وَإِذَا لَمْ تَكُنْ بِالسَّمَاءِ عِلَّةٌ لَمْ تُقْبَلِ الشَّهَادَةُ حَتَّى يَرَاهُ جَمْعٌ كَثِيرٌ يَقَعُ الْعِلْمُ بِخَبَرِهِمْ لِأَنَّ التَّفَرُّدَ بِالرُّؤْيَةِ فِي مِثْلِ هَذِهِ الْحَالَةِ يُوهِمُ الْغَلَطَ فَيَجِبُ التَّوَقُّفُ فِيهِ حَتَّى يَكُونَ جَمْعًا كَثِيرًا۔
بھئی گزشتہ سبق کے آخر میں یہ مسئلہ میں نے ذکر کیا تھا کہ عید کا چاند ہو یا رمضان کا چاند ہو، جب آسمان صاف ہو تو ایک بڑے مجمعے کا اس کو دیکھنا ضروری ہے، پھر ہی روزے کا یا عید کا ثبوت ہو گا۔ اور اگر آسمان پر بادل ہیں تو پھر رمضان کے چاند کے اندر ایک عادل شخص کی گواہی بھی قبول کر لی جائے گی، چاہے وہ مرد ہو یا عورت ہو، آزاد ہو یا غلام ہو۔ اس لیے کیونکہ یہ خبر کے درجے میں ہے اور خبر جیسے عادل شخص کی قبول کر لی جاتی ہے، اسی طرح یہ بھی خبر ہے تو یہ بھی عادل شخص کی قبول کر لی جائے گی۔ اور اگر آسمان پر کوئی علت نہ ہو، پھر کس کا دیکھنا ضروری؟ ایک بڑے مجمعے کا دیکھنا ضروری ہے۔ تو یہی اب بیان کر رہے ہیں۔
کہتے ہیں: وَإِذَا لَمْ تَكُنْ بِالسَّمَاءِ عِلَّةٌ، اور جب آسمان پر کوئی عذر نہ ہو، آسمان پر کوئی عذر نہ ہو، لَمْ تُقْبَلِ الشَّهَادَةُ، تو قبول نہیں کی جائے گی گواہی، حَتَّى يَرَاهُ جَمْعٌ كَثِيرٌ، یہاں تک کہ دیکھ لے اس چاند کو ایک اتنا کثیر مجمع، يَقَعُ الْعِلْمُ بِخَبَرِهِمْ، علم یہاں یقین کے معنی میں ہے۔ يَقَعُ الْعِلْمُ بِخَبَرِهِمْ، کہ ان کی خبر دینے سے یقین واقع ہو جائے یعنی یقین حاصل ہو جائے۔ جب آسمان پر کوئی عذر نہ ہو تو پھر شہادت قبول نہیں کی جائے گی یہاں تک کہ اس کو دیکھ لے اتنا بڑا مجمع، اتنا کثیر مجمع کہ ان کی خبر سے یقین حاصل ہو جائے کہ یقیناً چاند نظر آ گیا۔ اتنے لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے چاند دیکھا ہے اور اتنے لوگ جھوٹ نہیں بول سکتے، معلوم ہوا یقیناً چاند نظر آ گیا ہے بھئی۔
لِأَنَّ التَّفَرُّدَ بِالرُّؤْيَةِ فِي مِثْلِ هَذِهِ الْحَالَةِ يُوهِمُ الْغَلَطَ، اس لیے کہ دیکھنے میں اکیلا ہونا، لِأَنَّ التَّفَرُّدَ بِالرُّؤْيَةِ، دیکھنے میں اکیلا ہونا، فِي مِثْلِ هَذِهِ الْحَالَةِ، اس جیسی حالت میں، يُوهِمُ الْغَلَطَ، یہ غلطی کا وہم ڈالتا ہے۔ اگر آسمان صاف ہے اور پھر بھی کوئی ایک آدھ آدمی، ایک یا دو نے چاند دیکھا ہے تو دل میں وہم پڑتا ہے کہ ان سے کیا ہوئی ہو گی؟ غلطی ہوئی ہو گی، آسمان تو صاف ہے، اگر چاند نظر آیا ہوتا تو بہت سے لوگ اس کو دیکھ لیتے بھئی۔ تو اس لیے ایک دو کی گواہی نہیں بلکہ ایک بڑے مجمعے کی گواہی قبول کی جائے گی۔
فَيَجِبُ التَّوَقُّفُ فِيهِ حَتَّى يَكُونَ جَمْعًا كَثِيرًا، تو واجب ہو گا اس کے اندر توقف کرنا۔ اس میں کیا کیا جائے گا؟ آسمان پر بادل نہیں ہیں اور ایک دو نے اگر آ کر گواہی دے دی ہے تو اس پر فوراً قاضی رمضان کا حکم نہیں دے گا بلکہ توقف کیا جائے گا، وہ انتظار کرے گا کہ اور لوگ بھی آئیں اور آ کر گواہی دیں اور پھر جب وہ بڑا مجمع گواہی دے دے، پھر اس کے بعد رمضان کا اعلان کیا جائے گا بھئی۔ یہ معنی ہے: فَيَجِبُ التَّوَقُّفُ فِيهِ، تو اس کے اندر توقف یعنی انتظار واجب ہے، حَتَّى يَكُونَ جَمْعًا كَثِيرًا، یہاں تک کہ ایک کثیر مجمع ہو جائے یعنی وہ دیکھنے والوں کا، چاند دیکھنے والوں کا ایک کثیر مجمع ہو جائے۔
بِخِلَافِ مَا إِذَا كَانَ بِالسَّمَاءِ عِلَّةٌ، بھئی اوپر آیا تھا اگر آسمان پر کوئی علت ہو تو وہاں آپ نے ایک آدمی کی گواہی پر ہی رمضان کا ثبوت کا حکم دیا تھا کہ رمضان ثابت ہو جائے گا، اس کی وجہ بھی ذکر کر رہے ہیں کہ بھئی وہ تو بادلوں والی یا غبار والی صورت تھی یعنی جب آسمان پر کوئی علت ہو تو بعض اوقات آسمان پر بادل یا غبار وغیرہ ہے اور پھر کسی وقت وہ عین جہاں چاند ہوتا ہے وہاں سے تھوڑے سے بادل پھٹ جاتے ہیں تو کسی ایک آدھ کی نظر پڑ جاتی ہے بھئی، سب کی نظر نہیں پڑتی، تو اس لیے وہاں پر ایک آدمی کی گواہی کو قبول کیا گیا۔ کہتے ہیں: بِخِلَافِ مَا إِذَا كَانَ بِالسَّمَاءِ عِلَّةٌ، بخلاف اس صورت کے جبکہ آسمان پر کوئی عذر ہو، لِأَنَّهُ قَدْ يَنْشَقُّ الْغَيْمُ عَنْ مَوْضِعِ الْقَمَرِ، اس لیے کیونکہ کبھی کبھار پھٹ جاتے ہیں بادل چاند کی جگہ سے، چاند کے مقام سے، فَيَتَّفِقُ لِلْبَعْضِ النَّظَرُ، تو مل جاتی ہے بعض کی نظر بھئی، بعض کی نظر مل، فَيَتَّفِقُ، تو متفق ہو جاتی ہے بعض لوگوں کی النَّظَرُ، نظر، یعنی بعض لوگوں کی نظر اس چاند کے ساتھ متفق ہو جاتی ہے یعنی مل جاتی ہے اس کے ساتھ یعنی وہ ان کو دکھائی دے دیتا ہے۔
ثُمَّ قِيلَ فِي حَدِّ الْكَثِيرِ، اچھا انہوں نے کہا ایک کثیر مجمع اس کو دیکھے، کثیر کی حد کیا ہے؟ کن کو کثیر کہیں گے اور کن کو کثیر نہیں کہیں گے؟ ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ثُمَّ قِيلَ فِي حَدِّ الْكَثِيرِ أَهْلُ الْمَحَلَّةِ، پھر کثیر کی حد میں کہا گیا ہے کہ وہ اہلِ محلہ ہیں۔ اگر کسی ایک سارے محلے والے کیا کر دیں؟ گواہی دے دیں تو معلوم ہوا یہ کثیر ہیں اور اس سے رمضان کا ثبوت ہو جائے گا۔ وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ خَمْسُونَ رَجُلًا، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک مجمعِ کثیر جس کو کہا گیا یعنی کثیر کی حد جو ہے وہ خَمْسُونَ رَجُلًا، وہ پچاس آدمی ہیں، اعْتِبَارًا بِالْقَسَامَةِ، قیاس کرتے ہوئے قسامت پر۔ کس پر؟ قسامت، آپ پڑھ چکے ہیں کہ اگر کسی محلے کے اندر کوئی شخص اس کو کسی نے قتل کیا ہے اور اس کی میت ملی اس محلے کے اندر، تو اس صورت میں اس محلے والے جو ہیں، محلے والے، ان پر پچاس قسمیں آئیں گی۔ پچاس قسمیں وہ اٹھائیں گے بھئی اور پھر پچاس قسموں کے بعد یہ علم حاصل ہو جائے گا کہ معلوم ہوا ان میں سے کسی کو قاتل کا علم نہیں، ہر شخص اس بات پر قسم اٹھائے گا کہ میں نے اس کو قتل نہیں کیا اور میں اس کے قاتل کو نہیں جانتا، اس پر وہ قسم اٹھائے گا، تو پچاس دیکھو جیسے وہاں پر قسم اٹھاتے تھے اور اس سے یہ بات یقینی طور پر حاصل ہو جاتی تھی کہ معلوم ہوا ان میں سے کسی کو قاتل کا پتہ نہیں ہے اور پھر ان پر دیت کا فیصلہ کر دیا جاتا تھا، تو جیسے وہاں پر پچاس آدمیوں سے یقینی بات حاصل ہو جاتی ہے، یہاں پر بھی کتنے آدمیوں کی گواہی ضروری ہو گی؟ پچاس آدمیوں کی تاکہ یقینی خبر حاصل ہو جائے۔
