فَأَمَّا يَوْمُ النَّحْرِ فَأَوَّلُ وَقْتِ الرَّمْيِ فِيهِ مِنْ وَقْتِ طُلُوعِ الْفَجْرِ، وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ أَوَّلُهُ بَعْدَ نِصْفِ اللَّيْلِ لِمَا رُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ رَخَّصَ لِلرِّعَاءِ أَنْ يَرْمُوا لَيْلًا، وَلَنَا قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَا تَرْمُوا جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ إِلَّا مُصْبِحِينَ، وَيُرْوَى حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَيَثْبُتُ أَصْلُ الْوَقْتِ بِالْأَوَّلِ وَالْأَفْضَلِيَّةُ بِالثَّانِي.
گزشتہ سبق میں رمی جمرات کا ذکر آیا تھا اور آپ نے پڑھا تھا کہ دس تاریخ کو صرف جمرۂ عقبہ جو ہے، یعنی جمرۂ کبریٰ جو ہے، اس کی رمی کرنی ہے، اور گیارہ تاریخ کو تینوں جمرات کی ترتیب سے رمی کرنی ہے، پہلے جمرۂ صغریٰ کی، پھر جمرۂ وسطیٰ کی اور اس کے بعد جمرۂ کبریٰ کی۔ بارہ تاریخ کو بھی تینوں جمرات کی رمی اسی ترتیب سے کرنی ہے۔ تیرہ تاریخ کی رمی اختیاری ہے، نہیں کرنا چاہتا تو پہلے ہی، فجر طلوع ہونے سے پہلے ہی حاجی مکہ چلا جائے، اور اگر فجر طلوع ہو گئی اور حاجی ابھی منیٰ ہی میں مقیم تھا تو اس تیرہ تاریخ کی رمی بھی اس پر واجب ہو گئی۔
آپ نے یہ بھی پڑھا کہ پہلی اور دوسری رمی جو ہے، اس کے بعد کھڑے ہو کر دعا کی جائے گی، لیکن تیسری رمی جس کے بعد پھر رمی نہیں ہے اسی وقت، اس کے بعد کھڑے ہو کر دعا وغیرہ اور ذکر نہیں کیا جائے گا بھئی۔
اور چوتھے دن کی رمی، یعنی تیرہ ذی الحجہ کی رمی میں یہ اختلاف بھی ذکر ہوا کہ امام صاحب کے نزدیک وہ زوال سے پہلے بھی کر سکتا ہے، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ نہیں، جیسے گیارہ اور بارہ تاریخ کی رمی زوال سے پہلے جائز نہیں، اسی طرح تیرہ تاریخ کی رمی بھی زوال سے پہلے جائز نہیں بھئی۔
اب یوم النحر کی جو رمی ہے، یعنی دس تاریخ کو، دسویں ذی الحجہ کو جو مزدلفہ سے آ کر صرف جمرۂ عقبہ کی جو رمی کی تھی، اس کا وقت بیان کر رہے ہیں بھئی، کہ اس کا وقت کب سے کب تک ہے۔
تو آپ کو یہ بتلائیں گے کہ جو جمرۂ عقبہ کی رمی ہے دسویں ذی الحجہ کو، اس کا اولِ وقت جو ہے، طلوعِ فجر ہے۔ جب دسویں تاریخ کی فجر طلوع ہو گئی تو جمرۂ عقبہ کی رمی کا وقت شروع ہو گیا، اور پھر اس کا وقت کب تک رہے گا؟ تو امام صاحب کے نزدیک اس کا وقت غروبِ آفتاب تک ہے، یعنی سارے دن میں جو ہے کسی بھی وقت کیا کر سکتا ہے؟ یہ رمی کر سکتا ہے۔
البتہ اس میں دن میں کرے گا تو بغیر کراہت کے جائز ہے، اور رات کے وقت اگر دن گزر گیا اور رات کو رمی کرتا ہے تو رات کو بھی رمی جائز ہے، البتہ کراہت کے ساتھ۔ کس کے ساتھ؟ کراہت کے ساتھ بھئی۔
اور اگر دن بھی گزر گیا، رات بھی گزر گئی اور رمی نہیں کی، اگلے دن رمی کرنا پڑی تو پھر اگلے دن کرے گا اور اس صورت میں اس پر دم لازم آئے گا، کیونکہ اس نے حج کے ایک عمل کو اپنے وقت سے مؤخر کر دیا، اور امام صاحب کا ضابطہ یہ ہے کہ حج کا کوئی عمل اپنے وقت سے مؤخر کر دیا جائے تو اس صورت میں دم لازم آتا ہے بھئی۔
تو دیکھیے اب کتاب پر، کہتے ہیں: فَأَمَّا يَوْمُ النَّحْرِ، اور باقی یوم النحر جو ہے، فَأَوَّلُ وَقْتِ الرَّمْيِ فِيهِ مِنْ وَقْتِ طُلُوعِ الْفَجْرِ، تو رمی کا اولِ وقت اس دن کے اندر جو ہے وہ طلوعِ فجر کے وقت سے ہے۔ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ أَوَّلُهُ بَعْدَ نِصْفِ اللَّيْلِ، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ یوم النحر کی رمی جو ہے اس کا اولِ وقت جو ہے آدھی رات کے بعد ہے۔ جب عرفات سے واپس آئے تھے، جب آدھی رات گزر گئی تو اس کے بعد وہ فرماتے ہیں یہ جمرۂ عقبہ کی رمی کا وقت شروع ہو گیا۔
دلیل وہ پیش کرتے ہیں حدیث بھئی۔ کہتے ہیں: لِمَا رُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ رَخَّصَ لِلرِّعَاءِ أَنْ يَرْمُوا لَيْلًا، بہ وجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے رخصت دی لِلرِّعَاءِ، رعاء جمع ہے راع کی بھئی، چرواہے کو کہتے ہیں چرواہا، کہ حضور علیہ السلام نے چرواہوں کو رخصت دی تھی کہ وہ رمی کر لیں رات کے وقت۔ حضور علیہ السلام نے چرواہوں کو رات کے وقت رمی کرنے کی رخصت دی تھی بھئی۔
چرواہے جو اونٹ وغیرہ یا اور جانور وہاں چراتے تھے، ان کو لے کر دور دور تک ان کو جانا پڑتا ہے جانور چرا رہے ہیں چراگاہ کی طرف، کوئی جگہ ایسی جہاں جانوروں کو چرا سکیں، تو ان کو حضور علیہ السلام نے کیا رخصت دی تھی کہ وہ رات کے وقت بھی رمی کر سکتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ آدھی رات کے بعد ہی اس رمی کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔ آگے جواب بھی آئے گا اس حدیث کا کہ ہمارے نزدیک اس سے گزشتہ دن کی رات نہیں، بلکہ آنے والی رات مراد ہے، یعنی اگر سارے دن میں رمی نہیں کر سکا تو پھر کب کر سکتا ہے؟ رات کو بھی، اگلی رات میں بھی کر سکتا ہے۔ تو یہ دلیل وہ ذکر کرتے ہیں۔
وَلَنَا، اور ہماری دلیل جو ہے، قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وہ حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے، آپ نے فرمایا: لَا تَرْمُوا جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ إِلَّا مُصْبِحِينَ، کہ تم رمی نہ کرو جمرۂ عقبہ کی إِلَّا مُصْبِحِينَ، مگر یہ کہ تم صبح کرنے والے ہو، یعنی صبح کے وقت میں داخل ہونے والے ہو۔ یعنی صبح کے وقت کرو، اس سے پہلے جمرۂ عقبہ کی رمی نہ کرو۔
وَيُرْوَى، اور یہ بھی روایت کیا گیا ہے، بعض احادیث میں یہ آیا ہے: حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے۔ تو بعض روایات تو اس طرح آئیں: لَا تَرْمُوا جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ إِلَّا مُصْبِحِينَ، اور بعض روایتوں میں إِلَّا مُصْبِحِينَ کی جگہ آیا: حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، کہ لَا تَرْمُوا جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، کہ تم لوگ جمرۂ عقبہ کی رمی نہ کرو یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے بھئی۔
