قَالَ: ”وَمَنْ قَلَّدَ بَدَنَةً تَطَوُّعًا، أَوْ نَذْرًا، أَوْ جَزَاءَ صَيْدٍ، أَوْ شَيْئًا مِنَ الْأَشْيَاءِ، وَتَوَجَّهَ مَعَهَا يُرِيدُ الْحَجَّ، فَقَدْ أَحْرَمَ؛ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: مَنْ قَلَّدَ بَدَنَةً فَقَدْ أَحْرَمَ“.
”وَمَنْ قَلَّدَ بَدَنَةً“؛ قَلَّدَ يُقَلِّدُ تَقْلِيدٌ کا معنی ہے ہار پہنانا، قلادہ پہنانا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ قلادہ۔ تو قلادہ جس طرح یہ ہار کو کہتے ہیں، اسی طرح جانور کے گلے میں جو پٹا وغیرہ ڈالا جائے اس کو بھی قلادہ کہتے ہیں؛ کیونکہ جس طرح ہار نے گلے کا احاطہ کیا ہوتا ہے، اسی طرح اس پٹے نے بھی گلے کا احاطہ کیا ہوتا ہے۔ تو وہ جو پٹا جانور کے گلے میں پہنایا جائے، اسے بھی قلادہ کہتے ہیں۔ تقلید کا معنی ہے قلادہ پہنانا، یعنی وہ جانور کے گلے میں پٹا پہنانا۔
”بَدَنَةً“؛ بدنَہ بھئی، بڑا جانور یہ جو اونٹ اور گائے وغیرہ ان پر اس کا اطلاق ہوتا ہے، اور مفرد ہے ”بَدَنَةٌ“، اور جمع جو ہے اس کی ”بُدُنٌ“ اور ”بُدْنٌ“ دال کے سکون اور دال کے ضمہ دونوں کے ساتھ صحیح ہے بھئی۔ تو مفرد کیا ہے؟ ”بَدَنَةٌ“ اور جمع کیا ہے؟ ”بُدُنٌ“ اور ”بُدْنٌ“۔
قَالَ، امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جامعِ صغیر میں: ”وَمَنْ قَلَّدَ بَدَنَةً“ اور جس نے قلادہ پہنایا بدنہ کو، یعنی اونٹ یا گائے کو، ”تَطَوُّعًا“ چاہے وہ بدنہ جو ہے وہ نفلی ہو، یعنی اپنی طرف سے نفلی قربانی کے لیے اس جانور کو لے کر جا رہا ہے حرم، ”أَوْ نَذْرًا“ یا منت والا ہو، مثلاً اس نے منت مانی تھی کہ اگر میرا یہ کام ہو گیا تو ایک جانور کی قربانی کروں گا مکہ میں، ”أَوْ جَزَاءَ صَيْدٍ“ یا کسی شکار کی جزا ہو۔ آپ پڑھ چکے ہیں احرام کے اندر بہت سے افعال کی پابندی انسان پر لگ جاتی ہے، انہی میں سے ایک فعل شکار ہے۔ حالتِ احرام میں کسی بھی چیز کو نقصان پہنچانے سے، تکلیف دینے سے بالخصوص منع کیا گیا ہے، حتی کہ شکار کھیلنا بھی منع ہے۔ تو صورت یہ تھی مثلاً یہ جو شخص ہے اس نے کسی پچھلے احرام میں، کسی پچھلے احرام میں کوئی شکار کیا تھا اور اس شکار کی وجہ سے اس پر ایک جانور کی قربانی واجب ہو گئی تھی بھئی۔ تو اب اس سال یہ کیا کرتا ہے؟ اس جانور کو قربانی کے لیے اپنے ساتھ گھر سے لے کر چلتا ہے۔ تو یہ ہے جزاء الصید، وہ شکار کی جزا۔ اسی احرام میں نہیں، غلطی کب ہوئی تھی مثلاً؟ پچھلے کسی احرام میں، پہلے کہیں وہ حج یا عمرے پر گیا تھا، اس وقت شکار کیا تھا۔
تو جس نے قلادہ پہنایا بدنہ کو چاہے وہ نفلی ہو یا منت والا ہو یا شکار کی جزا ہو، ”أَوْ شَيْئًا مِنَ الْأَشْيَاءِ“ یا کسی بھی چیز کا ہو، چیزوں میں سے کسی بھی چیز کا وہ بدنہ ہو، چاہے یعنی کہ بھئی حجِ تمتع میں بھی قربانی واجب ہوتی ہے یا نہیں؟ اسی طرح حجِ قران میں بھی قربانی۔ تو چاہے یہ جانور یہ بدنہ جس کو وہ لے کر جا رہا ہے چاہے حجِ تمتع کا ہے، چاہے حجِ قران کا ہے، تو بہرحال جو بھی بدنہ ہو جس کو اس نے قلادہ پہنایا ہے، ”وَتَوَجَّهَ مَعَهَا“ اور اس کے ساتھ وہ متوجہ ہو گیا، چل پڑا مکہ کی طرف، ”يُرِيدُ الْحَجَّ“ اس حال میں کہ وہ حج کا ارادہ کرتا ہے، ”فَقَدْ أَحْرَمَ“ تو تحقیق وہ محرم بن گیا۔
مسئلہ کیا بیان کیا؟ جس نے کسی جانور کو، قربانی کا جانور جسے وہ مکہ لے جا رہا ہے، چاہے وہ نفلی قربانی ہے، چاہے منت والی قربانی ہے، چاہے شکار کی جزا ہے، چاہے قران کی قربانی ہے، چاہے تمتع کی قربانی ہے، اس جانور کو جب وہ قلادہ پہنا دے اور اس کے ساتھ حرم کی طرف متوجہ ہو جائے، چل پڑے، تو وہ شخص محرم بن جائے گا۔
تفصیلِ مسئلہ یاد رکھیے، بھئی آپ نے شروع میں پڑھا تھا، احرام کا جہاں بیان، حجِ افراد کا جہاں بیان آیا تھا، وہاں انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ صرف نیت کرنے سے بھی کوئی محرم نہیں بنتا اور صرف تلبیہ کہنے سے بھی کوئی محرم نہیں بنتا، بلکہ نیت بھی کرے اور تلبیہ بھی کہے بھئی۔ نیت بھی کرے اور تلبیہ بھی کہے زبان سے، تو پھر محرم بنتا ہے۔ اور اگر تلبیہ کے بجائے وہ کوئی ایسا فعل کر لیتا ہے جو احرام کی خصوصیات میں سے ہے، تو وہ فعل بھی اس تلبیہ کے قائم مقام ہو جائے گا۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟
محرم کب بنتا ہے انسان؟ جب نیت بھی کرے اور تلبیہ بھی کہے۔ صرف نیت سے بھی محرم نہیں، صرف تلبیہ سے بھی محرم نہیں۔ اب صورت یہ ہے ایک شخص وہ حج کی نیت کرتا ہے، بھئی ایک شخص ہے مثلاً وہ حج کا ارادہ کرتا ہے اور اس نے احرام کی دو چادریں بھی باندھ لیں اور اس نے نیت بھی، وہ احرام کی دو رکعت سنت جو تھے وہ بھی پڑھ لیے، اور اس کے بعد محرم کب بنے گا اب؟ جب وہ نیت کر لے گا اور تلبیہ کہہ لے گا۔ وہ نیت تو اس کی ہے لیکن ابھی اس نے تلبیہ نہیں کہا۔ تو تلبیہ کے بجائے اگر وہ کوئی ایسا فعل کر لیتا ہے جو احرام کی خصوصیات میں سے ہے، تو یہ فعل بھی تلبیہ کے قائم مقام ہو جائے گا اور اس کے ساتھ ہی وہ محرم بن جائے گا، کیونکہ دونوں چیزیں پائی گئیں۔ احرام کے لیے کیا ضروری تھا؟ نیت اور تلبیہ۔ نیت تو اس نے کی ہوئی ہے یہاں پر، اور ساتھ تلبیہ تو نہیں لیکن تلبیہ کا قائم مقام آ گیا، اور وہ کیا چیز؟ احرام کی خصوصیات میں سے کوئی خاص فعل پایا گیا۔ جو کس کے ساتھ خاص ہے؟ احرام کے ساتھ خاص ہے۔ اور یہاں پر مثلاً اس نے کیا کیا؟ جانور کو قلادہ پہنایا باقاعدہ اور اس کو لے کر چل پڑا۔ جیسے ہی چلے گا، صرف اس نے نیت کی ہے، تلبیہ نہیں کہا، لیکن جانور کو قلادہ پہنا کر جیسے ہی متوجہ ہوگا حرم کی طرف، وہ خود بخود محرم بن جائے گا۔ خود بخود کیا بن جائے گا؟ محرم بن جائے گا۔ تفصیلِ مسئلہ سمجھ میں آ گئی بھئی؟