وَلَا فَرْقَ بَيْنَ أَهْلِ الْمِصْرِ وَمَنْ وَرَدَ مِنْ خَارِجِ الْمِصْرِ، اور کوئی فرق نہیں ہے شہر والوں میں اور وہ شخص جو شہر سے باہر سے آیا ہو۔ اگر باہر سے آئے ہوں یا شہر میں سے آئے ہوں، جہاں سے بھی آئے ہوں، ان میں کوئی فرق نہیں، سب کا ایک ہی حکم ہے۔
وَذَكَرَ الطَّحَاوِيُّ أَنَّهُ تُقْبَلُ شَهَادَةُ الْوَاحِدِ إِذَا جَاءَ مِنْ خَارِجِ الْمِصْرِ، امام طحاوی رحمہ اللہ نے ذکر فرمایا ہے کہ ایک شخص کی گواہی بھی قبول کر لی جائے گی جب وہ شہر کے باہر سے آیا ہو۔ امام طحاوی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ اگر شہر کے باہر سے آیا ہو تو ایک آدمی کی بھی گواہی قبول کر لی جائے گی۔ بھئی اس کی کیا وجہ؟ کہتے ہیں: لِقِلَّةِ الْمَوَانِعِ، موانع کے قلیل ہونے کی وجہ سے۔ اس لیے کیونکہ شہر کے اندر عموماً جو ہے وہ دھواں اور گرد و غبار زیادہ ہوتا ہے اور شہر کے باہر جو ہے اس قسم کے موانع نہیں ہوتے، فضا بالکل صاف ستھری ہوتی ہے تو وہاں چاند نظر آنے کا زیادہ امکان ہے بھئی، تو لہٰذا اگر باہر سے کوئی آ کر گواہی دے رہے ہیں تو ان کی ایک کی بھی کیا کر لی جائے گی؟ گواہی قبول کر لی جائے گی۔
وَإِلَيْهِ الْإِشَارَةُ فِي كِتَابِ الِاسْتِحْسَانِ، اور اسی کی طرف اشارہ ہے کتاب الاستحسان میں بھی۔ یہ بات جو امام طحاوی نے ذکر کی، اوپر تو صاحبِ ہدایہ نے بتلا دیا کہ شہر والوں میں اور باہر سے آنے والوں میں کوئی فرق نہیں، لیکن امام طحاوی کیا فرماتے ہیں؟ باہر سے اگر ایک شخص آیا ہے تو اس کی گواہی بھی قبول کر لی جائے گی، کون سے دن؟ جب بادل نہ ہوں، بالکل صاف ہو آسمان، تو اس روز بھی اگر شہر کے اندر تو ایک دو کی گواہی قبول نہیں کریں گے بلکہ بڑا مجمع ہونا چاہیے، لیکن اگر باہر سے کوئی آیا ہے تو ایک بھی ہو وہ چاند دیکھنے کی گواہی دے تو گواہی اس کی قبول کر لی جائے گی کیونکہ وہاں پر موانع کم ہوتے ہیں، رکاوٹیں کم ہوتی ہیں۔ اور اسی بات کی طرف اشارہ ہے کتاب الاستحسان میں بھی۔ امام محمد رحمہ اللہ نے کتاب الاستحسان کے اندر جو مسئلہ ایک ذکر کیا اس سے اسی بات کی طرف اشارہ ہوتا ہے جو امام طحاوی نے ذکر کی ہے، جو کس نے ذکر کی ہے؟ امام طحاوی نے ذکر کی ہے، اور وہ کیا؟ بھئی دیکھیے یہ لفظ دیے ہوئے ہیں فِي كِتَابِ الِاسْتِحْسَانِ وَلَفْظُهُ، اور اس کے لفظ یہ ہیں بھئی، اس میں وہ فرماتے ہیں: فَإِذَا كَانَ الَّذِي يَشْهَدُ بِذَلِكَ فِي الْمِصْرِ وَلَا عِلَّةَ فِي السَّمَاءِ لَمْ تُقْبَلْ شَهَادَتُهُ، دیکھو یہ لفظ ہیں کس کے؟ کتاب الاستحسان کے۔ اس میں اب دیکھیے کیا آیا؟ فَإِذَا كَانَ الَّذِي يَشْهَدُ بِذَلِكَ فِي الْمِصْرِ، پس اگر وہ شخص جو اس بات کی گواہی دے رہا ہے فِي الْمِصْرِ، وہ کس میں ہے؟ شہر میں ہے یعنی شہر کا رہنے والا ہے، وَلَا عِلَّةَ فِي السَّمَاءِ، اور آسمان میں کوئی علت بھی نہ ہو، لَمْ تُقْبَلْ شَهَادَتُهُ، تو اس کی شہادت قبول نہیں کی جائے گی۔ تو دیکھیے یہاں کتاب الاستحسان میں تصریح کر دی گئی کہ شہر کے اندر ہو اگر گواہی دینے والا، شہر کے اندر رہتا ہو تو اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی اور اس سے خود بخود پتہ چل گیا، جب فِي الْمِصْرِ کی قید لگائی، معلوم ہوا اگر خارجِ مصر سے کوئی آیا ہو تو اس کی گواہی قبول کر لی جائے گی بھئی۔
تو کہتے ہیں: وَإِلَيْهِ الْإِشَارَةُ فِي كِتَابِ الِاسْتِحْسَانِ، اور اسی بات کی طرف اشارہ ہے کتاب الاستحسان میں، کس بات کی طرف؟ جو کس نے ذکر کی ہے؟ امام طحاوی نے۔ وَكَذَا إِذَا كَانَ عَلَى مَكَانٍ مُرْتَفِعٍ فِي الْمِصْرِ، اور اسی طرح ہے حکم جبکہ وہ شخص جبکہ دیکھنے والا جو ہے وہ اونچی جگہ پر ہو شہر میں۔ اگر کوئی شخص ہے وہ اونچی جگہ پر ہے رہتا ہے اور وہ کیا کہتا ہے کہ میں نے چاند دیکھا ہے، تو جب اونچی جگہ پر ہے تو وہاں سے چاند نظر آنے کا زیادہ احتمال ہے، تو اس میں بھی یہی حکم ہے، اس کی ایک کی بھی گواہی قبول کر لی جائے گی۔
وَمَنْ رَأَى هِلَالَ الْفِطْرِ وَحْدَهُ لَمْ يُفْطِرْ، اور وہ شخص جس نے دیکھا اکیلے ہی فطر کے چاند کو، لَمْ يُفْطِرْ، تو وہ فطر نہیں کرے گا، وہ فطار نہیں کرے گا، احْتِيَاطًا، بطورِ احتیاط کے۔ بھئی دیکھیے مطلع صاف ہے، کوئی بادل نہیں ہے اور صرف ایک آدمی نے چاند دیکھا ہے تو اب اس کی گواہی پر باقی لوگوں کو تو یہ حکم نہیں دیا جائے گا کہ تم بھی روزہ رکھو۔ صرف ایک شخص نے یہ عید کا چاند دیکھا ہے تو اس ایک کے حکم کی وجہ سے تو فطر ثابت نہیں ہو گا، آپ کو میں نے مسئلہ بتلا دیا۔ تو کیا اب یہ شخص جس نے عید الفطر کا چاند دیکھا ہے اکیلے ہی، یہ اگلے دن اب عید کرے یعنی فطر کرے گا یا روزہ رکھے گا؟ کہتے ہیں بھئی یہ اکیلا بھی کیا کرنا چاہیے اس کو؟ روزہ رکھنا چاہیے کیونکہ احتیاط اسی میں ہے، کیونکہ اکیلا ہے دیکھنے والا تو ہو سکتا ہے اس سے غلطی ہو گئی ہو، بات سمجھ میں آ گئی۔ یہ معنی ہے: وَمَنْ رَأَى هِلَالَ الْفِطْرِ وَحْدَهُ، اور جس نے عید کے چاند کو دیکھا اکیلے، لَمْ يُفْطِرْ، تو وہ فطر نہیں کرے گا، احْتِيَاطًا، بطورِ احتیاط کے۔
وَفِي الصَّوْمِ الِاحْتِيَاطُ فِي الْإِيجَابِ، اور روزے کے اندر بھئی احتیاط واجب کرنے میں ہی ہے۔ روزے کے مسئلے میں احتیاط کس چیز کے اندر ہے؟ کہ روزے کو واجب کیا جائے۔ جیسے شروع والے دن کے اندر ایک آدمی نے اگر چاند دیکھا تھا اور اس کی شہادت قبول بھی نہ کی گئی، پھر بھی اس ایک پر روزے کو واجب قرار دیا گیا کیونکہ روزے کے اندر احتیاط واجب کرنے میں ہے، تو یہاں پر بھی روزے ہی کا مسئلہ ہے تو احتیاط اسی میں ہے کہ اس کو بھی روزہ رکھنا چاہیے۔
وَإِذَا كَانَ بِالسَّمَاءِ عِلَّةٌ لَمْ تُقْبَلْ فِي هِلَالِ الْفِطْرِ إِلَّا شَهَادَةُ رَجُلَيْنِ أَوْ رَجُلٍ وَامْرَأَتَيْنِ، اور جب آسمان پر کوئی عذر ہو، بھئی عید کا چاند دیکھ رہے ہیں اور آسمان پر بادل وغیرہ ہیں، تو کتنے آدمیوں کی گواہی قبول کی جائے گی؟ رمضان میں ایک عادل شخص کی گواہی قبول کرتے تھے لیکن عید کے مسئلے میں دو عادل مردوں کی گواہی یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی، یہاں غلام کی گواہی بھی قابلِ قبول نہیں اور صرف عورتوں کی گواہی بھی قابلِ قبول نہیں، جیسے اور معاملات میں ہوتا ہے وہاں یہاں پر بھی اسی طرح ہو گا۔