تو یہ دو قسم کی روایتیں آئیں، اور احناف کی کوشش ہوتی ہے کہ ہر روایت پر عمل ہو جائے۔ چنانچہ ہم یہ پہلی روایت کو محمول کرتے ہیں اولِ وقت پر اور ثانی روایت کو محمول کرتے ہیں افضلِ وقت پر۔ پہلی حدیث کیا تھی؟ کہ تم رمی نہ کرو یہاں تک کہ صبح ہو جائے، تو ہم کہتے ہیں یہ اولِ وقت کا بیان ہے، کہ معلوم ہوا جب صبح ہو جائے گی، فجر طلوع ہو جائے گی تو رمی کا وقت شروع ہو گیا۔ اور دوسری روایت میں آیا: تم رمی نہ کرو یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے، ہم کہتے ہیں اس کے اندر افضلِ وقت کا بیان ہے، تو ہمارا عمل دونوں حدیثوں پر ہے۔ بلکہ جو امام شافعی رحمہ اللہ نے حدیث ذکر کی اس پر بھی ہمارا عمل ہے، ہمارے نزدیک اس سے اگلی آنے والی رات مراد ہے بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو کہتے ہیں: وَيُرْوَى حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، اور یہ بھی روایت کیا گیا ہے: حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے۔ فَيَثْبُتُ أَصْلُ الْوَقْتِ بِالْأَوَّلِ، تو اصلِ وقت ثابت ہو گا پہلی روایت سے، یعنی فجر کے بعد سے ہی وقت ثابت ہو گا۔ وَالْأَفْضَلِيَّةُ بِالثَّانِي، اور افضل ہونا دوسری روایت سے ثابت ہو گا حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، یعنی جب سورج طلوع ہو جائے تو پھر کرنا افضل ہے بھئی۔
وَتَأْوِيلُ مَا رَوَى اللَّيْلَةُ الثَّانِيَةُ وَالثَّالِثَةُ، اور تاویل اس حدیث کی جس کو امام شافعی رحمہ اللہ نے روایت کیا، وہ دوسری اور تیسری رات ہے، یعنی آگے آنے والی جو رات ہے۔ وَلِأَنَّ لَيْلَةَ النَّحْرِ وَقْتُ الْوُقُوفِ، اور نیز اس لیے کیونکہ نحر کی جو رات ہے وہ وقوف کا وقت ہے۔ لیلۃ النحر جو ہے، یعنی دسویں ذی الحجہ سے جو پچھلی رات ہے، بھئی امام شافعی رحمہ اللہ کی حدیث جو تھی کہ حضور علیہ السلام نے چرواہوں کو رات ہی کو رمی کرنے کی اجازت دی، اس کی تاویل کیا بیان کر دی؟ اگلی، جو آنے والی رات ہے اگلی اور اس سے اگلی رات وہ مراد ہے اس حدیث کے اندر، کہ دن کو رمی نہیں کر سکے تو پھر آنے والی رات میں وہ رمی کر لیں۔
اور نیز اس لیے کیونکہ یہ جو لیلۃ النحر کی رات ہے، جس میں امام شافعی رحمہ اللہ فرما رہے ہیں کہ آدھی رات سے ہی رمی کا وقت شروع ہو جاتا ہے، ہم کہتے ہیں کہ یہ رات تو مزدلفہ میں وقوف کی رات ہے۔ یہ رات تو مزدلفہ میں وقوف کی رات ہے، اس رات تو مزدلفہ میں قیام کیا جائے گا، فجر کے بعد کیا کیا جائے گا؟ وقوفِ مزدلفہ کیا جائے گا، اور اس کے بعد رمی کی جاتی ہے، اس پر رمی مرتب ہوتی ہے، تو لہٰذا اس سے پہلے تو کون سا وقت تھا؟ وقوف کا وقت تھا، تو اس کے بعد کس کا وقت شروع ہو گا؟ رمی کا وقت شروع ہو گا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟
یہ معنی ہے: وَلِأَنَّ لَيْلَةَ النَّحْرِ وَقْتُ الْوُقُوفِ، اور اس لیے کیونکہ نحر کی جو رات ہے وہ تو وقوف کا وقت ہے، وَالرَّمْيُ يَتَرَتَّبُ عَلَيْهِ، اور رمی اس وقوف پر مرتب ہوتی ہے، فَيَكُونُ وَقْتُهُ بَعْدَهُ ضَرُورَةً، تو اس رمی کا وقت جو ہے اس وقوف کے بعد ہو گا ضرورۃً، یقینی طور پر بھئی، یقینی طور پر اس کا وقت اس وقوف کے بعد ہو گا کیونکہ یہ رمی اس پر مرتب ہو رہی ہے۔
ثُمَّ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ يَمْتَدُّ هَذَا الْوَقْتُ إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ، پھر امام صاحب کے نزدیک جو ہے، لمبا ہوتا ہے یہ وقت غروبِ شمس تک۔ بھئی اب اس وقت کا امتداد کب تک ہے؟ غروبِ شمس تک یہ رمی کر سکتا ہے جمرۂ عقبہ کی دسویں ذی الحجہ کو۔ دلیل ذکر کر رہے ہیں: لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ، بہ وجہ حضور علیہ السلام کے اس فرمانِ مبارک کے، آپ نے فرمایا: إِنَّ أَوَّلَ نُسُكِنَا فِي هَذَا الْيَوْمِ الرَّمْيُ، کہ ہماری پہلی عبادت اس دن کے اندر وہ رمی ہے۔ حضور علیہ السلام نے کیا فرمایا؟ کہ اس دن میں ہماری پہلی عبادت رمی ہے، تو حضور علیہ السلام نے پورے دن کو رمی کا وقت قرار دیا۔ اس دن میں، اس دن میں، معلوم ہوا دن کو رمی کے لیے آپ نے وقت قرار دے دیا۔ دلیل سمجھ میں آ رہی ہے؟ کہ معلوم ہوا پورا دن اس رمی کا وقت ہے، اور دن کا اختتام کس پر ہوتا ہے؟ غروبِ شمس پر ہوتا ہے، سورج ڈوبنے پر ہوتا ہے، معلوم ہوا سورج ڈوبنے تک اس رمی کا وقت ہے بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟
بہ وجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے، آپ نے فرمایا: إِنَّ أَوَّلَ نُسُكِنَا فِي هَذَا الْيَوْمِ الرَّمْيُ، کہ بے شک ہماری پہلی عبادت اس دن کے اندر وہ رمی ہے، جَعَلَ الْيَوْمَ وَقْتًا لَهُ، حضور علیہ السلام نے قرار دیا دن کو اس رمی کے لیے وقت، وَذَهَابُهُ بِغُرُوبِ الشَّمْسِ، اور دن کا جانا غروبِ شمس سے ہوتا ہے۔
وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ يَمْتَدُّ إِلَى وَقْتِ الزَّوَالِ، امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس رمی کا وقت زوالِ شمس تک ہے، سورج ڈھلنے تک ہے، اس سے پہلے پہلے رمی کرنا پڑے گی، اس کے بعد درست نہیں بھئی، وَالْحُجَّةُ عَلَيْهِ مَا رَوَيْنَا، اس کے بعد درست نہیں۔ تو کہتے ہیں: وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے یہ روایت ہے، أَنَّهُ يَمْتَدُّ إِلَى وَقْتِ الزَّوَالِ، کہ اس رمی کا وقت ممتد ہوتا ہے، طویل ہوتا ہے زوال کے وقت تک، وَالْحُجَّةُ عَلَيْهِ مَا رَوَيْنَا، اور دلیل ان کے خلاف وہ حدیث ہے جس کو ہم نے روایت کر دیا، کہ جس میں آپ نے سارے دن کو اس رمی کا وقت قرار دیا ہے۔
وَإِنْ أَخَّرَ إِلَى اللَّيْلِ رَمَاهُ وَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ، اور اگر اس حاجی نے مؤخر کر دیا رمی کو رات تک، رَمَاهُ، تو کیا کر لے؟ رمی کر لے، یعنی رات ہی کو رمی کر لے، وَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ، اور اس پر کوئی چیز نہیں۔ یعنی اتنی تاخیر کی وجہ سے اس پر کوئی دم وغیرہ واجب نہیں ہو گا۔ بھئی کیوں نہیں دم کیوں نہیں واجب ہو گا؟ کہتے ہیں: لِحَدِيثِ الرِّعَاءِ، وہ چرواہوں والی حدیث کی وجہ سے، کہ اس میں ان کو حضور علیہ السلام نے رخصت دی تھی، معلوم ہوا رات کو کرنا بھی جائز ہے بھئی۔
وَإِنْ أَخَّرَهُ إِلَى الْغَدِ رَمَاهُ، اور اگر حاجی نے مؤخر کر دیا اس رمی کو، کون سی رمی؟ دسویں ذی الحجہ کی رمی، اس کو مؤخر کر دیا إِلَى الْغَدِ، اگلے دن تک، اگلے دن تک ہی رمی نہیں کی، اگلا دن آ گیا، رَمَاهُ، تو بھی کیا کر لے؟ رمی کر لے، لِأَنَّهُ وَقْتُ جِنْسِ الرَّمْيِ، اس لیے کیونکہ یہ بھی جنسِ رمی کا وقت ہے بھئی۔ کون سی تاریخ آ گئی؟ گیارہ۔ گیارہ، بارہ، تیرہ، ان تین دنوں میں بھی کیا کی جاتی ہے؟ رمی کی جاتی ہے، تو یہ بھی جنسِ رمی ہی کا وقت ہے، لہٰذا اگرچہ گزشتہ دن گزر گیا لیکن ابھی بھی جنسِ رمی کا وقت ہے تو کیا کر لے؟ رمی کر لے۔ یہ معنی ہے: لِأَنَّهُ وَقْتُ جِنْسِ الرَّمْيِ، اس لیے کیونکہ یہ جنسِ رمی کا وقت ہے۔
