وَإِذَا جُومِعَتِ النَّائِمَةُ وَالْمَجْنُونَةُ وَهِيَ صَائِمَةٌ عَلَيْهَا الْقَضَاءُ دُونَ الْكَفَّارَةِ. وَقَالَ زُفَرُ وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى: لَا قَضَاءَ عَلَيْهِمَا اعْتِبَارًا بِالنَّاسِي، وَالْعُذْرُ أَبْلَغُ لِعَدَمِ الْقَصْدِ. وَلَنَا أَنَّ النِّسْيَانَ يَغْلِبُ وُجُودُهُ وَهَذَا نَادِرٌ، وَلَا تَجِبُ الْكَفَّارَةُ لِانْعِدَامِ الْجِنَايَةِ.
"وَإِذَا جُومِعَتِ النَّائِمَةُ وَالْمَجْنُونَةُ" اور جب جماع کر لیا گیا یعنی صحبت کر لی گئی نائمہ یعنی سوئی ہوئی عورت سے، "وَالْمَجْنُونَةِ" اور مجنونہ سے، مجنونہ سے۔
سب سے پہلے تو یہ یاد رکھیے یہ جو "مجنونہ" آیا متن کے اندر بھئی، یہ اصل میں تھا "مجبورۃ": "وَإِذَا جُومِعَتِ النَّائِمَةُ وَالْمَجْبُورَةُ"، مجبورہ جس پر جبر کیا گیا، یعنی مکرهہ مراد ہے۔ کون مراد ہے؟ مکرهہ، جس پر زبردستی کی گئی۔ اور پھر یہ کسی لکھنے والے کی غلطی سے مجبورہ کس سے بدل گیا؟ مجنونہ سے۔ کسی لکھنے والے سے غلطی ہوئی اور مجبورہ کی جگہ اس نے مجنونہ لکھ دیا اور پھر یہی نسخے پھیل گئے اسی طرح۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ امام محمد رحمہ اللہ کے تلامذہ ذکر کرتے ہیں کہ ہم نے امام محمد رحمہ اللہ سے پوچھا کہ یہاں مجنونہ ہے اور مجنونہ کا کیسے روزہ ہو سکتا ہے؟ تو وہ فرمانے لگے کہ یہ مجنونہ نہیں ہے بلکہ یہ اصل میں لفظ کیا ہے؟ مجبورۃ، جو وہ "المجبورۃ" جس پر جبر کیا گیا ہو یعنی زبردستی کی گئی ہے۔ تو ہم نے کہا کہ آپ پھر اس کو بدل کیوں نہیں دیتے؟ اس مجنونہ لفظ کو مجبورہ کے ساتھ بدل کیوں نہیں دیتے؟ تو وہ فرمانے لگے کہ اب اس کے اتنے نسخے پھیل گئے ہیں اب بدلنے کا فائدہ نہیں۔ اتنے نسخے اس کے پھیل چکے ہیں کہ اب بدلنے کا فائدہ نہیں ہے۔ اب اگر بدل بھی دیا جائے گا ایک آدھ نسخے میں تو اس سے تو کوئی فرق نہیں پڑے گا، جتنے نسخے پھیلے وہ غلطی والے پھیل گئے اسی طرح، وہ سب تک وہی پہنچے ہیں۔ اور نیز چونکہ اس کی تاویل بھی آسان تھی اس لیے اسی طرح اس کو رہنے دیا گیا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور چونکہ ان نسخوں میں اسی طرح تھا، صاحبِ ہدایہ نے بھی اسی طرح نقل کیا بھئی۔ تو یہ اصل میں کیا لفظ تھا؟ المجبورۃ۔
"وَإِذَا جُومِعَتِ النَّائِمَةُ وَالْمَجْنُونَةُ" اور جب صحبت کر لی گئی سوئی ہوئی سے اور جس وہ جس کے ساتھ زبردستی کی گئی، مثلاً بیوی سوئی ہوئی تھی خاوند نے اس سے صحبت کر لی، وہ روزہ دار تھی بیوی خاوند نے اس سے صحبت کر لی یا زبردستی اس سے صحبت کر لی "وَهِيَ صَائِمَةٌ" اس حال میں کہ وہ روزہ دار تھی "عَلَيْهَا الْقَضَاءُ دُونَ الْكَفَّارَةِ" تو اس عورت پر قضا ہے نہ کہ کفارہ بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی۔ تو یہ مجنونہ اصل میں مجبورہ تھا۔ اور اگر اس کو مجنونہ بھی رکھیں تو بھی اس میں صائمہ کہ وہ روزہ دار ہو اس کی یہ صورت ہو سکتی ہے کہ اولِ نہار کے اندر وہ تندرست تھی اور بعد میں اس کو جنون کا دورہ پڑا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو لہٰذا جب اولِ نہار میں تندرست تھی تو اس نے کیا کیا؟ روزہ رکھا بھئی، تو وہ مراد ہے۔
تو یہ جو عورت ہے چونکہ اس کا ارادہ نہیں تھا، یہ تو سوئی ہوئی ہے یا اس پر جبر کیا گیا ہے لہٰذا اس پر صرف قضا آئے گی اس پر کفارہ نہیں آئے گا۔
"وَقَالَ زُفَرُ وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُمَا اللَّهُ لَا قَضَاءَ عَلَيْهِمَا" امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ان پر قضا بھی نہیں ہے "اعْتِبَارًا بِالنَّاسِي" قیاس کرتے ہوئے ناسی پر، بھولنے والے پر۔ جیسے کوئی شخص بھولے سے کیا کر لے؟ صحبت کر لے تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا اسی طرح بھول کر صحبت کی روزہ نہیں ٹوٹتا، تو یہاں ان کا عذر تو اس بھولنے والے سے بھی بڑھ کر ہے۔ بھول کر صحبت کرنے والا وہ اس کا کم از کم ارادہ تو ہوتا ہے، روزہ تو اس کو یاد نہیں ہوتا لیکن صحبت کا تو ارادہ ہوتا ہے اور یہاں پر تو ارادہ بھی نہیں ہے لہٰذا ان کا عذر اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ لہٰذا یہاں پر بھی وہی حکم آئے گا اور ان کے روزے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، ان پر قضا نہیں ہے ان کا روزہ صحیح ہے بھئی۔ دلیل ان کی سمجھ میں آگئی؟
یہ معنی ہے وہ فرماتے ہیں: "لَا قَضَاءَ عَلَيْهِمَا اعْتِبَارًا بِالنَّاسِي" وہ فرماتے ہیں ان دونوں پر قضا نہیں ہے قیاس کرتے ہوئے بھولنے والے پر "وَالْعُذْرُ أَبْلَغُ لِعَدَمِ الْقَصْدِ" اور یہ عذر جو ہے یہ بڑھ کر ہے اس بھولنے والے کے عذر سے بھی بڑھ کر ہے عدمِ قصد، ارادہ نہ ہونے کی وجہ سے۔ بھولنے والے کا کم از کم ارادہ تو ہوتا ہے لیکن ان کا تو ارادہ بھی نہیں، تو ان کا عذر اس سے بڑھ کر ہے۔
