فَصْلٌ فِي التَّكْفِينِ
اَلسُّنَّةُ أَنْ يُكَفَّنَ الرَّجُلُ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ: إِزَارٌ، وَقَمِيصٌ، وَلِفَافَةٌ؛ لِمَا رُوِيَ أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سَحُولِيَّةٍ، وَلِأَنَّهُ أَكْثَرُ مَا يَلْبَسُهُ عَادَةً فِي حَيَاتِهِ، فَكَذَا بَعْدَ مَمَاتِهِ. فَإِنِ اقْتَصَرُوا عَلَى ثَوْبَيْنِ جَازَ، وَالثَّوْبَانِ: إِزَارٌ وَلِفَافَةٌ.
فَصْلٌ فِي التَّكْفِينِ۔ یہ فصل ہے میت کو کفن دینے کے بیان میں، میت کو کفن پہنانے کے بیان میں۔
بھئی غسل کا طریقہ بیان ہو گیا، اب کفن کس طرح دیا جائے گا اور کفن کتنے کپڑوں پر مشتمل ہوگا، وہ اب صاحبِ ہدایہ بیان کریں گے۔ تو کہتے ہیں: اَلسُّنَّةُ أَنْ يُكَفَّنَ الرَّجُلُ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ۔ سنت یہ ہے کہ مرد کو کفن دیا جائے تین کپڑوں میں، اور وہ تین کپڑے کون سے ہیں وہ آگے بیان کر رہے ہیں: إِزَارٌ وَقَمِيصٌ وَلِفَافَةٌ۔ ایک ازار ہے، ایک قمیص ہے اور ایک لفافہ ہے بھئی۔
تو یہاں یہ جہاں اس طرح کا لف و نشر آئے بھئی، تو وہاں بھئی دیکھیے یہاں پر لف و نشر ہے۔ لف و نشر علمِ بلاغت میں آپ پڑھ چکے ہوں گے یا آگے چل کر پڑھیں گے کہ کچھ چیزیں جو ہیں ان کو اوّلاً اکٹھا ذکر کر دیا جائے۔ جیسے یہاں آیا کہ کفن دیا جائے مرد کو تین کپڑوں میں، تین کپڑوں میں۔ تو دیکھو وہ تینوں کو عدد کے ساتھ اکٹھا ذکر کر دیا۔ لف کا معنی ہوتا ہے لپیٹنا، لپیٹنا۔ تو دیکھو یہاں تین چیزوں کو لپیٹ دیا گیا اس لفظ میں: ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ میں۔ اور پھر آگے انہی کو کھول کر بھی بیان کر دیا کہ وہ تین کپڑے کیا ہیں؟ ازار ہے، قمیص ہے اور لفافہ۔ تو یہ ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ یہ کیا ہے؟ لف، اور ازار، قمیص اور لفافہ یہ کیا ہے؟ نشر۔ اسی کو کھول کر بیان کر دیا کہ وہ تین کپڑے یہ والے ہیں بھئی۔
تو جہاں اس طرح کا لف و نشر آئے، ماقبل میں عدد وغیرہ کے ساتھ کوئی چیز اکٹھی ذکر ہو اور پھر آگے ان میں سے ہر ایک کو الگ الگ کھول کر بیان کر دیا جائے، تو نشر کے اندر تین طرح اعراب پڑھنا جائز ہیں۔ لہٰذا یہ جو ازار، قمیص اور لفافہ آیا یہ ہے نشر۔ اس کے اندر تینوں اعراب جائز ہیں۔ رفع بھی پڑھ سکتے ہیں، نصب بھی پڑھ سکتے ہیں، جر بھی پڑھ سکتے ہیں۔ إِزَارٌ وَقَمِيصٌ وَلِفَافَةٌ، دیکھو رفع پڑھا۔ إِزَارًا وَقَمِيصًا وَلِفَافَةً، دیکھو نصب پڑھا۔ اور إِزَارٍ وَقَمِيصٍ وَلِفَافَةٍ، یہاں جر پڑھا۔
تو تین اعراب، لیکن اس میں تین اعراب تب جائز ہوں گے جب ماقبل والا لفظ یعنی جو لف جو ہے وہ مجرور ہو۔ بھئی دیکھیے وجہ سمجھ لیجیے پھر آپ کو پتہ لگ جائے گا کہ کہاں کتنی قسم پر اعراب جائز ہوگا۔
إِزَارٌ وَقَمِيصٌ وَلِفَافَةٌ، جب رفع پڑھا رفع پڑھا تو دراصل یہ خبر ہے مبتدا کی، مبتدا کی۔ اور مبتدا چاہے تینوں کے لیے ایک ہی نکال لیں: وَهِيَ إِزَارٌ وَقَمِيصٌ وَلِفَافَةٌ۔ تو هِيَ مبتدا ضمیر راجع ہے ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ کو، اور إِزَارٌ وَقَمِيصٌ وَلِفَافَةٌ یہ خبر ہے اور خبر کیا ہوتی ہے؟ مرفوع ہوتی ہے تو اس پر رفع پڑھیں گے۔
اور آپ چاہیں تو اس پر نصب پڑھیں، اس صورت میں یہ أَعْنِي فعل کے لیے مفعول واقع ہوں گے۔ أَعْنِي، میری مراد کیا ہے؟ إِزَارًا وَقَمِيصًا کہ مرد کو کفن دیا جائے گا تین کپڑوں میں، أَعْنِي إِزَارًا وَقَمِيصًا وَلِفَافَةً۔ تو یہ مفعول ہونے کی بنا پر منصوب ہوں گے اور کس فعل کے لیے؟ أَعْنِي، اور اس کا کیا ترجمہ ہے؟ میری مراد یہ ہے۔
اور چاہیں تو اس پر جر پڑھیں بھئی، اور اس جر کی صورت میں یہ بدل ہے ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ سے، اور آپ نے پڑھا ہے مبدل منہ اور بدل کا اعراب ایک ہوتا ہے، تو ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ یہ ہے مجرور کیونکہ اس پر فِي داخل ہے، تو آگے جو بدل ہے إِزَارٍ وَقَمِيصٍ وَلِفَافَةٍ اس پر بھی کیا پڑھیں گے؟ جر پڑھ سکتے ہیں۔ تو یہاں تینوں اعراب پڑھ سکتے ہیں بھئی۔
لیکن یہاں اس کتاب کے اندر دو ہی اعراب پڑھ سکتے ہیں آپ بھئی۔ یا رفع پڑھیں: إِزَارٌ وَقَمِيصٌ وَلِفَافَةٌ، یا اس پر جر پڑھیں: إِزَارٍ وَقَمِيصٍ وَلِفَافَةٍ۔ نصب نہیں پڑھ سکتے، اس لیے کیونکہ رسم الخط اس کی تائید نہیں کرتا۔ رسم الخط، کیونکہ اگر نصب پڑھتے تو پھر کیا ہوتا؟ إِزَارًا، را کے بعد کیا آتا؟ الف۔ وَقَمِيصًا اور صاد کے بعد کیا ہوتا؟ وہاں بھی الف ہوتا بھئی۔ ہاں اگر ان پر الف لام ہوتا تو پھر تینوں اعراب جائز ہوتے۔ تو یہاں کتنی صورتیں پڑھنا جائز ہیں؟ دو صورتیں، ایک رفع اور ایک جر بھئی۔ ترکیبیں سمجھ میں آ گئیں؟ اس کے مطابق جہاں بھی اس طرح کا لف و نشر آئے، آپ طے کر سکتے ہیں کہ کتنے اعراب پڑھ سکتے ہیں۔ اگر ماقبل مجرور ہے تو جر والا اعراب بھی جائز ہوگا، اگر ماقبل یعنی مبدل منہ مجرور نہیں ہے تو پھر جر پڑھنا جائز نہیں۔
اچھا ہاں، ایک تو صورت میں نے یہ بیان کر دی کہ ایک ہی مبتدا تینوں کے لیے نکال لیں، هِيَ اور إِزَارٌ وَقَمِيصٌ وَلِفَافَةٌ اس کو کیا بنا دیں؟ اس هِيَ کے لیے خبر۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ہر ایک کے لیے الگ مبتدا نکال لیں، پیچھے آیا نا تین کپڑے ہیں تو آگے: أَحَدُهَا إِزَارٌ، وَثَانِيهَا قَمِيصٌ، وَثَالِثُهَا لِفَافَةٌ۔ تو ہر ایک کے لیے الگ الگ بھی مبتدا نکال سکتے ہیں۔ ترکیب سمجھ میں آ گئی؟
تو سنت یہ ہے کہ کفن دیا جائے مرد کو فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ تین کپڑوں میں: إِزَارٍ وَقَمِيصٍ وَلِفَافَةٍ، ازار، قمیص اور لفافہ۔
دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ تین کپڑے کیوں مسنون ہیں؟ کہتے ہیں: لِمَا رُوِيَ أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سَحُولِيَّةٍ، بوجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کفن دیا گیا تین سفید سحولی کپڑوں میں۔ حضور علیہ السلام کو کفن دیا گیا تین سفید سحولی کپڑوں میں۔ سحول جو ہے سحول کوئی جگہ ہے یمن کے اندر، وہاں کا کوئی کپڑا ہوگا تو اسی نام سے مشہور ہوگا، تو وہ کپڑا مراد ہے۔ تو حضور علیہ السلام کو تین سفید سحولی کپڑوں میں کفن دیا گیا۔
یہ تو تھی نقلی دلیل۔ آگے صاحبِ ہدایہ عقلی دلیل بھی ذکر فرما رہے ہیں کہ تین کپڑوں میں کفن کیوں ہوگا؟ کہتے ہیں: وَلِأَنَّهُ أَكْثَرُ مَا يَلْبَسُهُ عَادَةً فِي حَيَاتِهِ، فَكَذَا بَعْدَ مَمَاتِهِ، اس لیے کیونکہ یہ اکثر ہے ان کپڑوں کا جن کو وہ پہنتا تھا عادتاً اپنی زندگی میں، فَكَذَا بَعْدَ مَمَاتِهِ تو اسی طرح اس کے مرنے کے بعد بھی ہوگا۔ زندگی میں بھی عموماً اکثر آدمی کتنے کپڑے پہنتا ہے؟ تین ہی کپڑے پہنتا ہے، ایک قمیص ہے، ایک ازار ہے تہبند وغیرہ اور ایک پھر چادر وغیرہ ہوتی ہے، تو تین ہی کپڑے عام حیات میں بھی انسان اکثر استعمال کرتا ہے، تو موت کے بعد بھی کتنے کپڑے ہونے چاہییں؟ تین ہی مسنون ہونے چاہییں بھئی۔ یہ عقلی دلیل آ گئی۔
اور اس میں پھر یاد رکھیے، تفصیل میں بیان کر دیتا ہوں یہیں پر تھوڑی سی ازار، قمیص اور لفافہ کی۔
ازار جو ہے ازار، یہ ایک کپڑا ہے آگے صاحبِ ہدایہ بھی بیان کریں گے بھئی۔ ازار جو ہے یہ کپڑا ہے جو سر سے لے کر قدموں تک یعنی سر کو بھی ڈھانپ لے اور قدموں کو بھی ڈھانپ لے، اتنا لمبا ہونا چاہیے بھئی، لمبا ہونا چاہیے۔ اور چوڑائی اتنی ہو کہ اس میں میت کو لپیٹ سکیں، یعنی دائیں طرف سے بھی، بائیں طرف سے لپیٹ دیا اور پھر دائیں طرف سے لپیٹ دیا تو میت کو اس میں لپیٹا جا سکے، اتنی چوڑائی ہونی چاہیے۔ اور لمبائی کتنی ہو؟ کہ سر اور قدم اس میں چھپ جائیں بھئی۔
اور قمیص جو ہے قمیص، قمیص یاد رکھیے یہ گردن سے لے کر قدموں تک جتنا میت کا قد ہے، کہاں سے کہاں تک؟ گردن سے لے کر قدموں تک، اس سے دگنی ہوگی بھئی، دگنی ہوگی کہ مثلاً مرنے والے کا قد اگر گردن سے لے کر قدموں تک دو گز ہے تو یہ کپڑا چار گز یا اس سے تھوڑا سا زیادہ ہو تاکہ قدم اس میں پھر چھپ جائیں، تو کم از کم چار گز ہو بھئی، کچھ تھوڑا سا زائد۔ اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ کپڑا یہ جو چار گز کا ہے اس کو لمبائی میں درمیان سے موڑ دیں گے تو دو تہیں بن گئیں، ایک اوپر اور ایک نیچے۔ پھر جہاں سے موڑا ہے وہاں پر تھوڑا سا کاٹ دیں گے درمیان میں سے، چاک لگا دیں گے۔ یہاں بیچ میں سے اب میت کا سر گزاریں گے تو ایک حصہ ایک تہ میت کے نیچے آ جائے گی اور ایک تہ میت کے اوپر آ جائے گی۔ اس کو کہتے ہیں قمیص بھئی۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ کہ لمبائی اس کی میت سے دگنی ہے کیونکہ ایک تہ نے میت کے نیچے آنا ہے قدموں تک گردن سے، اور دوسری تہ گردن سے لے کر قدموں تک اوپر آئے گی، تو لمبائی کے رخ اس کپڑے کو موڑ دیں اور جہاں سے موڑا ہے وہاں درمیان میں کپڑے کے چاک لگا دیں گے کاٹ دیں گے جہاں بیچ میں سے میت کا سر نکالیں گے، تو ایک تہ کہاں آ گئی؟ میت کے نچلی جانب، اور ایک تہ میت کے اوپر والی جانب آ گئی۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا؟
اور اس کے بعد یہ لفافہ ہے بھئی لفافہ۔ یہ لفافہ یہ سب سے اوپر آتا ہے اور یہ سر کی طرف بھی کچھ زائد ہو اور قدموں کی طرف بھی کچھ زائد ہو بھئی، تو یہ پوری میت اس کے اندر لپیٹنی ہے اور سر سے کچھ زائد ہو کیونکہ پھر اوپر والے حصے کو پھر کسی پٹی وغیرہ سے گرہ دے کر اوپر کی طرف باندھ دیں گے، اور جو قدموں کی طرف کچھ تھوڑا سا حصہ زائد ہے اس کو پھر اکٹھا کر کے قدموں کی طرف بھی کسی پٹی وغیرہ سے گرہ دے دی جائے گی بھئی۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا؟