وَعَلَيْهِ دَمٌ، اور اس پر دم واجب ہے بھئی۔ اگلے دن تک مؤخر کر دی ہے تو ایک جانور کی قربانی اسے کرنا پڑے گی بطورِ جرمانے کے بھئی، عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، امام صاحب کے نزدیک، لِتَأْخِيرِهِ عَنْ وَقْتِهِ، بہ وجہ اس کو مؤخر کرنے کے اس کے وقت سے، كَمَا هُوَ مَذْهَبُهُ، جیسے کہ امام صاحب کا مذہب ہے۔ امام صاحب کا کیا مذہب ہے؟ کہ اگر حج کے کسی عمل کو اس کے وقت سے مؤخر کر دیا جائے تو اس صورت میں دم لازم آتا ہے، تو یہاں پر بھی دم لازم آئے گا۔
قَالَ: فَإِنْ رَمَاهَا رَاكِبًا أَجْزَأَهُ لِحُصُولِ فِعْلِ الرَّمْيِ، بھئی اگر کوئی شخص سواری پر سوار ہو کر رمی کر لیتا ہے تو کیا کر سکتا ہے یا نہیں؟ کہتے ہیں ہاں بھئی، سواری پر سوار ہو کر بھی رمی کر سکتا ہے۔ اور افضل یہ ہے کہ وہ رمی جس کے بعد رمی ہو اسی وقت، اس رمی کو پیدل کرنا افضل ہے، اور جس رمی کے بعد رمی نہ ہو اس کو سوار ہو کر کرنا افضل ہے۔ سمجھ میں آئی، ضابطہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟
تو کہتے ہیں: فَإِنْ رَمَاهَا رَاكِبًا أَجْزَأَهُ، اور اگر اس شخص نے رمی کی اس جمرے کی سوار ہو کر، أَجْزَأَهُ، تو یہ اس کے لیے کافی ہے، لِحُصُولِ فِعْلِ الرَّمْيِ، کیونکہ فعلِ رمی پایا گیا بھئی۔ رمی کی ہے یعنی کنکریاں ماری ہیں اور کنکریاں مارنے کا فعل پایا گیا۔
وَكُلُّ رَمْيٍ بَعْدَهُ رَمْيٌ فَالْأَفْضَلُ أَنْ يَرْمِيَهُ مَاشِيًا وَإِلَّا فَيَرْمِيهِ رَاكِبًا، اور ہر وہ رمی جس کے بعد اسی وقت کیا ہو؟ رمی ہو، تو افضل یہ ہے کہ اس میں رمی کرے مَاشِيًا، پیادہ بھئی، یعنی پیدل کرے، وَإِلَّا، اور اگر ایسا نہ ہو، یعنی اس کے بعد رمی نہ ہو، فَيَرْمِيهِ رَاكِبًا، تو اس کو اس کی رمی کرے سوار ہو کر۔
بھئی وجہ کیا؟ کہ جس رمی کے بعد رمی ہو اس کو پیدل کرنا افضل کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ جس رمی کے بعد رمی ہوتی ہے اس کے بعد دعا کی جاتی ہے۔ کیا کی جاتی ہے؟ دعا کی جاتی ہے، اور دعا کے اندر عاجزی ہونی چاہیے، لہٰذا یہاں پر رمی بھی کیا کرے؟ پیدل کرے، کیونکہ یہ عاجزی کے زیادہ قریب ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور جس رمی کے بعد دعا نہیں تو اس میں سوار ہو کر کرنا افضل ہے۔
تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الْأَوَّلَ بَعْدَهُ وُقُوفٌ وَدُعَاءٌ عَلَى مَا ذَكَرْنَا، اس لیے کیونکہ پہلی رمی جو ہے اس کے بعد وقوف بھی ہے اور دعا بھی ہے بہ وجہ اس حدیث کے جس کو ہم نے ذکر کر دیا، فَيَرْمِي مَاشِيًا، تو اس کی رمی کیسے کرے؟ پیدل کرے، لِيَكُونَ أَقْرَبَ إِلَى التَّضَرُّعِ، تاکہ یہ عاجزی کے زیادہ قریب ہو، وَبَيَانُ الْأَفْضَلِ مَرْوِيٌّ عَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ، صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ یہ افضل ہونے کا جو ہم نے بیان کیا، کہ کہاں پر کس صورت میں رمی افضل ہے، یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت کیا گیا ہے۔
وَيُكْرَهُ أَنْ لَا يَبِيتَ بِمِنًى لَيَالِيَ الرَّمْيِ، اور حاجی کے لیے مکروہ ہے کہ وہ منیٰ میں راتیں نہ گزارے، کون سی راتیں؟ لَيَالِيَ الرَّمْيِ، رمی والی راتیں۔ اور حاجی کے لیے مکروہ ہے کہ وہ رمی والی راتیں منیٰ میں نہ گزارے بھئی، بلکہ رمی والی راتیں کہاں گزارنی چاہییں؟ منیٰ میں بھئی۔
لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ بَاتَ بِهَا، اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے منیٰ میں رات گزاری، وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ كَانَ يُؤَدِّبُ عَلَى تَرْكِ الْمُقَامِ بِهَا، اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو تھے وہ تادیب فرماتے تھے عَلَى تَرْكِ الْمُقَامِ بِهَا، مقام یہ مصدر ہے بھئی، بمعنی اقامت کے، اقامت کے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو ہے وہ تادیب فرماتے تھے کس بات پر؟ عَلَى تَرْكِ الْمُقَامِ بِهَا، أَيْ عَلَى تَرْكِ الْإِقَامَةِ بِهَا، منیٰ میں اقامت کو ترک کرنے پر آپ تادیب فرماتے تھے۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفۃ المسلمین تھے اور آپ کی طبیعت بڑی جلالی، اور آپ ہر شخص کو موقع پر ہی تنبیہ فرماتے اور ادب سکھاتے اگر کسی سے ذرا سی بھی غلطی ہوتی بھئی۔ تو آپ کی ذات ہی ایک معلم کی سی تھی بھئی، خلیفہ بھی تھے اور معلم بھی تھے، تو چنانچہ آپ اس پر تنبیہ فرماتے تھے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ موقع پر ہی اس شخص کو سختی سے ڈانٹ دیتے، بلکہ آپ کے ہمراہ آپ کا کوڑا ہر وقت ہوتا تھا، اگر کوئی زیادہ غلطی ہوتی تو آپ اسی وقت اس شخص کو درے بھی لگاتے بھئی۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو شخص وہ منیٰ کے اندر اقامت کو ترک کرتا تھا اس پر آپ تادیب فرماتے تھے، ڈانٹتے وغیرہ ہوں گے بھئی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔
تو: وَلَوْ بَاتَ فِي غَيْرِهَا مُتَعَمِّدًا لَا يَلْزَمُهُ شَيْءٌ عِنْدَنَا، اور اگر اس شخص نے رات گزاری فِي غَيْرِهَا، أَيْ فِي غَيْرِ مِنًى، منیٰ کے علاوہ کسی جگہ اس نے رات گزاری مُتَعَمِّدًا، جان بوجھ کر، لَا يَلْزَمُهُ شَيْءٌ عِنْدَنَا، تو اس پر کوئی چیز لازم نہیں ہے ہمارے نزدیک، یعنی کوئی دم وغیرہ اس پر لازم نہیں ہے، خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ، بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے، ان کے نزدیک دم واجب ہے۔
لِأَنَّهُ، یہاں سے ہماری دلیل ذکر ہو رہی ہے کہ کوئی چیز کیوں نہیں واجب، اس پر دم کیوں نہیں واجب، تو دلیل ذکر کر رہے ہیں: کہتے ہیں: لِأَنَّهُ وَجَبَ لِيَسْهُلَ عَلَيْهِ الرَّمْيُ فِي أَيَّامِهِ، ہم کہتے ہیں کیونکہ یہ جو منیٰ کے اندر قیام ہے، یہ ثابت ہے تاکہ اس کے لیے ان ایام میں رمی آسان ہو جائے۔ یرحمک اللہ۔ تاکہ اس پر رمی کیا ہو جائے ان دنوں میں؟ بھئی رمی اس نے کہاں کرنی ہے؟ منیٰ میں، تو اگر کہیں اور رات گزارے گا تو پھر وہاں سے رمی کے لیے آنا پڑے گا، تو زیادہ آسانی اس کے اندر ہے کہ وہ رات کہاں گزارے؟ منیٰ میں ہی گزارے بھئی، تو یہ افعالِ حج میں سے نہیں ہے، لہٰذا اس کے ترک کرنے پر کوئی دم وغیرہ بھی واجب نہیں ہو گا۔
تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ وَجَبَ، یاد رکھیے وَجَبَ یہاں بمعنی ثَبَتَ کے ہے، کیونکہ یہ رات منیٰ میں گزارنا واجب نہیں ہے، اگر واجب ہوتا پھر تو دم لازم آتا، تو یہاں وَجَبَ کس معنی میں ہے؟ ثَبَتَ، اور وَجَبَ بمعنی ثَبَتَ کے عام استعمال ہوتا رہتا ہے بھئی۔ اسی طرح أَوْجَبَ بمعنی أَثْبَتَ کے عام استعمال ہوتا ہے۔
لِأَنَّهُ وَجَبَ، اس لیے کیونکہ یہ قیام ثابت ہوا ہے، لِيَسْهُلَ عَلَيْهِ الرَّمْيُ، تاکہ آسان ہو جائے حاجی پر رمی، فِي أَيَّامِهِ، ان، اس رمی کے ایام میں، فَلَمْ يَكُنْ مِنْ أَفْعَالِ الْحَجِّ، تو یہ افعالِ حج میں سے نہیں ہے، فَتَرْكُهُ لَا يُوجِبُ الْجَابِرَ، پس اس اقامت کو ترک کر دینا لَا يُوجِبُ، یہ واجب نہیں کرتا، الْجَابِرَ، کوئی تلافی کرنے والی چیز۔ اس کے لیے کوئی جابر بھئی، یعنی کوئی جبیرہ، کوئی تلافی کرنے والی چیز اس سے واجب نہیں ہو گی۔ ورنہ اگر یہ واجب ہوتا تو پھر واجب کو چھوڑنے کی وجہ سے اس کی تلافی کرنا پڑتی ہے، وہ جابر واجب ہوتا ہے، جابر یعنی تلافی کرنے والی چیز۔ تو یہاں چونکہ واجب نہیں ہے لہٰذا کوئی جابر یعنی تلافی کرنے والی چیز، یعنی دم وغیرہ بھی واجب نہیں ہو گا۔ یہ معنی ہے: فَتَرْكُهُ لَا يُوجِبُ الْجَابِرَ، تو اس کا ترک جو ہے کسی تلافی کرنے والی چیز کو واجب نہیں کرتا۔
قَالَ: وَيُكْرَهُ أَنْ يُقَدِّمَ الرَّجُلُ ثَقَلَهُ إِلَى مَكَّةَ وَيُقِيمَ حَتَّى يَرْمِيَ، بھئی کوئی شخص ایسا کرتا ہے کہ ان ایام میں رہتا تو منیٰ کے اندر ہی ہے لیکن اپنا سامان پہلے ہی مکہ بھجوا دیتا ہے، کہ میں ایک دو دن بعد آؤں گا تو میرا سامان وہاں رکھ لینا مکہ میں، تو کسی کے ہاتھ سامان پہلے ہی بھیج دیتا ہے تو کہتے ہیں یہ بھی مکروہ ہے بھئی۔ یہ کیا ہے؟ مکروہ ہے۔ وجہ اس کی یہ کہ اس کی وجہ سے اس کا دل مشغول رہے گا، اس کا دل فکرمند رہے گا اپنے سامان کے بارے میں، تو عبادت کی ادائیگی کی طرف اس کی پوری یکسوئی اور پوری توجہ نہیں ہو گی، اس لیے یہ مکروہ ہے۔ اور نیز اس لیے کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو ہے وہ اس سے منع فرماتے تھے اور جو ایسا کرتا اس کی تادیب فرماتے تھے بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: وَيُكْرَهُ أَنْ يُقَدِّمَ الرَّجُلُ ثَقَلَهُ إِلَى مَكَّةَ، اور مکروہ ہے کہ آگے بھیج دے کوئی شخص اپنا ثقل، اپنا بوجھ یعنی اپنا سامان، إِلَى مَكَّةَ، مکہ کو، وَيُقِيمَ، اور مقیم رہے منیٰ میں، حَتَّى يَرْمِيَ، یہاں تک کہ رمی کر لے، یہ مکروہ ہے۔ لِمَا رُوِيَ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ كَانَ يَمْنَعُ مِنْهُ وَيُؤَدِّبُ عَلَيْهِ، بہ وجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو ہے وہ اس سے منع فرماتے تھے اور اس پر تادیب فرماتے تھے، وَلِأَنَّهُ يُوجِبُ شُغْلَ قَلْبِهِ، اور نیز اس لیے کیونکہ یہ اس کے دل کی مشغولیت کو ثابت کرے گا، اس سے کیا ہو گا؟ اس کا دل مشغول رہے گا، فکرمند رہے گا۔
وَإِذَا نَفَرَ إِلَى مَكَّةَ نَزَلَ بِالْمُحَصَّبِ وَهُوَ الْأَبْطَحُ، وَهُوَ اسْمُ مَوْضِعٍ قَدْ نَزَلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ نُزُولُهُ قَصْدًا هُوَ الْأَصَحُّ، بھئی حاجی نے جمرات کی رمی کر لی، تمام ایام گزر گئے بھئی۔ تو بارہویں تاریخ کو جب رمی کر لی اس کے بعد وہ مکہ روانہ ہوا، یا تیرہویں تاریخ کو جب اس نے رمی کر لی وہ مکہ روانہ ہوا۔ تو منیٰ سے جب مکہ کی طرف چلا تو مکہ کے قریب ایک جگہ ہے جس کو محصب کہتے ہیں۔ اسی کا دوسرا نام ابطح ہے، ابطح بھئی۔ سمجھ میں آئے یہ دونوں نام کتاب میں آ رہے ہیں۔ تو یہ محصب اور ابطح یہ ایک جگہ کا نام ہے، تو یہاں پر اترے وہ بھئی۔ یہ جو مکہ کے قریب پہنچ گیا تو کس مقام پر اترے؟ ابطح اور محصب مقام پر، اور یہاں اترنا سنت ہے بھئی، سنت ہے۔
تو کہتے ہیں: وَإِذَا نَفَرَ إِلَى مَكَّةَ، اور جب حاجی جو ہے روانہ ہو جائے مکہ کو، نَزَلَ بِالْمُحَصَّبِ، تو اترے محصب میں، وَهُوَ الْأَبْطَحُ، اور یہی ابطح ہے، وَهُوَ اسْمُ مَوْضِعٍ قَدْ نَزَلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اور یہ اس جگہ کا نام ہے جہاں پر نبی کریم ﷺ اترے تھے، وَكَانَ نُزُولُهُ قَصْدًا، اور حضور علیہ السلام کا اترنا قصداً تھا، آپ جان بوجھ کر یہاں پر اترے تھے بھئی۔ حضور علیہ السلام جان بوجھ کر یہاں پر اترے تھے اپنے ارادے کے ساتھ، هُوَ الْأَصَحُّ، یہی قول زیادہ صحیح ہے، حَتَّى يَكُونَ النُّزُولُ بِهِ سُنَّةً، یہاں تک کہ یہاں نازل ہونا سنت ہو گا۔ حضور علیہ السلام جان بوجھ کر اترے تھے تو معلوم ہوا یہاں اترنا سنت ہے بھئی۔
عَلَى مَا رُوِيَ، بہ وجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا ہے، أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ لِأَصْحَابِهِ، بھئی دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ حضور علیہ السلام جان بوجھ کر اترے تھے کیسے پتہ چلا بھئی؟ وہ دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے اپنے صحابہ سے فرمایا: إِنَّا نَازِلُونَ غَدًا عِنْدَ خَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ، حضور علیہ السلام نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ کل ہم اتریں گے عند خیف۔ خیف کہتے ہیں پہاڑ کے درمیان کا حصہ بھئی، جو پہاڑ سے نیچے ہو، البتہ پانی بہنے کی جگہ سے اونچا ہو بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ ایک تو بالکل گہری جگہ ہے نا جو پانی بہنے کی ہے، اس سے جو ذرا اوپر جگہ ہو ہے نیچے لیکن پانی بہنے کی جگہ سے اوپر ہو، اس کو خیف کہتے ہیں۔ اور یہ، یہ جو ابطح اور محصب ہے، اس کو خیفِ بنی کنانہ بھی کہتے کہ یہ کہیں یہ بنی کنانہ قبیلہ عرب کا، تو ان کے گھر کہیں اس کے قریب ہوں گے یا ویسے اس کا نام ہو گا اس، مشہور ہو گیا ہو گا۔ تو اس، حضور علیہ السلام نے فرمایا اپنے صحابہ سے کہ کل ہم جو ہے خیفِ بنی کنانہ میں اتریں گے، وہاں نازل ہوں گے، حَيْثُ تَقَاسَمَ الْمُشْرِكُونَ فِيهِ عَلَى شِرْكِهِمْ، کیونکہ قسمیں کھائی تھیں مشرکین نے اس میں اپنے شرک پر۔
حَيْثُ، یہ ساری ابھی حدیث چل رہی ہے بھئی: حَيْثُ تَقَاسَمَ الْمُشْرِكُونَ فِيهِ عَلَى شِرْكِهِمْ، یہاں تک حدیث ہے، کہ ہم کل خیفِ بنی کنانہ میں اتریں گے کیونکہ مشرکین نے وہاں باہم قسمیں کھائی تھیں عَلَى شِرْكِهِمْ، اپنے شرک پر بھئی۔ آگے صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں: يُشِيرُ إِلَى جَهْدِهِمْ عَلَى هِجْرَانِ بَنِي هَاشِمٍ، حضور علیہ السلام اشارہ فرما رہے تھے إِلَى جَهْدِهِمْ، ان مشرکین کی کوشش پر جو انہوں نے کوشش کی تھی، عَلَى هِجْرَانِ بَنِي هَاشِمٍ، بنی ہاشم کو چھوڑنے پر۔ ہجران کا کیا معنی؟ چھوڑ دینا بھئی۔ تو حضور علیہ السلام نے جو کہا: حَيْثُ تَقَاسَمَ الْمُشْرِكُونَ فِيهِ عَلَى شِرْكِهِمْ، اپنے اس قول کے ذریعے حضور علیہ السلام کس بات کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں؟ کہ مشرکین نے جو انتہا درجے کی کوشش کی تھی بنی ہاشم کو چھوڑنے کی۔