وَإِذَا كَانَ بِالسَّمَاءِ عِلَّةٌ، اور جب آسمان پر کوئی عذر ہو، لَمْ تُقْبَلْ فِي هِلَالِ الْفِطْرِ، تو قبول نہیں کی جائے گی فطر کے ہلال کے بارے میں، إِلَّا شَهَادَةُ رَجُلَيْنِ، مگر دو مردوں کی گواہی، أَوْ رَجُلٍ وَامْرَأَتَيْنِ، یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی۔ بھئی اس کی کیا وجہ ہے؟ وجہ میں نے کل ذکر کر دی تھی سبق میں بھئی، کیونکہ ہاں وہ خبر ہے رمضان کی جو خبر، وہ دینی خبر ہے، اس میں بندوں کا کوئی نفع نہیں، بندوں کا کوئی نفع نہیں، لیکن عید کے اندر بندوں کا بھی نفع ہے۔ فاسق لوگ کیا چاہیں گے؟ جلدی سے جلدی رمضان گزر جائے تاکہ جو کھانے پینے پر رکاوٹیں ہیں وہ ساری ختم ہو جائیں، تو لہٰذا اس میں بندوں کا بھی نفع ہے۔ جب بندوں کا نفع ہے تو لہٰذا اب یہاں وہی شہادت والی شرائط ہوں گی۔ جیسے بھئی معاملات کے اندر گواہی کے اندر جو شرطیں ہوتی ہیں وہاں بھی گواہی کی شرطیں کیوں ہیں؟ وہ بندوں کا معاملہ کسی ایک کا اس میں فائدہ ہوتا ہے، کوئی دعویٰ کرتا ہے تو اس پر کیا ضروری ہوتا ہے؟ گواہ پیش کرے اور دعوے کے اندر اس کا فائدہ ہو گا یا فائدہ نہیں ہو گا؟ دعوے کے اندر فائدہ ہی ہو گا، تو لہٰذا وہاں پر جیسے جو شرطیں ہیں کہ دو مرد ہونے چاہییں یا ایک مرد اور دو عورتیں، تو یہاں عید کا مسئلہ بھی بندوں کے نفعے جیسا ہو گیا تو اس میں بھی دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورت کی گواہی ضروری ہو گی۔
لِأَنَّهُ تَعَلَّقَ بِهِ نَفْعُ الْعَبْدِ، اس لیے کیونکہ اس کے ساتھ بندوں کے فائدے کا تعلق ہے، اس فطر کے ساتھ بندوں کے فائدے کا تعلق ہے، وَهُوَ الْفِطْرُ، اور وہ کیا ہے؟ فطر ہے کہ رمضان ختم ہو جائے گا اور کیا شروع ہو جائے گا؟ فطر شروع ہو جائے گا۔ فَأَشْبَهَ سَائِرَ حُقُوقِهِ، تو یہ مشابہ ہو گیا باقی حقوق کے۔ یہ کس کے مشابہ ہو گیا؟ ہاں میں نے بتایا تھا سائر کے معنی باقی کے بھی آتے ہیں اور تمام کے بھی آتے ہیں، موقع محل کے مطابق آپ جو ترجمہ کرنا چاہیں، تو لہٰذا تو یہاں اگر تمام کر لیں تمام درست بنتا ہے بلکہ زیادہ بہتر یہ ہے تمام کر لیں: فَأَشْبَهَ سَائِرَ حُقُوقِهِ، تو یہ مشابہ ہو گیا اس بندے کے تمام حقوق کے ساتھ، اور بندے کے حقوق کے اندر تو دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی ضروری تھی تو یہاں بھی ضروری ہو گی۔
وَالْأَضْحَى كَالْفِطْرِ فِي هَذَا فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ، اور عید الاضحیٰ بھی جو ہے وہ عید الفطر کی طرح ہے فِي هَذَا، اس معاملے میں، فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ، ظاہرِ روایت کے مطابق، وَهُوَ الْأَصَحُّ، اور یہی قول زیادہ صحیح ہے۔ عید الفطر تو میں تو دو آدمیوں کی گواہی ضروری تھی، اسی طرح عید الاضحیٰ یعنی قربانی کی جو عید ہے اس میں بھی دو آدمیوں کی گواہی ضروری ہو گی اور یہی قول زیادہ صحیح ہے۔ خِلَافًا لِمَا رُوِيَ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ، بخلاف اس کے جو روایت کیا گیا ہے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے، أَنَّهُ كَهِلَالِ رَمَضَانَ، یہ روایت کیا گیا امام صاحب سے کہ یہ جو اضحیٰ جو ہے اس کا چاند جو ہے كَهِلَالِ رَمَضَانَ، وہ کس کی طرح ہے؟ رمضان کے چاند کی طرح ہے۔ امام صاحب سے ایک روایت یہ ہے کہ عید الاضحیٰ کا چاند جو ہے وہ رمضان کے چاند کی طرح ہے، جیسے رمضان کے چاند سے ایک دینی معاملہ متعلق تھا اسی طرح یہ عید الاضحیٰ کے چاند سے بھی ایک دینی معاملہ یعنی حج متعلق ہے، ذوالحجہ کا چاند دیکھ رہے ہیں نا تو وہ اس سے کیا متعلق ہے؟ دینی معاملہ یعنی حج متعلق ہے، تو لہٰذا اس میں وہ رمضان کے اندر جو شرائط تھیں وہ ہوں گی اور وہاں تو ایک عادل شخص کی بھی گواہی قبول ہو جاتی تھی تو لہٰذا اس میں بھی ایک عادل کی گواہی قبول ہو جائے گی۔
آگے لِأَنَّهُ تَعَلَّقَ بِهِ، یاد رکھیے یہ امام صاحب کی دلیل نہیں ذکر ہو رہی، یہ ظاہرِ روایت میں جو آیا ہے نا کہ عید الاضحیٰ بھی کس کی طرح ہے؟ عید الفطر کی طرح ہے، اس کی دلیل ذکر ہو رہی ہے: لِأَنَّهُ تَعَلَّقَ بِهِ نَفْعُ الْعِبَادِ، اس لیے کیونکہ اس کے ساتھ بھی بندوں کے نفعے کا تعلق ہے، وَهُوَ التَّوَسُّعُ بِلُحُومِ الْأَضَاحِيِّ، کس کے ساتھ؟ وَهُوَ التَّوَسُّعُ، اور وہ وسعت ہو جانا ہے بِلُحُومِ الْأَضَاحِيِّ، قربانیوں کے گوشت سے۔ اس میں بھی بندوں کا نفع ہے کہ اس چاند کے ساتھ کس چیز کا تعلق ہے؟ آگے عید آئے گی اور عید کی وجہ سے گوشت زیادہ ہو گا، کھانے پینے میں ہر ایک کے وسعت آ جائے گی، فقراء کو بھی گوشت میسر آ جائے گا، تو لہٰذا چونکہ اس میں بھی بندوں کا نفع ہے جیسے عید الفطر کے اندر بندوں کا نفع تھا، جب عید الفطر میں دو مردوں کی گواہی یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی ضروری تو اسی طرح عید الاضحیٰ میں بھی ہو گا کیونکہ اس میں بھی بندوں کا نفع ہے اور وہ کھانے پینے کی وسعت ہو جانا قربانی کے گوشت کی وجہ سے۔ یہ معنی ہے اس لیے کیونکہ اس کے ساتھ بھی بندوں کے نفعے کا تعلق ہے، وَهُوَ التَّوَسُّعُ بِلُحُومِ الْأَضَاحِيِّ، اور وہ وسعت کا ہو جانا ہے قربانی کے گوشت سے۔
وَإِنْ لَمْ يَكُنْ بِالسَّمَاءِ عِلَّةٌ لَمْ تُقْبَلْ إِلَّا شَهَادَةُ جَمَاعَةٍ يَقَعُ الْعِلْمُ بِخَبَرِهِمْ كَمَا ذَكَرْنَا، اور بھئی عید کے معاملے میں اگر آسمان صاف ہو پھر کتنے آدمیوں کی گواہی ضروری؟ میں نے کیا بتلایا تھا؟ ایک بڑی جماعت کی گواہی ضروری ہے، وہی ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: وَإِنْ لَمْ يَكُنْ بِالسَّمَاءِ عِلَّةٌ، اور اگر آسمان میں کوئی عذر نہ ہو، لَمْ تُقْبَلْ، قبول نہیں کی جائے گی، إِلَّا شَهَادَةُ جَمَاعَةٍ، مگر ایک ایسی جماعت کی گواہی، يَقَعُ الْعِلْمُ بِخَبَرِهِمْ، کہ یقین حاصل ہو جائے ان کی خبر سے، كَمَا ذَكَرْنَا، جیسے ہم نے ذکر کر دیا۔