لہٰذا معلوم ہوا تلبیہ کہنا ضروری ہے، لیکن اگر کوئی تلبیہ کا قائم مقام آ جائے تو وہ بھی کس جیسا عمل کرے گا؟ تلبیہ جیسا ہی عمل کرے گا اور اس کی وجہ سے احرام شروع ہو جائے گا۔ لیکن نیت ضروری ہے، وہ آپ پہلے پڑھ چکے، کیونکہ صرف تلبیہ سے بھی کوئی محرم نہیں بنتا اور صرف نیت سے بھی نہیں۔ دونوں چیزوں کا پایا جانا ضروری ہے۔ تو یہاں بھی کیا ضروری ہوا؟ نیت بھی ہو اور تلبیہ یا اس کا قائم مقام۔ اور تلبیہ تو نہیں آیا، پھر کیا آیا یہاں پر؟ اس کا قائم مقام آ گیا۔ کیا؟ جانور کو اس نے قلادہ پہنایا اور قلادہ پہنا کر چل پڑا۔ قلادہ کی قید ضروری ہے، تو گویا یہاں تین چیزیں آ گئیں: ایک یہ کہ جانور کو قلادہ پہنائے، دوسرا یہ کہ اس کو لے کر چل پڑے، اور تیسرا یہ کہ اس نے حج کی نیت بھی کی ہو۔ تو اس صورت میں کیا بن جائے گا؟ محرم بن جائے گا، اگرچہ اس نے ابھی زبان سے تلبیہ نہیں کہا بھئی۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی۔
لہٰذا محرم بن جائے گا اور اس پر احرام کی ساری پابندیاں لاگو ہو جائیں گی جو محرم پر لاگو ہوتی ہیں۔ اب وہ بال نہیں کاٹ سکتا، اب وہ ناخن نہیں کاٹ سکتا، شکار نہیں کھیل سکتا بھئی، خوشبو نہیں لگا سکتا، بیوی کے قریب نہیں جا سکتا، تمام پابندیاں لگ جائیں گی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا اچھی طرح؟
تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ قَلَّدَ بَدَنَةً تَطَوُّعًا، أَوْ نَذْرًا، أَوْ جَزَاءَ صَيْدٍ، أَوْ شَيْئًا مِنَ الْأَشْيَاءِ، وَتَوَجَّهَ مَعَهَا يُرِيدُ الْحَجَّ، فَقَدْ أَحْرَمَ“ اور جس نے بدنہ کو قلادہ پہنایا چاہے وہ نفلی ہو یا منت والا ہو، یعنی وہ بدنہ چاہے نفلی ہو یا منت والا ہو، ”أَوْ جَزَاءَ صَيْدٍ“ یا کسی شکار کی جزا ہو، مثلاً اس نے پچھلے احرام کے اندر جو ہے کوئی شکار کیا تھا، ”أَوْ شَيْئًا مِنَ الْأَشْيَاءِ“ یا یہ بدنہ چیزوں میں سے کسی بھی چیز کا ہو، چاہے حجِ قران کا ہو چاہے حجِ تمتع، جو بھی بدنہ ہے جو جانور لے کر وہ چل رہا ہے اس کو قلادہ پہنا دیا اور لے کر چل پڑا، نیت ہے اس کی، فوراً ہی محرم بن جائے گا۔ ”وَتَوَجَّهَ مَعَهَا“ اور اس کے ساتھ وہ متوجہ ہو گیا حرم کی طرف، یعنی چل پڑا، ”يُرِيدُ الْحَجَّ“ اس حال میں کہ یہ حج کا ارادہ کرتا ہے، ”فَقَدْ أَحْرَمَ“ تو تحقیق یہ محرم ہو گیا، ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس فرمانِ مبارک کے کہ آپ نے فرمایا: ”مَنْ قَلَّدَ بَدَنَةً فَقَدْ أَحْرَمَ“ جس نے قلادہ پہنایا بدنہ کو تو تحقیق وہ محرم ہو گیا۔
”وَلِأَنَّ سَوْقَ الْهَدْيِ“ یہاں سے عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں، نقلی دلیل ذکر کر دی۔ کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ سَوْقَ الْهَدْيِ فِي مَعْنَى التَّلْبِيَةِ“ اور اس لیے کیونکہ ہدی کو ہانکنا، ہدی بھئی یہ جو قربانی کا جانور جس کو حرم لے جایا جاتا ہے، حرم بھیجا جاتا ہے، اس کو ہدی کہتے ہیں بھئی، هَدْيٌ بھئی هَدْيٌ۔ تو کہتے ہیں بھئی یہ جو ہدی کو ہانکنا ہے، ہانکنا بھئی ایک ہے ہانکنا ہوتا ہے کہ جانور آگے ہوتا ہے انسان اس کے پیچھے چل رہا ہے، اس کو ہانک کر لے جا رہا ہے۔ اور ایک ہے جانور کو آگے سے کھینچنا، لے جانا، اس کو، وہ جو کھینچنے والا ہے وہ قائد کہلائے گا، اور یہ جو پیچھے سے ہانکنے والا ہے یہ سائق کہلائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ سَوْقَ الْهَدْيِ فِي مَعْنَى التَّلْبِيَةِ“ اس لیے کیونکہ اس قربانی کے جانور کو ہانکنا یہ تلبیہ کے معنی میں ہی ہے، یہ تلبیہ کی طرح ہی ہے، اور تلبیہ سے بھی انسان کیا بن جاتا تھا؟ محرم، جب اس کے ساتھ کیا مل جاتی تھی؟ نیت ملتی تھی، تو یہاں بھی نیت اس کی موجود ہے اور ساتھ تلبیہ کے، تلبیہ تو نہیں لیکن وہ چیز ہے جو تلبیہ کے قائم مقام ہے۔ یہ معنی: ”وَلِأَنَّ سَوْقَ الْهَدْيِ فِي مَعْنَى التَّلْبِيَةِ فِي إِظْهَارِ الْإِجَابَةِ“ اور اس لیے کیونکہ قربانی کے جانور کو، ہدی کو ہانکنا یہ بھی تلبیہ کے معنی میں ہے، ”فِي إِظْهَارِ الْإِجَابَةِ“، أَجَابَ يُجِيبُ اِجَابَةٌ کے معنی ہیں قبول کرنا، قبولیت کے ظاہر کرنے میں یہ بھی تلبیہ کے معنی میں ہے۔ ہدی کو ہانکنا یہ بھی تلبیہ کے معنی میں ہے قبولیت کو ظاہر کرنے کے لیے۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کو حج پر بلایا گیا، حج کو فرض کر دیا گیا لوگوں پر بھئی۔ اب ایک تو زبان سے اس دعوت کو قبول کرنا ہے۔ اللہ کی طرف سے بلایا گیا کہ میرے بیت اللہ کا حج کرو بھئی، اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں پر بیت اللہ کا حج فرض کر دیا گیا اور پکارا گیا کہ سب لوگ کیا کریں؟ میرے اس گھر کا حج کریں جو بھی استطاعت رکھتے ہیں بھئی، جو بھی استطاعت رکھتے ہیں۔ اور یہ تلبیہ کے ذریعے دراصل کیا کرتا ہے؟ انسان اس دعوت کو قبول کرتا ہے۔ اس دعوت کو: ”لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ“ اے اللہ، میں حاضر ہوں، میں آپ کی اطاعت اور فرمانبرداری کے لیے حاضر ہوں، آپ نے جس حج کی طرف ہمیں بلایا تھا، اس حج کے لیے ہم حاضر ہیں بھئی۔
تو جس طرح یہ اس دعوت کو قبول کرنا تلبیہ کے ذریعے ہے، اسی طرح ایسا فعل، ایسے فعل کے ذریعے بھی اس کی قبولیت کو ظاہر کیا جا سکتا ہے جو صرف حج یا عمرے والا کرتا ہے، جو کون کرتا ہے؟ حج یا عمرے والا جو فعل کرتا ہے، یعنی وہ فعل جو خاص ہے کس کے ساتھ؟ حج پر جانے والے کے ساتھ یا عمرے پر جانے والے کے ساتھ۔ تو یہ فعل بھی، اس کا یہ فعل بھی اس بات کو ظاہر کر رہا ہے کہ وہ اللہ کی اس دعوت کو، اللہ کی طرف کے اس حکم کو کیا کر رہا ہے؟ قبول کر رہا ہے۔ تو جیسے تلبیہ کے ذریعے قبول، قبولیت کا اظہار کیا جاتا ہے، اسی طرح حج یا عمرے کا کوئی خاص فعل وہ شروع کرے گا، تو اس خاص فعل کا شروع کرنا بھی کیا بتلا رہا ہے؟ وہ اس حکم کو قبول کر رہا ہے اور اس پر لبیک کہہ رہا ہے اور اللہ کے گھر وہ حاضری کے لیے چل پڑا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو جس طرح تلبیہ کے ذریعے اس حکم کو یا اس دعوت کو قبول کیا جاتا ہے، اسی طرح حج یا عمرے کے کسی خاص فعل کے ذریعے بھی کیا کیا جاتا ہے؟ دعوت کو قبول کیا جاتا ہے اور اس کی قبولیت کا اظہار کیا جاتا ہے۔
تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ سَوْقَ الْهَدْيِ فِي مَعْنَى التَّلْبِيَةِ فِي إِظْهَارِ الْإِجَابَةِ“ اور اس لیے کیونکہ اس جانور کا ہانکنا جو ہے یہ تلبیہ کے معنی میں ہے قبولیت کو ظاہر کرنے میں، ”لِأَنَّهُ لَا يَفْعَلُهُ إِلَّا مَنْ يُرِيدُ الْحَجَّ أَوِ الْعُمْرَةَ“ اس لیے کیونکہ یہ فعل کرتا نہیں ہے مگر وہ شخص جس کا ارادہ حج یا عمرے کا ہو، ”وَإِظْهَارُ الْإِجَابَةِ قَدْ يَكُونُ بِالْفِعْلِ كَمَا يَكُونُ بِالْقَوْلِ“ اور قبولیت کو ظاہر کرنا یہ کبھی فعل کے ذریعے ہوتا ہے جیسے کہ یہ کبھی قول کے ذریعے ہوتا ہے۔ دعوت کو قبول کرنا کبھی زبان کے ذریعے ہوگا اور کبھی فعل کے ذریعے بھی ہوتا ہے۔ ”فَيَصِيرُ بِهِ مُحْرِمًا“ تو اس جانور کو ہانکنے کی وجہ سے، اس ہدی کو ہانکنے کی وجہ سے وہ شخص محرم بن جائے گا، ”لِاتِّصَالِ النِّيَّةِ بِفِعْلٍ هُوَ مِنْ خَصَائِصِ الْإِحْرَامِ“ اس وجہ سے کہ مل گئی نیت ایسے فعل کے ساتھ جو احرام کی خصوصیات میں سے ہے۔ بھئی ”بِفِعْلٍ“ نکرہ آیا، اور نکرہ کے بعد ”هُوَ مِنْ خَصَائِصِ الْإِحْرَامِ“ جملہ اسمیہ آیا، اور جملہ بھی کس کے حکم میں؟ نکرہ کے حکم میں، تو نکرہ کے بعد نکرہ آیا، لہٰذا یہ اس کے لیے کیا بنے گا؟ صفت۔ اور موصوف صفت کا ترجمہ کرتے ہوئے موصوف سے پہلے پھر کیا لفظ لے آئیں گے؟ ایسے، تو دیکھیے: ”لِاتِّصَالِ النِّيَّةِ بِفِعْلٍ هُوَ مِنْ خَصَائِصِ الْإِحْرَامِ“ بوجہ مل جانے نیت کے کہ نیت مل گئی ایسے فعل کے ساتھ جو احرام کی خصوصیات میں سے ہے۔
”وَصِفَةُ التَّقْلِيدِ“، یہاں سے تقلید کا طریقہ بھی بتلا رہے ہیں۔ بھئی یہ قدیم طریقہ تھا اور اس کے ذریعے دیکھنے والا ہر ایک جان لیتا تھا کہ یہ جانور حرم قربانی کے لیے لے جایا جا رہا ہے کہ اس کے گلے میں وہ کوئی رسی وغیرہ یا پٹا وغیرہ لٹکا دیا جاتا، کس کے ساتھ؟ کوئی پرانا چمڑے کا ٹکڑا اس میں لٹکا دیا جاتا، یا کوئی پرانا جوتا پرانا جوتا وغیرہ لٹکا دیا جاتا، یا اس کے گلے میں درخت کی چھال وغیرہ لٹکا دی جاتی، یا اسی طرح کوئی پانی وغیرہ کے برتن کا دستہ وغیرہ یہ اس کے گلے میں لٹکا دیا جاتا تھا بھئی۔ تفصیل سمجھ میں آ رہی ہے؟ ایک تو ویسے جانور کے گلے میں پٹا پہنانا ہے نا، اور ایک وہ کیا کرتے تھے باقاعدہ؟ کوئی پرانا چمڑے کا ٹکڑا لٹکا دیا کرتے تھے اس کے گلے میں چاہے رسی کے ساتھ ہو یا کسی چیز کے ساتھ ہو، یا اسی طرح درخت کی چھال لٹکا دیتے تھے، یا اسی طرح پانی کے برتن کا دستہ وغیرہ، جو جو اس زمانے میں طریقہ تھا، وہ جانور کے گلے میں لٹکا دیا جاتا تھا۔ چنانچہ جو بھی اس جانور کو دیکھتا تھا جہاں سے لے کر گزرتے تھے، وہ جانور کو دیکھتے ہی پہچان لیتے تھے کہ اس جانور کو کہاں لے جایا جا رہا ہے؟ حرم قربانی کے لیے لے جایا جا رہا ہے۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی؟
تو یہی ذکر کر رہے ہیں: ”وَصِفَةُ التَّقْلِيدِ“ اور تقلید کا طریقہ یہ ہے، ”أَنْ يَرْبُطَ عَلَى عُنُقِ بَدَنَتِهِ قِطْعَةَ نَعْلٍ أَوْ عُرْوَةَ مَزَادَةٍ أَوْ لِحَاءَ شَجَرَةٍ“ وہ یہ کہ باندھ دے ”عَلَى عُنُقِ بَدَنَتِهِ“ اپنے بدنہ کی گردن پر، کیا باندھ دے؟ ”قِطْعَةَ نَعْلٍ“ جوتے کا ٹکڑا، نعل کہتے ہیں جوتے کو، ”قِطْعَةَ نَعْلٍ“ جوتے کا کوئی ٹکڑا باندھ دے، ”أَوْ عُرْوَةَ مَزَادَةٍ“، عروۃ کہتے ہیں دستے کو، دستہ بھئی، مزادہ کہتے ہیں پانی کا مشکیزہ جو ہوتا ہے یا پانی کا جو برتن وغیرہ ہو اس کو کہتے ہیں مزادہ، تو ”عُرْوَةَ مَزَادَةٍ“ پانی کے برتن کا دستہ اس کے گلے میں باندھ دے، ”أَوْ لِحَاءَ شَجَرَةٍ“، لحاء کہتے ہیں درخت کی چھال کو، چھال بھئی، ”أَوْ لِحَاءَ شَجَرَةٍ“ یا درخت کی چھال کو۔
”فَإِنْ قَلَّدَهَا وَبَعَثَ بِهَا وَلَمْ يَسُقْهَا لَمْ يَصِرْ مُحْرِمًا“؛ صورت یہ ایک آدمی نے اپنے جانور کو کے گلے میں قلادہ تو پہنا دیا لیکن خود نہیں اس کے ساتھ چلا، بلکہ ساتھیوں کے ہاتھ بھجوا دیا۔ تو کیا اس سے بھی وہ محرم بن جائے گا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، اس سے محرم نہیں بنے گا، بلکہ خود یہ اس کو ہانک کر چلے گا اور ارادہ بھی کس کا ہوگا؟ حج کا، حج وغیرہ کا ہوگا تو پھر اس صورت میں وہ محرم بنے گا، کیونکہ نیت بھی تو ضروری ہے۔ کوئی خاص فعل ہو، احرام کا خاص فعل پایا جائے اور ساتھ کیا ہو؟ نیت ہو۔ لہٰذا اگر کسی اور کے ہاتھ بھجوا دیا چاہے قلادہ بھی پہنا دیا ہے تو اس صورت میں یہ محرم نہیں بنے گا۔ تو کہتے ہیں: ”فَإِنْ قَلَّدَهَا“ اگر اس بدنہ کو قلادہ پہنایا ”وَبَعَثَ بِهَا“ اور اس کو بھجوا دیا ”وَلَمْ يَسُقْهَا“ اور خود اس کو ہانکا نہیں ”لَمْ يَصِرْ مُحْرِمًا“ تو اس سے یہ محرم نہیں بنے گا۔
”لِمَا رُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَبَعَثَ بِهَا وَأَقَامَ فِي أَهْلِهِ حَلَالًا“، بوجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہ آپ نے فرمایا: ”كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَبَعَثَ بِهَا وَأَقَامَ فِي أَهْلِهِ حَلَالًا“، وہ فرماتی ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جو ہدی ہوتی تھی اس کے قلادے میں بٹا کرتی تھی۔ میں کیا کرتی تھی؟ میں ان کی، حضور علیہ السلام کی جو ہدی ہوتی تھی اس کے قلادے میں بٹا کرتی تھی، یعنی وہ رسی وغیرہ اس کی بناتی ہوں گی، اور پھر حضور علیہ السلام ان جانوروں کو بھجوا دیا کرتے تھے حرم اور خود مدینہ منورہ ہی میں حلال ہو کر مقیم رہتے تھے۔ حلال ہو کر؟ تو دیکھیے حضور علیہ السلام دوسروں کے ہاتھ قربانی کا جانور بھیج رہے ہیں اور خود مدینہ منورہ ہی میں حلال ہو کر مقیم ہیں۔ معلوم ہوا قلادہ پہنا کر جانور کو بھیجا جائے تو اس سے کوئی انسان محرم نہیں بنتا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ وہ فرماتی ہیں: ”كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ کہ میں بٹا کرتی تھی، فَتَلَ يَفْتِلُ کے معنی بٹنا، وہ بنانا بھئی رسی وغیرہ کا، ”كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ کہ میں بٹا کرتی تھی حضور علیہ السلام کی ہدی کے قلادے، ”فَبَعَثَ بِهَا“ تو آپ ان کو بھیج دیا کرتے، اس ہدی وغیرہ کو بھیج دیا کرتے، ”وَأَقَامَ فِي أَهْلِهِ حَلَالًا“ اور آپ خود مقیم رہتے اپنے گھر والوں میں ہی حلال ہو کر، یعنی غیر احرام کی حالت میں۔