"وَلَنَا" اور ہماری دلیل یہ ہے "أَنَّ النِّسْيَانَ يَغْلِبُ وُجُودُهُ وَهَذَا نَادِرٌ" کہ نسیان یعنی بھولنا اس کا وجود غالب ہے، وہ عام پیش آتا رہتا ہے اور یہ جو صورت ہے کہ کوئی کوئی نائمہ یا مجنونہ سے صحبت کر لے اس کا وجود نادر ہے۔ لہٰذا اس کو وہ والا حکم نہیں دیا جا سکتا۔ ایک صورت عام پیش آنے والی ہے وہ تخفیف کا تقاضا کرتی ہے، ایک صورت جو نہایت نادر پیش آنے والی ہے تو اس کی وجہ سے شرعی حکم میں کوئی تبدیلی نہیں آتی بھئی۔ تو لہٰذا نسیان چونکہ غالب تھا اس کا حکم اور ہے اور یہ چونکہ نہایت نادر ہے لہٰذا اس کا حکم اس طرح کا نہیں ہوگا بھئی۔
"وَلَا تَجِبُ الْكَفَّارَةُ لِانْعِدَامِ الْجِنَايَةِ" اور کفارہ واجب نہیں ہوگا ان پر "لِانْعِدَامِ الْجِنَايَةِ" کیونکہ جرم معدوم ہے، انہوں نے ان کا جرم کا کوئی ارادہ نہیں تھا تو جرم نہیں ہے اس لیے کفارہ نہیں آئے گا۔
فَصْلٌ فِيمَا يُوجِبُهُ عَلَى نَفْسِهِ، یہ فصل ہے ان روزوں کے بیان میں "يُوجِبُهُ عَلَى نَفْسِهِ" جس کو انسان جس کو وہ روزہ رکھنے والا خود اپنے نفس پر واجب کرے بھئی۔ یہ فصل ہے ان روزوں کے بیان میں جن کو روزہ رکھنے والا خود اپنے اوپر واجب کرے۔ بھئی وہ منت، منت کے ذریعے کیا کر لیتا ہے انسان؟ روزے کو اپنے اوپر واجب کر لیتا ہے، اب وہ بیان کرنے لگے ہیں۔
وَإِذَا قَالَ: لِلَّهِ عَلَيَّ صَوْمُ يَوْمِ النَّحْرِ، أَفْطَرَ وَقَضَى. اور جب کہا کسی شخص نے کہ "لِلَّهِ عَلَيَّ صَوْمُ يَوْمِ النَّحْرِ" کہ مجھ پر اللہ کے لیے واجب ہے یوم النحر یعنی قربانی کی جو عید ہے اس کا روزہ، تو "أَفْطَرَ وَقَضَى" تو یرحمک اللہ، تو "أَفْطَرَ وَقَضَى" وہ افطار کرے یعنی اس عید والے دن روزہ نہ رکھے "وَقَضَى" اور بعد میں کیا کر لے اس کی؟ قضا کر لے۔
فَهَذَا النَّذْرُ صَحِيحٌ عِنْدَنَا خِلَافًا لِزُفَرَ وَالشَّافِعِيِّ رَحِمَهُمَا اللَّهُ، تو یہ منت ہمارے نزدیک صحیح ہے بخلاف امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ کے۔ وہ فرماتے ہیں یہ منت ہی صحیح نہیں ہے، ہم کہتے ہیں یہ منت صحیح ہے۔
هُمَا يَقُولَانِ: وہ فرماتے ہیں "إِنَّهُ نَذْرٌ بِمَا هُوَ مَعْصِيَةٌ" کہ یہ منت ہے اس چیز کی جو معصیت ہے یعنی گناہ ہے۔ یہ ایک شخص نے کس چیز کی منت مانی ہے؟ عید والے دن روزہ رکھنے کی منت مانی ہے اور آپ کو میں نے بتلایا تھا سال میں پانچ دن ایسے ہیں جن میں روزہ رکھنا حرام ہے: ایک عید الفطر والا دن، ایک عید الاضحیٰ والا دن اور پھر تین دن عید الاضحیٰ سے اگلے جو ہیں یعنی ایامِ تشریق۔ ان پانچ دنوں میں روزہ رکھنا حرام ہے۔ تو یہاں بھی اس نے یوم النحر کے روزے کی منت مانی ہے یعنی قربانی والے دن کی، اور قربانی والے دن کا روزہ تو حرام ہے۔ تو امام زفر اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے ایک ایسی چیز کی منت مانی جو گناہ ہے، اور گناہ کی منت مانی جائے تو اس سے منت ہوتی ہی نہیں ہے لہٰذا اس شخص پر وہ روزہ سرے سے واجب ہی نہیں۔
وہ فرماتے ہیں: "إِنَّهُ نَذْرٌ بِمَا هُوَ مَعْصِيَةٌ" کہ یہ منت ہے اس چیز کی جو معصیت ہے یعنی گناہ ہے "لِوُرُودِ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ هَذِهِ الْأَيَّامِ" اس لیے کیونکہ نہی آئی ہے ان دنوں کے روزوں سے، ان ان دنوں کے روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے حدیث کے اندر بھئی۔ تو لہٰذا ان دنوں میں روزہ رکھنا گناہ ہوا اور یہ اس گناہ کی منت مان رہا ہے، اور گناہ کی منت کا تو کوئی اعتبار نہیں اس سے منت واقع ہی نہیں ہوتی۔
یاد رکھیے منت کے مسئلے میں جب کوئی شخص منت مانے کسی چیز کی تو وہ منت تب اس پر لازم ہوگی جب جس چیز کی منت مان رہا ہے وہ کسی وقت انسان پر واجب ہو، واجب ہوتی ہو بھئی۔ وہ چیز کسی وقت انسان پر واجب ہوتی ہو اور نیز وہ کسی چیز کا وسیلہ بھی نہ ہو۔ اگر وسیلہ ہے یعنی خود بالذات مقصود نہیں ہے وسیلہ ہے تو اس صورت میں بھی منت صحیح نہیں اور اس کا کرنا ضروری نہ ہوا۔ مثلاً دیکھیے، ایک شخص منت مانتا ہے کہ اے اللہ! اگر میرا یہ کام ہو گیا تو میں فلاں مریض جو ہے اس کی عیادت کرنے جاؤں گا۔ اب آپ مجھے بتائیے، مریض کی عیادت کرنا کسی وقت کسی پر واجب ہے کوئی؟ جی؟ آپ نے احکام پڑھے ہیں نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج وغیرہ، کہیں عیادت والا پڑھا آپ نے کہ یہ بھی فرض ہے اور واجب ہے آپ پر؟ جی ہاں، یہ فرض اور واجب نہیں اور منت سے وہ چیز واجب ہوگی جو کسی نہ کسی وقت کیا ہو انسان پر؟ واجب ہو، سمجھ میں آئی بات بھئی؟
اب مجھے بتائیے، ایک شخص منت مانتا ہے کہ اے اللہ! اگر میرا یہ کام ہو گیا تو میں میں ایک ہزار مرتبہ درود شریف پڑھوں گا۔ تو کیا یہ اس پر واجب ہوگا یا نہیں؟ جی؟ واجب ہوگا کیونکہ قرآن میں کیا آیا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ اور علماء کیا فرماتے ہیں؟ اس آیت کی تفسیر کیا کرتے ہیں؟ بعض فرماتے ہیں زندگی بھر میں ایک مرتبہ پڑھنا واجب، بعض کہتے ہیں ہر مجلس کے اندر جب پہلی مرتبہ نام آئے تو پڑھنا واجب۔ تو دیکھو واجب ہے یا نہیں؟ لہٰذا یہ منت صحیح ہے۔
