Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-137

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 99
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
قَالَ: ”وَيَرْمُلُ فِي الثَّلَاثِ الْأُوَلِ مِنَ الْأَشْوَاطِ، وَالرَّمَلُ: أَنْ يَهُزَّ فِي مِشْيَتِهِ الْكَتِفَيْنِ كَالْمُبَارِزِ يَتَبَخْتَرُ بَيْنَ الصَّفَّيْنِ، وَذَلِكَ مَعَ الِاضْطِبَاعِ، وَكَانَ سَبَبُهُ إِظْهَارُ الْجَلَدِ لِلْمُشْرِكِينَ حِينَ قَالُوا: أَوهَنَهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ، ثُمَّ بَقِيَ الْحُكْمُ بَعْدَ زَوَالِ السَّبَبِ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَبَعْدَهُ“. بھئی، گزشتہ سبق میں حج کا طریقہ چل رہا تھا، ذکر ہو رہا تھا اور صاحبِ ہدایت نے آپ کو بتلایا تھا کہ جب حاجی مکہ مکرمہ پہنچ جائے تو پھر ابتدا جو ہے مسجد الحرام سے کرے، وہاں مسجد الحرام میں چلا جائے اور پھر طواف کی ابتدا حجر اسود سے کرے گا اور اس سے پہلے اضطباع کر لے یعنی دائیں کندھے کو ننگا کر لے اور اس کے بعد حجر اسود کا استلام کرے اگر ممکن ہو۔ اگر استلام ممکن نہیں تو پھر استقبال کر لے اس کا، یعنی اس کی طرف رخ کر کے کھڑا ہو اور تکبیر و تہلیل وغیرہ کہے بھئی۔ اب آپ کو آگے بتلا رہے ہیں: ”وَيَرْمُلُ فِي الثَّلَاثِ الْأُوَلِ مِنَ الْأَشْوَاطِ“، اور رمل کرے گا پہلے تین چکروں میں۔ ”وَيَرْمُلُ فِي الثَّلَاثِ الْأُوَلِ مِنَ الْأَشْوَاطِ“، چکروں میں سے جو پہلے تین ہیں ان میں وہ رمل کرے گا۔ رمل میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ جس طرح وہ پہلوان اکھاڑے میں اترنے کے بعد فخر و تکبر کے ساتھ اور اپنی طاقت کا اظہار کرتے ہوئے، کندھے ہلاتے ہوئے پورے اکھاڑے کا جس طرح چکر لگاتا ہے، اس طریقے سے چلنا جو ہے یہ رمل کہلاتا ہے بھئی۔ یہی صاحبِ ہدایت بھی بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَالرَّمَلُ: أَنْ يَهُزَّ فِي مِشْيَتِهِ الْكَتِفَيْنِ“، ”هَزَّ يَهُزُّ“ کے معنی حرکت دینا، اور رمل یہ ہے ”أَنْ يَهُزَّ“ کہ وہ حرکت دے ”فِي مِشْيَتِهِ“ اپنے چلنے میں، اپنی چال میں، ”الْكَتِفَيْنِ“ کندھوں کو بھئی، کہ چلتے ہوئے وہ کیا کرے؟ اپنے دونوں کندھوں کو حرکت دے گا، دونوں کندھوں کو ہلاتے ہوئے چلے۔ ”كَالْمُبَارِزِ“ جیسے کہ مقابلہ کرنے والا ہوتا ہے، ”يَتَبَخْتَرُ بَيْنَ الصَّفَّيْنِ“، تبختر کہتے ہیں اترا کر چلنا، یعنی تکبر اور فخر کے ساتھ اتراتے ہوئے چلنا، یہ ہے تبختر بھئی۔ ”كَالْمُبَارِزِ يَتَبَخْتَرُ بَيْنَ الصَّفَّيْنِ“، جیسے کہ مقابلہ کرنے والا فخر و تکبر کرتے ہوئے چلتا ہے دو صفوں کے درمیان۔ ”وَذَلِكَ مَعَ الِاضْطِبَاعِ“، اور یہ رمل اضطباع کے ساتھ ہو گا کہ پہلے سے کیا کیا ہو؟ اضطباع کیا ہو اور ساتھ رمل اب کرتا جائے گا، اور پہلے تین چکروں میں میں نے بتلایا یہ سنت ہے بھئی، اور اگر ان میں رہ جائے، بھول جائے تو بعد والے چکروں میں رمل نہ کرے کیونکہ بعد والے چکروں میں رمل مسنون نہیں ہے۔ ”وَكَانَ سَبَبُهُ إِظْهَارُ الْجَلَدِ لِلْمُشْرِكِينَ“، جلد کہتے ہیں بھئی ہمت اور بہادری کو، اور اس کا سبب جو ہے، اس رمل کا سبب جو ہے، ”إِظْهَارُ الْجَلَدِ لِلْمُشْرِكِينَ“ بہادری ظاہر کرنا تھا مشرکین کے لیے، ”حِينَ قَالُوا“ جس وقت انہوں نے یہ کہا تھا: ”أَوهَنَهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ“، یثرب یاد رکھیے یہ مدینہ منورہ کا قدیم نام ہے۔ نبی کریم ﷺ کے آنے سے پہلے یہ شہر یثرب کہلاتا تھا اور پھر جب نبی کریم ﷺ یہاں تشریف لے آئے تو یہ مدینۃ النبی کے نام سے مشہور ہوا، مدینہ کا معنی شہر، مدینۃ النبی یعنی پیغمبر کا شہر، نبی کا شہر، اور پھر اب مختصر ہو کر مدینہ ہی اس کا نام پڑ گیا بھئی۔ تو جس وقت مشرکین نے کہا تھا کہ ”أَوهَنَهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ“، حمی کہتے ہیں بخار کو، اوہن کے معنی کمزور کر دینا، جب مشرکین نے کہا تھا ”أَوهَنَهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ“ کہ ان مسلمانوں کو یثرب یعنی مدینے کے بخار نے کمزور کر دیا ہے۔ پہلے مدینہ منورہ کا بخار مشہور تھا بھئی، ابتدا کے اندر بہت بخار والا تھا اور یہ مرض وہاں بہت زیادہ تھا، پھر جب حضور علیہ السلام نے دعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے اس کو ختم فرما دیا۔ تو یہ جو مسلمان تھے ان میں سے اکثر یہیں سے ہجرت کر کے گئے تھے، تو جب اب عمرے کے لیے آئے ہیں تو وہ مشرکین نے کیا مشہور کر دیا کہ ان لوگوں کو مدینہ کے بخار نے کمزور کر دیا ہے۔ حضور ﷺ کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے تمام مسلمانوں کو پہلے تین چکروں میں رمل کرنے کا حکم دیا کہ اس طرح فخر و تکبر سے اور اپنی طاقت کا اظہار کرتے ہوئے چلیں بھئی، تاکہ ان پر رعب طاری ہو جائے اور ان کو پتہ چل جائے کہ مسلمان کمزور نہیں ہوئے بلکہ پہلے سے بھی زیادہ قوی ہو گئے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَانَ سَبَبُهُ إِظْهَارُ الْجَلَدِ لِلْمُشْرِكِينَ“، اور اس رمل کا سبب مشرکین کے سامنے جو ہے وہ اپنی قوت کا اظہار کرنا تھا جس وقت انہوں نے کہا تھا کہ ان مسلمانوں کو کمزور کر دیا ہے یثرب کے بخار نے۔ ”ثُمَّ بَقِيَ الْحُكْمُ بَعْدَ زَوَالِ السَّبَبِ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَبَعْدَهُ“، پھر اس کے بعد حکم باقی رہا جبکہ سبب ختم ہو گیا تھا، حضور علیہ السلام کے زمانے میں بھی اور آپ کے بعد بھی۔ بھئی یہ اس وقت تو رمل کا مقصد کیا تھا؟ مشرکین کے سامنے اپنی قوت کا اظہار تھا۔ پھر تو سبب ختم ہو گیا۔ وہ ایک ہی مرتبہ ضرورت پیش آئی، وہ سبب دوبارہ تو نہیں تھا، پھر تو کیونکہ دوسری دفعہ حضور علیہ السلام حجۃ الوداع کے موقع پر تشریف لائے اور اس وقت تو مکہ میں مشرکین تھے ہی نہیں، مکہ فتح ہو چکا تھا بھئی، لیکن پھر بھی اس موقع پر حضور علیہ السلام نے رمل فرمایا بھئی۔ اسی طرح بعد میں خلفائے راشدین وغیرہ بھی کیا کرتے تھے؟ رمل کرتے تھے بھئی۔ تو دیکھیے سبب ختم ہو گیا تھا اگرچہ لیکن حکم پھر بھی باقی تھا بھئی۔ یہ معنی ہے کہ ”ثُمَّ بَقِيَ الْحُكْمُ بَعْدَ زَوَالِ السَّبَبِ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَبَعْدَهُ“، پھر حکم باقی رہا سبب کے زائل ہو جانے کے بعد بھی حضور علیہ السلام کے زمانے میں اور آپ کے بعد بھی۔ قَالَ: صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَيَمْشِي فِي الْبَاقِي عَلَى هِينَتِهِ“، هينة کے معنی ہیں آرام سے، آہستہ سے۔ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَيَمْشِي فِي الْبَاقِي عَلَى هِينَتِهِ“، اور چلے وہ طواف کرنے والا باقی چکروں کے اندر اپنے آرام پر، اپنے آرام پر چلے، اپنے آرام سے یعنی اطمینان سے چلے۔ پہلے تین چکروں میں رمل کرنا ہے اور باقیوں میں اطمینان سے اور وقار سے چلتا رہے بھئی۔ ”عَلَى ذَلِكَ اتَّفَقَ رُوَاةُ نُسُكِ رَسُولِ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“، اس پر اتفاق کیا ہے حضور علیہ السلام کے حج کو روایت کرنے والوں نے۔ نسک عبادت کو کہتے ہیں اور یہاں کون سی عبادت مراد ہے؟ حج کی عبادت اور حج مراد ہے۔ تو اس پر اتفاق کیا ہے ”رُوَاةُ نُسُكِ رَسُولِ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“، حضور علیہ السلام کے حج کو روایت کرنے والوں نے۔ ”وَالرَّمَلُ مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ“، اور رمل جو ہو گا حجر اسود سے لے کر حجر اسود تک ہو گا، یعنی سارے چکر میں رمل کیا جائے گا۔ تو پہلے تینوں چکروں میں سارے سارے چکر میں کیا کیا جائے گا؟ رمل کیا جائے گا۔ دراصل یہاں اور بھی روایت ہے، بعض نے لکھا کہ رمل جو ہے وہ حجر اسود سے لے کر رکنِ یمانی تک ہو گا۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ حجر اسود سے طواف شروع کیا جائے، جب انسان بیت اللہ کے گرد گھومتا ہوا پھر حجر اسود کے پاس پہنچنے لگا ہے تو حجر اسود سے پہلے جو آخری کونا آئے گا، یعنی جس کے بعد اب کون سا کونا آ رہا ہے؟ حجر اسود والا، تو یہ جو آخری کونا ہے حجر اسود سے پہلے، یہ رکنِ یمانی ہے بھئی، یہ کیا ہے؟ رکنِ یمانی۔ تو بعضوں نے لکھا کہ صرف یہاں تک رمل ہے، پھر رکنِ یمانی سے حجر اسود تک آرام سے چلے گا بھئی وہ طواف کرنے والا، پھر حجر اسود سے رمل شروع کرے گا رکنِ یمانی تک، پھر رکنِ یمانی سے حجر اسود تک اطمینان سے چلے گا۔ لیکن صاحبِ ہدایت نے آپ کو بتلا دیا کہ ”وَالرَّمَلُ مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ“، کہ رمل جو ہے وہ حجر اسود سے لے کر حجر اسود تک ہو گا یعنی پورے چکر میں ہو گا۔ ”هُوَ الْمَنْقُولُ مِنْ رَمَلِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ“، یہی منقول ہے نبی کریم ﷺ کے رمل سے۔ ”فَإِنْ زَاحَمَهُ النَّاسُ فِي الرَّمَلِ قَامَ“، اگر ہجوم کریں اس پر لوگ رمل میں، ”قَامَ“ تو وہ کھڑا ہو جائے۔ ”فَإِذَا وَجَدَ مَسْلَكًا رَمَلَ“، پس جب پا لے کوئی راستہ تو پھر رمل کرے۔ بھئی یہاں سے صاحبِ ہدایت بتلا رہے ہیں کہ پہلے تین چکروں میں رمل کرنا ہے، مسنون طریقہ یہ ہے، لہٰذا اگر ہجوم بڑھ جائے اور یہ رمل نہ کر سکے تو پھر ٹھہر جائے، رک جائے۔ پھر جب ہجوم کم ہو جایا کرے پھر اسی طرح رمل کرتے ہوئے چل پڑے تاکہ جس قدر ممکن ہو سکے سنت طریقے پر طواف ہو جائے۔ لہٰذا ہجوم زیادہ ہو جائے، رمل کی جگہ نہیں ہے تو یہ نہیں کہ اب اطمینان سے چلے، بلکہ کیا کرے؟ ٹھہر جائے، انتظار کر لے، انتظار کر لے۔ لیکن بھئی اب اس پر عمل بڑا مشکل ہے بھئی، بڑا مشکل ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ طواف میں لاکھوں لوگ ہوتے ہیں، اتنا ہجوم ہوتا ہے جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا، اور اب تو رکنا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ آپ رکیں گے، پیچھے سے لاکھوں لوگ کا مجمع ہے بھئی، وہ فوراً انسان گر جائے گا بھئی۔ پیچھے سے اتنا دھکا آئے گا کہ انسان کھڑا ہو ہی نہیں سکتا بھئی۔ اور پھر اتنا ہجوم ہوتا ہے یاد رکھنا کہ انسان قدم نہیں اٹھا سکتا بھئی، بلکہ قدم اٹھاتا ہے ایک دو انچ آگے رکھتا ہے، پھر قدم اٹھاتا ہے ایک دو انچ آگے رکھتا ہے، اس طرح آرام آرام سے ہجوم زیادہ ہو تو کئی گھنٹوں میں جا کر طواف مکمل ہوتا ہے۔ ہاں ہجوم اگر نہیں ہے پھر تو اطمینان سے عمل ہو سکتا ہے، پھر عمل کرے اس پر۔ اور اسی طریقے سے جب ہجوم جہاں زیادہ ہوتا ہے تو ذرا ٹھہر جائے، لیکن خصوصاً حج کے دنوں میں اب اتنا ہجوم ہوتا ہے کہ بڑا ہی مشکل ہے انسان اس طرح کر لے بھئی۔ موقع ملتا ہے پھر تو کرنا چاہیے، لیکن اگر نہیں ہے، ہجوم زیادہ ہے، موقع نہیں ملتا تو پھر بھئی بس اسی طرح جو تھوڑا تھوڑا چل رہا ہے آہستہ آہستہ اسی میں کیا کرتا رہے؟ بس رمل کرتا رہے، کندھوں کو ہلاتا رہے بھئی۔ کیونکہ اگر رکے گا تو پھر فوراً ہی اس کے گرنے کا خطرہ ہے، دھکا پیچھے سے ایسا زوردار دھکا لگے گا فوراً ہی گرے گا، اور جو ایک دفعہ یہاں گر جائے پھر اس کا زندہ اٹھ جانا بڑا ہی مشکل ہے، اور صرف وہ اکیلا ہی نہیں مرے گا، اپنے ساتھ کئی اور کو لے کر بھی مرے گا یا کم از کم شدید زخمی ضرور کر دے گا بہت سے لوگوں کو۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو لہٰذا یہ سنت ہے، سنت پر عمل تو کرے جس قدر ہو سکے۔ اس لیے میں نے کہا وہ آرام آرام سے ایک ایک دو دو انچ بھی قدم اٹھا رہا ہے، کیا کرتا رہے؟ اپنے کندھوں کو ہلاتا رہے، لیکن یہ نہیں کہ اس کی وجہ سے ہلاکت کا سامان ہو جائے اپنے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی بھئی۔ تو بہرحال آہستہ آہستہ چلتے ہوئے بھی اس پر عمل ہو سکتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَإِنْ زَاحَمَهُ النَّاسُ فِي الرَّمَلِ قَامَ، فَإِذَا وَجَدَ مَسْلَكًا رَمَلَ“، پس اگر ہجوم کریں اس پر لوگ رمل کے اندر تو وہ کھڑا ہو جائے، پس جب پا لے کوئی راستہ تو رمل کرے۔ ”لِأَنَّهُ لَا بَدَلَ لَهُ، فَيَقِفُ حَتَّى يُقِيمَهُ عَلَى وَجْهِ السُّنَّةِ“، اس لیے کیونکہ اس کا کوئی بدل نہیں ہے۔ رمل کا کوئی بدل نہیں۔ بھئی پیچھے ذکر ہوا تھا حجر اسود کا استلام کرنا ہے لیکن استلام نہ کر سکے تو پھر کیا کر لے؟ استقبال کر لے، دور سے اس کی طرف رخ کر کے کھڑا ہو جائے۔ تو استلام کا تو بدل موجود تھا یعنی استقبال، لیکن رمل کا تو کوئی بدل موجود نہیں ہے بھئی۔ ”لِأَنَّهُ لَا بَدَلَ لَهُ، فَيَقِفُ حَتَّى يُقِيمَهُ عَلَى وَجْهِ السُّنَّةِ“، اس لیے کیونکہ اس کا کوئی بدل نہیں ہے، تو ٹھہر جائے، رک جائے، یہاں تک کہ اس کو قائم کرے سنت طریقے پر، یعنی سنت کے مطابق اس کو ادا کرے۔ ”بِخِلَافِ الِاسْتِلَامِ؛ لِأَنَّ الِاسْتِقْبَالَ بَدَلٌ لَهُ“، بخلاف استلام کے، اس لیے کیونکہ استقبال جو ہے وہ اس استلام کا بدل ہے بھئی۔ قَالَ: ”وَيَسْتَلِمُ الْحَجَرَ كُلَّمَا مَرَّ إِنِ اسْتَطَاعَ“، میں نے بتلایا تھا ہر چکر کے اندر کیا کرنا ہے؟ حجر اسود کو بوسہ دینا ہے، اس کا استلام کرنا ہے، لیکن اگر ہجوم ہو تو ہر چکر میں پھر کیا کر لے؟ استقبال کر لے اس کا بھئی۔ ”وَيَسْتَلِمُ الْحَجَرَ كُلَّمَا مَرَّ إِنِ اسْتَطَاعَ“، اور استلام کر لے حجر اسود کا جب بھی گزرے اگر استطاعت رکھے، ”لِأَنَّ أَشْوَاطَ الطَّوَافِ كَرَكَعَاتِ الصَّلَاةِ، فَكَمَا يُفْتَتَحُ كُلُّ رَكْعَةٍ بِالتَّكْبِيرِ يُفْتَتَحُ كُلُّ شَوْطٍ بِاسْتِلَامِ الْحَجَرِ“، اس لیے کیونکہ طواف کے جو چکر ہیں وہ نماز کی رکعتوں کی طرح ہیں، تو جس طرح ہر رکعت کو شروع کیا جاتا ہے تکبیر کے ساتھ، اسی طرح ہر چکر کو شروع کیا جائے گا استلامِ حجر کے ساتھ۔ ”وَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعِ الِاسْتِلَامَ اسْتَقْبَلَ وَكَبَّرَ وَهَلَّلَ عَلَى مَا ذَكَرْنَا“، اور اگر استلام کی استطاعت نہیں رکھتا، استقبال کر لے حجر اسود کی طرف رخ کر لے، اور تکبیر کہے اور لا الہ الا اللہ کہے بوجہ اس کے جو ہم نے پیچھے ذکر کر دی۔ ”وَيَسْتَلِمُ الرُّكْنَ الْيَمَانِيَّ“، اور استلام کرے رکنِ یمانی کا بھئی۔ وہ حجر اسود سے جو پچھلا کونا آ رہا ہے، آخری کونا حجر اسود سے پہلے، وہ کیا ہے؟ رکنِ یمانی۔ اس کا بھی استلام کرے بھئی، اس کا بھی۔ لیکن یاد رکھیے بھئی، حجر اسود کا تو بوسہ لیا جائے گا، لیکن رکنِ یمانی کے اندر صرف استلام ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اس پر ہاتھ وغیرہ پھیر دے اس رکنِ یمانی پر۔ تو اس پر صرف ہاتھ وغیرہ پھیر دے رکنِ یمانی پر، جبکہ حجر اسود میں کیا کیا جاتا ہے؟ اس کا بوسہ لیا جاتا ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ سے اسی طرح ثابت ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَيَسْتَلِمُ الرُّكْنَ الْيَمَانِيَّ، وَهُوَ حَسَنٌ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ“، اور استلام کر لے رکنِ یمانی کا، اور یہ حسن ہے یعنی مستحب ہے ظاہر روایت میں۔ یہ رکنِ یمانی کا استلام مستحب ہے۔ ”وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ سُنَّةٌ“، اور امام محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ یہ سنت ہے، یعنی رکنِ یمانی کا استلام بھی سنت ہے بھئی۔ ”وَلَا يَسْتَلِمُ غَيْرَهُمَا“، اور ان کے علاوہ کسی اور رکن کا استلام نہ کرے، یعنی وہ جو باقی دو کونے ہیں بیت اللہ کے، یعنی رکنِ شامی اور رکنِ عراقی جو ہیں، ان کا استلام نہ کرے، صرف انہی دو کا استلام کرے، ”فَإِنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ يَسْتَلِمُ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ وَلَا يَسْتَلِمُ غَيْرَهُمَا“، اس لیے کیونکہ نبی کریم ﷺ ان دو رکنوں کا استلام فرماتے تھے اور ان کے علاوہ جو ہے کسی اور کا استلام نہیں فرماتے تھے۔ ”وَيَخْتِمُ الطَّوَافَ بِالِاسْتِلَامِ“، اور ختم کرے طواف کو استلام کے ساتھ، یعنی استلام الحجر، یعنی حجر اسود کے استلام کے ساتھ۔ طواف کا اختتام بھی کس پر ہو گا؟ حجر اسود پر، تو اسی کا استلام کر لے۔ قَالَ: ”ثُمَّ يَأْتِي الْمَقَامَ فَيُصَلِّي عِنْدَهُ رَكْعَتَيْنِ أَوْ حَيْثُ تَيَسَّرَ مِنَ الْمَسْجِدِ، وَهِيَ وَاجِبَةٌ عِنْدَنَا“، میں نے آپ کو بتلایا تھا ہر طواف کے بعد کیا کرنا ہے؟ دو رکعت طواف کے واجب جو ہیں وہ ادا کرنے ہیں، اب ان کا ذکر آ گیا۔ اور میں نے بتلایا تھا کہ افضل کیا ہے؟ ان کو کہاں پر ادا کرے؟ مقامِ ابراہیم پر ادا کیا جائے، اور مقامِ ابراہیم جو ہے وہ ایک سنہری رنگ کی جالی جو ہے وہ بیت اللہ کے دروازے سے چند گز کے فاصلے پر اسی کے سامنے جو ہے یہ سنہری جالی ہے اور اس کے اندر وہ پتھر موجود ہے جس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام جو ہیں کھڑے ہو کر بیت اللہ کی تعمیر فرماتے تھے، اور یہ پتھر جو ہے ضرورت کے مطابق جتنی ضرورت ہوتی یہ ان کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو لے کر اونچا ہوتا اور نیچے ہوتا تھا بھئی۔ اور یہ جو مقامِ ابراہیم ہے کہتے ہیں یہ وہ مقام ہے بعضوں نے لکھا کہ جہاں پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کھڑے ہو کر پھر لوگوں کو پکارا تھا کہ اے لوگو، تم پر اللہ تعالیٰ کے اس گھر کا حج فرض کر دیا گیا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہاں کھڑے ہو کر انہوں نے پکارا تھا، جبکہ بعضوں نے کہا کہ یہاں پر آپ نے پہلی نماز بیت اللہ کی تعمیر کے بعد پہلی نماز ادا کی تھی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”ثُمَّ يَأْتِي الْمَقَامَ فَيُصَلِّي عِنْدَهُ رَكْعَتَيْنِ“، پھر آئے مقام پر، اس مقامِ ابراہیم پر، پس پڑھے اس کے پاس دو رکعتیں۔ اس کے پاس دو رکعتیں پڑھے بھئی۔ میں نے آپ کو بتلایا کہ ہجوم زیادہ ہوتا ہے تو اگر ہجوم ہو اور جگہ نہیں ہے، طواف اس تک پہنچا ہوا ہے، اس سے آگے تک، تو پھر انسان وہاں نہ پڑھے بھئی، کیونکہ اپنے آپ کو بھی تکلیف میں ڈالے گا اور طواف کرنے والوں کو بھی تکلیف میں ڈالے گا، تو پھر مسجد میں جہاں بھی جگہ مل جائے وہاں ادا کر لے۔ یہی ذکر کر رہے ہیں: ”أَوْ حَيْثُ تَيَسَّرَ مِنَ الْمَسْجِدِ“، یا جہاں بھی آسان ہو مسجد میں، ”وَهِيَ وَاجِبَةٌ عِنْدَنَا“، اور یہ دو رکعتیں جو ہیں واجب ہیں ہمارے نزدیک۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: سُنَّةٌ؛ لِانْعِدَامِ دَلِيلِ الْوُجُوبِ“، اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ دو رکعتیں سنت ہیں، وجوب کی دلیل نہ ہونے کی وجہ سے۔ وہ کیا فرماتے ہیں کہ اس کے وجوب کی کوئی دلیل نہیں، لہٰذا یہ واجب نہیں سنت ہیں بھئی۔ ”وَلَنَا“، اور ہماری دلیل جو ہے، ”قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ“، حضور علیہ السلام کا یہ فرمانِ مبارک ہے، آپ نے فرمایا: ”وَلْيُصَلِّ الطَّائِفُ لِكُلِّ أُسْبُوعٍ رَكْعَتَيْنِ“، اور چاہیے کہ پڑھے طواف کرنے والا ہر سات چکروں کے لیے دو رکعتیں۔ ہر سات چکر کا ایک طواف ہے، تو ہر سات چکروں کے لیے طواف کرنے والا دو رکعتیں پڑھے۔ ”وَالْأَمْرُ لِلْوُجُوبِ“، اور امر وجوب کے لیے ہوتا ہے۔ اس حدیث میں کیا آیا؟ ”وَلْيُصَلِّ“، امر کا صیغہ آیا اور امر کس لیے آتا ہے؟ وجوب کے لیے، لہٰذا ہم نے بھی کہا کہ یہ واجب ہے۔ ”ثُمَّ يَعُودُ إِلَى الْحَجَرِ فَيَسْتَلِمُهُ“، بھئی طواف مکمل ہوا اور دو رکعتیں جو واجب تھیں وہ بھی ادا کر لیں۔ اب سعی کرنی ہے۔ اور یہ حج کا کون سا طریقہ بیان ہو رہا ہے؟ حجِ افراد بیان ہو رہا ہے۔ معلوم ہوا یہ سعی عمرے کی سعی نہیں ہے بلکہ کس کی سعی ہے؟ حج کی سعی ہے جو وہ پہلے ہی کرنا چاہتا ہے۔ تو لہٰذا اب سعی کرنا چاہتا ہے تو کہتے ہیں پہلے حجر اسود کی سیدھ میں آ جائے، اسی طرح حجر اسود کا استلام کا موقع ملتا ہے تو استلام کر لے، استلام کا موقع نہیں ملتا تو حجر اسود کا استقبال کر لے کیونکہ اب سعی شروع کرنے لگا ہے۔ تو جیسے طواف کے آغاز میں استلامِ حجر ہوا تھا، یہاں پر بھی کیا کر لے؟ استلامِ حجر کر لے اور پھر صفا پر جا کر سعی شروع کر دے، طریقہ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کہتے ہیں: ”ثُمَّ يَعُودُ إِلَى الْحَجَرِ فَيَسْتَلِمُهُ“، پھر لوٹے حجر اسود کی طرف تو اس کا استلام کر لے، ”لِمَا رُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمَّا صَلَّى رَكْعَتَيْنِ عَادَ إِلَى الْحَجَرِ“، بوجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جب دو رکعتیں ادا فرما لیں تو آپ لوٹ گئے حجر اسود کی طرف۔ ”وَالْأَصْلُ أَنَّ كُلَّ طَوَافٍ بَعْدَهُ سَعْيٌ يَعُودُ إِلَى الْحَجَرِ“، ضابطہ بیان فرما رہے ہیں صاحبِ ہدایت کہ اصل یہ ہے، ضابطہ یہ ہے کہ ہر وہ طواف جس کے بعد سعی ہو وہ لوٹتا ہے حجر اسود کی طرف۔ وہ طواف کس کی طرف لوٹتا ہے؟ حجر اسود کی طرف لوٹتا ہے، یعنی طواف کے بعد پھر جا کر کیا کرے گا؟ حجر اسود کا استلام کرے گا اور یہ استلام کس مقصد کے لیے ہے؟ سعی شروع کرنے لگا ہے، جیسے نماز کے شروع میں تکبیرِ تحریمہ ہے اسی طرح یہاں بھی کر لے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْأَصْلُ أَنَّ كُلَّ طَوَافٍ بَعْدَهُ سَعْيٌ يَعُودُ إِلَى الْحَجَرِ“، ہر وہ طواف جس کے بعد سعی ہو وہ لوٹے گا حجر کی طرف، ”لِأَنَّ الطَّوَافَ لَمَّا كَانَ يُفْتَتَحُ بِالِاسْتِلَامِ فَكَذَا السَّعْيُ يُفْتَتَحُ بِهِ“، اس لیے کیونکہ طواف جب اس کا آغاز استلام سے کیا جاتا ہے تو اسی طرح سعی جو ہے اس کا بھی آغاز جو ہے استلام سے ہو گا۔ ”بِخِلَافِ مَا إِذَا لَمْ يَكُنْ بَعْدَهُ سَعْيٌ“، بخلاف اس کے کہ جب طواف کے بعد سعی نہ ہو، تو پھر طواف کے بعد دوبارہ استلام نہیں کیا جائے گا، یعنی دو رکعتیں پڑھ گیا اور پڑھ لیں اور پھر جا کر استلام کرتا ہے، نہیں بھئی، اگر سعی بعد میں نہیں ہے تو پھر دوبارہ استلام کی ضرورت نہیں۔ قَالَ: ”وَهَذَا الطَّوَافُ طَوَافُ الْقُدُومِ، وَيُسَمَّى طَوَافَ التَّحِيَّةِ“، اور یہ طواف جو ہے طوافِ قدوم ہے، اور اس طواف کو طوافِ تحیہ بھی کہتے ہیں۔ طوافِ قدوم کا دوسرا نام کیا ہے؟ طوافِ تحیہ ہے، تحیہ کا معنی ہوتا ہے سلام، سلام بھئی۔ تو یہ بھی بیت اللہ کے پاس آیا ہے تو بطورِ سلام کے کیا کر رہا ہے؟ یہ طواف کر رہا ہے، جیسے مسجد میں جاتے ہیں تحیۃ المسجد آپ پڑھتے ہیں، مستحب ہے دو رکعتیں انسان پڑھ لے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ بھی طواف طوافِ تحیہ کہلاتا ہے۔ ”وَهُوَ سُنَّةٌ وَلَيْسَ بِوَاجِبٍ“، اور یہ طواف سنت ہے اور یہ واجب نہیں ہے۔ ”وَقَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللَّهُ: إِنَّهُ وَاجِبٌ“، اور امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ طواف واجب ہے، ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: مَنْ أَتَى الْبَيْتَ فَلْيُحَيِّهِ بِالطَّوَافِ“، بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے، آپ نے فرمایا: جو بیت اللہ کے پاس آئے تو چاہیے کہ اس کو اس کا تحیہ کرے طواف کے ساتھ، یعنی اس کو سلام پیش کرے کس کے ساتھ؟ طواف کے ساتھ، یہ امام مالک رحمہ اللہ کی دلیل ہے۔ ”وَلَنَا أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَمَرَ بِالطَّوَافِ“، اور ہماری دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں حکم دیا ہے طواف کا، قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ﴾ اور چاہیے کہ وہ حج پر آنے والے طواف کریں بیتِ عتیق کا، اس قدیم پرانے گھر کا۔ ”وَالْأَمْرُ الْمُطْلَقُ“، تو یہاں مطلق امر آیا ہے ﴿وَلْيَطَّوَّفُوا﴾، ”وَالْأَمْرُ الْمُطْلَقُ لَا يَقْتَضِي التَّكْرَارَ“، اور مطلق امر جو ہے وہ تکرار کا تقاضا نہیں کرتا، ”وَقَدْ تَعَيَّنَ طَوَافُ الزِّيَارَةِ بِالْإِجْمَاعِ“، اور تحقیق طوافِ زیارت متعین ہے بالإجماع، بالإجماع۔ ﴿وَلْيَطَّوَّفُوا﴾ اس سے کون سا طواف مراد ہے؟ کس طواف کا امر کیا جا رہا ہے؟ طوافِ زیارت کا، اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ طوافِ زیارت حج میں فرض ہے کیونکہ قرآن میں کیا کیا گیا اس کے کرنے کا؟ حکم دیا گیا ہے۔ تو یہاں مطلق امر آیا قرآن میں اور مطلق امر تکرار کا تقاضا نہیں کرتا، اور اس کے لیے کون سا طواف متعین ہوا؟ طوافِ زیارت کا، تو جب وہ متعین ہوا اس کو فرض اور واجب قرار دیا جائے گا، کسی دوسرے طواف کو فرض یا واجب قرار نہیں دیا جائے گا، ورنہ تو پھر اس کا تو معنی یہ ہو گا کہ امر ایک ہی امر کے ذریعے دو چیزیں واجب ہو رہی ہیں، گویا امر تکرار کا تقاضا کر رہا ہے حالانکہ مطلق امر جو ہو وہ تکرار کا تقاضا نہیں کرتا بھئی۔ یہاں یہ نہیں آیا کہ دو دفعہ طواف کرو بلکہ کیا آیا؟ مطلقاً آیا طواف کرو، اور اس سے کون سا طواف مراد؟ طوافِ زیارت مراد ہے، تو دوسرے کسی طواف کو واجب قرار نہیں دیا جائے گا۔ یہ معنی ہے: ”وَالْأَمْرُ الْمُطْلَقُ لَا يَقْتَضِي التَّكْرَارَ، وَقَدْ تَعَيَّنَ طَوَافُ الزِّيَارَةِ بِالْإِجْمَاعِ“، اور امرِ مطلق جو ہوتا ہے وہ تکرار کا تقاضا نہیں کرتا اور تحقیق طوافِ زیارت متعین ہو چکا ہے بالإجماع اس سے۔ ”وَفِيمَا رَوَاهُ سَمَّاهُ تَحِيَّةً وَهُوَ دَلِيلُ الِاسْتِحْبَابِ“، اور اس حدیث کا بھی جواب دے رہے ہیں کہ اس حدیث میں جس کو امام مالک رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے اس میں نبی کریم ﷺ نے اس طواف کو تحیہ قرار دیا ہے: ”فَلْيُحَيِّهِ بِالطَّوَافِ“، تو دیکھو اس طواف کو حضور علیہ السلام کیا فرما رہے ہیں؟ تحیہ فرما رہے ہیں کہ اس کا طواف کے ساتھ بیت اللہ کو تحیہ پیش کرے یعنی سلام پیش کرے۔ تو یہ تحیہ آپ نے اس کو قرار دیا ہے، اس کا نام رکھا ہے، ”وَهُوَ دَلِيلُ الِاسْتِحْبَابِ“، اور یہ دلیل ہے اس طواف کے مستحب ہونے کی دلیل ہے بھئی۔ ”وَلَيْسَ عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ طَوَافُ الْقُدُومِ؛ لِانْعِدَامِ الْقُدُومِ فِي حَقِّهِمْ“، اور نہیں ہے مکہ والوں پر طوافِ قدوم، اس لیے کیونکہ ان کے حق میں آنا معدوم ہے۔ بھئی طوافِ قدوم، قدوم کا مطلب ہوتا ہے آنا، آنا۔ تو یہ شخص دور سے سفر کر کے بیت اللہ کے پاس آیا ہے لہٰذا اس کے لیے تو طوافِ قدوم ہے، سنت ہے اس کے لیے کرنا، لیکن مکہ والے تو وہیں رہتے ہیں ان کے لیے تو قدوم یعنی آنا نہیں، وہ تو سفر کر کے کہیں سے نہیں آئے لہٰذا ان کے لیے طوافِ قدوم بھی ثابت نہیں ہے، یہ دور سے آنے والے کے لیے ہے۔ یہ معنی ہے ”لِانْعِدَامِ الْقُدُومِ فِي حَقِّهِمْ“، اس وجہ سے کہ آنا ان کے حق میں معدوم ہے۔ قَالَ: ”ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّفَا فَيَصْعَدُ عَلَيْهِ وَيَسْتَقْبِلُ الْبَيْتَ وَيُكَبِّرُ وَيُهَلِّلُ وَيُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“، اب سعی کا طریقہ بیان ہونے لگا ہے۔ اب آپ کو بتلائیں گے کہ جب یہ استلام کر لیا حجر اسود کا، اب حاجی آ جائے اور صفا پر، پہاڑی پر چڑھ جائے بھئی۔ صفا پہاڑی اب تو ختم ہے، کچھ تھوڑی سی کچھ حصہ اس کا باقی ہے، وہ گنبد کے نیچے، اس کے اوپر ساری عمارت اور گنبد وغیرہ بنا دیا گیا ہے اس برآمدے کے اندر، تو وہ اس صفا پہاڑی پر آ جائے اور اس پر تھوڑا سا چڑھ جائے ایسی جگہ پر کھڑا ہو جائے جہاں سے بیت اللہ نظر آئے۔ تو اگرچہ اب درمیان میں بڑے ستون آ گئے ہیں، عمارت آ گئی ہے، لیکن اب معلوم نہیں وہاں سے بیت اللہ نظر آتا ہے یا نہیں، لیکن چند سال قبل تک صفا پہاڑی پر بھی انسان کھڑا ہوتا تھا تو ستونوں کے بیچ میں سے کچھ بیت اللہ کا حصہ نظر آتا تھا بھئی۔ تو صفا پہاڑی پر چڑھ جائے اور بیت اللہ پر نظر پڑ سکتی ہو ایسی جگہ پر کھڑا ہو جائے اور پھر تکبیر کہے، تہلیل کہے اور حضور علیہ السلام پر درود پڑھے اور دعائیں مانگ لے اور پھر اس کے بعد چل پڑے مروہ پہاڑی کی طرف بھئی، طریقہ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کہتے ہیں: قَالَ، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّفَا“، پھر وہ حاجی جو ہے نکلے صفا پہاڑی کی طرف، ”فَيَصْعَدُ عَلَيْهِ“، تو اس پہاڑی پر چڑھ جائے، ”وَيَسْتَقْبِلُ الْبَيْتَ“، اور بیت اللہ کی طرف رخ کر لے، ”وَيُكَبِّرُ وَيُهَلِّلُ“، اور تکبیر کہے اور لا الہ الا اللہ کہے، ”وَيُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“، اور حضور ﷺ پر درود پڑھے، ”وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ“، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، ”وَيَدْعُو اللَّهَ لِحَاجَتِهِ“، اور دعا کرے اللہ سے اپنی حاجت کا، اپنی حاجتوں کی اللہ سے دعا کر لے۔ دلیل اب ذکر کر رہے ہیں بھئی کہ یہ جو ہم نے سارا ذکر کیا یہ طریقہ، اس کی کیا دلیل ہے؟ کہتے ہیں: ”لِمَا رُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ صَعِدَ الصَّفَا حَتَّى إِذَا نَظَرَ إِلَى الْبَيْتِ قَامَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ يَدْعُو اللَّهَ“، بوجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا ہے کہ نبی کریم ﷺ صفا پہاڑی پر چڑھ گئے یہاں تک کہ ”إِذَا نَظَرَ إِلَى الْبَيْتِ“ یہاں تک کہ جب بیت اللہ کو دیکھ لیا، ”قَامَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ“ تو کھڑے ہو گئے قبلہ رخ ہو کر، ”يَدْعُو اللَّهَ تَعَالَى“ اس حال میں کہ وہ اللہ سے دعا کر رہے تھے۔ ”وَلِأَنَّ الثَّنَاءَ وَالصَّلَاةَ يُقَدَّمَانِ عَلَى الدُّعَاءِ تَقْرِيبًا إِلَى الْإِجَابَةِ كَمَا فِي غَيْرِهِ مِنَ الدَّعَوَاتِ“، اور نیز اس لیے کیونکہ ثنا اور درود وغیرہ ذکر کیا متن میں، اس کی کیا دلیل ہے؟ کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الثَّنَاءَ وَالصَّلَاةَ يُقَدَّمَانِ عَلَى الدُّعَاءِ“، اس لیے کیونکہ اللہ کی حمد و ثنا اور حضور علیہ السلام پر درود جو ہے اس کو مقدم کیا جاتا ہے دعا پر، ”تَقْرِيبًا إِلَى الْإِجَابَةِ“ اس کو قبولیت کے قریب کرنے کے لیے، ”كَمَا فِي غَيْرِهِ مِنَ الدَّعَوَاتِ“ جیسے اس کے علاوہ اور دعاؤں میں ہے۔ جیسے اور دعاؤں میں کیا جاتا ہے بھئی، پہلے اللہ کی حمد و ثنا ہوتی ہے، پھر حضور علیہ السلام پر درود پڑھا جاتا ہے، پھر دعا کی جاتی ہے، تو یہاں بھی چونکہ دعا ہے تو اسی طرح کرے گا بھئی۔ ”وَالرَّفْعُ سُنَّةُ الدُّعَاءِ“، اور بھئی یہ ہاتھوں کا اٹھانا؟ تو کہتے ہیں بھئی ہاتھوں کا اٹھانا ”سُنَّةُ الدُّعَاءِ“، یہ دعا کی سنت ہے اس لیے ہم نے کہا ہاتھ اٹھا کر دعا کرے۔ ”وَإِنَّمَا يَصْعَدُ بِقَدْرِ مَا يَصِيرُ الْبَيْتُ بِمَرْأًى مِنْهُ“، اور چڑھے اتنی مقدار صفا پہاڑی پر کہ ہو جائے بیت اللہ ”بِمَرْأًى مِنْهُ“ اس کے دیکھنے کی جگہ میں، یعنی اس کی نگاہوں میں آ جائے، اس کو نظر آنے لگے۔ تو صفا پر چڑھے وہ اتنی مقدار کہ بیت اللہ اس کو دکھائی دینے لگے۔ ”لِأَنَّ الِاسْتِقْبَالَ هُوَ الْمَقْصُودُ بِالصُّعُودِ“، اس لیے کیونکہ قبلہ رخ ہونا ہی مقصود ہے اس پہاڑی پر چڑھنے کے ذریعے۔ یہ پہاڑی پر چڑھے ہی کیوں ہیں آپ؟ تاکہ کس طرف رخ ہو جائے آپ کا؟ قبلے کی طرف رخ ہو جائے اور اس کا پتہ کیسے چلے گا؟ جب آپ کو بیت اللہ دکھائی دے گا تو اس سے پوری طرح پتہ چل جائے گا کہ آپ قبلہ رخ ہیں۔ ”وَيَخْرُجُ إِلَى الصَّفَا مِنْ أَيِّ بَابٍ شَاءَ“، اور نکلے صفا کی طرف جس دروازے سے چاہے۔ بھئی یہ قدیم پہلے تو یہ جو مسجد مسجدِ حرام ہے اس کی عمارت الگ تھی اور یہ صفا مروہ مسجد سے باہر مسجد کے ساتھ ہی تھیں لیکن مسجد سے باہر تھیں۔ اب تو اس سارے پر عمارت آ گئی، اس پر بھی برآمدہ بن گیا، یہ بھی وہ مسجد کی عمارت ہی میں شامل ہو گئی ہے۔ تو پہلے حاجی کو مسجد سے نکلنا پڑتا تھا اور پھر وہ صفا مروہ کے درمیان آتا تھا، پہنچتا تھا۔ تو اب تو بیچ میں ہی آ گئی ہے یہ۔ تو وہ حاجی دروازے سے نکلتا تھا، تو کس دروازے سے نکلے؟ تو ہمارے نزدیک جس دروازے سے بھی نکلے تو نکل کر صفا پر جا سکتا ہے۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بابِ بنی مخزوم جو ہے اس سے نکلے گا، جس کو بابِ صفا کہتے ہیں اب، اس سے نکلے گا اور صفا پر آئے گا۔ وہ فرماتے ہیں اس لیے کیونکہ نبی کریم ﷺ بابِ بنی مخزوم سے نکلے تھے اور صفا پہاڑی پر تشریف لے گئے تھے۔ بنو مخزوم بھئی یہ عرب کا ایک قبیلہ تھا، ان لوگوں کے گھر کہیں اس دروازے کے قریب ہوں گے، اس جانب ہوں گے، اس سے یہ دروازہ ہی کیا کہلانے لگا؟ بابِ بنی مخزوم کہلانے لگا۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس دروازے سے نکلنا سنت ہے۔ ہم کہتے ہیں نہیں، یہ کوئی الگ مقصودی سنت نہیں ہے، حضور علیہ السلام اس لیے اس دروازے سے تشریف لے گئے تھے کہ یہ صفا کے سب سے قریب یہی دروازہ تھا اس لیے حضور علیہ السلام اس سے نکل کر صفا پر آئے تھے۔ تو کہتے ہیں: ”وَيَخْرُجُ إِلَى الصَّفَا مِنْ أَيِّ بَابٍ شَاءَ، وَإِنَّمَا خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَابِ بَنِي مَخْزُومٍ، وَهُوَ الَّذِي يُسَمَّى بَابَ الصَّفَا“، اور نکلے صفا کی طرف جس دروازے سے چاہے، اور نبی کریم ﷺ بابِ بنی مخزوم سے نکلے تھے اور یہ وہی دروازہ ہے جس کو بابِ صفا کہتے ہیں، اب اس کا نام کیا ہے؟ بابِ صفا ہے۔ تو اس سے حضور علیہ السلام اس لیے نکلے تھے: ”لِأَنَّهُ كَانَ أَقْرَبَ الْأَبْوَابِ إِلَى الصَّفَا لَا أَنَّهُ سُنَّةٌ“، اس لیے کیونکہ یہ صفا کے سب سے قریب دروازہ تھا، نہ اس وجہ سے کہ یہ سنت ہے۔ تو سنت کے طور پر حضور علیہ السلام اس سے باہر نہیں نکلے بلکہ چونکہ یہ سب سے قریب دروازہ تھا اس لیے تشریف لے گئے۔ قَالَ: ”ثُمَّ يَنْحَطُّ نَحْوَ الْمَرْوَةِ وَيَمْشِي عَلَى هِينَتِهِ“، پھر اترے ”نَحْوَ الْمَرْوَةِ“، نحو کا معنی ہے جانب، ”نَحْوَ الْمَرْوَةِ“ مروہ کی جانب۔ پہاڑی پر چڑھا تھا وہ حاجی اور اس نے دعا کر لی، اب کس طرف جانا ہے؟ مروہ پہاڑی کی طرف، تو وہی ذکر کر رہے ہیں: ”ثُمَّ يَنْحَطُّ نَحْوَ الْمَرْوَةِ“، پھر اتر آئے مروہ کی جانب، ”وَيَمْشِي عَلَى هِينَتِهِ“، اور چلے حاجی جو ہے ”عَلَى هِينَتِهِ“ اپنے وقار پر، یعنی اپنے اطمینان پر، یعنی آرام سے چلے بھئی۔ ”هِينَتِهِ“ یہاں ہا کے نیچے کسرہ ہونا چاہیے، یہ بھئی فتحہ درست نہیں ہے۔ ”فَإِذَا بَلَغَ بَطْنَ الْوَادِي يَسْعَى بَيْنَ الْمِيلَيْنِ الْأَخْضَرَيْنِ سَعْيًا“، بھئی میں نے آپ کو بتلایا تھا صفا مروہ کے درمیان دو سبز رنگ کے نشانات آتے ہیں، حاجی جب بھی یہاں پہنچے گا تو ایک نشان سے دوسرے نشان تک ہلکی رفتار سے دوڑ لگائے گا، اور یہ حکم صرف مردوں کے لیے ہے، عورتوں کے لیے دوڑنے کا حکم نہیں ہے۔ تو صفا سے مروہ کی طرف جائے گا تب بھی ان دو نشانوں میں دوڑ لگائے گا اور مروہ سے صفا کی طرف آئے گا پھر بھی کیا کرے گا؟ ان دو نشانوں میں دوڑ لگائے گا، یہی ذکر کر رہے ہیں۔ ”فَإِذَا بَلَغَ بَطْنَ الْوَادِي“، تو جب پہنچ جائے وہ سعی کرنے والا وادی کے بیچ میں یعنی اس کی گہری جگہ میں۔ وادی کے بیچ میں یعنی اس کی گہری جگہ میں، اگرچہ اب تو گہری جگہ نہیں اب تو سارے پر فرش بنا دیا گیا ہے، لیکن بہرحال وہ نشانات باقی ہیں بھئی۔ تو جب وہ پہنچ جائے وادی کے بیچ میں، ”يَسْعَى بَيْنَ الْمِيلَيْنِ الْأَخْضَرَيْنِ سَعْيًا“، تو دوڑ لگائے ان دو سبز نشانوں کے درمیان، ”سَعْيًا“ دوڑ لگانا۔ بھئی ”سَعْيًا“ مفعولِ مطلق ذکر کیا صاحبِ قدوری نے، صاحبِ قدوری نے کیا کیا؟ ”سَعْيًا“ مفعولِ مطلق ذکر کیا، اور مفعولِ مطلق کے فائدوں میں سے ایک فائدہ یہ ہے اور اس کے لانے کا ایک مقصد یہ ہوتا ہے کہ یہ مجاز کے احتمال کو ختم کر دیتا ہے، کس کے احتمال کو؟ مجاز کے احتمال کو ختم کر دیتا ہے۔ مثلاً بھئی میں آپ سے کہتا ہوں: ”ضَرَبْتُ زَيْدًا“، میں نے زید کی پٹائی کی، تو آپ کے ذہن میں خیال آ سکتا ہے اور یہ وہم آ سکتا ہے کہ بھئی نہیں، زید کی پٹائی نہیں کی ہو گی، زید کی پٹائی کون کر سکتا ہے؟ ہاں اس کو ڈانٹ دیا ہو گا اچھی طرح، اور اس ڈانٹ ہی کو کس سے تعبیر کر دیا کہنے والے نے؟ ضرب کے ساتھ اور پٹائی کے ساتھ تعبیر کر دیا۔ لیکن آگے میں کہہ دیتا ہوں مثلاً: ”ضَرَبْتُ زَيْدًا ضَرْبًا“، ”ضَرْبًا“ مفعولِ مطلق بھی لے آؤں تو یہ مجاز کے احتمال کو ختم کر دے گا اور بتلا دے گا کہ ضرب سے ضرب ہی مراد ہے، ڈانٹ وغیرہ مراد نہیں ہے بھئی۔ تو یہاں پر بھی سعی کو ذکر کیا اور آگے ”سَعْيًا“ مفعولِ مطلق لا کر بتلا دیا کہ دوڑنے سے دوڑنا ہی مراد ہے، تیز چلنا وغیرہ مراد نہیں ہے بھئی۔ یہ معنی ہے: ”يَسْعَى بَيْنَ الْمِيلَيْنِ الْأَخْضَرَيْنِ سَعْيًا“، اور دوڑ لگائے گا ان دو سبز نشانوں کے درمیان۔ ”ثُمَّ يَمْشِي عَلَى هِينَتِهِ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَرْوَةَ فَيَصْعَدَ عَلَيْهَا وَيَفْعَلَ كَمَا فَعَلَ عَلَى الصَّفَا“، پھر چلے اپنے وقار پر، اپنے اطمینان پر، یہاں تک کہ مروہ پہاڑی پر آ جائے اور اس کے اوپر چڑھ جائے اور اسی طرح کرے جیسے صفا پر کیا تھا، یعنی قبلہ رخ کھڑے ہو کر تکبیر و تہلیل کہے اور درود پڑھے اور دعا کرے۔ دلیل ذکر کر رہے ہیں: ”لِمَا رُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ نَزَلَ مِنَ الصَّفَا وَجَعَلَ يَمْشِي نَحْوَ الْمَرْوَةِ وَسَعَى فِي بَطْنِ الْوَادِي حَتَّى إِذَا خَرَجَ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي مَشَى حَتَّى صَعِدَ الْمَرْوَةَ وَطَافَ بَيْنَهُمَا سَبْعَةَ أَشْوَاطٍ“، کہ نبی کریم ﷺ صفا پہاڑی سے اترے اور آپ مروہ پہاڑی کی طرف چل پڑے، اور آپ دوڑے وادی کے بیچ میں یہاں تک کہ جب آپ وادی کے بیچ میں سے نکل آئے تو آپ پھر چلنے لگے یہاں تک کہ آپ مروہ پہاڑی پر چڑھ گئے، اور آپ نے چکر لگائے ان دونوں کے درمیان سات چکر۔ ”وَهَذَا شَوْطٌ وَاحِدٌ“، یہ اب صاحبِ ہدایت فرما رہے ہیں کہ یہ ایک چکر ہو گیا۔ کہاں پر پہنچ گیا حاجی؟ مروہ پہاڑی پر، وہاں بھی وہی کرے جو اس نے صفا پر کیا تھا، اور یہ ایک چکر ہو گیا۔ ”فَيَطُوفُ سَبْعَةَ أَشْوَاطٍ يَبْدَأُ بِالصَّفَا وَيَخْتِمُ بِالْمَرْوَةِ“، پس لگائے سات چکر، ابتدا کرے صفا سے اور ختم کرے مروہ پر۔ ”وَيَسْعَى فِي بَطْنِ الْوَادِي فِي كُلِّ شَوْطٍ لِمَا رَوَيْنَا“، اور دوڑ لگائے گا وادی کے بطن میں، وادی کے بیچ میں ہر چکر میں، اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کر دی۔ ”وَإِنَّمَا يُبْدَأُ بِالصَّفَا“، سوال پیدا ہوتا ہے یہ سعی کی ابتدا صفا سے کیوں کی جاتی ہے، مروہ سے کیوں نہیں ابتدا کی جاتی ہے؟ تو اس کی دلیل ذکر کر رہے ہیں بھئی، کہتے ہیں: ”وَإِنَّمَا يُبْدَأُ بِالصَّفَا“، اور سعی کی ابتدا صفا پہاڑی سے کی جائے گی، ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِيهِ“، بوجہ نبی کریم ﷺ کے قول کے ”فِيهِ“ اس بارے میں۔ اس وجہ سے کہ نبی کریم ﷺ نے اس بارے میں فرمایا، ”فِيهِ“ ھا ضمیر راجع ہے ابتداء بالصفا کو بھئی، کہ نبی کریم ﷺ نے ابتداء بالصفا کے بارے میں فرمایا: ”ابْدَءُوا بِمَا بَدَأَ اللَّهُ تَعَالَى بِهِ“، کہ تم لوگ شروع کرو اس چیز سے جس سے اللہ نے شروع فرمایا ہے۔ تم لوگ بھی سعی اس جگہ سے شروع کرو جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع فرمایا ہے یعنی جس کو اللہ نے پہلے ذکر فرمایا ہے تم بھی اسی سے سعی شروع کرو۔ اور قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں؟ ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ﴾، تو پہلے کس کا ذکر آیا؟ صفا کا، تو حضور علیہ السلام بھی فرما رہے ہیں جس کو پہلے اللہ نے ذکر فرمایا ہے تم لوگ بھی وہیں سے کیا کرو؟ ابتدا کرو، تو صفا پہاڑی سے ابتدا کی جائے گی۔ یہ معنی ہے کہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”ابْدَءُوا بِمَا بَدَأَ اللَّهُ تَعَالَى بِهِ“، کہ تم لوگ شروع کرو جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع فرمایا ہے۔ ”ثُمَّ السَّعْيُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَاجِبٌ وَلَيْسَ بِرُكْنٍ“، پھر یہ جو صفا اور مروہ کے درمیان سعی ہے یہ واجب ہے ہمارے نزدیک، اور یہ حج کا رکن نہیں یعنی فرض نہیں۔ رکن تو وہ ہے جو رہ جائے تو حج ہی ادا نہیں ہو گا لیکن یہ رکن نہیں ہے بلکہ یہ کیا ہے؟ واجب ہے، لہٰذا اگر رہ جائے تو کیا کرنا پڑے گا؟ دم دینا پڑے گا، ایک جانور کی قربانی کرنا پڑے گی، لیکن بہرحال حج ہو جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں یہ سعی صفا اور مروہ کے درمیان واجب ہے اور رکن نہیں ہے۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: إِنَّهُ رُكْنٌ؛ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“، اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ رکن ہے، بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے کہ آپ فرماتے ہیں: ”إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى كَتَبَ عَلَيْكُمُ السَّعْيَ فَاسْعَوْا“، کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر سعی لکھ دی ہے، ”فَاسْعَوْا“ تو تم لوگ کیا کرو؟ سعی کرو۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں دیکھیے اس حدیث میں کیا حضور علیہ السلام فرما رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر سعی لکھ دی ہے یعنی فرض کر دی ہے، کیونکہ لکھنے کا کیا معنی ہوتا ہے؟ فرض کر دینا ہوتا ہے۔ ”فَاسْعَوْا“ تو تم لوگ کیا کرو؟ سعی کرو، تو وہ یہ حدیث پیش کرتے ہیں، یہ معلوم ہوا سعی حج کا رکن ہے باقاعدہ۔ ”وَلَنَا قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا﴾“، اور ہماری دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: ﴿فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا﴾ اور کوئی حرج نہیں ہے حاجی پر کہ وہ چکر لگائے ان دونوں کا، ان دونوں میں یعنی صفا اور مروہ میں طواف کرے یعنی چکر لگائے، کوئی حرج نہیں کہ حاجی ان دونوں میں چکر لگائے۔ تو قرآن میں اللہ فرما رہے ہیں کوئی حرج نہیں، ﴿فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ﴾، ”وَمِثْلُهُ يُسْتَعْمَلُ لِلْإِبَاحَةِ“، اور اس جیسے الفاظ اباحت کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اللہ یہ نہیں فرما رہے ہیں کہ ضروری ہے چکر لگانا بلکہ کیا فرما رہے ہیں؟ کوئی حرج نہیں کہ حاجی کیا کر لے؟ چکر لگا لے ان میں، اور اس طرح کے الفاظ اباحت میں استعمال ہوتے ہیں، یعنی یہ مباح ہے، یہ بھی کر سکتا ہے جائز ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ ”فَيَنْفِي الرُّكْنِيَّةَ وَالْإِيجَابَ“، تو یہ اللہ کا یہ قول نفی کر دیتا ہے اس سعی کے رکن ہونے کی ”وَالْإِيجَابَ“ اور واجب ہونے کی بھئی۔ تو یہ اللہ کا یہ قول تو یہ تقاضا کر رہا ہے۔ قرآن میں اللہ کیا، دلیل بھی سمجھ میں آ رہی ہے کہ نہیں بھئی؟ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ کوئی حرج نہیں، معلوم ہوا لازمی بھی نہیں ہے۔ سمجھ میں آ رہی ہے بات؟ معلوم ہوا صرف جائز ہے، لازم بھی نہیں ہے۔ یہ اللہ کا یہ قول تو اس کے رکن ہونے کی بھی نفی کر رہا ہے اور اس کے واجب ہونے کی بھی نفی کر رہا ہے۔ ”إِلَّا أَنَّا عَدَلْنَا عَنْهُ فِي الْإِيجَابِ“، مگر یہ کہ ہم نے اس سے عدول کر لیا ایجاب کے معاملے میں، کس معاملے میں؟ ایجاب میں۔ ادھر توجہ کریں بھئی۔ بھئی دیکھیے اللہ تعالیٰ کا قول دو چیزوں کی نفی کر رہا ہے، انہوں نے بتلا دیا، کس چیز کی؟ رکنیت کی بھی نفی کر رہا ہے اور دوسری چیز کیا ہے؟ ایجاب کی بھی نفی کر رہا ہے۔ رکن بھی نہیں، واجب بھی نہیں، یہ کس سے پتہ چل رہا ہے؟ اللہ تعالیٰ کے اس قول سے۔ تو اللہ تعالیٰ کا قول تو بتلا رہا ہے کہ یہ رکن بھی نہیں واجب بھی نہیں، ان دو چیزوں میں سے یہ جو واجب بھی نہیں، اس میں ہم نے عدول کر لیا۔ کیا کر لیا؟ اللہ کا قول تو بتلا رہا ہے، قرآن تو بتلا رہا ہے کہ یہ واجب بھی نہیں، لیکن ہم نے اس کو واجب قرار دے دیا۔ تو عدول کیا یعنی اس سے؟ اس سے ہم پلٹ گئے یا نہیں پلٹ گئے؟ قرآن تو کیا تقاضا کر رہا ہے؟ واجب بھی نہیں۔ لیکن ہم نے کیا کہا؟ واجب ہے، تو ہم نے وجوب کے سلسلے میں اس سے عدول کیا۔ اور دوسری کیا چیز بیان، دوسری کیا چیز معلوم ہو رہی تھی؟ کہ رکن بھی نہیں، اس پر تو ہم عمل کر رہے ہیں، یہ رکن نہیں ہے۔ لیکن وجوب کے سلسلے میں ہم نے اس سے عدول کر لیا، کیوں عدول کیا؟ اسی حدیث کی وجہ سے: ”إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى كَتَبَ عَلَيْكُمُ السَّعْيَ فَاسْعَوْا“، کہ اللہ نے تم پر سعی کو لکھ دیا ہے تو تم سعی کرو۔ تو قرآن پر بھی عمل ہوا، قرآن سے معلوم ہوا کہ رکن نہیں، اور خبرِ واحد کے ذریعے جو بات ثابت ہوئی تھی اس کو فرض یا رکن نہیں قرار دیا جا سکتا، واجب قرار دیا جا سکتا ہے، اور ہم نے بھی واجب قرار دیا ہے بھئی، دلیل سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: ”إِلَّا أَنَّا عَدَلْنَا عَنْهُ فِي الْإِيجَابِ“، مگر یہ کہ ہم نے عدول کیا ہے اس سے ایجاب میں، ”وَلِأَنَّ الرُّكْنِيَّةَ لَا تَثْبُتُ إِلَّا بِدَلِيلٍ مَقْطُوعٍ بِهِ وَلَمْ يُوجَدْ“، اور نیز اس لیے کہ رکن ہونا وہ ثابت نہیں ہوتا مگر قطعی دلیل کے ذریعے، یقینی دلیل کے ذریعے، اور یقینی دلیل تو یہاں موجود نہیں ہے، خبرِ واحد ہے۔ خبرِ واحد سے فرضیت نہیں ثابت ہو سکتی، ایجاب ثابت ہو سکتا ہے اور وہ ہم نے ثابت کیا۔ ”ثُمَّ مَعْنَى مَا رَوَى كَتَبَ اسْتِحْبَابًا كَمَا فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ﴾“، پھر معنی اس حدیث کا جس کو امام شافعی رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے: ”كَتَبَ اسْتِحْبَابًا“، کہ اللہ تعالیٰ نے لکھ دیا ہے استحباباً بطورِ استحباب کے، بطورِ استحباب کے لکھ دیا ہے، ”كَمَا فِي قَوْلِهِ تَعَالَى“، جیسے کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول میں ہے۔ بھئی انہوں نے کیا معنی کیا تھا کہ لکھ دینے کا کیا معنی ہے؟ فرض کر دینا، ہم نے کہا نہیں، لکھنے سے یہاں کس معنی میں ہے؟ مستحب قرار دے دیا یعنی اللہ نے، جیسے کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول میں ہے: ﴿كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ﴾ کہ تم پر لکھ دیا گیا ہے جب تم میں سے کسی پر موت آئے، تو یہاں پر دیکھو وصیت کا کہا جا رہا ہے اور وصیت وصیت واجب نہیں ہے بلکہ وصیت کرنا مستحب ہے بھئی مستحب ہے، حالانکہ یہاں پر بھی ﴿كُتِبَ﴾ آیا، تو معلوم ہوا لکھنے سے یہاں کیا مراد ہے؟ مستحب کرنا مراد ہے اور یہی معنی ہم حدیث میں کرتے ہیں بھئی۔ الآیۃ، ای اقرأ الآیۃ، یا الآیۃ معروفۃ، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو وصیت کرنا مستحب ہے، یہ عام احوال کی بات ہو رہی ہے، عام احوال کے اندر وصیت مستحب ہے، لیکن یاد رکھیے بعض اوقات وصیت واجب بھی ہو جاتی ہے، یہ اس صورت میں جب آپ کے ذمے کسی کا حق باقی ہے، آپ نے کسی کے پیسے دینے ہیں یا کوئی حق ادا کرنا ہے اور کسی کو اس کا پتہ ہی نہیں ہے تو اب آپ پر واجب ہے کہ آپ وصیت کر کے جائیں، کیونکہ اب تو اس بیچارے کے لیے وصولی کی کوئی صورت ہی نہیں رہے گی، صرف آپ کو پتہ ہے اور آپ کا انتقال ہو جاتا ہے تو آپ کے ورثاء میں سے تو کوئی بھی اس کو وہ ادائیگی نہیں کرے گا، وہ تسلیم ہی نہیں کریں گے اس کے اس حق کو اور قرضے کو، تو اس صورت میں پھر وصیت کیا ہوتی ہے؟ واجب ہوتی ہے، البتہ عام احوال کے اندر مستحب ہے وصیت بھئی۔ ”ثُمَّ يُقِيمُ بِمَكَّةَ حَرَامًا“، پھر وہ حاجی مقیم رہے مکہ میں حراماً، ای محرماً، یعنی محرم ہو کر مکہ میں مقیم رہے۔ حجِ افراد کا طریقہ ذکر ہو رہا ہے، حاجی مکہ پہنچ گیا، اس نے طواف بھی کر لیا، اس نے سعی بھی کر لی، اب اس سعی کے بعد بال نہیں کٹوانے، بال نہیں منڈوانے، اس لیے کیونکہ یہ عمرہ نہیں کر رہا بلکہ یہ سعی کس کی ہے؟ حج کی ہے، لہٰذا ابھی حلال نہیں ہونا، تو بس یہ سعی کر لے اور اس کے بعد مکہ ہی میں رہے اسی حالتِ احرام کے اندر، انہی دو چادروں کے اندر بھئی، مکہ میں رہے۔ اور اس دوران بھئی جتنے طواف کرنا چاہتا ہے یہ کر سکتا ہے، جتنے طواف کرنا چاہے، اور یہ طواف چونکہ ان کے بعد سعی ہی نہیں ہو گی لہٰذا ان طوافوں میں اضطباع بھی نہیں کرے گا اور رمل بھی نہیں کرے گا کیونکہ اضطباع اور رمل کس طواف میں کیا جاتا ہے؟ جس کے بعد سعی ہو، تو عام طواف جتنے وہ چاہے کر سکتا ہے۔ یہ معنی ہے: ”ثُمَّ يُقِيمُ بِمَكَّةَ حَرَامًا؛ لِأَنَّهُ مُحْرِمٌ بِالْحَجِّ فَلَا يَتَحَلَّلُ قَبْلَ الْإِتْيَانِ بِأَفْعَالِهِ“، پھر مکہ میں ہی وہ حاجی مقیم رہے محرم ہو کر، اس لیے کیونکہ وہ حج کا محرم ہے، حج کا احرام باندھنے والا ہے، لہٰذا یہ حلال نہیں ہو گا حج کے افعال کر لینے سے پہلے۔ ”وَيَطُوفُ بِالْبَيْتِ كُلَّمَا بَدَا لَهُ“، اور بیت اللہ کا طواف کرے جب بھی اس کی رائے بنے، بدا لہٗ کا معنی ہوتا ہے رائے بننا، یعنی جب بھی اس کا جی چاہے کیا کرتا رہے؟ بیت اللہ کا طواف کرتا رہے۔ ”لِأَنَّهُ يُشْبِهُ الصَّلَاةَ“، اس لیے کیونکہ طواف جو ہے نماز کے مشابہ ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جس طرح انسان نوافل جتنے پڑھنا چاہتا ہے پڑھ سکتا ہے، اسی طرح یہ طواف بھی کس کی طرح ہے؟ نماز کی طرح ہے، تو جتنے طواف کرنا چاہتا ہے کرتا رہے۔ یہ معنی ہے ”لِأَنَّهُ يُشْبِهُ الصَّلَاةَ“، اس لیے کیونکہ طواف جو ہے نماز کے مشابہ ہے۔ ”قَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ صَلَاةٌ“، حضور علیہ السلام نے فرمایا: بیت اللہ کا طواف جو ہے وہ نماز ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ بیت اللہ کا طواف نماز ہے، اور اسی حدیث میں آگے حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: مگر یہ بات ہے کہ اس کے اندر اللہ نے بولنے کو حلال قرار دے دیا ہے۔ نماز میں تو بولیں گے، بات کریں گے، نماز ہی کیا ہو جائے گی؟ نماز ہی فاسد ہو جائے گی، باطل ہو جائے گی، لیکن البتہ یہ ہے طواف میں بولنے کی اجازت ہے لہٰذا جو شخص کلام کرے وہ اچھا کلام کرے طواف کے اندر بھئی۔ تو میں نے آپ کو بتلایا تھا طواف کے اندر کوئی خاص دعا نہیں ضروری، انسان ذکر کرتا رہے، سبحان اللہ پڑھتا رہے، الحمد للہ پڑھتا رہے، درود شریف پڑھتا رہے، دعائیں کرتا رہے، کسی سے بات کی ضرورت پیش آ جاتی ہے بات بھی کر سکتا ہے، لیکن بات کرے تو اچھی بات کرے، خیر کی بات کرے۔ اور ایک اور چیز بھئی، کتابوں میں بہت سی کتابوں میں یہ لکھا دیکھا ہے کہ طواف کے دوران بیت اللہ کی طرف نہیں دیکھنا چاہیے، بیت اللہ کی طرف نہیں دیکھنا چاہیے بھئی۔ والد صاحب کے ساتھ کئی مرتبہ اللہ تعالیٰ نے سفرِ حج اور عمرہ کا موقع نصیب فرمایا اور وہاں میں نے کئی مرتبہ والد صاحب سے یہ بات سنی بھئی کہ وہ یہ ذکر کرتے تھے کہ بعض علماء نے یہ لکھا ہے کہ طواف کے دوران بیت اللہ کی طرف رخ نہیں کرنا چاہیے، اس کی طرف نہیں دیکھنا چاہیے۔ لیکن یہ بات دل مانتا نہیں ہے بھئی، کئی دفعہ یہ بات انہوں نے ذکر کی۔ سمجھ میں آیا؟ معلوم ہوا ان کی رائے یہ تھی کہ دیکھنے میں کوئی حرج نہیں، وہ فرماتے ہیں عجیب بات ہے کہ وہ بیت اللہ جس کے گرد انسان چکر لگا رہا ہے اور جہاں عبادت سرانجام دے رہا ہے اور اس کی طرف دیکھنا درست نہ ہو طواف کے دوران، یہ بات عجیب سی لگتی ہے۔ اگرچہ ان کا مطالعہ بے انتہا وسیع تھا، دن رات مطالعہ ہی مطالعہ ان کا کام ہوتا تھا، اور دور دور سے علماء ان کو بھی کسی حوالے کی ضرورت پیش آتی تھی تو والد صاحب کے پاس آتے تھے کہ فلاں مسئلے کے اندر اگر کوئی حوالہ وغیرہ یا کچھ ہمیں مل جائے بھئی، اور اللہ نے حافظہ بھی بڑا قوی نصیب فرمایا تھا، ایسے ایسے واقعات کہ انسان سن کر حیران رہ جاتا ہے بھئی۔ تو معلوم ہوا ان کی بھی رائے یہ تھی، ان کو بھی کوئی ایسی دلیل نہیں ملی تھی کتابوں کے اندر کہ جس سے اس بات کی تائید ہوتی ہو کہ بیت اللہ کو نہیں دیکھنا چاہیے، چنانچہ وہ ہمیشہ وہ یہ بات ذکر فرماتے تھے جس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی یہ رائے تھی کہ دیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے بھئی، حرج نہیں ہے بھئی۔ معلوم ہوا جو علماء یہ قول ذکر بھی کرتے ہیں ان کے پاس اس کی کوئی دلیل وغیرہ ایسی موجود نہیں ہے بھئی کہ جس سے دوسرا مطمئن ہو سکے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ ضروری بات ایک میرے ذہن میں آ گئی والد صاحب سے سنی ہوئی تھی تو میں نے کہا آپ کو بھی سنا دوں بھئی۔ ”وَالصَّلَاةُ خَيْرُ مَوْضُوعٍ“، اور نماز بہترین وضع کی ہوئی چیز ہے یعنی بہترین وضع کی ہوئی نیکی ہے۔ ”فَكَذَا الطَّوَافُ“، تو اسی طرح طواف بھی ہے۔ یعنی نماز بہترین مقرر کی ہوئی نیکی ہے، یعنی انسان جس قدر نماز سے نفع اٹھانا چاہے اٹھا سکتا ہے، ان اوقاتِ مکروہہ کے علاوہ جس قدر نوافل پڑھنا چاہے پڑھ سکتا ہے، تو اسی طرح طواف بھی ہے، طواف بھی جس قدر انسان کرنا چاہے کر سکتا ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے: ”وَالصَّلَاةُ خَيْرُ مَوْضُوعٍ فَكَذَا الطَّوَافُ“، اور نماز بہترین مقرر کی ہوئی نیکی ہے تو اسی طرح طواف بھی ہے۔ ”إِلَّا أَنَّهُ لَا يَسْعَى عَقِيبَ هَذِهِ الْأَطْوِفَةِ فِي هَذِهِ الْمُدَّةِ“، مگر یہ کہ وہ حاجی جو ہے وہ سعی نہیں کرے گا ان طوافوں کے بعد اس مدت کے دوران، کیونکہ وہ سعی تو کس کی تھی؟ حج کی تھی، اور ویسے سعی عمرے میں بھی ہوتی ہے لیکن بعد میں یہ جب صرف طواف کر رہا ہے تو حج کی سعی تو یہ کر چکا ہے اور عمرہ تو یہ کر نہیں رہا لہٰذا ان طوافوں کے بعد وہ سعی نہیں کرے گا۔ یہ معنی ہے مگر یہ کہ وہ سعی نہیں کرے گا ان طوافوں کے پیچھے یعنی ان کے بعد اس مدت میں، ”لِأَنَّ السَّعْيَ لَا يَجِبُ فِيهِ إِلَّا مَرَّةً“، اس لیے کیونکہ سعی واجب نہیں ہے حج کے اندر مگر ایک ہی مرتبہ، ”وَالتَّنَفُّلُ بِالسَّعْيِ غَيْرُ مَشْرُوعٍ“، اور سعی میں نفل جو ہے وہ غیر مشروع ہے یعنی نفلی سعی غیر مشروع ہے، جائز نہیں ہے بھئی۔ ”وَيُصَلِّي لِكُلِّ أُسْبُوعٍ رَكْعَتَيْنِ“، اور پڑھے ہر سات چکروں کے لیے دو رکعتیں، ”وَهِيَ رَكْعَتَا الطَّوَافِ عَلَى مَا بَيَّنَّا“، اور یہ طواف کی دو رکعتیں ہیں بوجہ اس کے جو ہم نے بیان کر دیا، وہ حدیث گزر گئی کہ حضور علیہ السلام کیا فرماتے تھے کہ ہر طواف کرنے والے کو ہر سات چکروں کے لیے دو رکعتیں پڑھنی چاہییں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔
169 approved lectures · 137 of 169