بھئی یہاں پر صاحبِ ہدایہ اشارہ فرما رہے ہیں اس واقعے کی طرف، کہ یہ وہ مقام ہے کہ جب حضور علیہ السلام دینِ حق لے کر آئے اور یہ دین پھیلتا ہی جا رہا ہے، اور اس زمانے میں قومی غیرت ایک بڑی چیز تھی۔ کوئی قوم یہ برداشت نہیں کرتی تھی کہ ان کے کسی آدمی کو کوئی دوسری قوم والا ہاتھ لگائے بھئی، اور وہ کہتے کہ اگر کوئی شکایت ہے تو ہمیں آ کر بتاؤ، ہم اپنے قوم والے کو منع کریں گے لیکن کسی اور کو یہ اجازت نہیں کہ ہماری قوم کے کسی آدمی کو ہاتھ لگائے بھئی۔ تو حضور علیہ السلام جب یہ دینِ حق لے کر آئے تو یہ دین اب پھیلتا جا رہا ہے، مشرکین نے ہر تدبیر کر لی کہ کسی طرح اس کو روکا جائے، لیکن ہر کوشش ناکام ہوتی چلی گئی بھئی، اور ادھر وہ حضور علیہ السلام کو تکلیف تو پہنچاتے تھے انتہا درجے کی، لیکن ایک خاص حد سے آگے وہ نہیں بڑھتے تھے، ڈرتے تھے کہ اگر ہم نے ان کو کچھ کہا، قتل وغیرہ کیا تو اس صورت میں بنو ہاشم والے ان کی قوم والے جو ہیں وہ ہمیں نہیں چھوڑیں گے، وہ ہمارے ساتھ جنگ کریں گے۔ تو اس وجہ سے وہ قتل وغیرہ نہیں کر سکتے تھے۔
آخر تنگ آ کر انہوں نے میٹنگ کی بھئی، کہ کس طرح روکا جائے، منع کیا جائے، اور پھر سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ یوں کر لیتے ہیں، پورے بنی ہاشم والوں سے ہم مقاطعہ کر دیتے ہیں، ان سے بات چیت ختم، ان کے ساتھ سارے معاملات آج کے بعد ختم، نہ کوئی ان سے بات کرے گا، نہ کوئی چیز دے گا ان کو، نہ ان کے ساتھ کوئی بیع و شراء وغیرہ والا معاملہ کرے گا، آج سے ان کا مکمل بائیکاٹ ہے۔ چنانچہ انہوں نے معاہدہ باقاعدہ لکھا اور اس پر ساروں نے اپنے دستخط وغیرہ کیے، اور پھر اس معاہدے کو بیت اللہ کے اندر لٹکا دیا گیا۔ ادھر بنو ہاشم والے جب ان کا بائیکاٹ ہوا تو وہ پھر جب دیکھا نہ ان کے ساتھ کوئی بات چیت کرتا ہے نہ کچھ، چنانچہ وہ جدا ہو کر وہ گھاٹی کے اندر الگ ہو گئے بھئی، سب لوگوں سے الگ ہو کر وہ گھاٹی کے اندر آ گئے اور وہاں تین سال گزارے انہوں نے بھئی، اور بڑی مشکل اور تکلیف کے اندر یہ سال گزارے، حتیٰ کہ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ کھانے کے لیے کوئی چیز ہی نہ رہی ان کے پاس بھئی۔ وہ حتیٰ کہ پتے وغیرہ اور چمڑے کے ٹکڑے وغیرہ یہ چیزیں کھانے تک وہ مجبور ہو گئے بھئی بھوک کی وجہ سے، کیونکہ غلہ تو کوئی دیتا نہیں، کوئی ان کے ہاتھ بیچتا ہی نہیں کوئی چیز بھئی، تو اتنی تکلیف میں پڑ گئے۔
اور پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضور علیہ السلام پر وحی آئی اور آپ کو بتلایا گیا کہ ان لوگوں نے جو معاہدہ کیا تھا اور دستخط وغیرہ کیے تھے سب نے مل کر اس پر اور بیت اللہ میں لٹکایا تھا، اس معاہدے کو دیمک وغیرہ سارا کھا گئے ہیں، صرف اس میں سے جو اللہ کا نام جہاں جہاں آیا تھا وہ باقی بچا ہے، باقی سارا ختم ہو چکا ہے۔ تو چنانچہ پھر وہ مشرکینِ مکہ کو اطلاع دی گئی کہ بھئی تم، تم، تم نے وہ جو معاہدہ کیا تھا وہ تو سارا ختم ہو چکا ہے، اس کا تو وجود ہی باقی نہیں رہا۔ انہوں نے کہا اگر ایسی بات ہے تو پھر ہم آپ کا بائیکاٹ ختم کر دیں گے جب وہ معاہدہ ہی ختم ہو گیا۔ وہ پھر آئے اور انہوں نے بیت اللہ کا دروازہ کھولا اور دیکھا تو واقعی وہ معاہدہ سارا جو ہے اس کو دیمک وغیرہ کھا چکی ہے، صرف وہ جگہ باقی ہے جہاں جہاں اللہ کا نام تھا بھئی۔ تو پھر انہوں نے اپنے الفاظ پر جیسے انہوں نے بات کی تھی کہ ہم پھر بائیکاٹ ختم کر دیں گے، اس پر عمل کیا اور بائیکاٹ ختم کر دیا اور اس طرح یہ تکلیف کا زمانہ ختم ہوا بھئی۔
تو یہ وہ مقام ہے محصب جہاں انہوں نے وہ میٹنگ کی تھی کہ بائیکاٹ کریں گے بھئی۔ تو حضور علیہ السلام جان بوجھ کر یہاں پر اترے تاکہ ان لوگوں کو بتا دیں کہ یہ اللہ کی قدرتیں ہیں کہ جس مقام پر تم ہمیں مٹانے کی سازشیں کر رہے تھے، آج ہم وہاں فاتحانہ طور پر اترتے ہیں بلا خوف و خطر، ہمیں کسی کا خوف نہیں ہوتا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
یہ معنی ہے: يُشِيرُ إِلَى جَهْدِهِمْ عَلَى هِجْرَانِ بَنِي هَاشِمٍ، حضور علیہ السلام اشارہ فرما رہے تھے ان مشرکین کی جو وہ جو کوشش تھی بنی ہاشم کو چھوڑنے پر اس کی طرف اشارہ فرما رہے تھے۔
فَعَرَفْنَا، پس ہم نے جان لیا، صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ پس ہم نے جان لیا، أَنَّهُ نَزَلَ بِهِ، کہ حضور علیہ السلام نازل ہوئے تھے اس مقام پر، إِرَاءَةً لِلْمُشْرِكِينَ، مشرکین کو دکھانے کے لیے، لَطِيفَ صُنْعِ اللَّهِ تَعَالَى بِهِ، اللہ کی لطیف کاریگری جو تھی بہ ان کے ساتھ، یعنی حضور علیہ السلام کے ساتھ جو اللہ نے جو لطیف معاملہ فرمایا تھا وہ ان کو دکھانے کے لیے، فَصَارَ سُنَّةً، تو یہ کیا ہوا؟ معلوم ہوا یہاں اترنا سنت ہو گیا، كَالرَّمَلِ فِي الطَّوَافِ، جیسے کہ رمل ہے طواف کے اندر، جیسے کہ رمل ہے طواف کے اندر۔
بھئی دیکھیے، حضور علیہ السلام یہاں نازل ہوئے تھے مشرکین کو دکھانے کے لیے، مشرکین کو دکھانے کے لیے اور بتانے کے لیے اللہ تعالیٰ کی لطیف کاریگری جو ان کے ساتھ پیش آئی تھی بھئی، وہ دکھانے کے لیے حضور علیہ السلام یہاں نازل ہوئے تھے، اور بعد میں اگرچہ وہ سبب نہ رہا لیکن حکم اسی طرح باقی رہا۔ بعد میں اگرچہ مشرکین نہ رہے لیکن حکم پھر بھی وہی کہ وہاں پر نازل ہونا سنت ہے، چنانچہ خلفائے راشدین بھی یہیں اترتے تھے بھئی۔ اور یہ اسی طرح ہے کہتے ہیں جیسے رمل ہے طواف کے اندر۔ رمل کیوں کیا گیا تھا طواف میں؟ مشرکین کو اپنی قوت دکھانے کے لیے، کیونکہ وہ کہہ رہے تھے کہ مسلمان کمزور ہو گئے ہیں۔ بعد میں اگرچہ وہ سبب نہ رہا لیکن حکم اسی طرح باقی رہا اور طواف میں رمل اس کے بعد بھی مسنون ہی رہا۔ بعد میں بھی حضور علیہ السلام جب تشریف لائے تو آپ نے رمل فرمایا اگرچہ سبب ختم ہو چکا تھا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟
یہ معنی ہے: فَعَرَفْنَا أَنَّهُ نَزَلَ بِهِ إِرَاءَةً لِلْمُشْرِكِينَ لَطِيفَ صُنْعِ اللَّهِ تَعَالَى بِهِ فَصَارَ سُنَّةً كَالرَّمَلِ فِي الطَّوَافِ۔