اب مجھے بتائیے، ایک آدمی کہتا ہے اے اللہ! اگر میرا یہ کام ہو گیا میں ایک لاکھ مرتبہ سبحان اللہ پڑھوں گا۔ منت ہوئی یا نہیں ہوئی؟ جی؟ یہاں بھی منت نہیں ہوئی، کوئی مقام ایسا مجھے بتائیں جہاں سبحان اللہ پڑھنا واجب ہو؟ نماز کے اندر آپ پڑھتے ہیں، نماز میں بھی سنت ہے واجب نہیں ہے۔ سمجھ میں آئی بات؟ سجدے، رکوع وغیرہ میں "سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ" یا "سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى" یہ سنت ہے آپ پڑھ چکے ہیں۔ کوئی بالکل پڑھے ہی نہ ان کو پھر بھی سجدہ اور رکوع ہوگا یا نہیں ہوگا اس کا؟ سجدہ اور رکوع ہو جائے گا اگرچہ سنت رہ جائے گی بھئی، بات سمجھ میں آگئی؟
اسی طرح یہ بھی میں نے کہا کہ وہ وسیلہ بھی نہیں ہونا چاہیے وسیلہ اور ذریعہ، بلکہ بالذات مقصود ہو۔ لہٰذا وضو کی کوئی منت مانتا ہے تو یہ منت بھی درست نہیں۔ کیونکہ ٹھیک ہے وضو انسان پر واجب ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ واجب ہوتا ہے، لیکن بالذات خود وضو مقصود ہوتا ہے یا اس کے ذریعے نماز وغیرہ مقصود ہوتی ہے؟ نماز وغیرہ، تو وضو ایک وسیلہ اور ذریعہ ہے لہٰذا یہ منت بھی صحیح نہیں اس کا پورا کرنا ضروری نہیں۔ اسی طرح کوئی گناہ کی منت مان لے اس کا بھی پورا کرنا ضروری نہیں بلکہ اس سے تو بچنا ضروری ہے بھئی، بات سمجھ میں آگئی بھئی؟
تو منت کس چیز کی واجب ہوگی؟ جو کسی وقت انسان پر وہ چیز واجب ہوتی ہو۔ لہٰذا ایک شخص ایک منت مانتا ہے کہ اے اللہ! اگر میرا یہ کام ہو گیا تو میں دس پارے قرآن کے جو ہیں ان کی تلاوت کروں گا، تو بتائیے منت ہوئی یا نہیں ہوئی؟ ہو گئی کیونکہ قراءت نماز کے اندر واجب ہے یا واجب نہیں ہے؟ واجب ہے، لہٰذا یہ منت صحیح ہوئی۔ نفلوں کی، سو نفل پڑھوں گا اگر میرا یہ کام ہو گیا۔ واجب ہے واجب منت ہوگی یا نہیں ہوگی؟ ہوگی کیونکہ نفل کیا ہے؟ نماز ہے نا، اور نماز فرض ہے یا نہیں اسی کی جنس میں سے؟ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو اسی کی جنس میں سے واجب یا فرض ہوگا تو وہ منت ہوگی ورنہ منت نہیں ہوگی۔
اور پھر منت میں یہ بھی یاد رکھنا، منت دو قسم پر ہے: منت دو قسم پر ہے۔ ایک منت وہ ہے جسے انسان فوری واقع کر دیتا ہے، ایک منت وہ ہے جسے انسان معلق کر دیتا ہے کسی بات کے ساتھ۔ معلق کرتا ہے جیسے ابھی مثالیں گزریں: اے اللہ! اگر میرا یہ کام ہو گیا تو میں سو رکعت نفل پڑھوں گا۔ تو دیکھو سو رکعت نفلوں کو ویسے اپنے اوپر واجب کیا یا معلق کر دیا کسی کام کے ساتھ؟ معلق، یہ معلق کرنے کی صورت ہے۔ ایک ہے ویسے ہی اپنے اوپر واجب کر لیتا ہے کہ اے اللہ! میں آپ کے لیے دس روزے ضرور رکھوں گا۔ اب دیکھیے، کوئی معلق کیا؟ نہیں، لہٰذا یہ دس روزے اس پر خود واجب ہو گیا، اب اس پر رکھنا لازم ہو گئے۔
تو یہاں تو منت میں بعض اوقات معلق کرنا ہوگا، بعض اوقات معلق کرنا نہیں ہوگا، بہرحال دونوں صورتوں میں وہ چیز اس پر واجب ہو جائے گی۔ معلق کیا ہے تو جب وہ کام ہو جائے گا تو پھر واجب ہو گئی وہ چیز، اور معلق نہیں کیا تو ویسے ہی اس پر وہ چیز واجب ہو جائے گی بشرطیکہ اس کی جنس میں سے کوئی واجب ہو انسان پر کسی وقت بھئی۔ یہاں تک تفصیل سمجھ میں آگئی؟
تو لہٰذا اگر کوئی شخص گناہ کی منت مانتا ہے، گناہ کی منت مانتا ہے مثلاً کہ میں اگر میرا یہ کام اے اللہ ہو گیا تو فلاں بابا جی کے نام پر میں ایک دیگ دوں گا۔ فلاں بابا جی کے نام پر ایک دیگ دوں گا۔ بھئی یہ تو غیر اللہ کے نام پر کوئی چیز دینا ہے، اور غیر اللہ کے نام پر جو چیز دی جائے وہ حرام ہے بلکہ عام حرام سے بڑھ کر ہے بھئی، سمجھ میں آئی بات؟ تو لہٰذا یہ گناہ کی منت ہوئی، اور گناہ کی منت تو درست نہیں لہٰذا یہ منت نہیں ہوئی اور کام ہو بھی جائے اس سے تو پھر بھی بچنا واجب ہے، اس کا کرنا حرام ہے بھئی۔
تو امام شافعی رحمہ اللہ اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ "إِنَّهُ نَذْرٌ بِمَا هُوَ مَعْصِيَةٌ" کہ یہ بھی منت ہے ایک ایسی چیز کی جو معصیت ہے، گناہ ہے "لِوُرُودِ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ هَذِهِ الْأَيَّامِ" اس لیے کیونکہ نہی آئی ہے ان دنوں کے روزے کے بارے میں۔ ان دنوں میں روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے تو یہ گناہ کی منت ہوئی اور اس کا یہ لہٰذا درست نہیں بھئی۔
"وَلَنَا" اور ہماری دلیل یہ ہے "أَنَّهُ نَذْرٌ بِصَوْمٍ مَشْرُوعٍ وَالنَّهْيُ لِغَيْرِهِ" ہم کہتے ہیں کہ یہ منت ہے اس روزے کی جو مشروع ہے۔ یہ منت ہم کہتے ہیں یہ منت تو روزے کی ہے، منت کیا ہے؟ روزے کی، اور روزہ مشروع ہے یا مشروع نہیں ہے؟ روزہ تو جائز ہے مشروع ہے۔ تو یہ ایک مشروع روزے کی منت ہے، اور وہ جو نہی آئی ہے اس روزے سے منع کیا گیا ہے وہ غیر کی وجہ سے ہے۔ خود روزے کی ذات میں خرابی نہیں ہے یہاں پر بلکہ یہ جو منع کیا گیا ہے اس روزے سے وہ کس کی وجہ سے ہے؟ غیر کی وجہ سے، اور وہ کیا؟ کہ یہ دن اللہ کی دعوت کے ہیں بھئی، یہ دن اللہ تعالیٰ کی دعوت۔ تو روزہ رکھنے میں اس دعوت سے اعراض کرنا یعنی منہ موڑنا لازم آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو دعوت فرما رہے ہیں اور یہ روزہ رکھ کر اس سے کیا کر رہا ہے؟ منہ موڑ رہا ہے۔ تو خود روزے کی ذات میں خرابی ہے یا اللہ کی دعوت کو رد کرنے کی وجہ سے خرابی آ رہی ہے؟ اللہ تعالیٰ کی دعوت کو رد کرنے اور اس سے منہ موڑنے کی وجہ سے اس میں خرابی آ رہی ہے، خود روزے کی اپنی ذات میں خرابی نہیں۔ لہٰذا جب یہ ایک روزے کی یہ روزے کی منت ہوئی اور روزہ تو مشروع ہے لہٰذا منت صحیح ہو گئی۔ ہاں البتہ اس آدمی کو اس دن روزہ رکھنا نہیں چاہیے کیونکہ اس صورت میں کیا آئے گی؟ اللہ کی دعوت سے اعراض کرنا لازم آئے گا، تو لہٰذا اس روز روزہ نہ رکھے بلکہ بعد میں کیا کر لے؟ کسی روز اس کی قضا کر لے، لیکن اگر کوئی رکھ لیتا ہے تو وہ اس کا روزہ ہو جائے گا اور منت پوری ہو جائے گی۔ اس لیے کیونکہ اس نے جس طرح کے روزے کی منت مانی تھی ویسا ہی روزہ اس نے رکھ بھی لیا اس کی منت کیا ہو گئی؟ پوری ہو گئی، روزہ اس کی طرف سے ادا ہو جائے گا اگرچہ گناہ ہوگا، گناہ اس کو ہوگا لیکن بہرحال وہ منت اس کے سر سے اتر جائے گی، بات سمجھ میں آگئی بھئی؟
تو ہماری دلیل یہ ہے کہ "أَنَّهُ نَذْرٌ بِصَوْمٍ مَشْرُوعٍ" کہ یہ منت ہے روزے کی جو مشروع ہے "وَالنَّهْيُ لِغَيْرِهِ" اور جو نہی ہے وہ اس کے علاوہ غیر کی وجہ سے ہے، روزے کی وجہ سے نہیں ہے اس کے علاوہ کی وجہ سے ہے "وَهُوَ تَرْكُ إِجَابَةِ دَعْوَةِ اللَّهِ تَعَالَى" اور وہ کیا ہے؟ کہتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی دعوت کو قبول کرنے کو ترک کرنا ہے۔ اجابتِ دعوت کا معنی ہے دعوت کو قبول کرنا: "وَهُوَ تَرْكُ إِجَابَةِ دَعْوَةِ اللَّهِ تَعَالَى" وہ اللہ تعالیٰ کی دعوت کو قبول کرنے کو چھوڑنا ہے "فَيَصِحُّ نَذْرُهُ" لہٰذا اس کی منت صحیح ہوئی۔ منت صحیح ہوئی۔
تو ہم کہتے ہیں کہ منت کے اندر خرابی نہیں ہے، ہاں اس پر جب عمل کرے گا اسی طریقے سے پھر خرابی آئے گی۔ کیا کرے گا؟ ہاں جب اس دن روزہ رکھے گا پھر خرابی آئے گی لہٰذا اس دن روزہ نہ رکھے بلکہ بعد میں رکھے، اور منت میں خود کوئی خرابی نہیں ہے لہٰذا منت ہو جائے گی۔ یہ معنی ہے: "فَيَصِحُّ نَذْرُهُ" تو اس کی منت صحیح ہے "لَكِنَّهُ يُفْطِرُ" لیکن وہ شخص کیا کرے؟ افطار کرے یعنی اس دن روزہ نہ رکھے "احْتِرَازًا عَنِ الْمَعْصِيَةِ الْمُجَاوِرَةِ" بچتے ہوئے اس گناہ سے جو اس کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ اس روز روزہ رکھے گا تو اس کے ساتھ کیا مل جائے گا؟ گناہ مل جائے گا، کیا گناہ؟ کہ اللہ کی دعوت کو چھوڑ رہا ہے۔ "ثُمَّ يَقْضِي" پھر بعد میں کیا کر لے اس کی؟ قضا کر لے "إِسْقَاطًا لِلْوَاجِبِ" اس واجب روزے کو اپنے اوپر سے ساقط کرنے کے لیے۔
"وَإِنْ صَامَ فِيهِ" اور اگر اس نے اس دن کے اندر روزہ رکھ لیا یعنی یوم النحر والے دن "يَخْرُجُ عَنِ الْعُهْدَةِ" تو وہ ذمہ داری سے نکل جائے گا یعنی اس کے سر سے اس روزے کی ذمہ داری اتر جائے گی "لِأَنَّهُ أَدَّاهُ كَمَا الْتَزَمَهُ" اس لیے کیونکہ اس نے روزے کو ویسا ہی ادا کیا جیسا اس کو اپنے اوپر لازم کیا تھا۔
"وَإِنْ نَوَى يَمِينًا فَعَلَيْهِ كَفَّارَةُ يَمِينٍ"
بھئی دعا بھی کرو اللہ تعالیٰ صحت دے، اس طرح تو ہدایہ کا پورا ہونا مشکل ہو جائے گا بھئی۔ آٹھ دس دن ہو گئے ہیں بیماری جان نہیں چھوڑ رہی بھئی۔
دعا کرو اللہ تعالیٰ ساری رکاوٹیں دور فرمائے بھئی، احسن طریقے سے کتاب اللہ مکمل کرنے کی توفیق دے بھئی۔
"وَإِنْ نَوَى يَمِينًا فَعَلَيْهِ كَفَّارَةُ يَمِينٍ" اور اگر اس شخص نے قسم کی نیت کی تو اس پر کفارۂ یمین بھی آئے گا، کیا آئے گا؟ کفارۂ یمین بھی آئے گا۔
بھئی یہی جو اوپر متن کے اندر الفاظ آئے تھے، ایک آدمی نے یوں کہا: "لِلَّهِ عَلَيَّ صَوْمُ يَوْمِ النَّحْرِ" کہ اللہ کے لیے مجھ پر یوم النحر کا روزہ واجب ہے، واجب ہے۔ اب یاد رکھیے یہ لفظ جو ہیں یہ منت والے ہیں۔ لفظوں سے کیا پتہ چل رہا ہے؟ وہ منت مان رہا ہے یا نہیں مان رہا بھئی؟ اور معلق کر رہا ہے یا ویسے ہی اپنے اوپر واجب کر رہا ہے؟ ویسے ہی، معلق نہیں کر رہا، کہہ رہا ہے "لِلَّهِ عَلَيَّ صَوْمُ يَوْمِ النَّحْرِ" مجھ پر اللہ کے لیے یوم النحر کا روزہ واجب ہے۔ تو لہٰذا یہ الفاظ ہیں منت والے، تو اس سے منت واقع ہو جائے گی ہمارے نزدیک، لیکن اس کو اس دن روزہ نہیں رکھنا چاہیے بعد میں اس کی قضا کر لے، لیکن اگر اس دن بھی رکھ لے گا تو اس کی منت پوری ہو جائے گی یعنی وہ واجب اس کے سر سے اتر جائے گا۔
لیکن اگر اس میں کوئی شخص قسم کی نیت کر لیتا ہے، تو یاد رکھیے یہ جو لفظ ہے نا "لِلَّهِ عَلَيَّ صَوْمُ يَوْمِ النَّحْرِ" یہ الفاظ تو منت والے ہیں، ان کا حقیقی معنی کیا ہے؟ منت ہے۔ حقیقی معنی کیا ہے؟ منت ہے، تو منت ان لفظوں میں حقیقت ہے۔ البتہ یہ قسم کا بھی احتمال رکھتے ہیں یہ الفاظ کیونکہ شروع میں کیا لایا ہے؟ "لِلَّهِ"، اور للہ یہاں پر لام جبارہ آیا لفظِ اللہ پر شروع میں، اور لام جارہ قسم کے لیے استعمال ہوتا ہے یا نہیں ہوتا؟ جی، لام جارہ قسم کے لیے استعمال ہوتا ہے تو اس میں قسم کا بھی احتمال ہے۔ کس چیز کا؟ قسم کا بھی احتمال ہے۔