”فَإِنْ تَوَجَّهَ بَعْدَ ذَلِكَ لَمْ يَصِرْ مُحْرِمًا حَتَّى يَلْحَقَهَا“؛ صورتِ مسئلہ یہ، ایک آدمی نے قربانی کا ایک جانور تیار کیا حرم بھجوانے کے لیے اور اس کو قلادہ پہنا دیا اور کسی ساتھی کے ہمراہ بھیج دیا، اور خود ابھی اپنے علاقہ اپنے وطن میں ہی ہے، تو کیا یہ خود محرم بنے گا؟ ابھی مسئلہ آپ نے پڑھا، یہ خود محرم نہیں۔ لیکن پھر اس کا ارادہ ہوا اور یہ چل پڑا۔ کس کا ارادہ ہوا؟ حج کا اس کا ارادہ بن گیا اور یہ چل پڑا یہاں سے، تو کیا چلتے ہی محرم بن جائے گا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، صرف چلنے سے محرم نہیں۔ بلکہ یہاں تک کہ یہ جا کر اس جانور کو پا لے، اس تک پہنچ جائے راستے میں، یا اس کو ہانکنا شروع کر دے، تو پھر فوراً محرم بن جائے گا۔ یہ تمام وہ صورتیں بیان ہو رہی ہیں جب اس نے زبان سے تلبیہ نہیں کہا۔ اگر زبان سے تلبیہ بھی کہہ دیا اور نیت کر دی ہے، پھر تو اسی وقت محرم بن گیا۔ یہاں کون سی صورتیں ذکر ہو رہی ہیں؟ زبان سے اس نے تلبیہ نہیں کہا، البتہ یہ احرام کے خاص افعال میں سے کوئی فعل پایا گیا، تو نیت کے ساتھ جب یہ فعل ملے گا وہ خود بخود کیا بن جائے گا؟ محرم بن جائے گا۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: ”فَإِنْ تَوَجَّهَ بَعْدَ ذَلِكَ“ اس کے بعد اگر یہ شخص متوجہ ہو گیا، یعنی جانور کو بھیجنے کے بعد یہ خود بھی بعد میں پیچھے چل پڑا، ”لَمْ يَصِرْ مُحْرِمًا“ تو یہ محرم نہیں بنے گا ”حَتَّى يَلْحَقَهَا“ یہاں تک کہ اس سے جا کر مل جائے۔ وہ جو ساتھی جانور لے کر جا رہا تھا، یہ خود بھی کیا ہوا، اپنے اس جانور تک پہنچ گیا۔ ”لِأَنَّ عِنْدَ التَّوَجُّهِ إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ هَدْيٌ يَسُوقُهُ لَمْ يُوجَدْ مِنْهُ إِلَّا مُجَرَّدُ النِّيَّةِ، وَبِمُجَرَّدِ النِّيَّةِ لَا يَصِيرُ مُحْرِمًا“؛ بھئی وجہ یہ کہ جب اس نے اپنا جانور بھیج دیا ہے اور پھر یہ خود بھی چل پڑا، خود بھی اور نیت اس کی کس چیز کی ہے؟ حج کی ہے، تو اس صورت میں جب یہ خود چلا تو احرام کے خاص افعال میں سے کوئی فعل نہیں پایا گیا، صرف اس کی نیت ہے، ہاں جب یہ اس جانور کو پا لے گا اور اس کو کیا کرے گا؟ ہانکے گا، تو یہ دیکھو، جانور کو قلادہ پہنایا ہوا ہے اور حج کی نیت بھی کی ہوئی ہے اور اس کو ہانک رہا ہے، یہ فعل کس کی خصوصیات میں سے ہے؟ احرام کی خصوصیات میں سے ایک خاص فعل ہے، ہر ایک اس طرح نہیں کرتا۔ تو یہ جب فعل پایا جائے گا تو وہ کیا بن جائے گا؟ محرم، اس سے پہلے محرم نہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
ہاں، بہتر تو یہ ہے کہ وہ زبان سے تلبیہ کہے۔ نیت بھی کرے اور کیا کرے؟ زبان سے تلبیہ کہے، لیکن اگر اس نے زبان سے نہیں بھی کہا تلبیہ، نیت کی ہوئی ہے اور پھر یہ چل پڑا اس جانور تک پہنچ گیا اور اس کو ہانکنے لگ پڑا، تو فوراً خود بخود کیا بن جائے گا؟ محرم بن جائے گا، اگرچہ ابھی تلبیہ نہ کہا ہو بھئی۔
کہتے ہیں: ”لِأَنَّ عِنْدَ التَّوَجُّهِ إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ هَدْيٌ“ اس لیے کیونکہ متوجہ ہوتے وقت جب اس کے سامنے ایسی ہدی نہ ہو ”يَسُوقُهُ“ جس کو وہ ہانک رہا ہو، جب اس کے سامنے، جب یہ چل پڑا تو جب اس کے سامنے ایسی ہدی نہ ہو ”يَسُوقُهُ“ جس کو وہ ہانک رہا ہو، ”لَمْ يُوجَدْ مِنْهُ إِلَّا مُجَرَّدُ النِّيَّةِ“ تو نہیں پائی گئی اس شخص کی طرف سے مگر صرف نیت، اور صرف نیت سے کوئی محرم بنتا ہے؟ بلکہ کیا ضروری ہے؟ تلبیہ یا تلبیہ کا قائم مقام ضروری ہے۔ ”وَبِمُجَرَّدِ النِّيَّةِ لَا يَصِيرُ مُحْرِمًا“ اور صرف نیت سے وہ محرم نہیں ہوتا بھئی۔ لہٰذا جب اس جانور کو پا لے گا اور اس کو ہانکے گا تو پھر فوراً کیا بن جائے گا؟ محرم بن جائے گا۔
”فَإِذَا أَدْرَكَهَا وَسَاقَهَا، أَوْ أَدْرَكَهَا، فَقَدِ اقْتَرَنَتْ نِيَّتُهُ بِعَمَلٍ هُوَ مِنْ خَصَائِصِ الْإِحْرَامِ فَيَصِيرُ مُحْرِمًا“؛ ”فَإِذَا أَدْرَكَهَا“ پس جب یہ اس جانور کو، اس بدنہ کو پا لے ”وَسَاقَهَا“ اور اس کو ہانکے، یا ”أَوْ أَدْرَكَهَا“ یا اس کو پا لے، دو صورتیں ذکر کر رہے ہیں بھئی۔ وجہ یہ کہ اس بارے میں دو روایتیں آئی ہیں بھئی۔ بعض روایتوں میں صرف پانے کا ذکر ہے کہ جب یہ چل پڑے گا اور اپنے اس جانور کو، اس بدنہ کو راستے میں کہیں پر پا لے گا، اور بعض میں پانے کے ساتھ ساتھ ہانکنے کی بھی شرط ہے۔ تو اس لیے دونوں کو ذکر کر دیا مصنف نے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَإِذَا أَدْرَكَهَا وَسَاقَهَا“ جب یہ اس جانور کو پا لے اور اس کو ہانکے، ”أَوْ أَدْرَكَهَا“ یا صرف کیا کر لے؟ پا لے، ”فَقَدِ اقْتَرَنَتْ نِيَّتُهُ بِعَمَلٍ“ تو تحقیق مل گئی اس کی نیت ایسے عمل کے ساتھ ”هُوَ مِنْ خَصَائِصِ الْإِحْرَامِ“ جو کس کی خصوصیات میں سے ہے؟ احرام کی خصوصیات میں سے ہے، ”فَيَصِيرُ مُحْرِمًا“ تو یہ کیا بن جائے گا؟ محرم بن جائے گا۔ اس کی نیت مل گئی ایسے عمل کے ساتھ جو احرام کی خصوصیات میں سے ہے۔ کون سا عمل ہے وہ؟ جانور کو قلادہ پہنا کر کدھر کو لے جا رہا ہے؟ حرم کی طرف، یہ احرام کی خصوصیات میں سے ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ ہر ایک اس طرح نہیں کرتا بھئی۔