بھئی صاحبِ ہدایہ نے تو بتلایا کہ حضور علیہ السلام محصب میں کیوں اترے تھے؟ مشرکین کو دکھانے کے لیے، کیونکہ یہاں پر انہوں نے بنو ہاشم کے بائیکاٹ کی میٹنگ کی تھی بھئی اسی مقام پر۔ دیگر علماء فرماتے ہیں کہ محصب وہ مقام ہے جہاں پر مشرکینِ عرب نے آخری میٹنگ کی تھی اسلام کو مٹانے کی بھئی، اور جس کے اندر شیطان خود بھی انسانی شکل میں شریک ہو گیا تھا۔ دینِ حق ہر طرف پھیلتا ہی جا رہا تھا اور کوئی صورت اس کے روکنے کی ان کو دکھائی نہ دیتی تھی، انہوں نے اپنا پورا زور لگا لیا لیکن یہ دین تھا کہ پھیلتا ہی چلا جا رہا تھا۔ چنانچہ اس مقام پر انہوں نے تمام جو قبیلے تھے بڑے بڑے ان کے سردار سارے اکٹھے ہوئے اور اس مقام پر انہوں نے میٹنگ کی جس میں شیطان یعنی ابلیس خود بھی انسانی شکل میں شریک ہوا، اور پھر اس میٹنگ کے اندر یہ طے کیا گیا کہ بھئی اگر کوئی ایک قوم والا حضور علیہ السلام کو قتل کرے گا تو بنو ہاشم والے تو سارے اس سے جنگ کریں گے، لہٰذا یوں کرو، ہر قوم سے ایک ایک آدمی لے لو اور سارے مل کر ان کو قتل کریں، اس طرح خون ان کا ساری قوموں پر آئے گا اور بنو ہاشم والے ایک یا دو قوموں سے تو لڑ سکتے ہیں، سارے عرب کی قوموں کے ساتھ تو وہ نہیں لڑ سکتے۔
چنانچہ ہر قوم سے ایک ایک آدمی کا انتخاب کیا گیا، اور پھر یہ تلواریں لیے ہوئے قتل کے ارادے سے آئے اور اس مکان کو گھیرے میں لے لیا جس کے اندر سرورِ کونین ﷺ آرام فرما تھے، تو رات کے وقت انہوں نے اس مکان کو گھیرے میں لے لیا۔ حضور علیہ السلام کو وحی کے ذریعے بتلا دیا گیا کہ آپ کے اس مکان کے ارد گرد وہ مشرکین آ گئے ہیں آپ کے قتل کے ارادے سے۔ چنانچہ آپ نے اپنی جگہ پر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو چھوڑا اور آپ اس مکان سے نکلے بھئی۔ مشرکین کے آدمی مکان کے چاروں طرف تلواریں لیے ہوئے کھڑے ہیں بھئی، اور اللہ نے ان پر اونگھ طاری فرما دی، نیند کچھ طاری فرما دی، حضور علیہ السلام نکلے ان کو پتہ ہی نہیں چلا۔ آپ نے مٹی اٹھائی اور ساروں کے سروں پر تھوڑی تھوڑی مٹی بھی ڈال دی، اور پھر آپ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ساتھ لے کر مدینہ منورہ کی طرف چل پڑے اور غارِ ثور کے اندر تین دن پھر آپ نے قیام فرمایا بھئی۔
تو محصب یہ وہ مقام ہے جہاں مشرکینِ مکہ نے اسلام کو مٹانے کی آخری اور حتمی میٹنگ کی تھی، جس میں میں نے بتلایا شیطان خود بھی انسانی شکل میں شریک ہوا تھا، تو حضور علیہ السلام جان بوجھ کر اس مقام پر اترے تھے اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کے جلوے اور اللہ تعالیٰ کی عظمتوں کی نیرنگیاں دکھلانے کے لیے، کہ اے مشرکینِ مکہ! یہ وہ مقام ہے جہاں پر تم ہمیں مٹانے کی آخری میٹنگ کر رہے تھے، لیکن آج ہم بلا خوف و خطر اس مقام پر نازل ہوتے ہیں، آتے ہیں اور ہمیں کسی قسم کا کوئی خوف نہیں ہوتا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو محصب وہ مقام ہے بھئی۔
قَالَ: ثُمَّ دَخَلَ مَكَّةَ وَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعَةَ أَشْوَاطٍ لَا يَرْمُلُ فِيهَا، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ثُمَّ دَخَلَ مَكَّةَ، پھر حاجی جو ہے وہ مکہ میں داخل ہو جائے۔ جی یہ کون سا دن آ گیا، یہ کون سا طواف آگے ذکر ہو رہا ہے؟ طوافِ زیارت گزر چکا بھئی گزر چکا، تیرہ تاریخ کی رمی بھی کر لی ہے۔ ہاں یہ طوافِ وداع آ گیا، واپس جانے لگا ہے، واپس جانے لگا ہے تو ویسے ہی نہ جائے بلکہ کیا کرے؟ بیت اللہ کا ایک طواف کر کے حاجی جائے، تو کہتے ہیں: ثُمَّ دَخَلَ مَكَّةَ، پھر حاجی جو ہے وہ مکہ میں داخل ہو جائے، وَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعَةَ أَشْوَاطٍ، اور طواف کر لے بیت اللہ کا سات چکر، لَا يَرْمُلُ فِيهَا، رمل نہیں کرے گا اس طواف میں۔ بھئی کیوں نہیں کرے گا؟ شاباش، کیونکہ اس کے بعد سعی نہیں ہے۔
وَهَذَا طَوَافُ الصَّدَرِ، اور یہ طوافِ صدر ہے۔ میں نے کیا نام بتلایا تھا؟ طوافِ وداع، تو طوافِ وداع بھی اس کو کہتے ہیں اور طوافِ صدر بھی کہتے ہیں، اور بھی نام ہیں، دیکھیے آگے سب ذکر ہو رہے ہیں۔ وَهَذَا طَوَافُ الصَّدَرِ، اور یہ طوافِ صدر ہے، وَيُسَمَّى طَوَافَ الْوَدَاعِ، اور اس کو طوافِ وداع بھی کہتے ہیں، وَطَوَافَ آخِرِ عَهْدٍ بِالْبَيْتِ، عهد کا معنی ہے زمانہ، زمانہ، وَطَوَافَ آخِرِ عَهْدٍ بِالْبَيْتِ، بیت اللہ کے ساتھ آخری زمانے کا طواف، بیت اللہ کے ساتھ آخری زمانے کا طواف۔ تو بھئی یہ طوافِ وداع جو ہے، اس کو طوافِ صدر بھی کہتے ہیں، صدر کا معنی ہے لوٹنا، واپس ہونا، تو چونکہ یہ واپسی کے وقت کیا جاتا ہے اس لیے اس کو طوافِ صدر کہتے ہیں۔ اسی طرح اس کو طوافِ وداع بھی کہتے ہیں، وداع کا معنی رخصت ہونا بھئی، تو یہ رخصتی کا طواف ہے۔ تو چونکہ یہ اب حاجی جا رہا ہے واپس اپنے وطن کو تو اور آیا کس لیے تھا؟ بیت اللہ کے لیے، لہٰذا آخری عمل بھی کیا ہونا چاہیے؟ بیت اللہ ہی کے گرد طواف ہونا چاہیے، تو یہ الوداعی طواف ہے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ طوافِ وداع کہتے ہیں۔
وَيُسَمَّى طَوَافَ الْوَدَاعِ، اور اس کو طوافِ وداع کہتے ہیں، اور نیز اس کو طَوَافَ آخِرِ عَهْدٍ بِالْبَيْتِ بھی کہتے ہیں بھئی، اور عهد کا کیا معنی میں نے بتلایا؟ زمانہ، تو یہ بیت اللہ کے ساتھ آخری زمانے کا طواف ہے یعنی رخصتی کے وقت کا طواف ہے بھئی۔ بیت اللہ کے پاس جو آخری زمانہ، آخری وقت تھا اس کا طواف بھئی۔ لِأَنَّهُ يُوَدِّعُ الْبَيْتَ وَيَصْدُرُ بِهِ، اس لیے کیونکہ یہ شخص جو ہے اب بیت اللہ سے رخصت ہو رہا ہے، وَيَصْدُرُ بِهِ، اور اس سے واپس لوٹ رہا ہے بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ اس لیے اس کو طوافِ صدر بھی کہتے ہیں، طوافِ وداع بھی کہتے ہیں اور طوافِ آخرِ عہد بھی کہتے ہیں بھئی۔
وَهُوَ وَاجِبٌ عِنْدَنَا، اور یہ طواف جو ہے ہمارے نزدیک واجب ہے، خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ، بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے، لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ، بہ وجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے، آپ نے فرمایا: مَنْ حَجَّ هَذَا الْبَيْتَ فَلْيَكُنْ آخِرُ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ الطَّوَافَ، کہ جو شخص حج کرے اس بیت اللہ کا تو اس کا آخری زمانہ اس، تو اس کا آخری وقت جو ہے اس بیت کے ساتھ وہ کیا ہونا چاہیے؟ طواف ہونا چاہیے، یعنی آخری عمل اس کا یہاں طواف ہونا چاہیے۔