لیکن منت ہوئی اس ان لفظوں کے اندر منت ہے حقیقت اور قسم کا ہے احتمال، قسم کا ہے احتمال۔ تو لہٰذا اگر وہ قسم کی نیت کر لیتا ہے ان لفظوں کے ذریعے تو پھر یہ قسم بن جائے گی، کیا بن جائے گی؟ قسم بن جائے گی۔ تو اس صورت میں بھی اس پر روزہ واجب ہوگا، روزہ کیا ہوگا؟ جیسے منت کے ذریعے انسان پر ایک چیز واجب ہوتی ہے، قسم کے ذریعے بھی وہ کیا کرتا ہے ایک چیز کو اپنے اوپر؟ واجب، قسم آپ کیوں کھاتے ہیں کسی بات پر؟ اس بات کو پکا کرنے کے لیے۔ کس لیے کھاتے ہیں؟ آپ ایک ویسے کہتے ہیں میں یہ کام کروں گا اور ایک آپ کہتے ہیں واللہ میں یہ کام کروں گا، تو قسم سے تاکید آگئی یا نہیں آگئی؟ تو اسی کام کے اندر قسم جب کھائی جاتی ہے اس کام میں زور اس بات میں زور پیدا ہو جاتا ہے اس میں تاکید آ جاتی ہے۔ تو یہاں پر بھی وہ کیا کہہ رہا ہے؟ یوم النحر کے روزے کو اپنے اوپر لازم کر رہا ہے اور ساتھ اس پر قسم کھا رہا ہے، ساتھ اس پر قسم کھا رہا ہے۔ اور یہ قسم بھی تقاضا کرتی ہے کہ یہ اپنے اس کام کو ضرور پورا کرے کیونکہ اللہ کے نام کی قسم اٹھا رہا ہے، تو اللہ کے نام کو بے حرمتی سے بچانے کے لیے اب اس پر واجب ہو گیا کہ کیا کرے؟ اس بات کو پورا کرے۔ جب کوئی شخص قسم اٹھاتا ہے اور کام نہیں کرتا تو اس پر کفارہ آتا ہے یا نہیں آتا؟ کیوں آتا ہے کفارہ؟ اس نے اللہ کے نام کی بے حرمتی کی ہے، اللہ کا نام ایک چیز کے لیے لیا تھا کہ میں یہ کام ضرور کروں گا اور کیا نہیں۔ تو معلوم ہوا قسم سے بھی کیا ہوتی ہے کوئی چیز؟ لازم ہو جاتی ہے، واجب ہوتی ہے واجب ہو جاتی ہے، اسی طرح منت کے ذریعے بھی کوئی چیز کیا ہوتی ہے انسان پر؟ واجب ہو جاتی ہے۔ تفصیل سمجھ میں آ رہی ہے مسئلے کی؟
تو اب اگر یہ جو اس نے لفظ کہے، یہ منت کے سلسلے میں تو ہیں حقیقت اور قسم کا اس کے اندر احتمال ہے۔ لہٰذا اگر وہ کوئی نیت نہیں کرتا تو پھر حقیقت خود بخود ثابت ہو جائے گی کیونکہ حقیقت کو ترجیح ہوتی ہے دوسرے معنی پر۔ البتہ اگر وہ نیت کس کی کر لیتا ہے؟ قسم کی، اور قسم کا یہاں احتمال ہے یا احتمال نہیں؟ احتمال ہے۔ تو جس چیز کا کلام کے اندر احتمال ہو جب اس کی نیت کر لی جائے تو وہ چیز ثابت ہو جاتی ہے، اصولِ فقہ میں پڑھ چکے ہیں یا نہیں پڑھ چکے؟ ہاں ایسی چیز کی نیت کرے جس کا کلام احتمال ہی نہیں رکھتا اس کا تو اعتبار ہی کوئی نہیں، لیکن یہاں وہ کس کی نیت کرتا ہے؟ قسم کی، اور قسم کا بھی اس کلام میں احتمال ہے یا نہیں؟ جب احتمال ہے بھی اور اس نے نیت کے ذریعے اس کو متعین بھی کر دیا تو اس صورت میں یہ قسم بن جائے گی۔ اور اس پر کیا ضروری ہوا؟ روزہ تو اس پر لازم ہوا، قسم کے ذریعے بھی وہ چیز کیا ہو جائے گی اس پر؟ واجب ہو جائے گی لازم ہو جائے گی۔ تو اس پر یوم النحر کا روزہ واجب ہوا، لیکن اس دن رکھے نہ، بعد میں کیا کرے؟ قضا کرے۔ اور قضا کے ساتھ ساتھ اب قسم کا کفارہ بھی دینا پڑے گا اس لیے کیونکہ اس نے ایک چیز پر قسم اٹھائی تھی اور اس کو پورا نہیں کیا، اور قسم کو پورا نہ کیا جائے تو کیا دینا پڑتا ہے؟ کفارہ دینا پڑتا ہے، مسئلہ سمجھ میں آگیا۔
یہ معنی ہے: "وَإِنْ نَوَى يَمِينًا فَعَلَيْهِ كَفَّارَةُ يَمِينٍ" اور اگر اس نے قسم کی نیت کی تو اس پر قسم کا کفارہ ہے، یعنی إذا أفطر، صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں مراد یہ ہے کہ جب وہ افطار کر لے روزہ اس دن نہ رکھے تو پھر اس پر کیا آئے گا؟ قسم کا کفارہ آئے گا۔
کہتے ہیں: "وَهَذِهِ الْمَسْأَلَةُ عَلَى وُجُوهٍ سِتَّةٍ" اور یہ مسئلہ جو ہے چھ قسم پر ہے، چھ قسم پر بنتا ہے یہ مسئلہ بھئی۔ چھ قسم پر کس طرح بنتا ہے؟ دیکھیے بھئی، لفظ وہ یہی کہے گا: "لِلَّهِ عَلَيَّ صَوْمُ يَوْمِ النَّحْرِ"، لفظ یہی کہے گا۔
ایک صورت یہ کہ وہ کسی چیز کی نیت اس نے نہیں کی بس یہ لفظ کہہ دیے: "لِلَّهِ عَلَيَّ صَوْمُ يَوْمِ النَّحْرِ"، نہ اس نے منت کی نیت کی ہے نہ اس نے قسم کی نیت کی ہے، تو اس صورت میں خود بخود حقیقت ثابت ہو جائے گی اور حقیقت کیا ہے اس کی؟ منت ہے۔ تو یہ لفظ کس کے ہو جائیں گے؟ منت کے ہو جائیں گے۔
دوسری صورت، وہ باقاعدہ یہ نیت کرتا ہے کہ میں صرف منت کی نیت کر رہا ہوں اور کسی چیز کی نہیں، صرف کس کی نیت کرتا ہے؟ منت کی، تو بھی اس صورت میں کیا ہوگی؟ منت ہی ہوگی۔
تیسری صورت، وہ یہ نیت کرتا ہے کہ یہ منت ہے قسم نہیں ہے، قسم کی باقاعدہ نفی کر دیتا ہے نیت کے اندر تو اس صورت میں بھی کیا ہوگی؟ منت ہی ہوگی۔ تین صورتیں سمجھ میں آگئیں؟ پہلی صورت، کوئی نیت ہی نہیں کی تو بھی اس صورت میں چونکہ منت حقیقت ہے وہ خود بخود ثابت ہو جائے گی۔ دوسری صورت، وہ صرف کس کی نیت کرتا ہے؟ منت کی نیت کرتا ہے، قسم کا ذہن میں آیا ہی نہیں اس کے قسم کے بارے میں اس نے سوچا ہی نہیں کچھ بھی نہیں، تو بھی کیا ہوگی؟ منت ہی ہوگی۔ تیسری صورت، باقاعدہ منت کی نیت کرتا ہے اور قسم کی نفی کرتا ہے تو اس صورت میں بھی ظاہر سی بات ہے کیا ہوگی؟ منت ہی ہوگی بھئی۔ تین صورتیں ہو گئیں۔
چوتھی صورت چوتھی صورت کہ وہ قسم کی نیت کرتا ہے صرف بھئی، صرف کس کی نیت کرتا ہے؟ قسم کی نیت کرتا ہے۔