وَوَقْتُ الصَّوْمِ مِنْ حِينِ طُلُوعِ الْفَجْرِ الثَّانِي إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ، یہاں سے روزے کا وقت بیان کر رہے ہیں اور روزے کی تعریف کریں گے کہ روزہ کہتے کس کو ہیں شریعت میں۔ کہتے ہیں: وَوَقْتُ الصَّوْمِ مِنْ حِينِ طُلُوعِ الْفَجْرِ الثَّانِي إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ، اور روزے کا وقت جو ہے فجرِ ثانی کے طلوع کے وقت سے لے کر، فجرِ ثانی بھئی، فجرِ اول تو وہ صبحِ کاذب ہے، اس کا تو کوئی اعتبار نہیں جس میں روشنی ستون کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے اور پھر اس کے بعد کچھ اندھیرا چھاتا ہے اور پھر کچھ دیر بعد پھر روشنی افق پر پھیلی ہوئی ظاہر ہوتی ہے، چوڑائی کے اندر ظاہر ہوتی ہے، یہ ہے فجرِ صادق بھئی۔ تو یہ فجرِ صادق کے طلوع کے وقت سے لے کر إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ، سورج کے غروب ہونے کے وقت تک ہے، لِقَوْلِهِ تَعَالَى، اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے، اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: كُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ، کہ تم لوگ کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ ظاہر ہو جائے تمہارے لیے سفید دھاگہ، خَيْطٌ کسے کہتے ہیں؟ دھاگے کو، تاکہ ظاہر ہو جائے تمہارے لیے سفید دھاگہ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ، سیاہ دھاگے کے مقابلے میں۔ سیاہ دھاگے کے مقابلے میں تمہارے لیے سفید دھاگہ ظاہر ہو جائے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور آپ کو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ یہ جو سفید دھاگہ اور سیاہ دھاگہ ذکر کیا گیا اس سے مراد صبح کی سفیدی اور رات کی سیاہی اور تاریکی مراد ہے۔ تو سفید دھاگہ وہ صبح کی روشنی اور سفیدی اور سیاہ دھاگہ رات کی تاریکی۔ تو قرآن میں اللہ فرماتے ہیں تم لوگ کھاؤ اور پیو یعنی رمضان کی رات میں تم کھاؤ اور پیو، حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ، یہاں تک کہ تمہارے لیے ظاہر ہو جائے سفید دھاگہ یعنی صبح کی سفیدی یعنی کیا طلوع ہو جائے؟ فجرِ صادق، مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ، کس کے مقابلے میں؟ سیاہ دھاگے یعنی رات کی تاریکی۔ تو پہلے تو افق پر تاریکی رات کی چھائی ہوئی تھی اور پھر اس کے بعد کون کیا چیز ظاہر ہو گی؟ ہلکی سی سفیدی پھیلنا شروع ہو جائے گی، بس جب یہ سفیدی پھیلنے لگے یہ فجرِ صادق طلوع ہو گئی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ إِلَى أَنْ قَالَ، یہاں تک کہ اللہ نے فرمایا، یہ اب آخری حصہ آیت کا ذکر کر رہے ہیں: ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ، پھر تم پورا کرو روزے کو رات تک۔ دیکھو بتلا دیا، روزے کا آغاز کب سے ہوتا ہے؟ صبحِ صادق سے جیسے آیت میں آ گیا، اور کب تک رہتا ہے؟ رات تک، کیونکہ اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ، تو یہ دیکھیے وقت کے ہونے پر یہ دلیل ہے قرآن سے بھئی۔
وَالْخَيْطَانِ بَيَاضُ النَّهَارِ وَسَوَادُ اللَّيْلِ، اور دو دھاگے جو ہیں وہ، نہار کہتے ہیں دن کو، وہ دن کی سفیدی ہے یعنی وہ صبح کی سفیدی ہے، وَسَوَادُ اللَّيْلِ، اور رات کی سیاہی ہے۔
اب تعریف کر رہے ہیں روزہ کہتے کسے ہیں؟ کہتے ہیں: وَالصَّوْمُ هُوَ الْإِمْسَاكُ عَنِ الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ وَالْجِمَاعِ نَهَارًا مَعَ النِّيَّةِ، اور روزہ جو ہے وہ رکنا ہے۔ أَمْسَكَ يُمْسِكُ إِمْسَاكٌ کا کیا معنی؟ رکنا۔ وہ رکنا ہے عَنِ الْأَكْلِ، کھانے سے، وَالشُّرْبِ، اور پینے سے، وَالْجِمَاعِ، اور جماع سے یعنی صحبت سے، نَهَارًا، دن کے وقت میں، مَعَ النِّيَّةِ، ساتھ کس کے؟ نیت کے۔ دن کے وقت کھانے پینے اور صحبت سے رکنا ہے کیونکہ وقت بیان ہو گیا، فجرِ صادق سے لے کر غروبِ آفتاب تک، اور مَعَ النِّيَّةِ، ساتھ نیت کا ہونا بھی ضروری ہے تاکہ عادت اور عبادت میں فرق ہو جائے۔ ایک شخص ہے ویسے عادتاً نہیں کھاتا بھئی، مثلاً ڈائٹنگ کر رہا ہے بھئی، تو اب وہ عادتاً صبح سے لے کر شام تک نہیں کھاتا تو یہ تو اس کی عادت ہے بھئی، لہٰذا اس کو روزہ دار نہیں کہیں گے اور اس کے اس عمل کو روزہ نہیں کہیں گے بلکہ روزے کے اندر کیا ضروری ہے؟ وہ باقاعدہ نیت کرے کہ میں یہ کھانے سے کس لیے رکا ہوا ہوں؟ کھانے پینے اور صحبت سے اللہ کے لیے رکا ہوا ہوں، تو اس امساک کا اللہ کے لیے متعین کرنا بھی ضروری ہے، پھر ہی عبادت بنے گا۔ یہ معنی ہے: مَعَ النِّيَّةِ، ساتھ نیت کے، فِي الشَّرْعِ، شریعت میں، اصطلاحِ شریعت یعنی یہ جو روزے کی تعریف کی نا: وَالصَّوْمُ هُوَ الْإِمْسَاكُ عَنِ الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ وَالْجِمَاعِ نَهَارًا مَعَ النِّيَّةِ، یہ روزے کی تعریف ہے، یہ روزہ ہے فِي الشَّرْعِ، کس میں؟ شریعت میں یعنی اصطلاحِ شریعت میں یہ روزہ کہلاتا ہے۔ لغت میں نہیں، عربی زبان میں نہیں۔ عربی زبان میں میں نے آپ کو بتلا دیا تھا روزے کا معنی ہے امساک، رکنا، کسی بھی چیز سے رکنا تو وہ امساک وہ روزہ کہلائے گا۔ مثلاً کھانے پینے سے رکے یہ بھی امساک ہے، تھوڑی دیر کے لیے رکے، ایک گھنٹے کے لیے، تو یہ بھی کیا ہے؟ امساک یا صوم کہلائے گا عربی زبان کے اعتبار سے۔ آپ بات چیت سے بات چیت کرنے سے رک گئے، خاموش رہے ایک گھنٹہ، تو یہ بھی کیا کہلائے گا؟ یہ بھی دیکھیے اس میں امساک ہے، رکنا ہے، تو اس کو بھی عربی زبان کے اعتبار سے کیا کہیں گے؟ صوم کہیں گے، لیکن یہاں عربی زبان کی بات نہیں ہو رہی بلکہ شریعت کی بات ہو رہی ہے کہ شریعت میں روزہ کس کو کہتے ہیں؟ تو وہ تعریف انہوں نے متن میں کر دی۔
کہتے ہیں فِي الشَّرْعِ، یہ شریعت میں ہے، لِأَنَّ الصَّوْمَ فِي حَقِيقَةِ اللُّغَةِ هُوَ الْإِمْسَاكُ لِوُرُودِ الِاسْتِعْمَالِ فِيهِ، اس لیے کیونکہ روزہ جو ہے حقیقتِ لغت میں یعنی عربی زبان کے اندر هُوَ الْإِمْسَاكُ لِوُرُودِ الِاسْتِعْمَالِ فِيهِ، وہ رکنا ہے بوجہ استعمال کے وارد ہونے کے اس میں، کیونکہ عربی زبان میں یہ اسی اس کا یہی استعمال وارد ہوا ہے۔ عرب کیا کرتے ہیں؟ صوم کا لفظ کس معنی میں استعمال کرتے ہیں؟ رکنے کے معنی میں استعمال کرتے ہیں، تو معلوم ہوا اس کا معنی رکنے کے ہیں۔ إِلَّا أَنَّهُ زِيدَ عَلَيْهِ النِّيَّةُ فِي الشَّرْعِ، مگر یہ کہ اس پر زِيدَ عَلَيْهِ النِّيَّةُ، اس پر نیت کا اضافہ کر دیا گیا فِي الشَّرْعِ، شریعت میں۔ باقی معنی تو وہی، رکنا، شریعت میں بھی روزہ کس چیز کا نام ہے؟ رکنا کھانے پینے اور صحبت سے، البتہ ساتھ ایک زائد قید لگا دی شریعت نے اور وہ کیا؟ کہ رکنا کس کے ساتھ ہو؟ نیت کے ساتھ ہو۔ یہ معنی ہے: إِلَّا أَنَّهُ زِيدَ عَلَيْهِ النِّيَّةُ فِي الشَّرْعِ، مگر یہ کہ اس پر اضافہ کر دیا گیا نیت کا شریعت کے اندر، لِتَتَمَيَّزَ بِهَا الْعِبَادَةُ مِنَ الْعَادَةِ، تاکہ جدا ہو جائے اس کے ذریعے عبادت عادت سے۔
