولا جائے یوم اور یومانی یہ یہ لفظ بولے جائیں تو یہ راتوں کو شامل نہیں ہوتے، دلیل سمجھ میں آ گئی؟
”وَمَنْ أَوْجَبَ اعْتِكَافَ يَوْمَيْنِ“ اور جس نے واجب کیا اپنے اوپر دو دن کا اعتکاف ”يَلْزَمُهُ بِلَيَالِيهِمَا“ تو وہ اعتکاف اس پر لازم ہوگا ان کی راتوں کے ساتھ ہی ”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ: لَا تَدْخُلُ اللَّيْلَةُ الْأُولَى“ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پہلی رات جو ہے وہ داخل نہیں ہوگی اس میں منت کے اندر ”لِأَنَّ الْمُثَنَّى غَيْرُ الْجَمْعِ“ اس لیے کیونکہ تثنیہ جو ہوتا ہے وہ جمع کے علاوہ ہوتا ہے، تثنیہ کیا ہے؟ جمع کے علاوہ ہے۔ جمع میں ایام لفظ بولتا تھا تو راتیں شامل ہوتی تھیں لیکن یہاں تو وہ تثنیہ بول رہا ہے تو لہٰذا تثنیہ جمع کے علاوہ ہے اور اس لہٰذا اس کے اندر راتیں شامل نہیں ہوں گی۔
”وَفِي الْمُتَوَسِّطَةِ ضَرُورَةُ الِاتِّصَالِ“ اور درمیان والی رات کے اندر اتصال کی ضرورت ہے، ان دنوں کو ملانے کے لیے اس رات کی ضرورت ہے اس لیے درمیان والی رات آ جائے گی اس سے پچھلی رات نہیں آئے گی۔
”وَجْهُ الظَّاهِرِ“ ظاہر روایت کی وجہ یہ ہے وہ جو متن میں آیا کہ راتیں بھی دو آ جائیں گی، کہتے ہیں کہ ظاہر روایت کی وجہ یہ ہے ”أَنَّ فِي الْمُثَنَّى مَعْنَى الْجَمْعِ“ کہ تثنیہ کے اندر بھی جمع والا معنی پایا جاتا ہے۔ جمع کے اندر جیسے تین افراد آپس میں اکٹھے ہو جاتے ہیں کم از کم کتنے پر بولا جاتا ہے جمع کا لفظ؟ تین پر، تو جیسے اس میں تین افراد جمع ہو جاتے ہیں تو تثنیہ میں بھی کتنے افراد جمع ہو جاتے ہیں؟ دو افراد جمع ہو جاتے ہیں تو تثنیہ میں بھی کون سا معنی پایا جاتا ہے؟ جمع کرنے والا معنی پایا جاتا ہے کہ یہ دو چیزوں کو جمع کر دیتا ہے تو لہٰذا تثنیہ کو بھی جمع کے ساتھ ملایا جائے گا احتیاط بطور احتیاط کے، بطور احتیاط کے احتیاط اسی کے اندر ہے عبادت کا معاملہ ہے تو احتیاط ضروری ہے لہٰذا کیا کیا جائے گا؟ دو راتیں آ جائیں گی ایک رات نہیں بلکہ دو راتیں بھی ساتھ اعتکاف کرنا پڑے گا۔
کہتے ہیں: ”وَجْهُ الظَّاهِرِ أَنَّ فِي الْمُثَنَّى مَعْنَى الْجَمْعِ“ ظاہر روایت کی وجہ یہ ہے کہ تثنیہ کے اندر بھی جمع والا معنی پایا جاتا ہے ”فَيُلْحَقُ بِهِ احْتِيَاطًا لِأَمْرِ الْعِبَادَةِ“ تو اس تثنیہ کو بھی جمع کے ساتھ ملایا جائے گا احتیاطاً لأمر العبادة عبادت کا معاملہ ہونے کی وجہ سے بطور احتیاط کے۔ ”وَاللهُ أَعْلَمُ“ اور اللہ خوب جاننے والے ہیں، چلیے بس بھئی ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقة الکلام۔