پانچویں صورت، قسم اور نذر دونوں کی نیت کرتا ہے۔
چھٹی صورت، قسم کی نیت کرتا ہے اور منت کی باقاعدہ نفی کرتا ہے کہ میں یہ قسم کھا رہا ہوں منت نہیں مان رہا، صورت سمجھ میں آگئی؟ تو کل کتنی صورتیں ہوئیں؟ چھ صورتیں ہوئیں۔
تو یہ چھ صورتیں ہیں۔ پہلی صورت کیا؟ کسی کی چیز کی بھی اس نے نیت نہیں کی۔ دوسری صورت، صرف منت کی نیت کی ہے۔ تیسری صورت، منت کی نیت کی ہے اور قسم کی نفی کی ہے۔ چوتھی صورت، صرف قسم کی نیت کی ہے، اور پانچویں صورت دونوں کی نیت کی ہے، اور چھٹی صورت قسم کی نیت کی ہے اور منت کی نفی کی ہے۔ تو باقی تین صورتوں میں ذرا تفصیل ہے وہ آگے آ رہی ہیں، البتہ پہلی تین کے اندر منت ہی متعین ہوگی بھئی۔
تو کہتے ہیں: "وَهَذِهِ الْمَسْأَلَةُ عَلَى وُجُوهٍ سِتَّةٍ" اور یہ مسئلہ چھ قسم پر یعنی چھ صورتوں پر ہے: پہلی صورت، "إِنْ لَمْ يَنْوِ شَيْئًا" اگر اس نے کسی چیز کی نیت نہیں کی، نہ منت کی نیت کی اور نہ قسم کی، یہ بس لفظ کہہ دیے ہیں۔ دوسری صورت، "أَوْ نَوَى النَّذْرَ لَا غَيْرُ" یا اس نے صرف کس کی نیت کی ہے؟ نذر کی نیت کی ہے، کسی اور چیز کی نیت نہیں کی۔ دوسری صورت، آگے تیسری صورت آ رہی ہے: "أَوْ نَوَى النَّذْرَ وَأَنْ لَا يَكُونَ يَمِينًا" اس نے منت کی نیت کی ہے اور یہ کہ قسم نہیں ہے، قسم کی باقاعدہ کیا کر دی؟ نفی کر دی۔ تو کہتے ہیں: "يَكُونُ نَذْرًا" تو یہ کیا ہوگی؟ تینوں صورتوں میں منت ہوگی "لِأَنَّهُ نَذْرٌ بِصِيغَتِهِ" اس لیے کیونکہ یہ منت ہی ہے اپنے صیغے کے اعتبار سے۔ یہ لفظ کیا ہیں؟ یہ "لِلَّهِ عَلَيَّ صَوْمُ يَوْمِ النَّحْرِ" یہ لفظ کس کے ہیں؟ منت کے ہیں، تو یہ صیغے کے اعتبار سے منت ہے۔ "كَيْفَ وَقَدْ قَرَّرَهُ بِعَزِيمَةٍ" اور یعنی کیسے یعنی یہ کیسے منت نہیں ہوگی؟ "وَقَدْ قَرَّرَهُ بِعَزِيمَةٍ" اس نے اس کو کیا کر دیا ہے؟ اپنے ارادے کے ذریعے پکا کر دیا ہے۔ الفاظ صیغے کے اعتبار سے لفظ بھی کس کے؟ منت کے، اور ارادے کے ذریعے بھی اس کو کیا کر دیا؟ پختہ کر دیا ہے، تو لہٰذا منت ہی ہوگی۔
"وَإِنْ نَوَى الْيَمِينَ" اور اگر اس شخص نے کس کی کس کی نیت کی؟ قسم کی نیت کی "وَنَوَى أَنْ لَا يَكُونَ نَذْرًا" اور یہ نیت کی کہ منت نہیں ہے، چوتھی صورت آگئی۔ چوتھی صورت، ترتیب کچھ وہ جو میں نے چھ صورتیں بتائی تھیں ترتیب وہ ضروری نہیں ہے بہرحال ان تین صورتیں میں نے پھر قسم والی بھی بتائی تھیں، ان میں سے ایک صورت کیا تھی؟ قسم کی نیت کرتا ہے اور منت کی باقاعدہ نفی کرتا ہے، یہ وہ صورت ہے کہ وہ نیت کی اس نے یمین کی "وَنَوَى أَنْ لَا يَكُونَ نَذْرًا" اور یہ نیت کی کہ نذر نہیں ہے منت کی باقاعدہ نفی کر دی، تو کہتے ہیں: "يَكُونُ يَمِينًا" اس صورت میں یہ کیا ہوگی؟ یمین ہوگی۔ بھئی یمین کیوں ہوگی؟ کہتے ہیں: "لِأَنَّ الْيَمِينَ مُحْتَمَلُ كَلَامِهِ" اس لیے کیونکہ قسم جو ہے وہ اس کے کلام کا محتمل ہے، اس کے کلام میں قسم کا احتمال بھی تھا "وَقَدْ عَيَّنَهُ وَنَفَى غَيْرَهُ" اور اس نے قسم کو کیا کر دیا؟ متعین کر دیا اور اس کے علاوہ یعنی نذر کی نفی کر دی، تو کیا متعین ہو جائے گی؟ قسم ہوگی۔
"وَإِنْ نَوَاهُمَا" پانچویں صورت آگئی، اس نے کیا کیا؟ دونوں کی نیت کی "فَيَكُونُ نَذْرًا وَيَمِينًا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ" تو اس صورت اس صورت میں منت اور قسم دونوں ہو جائیں گی طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک۔ اگر اس نے کیا نیت کی؟ جب دونوں کی نیت کی ہے تو طرفین کے نزدیک دونوں ہو جائیں گی "وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ يَكُونُ نَذْرًا" اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک صرف کیا ہوگی؟ صرف منت ہوگی۔ وہ فرماتے ہیں دونوں نہیں ہو سکتے کیونکہ منت اس کا حقیقی معنی اور قسم اس کا مجازی معنی، اور حقیقت اور مجاز جمع نہیں ہو سکتے۔ اور نیت اس نے دونوں کی کی ہے تو ترجیح کس کو ہوگی، حقیقت کو یا مجاز کو؟ حقیقت کو ترجیح ہوگی تو لہٰذا یہ منت ہو جائے گی اور قسم نہیں ہوگی، لیکن طرفین فرماتے ہیں نہیں، یہ قسم بھی ہے اور منت بھی ہے۔
"وَلَوْ نَوَى الْيَمِينَ" آخری صورت آگئی، اس نے صرف قسم کی نیت کی، منت کی نفی نہیں کی صرف کس کی نیت کی؟ قسم کی نیت کی، تو بھی صورت یہی ہے: امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک اس نے صرف کس کی نیت کی ہے؟ قسم کی نیت کی ہے تو لہٰذا ان کے نزدیک قسم ہو جائے گی اور طرفین کے نزدیک اس نے صرف کس کی نیت کی ہے؟ قسم کی نیت کی ہے، منت کی نفی تو نہیں کی اس نے؟ نہیں کی، تو منت بھی ہو جائے گی اور قسم بھی ہو جائے گی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