اور ترتیب ان میں ترتیب بھی آگے صاحبِ ہدایہ بیان کریں گے بھئی۔ ترتیب یہ کہ سب سے پہلے میت کو قمیص پہنائی جائے گی، یعنی وہ کپڑا جو اوپر اور نیچے دونوں طرف اس کی تہیں آ گئیں، پھر اس کے بعد اس کے اوپر ازار آئے گا اور ازار بھی کہاں سے کہاں تک تھا؟ سر سے لے کر قدم تک، یعنی اس میں سر بھی چھپ جائے اور قدم بھی چھپ جائیں اتنا لمبا ہو، وہ اس کے اوپر اس میں لپیٹیں گے اور اس میں بھی بائیں جانب پہلے لپیٹیں گے اور دائیں جانب اس کے بعد لپیٹیں گے تاکہ دائیں جانب اوپر آ جائے، دائیں جانب والا کپڑا اوپر آ جائے۔ تو پہلے کون سی جانب لپیٹیں گے؟ بائیں جانب، پھر اس کے بعد دائیں جانب۔ اس ترتیب سے دائیں جانب والا جو کپڑا ہے وہ اوپر آ جائے گا، اوپر آ جائے گا۔ تو اس میں لپیٹ دیں گے۔ پھر اس کے بعد سب سے اوپر جو ہے وہ لفافہ آئے گا اور اس میں بھی اسی طریقے سے پہلے بائیں جانب کو لپیٹ دیں گے اور پھر دائیں جانب کو لپیٹ دیں گے، اور اوپر سر کے اوپر کی طرف جو حصہ زائد ہے اس کو اکٹھا کر لپیٹ کر اس میں اس کو گرہ دے دیں گے تاکہ کھلے نہ کفن، اور قدموں کی طرف بھی اسی طرح اس کو پٹی وغیرہ کے ساتھ اس کو باندھ دیں گے، اور اگر ضرورت ہو تو درمیان میں بھی کوئی پٹی وغیرہ باندھی جا سکتی ہے تاکہ کفن کھل نہ جائے بھئی۔ ترتیب سمجھ میں آ گئی؟ یہ تھا مرد کا کفن بھئی۔ اب دیکھیے بھئی کتاب پر۔
کہتے ہیں: فَإِنِ اقْتَصَرُوا عَلَى ثَوْبَيْنِ جَازَ، اگر اکتفا کر لیا ان لوگوں نے عَلَى ثَوْبَيْنِ دو کپڑوں پر جَازَ تو یہ بھی جائز ہے۔ مسنون تو تین کپڑے ہیں لیکن اگر دو پر بھی اکتفا کر لیا جائے تو یہ جائز ہے۔ بھئی وہ دو کپڑے کون سے ہوں گے؟ وہ بھی آگے ذکر کر رہے ہیں: وَالثَّوْبَانِ: إِزَارٌ وَلِفَافَةٌ، اور وہ دو کپڑے ازار اور لفافہ ہیں، یعنی ان پر بھی اگر اکتفا کر لیں قمیص نہیں ہے تو بھی جائز ہے بھئی۔
وَالثَّوْبَانِ: إِزَارٌ وَلِفَافَةٌ، یہاں وہ تین اعراب نہ جاری کرنا۔ الثَّوْبَانِ ہے مبتدا اور إِزَارٌ وَلِفَافَةٌ اس کی خبر ہے، تو یہاں تین اعراب نہیں بلکہ یہاں رفع ہی پڑھیں گے، یہ خبر ہیں۔ وہ دو کپڑے جو ہیں إِزَارٌ وَلِفَافَةٌ ازار اور لفافہ ہیں، وَهَذَا كَفَنُ الْكِفَايَةِ۔
یاد رکھیے کفن تین قسم پر ہے بھئی: ایک کفنِ سنت ہے بھئی، ایک کفنِ کفایت ہے اور ایک کفنِ ضرورت ہے بھئی۔ ایک کفنِ سنت ہے مسنون کفن اور وہ تین کپڑوں پر مشتمل ہوتا ہے جیسے ابھی بیان ہوا، ایک کفنِ کفایت ہے یعنی جس پر اکتفا کر لیا جائے، وہ یہ دو کپڑے ہیں ازار اور لفافہ، اور ایک کفنِ ضرورت ہے یعنی وہ ضرورت کی وجہ سے مجبوری کی صورت میں اگر دو کپڑے بھی نہیں ہیں تو پھر ایک کپڑے کے اندر بھی کفن دینا جائز ہے، ویسے ایک کپڑے میں کفن دینا درست نہیں ہے بھئی ویسے نہیں۔
تو کہتے ہیں: وَهَذَا كَفَنُ الْكِفَايَةِ اور یہ کفنِ کفایت ہے، لِقَوْلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ بوجہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے اس قول کے، آپ نے فرمایا: اغْسِلُوا ثَوْبَيَّ هَذَيْنِ وَكَفِّنُونِي فِيهِمَا، اغْسِلُوا تم لوگ دھو لو ثَوْبَيَّ هَذَيْنِ میرے ان دو کپڑوں کو۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ آخری ایام میں جب بیمار تھے تو جو دو کپڑے پہنے ہوئے تھے انہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمانے لگے کہ انہی میرے دو کپڑوں کو دھو لینا اور اسی میں مجھے کفنا دینا، یہی مجھے بطورِ کفن کے دے دینا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرمانے لگیں کیا آپ کے لیے ہم نئے کپڑے نہ خریدیں؟ تو فرمانے لگے نہیں، نئے کپڑے مردوں کے بجائے زندوں کے، زندہ زیادہ اس کا ضرورت مند ہے۔
تو یہ تھے مولانا پہلے خلیفہ راشد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ جو بالاجماع انبیاء کے بعد تمام انسانوں سے افضل ترین شخص ہیں بھئی۔ اور الحمد للہ ثم الحمد للہ کہ اللہ نے ہمیں ان صحابہ کی محبت نصیب فرمائی ہے، عجیب بھئی عجیب بھئی! انسان ان لوگوں پر حیران ہوتا ہے جو صحابہ کو اپنی طعن و تشنیع کا نشانہ بناتے ہیں بھئی۔ یہ تو وہ جلیل القدر ہستیاں کہ تاریخ نے اس سے پہلے نہ ایسے انسان دیکھے اور نہ قیامت تک ایسے انسانوں کو دیکھ سکے گی بھئی۔ ان کا ذکر بھی آتا ہے تو دل میں ایمانی حلاوت محسوس ہوتی ہے بھئی۔
بطورِ شکر کے آپ حضرات کو دو دو رکعت نفل پڑھنے چاہییں بھئی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو صحابہ کی محبت نصیب فرمائی ہے، کتنی عظیم نعمت ہے بھئی اس کا آپ تصور نہیں کر سکتے۔ حدیث میں آتا ہے: اَلْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ کہ قیامت میں جس شخص سے محبت ہوگی انسان اسی کے ساتھ ہوگا، اسی کے ساتھ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی قیامت میں صحابہ کے ساتھ جمع فرمائے بھئی۔ آمین۔
حضرت ابوبکر صدیق فرمانے لگے: اغْسِلُوا ثَوْبَيَّ هَذَيْنِ وَكَفِّنُونِي فِيهِمَا کہ میرے ان دو کپڑوں کو تم دھو لینا اور اسی میں مجھے کفن دے دینا۔
وَلِأَنَّهُ، آگے عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں نقلی کے بعد بھئی: وَلِأَنَّهُ أَدْنَى لِبَاسِ الْأَحْيَاءِ، کیونکہ یہ جو ہے دو کپڑے یہ زندوں کا کمتر لباس ہے، زندہ شخص بھی کم سے کم کتنے کپڑے پہنتا ہے؟ دو کپڑے پہنتا ہے، ایک اوپر پہنے گا اور ایک ازار تہبند کے طور پر۔
اب وہ بتلا رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ ازار وغیرہ کتنا ہونا چاہیے، کہتے ہیں: وَالْإِزَارُ مِنَ الْقَرْنِ إِلَى الْقَدَمِ، اور ازار جو ہے، قرن کہتے ہیں سر کو، سر کا اوپر والا جو حصہ ہے، تو ازار جو ہے سر کے اوپر والے حصے سے یعنی سر کی چوٹی سے لے کر إِلَى الْقَدَمِ قدموں تک ہوگا، وَاللِّفَافَةُ كَذَلِكَ اور لفافہ بھی اسی طرح ہوگا، وَالْقَمِيصُ مِنْ أَصْلِ الْعُنُقِ اور قمیص جو ہے وہ گردن کی جڑ سے ہوگی۔ کہاں سے مِنْ أَصْلِ الْعُنُقِ؟ گردن کی جڑ سے بھئی۔ ترتیب میں نے بتلا دی آپ کو، قمیص کہاں تک ہوگی؟ یہ گردن کی جڑ سے لے کر قدموں تک بھئی، اور دو تہیں ہوں گی، ایک تہ اوپر کی جانب اور ایک تہ نیچے کی جانب ہوگی بھئی۔
وَإِذَا أَرَادُوا لَفَّ الْكَفَنِ ابْتَدَءُوا بِجَانِبِهِ الْأَيْسَرِ فَلَفُّوهُ عَلَيْهِ، اور جب ارادہ کریں اس پر کفن کے لپیٹنے کا، کفن فا کے فتحہ کے ساتھ ہے یہ لفظ بھئی، پس جب وہ ارادہ کریں لَفَّ الْكَفَنِ کفن کے لپیٹنے کا: ابْتَدَءُوا بِجَانِبِهِ الْأَيْسَرِ۔ میں نے آپ کو کیا بتلایا تھا بھئی کفن لپیٹنا کس طرح ہے ازار اور لفافے کو؟ پہلے کون سی جانب کو لپیٹنا ہے؟ بائیں جانب کو، اور پھر دائیں جانب کو تاکہ دائیں جانب اوپر آ جائے، یہی بیان کر رہے ہیں۔ اور جب ارادہ کریں اس پر کفن کے لپیٹنے کا ابْتَدَءُوا بِجَانِبِهِ الْأَيْسَرِ تو اس کی بائیں جانب سے شروع کریں فَلَفُّوهُ عَلَيْهِ تو اس کو اس پر لپیٹ دیں، ثُمَّ بِالْأَيْمَنِ پھر دائیں جانب کو، كَمَا فِي حَالِ الْحَيَاةِ جیسے کہ زندگی میں تھا طریقہ بھئی۔ زندگی میں بھی انسان اسی طرح چادر وغیرہ اوڑھتا ہے کہ پہلے بایاں کنارہ ہوتا ہے اور اس کے اوپر دایاں کنارہ ڈالتا ہے بھئی۔
وَبَسْطُهُ اور تفصیل اس کی یہ ہے، اب تفصیل بیان کرنے لگے ہیں، تو بسط کا کیا معنی؟ تفصیل۔ وَبَسْطُهُ اور تفصیل اس کی یہ ہے: أَنْ تُبْسَطَ اللِّفَافَةُ أَوَّلًا۔ اچھا بھئی سب سے پہلے کیا پہنانا ہے؟ تو میت کو یہ پہنانے ہیں کفن، تو سب سے پہلے وہ کپڑا بچھائیں گے جو سب سے اوپر آئے گا، یعنی لفافہ بچھا دیں گے، پھر اس کے بعد لفافے کے نیچے کیا آتا تھا؟ ازار، اس کے بعد اس لفافے کے اوپر ازار والا کپڑا بچھا دیں گے۔ پھر اس کے بعد سب سے اندر کون سا کپڑا تھا؟ قمیص، قمیص کو بچھا دیں گے جو نیچے والا حصہ ہے اس کو ان پر بچھا دیں گے، اور جس حصے نے اوپر آنا ہے وہ سر کی طرف رکھیں گے لپیٹ کر بھئی۔ پھر میت کو اس کے اوپر رکھیں گے ان کفنوں کے اوپر یہ جو تین تہیں بچھی ہوئی ہیں، اور سب سے پہلے قمیص کے اندر جو چاک لگا ہوا تھا وہاں سے اس کا سر گزاریں گے اور وہ جو حصہ لپیٹ کر سر کی طرف رکھا تھا اب اس کو میت کے اوپر لے آئیں گے، تو یہ قمیص ہو گئی پوری میت کے اوپر۔ اور اس کے نیچے کیا بچھایا تھا؟ ازار، اب اس کے بعد ازار کا بائیں جانب اس پر لپیٹ دیں گے اور پھر دائیں جانب۔ اس سے نیچے کیا تھا؟ لفافہ تھا، اب لفافہ سب سے اوپر آ جائے گا تو اس کی بھی پہلے بائیں جانب لپیٹ دیں گے اور پھر دائیں جانب۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ یہی بیان کر رہے ہیں۔
کہتے ہیں: وَبَسْطُهُ اور تفصیل اس کی یہ ہے أَنْ تُبْسَطَ اللِّفَافَةُ أَوَّلًا کہ بچھایا جائے لفافے کو پہلے، ثُمَّ يُبْسَطُ عَلَيْهَا الْإِزَارُ پھر اس پر ازار کو بچھا دیا جائے، ثُمَّ يُقَمَّصُ الْمَيِّتُ پھر قمیص پہنا دی جائے میت کو، وَيُوضَعُ عَلَى الْإِزَارِ اور اس کو کس پر رکھا جائے؟ میت کو قمیص پہنا کر کس پر رکھ دیا جائے؟ ازار پر، ثُمَّ يُعْطَفُ الْإِزَارُ مِنْ قِبَلِ الْيَسَارِ پھر لپیٹ دیا جائے ازار کو بائیں جانب سے، ثُمَّ مِنْ قِبَلِ الْيَمِينِ پھر دائیں جانب سے، ثُمَّ اللِّفَافَةُ كَذَلِكَ پھر لفافہ اسی طرح، یعنی پہلے بائیں جانب سے لپیٹا جائے اور پھر دائیں جانب سے۔
وَإِنْ خَافُوا أَنْ يَنْتَشِرَ الْكَفَنُ عَنْهُ عَقَدُوهُ بِخِرْقَةٍ صِيَانَةً عَنِ الْكَشْفِ، وَإِنْ خَافُوا اور اگر ان کو لوگوں کو یہ خوف ہو أَنْ يَنْتَشِرَ الْكَفَنُ عَنْهُ کہ کفن اس میت سے کھل جائے گا، یعنی یہ خوف ہو کہ کہیں کھل نہ جائے، عَقَدُوهُ تو اس کو باندھ دیں بِخِرْقَةٍ کسی کپڑے سے، یعنی کسی پٹی وغیرہ سے، صِيَانَةً عَنِ الْكَشْفِ کھلنے سے بچانے کے لیے، تو درمیان سے کسی پٹی وغیرہ سے بھی باندھ دیا جائے۔