”كَمَا لَوْ سَاقَهَا فِي الِابْتِدَاءِ“ جیسے کہ اس نے اس کو ہانکا تھا ابتدا کے اندر۔ جیسے ابتدا کے اندر اس طرح ہانکنے کی صورت میں وہ محرم بن جاتا ہے، گھر سے ہی جانور کو قلادہ پہنایا اور اس کو لے کر چل پڑا، تو فوراً ہی کیا بن جائے گا؟ محرم، بشرطیکہ اس نے نیت کی ہو۔ تو جیسے وہاں محرم بن جاتا تھا، اسی طرح اگر راستے میں جب اپنے اس بدنہ کو پا لے گا اور اس کو ہانکے گا تو اس صورت میں بھی محرم بن جائے گا۔
”قَالَ: إِلَّا فِي بَدَنَةِ الْمُتْعَةِ فَإِنَّهُ مُحْرِمٌ حِينَ تَوَجَّهَ“؛ یہاں سے بتلا رہے ہیں کہ اگر یہ جو قربانی کا جانور جس کو اس نے بھیجا تھا، یہ جو قربانی کا جانور یہ جو اس نے بھیجا تھا حرم کی طرف، بھئی مثلاً ساتھی جا رہے تھے، اس کا اپنا ارادہ بھی ہے کہ میں اس سال جا کر کیا کروں گا؟ حجِ تمتع کروں گا یا حجِ قران کروں گا، اور حجِ تمتع یا حجِ قران میں تو قربانی واجب ہوتی ہے، تو اس کے کچھ ساتھی پہلے قافلے میں چل رہے تھے، اس نے ان کے ہاتھ بدنہ روانہ کر دیا۔ کیا روانہ کر دیا؟ کہ مجھے وہاں جانور کی ضرورت پڑے گی قربانی کے لیے، تم اور جانور لے جا رہے ہو لو بھئی، میرا یہ جانور بھی اپنے ساتھ لے جاؤ، میں بھی پھر آ جاؤں گا۔ اب اس نے یہ جانور اپنے، قلادہ پہنایا اس کو اور ساتھیوں کے ہاتھ وہ جانور اس نے بھیج دیا۔ اور یہ بدنہ کون سا ہے؟ عام بدنہ ہے یا حجِ تمتع یا قران والا ہے؟ حجِ تمتع یا قران والا ہے۔ اس کے بعد پھر اس نے بھی یہاں سے حج کی نیت کی اور یا عمرے کی، اور چل پڑا۔ کیا کیا؟ چل پڑا۔ اب آپ مجھے مسئلہ بتائیے بھئی، توجہ ہے نا سبق کی طرف؟ یہ چل پڑا یہاں سے، بتائیے بھئی، یہ محرم کب بنے گا؟ نیت تو اس نے کی ہوئی ہے لیکن ابھی تلبیہ نہیں کہا۔ کہنا تو اس کو افضل تو یہ تھا کیا کہتا؟ تلبیہ، لیکن چلو تلبیہ نہیں بھی کہا، تلبیہ کے قائم مقام چیز جب آ جائے گی نیت بھی موجود ہے تو پھر کیا بن جائے گا؟ محرم بن جائے گا۔ تو یہ یہاں سے چل پڑا، کب بنے گا یہ شخص محرم؟ جب اس جانور کو پا لے گا اور پھر اس کو ہانکے گا تو پھر کیا بن جائے گا؟ محرم۔ لیکن یاد رکھنا یہ عام جانور کے اندر تھا، عام ہدی کے اندر۔ اگر وہ ہدی جس کو اس نے آگے بھیجا تھا وہ حجِ تمتع یا حجِ قران والی ہدی ہے تو اس صورت میں گھر سے چلتے ہی محرم بن جائے گا۔ گھر سے؟ اب اس جانور تک جو اس کے ساتھی اس سے ایک دو دن پہلے لے کر گئے تھے اس تک پہنچنا اور اس کو ہانکنے کی شرط نہیں ہوگی، بلکہ گھر سے چلتے ہی یہ کیا بن جائے گا؟ محرم بن جائے گا۔ یہ کون سی صورت ہے جب اس نے تلبیہ نہ کہا ہو، تلبیہ کہہ دیا پھر تو ظاہر سی بات ہے اسی وقت محرم بن جائے گا۔
بھئی یہ کیا وجہ ہے؟ حجِ تمتع اور حجِ قران کا جو بدنہ ہے اس کے اندر ہانکنے کی بھی شرط نہیں لگائی اور جانور کو پانے کی بھی شرط نہیں لگائی، بلکہ صرف متوجہ ہونے سے ہی کیا بن جائے گا؟ محرم بنے گا۔ اور صرف متوجہ ہونے کے ساتھ ایک اور بھی چیز ضروری ہے، وہ کیا؟ ہاں، نیت کا ہونا تو ضروری ہے، اس کو بار بار میں ذکر نہیں کر رہا، وہ آپ کو علم ہے کہ نیت کے ساتھ ساتھ یہ جو دوسرا عمل ہے یہ کس کے قائم مقام ہے؟ تلبیہ کے قائم مقام ہے، اور احرام کے لیے دونوں چیزوں کا ہونا ضروری ہے بھئی۔ تو نیت یہاں اس کی نیت تھی، اور جانور یہ پہلے بھیج چکا ہے، یہ گھر سے چل پڑا، جیسے ہی چلے گا فوراً کیا بن جائے گا؟ محرم بن جائے گا۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟
دیکھیے بھئی، قَالَ، امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جامعِ صغیر میں: ”إِلَّا فِي بَدَنَةِ الْمُتْعَةِ“ مگر متعہ کے بدنہ میں، متعہ کے، متعہ سے مراد تمتع ہے، حجِ تمتع ہے۔ اور میں نے تمتع کے ساتھ ساتھ قران کو بھی ذکر کر دیا، دونوں کا یہی حکم ہے، کیونکہ حجِ قران بھی حجِ تمتع ہی کے معنی میں ہے، کیونکہ حجِ تمتع میں جیسے عمرہ کیا جاتا ہے اور کیا کیا جاتا ہے؟ حج، اسی طرح حجِ قران میں بھی کیا کیا جاتا ہے؟ عمرہ بھی کیا جاتا ہے اور حج۔ صرف کیا فرق ہے کہ تمتع والا بیچ میں عمرے کے بعد حلال ہو جاتا ہے، جبکہ حجِ قران والا حلال نہیں ہوتا۔ لیکن یہاں پر، یہاں پر یاد رکھنا، آگے یہ مسئلہ خود بھی بیان کریں گے صاحبِ ہدایہ۔ عام حجِ تمتع کے لیے جو آدمی جاتا ہے نا عام آدمی، قربانی کا جانور جو اپنے ساتھ نہیں لے کر گیا جیسے آج کل لوگ جاتے ہیں، یہ عمرہ کر کے حلال ہو جاتے ہیں اور پھر کیا کرتے ہیں؟ آٹھویں ذی الحجہ کو جا کر پھر کس کا احرام باندھتے ہیں؟ حج کا احرام باندھتے ہیں۔ جبکہ قران والا تو احرام شروع سے ہی حج اور عمرے دونوں کا باندھتا ہے، وہ تو درمیان میں حلال بھی نہیں ہوتا۔ یہ جو حجِ تمتع کر رہا ہو اور اپنے ساتھ قربانی کا جانور لے جائے، اس کے لیے بھی بیچ میں حلال ہونا جائز نہیں۔ تفصیل سمجھ میں آ رہی ہے؟ عام متمتع کیا کرتا ہے؟ جاتا ہے، جا کر عمرہ کرتا ہے اور پھر بال کٹوا کر یا سر منڈوا کر حلال ہو جاتا ہے، پھر جتنے دن مکہ میں رہے گا احرام کی کوئی پابندی نہیں۔ اور پھر آٹھویں کو کیا کرے گا؟ دوبارہ حج کا احرام باندھے گا۔ لیکن اگر یہ یہاں سے قربانی کا جانور لے کر گیا ہے، یاد رکھیے، اس صورت میں اس کو حلال، اس کے لیے حلال ہونا جائز نہیں۔ یہ عمرہ کر لے گا پھر اسی عمرے کے احرام کے ساتھ حرم میں رہے گا اور پھر آگے چل کر کسی وقت جب وہ حج کا احرام، حج کے احرام کی نیت کر لے گا، کیا کر لے گا؟ حج کے احرام کی نیت کر لے گا تو پھر اس کا آگے حج کا بھی احرام شروع ہو جائے گا۔ عمرے کا بھی احرام چل پڑا اور ساتھ ساتھ حج کا بھی احرام چل پڑا بھئی۔ تو یہ اور قارن یوں سمجھیں تقریباً ایک جیسے ہیں۔ صرف اتنا فرق ہے قارن نے یہاں سے نیت کس کی کی تھی؟ حج اور عمرے دونوں کی، حجِ تمتع والے نے یہاں سے نیت کس کی کی تھی؟ عمرے کی نیت کی تھی اور وہاں جا کر پھر حج کی بھی بعد میں نیت کر لے گا۔ صرف اتنا فرق ہے۔ باقی احرام کی پابندیاں شروع سے لے کر آخر تک دونوں پر رہیں گی بھئی۔ یہ کس صورت میں ہے؟ جب جانور کو لے کر گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو معلوم ہوا یہ جو حجِ قران کا بدنہ ہے، اس کا بھی وہی حکم ہے جو کس کا حکم ہے؟ حجِ تمتع والے بدنہ کا حکم ہے، اسی لیے میں نے کہا: ”إِلَّا فِي بَدَنَةِ الْمُتْعَةِ“ کہ اس سے دونوں مراد ہیں چاہے بدنہ حجِ تمتع کا ہو چاہے حجِ قران کا ہو۔ ”إِلَّا فِي بَدَنَةِ الْمُتْعَةِ“ مگر حجِ تمتع کے بدنہ میں ”فَإِنَّهُ مُحْرِمٌ حِينَ تَوَجَّهَ“ تو بس بے شک وہ شخص محرم بن جائے گا جس وقت وہ متوجہ ہو جائے۔ صورت کیا ہے؟ جانور کو آگے بھیج چکا ہے اور اب خود پیچھے چل پڑا، اور نیت کی ہوئی ہے، تو چلتے ہی کیا بن جائے گا؟ محرم، جانور تک پہنچنا اور اس کو ہانکنے کی شرط نہیں ہوگی۔