وَرَخَّصَ النِّسَاءَ الْحُيَّضَ، اور حضور علیہ السلام نے رخصت دی حیض والی عورتوں کو، حیض والی عورتوں کو رخصت۔ بھئی یہ طواف ہمارے نزدیک واجب ہے، واجب ہے، اور عورتوں کو حضور علیہ السلام نے جو حیض والی عورتیں ہیں ان کو رخصت دے دی، یعنی اگر عورتوں کو ان ایام میں حیض شروع ہو گیا اب وہ طواف تو نہیں کر سکتیں تو کیا اب ان کو ٹھہرنا پڑے گا، ضروری ہے؟ تو حضور علیہ السلام نے ان کو رخصت دے دی کہ نہیں، کہ وہ جا سکتی ہیں بغیر اس طواف کے بھی بھئی۔ لیکن عام حاجی پر یہ طواف کیا ہے؟ واجب ہے، اگر وہ بغیر اس طواف کے جائے گا اس پر دم واجب ہو گا، دم۔
اور میں نے آپ کو شروع میں بتلا دیا تھا کہ کہ طوافِ زیارت کے بعد کوئی طواف بھی کر لیا جائے وہ خود بخود کیا بن جائے گا؟ طوافِ وداع بن جائے گا۔ سمجھ میں آیا؟ مثلاً حج کرنے کے بعد حاجی کئی دن مکہ میں رہا، مثلاً اس نے منگل والے دن جانا ہے، ان دنوں میں وہ طواف کرتا رہا اور اس کا ارادہ یہ ہے منگل والے دن جب یہاں سے نکلنے لگیں گے تو میں آخری طواف کر لوں گا، آخری طواف، لیکن وہ دن جب آیا تو موقع ہی نہیں مل سکا، تیاری میں لگ گیا، تو اب یہ نہ پریشان ہو کہ میں تو آخری طواف کر ہی نہیں سکا، نہیں بھئی، جو پہلے طواف کر چکا ہے، یعنی طوافِ زیارت کے بعد جو بھی کوئی آخری طواف اس نے کیا ہے وہ خود بخود کیا بن جائے گا؟ طوافِ وداع بن جائے گا۔
تو معنی یہ ہے اس کا، معنی یہ ہے کہ انسان حج کے لیے آیا ہے، آخری طواف طوافِ زیارت اس نے کر لیا، رمی وغیرہ کر لی، تو اب حج کرتے ہی فوراً سیدھا گھر نہ جائے، بلکہ رخصتی سے پہلے کیا کر لے؟ پھر ایک طواف کر لے بھئی، پھر ایک طواف کر لے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو طوافِ وداع جو ہے وہ اس کو عورت حیض کی وجہ سے چھوڑ سکتی ہے بھئی، لیکن طوافِ زیارت آپ نے پڑھ لیا کہ وہ فرض ہے، حج کا رکن ہے، وہ حیض کی وجہ سے یا کسی بھی وجہ سے چھوڑنے کی گنجائش نہیں ہے۔ ہاں حیض کی وجہ سے عورت اس کو مؤخر کر سکتی ہے، عام آدمی تو اگر عید کے تین دنوں میں نہ کر سکا تو بعد میں کرے گا اور اس پر دم لازم ہو گا، لیکن عورت اگر حیض کی وجہ سے اسے وہ ان تین دنوں میں نہ کر سکی تو وہ بھی بعد میں کرے گی اور اس پر دم بھی واجب نہیں ہو گا بھئی۔ کس کے اندر؟ یہ طوافِ زیارت، تو طوافِ زیارت کو چھوڑنے کی گنجائش نہیں کیونکہ وہ فرض ہے اور تو کسی بھی وجہ سے اس کو نہیں چھوڑا جا سکتا، البتہ طوافِ وداع کو اس عذر وغیرہ کی وجہ سے، مثلاً جیسے عورت کو حیض آیا تو وہ اس کو چھوڑ بھی سکتی ہے بھئی۔
إِلَّا عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ، مگر مکہ والوں پر۔ بھئی یہ استثناء ہے ما قبل متن سے، متن کو جوڑیں: وَهُوَ وَاجِبٌ عِنْدَنَا إِلَّا عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ، اور یہ طواف واجب ہے ہمارے نزدیک سوائے اہل مکہ کے کہ ان پر واجب نہیں۔ وجہ اس کی یہ، کیونکہ یہ طوافِ صدر ہے، یہ شخص کیا ہے یہاں سے جانے لگا ہے، روانہ ہو رہا ہے، اور اسی طرح یہ طوافِ وداع ہے، یہ شخص یہاں سے رخصت ہو رہا ہے، تو مکہ والے نے تو روانہ نہیں ہونا، اس نے تو رخصت نہیں ہونا یہاں سے، وہ تو وہیں پر رہے گا، تو لہٰذا اس کے ذمے یہ طواف بھی واجب نہیں ہے بھئی۔ یہ معنی ہے: إِلَّا عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ، سوائے اہل مکہ پر، لِأَنَّهُمْ لَا يَصْدُرُونَ، اس لیے کیونکہ وہ تو روانہ نہیں ہوتے، وَلَا يُوَدِّعُونَ، اور وہ تو الوداع نہیں کہتے، وہ تو رخصت نہیں ہوتے۔
وَلَا رَمَلَ فِيهِ، اور اس طواف میں رمل نہیں ہے بھئی، لِمَا بَيَّنَّا، اس دلیل کی وجہ سے جو کہ ہم نے بیان کر دی، أَنَّهُ شُرِعَ مَرَّةً وَاحِدَةً، کہ رمل تو ایک ہی مرتبہ مشروع ہے، یعنی اس طواف میں جس کے بعد سعی ہو بھئی، کیونکہ رمل تو ایک ہی دفعہ مشروع ہے۔ بھئی حجِ افراد کا طریقہ بیان ہو رہا ہے نا، اور حجِ افراد کے اندر صرف حج ہے یا حج اور عمرہ دونوں ہیں؟ صرف حج۔ جب صرف حج ہے تو صرف حج کی سعی کرنی ہے، تو اس سے پہلے والا جو طواف ہو گا صرف اسی کے اندر کیا کیا جائے گا؟ رمل، تو معلوم ہوا حجِ افراد میں رمل کتنی دفعہ ہے؟ ایک ہی دفعہ ہے۔ یہ معنی ہے: أَنَّهُ شُرِعَ مَرَّةً وَاحِدَةً، کیونکہ رمل ایک ہی مرتبہ مشروع ہے۔
وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْ الطَّوَافِ بَعْدَهُ لِمَا قَدَّمْنَا، اور وہ روانہ ہونے والا وہ طواف کی دو رکعتیں بھی پڑھے گا اس طواف کے بعد، لِمَا قَدَّمْنَا، اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے پہلے ذکر کر دی بھئی، جو ہم نے مقدم ذکر کر دی۔
وَيَأْتِي زَمْزَمَ وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا، بھئی بیت اللہ سے روانہ ہو رہا ہے وہ شخص، اپنے وطن جا رہا ہے، طوافِ وداع کر لیا، طواف کی دو رکعتیں بھی پڑھ لیں، تو پھر اس کے بعد زمزم پر آئے بھئی اور پانی پی لے زمزم کا بھئی، زمزم کا پانی پی لے، اور اور کیا کیا کرے؟ وہ آگے بیان کر رہے ہیں کہ بیت اللہ کے دروازے پر بھی آئے اور چوکھٹ کو بوسہ دے اور اسی طرح ملتزم وغیرہ پر آنا بھی مستحب ہے، تو یہ آگے ذکر کر رہے ہیں، عین روانگی کے وقت یہ افعال وہ سرانجام دے رہا ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: وَيَأْتِي زَمْزَمَ، پھر وہ شخص زمزم پر آئے، وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا، اور پیئے اس کے پانی میں سے، لِمَا رُوِيَ، بہ وجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا ہے، أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ اسْتَقَى دَلْوًا بِنَفْسِهِ فَشَرِبَ مِنْهُ ثُمَّ أَفْرَغَ بَقِيَّةَ الدَّلْوِ فِي الْبِئْرِ، بہ وجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا ہے کہ نبی کریم ﷺ جو ہیں اسْتَقَى دَلْوًا، آپ نے ایک ڈول بھرا، بِنَفْسِهِ، خود، اسْتَقَى دَلْوًا بِنَفْسِهِ، کہ حضور علیہ السلام نے خود ایک ڈول بھرا۔ زمزم کے کنویں سے نبی کریم ﷺ نے خود ایک ڈول بھرا بھئی، عجیب حدیث ہے، سنیے بھئی، کہ حضور علیہ السلام نے اسْتَقَى دَلْوًا بِنَفْسِهِ، کہ حضور علیہ السلام نے خود اس میں سے ایک ڈول بھرا، فَشَرِبَ مِنْهُ، پھر آپ نے اس ڈول میں سے پیا، ثُمَّ أَفْرَغَ بَقِيَّةَ الدَّلْوِ فِي الْبِئْرِ، پھر آپ نے انڈیل دیا، ثُمَّ أَفْرَغَ بَقِيَّةَ الدَّلْوِ فِي الْبِئْرِ، پھر آپ نے انڈیل دیا باقی کا ڈول کنویں کے اندر۔ حضور علیہ السلام نے کیا کیا؟ زمزم کے کنویں سے ایک ڈول بھرا خود، اور پھر آپ نے اس میں سے کچھ زمزم کا پانی پی لیا اور جو باقی پانی تھا وہ اسی کنویں کے اندر انڈیل دیا بھئی۔