وَتُكَفَّنُ الْمَرْأَةُ فِي خَمْسَةِ أَثْوَابٍ، اب عورت کے کفن کی تفصیل آ رہی ہے بھئی۔ یاد رکھیے عورت جو ہے اس کو پانچ کپڑوں میں کفن دیا جائے گا، یہ ہے کفنِ سنت۔ مسنون کیا ہے؟ کتنے کپڑے ہوں؟ پانچ کپڑے ہوں بھئی۔ تین تو یہی کپڑے ہیں: ازار، قمیص اور لفافہ۔ ہاں قمیص کو یہاں یہ دِرْعٌ کہیں گے، کیا کہیں گے؟ دِرْعٌ، دال را عین، یہ متن میں ہی آ رہا ہے، اس کو دِرْعٌ کہیں گے اس لیے کیونکہ عربی زبان میں عورت کی قمیص کے لیے دِرْعٌ کا لفظ استعمال ہوتا ہے، تو ہے یہ وہی قمیص ہی بھئی، دِرْعٌ۔ تو ایک قمیص، ایک ازار اور ایک لفافہ، اور دو کپڑے زائد ہوں گے عورت کے کفن میں: ایک ہے خِمَارٌ خمار، دوپٹہ یعنی اوڑھنی، ایک یہ کپڑا زائد ہوگا، اور ایک جو ہے وہ خِرْقَةٌ ایک کپڑے کا ٹکڑا جس کے ساتھ اس کی چھاتی کو باندھا جائے گا اور وہ سینہ بند بھئی، سینہ بند۔ تو اس کے کتنے کپڑے ہو گئے؟ پانچ کپڑے ہو گئے بھئی۔ جی دیکھیے اب کتاب پر۔
کہتے ہیں: وَتُكَفَّنُ الْمَرْأَةُ فِي خَمْسَةِ أَثْوَابٍ، اور کفن دیا جائے گا عورت کو پانچ کپڑوں میں: دِرْعٌ، وَإِزَارٌ، وَخِمَارٌ، وَلِفَافَةٌ، وَخِرْقَةٌ تُرْبَطُ فَوْقَ ثَدْيَيْهَا۔ دِرْعٌ وَإِزَارٌ وَخِمَارٌ، یہ میں کون سا اعراب پڑھ رہا ہوں؟ رفع۔ دیکھیے پھر وہی لف و نشر والی صورت ہے۔ اور کیا پڑھ سکتا ہوں یہاں؟ جر بھی پڑھ سکتا ہوں: دِرْعٍ، وَإِزَارٍ، وَخِمَارٍ، وَلِفَافَةٍ، وَخِرْقَةٍ۔ اور نصب؟ نصب نہیں، کیونکہ رسم الخط اس کے مطابق نہیں ہے بھئی۔
تو پانچ کپڑوں میں دیا جائے گا اس کو کفن: دِرْعٌ ایک قمیص ہے، وَإِزَارٌ اور ایک ازار ہے، وَخِمَارٌ اور ایک اوڑھنی ہے یعنی دوپٹہ ہے، یہ تقریباً کوئی ڈیڑھ گز کے لگ بھگ کپڑا ہوگا، وَلِفَافَةٌ اور ایک لفافہ ہے، وَخِرْقَةٌ تُرْبَطُ فَوْقَ ثَدْيَيْهَا اور ایک ایسا کپڑا جس کو باندھا جائے گا اس عورت کی دونوں چھاتیوں کے اوپر، لِحَدِيثِ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى اللَّوَاتِي غَسَّلْنَ ابْنَتَهُ خَمْسَةَ أَثْوَابٍ، بوجہ ام عطیہ رضی اللہ تعالی عنہا کی حدیث کی وجہ سے کہ حضور علیہ السلام نے أَعْطَى عطا فرمایا، حضور علیہ السلام نے عطا فرمایا اللَّوَاتِي وہ عورتیں جو ہیں غَسَّلْنَ ابْنَتَهُ جو غسل دے رہی تھیں آپ کی بیٹی کو، خَمْسَةَ أَثْوَابٍ، کتنے کپڑے عطا فرمائے؟ پانچ کپڑے۔ تو اس حدیث میں آیا کہ حضور علیہ السلام نے ان عورتوں کو جو آپ کی بیٹی جو حضرت زینب جن کا انتقال ہو گیا تھا، ان کو جو غسل دے رہی تھیں جو عورتیں، ان کو آپ نے پانچ کپڑے عطا فرمائے کہ اس کو ان کپڑوں میں کفن دے دو۔
وَلِأَنَّهَا، آگے عقلی دلیل بھی ذکر فرما رہے ہیں ان پانچ کپڑوں کی، کہتے ہیں: وَلِأَنَّهَا تَخْرُجُ فِيهَا حَالَةَ الْحَيَاةِ، فَكَذَا بَعْدَ الْمَمَاتِ، اس لیے کیونکہ وہ عورت زندگی کی حالت میں ان پانچ کپڑوں میں نکلتی تھی، تو موت کے بعد بھی اسی طرح ہوگا، یہ پانچ کپڑے دیے جائیں گے۔
ثُمَّ هَذَا بَيَانُ كَفَنِ السُّنَّةِ، پھر یہ جو ہے کفنِ سنت کا بیان ہے۔ یہ کس کا بیان تھا؟ کفنِ سنت کا بیان تھا۔ وَإِنِ اقْتَصَرُوا عَلَى ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ جَازَ، اور اگر ان لوگوں نے اکتفا کر لیا تین کپڑوں پر تو یہ بھی جائز ہے۔ تین کپڑے، تین کپڑے کون کون سے؟ کہتے ہیں: وَهِيَ الثَّوْبَانِ، یہ دو کپڑے ہیں یعنی وہ جو اوپر گزرے ازار اور لفافہ، یہ وہ دو کپڑے ہیں، وَخِمَارٌ اور اوڑھنی ہے دوپٹہ ہے، وَهُوَ كَفَنُ الْكِفَايَةِ اور یہ کفنِ کفایت ہے عورت میں، یعنی اس پر بھی اکتفا کرنا جائز ہے۔
وَيُكْرَهُ أَقَلُّ مِنْ ذَلِكَ، اور اس سے کم کپڑے دینا مکروہ ہے، یعنی عورت کو تین کپڑوں سے کم دینا مکروہ ہے۔ وَفِي الرَّجُلِ يُكْرَهُ الِاقْتِصَارُ عَلَى ثَوْبٍ وَاحِدٍ، اور مرد کے اندر ایک کپڑے پر اکتفا کرنا مکروہ ہے، إِلَّا فِي حَالَةِ الضَّرُورَةِ مگر ضرورت کی حالت میں۔ ضرورت میں تو پھر جب کپڑا اور کوئی ہے ہی نہیں تو پھر جس طرح کا بھی کفن میسر ہو سکے دینا جائز ہے۔
دلیل اس کی ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: لِأَنَّ مُصْعَبَ بْنَ عُمَيْرٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ حِينَ اسْتُشْهِدَ كُفِّنَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، اس لیے کیونکہ حضرت مصعب ابن عمیر جب وہ شہید ہو گئے تو ان کو کفن دیا گیا ایک کپڑے میں۔ حضرت مصعب ابن عمیر رضی اللہ تعالی عنہ یہ غزوۂ احد میں شہید ہو گئے تھے اور صحابہ حضور علیہ السلام کے پاس اور عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ، مصعب ابن عمیر کے کفن کا ہم کیا کریں؟ وہ ایک ہی چادر ہی ہے ان کی اور اس چادر میں ہم ان کے سر کو ڈھانپتے ہیں تو قدم ننگے ہو جاتے ہیں اور قدموں کو ڈھانپتے ہیں تو سر ننگا ہو جاتا ہے، اب ہم کیا کریں؟ تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے کہ سر کو ڈھانپ دو اور قدموں پر اذخر گھاس ہے وہ گھاس ڈال دو، چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ تو ان کو ایک ہی کپڑے میں دفنایا گیا اور یہ کس وجہ سے تھا؟ ضرورت اور مجبوری کی وجہ سے تھا، تو یہ کفنِ ضرورت ہے اور ضرورت کے موقع پر یہ جائز ہے۔ وَهَذَا كَفَنُ الضَّرُورَةِ، اور یہ کفنِ ضرورت ہے بھئی۔
وَتُلْبَسُ الْمَرْأَةُ الدِّرْعَ أَوَّلًا ثُمَّ يُجْعَلُ شَعْرُهَا ضَفِيرَتَيْنِ، اب عورت کو کفن کیسے پہنایا جائے گا؟ یہ پانچ کپڑے کس ترتیب سے ہوں گے؟ وہ بیان کرنے لگے ہیں، وہ بیان کرنے لگے ہیں۔
بھئی دیکھیے، مرد میں سب سے پہلے کیا پہناتے تھے اسے؟ قمیص، اس کے بعد کیا آتا تھا؟ ازار، اور اس کے بعد سب سے اوپر لفافہ آتا تھا۔ یہاں اب دو کپڑے اور آ گئے، ایک تو وہ اوڑھنی آ گئی، وہ اوڑھنی کہاں آئے گی؟ یاد رکھیے وہ قمیص کے بعد دوسرے نمبر پر اب آئے گی بھئی، اوڑھنی۔ قمیص عورت کو پہنا دی اور اس عورت کے جو بال ہیں ان کو کہتے ہیں مینڈھیاں بنا کر، دو چوٹیاں بنا کر اس کے سینے پر دائیں بائیں ڈال دیں گے بھئی، بال جو ہیں۔ اور پھر اس کو یہ اوڑھنی سر پر یہ دوپٹہ پہنایا جائے گا اوڑھنی، اور میں نے بتایا یہ کوئی ڈیڑھ گز کے لگ بھگ کپڑا ہو، اور پھر اس کو انہی بالوں پر اوپر ڈال دیا جائے گا بھئی، ایک کنارہ دائیں طرف سینے پر آ جائے گا اور دوسرا بائیں طرف آ جائے گا۔
اور پھر اس کے بعد، اس کے بعد ازار آئے گا۔ کیا آئے گا؟ ازار اسی طرح اپنے مقام پر آیا۔ پھر اس کے بعد وہ جو سینہ بند تھا وہ آئے گا، اور وہ کتنا کپڑا ہو؟ تو علماء لکھتے ہیں کہ وہ سینے سے لے کر ناف تک ہو بھئی، سینے سے لے کر ناف تک۔
فَصْلٌ فِي التَّكْفِينِ
السُّنَّةُ أَنْ يُكَفَّنَ الرَّجُلُ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ: إِزَارٌ وَقَمِيصٌ وَلِفَافَةٌ، لِمَا رُوِيَ أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سَحُولِيَّةٍ، وَلِأَنَّهُ أَكْثَرُ مَا يَلْبَسُهُ عَادَةً فِي حَيَاتِهِ فَكَذَا بَعْدَ مَمَاتِهِ، فَإِنِ اقْتَصَرُوا عَلَى ثَوْبَيْنِ جَازَ، وَالثَّوْبَانِ إِزَارٌ وَلِفَافَةٌ۔
فَصْلٌ فِي التَّكْفِينِ، یہ فصل ہے میت کو کفن دینے کے بیان میں، میت کو کفن پہنانے کے بیان میں۔
بھئی غسل کا طریقہ بیان ہو گیا، اب کفن کس طرح دیا جائے گا اور کفن کتنے کپڑوں پر مشتمل ہو گا وہ اب صاحبِ ہدایہ بیان کریں گے۔ تو کہتے ہیں: السُّنَّةُ أَنْ يُكَفَّنَ الرَّجُلُ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ، سنت یہ ہے کہ مرد کو کفن دیا جائے تین کپڑوں میں اور وہ تین کپڑے کون سے ہیں، وہ آگے بیان کر رہے ہیں: إِزَارٌ وَقَمِيصٌ وَلِفَافَةٌ، ایک ازار ہے، ایک قمیص ہے اور ایک لفافہ ہے بھئی۔
تو یہاں یہ جہاں اس طرح کا لف و نشر آئے بھئی، تو وہاں بھئی دیکھیے یہاں پر لف و نشر ہے۔ لف و نشر علمِ بلاغت میں آپ پڑھ چکے ہوں گے یا آگے چل کر پڑھیں گے کہ کچھ چیزیں جو ہیں ان کو اولاً اکٹھا ذکر کر دیا جائے۔ جیسے یہاں آیا کہ کفن دیا جائے مرد کو تین کپڑوں میں، تین کپڑوں میں۔ تو دیکھو وہ تینوں کو عدد کے ساتھ اکٹھا ذکر کر دیا۔ لف کا معنی ہوتا ہے لپیٹنا، لپیٹنا۔ تو دیکھو یہاں تین چیزوں کو لپیٹ دیا گیا اس لفظ میں، ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ میں اور پھر آگے انہی کو کھول کر بھی بیان کر دیا کہ وہ تین کپڑے کیا ہیں: ازار ہے، قمیص ہے اور لفافہ۔ تو یہ ثَلَاثَةُ أَثْوَابٍ یہ کیا ہے؟ لف، اور إِزَارٌ، قَمِيصٌ اور لِفَافَةٌ یہ کیا ہے؟ نشر۔ اسی کو کھول کر بیان کر دیا کہ وہ تین کپڑے یہ والے ہیں بھئی۔
تو جہاں اس طرح کا لف و نشر آئے ماقبل میں عدد وغیرہ کے ساتھ کوئی چیز اکٹھی ذکر ہو اور پھر آگے ان میں سے ہر ایک کو الگ الگ کھول کر بیان کر دیا جائے، تو نشر کے اندر تین طرح اعراب پڑھنا جائز ہیں۔ لہٰذا یہ جو إِزَارٌ، قَمِيصٌ اور لِفَافَةٌ آیا، یہ ہے نشر، اس کے اندر تینوں اعراب جائز ہیں، رفع بھی پڑھ سکتے ہیں، نصب بھی پڑھ سکتے ہیں، جر بھی پڑھ سکتے ہیں۔ إِزَارٌ وَقَمِيصٌ وَلِفَافَةٌ، دیکھو رفع پڑھا۔ إِزَارًا وَقَمِيصًا وَلِفَافَةً، دیکھو نصب پڑھا اور إِزَارٍ وَقَمِيصٍ وَلِفَافَةٍ، یہاں جر پڑھا۔
تو تین اعراب، لیکن اس میں تین اعراب تب جائز ہوں گے جب ماقبل والا لفظ یعنی جو لف جو ہے وہ مجرور ہو۔ بھئی دیکھیے وجہ سمجھ لیجیے پھر آپ کو پتہ لگ جائے گا کہ کہاں کتنی قسم پر اعراب جائز ہو گا۔
