Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-096

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 93
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
بَابُ صَدَقَةِ السَّوَائِمِ فَصْلٌ فِي الْإِبِلِ قَالَ: لَيْسَ فِي أَقَلَّ مِنْ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا سَائِمَةً وَحَالَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ فَفِيهَا شَاةٌ إِلَى تِسْعٍ، فَإِذَا كَانَتْ عَشْرًا فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى أَرْبَعَ عَشْرَةَ، فَإِذَا كَانَتْ خَمْسَ عَشْرَةَ فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى تِسْعَ عَشْرَةَ، فَإِذَا كَانَتْ عِشْرِينَ فَفِيهَا أَرْبَعُ شِيَاهٍ إِلَى أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ۔ بَابُ صَدَقَةِ السَّوَائِمِ۔ سَوَائِم یاد رکھیے جمع ہے سَائِمَةٌ کی، اور سَائِمَةٌ وہ جانور ہے جو سال کا اکثر حصہ باہر چر کر گزارے بھئی۔ یعنی اس کو گھر پر چارہ لا کر نہیں کھلایا جاتا، بلکہ سال کا اکثر حصہ وہ باہر چراگاہ میں، جنگل میں چرتا ہے بھئی، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ سائِمہ بھئی، سائِمہ۔ تو اس باب کے اندر یاد رکھیے جانوروں کے اندر جو سائِمہ جانور ہیں جو سال کا اکثر حصہ جنگل کے اندر چر کر گزارتے ہیں، ان کی زکوٰۃ کا بیان ہوگا۔ اور صرف اس میں اونٹ شامل ہیں، اونٹ، اور اسی طرح گائے، بیل وغیرہ، اسی میں بھینس وغیرہ بھی آ گئی، اور بھیڑ بکریاں ہیں ان کی زکوٰۃ بیان ہوگی، اور اسی طرح گھوڑوں کے اندر جو زکوٰۃ ہے اس کا بیان ہوگا۔ تو یہ جانور ہوں اور ان کی شرائط پوری ہوں تو ان کے اندر زکوٰۃ واجب ہوگی بھئی۔ اور جانور جو ہیں ان کے اندر زکوٰۃ واجب نہیں۔ اور جتنے جانور ہیں اگر وہ رکھیں ان کے اندر زکوٰۃ واجب نہیں، إلّا یہ کہ وہ تجارت کے لیے ہوں۔ تجارت کے لیے ہوں پھر تو وہ مالِ تجارت ہے، پھر اس اعتبار سے ان میں زکوٰۃ واجب ہوگی۔ تو یہاں صرف ان جانوروں کا ذکر ہوگا جو سائِمہ ہیں اور ان میں شرعاً زکوٰۃ واجب ہے۔ تو ان میں دو شرطیں ضروری ہیں بھئی پھر ان سائِمہ جانوروں میں زکوٰۃ واجب ہوگی۔ پہلی شرط جو ذکر ہو گئی کہ یہ جانور سائِمہ ہونے چاہییں، یعنی سال کا اکثر حصہ باہر جنگل میں چر کر گزارتے ہیں۔ گھر پر لا کر ان کو چارہ نہیں کھلایا جاتا بلکہ باہر چرتے ہیں۔ یہ جانور کیا کہلاتے ہیں؟ سائِمہ۔ لہٰذا اگر ایک جانور ایسا ہے کہ اس کو چھ ماہ گھر پر چارہ کھلایا جاتا ہے اور چھ ماہ وہ باہر جنگل میں چر کر گزارتا ہے، تو یہ سائِمہ نہیں۔ کیونکہ یہ تو نصف سال باہر چر کر گزارتا ہے، حالانکہ شرط کیا ہے؟ سال کا اکثر حصہ۔ لہٰذا جو نصف سے زائد وقت جو ہے سال کا باہر چر کر گزارے یعنی چھ ماہ سے زائد وقت وہ سائِمہ کہلائے گا بھئی، وہ سائِمہ کہلائے گا۔ تو پہلی شرط ان جانوروں میں کیا ہے کہ وہ کیا ہونے چاہییں؟ سائِمہ ہونے چاہییں، سال کا اکثر حصہ باہر چر کر گزاریں۔ اور دوسری شرط یہ ہے کہ ان سائِمہ جانوروں کو دودھ کے لیے، دودھ کے لیے یا افزائشِ نسل کے لیے رکھا گیا ہو، نسل بڑھانے کے لیے۔ دوسری شرط کیا ہے؟ دودھ کے لیے یا افزائشِ نسل کے لیے، نسل بڑھانے کے لیے رکھا گیا ہو۔ اگر ان کو گوشت کھانے کے لیے یا سواری کرنے کے لیے رکھا ہے تو بھی ان کے اندر زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔ تو پہلی شرط کیا ہوئی کہ یہ جانور کیسے ہونے چاہییں؟ سائِمہ ہونے چاہییں۔ دوسری شرط یہ کہ ان کو کس لیے رکھا گیا ہو؟ دودھ حاصل کرنے کے لیے یا افزائشِ نسل کے لیے رکھا گیا ہو۔ لہٰذا اگر صرف گوشت کھانے کے لیے یا سواری کے لیے رکھا گیا ہے تو ان کے اندر زکوٰۃ پھر واجب نہیں ہوگی بھئی، زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔ اور نیز یہ بھی یاد رکھنا بھئی کہ یہ باہر جنگل میں چرتے ہیں تو اس چرنے کا مالک عوض نہ دیتا ہو، کوئی معاوضہ نہ دیتا ہو۔ اگر اس چراگاہ کے وہ پیسے وغیرہ دیتا ہے اس چرنے کے تو اس صورت میں بھی یاد رکھیے ان میں زکوٰۃ واجب نہیں۔ تو زکوٰۃ کب واجب ہوگی؟ جب سال کا اکثر حصہ باہر چر کر گزاریں اور چریں بھی کس قسم کے جنگلات میں؟ جہاں معاوضہ نہ دینا پڑتا ہو، مباح جنگلوں کے اندر، مباح چراگاہوں کے اندر وہ چرتے ہوں۔ اور نیز یہ بھی یاد رکھیے، اگر یہ جانور یاد رکھیے تجارت کے لیے ہیں تو پھر ان کے اندر یہ والی زکوٰۃ نہیں آئے گی جو یہاں بیان ہو رہی ہے، بلکہ پھر اس میں مالِ تجارت کے اعتبار سے جو مالِ تجارت میں زکوٰۃ آتی ہے اسی طرح حساب لگایا جائے گا اور چالیسواں حصہ دینا پڑے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہاں تفصیل آئے گی کہ اتنے جانوروں میں اتنی ہے، اتنے میں اتنی ہے۔ وہاں پر اگر تجارت کے لیے رکھے ہیں پھر تعداد وغیرہ کو نہیں دیکھنا، پھر ہر ہر جانور کے اندر زکوٰۃ آتی جائے گی اور کتنا حصہ ہوگا؟ اس کی قیمت کا چالیسواں حصہ۔ ایک بکری بھی لی ہے تجارت کی نیت سے تو اس کے اندر چالیسواں حصہ سال کے گزرنے پر دینا پڑے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں بَابُ صَدَقَةِ السَّوَائِمِ، یہ باب ہے سائِمہ جانوروں کے صدقے یعنی ان کی زکوٰۃ کے بیان میں۔ فَصْلٌ فِي الْإِبِلِ، یہ فصل ہے إبل یعنی اونٹوں کے بیان میں۔ إِبِل عربی زبان میں اونٹ کو کہتے ہیں بھئی، اونٹ کو۔ یہ عجیب جانور ہے بھئی۔ اس کے بہت سی تکوینی خصوصیات بھی ہیں اور اسی طرح اس کی بہت سی ادبی خصوصیات بھی ہیں۔ اونٹ کی تکوینی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ بے انتہا فرماں بردار جانور ہے بھئی۔ اتنا فرماں بردار ہے، اتنا فرماں بردار ہے کہ بیان سے باہر ہے۔ حتیٰ کہ دیکھیے اتنے بڑے ڈیل ڈول والا جانور ہے لیکن اگر اس کی مہار آپ کسی دو یا تین سال کے بچے کے ہاتھ میں بھی تھما دیں گے تو وہ بچہ جدھر جدھر کا رخ کرے گا اونٹ اطمینان سے اس کے ساتھ چلتا رہے گا بھئی، چلتا رہے گا۔ اتنا فرماں بردار جانور ہے، جبکہ اور جانور اس طرح نہیں ہیں بھئی۔ اور اسی طرح اس کی تکوینی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس کو بٹھا کر اس پر سامان لادا جاتا ہے اور پھر یہ اس بوجھ کو لے کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ جبکہ اور کوئی جانور ایسا نہیں، باقی گھوڑا وغیرہ اور جو جانور ہیں ان کو کھڑا کر کے ان پر سامان لادتے ہیں۔ اگر ان کو بٹھا کر ان پر بوجھ لادا جائے تو وہ کھڑے ہی نہیں ہو سکتے بھئی، بوجھ ذرا بھی زیادہ ہوا تو۔ جبکہ اونٹ پر جتنا بھی بوجھ لاد دیں بٹھا کر وہ اطمینان سے اس کو لے کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ اور یہ دراصل وجہ اس کی لمبی گردن ہے بھئی۔ اس لمبی گردن کے زور پر وہ کیا کر لیتا ہے؟ اس بوجھ کو اٹھا لیتا ہے اور اس کو لے کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ اور اس کی ایک اور تکوینی خصوصیت یہ ہے کہ ایک ستارہ ہے جسے سُہَیل کہتے ہیں عربی زبان میں۔ سہیل ستارہ جو ہے اور یہ سال کے پورے سال میں چند ہفتے دکھائی دیتا ہے جنوب کی طرف، تو سہیل ستارے کی طرف یہ اونٹ کبھی نہیں دیکھتا۔ اگر اس ستارے پر اس کی نظر پڑ جائے تو یہ شدید بیمار ہو جاتا ہے یا مر جاتا ہے بھئی۔ تو یہ سہیل ستارے کی طرف نہیں دیکھتا بھئی۔ اور اسی طرح اس کی ایک تکوینی خصوصیت یہ ہے کہ یہ کئی کئی دن تک بغیر پانی کے آرام سے گزارا کر لیتا ہے، آرام سے گزارا کر لیتا ہے۔ حتیٰ کہ عرب جو ہیں، عرب اس کو آٹھ آٹھ دس دس دن کے بعد پانی پلایا کرتے تھے بھئی۔ اور عرب تو ریگستانی علاقہ ہے، وہاں تو پانی ملتا ہی نہیں ہے۔ تو اس جانور کی وجہ سے ان کو بڑی سہولت ہوتی کہ آٹھ آٹھ دس دس دن تک پانی پلانے کی ضرورت ہی نہیں ہے بھئی۔ اگر ہر دن میں ایک یا دو مرتبہ، ہر روز پانی پلانا پڑتا تو پھر تو وہ لوگ بڑی مشکل میں پڑ جاتے، اس پر وہ لمبے لمبے سفر کرتے، کئی کئی دن تک پانی پلانے کی حاجت ہی نہ ہوتی تھی بھئی۔ تو عرب اس کو خشکی کا جہاز کہتے تھے، جیسے ایک سمندری جہاز ہوتا ہے سمندر میں سفر کیا جاتا ہے، اسی طرح اس کو کیا کہتے تھے؟ خشکی کا جہاز بھئی۔ اور نیز اس کے پاؤں جو ہیں اس کی ایک خصوصیت یہ کہ اس کے پاؤں جو ہے تلوے چوڑے چوڑے ہیں بھئی۔ تو لہٰذا یہ اطمینان سے ریت کے اندر سفر کرتا ہے، پاؤں اس کے ریت میں دھنستے نہیں ہیں۔ جبکہ اور جانور جو ہیں، گھوڑے وغیرہ، گھوڑے خچر وغیرہ ان کے پاؤں جو ہیں وہ ریت کے اندر دھنستے ہیں، تو ان پر اتنی آسانی سے ریت کے اندر سفر نہیں ہو سکتا جتنی آسانی سے اونٹ پر بھئی۔ اور عرب باقاعدہ اس کے پشت پر کمرہ بنا لیتے تھے بھئی، لکڑیاں وغیرہ لگا کر اس پر کپڑا لٹکا لیتے اور شدید دھوپ کے اندر بھی اس کمرے کے اندر جو جس کو کپڑے سے بنایا گیا ہے، ڈھانپا ہوا ہے، اطمینان سے سفر کرتے رہتے بھئی۔ اور پانی پلانے کی بھی جلدی ضرورت نہ ہوتی، کئی کئی دن بعد پانی پلاتے تھے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ اس کی تکوینی خصوصیات ہیں بھئی۔ اور اسی طرح اس کی بہت سی ادبی خصوصیات بھی ہیں۔ جیسے اس کا نام ہے إِبِل، إِبِل۔ إِبِل بروزنِ فِعِل ہے، فا کے نیچے بھی کسرہ اور عین کے نیچے بھی کسرہ۔ إِبِل بروزنِ فِعِل ہے، اور امام سیبویہ فرماتے ہیں پورے کلامِ عرب میں فِعِل وزن پر سوائے إِبِل کے اور کوئی لفظ نہیں ہے بھئی۔ پورے کلامِ عرب میں اس وزن پر اور کوئی لفظ نہیں ہے، یہ کون فرماتے ہیں؟ امام سیبویہ۔ بعض علماء نے ایک دو اور لفظ بھی بیان کیے ہیں بھئی، ایک دو لفظ اور بھی بیان کیے ہیں لیکن حق یہی ہے کہ پورے کلامِ عرب میں یہی ایک لفظ ہے۔ باقی اگر کوئی لفظ اس وزن پر آتا بھی ہے وہ کسی اور وزن سے نقل وغیرہ ہوگا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہی وزن ہے۔ اور ایک اور ادبی خصوصیت، ادبی نکتہ اس کے نام کا: اس کا دوسرا نام ہے جَمَل، جَمَل۔ جَمَل بھی کسے کہتے ہیں؟ اونٹ کو۔ اور اس کی ادبی خصوصیت یہ ہے کہ اس لفظ کی پے در پے چھ جمعیں آتی ہیں اور پورے کلامِ عرب میں اور کوئی ایسا لفظ نہیں۔ عربی زبان میں ایسا ہوتا ہے بھئی، بعض اوقات ایک لفظ کی جمع آتی ہے پھر اس جمع کی آگے جمع آتی ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ جمع کے آگے پھر آگے جمع کی جمع کی آگے پھر جمع آ جاتی ہے۔ تو یہ جو جَمَل ہے اس کی پے در پے چھ جمعیں آتی ہیں اور کوئی لفظ ایسا نہیں بھئی، کوئی لفظ ایسا نہیں۔ جیسے بھئی یہ لکھ لیجیے بھئی: جَمَل کی جمع جو ہے جَمَل کی جمع أَجْمُل آتی ہے۔ اور أَجْمُل کی جمع أَجْمَال آتی ہے، أَجْمَال۔ اور أَجْمَال کی جمع جَامِلٌ آتی ہے۔ اور جَامِلٌ کی جمع جِمَالٌ آتی ہے۔ اور جِمَالٌ کی جمع جِمَالَةٌ آتی ہے۔ اور جِمَالَةٌ کی جمع جِمَالَاتٌ آتی ہے، آخر میں لمبی تا ہے، جِمَالَاتٌ۔ تو دیکھو جمع کی جمع آئی، پھر اس جمع کی آگے جمع آئی، پھر اس اگلی جمع کی جمع آئی بھئی، اس طرح تو یہ پے در پے چھ جمعیں آتی ہیں اور کوئی لفظ کلامِ عرب میں ایسا نہیں۔ تو صاحبِ ہدایہ ان سائِمہ جانوروں کے اندر سب سے پہلے انہوں نے إِبِل کو ذکر کیا بھئی، إِبِل کی زکوٰۃ کو۔ وجہ اس کی یہ کہ احادیث میں ان جانوروں کی زکوٰۃ میں سب سے پہلے إِبِل کا ذکر ہے، اس لیے اتباعِ حدیث کرتے ہوئے سب سے پہلے إِبِل کی زکوٰۃ کو بیان کیا۔ اور نیز اس لیے کیونکہ عربوں کے ہاں سب سے قیمتی مال یہ اونٹ شمار ہوتے ہیں بھئی، اونٹ۔ جس شخص کے پاس جتنے زیادہ اونٹ ہوتے اتنا ہی وہ مالدار شمار ہوتا تھا۔ ایک ایک آدمی کے سینکڑوں بلکہ ہزاروں تک اونٹ ہوا کرتے تھے بھئی۔ اب دیکھیے بھئی کتاب پر: فَصْلٌ فِي الْإِبِلِ، یہ فصل ہے إبل کے بیان میں، یعنی اس کی زکوٰۃ کے بیان میں۔ قَالَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَيْسَ فِي أَقَلَّ مِنْ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ۔ قَالَ سے مراد ہیں صاحبِ قدوری بھئی، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں۔ لَيْسَ فِي أَقَلَّ مِنْ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ، نہیں ہے فِي أَقَلَّ مِنْ خَمْسِ ذَوْدٍ پانچ افراد سے کم میں صَدَقَةٌ صدقہ، یعنی اونٹوں کے پانچ افراد میں سے کم کے اندر زکوٰۃ واجب نہیں۔ یاد رکھیے یہاں ذَوْد کا لفظ آیا، ذَوْد۔ یہ ذَوْد جو ہے نا یہ ایک اونٹ کو نہیں کہتے، یہ اونٹوں کے ریوڑ کو کہتے ہیں اور تین سے لے کر دس تک ان کی تعداد ہو۔ چاہے تین ہو، چاہے چار ہو، پانچ ہو، تو دس تک جو ریوڑ ہو وہ کیا کہلاتا ہے؟ ذَوْدٌ کہلاتا ہے۔ تو اگر ظاہری لفظوں کو دیکھا جائے تو معنیٰ یہ بنتا ہے پانچ ریوڑوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں، اور ذود میں ایک میں کم سے کم کتنے افراد پر بولا جاتا ہے؟ تین پر، تو پانچ تیے پندرہ، گویا پندرہ اونٹوں سے کم کے اندر زکوٰۃ نہیں یہ معنیٰ بنتا ہے، لیکن یہ مراد نہیں۔ بلکہ مراد کیا ہے؟ پانچ اونٹوں سے کم کے اندر زکوٰۃ نہیں، پانچ اونٹ ہوں گے تو ان میں زکوٰۃ آئے گی، اس سے کم ہے تو زکوٰۃ نہیں۔ تو بھئی ذود تو ریوڑ کو کہتے ہیں پھر خَمْسِ ذَوْدٍ کا معنیٰ تو کم از کم کتنے اونٹ ہونے چاہییں؟ پندرہ۔ تو علماء اس کا ضابطہ بیان فرماتے ہیں، کہتے ہیں: ذود ریوڑ کے معنیٰ میں ہے لیکن جب اس کی طرف عدد کی اضافت کر دی جائے، جیسے یہاں ہے خَمْسِ ذَوْدٍ، کون سا عدد آ رہا ہے اس سے پہلے؟ خَمْسَة کا۔ تو عدد جب اس سے پہلے آ جائے اور اس کی طرف عدد کی اضافت کر دی جائے تو اس صورت میں یہ ریوڑ کے معنیٰ میں نہیں بلکہ فرد کے معنیٰ میں ہوتا ہے۔ کس معنیٰ میں ہو جاتا ہے؟ فرد کے معنیٰ میں ہوتا ہے۔ تو خَمْسِ ذَوْدٍ کا کیا معنیٰ؟ پانچ افراد بھئی۔ جیسے رَهْط بھئی، را، ہا، اور طا بھئی، طا، رَهْط۔ رَهْط کہتے ہیں آدمیوں کی جماعت تین سے لے کر دس تک، تو یہ اس میں جمع ہے۔ لیکن جب اس کی طرف عدد کی اضافت کر دی جائے تو یہ پھر شَخْصٌ اور فَرْدٌ کے معنیٰ میں ہو جائے گا کہ پانچ افراد بھئی۔ تو رَهْط کی طرف جب عدد کی اضافت ہو جائے تو پھر یہ شخص اور فرد کے معنیٰ میں ہو جاتا ہے۔ تو یہاں بھی اسی طرح ہے۔ تو صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: لَيْسَ فِي أَقَلَّ مِنْ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ، پانچ اونٹوں سے کم کے اندر زکوٰۃ نہیں ہے۔ فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا، جب یہ اونٹ پہنچ جائیں پانچ کی تعداد کو، سَائِمَةً، اس حال میں کہ وہ سائِمہ ہوں یعنی سال کا اکثر حصہ جنگل میں چرنے والے ہوں، وَحَالَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ، اور ان پر ایک سال گزر جائے، فَفِيهَا شَاةٌ، تو ان کے اندر ایک بھیڑ بکری ہے، ان کے اندر ایک بھیڑ بکری واجب ہے۔ یاد رکھیے شَاة کا لفظ صرف بکری کو شَاة نہیں کہتے بلکہ شَاة کا لفظ بھیڑ بکری دونوں پر بولا جاتا ہے، یہ اس میں جنس ہے بھئی۔ یہ بھیڑ بکری دونوں پر بولا جاتا ہے اور دونوں کے مذکر مونث اس کے اندر داخل ہیں، تو بکرا بکری اور دنبہ اور بھیڑ سب اس کے اندر داخل ہو گئے۔ معنیٰ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو شَاة بھیڑ بکری دونوں کو شامل ہے بھئی۔ حالانکہ عام رائج یہ ہے کہ شَاة کا کیا معنیٰ کرتے ہیں؟ بکری کے۔ نہیں بھئی، بکری کو نہیں یہ بھیڑ بکری دونوں پر بولا جاتا ہے، دونوں اس کے اندر داخل ہیں۔ بھئی یوں کیجیے کہ یہ اونٹوں کی زکوٰۃ ذرا آپ لکھ لیجیے پھر جلدی جلدی باب آپ کو سمجھ میں آ جائے گا۔ اوپر لکھ لیں بھئی: زَكَاةُ الْإِبِلِ، زَكَاةُ الْإِبِلِ۔ اور عنوان دے دیں: ابتداء سے، ابتداء سے۔ اس کے نیچے لکھئے: 5: شَاةٌ 10: شَاتَانِ 15: ثَلَاثُ شِيَاهٍ 20: أَرْبَعُ شِيَاهٍ 25: بِنْتُ مَخَاضٍ 36: بِنْتُ لَبُونٍ 46: حِقَّةٌ 61: جَذَعَةٌ 76: بِنْتَا لَبُونٍ 91: حِقَّتَانِ 120 تک دو حقے ہی ہوں گے۔ اب اس کے نیچے دوسرا عنوان دیجیے: 120 سے زائد میں زکوٰۃ 5: شَاةٌ 10: شَاتَانِ 15: ثَلَاثُ شِيَاهٍ 20: أَرْبَعُ شِيَاهٍ 25: بِنْتُ مَخَاضٍ 30: حِقَّةٌ تو 150 میں تین حقے ہو گئے۔ اس سے نیچے اب پھر تیسرا عنوان دیں: 150 سے زائد میں زکوٰۃ 5: شَاةٌ 10: شَاتَانِ 15: ثَلَاثُ شِيَاهٍ 20: أَرْبَعُ شِيَاهٍ 25: بِنْتُ مَخَاضٍ 36: بِنْتُ لَبُونٍ 46: حِقَّةٌ 46 سے 50 تک ایک حقہ ہی رہے گا۔ تو 196 کے اندر کل چار حقے ہو گئے۔ نقشہ مکمل ہوا بھئی، اب اس کو ذرا سمجھ لیں بھئی۔ ابتداء سے دیکھیں ذرا بھئی کہ ابتداء سے زکوٰۃ کس طرح آئے گی، اونٹوں کی تعداد ہم ابتداء سے شمار کر رہے ہیں۔ پانچ اونٹ ہوں اور سائِمہ ہوں اور ان پر سال گزر جائے اور وہ دودھ کے لیے یا افزائشِ نسل کے لیے ہیں، تو ان پانچ اونٹوں میں ایک سال کے گزرنے کے بعد ایک بھیڑ بکری دینا پڑے گی، ایک شَاة ہے۔ دس اونٹ ہوں تو کتنے؟ دس ہو جائیں گے تو دو بھیڑ بکریاں آ جائیں گی۔ معلوم ہوا پانچ سے لے کر نو تک ایک ہی بھیڑ بکری ہے، پانچ میں بھی وہی ایک بھیڑ بکری، چھ میں بھی وہی، سات میں بھی وہی، آٹھ میں بھی وہی، یہاں تک کہ نو، نو میں بھی وہی ایک بھیڑ بکری ہے ابھی تک کوئی اضافہ نہیں ہوا زکوٰۃ کے اندر۔ پانچ میں بھی ایک بھیڑ بکری تھی پانچ سے لے کر نو۔ ہاں، جیسے ہی دس ہو جائیں گے اب کتنی آ جائیں گی؟ دو بھیڑ بکریاں اس میں واجب ہو جائیں گی بھئی، دو بھیڑ۔ اور پھر دس سے لے کر چودہ تک یہی دو بھیڑ بکریاں ہیں۔ جیسے ہی پندرہ ہوں گے کتنی ہو جائیں گی بھیڑ بکریاں؟ جی، ثَلَاثُ شِيَاهٍ تین بھیڑ بکریاں ہو جائیں گی۔ اور پھر یہ انیس تک اسی طرح رہے گا یہاں تک کہ کتنے ہو جائیں؟ بیس اونٹ ہو جائیں تو اس میں أَرْبَعُ شِيَاهٍ چار بھیڑ بکریاں آ جائیں گی۔ اور پھر یہ چوبیس تک اسی طرح رہے گا یعنی چار بھیڑ بکریاں ہی رہیں گی، لیکن جیسے ہی پچیس ہو جائیں گے تو پچیس کے اندر ایک بنتِ مخاض ہوگا، کیا ہوگا؟ بنتِ مخاض۔ یہاں دو تین نام آئے ان کو بھی سمجھ لیں۔ یاد رکھیے: بِنْتُ مَخَاضٍ یہ اونٹ کا وہ بچہ ہے جس پر ایک سال پورا ہو گیا ہو اور یہ دوسرے سال میں چل رہا ہو۔ جس کا ایک سال پورا ہو گیا ہو اور یہ دوسرے سال میں چل رہا ہو، تو یہ اگر مونث ہو تو اس کو کہتے ہیں بِنْتُ مَخَاضٍ۔ اگر مونث ہو تو اس کو کہتے ہیں بِنْتُ مَخَاضٍ، اور اگر مذکر ہو تو اس کو کہتے ہیں اِبْنُ مَخَاضٍ۔ مذکر ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ اِبْنُ مَخَاضٍ۔ دوسرا لفظ آئے گا یہاں پر بِنْتُ لَبُونٍ۔ بِنْتُ لَبُونٍ یاد رکھیے اونٹ کا وہ بچہ جس کے دو سال پورے ہو چکے ہیں اور تیسرے سال میں چل رہا ہے۔ یہ اگر مونث ہو تو اس کو کہتے ہیں بِنْتُ لَبُونٍ، اور اگر مذکر ہو تو اس کو کہتے ہیں اِبْنُ لَبُونٍ۔ اگلا لفظ ہے حِقَّةٌ بھئی، حِقَّةٌ۔ یاد رکھیے حِقَّةٌ اونٹ کا وہ بچہ ہے اونٹ کا وہ بچہ جس کے تین سال مکمل ہو چکے ہیں اور وہ چوتھے سال میں چل رہا ہے۔ تو اگر یہ مونث ہو تو اس کو کہتے ہیں حِقَّةٌ، تا کے ساتھ حِقَّةٌ، اور اگر مذکر ہو تو اس کو حِقٌّ کہتے ہیں بغیر تا کے۔ مونث ہے تو حِقَّةٌ اور مذکر ہے تو حِقٌّ کہیں گے بھئی، حِقٌّ۔ اور اگلا لفظ آئے گا جَذَعَةٌ۔ یاد رکھیے جَذَعَةٌ اونٹ کا وہ بچہ جس پر چار سال مکمل ہو گئے ہیں اور پانچویں سال میں وہ چل رہا ہے۔ تو اگر وہ مونث ہو تو اس کو جَذَعَةٌ کہتے ہیں بھئی، ذال پر یاد رکھیے فتحہ پڑھنا ہے ساکن نہیں۔ تو اس کو جَذَعَةٌ کہتے ہیں، اور اگر مذکر ہو تو جَذَعٌ کہتے ہیں، جَذَعٌ۔ مونث ہو تو جَذَعَةٌ تا کے ساتھ اور مذکر ہو تو جَذَعٌ بغیر تا کے، بغیر تا کے۔ تو دیکھیے آپ ان ناموں کے اندر جو زکوٰۃ کی تفصیل میں نے لکھوائی اونٹوں کی، دیکھیے پچیس اونٹوں میں کیا آیا؟ بنتِ مخاض، اور چھتیس میں کیا آیا؟ بنتِ لبون، اور چھیالیس میں حِقہ، اور اکسٹھ میں جَذَعہ۔ آپ دیکھیں مونث اونٹ واجب ہو رہے ہیں مذکر نہیں، یعنی اونٹنیاں، تو وہ مونث بچے واجب ہیں۔ وجہ یہ بھئی، کیونکہ اونٹوں میں جو مادہ ہے نا مادہ یعنی مونث جو ہے اس کو اعلیٰ شمار کیا جاتا ہے، اعلیٰ، جبکہ مذکر کو ادنیٰ شمار کرتے ہیں اس کے مقابلے میں۔ تو یہاں پر مونث بچے جو ہیں وہ دیں گے یعنی اعلیٰ دیں گے، کس قسم کا مال دیں گے؟ اعلیٰ مال۔ تو دیکھیے بنتِ مخاض آیا، ابنِ مخاض نہیں آیا، اسی طرح بنتِ لبون کا ذکر آیا، ابنِ لبون زکوٰۃ میں نہیں ہے بھئی۔ وجہ سمجھ میں آ گئی؟ اور ان کے یہ نام کیوں ہیں؟ وجہ بھی یاد رکھیے بھئی۔ بِنْتُ مَخَاضٍ یہ کس بچے کو کہتے ہیں؟ ایک سال پورا ہو گیا اور دوسرا سال چل رہا ہے، تو اس کو بنتِ مخاض کہتے ہیں۔ اس کو بنتِ مخاض اس لیے کہتے ہیں کیونکہ مَخَاض کا معنیٰ ہے حاملہ، حاملہ، اور عموماً اس کی ماں جس نے اس کو جنم دیا تھا عادتاً وہ اونٹنی دوسرے سال میں پھر حاملہ ہو چکی ہوگی۔ وہ دوسرے سال میں پھر کیا ہو جاتی ہے عموماً؟ حاملہ ہو چکی ہوگی، تو اس لیے اس کا نام کیا رکھا؟ بِنْتُ مَخَاضٍ یعنی حاملہ کا بچہ۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ اور اس سے بڑے کا نام جو تیسرے سال میں چل رہا ہے اس کا نام بِنْتُ لَبُونٍ رکھا۔ لَبُون لَبَن سے ہے، دودھ کو کہتے ہیں۔ تو لَبُون کا معنیٰ ہے دودھ دینے والی۔ تو اس سے اگلا سال آ گیا ہے اور پچھلے سال میں اونٹنی عادتاً کیا ہو چکی؟ دوبارہ حاملہ، تو اس سے اگلے سال میں وہ بچے کو اب جنم دے چکی ہے اب اس بچے کو کیا کرتی ہے؟ دودھ پلاتی ہے تو وہ دودھ پلانے والی ہے۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو اس لیے اس سے اگلے سال والے بچے کو بِنْتُ لَبُونٍ کہتے ہیں۔ اور اس سے اگلے سال والے بچے کو حِقَّةٌ کہتے ہیں، حِقَّةٌ مونث ہو تو اور مذکر ہو تو حِقٌّ کہتے ہیں۔ اس کو حِقَّةٌ اس لیے کہتے ہیں کیونکہ اب اس کے تین سال پورے ہو چکے ہیں چوتھا سال چل رہا ہے، تو یہ اس بات کا مستحق ہو گیا ہے کہ اس پر سامان لادا جائے، اس پر سواری کی جائے، کچھ بڑا ہو گیا ہے۔ پہلے تو بڑا چھوٹا تھا اب کچھ بڑا ہو گیا ہے اب اس کا حق ہو گیا ہے کہ اس پر کیا کیا جائے؟ سواری بھی اب اس پر کی جا سکتی ہے اور سامان بھی لادا جا سکتا ہے، اس لیے اس کو حِقَّةٌ کہتے ہیں۔ اور اس سے اگلے سال والے کو جَذَعَةٌ کہتے ہیں بھئی، جَذَعَةٌ۔ اور جَذَعَةٌ یاد رکھیے یہ دانتوں کے اندر کوئی خاص نشانی ہے اس کی وجہ سے ان دانتوں کی نسبت سے اس کو جَذَعَةٌ کہتے ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھیے نقشے پر دوبارہ بھئی: پچیس اونٹوں میں ایک بنتِ مخاض واجب ہوگا۔ یہ سلسلہ پینتیس تک اسی طرح رہے گا۔ ہاں، جیسے ہی چھتیس اونٹ ہو جائیں گے اب ان میں کیا آئے گا؟ بنتِ لبون، یعنی اب ایک سال والا بچہ نہیں دینا بلکہ دو سال والا بچہ یعنی زیادہ مال آئے گا اب۔ اور یہ سلسلہ چھتیس سے چھیالیس تک اسی طرح بنتِ لبون اس میں رہے گا۔ ہاں، جیسے ہی چھیالیس اونٹ ہو جائیں گے تو اس میں ایک حِقہ واجب ہوگا، اور ساٹھ تک اسی طرح۔ اکسٹھ اونٹ جیسے ہی ہوں گے اس میں کیا ہوگا؟ جَذَعہ آ جائے گا، اور پھر یہ پچھتر تک یہ جَذَعہ ہی رہے گا۔ جیسے ہی چھہتر اونٹ ہوئے تو چھہتر اونٹوں میں کیا آئے گا؟ بِنْتَا لَبُونٍ، دو بنتِ لبون اس میں واجب ہوں گے۔ یہ نوے تک اسی طرح۔ ہاں، جیسے ہی اکیانوے اونٹ ہوئے تو اس کے اندر دو حِقے واجب ہوں گے، دو حِقے واجب ہوں گے۔ پھر ایک سو بیس سے زائد ہو جائیں اونٹ بھئی، تو پھر اسی طرح پانچ اونٹوں میں ایک بھیڑ بکری، دس کے اندر دو بھیڑ بکریاں، پندرہ کے اندر تین بھیڑ بکریاں، اور بیس کے اندر چار بھیڑ بکریاں، پچیس کے اندر پھر بنتِ مخاض آئے گا انتیس تک بھئی، انتیس تک۔ پہلے کہاں تک تھا؟ پینتیس تک۔ اب ایک سو بیس سے زائد میں انتیس تک بنتِ مخاض ہے، اور جیسے ہی تیس ہوں گے تو اس میں حِقہ آ جائے گا۔ یہ ایک سو بیس سے اوپر والوں کی بات ہو رہی ہے بھئی، تو ایک سو بیس سے اوپر جیسے ہی تیس ہوئے ان میں کیا آ گیا؟ ایک حِقہ۔ اور ایک سو بیس میں کتنے حِقے تھے؟ دو، تو ایک سو بیس اور یہ والے تیس کتنے ہو گئے؟ ایک سو پچاس، تو ایک سو پچاس میں کل کتنے حِقے ہو گئے؟ تین حِقے ہو گئے۔ حساب سمجھ میں آ رہا ہے؟ اسی لیے اس کے نیچے میں نے لکھوایا کہ ایک سو پچاس میں کل کتنے حِقے آ گئے؟ تین حِقے۔ اس کے بعد ایک سو پچاس سے زائد کا حساب پھر اسی طرح ہے جیسے ابتداء سے تھا: پانچ اونٹوں میں ایک بھیڑ بکری، دس کے اندر دو بھیڑ بکریاں، پندرہ کے اندر تین، اور بیس کے اندر چار بھئی، اور پچیس میں پھر کیا آ جائے گا؟ ایک بنتِ مخاض، چھتیس کے اندر کیا آئے گا؟ ایک بنتِ لبون بھئی، اور چھیالیس سے لے کر پچاس تک اس میں کیا آئے گا؟ ایک حِقہ آئے گا۔ چھیالیس سے لے کر پچاس تک یہ ایک حِقہ رہے گا۔ تو ایک سو پچاس میں کتنے حِقے تھے؟ تین، اور یہ اس سے زائد یہ جو چھیالیس ہو گئے تو کیا آ جائے گا اس میں؟ ایک اور حِقہ، یعنی ایک سو چھیانوے میں کتنے حِقے ہو گئے؟ چار۔ اور یہ چھیالیس سے پچاس تک ہے یعنی ایک سو چھیانوے سے دو سو تک یہ چار ہی حِقے رہیں گے، دو سو تک۔ دو سو سے اوپر جب حساب جائے گا تو پھر یہی ایک سو پچاس سے زائد والا جو حساب ہے پھر شروع ہو جائے گا۔ طریقہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ اب یہ جو آیا نا سب سے آخر میں ایک سو پچاس سے زائد والا حساب جو ہے، ایک سو پچاس سے دو سو تک والا جو حساب ہے، یہ پچاس والا حساب اب بار بار آئے گا۔ ایک سو پچاس سے اور ایک سو پچاس سے زائد کتنے اونٹوں کا حساب ہے؟ ایک سو پچاس سے اوپر کتنے اونٹوں کا حساب آپ نے لکھا؟ پچاس۔ اس سے اوپر پانچ میں ایک بکری ہے، دس میں دو ہیں، پندرہ میں تین ہیں، بیس میں چار ہیں، پچیس میں بنتِ مخاض ہے، چھتیس میں بنتِ لبون ہے، چھیالیس سے لے کر پچاس تک اس میں کیا واجب ہے؟ حِقہ۔ تو یہ جو آخری پچاس اونٹوں کا حساب ہے، ایک سو پچاس سے اوپر کہاں تک؟ دو سو تک، یہی پچاس اونٹوں والا حساب اب بار بار چلے گا بھئی، بار بار چلے گا۔ تو لہٰذا دو سو تک تو ہو گئے یہ چار حِقے، دو سو سے ایک بھی اوپر ہو جائے گا تو نئے سرے سے حساب شروع ہو جائے گا۔ اور دو سو سے ایک اوپر ہے تو ایک کے اندر تو یہاں کوئی بھیڑ بکری نہیں لہٰذا اس کے اندر بھی وہی چار حِقے، دو، تین، چار، یہاں تک کہ کتنے اونٹ ہو جائیں؟ پانچ دو سو سے اوپر ہو گئے تو پانچ میں کیا واجب ہوتی ہے؟ ایک بھیڑ بکری واجب ہوتی ہے، لہٰذا دو سو پانچ کے اندر چار حِقے اور ایک بھیڑ بکری، دو سو دس کے اندر چار حِقے اور دو بھیڑ بکریاں، اور دو سو پندرہ کے اندر چار حِقے اور تین بھیڑ بکریاں، اور دو سو بیس کے اندر چار حِقے، تو اسی طرح ہوتے ہوتے دو سو چھیالیس کے اندر کتنے حِقے ہو جائیں گے؟ پانچ حِقے ہو جائیں گے، کتنے تک؟ دو سو پچاس تک۔ پھر دو سو پچاس سے اوپر نئے سرے سے پھر حساب شروع ہوگا، تو دو سو پچپن کے اندر پانچ حِقے اور ایک بکری، اسی طرح تو دو سو چھیانوے کے اندر کتنے ہو جائیں گے؟ چھ حِقے ہو جائیں گے تین سو تک بھئی۔ پھر تین سو سے اوپر، تو ہر پچاس میں اسی طرح ہوتا جائے گا جیسے ایک سو پچاس سے لے کر دو سو تک کے اندر حساب ہوا تھا، وہی بار بار گھومتا رہے گا حساب۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ جی، چلیے بس بھئی، باقی پھر ان شاء اللہ اگلے سبق میں کریں گے بھئی۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
169 approved lectures · 96 of 169