اب ذرا پھر دہرا لیں۔ پہلی صورت کیا تھی؟ کسی چیز کی اس نے نیت نہیں کی، تو پھر کیا ہوگی؟ منت ہوگی۔ اس نے صرف منت کی نیت کی ہے تو پھر؟ منت ہی ہوگی۔ اس نے منت کی نیت کی اور قسم کی نفی کی ہے، تو اس صورت میں بھی کیا ہوگی؟ منت ہی ہوگی ان تین صورتوں میں۔ اگلی صورت یہ کہ وہ قسم کی نیت کرتا ہے اور منت کی نفی کرتا ہے، تو اس صورت میں؟ قسم ہی ہوگی کیونکہ منت اگرچہ حقیقی معنی تھا لیکن اس نے خود کیا کر دی اس کی؟ نفی کر دی، تو صرف قسم ہوگی۔ اگلی صورت، وہ دونوں کی نیت کرتا ہے تو طرفین کے نزدیک دونوں، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک؟ حقیقت کو ترجیح ہے یا مجاز کو؟ حقیقت کو، اور حقیقی معنی کیا ہے اس کا؟ منت، تو ان کے نزدیک منت ہوگی یعنی قسم نہیں۔ یہ کون سی صورت ہے جب اس نے دونوں کی نیت کی۔ اور اگر صرف اس نے قسم کی نیت کی یعنی منت کی نفی نہیں کی صرف قسم کی نیت، تو بھی طرفین کے نزدیک دونوں ہوں گے کیونکہ منت اس کا حقیقی معنی اور قسم اس کا مجازی معنی، اور اس نے ٹھیک ہے نیت تو قسم کی کی ہے لیکن حقیقی معنی کی کوئی نفی کی ہے؟ نفی نہیں کی لہٰذا وہ بھی ثابت ہو جائے گا، تو منت اور قسم دونوں۔ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک صرف قسم ہوگی کیونکہ اس نے نیت کس کی کی ہے؟ قسم کی کی ہے اور منت نہیں آئے گی کیونکہ ورنہ کیا خرابی لازم آتی ہے؟ جمع بین الحقیقۃ والمجاز اور وہ جائز نہیں۔ یہاں تک مسئلہ سمجھ میں آگیا؟ اب دیکھیے کتاب پر:
"وَلَوْ نَوَى الْيَمِينَ فَكَذَلِكَ عِنْدَهُمَا" اور اگر اس نے صرف قسم کی نیت کی تو بھی مسئلہ اسی طرح ہے طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک یعنی منت بھی ہوگی اور قسم بھی ہوگی "وَعِنْدَهُ يَكُونُ يَمِينًا" اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک اس صورت میں صرف یمین ہوگی۔
"لِأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ" امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے "أَنَّ النَّذْرَ فِيهِ حَقِيقَةٌ" کہ منت ان لفظوں میں کیا ہے؟ حقیقت ہے "وَالْيَمِينَ مَجَازٌ" اور یمین کیا ہے؟ مجاز ہے "حَتَّى لَا يَتَوَقَّفَ الْأَوَّلُ عَلَى النِّيَّةِ وَيَتَوَقَّفُ الثَّانِي" یہاں تک کہ اول یعنی منت وہ نیت پر موقوف نہیں، بھئی جو حقیقت ہوتی ہے اس میں کسی نیت کی ضرورت ہوتی ہے یا وہ خود بخود ثابت ہو جاتی ہے؟ حقیقی معنی تو خود بخود ثابت ہو جاتا ہے اس میں کسی نیت کی ضرورت نہیں، اسی لیے کہا یہاں تک کہ جو اول ہے یعنی منت وہ نیت پر موقوف نہیں "وَيَتَوَقَّفُ الثَّانِي" اور دوسرا کیا ہے؟ یعنی یمین کس پر موقوف ہے؟ نیت پر۔ معلوم ہوا منت اس کا حقیقی معنی اسی لیے وہ نیت پر موقوف نہیں اور قسم اس کا مجازی معنی جبھی وہ کس پر موقوف ہے؟ نیت پر موقوف ہے بھئی۔ تو معلوم ہوا ایک حقیقی معنی ہے اور ایک مجازی معنی ہے، "فَلَا يَنْتَظِمُهُمَا" لہٰذا یہ دونوں کو شامل نہیں ہوگا ورنہ کیا خرابی لازم آئے گی؟ جمع بین الحقیقۃ والمجاز۔ "ثُمَّ الْمَجَازُ يَتَعَيَّنُ بِنِيَّتِهِ" پھر مجاز جو ہے وہ متعین ہوتا ہے کس کے ذریعے؟ اس کی نیت کے ذریعے متعین ہوگا "وَعِنْدَ نِيَّتِهِمَا" اور جب وہ دونوں کی نیت کر لے گا "فَتَتَرَجَّحُ الْحَقِيقَةُ" تو ترجیح کون پا جائے گی؟ حقیقت ترجیح پا جائے گی بھئی، اور جہاں مجاز کو متعین کرے گا نیت سے تو مجاز متعین ہو جائے گا بھئی، صورت سمجھ میں آگئی۔
"وَلَهُمَا" طرفین کی دلیل یہ ہے "أَنَّهُ لَا تَنَافِيَ بَيْنَ الْجِهَتَيْنِ لِأَنَّهُمَا يَقْتَضِيَانِ الْوُجُوبَ" طرفین فرماتے ہیں کہ دونوں جہتوں میں کوئی منافات نہیں، دونوں جہتوں میں کوئی منافات نہیں۔ لہٰذا لہٰذا وہ صورت جس میں وہ نیت کرتا ہے قسم کی اور نفی کرتا ہے منت کی، اس میں تو صرف قسم ہی ہوگی کیونکہ اس نے منت کی نفی کر دی، لیکن اگر وہ صرف قسم کی نیت کرے تو قسم بھی ہوگی اور منت بھی، یا کیا کرے؟ یا دونوں کی باقاعدہ نیت کرے تو اس صورت میں بھی دونوں ہوں گے۔ اس لیے کیونکہ دونوں میں کوئی منافات نہیں ہے، دونوں وجوب کا تقاضا کرتے ہیں۔ منت بھی کس کا تقاضا کرتی ہے؟ وجوب کا، قسم بھی کس کا تقاضا کرتی ہے؟ وجوب کا، وجوب کا۔ تو لہٰذا دونوں کے اندر کوئی منافات نہیں اور دونوں کو جمع کیا جائے گا کیونکہ دونوں ایک ہی چیز کا تقاضا کر رہے ہیں اور وہ وجوب ہے بھئی۔
یہ معنی ہے: "وَلَهُمَا أَنَّهُ لَا تَنَافِيَ بَيْنَ الْجِهَتَيْنِ" طرفین کی دلیل یہ ہے کہ دونوں دونوں جہتوں کے درمیان کوئی منافات نہیں ہے "لِأَنَّهُمَا يَقْتَضِيَانِ الْوُجُوبَ" اس لیے کیونکہ دونوں وجوب کا تقاضا کرتی ہیں۔
"إِلَّا أَنَّ النَّذْرَ يَقْتَضِيهِ لِعَيْنِهِ وَالْيَمِينَ لِغَيْرِهِ" مگر ایک بات ہے کہ منت جو ہے منت وہ اپنی ذات کے اعتبار سے وجوب کا تقاضا کرتی ہے، منت اپنی ذات کے اعتبار سے وجوب کا تقاضا کرتی ہے کیونکہ اس نے کیا کہا تھا؟ "لِلَّهِ عَلَيَّ"، عَلَیَّ، علیٰ کس لیے آتا ہے؟ منت کے لیے، وجوب کے لیے آتا ہے، تو یہ اپنی ذات کے اعتبار سے وجوب کا تقاضا کرتی ہے، اور قسم اپنے غیر کی وجہ سے وجوب کا تقاضا کرتی ہے۔ کس کی وجہ سے؟ غیر کی وجہ سے، غیر کیا؟ اللہ کے نام کو بے حرمتی سے بچانا، اس وجہ سے قسم تقاضا کرتی ہے کہ یہ چیز اس پر کیا ہو جائے؟ واجب ہو جائے، تو منت اپنے اپنی ذات کے اعتبار سے کس کا تقاضا کرتی ہے؟ وجوب کا، اور قسم غیر کی وجہ سے وجوب کا تقاضا، بہرحال یعنی دونوں تقاضا وجوب کا کر رہے ہیں اگرچہ جہت الگ الگ ہے۔ منت اپنی ذات کے اعتبار سے وجوب کا تقاضا کر رہی ہے اور قسم غیر کی وجہ سے اور وہ غیر کیا ہے؟ اللہ کے نام کو بے حرمتی سے بچانا ہے، تو بہرحال دونوں، جہت الگ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا وجوب دونوں چاہتے ہیں۔