وَاخْتُصَّ بِالنَّهَارِ، اور روزہ خاص ہے نہار کے ساتھ۔ سمجھ میں آیا؟ دن میں ہونا چاہیے کیونکہ متن میں کیا قید آئی تھی؟ نَهَارًا مَعَ النِّيَّةِ، تو اس کا فائدہ بتلا رہے ہیں کہ یہ دن کی قید کیوں لگائی؟ کہتے ہیں: وَاخْتُصَّ بِالنَّهَارِ، اور روزہ خاص ہے دن کے ساتھ، لِمَا تَلَوْنَا، بوجہ اس آیت کے جو ہم نے تلاوت کر دی جس میں کیا بتلایا گیا تھا کہ کب سے کب تک ہے روزہ؟ فجرِ صادق سے لے کر غروبِ آفتاب تک، معلوم ہوا دن کے ساتھ یہ خاص ہے۔
اور دوسری دلیل بھئی عقلی دلیل: وَلِأَنَّهُ لَمَّا تَعَذَّرَ الْوِصَالُ كَانَ تَعْيِينُ النَّهَارِ أَوْلَى لِيَكُونَ عَلَى خِلَافِ الْعَادَةِ وَعَلَيْهِ مَبْنَى الْعِبَادَةِ۔ بھئی ایک تو نقلی دلیل ذکر کر دی کہ روزے کا اختصاص دن کے ساتھ ہے، دن میں روزہ ہو گا، رات میں روزہ نہیں ہو گا۔ اب آگے عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں، عقلی دلیل یہ ہے کہ دیکھیے یہ رمضان کے روزے فرض کیے گئے اور رمضان جو ہے رمضان، رمضان ایک پورے مہینے کا نام ہے اور اس پورے مہینے میں مسلسل کھائے پیے بغیر رہنا یہ تو ممکن نہیں۔ پورا مہینہ معلوم ہوا دن اور رات سارے ہی اس میں امساک پایا جائے یہ تو ممکن ہی نہیں۔ لہٰذا اس وجہ سے اس امساک کو دن کے ساتھ ہی متعین کرنا چاہیے کیونکہ انسان عموماً کھاتا پیتا کس وقت ہے؟ دن کے وقت کھاتا پیتا ہے تو لہٰذا دن کے وقت ہی رکنے کی شرط ہونی چاہیے تاکہ عادت سے فرق ہو جائے۔ عادت تو کیا تھی اس کی؟ دن کو کھاتا پیتا تھا، اب عبادت کیا لازم کی جائے؟ کہ دن کو نہ کھائے، کیونکہ عبادت جو ہے وہ عادت کے مخالف ہوا کرتی ہے۔ عبادت جو ہے عادت کے مخالف ہوا کرتی ہے۔ اگر ایک شخص کی عادت ہی ہے اور اسی پر اس اسی کو اس کی عبادت قرار دے دیا جائے تو کوئی اس کے لیے مشکل ہے؟ نہیں، وہ تو اس کی عادت ہے، وہ تو سلسلہ پہلے سے جاری تھا، تو عبادت ہوتی ہی وہ ہے جس کے اندر اس کی عادت کی مخالفت ہوتی ہے تاکہ پتہ چلے یہ اپنی عادت کو چھوڑ کر عبادت ادا کرتا ہے یا عبادت ادا نہیں کرتا، تو عبادت کی بنیاد ہی کس پر ہے؟ کہ وہ عادت کے مخالف ہونی چاہیے، اور عادت کیا ہے کھانے پینے کی؟ عموماً انسان کھاتا کس وقت ہے؟ دن کے وقت ہی کھاتا ہے بھئی، تو لہٰذا روزے کا اختصاص بھی کس کے ساتھ ہونا چاہیے؟ دن کے ساتھ ہونا چاہیے، دلیل سمجھ میں آ گئی۔
یہ معنی ہے: وَلِأَنَّهُ لَمَّا تَعَذَّرَ الْوِصَالُ، اور نیز اس لیے کیونکہ جب ممکن نہ رہا وصال، وصال وصل سے ہے، ملانا، یعنی مسلسل روزے کا ملانا یعنی مسلسل دن رات روزہ رکھنا اور کتنا عرصہ؟ پورا مہینہ، یہ تو ممکن نہیں ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: وَلِأَنَّهُ لَمَّا تَعَذَّرَ الْوِصَالُ، اور اس لیے کیونکہ جب وصال ممکن نہ رہا، كَانَ تَعْيِينُ النَّهَارِ أَوْلَى، تو دن کا متعین کرنا اولیٰ ہو گا، لِيَكُونَ عَلَى خِلَافِ الْعَادَةِ، تاکہ یہ عادت کے خلاف ہو جائے، وَعَلَيْهِ مَبْنَى الْعِبَادَةِ، اور اسی پر عبادت کی بنیاد ہے، کس پر؟ عادت کے خلاف ہونے پر عبادت کی بنیاد ہے۔
وَالطَّهَارَةُ عَنِ الْحَيْضِ وَالنِّفَاسِ شَرْطٌ لِتَحَقُّقِ الْأَدَاءِ فِي حَقِّ النِّسَاءِ، اور پاک ہونا حیض اور نفاس سے یہ شرط ہے ادا کے پائے جانے کے لیے فِي حَقِّ النِّسَاءِ، عورتوں کے حق میں۔ بھئی عورتیں جو ہیں عورتیں، ان پر روزے کا وجوب تو آئے گا لیکن وہ ادا نہیں کر سکتیں حیض اور نفاس کی حالت میں، تو بعد میں کیا کریں گی اس کی؟ قضا کریں گی۔ نماز کی قضا نہیں ہوتی کیونکہ نماز کی اگر قضا واجب کی جائے تو پھر تو عورت تنگی اور مشکل میں پڑ جائے گی، ہر مہینے چند ایام حیض کے ہیں اور پھر اس سے کہا جائے کہ ان دنوں کی نمازوں کی قضا بھی تمہیں پھر کرنا پڑے گی، تو ہر مہینے ہی وہ نمازیں بڑھتی جائیں گی اس پر بھئی، ہر مہینے دگنا دگنا نمازیں اس کو ادا کرنا پڑیں گی، ان ایک تو وقتی نمازیں ہوں گی اور ایک وہ قضا نمازیں، تو لہٰذا وہ مشکل میں پڑ جائے گی اور دین میں تو کوئی حرج اور تنگی نہیں ہے، حرج اور تنگی کو تو دور کیا گیا ہے، اس لیے ایامِ حیض اور نفاس کی نمازیں اس سے معاف ہیں بھئی، جبکہ روزے تو سال میں ایک ہی دفعہ آتے ہیں تو ان کی ادائیگی میں کوئی مشقت نہیں، اگر چار پانچ روزے چھوڑ بھی دیے ہیں وہ سال بھر میں کسی بھی وقت وہ قضا کر سکتی ہے۔ تو کہتے ہیں: وَالطَّهَارَةُ عَنِ الْحَيْضِ وَالنِّفَاسِ شَرْطٌ، اور حیض اور نفاس سے پاک ہونا یہ شرط ہو گا، لِتَحَقُّقِ الْأَدَاءِ، ادا کے پائے جانے کے لیے، فِي حَقِّ النِّسَاءِ، عورتوں کے حق میں۔
بَابُ مَا يُوجِبُ الْقَضَاءَ وَالْكَفَّارَةَ، یہ باب ہے اس چیز کے بیان میں جو قضا اور کفارہ واجب کرتی ہے۔ اس باب میں ان چیزوں کا بیان ہو گا جن کی وجہ سے قضا اور کفارہ آتا ہے بھئی۔ تو بعض صورتوں میں صرف قضا آئے گی روزے کی قضا، اور بعض صورتوں میں قضا کے ساتھ ساتھ کفارہ بھی آئے گا۔ اور یہ بات میں گزشتہ سبق میں بیان کر چکا ہوں کہ یہ کفارہ جو ہے کفارہ روزے کا، یہ صرف رمضان کا روزہ توڑنے کی صورت میں کفارہ آتا ہے، یہ رمضان کے روزے کی خصوصیت ہے اور کسی روزے کے توڑنے پر کفارہ نہیں ہے بھئی، کفارہ نہیں ہے۔ باقی سب روزوں میں سے اگر کوئی روزہ توڑ دیتا ہے اس میں صرف قضا کرنا پڑے گی۔ تو لہٰذا مثلاً اگر آپ نے نفلی روزہ رکھا ہوا ہے، نفلی روزہ، نفلی کی بات کر رہا ہوں، واجب کی وغیرہ نہیں، نفلی روزہ رکھا ہوا ہے اور آپ کو کوئی شخص، کوئی ساتھی آپ کا دعوت دیتا ہے کہ آئیے کھانا کھا لیجیے۔ تو اگر آپ کو پتہ ہے میں نہیں کھاؤں گا اس کی دل شکنی ہو گی، یہ محسوس کرے گا اس بات کو، تو وہ روزہ توڑ دینا چاہیے بھئی اور اس کے ساتھ انسان کھانے میں شریک ہو جائے اور پھر بعد میں کسی اور دن اس روزے کی قضا کر لے بھئی۔