علماء اس کے اندر عجیب نکتہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے جان بوجھ کر ایسا فرمایا، جان بوجھ کر ایسا فرمایا کہ یہ میرے صحابہ تو میرے پاس موجود ہیں اور یہ مجھ سے محبت رکھتے ہیں، یہ مجھے دیکھ بھی رہے ہیں اور یہ اور میری صحبت کا فیض بھی اٹھا رہے ہیں، لیکن بعد میں بھی اگلے زمانوں میں ایسے لوگ آنے والے ہیں جو مجھ سے عشق کی حد تک محبت کرنے والے ہوں گے، ایک ایک عمل کے اندر میری متابعت کرنے والے ہوں گے اور میری جدائی کی وجہ سے وہ بے چین ہوں گے، تو وہ مجھے اس وقت دیکھ تو نہیں سکتے لیکن کم از کم یہ میں اپنا جھوٹا پانی جو ہے اس زمزم کے کنویں کے اندر ڈال دیتا ہوں، تو جب بھی وہ یہاں آئیں گے وہ صرف یہ زمزم نہیں پی رہے بلکہ سرورِ کونین ﷺ کا جھوٹا پانی بھی پی رہے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ زمزم جیسے جنتی پانی ہے، اسی طرح یہ حضور علیہ السلام کا جھوٹا پانی بھی ہے، تو اس کے اندر دگنی برکتیں آ گئیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
یہ معنی ہے: فَشَرِبَ مِنْهُ، تو آپ نے اس ڈول میں سے پیا، ثُمَّ أَفْرَغَ بَقِيَّةَ الدَّلْوِ فِي الْبِئْرِ، پھر آپ نے انڈیل دیا باقی ڈول کو کنویں کے اندر۔
وَيُسْتَحَبُّ أَنْ يَأْتِيَ الْبَابَ، اور مستحب یہ ہے کہ حاجی جو ہے بیت اللہ کے دروازے پر آ جائے۔ وہ جو وطن واپس جا رہا ہے اب وہ کیا کرے؟ بیت اللہ کے دروازے پر آ جائے، وَيُقَبِّلَ الْعَتَبَةَ، عتبہ کہتے ہیں دروازے کی دہلیز کو اور چوکھٹ کو بھئی، جو نچلا حصہ ہوتا ہے دروازے کا زمین کے ساتھ، تو وہ بیت اللہ کی چوکھٹ کو اور اس کی دہلیز کو بوسہ دے بھئی، وَيَأْتِيَ الْمُلْتَزَمَ، اور ملتزم پر آئے بھئی۔ یاد رکھیے یہ جو بیت اللہ کا دروازہ ہے اسی کونے کے ساتھ ہی حجرِ اسود نصب ہے، تو یہ دروازے اور حجرِ اسود کے درمیان یہ جو ایک ڈیڑھ گز جگہ ہے اس کو ملتزم کہتے ہیں بھئی۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ ملتزم کہتے ہیں بھئی، اور یہ نہایت ہی مبارک مقام ہے، یہاں پر اللہ تعالیٰ بے انتہا دعائیں قبول فرماتے ہیں۔ لہٰذا آپ جب بھی دیکھیں گے اس مقام پر کئی کئی افراد جو ہیں وہ بیت اللہ کے ساتھ اپنے سینے کو اور اپنے رخسار کو لگائے ہوئے اللہ کے سامنے رو رہے ہوں گے، گڑگڑا رہے ہوں گے اور دعائیں مانگ رہے ہوں گے۔ تو لہٰذا یہ رخصت ہونے والا بھی کیا کرے؟ بیت اللہ کے دروازے پر آئے، دروازے کی چوکھٹ کو بوسہ دے اور پھر ملتزم پر آ جائے اور ملتزم پر وہاں اپنے سینے کو رکھے، اپنے چہرے کو رکھے اور اللہ سے خوب دعائیں کر لے بھئی۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟
وَيَأْتِيَ الْمُلْتَزَمَ، اور مستحب یہ ہے کہ ملتزم پر آئے، وَهُوَ مَا بَيْنَ الْحَجَرِ إِلَى الْبَابِ، ملتزم کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں وہ جگہ جو حجرِ اسود اور دروازے کے درمیان ہے، فَيَضَعَ صَدْرَهُ وَوَجْهَهُ عَلَيْهِ، پھر وہ اس پر رکھے اپنے سینے کو اور اپنے چہرے کو، وَيَتَشَبَّثُ بِالْأَسْتَارِ سَاعَةً، اور چمٹ جائے بالاستار، اس بیت اللہ کے پردوں کے ساتھ، اور چمٹ جائے بیت اللہ کے پردوں کے ساتھ ساعۃً، تھوڑی دیر کے لیے، ثُمَّ يَعُودُ إِلَى أَهْلِهِ، پھر لوٹ آئے اپنے گھر والوں کی طرف، یعنی اپنے وطن کی طرف۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
هَكَذَا رُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَعَلَ بِالْمُلْتَزَمِ ذَلِكَ، اسی طرح روایت کیا گیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ملتزم پر یہ فرمایا، یعنی اس طرح فرمایا۔
قَالُوا، علماء لکھتے ہیں: وَيَنْبَغِي أَنْ يَنْصَرِفَ، علماء لکھتے ہیں کہ مناسب یہ ہے کہ واپس یوں نکلے بیت اللہ سے کہ اس کا چہرہ بیت اللہ کی طرف ہو اور الٹے قدموں واپس چلے بھئی۔ کیا کرے؟ الٹے قدموں واپس چلے، چہرہ بیت اللہ ہی کی طرف رکھے۔ قَالُوا، فقہاء فرماتے ہیں: وَيَنْبَغِي أَنْ يَنْصَرِفَ، اور مناسب یہ ہے کہ وہ واپس پلٹے، وَهُوَ يَمْشِي وَرَاءَهُ، اس حال میں کہ وہ چل رہا ہو اپنے پیچھے کی طرف، وَوَجْهُهُ إِلَى الْبَيْتِ، اور اس کا چہرہ بیت اللہ کی طرف ہو، مُتَبَاكِيًا، روتے ہوئے، مُتَبَاكِيًا، روتے ہوئے، مُتَحَسِّرًا عَلَى فِرَاقِ الْبَيْتِ، اور حسرت کرتے ہوئے بیت اللہ کی جدائی پر، حَتَّى يَخْرُجَ مِنَ الْبَيْتِ، یہاں تک کہ بیت اللہ سے نکل آئے، فَهَذَا بَيَانُ تَمَامِ الْحَجِّ، تو یہ ہوا پورے حج کا بیان بھئی، تو یہ پورے حج کا بیان ہو گیا۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ تو مناسب کہتے ہیں یہ ہے کہ اس طرح واپس پلٹے کہ رخ جو ہے بیت اللہ کی طرف ہو اور الٹے قدموں واپس چلے، لیکن اب تو مسجد بہت بڑی ہو گئی ہے بھئی، اب اس پر عمل بڑا مشکل ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ ہاں، پہلے تو مسجد چھوٹی سی تھی تو اور اتنا ہجوم بھی نہیں ہوتا تھا تو اس وقت عمل کچھ نہ کچھ صورت بن جاتی ہو گی، اب تو بہت ہی مشکل ہے کہ انسان اس طرح کرے بھئی، کہ الٹے قدموں واپس چلتا جائے اور پوری مسجد سے باہر تک وہ آئے، بڑا مشکل ہے اس طرح عمل بھئی۔ اچھا، تو بہرحال یہ تو انہوں نے لکھا، مناسب ہے کہ اس طرح کر لے بھئی۔
اور پھر یاد رکھیے بھئی، یہاں کیا آیا؟ اور مستحب یہ ہے کہ بیت اللہ کے دروازے پر آئے اور پھر اس کے بعد کہاں آئے؟ ملتزم پر آئے۔ یہ تو رخصتی کے وقت ہے، چلیے اس وقت تو کوئی صورت نکل آئے گی، لیکن حج کی کتابیں آپ عموماً اٹھا لیں، جتنی بھی حج کی کتابوں میں حج کا طریقہ لکھا جاتا ہے اس میں یہی لکھا جاتا ہے کہ حاجی جب مکہ پہنچ جائے تو پھر کیا کر لے؟ طواف کر لے گا، اور طواف کے بعد پھر کیا کر لے؟ زمزم پی لے گا، اور زمزم کے پینے کے بعد پھر کیا کرے؟ یہ ملتزم پر آ جائے اور دعا کر لے۔ کیا کر لے؟ دعا۔ بھئی ان دنوں کے اندر تو بیت اللہ کے گرد طواف کرنا بھی موت کی طرح ہوتا ہے، ملتزم پہ کوئی کیسے جا سکتا ہے بھئی؟ اور عوام بیچاروں کو تو پتہ نہیں ہوتا کہ یہ صرف مستحب ہے ملتزم، وہ پھر بعض بیچارے اس کی وجہ سے تکلیف میں پڑ جاتے ہیں، تو یاد رکھنا یہ ملتزم پر آئے یا ملتزم پر آنا وغیرہ یہ مستحب ہے بھئی، اور ہر چیز پر اسی کے بقدر عمل ہونا چاہیے۔ تو پورے سفر کے اندر کسی وقت ضرور ملتزم پر جا کر دعا کر لیں بھئی، تو بار بار وہاں جانا بھی بڑا ہی مشکل کام ہے۔ اللہ ہم سب کو بار بار وہاں جانے کی توفیق نصیب فرمائے اور اس کے لیے اسباب نصیب فرمائے۔ بھئی وہاں آپ جائیں گے پھر آپ کو ان چیزوں کا صحیح اندازہ ہو گا بھئی۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