إِزَارٌ وَقَمِيصٌ وَلِفَافَةٌ، جب رفع پڑھا، رفع پڑھا تو دراصل یہ خبر ہیں مبتدا کی، مبتدا کی۔ اور مبتدا چاہے تینوں کے لیے ایک ہی نکال لیں: وَهِيَ إِزَارٌ وَقَمِيصٌ وَلِفَافَةٌ۔ تو هِيَ مبتدا ضمیر راجع ہے ثَلَاثَةُ أَثْوَابٍ کو اور إِزَارٌ وَقَمِيصٌ وَلِفَافَةٌ یہ خبر ہیں اور خبر کیا ہوتی ہے؟ مرفوع ہوتی ہے تو اس پر رفع پڑھیں گے۔
اور آپ چاہیں تو اس پر نصب پڑھیں، اس صورت میں یہ أَعْنِي فعل کے لیے مفعول واقع ہوں گے۔ أَعْنِي، میری مراد کیا ہے؟ إِزَارًا وَقَمِيصًا کہ مرد کو کفن دیا جائے گا تین کپڑوں میں، أَعْنِي إِزَارًا وَقَمِيصًا وَلِفَافَةً، تو یہ مفعول ہونے کی بناء پر منصوب ہوں گے اور کس فعل کے لیے؟ أَعْنِي، اور اس کا کیا ترجمہ ہے؟ میری مراد یہ ہے۔
اور چاہیں تو اس پر جر پڑھیں بھئی اور اس جر کی صورت میں یہ بدل ہیں ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ سے اور آپ نے پڑھا ہے مبدل منہ اور بدل کا اعراب ایک ہوتا ہے، تو ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ یہ ہے مجرور کیونکہ اس پر فِي داخل ہے تو آگے جو بدل ہے إِزَارٍ وَقَمِيصٍ وَلِفَافَةٍ اس پر بھی کیا پڑھیں گے؟ جر پڑھ سکتے ہیں تو یہاں تینوں اعراب پڑھ سکتے ہیں بھئی۔
لیکن یہاں اس کتاب کے اندر دو ہی اعراب پڑھ سکتے ہیں آپ بھئی، یا رفع پڑھیں إِزَارٌ وَقَمِيصٌ وَلِفَافَةٌ یا اس پر جر پڑھیں إِزَارٍ وَقَمِيصٍ وَلِفَافَةٍ، نصب نہیں پڑھ سکتے، اس لیے کیونکہ رسم الخط اس کی تائید نہیں کرتا، رسم الخط۔ کیونکہ اگر نصب پڑھتے تو پھر کیا ہوتا؟ إِزَارًا، را کے بعد کیا آتا؟ الف، وَقَمِيصًا اور صاد کے بعد کیا ہوتا؟ وہاں بھی الف ہوتا بھئی۔ ہاں اگر ان پر الف لام ہوتا تو پھر تینوں اعراب جائز ہوتے۔ تو یہاں کتنی صورتیں پڑھنا جائز ہیں؟ دو صورتیں: ایک رفع اور ایک جر بھئی۔
ترکیبیں سمجھ میں آ گئیں؟ اس کے مطابق جہاں بھی اس طرح کا لف و نشر آئے آپ طے کر سکتے ہیں کہ کتنے اعراب پڑھ سکتے ہیں۔ اگر ماقبل مجرور ہے تو جر والا اعراب بھی جائز ہو گا، اگر ماقبل یعنی مبدل منہ مجرور نہیں ہے تو پھر جر پڑھنا جائز نہیں۔ اچھا ہاں، ایک تو صورت میں نے یہ بیان کر دی کہ ایک ہی مبتدا تینوں کے لیے نکال لیں، هِيَ اور إِزَارٌ وَقَمِيصٌ وَلِفَافَةٌ اس کو کیا بنا دیں؟ اس هِيَ کے لیے خبر۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ہر ایک کے لیے الگ مبتدا نکال لیں، پیچھے آیا ہے نا تین کپڑے ہیں، تو آگے: أَحَدُهَا إِزَارٌ، وَثَانِيهَا قَمِيصٌ، وَثَالِثُهَا لِفَافَةٌ، تو ہر ایک کے لیے الگ الگ بھی مبتدا نکال سکتے ہیں۔ ترکیب سمجھ میں آ گئی؟
تو سنت یہ ہے کہ کفن دیا جائے مرد کو فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ تین کپڑوں میں، إِزَارٍ وَقَمِيصٍ وَلِفَافَةٍ ازار، قمیص اور لفافہ۔
دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ تین کپڑے کیوں مسنون ہیں؟ کہتے ہیں: لِمَا رُوِيَ أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سَحُولِيَّةٍ، بوجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کفن دیا گیا تین سفید سحولی کپڑوں میں۔ حضور علیہ السلام کو کفن دیا گیا تین سفید سحولی کپڑوں میں۔ سحول جو ہے سحول کوئی جگہ ہے یمن کے اندر، وہاں کا کوئی کپڑا ہو گا تو اسی نام سے مشہور ہو گا، تو وہ کپڑا مراد ہے۔ تو حضور علیہ السلام کو تین سفید سحولی کپڑوں میں کفن دیا گیا۔ یہ تو تھی نقلی دلیل۔
آگے صاحبِ ہدایہ عقلی دلیل بھی ذکر فرما رہے ہیں کہ تین کپڑوں میں کفن کیوں ہو گا؟ کہتے ہیں: وَلِأَنَّهُ أَكْثَرُ مَا يَلْبَسُهُ عَادَةً فِي حَيَاتِهِ فَكَذَا بَعْدَ مَمَاتِهِ، اس لیے کیونکہ یہ اکثر ہے ان کپڑوں کا جن کو وہ پہنتا تھا عادۃً اپنی زندگی میں، فَكَذَا بَعْدَ مَمَاتِهِ تو اسی طرح اس کے مرنے کے بعد بھی ہو گا۔ زندگی میں بھی عموماً اکثر آدمی کتنے کپڑے پہنتا ہے؟ تین ہی کپڑے پہنتا ہے، ایک قمیص ہے، ایک ازار ہے، تہبند وغیرہ اور ایک پھر چادر وغیرہ ہوتی ہے، تو تین ہی کپڑے عام حیات میں بھی انسان اکثر استعمال کرتا ہے، تو موت کے بعد بھی کتنے کپڑے ہونے چاہییں؟ تین ہی مسنون ہونے چاہییں بھئی۔ یہ عقلی دلیل آ گئی۔
اور اس میں پھر یاد رکھیے تفصیل میں بیان کر دیتا ہوں یہیں پر تھوڑی سی ازار، قمیص اور لفافہ کی۔
ازار جو ہے ازار، یہ ایک کپڑا ہے، آگے صاحبِ ہدایہ بھی بیان کریں گے بھئی۔ ازار جو ہے یہ کپڑا ہے جو سر سے لے کر قدموں تک، یعنی سر کو بھی ڈھانپ لے اور قدموں کو بھی ڈھانپ لے، اتنا لمبا ہونا چاہیے بھئی، لمبا ہونا چاہیے۔ اور چوڑائی اتنی ہو کہ اس میں میت کو لپیٹ سکیں، یعنی دائیں طرف سے بھی، بائیں طرف سے لپیٹ دیا اور پھر دائیں طرف سے لپیٹ دیا تو میت کو اس میں لپیٹا جا سکے، اتنی چوڑائی ہونی چاہیے۔ اور لمبائی کتنی ہو؟ کہ سر اور قدم اس میں چھپ جائیں بھئی۔
اور قمیص جو ہے قمیص، قمیص یاد رکھیے یہ گردن سے لے کر قدموں تک جتنا میت کا قد ہے، کہاں سے کہاں تک؟ گردن سے لے کر قدموں تک، اس سے دگنی ہو گی بھئی، دگنی ہو گی۔ کہ مثلاً مرنے والے کا قد اگر گردن سے لے کر قدموں تک دو گز ہے تو یہ کپڑا چار گز یا اس سے تھوڑا سا زیادہ ہو تاکہ قدم اس میں پھر چھپ جائیں، تو کم از کم چار گز ہو بھئی، کچھ تھوڑا سا زائد۔ اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ اس کپڑا یہ جو چار گز کا ہے اس کو لمبائی میں درمیان سے موڑ دیں گے تو دو تہیں بن گئیں، ایک اوپر اور ایک نیچے۔ پھر جہاں سے موڑا ہے وہاں پر تھوڑا سا کاٹ دیں گے، درمیان میں سے چاک لگا دیں گے، یہاں بیچ میں سے اب میت کا سر گزاریں گے تو ایک حصہ ایک تہہ میت کے نیچے آ جائے گی اور ایک تہہ میت کے اوپر آ جائے گی، اس کو کہتے ہیں قمیص بھئی۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ کہ لمبائی اس کی میت سے دگنی ہے کیونکہ ایک تہہ نے میت کے نیچے آنا ہے قدموں تک گردن سے اور دوسری تہہ گردن سے لے کر قدموں تک اوپر آئے گی، تو لمبائی کے رخ اس کپڑے کو موڑ دیں اور جہاں سے موڑا ہے وہاں درمیان میں کپڑے کے چاک لگا دیں گے کاٹ دیں گے جہاں بیچ میں سے میت کا سر نکالیں گے، تو ایک تہہ کہاں آ گئی میت کے نچلی جانب اور ایک تہہ میت کے اوپر والی جانب آ گئی۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا؟
اور اس کے بعد یہ لفافہ ہے بھئی لفافہ۔ یہ لفافہ یہ سب سے اوپر آتا ہے اور یہ سر کی طرف بھی کچھ زائد ہو اور قدموں کی طرف بھی کچھ زائد ہو بھئی۔ تو یہ پوری میت اس کے اندر لپیٹنی ہے اور سر سے کچھ زائد ہو کیونکہ پھر اوپر والے حصے کو پھر کسی پٹی وغیرہ سے گرہ دے کر اوپر کی طرف باندھ دیں گے اور جو قدموں کی طرف کچھ تھوڑا سا حصہ زائد ہے اس کو پھر اکٹھا کر کے قدموں کی طرف بھی کسی پٹی وغیرہ سے گرہ دے دی جائے گی بھئی۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا؟
اور ترتیب ان میں، ترتیب بھی آگے صاحبِ ہدایہ بیان کریں گے بھئی۔ ترتیب یہ کہ سب سے پہلے میت کو قمیص پہنائی جائے گی، یعنی وہ کپڑا جو اوپر اور نیچے دونوں طرف اس کی تہیں آ گئیں، پھر اس کے بعد اس کے اوپر ازار آئے گا اور ازار بھی کہاں سے کہاں تک تھا؟ سر سے لے کر قدم تک یعنی اس میں سر بھی چھپ جائے اور قدم بھی چھپ جائیں اتنا لمبا ہو، وہ اس کے اوپر اس میں لپیٹیں گے اور اس میں بھی بائیں جانب پہلے لپیٹیں گے اور دائیں جانب اس کے بعد لپیٹیں گے تاکہ دائیں جانب اوپر آ جائے، دائیں جانب والا کپڑا اوپر آ جائے۔ تو پہلے کون سی جانب لپیٹیں گے؟ بائیں جانب، پھر اس کے بعد دائیں جانب۔ اس ترتیب سے دائیں جانب والا جو کپڑا ہے وہ اوپر آ جائے گا، اوپر آ جائے گا۔ تو اس میں لپیٹ دیں گے، پھر اس کے بعد سب سے اوپر جو ہے وہ لفافہ آئے گا اور اس میں بھی اسی طریقے سے پہلے بائیں جانب کو لپیٹ دیں گے اور پھر دائیں جانب کو لپیٹ دیں گے اور اوپر سر کے اوپر کی طرف جو حصہ زائد ہے اس کو لپیٹ کر اس میں اس کو گرہ دے دیں گے تاکہ کھلے نہ کفن اور قدموں کی طرف بھی اسی طرح اس کو پٹی وغیرہ کے ساتھ اس کو باندھ دیں گے اور اگر ضرورت ہو تو درمیان میں بھی کوئی پٹی وغیرہ باندھی جا سکتی ہے تاکہ کفن کھل نہ جائے بھئی۔ ترتیب سمجھ میں آ گئی؟ یہ تھا مرد کا کفن بھئی۔
اب دیکھیے بھئی کتاب پر۔ کہتے ہیں: فَإِنِ اقْتَصَرُوا عَلَى ثَوْبَيْنِ جَازَ، اگر اکتفاء کر لیا ان لوگوں نے عَلَى ثَوْبَيْنِ دو کپڑوں پر، جَازَ تو یہ بھی جائز ہے۔ مسنون تو تین کپڑے ہیں لیکن اگر دو پر بھی اکتفاء کر لیا جائے تو یہ جائز ہے۔ بھئی وہ دو کپڑے کون سے ہوں گے؟ وہ بھی آگے ذکر کر رہے ہیں: وَالثَّوْبَانِ إِزَارٌ وَلِفَافَةٌ، اور وہ دو کپڑے ازار اور لفافہ ہیں، یعنی ان پر بھی اگر اکتفاء کر لیں، قمیص نہیں ہے تو بھی جائز ہے بھئی۔
الثَّوْبَانِ إِزَارٌ وَلِفَافَةٌ، یہاں وہ تین اعراب نہ جاری کرنا۔ الثَّوْبَانِ ہے مبتدا اور إِزَارٌ وَلِفَافَةٌ اس کی خبر ہے، تو یہاں تین اعراب نہیں بلکہ یہاں رفع ہی پڑھیں گے یہ خبر ہیں۔ وہ دو کپڑے جو ہیں إِزَارٌ وَلِفَافَةٌ ازار اور لفافہ ہیں۔
وَهَذَا كَفَنُ الْكِفَايَةِ، یاد رکھیے کفن تین قسم پر ہے بھئی۔ کفن: ایک کفنِ سنت ہے بھئی، ایک کفنِ کفایت ہے اور ایک کفنِ ضرورت ہے بھئی۔ ایک کفنِ سنت ہے، مسنون کفن اور وہ تین کپڑوں پر مشتمل ہوتا ہے جیسے ابھی بیان ہوا۔ ایک کفنِ کفایت ہے یعنی جس پر اکتفاء کر لیا جائے، وہ یہ دو کپڑے ہیں ازار اور لفافہ۔ اور ایک کفنِ ضرورت ہے یعنی وہ ضرورت کی وجہ سے، مجبوری کی صورت میں اگر دو کپڑے بھی نہیں ہیں تو پھر ایک کپڑے کے اندر بھی کفن دینا جائز ہے، ویسے ایک کپڑے میں کفن دینا درست نہیں ہے بھئی، ویسے نہیں۔