کہتے ہیں: إِذَا أَكَلَ الصَّائِمُ أَوْ شَرِبَ أَوْ جَامَعَ نَاسِيًا لَمْ يُفْطِرْ، اور جب کھایا روزہ دار نے أَوْ شَرِبَ، یا پیا، أَوْ جَامَعَ، یا جماع کیا، نَاسِيًا، بھولے سے، یہ قید ضروری ہے بھئی۔ کھایا، پیا یا جماع کیا نَاسِيًا، بھولے سے یعنی اس کو روزہ یاد ہی نہیں تھا، لَمْ يُفْطِرْ، تو ان میں سے کسی چیز نے اس کا روزہ نہیں توڑا۔ أَفْطَرَ يُفْطِرُ، أَفْطَرَ الشَّيْءُ الصَّوْمَ، أَفْطَرَ الشَّيْءُ الصَّوْمَ، اس چیز نے روزے کو توڑ دیا، تو أَفْطَرَ کے کیا معنی ہیں؟ روزے کو توڑنا۔ تو یہاں بھی اسی طرح ترجمہ کیجیے: لَمْ يُفْطِرْ، یہ چیز اس کے روزے کو نہیں توڑے گی، یہ چیز اس کے روزے کو نہیں توڑے گی۔
وَالْقِيَاسُ أَنْ يُفْطِرَ، اور قیاس یہ ہے کہ یہ روزے کو توڑ دے بھئی، یہ روزے کو توڑ دے۔ بھئی قیاس تو کیا کہتا ہے؟ کھایا ہے، پیا ہے یا جماع کیا ہے اور روزہ تو نام ہی کس چیز کا تھا؟ ان چیزوں سے رکنے کا، تو جب کھایا ہے، پیا ہے، جماع کیا ہے تو روزہ ٹوٹ جانا چاہیے، لیکن کیا بتلایا صاحبِ قدوری نے آپ کو؟ کہ اس صورت میں روزہ نہیں ٹوٹے گا، وجہ اس کے آگے ذکر کریں گے۔ کہتے ہیں: وَالْقِيَاسُ أَنْ يُفْطِرَ، اور قیاس یہ ہے کہ روزہ توڑ دے، وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ رَحِمَهُ اللهُ، اور یہی قول ہے امام مالک رحمہ اللہ کا، وہ بھی قیاس کے مطابق فرماتے ہیں بھولے سے کھائے یا جان بوجھ کر کھائے، ہر صورت میں روزہ ٹوٹ جائے گا بھئی۔ لِوُجُودِ مَا يُضَادُّ الصَّوْمَ، اس وجہ سے کہ پائی گئی ہے وہ چیز جو روزے کی ضد ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ چیز پائی گئی جو روزے کی ضد ہے، روزہ تو کیا تھا؟ کھانے، پینے اور جماع سے رکنے کا نام تھا، تو کھانا، پینا اور جماع روزے کی ضد ہے اور دو ضدین جمع نہیں ہو سکتیں، یا تو روزہ ہو گا یا فطر ہو گا، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور یہاں جب کھانا، پینا پایا گیا تو فطر آ گیا، جب فطر آ گیا تو اب روزہ باقی نہیں رہ سکتا۔ یہ معنی ہے: وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ رَحِمَهُ اللهُ، اور یہی قول ہے امام مالک رحمہ اللہ کا، لِوُجُودِ مَا يُضَادُّ الصَّوْمَ، بوجہ پائے جانے اس چیز کے يُضَادُّ الصَّوْمَ، جو روزے کی ضد ہے۔
فَصَارَ كَالْكَلَامِ نَاسِيًا فِي الصَّلَاةِ، تو یہ اسی طرح ہو گیا جیسے کہ کلام کیا ہو بھول کر نماز میں۔ وہ فرماتے ہیں جیسے نماز کے اندر کوئی شخص بھولے سے کلام کر لے تو بالاتفاق اس کی نماز ٹوٹ جاتی ہے، تو اس کی نماز ٹوٹ جاتی ہے، اگرچہ اس نے بھولے سے کلام کیا ہے، کیونکہ کلام نماز کی ضد ہے، نماز کے اندر کلام سے منع کیا گیا ہے، سمجھ میں آیا؟ تو لہٰذا جیسے وہاں بھولے سے بھی کلام کر لیا جائے پھر بھی نماز ٹوٹ جاتی ہے تو یہاں روزے کے اندر اگر روزے کے اندر اگر بھولے سے بھی کھا پی لے گا تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ تو انہوں نے اس روزے کو قیاس کیا نماز پر، روزے کو نماز پر قیاس کیا۔ یہ معنی ہے: فَصَارَ كَالْكَلَامِ نَاسِيًا فِي الصَّلَاةِ، تو یہ ہو گیا جیسے کہ کلام ہو بھول کر فِي الصَّلَاةِ، نماز میں۔
وَوَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لِلَّذِي أَكَلَ وَشَرِبَ نَاسِيًا: ”تِمَّ عَلَى صَوْمِكَ فَإِنَّمَا أَطْعَمَكَ اللهُ وَسَقَاكَ“، اور استحسان کی وجہ، دیکھیے استحسان آتا ہے جگہ جگہ، میں نے بتلایا تھا استحسان کس دلیل کو کہتے ہیں؟ جس کے مقابلے میں قیاس ہو، تو دیکھو یہاں قیاس تو یہ تقاضا کر رہا تھا روزہ ٹوٹنا چاہیے لیکن خلافُ القیاس کیا حکم دیا گیا؟ روزہ نہیں ٹوٹے گا تو یہ کیا کہلائے گا؟ استحسان۔ اب اس کی وجہ بھی ذکر کر رہے ہیں: وَوَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ، اور استحسان کی وجہ جو ہے، قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، وہ حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے، لِلَّذِي أَكَلَ وَشَرِبَ نَاسِيًا، جو آپ نے اس شخص سے فرمایا جس نے بھول کر کھایا اور پیا تھا، اس سے حضور علیہ السلام نے یہ قول فرمایا: ”تِمَّ عَلَى صَوْمِكَ فَإِنَّمَا أَطْعَمَكَ اللهُ وَسَقَاكَ“، تِمَّ عَلَى صَوْمِكَ، بھئی ایک صحابی آئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس: یا رسول اللہ! میں نے تو رمضان کے اندر روزے کی حالت میں بھولے سے کھا پی لیا ہے۔ تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے: ”تِمَّ عَلَى صَوْمِكَ“، تم اپنا روزہ پورا کرو، ”فَإِنَّمَا أَطْعَمَكَ اللهُ وَسَقَاكَ“، پس تمہیں اللہ نے کھلایا ہے اور پلایا ہے۔ کس نے کھلایا ہے؟ اللہ نے کھلایا ہے اور پلایا ہے۔ تو روزے کے اندر اگر انسان بھولے سے کھا پی لیتا ہے یا اسی طرح اگر بالکل بھول گیا اور بیوی سے صحبت بھی کر لی تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو یہ جو اس کو اس نے کھایا پیا یہ اس کو اللہ نے کھلایا پلایا ہے، اسی لیے علماء فرماتے ہیں اگر کوئی روزے میں ہے اور بھولے سے کھا پی رہا ہے اس کو یاد نہیں کروانا چاہیے بھئی، سمجھ میں آیا؟ یہ اس کو اللہ کھلا پلا رہے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَإِنَّمَا أَطْعَمَكَ اللهُ وَسَقَاكَ“، کہ تمہیں تو اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے۔
