Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-100

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 78
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
قَالَ: ”وَمَنْ وَجَبَ عَلَيْهِ مُسِنٌّ فَلَمْ يُوجَدْ أَخَذَ الْمُصَدِّقُ أَعْلَى مِنْهَا وَرَدَّ الْفَضْلَ أَوْ أَخَذَ دُونَهَا وَأَخَذَ الْفَضْلَ“، ”وَهَذَا يَبْتَنِي عَلَى أَنَّ أَخْذَ الْقِيمَةِ فِي بَابِ الزَّكَاةِ جَائِزٌ عِنْدَنَا عَلَى مَا نَذْكُرُهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى“. اچھا بھئی! مختلف سائمی جانوروں کا نصاب بیان ہو گیا، اونٹوں کا بھی، گائے بیل کا بھی، بھیڑ بکریوں کا بھی اور اسی طرح گھوڑوں کا بھی اور نیز یہ مسئلہ بھی ذکر ہو گیا کہ ان کے بچوں میں کچھ واجب ہے یا واجب نہیں ہے۔ اب یاد رکھیے بھئی! یہ آگے آپ کو بتلائیں گے، اسی صفحے کے آخر میں آئے گا، وہاں آپ کو بتلائیں گے کہ زکوٰۃ کے اندر متوسط درجے کا مال لیا جاتا ہے۔ زکوٰۃ میں متوسط درجے کا مال لیا جاتا ہے، نہ بہت اعلیٰ اور نہ بہت ردی، متوسط درجے کا۔ تو اب مسئلہ یہ ہے کہ مثلاً زکوٰۃ وصول کرنے والا خلیفہ کی طرف سے جو آدمی مقرر تھا وہ آیا، اور مثلاً وہ جو مالک ہے جانوروں کا اس پر زکوٰۃ میں ایک بنت لبون واجب ہو رہا ہے، یا مثلاً اس پر ایک حقہ واجب ہو رہا ہے، لیکن یہ جانور جو واجب ہو رہا ہے یہ والا اس کے پاس نہیں ہے، اس سے اعلیٰ جانور موجود ہے، مثلاً حقہ واجب ہو رہا ہے لیکن اس کے پاس حقہ نہیں بلکہ جذعہ ہے بھئی۔ یا اس سے ادنیٰ جانور موجود ہے، مثلاً واجب حقہ ہو رہا ہے لیکن اس کے پاس بنت لبون موجود ہے، حقہ موجود نہیں۔ تو اس صورت میں کیا کیا جائے گا؟ یا اسی طرح، یا اسی طرح واجب تو اس پر حقہ ہو رہا ہے اور حقہ متوسط درجے کا حقہ لیا جائے گا، نہ بہت ادنیٰ حقہ اور نہ بہت اعلیٰ، تو اس کے پاس مثلاً اعلیٰ حقہ موجود ہے، خوب موٹا تازہ اور صحت مند جس کی قیمت متوسط حقے سے زیادہ ہے، یا بڑا ہی لاغر حقہ موجود ہے جس کی قیمت متوسط حقے سے کم ہے، تو اس صورت میں کیا کیا جائے گا؟ تو آپ کو بتلائیں گے صاحب قدوری کہ جو جانور واجب ہوا ہے اگر وہ زکوٰۃ دینے والے کے پاس وہ جانور نہیں، تو زکوٰۃ وصول کرنے والا اس سے اعلیٰ جانور لے لے اور جو زائد قیمت بنتی ہے وہ اس کو واپس کر دے۔ مثلاً وہ واجب کیا ہوا؟ حقہ، اور اس کے پاس تو حقہ نہیں تو پھر اس سے کیا لے لے؟ جذعہ لے لے، اور جو حقے اور جذعے کی قیمت میں فرق ہے وہ واپس کر دے۔ مثلاً حقہ ہے دس ہزار کا اور جذعہ ہے پندرہ ہزار کا، اس کے پاس حقہ نہیں ہے تو جذعہ لے لے اور جذعہ کتنے کا؟ پندرہ ہزار کا، تو یہ پانچ ہزار اس کو واپس کر دے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ یا دوسری صورت یہ ہے کہ اس کے پاس اگر کم درجے والا جانور ہے، مثلاً واجب حقہ ہوا اور اس کے پاس بنت لبون ہے۔ اب حقہ تو دس ہزار کا ہے متوسط درجے کا اور بنت لبون فرض کیجیے سات ہزار کا ہے، تو اس صورت میں اس سے بنت لبون کے ساتھ ساتھ تین ہزار مزید لے لے، تین ہزار روپے مزید لے لے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی۔ تو یہی ذکر کر رہے ہیں: کہتے ہیں: ”وَمَنْ وَجَبَ عَلَيْهِ مُسِنٌّ“ اور وہ شخص جس پر مسنہ واجب ہوا ”فَلَمْ يُوجَدْ“ پس وہ نہیں پایا گیا، نہیں ملا ”أَخَذَ الْمُصَدِّقُ أَعْلَى مِنْهَا“ مصدق وہ زکوٰۃ لینے والا، تو لے لے زکوٰۃ لینے والا ”أَعْلَى مِنْهَا“ اس مسن سے اعلیٰ جانور لے لے ”وَرَدَّ الْفَضْلَ“ اور زائد قیمت لوٹا دے، واپس کر دے۔ ”أَوْ أَخَذَ دُونَهَا“ یا اس سے کم درجے کا جانور لے لے، یعنی واجب تو مسن ہوا ہے لیکن اس کے پاس وہ نہیں، اس سے کم درجے والا ہے تو وہ اس سے لے لے ”وَأَخَذَ الْفَضْلَ“ اور ساتھ جو زائد ہے وہ بھی اس سے لے لے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جیسے بنت لبون لیا ہے اور واجب تو حقہ تھا، تو بنت لبون کے ساتھ زائد تین ہزار روپے بھی لے لے گا بھئی۔ آگے صاحب ہدایہ بتلا رہے ہیں: ”وَهَذَا يَبْتَنِي عَلَى أَنَّ أَخْذَ الْقِيمَةِ فِي بَابِ الزَّكَاةِ جَائِزٌ عِنْدَنَا“ کہ اس مسئلے کی بنیاد اس بات پر ہے کہ قیمت لینا زکوٰۃ کے باب میں ہمارے نزدیک جائز ہے۔ وہ جانور وغیرہ یا جو چیز واجب ہوئی ہے اس کے بجائے اگر کوئی شخص اس کی قیمت دینا چاہے تو ہمارے نزدیک یہ جائز ہے، تو اس پر اس مسئلے کی بنیاد ہے۔ ”عَلَى مَا نَذْكُرُهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ“ بوجہ اس کے جو ہم آگے ذکر کریں گے۔ تو ہمارے نزدیک قیمت لینا جائز ہے، اور قیمت دینا کیوں جائز ہے اس کی کیا وجہ ہے، وہ بھی آگے وہ ذکر کریں گے بھئی۔ ”إِلَّا أَنَّ فِي الْوَجْهِ الْأَوَّلِ لَهُ أَنْ لَا يَأْخُذَ وَيُطَالِبَهُ بِعَيْنِ الْوَاجِبِ أَوْ بِقِيمَتِهِ لِأَنَّهُ شِرَاءٌ، وَفِي الْوَجْهِ الثَّانِي يُجْبَرُ لِأَنَّهُ لَا بَيْعَ فِيهِ بَلْ هُوَ إِعْطَاءٌ بِالْقِيمَةِ“. تو صاحب ہدایہ فرما رہے ہیں کہ اعلیٰ جانور لے کر جو زائد ہے وہ اس کو لوٹا دے یا ادنیٰ لے کر اس کے ساتھ جو زائد قیمت بنتی ہے وہ بھی ساتھ لے لے۔ البتہ، صاحب ہدایہ فرماتے ہیں: البتہ پہلی صورت میں جب اعلیٰ جانور لے رہا ہے اور پھر اس کو کیا واپس کرتا ہے؟ جو زائد پیسے بنتے ہیں وہ اس کو واپس کرتا ہے، اس صورت کے اندر صدقہ لینے والے کو مجبور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اعلیٰ لے لے اور بقیہ قیمت واپس لوٹا دے۔ مثلاً واجب کیا ہوا تھا؟ حقہ، اور حقہ تو نہیں، اس کے پاس کون سا مال ہے؟ جذعہ۔ تو جذعہ اس کو دے گا زکوٰۃ وصول کرنے والے کو اور جذعہ تھا پندرہ ہزار کا، تو کتنے ہزار واپس لے لے گا اس سے؟ پانچ ہزار۔ تو اس صورت میں زکوٰۃ وصول کرنے والے کو اس بات پر مجبور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ جذعہ لے لے اور پانچ ہزار اس میں سے واپس کر دے، اس لیے کیونکہ جو پانچ ہزار وہ واپس کر رہا ہے گویا اس نے جذعے کا ایک حصہ اس سے خرید لیا ہے۔ زکوٰۃ وصول کرنے والے نے کچھ حصہ، جس کے پیسے دے رہا ہے وہ حصہ اس نے اس سے خرید لیا ہے، تو یہ شراء ہوئی، خریدنا ہوا اور خرید کے اندر کسی کو اس پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، شراء پر کسی کو مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ تو یہاں چونکہ شراء کی صورت بن رہی ہے، اعلیٰ لے گا اور باقی کی قیمت واپس کرے گا، اور شراء کے اندر کسی کو مجبور نہیں کیا جا سکتا لہٰذا اعلیٰ لینے پر ہی اور قیمت لوٹانے پر ہی صدقہ وصول کرنے والے کو مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ ہاں دوسری صورت میں اگر ادنیٰ جانور دے رہا ہے اور ساتھ زائد قیمت بھی دے رہا ہے، مثلاً واجب تو ہوا تھا حقہ اور اس کے پاس حقہ ہے نہیں، کون سا جانور ہے؟ بنت لبون ہے وہ دے رہا ہے، اور حقہ تھا دس ہزار کا، بنت لبون ہے سات ہزار کا، تو وہ ایک بنت لبون اور ساتھ اس کے تین ہزار روپے دے دیتا ہے۔ تو اس صورت میں زکوٰۃ لینے والے کو مجبور کیا جائے گا کہ یہی تمہیں لینا پڑے گا جبکہ مالک یہ دے رہا ہو۔ وجہ اس کی یہ کہ یہاں پر واجب تو اس پر حقہ ہے، حقے کے بدلے میں وہ دے رہا ہے بنت لبون اور کچھ زائد رقم، تو یہ گویا حقے کی قیمت دے رہا ہے۔ یہ سارا مال کیا ہے؟ حقے کی، وہ حقہ تو دے ہی نہیں رہا، حقہ تو واجب ہوا لیکن حقے کے بجائے وہ کیا دے رہا ہے؟ اس کی قیمت دے رہا ہے، اور ہمارے نزدیک قیمت دے سکتا ہے یا نہیں ادائے زکوٰۃ کے اندر؟ قیمت دے سکتا ہے، تو جب قیمت دے سکتا ہے تو لہٰذا صدقہ لینے والے کو بھی مجبور کیا جا سکتا ہے اس میں کہ تمہیں یہی لینا پڑے گا بھئی۔ یہ اب وہ، یعنی وہ یہاں پر یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے حقہ ہی لا کر دو۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: ”إِلَّا أَنَّ فِي الْوَجْهِ الْأَوَّلِ“ مگر یہ کہ پہلی صورت میں، یعنی جب اعلیٰ لیتا ہے اور زائد قیمت واپس کرتا ہے اس صورت میں ”لَهُ أَنْ لَا يَأْخُذَ“ وہ مصدق جو ہے، زکوٰۃ لینے والا جو ہے اس کو اختیار ہے ”أَنْ لَا يَأْخُذَ“ کہ وہ نہ لے ”وَيُطَالِبَهُ بِعَيْنِ الْوَاجِبِ“ اور مطالبہ کرے عین واجب کا کہ مجھے حقہ ہی دو، میں جذعہ نہیں لوں گا ”أَوْ بِقِيمَتِهِ“ یا اس حقے کی مجھے قیمت دو، تو یہ اس کو اختیار ہے زکوٰۃ وصول کرنے والے کو کہ وہ عین واجب یا قیمت کا مطالبہ کرے، تو اس کو مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ تو اس کو اختیار ہے، کیوں؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ شِرَاءٌ“ کیونکہ یہ شراء ہے، خریداری، خریدنا ہے اور خرید میں کسی کو مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ ”وَفِي الْوَجْهِ الثَّانِي يُجْبَرُ“ اور دوسری صورت میں مجبور کیا جائے گا بھئی۔ کون سی صورت میں؟ جب واجب حقہ ہوا ہے اور وہ کس قسم کا جانور دے رہا ہے؟ ادنیٰ جانور دے رہا ہے اور ساتھ کچھ زائد پیسے، اس صورت میں مجبور کیا جائے گا کہ یہی تمہیں لینے پڑیں گے ”لِأَنَّهُ لَا بَيْعَ فِيهِ“ اس لیے کیونکہ یہاں کوئی بیع نہیں ہے ”بَلْ هُوَ إِعْطَاءٌ بِالْقِيمَةِ“ بلکہ یہ قیمت کے ساتھ ادائیگی ہے بھئی، قیمت کے ساتھ وہ زکوٰۃ ادا کر رہا ہے۔ یہاں تک مسئلہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ ”وَيَجُوزُ دَفْعُ الْقِيَمِ فِي الزَّكَاةِ عِنْدَنَا، وَكَذَا فِي الْكَفَّارَاتِ وَصَدَقَةِ الْفِطْرِ وَالْعُشْرِ وَالنَّذْرِ، وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى رَحْمَةً وَاسِعَةً: لَا يَجُوزُ اتِّبَاعًا لِلْمَنْصُوصِ كَمَا فِي الْهَدَايَا وَالضَّحَايَا، وَلَنَا أَنَّ الْأَمْرَ بِالْأَدَاءِ إِلَى الْفَقِيرِ إِيصَالٌ لِلرِّزْقِ الْمَوْعُودِ إِلَيْهِ فَيَكُونُ إِبْطَالًا لِقَيْدِ الشَّاةِ فَصَارَ كَالْجِزْيَةِ بِخِلَافِ الْهَدَايَا لِأَنَّ الْقُرْبَةَ فِيهَا إِرَاقَةُ الدَّمِ وَهُوَ لَا تُعْقَلُ، وَوَجْهُ الْقُرْبَةِ فِي الْمُتَنَازَعِ فِيهِ سَدُّ خَلَّةِ الْمُحْتَاجِ وَهُوَ مَعْقُولٌ“. ”وَيَجُوزُ دَفْعُ الْقِيَمِ فِي الزَّكَاةِ عِنْدَنَا“، یہ وہ مسئلہ آ گیا جس کا صاحب ہدایہ نے ذکر کیا تھا کہ ہمارے نزدیک زکوٰۃ میں قیمت لینا بھی یا قیمت دینا بھی جائز ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَيَجُوزُ دَفْعُ الْقِيَمِ فِي الزَّكَاةِ عِنْدَنَا“ اور جائز ہے قیمتیں دینا زکوٰۃ کے اندر ہمارے نزدیک ”وَكَذَا فِي الْكَفَّارَاتِ وَصَدَقَةِ الْفِطْرِ وَالْعُشْرِ وَالنَّذْرِ“ اور اسی طرح کفارات میں ہے اور صدقۂ فطر میں ہے اور عشر میں ہے اور نذر یعنی منت میں ہے۔ یعنی جس طرح زکوٰۃ میں قیمت دینا جائز اسی طرح کفارات، صدقۂ فطر، عشر اور نذر کے اندر بھی قیمت دینا جائز۔ مثلاً بھئی زکوٰۃ کے اندر تو مثال گزر گئی، ایک شخص پر حقہ واجب ہوا اور وہ حقہ دینے کے بجائے اس کی قیمت دس ہزار دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔ اسی طرح کفارات کے اندر، کسی پر مالی کفارہ آیا، مثلاً ایک شخص نے قسم کا کفارہ دینا ہے اور وہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا ان کو کپڑے پہنانا، تو اب وہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانے یا کپڑے پہنانے کے بجائے ان کے برابر رقم اس کھانے یا کپڑوں کے برابر رقم کیا کر دیتا ہے؟ فقراء کو دے دیتا ہے، تو یہ بھی جائز ہے۔ اسی طرح صدقۂ فطر بھئی، صدقۂ فطر آگے باب بھی آ رہا ہے تفصیلی اس کا، صدقۂ فطر میں آپ پڑھ چکے ہوں گے کہ گندم، جو، کھجور وغیرہ یہ چیزیں دی جاتی ہیں اور یہ واجب ہوتی ہیں، بعض کا ایک پورا صاع واجب ہوتا ہے بعض میں نصف صاع واجب ہوتا ہے، تو اب یہاں دیکھیے گندم، جو یا کھجوریں وغیرہ واجب ہوئی ہیں لیکن اس کے بجائے اگر وہ ان کی قیمت دینا چاہے تو قیمت بھی دے سکتا ہے۔ اسی طرح بھئی عشر ہے کہ کوئی فصل کوئی پیداوار ہے اس کا دسواں حصہ بطور صدقہ کے دینا پڑتا ہے، تو اب وہ فصل کا دسواں حصہ دینے کے بجائے کوئی شخص اس دسویں حصے کی قیمت دینا چاہے تو وہ قیمت بھی دے سکتا ہے۔ اسی طرح منت کے اندر بھی، منت کسی چیز کی مانی اس نے مثلاً منت مانی کہ اللہ اگر میرا یہ کام ہو گیا تو یہ جو بکری ہے میری، یہ میں کیا کروں گا؟ آپ کے راستے میں صدقہ کر دوں گا فقراء کو دے دوں گا، اور پھر بعد میں وہ بکری دینے کے بجائے اس بکری کی قیمت دینا چاہتا ہے تو اس کی قیمت دے سکتا ہے۔ یا مثلاً اس نے منت مانی تھی دیناروں کی اور بعد میں دینا درہم چاہتا ہے تو یہ درہم کیا ہیں؟ دیناروں کی قیمت ہیں تو یہ بھی دے سکتا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے کہ ”وَكَذَا فِي الْكَفَّارَاتِ وَصَدَقَةِ الْفِطْرِ وَالْعُشْرِ وَالنَّذْرِ“ اور اسی طرح ہے کفارات کے اندر بھی اور صدقۂ فطر میں بھی اور عشر میں بھی اور نذر میں بھی۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى رَحْمَةً وَاسِعَةً: لَا يَجُوزُ اتِّبَاعًا لِلْمَنْصُوصِ“، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جائز نہیں ہے، یعنی قیمتوں کا دینا جائز نہیں ہے ”اتِّبَاعًا لِلْمَنْصُوصِ“ منصوص کا اتباع کرتے ہوئے۔ یعنی منصوص وہ جس پر نص آئی ہے بھئی، منصوص وہ جس پر نص آئی ہے بھئی۔ یعنی وہ فرماتے ہیں کہ نص کے اندر، نص کے اندر مثلاً اونٹوں کے پانچ اونٹوں کے اندر ایک بھیڑ بکری واجب ہے تو بھیڑ بکری ہی دینا پڑے گی، اس کی قیمت نہیں دے سکتے کیونکہ نص کے اندر بھیڑ بکری کا ذکر آیا ہے اس کی قیمت کا ذکر نہیں۔ اسی طرح مثلاً پچیس اونٹوں کے اندر ایک بنت مخاض کا ذکر ہے، وہ فرماتے ہیں بنت مخاض ہی دینا پڑے گا کیونکہ نص کے اندر، حدیث کے اندر کس کا ذکر آیا ہے؟ بنت مخاض کا ذکر آیا ہے، اس کی قیمت کا ذکر نہیں آیا۔ اسی طرح بھئی گائے بیل تیس ہوں اور سائمہ اور سال گزر جائے تو ان میں کیا دینا پڑتا ہے؟ ایک تبیع یا تبیعہ، تو وہ فرماتے ہیں تبیع یا تبیعہ ہی دینا پڑے گا کیونکہ حدیث میں تبیع یا تبیعہ کا ذکر آیا ہے ان کی قیمت کا ذکر نہیں آیا۔ تو وہ اس منصوص کا اتباع کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ قیمت دینا جائز نہیں۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يَجُوزُ اتِّبَاعًا لِلْمَنْصُوصِ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: قیمت کا دینا جائز نہیں ہے، منصوص کا اتباع کرتے ہوئے، یعنی منصوص کا اتباع کرتے ہوئے وہ یہ فرماتے ہیں ”كَمَا فِي الْهَدَايَا وَالضَّحَايَا“ جیسے کہ ہدایا کے اندر اور ضحایا کے اندر ہے۔ ہدایا جمع ہے ہدی کی، ہدی اور ہدی وہ قربانی کا جانور جسے آپ آگے حج کے، حج کے ابواب آ رہے ہیں تو اس میں تفصیلاً ذکر ہو گا کہ بعض اوقات حاجی کیا کرتا ہے؟ اپنے ساتھ قربانی کا جانور بھی اپنے ساتھ لے کر چلتا ہے اس کو ہدی کہتے ہیں، یا اسی طرح جو جانور قربانی کے لیے مکہ مکرمہ بھیجا جاتا ہے اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ ہدی کہتے ہیں۔ اور ضحایا جمع ہے ضحیۃ کی اور یہ قربانی کے جانور کو کہتے ہیں، جو عید وغیرہ پر ہم قربانی کرتے ہیں جس جانور کی اس کو کیا کہتے ہیں؟ ضحیۃ۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ ان چیزوں کو قیاس کرتے ہیں ہدی اور قربانی کے جانور پر۔ وہ فرماتے ہیں کہ جیسے ہدی اور قربانی کا جانور ہے وہاں ان کو، ان کی قربانی ہی کرنا ضروری ہے، وہاں پر اگر قیمت صدقہ کرتا ہے تو وہ قربانی یا ہدی ادا نہیں ہو گی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو وہ فرماتے ہیں جیسے قربانی کے اندر جانور ہی کو قربان کرنا پڑے گا اس کی قیمت اگر آپ فقراء پر صدقہ کر بھی دیں تو قربانی ادا نہیں ہوئی، ہدی کے اندر ہدی کا وہ جانور ہی بھیج کر اس کو ذبح کروانا پڑے گا اس کی قیمت دینا، دینے سے وہ ہدی ادا نہیں ہو گی، تو یہ بھی اسی کی طرح ہیں، یہ بھی اسی کی طرح ہیں، تو لہٰذا یہاں پر بھی جن چیزوں کا ذکر آیا ہے وہی چیزیں دینی پڑیں گی، ان کی قیمت نہیں دے سکتے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو امام شافعی رحمہ اللہ گویا زکوٰۃ، کفارات، صدقۂ فطر، عشر، نذر وغیرہ ان سب چیزوں کو قیاس کرتے ہیں کس پر؟ ہدایا اور ضحایا پر۔ اور ہدایا اور ضحایا میں تو بالاتفاق قیمت دینا صحیح نہیں بلکہ جانور ہی قربان کرنا پڑے گا، تو وہ فرماتے ہیں ان میں بھی جو نص کے اندر جن چیزوں کا ذکر آیا وہی دینا پڑیں گی، قیمت نہیں دے سکتے۔ دلیل ان کی سمجھ میں آ گئی؟ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّ الْأَمْرَ بِالْأَدَاءِ إِلَى الْفَقِيرِ إِيصَالٌ لِلرِّزْقِ الْمَوْعُودِ إِلَيْهِ فَيَكُونُ إِبْطَالًا لِقَيْدِ الشَّاةِ فَصَارَ كَالْجِزْيَةِ“. ہماری دلیل یہ ہے کہ زکوٰۃ جو ہے فقراء کو ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ زکوٰۃ کس کو ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے؟ فقراء کو ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور یہ دراصل وہ رزق جس کا اللہ نے ان فقراء سے وعدہ فرمایا تھا یہ ان کو وہ ان کا رزق پہنچایا جا رہا ہے بھئی، ان کا رزق پہنچایا جا رہا ہے۔ جیسے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا“، اور زمین پر چلنے والا کوئی جاندار نہیں مگر یہ کہ اللہ پر اس کا رزق ہے، تو گویا اللہ تعالیٰ نے تمام جانداروں کا رزق اپنے اوپر لازم کر لیا، اپنے ذمے لے لیا۔ یعنی سب کو رزق دینے کا وعدہ فرمایا ہے، اللہ نے سب کو رزق دینے کا وعدہ فرمایا ہے، اور پھر اس دنیا کے اندر بعض لوگوں کو تو اللہ نے اسباب رزق دے دیے۔ بعض تجارت کے ذریعے اپنا رزق حاصل کرتے ہیں، بعض کھیتی باڑی کے ذریعے اپنا رزق حاصل کرتے ہیں، بعض جو ہیں وہ ملازمت کرتے ہیں اور اس کے ذریعے اپنا رزق حاصل کرتے ہیں، بعض کاریگر ہیں بھئی وہ اپنے پیشے اور اپنے اپنے ہنر کے ذریعے کیا کرتے ہیں؟ اپنا رزق حاصل کرتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے پاس کوئی اسباب رزق نہیں، کوئی اسباب رزق نہیں، وہ فقراء ہیں، محتاج ہیں، جب ان کے پاس اسباب رزق نہیں تو یہ جو زکوٰۃ فقیروں کو دینے کا حکم دیا گیا یہ دراصل ان سے جو اللہ نے وعدہ فرمایا تھا کہ تم سب کو رزق دینا، تم سب کو میں رزق دوں گا تو یہ دراصل اس وعدے کی تکمیل کی جا رہی ہے اس وعدے کو اللہ تعالیٰ پورا فرما رہے ہیں، کہ امراء کو مالداروں کو حکم دے دیا کہ کیا کرو؟ اپنے مال میں سے اتنی زکوٰۃ ان فقراء کو ادا کرو۔ تو یہ جو فقراء کو زکوٰۃ دینے کا حکم دیا گیا یہ کیا کیا جا رہا ہے؟ وہ جو وعدہ کیا ہوا رزق ہے وہ فقراء کو پہنچانے کا دراصل حکم دیا جا رہا ہے۔ تو جب یہ فقراء کو زکوٰۃ دینے کا حکم، یہ دراصل کیا ہے؟ ان کو وہ وعدہ کیا ہوا رزق پہنچانے کا حکم ہے دراصل۔ گویا یہ حکم دیا جا رہا ہے: میں نے جن سے جس رزق کا وعدہ کیا تھا وہ رزق ان کو کیا کرو؟ پہنچا دو۔ تو یہ حکم جو وعدہ شدہ رزق پہنچانے کا ہے، یہ اس بھیڑ بکری وغیرہ یا جن چیزوں کو، جن چیزوں کا نصوص میں ذکر آتا ہے اس قید کو یہ یہ حکم باطل کر دیتا ہے۔ یہ حکم کیا کر دیتا ہے؟ باطل کرنے والا ہے۔ اس لیے کیونکہ فقراء اور جو محتاج ہیں ان کو، ان کی صرف یہی ضرورت نہیں ہے کہ ان کو، ان کی ضرورتیں بہت ساری ہیں جو صرف اس بھیڑ بکری یا بنت مخاض دے دیا جائے یا مثلاً تبیع یا تبیعہ دے دیا جائے اس کے ذریعے ان کی ساری ضرورتیں پوری نہیں ہو سکتیں بھئی۔ ہاں البتہ اگر ان کو قیمت دی جائے گی تو اس کے ذریعے کیا کر لیں گے؟ وہ اپنی ہر ضرورت پوری کر لیں گے۔ دوبارہ سنیے بھئی: فقراء کو یہ جو زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم ہے یہ دراصل کس چیز کا حکم ہے؟ یہ دراصل حکم دیا جا رہا ہے اس وعدہ کیے ہوئے رزق کے پہنچانے کا، کہ وعدہ کیا ہوا رزق ان کو پہنچا دو۔ اور رزق اور ضروریات جو ہیں اس کی، کیا صرف اسی بھیڑ بکری یا بنت مخاض یا تبیع یا تبیعہ کے اندر بند ہیں یا اور بھی ان کی بہت سی ضروریات ہیں؟ اور بھی۔ تو جب یہ حکم دیا جا رہا ہے کہ وعدہ کیا ہوا رزق ان کو پہنچا دو، تو یہ حکم ہی کیا کر دیتا ہے؟ اس قید کی نفی کر دیتا ہے، یہ حکم ہی بتلا دیتا ہے کہ اس جانور کی قیمت بھی دے سکتے ہو۔ صرف وہ جانور ہی نہیں بلکہ کیا کر سکتے ہو؟ جانور کی قیمت بھی دے سکتے ہو۔ کیونکہ حکم کس چیز کا ہے؟ وعدہ کیے ہوئے رزق پہنچانے کا، تو ان کو جب ان کی قیمت دے دیں گے تو وعدہ کیا ہوا رزق پہنچے گا یا نہیں پہنچے گا؟ اور اس کے ذریعے وہ زیادہ بہتر طریقے سے اپنی ضروریات پوری کر سکتے ہیں یا اس جانور کے ذریعے بہتر طریقے سے اپنی ضروریات پوری کر سکتے ہیں؟ قیمت کے ذریعے زیادہ بہتر طریقے سے وہ پوری کر سکتے ہیں۔ تو یہ جب وعدہ کیا ہوا رزق پہنچانے کا حکم دیا جا رہا ہے تو یہ حکم ہی کیا کر دیتا ہے وہ جو احادیث کے اندر قیدیں آ گئیں کہ تبیع یا تبیعہ دو، یا بکری دو، یا بنت مخاض دو، ان کی کیا کر دیتا ہے؟ نفی کر دیتا ہے۔ معلوم ہوا وہی جانور دینا لازم نہیں ہے کیونکہ رزق پہنچانا ہے، تو لہٰذا کس صورت میں دے سکتے ہو؟ قیمت کی صورت میں بھی دے سکتے ہو، اور قیمت کی صورت میں دینا بلکہ زیادہ بہتر ہے کہ اس کے ذریعے وہ اپنی ہر ضرورت فوری طور پر پوری کر سکے گا۔ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ جانور اس کو دے دیا جائے جیسا حدیث میں آیا ہے، اور اس کو تو وہ خود بیچ کر کیا کر لے گا؟ اپنی ضرورتیں پوری کر لے گا۔ تو جواب یہ کہ ہو سکتا ہے اس کی کوئی فوری حاجت ہو، اب آپ نے اس کو مثلاً، یرحمک اللہ، ہو سکتا ہے اس کی کوئی فوری ضرورت ہو، آپ نے اس کو بنت مخاض دے دیا مثلاً، آپ پر کیا واجب تھا؟ بنت مخاض، تو کیا اس کے ذریعے اب وہ فوری اپنی ضرورت پوری کر سکے گا؟ مثلاً کوئی اور ضرورت ہے اس کی، مثلاً اسے کپڑے چاہییں پہننے کے لیے، اب وہ ضرورت پوری نہیں کر سکے گا بلکہ کیا کرنا پڑے گا اسے؟ اس بنت مخاض کو بیچنا پڑے گا، تو وہ مشکل میں پڑ جائے گا۔ اور نیز اگر فوری ضرورت ہوئی پھر؟ پھر تو اس بنت مخاض کو پوری قیمت پر بھی وہ نہیں بیچ سکتا، کیونکہ فوری گاہک تو کہیں سے نہیں ملے گا خریدار تو فوراً کہیں سے نہیں ملے گا، تو لازمی بات ہے اسے فوری ضرورت ہے وہ اسے اونے پونے داموں جتنی قیمت پر بھی بکتا ہے بیچ کر اپنی ضرورت پوری کرنے کی کوشش کرے گا۔ تو اگر آپ اس کو قیمت دیتے تو پوری قیمت ادا کرتے، اور جب اب خود اس کو بیچنا پڑا تو اب اس کو پیسے تھوڑے ملے، تو لہٰذا معلوم ہوا فائدہ کس کے اندر ہے اس کا زیادہ؟ کہ پوری قیمت اس کو ادا کر دی جائے۔ تو لہٰذا، تو یہ جو زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم دیا گیا یہ دراصل اس وعدہ شدہ رزق کے پہنچانے کا حکم دیا گیا ہے، اور وعدہ شدہ رزق کے پہنچانے کا جب حکم دیا جا رہا ہے تو یہ کیا کر دیتا ہے؟ ان قیدوں کی نفی کر دیتا ہے کہ معلوم ہوا وہ چیزیں دینا لازم نہیں ہے۔ یہ کس سے پتہ چلتا ہے؟ یہ جو زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم دیا جا رہا ہے۔ یعنی مثلاً ”آتُوا الزَّكَاةَ“ کہا جا رہا ہے، کیا کرو؟ تو یہ زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دراصل کس چیز کا حکم ہے؟ وعدہ کیا ہوا رزق پہنچانے کا حکم ہے، اور وعدہ کیا ہوا رزق جب پہنچانے کا حکم ہے یہ کیا کر رہا ہے؟ ان قیدوں کی نفی کر رہا ہے کیونکہ جب رزق دینا ہے تو وہ صورت زیادہ بہتر ہو گی جس کے ذریعے وہ اپنی ضرورتیں فوری طور پر اور اچھے طریقے سے پوری کر سکے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو جب قیمت ملے گی وہ اس کے ذریعے اس کی جو جو بھی ضرورت وہ پوری کرنا چاہے گا خوب آسانی کے ساتھ ضرورت پوری کر لے گا، چاہے اس کو کھانے کی ضرورت ہے، چاہے کپڑے کی ضرورت ہے، چاہے کوئی اور ضرورت ہے وہ سب پوری کر سکتا ہے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ دوبارہ دیکھیے بھئی: ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّ الْأَمْرَ بِالْأَدَاءِ إِلَى الْفَقِيرِ“ کہ فقیر کو ادائیگی کا حکم جو ہے ”إِيصَالٌ لِلرِّزْقِ الْمَوْعُودِ إِلَيْهِ“ وہ اس کو وعدہ کیے ہوئے رزق اس کی طرف پہنچانا ہے، اس کی طرف پہنچانا ہے یعنی یہ اس پہنچانے کا حکم ہے ”فَيَكُونُ إِبْطَالًا لِقَيْدِ الشَّاةِ“ تو یہ جو حکم ہے کس چیز کا؟ وعدہ کیا ہوا رزق پہنچانے کا جو حکم ہے، یہ ”إِبْطَالًا لِقَيْدِ الشَّاةِ“ یہ باطل کرنے والا ہے بھیڑ بکری کی قید کو۔ معلوم ہوا بھیڑ بکری دینا ہی لازمی نہیں، دے دے تو ٹھیک ہے اس کا تو حدیث میں ذکر ہے اس سے انکار نہیں، ہاں البتہ لازم نہیں ہے۔ یہ کس سے پتہ چلا؟ وہ جو فقراء کو وعدہ کیا ہوا رزق پہنچانے کا حکم دیا گیا اس سے پتہ چلا کہ یہ لازم نہیں ہے، لازم نہیں بلکہ ان کی قیمت بھی دے سکتے ہو۔ تو یہاں جو آیا نا: ”فَيَكُونُ إِبْطَالًا لِقَيْدِ الشَّاةِ“، تو یہ حکم باطل کرنے والا ہے بھیڑ بکری کی قید کو جو حدیث میں آئی ہے۔ اس شاة سے شاة ہی نہیں مراد، بھیڑ بکری نہیں مراد بلکہ جو جو چیزیں ذکر ہوئی ہیں احادیث کے اندر، مثلاً تبیع یا تبیعہ کا ذکر آیا معلوم ہوا وہ بھی لازمی نہیں، اسی طرح بنت مخاض، بنت لبون، حقے، جذعے وغیرہ کا ذکر آیا معلوم ہوا وہ بھی دینا لازمی نہیں بلکہ ان کی قیمت بھی دے سکتے ہیں۔ اسی طرح بھئی صدقۂ فطر کے اندر ایک صاع یا نصف صاع جو چیزیں دینے کا حکم آیا ہے معلوم ہوا وہ صاع یا نصف صاع دینا بھی ضروری نہیں بلکہ اس کی قیمت بھی دے سکتے ہیں۔ اسی طرح عشر کے اندر فصل کا دسواں حصہ دینے کا ذکر آیا ہے لیکن وہ دسواں حصہ معلوم ہوا دینا ضروری نہیں بلکہ اس کی قیمت بھی دے سکتے ہیں، تو یہ چیزیں لازم نہیں ہیں کہ یہی دی جائیں۔ ”فَصَارَ كَالْجِزْيَةِ“ تو یہ کس کی طرح ہوئے؟ یہ جزیہ کی طرح ہو گیا، اور جزیے کے اندر تو بالاتفاق قیمت دینا جائز ہے۔ جزیہ بھئی جو، جو کفار دار الاسلام میں رہتے ہیں اور ان سے سالانہ ٹیکس لیا جاتا ہے کہ سارا سال مملکت اسلامی تمہاری حفاظت کرے گی، تو اس پر ان سے معمولی سا ٹیکس، بڑا ہی تھوڑا سا ہے بھئی وہ لیا جاتا ہے، تو وہ مثلاً ایک شخص پر سال بھر میں ایک درہم آتا ہے یا دو درہم جو بھی ہے وہ مقدار، تو وہ اگر اس مقدار درہم کے بجائے کیا کر دیتا ہے؟ اس کی قیمت دینا چاہے تو قیمت بالاتفاق دے سکتا ہے بھئی۔ تو یہ بھی کس کی طرح ہوئیں یہ چیزیں؟ جزیے کی طرح ہوئیں اور وہاں بالاتفاق قیمت دینا جائز، تو ان سب چیزوں کے اندر بھی قیمت دینا جائز۔ اب آگے ”بِخِلَافِ الْهَدَايَا“، یہاں سے امام شافعی رحمہ اللہ کے قیاس کا جواب دے رہے ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے ان چیزوں کو کس پر قیاس کیا تھا؟ ہدایا اور ضحایا پر، ہدی اور قربانی کے جانوروں پر، اور فرماتے تھے وہاں پر دیکھو ہدی کے اندر اس کی قیمت دے دینا یا قربانی کے جانور میں اس کی قیمت صدقہ کر دینا اس سے وہ ادا نہیں ہوں گے۔ تو ہم جواب دیتے ہیں کہ نہیں، آپ زکوٰۃ کو ہدی اور قربانی پر قیاس نہیں کر سکتے کیونکہ دونوں بالکل الگ الگ چیزیں ہیں، بالکل الگ الگ چیزیں ہیں۔ ہدی اور قربانی جو ہے اس میں وہ جانور کو کیا کیا جاتا ہے؟ ذبح کیا جاتا ہے، معلوم ہوا وہاں پر وہاں پر اس جانور کو ذبح کرنا اس کا خون بہا دینا یہ عبادت ہے، کیونکہ یہ حکم کس نے دیا؟ شریعت نے دیا ہے نا، شریعت نے بطور عبادت کے ان کو ذبح کرنے کا حکم دیا۔ اور خون کا بہا دینا یہ عبادت ہے یہ بات ہمیں سمجھ میں نہیں آتی یہ بات عقل میں آنے والی نہیں۔ بھئی آپ نماز پڑھ رہے ہیں ٹھیک ہے نماز کا عبادت ہے آپ اللہ کے سامنے جھکتے ہیں اپنی پیشانی زمین پر رکھتے ہیں وغیرہ، روزہ رکھتے ہیں ٹھیک ہے اس کا بھی عبادت عبادت ہونا سمجھ میں آتا ہے، آپ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں فقراء کی مدد ہو جاتی ہے اس میں بھی عبادت کا ہونا سمجھ میں آتا ہے، لیکن جانور کو ذبح کرنا اور اس کا خون بہانا یہ عبادت ہے یہ اس کی وجہ عقل میں سمجھ، عقل میں نہیں آتی لیکن شریعت نے جیسا حکم دیا اسی طرح اس پر عمل کیا جائے گا۔ تو دلیل یہاں یہ بیان ہو رہی ہے کہ ہدی اور قربانی وہاں پر خون کا بہا دینا عبادت ہے اور وہ عقل میں آنے والی چیز نہیں ہے، جبکہ زکوٰۃ کے اندر فقراء کی مدد کرنا ہے اور فقراء کی مدد کا عبادت ہونا یہ تو ہمیں ہماری سمجھ میں آتا ہے، تو وہ ہدی اور قربانی وہ عبادت ہے لیکن غیر معقول ہے، عقل میں آنے والی نہیں، اور زکوٰۃ ایسی عبادت ہے جو معقول ہے یعنی عقل میں آنے والی ہے، تو آپ ایک معقول چیز کو کس پر قیاس کر رہے ہیں؟ غیر معقول پر، یہ صحیح نہیں۔ معقول کو معقول پر قیاس کیا جا سکتا ہے، معقول کو غیر معقول پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ الْهَدَايَا“ بخلاف ہدی کے ”لِأَنَّ الْقُرْبَةَ فِيهَا إِرَاقَةُ الدَّمِ وَهُوَ لَا تُعْقَلُ“ اس لیے کیونکہ عبادت اس کے اندر وہ خون کا بہا دینا ہے ”وَهُوَ لَا تُعْقَلُ“ اور وہ معقول نہیں ہے، وہ عقل میں آنے والا نہیں کہ یہ خون کا بہا دینا کس طرح عبادت ہے، لیکن جیسا شریعت نے حکم دیا اسی طرح اس پر عمل کیا، تو وہ غیر معقول ہے۔ ”وَوَجْهُ الْقُرْبَةِ فِي الْمُتَنَازَعِ فِيهِ سَدُّ خَلَّةِ الْمُحْتَاجِ“ اور قربت یعنی عبادت کی وجہ متنازع فیہ کے اندر یعنی جس کے اندر جھگڑا ہے، اختلاف ہے۔ کس چیز میں اختلاف یہاں ذکر ہو رہا ہے؟ کہ زکوٰۃ میں اور ان چیزوں میں قیمت دے سکتے ہیں یا قیمت نہیں دے سکتے۔ تو اس متنازع فیہ کے اندر بھئی یعنی زکوٰۃ کے اندر اس کی قیمت دینے میں قربت یعنی عبادت ہونے کی وجہ جو ہے ”سَدُّ خَلَّةِ الْمُحْتَاجِ“، سد کا معنی ہے بند کرنا، خلة کہتے ہیں محتاجی، ضرورت کو، محتاجی کو، اس میں محتاج کی محتاجی کو بند کرنا ہے یعنی اس کو ختم کرنا ہے اس کو دور کرنا ہے، ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ ”وَوَجْهُ الْقُرْبَةِ فِي الْمُتَنَازَعِ فِيهِ“ اور متنازع فیہ یعنی زکوٰۃ میں قیمت دینے کے مسئلے، قیمت دینے کے مسئلے میں عبادت کی وجہ وہ محتاج کی محتاجی کو دور کرنا ہے ”وَهُوَ مَعْقُولٌ“ اور وہ معقول ہے، عقل میں آنے والی چیز ہے۔ تو لہٰذا اس معقول کو غیر معقول پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں تک دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم ہوا ہمارے نزدیک ان چیزوں میں ان کی قیمت دینا بھی جائز ہے، اس لیے کیونکہ ان چیزوں کا جو حکم دیا گیا وہ دراصل فقراء کی ضرورت پوری کرنے کے لیے ہے، اور فقراء کی ضرورت وہ کس کے ساتھ پوری ہو گی؟ جیسے اس جانور کے ذریعے یا ان چیزوں کے ذریعے پوری ہو جائے گی اسی طرح قیمت کے ساتھ بھی پوری ہو جاتی ہے اور بلکہ قیمت کے ساتھ زیادہ بہتر انداز میں پوری ہو جائے گی۔ ”وَلَيْسَ فِي الْعَوَامِلِ وَالْحَوَامِلِ وَالْعَلُوفَةِ صَدَقَةٌ“. عوامل، حوامل اور علوفہ کے اندر زکوٰۃ نہیں ہے، ان کے اندر صدقہ نہیں ہے۔ عوامل جمع ہے عاملۃ کی، وہ جانور جن کو کام کاج کے لیے رکھا گیا ہو بھئی۔ حوامل جمع ہے حامل کی، وہ جانور جو بوجھ اٹھانے والے ہیں، کیا کرنے والے ہیں؟ بوجھ اٹھانے والے ہیں۔ اور علوفہ، علف سے ہے بھئی، علف کہتے ہیں جانور کا جو چارہ ہوتا ہے چارہ، تو علوفہ وہ جانور جن کو گھروں پر چارہ لا کر کھلایا جاتا ہے۔ ماقبل میں جن جانوروں کا ذکر تھا وہ سائمہ تھے، وہ باہر خود چر کر گزارا کرتے تھے، اور یہ علوفہ وہ جانور جن کو گھروں پر چارہ لا کر کھلایا جاتا ہے۔ تو صاحب قدوری فرماتے ہیں کہ کام کاج کے لیے جو جانور رکھے گئے ہوں اور اسی طرح بوجھ اٹھانے کے لیے یعنی باربرداری کے لیے جو جانور رکھے ہوں اور اسی طرح جو علوفہ جانور ہیں جن کو گھروں پر چارہ لا کر کھلایا جاتا ہے ان کے اندر صدقہ نہیں ہے، ”خِلَافًا لِمَالِكٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“ بخلاف امام مالک رحمہ اللہ کے، وہ فرماتے ہیں ان سب جانوروں کے اندر صدقہ یعنی زکوٰۃ واجب ہے۔ ”لَهُ ظَوَاهِرُ النُّصُوصِ“، ان کی دلیل ظاہری نصوص ہیں بھئی، یعنی ظاہری نصوص ہیں، قرآن و حدیث کے ظاہری الفاظ کی طرف وہ دیکھتے ہیں اور عام احادیث میں مثلاً یہ ذکر آتا ہے کہ پانچ اونٹوں کے اندر ایک بھیڑ بکری ہے، دس کے اندر مثلاً دو بھیڑ بکریاں ہیں، تو وہاں کوئی قید وغیرہ ذکر نہیں، کوئی قید وغیرہ ذکر نہیں کہ یہ جانور عوامل نہیں ہونے چاہییں، حوامل نہیں ہونے چاہییں، علوفہ نہیں ہونے، یہ قیدیں وہاں ذکر نہیں۔ سمجھ میں؟ اسی طرح قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً“، کہ ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لیجیے یعنی زکوٰۃ لے لیجیے، تو یہاں بھی دیکھیے اموال کا لفظ آیا اور یہ جانور بھی جن کو باربرداری کے لیے رکھا ہو یا گھر پر چارہ کھلائیں یہ بھی مال ہیں یا مال نہیں؟ تو یہ بھی سارے مال، تو ظاہری نصوص جو ہیں وہ ان سب کو شامل ہیں، ظاہری نصوص ان سب کو شامل ہے، چنانچہ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سب کے اندر زکوٰۃ دینا پڑے گی چاہے حوامل ہوں، چاہے عوامل ہوں، چاہے علوفہ ہوں بھئی۔ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل جو ہے ”قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ وہ حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے، یہ حدیث ہے: ”لَيْسَ فِي الْحَوَامِلِ وَالْعَوَامِلِ وَلَا فِي الْبَقَرَةِ الْمُثِيرَةِ صَدَقَةٌ“. حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ حوامل، عوامل میں نہیں ہے اور اسی طرح ”فِي الْبَقَرَةِ الْمُثِيرَةِ“، بقرۂ مثیرہ حل چلانے والا بیل بھئی، أَثَارَ يُثِيرُ کے معنی ہیں حل چلانا، تو وہ بیل جو حل چلانے والے ہیں ان میں زکوٰۃ نہیں ہے بھئی۔ حوامل، عوامل اور حل چلانے والے بیلوں میں زکوٰۃ نہیں ہے بھئی۔ بقرۃ کا ترجمہ میں نے بیل کے کیے اس لیے کیونکہ میں یہ پہلے بیان کر چکا ہوں کہ بقرۃ کے اندر جو تا ہے یہ تانیث کی نہیں ہے بلکہ وحدت کی ہے، اس کا اطلاق مذكر پر بھی ہوتا ہے اور مؤنث پر بھی ہوتا ہے، اور عام طور پر کس کو استعمال کرتے ہیں حل چلانے کے لیے؟ بیل کو استعمال کرتے ہیں بھئی۔ تو یہ حدیث ہماری دلیل ہے، اس میں ذکر آ گیا حوامل، عوامل وغیرہ کا بھی۔ اور نیز دوسری دلیل ذکر کر رہے ہیں عقلی دلیل بھی، کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ السَّبَبَ هُوَ الْمَالُ النَّامِي“ اور نیز اس لیے کہ وجوب زکوٰۃ کا سبب جو ہے وہ مال نامی ہے، وہ مال جو نامی ہو، بڑھنے والا ہو، جس میں بڑھوتری پائی جائے، اور مال نامی کی دلیل کیا ہے؟ کس مال کو مال نامی کہیں گے؟ کہتے ہیں: ”وَدَلِيلُهُ الْإِسَامَةُ أَوِ الْإِعْدَادُ لِلتِّجَارَةِ“ اور مال نامی ہونے کی دلیل سائمہ ہونا ہے، یعنی سال کا اکثر حصہ باہر چر کر گزارنے والا ہو، تو مال نامی کی دلیل وہ سائمہ ہونا ہے ”أَوِ الْإِعْدَادُ لِلتِّجَارَةِ“ یا تجارت کے لیے تیار کرنا ہے، کہ وہ مال کس لیے ہو؟ تجارت کے لیے ہو، تو پھر وہ مال نامی ہو گا، وہ مال کیا ہو گا؟ وہ مال نامی ہو گا۔ تو یہ دوسری دلیل ذکر کر رہے ہیں، ایک دلیل حدیث ذکر کر دی اور... قَالَ: ”وَمَنْ وَجَبَ عَلَيْهِ مُسِنٌّ فَلَمْ يُوجَدْ أَخَذَ الْمُصَدِّقُ أَعْلَى مِنْهَا وَرَدَّ الْفَضْلَ أَوْ أَخَذَ دُونَهَا وَأَخَذَ الْفَضْلَ، وَهَذَا يَبْتَنِي عَلَى أَنَّ أَخْذَ الْقِيمَةِ فِي بَابِ الزَّكَاةِ جَائِزٌ عِنْدَنَا عَلَى مَا نَذْكُرُهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى“. اچھا بھئی! مختلف سائِمہ جانوروں کا نصاب بیان ہو گیا، اونٹوں کا بھی، گائے بیل کا بھی، بھیڑ بکریوں کا بھی، اور اسی طرح گھوڑوں کا بھی، اور نیز یہ مسئلہ بھی ذکر ہو گیا کہ ان کے بچوں میں کچھ واجب ہے یا واجب نہیں ہے۔ اب یاد رکھیے بھئی! یہ آگے آپ کو بتلائیں گے، اسی صفحے کے آخر میں آئے گا، وہاں آپ کو بتلائیں گے کہ زکوٰۃ کے اندر متوسط درجے کا مال لیا جاتا ہے۔ زکوٰۃ میں متوسط درجے کا مال لیا جاتا ہے، نہ بہت اعلٰی اور نہ بہت ردی، متوسط درجے کا۔ تو اب مسئلہ یہ کہ مثلاً زکوٰۃ وصول کرنے والا، خلیفہ کی طرف سے جو آدمی مقرر تھا وہ آیا، اور مثلاً وہ جو مالک ہے جانوروں کا اس پر زکوٰۃ میں ایک بِنْتِ لَبُون واجب ہو رہا ہے، یا مثلاً اس پر ایک حِقَّہ واجب ہو رہا ہے۔ لیکن یہ جانور جو واجب ہو رہا ہے، یہ والا اس کے پاس نہیں ہے، اس سے اعلٰی جانور موجود ہے۔ مثلاً حِقَّہ واجب ہو رہا ہے لیکن اس کے پاس حِقَّہ نہیں بلکہ جَذَعَہ ہے۔ یا اس سے ادنٰی جانور موجود ہے، مثلاً واجب حِقَّہ ہو رہا ہے لیکن اس کے پاس بِنْتِ لَبُون موجود ہے، حِقَّہ موجود نہیں، تو اس صورت میں کیا کیا جائے گا؟ یا اسی طرح واجب تو اس پر حِقَّہ ہو رہا ہے، اور حِقَّہ متوسط درجے کا حِقَّہ لیا جائے گا، نہ بہت ادنٰی حِقَّہ اور نہ بہت اعلٰی۔ تو اس کے پاس مثلاً اعلٰی حِقَّہ موجود ہے خوب موٹا تازہ اور صحت مند جس کی قیمت متوسط حِقّے سے زیادہ ہے، یا بڑا ہی لاغر حِقَّہ موجود ہے جس کی قیمت متوسط حِقّے سے کم ہے، تو اس صورت میں کیا کیا جائے گا؟ تو آپ کو بتلائیں گے صاحبِ قدوری کہ جو جانور واجب ہوا ہے اگر وہ زکوٰۃ دینے والے کے پاس وہ جانور نہیں، تو زکوٰۃ وصول کرنے والا اس سے اعلٰی جانور لے لے اور جو زائد قیمت بنتی ہے وہ اس کو واپس کر دے۔ مثلاً وہ واجب کیا ہوا؟ حِقَّہ، اور اس کے پاس تو حِقَّہ نہیں تو پھر اس سے کیا لے لے؟ جَذَعَہ لے لے، اور جو حِقّے اور جَذَعَہ کی قیمت میں فرق ہے وہ واپس کر دے۔ مثلاً حِقَّہ ہے دس ہزار کا اور جَذَعَہ ہے پندرہ ہزار کا، اس کے پاس حِقَّہ نہیں ہے تو جَذَعَہ لے لے، اور جَذَعَہ کتنے کا؟ پندرہ ہزار کا، تو یہ پانچ ہزار اس کو واپس کر دے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ یا دوسری صورت یہ ہے کہ اس کے پاس اگر کم درجے والا جانور ہے، مثلاً واجب حِقَّہ ہوا اور اس کے پاس بِنْتِ لَبُون ہے۔ اب حِقَّہ تو دس ہزار کا ہے متوسط درجے کا اور بِنْتِ لَبُون فرض کیجیے سات ہزار کا ہے، تو اس صورت میں اس سے بِنْتِ لَبُون کے ساتھ ساتھ تین ہزار مزید لے لے، تین ہزار روپے مزید لے لے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی۔ تو یہی ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَمَنْ وَجَبَ عَلَيْهِ مُسِنٌّ“ اور وہ شخص جس پر مُسِنَّہ واجب ہوا ”فَلَمْ يُوجَدْ“ پس وہ نہیں پایا گیا، نہیں ملا ”أَخَذَ الْمُصَدِّقُ أَعْلَى مِنْهَا“ مُصَدِّق وہ زکوٰۃ لینے والا، تو لے لے زکوٰۃ لینے والا ”أَعْلَى مِنْهَا“ اس مُسِنّ سے اعلٰی جانور لے لے ”وَرَدَّ الْفَضْلَ“ اور زائد قیمت لوٹا دے، واپس کر دے ”أَوْ أَخَذَ دُونَهَا“ یا اس سے کم درجے کا جانور لے لے، یعنی واجب تو مُسِنّ ہوا ہے لیکن اس کے پاس وہ نہیں، اس سے کم درجے والا ہے، تو وہ اس سے لے لے ”وَأَخَذَ الْفَضْلَ“ اور ساتھ جو زائد ہے وہ بھی اس سے لے لے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جیسے بِنْتِ لَبُون لیا ہے اور واجب تو حِقَّہ تھا، تو بِنْتِ لَبُون کے ساتھ زائد تین ہزار روپے بھی لے لے گا بھئی۔ آگے صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں: ”وَهَذَا يَبْتَنِي عَلَى أَنَّ أَخْذَ الْقِيمَةِ فِي بَابِ الزَّكَاةِ جَائِزٌ عِنْدَنَا“ کہ اس مسئلے کی بنیاد اس بات پر ہے کہ قیمت لینا زکوٰۃ کے باب میں ہمارے نزدیک جائز ہے۔ وہ جانور وغیرہ یا جو چیز واجب ہوئی ہے اس کے بجائے اگر کوئی شخص اس کی قیمت دینا چاہے تو ہمارے نزدیک یہ جائز ہے، تو اس پر اس مسئلے کی بنیاد ہے۔ ”عَلَى مَا نَذْكُرُهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى“ بوجہ اس کے جو ہم آگے ذکر کریں گے۔ تو ہمارے نزدیک قیمت لینا بھئی جائز ہے، اور قیمت دینا کیوں جائز ہے؟ اس کی کیا وجہ ہے؟ وہ بھی آگے وہ ذکر کریں گے بھئی۔ ”إِلَّا أَنَّ فِي الْوَجْهِ الْأَوَّلِ لَهُ أَنْ لَا يَأْخُذَ وَيُطَالِبَهُ بِعَيْنِ الْوَاجِبِ أَوْ بِقِيمَتِهِ لِأَنَّهُ شِرَاءٌ، وَفِي الْوَجْهِ الثَّانِي يُجْبَرُ لِأَنَّهُ لَا بَيْعَ فِيهِ بَلْ هُوَ إِعْطَاءٌ بِالْقِيمَةِ“. تو صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ اعلٰی جانور لے کر جو زائد ہے وہ اس کو لوٹا دے، یا ادنٰی لے کر اس کے ساتھ جو زائد قیمت بنتی ہے وہ بھی ساتھ لے لے۔ البتہ، صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: البتہ پہلی صورت میں جب اعلٰی جانور لے رہا ہے اور پھر اس کو کیا واپس کرتا ہے؟ جو زائد پیسے بنتے ہیں وہ اس کو واپس کرتا ہے، اس صورت کے اندر صدقہ لینے والے کو مجبور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اعلٰی لے لے اور بقیہ قیمت واپس لوٹا دے۔ مثلاً واجب کیا ہوا تھا؟ حِقَّہ، اور حِقَّہ تو نہیں، اس کے پاس کون سا مال ہے؟ جَذَعَہ۔ تو جَذَعَہ اس کو دے گا زکوٰۃ وصول کرنے والے کو، اور جَذَعَہ تھا پندرہ ہزار کا، تو کتنے ہزار واپس لے لے گا اس سے؟ پانچ ہزار۔ تو اس صورت میں زکوٰۃ وصول کرنے والے کو اس بات پر مجبور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ جَذَعَہ لے لے اور پانچ ہزار اس میں سے واپس کر دے۔ اس لیے کیونکہ جو پانچ ہزار وہ واپس کر رہا ہے گویا اس نے جَذَعَہ کا ایک حصہ اس سے خرید لیا ہے۔ زکوٰۃ وصول کرنے والے نے کچھ حصہ جس کے پیسے دے رہا ہے وہ حصہ اس نے اس سے خرید لیا ہے، تو یہ شراء ہوئی، خریدنا ہوا، اور خرید کے اندر کسی کو اس پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، شراء پر کسی کو مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ تو یہاں چونکہ شراء کی صورت بن رہی ہے، اعلٰی لے گا اور باقی کی قیمت واپس کرے گا، اور شراء کے اندر کسی کو مجبور نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا اعلٰی لینے پر ہی اور قیمت لوٹانے پر ہی صدقہ وصول کرنے والے کو مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ ہاں دوسری صورت میں اگر ادنٰی جانور دے رہا ہے اور ساتھ زائد قیمت بھی دے رہا ہے، مثلاً واجب تو ہوا تھا حِقَّہ، اور اس کے پاس حِقَّہ ہے نہیں، کون سا جانور ہے؟ بِنْتِ لَبُون ہے، وہ دے رہا ہے، اور حِقَّہ تھا دس ہزار کا، بِنْتِ لَبُون ہے سات ہزار کا، تو وہ ایک بِنْتِ لَبُون اور ساتھ اس کے تین ہزار روپے دے دیتا ہے۔ تو اس صورت میں زکوٰۃ لینے والے کو مجبور کیا جائے گا کہ یہی تمہیں لینا پڑے گا جبکہ مالک یہ دے رہا ہو۔ وجہ اس کی یہ کہ یہاں پر واجب تو اس پر حِقَّہ ہے، حِقّے کے بدلے میں وہ دے رہا ہے بِنْتِ لَبُون اور کچھ زائد رقم، تو یہ گویا حِقّے کی قیمت دے رہا ہے۔ یہ سارا مال کیا ہے؟ حِقّے کی... حِقَّہ تو دے ہی نہیں رہا، حِقَّہ تو واجب ہوا لیکن حِقّے کے بجائے وہ کیا دے رہا ہے؟ اس کی قیمت دے رہا ہے، اور ہمارے نزدیک قیمت دے سکتا ہے یا نہیں ادائے زکوٰۃ کے اندر؟ قیمت دے سکتا ہے، تو جب قیمت دے سکتا ہے تو لہٰذا صدقہ لینے والے کو بھی مجبور کیا جا سکتا ہے اس میں کہ تمہیں یہی لینا پڑے گا بھئی۔ یعنی وہ یہاں پر یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے حِقَّہ ہی لا کر دو۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ یہ معنی ہے: ”إِلَّا أَنَّ فِي الْوَجْهِ الْأَوَّلِ“ مگر یہ کہ پہلی صورت میں یعنی جب اعلٰی لیتا ہے اور زائد قیمت واپس کرتا ہے اس صورت میں ”لَهُ أَنْ لَا يَأْخُذَ“ وہ مُصَدِّق جو ہے، زکوٰۃ لینے والا جو ہے اس کو اختیار ہے کہ وہ نہ لے ”وَيُطَالِبَهُ بِعَيْنِ الْوَاجِبِ“ اور مطالبہ کرے عَیْنِ واجب کا کہ مجھے حِقَّہ ہی دو، میں جَذَعَہ نہیں لوں گا ”أَوْ بِقِيمَتِهِ“ یا اس حِقّے کی مجھے قیمت دو، تو یہ اس کو اختیار ہے زکوٰۃ وصول کرنے والے کو کہ وہ عَیْنِ واجب یا قیمت کا مطالبہ کرے، تو اس کو مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ تو اس کو اختیار ہے، کیوں؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ شِرَاءٌ“ کیونکہ یہ شراء ہے، خریداری خریدنا ہے، اور خرید میں کسی کو مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ ”وَفِي الْوَجْهِ الثَّانِي يُجْبَرُ“ اور دوسری صورت میں مجبور کیا جائے گا بھئی۔ کون سی صورت میں؟ جب واجب حِقَّہ ہوا ہے اور وہ کس قسم کا جانور دے رہا ہے؟ ادنٰی جانور دے رہا ہے اور ساتھ کچھ زائد پیسے، اس صورت میں مجبور کیا جائے گا کہ یہی تمہیں لینے پڑیں گے ”لِأَنَّهُ لَا بَيْعَ فِيهِ“ اس لیے کیونکہ یہاں کوئی بیع نہیں ہے ”بَلْ هُوَ إِعْطَاءٌ بِالْقِيمَةِ“ بلکہ یہ قیمت کے ساتھ ادائیگی ہے بھئی، قیمت کے ساتھ وہ زکوٰۃ ادا کر رہا ہے۔ یہاں تک مسئلہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ ”وَيَجُوزُ دَفْعُ الْقِيَمِ فِي الزَّكَاةِ عِنْدَنَا“ یہ وہ مسئلہ آ گیا جس کا صاحبِ ہدایہ نے ذکر کیا تھا کہ ہمارے نزدیک زکوٰۃ میں قیمت لینا بھی یا قیمت دینا بھی جائز ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَيَجُوزُ دَفْعُ الْقِيَمِ فِي الزَّكَاةِ عِنْدَنَا“ اور جائز ہے قیمتیں دینا زکوٰۃ کے اندر ہمارے نزدیک ”وَكَذَا فِي الْكَفَّارَاتِ وَصَدَقَةِ الْفِطْرِ وَالْعُشْرِ وَالنَّذْرِ“ اور اسی طرح کفارات میں ہے، اور صدقۂ فطر میں ہے، اور عُشر میں ہے، اور نذر یعنی منت میں ہے۔ یعنی جس طرح زکوٰۃ میں قیمت دینا جائز، اسی طرح کفارات، صدقۂ فطر، عُشر اور نذر کے اندر بھی قیمت دینا جائز۔ مثلاً بھئی زکوٰۃ کے اندر تو مثال گزر گئی، ایک شخص پر حِقَّہ واجب ہوا اور وہ حِقَّہ دینے کے بجائے اس کی قیمت دس ہزار دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔ اسی طرح کفارات کے اندر، کسی پر مالی کفارہ آیا، مثلاً ایک شخص نے قسم کا کفارہ دینا ہے اور وہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا ان کو کپڑے پہنانا، تو اب وہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانے یا کپڑے پہنانے کے بجائے ان کے برابر رقم، اس کھانے یا کپڑوں کے برابر رقم کیا کر دیتا ہے؟ فقراء کو دے دیتا ہے، تو یہ بھی جائز ہے۔ اسی طرح صدقۂ فطر بھئی، صدقۂ فطر آگے باب بھی آ رہا ہے تفصیلی اس کا، صدقۂ فطر میں آپ پڑھ چکے ہوں گے کہ گندم، جَو، کھجور وغیرہ یہ چیزیں دی جاتی ہیں، اور یہ واجب ہوتی ہیں، بعض کا ایک پورا صاع واجب ہوتا ہے، بعض میں نصف صاع واجب ہوتا ہے۔ تو اب یہاں دیکھیے، گندم، جَو یا کھجوریں وغیرہ واجب ہوئی ہیں لیکن اس کے بجائے اگر وہ ان کی قیمت دینا چاہے تو قیمت بھی دے سکتا ہے۔ اسی طرح بھئی عُشر ہے کہ کوئی فصل، کوئی پیداوار ہے، اس کا دسواں حصہ بطورِ صدقہ کے دینا پڑتا ہے، تو اب وہ فصل کا دسواں حصہ دینے کے بجائے کوئی شخص اس دسویں حصے کی قیمت دینا چاہے تو وہ قیمت بھی دے سکتا ہے۔ اسی طرح منت کے اندر بھی، منت کسی چیز کی مانی اس نے، مثلاً منت مانی کہ اللہ اگر میرا یہ کام ہو گیا تو یہ جو بکری ہے میری، یہ میں کیا کروں گا؟ آپ کے راستے میں صدقہ کر دوں گا، فقراء کو دے دوں گا، اور پھر بعد میں وہ بکری دینے کے بجائے اس بکری کی قیمت دینا چاہتا ہے تو اس کی قیمت دے سکتا ہے۔ یا مثلاً اس نے منت مانی تھی دیناروں کی اور بعد میں دینا درہم چاہتا ہے تو یہ درہم کیا ہیں؟ دیناروں کی قیمت ہیں، تو یہ بھی دے سکتا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ یہ معنی ہے کہ ”وَكَذَا فِي الْكَفَّارَاتِ وَصَدَقَةِ الْفِطْرِ وَالْعُشْرِ وَالنَّذْرِ“ اور اسی طرح ہے کفارات کے اندر بھی، اور صدقۂ فطر میں بھی، اور عُشر میں بھی، اور نذر میں بھی۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى رَحْمَةً وَاسِعَةً: لَا يَجُوزُ اتِّبَاعًا لِلْمَنْصُوصِ“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جائز نہیں ہے، یعنی قیمتوں کا دینا جائز نہیں ہے ”اتِّبَاعًا لِلْمَنْصُوصِ“ منصوص کا اتباع کرتے ہوئے۔ یعنی منصوص وہ جس پر نَص آئی ہے بھئی۔ منصوص وہ جس پر نَص آئی ہے بھئی۔ یعنی وہ فرماتے ہیں کہ نَص کے اندر، نَص کے اندر مثلاً اونٹوں کے... پانچ اونٹوں کے اندر ایک بھیڑ بکری واجب ہے، تو بھیڑ بکری ہی دینا پڑے گی، اس کی قیمت نہیں دے سکتے، کیونکہ نَص کے اندر بھیڑ بکری کا ذکر آیا ہے، اس کی قیمت کا ذکر نہیں۔ اسی طرح مثلاً پچیس اونٹوں کے اندر ایک بِنْتِ مَخَاض کا ذکر ہے، وہ فرماتے ہیں بِنْتِ مَخَاض ہی دینا پڑے گا کیونکہ نَص کے اندر، حدیث کے اندر کس کا ذکر آیا ہے؟ بِنْتِ مَخَاض کا ذکر آیا ہے، اس کی قیمت کا ذکر نہیں آیا۔ اسی طرح بھئی گائے بیل تیس ہوں اور سائِمہ اور سال گزر جائے تو ان میں کیا دینا پڑتا ہے؟ ایک تَبِیع یا تَبِیعَہ۔ تو وہ فرماتے ہیں تَبِیع یا تَبِیعَہ ہی دینا پڑے گا کیونکہ حدیث میں تَبِیع یا تَبِیعَہ کا ذکر آیا ہے، ان کی قیمت کا ذکر نہیں آیا۔ تو وہ اس منصوص کا اتباع کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ قیمت دینا جائز نہیں۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يَجُوزُ اتِّبَاعًا لِلْمَنْصُوصِ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں قیمت کا دینا جائز نہیں ہے منصوص کا اتباع کرتے ہوئے، یعنی منصوص کا اتباع کرتے ہوئے وہ یہ فرماتے ہیں۔ ”كَمَا فِي الْهَدَايَا وَالضَّحَايَا“ جیسے کہ ہدایا کے اندر اور ضحایا کے اندر ہے۔ ہدایا جمع ہے ہَدْیٌ کی، ہَدْیٌ، اور ہَدْی وہ قربانی کا جانور جسے آپ آگے حج کے ابواب آ رہے ہیں تب اس میں تفصیلاً ذکر ہوگا کہ بعض اوقات حاجی کیا کرتا ہے؟ اپنے ساتھ قربانی کا جانور بھی اپنے ساتھ لے کر چلتا ہے، اس کو ہَدْی کہتے ہیں، یا اسی طرح جو جانور قربانی کے لیے مکہ مکرمہ بھیجا جاتا ہے اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ ہَدْی کہتے ہیں۔ اور ضحایا جمع ہے ضَحِیَّةٌ کی اور یہ قربانی کے جانور کو کہتے ہیں، جو عید وغیرہ پر ہم قربانی کرتے ہیں جس جانور کی اس کو کیا کہتے ہیں؟ ضَحِیَّةٌ۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ ان چیزوں کو قیاس کرتے ہیں ہَدْی اور قربانی کے جانور پر۔ وہ فرماتے ہیں کہ جیسے ہَدْی اور قربانی کا جانور ہے، وہاں ان کو... ان کی قربانی ہی کرنا ضروری ہے، وہاں پر اگر قیمت صدقہ کرتا ہے تو وہ قربانی یا ہَدْی ادا نہیں ہوگی، بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ وہ فرماتے ہیں جیسے قربانی کے اندر جانور ہی کو قربان کرنا پڑے گا، اس کی قیمت اگر آپ فقراء پر صدقہ کر بھی دیں تو قربانی ادا نہیں ہوئی، ہَدْی کے اندر ہَدْی کا وہ جانور ہی بھیج کر اس کو ذبح کروانا پڑے گا، اس کی قیمت دینا... دینے سے وہ ہَدْی ادا نہیں ہوگی، تو یہ بھی اسی کی طرح ہیں، یہ بھی اسی کی طرح ہیں تو لہٰذا یہاں پر بھی جن چیزوں کا ذکر آیا ہے وہی چیزیں دینی پڑیں گی، ان کی قیمت نہیں دے سکتے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو امام شافعی رحمہ اللہ گویا زکوٰۃ، کفارات، صدقۂ فطر، عُشر، نذر وغیرہ ان سب چیزوں کو قیاس کرتے ہیں کس پر؟ ہدایا اور ضحایا پر، اور ہدایا اور ضحایا میں تو بالاتفاق قیمت دینا صحیح نہیں بلکہ جانور ہی قربان کرنا پڑے گا، تو وہ فرماتے ہیں ان میں بھی جو نَص کے اندر جن چیزوں کا ذکر آیا وہی دینا پڑیں گی، قیمت نہیں دے سکتے۔ دلیل ان کی سمجھ میں آ گئی؟ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّ الْأَمْرَ بِالْأَدَاءِ إِلَى الْفَقِيرِ إِيصَالٌ لِلرِّزْقِ الْمَوْعُودِ إِلَيْهِ فَيَكُونُ إِبْطَالًا لِقَيْدِ الشَّاةِ فَصَارَ كَالْجِزْيَةِ“. ہماری دلیل یہ ہے کہ زکوٰۃ جو ہے فقراء کو ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ زکوٰۃ کس کو ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے؟ فقراء کو ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور یہ دراصل وہ رزق جس کا اللہ نے ان فقراء سے وعدہ فرمایا تھا یہ ان کو وہ ان کا رزق پہنچایا جا رہا ہے بھئی، ان کا رزق پہنچایا جا رہا ہے۔ جیسے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا﴾ اور زمین پر چلنے والا کوئی جاندار نہیں مگر یہ کہ اللہ پر اس کا رزق ہے۔ تو گویا اللہ تعالٰی نے تمام جانداروں کا رزق اپنے اوپر لازم کر لیا، اپنے ذمے لے لیا، یعنی سب کو رزق دینے کا وعدہ فرمایا ہے، اللہ نے سب کو رزق دینے کا وعدہ فرمایا ہے، اور پھر اس دنیا کے اندر بعض لوگوں کو تو اللہ نے اسبابِ رزق دے دیے۔ بعض تجارت کے ذریعے اپنا رزق حاصل کرتے ہیں، بعض کھیتی باڑی کے ذریعے اپنا رزق حاصل کرتے ہیں، بعض جو ہیں وہ ملازمت کرتے ہیں اور اس کے ذریعے اپنا رزق حاصل کرتے ہیں، بعض کاریگر ہیں بھئی وہ اپنے پیشے اور اپنے ہنر کے ذریعے کیا کرتے ہیں؟ اپنا رزق حاصل کرتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے پاس کوئی اسبابِ رزق نہیں، کوئی اسبابِ رزق نہیں، وہ فقراء ہیں، محتاج ہیں۔ جب ان کے پاس اسبابِ رزق نہیں تو یہ جو زکوٰۃ فقیروں کو دینے کا حکم دیا گیا، یہ دراصل ان سے جو اللہ نے وعدہ فرمایا تھا کہ تم سب کو رزق دینا... تم سب کو میں رزق دوں گا، تو یہ دراصل اس وعدے کی تکمیل کی جا رہی ہے، اس وعدے کو اللہ تعالٰی پورا فرما رہے ہیں کہ امراء کو مالداروں کو حکم دے دیا کہ کیا کرو؟ اپنے مال میں سے اتنی زکوٰۃ ان فقراء کو ادا کرو۔ تو یہ جو فقراء کو زکوٰۃ دینے کا حکم دیا گیا یہ کیا کیا جا رہا ہے؟ وہ جو وعدہ کیا ہوا رزق ہے وہ فقراء کو پہنچانے کا دراصل حکم دیا جا رہا ہے۔ تو جب یہ فقراء کو زکوٰۃ دینے کا حکم یہ دراصل کیا ہے؟ ان کو وہ وعدہ کیا ہوا رزق پہنچانے کا حکم ہے دراصل، گویا یہ حکم دیا جا رہا ہے میں نے جن سے جس رزق کا وعدہ کیا تھا وہ رزق ان کو کیا کرو؟ پہنچا دو۔ تو یہ حکم جو وعدہ شدہ رزق پہنچانے کا ہے، یہ اس بھیڑ بکری وغیرہ یا جن چیزوں کو... جن چیزوں کا نصوص میں ذکر آتا ہے، اس قید کو یہ... یہ حکم باطل کر دیتا ہے۔ یہ حکم کیا کر دیتا ہے؟ باطل کرنے والا ہے۔ اس لیے کیونکہ فقراء اور جو محتاج ہیں ان کو ان کی صرف یہی ضرورت نہیں ہے کہ ان کو... ان کی ضرورتیں بہت ساری ہیں جو صرف اس بھیڑ بکری یا بِنْتِ مَخَاض دے دیا جائے یا مثلاً تَبِیع یا تَبِیعَہ دے دیا جائے، اس کے ذریعے ان کی ساری ضرورتیں پوری نہیں ہو سکتیں بھئی۔ ہاں البتہ اگر ان کو قیمت دی جائے گی تو اس کے ذریعے کیا کر لیں گے؟ وہ اپنی ہر ضرورت پوری کر لیں گے۔ دوبارہ سنیے بھئی: فقراء کو یہ جو زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم ہے، یہ دراصل کس چیز کا حکم ہے؟ یہ دراصل حکم دیا جا رہا ہے اس وعدہ کیے ہوئے رزق کے پہنچانے کا، کہ وعدہ کیا ہوا رزق ان کو پہنچا دو۔ اور رزق اور ضروریات جو ہیں اس کی کیا صرف اسی بھیڑ بکری یا بِنْتِ مَخَاض یا تَبِیع یا تَبِیعَہ کے اندر بند ہیں یا اور بھی ان کی بہت سی ضروریات ہیں؟ اور بھی۔ تو جب یہ حکم دیا جا رہا ہے کہ وعدہ کیا ہوا رزق ان کو پہنچا دو، تو یہ حکم ہی کیا کر دیتا ہے؟ اس قید کی نفی کر دیتا ہے، یہ حکم ہی بتلا دیتا ہے کہ اس کی جانور کی قیمت بھی دے سکتے ہو، صرف وہ جانور ہی نہیں بلکہ کیا کر سکتے ہو؟ جانور کی قیمت بھی دے سکتے ہو۔ کیونکہ حکم کس چیز کا ہے؟ وعدہ کیے ہوئے رزق پہنچانے کا، تو ان کو جب ان کی قیمت دے دیں گے تو وعدہ کیا ہوا رزق پہنچے گا یا نہیں پہنچے گا؟ اور اس کے ذریعے وہ زیادہ بہتر طریقے سے اپنی ضروریات پوری کر سکتے ہیں یا اس جانور کے ذریعے بہتر طریقے سے اپنی ضروریات پوری کر سکتے ہیں؟ قیمت کے ذریعے زیادہ بہتر طریقے سے وہ پوری کر سکتے ہیں۔ تو یہ جب وعدہ کیا ہوا رزق پہنچانے کا حکم دیا جا رہا ہے تو یہ حکم ہی کیا کر دیتا ہے وہ جو احادیث کے اندر قیدیں آ گئیں کہ تَبِیع یا تَبِیعَہ دو، یا بکری دو، یا بِنْتِ مَخَاض دو، ان کی کیا کر دیتا ہے؟ نفی کر دیتا ہے، معلوم ہوا وہی جانور دینا لازم نہیں ہے کیونکہ رزق پہنچانا ہے، تو لہٰذا کس صورت میں دے سکتے ہو؟ قیمت کی صورت میں بھی دے سکتے ہو، اور قیمت کی صورت میں دینا بلکہ زیادہ بہتر ہے کہ اس کے ذریعے وہ اپنی ہر ضرورت فوری طور پر پوری کر سکے گا۔ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ جانور اس کو دے دیا جائے جیسا حدیث میں آیا ہے، اور اس کو تو وہ خود بیچ کر کیا کر لے گا؟ اپنی ضرورتیں پوری کر لے گا۔ تو جواب یہ کہ ہو سکتا ہے اس کی کوئی فوری حاجت ہو، اب آپ نے اس کو مثلاً... يَرْحَمُكَ اللَّهُ... ہو سکتا ہے اس کی کوئی فوری ضرورت ہو، آپ نے اس کو بِنْتِ مَخَاض دے دیا مثلاً، آپ پر کیا واجب تھا؟ بِنْتِ مَخَاض، تو کیا اس کے ذریعے اب وہ فوری اپنی ضرورت پوری کر سکے گا؟ مثلاً کوئی اور ضرورت ہے اس کی، مثلاً اسے کپڑے چاہییں پہننے کے لیے، اب وہ ضرورت پوری نہیں کر سکے گا بلکہ کیا کرنا پڑے گا اسے؟ اس بِنْتِ مَخَاض کو بیچنا پڑے گا، تو وہ مشکل میں پڑ جائے گا۔ اور نیز اگر فوری ضرورت ہوئی پھر... پھر تو اس بِنْتِ مَخَاض کو پوری قیمت پر بھی وہ نہیں بیچ سکتا کیونکہ فوری گاہک تو کہیں سے نہیں ملے گا، خریدار تو فوراً کہیں سے نہیں ملے گا، تو لازمی بات ہے اسے فوری ضرورت ہے وہ اسے اونے پونے داموں جتنی قیمت پر بھی بکتا ہے بیچ کر اپنی ضرورت پوری کرنے کی کوشش کرے گا، تو اگر آپ اس کو قیمت دیتے تو پوری قیمت ادا کرتے، اور جب اب خود اس کو بیچنا پڑا تو اب اس کو پیسے تھوڑے ملے، تو لہٰذا معلوم ہوا فائدہ کس کے اندر ہے اس کا زیادہ؟ کہ پوری قیمت اس کو ادا کر دی جائے۔ تو لہٰذا تو یہ جو زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم دیا گیا، یہ دراصل اس وعدہ شدہ رزق کے پہنچانے کا حکم دیا گیا ہے، اور وعدہ شدہ رزق کے پہنچانے کا جب حکم دیا جا رہا ہے تو یہ کیا کر دیتا ہے؟ ان قیدوں کی نفی کر دیتا ہے کہ معلوم ہوا وہ چیزیں دینا لازم نہیں ہے۔ یہ کس سے پتہ چلتا ہے؟ یہ جو زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم دیا جا رہا، یعنی مثلاً ﴿آتُوا الزَّكَاةَ﴾ کہا جا رہا ہے، کیا کرو؟ تو یہ زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دراصل کس چیز کا حکم ہے؟ وعدہ کیا ہوا رزق پہنچانے کا حکم ہے، اور وعدہ کیا ہوا رزق جب پہنچانے کا حکم ہے یہ کیا کر رہا ہے؟ ان قیدوں کی نفی کر رہا ہے کیونکہ جب رزق دینا ہے تو وہ صورت زیادہ بہتر ہوگی جس کے ذریعے وہ اپنی ضرورتیں فوری طور پر اور اچھے طریقے سے پوری کر سکے، صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو جب قیمت ملے گی وہ اس کے ذریعے اس کی جو جو بھی ضرورت وہ پوری کرنا چاہے گا خوب آسانی کے ساتھ ضرورت پوری کر لے گا، چاہے اس کو کھانے کی ضرورت ہے، چاہے کپڑے کی ضرورت ہے، چاہے کوئی اور ضرورت ہے وہ سب پوری کر سکتا ہے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ دوبارہ دیکھیے بھئی: ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّ الْأَمْرَ بِالْأَدَاءِ إِلَى الْفَقِيرِ“ کہ فقیر کو ادائیگی کا حکم جو ہے ”إِيصَالٌ لِلرِّزْقِ الْمَوْعُودِ إِلَيْهِ“ وہ اس کو وعدہ کیے ہوئے رزق اس کی طرف پہنچانا ہے، اس کی طرف پہنچانا ہے یعنی یہ اس پہنچانے کا حکم ہے ”فَيَكُونُ إِبْطَالًا لِقَيْدِ الشَّاةِ“ تو یہ جو حکم ہے کس چیز کا؟ وعدہ کیا ہوا رزق پہنچانے کا جو حکم ہے، یہ ”إِبْطَالًا لِقَيْدِ الشَّاةِ“ یہ باطل کرنے والا ہے بھیڑ بکری کی قید کو۔ معلوم ہوا بھیڑ بکری دینا ہی لازمی نہیں، دے دے تو ٹھیک ہے اس کا تو حدیث میں ذکر ہے اس سے انکار نہیں، ہاں البتہ لازم نہیں ہے۔ یہ کس سے پتہ چلا؟ وہ جو فقراء کو وعدہ کیا ہوا رزق پہنچانے کا حکم دیا گیا اس سے پتہ چلا کہ یہ لازم نہیں ہے، لازم نہیں بلکہ ان کی قیمت بھی دے سکتے ہو۔ تو یہاں جو آیا نا: ”فَيَكُونُ إِبْطَالًا لِقَيْدِ الشَّاةِ“ تو یہ حکم باطل کرنے والا ہے بھیڑ بکری کی قید کو جو حدیث میں آئی ہے۔ اس شاة سے شاة ہی نہیں مراد، بھیڑ بکری نہیں مراد بلکہ جو جو چیزیں ذکر ہوئی ہیں احادیث کے اندر۔ مثلاً تَبِیع یا تَبِیعَہ کا ذکر آیا، معلوم ہوا وہ بھی لازمی نہیں، اسی طرح بِنْتِ مَخَاض، بِنْتِ لَبُون، حِقَّہ، جَذَعَہ وغیرہ کا ذکر آیا، معلوم ہوا وہ بھی دینا لازمی نہیں بلکہ ان کی قیمت بھی دے سکتے ہیں۔ اسی طرح بھئی صدقۂ فطر کے اندر ایک صاع یا نصف صاع جو چیزیں دینے کا حکم آیا ہے، معلوم ہوا وہ صاع یا نصف صاع دینا بھی ضروری نہیں بلکہ اس کی قیمت بھی دے سکتے ہیں۔ اسی طرح عُشر کے اندر فصل کا دسواں حصہ دینے کا ذکر آیا ہے لیکن وہ دسواں حصہ معلوم ہوا دینا ضروری نہیں بلکہ اس کی قیمت بھی دے سکتے ہیں، تو یہ چیزیں لازم نہیں ہیں کہ یہی دی جائیں۔ ”فَصَارَ كَالْجِزْيَةِ“ تو یہ کس کی طرح ہوئے؟ یہ جزیہ کی طرح ہو گیا، اور جزیہ کے اندر تو بالاتفاق قیمت دینا جائز ہے۔ جزیہ بھئی جو جو کفار دار الاسلام میں رہتے ہیں اور ان سے سالانہ ٹیکس لیا جاتا ہے کہ سارا سال مملکتِ اسلامی تمہاری حفاظت کرے گی، تو اس پر ان سے معمولی سا ٹیکس، بڑا ہی تھوڑا سا ہے بھئی، وہ لیا جاتا ہے، تو وہ مثلاً ایک شخص پر سال بھر میں ایک درہم آتا ہے یا دو درہم، جو بھی ہے وہ مقدار، تو وہ اگر اس مقدار درہم کے بجائے کیا کر دیتا ہے؟ اس کی قیمت دینا چاہے تو قیمت بالاتفاق دے سکتا ہے بھئی۔ تو یہ بھی کس کی طرح ہوئی یہ چیزیں؟ جزیہ کی طرح ہوئی، اور وہاں بالاتفاق قیمت دینا جائز، تو ان سب چیزوں کے اندر بھی قیمت دینا جائز۔ اب آگے ”بِخِلَافِ الْهَدَايَا“ یہاں سے امام شافعی رحمہ اللہ کے قیاس کا جواب دے رہے ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے ان چیزوں کو کس پر قیاس کیا تھا؟ ہدایا اور ضحایا پر، ہَدْی اور قربانی کے جانوروں پر، اور فرماتے تھے وہاں پر دیکھو ہَدْی کے اندر اس کی قیمت دے دینا یا قربانی کے جانور میں اس کی قیمت صدقہ کر دینا اس سے وہ ادا نہیں ہوں گے۔ تو ہم جواب دیتے ہیں کہ نہیں، آپ زکوٰۃ کو ہَدْی اور قربانی پر قیاس نہیں کر سکتے کیونکہ دونوں بالکل الگ الگ چیزیں ہیں، بالکل الگ الگ چیزیں ہیں۔ ہَدْی اور قربانی جو ہے اس میں وہ جانور کو کیا کیا جاتا ہے؟ ذبح کیا جاتا ہے، معلوم ہوا وہاں پر... وہاں پر اس جانور کو ذبح کرنا، اس کا خون بہا دینا یہ عبادت ہے، کیونکہ یہ حکم کس نے دیا؟ شریعت نے دیا ہے نا، شریعت نے بطورِ عبادت کے ان کو ذبح کرنے کا حکم دیا۔ اور خون کا بہا دینا یہ عبادت ہے یہ بات ہمیں سمجھ میں نہیں آتی، یہ بات عقل میں آنے والی نہیں۔ بھئی آپ نماز پڑھ رہے ہیں ٹھیک ہے نماز تو عبادت ہے، آپ اللہ کے سامنے جھکتے ہیں، اپنی پیشانی زمین پر رکھتے ہیں وغیرہ۔ روزہ رکھتے ہیں ٹھیک ہے اس کا بھی عبادت... عبادت ہونا سمجھ میں آتا ہے۔ آپ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں فقراء کی مدد ہو جاتی ہے اس میں بھی عبادت کا ہونا سمجھ میں آتا ہے، لیکن جانور کو ذبح کرنا اور اس کا خون بہانا یہ عبادت ہے یہ اس کی وجہ عقل میں سمجھ... عقل میں نہیں آتی، لیکن شریعت نے جیسا حکم دیا اسی طرح اس پر عمل کیا جائے گا۔ تو دلیل یہاں یہ بیان ہو رہی ہے کہ ہَدْی اور قربانی وہاں پر خون کا بہا دینا عبادت ہے اور وہ عقل میں آنے والی چیز نہیں ہے، جبکہ زکوٰۃ کے اندر فقراء کی مدد کرنا ہے اور فقراء کی مدد کا عبادت ہونا یہ تو ہمیں ہماری سمجھ میں آتا ہے۔ تو وہ ہَدْی اور قربانی وہ عبادت ہے لیکن غیر معقول ہے، عقل میں آنے والی نہیں، اور زکوٰۃ ایسی عبادت ہے جو معقول ہے یعنی عقل میں آنے والی ہے، تو آپ ایک معقول چیز کو کس پر قیاس کر رہے ہیں؟ غیر معقول پر، یہ صحیح نہیں۔ معقول کو معقول پر قیاس کیا جا سکتا ہے، معقول کو غیر معقول پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں ”بِخِلَافِ الْهَدَايَا“ بخلاف ہَدْی کے ”لِأَنَّ الْقُرْبَةَ فِيهَا إِرَاقَةُ الدَّمِ وَهُوَ لَا تُعْقَلُ“ اس لیے کیونکہ عبادت اس کے اندر وہ خون کا بہا دینا ہے ”وَهُوَ لَا تُعْقَلُ“ اور وہ معقول نہیں ہے، وہ عقل میں آنے والا نہیں کہ یہ خون کا بہا دینا کس طرح عبادت ہے، لیکن جیسا شریعت نے حکم دیا اسی طرح اس پر عمل کیا، تو وہ غیر معقول ہے۔ ”وَوَجْهُ الْقُرْبَةِ فِي الْمُتَنَازَعِ فِيهِ سَدُّ خَلَّةِ الْمُحْتَاجِ“ اور قربت یعنی عبادت کی وجہ متنازع فیہ کے اندر یعنی جس کے اندر جھگڑا ہے، اختلاف ہے۔ کس چیز میں اختلاف یہاں ذکر ہو رہا ہے؟ کہ زکوٰۃ میں اور ان چیزوں میں قیمت دے سکتے ہیں یا قیمت نہیں دے سکتے۔ تو اس متنازع فیہ کے اندر بھئی یعنی زکوٰۃ کے اندر اس کی قیمت دینے میں قربت یعنی عبادت ہونے کی وجہ جو ہے ”سَدُّ خَلَّةِ الْمُحْتَاجِ“، سد کا معنی ہے بند کرنا، خَلَّةٌ کہتے ہیں محتاجی، ضرورت کو محتاجی کو۔ اس میں محتاج کی محتاجی کو بند کرنا یعنی اس کو ختم کرنا ہے، اس کو دور کرنا ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ ”وَوَجْهُ الْقُرْبَةِ فِي الْمُتَنَازَعِ فِيهِ“ اور متنازع فیہ یعنی زکوٰۃ میں قیمت دینے کے مسئلے... قیمت دینے کے مسئلے میں عبادت کی وجہ وہ محتاج کی محتاجی کو دور کرنا ہے ”وَهُوَ مَعْقُولٌ“ اور وہ معقول ہے، عقل میں آنے والی چیز ہے۔ تو لہٰذا اس معقول کو غیر معقول پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں تک دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم ہوا ہمارے نزدیک ان چیزوں میں ان کی قیمت دینا بھی جائز ہے، اس لیے کیونکہ ان چیزوں کا جو حکم دیا گیا وہ دراصل فقراء کی ضرورت پوری کرنے کے لیے ہے، اور فقراء کی ضرورت وہ کس کے ساتھ پوری ہوگی؟ جیسے اس جانور کے ذریعے یا ان چیزوں کے ذریعے پوری ہو جائے گی اسی طرح قیمت کے ساتھ بھی پوری ہو جاتی ہے اور بلکہ قیمت کے ساتھ زیادہ بہتر انداز میں پوری ہو جائے گی۔ ”وَلَيْسَ فِي الْعَوَامِلِ وَالْحَوَامِلِ وَالْعَلُوفَةِ صَدَقَةٌ“ عَوَامِل، حَوَامِل اور عَلُوفَہ کے اندر زکوٰۃ نہیں ہے، ان کے اندر صدقہ نہیں ہے۔ عَوَامِل جمع ہے عَامِلَةٌ کی، وہ جانور جن کو کام کاج کے لیے رکھا گیا ہو بھئی۔ حَوَامِل جمع ہے حَامِلٌ کی، وہ جانور جو بوجھ اٹھانے والے ہیں، کیا کرنے والے ہیں؟ بوجھ اٹھانے والے ہیں، اور عَلُوفَہ عَلَفْ سے ہے بھئی، عَلَفْ کہتے ہیں جانور کا جو چارہ ہوتا ہے چارہ، تو عَلُوفَہ وہ جانور جن کو گھروں پر چارہ لا کر کھلایا جاتا ہے۔ ماقبل میں جن جانوروں کا ذکر تھا وہ سائِمہ تھے، وہ باہر خود چَر کر گزارا کرتے تھے، اور یہ عَلُوفَہ وہ جانور جن کو گھروں پر چارہ لا کر کھلایا جاتا ہے۔ تو صاحبِ قدوری فرماتے ہیں کہ کام کاج کے لیے جو جانور رکھے گئے ہوں اور اسی طرح بوجھ اٹھانے کے لیے یعنی باربرداری کے لیے جو جانور رکھے ہوں اور اسی طرح جو عَلُوفَہ جانور ہیں جن کو گھروں پر چارہ لا کر کھلایا جاتا ہے ان کے اندر صدقہ نہیں ہے، ”خِلَافًا لِمَالِكٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“ بخلاف امام مالک رحمہ اللہ کے، وہ فرماتے ہیں ان سب جانوروں کے اندر صدقہ یعنی زکوٰۃ واجب ہے۔ ”لَهُ ظَوَاهِرُ النُّصُوصِ“ ان کی دلیل ظاہری نصوص ہیں بھئی، یعنی ظاہری نصوص ہیں، قرآن و حدیث کے ظاہری الفاظ کی طرف وہ دیکھتے ہیں اور عام احادیث میں مثلاً یہ ذکر آتا ہے کہ پانچ اونٹوں کے اندر ایک بھیڑ بکری ہے، دس کے اندر مثلاً دو بھیڑ بکریاں ہیں، تو وہاں کوئی قید وغیرہ ذکر نہیں۔ کوئی قید وغیرہ ذکر نہیں کہ یہ جانور عَوَامِل نہیں ہونے چاہییں، حَوَامِل نہیں ہونے چاہییں، عَلُوفَہ نہیں ہونے... یہ قیدیں وہاں ذکر نہیں۔ سمجھ میں... اسی طرح قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً﴾ کہ ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لیجیے یعنی زکوٰۃ لے لیجیے، تو یہاں بھی دیکھیے اموال کا لفظ آیا، اور یہ جانور بھی جن کو باربرداری کے لیے رکھا ہو یا گھر پر چارہ کھلائیں، یہ بھی مال ہیں یا مال نہیں؟ تو یہ بھی سارے مال۔ تو ظاہری نصوص جو ہیں وہ ان سب کو شامل ہیں، ظاہری نصوص ان سب کو شامل ہے، چنانچہ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سب کے اندر زکوٰۃ دینا پڑے گی، چاہے حَوَامِل ہوں، چاہے عَوَامِل ہوں، چاہے عَلُوفَہ ہوں بھئی۔ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل جو ہے ”قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ وہ حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے، یہ حدیث ہے: ”لَيْسَ فِي الْحَوَامِلِ وَالْعَوَامِلِ وَلَا فِي الْبَقَرَةِ الْمُثِيرَةِ صَدَقَةٌ“ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ حَوَامِل، عَوَامِل میں نہیں ہے اور اسی طرح ”فِي الْبَقَرَةِ الْمُثِيرَةِ“، بَقَرَةِ مُثِیرَہ ہل چلانے والا بیل بھئی۔ أَثَارَ يُثِيرُ کے معنی ہیں ہل چلانا، تو وہ بیل جو ہل چلانے والے ہیں ان میں زکوٰۃ نہیں ہے بھئی۔ حَوَامِل، عَوَامِل اور ہل چلانے والے بیلوں میں زکوٰۃ نہیں ہے بھئی۔ بَقَرَةٌ کا ترجمہ میں نے بیل کے کیے، اس لیے کیونکہ میں یہ پہلے بیان کر چکا ہوں کہ بَقَرَةٌ کے اندر جو تا ہے یہ تانیث کی نہیں ہے بلکہ وحدت کی ہے، اس کا اطلاق مذکر پر بھی ہوتا ہے اور مؤنث پر بھی ہوتا ہے، اور عام طور پر کس کو استعمال کرتے ہیں ہل چلانے کے لیے؟ بیل کو استعمال کرتے ہیں بھئی۔ تو یہ حدیث ہماری دلیل ہے، اس میں ذکر آ گیا حَوَامِل، عَوَامِل وغیرہ کا بھی۔ اور نیز دوسری دلیل ذکر کر رہے ہیں، وہ عقلی دلیل بھی، کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ السَّبَبَ هُوَ الْمَالُ النَّامِي“ اور نیز اس لیے کہ وجوبِ زکوٰۃ کا سبب جو ہے وہ مالِ نامی ہے، وہ مال جو نامی ہو، بڑھنے والا ہو جس میں بڑھوتری پائی جائے، اور مالِ نامی کی دلیل کیا ہے؟ کہ کس مال کو مالِ نامی کہیں گے؟ کہتے ہیں: ”وَدَلِيلُهُ الْإِسَامَةُ أَوِ الْإِعْدَادُ لِلتِّجَارَةِ“ اور مالِ نامی ہونے کی دلیل اس کا سائِمہ ہونا ہے یعنی سال کا اکثر حصہ باہر چَر کر گزارنے والا ہو، تو مالِ نامی کی دلیل وہ سائِمہ ہونا ہے ”أَوِ الْإِعْدَادُ لِلتِّجَارَةِ“ یا تجارت کے لیے تیار کرنا ہے، کہ وہ مال کس لیے ہو؟ تجارت کے لیے ہو، تو پھر وہ مال نامی ہوگا۔ وہ مال کیا ہوگا؟ وہ مال نامی ہوگا۔ تو یہ دوسری دلیل ذکر کر رہے ہیں، ایک دلیل حدیث ذکر کر دی اور دوسری دلیل ذکر کر رہے ہیں بھئی کہ ان عَوَامِل، حَوَامِل اور عَلُوفَہ کے اندر زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی کیونکہ یہ مالِ نامی نہیں ہے، اور زکوٰۃ ہر مال میں نہیں آتی بلکہ کس مال میں آتی ہے؟ مالِ نامی کے اندر آتی ہے، اور مالِ نامی کا پتہ کس سے چلے گا؟ کہتے ہیں دو چیزیں ہیں، دو دلیلیں ہیں اس کی: یا تو وہ جانور کیسا ہونا چاہیے؟ سائِمہ ہو، تو یہ بھی معلوم ہوا وہ مالِ نامی ہے، یا وہ کس لیے ہو؟ تجارت کے لیے ہو تو یہ بھی دلیل ہے کہ یہ مالِ نامی۔ جبکہ سونا، چاندی، کرنسی وغیرہ اس میں تجارت کے لیے ہونا ضروری نہیں بلکہ ان کی تو تخلیق ہی کس لیے ہوئی ہے؟ ان کو اللہ نے پیدا ہی کس لیے فرمایا ہے؟ ان کو تو پیدا ہی تجارت کے لیے کیا گیا ہے بھئی، بطورِ ثَمَن کے ان کو پیدا کیا گیا کہ اس کے ذریعے کیا کریں گے؟ لوگ چیزوں کو خریدیں گے بھئی۔ تو باقی اور مالوں کے اندر دیکھنا پڑے گا کہ وہ سائِمہ ہے یا سائِمہ نہیں، اگر سائِمہ نہیں پھر دیکھیں گے کہ یہ مالِ تجارت ہے یا مالِ تجارت نہیں، تو ان میں سے کوئی ایک دلیل بھی ان میں پائی گئی تو اس کو مالِ نامی کہیں گے اور پھر اس میں زکوٰۃ سال گزرنے کے بعد واجب ہوگی ورنہ زکوٰۃ واجب نہیں۔ ”لِأَنَّ السَّبَبَ هُوَ الْمَالُ النَّامِي“ اس لیے کیونکہ وجوبِ زکوٰۃ کا سبب وہ مالِ نامی ہے ”وَدَلِيلُهُ الْإِسَامَةُ أَوِ الْإِعْدَادُ لِلتِّجَارَةِ“ اور مالِ نامی ہونے کی دلیل سائِمہ ہونا ہے یا تجارت کے لیے تیار کرنا ہے، یا کس لیے تیار کرنا ہے؟ تو بھئی وجوبِ زکوٰۃ کا سبب مالِ نامی ہے، اور مالِ نامی ہونے کی دلیل حیوانات کے اندر کیا ہے؟ یا تو وہ سائِمہ ہونے چاہییں یا ان کو کس لیے رکھا گیا ہو؟ تجارت کے لیے رکھا گیا ہو ”وَلَمْ يُوجَدْ“ اور ان میں سے کوئی دلیل نہیں پائی گئی۔ عَوَامِل، حَوَامِل اور عَلُوفَہ کے اندر ان دلیلوں میں سے کوئی دلیل نہیں پائی گئی، کون سی دلیلیں؟ سائِمہ ہونا یا تجارت کے لیے تیار ہونا، یہ سائِمہ بھی نہیں اور تجارت کے لیے بھی نہیں، تو ان کے اندر دلیل نہیں مالِ نامی ہونے کی، جب مالِ نامی ہونے کی دلیل نہیں تو یہ مالِ نامی بھی نہیں۔ دلیل ہوگی تو یہ مالِ نامی ہوں گے، دلیل نہیں تو مالِ نامی بھی نہیں۔ تو یہ مالِ نامی نہ ہوئے، اور مالِ نامی تو سبب تھا وجوبِ زکوٰۃ کا، تو وہ مالِ نامی جب یہ نہیں ہے تو ان میں بھی زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ ”وَلِأَنَّ فِي الْعَلُوفَةِ“ عَلُوفَہ زیادتی تو اس کے اندر بھی ہوتی ہے، ایک جانور ہے اس کو آپ گھر پر چارہ لا کر کھلاتے ہیں لیکن اس میں بھی نَماء تو ہوتی ہے، اس کی مثلاً اولاد وغیرہ آگے اس کے بچے ہوتے ہیں، تو زیادتی اس میں آ گئی یا نہیں آ گئی؟ تو اس کا بھی جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ، کہتے ہیں بھئی کہ یہ عَلُوفَہ جانور جو ہیں اس میں اگرچہ نَماء ہوتی ہے، ان میں نَماء ہوتی ہے لیکن سارا سال ان کو چارہ کھلانے کی مشقت اور خرچہ بھی تو اٹھانا پڑتا ہے، تو وہ اتنا خرچہ ہو جاتا ہے اور اتنی مشقت ہو جاتی ہے کہ اس کے مقابلے میں یہ نَماء گویا ہے ہی کچھ نہیں، یہ زیادتی یہ ہے ہی کچھ نہیں، تو لہٰذا اس مشقت کی وجہ سے یہاں وہ نَماء بھی کیا ہو جاتی ہے؟ معدوم ہو جاتی ہے، تو نَماء گویا پائی نہیں گئی، اور جب نَماء نہیں پائی گئی تو یہ مالِ نامی نہیں، جب مالِ نامی نہیں تو اس کے اندر زکوٰۃ بھی واجب نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ فِي الْعَلُوفَةِ تَتَرَاكَمُ الْمُؤْنَةُ فَيَنْعَدِمُ النَّمَاءُ مَعْنًى“ اور اس لیے کیونکہ عَلُوفَہ جانور جو ہے اس میں تَتَرَاكَمُ، تَرَاكُمٌ کا معنی ہوتا ہے جمع ہونا، ڈھیر لگنا، انبار لگنا۔ اس لیے کیونکہ عَلُوفَہ جانور کے اندر مُؤْنَة یعنی مشقت اور خرچے کا جو ہے ڈھیر لگ جاتا ہے، مسلسل کیا کرنا پڑتا ہے ان کو؟ چارہ لا کر کھلانا پڑتا ہے، ”فَيَنْعَدِمُ النَّمَاءُ مَعْنًى“ تو لہٰذا وہ جو ان کے اندر نَماء ہوتی ہے بڑھوتری وہ معدوم ہو جاتی ہے مَعْنًى باعتبار معنی کے۔ معنی کے اعتبار سے کیا ہو جاتی ہے؟ بھئی ظاہری اعتبار سے تو معدوم نہیں، اس کے بچے ہیں، بچے ہوئے ہیں اس جانور کے جو عَلُوفَہ ہے، بچے بڑھ رہے ہیں، وہ تو ختم نہیں وہ تو زندہ ہیں لیکن اتنا خرچہ ہوا کہ اس خرچے کے سامنے وہ زیادتی بھی گویا لا زیادتی ہے کہ گویا کچھ زیادتی اس میں ہوئی ہی نہیں۔ یہ معنی ہے کہ ”فَيَنْعَدِمُ النَّمَاءُ مَعْنًى“ تو وہ نَماء وہ زیادتی معنی کے اعتبار سے کیا ہو جاتی ہے؟ معدوم ہو جاتی ہے۔ ”ثُمَّ السَّائِمَةُ هِيَ الَّتِي تَكْتَفِي بِالرَّعْيِ فِي أَكْثَرِ الْحَوْلِ“ اچھا! سائِمہ جانور کس کو کہتے ہیں؟ اب صاحبِ ہدایہ وہ بیان فرما رہے ہیں۔ کہتے ہیں سائِمہ جانور ”هِيَ الَّتِي“ یہ وہ جانور ہے ”الَّتِي تَكْتَفِي بِالرَّعْيِ“، رَعَى يَرْعَى کے معنی ہوتے ہیں چرنے کے، جو ”الَّتِي تَكْتَفِي بِالرَّعْيِ“ جو چرنے پر اکتفاء کرتا ہے ”فِي أَكْثَرِ الْحَوْلِ“ سال کے اکثر حصے میں، یعنی سال کا اکثر حصہ وہ باہر مباح جنگلوں میں چَر کر گزارتا ہے، یعنی وہ چرنے کا بھی معاوضہ، ان جنگلوں کا معاوضہ نہیں دینا پڑتا، یہ قید میں پہلے ذکر کر چکا ہوں۔ تو جو سال کا اکثر حصہ چَر کر گزارتا ہے، ”حَتَّى لَوْ أَعْلَفَهَا نِصْفَ الْحَوْلِ أَوْ أَكْثَرَ كَانَتْ عَلُوفَةً“ یہاں تک کہ اگر اس کو چارہ کھلایا آدھا سال گھر پر ”أَوْ أَكْثَرَ“ یا اس سے زیادہ ”كَانَتْ عَلُوفَةً“ تو پھر وہ سائِمہ نہیں ہوگا بلکہ عَلُوفَہ ہوگا ”لِأَنَّ الْقَلِيلَ تَابِعٌ لِلْأَكْثَرِ“ اس لیے کیونکہ قلیل جو ہے وہ اکثر کے تابع ہوتا ہے۔ قلیل کیا ہوتا ہے؟ اکثر کے تابع ہوتا ہے۔ تو یہ دلیل ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ بھئی دیکھیے دراصل سائِمہ جانور جو ہیں نا سائِمہ جانور، جو جانور سارا سال باہر چَر کر گزارتا ہے وہ تو بالاتفاق سائِمہ ہے، وہ تو بالاتفاق سائِمہ ہے۔ البتہ اگر اس سائِمہ جانور کو چند دن گھر پر چارہ لا کر کھلایا گیا، مثلاً دو چار دن ہی چارہ گھر پر لا کر کھلایا گیا سال بھر کے اندر، تو کیا پھر بھی یہ سائِمہ رہے گا یا سائِمہ نہیں رہے گا؟ تو بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ نہیں، دو چار دن بھی اگر اس کو گھر پر چارہ لا کر کھلانا پڑتا ہے تو یہ سائِمہ نہیں، یہ سائِمہ نہیں۔ جبکہ احناف نے متوسط راستے کا انتخاب کیا کہ نہیں بھئی، تھوڑا بہت تو کبھی چارہ گھر پر لا کر کھلانا ہی پڑتا ہے، سمجھ میں آیا؟ مثلاً بھئی بعض اوقات کوئی بارشیں وغیرہ یا کوئی ایسا مسئلہ بن گیا کہ جانور کو جنگل بھیجا ہی نہیں بلکہ کیا کرنا پڑا؟ گھر پر ہی چارہ کھلانا پڑا، یا مثلاً کوئی بڑا ٹھنڈا علاقہ ہے وہاں برفباری زیادہ ہو گئی تو کئی دن اس کو پھر گھر پر چارہ کھلانا پڑا، تو تھوڑا بہت تو سائِمہ جانور کو بھی کبھی کبھار گھر میں چارہ کھلانا ہی پڑتا ہے اس کو چارہ لا کر، تو اس سے وہ سائِمہ ہونے سے خارج نہیں ہو جائے گا بلکہ اس کو پھر بھی کیا قرار دیا جائے گا؟ سائِمہ، کیونکہ اکثر... سال کا اکثر حصہ تو وہ جنگل میں چَر کر گزارتا رہا، اور جب اکثر حصہ اس نے چَر کر گزارا ہے تو اقل اکثر کے تابع شمار ہوگا اور یوں سمجھا جائے گا گویا سارا سال ہی اس نے جنگل میں چَر کر گزارا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّ الْقَلِيلَ تَابِعٌ لِلْأَكْثَرِ“ اس لیے کیونکہ قلیل جو ہوتا ہے وہ اکثر کے تابع ہوتا ہے، تو اگر تھوڑا بہت اس کو گھر پر چارہ کھلایا بھی گیا تو اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ قلیل ہے اور یہ اکثر کے تابع ہے، تو گویا اس کو بھی یوں ہی شمار کیا جائے گا کہ وہ جنگل میں چَر کر ہی چَرتا ہی رہا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّ الْقَلِيلَ تَابِعٌ لِلْأَكْثَرِ“ کیونکہ قلیل کیا ہے؟ اکثر کے تابع ہوتا ہے، تو یہاں بھی اگر قلیل اس کو گھر پر چارہ کھلایا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ ”وَلَا يَأْخُذُ الْمُصَدِّقُ خِيَارَ الْمَالِ وَلَا رُذَالَتَهُ وَيَأْخُذُ الْوَسَطَ“ خِيَارُ الْمَال، خِيَارُ الْمَال کہتے ہیں مال کا سب سے عمدہ اور قیمتی حصہ، اور رُذَالَةُ الْمَال، رُذَالَة، رُذَالَة کے معنی سب سے ادنٰی اور گھٹیا حصہ، سب سے ادنٰی اور گھٹیا حصہ۔ بھئی میں نے بتلایا تھا کہ صاحبِ ہدایہ آگے چل کر آپ کو بتائیں گے کہ زکوٰۃ میں کس قسم کا مال لیا جائے؟ متوسط درجے کا مال لیا جائے، تو وہ اب ذکر کر رہے ہیں۔ فرماتے ہیں: ”وَلَا يَأْخُذُ الْمُصَدِّقُ خِيَارَ الْمَالِ وَلَا رُذَالَتَهُ“ اور صدقہ لینے والا وہ سب سے عمدہ مال بھی نہ لے ”وَلَا رُذَالَتَهُ“ اور سب سے ادنٰی مال بھی نہ لے ”وَيَأْخُذُ الْوَسَطَ“ اور کس قسم کا مال لے؟ متوسط درجے کا مال لے گا۔ دلیل اس کی؟ کہتے ہیں: ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: لَا تَأْخُذُوا مِنْ حَزَرَاتِ“ حَزَرَات نہیں بھئی، یہ زا مقدم ہے بھئی، را مؤخر ہے: حَزَرَات۔ حدیث کے اندر کیا لفظ آتا ہے؟ حَزَرَات، زا مقدم ہے بھئی۔ اگرچہ معنی دونوں صورتوں میں یہی بنتا ہے، معنی درست رہتا ہے دونوں صورتوں میں، چاہے را کو مقدم کر دیں چاہے را کو مؤخر کر دیں، لیکن حدیث کے اندر زا مقدم آئی ہے۔ تو بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے: ”لَا تَأْخُذُوا مِنْ حَزَرَاتِ أَمْوَالِ النَّاسِ، أَيْ كَرَائِمِهَا“ حَزَرَاتِ أَمْوَال کا کیا معنی؟ ”أَيْ كَرَائِمِ الْأَمْوَالِ“ بھئی، ہا ضمیر کس کو راجع؟ أَمْوَالُ النَّاس کو بھئی۔ تو كَرَائِمُ الْأَمْوَال بھئی عمدہ اور قیمتی مال۔ كَرَائِمُ الْأَمْوَال کا کیا معنی؟ عمدہ اور... تو حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”لَا تَأْخُذُوا مِنْ حَزَرَاتِ أَمْوَالِ النَّاسِ“ لوگوں کے مالوں کے حَزَرَات نہ لو ”أَيْ كَرَائِمِهَا“ یعنی ان کے مال کا عمدہ حصہ نہ لو ”وَخُذُوا مِنْ حَوَاشِي أَمْوَالِهِمْ“ اور ان کے اموال کے حواشی لو ”أَيْ أَوْسَاطِهَا“ یعنی متوسط درجے کے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ حدیث ہے اور ”أَيْ كَرَائِمِهَا“ یہ صاحبِ ہدایہ معنی بیان کر رہے ہیں درمیان میں، اور اسی طرح حدیث آگے: ”مِنْ حَوَاشِي أَمْوَالِهِمْ“ یہ حدیث اور آگے صاحبِ ہدایہ نے معنی بیان کیا کہ حواشیِ اموال کا کیا معنی؟ ”أَيْ أَوْسَاطِهَا“ متوسط درجے کے مال لو بھئی۔ تو دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ زکوٰۃ میں کس قسم کا مال لیا جائے گا؟ متوسط درجے کا مال لیا جائے گا اور یہ حدیث میں آ گیا بھئی حدیث میں، تو یہ نقلی دلیل ہوئی۔ آگے عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں: ”وَلِأَنَّ فِيهِ نَظَرًا مِنَ الْجَانِبَيْنِ“ نَظَر کا معنی ہے لحاظ بھئی، اور اس لیے کیونکہ اس کے اندر دونوں جانبوں کا لحاظ ہے۔ متوسط درجے کا مال لیں گے تو دونوں جانبوں کا لحاظ، دونوں جانبیں؟ بھئی ایک ہے زکوٰۃ دینے والا وہ مال کا مالک، اور ایک ہے زکوٰۃ لینے والا یعنی فقیر اور محتاج۔ تو متوسط درجے کا مال لیں گے تو دونوں کی رعایت ہو جائے گی، کیونکہ اگر اعلٰی درجے کا مال لیں گے تو بیچارے مالک کا نقصان ہے، اور اگر بالکل ادنٰی درجے کا مال لیں گے تو فقراء کو تھوڑا مال ملے گا، ان بیچاروں کا نقصان ہے۔ البتہ متوسط درجے کا مال لیا جائے تو اس میں دونوں کی رعایت ہے، دونوں کا لحاظ ہے۔ یہ معنی ہے: ”وَلِأَنَّ فِيهِ نَظَرًا مِنَ الْجَانِبَيْنِ“ اور اس لیے کیونکہ اس کے اندر دونوں جانبین کا لحاظ ہے۔ ”قَالَ: وَمَنْ كَانَ لَهُ نِصَابٌ فَاسْتَفَادَ فِي أَثْنَاءِ الْحَوْلِ مِنْ جِنْسِهِ ضَمَّهُ إِلَيْهِ وَزَكَّاهُ بِهِ“ بھئی دیکھیے یاد رکھیے، یہاں مسئلہ یہ ذکر کر رہے ہیں کہ اگر کسی شخص کے پاس مثلاً اونٹوں کا نصاب ہے اور سال کے درمیان میں اس کو کچھ اور اونٹ وغیرہ مزید مل گئے تو کیا ان نئے ملنے والے اونٹوں کو بھی پچھلے نصاب کے ساتھ ملا کر سال کے اختتام پر ان کی زکوٰۃ اکٹھی ادا کی جائے گی یا یہ جو نئے اونٹ ملے ہیں ان کا علیحدہ سے حساب کیا جائے گا اور ان کا سال الگ شمار کیا جائے گا؟ تو یاد رکھیے بھئی! تفصیلِ مسئلہ کہ اب کسی شخص کو درمیانِ سال میں جو مال حاصل ہوگا مثلاً ایک شخص کے پاس اونٹوں کا نصاب ہے اور سال شروع ہو چکا ہے بھئی، اور سال چل رہا ہے، درمیان میں اس کو کچھ اور مال حاصل ہوا۔ تو اگر... تو اگر یہ مال بھئی انہی جانوروں سے حاصل ہوا، مطلب انہی کے اور بچے ہو گئے درمیانِ سال میں یا ان کے اور منافع وغیرہ ہوئے، تو پھر یاد رکھیے یہ بچے اور منافع جب انہی سے حاصل ہوئے ہیں پھر تو بالاتفاق جب اس نصاب کا سال پورا ہوگا تو ان کو بھی ساتھ ہی شمار کریں گے اور ساروں کی زکوٰۃ دیں گے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ کس صورت میں؟ جبکہ وہ جو زیادتی حاصل ہوئی ہے وہ انہی سے حاصل ہوئی ہے، انہی کے بچے وغیرہ ہیں۔ تو مثلاً سال کے شروع میں جب نصاب شروع ہوا تھا دس اونٹ تھے، اور سال کے اختتام پر فرض کریں کتنے ہو گئے؟ پندرہ ہو گئے، تو دس... دس پر تو سال پورا ہو گیا، اور یہ جو پانچ بچے درمیان میں ہوئے ہیں ان کا تو ابھی مثلاً کتنا عرصہ گزرا ہے؟ مثلاً ان پر ابھی چھ مہینے گزرے ہیں لیکن نہیں، ان کو یہ چونکہ انہی سے حاصل ہوئے ہیں لہٰذا یہ ان کے تابع ہیں، تو جب ان پر سال پورا ہوگا تو یوں سمجھا جائے گا ان پر بھی سال پورا ہو گیا، تو اب ساروں کی زکوٰۃ دیں گے اور دو بھیڑ بکریاں نہیں آئیں گی بلکہ تین بھیڑ بکریاں آ جائیں گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ یہ تو وہ صورت تھی کہ مال سال کے درمیان حاصل ہوا اور انہی جانوروں کی اولاد وغیرہ ہے۔ اور اگر مال سال کے جو درمیان میں حاصل ہوا اس کی جنس ہی علیحدہ ہے، مثلاً اس کے پاس نصاب تھا اونٹوں کا اور درمیان میں اس کے پاس آ گئیں مثلاً تیس گائے، تیس گائے آ گئیں، تو اب اونٹوں کے تو چھ ماہ گزر چکے ہیں اور گائے کا نصاب پھر اس صورت میں بالاتفاق علیحدہ ہوگا کیونکہ گائے الگ جنس ہے، اونٹ الگ جنس ہیں، تو ان کا اب سال اب سے شمار شروع ہوگا اور پھر جب ان پر پورا سال ہوگا تب ان میں زکوٰۃ واجب ہوگی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ جب جنس الگ ہو تو پھر تو اس کا علیحدہ شمار کریں گے۔ لیکن اگر جنس ایک ہی ہو، جنس ایک ہی ہو اور انہی جانوروں سے وہ حاصل نہیں ہوئے، کسی اور سبب سے حاصل ہوئے ہیں۔ مثلاً ایک شخص کے پاس اونٹوں کا نصاب ہے، سال کے شروع میں کتنے اونٹ تھے؟ دس اونٹ، اور درمیان میں اس نے دس مزید اونٹ خرید لیے، تو اب یہ انہی کی اولاد ہے یا نئے خریدے ہیں؟ نئے خریدے ہیں تو ان کا سبب اور ہے۔ تو اس صورت میں اختلاف ہے جب سبب الگ ہو۔ ہمارے نزدیک بھئی سبب بےشک الگ ہو پھر بھی یہ چونکہ انہی اونٹوں کی جنس میں سے ہیں یہ نئے اونٹ بھی، تو سال کے اختتام پر ان سب کی زکوٰۃ دینا پڑے گی۔ ان اونٹوں پر چھ ماہ گزر چکے تھے اس کے بعد یہ نئے دس اونٹ اس نے خریدے ہیں، لیکن اگلے ہی چھ ماہ کے بعد پہلے اونٹوں کا سال پورا ہو رہا ہے تو ان نئے اونٹوں کا بھی یوں سمجھا جائے گا ان پر بھی سال پورا ہو گیا ہے، ان کی بھی اکٹھی زکوٰۃ ادا کی جائے گی۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نہیں، جب ان کا سببِ ملک الگ ہے یعنی وہ تو مملوک تھے اور سبب سے، ان کا وہ پہلے سے مالک ہے اور سبب سے، اور اس نئے اونٹوں کا مالک ہوا ہے نئے سبب کی وجہ سے، مثلاً اس نے خریدا ہے یا یہ نئے اونٹ اس کو کسی نے تحفے کے طور پر دیے تھے یا یہ نئے اونٹ جو ہیں اس کو بطورِ وراثت کے ملے ہیں، تو یہ سببِ ملک ان کا علیحدہ، ان کے مملوک ہونے کا سبب ان اونٹوں کی وجہ سے ان اونٹوں کا مالک نہیں بنا، ان کا سبب الگ تھا، یہ انہی کی اولاد نہیں ہے بلکہ یہ ایک الگ سبب سے ان کا مالک بنا ہے، اور وہ کیا سبب ہے مثلاً؟ ان کو خریدا ہے یا یہ کس طرح مالک بنا ان کا؟ بطورِ وراثت کے ملے ہیں، یا کس طرح مالک بنا ہے؟ ہبہ کے ذریعے مالک بنا، کسی نے اس کو تحفے کے طور پر دیے ہیں، تو ان کا سبب الگ۔ جب سبب الگ ہے تو ان کا سال بھی الگ شمار کریں گے۔ کس کے نزدیک؟ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک۔ جبکہ ہمارے نزدیک جنس جب ایک ہو، جب جنس ایک ہو تو ان کو ملایا جائے گا ان کے ساتھ۔ وہ فرماتے ہیں جنس ایک ہونے کو نہیں دیکھا جائے گا بلکہ سببِ ملک کو دیکھا جائے گا، سببِ ملک الگ ہو تو سال بھی علیحدہ ہی شمار کریں گے۔ اختلاف سمجھ میں آیا بھئی؟ اب دیکھیے کتاب پر بھئی: ”قَالَ: وَمَنْ كَانَ لَهُ نِصَابٌ“ اور جس شخص کے پاس کوئی نصاب تھا ”فَاسْتَفَادَ فِي أَثْنَاءِ الْحَوْلِ مِنْ جِنْسِهِ“ پس اس کو حاصل ہوا سال کے دوران میں، سال کے بیچ میں ”مِنْ جِنْسِهِ“ اسی نصاب کی جنس میں سے اور مال آ گیا، مثلاً اس کے پاس اونٹ تھے اور اور کیا آ گئے؟ اسی کی جنس میں سے یعنی اور اونٹ اس کو حاصل ہو گئے ”ضَمَّهُ إِلَيْهِ“ تو ان اونٹوں کو بھی کیا کرے گا؟ ان کے ساتھ ملائے گا ”وَزَكَّاهُ بِهِ“ اور ان کی بھی زکوٰۃ اس نصاب کے ساتھ دے گا ہمارے نزدیک۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يُضَمُّ“ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ جو مستفاد مال ہے، یہ جو نیا مال حاصل ہوا ہے اس کو نہیں ملایا جائے گا اس پرانے نصاب کے ساتھ۔ کیوں؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ أَصْلٌ فِي حَقِّ الْمِلْكِ“ اس لیے کیونکہ یہ جو مستفاد مال ہے یہ اصل ہے حقِ ملک میں، ملکیت کے حق میں یہ اصل ہے، یہ ان کے تابع نہیں۔ بھئی دیکھیے، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان پہلے اونٹوں سے جو اولاد یا منافع حاصل ہوتے ہیں ان کا مالک انسان اس لیے بنتا ہے کہ وہ اولاد یا منافع اصل کے تابع ہوتے ہیں، اور انہی دس اونٹوں کے بچے ہیں تو وہ ان کے تابع ہوں گے اور ان کا یہ شخص مالک ہے تو بچوں کا بھی وہی شخص مالک ہوگا۔ کیوں مالک ہوگا ان بچوں اور منافع کا؟ کیونکہ وہ اصل کا مالک ہے اور یہ اس کے اصل کے یہ بچے وغیرہ تابع، تو جب اصل کا مالک ہے تو تابع کا بھی کیا ہوگا؟ مالک ہوگا۔ تابع کا بھی مالک ہوگا۔ جبکہ یہ جو درمیانِ سال میں اس کو کہیں اور سے اونٹ ملے یہ اس مال کے پرانے نصاب کے تابع نہیں، یہ ان کی اولاد وغیرہ نہیں۔ تو یہ ان کے تابع نہیں، یہ مملوک ہونے کے حق میں اصل ہیں، ان کا سبب اور، اور وہ پچھلے نصاب کے مملوک ہونے کا سبب اور۔ تو یہ مملوک ہونے میں یہ ان کے تابع ہیں یا یہ خود اصل ہیں یہ جو مالِ مستفاد ہے؟ یہ خود اصل۔ جب یہ خود اصل ہے تو یہ اپنے زکوٰۃ کے حکم میں بھی اصل رہیں گے، اس کے تابع نہیں ہوں گے، انہی کے ساتھ ملا کر سال نہیں شمار کریں گے بلکہ یہ اصل ہیں تو ان کا باقاعدہ الگ سے سال شمار کرنا پڑے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ یہ معنی ہے، وہ فرماتے ہیں نہیں ملایا جائے گا اس کو: ”لِأَنَّهُ أَصْلٌ فِي حَقِّ الْمِلْكِ فَكَذَا فِي وَظِيفَتِهِ“ اس لیے کیونکہ یہ مال جو حاصل ہوا ہے یہ ملکیت یعنی مملوک ہونے کے حق میں خود اصل ہے ”فَكَذَا فِي وَظِيفَتِهِ“ تو اسی طرح اپنے وظیفے یعنی اپنے زکوٰۃ میں بھی زکوٰۃ کے حکم میں بھی اصل رہے گا یعنی ان کا سال الگ شمار کریں گے، ”بِخِلَافِ الْأَوْلَادِ وَالْأَرْبَاحِ“ بخلاف اولاد کے اور منافع کے ”لِأَنَّهَا تَابِعَةٌ فِي الْمِلْكِ“ اس لیے کیونکہ وہ ملکیت کے اندر تابع ہوتے ہیں، ملکیت میں تابع ہوتے ہیں ”حَتَّى مُلِكَتْ بِمِلْكِ الْأَصْلِ“ یہاں تک کہ وہ مملوک ہوتے ہیں اصل کے مملوک ہونے کی وجہ سے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو بچے اور منافع اسی مال سے حاصل ہوں ان کا بھی یہی شخص مالک ہوتا ہے، ان بچوں اور منافع... اور کیوں ان بچوں کا مالک کیوں ہوتا ہے یہ؟ کیونکہ وہ اصل کا مالک ہے، جو اصل اونٹ تھے ان کا مالک ہے تو پھر اور یہ بچے ان کے تابع، تو لہٰذا ان کا بھی وہ مالک ہوگا۔ تو لہٰذا جب یہ ملکیت کے اندر ان کے تابع ہیں تو زکوٰۃ کے اندر بھی ان کے تابع ہوں گے اور انہی کے ساتھ ان کا بھی سال شمار کیا جائے گا۔ اور جبکہ وہ نئے اونٹ حاصل ہوئے تھے وہ تو اس اس پرانے نصاب کے تابع نہیں، وہ تو خود اصل ہیں، مملوک ہونے میں خود اصل، جب مملوک ہونے میں خود اصل ہیں تو زکوٰۃ کے حکم میں بھی اصل ہی رہیں گے۔ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل جو ہے ”أَنَّ الْمُجَانَسَةَ هِيَ الْعِلَّةُ فِي الْأَوْلَادِ وَالْأَرْبَاحِ“ ہماری دلیل یہ ہے کہ مجانست ہی علت ہے یعنی ملانے کی، مجانست ہی علت ہے ملانے کی ”فِي الْأَوْلَادِ وَالْأَرْبَاحِ“ اولاد اور منافع کے اندر۔ بھئی امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ایک مال کو دوسرے مال کے ساتھ ملائیں گے اور اسی کے ساتھ اس کا سال شمار کریں گے کب؟ جب وہ مملوک ہونے میں دوسرے کے تابع ہو۔ جیسے بچے جو تھے وہ مملوک ہونے میں... بچے جو تھے وہ مملوک ہونے میں اصل کے تابع تھے، تو وہ فرماتے ہیں مملوک ہونے میں دیکھا جائے گا، ایک ایک ہی جنس کے جانور ہیں تو پھر دیکھا جائے گا کہ یہ ان کا مالک انسان کسی الگ سبب سے بنا ہے یا انہی اصل کی وجہ سے بنا ہے یعنی وہ اس کے انہی کے انہی کی وہ اولاد ہے۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ ایک شخص ہے اس کے پاس مثلاً ایک مال جیسے اونٹ موجود ہیں، سال کے درمیان اس کو کچھ اور اونٹ حاصل ہوئے، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ دیکھو کہ ان نئے اونٹوں کا جو مالک بنا ہے یہ شخص یہ انہی کی وجہ سے بنا ہے یعنی انہی کی اولاد ہیں یا ان کی اولاد نہیں؟ اگر یہ انہی کی اولاد ہیں تو اس اولاد کا مالک کیوں ہوا یہ شخص؟ کیونکہ اصل اس کے مملوک تھے تو اولاد بھی اس کی مملوک، تو اولاد تابع ہوتی ہے اصل کے کس چیز کے اندر؟ مملوک ہونے، جب مملوک ہونے میں یہ اصل کے تابع ہے تو وظیفۂ زکوٰۃ میں بھی ان کے تابع ہوں گے۔ اور اگر ان کا سببِ مملوکیت علیحدہ ہے تو پھر ان کو علیحدہ ہی شمار کریں گے، یہ اس کے تابع نہیں بنیں گے کیونکہ یہ خود اصل ہیں، تو یہ دوسرے کے تابع نہیں۔ تو ان کے نزدیک ایک ہی جنس کے جانور ہوں تو ان کو ملایا جائے گا کس صورت میں؟ توجہ میرا خیال نہیں ہے سبق کی طرف۔ بھئی یہ ذہن سے نکال دیں کہ مال کہیں سے خریدا ہے یا انہی کی اولاد ہے، بس مطلقاً ایک بات رکھیں: ایک دو صورتیں بنتی ہیں یہاں، اونٹ مثلاً ایک نصاب پہلے سے موجود ہے اس پر سال چل رہا ہے، چھ ماہ گزر چکے ہیں، اب کچھ اور اونٹ آ گئے اور دو صورتیں ہیں اور اونٹ آنے کی: یا تو انہی اونٹوں کے کیا ہو گئے؟ بچے ہو گئے، یا کہیں سے اور اس نے اونٹ خرید لیے یا ہبہ وغیرہ کے طور پر اس کو اونٹ مل گئے۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کس صورت میں ملائیں گے اور کس صورت میں نہیں ملائیں گے؟ وہ کیا فرماتے ہیں؟ کس چیز کو دیکھو؟ سببِ ملک کو دیکھو۔ یہ نئے اونٹوں کا مالک انسان کیوں ہوا؟ اسی اصل کی وجہ سے؟ اگر اسی اصل کی وجہ سے یہ مملوک ہوئے ہیں یعنی انہی کی اولاد ہے تو جب یہ مملوک ہونے میں ان کے تابع ہیں تو زکوٰۃ میں بھی ان کے تابع ہوں گے۔ اور اگر یہ الگ سبب سے ان کا مالک ہوا ہے یعنی خریدا ہے تو یہ شخص کیوں مالک بنا ان کا؟ خریدنے کی وجہ سے، ان پرانے اونٹوں کی وجہ سے ان کا مالک... تو یہ مملوک ہونے میں ان کے تابع نہیں، جب یہ مملوک ہونے میں ان کے تابع نہیں تو وظیفۂ زکوٰۃ میں بھی یہ ان کے تابع نہیں۔ تو معلوم ہوا امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ایک ہی جنس کے جانوروں کو ملایا جائے گا وظیفۂ زکوٰۃ میں کب؟ جب وہ مملوک ہونے میں پہلوں کے تابع ہوں، مملوک ہونے میں تابع نہیں تو نہیں ملایا جائے گا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ جبکہ ہمارے نزدیک ملانے کی علت وہ مملوک ہونے کا سبب نہیں ہے کہ اس میں تابع ہو یہ دیکھا جائے، بلکہ ہمارے نزدیک جو ملانے کی علت ہے وہ مجانست ہے کہ دونوں ایک جنس کے ہوں، بس پھر ملایا جائے گا۔ یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ اس کا سبب الگ ہے یا سبب الگ نہیں۔ لہٰذا ہمارے نزدیک چاہے سال کے اندر اونٹوں کے بچے ہو گئے تو بھی اونٹوں کے بچے کس جنس میں سے ہیں؟ اونٹ کی، اسی جنس جب جنس ایک ہے تو بس ملانا پڑے گا۔ سال کے اندر بھئی، سال کے بیچ میں اس نے کہیں سے کچھ اونٹ خرید لیے، کچھ اس کو مزید مل گئے وراثت کے طور پر مل گئے، اور کچھ بالکل آخری گیارہویں مہینے کے اندر اس کو اس کو کسی نے تحفے کے طور پر دے دیے، ہم کہتے ہیں جیسے ہی بارہواں مہینہ پورا ہوگا دیکھو یہ ساروں کی جنس ایک ہے یا جنس ایک نہیں ہے؟ جنس ایک ہے تو بس جب مجانست ہے تو ساروں کو ملا لیں گے اور یوں سمجھا جائے گا کہ ان سب پر سال پورا ہو گیا اور ساروں کی زکوٰۃ دینا پڑے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو ہمارے نزدیک زکوٰۃ کے اندر ملانے کی علت کیا ہے؟ مجانست ہے، اسی جنس کا مال ہے تو اس کو اس کے ساتھ ملایا جائے گا۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ملانے کی علت کیا ہے؟ سببِ ملک ہے ان کے نزدیک، اس میں اگر وہ تابع ہے تو ملائیں گے، تابع نہیں تو نہیں ملائیں گے۔ ”وَلَنَا أَنَّ الْمُجَانَسَةَ هِيَ الْعِلَّةُ فِي الْأَوْلَادِ وَالْأَرْبَاحِ“ اور ہمارے نزدیک مجانست یعنی ایک جنس والا ہونا یہی علت ہے اولاد اور ارباح، اولاد اور منافع میں بھی۔ ہمارے نزدیک بھئی اولاد اور منافع کو بھی کیا کیا جائے گا؟ اصل اونٹوں کے ساتھ زکوٰۃ کے حساب میں ملایا جائے گا، لیکن اس وجہ سے نہیں ملایا جائے گا کہ یہ مملوکیت میں ان کے تابع ہیں بلکہ کس وجہ سے ملایا جائے گا؟ کہ یہ کہ ان سب کی جنس کیا ہے؟ ایک، تو مجانست کی وجہ سے ان کو ملایا جائے گا۔ یہ معنی ہے کہ ”أَنَّ الْمُجَانَسَةَ هِيَ الْعِلَّةُ فِي الْأَوْلَادِ وَالْأَرْبَاحِ“ کہ باہم ایک جنس کا ہونا یہی علت ہے اولاد اور منافع کے اندر بھی، یعنی ملانے کی علت ہے اولاد اور منافع کے اندر بھی ”لِأَنَّ عِنْدَهَا يَتَعَسَّرُ التَّمْيِيزُ“ اس لیے کیونکہ مجانست کے وقت جو ہے امتیاز کرنا، فرق کرنا مشکل ہو جائے گا ”فَيَعْسُرُ اعْتِبَارُ الْحَوْلِ لِكُلِّ مُسْتَفَادٍ“ تو مشکل ہو جائے گا سال کا اعتبار کرنا ہر مستفاد کے لیے۔ دلیل ہماری ابھی چل رہی ہے۔ ہمارے نزدیک اولاد اور منافع کو بھی اصل مال کے ساتھ اصل نصاب کے ساتھ ملایا جاتا ہے اور اس کی علت کیا ہے؟ مجانست ہے کہ جنس ایک ہے، جب جنس ایک ہو تو سب کو ملایا جائے گا، سببِ ملک کو دیکھا ہی نہیں جائے گا، تو اولاد کی بھی وہی جنس ہے لہٰذا ملائیں گے بھئی، سمجھ میں آیا؟ اسی طرح منافع کے اندر وہی جنس ہے مثلاً ایک آدمی کے پاس دراہم کا نصاب ہے اور اس کو اور دراہم سال کے اندر حاصل ہوتے ہیں تو ان کی... نصاب بھی پہلے کون سا تھا؟ دراہم کا، اور نیا مال جو حاصل ہوا وہ بھی کیا ہے؟ دراہم، تو جنس ایک ہے تو بس ملایا جائے گا اور سال کے آخر پر سب کی زکوٰۃ دینا پڑے گی، کیونکہ ہمارے نزدیک ملانے کی علت کیا ہے؟ مجانست ہے۔ کیونکہ اگر ہر ایک کا الگ حساب کیا جائے تو انسان بڑی مشکل میں پڑ جائے گا، مشکل میں پڑ جائے گا۔ مثلاً ایک شخص کے پاس سال کے شروع میں کچھ جانور موجود ہیں نصاب کے بقدر، پھر سال کے اندر اسی قسم کے کچھ جانور اس نے خرید لیے، پھر کچھ جانور اس کو بطورِ وراثت کے اسی طرح مل گئے، یا کچھ جانور اسی طرح اس کو اسی جنس کے کسی نے تحفے کے طور پر دے دیے، یا پھر سال کے اندر اس نے کئی مرتبہ اسی قسم کے جانور خریدے بھئی، تو اب سارے ایک جنس کے ہیں۔ جب ایک جنس کے ہیں، ایک جیسے ہیں تو اب ان میں فرق کرنا کہ یہ فلاں والا میں نے فلاں تاریخ کو خریدا تھا اس کو فلاں وقت پہ اس کا سال پورا ہوگا، فلاں والے جو میں نے مجھے تحفے کے طور پر ملے تھے یہ فلاں مہینے کے اندر ملے تھے ان کا فلاں وقت پر جا کر سال پورا ہوگا، تو ایک ہی جنس والے ہیں یہ تو سارے مل جل... ملے جلے ہوں گے، تو ان میں فرق کرنا اور ہر ایک کا الگ الگ حساب رکھنا یہ بڑا مشکل ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّ عِنْدَهَا يَتَعَسَّرُ التَّمْيِيزُ“، عِنْدَهَا کی ہا ضمیر راجع ہے مجانست کو، اس لیے کیونکہ مجانست کے پائے جاتے وقت ”يَتَعَسَّرُ التَّمْيِيزُ“ مشکل ہو جائے گا، کیا چیز مشکل ہو جائے گی؟ فرق کرنا۔ ایک ہی جنس کی چیزیں ہیں سارے اونٹ ہی ہیں تو سب میں فرق کرنا کہ یہ فلاں وقت خریدا تھا، یہ فلاں وقت خریدا تھا، ان میں فرق کرنا مشکل ہو جائے گا ”فَيَعْسُرُ اعْتِبَارُ الْحَوْلِ لِكُلِّ مُسْتَفَادٍ“ تو مشکل ہو جائے گا سال کا اعتبار کرنا ہر حاصل ہونے والے مال کے لیے۔ ہر ایک کا علیحدہ جب ایک ہی قسم کے ہیں تو فرق کرنا ہی مشکل ہو جائے گا یہ کس وقت خریدا تھا، یہ کس وقت خریدا تھا، یہ کس وقت خریدا تھا، سب میں فرق کرنا ہی مشکل... جب مشکل ہو جائے گا تو سال کا اعتبار کرنا بھی مشکل ہو جائے گا۔ اور ”وَمَا شُرِطَ الْحَوْلُ إِلَّا لِلتَّيْسِيرِ“ اور سال کی شرط تو آسانی ہی کے لیے لگائی گئی ہے۔ شریعت نے مال کے پر کتنی مدت گزرنے کی شرط لگائی ہے؟ سال۔ بھئی دیکھیے یہ جو نصاب ہے نا نصاب، اس کے لیے انسان کی مالداری ثابت ہو جاتی ہے، جس کے پاس یہ نصاب کے بقدر مال ہے معلوم ہوا وہ مالدار ہے، وہ کیا ہے؟ اور اس کو فقراء کی مدد کرنی چاہیے، زکوٰۃ دینی چاہیے۔ لیکن شریعت نے اتنی سہولت کر دی آسانی کے لیے سال کی مدت دے دی کہ ابھی واجب نہیں تم پر بلکہ کیا کرو؟ جب سال پورا گزر جائے اتنے پورے سال تک تمہارے پاس اتنا مال ہے تو اب کیا کرو؟ زکوٰۃ، تو سال گزرنے کی شرط کس لیے لگائی شریعت نے؟ آسانی کے لیے لگائی، اور اب... اب اگر ایک ہی جنس والے ہر ہر جانور کا علیحدہ علیحدہ حساب کرنا پڑے تو وہ انسان کے لیے آسانی ہوگی یا وہ مشکل میں پڑ جائے گا؟ وہ تو مشکل میں پڑ جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ لہٰذا اس لیے ملانے کی علت جو ہے وہ سببِ ملک کو قرار نہیں دیا جائے گا بلکہ کس کو قرار دیا جائے گا؟ مجانست کو بھئی۔ دوبارہ ایک دفعہ دلیل دیکھ لیجیے: ”وَلَنَا أَنَّ الْمُجَانَسَةَ هِيَ الْعِلَّةُ فِي الْأَوْلَادِ وَالْأَرْبَاحِ“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ مجانست یعنی باہم ایک جنس والا ہونا یہی علت ہے ملانے کی اولاد اور منافع میں بھی ”لِأَنَّ عِنْدَهَا يَتَعَسَّرُ التَّمْيِيزُ“ اس لیے کیونکہ مجانست کے ہوتے وقت جانوروں میں اور اس مال کے اندر فرق کرنا مشکل ہو جائے گا ”فَيَعْسُرُ اعْتِبَارُ الْحَوْلِ لِكُلِّ مُسْتَفَادٍ“ تو مشکل ہو جائے گا سال کا اعتبار کرنا ہر حاصل ہونے والے مال کے لیے ”وَمَا شُرِطَ الْحَوْلُ إِلَّا لِلتَّيْسِيرِ“ اور سال کی شرط تو نہیں لگائی گئی مگر کس کے لیے؟ آسانی کے لیے، اور دوسری صورت اختیار کی جائے تو وہ کس میں پڑ جاتا ہے؟ مشکل میں، تو لہٰذا یہاں بھی آسانی والی ہی صورت اختیار کی جائے گی اور آسانی کس صورت میں ہے کہ ایک جنس والا مال ہو تو اس کو کیا کیا جائے گا؟ اس نصاب کے ساتھ ملایا جائے گا بھئی۔ خلاصۂ دلیل یاد رکھیے، مختصر بھئی: ہم کہتے ہیں کہ مجانست جو ہے اسی کو علت قرار دیا جائے گا ایک مال کو دوسرے مال کے ساتھ ملانے میں۔ ایک مال کو دوسرے مال کے ساتھ ملانے میں مجانست ہی کا اعتبار کیا جائے گا، اس لیے کیونکہ اگر مجانست پائی جائے اور پھر بھی ملایا نہ جائے ہر ایک کا الگ الگ اعتبار کیا جائے گا تو انسان مشکل میں پڑ جائے گا، کیونکہ جانور مثلاً سارے اونٹ ہیں تو وہ تو آپس میں مل جل جائیں گے، اب ہر اونٹ قسم کے اونٹوں کا الگ اعتبار کرنا کہ یہ فلاں قسم والے ہیں ان پہ اتنے مہینے گزرے ہیں، یہ فلاں اونٹ ہیں ان پر اتنے مہینے گزرے ہیں، یہ فلاں اونٹ ہیں ان میں اتنے مہینے گزرے ہیں، تو پھر تو انسان بڑی مشکل میں پڑ جائے گا کہ ہر ہر جانور کا کیا کرے گا؟ الگ الگ حساب رکھنا پڑے گا، اور سال کے گزرنے کی جو شریعت نے رخصت دی ہے وہ آسانی اور سہولت کے لیے دی ہے، نصاب کے بقدر مال تو اس کے پاس موجود تھا لیکن شریعت نے پھر بھی رخصت دے دی کہ ابھی رخصت دے دی کہ ابھی زکوٰۃ دینے کی ضرورت نہیں، ابھی تم پر واجب نہیں، کب دینا؟ جب ایک سال گزر جائے۔ تو سال کی رخصت کس لیے دی گئی؟ جی، تو سال کے گزرنے کی جو رخصت دی گئی وہ آسانی کے لیے دی گئی اور اب اگر وہ مجانست کے باوجود ہر ہر جانور کا ہر ہر قسم کا علیحدہ حساب کرنے کرے گا تو وہ آسانی میں پڑ جائے گا یا مشکل میں پڑ جائے گا؟ اب مشکل میں پڑ جائے گا، تو سال گزرنے کی جو شرط تھی وہ تو آسانی کے لیے تھی اور یہ آسانی کے بجائے کس میں پڑ جائے گا؟ مشکل میں پڑ جائے گا، لہٰذا کس کو علت قرار دینا چاہیے مال ملانے کے لیے؟ مجانست ہی کو علت قرار دینا چاہیے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
169 approved lectures · 100 of 169