تو کہتے ہیں: وَهَذَا كَفَنُ الْكِفَايَةِ، اور یہ کفنِ کفایت ہے، لِقَوْلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ، بوجہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس قول کے، آپ نے فرمایا: اغْسِلُوا ثَوْبَيَّ هَذَيْنِ وَكَفِّنُونِي فِيهِمَا، اغْسِلُوا تم لوگ دھو لو ثَوْبَيَّ هَذَيْنِ میرے ان دو کپڑوں کو۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ آخری ایام میں جب بیمار تھے تو جو دو کپڑے پہنے ہوئے تھے انہی کے طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمانے لگے کہ انہی میرے دو کپڑوں کو دھو لینا اور اسی میں مجھے کفنا دینا، یہی مجھے بطورِ کفن کے دے دینا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرمانے لگیں: کیا آپ کے لیے ہم نئے کپڑے نہ خریدیں؟ تو فرمانے لگے: نہیں، نئے کپڑے مردوں کے بجائے زندوں کے، زندہ زیادہ اس کا ضرورت مند ہے۔
تو یہ تھے مولانا پہلے خلیفۂ راشد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو بالاجماع انبیاء کے بعد تمام انسانوں سے افضل ترین شخص ہیں بھئی۔ اور الحمد للہ ثم الحمد للہ کہ اللہ نے ہمیں ان صحابہ کی محبت نصیب فرمائی ہے۔ عجیب بھئی عجیب بھئی، انسان ان لوگوں پر حیران ہوتا ہے جو صحابہ کو اپنی طعن و تشنیع کا نشانہ بناتے ہیں بھئی۔ یہ تو وہ جلیل القدر ہستیاں کہ تاریخ نے اس سے پہلے نہ ایسے انسان دیکھے اور نہ قیامت تک ایسے انسانوں کو دیکھ سکے گی بھئی۔ ان کا ذکر بھی آتا ہے تو دل میں ایمانی حلاوت محسوس ہوتی ہے بھئی۔ بطورِ شکر کے آپ حضرات کو دو دو رکعت نفل پڑھنے چاہییں بھئی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو صحابہ کی محبت نصیب فرمائی ہے، کتنی عظیم نعمت ہے بھئی اس کا آپ تصور نہیں کر سکتے۔ حدیث میں آتا ہے: الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ، کہ قیامت میں جس شخص سے محبت ہو گی انسان اسی کے ساتھ ہو گا، اسی کے ساتھ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی قیامت میں صحابہ کے ساتھ جمع فرمائے بھئی۔
حضرت ابوبکر صدیق فرمانے لگے: اغْسِلُوا ثَوْبَيَّ هَذَيْنِ وَكَفِّنُونِي فِيهِمَا، کہ میرے ان دو کپڑوں کو تم دھو لینا اور اسی میں مجھے کفن دے دینا۔
وَلِأَنَّهُ، آگے عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں نقلی کے بعد بھئی: وَلِأَنَّهُ أَدْنَى لِبَاسِ الْأَحْيَاءِ، کیونکہ یہ جو ہے دو کپڑے یہ زندوں کا کمتر لباس ہے، زندہ شخص بھی کم سے کم کتنے کپڑے پہنتا ہے؟ دو کپڑے پہنتا ہے، ایک اوپر پہنے گا اور ایک ازار تہبند کے طور پر۔
وَالْإِزَارُ، اب وہ بتلا رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ ازار وغیرہ کتنا ہونا چاہیے۔ کہتے ہیں: وَالْإِزَارُ مِنَ الْقَرْنِ إِلَى الْقَدَمِ، اور ازار جو ہے، قرن کہتے ہیں سر کو، سر کا اوپر والا جو حصہ ہے۔ تو ازار جو ہے سر کے اوپر والے حصے سے یعنی سر کی چوٹی سے لے کر إِلَى الْقَدَمِ قدموں تک ہو گا، وَاللِّفَافَةُ كَذَلِكَ اور لفافہ بھی اسی طرح ہو گا، وَالْقَمِيصُ مِنْ أَصْلِ الْعُنُقِ اور قمیص جو ہے وہ گردن کی جڑ سے ہو گی۔ کہاں سے؟ مِنْ أَصْلِ الْعُنُقِ گردن کی جڑ سے بھئی۔ ترتیب میں نے بتلا دی آپ کو، قمیص کہاں تک ہو گی؟ یہ گردن کی جڑ سے لے کر قدموں تک بھئی اور دو تہیں ہوں گی، ایک تہہ اوپر کی جانب اور ایک تہہ نیچے کی جانب ہو گی بھئی۔
وَإِذَا أَرَادُوا لَفَّ الْكَفَنِ ابْتَدَءُوا بِجَانِبِهِ الْأَيْسَرِ فَلَفُّوهُ عَلَيْهِ، اور جب ارادہ کریں اس پر کفن کے لپیٹنے کا، کفن فا کے فتحہ کے ساتھ ہے یہ لفظ بھئی، پس جب وہ ارادہ کریں لَفَّ الْكَفَنِ کفن کے لپیٹنے کا، ابْتَدَءُوا بِجَانِبِهِ الْأَيْسَرِ، میں نے آپ کو کیا بتلایا تھا بھئی کفن لپیٹنا کس طرح ہے ازار اور لفافے کو؟ پہلے کون سی جانب کو لپیٹنا ہے؟ بائیں جانب کو اور پھر دائیں جانب کو تاکہ دائیں جانب اوپر آ جائے، یہی بیان کر رہے ہیں۔ اور جب ارادہ کریں اس پر کفن کے لپیٹنے کا، ابْتَدَءُوا بِجَانِبِهِ الْأَيْسَرِ تو اس کی بائیں جانب سے شروع کریں، فَلَفُّوهُ عَلَيْهِ تو اس کو اس پر لپیٹ دیں، ثُمَّ بِالْأَيْمَنِ پھر اس پر پھر دائیں جانب کو، كَمَا فِي حَالِ الْحَيَاةِ جیسے کہ زندگی میں تھا طریقہ بھئی۔ زندگی میں بھی انسان اسی طرح چادر وغیرہ اوڑھتا ہے کہ پہلے بایاں کنارہ ہوتا ہے اور اس کے اوپر دایاں کنارہ ڈالتا ہے بھئی۔
وَبَسْطُهُ، اور تفصیل اس کی یہ ہے۔ اب تفصیل بیان کرنے لگے ہیں، تو بسط کا کیا معنی؟ تفصیل۔ وَبَسْطُهُ اور تفصیل اس کی یہ ہے: أَنْ تُبْسَطَ اللِّفَافَةُ أَوَّلًا، اچھا بھئی سب سے پہلے کیا پہنانا ہے؟ تو میت کو یہ پہنانے ہیں کفن، تو سب سے پہلے وہ کپڑا بچھائیں گے جو سب سے اوپر آئے گا۔ یعنی لفافہ بچھا دیں گے، پھر اس کے بعد لفافے کے نیچے کیا آتا تھا؟ ازار، اس کے بعد اس لفافے کے اوپر ازار والا کپڑا بچھا دیں گے۔ پھر اس کے بعد سب سے اندر کون سا کپڑا تھا؟ قمیص، قمیص کو بچھا دیں گے جو نیچے والا نیچے والا حصہ ہے اس کو ان پر بچھا دیں گے اور جس حصے نے اوپر آنا ہے وہ سر کی طرف رکھیں گے لپیٹ کر بھئی۔ پھر میت کو اس کے اوپر رکھیں گے ان کفنوں کے اوپر یہ جو تین تہیں بچھی ہوئی ہیں اور سب سے پہلے قمیص کے اندر جو چاک لگا ہوا تھا وہاں سے اس کا سر گزاریں گے اور وہ جو حصہ لپیٹ کر سر کی طرف رکھا تھا اب اس کو میت کے اوپر لے آئیں گے، تو یہ قمیص ہو گئی پوری میت کے اوپر۔ اور اس کے نیچے کیا بچھایا تھا؟ ازار، اب اس کے بعد ازار کا بائیں جانب اس پر لپیٹ دیں گے اور پھر دائیں جانب۔ اس سے نیچے کیا تھا؟ لفافہ تھا، اب لفافہ سب سے اوپر آ جائے گا تو اس کی بھی پہلے بائیں جانب لپیٹ دیں گے اور پھر دائیں جانب۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ یہی بیان کر رہے ہیں۔
کہتے ہیں: وَبَسْطُهُ: أَنْ تُبْسَطَ اللِّفَافَةُ أَوَّلًا، اور تفصیل اس کی یہ ہے کہ بچھایا جائے لفافے کو پہلے، ثُمَّ يُبْسَطُ عَلَيْهَا الْإِزَارُ پھر اس پر ازار کو بچھا دیا جائے، ثُمَّ يُقَمَّصُ الْمَيِّتُ پھر قمیص پہنا دی جائے میت کو، وَيُوضَعُ عَلَى الْإِزَارِ اور اس کو کس پر رکھا جائے؟ میت کو قمیص پہنا کر کس پر رکھ دیا جائے؟ ازار پر، ثُمَّ يُعْطَفُ الْإِزَارُ مِنْ قِبَلِ الْيَسَارِ پھر لپیٹ دیا جائے ازار کو بائیں جانب سے، ثُمَّ مِنْ قِبَلِ الْيَمِينِ پھر دائیں جانب سے، ثُمَّ اللِّفَافَةُ كَذَلِكَ پھر لفافہ اسی طرح، یعنی پہلے بائیں جانب سے لپیٹا جائے اور پھر دائیں جانب سے۔
وَإِنْ خَافُوا أَنْ يَنْتَشِرَ الْكَفَنُ عَنْهُ عَقَدُوهُ بِخِرْقَةٍ صِيَانَةً عَنِ الْكَشْفِ، وَإِنْ خَافُوا اور اگر ان کو لوگوں کو یہ خوف ہو أَنْ يَنْتَشِرَ الْكَفَنُ عَنْهُ کہ کفن اس میت سے کھل جائے گا، یعنی یہ خوف ہو کہ کہیں کھل نہ جائے، عَقَدُوهُ تو اس کو باندھ دیں بِخِرْقَةٍ کسی کپڑے سے، یعنی کسی پٹی وغیرہ سے، صِيَانَةً عَنِ الْكَشْفِ کھلنے سے بچانے کے لیے۔ تو درمیان سے کسی پٹی وغیرہ سے بھی باندھ دیا جائے۔
وَتُكَفَّنُ الْمَرْأَةُ فِي خَمْسَةِ أَثْوَابٍ، اب عورت کے کفن کی تفصیل آ رہی ہے بھئی۔ یاد رکھیے عورت جو ہے اس کو پانچ کپڑوں میں کفن دیا جائے گا، یہ ہے کفنِ سنت۔ مسنون کیا ہے؟ کتنے کپڑے ہوں؟ پانچ کپڑے ہوں بھئی۔ تین تو یہی کپڑے ہیں: ازار، قمیص اور لفافہ۔ ہاں قمیص کو یہاں یہ دِرْعٌ کہیں گے، کیا کہیں گے؟ دِرْعٌ، دال، را، عین، یہ متن میں ہی آ رہا ہے۔ اس کو دِرْعٌ کہیں گے، اس لیے کیونکہ عربی زبان میں عورت کی قمیص کے لیے دِرْعٌ کا لفظ استعمال ہوتا ہے، تو ہے یہ وہی قمیص ہی بھئی، دِرْعٌ۔ تو ایک قمیص، ایک ازار اور ایک لفافہ اور دو کپڑے زائد ہوں گے عورت کے کفن میں: ایک ہے خِمَارٌ، خمار دوپٹہ یعنی اوڑھنی، ایک یہ کپڑا زائد ہو گا اور ایک جو ہے وہ خِرْقَةٌ ایک کپڑے کا ٹکڑا جس کے ساتھ اس کی چھاتی کو باندھا جائے گا اور وہ سینہ بند بھئی، سینہ بند۔ تو اس کے کتنے کپڑے ہو گئے؟ پانچ کپڑے ہو گئے بھئی۔ جی دیکھیے اب کتاب پر۔
کہتے ہیں: وَتُكَفَّنُ الْمَرْأَةُ فِي خَمْسَةِ أَثْوَابٍ، اور کفن دیا جائے گا عورت کو پانچ کپڑوں میں، دِرْعٌ وَإِزَارٌ وَخِمَارٌ وَلِفَافَةٌ وَخِرْقَةٌ تُرْبَطُ فَوْقَ ثَدْيَيْهَا، دِرْعٌ وَإِزَارٌ وَخِمَارٌ یہ میں کون سا اعراب پڑھ رہا ہوں؟ رفع، دیکھیے پھر وہی لف و نشر والی صورت ہے۔ اور کیا پڑھ سکتا ہوں یہاں؟ جر بھی پڑھ سکتا ہوں: دِرْعٍ وَإِزَارٍ وَخِمَارٍ وَلِفَافَةٍ وَخِرْقَةٍ، اور نصب؟ نصب نہیں، کیونکہ رسم الخط اس کے مطابق نہیں ہے بھئی۔ تو پانچ کپڑوں میں دیا جائے گا اس کو کفن: دِرْعٌ ایک قمیص ہے، وَإِزَارٌ اور ایک ازار ہے، وَخِمَارٌ اور ایک اوڑھنی ہے یعنی دوپٹہ ہے، یہ تقریباً کوئی ڈیڑھ گز کے لگ بھگ کپڑا ہو گا، وَلِفَافَةٌ اور ایک لفافہ ہے، وَخِرْقَةٌ اور ایک ایسا کپڑا تُرْبَطُ فَوْقَ ثَدْيَيْهَا جس کو باندھا جائے گا اس عورت کی دونوں چھاتیوں کے اوپر، لِحَدِيثِ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى اللَّوَاتِي غَسَّلْنَ ابْنَتَهُ خَمْسَةَ أَثْوَابٍ، بوجہ ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث کی وجہ سے کہ حضور علیہ السلام نے أَعْطَى عطا فرمایا، حضور علیہ السلام نے عطا فرمایا اللَّوَاتِي وہ عورتیں جو ہیں غَسَّلْنَ ابْنَتَهُ جو غسل دے رہی تھیں آپ کی بیٹی کو، خَمْسَةَ أَثْوَابٍ کتنے کپڑے عطا فرمائے؟ پانچ کپڑے۔ تو اس حدیث میں آیا کہ حضور علیہ السلام نے ان عورتوں کو جو آپ کی بیٹی جو حضرت زینب جن کا انتقال ہو گیا تھا ان کو جو غسل دے رہی تھیں جو عورتیں ان کو آپ نے پانچ کپڑے عطا فرمائے کہ یہ اس کو اس میں، اس کو ان کپڑوں میں کفن دے دو۔