یہ معنی ہے: "إِلَّا أَنَّ النَّذْرَ يَقْتَضِيهِ لِعَيْنِهِ" مگر یہ کہ منت جو ہے وہ تقاضا کرتی ہے اپنی ذات کے اعتبار سے "وَالْيَمِينَ لِغَيْرِهِ" اور قسم جو ہے اپنے علاوہ کے اعتبار سے "فَجَمَعْنَا بَيْنَهُمَا عَمَلًا بِالدَّلِيلَيْنِ" تو ہم نے دونوں کو جمع کر دیا دونوں دلیلوں پر عمل کرتے ہوئے، کس پر؟ دونوں دلیلوں پر عمل کرتے ہوئے۔ صیغہ کون سا تھا؟ منت کا، اور ارادہ کس کا تھا؟ قسم کا، تو ہم نے دونوں دلیلوں پر عمل کر دیا، صیغے پر بھی عمل ہو گیا اور اس شخص کی نیت پر بھی عمل ہو گیا۔
"كَمَا جَمَعْنَا بَيْنَ جِهَتَيِ التَّبَرُّعِ وَالْمُعَاوَضَةِ فِي الْهِبَةِ بِشَرْطِ الْعِوَضِ" جیسے ہم نے جمع کر دیا، جمع کر دیا تبرع اور معاوضے کی دو جہتوں کو اس ہبہ میں جو عوض کی شرط پر ہو۔ بھئی یاد رکھیے، ایک ہے بیع اور ایک ہے ہبہ۔ بیع کی اپنی شرائط ہیں یعنی خرید و فروخت، کوئی چیز کسی کو بیچنا، اس میں چونکہ آپ ایک چیز کا عوض لیتے ہیں لہٰذا اس کی شرائط الگ ہیں۔ ہبہ کے اندر آپ اپنی طرف سے بغیر کسی عوض کے کسی کو کوئی چیز دیتے ہیں یعنی تحفہ وغیرہ دیتے ہیں، ہدیہ دیتے ہیں کسی کو، تو یہ اس کی اپنی شرائط ہیں، پڑھ چکے ہیں یا نہیں پڑھ چکے؟ لیکن بعض اوقات ایسا ہوتا ہے ایک آدمی ہبہ کے اندر شرط لگا دیتا ہے۔ مثلاً آپ اپنے ساتھی سے کہتے ہیں کہ بھئی یہ کتاب میں آپ کو ہبہ کرتا ہوں لیکن شرط یہ ہے یہ جو آپ کے ہاتھ میں قلم ہے یہ آپ مجھے دیں گے، اس شرط پر یہ کتاب میں کیا کرتا ہوں آپ کو؟ ہبہ کرتا ہوں۔ تو یہاں پر دیکھیے، یہاں کہتے ہیں ہم نے یہ ہبہ ہوا بعوض، کس کے بدلے میں ہبہ ہے؟ عوض کے بدلے میں ہے۔ تو اس میں دونوں جہتیں ہم نے جمع کر دیں، یعنی ابتداءً یہ تبرع ہے۔ تبرع کس کو کہتے تھے میں پہلے کتنی دفعہ بیان کر چکا ہوں؟ اپنی طرف سے کوئی چیز دینا جو کسی پر لازم نہ ہو، تو یہ جو ہبہ بھی کرتے ہیں، تحفہ دیتے ہیں کسی کو آپ، یہ آپ پر لازم ہوتا ہے؟ نہیں، یہ لازم نہیں ہوتا۔ تو یہ جو آپ اس کو کتاب دے رہے ہیں ہم کہیں گے یہ ابتداءً ہبہ ہے یعنی تبرع ہے اپنی طرف سے دے رہے ہیں، لیکن اختتام کے اعتبار سے یا یوں کہیں انتہاء کے اعتبار سے آپ قلم لے رہے ہیں اس سے یا نہیں؟ تو قلم جب لیں گے تو انتہاء کے اعتبار سے یہ بیع بن جائے گی۔ کیا بن جائے گی؟ کیونکہ بیع کے اندر ہوتا ہے عوض دے کر عوض لینا، ہبہ کے اندر تو عوض لینا نہیں ہوتا۔ لیکن یہاں دونوں جہتوں پر عمل ہو سکتا ہے کہ ابتداءً ہم کیا کہیں گے؟ یہ ہبہ ہے اور انتہاءً یہ کیا ہے؟ بیع ہے، صورت سمجھ میں آگئی؟ یعنی معاوضہ ہے، وہی بیع کے اندر بھی کیا ہوتا ہے؟ معاوضہ ہوتا ہے نا دونوں جانب سے عوض دیا جاتا ہے۔
یہ معنی ہے: "كَمَا جَمَعْنَا بَيْنَ جِهَتَيِ التَّبَرُّعِ وَالْمُعَاوَضَةِ" جیسے کہ ہم نے جمع کر دیا تبرع اور معاوضے کی دونوں جہتوں کو "فِي الْهِبَةِ بِشَرْطِ الْعِوَضِ" کس کے اندر جمع کر دیا؟ ہبہ بشرطِ عوض کے اندر جیسے ہم نے دو جہتوں کو جمع کر دیا، تو جیسے وہاں پر دو جہتوں کو جمع کیا تھا یہاں پر بھی دو جہتوں کو جمع کر دیا کیونکہ وہاں پر دونوں جہتوں کے جمع کرنے میں کوئی منافات نہیں تھی، کوئی منافات نہیں، کس طرح منافات نہیں تھی بھئی؟ ہبہ میں عوض نہیں ہوتا، بیع کے اندر عوض ہوتا ہے۔ کہتے ہیں بھئی ہم نے کہا ابتداءً کیا ہے؟ ہبہ ہے، انتہاءً کیا ہے؟ بیع ہے، تو دیکھو ابتداء اور انتہاء کا فرق آگیا۔ ابتداء کے اعتبار سے وہ ہبہ کیا ہے؟ وہ یعنی وہ چیز دینا ہبہ ہے ابتداء کے، اور انتہاء کے اعتبار سے وہ کیا ہے؟ بیع ہے یا معاوضہ ہے، صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہاں جب وہاں پر دو چیزیں جمع ہو گئیں جب منافات ان میں نہیں تھی تو یہاں پر بھی یہ دونوں کے اندر منافات نہیں ہے کہ اس کو قسم بھی قرار دیا جائے اور منت بھی قرار دیا جائے کیونکہ دونوں کس کا تقاضا کر رہے ہیں؟ وجوب کا تقاضا کر رہے ہیں تو دونوں میں کوئی منافات نہیں تو دونوں جمع ہو سکتے ہیں، ہم نے دونوں پر عمل کیا۔
مسئلہ بھی سمجھ میں آیا کہ نہیں؟ فرق کیا ہوگا پھر؟ جی؟ فرق یہ ہوگا ثمرۂ اختلاف اس صورت میں ظاہر ہوگا جب اس نے وہی لفظ کہے اور اور کیا کیا اس نے؟ "لِلَّهِ عَلَيَّ صَوْمُ يَوْمِ النَّحْرِ" اور اس پر وہ یوم النحر والے دن وہ کیا کر دیتا ہے؟ افطار کر دیتا ہے، کیا کر دیتا ہے؟ افطار کر دیتا ہے تو پھر وہ صورتیں جن میں اس کو یمین قرار دیا گیا وہاں کفارہ بھی آئے گا، اور جن صورتوں میں یمین قرار نہیں دیا گیا وہاں صرف کیا آئے گی؟ قضا آئے گی، کفارہ نہیں آئے گا۔ تفصیل سمجھ میں آگئی بھئی؟ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ.