Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-089

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 66
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
بَابُ الشَّهِيدِ اَلشَّهِيدُ مَنْ قَتَلَهُ الْمُشْرِكُونَ أَوْ وُجِدَ فِي الْمَعْرَكَةِ وَبِهِ أَثَرٌ أَوْ قَتَلَهُ الْمُسْلِمُونَ ظُلْمًا وَلَمْ يَجِبْ بِقَتْلِهِ دِيَةٌ فَيُكَفَّنُ وَيُصَلَّى عَلَيْهِ وَلَا يُغْسَلُ لِأَنَّهُ فِي مَعْنَى شُهَدَاءِ أُحُدٍ وَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ: ”زَمِّلُوهُمْ بِكُلُومِهِمْ وَدِمَائِهِمْ وَلَا تَغْسِلُوهُمْ“. بھئی شہید بھی میت ہے اور اس سے ماقبل میں اور مرنے والوں کے احکام بیان ہوئے تو شہید بھی مرنے والا ہے۔ لیکن اس کے کچھ احکام باقیوں سے الگ ہیں اور نیز شہادت کی فضیلت بھی بہت زیادہ ہے، حتی کہ شہادت کی اقسام اور اس کی تفصیل کے سلسلے میں علماء نے علیحدہ کتابیں اور رسالے لکھے ہیں۔ تو اس لیے صاحبِ ہدایہ نے اس کو علیحدہ باب کے اندر ذکر کیا بھئی۔ تو اس باب میں شہید کسے کہیں گے اس کی تفصیل بیان کریں گے اور شہید عام مردوں سے جن احکام کے اندر مختلف ہے وہ بیان کریں گے۔ وہ بیان کریں گے۔ آگے صاحبِ ہدایہ تفصیل بیان کریں گے اس سے پہلے مختصراً یہیں پر سمجھ لیجیے اور اشارات اگر کچھ لکھنا چاہیں، مکمل تفصیلاً لکھوانا تو مشکل ہے، بس اشارات لکھتے جائیے بھئی۔ یاد رکھیے بھئی، شہید جو ہے نا شہید کی دو قسمیں ہیں بھئی: ایک شہیدِ حقیقی ہے، ایک شہیدِ اخروی ہے۔ شہیدِ حقیقی وہ جو دنیاوی اعتبار سے بھی شہید اور اخروی اعتبار سے بھی شہید۔ یعنی اس پر دنیا میں بھی شہید کے احکام جاری ہوں گے اور آخرت کے اعتبار سے بھی وہ شہید ہے۔ تو یہ ہے شہیدِ حقیقی۔ اور شہیدِ اخروی وہ ہے جو آخرت کے اعتبار سے تو شہید ہے، اللہ تعالیٰ یقیناً بلند درجات نصیب فرمائیں گے، لیکن دنیاوی اعتبار سے اس پر شہید کے احکام جاری نہیں ہوں گے۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ شہید کی کتنی قسمیں ہیں؟ دو قسمیں ہیں: ایک شہیدِ حقیقی اور ایک شہیدِ اخروی۔ شہیدِ حقیقی کسے کہیں گے؟ جو دنیاوی اعتبار سے بھی شہید ہے اور اخروی اعتبار سے بھی شہید، یعنی دنیا میں شہید کے جو احکام ہیں وہ احکام اس پر جاری ہوں گے۔ جبکہ دوسرا شہید وہ ہے جو صرف اخروی اعتبار سے شہید ہے، دنیاوی اعتبار سے جو شہید کے احکام ہیں وہ اس پر جاری نہیں ہوں گے بھئی۔ جاری نہیں ہوں گے۔ اب شہیدِ حقیقی جو ہے جس پر دنیاوی احکام بھی جاری ہوں گے شہید کے، اس کے لیے یاد رکھیے علماء نے، علمائے احناف نے، فقہائے احناف نے سات شرطیں ذکر کی ہیں بھئی، جو آگے صاحبِ ہدایہ اس باب کے اندر ذکر کریں گے۔ سات شرطیں بھئی: پہلی شرط یہ ہے کہ شہید ہونے والا مسلمان ہو بھئی، مسلمان ہو۔ دوسری شرط یہ ہے کہ وہ مکلف ہو، مکلف ہو، یعنی عاقل بالغ ہو بھئی۔ عاقل بالغ ہو وہ۔ تو پہلی شرط کیا ذکر ہوئی؟ کہ مسلمان ہو۔ لہٰذا غیر مسلم نکل گئے، ان کے لیے شہادت نہیں ثابت ہوگی بھئی۔ دوسری شرط یہ کہ وہ عاقل بالغ ہوں، مکلف ہوں بھئی۔ جب عاقل اور بالغ کی قید لگائی تو مجنون نکل گیا، اسی طرح نابالغ بھی نکل گیا۔ تو مجنون اور نابالغ جو ہے اس پر بھی شہید کے احکام جاری نہیں ہوں گے بھئی۔ تیسری شرط یہ ہے کہ وہ حدثِ اکبر سے پاک ہونا چاہیے۔ شہید ہونے والا حدثِ اکبر سے پاک ہونا چاہیے۔ لہٰذا جو شخص جنابت کی حالت میں شہید ہوا وہ اس حکم سے خارج ہوگا، دنیاوی احکام شہید کے اس پر جاری نہیں ہوں گے۔ تو جو شخص جنابت کی حالت میں شہید ہو، یا اسی طرح وہ عورت جو حیض اور نفاس کی حالت میں جسے مارا گیا، قتل کیا گیا، وہ بھی اس حکم سے خارج ہوگئی۔ کیونکہ تیسری قید کیا آگئی کہ وہ حدثِ اکبر سے پاک ہو بھئی، پاک ہو۔ چوتھی شرط یہ ہے کہ وہ بے گناہ مقتول ہوا ہو۔ بے گناہ مقتول ہوا ہو، ظلماً اس کو قتل کیا گیا ہو۔ لہٰذا وہ شخص جسے قصاص میں قتل کیا گیا، قصاص میں، کہ اس نے کسی کو قتل کیا تھا، بدلے میں دوسرے کو بھی کیا کر دیا گیا؟ قاضی نے فیصلہ کیا اور اس کو قصاص میں قتل کر دیا گیا، تو یہ اس حکم سے خارج کیونکہ یہ بے گناہ مقتول نہیں۔ یا اسی طرح کسی کو رجم کر دیا گیا، آپ جانتے ہیں کہ جو شادی شدہ شخص زنا کر لے اور وہ اس پر ثابت ہو جائے قاضی کے پاس، تو اس کو کیا کیا جاتا ہے؟ رجم کیا جائے گا اور پتھر مار مار کر اس کو قتل کر دیا جائے گا۔ تو یہ بھی اس حکم سے نکل گیا کیونکہ یہ بے گناہ نہیں مارا گیا، مسلمانوں کے ہاتھوں سے مارا گیا ہے لیکن بے گناہ نہیں مارا گیا بلکہ شریعت کا یہی حکم تھا بھئی۔ اور پانچویں شرط بھئی، کہ اگر وہ مرنے والا کسی مسلمان یا ذمی کے ہاتھ سے مارا گیا ہے، مسلمان یا ذمی کے ہاتھ سے، تو اس میں یہ شرط ہے کہ کسی تیز دھار آلے سے یا آلۂ قتل سے اس کو قتل کیا گیا ہو۔ کس کے ذریعے؟ کسی تیز دھار آلے یا آلۂ قتل کے ذریعے اس کو قتل کیا گیا ہو بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ لہٰذا اگر کسی مسلمان یا ذمی کے ہاتھ سے کوئی شخص بے گناہ مارا جاتا ہے، لیکن مثلاً انہوں نے بڑی سی لاٹھی سے اس کو مارا ہے یا بڑے پتھر سے مارا ہے تو وہ اس حکم سے خارج ہو گیا، کیونکہ کیا قید آگئی پانچویں شرط بھئی؟ تیز دھار آلے یا آلۂ قتل سے قتل کیا گیا ہو۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اگر کوئی میدانِ جنگ میں شہید ہوتا ہے، لڑائی کے اندر اہل حرب دار الحرب والوں سے دار الحرب والوں سے لڑائی میں شہید ہوا، یعنی کفار کے ساتھ، یا اسی طرح کوئی باغیوں کے ہاتھوں شہید ہوا، یا قُطَّاعُ الطَّرِيقِ، قاطعِ طریق جو ہیں، قاطعِ طریق، جو ڈاکو ہیں ڈاکو، ڈاکوؤں کے ہاتھوں کوئی قتل ہوا، تو اس میں پھر آلۂ جارحہ کی قید نہیں۔ آلۂ قتل یا تیز دھار والے آلے کی شرط نہیں ہے۔ لہٰذا اگر کوئی شخص میدانِ جنگ میں مارا جاتا ہے، یا باغیوں کے ہاتھوں مارا جاتا ہے، یا ڈاکوؤں کے ہاتھوں مارا جاتا ہے، تو پھر اس کے اندر یہ بھی شرط نہیں ہے کہ وہ اس کو تیز دھار والے آلے سے یا آلۂ قتل سے قتل کریں۔ بلکہ جس طرح بھی وہ مارا جائے وہ شہید ہے بھئی۔ حتی کہ اگر انہوں نے اس کو اپنے جانوروں کے قدموں تلے روند ڈالا اور اس سے وہ مر گیا تب بھی شہید ہے۔ یا بلکہ وہ قتل کا سبب بن گئے، مثلاً وہ مسلمان کسی جانور پر سوار تھا اور انہوں نے اس کے جانور کو بھگایا اور وہ جانور بدکا اور مسلمان اس سے گر کر مر گیا، تو یاد رکھیے یہ بھی شہید ہے بھئی۔ یہ بھی کیا ہے؟ شہید ہے۔ وہ صرف قتل کا باعث بنے ہیں، قتل بھی انہوں نے نہیں کیا لیکن پھر بھی یہ کیا ہے؟ شہید ہے۔ یا اسی طرح انہوں نے کیا کیا مسلمانوں کو گھروں وغیرہ کو آگ لگائی اور مسلمان اس کے اندر جل گئے بھئی، تو یہ سب کیا ہیں؟ شہید ہیں بھئی۔ تو اس کے اندر آلۂ جارحہ یعنی تیز دھار والے آلے یا آلۂ قتل سے قتل کی قید بھی نہیں ہے بھئی۔ اور یہ بھی یاد رکھنا بھئی، یہ بھی یاد رکھنا، میں نے قید بتلائی آپ کو کہ اگر مسلمان یا ذمی کے ہاتھ سے کوئی بے گناہ مارا گیا ہے تو اس میں کیا شرط ہے؟ تیز دھار والے آلے سے آلۂ قتل سے اس کو قتل کیا گیا ہو۔ تو یہ یاد رکھنا، لوہا جو ہے نا لوہا، وہ مطلقاً، وہ مطلقاً آلۂ جارحہ ہے چاہے اس کی دھار وغیرہ بھی نہ ہو۔ لہٰذا معلوم ہوا کوئی کسی کو سریا مار کر قتل کر دیتا ہے، اب سریے کی تو کوئی دھار وغیرہ نہیں ہے لیکن لوہا کیا ہے؟ مطلقاً آلۂ جارحہ ہے کیونکہ اس کے ذریعے کوئی بچتا نہیں ہے بھئی، تو یہ اسی کے حکم میں ہے۔ تو یہ پانچویں شرط ہو گئی۔ چھٹی شرط یاد رکھیے کہ اس شخص کو جس کو قتل کیا گیا ہے اس میں شرط یہ ہے کہ اس کے قتل سے ابتداءً دیت نہ آتی ہو، مالِ عوض نہ آتا ہو۔ اگر مالِ عوض آتا ہے اس کے قتل کی وجہ سے تو پھر یاد رکھیے اس صورت میں اس پر شہید کے احکام جاری نہیں ہوں گے بھئی۔ چھٹی شرط میں نے کیا بتلائی؟ کہ ابتداءً مالِ عوض نہ آتا ہو۔ مثلاً ایک آدمی نے دوسرے کو گولی مار دی، اب ابتداءً قصاص آیا، کیا آیا؟ قصاص آیا۔ لیکن بعد میں ان دونوں کے خاندان والوں کی اس آدمی کے اس کے خاندان والوں کے ساتھ، اس کے اولیاء کے ساتھ صلح ہو گئی، انہوں نے کہا ہمیں دس لاکھ روپے دے دو ہم تمہاری جان چھوڑ دیتے ہیں۔ تو دیکھیے اب یہاں مال آگیا لیکن ابتداءً آیا یا صلح کے نتیجے میں آیا؟ صلح کے، لہٰذا یہاں شہید کے احکام جاری ہوں گے بھئی۔ اسی لیے کہا ابتداءً مالِ عوض نہیں آنا چاہیے، بعد میں چاہے کوئی صورت بن جائے وہ الگ ہے بھئی۔ ابتداء میں دیت نہ آئے بھئی۔ اگر دیت آئی تو وہاں، وہاں شہید کے احکام جاری نہیں ہوں گے۔ معلوم ہوا کوئی مسلمان اگر کہیں پر مرا ہوا ملتا ہے، اس کو کسی نے قتل کر دیا ہے اور قاتل کا پتہ ہی نہیں، قاتل کا پتہ ہی نہیں ہے، علم ہی نہیں ہے، تو یاد رکھیے اس صورت میں اس محلے والوں پر دیت آتی ہے، قسامت آتی ہے، پچاس آدمیوں سے اس محلے کے پچاس آدمیوں سے قسم لی جائے گی کہ اور وہ اس بات پر قسم اٹھائیں گے کہ ہم نے اس کو قتل نہیں کیا اور ہم نہیں جانتے اس کے قاتل کے بارے میں۔ تو پچاس آدمیوں سے، اور اس میں بھی یاد رکھیے آگے کتاب میں بھی ذکر آئے گا، تو اس میں بھی بچوں، عورتوں، بوڑھوں، غلاموں وغیرہ ان سے قسم نہیں لی جائے گی، بلکہ جو آزاد بالغ مرد ہیں، پچاس مردوں سے قسم لی جائے گی کہ ہم نے اس کو قتل نہیں کیا اور ہم اس کے قاتل کو نہیں جانتے کہ اس کو کس نے قتل کیا ہے، اس پر قسم لی جائے گی۔ اور پھر اس کے بعد ان محلے والوں پر دیت آ جائے گی، ان کو دیت ادا کرنا پڑے گی۔ سمجھ میں آیا؟ کیونکہ ان لوگوں کی کوتاہی ہے کہ ان کے محلے میں کسی کو قتل کیا گیا اور یہ اس کی مدد کو نہیں پہنچے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ ان لوگوں کی کوتاہی ہے تو ان کو دیت دینا پڑے گی۔ لہٰذا اگر کوئی مسلمان مقتول ملتا ہے اور اس کو قتل کر دیا گیا ہے اور قاتل کا علم ہی نہیں ہے، تو پھر اس صورت میں احکام نہیں جاری ہوں گے۔ کیوں نہیں جاری ہوں گے؟ کیونکہ ابھی بتایا کہ اس صورت میں قسامت اور دیت آتی ہے، لہٰذا دیت آرہی ہے ابتداءً، لہٰذا اس پر شہید کے احکام جاری نہیں ہوں گے بھئی، احکام جاری نہیں ہوں گے۔ ساتویں شرط بھئی، ساتویں شرط: زخم لگنے کے بعد اگر وہ شخص زندگی کی کوئی راحت یا نفع حاصل کر لے، زندگی کی راحت یا نفع حاصل کر لے، تو اس پر بھی شہید کے احکام جاری نہیں ہوں گے۔ تو اس پر بھی شہید کے احکام جاری نہیں ہوں گے۔ دنیاوی نفع یا زندگی کا کوئی نفع یا راحت حاصل کر لے، مثلاً بھئی کچھ کھا لے یا کچھ پی لے، دیکھو اس نے کچھ نفع اٹھا لیا اور کھانا پینا زندوں کا کام ہے، تو اس نے نفع اٹھا لیا زندگی کا، لہٰذا یہ اس حکم سے نکل جائے گا۔ یا اسی طرح بھئی کسی سے شدید زخمی حالت میں بیع و شراء کر لیتا ہے، کوئی چیز کے خرید و فروخت کا معاملہ کر لیتا ہے، یا اسی طرح کچھ دیر سو جاتا ہے، آرام کر لیتا ہے، تو بس یہ شہید کے حکم سے نکل گیا بھئی، شہید کے حکم سے نکل گیا۔ اسی طرح، اسی طرح اگر ہوش و حواس کی حالت میں، ہوش و حواس کی حالت میں اس شخص پر ایک پوری نماز کا وقت گزر گیا، حتی کہ وہ نماز اس کے ذمے اس کے ذمے آگئی، اس کے ذمے آگئی، یعنی اس پر اس کی قضا واجب ہوگئی، تو وہ بھی اس حکم سے خارج ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ وہ بھی اس حکم سے خارج ہے۔ اور اسی طرح، اسی طرح اگر میدانِ جنگ کے اندر وہاں سے کسی کو منتقل کر لیا گیا، میدانِ جنگ میں شدید زخمی ہوا اور پھر اس کو منتقل کر لیا گیا اور اس کا کچھ علاج وغیرہ کر لیا گیا، علاج وغیرہ کر لیا گیا یا ان چیزوں میں سے اس نے کوئی نفع اٹھایا تو یاد رکھیے اس صورت میں بھی اس پر شہید کے احکام جاری نہیں ہوں گے، کیونکہ اس نے کیا کیا دنیا کا کچھ نفع اٹھا لیا، حاصل کر لیا۔ اور نیز یہ بھی یاد رکھیے، شدید زخمی ہونے کے بعد وہ زیادہ کلام نہ کرے، کیونکہ کلام کرنا زندوں کی شان ہے، زندوں کی حالت ہے، تو لہٰذا اس صورت میں بھی وہ اس حکم سے خارج ہو جائے گا بھئی، خارج ہو جائے گا۔ اور اس میں پھر یہ بھی یاد رکھنا، ہاں اگر میدانِ جنگ سے کسی شخص کو منتقل کیا گیا، دشمن کے ساتھ لڑائی جاری ہے کفار وغیرہ کے ساتھ اور اس شخص کو میدانِ جنگ سے منتقل کر لیا گیا، تو ابھی میں نے آپ کو بتایا کہ منتقل کرنے کی صورت میں اگر اس کو منتقل کر لیا جائے تو پھر اس پر شہید کے احکام جاری نہیں ہوتے، لیکن یہ وہ صورت ہے جب جنگ رک جائے، جنگ کیا ہو جائے؟ رک گئی اور اس کو منتقل کر لیا گیا تو اب اس پر شہید کے احکام جاری نہیں ہوں گے۔ لیکن اگر ابھی جنگ جاری ہے اور اسی حالت میں، اسی حالت میں پھر بے شک یہ اوپر والے جو نفعے ذکر ہوئے ان میں سے کوئی نفع اٹھا ہی کیوں نہ لے، پھر بھی وہ شہید ہی ہے، اس پر شہید کے احکام جاری ہوں گے۔ لہٰذا ایک شخص کو میدانِ جنگ سے منتقل کیا گیا اور اس کو کچھ علاج کی بھی کوشش کی گئی، دوا بھی دی گئی، یا اس نے کلام بھی کیا زیادہ، یا وہ کچھ کھا پی بھی لیتا ہے، لیکن ابھی لڑائی جاری ہے اور اسی دوران پھر وہ شہید ہو گیا تو اب یہ شہید ہی ہے بھئی، شہید ہی ہے۔ سمجھ میں آیا؟ بھئی جب لڑائی، ویسے میدانِ جنگ سے منتقل کریں گے تو وہ شہید، یعنی شہیدِ حقیقی نہیں، دنیاوی احکام جاری نہیں ہوں گے اس پر، اگرچہ اخروی اعتبار سے شہید ہے، اور شہید ہے لیکن دنیاوی احکام اس پر جاری نہیں ہوں گے بھئی۔ تو لڑائی کے اندر ہی اگر اس کو منتقل کیا گیا ہے اور ان نفعوں میں سے کوئی نفع اس نے حاصل کر بھی لیا ہے لیکن ابھی لڑائی جاری ہے، اسی دوران اس کا انتقال بھی ہو گیا، تو یہ شہید ہے اور اس پر شہید کے احکام جاری ہوں گے۔ ساتویں شرط کی تفصیل سمجھ میں آئی بھئی؟ کہ وہ دنیاوی نفعوں میں سے کوئی نفع نہ اٹھائے اور نیز اس کو میدانِ جنگ سے منتقل نہ کیا جائے۔ اور اگر منتقل کیا ہے اور لڑائی ابھی جاری ہے اور پھر بے شک ان نفعوں میں سے کوئی نفع وہ اٹھا بھی لے، کوئی راحت حاصل کر بھی لے، پھر بھی اس پر کون سے احکام جاری ہوں گے؟ شہید کے احکام جاری ہوں گے بھئی۔ یہ سات شرطیں ہیں مولانا شہید کی بھئی، سات شرطیں ہیں۔ ان میں سے ایک شرط بھی کوئی کم ہوئی تو وہ اس پر شہید کا حکم جاری نہیں ہوگا بھئی، شہید کا حکم جاری نہیں ہوگا۔ اور یہ ساتوں شرطیں، یہ شرطیں پوری ہو جائیں تو پھر اس صورت میں اس پر شہید کے احکام جاری ہوں گے اور وہ یہ کہ اس کو غسل نہیں دیا جائے گا، اس کا خون اس کے بدن سے صاف نہیں کریں گے، اسی طرح خون آلود کپڑوں ہی میں دفن کریں گے۔ تو پہلا حکم کیا؟ کہ اس کو غسل نہیں دیا جائے گا۔ اور دوسرا حکم یہ کہ اس سے اس کے کپڑے نہیں اتارے جائیں گے، کپڑوں سمیت ہی دفن کریں گے۔ ہاں البتہ اگر کفن مسنون، کفن کو پورا کرنے کے لیے کچھ کپڑے زائد دینا پڑیں تو زائد دے کر کفن کے مسنون عدد کو پورا کر لیں گے اور اگر کپڑے زائد ہیں اس کے بدن پر تو زائد کپڑے اتار کر عددِ مسنون کو پورا کر لیں گے اور انہی کپڑوں کے اندر اس کو دفن کریں گے۔ اور جو چیزیں جو چیزیں کفن کی جنس میں سے نہیں ہیں، مثلاً اس نے کوئی کوئی چمڑے چمڑے کی چیز وغیرہ پہنی ہوئی ہے تو یا اسی طرح کوئی چمڑے وغیرہ کی چیز یا جیکٹ وغیرہ اس طرح کی چیزیں پہنی ہیں تو وہ اس سے اتار لیں گے۔ لیکن اگر اس کے ساتھ وہ اتاریں تو عددِ مسنون کم ہوتا ہے تو پھر وہ بھی نہیں اتاریں گے، اس کے ساتھ ہی رہنے دیں گے۔ ہاں البتہ ٹوپی ہے یا جوتے ہیں یا اسلحہ ہے وہ ہر حال میں اتار لیا جائے گا کیونکہ یہ کفن کی جنس میں سے نہیں ہے اور پھر اس کو اسی طرح دفن کر دیا جائے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ یہ تھی پوری تفصیل جو اس باب میں آنے والی ہے بھئی۔ جی، اب دیکھیے بھئی کتاب پر بھئی: ”بَابُ الشَّهِيدِ“ یہ باب ہے شہید کے بیان میں۔ ”اَلشَّهِيدُ مَنْ قَتَلَهُ الْمُشْرِكُونَ أَوْ وُجِدَ فِي الْمَعْرَكَةِ وَبِهِ أَثَرٌ“ شہید وہ ہے جس کو مشرکین نے قتل کر دیا ہو، ”أَوْ وُجِدَ فِي الْمَعْرَكَةِ“ یا اس کو میدانِ جنگ میں یا وہ میدانِ جنگ میں پایا جائے، ”وَبِهِ أَثَرٌ“ اور اس پر کوئی نشان ہو، یہ قید ضروری ہے بھئی۔ میدانِ جنگ میں کوئی ویسے مرا ہوا ملتا ہے تو فوراً اس پر شہید کا حکم نہیں جاری ہوگا، دیکھا جائے گا اس کے بدن پر زخم ہے یا زخم نہیں؟ زخم ہونا چاہیے تاکہ پتہ چلے اس کو دشمنوں نے کیا کیا ہے؟ قتل کیا ہے، اور اگر ویسے موت آئی ہے پھر شہید کے احکام جاری نہیں ہوں گے۔ اسی لیے قید لگا دی کہ ”أَوْ وُجِدَ فِي الْمَعْرَكَةِ“ یا وہ شخص میدانِ جنگ میں پایا گیا، ”وَبِهِ أَثَرٌ“ اور اس پر کوئی نشان تھا، نشان سے کیا مراد ہے؟ زخم تھا۔ ”أَوْ قَتَلَهُ الْمُسْلِمُونَ ظُلْمًا“ یا اس کو مسلمانوں نے ظلماً قتل کیا ہو، یعنی ظلم کرتے ہوئے، بے گناہ قتل کر دیا ہو، ”وَلَمْ يَجِبْ بِقَتْلِهِ دِيَةٌ“ اور اس کے قتل کی وجہ سے دیت بھی واجب نہ ہوتی ہو، ”فَيُكَفَّنُ“ تو اس کو کفن دیا جائے گا۔ ”وَيُصَلَّى عَلَيْهِ“ کفن دیا جائے گا، یعنی وہ مسنون عدد پورا کیا جائے گا اگر پورا نہیں ہوتا، سمجھ میں آیا بھئی؟ اس کے کپڑے نہیں اتاریں گے۔ ”وَيُصَلَّى عَلَيْهِ“ اور اس پر نمازِ جنازہ پڑھ ہی جائے گی، ”وَلَا يُغْسَلُ“ اور اس کو غسل نہیں دیا جائے گا بھئی۔ ”لِأَنَّهُ فِي مَعْنَى شُهَدَاءِ أُحُدٍ“ اس لیے کیونکہ یہ شہدائے احد کے معنی میں ہے بھئی۔ غزوۂ احد آپ جانتے ہیں بھئی، کہ غزوۂ احد بھئی جس میں آپ جانتے ہیں کہ مدینہ منورہ کے قریب پہاڑ ہے، احد پہاڑ، اس کے قریب یہ غزوہ ہوا تھا مشرکینِ مکہ کے ساتھ اور اس میں کوئی ستر ستر مسلمان جو ہیں تقریباً شہید ہو گئے تھے اور ان کو غسل وغیرہ نہیں دیا گیا تھا۔ تو یہ جو شخص جس میں یہ شرائط پوری ہو گئیں یہ بھی ان شہدائے احد کے معنی میں ہوا، انہی جیسا ہو گیا، اور ان کو تو غسل وغیرہ نہیں دیا گیا تھا، ان سے ان کے کپڑے نہیں اتارے گئے تھے، خون وغیرہ کو ان سے صاف نہیں کیا گیا تھا، لہٰذا جس میں یہ شرطیں پوری ہوں گی اس کو بھی غسل نہیں دیا جائے گا، اس سے خون وغیرہ کو صاف نہیں کیا جائے گا، دفن کیا جائے گا۔ ”وَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ“ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان شہدائے احد کے بارے میں فرمایا: ”زَمِّلُوهُمْ“ کہ ان کو لپیٹ دو ”بِكُلُومِهِمْ“ ان کے زخموں کے ساتھ ”وَدِمَائِهِمْ“ اور ان کے خونوں کے ساتھ ”وَلَا تَغْسِلُوهُمْ“ اور ان کو غسل نہ دو۔ ان کے بارے میں حضور علیہ السلام نے کیا فرمایا؟ ان کو ان کے زخموں اور خونوں کے ساتھ لپیٹ دو اور ان کو غسل نہ دو۔ آگے صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”فَكُلُّ مَنْ قُتِلَ بِالْحَدِيدِ ظُلْمًا وَهُوَ طَاهِرٌ بَالِغٌ وَلَمْ يَجِبْ بِهِ عِوَضٌ مَالِيٌّ فَهُوَ فِي مَعْنَاهُمْ فَيُلْحَقُ بِهِمْ“ تو ہر وہ شخص جس کو، حدید ہے تیز دھار والی چیز بھئی، تیز دھار۔ ہر وہ شخص جس کو تیز دھار والی چیز سے قتل کر دیا گیا ظلماً، ظلم کرتے ہوئے، ”وَهُوَ طَاهِرٌ“ اور وہ طاہر پاک تھا، پاک ہونے کی قید لگائی تو کس کو نکال دیا؟ جو حدثِ اکبر کی حالت میں ہے، جو یعنی جنابت میں ہے یا حیض و نفاس والی عورت ہے وہ اس سے نکل گئیں۔ ”بَالِغٌ“ اور وہ کیا ہو؟ بالغ ہو، تو اس سے کون نکل گیا؟ بچہ نکل گیا بھئی۔ ”وَلَمْ يَجِبْ بِهِ عِوَضٌ مَالِيٌّ“ اور اس کے قتل کی وجہ سے کوئی مالی عوض یعنی دیت وغیرہ بھی واجب نہ ہوتی ہو، ”فَهُوَ فِي مَعْنَاهُمْ“ تو یہ شخص بھی انہی یہ بھی انہی کے معنی میں ہے، یعنی شہدائے احد کے معنی میں ہے، انہی کے حکم میں ہے، ”فَيُلْحَقُ بِهِمْ“ تو اس کو ان کے ساتھ ملایا جائے گا، یعنی جو حکم ان کا تھا وہی حکم اس پر بھی جاری ہوگا۔ ”وَالْمُرَادُ بِالْأَثَرِ الْجِرَاحَةُ“ صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ متن میں جو اثر کا لفظ آیا: ”وَبِهِ أَثَرٌ“، تو اثر سے مراد جو ہے ”اَلْجِرَاحَةُ“ زخم ہے، ”لِأَنَّهَا دَلَالَةُ الْقَتْلِ“ اس لیے کیونکہ یہ قتل کی دلیل ہے، اس سے پتہ چلے گا کہ اس کو کیا کیا ہے؟ قتل کیا گیا ہے۔ ”وَكَذَا خُرُوجُ الدَّمِ مِنْ مَوْضِعٍ غَيْرِ مُعْتَادٍ كَالْعَيْنِ وَنَحْوِهِ“ اور اسی طرح خون کا نکلنا غیر معتاد جگہ سے۔ خون کا نکلنا غیر، یعنی بدن کے سے خون نکلا اور ایسے مقام سے نکلا کہ جہاں سے عادتاً خون نکلتا نہیں۔ ایسے مقام سے خون نکلا جہاں سے عادتاً خون نکلتا نہیں۔ تو معلوم اب زخم کا نشان تو کوئی نہیں لیکن وہ شخص ملا اور اس کی آنکھ میں سے خون نکلا ہوا ہے یا اسی طرح اس کے کان میں سے خون نکلا ہوا ہے، بھئی کان سے تو عادتاً خون نہیں نکلتا، آنکھ سے تو عادتاً خون نہیں نکلتا، معلوم ہوا کوئی ضرب انہوں نے سر پر لگائی ہے جس سے آنکھ سے یا کان سے خون نکلا ہے، تو اب بظاہر بدن پر زخم نہیں ہے لیکن یہ خون بتلا رہا ہے کہ اس طرح عام طور پر خون نکلتا نہیں، تو معلوم ہوا کوئی ضرب لگائی ہے، لہٰذا یہ اسی حکم میں ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ہاں اس کے بجائے اگر ناک سے خون نکلا ہے یا پاخانے کے مقام سے خون نکلا ہے وہ تو بیماری وغیرہ کی وجہ سے بھی ہو جاتا ہے، لہٰذا وہ یہ علامت اس چیز کی علامت نہیں ہے لازمی کہ اس کو کس نے ضرب لگائی ہے، وہ تو ویسے بھی نکل سکتا ہے، لہٰذا وہ خارج ہو گئے کیونکہ انہوں نے کیا قید لگا دی؟ غیر معتاد جگہ سے خون نکلا ہو۔ یہ معنی ہے: ”وَكَذَا خُرُوجُ الدَّمِ مِنْ مَوْضِعٍ غَيْرِ مُعْتَادٍ كَالْعَيْنِ وَنَحْوِهِ“ اور اسی طرح خون کا نکلنا ایسی جگہ سے جو معتاد نہ ہو یعنی جہاں سے عادتاً خون نہ نکلتا ہو، ”كَالْعَيْنِ“ جیسے کہ آنکھ ہے ”وَنَحْوِهِ“ اور اس جیسی چیز۔ ”وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ يُخَالِفُنَا فِي الصَّلَاةِ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ ہماری مخالفت کرتے ہیں نماز میں۔ وہ اختلاف کرتے ہیں نمازِ جنازہ کے اندر، ہم نے تو کیا کہا؟ شہید کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، شہید کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھی جائے گی۔ وہ فرماتے ہیں یہ جو تلوار تھی، تلوار جس کے ذریعے اس کو قتل کیا گیا، اس تلوار نے اس کے سارے گناہوں کو ختم کر دیا، اس نے اللہ کے راستے میں جان دے دی ہے یا اس کو ظلماً بیچارے کو قتل کر دیا گیا ہے، تو اس تلوار نے اس کے سارے گناہوں کو دھو دیا، ختم کر دیا اور اب اس کے لیے دعا کی حاجت ہی نہیں، اللہ کے ہاں اس کی سفارش کی حاجت ہی نہیں ہے، اس کی یہ مغفرت اس کی ہو چکی ہے، گناہ اس کے سارے ختم ہو چکے ہیں۔ دلیل ان کی سمجھ میں آئی بھئی؟ ”وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ يُخَالِفُنَا فِي الصَّلَاةِ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ ہماری مخالفت کرتے ہیں نماز کے اندر، ”وَيَقُولُ“ اور فرماتے ہیں: ”اَلسَّيْفُ مَحَّاءٌ لِلذُّنُوبِ“ کہ تلوار جو ہے مٹانے والی ہے گناہوں کو، ”فَأَغْنَى عَنِ الشَّفَاعَةِ“ تو یہ شخص سفارش سے بے نیاز ہو گیا، اب اس کی سفارش کی ضرورت نہیں، تلوار نے اس کے گناہوں کو مٹا دیا۔ سفارش تو اس کی کی جاتی ہے جس کا کوئی گناہ ہوتا ہے کہ اللہ اس کی مغفرت فرمادے اور جب تلوار نے سارے گناہ مٹا دیے اب سفارش کی حاجت نہیں، اس کی بخشش ہو گئی۔ ”وَنَحْنُ نَقُولُ“ اور ہم کہتے ہیں: ”اَلصَّلَاةُ عَلَى الْمَيِّتِ لِإِظْهَارِ كَرَامَتِهِ وَالشَّهِيدُ أَوْلَى بِهَا“ ہم کہتے ہیں کہ یہ جو نماز میت پر پڑھی جاتی ہے یہ صرف سفارش کے طور پر ہی نہیں ہے بلکہ یہ اس کے احترام اور اس کے اکرام کے طور پر بھی ہے۔ اس مرنے والے کے احترام اور اکرام کا بھی اس کے ذریعے اظہار کیا جاتا ہے اور شہید زیادہ لائق ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے اور اس کے احترام اور اس کے محترم ہونے کا اظہار کیا جائے، لہٰذا اس پر نماز پڑھی جائے گی۔ ”وَنَحْنُ نَقُولُ اَلصَّلَاةُ عَلَى الْمَيِّتِ لِإِظْهَارِ كَرَامَتِهِ وَالشَّهِيدُ أَوْلَى بِهَا“ کہ نماز مرنے والے پر یہ اس کی کرامت کے اظہار کے لیے ہے، یہ اس کے احترام کے اظہار کے لیے ہے، ”وَالشَّهِيدُ أَوْلَى بِهَا“ اور شہید اس کے زیادہ لائق ہے کہ اس کے کرامت کا اظہار کیا جائے، اس کے محترم ہونے کا اظہار کیا جائے کہ یہ بڑا محترم شخص تھا۔ ”وَالطَّاهِرُ عَنِ الذُّنُوبِ لَا يَسْتَغْنِي عَنِ الدُّعَاءِ كَالنَّبِيِّ وَالصَّبِيِّ“ اور نیز آپ نے کیا کہا کہ گناہوں سے پاک ہو چکا ہے لہٰذا نمازِ جنازہ کی ضرورت نہیں، تو ہم کہتے ہیں یہ دلیل نہیں ہے اس بات کی، گناہوں سے پاک ہونا اس بات کی دلیل نہیں بن سکتا کہ وہ شخص کہ وہ شخص دعا سے بے نیاز ہو گیا۔ مثلاً انبیاء ہیں، انبیاء معصوم ہیں، گناہوں سے پاک ہیں لیکن ان کی بھی نماز پڑھی جاتی ہے۔ معلوم ہوا گناہوں سے پاک ہونا یہ کسی کو دعا سے بے نیاز نہیں کرتا۔ ”وَالطَّاهِرُ عَنِ الذُّنُوبِ“ اور وہ شخص جو گناہوں سے پاک ہو ”لَا يَسْتَغْنِي عَنِ الدُّعَاءِ“ وہ دعا سے بے نیاز نہیں ہوتا، ”كَالنَّبِيِّ وَالصَّبِيِّ“ جیسے کہ نبی ہوتا ہے اور بچہ۔ اب یہ بھی دیکھیے یہ بھی معصوم ہیں لیکن نماز ان کی پڑھی جاتی ہے۔ ”وَمَنْ قَتَلَهُ أَهْلُ الْحَرْبِ أَوْ أَهْلُ الْبَغْيِ أَوْ قُطَّاعُ الطَّرِيقِ فَبِأَيِّ شَيْءٍ قَتَلُوهُ لَمْ يُغْسَلْ“ اور وہ شخص جس کو اہل حرب نے یعنی دار الحرب والے کافروں نے قتل کر دیا ہو، ”أَوْ أَهْلُ الْبَغْيِ“ یا باغیوں نے قتل کر دیا ہو، باغی کچھ لوگ خلیفہ کے خلاف کچھ لوگوں نے بغاوت کی انہوں نے قتل کر دیا ہو، ”أَوْ قُطَّاعُ الطَّرِيقِ“ قُطَّاعُ الطَّرِيقِ، رہزن بھئی، ڈاکو، ڈاکو رہزن، قاطعِ طریق بھئی ڈاکو، انہوں نے قتل کر دیا ہو، ”فَبِأَيِّ شَيْءٍ قَتَلُوهُ لَمْ يُغْسَلْ“ تو انہوں نے جس چیز کے ذریعے بھی اس کو قتل کیا ہو ان کو غسل نہیں دیا جائے گا، یعنی اس پر شہید کے احکام جاری ہوں گے۔ جس چیز سے بھی قتل کیا ہو۔ اور یاد رکھیے، یہاں آیا قاطعِ طریق، رہزن بھئی۔ یاد رکھیے قاطعِ طریق عربی زبان میں ڈاکو کو کہتے ہیں۔ قاطعِ طریق دیکھیے لفظوں پر غور کر لیجیے، قاطع کاٹنے والا، الطریق راستہ، قاطعِ طریق راستے کو کاٹنے والا، یعنی رہزن، رہزن۔ اس کو یہ ڈاکو کسی کو قتل کر دیں تو جس چیز سے بھی قتل کر دیں اس کو غسل نہیں دیا جائے گا۔ لیکن یاد رکھیے یہ جس کو ہم اردو میں ڈاکو کہتے ہیں یہ وہ ڈاکو نہیں، یہ وہ ڈاکو نہیں، بلکہ لفظوں پہ ذرا غور کریں: قاطعِ طریق، کیا معنی؟ راستہ کاٹنے والا۔ اور یہ جو ڈاکو آتے ہیں یہ تو گھروں کے اندر آتے ہیں، یہاں تو راستہ کاٹنے والی بات نہیں، وہ ڈاکو ہوتے تھے لوگ آپ کو پتہ ہے قدیم زمانے میں سفر بڑا مشکل تھا اور قافلوں کی صورت میں سفر کرتے تھے، اکیلے سفر کرنا بڑا ہی دشوار ہوتا تھا، اور یہ قافلے ان کو جنگلوں سے گزرنا پڑتا تو وہاں کبھی ان کا راستہ کاٹ کر ڈاکو آ جاتے، تو دیکھو یہ ہیں قاطعِ طریق، راستے میں حملہ کر دیا تو ان کے راستے کو کاٹ دیا۔ یہ کیا ہیں؟ قاطعِ طریق ہیں۔ اور دیکھیے ایسی جگہ پر حملہ کیا ہے، ایسی جگہ پر انہوں نے قافلے کو پکڑا ہے جہاں ان کی مدد کو کوئی پہنچ ہی نہیں سکتا تھا، وہاں جنگل میں کوئی مدد کو پہنچ سکتا تھا؟ کسی کو پتہ ہی نہیں ہے بھئی جنگل کے اندر جا رہے ہیں اور وہاں انہوں نے راستہ کاٹ دیا اور سب کو بیچاروں کو قتل کر دیا۔ تو یہ ڈاکو یہ ہیں قاطعِ طریق جہاں مدد کو کوئی نہیں پہنچ سکتا، اور یہ شہر کے اندر جو ڈاکو آتے ہیں یہاں کوئی مدد کو پہنچ سکتا ہے یا نہیں پہنچ سکتا؟ یہ تو فوراً وہاں سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ فوراً لوگ ان کی مدد کو پہنچیں گے، تو لہٰذا یہ فرق ہے یہ وہ قاطعِ طریق جو یہاں ذکر ہوئے، اردو میں تو ہم سب کو ڈاکو کہہ دیتے ہیں لیکن عربی میں اس کے اندر فرق ہے بھئی، تو یہ قاطعِ طریق یہاں ذکر ہوا وہ جو ایسی جگہ پر، تو قاطعِ طریق سے کون سے ڈاکو یہاں مراد ہوئے؟ جو ایسی جگہ پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں جہاں کوئی مدد کو نہیں پہنچ سکتا۔ تو اس طرح کے ڈاکو اگر کسی کو قتل کریں گے تو جس چیز سے بھی قتل کریں، چاہے لاٹھیوں سے قتل کریں، چاہے پتھر مار کر قتل کریں، چاہے جیسے میں نے ذکر کر دیا اس کے جانور کو بھگایا اور یہ جانور سے گر کر مسلمان مر گیا تو یہ سب کیا ہیں؟ شہید ہیں، ان کو غسل نہیں دیا جائے گا۔ دلیل ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ، کہتے ہیں: ”لِأَنَّ شُهَدَاءَ أُحُدٍ مَا كَانَ كُلُّهُمْ قَتِيلَ السَّيْفِ وَالسِّلَاحِ“ اس لیے کیونکہ احد کے جو شہداء تھے ان میں سے ہر ایک تلوار اور اسلحے کا مقتول نہیں تھا، ان سب کو تلوار اور اسلحے سے نہیں قتل کیا گیا تھا بلکہ بعض کو پتھر کے وغیرہ کے ذریعے قتل کیا گیا، بعض کو اور چیزوں کے ذریعے، بھئی جس طرح بھی ان کا بس چلا انہوں نے کیا کیا مسلمانوں کو شہید کیا تو انہوں نے قتل کیا تھا۔ ”وَإِذَا اسْتُشْهِدَ الْجُنُبُ غُسِلَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ وَقَالَا لَا يُغْسَلُ“ یاد رکھیے عربی زبان میں جب کوئی شخص شہید ہو جائے تو یوں نہیں کہیں گے، مثلاً زید شہید ہوا تو یوں نہ کہنا ”شَهِدَ زَيْدٌ“، وہاں کہیں گے ”اُسْتُشْهِدَ زَيْدٌ“، کیا کہیں گے؟ ”اُسْتُشْهِدَ زَيْدٌ“، زید شہید ہو گیا۔ اگر ”شَهِدَ زَيْدٌ“ آپ کہیں گے تو شہد کا معنی تو حاضر ہونا، حاضر ہونا، یا گواہی دینا۔ تو جب شہادت کو ذکر کرنا ہو تو کس طرح کہیں گے؟ ”اُسْتُشْهِدَ“، اور مجہول کے صیغے کے ساتھ اسی طرح بھئی، کیونکہ یہ اپنے اختیار میں نہیں ہے اور عموماً غیر اختیاری افعال جو ہیں عربی زبان میں ان کے لیے مجہول کا فعل استعمال ہوتا ہے بھئی جو اپنے اختیار میں نہ ہو۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا اسْتُشْهِدَ الْجُنُبُ“ دیکھو بھئی، جب شہید ہو جائے جنب، جنابت والا، یعنی جس کو حدثِ اکبر ہے، تو غسل دیا جائے گا یا نہیں دیا جائے گا؟ آپ کو کیا بتلایا میں نے شرائط میں؟ غسل دیا، یہی ذکر کر رہے ہیں: ”وَإِذَا اسْتُشْهِدَ الْجُنُبُ غُسِلَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور جب جنابت والا شخص شہید ہو جائے تو اس کو غسل دیا جائے گا امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک، ”وَقَالَا لَا يُغْسَلُ“ اور صاحبین فرماتے ہیں کہ اس کو بھی غسل نہیں دیا جائے گا۔ وہ فرماتے ہیں جنابت میں ہو اس کو بھی غسل نہیں دیا جائے گا۔ دلیل ذکر ہو رہی ہے آگے صاحبین کی، وہ فرماتے ہیں: ”لِأَنَّ مَا وَجَبَ بِالْجَنَابَةِ سَقَطَ بِالْمَوْتِ“ اس لیے کیونکہ ما، ما سے مراد ہے غسل، ”لِأَنَّ مَا وَجَبَ“ اس لیے کیونکہ وہ غسل جو واجب ہوا تھا ”بِالْجَنَابَةِ“ کس کی وجہ سے؟ جنابت کی وجہ سے جو غسل واجب ہوا تھا ”سَقَطَ بِالْمَوْتِ“ وہ موت کی وجہ سے ساقط ہو گیا۔ کیونکہ اب تو آدمی مر گیا اور وہ مر جو مر چکا ہے وہ تو کسی چیز کا مکلف نہیں ہے بھئی، تو موت کی وجہ سے وہ جنابت والا غسل تو ساقط ہوا۔ اور دوسرا غسل آتا ہے موت کی وجہ سے، مرنے والے کو کیا دیا جاتا ہے؟ غسل، لیکن یہاں یہ شہید ہوا ہے تو دوسرا غسل بھی موت والا بھی اس پر واجب جنابت والا ساقط ہوا کس کی وجہ سے؟ موت کی وجہ سے، اور موت کی وجہ سے جو غسل واجب ہوتا ہے وہ شہادت کی وجہ سے آیا ہی نہیں، لہٰذا اس کو غسل نہیں دیں گے۔ دلیل سمجھ میں آگئی بھئی؟ یہ معنی ہے، کہتے ہیں: ”لِأَنَّ مَا وَجَبَ بِالْجَنَابَةِ سَقَطَ بِالْمَوْتِ“ اس لیے کیونکہ وہ غسل جو جنابت کی وجہ سے واجب ہوتا ہے وہ موت کی وجہ سے ساقط ہو گیا، ”وَالثَّانِي لَمْ يَجِبْ لِلشَّهَادَةِ“ اور دوسرا غسل جو موت سے آتا ہے وہ واجب ہی نہیں ہوا ”لِلشَّهَادَةِ“ کس وجہ سے؟ شہادت کی وجہ سے۔ ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى أَنَّ الشَّهَادَةَ عُرِفَتْ مَانِعَةً غَيْرَ رَافِعَةٍ فَلَا تَرْفَعُ الْجَنَابَةَ“ اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شہادت جو ہے، شہادت اس کو مانعِ غسل تو جانا گیا ہے، رافعِ غسل نہیں جانا گیا۔ شہادت کیا کرتی ہے؟ غسل کے لیے مانع بن جاتی ہے، کوئی شہید ہو جائے اس کو غسل نہیں دیا جاتا، تو کیا چیز مانع بنی؟ شہادت۔ بھئی ہر مرنے والے کو غسل دینا زندوں پر فرض ہے لیکن شہید کو غسل نہیں دیتے، تو یہاں کیا چیز مانع بنی؟ شہادت، تو شہادت غسل سے مانع تو بنتی ہے، مانع تو بنتی ہے لیکن اگر غسل پہلے سے واجب ہو تو اس غسل کو شہادت ختم نہیں کرتی بھئی۔ سمجھ میں آئی صورت؟ تو ایک شخص جنابت میں تھا، جنابت کی وجہ سے اس پر کیا واجب ہو چکا؟ غسل واجب ہو چکا ہے، تو غسل اس پر پہلے سے واجب ہے، اب شہادت اس پہلے والے غسل کو نہیں ختم کرے گی۔ ہاں موت کی وجہ سے جو غسل آنا تھا اس کے لیے مانع بن جائے گی۔ تو شہادت مانعِ غسل تو ہے، رافعِ غسل نہیں، غسل جو پہلے سے واجب تھا اس کو ختم کرنے والی نہیں۔ دلیل سمجھ میں آگئی؟ تو امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے: ”أَنَّ الشَّهَادَةَ عُرِفَتْ مَانِعَةً غَيْرَ رَافِعَةٍ“ کہ شہادت جو ہے اس کو مانع جانا گیا ہے ”غَيْرَ رَافِعَةٍ“ رافع نہیں، ”فَلَا تَرْفَعُ الْجَنَابَةَ“ لہٰذا شہادت جنابت کو نہیں اٹھائے گی، یعنی ختم نہیں کرے گی۔ دلیل بھی سمجھ میں آرہی ہے کہ نہیں بھئی؟ ”وَقَدْ صَحَّ أَنَّ حَنْظَلَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ لَمَّا اسْتُشْهِدَ جُنُبًا غَسَلَتْهُ الْمَلَائِكَةُ“ اور نیز امام صاحب کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں: ”وَقَدْ صَحَّ“ اور تحقیق یہ بات ثابت ہے کہ حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو تھے ”لَمَّا اسْتُشْهِدَ جُنُبًا“ جب یہ شہید ہوئے اس حال میں کہ آپ جنابت کی حالت جب کہ آپ جنابت کی حالت میں تھے، ”غَسَلَتْهُ الْمَلَائِكَةُ“ تو ان کو فرشتوں نے غسل دیا تھا۔ ان کو کس نے غسل دیا تھا؟ فرشتوں نے غسل دیا تھا، معلوم ہوا شہادت کی وجہ سے بھی وہ جو پچھلے پچھلا غسل جو واجب ہوا ہے وہ ختم نہیں ہوتا بھئی۔ تو یہ حضرت حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھئی، ان کی اسی رات شادی ہوئی تھی، اسی رات شادی ہوئی تھی۔ صحابہ انسان ان کی باتیں پڑھتا ہے، حیران رہ جاتا ہے، یہ کیسے لوگ تھے بھئی، کیسے لوگ تھے! تو اسی رات ان کی شادی ہوئی تھی اور صبح جب حضور علیہ السلام کی طرف سے اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ نکلو لڑائی کے لیے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں نکلو لڑائی کے لیے جلدی، تو کہتے ہیں یہ ابھی جنابت کی حالت میں تھے، ابھی غسل نہیں کیا تھا، یہ اسی حالت میں نکل پڑے کہ سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دے دیا ہے، بس اب ذرہ تاخیر کی بھی گنجائش نہیں ہے بھئی۔ تو یہ نکل گئے اسی طرح اور پھر جب یہ شہید ہو گئے، شہید ہو گئے حضور علیہ السلام جو ہیں وہ بعد میں فرمانے لگے کہ آپ نے رخ پھیر لیا ان کی طرف سے اور فرمانے لگے کہ فرشتے جو ہیں ان کو غسل دے رہے ہیں۔ بعد میں ان کی بیوی سے پوچھا گیا کہ کہ ان کو فرشتے غسل دے رہے تھے، کیا وجہ ہے؟ تو انہوں نے پھر بات بتلائی کہ جس وقت اعلان ہوا تو ابھی یہ نہائے نہیں تھے، اعلان سنتے ہی فوراً نکل گئے، غسل کا بھی انتظار نہیں کیا انہوں نے بھئی۔ یہ معنی ہے: ”وَقَدْ صَحَّ أَنَّ حَنْظَلَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ لَمَّا اسْتُشْهِدَ جُنُبًا غَسَلَتْهُ الْمَلَائِكَةُ“ اور تحقیق یہ بات ثابت ہے کہ حضرت حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب جنابت کی حالت میں جب جنابت کی حالت میں ان کو شہید کر دیا گیا تو ان کو فرشتوں نے غسل دیا۔ ”وَعَلَى هَذَا الْخِلَافِ الْحَائِضُ وَالنُّفَسَاءُ إِذَا طَهُرَتَا“ اور اسی اختلاف پر ہے حیض والی عورت بھی اور نفاس والی عورت بھی ”إِذَا طَهُرَتَا“ جب وہ پاک ہو جائیں۔ ایک عورت ہے وہ حیض سے یا نفاس سے پاک ہو گئی ہے، خون رک گیا ہے حیض یا نفاس کا لیکن ابھی وہ نہائی نہیں تھی، غسل واجب تو ہے لیکن ابھی اس نے غسل کیا نہیں، اس سے پہلے ہی اس کو کسی نے شہید کر دیا، تو اب دیکھیے اس صورت کے اندر بھی کیا کیا جائے گا؟ غسل دیا جائے گا، ابھی یہی مسئلہ تو بیان ہوا اوپر شرائط میں سے کیا ضروری تھا؟ حدثِ اکبر سے پاک ہونا، اور شہید کا حکم تو کیا تھا؟ اس کو غسل نہیں دیا جاتا، لیکن ان کو امام صاحب کے نزدیک غسل دیا جاتا ہے کیونکہ شہادت مانعِ غسل تو ہے، رافعِ غسل نہیں ہے، جبکہ صاحبین کے نزدیک صاحبین کے نزدیک ان کو غسل نہیں دیا جائے گا بھئی۔ ”وَكَذَا قَبْلَ الِانْقِطَاعِ فِي الصَّحِيحِ مِنَ الرِّوَايَةِ“ اور اسی طرح خون کے منقطع ہونے سے پہلے بھی صحیح روایت کے مطابق۔ خون منقطع ہونے سے پہلے، ایک عورت حیض کی حالت میں ہے یا نفاس کی حالت میں، ابھی خون رکا نہیں، اسی حالت میں کسی نے اس کو شہید کر دیا، کیا کیا؟ شہید کر دیا۔ تو یاد رکھیے اس میں دو روایتیں ہیں۔ ایک روایت امام صاحب سے یہ ہے کہ اس کو غسل نہیں دیں گے، کس کو؟ غسل نہیں دیں گے۔ کیوں نہیں دیں گے؟ دلیل اس کی ذکر کرتے ہیں فقہاء کہ کیونکہ خون رکتا تو اس پہ غسل واجب ہونا تھا، ابھی خون رکا ہی نہیں تھا لہٰذا غسل بھی اس پر واجب نہیں۔ تو پہلے والا غسل بھی واجب نہیں اور دوسرا موت کی وجہ سے جو آتا ہے وہ بھی شہادت کی وجہ سے واجب نہیں۔ لیکن صحیح روایت یہ ہے کہ اس میں بھی یہی حکم ہے، صاحبین کے نزدیک اس کو غسل نہیں دیں گے جبکہ امام صاحب کے نزدیک غسل دیا جائے گا، اس لیے کیونکہ ابھی یہ حالتِ حیض میں تھی یا نفاس میں تھی لیکن مرنے سے وہ خون کیا ہو گیا؟ منقطع ہو گیا، تو اس کی وجہ سے غسل آیا۔ ہاں خود موت کی وجہ سے جو غسل آیا تھا وہ تو نہ آتا لیکن یہ غسل تو کس کی وجہ سے آیا ہے؟ انقطاعِ دم، خون کے رکنے کی وجہ سے آیا ہے، لہٰذا اس کو غسل دیا جائے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے: ”وَكَذَا قَبْلَ الِانْقِطَاعِ فِي الصَّحِيحِ مِنَ الرِّوَايَةِ“ اور اسی طرح خون کے منقطع ہونے سے پہلے صحیح روایت میں۔ ”وَعَلَى هَذَا الْخِلَافِ الصَّبِيُّ“ اور اسی اختلاف پر بچہ بھی ہے۔ صاحبین کے نزدیک بچہ بھی اگر کوئی اس طرح کوئی شہید کر دیتا ہے اس کو غسل نہیں دیں گے، امام صاحب فرماتے ہیں نہیں، بچے کو کیا کریں گے؟ غسل دیں گے، اسی لیے انہوں نے شرط کیا بڑھائی تھی؟ کہ بالغ ہونا چاہیے۔ اور کہتے ہیں اسی اختلاف پر بچہ ہے، ”لَهُمَا“ صاحبین کی دلیل یہ ہے: ”أَنَّ الصَّبِيَّ أَحَقُّ بِهَذِهِ الْكَرَامَةِ“ وہ فرماتے ہیں کہ بھئی جب بڑا آدمی بالغ جب اس کو اس طرح کوئی قتل کر دے تو اس کا اکرام کرتے ہوئے، اکرام کرتے ہوئے کیا کیا جاتا ہے؟ غسل ہی نہیں دیا جاتا، غسل ہی نہیں ہے، تو جب بڑے کا اکرام کیا جاتا ہے تو بچہ بیچارہ تو معصوم ہے، وہ زیادہ اس اکرام کے لائق ہے، لہٰذا اس کو بطریقِ اولیٰ غسل نہیں دیا جائے گا۔ دلیل سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے: ”أَنَّ الصَّبِيَّ أَحَقُّ بِهَذِهِ الْكَرَامَةِ“ کہ بچہ جو ہے وہ اس کرامت کے، اس احترام کے زیادہ لائق ہے۔ ”وَلَهُ“ امام صاحب کی دلیل، وہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ تلوار جو ہے نا تلوار، یہ غسل سے کافی ہو جاتی ہے۔ تلوار کیا ہے؟ توجہ ہے بھئی؟ امام صاحب فرماتے ہیں تلوار غسل سے کافی ہو جاتی ہے، یعنی تلوار سے جب تلوار سے جب کسی کو قتل کر دیا گیا تو اس کے گناہ ختم ہو گئے اور جیسے شہدائے احد ان کو غسل نہیں دیا گیا کیونکہ ان کے لیے تلوار کیا ہو گئی؟ کافی ہو گئی، تو تلوار نے ان کے گناہوں کو مٹا دیا، لیکن بچہ اس طرح نہیں ہے، وہ تو معصوم ہے اس کے تو گناہ ہی نہیں ہیں۔ وہ تو معصوم، تو کیا ضروری ہے؟ جیسے وہاں پر تلوار نے گناہوں کو ختم کیا تھا، یہاں بھی اسی طرح ہونا چاہیے تلوار کیا کرے؟ گناہوں کو ختم کرے، لیکن یہاں تو ایسا نہیں ہے، یہاں تو بچہ قتل ہوا ہے وہ معصوم ہے اور معصوم کے تو گناہ نہیں، تو تلوار نے گناہوں کو ختم کیا؟ نہیں، شہدائے احد میں تلوار نے گناہوں کو ختم کیا تھا اور یہاں تلوار نے گناہوں کو ختم نہیں کیا، لہٰذا یہ ان کی طرح نہ ہوئے، جب ان کی طرح نہ ہوئے تو ان کا حکم بھی ان پر نہیں آئے گا اور ان کا حکم تو تھا ان کو غسل نہیں دیا گیا تھا تو یہ ان کی طرح نہیں، لہٰذا ان بچوں کو کیا کریں گے؟ غسل دیں گے۔ یہ معنی ہے: ”وَلَهُ أَنَّ السَّيْفَ كَفَى عَنِ الْغُسْلِ فِي حَقِّ شُهَدَاءِ أُحُدٍ بِوَصْفِ كَوْنِهِ طُهْرَةً“ کہ تلوار جو ہے کافی ہو گئی غسل سے ”فِي حَقِّ شُهَدَاءِ أُحُدٍ“ کس کے حق میں؟ شہدائے احد کے حق میں ”بِوَصْفِ كَوْنِهِ طُهْرَةً“ اس وصف کے ساتھ کہ وہ تلوار پاک کرنے والی تھی، کہ وہ تلوار کیا تھی؟ پاک کرنے والی تھی، ”وَلَا ذَنْبَ عَلَى الصَّبِيِّ“ اور بچے پر تو کوئی گناہ ہی نہیں ہے، ”فَلَمْ يَكُنْ فِي مَعْنَاهُمْ“ لہٰذا یہ بچہ ان شہدائے احد کے معنی میں نہیں۔ دلیل سمجھ میں آئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
169 approved lectures · 89 of 169