وَلِأَنَّهَا، آگے عقلی دلیل بھی ذکر فرما رہے ہیں ان پانچ کپڑوں کی، کہتے ہیں: وَلِأَنَّهَا تَخْرُجُ فِيهَا حَالَةَ الْحَيَاةِ فَكَذَا بَعْدَ الْمَمَاتِ، اس لیے کیونکہ وہ عورت زندگی کی حالت میں ان پانچ کپڑوں میں نکلتی تھی تو موت کے بعد بھی اسی طرح ہو گا یہ پانچ کپڑے دیے جائیں گے۔
ثُمَّ هَذَا بَيَانُ كَفَنِ السُّنَّةِ، پھر یہ جو ہے کفنِ سنت کا بیان ہے۔ یہ کس کا بیان تھا؟ کفنِ سنت کا بیان تھا۔ وَإِنِ اقْتَصَرُوا عَلَى ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ جَازَ، اور اگر ان لوگوں نے اکتفاء کر لیا تین کپڑوں پر تو یہ بھی جائز ہے۔ تین کپڑے، تین کپڑے کون کون سے؟ کہتے ہیں: وَهِيَ الثَّوْبَانِ، یہ دو کپڑے ہیں یعنی وہ جو اوپر گزرے ازار اور لفافہ، یہ وہ دو کپڑے ہیں، وَخِمَارٌ اور اوڑھنی ہے دوپٹہ ہے، وَهُوَ كَفَنُ الْكِفَايَةِ اور یہ کفنِ کفایت ہے عورت میں، یعنی اس پر بھی اکتفاء کرنا جائز ہے۔
وَيُكْرَهُ أَقَلُّ مِنْ ذَلِكَ، اور اس سے کم کپڑے دینا مکروہ ہے، یعنی عورت کو تین کپڑوں سے کم دینا مکروہ ہے۔ وَفِي الرَّجُلِ يُكْرَهُ الِاقْتِصَارُ عَلَى ثَوْبٍ وَاحِدٍ، اور مرد کے اندر ایک کپڑے پر اکتفاء کرنا مکروہ ہے، إِلَّا فِي حَالَةِ الضَّرُورَةِ مگر ضرورت کی حالت میں۔ ضرورت میں تو پھر جب کپڑا اور کوئی ہے ہی نہیں تو پھر جس طرح کا بھی کفن میسر ہو سکے دینا جائز ہے۔ دلیل اس کی ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: لِأَنَّ مُصْعَبَ بْنَ عُمَيْرٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ حِينَ اسْتُشْهِدَ كُفِّنَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، اس لیے کیونکہ حضرت مصعب بن عمیر جب وہ شہید ہو گئے تو ان کو کفن دیا گیا ایک کپڑے میں۔ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ غزوۂ احد میں شہید ہو گئے تھے اور صحابہ حضور علیہ السلام کے پاس اور عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ! کہ مصعب بن عمیر کو کے کفن کا ہم کیا کریں؟ وہ ایک ہی چادر ہی ہے ان کی اور اس چادر میں ہم ان کے سر کو ڈھانپتے ہیں تو قدم ننگے ہو جاتے ہیں اور قدموں کو ڈھانپتے ہیں تو سر ننگا ہو جاتا ہے، اب ہم کیا کریں؟ تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے کہ سر کو ڈھانپ دو اور قدموں پر اذخر گھاس ہے وہ گھاس ڈال دو، چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ تو ان کو ایک ہی کپڑے میں دفنایا گیا اور یہ کس وجہ سے تھا؟ ضرورت اور مجبوری کی وجہ سے تھا تو یہ کفنِ ضرورت ہے اور ضرورت کے موقع پر یہ جائز ہے۔
وَهَذَا كَفَنُ الضَّرُورَةِ، اور یہ کفنِ ضرورت ہے بھئی۔
وَتُلْبَسُ الْمَرْأَةُ الدِّرْعَ أَوَّلًا ثُمَّ يُجْعَلُ شَعْرُهَا ضَفِيرَتَيْنِ، اب عورت کو کفن کیسے پہنایا جائے گا، یہ پانچ کپڑے کس ترتیب سے ہوں گے وہ بیان کرنے لگے ہیں، وہ بیان کرنے لگے ہیں۔ بھئی دیکھیے مرد میں سب سے پہلے کیا پہناتے تھے اسے؟ قمیص، اس کے بعد کیا آتا تھا؟ ازار اور اس کے بعد سب سے اوپر لفافہ آتا تھا۔ یہاں اب دو کپڑے اور آ گئے، ایک تو وہ اوڑھنی آ گئی، وہ اوڑھنی کہاں آئے گی؟ یاد رکھیے وہ قمیص کے بعد دوسرے نمبر پر اب آئے گی بھئی، اوڑھنی۔ قمیص عورت کو پہنا دی اور اس عورت کے جو بال ہیں ان کے کہتے ہیں مینڈھیاں بنا کر، دو چوٹیاں بنا کر اس کے سینے پر دائیں بائیں ڈال دیں گے بھئی بال جو ہیں اور پھر اس کو یہ اوڑھنی سر پر یہ دوپٹہ پہنایا جائے گا اوڑھنی اور میں نے بتایا یہ کوئی ڈیڑھ گز کے لگ بھگ کپڑا ہو اور پھر اس کو انہی بالوں پر اوپر ڈال دیا جائے گا بھئی، دائیں طرف بھی ایک کنارہ دائیں طرف سینے پر آ جائے گا اور دوسرا بائیں طرف آ جائے گا۔ اور پھر اس کے بعد اس کے بعد ازار آئے گا، کیا آئے گا؟ ازار اسی طرح اپنے مقام پر آیا۔ پھر اس کے بعد وہ جو سینہ بند تھا وہ آئے گا اور وہ کتنا کپڑا ہو؟ تو علماء لکھتے ہیں کہ وہ سینے سے لے کر ناف تک ہو بھئی، سینے سے لے کر ناف تک ہو، لیکن افضل یہ ہے کہ سینے سے لے کر گھٹنوں تک ہو بھئی، افضل کیا ہے؟ سینے سے لے کر گھٹنوں تک ہونا چاہیے۔ تو پھر اس ازار کے اوپر یہ آ جائے گا یہ کپڑا بھئی۔ طریقہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ اور اگر اس کو ازار سے پہلے کر دیا تو بھی جائز ہے بھئی۔ ازار سے پہلے اور پھر اس کے اوپر ازار کر دیا یہ بھی جائز ہے بھئی۔ اور پھر اس کے اوپر کیا آئے گا؟ لفافہ آئے گا اور اگر یہ جو کپڑا جو سینے سے لے کر گھٹنوں تک ہے اگر یہ سب سے اوپر کر دیں لفافے سے بھی اوپر کر دیں تو بھی جائز ہے بھئی۔ ترتیب سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو کہتے ہیں: وَتُلْبَسُ الْمَرْأَةُ الدِّرْعَ أَوَّلًا، پہنائی جائے گی عورت کو قمیص سب سے پہلے، ثُمَّ يُجْعَلُ شَعْرُهَا ضَفِيرَتَيْنِ عَلَى صَدْرِهَا، پھر کر دیا جائے گا اس کے بالوں کو دو مینڈھیاں بنا کر عَلَى صَدْرِهَا اس کے سینے پر، دو مینڈھیاں ایک دائیں طرف سینے پر اور ایک بائیں طرف، فَوْقَ الدِّرْعِ کس کے اوپر؟ قمیص کے اوپر یہ دو مینڈھیاں آ جائیں گی، ثُمَّ الْخِمَارُ فَوْقَ ذَلِكَ پھر اوڑھنی جو ہے وہ اس کے اوپر ہو گی، ثُمَّ الْإِزَارُ تَحْتَ اللِّفَافَةِ پھر ازار ہو گا تَحْتَ اللِّفَافَةِ کس کے نیچے؟ لفافہ کے نیچے بھئی، لفافہ کے نیچے۔ تو صاحبِ ہدایہ نے وہ خرقے کا ذکر نہیں فرمایا بھئی، خرقے کا اور میں نے تفصیل آپ کے سامنے بیان کر دی بھئی۔
قَالَ: وَتُجْمَرُ الْأَكْفَانُ قَبْلَ أَنْ يُدْرَجَ فِيهَا الْمَيِّتُ وِتْرًا، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: وَتُجْمَرُ الْأَكْفَانُ اور دھونی دی جائے گی یعنی خوشبودار دھواں دیا جائے گا کفنوں کو، قَبْلَ أَنْ يُدْرَجَ فِيهَا الْمَيِّتُ قبل اس کے کہ اس میں میت کو لپیٹا جائے، وِتْرًا طاق مرتبہ۔ بھئی جیسے وہ تختہ جس پر میت کو غسل دیتے تھے اس کو پہلے طاق مرتبہ خوشبودار دھواں دیا جاتا تھا، اسی طرح یہ مسنون ہے کہ یہ جو کفن پہنایا جائے میت کو اس کو پہلے خوشبودار دھواں دیا جائے تاکہ خوشبودار کچھ ہو جائے اور یہ خوشبودار دھواں یعنی یہ جو دھونی ہے یہ طاق مرتبہ ہونی چاہیے، تین دفعہ یا پانچ مرتبہ یا سات مرتبہ۔ یہ معنی ہے: وَتُجْمَرُ الْأَكْفَانُ قَبْلَ أَنْ يُدْرَجَ فِيهَا الْمَيِّتُ وِتْرًا، اور خوشبودار دھواں دیا جائے گا کفنوں کو قبل اس کے کہ اس میں داخل کیا جائے میت کو، طاق۔
لِأَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِإِجْمَارِ أَكْفَانِ ابْنَتِهِ وِتْرًا، اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے اپنی بیٹی کے کفنوں کو خوشبودار دھواں دینے کا حکم فرمایا وِتْرًا طاق بھئی۔
وَالْإِجْمَارُ هُوَ التَّطْيِيبُ، اور اجمار بھئی معنی بھی بیان کرتے ہیں معنی بھی بیان کر رہے ہیں: اجمار کیا ہے؟ هُوَ التَّطْيِيبُ خوشبو لگانا ہے یعنی خوشبو والا دھواں دینا۔
فَإِذَا فَرَغُوا مِنْهُ صَلَّوْا عَلَيْهِ لِأَنَّهَا فَرِيضَةٌ، پس جب اس سے فارغ ہو جائیں یعنی غسل بھی دے دیا اور کفن بھی دے دیا، تو اس سے جب فارغ ہو جائیں تو پھر اس پر نمازِ جنازہ پڑھیں لِأَنَّهَا فَرِيضَةٌ کیونکہ نمازِ جنازہ فرض ہے، فرض ہے۔
فَصْلٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ
یہ فصل ہے میت پر نماز کے بیان میں۔ اب صاحبِ ہدایہ اس میں نمازِ جنازہ کا طریقہ بتلائیں گے اور یہ بھی بتلائیں گے کہ زیادہ لائق کون ہے، کون زیادہ حقدار کون ہے نمازِ جنازہ پڑھانے کا۔
یہاں یاد رکھیے بھئی ایک دو باتیں ہیں۔ نمازِ جنازہ میں آپ نے پڑھا ہے کہ چار تکبیرات ہیں اور یہ چار تکبیرات چار رکعتوں کے قائم مقام ہیں۔ تو ہر تکبیر ایک رکعت کے قائم مقام ہے۔ ہر تکبیر کیا ہے؟ ایک رکعت کے قائم مقام ہے۔ اور سب سے ضروری بات جو ہمیشہ یاد بھی رکھنا اور دوسروں کو بھی بتانا کیونکہ اکثر لوگوں کو اس کا علم نہیں کہ نمازِ جنازہ میں دو چیزیں فرض ہیں۔ ایک یہ تکبیرات اور ایک قیام بھئی، کھڑے ہونا۔ قیام بھی نمازِ جنازہ میں فرض اور تکبیرات بھی فرض ہیں۔ لہٰذا اگر ایک بھی تکبیر رہ گئی کسی کی تو اس کی نمازِ جنازہ فاسد ہوئی، جو اس نے نمازِ جنازہ پڑھی وہ ہوئی ہی نہیں بھئی، ہوئی ہی نہیں۔ تو چاروں تکبیرات کیا ہیں؟ فرض ہیں بھئی فرض ہیں۔ اور نمازِ جنازہ کی نیت یہ کرے انسان کہ وہ اللہ کی رضا کے لیے اور میت کے لیے بطورِ دعا کے یہ نماز پڑھتا ہے بھئی۔ اللہ کی رضا کے لیے اور میت کی دعا کے لیے، میت کے لیے بطورِ دعا کے یہ نماز پڑھتا ہے۔
جی آگے تفصیل ساری کتاب میں آ رہی ہے۔ کہتے ہیں: وَأَوْلَى النَّاسِ بِالصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ السُّلْطَانُ إِنْ حَضَرَ، اور لوگوں میں سے زیادہ حقدار اس نماز کا بِالصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ میت پر نماز کے، میت پر نماز کا لوگوں میں سے زیادہ حقدار السُّلْطَانُ وہ بادشاہ ہے یعنی خلیفہ ہے، وہ سب سے زیادہ حقدار ہے إِنْ حَضَرَ اگر وہ حاضر ہو۔ اگر خلیفہ حاضر ہو تو پھر کسی اور کے لیے مقدم ہونا درست نہیں الا یہ کہ وہ آگے کرے۔ بھئی کیا وجہ یہ بادشاہ اور یا خلیفہ کیوں زیادہ حقدار ہے؟ لِأَنَّ فِي التَّقَدُّمِ عَلَيْهِ ازْدِرَاءً بِهِ، لِأَنَّ فِي التَّقَدُّمِ عَلَيْهِ ازْدِرَاءً بِهِ، یہ ازْدِرَاءً یہ اسم ہے أَنَّ کا بھئی مؤخر ہے تو یہ منصوب ہو گا۔ اس لیے کیونکہ بادشاہ پر مقدم ہونے میں کہ کوئی اس پر مقدم ہو جائے ازْدِرَاءً بِهِ اس میں اس بادشاہ کی توہین ہے، اس کی تحقیر ہے کہ کوئی اور کیا ہو جائے؟ اس کی موجودگی میں آگے ہو جائے لہٰذا وہ سب سے زیادہ حقدار ہے۔