تو کہتے ہیں: ”إِلَّا فِي بَدَنَةِ الْمُتْعَةِ فَإِنَّهُ مُحْرِمٌ حِينَ تَوَجَّهَ“ مگر متعہ کے بدنہ کے اندر تو وہ شخص محرم بن جائے گا جس وقت وہ متوجہ ہوگا، بھئی ”فَإِنَّهُ“، فا آئی، اور آپ نے پڑھا ہے اصول کی کتابوں میں کہ کبھی کبھار فا علت بیان کرنے کے لیے آتی ہے، اور اس کا ترجمہ کیونکہ کے ساتھ کرتے ہیں یا اس وجہ سے کہ۔ تو پیچھے بتلایا تھا کہ ایک شخص نے جانور آگے بھیج دیا اور پھر اس کے بعد خود بھی چل پڑا، تو چلنے سے محرم نہیں بنے گا، چلنے سے، یہاں تک کہ اس جانور کو پا لے، ”إِلَّا فِي بَدَنَةِ الْمُتْعَةِ“ مگر متعہ کے بدنہ کے اندر، ”فَإِنَّهُ مُحْرِمٌ حِينَ تَوَجَّهَ“ کیونکہ وہ محرم بن جائے گا ”حِينَ تَوَجَّهَ“ جب وہ متوجہ ہو جائے۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا؟ ”مَعْنَاهُ إِذَا نَوَى الْإِحْرَامَ“، صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں معنی اس کا یہ ہے اس کلام کا: ”إِذَا نَوَى الْإِحْرَامَ“ جب اس شخص نے احرام کی نیت کی ہو، کیونکہ احرام کے لیے کتنی چیزوں کا ہونا ضروری تھا؟ دو چیزیں: ایک نیت اور ایک تلبیہ۔ تو تلبیہ کی، تلبیہ کا قائم مقام تو آ گیا اور ساتھ نیت کا ہونا بھی ضروری ہے، تو وہ بھی اس نے کی ہو تو چلتے ہی محرم بن جائے گا۔
”وَهَذَا اسْتِحْسَانٌ“ اور یہ استحسان ہے۔ استحسان میں نے بتلایا تھا، وہ دلیل جس کے مقابلے میں قیاس ہو، اگر قیاس اس کے مقابلے میں نہیں تو اس کو استحسان بھی نہیں کہتے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَوَجْهُ الْقِيَاسِ فِيهِمَا ذَكَرْنَا“ قیاس کی وجہ اس کے اندر وہ ہے جو ہم نے ذکر کر دی۔ دیکھا، معلوم ہوا قیاس بھی ہے یہاں پر۔ اور قیاس کیا تھا؟ قیاس دیکھو بھئی، یہ جانور آگے بھیج چکا ہے اور یہ یہاں سے چل پڑا ہے نیت کر لی ہوئی ہے، تو جب تک یہ جانور کو پا نہیں لیتا اور اس کو ہانکتا نہیں ہے، صرف اس کی طرف سے نیت پائی جا رہی ہے ابھی تو، اور صرف نیت کی وجہ سے تو کوئی محرم نہیں بنتا، بلکہ نیت کے ساتھ کیا ضروری؟ تلبیہ یا اس کا قائم مقام، اور وہ کب پایا جائے گا؟ جب جانور کو پا لے گا یا اس کو ہانکے گا۔ تو یہ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے اس کو اس وقت محرم بننا چاہیے، صرف چل پڑنے سے محرم نہیں بننا چاہیے، لیکن استحساناً جیسے ہی یہ چلے گا اس کو کیا قرار دیا جائے گا؟ محرم، جبکہ اس نے نیت کی ہو، اور یہ استحسان ہے بھئی۔ کیا ہے؟ اس کی وجہ کیا ہے وہ آگے ذکر کریں گے۔
تو کہتے ہیں: ”وَوَجْهُ الْقِيَاسِ فِيهِمَا ذَكَرْنَا“ قیاس کی وجہ اس کے اندر وہ ہے جو ہم نے ذکر کر دی کہ صرف نیت سے یہ محرم نہیں بنے گا بلکہ وہ جانور کو پا لے یا اس کو ہانکے بھئی۔ ”وَوَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ أَنَّ هَذَا الْهَدْيَ مَشْرُوعٌ عَلَى الِابْتِدَاءِ نُسُكًا مِنْ مَنَاسِكِ الْحَجِّ وَضْعًا“، اچھا بھئی اس مقام کو اچھی طرح سمجھ لینا بھئی۔ استحسان کی وجہ یہ ہے: ”أَنَّ هَذَا الْهَدْيَ مَشْرُوعٌ عَلَى الِابْتِدَاءِ“ کہ یہ جو ہدی ہے یعنی یہ جو قربانی کا جانور ہے، ”مَشْرُوعٌ“ یہ مشروع ہوا ہے، یہ ”عَلَى الِابْتِدَاءِ“ کب سے؟ ابتدا سے ہی یہ مشروع ہوا ہے، ”نُسُكًا مِنْ مَنَاسِكِ الْحَجِّ“ بطورِ عبادت کے مناسکِ حج میں سے۔ یہ والا قربانی کا جو جانور ہے یہ بطورِ عبادت کے حج کے افعال میں سے ایک فعل کے طور پر مشروع ہوا ہے۔ ”وَضْعًا“ باعتبار وضع کے، یعنی شریعت نے ہی اس کو اس طرح مقرر کیا ہے۔ شریعت نے ہی؟
بھئی ایک تو عام قربانی ہے، عام قربانی نفلی بھی ہو سکتے ہیں، وہ کوئی شریعت نے آپ پر لازم کی ہے؟ نہیں، آپ کی مرضی ہے کرنا چاہتے ہیں کریں، نہیں کرنا چاہتے نہ کریں بھئی۔ تو یہ نفلی ہدی ہو گئی، نفلی ہدی۔ دوسرا کبھی ہدی آئے گی مثلاً آپ نے منت مانی ہوگی کہ میں حرم میں ایک جانور کی قربانی کروں گا، تو یہ بھی کوئی شریعت نے آپ پر لازم کی تھی؟ یہ بھی شریعت نے آپ پر لازم نہیں کی۔ اسی طرح بعض اوقات آپ سے کوئی احرام کے اندر جنایت ہو گئی، اس جنایت کی وجہ سے آپ پر کیا آ گئی؟ قربانی آ گئی، ہدی آ گئی، لیکن کیا یہ بھی ابتداءً شریعت نے آپ پر واجب کی تھی؟ یہ بھی آپ پر ابتداءً واجب نہیں۔ جبکہ ان سب کے برعکس جو حجِ قران یا حجِ تمتع میں جو قربانی ہے وہ ابتداءً ہی کس نے مقرر کی ہے؟ شریعت نے، اور یہ حج کے افعال میں سے ایک فعل ہے، حج کی عبادتوں میں سے ایک عبادت ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