وَإِذَا ثَبَتَ هَذَا فِي حَقِّ الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ ثَبَتَ فِي الْوِقَاعِ لِلِاسْتِوَاءِ فِي الرُّكْنِيَّةِ، اور جب یہ بات ثابت ہو گئی کھانے اور پینے کے حق میں، بھئی متن میں آیا تھا نا کھانے، پینے اور بھولے سے جماع کرنے تینوں صورتوں میں روزہ نہیں ٹوٹے گا اور حدیث میں تو صرف کس کا ذکر آیا؟ صرف کھانے اور پینے کا ذکر آیا، تو پھر یہ جماع آپ نے کہاں سے اضافہ کر دیا؟ جماع۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں، کہتے ہیں: وَإِذَا ثَبَتَ هَذَا فِي حَقِّ الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ، اور جب یہ حکم ثابت ہو گیا کھانے اور پینے کے حق میں، ثَبَتَ فِي الْوِقَاعِ، تو جماع میں بھی یہی حکم ثابت ہو جائے گا۔ کس میں؟ جماع میں بھی، لِلِاسْتِوَاءِ فِي الرُّكْنِيَّةِ، بوجہ برابر ہونے کے رکن ہونے کے اندر، کیونکہ یہ یہ تینوں چیزیں روزے کا رکن ہونے میں یعنی روزے کے رکن کا متعلق ہونے میں یہ تینوں چیزیں برابر ہیں۔ روزے کے رکن کا تعلق تینوں چیزوں سے برابر ہے، جیسے کھانے سے رکنا ضروری، جیسے پینے سے رکنا ضروری، اسی طرح صحبت سے بھی رکنا ضروری، تو تینوں کا تعلق روزے کے رکن کے ساتھ برابر درجے کا ہے۔ تو جب دو کے حق میں ایک بات حدیث سے ثابت ہو گئی تو دلالۃ النص کے ذریعے تیسرے کے بھی خود بخود اس کے حق میں بھی یہی حکم ثابت ہو جائے گا کیونکہ تینوں برابر ہیں، تینوں روزے کے رکن سے متعلق ہونے میں یہ تینوں برابر ہیں۔ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو ہم نے یہ حکم جو ثابت کیا، کس کے بارے میں؟ جماع کے بارے میں کہ بھولے سے جماع کیا تو اس سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا، یہ ہم نے قیاس کے ذریعے نہیں ثابت کیا کیونکہ قیاس یہاں چل ہی نہیں سکتا، کیونکہ حدیث میں سے جو ثابت ہوا کہ کھانے اور پینے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا بھولے سے اگر کھایا پیا ہو تو یہ حکم قیاس کے مطابق تھا یا خلافُ القیاس تھا؟ یہ تو خلافُ القیاس تھا، امام مالک رحمہ اللہ اسی لیے تو فرماتے تھے کہ روزہ ٹوٹ جائے گا، تو یہ حکم خلافُ القیاس تھا اور جو حکم خلافُ القیاس ہو اس پر کسی دوسرے کو قیاس نہیں کیا جا سکتا، وہ اپنے مورد پر بند رہتا ہے، لہٰذا اشکال ہوتا ہے کہ اے احناف! آپ نے جماع کو کیسے اس کے ساتھ ملا دیا؟ تو جواب میں نے ذکر کر دیا کہ ہم نے قیاس کے ذریعے یہ حکم ثابت نہیں کیا بلکہ کس کے ذریعے کیا ہے؟ دلالۃ النص کے ذریعے کیا ہے۔ جب نص میں جب تین چیزیں بالکل برابر ہیں، دو کے بارے میں نص میں ذکر آ گیا تو تیسری کے لیے بھی خود بخود وہی حکم، کیونکہ تینوں برابر ہیں، تینوں روزے کے رکن سے متعلق ہونے میں یہ تینوں برابر ہیں، صورت سمجھ میں آ گئی۔ ہاں فرق ہوتا تو پھر الگ بات تھی لیکن تینوں برابر ہیں، تینوں سے رکنا ضروری ہے، صبحِ صادق سے لے کر غروبِ آفتاب تک۔
یہ معنی ہے: وَإِذَا ثَبَتَ هَذَا فِي حَقِّ الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ ثَبَتَ فِي الْوِقَاعِ لِلِاسْتِوَاءِ فِي الرُّكْنِيَّةِ، اور جب یہ بات ثابت ہو گئی کھانے اور پینے کے حق میں تو ثابت ہو جائے گی جماع کے حق میں بھی بوجہ برابر ہونے رکن ہونے میں۔
بِخِلَافِ الصَّلَاةِ، یہاں سے امام مالک رحمہ اللہ کے قیاس کا جواب دے رہے ہیں کہ آپ نے روزے کو کس پر قیاس کیا تھا؟ نماز پر قیاس کیا تھا، ہم کہتے ہیں نہیں، روزے کو نماز پر قیاس نہیں کیا جا سکتا کیونکہ دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔ نماز کے اندر انسان وہ کھڑا ہوتا ہے، قبلہ رخ تکبیرِ تحریمہ کہتا ہے، قرات پڑھتا ہے، رکوع کرتا ہے، سجدے کرتا ہے، تشہد پڑھتا ہے، تو نماز میں باقاعدہ اعمال کرنے پڑتے ہیں تو نماز کی حالت انسان کو یاد کرواتی رہتی ہے کہ وہ کس حالت میں ہے اس وقت؟ نماز کی حالت میں ہے، جبکہ روزے کے اندر کوئی چیز ایسی نہیں ہے، روزے میں تو کوئی عمل نہیں کرنا پڑتا، صرف کھانے پینے اور جماع سے رکنا پڑتا ہے، تو روزہ باطنی چیز ہے، ظاہر میں اس میں کچھ بھی عمل نہیں کرنا پڑتا، وہاں کوئی چیز یاد کروانے والی نہیں ہوتی تو انسان بھول جاتا ہے۔ اور نماز کے اندر تو وہ باقاعدہ کیا کر رہا ہے؟ اعمال میں مشغول ہے تو یہ نماز اس کو خود بخود یہ اعمال اس کو یاد کرواتے رہتے ہیں، اس کو یاد رہتا ہے کہ میں اس وقت کیا کر رہا ہوں؟ نماز پڑھ رہا ہوں۔ لہٰذا نماز کی حالت میں بھولنا بہت قلیل ہو گا، اس میں بھولا نہیں جا سکتا، جبکہ روزے کے اندر بھولنا زیادہ ہو گا کیونکہ وہاں کوئی چیز یاد کروانے والی نہیں ہے بھئی۔
یہ معنی ہے: بِخِلَافِ الصَّلَاةِ، بخلاف نماز کے، لِأَنَّ هَيْئَةَ الصَّلَاةِ مُذَكِّرَةٌ فَلَا يَغْلِبُ النِّسْيَانُ، اس بخلاف نماز کے اس لیے کیونکہ نماز کی حالت جو ہے وہ یاد کروانے والی ہے، فَلَا يَغْلِبُ النِّسْيَانُ، نسیان کہتے ہیں بھولنا، بھولنا، فَلَا يَغْلِبُ النِّسْيَانُ، تو بھولنا اس پر غالب نہیں ہو گا۔ جب نماز کی حالت اور نماز میں اعمال مسلسل کرتا جا رہا ہے تو یہ اعمال اور یہ نماز کی یہ حالت اس پر نسیان کو غالب نہیں ہونے دے گی۔ وَلَا مُذَكِّرَ فِي الصَّوْمِ، اور روزے میں کوئی چیز یاد کروانے والی نہیں ہے، فَيَغْلِبُ، تو نسیان اس پر غالب ہو جائے گا۔
وَلَا فَرْقَ بَيْنَ الْفَرْضِ وَالنَّفْلِ لِأَنَّ النَّصَّ لَمْ يَفْصِلْ، اور کوئی فرق نہیں ہے فرض اور نفل روزے کے اندر اس لیے کیونکہ نص نے کوئی فرق نہیں کیا۔ بھئی جس طرح فرض روزے کے اندر کھانے، پینے اور جماع سے بھولے سے کیا ہے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا، اسی طرح حکم کس کا ہے؟ نفل کا بھی ہے یعنی دونوں کا یہی حکم ہے۔ اس لیے کیونکہ حدیث میں جو آیا تھا: ”تِمَّ عَلَى صَوْمِكَ فَإِنَّمَا أَطْعَمَكَ اللهُ وَسَقَاكَ“، وہاں کوئی فرض یا نفلی روزے کی قید موجود نہیں کہ نفلی روزہ ہو تو یہ حکم ہے، نفلی نہ ہو یا فرض روزہ ہو تو یہ حکم نہیں ہے، تو وہاں کوئی تفصیل نہیں تو یہ حکم مطلق ہوا، عام ہوا، دونوں کو شامل ہو گا۔ یہ معنی ہے: وَلَا فَرْقَ بَيْنَ الْفَرْضِ وَالنَّفْلِ، اور کوئی فرق نہیں ہے فرض اور نفل روزے میں، لِأَنَّ النَّصَّ لَمْ يَفْصِلْ، اس لیے کیونکہ نص نے کوئی فرق نہیں کیا، کوئی جدائی نہیں کی۔