فَإِنْ لَمْ يَحْضُرْ، پھر یاد رکھیے خلیفہ اگر موجود نہیں تو پھر اگر اس نے کسی کو حکم دیا ہے، کوئی اس کا نائب ہے وہ دوسرے نمبر پر وہ حقدار ہے۔ اگر نائب بھی کوئی نہیں پھر جو اس شہر کا حاکم ہے خلیفہ کی طرف سے جو مقرر ہے وہ زیادہ حقدار ہے نمازِ جنازہ کا۔ اور اگر وہ بھی نہیں تو پھر اگر اس شہر کا قاضی موجود ہے تو وہ زیادہ حقدار ہے۔ حتیٰ کہ ان افراد کو میت کا جو ولی ہے اس پر بھی یہ مقدم ہیں یہ سارے۔ ولی پر بھی کیا ہیں؟ مقدم ہیں بھئی۔ ترتیب سمجھ میں آ گئی؟ کہتے ہیں: فَإِنْ لَمْ يَحْضُرْ فَالْقَاضِي، اگر وہ خلیفہ یا بادشاہ حاضر نہ ہو تو قاضی حقدار ہے، لِأَنَّهُ صَاحِبُ وِلَايَةٍ کیونکہ وہ صاحبِ ولایت ہے، قاضی کو سب پر ولایت حاصل ہے سب پر اس کا حکم نافذ ہوتا ہے تو وہ زیادہ حقدار ہے۔
فَإِنْ لَمْ يَحْضُرْ، پس اگر قاضی بھی حاضر نہ ہو، فَيُسْتَحَبُّ تَقْدِيمُ إِمَامِ الْحَيِّ، تو پھر محلے کا جو امام ہے اس کو مقدم کرنا مستحب ہے۔ اس کو مقدم کرنا مستحب ہے، دیکھیے یہاں مستحب فرمایا، معلوم ہوا اس کو مقدم کرنا واجب نہیں ہے بھئی۔ تو مستحب ہے اس محلے کے امام کو مقدم کرنا۔ بھئی اس کو مقدم کرنا کیوں مستحب ہے؟ دلیل کیا ہے اس کی؟ کہتے ہیں: لِأَنَّهُ رَضِيَهُ فِي حَالِ حَيَاتِهِ، اس لیے کیونکہ وہ مرنے والا جو ہے وہ راضی تھا اس امام پر اپنی زندگی میں، زندگی کی حالت میں وہ اس کی امامت پر راضی تھا لہٰذا جنازے میں بھی اس کو اب مقدم کرنا مستحب ہے۔
قَالَ، آگے صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ثُمَّ الْوَلِيُّ، پھر حقدار کون ہے؟ ولی جو ہے میت کا۔ وَالْأَوْلِيَاءُ عَلَى التَّرْتِيبِ الْمَذْكُورِ فِي النِّكَاحِ، اور اولیاء جو ہیں اسی ترتیب پر ہوں گے جو کتاب النکاح جو نکاح کے باب میں جس طرح ذکر کیے جاتے ہیں۔ کس میں؟ نکاح میں جیسے ذکر ہیں۔ نکاح میں بھئی آپ نے پڑھا ہے کہ نکاح میں سب سے اول ولایت کا حقدار جس کو ولایت حاصل ہو گی وہ عورت کا بیٹا ہے اگر وہ ہو۔ کسی عورت کے نکاح کا معاملہ ہے اور اس کا بیٹا ہے تو سب سے زیادہ ولایت کا حق کس کو حاصل ہے؟ ولایت کا حقدار کون ہے؟ بیٹا جو ہے اس کو، اور اس کے بعد اگر اس عورت کا والد زندہ ہے تو دوسرا درجہ اس کا ہے بھئی، دوسرا درجہ اس کا ہے اور اسی طرح وہاں ترتیب ذکر ہے۔ لیکن یہاں یاد رکھنا علماء فرماتے ہیں، فقہاء فرماتے ہیں کہ یہاں باپ بیٹے پر مقدم ہے۔ نمازِ جنازہ کے معاملے میں باپ کو ولایت حاصل ہو گی اگر بیٹا موجود ہو تو یہاں پہلا درجہ اولیاء میں باپ کا ہے اور دوسرا درجہ کس کا؟ بیٹے کا۔ اور نکاح کے اندر پہلا درجہ کس کا؟ بیٹے کا ہے اور دوسرا درجہ باپ کا ہے بھئی۔
اور اگر ایک ہی درجے کے کئی ولی ہیں، ایک ہی درجے کے کئی ولی ہیں تو پھر ان میں جو زیادہ عمر والا ہو گا وہ حقدار ہو گا۔ مثلاً مرنے والے کے کئی بیٹے ہیں تو جو زیادہ عمر والا ہے جو ان میں بڑا ہے وہ زیادہ حقدار ہو گا بھئی۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: وَالْأَوْلِيَاءُ عَلَى التَّرْتِيبِ الْمَذْكُورِ فِي النِّكَاحِ، اور اولیاء جو ہیں اس ترتیب پہ ہوں گے جو ذکر کی گئی ہے نکاح میں۔
فَإِنْ صَلَّى غَيْرُ الْوَلِيِّ أَوِ السُّلْطَانِ، پس اگر نماز پڑھی اس پر غیر ولی نے یعنی ولی کے علاوہ کسی اور نے أَوِ السُّلْطَانِ یا بادشاہ کے علاوہ کسی اور نے، أَعَادَ الْوَلِيُّ، تو ولی کیا کر سکتا ہے؟ اعادہ کروا سکتا ہے، یعنی إِنْ شَاءَ یعنی اگر چاہے، یعنی ضروری نہیں ہے اعادہ کروائے لیکن اگر چاہے تو ولی کیا کر سکتا ہے؟ اعادہ کروا سکتا ہے، لِمَا ذَكَرْنَا اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دی أَنَّ الْحَقَّ لِلْأَوْلِيَاءِ کہ حق کس کا ہے؟ اولیاء کا ہے۔
اور یہ بھی یاد رکھیے صرف بادشاہ کا استثناء نہیں، میں نے تفصیل بیان کر دی، جو لوگ ولی پر مقدم ہیں یعنی بادشاہ ہو یا بادشاہ کا جس کو بادشاہ نے حکم دیا ہے یا اس شہر کا حاکم ہے یا قاضی ہے، ان لوگوں میں سے اگر کوئی نمازِ جنازہ پڑھا دیتا ہے تو پھر ولی کو لوٹانے کا حق نہیں ہے بھئی کیونکہ یہ تو خود ہی ولی پر کیا تھے؟ مقدم تھے بھئی تو۔ ہاں اگر ان کے علاوہ کسی اور نے نمازِ جنازہ پڑھا دی اور ولی چاہتا ہے اس کا اعادہ کرنا کہ پھر لوٹا دے، تو پھر اس کے لیے شرعاً جائز ہے، شرعاً جائز ہے۔ اور اگر اس کی اجازت سے کسی نے پڑھائی ہے نمازِ جنازہ بھئی، سمجھ رہے ہیں؟ تو پھر درست نہیں ہے اس کے لیے کیونکہ اس کی اجازت سے ہوئی ہے باقاعدہ بھئی۔
یعنی إِنْ شَاءَ لِمَا ذَكَرْنَا أَنَّ الْحَقَّ لِلْأَوْلِيَاءِ، اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دی کہ حق جو ہے اولیاء کے لیے ہے۔
وَإِنْ صَلَّى الْوَلِيُّ لَمْ يَجُزْ لِأَحَدٍ أَنْ يُصَلِّيَ بَعْدَهُ، اور اگر ولی نے پڑھ لی نماز لَمْ يَجُزْ لِأَحَدٍ تو کسی ایک کے لیے بھی جائز نہیں ہے أَنْ يُصَلِّيَ بَعْدَهُ کہ اس کے بعد پھر وہ نمازِ جنازہ پڑھے۔ جب ولی نے نمازِ جنازہ پڑھ لی تو پھر اس کے بعد کسی کو نمازِ جنازہ لوٹانے کی اجازت نہیں۔ لِأَنَّ الْفَرْضَ يَتَأَدَّى بِالْأَوَّلِ، دلیل ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: لِأَنَّ الْفَرْضَ يَتَأَدَّى بِالْأَوَّلِ اس لیے کیونکہ فرض ادا ہو گیا پہلی نماز سے ہی، وَالنَّفْلُ بِهَا غَيْرُ مَشْرُوعٍ اور نفل اس نماز کے ساتھ وہ مشروع نہیں ہے۔ یہ نماز نفلاً پڑھنا مشروع نہیں ہے، ایک ہی دفعہ پڑھی جاتی ہے اور ایک دفعہ ولی نے پڑھ دی ہے تو اب کوئی اور نہیں پڑھ سکتا۔
وَلِهَذَا، اور اسی وجہ سے رَأَيْنَا النَّاسَ تَرَكُوا عَنْ آخِرِهِمِ الصَّلَاةَ عَلَى قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الْيَوْمَ كَمَا وُضِعَ، اور اسی وجہ سے ہم نے دیکھا ہے لوگوں کو کہ تَرَكُوا انہوں نے چھوڑ دیا ہے کس چیز کو؟ آگے آ رہا ہے: الصَّلَاةَ عَلَى قَبْرِ النَّبِيِّ، حضور علیہ السلام کی قبر پر نمازِ جنازہ کو، لوگوں نے چھوڑ دیا ہے وہ نہیں پڑھتے۔ عَنْ آخِرِهِمْ، أَيْ عَنْ أَوَّلِهِمْ إِلَى آخِرِهِمْ، اول سے لے کر آخر تک۔ تو یہ اصل ترکیب کیا ہے؟ عَنْ أَوَّلِهِمْ إِلَى آخِرِهِمْ۔ عَنْ کیا ہے؟ حرفِ جر ہے۔ أَوَّلِهِمْ مجرور اور پھر آگے کیا ہے؟ إِلَى حرفِ جر اور آخِرِهِمْ مجرور۔ تو اول میں سے مجرور کو اڑا دیا، یعنی أَوَّلِهِمْ، مجرور کو اڑا دیا اور ثانی میں سے حرفِ جر إِلَى کو اڑا دیا گیا بھئی، تو یہ اسی طرح عربی میں استعمال کرتے ہیں بھئی۔
تو اسی لیے ہم نے دیکھا ہے کہ ان لوگوں کہ لوگوں نے جو ہے اول سے آخر تک یعنی تمام لوگ مراد ہیں، تمام لوگوں نے چھوڑ دیا ہے حضور علیہ السلام کی قبرِ مبارک پر نماز پڑھنے کو، وَهُوَ الْيَوْمَ كَمَا وُضِعَ اور حضور علیہ السلام آج بھی اسی طرح ہیں جیسے کہ آپ کو رکھا گیا تھا، یعنی جیسے آپ یعنی کہ معنی یہ ہے کہ حضور علیہ السلام کا جسمِ مبارک قبر میں آج بھی اسی طرح محفوظ ہے جس طرح آپ کو رکھا گیا تھا، اس لیے کیونکہ زمین جو ہے اس پر حرام کر دیا گیا ہے کہ وہ انبیاء کے اجسام کو کھائے بھئی۔ تو حضور علیہ السلام آج بھی قبر میں اسی طرح ہیں اور آپ پڑھ چکے میں نے شروع میں بتلایا تھا کہ کہ جب تک میت قبر میں قبر میں گل نہ جائے اس کی قبر پر نمازِ جنازہ کا پڑھنا جائز ہے اگر جنازہ نہ پڑھا گیا ہو بھئی، جنازہ نہ پڑھا گیا ہو۔ اور حضور علیہ السلام تو کا جسمِ مبارک تو اسی طرح محفوظ ہے بھئی، آپ اسی طرح ہیں قبر میں۔ تو تو اگر نمازِ جنازہ ایک سے زیادہ مرتبہ جائز ہوتی تو ہر نئے آنے والے لوگ کیا کرتے؟ حضور علیہ السلام کی قبر پر نمازِ جنازہ پڑھتے بھئی، لیکن ہم نے دیکھا ہے کوئی بھی اس طرح نہیں کرتا، بڑے بڑے فقہاء بڑے بڑے محدثین، فقہاء، علماء سب گزرے ہیں لیکن کسی نے اس طرح نہیں کیا، معلوم ہوا کہ نمازِ جنازہ ایک ہی دفعہ ہو گی اور پھر اس کے بعد نہیں ہو گی بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟
یہ معنی ہے: وَلِهَذَا رَأَيْنَا النَّاسَ تَرَكُوا عَنْ آخِرِهِمِ الصَّلَاةَ عَلَى قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الْيَوْمَ كَمَا وُضِعَ، اور اسی وجہ سے ہم نے دیکھا ہے لوگوں کو کہ انہوں نے چھوڑ دیا ان سب نے چھوڑ دیا ہے نمازِ جنازہ کو عَلَى قَبْرِ النَّبِيِّ حضور علیہ السلام کی قبر پر، وَهُوَ الْيَوْمَ كَمَا وُضِعَ اور حضور علیہ السلام آج بھی اسی طرح ہیں جیسے کہ آپ کو رکھا گیا تھا۔
وَإِنْ دُفِنَ الْمَيِّتُ وَلَمْ يُصَلَّ عَلَيْهِ صُلِّيَ عَلَى قَبْرِهِ، اور اگر میت کو دفن کر دیا جائے اور اس کی وَلَمْ يُصَلَّ عَلَيْهِ اس حال میں کہ اس پر نمازِ جنازہ نہیں پڑھی گئی، بغیر نمازِ جنازہ کے اگر کسی میت کو دفن کر دیا گیا، صُلِّيَ عَلَى قَبْرِهِ تو پھر نماز پڑھی جائے گی اس کی قبر پر۔ دلیل اس کی کیا ہے کہ قبر پر نماز پڑھی جائے گی؟ کہتے ہیں: لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَبْرِ امْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے ایک انصاری عورت کی قبر پر نماز پڑھی، نمازِ جنازہ پڑھی بھئی۔ حضور علیہ السلام ایک قبر پہ سے گزرے نئی قبر تھی، پوچھا تو صحابہ نے بتلایا کہ وہ فلاں ایک انصاری عورت تھی وہ اس کا انتقال ہوا تھا اسے ہم نے دفنا دیا، تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے کہ تم نے مجھے اطلاع کیوں نہیں دی کہ ان کا انتقال ہوا ہے؟ تو فرمانے لگے کہ رات کا وقت تھا ہم نے کہا یہ نہ ہو آپ کو کوئی تکلیف وغیرہ پہنچے تو اس لیے ہم نے خود ہی نماز پڑھ کر اس کو دفنا دیا۔ تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے کہ تم نے مجھے کیوں اطلاع نہیں دی؟ میری نماز میت کے لیے رحمت ہے بھئی۔ پھر آپ چنانچہ تشریف لائے اور قبر پر اور صحابہ نے آپ کے پیچھے صفیں بنائیں اور آپ نے وہاں ان پر نماز پڑھی قبر پر ہی بھئی۔