لہٰذا یہ ہدی خاص ہے مکہ کے ساتھ۔ اس ہدی کا اختصاص ہے کس کے ساتھ؟ مکہ کے ساتھ۔ بھئی کس طرح مکہ کے ساتھ اختصاص ہے؟ ہدی کا تو جو بھی جانور ہوتا ہے انسان اس کو کہاں لے کر جاتا ہے؟ حرم ہی لے کر جاتا ہے نا، آپ نے منت کیا مانی ہے؟ کہ میں یہ جانور لے جا کر کہاں قربان کروں گا؟ حرم میں، تو اس کو ہدی کہیں گے، کیا کہیں گے؟ ہدی۔ یہیں پر آپ قربانی کریں کسی جانور کی اس کو ہدی کہتے ہیں بھئی؟ نہیں، تو وہ تو ہدی تو ہے ہی وہ جانور جس کو آپ کہاں لے کر جاتے ہیں؟ حرم لے کر جاتے ہیں یا حرم بھجواتے ہیں، حرم بھجواتے ہیں۔ تو باقی جو ہدی کے جانور ہیں ان کا اختصاص مکہ کے ساتھ یا یوں کہیں حرم کے ساتھ نہیں، لیکن یہ جو حجِ تمتع اور قران والی ہدی ہے اس کا اختصاص ہے مکہ کے ساتھ، یعنی اس کا وجوب مکہ میں آ رہا ہے انسان پر، کہاں پر؟ کیسے آ رہا ہے مکہ میں وجوب؟ میں نے آپ کو شروع میں بتلایا تھا یہ حجِ قران اور حجِ تمتع والے پر حج کی قربانی واجب ہے، کس وجہ سے واجب ہے؟ ہاں کہ اللہ نے ایک ہی سفر میں اس کو دو عبادتوں کی توفیق دی، ایک عمرے کی اور ایک حج کی، اور عمرہ اور حج کہاں ہوتا ہے؟ وہی مکہ میں ہوتا ہے، تو چونکہ وہاں پر یہ دو عبادتیں جمع ہوئیں اور جب یہ دو عبادتیں جمع ہوں گی تو ایک ساتھ ایک چیز بھی ساتھ آ جائے گی اور وہ کیا؟ قربانی آ جائے گی۔ معلوم ہوا اس قربانی کا وجوب بھی کہاں پر آ رہا ہے؟ مکہ ہی میں آ رہا ہے، تو معلوم ہوا اس اس ہدی کا اختصاص ہے مکہ کے ساتھ۔ یہ مکہ ہی میں واجب ہوتی ہے اور کہیں نہیں واجب ہوتی۔ اور کیوں واجب ہوتی ہے؟ کہ دو عبادتوں کی اللہ نے توفیق دی ایک ہی سفر میں۔
باقی، باقی ہدی وہ تو کہیں اور بھی واجب ہو سکتی ہے۔ شکار کھیلا تھا اس آدمی نے تو کیا شکار حرم ہی میں کھیلے گا تو پھر اس پر ہدی واجب ہوگی یا باہر بھی احرام کی حالت میں شکار کر لے گا تو اس پر ہدی واجب ہو جائے گی؟ باہر بھی وہ اگر احرام کی حالت میں شکار کرے گا اس پر ہدی واجب ہو جائے گی۔ معلوم ہوا اس شکار والی ہدی کا اختصاص حرم کے ساتھ نہیں ہے۔ اچھا، منت والی ہدی ہے ایک آدمی نے منت مانی: میں حرم میں جا کر ایک جانور کی قربانی کروں گا، کیا اس کے لیے بھی ضروری ہے وہ آدمی حرم ہی کے اندر ہو پھر یہ منت مانے گا تو جانور واجب ہوگا یا جہاں پر بھی ہو یہ منت مانے گا اس پر یہ جانور واجب ہو جائے گا؟ جہاں پر بھی ہو، معلوم ہوا اس کا وجوب بھی حرم کے ساتھ خاص نہیں۔ اور نفلی ہدی اس کا تو وجوب ہے ہی نہیں۔ اچھا، اور مثلاً کوئی جنایت کر دی احرام کے اندر، کوئی جرم کر دیا تو اس صورت میں بعض اوقات جانور واجب ہوتا ہے، ہدی واجب ہوتی ہے، لیکن اس کا بھی اختصاص حرم کے ساتھ نہیں۔ ایک حاجی ہے یہاں سے چل پڑا، چلتے ہی احرام کی پابندیاں شروع ہو گئیں، اس نے یہیں پر کیا کر لیا؟ اپنے سارے سر کو استرے سے صاف کروا لیا یا اپنے سارے ناخن کاٹ دیے، بھئی یہ تو احرام کے اندر پابندی تھی، تو لہٰذا اس صورت میں اس پر ایک قربانی واجب ہو جائے گی بھئی، لیکن کیا یہ ضروری ہے کہ یہ جرم وہ مکہ کے اندر کرے یا یہاں پر بھی اگر یہ احرام کی حالت میں جرم کرے گا تو قربانی واجب ہو جائے گی؟ یہاں پر بھی دیکھو قربانی واجب ہو جائے گی۔ معلوم ہوا یہ جو جنایت والا دم ہے، یہ جو جنایت والی ہدی ہے اس کا بھی اختصاص مکہ کے ساتھ نہیں، مکہ میں یہ جرم کرے گا تب بھی قربانی واجب ہوگی، مکہ سے باہر احرام کی حالت میں یہ جرم کرے گا تب بھی اس پر یہ قربانی واجب ہوگی۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی؟
معلوم ہوا جو حجِ قران اور حجِ تمتع والی قربانی ہے اس کا اختصاص ہے مکہ کے ساتھ، اس کا وجوب کہاں پر آ رہا ہے؟ مکہ ہی میں آ رہا ہے کہ وہ عمرہ اور حج دونوں کر رہا ہے، جبکہ باقی جو جانور جو قربانی کے جانور ہیں ان کا اختصاص مکہ کے ساتھ نہیں، مکہ کے ساتھ نہیں۔ تو چونکہ اس جانور کا اختصاص مکہ کے ساتھ ہے، لہٰذا اس کی صورت میں صرف متوجہ ہونے سے ہی کیا ہو جائے گا؟ وہ شخص محرم بن جائے گا۔ یہ جو اس نے جانور حجِ قران یا تمتع والا آگے بھیجا تھا اس میں اس کے چلنے سے ہی یہ کیا ہو جائے گا؟ محرم بن جائے گا، کیونکہ اس جانور کا اختصاص ہی کس کے ساتھ ہے؟ مکہ کے ساتھ ہے، اس کا تو وجوب آتا ہی مکہ میں ہے اور کہیں آتا ہی نہیں، لہٰذا یہاں پر صرف متوجہ ہونے سے محرم بن جائے گا، جبکہ اور جانور جو تھے ان کا اختصاص تو مکہ کے ساتھ نہیں تھا، ان کا اختصاص تو مکہ کے ساتھ نہیں تھا، لہٰذا وہاں پر صرف چل پڑنے سے وہ محرم نہیں بنے گا بلکہ حقیقتِ فعل پایا جائے کہ وہ خود اس کو ہانکنا شروع کر دے، جیسے ہی ہانکنا شروع کرے گا کیا بن جائے گا؟ محرم بن جائے گا، وہاں حقیقتِ فعل کا پایا جانا ضروری، جبکہ یہاں پر صرف متوجہ ہونا بھی کافی ہے، کیوں کافی ہے؟ کیونکہ اس جانور کا اختصاص ویسے ہی کس کے ساتھ ہے؟ مکہ کے ساتھ ہے، اس کا وجوب آتا ہی کہاں پر ہے؟ جب آتا ہی اس کا وجوب مکہ میں ہے تو صرف چلنا ہی کافی ہو جائے گا بس۔ یہ جانور واجب بھی کہاں پر ہو رہا تھا؟ اور یہ یہاں سے چل پڑا، بس چلنا کافی ہو گیا بھئی۔ جانور کا تو وجوب ویسے آتا ہی نہیں، لہٰذا اس کا چلنا بھی کافی ہے اور یہ ایسا فعل ہے جو خاص ہے کس کے ساتھ؟ احرام کی حالت کے ساتھ۔ صورت سمجھ میں آ گئی کہ یہ جانور کہاں لے کر جا رہا ہے قربانی کا؟ حرم کی طرف یہ بھجوا چکا ہے تو اس کا صرف چل پڑنا ہی کافی ہے۔ کیوں چلنا کافی ہے؟ کیونکہ اس جانور کا تو پہلے ہی اختصاص کس کے ساتھ ہے؟ مکہ کے ساتھ ہے بھئی، تو یہاں صرف چلنا ہی کافی ہو جائے گا۔ جبکہ باقیوں کے اندر تو اس ہدی کا اختصاص مکہ کے ساتھ نہیں، لہٰذا وہاں پر باقاعدہ حقیقتِ فعل کا ہونا یعنی یہ کہ وہ جا کر اس جانور کو پا لے یا اس کو ہانکے، پھر محرم بنے گا، ویسے نہیں بنے گا۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: ”وَوَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ“ اور استحسان کی وجہ یہ ہے، ”أَنَّ هَذَا الْهَدْيَ مَشْرُوعٌ عَلَى الِابْتِدَاءِ نُسُكًا مِنْ مَنَاسِكِ الْحَجِّ وَضْعًا“ کہ یہ جو ہدی ہے، یہ جو متعہ کی ہدی ہے، یہ مشروع ہوئی ہے، یعنی جائز ہوئی ہے ”عَلَى الِابْتِدَاءِ“ شروع سے ہی ”نُسُكًا مِنْ مَنَاسِكِ الْحَجِّ“ حج کے افعال میں سے ایک فعل کے طور پر۔ یہ ہدی ابتدا سے ہی مشروع ہوئی ہے حج کی عبادتوں میں سے ایک عبادت کے طور پر ”وَضْعًا“ باعتبار وضع کے۔ وضع کا معنی ہوتا ہے مقرر کرنا، یعنی ابتدا سے ہی اس کو شریعت نے حج کی عبادتوں میں سے ایک عبادت کے طور پر مقرر کیا ہے کہ تمہیں دو عبادتوں کی توفیق ملی ہے لہٰذا تمہیں کیا کرنا پڑے گی؟ ایک جانور کی قربانی کرنا پڑے گی۔ ”لِأَنَّهُ يَخْتَصُّ بِمَكَّةَ“ کیونکہ یہ خاص ہے کس کے ساتھ؟ مکہ کے ساتھ، ”وَيَجِبُ شُكْرًا لِلْجَمْعِ بَيْنَ أَدَاءِ النُّسُكَيْنِ“ اور یہ واجب ہوئی ہے بطورِ شکر کے کہ جمع کرنے کی وجہ سے دو عبادتوں کی ادائیگی کو، دو عبادتوں کی ادائیگی کو جمع کرنے کے شکر کے طور پر یہ ہدی واجب ہوئی ہے۔ ”وَغَيْرُهُ قَدْ يَجِبُ بِالْجِنَايَةِ“ اور اس کے علاوہ اور جو ہدی ہیں وہ تو کبھی کبھار جنایت کی وجہ سے بھی واجب ہو جاتی ہے۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ اس ہدی کا تو اختصاص کس کے ساتھ ہے؟ مکہ کے ساتھ، اور اس کے علاوہ جو ہدی ہیں وہ تو کبھی جنایت کی وجہ سے بھی واجب ہو جاتی ہیں، ”وَإِنْ لَمْ يَصِلْ إِلَى مَكَّةَ“ اگرچہ یہ محرم ابھی مکہ نہ پہنچا ہو۔ جنایت پائی جائے گی چاہے ابھی یہ مکہ نہ پہنچا ہو، پھر بھی اس پر ہدی واجب ہو جائے گی جب جنایت کر لے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔
یاد رکھیے: ”وَإِنْ لَمْ يَصِلْ إِلَى مَكَّةَ“ اس کی ایک تقریر کی ہے صاحبِ عنایہ نے علامہ عینی نے، اور ایک تقریر کی ہے اس کی صاحبِ فتح القدیر نے۔ فتح القدیر کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ صاحبِ فتح القدیر نے ”وَإِنْ لَمْ يَصِلْ“ اس کی ضمیر لوٹائی ہے ”غَيْرُهُ“ کو، کس کو؟ اگرچہ وہ، ”غَيْرُهُ“ سے کیا مراد ہے؟ توجہ ہے سبق کی طرف؟ دمِ غیرہ، أَيْ غَيْرِ هَدْيِ الْمُتْعَةِ، متعہ کی ہدی کے علاوہ اور جو بھی ہدی ہے۔ متعہ کی ہدی کے علاوہ اور جو بھی ہدی ہے، ”قَدْ يَجِبُ بِالْجِنَايَةِ“ وہ تو کبھی کبھار کس وجہ سے واجب ہوتی ہے؟ جنایت کی وجہ سے بھی واجب ہوتی ہے، ”وَإِنْ لَمْ يَصِلْ إِلَى مَكَّةَ“ اگرچہ وہ ہدی مکہ نہ پہنچے۔ تو صاحبِ فتح القدیر نے اس ضمیر کو کس کی طرف لوٹایا؟ ”غَيْرُهُ“ کو، اور ”غَيْرُهُ“ سے کون سی ہدی مراد ہے؟ متعہ کی ہدی کے علاوہ۔ تو وہ تو جنایت کی وجہ سے بھی واجب ہوتی ہے، اگرچہ وہ ہدی مکہ نہ پہنچے۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ راستے میں مثلاً کسی نے شکار کر لیا تھا اور اس پر ہدی واجب ہو گئی اور یہ قربانی کا جانور یہ لے کر چل پڑا کدھر؟ حرم کی طرف بھئی، تو اس جانور کو راستے میں کوئی زخمی وغیرہ ہو گیا یا کچھ، اس کو ذبح کرنا پڑا، کیا کرنا پڑا؟ ذبح کرنا پڑا، تو کہتے ہیں اس سے اس شخص کے احرام پر کوئی اثر نہیں پڑتا، ہاں دوسری ہدی کو اس کا قائم مقام کرنا پڑے گا۔ کیا کرنا پڑے گا؟ ہاں، لیکن اگر یہ ہدی مکہ تک نہ بھی پہنچے، ذبح بھی راستے میں کرنا پڑ جائے تو کیا اس کے احرام پر کوئی اثر پڑے گا؟ اس کے احرام پر تو کوئی اثر نہیں پڑتا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ معنی ہے کہ اس متعہ کی ہدی کے علاوہ جو اور ہدی ہوتی ہے وہ تو کبھی جنایت کی وجہ سے بھی واجب ہوتی ہے، اگرچہ وہ مکہ تک نہ پہنچے، راستے میں ہی کیا کرنا پڑ جائے؟ ذبح کرنا پڑ جائے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ ذبح کرنا۔
لیکن علامہ عینی نے اس ضمیر کو لوٹایا ہے محرم کی طرف: ”وَإِنْ لَمْ يَصِلْ إِلَى مَكَّةَ“ اگرچہ محرم ابھی مکہ نہ پہنچا ہو اور اس کے علاوہ، دوبارہ سنو اب، اور اس کے علاوہ یعنی دمِ متعہ کے علاوہ اور ہدی جو ہوتی ہے وہ تو کبھی کبھار جنایت کی وجہ سے بھی واجب ہوتی ہے، اگرچہ محرم ابھی مکہ نہ پہنچا ہو، مکہ سے پہلے ہی اس نے کوئی جنایت کر دی تو اس پر ہدی واجب ہو جائے گی یعنی قربانی کا جانور واجب ہوگا یا نہیں؟ مکہ سے باہر اس نے شکار کھیل لیا، تو دیکھو: ”وَغَيْرُهُ قَدْ يَجِبُ بِالْجِنَايَةِ“ اور اس دمِ متعہ کے علاوہ جو ہدی ہے وہ تو کبھی کبھار جنایت کی وجہ سے بھی واجب ہو جاتی ہے، ”وَإِنْ لَمْ يَصِلْ إِلَى مَكَّةَ“ اگرچہ یہ شخص ابھی مکہ نہ پہنچا ہو، معلوم ہوا اس کا وجوب مکہ کے ساتھ خاص نہیں بلکہ مکہ سے باہر بھی اس کا وجوب ہو سکتا ہے، جبکہ دمِ قران اور دمِ تمتع والی ہدی کا تو وجوب آتا ہی کہاں پر ہے؟ مکہ میں آتا ہے کیونکہ وہاں دو عبادتیں جمع ہو رہی ہیں تو ان کی وجہ سے وجوب آ رہا ہے بھئی۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی؟ صاحبِ فتح القدیر نے ”وَإِنْ لَمْ يَصِلْ“ کی ضمیر کس کو لوٹائی؟ ”غَيْرُهُ“ کو، اور صاحبِ عنایہ کے کلام سے معلوم ہوتا ہے انہوں نے اس ضمیر کو کس کی طرف لوٹایا ہے؟ محرم کی طرف، اگرچہ یعنی محرم مکہ کو نہ پہنچا ہو بھئی، محرم بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور صاحبِ عنایہ کی تقریر زیادہ واضح ہے بھئی۔ یہ محرم کو ضمیر لوٹانی چاہیے بھئی۔
”فَلِهَذَا اكْتُفِيَ فِيهِ بِالتَّوَجُّهِ“ لہٰذا اکتفا کیا جائے گا اس ہدی کے اندر ”بِالتَّوَجُّهِ“، کس چیز پر؟ متوجہ ہونے پر اکتفا کر لیا جائے گا۔ یہ شخص چلے گا، جیسے ہی چلے گا متوجہ ہوگا تو کیا بن جائے گا؟ محرم بن جائے گا۔ ”وَفِي غَيْرِهِ تُوُقِّفَ عَلَى حَقِيقَةِ الْفِعْلِ“ اور اس کے علاوہ جو ہدی ہے اس کے اندر وہ موقوف رہے گا احرام کس پر؟ حقیقتِ فعل پر۔ حقیقتِ فعل پایا جائے یعنی یہ پہنچے راستے میں اور کس کو پا لے؟ اپنی ہدی کو پا لے اور یا اس کو ہانکے، حقیقتِ فعل پایا جائے پھر کیا ہوگا؟ وہ محرم بنے گا، ویسے محرم نہیں بنے گا۔
تقریر یہاں تک سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ ہاں، تو باقی ہدی کا چونکہ اختصاص مکہ کے ساتھ نہیں اس لیے وہاں حقیقتِ فعل کا ہونا ضروری کہ یہ شخص اس جانور تک پہنچے اور پھر اس کو ہانکے، اور لیکن اس ہدی کا اختصاص کس کے ساتھ ہے؟ مکہ کے ساتھ ہے، جب مکہ کے ساتھ اختصاص ہے اس کا وجوب آتا ہی کہاں پر ہے؟ مکہ میں آتا ہے، تو لہٰذا صرف چلنا ہی کیا ہو جائے گا؟ کافی، اور چلنے سے ہی وہ کیا بن جائے گا؟ محرم، بشرطیکہ احرام کی نیت ہو بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