وَلَوْ كَانَ مُخْطِئًا أَوْ مُكْرَهًا فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ، اور اگر وہ شخص خطا کرنے والا ہوا، غلطی کرنے والا ہوا، وہ جو کھانے والا ہے وہ کیا ہے؟ غلطی کرنے والا ہے یعنی غلطی سے کوئی چیز کھا پی لی۔ بھئی ایک ہے بھولنا اور ایک ہے غلطی۔ فرق دونوں میں یہ کہ بھولنے کی صورت میں انسان کا ارادہ ہو گا اور روزہ اس کو یاد نہیں ہو گا۔ آپ کو روزہ بھول گیا اب آپ کھا پی رہے ہیں، تو یہ کھا پی آپ ارادے کے ساتھ رہے ہیں یا بغیر ارادے کے؟ باقاعدہ ارادے کے ساتھ کھا پی رہے ہیں، لیکن روزہ آپ کو اس وقت یاد نہیں ہے۔ جبکہ خطا کے اندر روزہ یاد ہوتا ہے اور اس فعل کا ارادہ نہیں ہوتا۔ پہلی صورت میں؟ روزہ یاد نہیں تھا اور اس عمل میں اس کھانے پینے کا باقاعدہ ارادہ تھا، اور اب خطا کے اندر؟ خطا کے اندر روزہ یاد ہے، وہاں روزہ یاد نہیں تھا یہاں روزہ یاد ہے۔ وہاں کھانے پینے کا ارادہ تھا یہاں کھانے پینے کا ارادہ نہیں۔ تو یہاں روزہ یاد ہو گا اور کھانے پینے کا ارادہ نہیں ہو گا۔ مثلاً ایک شخص وضو کر رہا ہے اور کلی کرنے لگا، اب روزہ یاد ہے اس کو، لیکن کلی کرتے کرتے اچانک تھوڑا سا پانی حلق سے اتر گیا۔ اب دیکھیے اس کا ارادہ تھا اس پانی کو پینے کا؟ نہیں، تو یہ ہے خطا جس میں پینے کا ارادہ تو نہیں اور روزہ یاد ہے، یہ ہے خطا۔ تو اگر کوئی شخص خطا کرنے والا ہے یعنی غلطی کرنے والا ہے، أَوْ مُكْرَهًا، مکَرہ جس پر زبردستی کی گئی بھئی، مثلاً دوسرے شخص نے تلوار نکالی کہ وہ مکَرہ جس پر زبردستی کی گئی وہ ہے مکرَہ، اور جو زبردستی کرنے والا ہے وہ ہے مکْرِہٌ، مکْرِہٌ اسمِ فاعل کا صیغہ، تو مکْرِہ نے تلوار نکالی اور مکرَہ روزہ دار تھا، اس سے کہا کہ یہ پانی پیو، اسے پتہ تھا یہ روزہ دار ہے، اب وہ کیا کر رہا ہے؟ اس کا روزہ تڑوا رہا ہے، یہ پانی پیو نہیں تو میں تمہارا ہاتھ کاٹتا ہوں یا تمہاری گردن اڑاتا ہوں، تو اس نے اس خوف کی وجہ سے یہ پانی پی لیا، یہ پانی پی لیا۔ تو کیا اس صورت میں اس کا روزہ ٹوٹے گا یا روزہ نہیں ٹوٹے گا؟ تو آپ کو بتلائیں گے متن میں کہ بھئی روزہ ٹوٹ گیا چاہے وہ غلطی سے پانی حلق سے اترا ہے، چاہے اکراہ کی صورت میں اس نے کچھ کھایا پیا ہے، اس کا روزہ ٹوٹ گیا اور اس کو بعد میں قضا کرنا پڑے گی۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، جیسے بھولنے والے کا روزہ نہیں ٹوٹتا تھا اسی طرح مخطی جو خطا کرنے والا ہے اس کا بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا، جو مکرَہ ہے جس پہ زبردستی کی گئی اس کا روزہ بھی نہیں ٹوٹے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: وَلَوْ كَانَ مُخْطِئًا أَوْ مُكْرَهًا فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ، اور اگر وہ شخص جو ہے غلطی کرنے والا ہے یا اس پر زبردستی کی گئی ہے، فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ، تو اس پر قضا واجب ہے، خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ، بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے، فَإِنَّهُ يَعْتَبِرُهُ بِالنَّاسِي، پس بیشک وہ جو ہیں اس کو قیاس کرتے ہیں، اس مخطی اور مکرہ کو قیاس کرتے ہیں بِالنَّاسِي، بھولنے والے پر، اور بھولنے والے کا تو روزہ نہیں ٹوٹتا تھا تو ان کا بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا۔
وَلَنَا، اور ہماری دلیل یہ ہے: أَنَّهُ لَا يَغْلِبُ وُجُودُهُ وَعُذْرُ النِّسْيَانِ غَالِبٌ، ہم کہتے ہیں کہ یہ جو غلطی اور اکراہ ہے ان کا وجود غالب نہیں ہے، یہ زیادہ نہیں پائے جاتے، یہ تو کبھی کبھار ہی یہ صورت پیش آئے گی، یہ غلطی والی اور اکراہ والی، وَعُذْرُ النِّسْيَانِ غَالِبٌ، اور بھولنے کا عذر تو غالب ہے، وہ تو اکثر پیش آتا رہتا ہے، اور جو چیز اکثر پیش آئے وہ شریعت کے اس کے حکم میں کیا کر دیتی ہے؟ تخفیف کر دیتی ہے، اور جو چیز کبھی کبھار پیش آئے وہ اس کی طرح نہیں ہے بھئی۔ لہٰذا ہم کہتے ہیں یہ خطا کرنے والا یا یہ مکرہ جو ہیں ان کا روزہ ٹوٹ جائے گا کیونکہ یہ کبھی کبھار ہی یہ صورت پیش آتی ہے جبکہ نسیان تو کثرت سے پیش آتا ہے اور کثرت کس چیز کا تقاضا کرتی ہے کہ حکم میں نرمی کی جائے، تخفیف کی جائے۔ تو ہماری دلیل یہ ہے کہ أَنَّهُ لَا يَغْلِبُ وُجُودُهُ، کہ ان کا وجود جو ہے غالب نہیں ہوتا یعنی زیادہ یہ نہیں پائے جاتے، وَعُذْرُ النِّسْيَانِ غَالِبٌ، اور نسیان کا عذر تو غالب ہوتا ہے۔
وَلِأَنَّ النِّسْيَانَ، دوسری دلیل ذکر کر رہے ہیں، ہم کہتے ہیں اس لیے کیونکہ نسیان اللہ کی طرف سے ہے۔ نسیان، بھلانا کس کی طرف سے ہے؟ اللہ، اور یہ روزہ ہم کس کے لیے رکھتے ہیں؟ اللہ کے لیے۔ تو نسیان اس ذات کی طرف سے ہے جس کا یہ روزہ، جس کا حق ہے۔ تو صاحبِ حق کی طرف سے ایک چیز آئے وہ اور ہو گی اور یہ اکراہ یا غلطی یہ کس کی طرف سے ہے؟ یہ بندے کی طرف سے ہے، تو ایک چیز ہے صاحبِ حق کی طرف سے، ایک چیز ہے غیر کی طرف سے، تو دونوں کا ایک حکم نہیں ہو سکتا بھئی۔ وَلِأَنَّ النِّسْيَانَ مِنْ قِبَلِ مَنْ لَهُ الْحَقُّ، اور اس لیے کیونکہ بھولنا جو ہے اس ذات کی طرف سے ہے جس کا یہ حق ہے، وَالْإِكْرَاهَ مِنْ قِبَلِ غَيْرِهِ، اور اکراہ اس کے علاوہ کی طرف سے ہے، فَيَفْتَرِقَانِ، تو دونوں جدا ہو گئے، دونوں جدا ہو گئے یعنی دونوں میں فرق ثابت ہو گیا کیونکہ ایک چیز صاحبِ حق کی طرف سے ہے، ایک غیر کی طرف سے۔
كَالْمُقَيَّدِ وَالْمَرِيضِ فِي قَضَاءِ الصَّلَاةِ، جیسے کہ مقید ہے اور مریض ہے نماز کی قضا کے مسئلے میں۔ بھئی مقید، مقید جس کو بیڑیوں میں جکڑ دیا گیا ہے، زنجیروں سے باندھ دیا گیا ہے۔ ایک آدمی ہے اس کو کسی نے زنجیروں سے باندھ دیا ہے اور اس وجہ سے اب وہ کھڑا نہیں ہو سکتا تو اس نے بیٹھ کر نماز ادا کر لی، کیا کر لی؟ بیٹھ کر نماز ادا کر لی یا اشارے سے نماز ادا کر لی، تو یاد رکھیے یہ مسئلہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں تو یہ عذر کس کی طرف سے آیا؟ بندوں کی طرف سے پیش آیا ہے لہٰذا ابھی تو اس نے نماز پڑھ لی لیکن بعد میں بھی اس کو پھر قضا کرنا پڑے گی، بعد میں بھی کیا کرنا پڑے گی؟ قضا کرنا پڑے گی، جبکہ اس کے مقابلے میں مریض ہے وہ بیمار ہے اس وجہ سے بیٹھ کر پڑھتا ہے یا اس وجہ سے وہ لیٹ کر اشارے سے پڑھتا ہے تو اس کے ذمے قضا نہیں کیونکہ مریض کا جو عذر ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور وہ قید اور بیڑیوں اور زنجیروں کا عذر کس کی طرف سے تھا؟ بندوں کی طرف سے، تو جو عذر بندوں کی طرف سے آیا ہے اس میں کیا کرنا پڑے گی؟ قضا کرنا پڑے گی اور جو عذر صاحبِ حق یعنی اللہ کی طرف سے آیا ہے اس میں قضا نہیں کرنا پڑے گی۔ یہ معنی ہے كَالْمُقَيَّدِ وَالْمَرِيضِ فِي قَضَاءِ الصَّلَاةِ، جیسے کہ بیڑیوں میں جکڑا ہوا شخص اور مریض ہیں نماز کی قضا کے مسئلے میں۔ چلیے بس! هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