تو مسئلہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ اگر کسی پر نمازِ جنازہ نہ پڑھی گئی ہو تو پھر جب جب تک میت قبر میں گل نہیں گئی، ٹکڑے نہیں ہو گئی اس وقت تک اس پر نمازِ جنازہ پڑھنا جائز ہے۔ آگے یہی ذکر فرما رہے ہیں: وَيُصَلَّى عَلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يَتَفَسَّخَ، اور اس پر نماز پڑھی جائے گی قبل اس کے گل جانے کے۔ تفرخ کا معنی ہے گل جانا کسی چیز کا، ٹکڑے ٹکڑے ہو جانا۔
اچھا بھئی اب پتہ کیسے چلے گا کہ میت قبر میں گل گئی ہو گی یا ابھی نہیں گلی ہو گی؟ تو وہ بھی بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: وَالْمُعْتَبَرُ فِي مَعْرِفَةِ ذَلِكَ أَكْبَرُ الرَّأْيِ، اور معتبر جو ہے اس کے پہچاننے میں وہ غالب رائے ہے، بڑی رائے ہے۔ یعنی غالب رائے اگر یہ ہو کہ میت ابھی تک صحیح سلامت ہو گی، گلی نہیں ہو گی، ختم نہیں ہوئی ہو گی تو پھر کیا کر سکتے ہیں؟ اس پر نماز اور اگر غالب گمان یہ ہو غالب رائے یہ ہو لوگوں کی کہ اب گل گئی ہو گی تو پھر اس کے پھر نہ پڑھیں بھئی۔ تو یہ معنی ہے: وَالْمُعْتَبَرُ فِي مَعْرِفَةِ ذَلِكَ أَكْبَرُ الرَّأْيِ، اور معتبر جو ہے اس کے جاننے میں وہ غالب رائے ہے بڑی رائے ہے یعنی غالب رائے ہے، هُوَ الصَّحِيحُ یہی قول صحیح ہے بھئی، لِاخْتِلَافِ الْحَالِ وَالزَّمَانِ وَالْمَكَانِ، بوجہ حالت کے اور زمانے کے اور جگہ کے مختلف ہونے کی وجہ سے۔
بھئی اس بارے میں امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: تین دن تک پڑھ سکتے ہیں، تین دن تک۔ لیکن صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ دنوں کا اعتبار نہیں کیا جائے گا بلکہ غالب گمان اور غالب رائے کو دیکھا جائے گا اور یہی قول صحیح ہے اس وجہ سے کیونکہ احوال بھی مختلف ہوتے ہیں، زمانہ بھی مختلف ہوتا ہے، جگہیں بھی مختلف ہوتی ہیں۔ حالت بھی مختلف ہوتی ہے، ایک آدمی ہے وہ موٹا ہے اور ایک آدمی دبلا پتلا ہے تو جس جو موٹا ہو گا اس کا بدن جلدی گل جائے گا اور جو دبلا پتلا ہو گا اس کا جسم اتنی جلدی نہیں گلے گا۔ اور اسی طرح بھئی زمانہ بھی مختلف ہوتا ہے، کبھی سردی کے ایام ہوتے ہیں کبھی گرمی کے ایام ہوتے ہیں اور تو سردی کے اندر میت دیر تک محفوظ رہتی ہے اور گرمی میں اتنی دیر تک محفوظ نہیں رہتی۔ اسی طرح جگہ بھی مختلف ہوتی ہے بھئی، کوئی علاقہ ٹھنڈا ہے کوئی گرم ہے، کہیں کی زمین جو ہے وہ سخت ہے کہیں کی نرم ہے، کہیں کی زمین جو ہے اس میں کچھ نمی وغیرہ ہو گی کچھ ایسی جگہ ہو گی جہاں کی زمین بالکل خشک ہو گی، تو لازمی بات ہے جہاں کچھ نمی وغیرہ ہو گی وہاں میت جلدی خراب ہو گی اور جو جگہ خشک ہو گی وہاں ذرا اس وقت اس کی بنسبت زیادہ لگے گا۔ تو صحیح قول یہی ہے کہ اس میں غالب رائے کا اعتبار کیا جائے گا۔
یہ معنی ہے: هُوَ الصَّحِيحُ لِاخْتِلَافِ الْحَالِ وَالزَّمَانِ وَالْمَكَانِ۔
وَالصَّلَاةُ، اب نماز کا طریقہ بیان کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ، کہتے ہیں: وَالصَّلَاةُ اور نماز جو ہے اس کا طریقہ یہ ہے: أَنْ يُكَبِّرَ تَكْبِيرَةً کہ نماز پڑھنے والا ایک تکبیر کہے، ایک تکبیر کہے، يَحْمَدُ اللهَ عَقِيبَهَا اور اس تکبیر کے بعد اللہ کی حمد بیان کرے، وہی حمد بیان کر دے یعنی وہی نماز میں جو ثناء جیسے پڑھی جاتی ہے وہی پڑھ لی جائے بھئی: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ۔ اگر یہ پڑھ لے یہ بھی کافی ہے اور اگر بیچ میں وہ ایک لفظ جسے علماء نے ذکر فرمایا کتابوں میں آپ کو یہ مل جائے گا: وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ، تو سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ، تو یہ لفظ بھی اگر ملا لیں اچھی بات ہے، اگر صرف وہی پڑھ لیں تو بھی کافی ہے۔ تو یہ کب پڑھا جائے گا؟ پہلی تکبیر کے بعد۔
ثُمَّ يُكَبِّرُ تَكْبِيرَةً، پھر اس کے بعد وہ نماز پڑھنے والا تکبیر کہے، وَيُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور حضور علیہ السلام پر درود پڑھے۔ دوسری تکبیر کے بعد حضور علیہ السلام پر درود پڑھے اور افضل یہ ہے کہ وہی نماز والا درود پڑھے جو آخر میں ہم تشہد کے اندر پڑھتے ہیں۔
ثُمَّ يُكَبِّرُ تَكْبِيرَةً، بھئی دیکھ رہے ہیں آپ بھئی؟ عبارت کے اندر يُكَبِّرُ کے بعد تَكْبِيرَةً مفعولِ مطلق ذکر کرتے جا رہے ہیں ہر جگہ پر، اشارہ کرتے جا رہے ہیں یہ تکبیر فرض ہے۔ کیا کر رہے ہیں؟ کس چیز کی طرف اشارہ ہے؟ یہ جو مفعولِ مطلق لا رہے ہیں یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ یہ تکبیر فرض ہے، اس کی جگہ کچھ اور نہیں کہہ سکتے۔ حالانکہ وہ پیچھے نماز میں آپ نے پڑھا تھا بھئی، اختلاف پڑھا تھا کہ اللہ اجل یا الرحمٰن اکبر وغیرہ کہہ دیا تو بھی جائز ہے امام صاحب کے نزدیک، یہاں یہ تَكْبِيرَةً مفعولِ مطلق لا رہے ہیں اور آپ نے پڑھا ہے مفعولِ مطلق کس لیے لایا جاتا ہے اس کا کیا فائدہ ہے؟ ایک فائدہ اس کا یہ ہے کہ وہ مجاز کے احتمال کو ختم کر دیتا ہے۔ کیا کرتا ہے؟ ضَرَبْتُ زَيْدًا ضَرْبًا، اگر میں صرف یہ کہتا: ضَرَبْتُ زَيْدًا، میں نے زید کی پٹائی کی، تو سننے والا اس کا ذہن اس طرف جا سکتا تھا کہ وہ یہ سمجھے کہ نہیں بھئی زید تو بڑا آدمی ہے اس کی پٹائی نہیں کی ہو گی، ہاں وہ ڈانٹ دیا ہو گا اور اچھی طرح ڈانٹ دیا ہو گا اور بڑا آدمی ہے اور اس کو کوئی اتنی ہمت کر لے کہ اس کو ڈانٹ بھی دے یہ اس کے لیے کس کی طرح ہے؟ پٹائی ہی کی طرح ہے تو اس کو کس سے تعبیر کر دیا؟ پٹائی سے تعبیر کر دیا، تو اس میں مجاز کا احتمال بھی تھا، لیکن جب میں آگے کہہ دوں گا: ضَرَبْتُ زَيْدًا ضَرْبًا، تو اب یہ ضَرْبًا نے کیا کیا؟ مجاز کے احتمال کو ختم کر دیا، اب معلوم ہوا ضرب سے ضرب یعنی پٹائی ہی مراد ہے ڈانٹنا وغیرہ مجازی معنی مراد نہیں۔ تو یہاں بھی یہاں پر بھی يُكَبِّرُ کا معنی کہ کوئی اور سبحان اللہ یا الحمد للہ وغیرہ یا اس طرح کا لفظ کہہ دیا جائے تو وہ بھی جائز ہو گا لیکن آگے تَكْبِيرَةً کہہ کر بتلا دیا نہیں بھئی تکبیر سے تکبیر ہی یہاں پر مراد ہے، تکبیر ہی کہنا پڑے گی تو مجاز کے احتمال کو ختم کر دیا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
وَيُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ اور حضور علیہ السلام پر درود پڑھے، ثُمَّ يُكَبِّرُ تَكْبِيرَةً پھر اس کے بعد ایک تکبیر کہے، يَدْعُو فِيهَا لِنَفْسِهِ وَلِلْمَيِّتِ وَلِلْمُسْلِمِينَ اور دعا کرے اس میں اپنے لیے اور میت کے لیے اور مسلمانوں کے لیے۔ دعا کرے اس میں کیا کرے؟ اپنے لیے بھی اور میت کے لیے بھی اور مسلمانوں کے لیے بھی وہ دعا جو ہم پڑھتے ہیں، تو یہ دعا پڑھے بھئی: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا، اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ دعا پڑھے اور اسی طرح اور بھی دعائیں آتی ہیں تو جو بھی دعا پڑھ لی جائے بھئی اور اس میں اپنے لیے بھی دعا ہے، مرنے والے کے لیے بھی دعا ہے اور تمام مسلمانوں کے لیے بھی دعا ہے بھئی۔
اور نہیں صاحبِ ہدایہ نے ایک اور فائدہ بھی بتلا دیا، دعا کا طریقہ بھی آپ کو سکھلا دیا، دعا کا طریقہ۔ یاد رکھو جب بھی انسان دعا کرے سب سے پہلے اپنے لیے دعا کرے پھر کسی دوسرے کے لیے اور پھر تمام مسلمانوں کے لیے دعا کرے بھئی، تو دعا کا یہ طریقہ ہے یہ نہیں کہ پہلے دوسرے کے لیے کرے بعد میں اپنے لیے بلکہ پہلے انسان اپنے لیے دعا کرے پھر دوسرے کے لیے دعا کرے بھئی۔ اسی لیے کہا: يَدْعُو فِيهَا لِنَفْسِهِ وَلِلْمَيِّتِ وَلِلْمُسْلِمِينَ۔ تو دیکھیے حالانکہ موت کا موقع ہے اس شخص کو دفن کیا جا رہا ہے لیکن پھر بھی یہاں کیا کرے؟ پہلے اپنے لیے دعا کرے بھئی۔
ثُمَّ يُكَبِّرُ الرَّابِعَةَ، پھر اس کے بعد چوتھی تکبیر کہے، وَيُسَلِّمُ اور سلام پھیر دے، لِأَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ أَرْبَعًا فِي آخِرِ صَلَاةٍ صَلَّاهَا فَنَسَخَتْ مَا قَبْلَهَا، اس دلیل ذکر کر رہے ہیں چار تکبیرات کیوں کہے گا؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے چار تکبیرات کہیں فِي آخِرِ صَلَاةٍ صَلَّاهَا اس آخری نماز میں جو آپ نے پڑھی یعنی آخری نمازِ جنازہ جو پڑھی آپ نے اس میں چار تکبیرات کہیں، فَنَسَخَتْ مَا قَبْلَهَا تو اس نے ماقبل کی نماز کو منسوخ کر دیا، یعنی اس سے ماقبل میں اگر زائد تکبیرات کا بھی ذکر آتا ہے تو وہ اس آخری طریقہ حضور علیہ السلام کا یہ ہے معلوم ہوا اس نے اس یہ صلاۃ کیا بن گئی؟ ناسخ بن گئی ما پہلی نمازوں کے لیے یعنی پہلے طریقے کے لیے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟
اور یہ بھی یاد رکھیے نمازِ جنازہ کے اندر نمازِ جنازہ کے اندر جماعت شرط نہیں ہے بھئی۔ لہٰذا اگر ایک آدمی بھی نمازِ جنازہ پڑھ دے گا تو فرض ادا ہو گیا بھئی، فرض ادا ہو گیا۔ اور پھر اس میں صفیں بناتے ہوئے یاد رکھیے صفیں بناتے ہوئے کہ طاق صفیں ہونی چاہییں بھئی، طاق۔ طاق صفیں، جفت نہیں ہونی چاہییں۔ حتیٰ کہ علماء فرماتے ہیں کہ اگر صرف سات آدمی ہوں جنازہ پڑھنے والے تو بھی وہ تین صفیں بنا لیں۔ سب سے آگے امام ہو جائے، اس سے پیچھے جو پہلی صف ہے اس میں تین آدمی کھڑے ہو جائیں، اس سے پچھلی صف میں دو آدمی کھڑے ہو جائیں اور آخری صف میں ایک آدمی کھڑا ہو جائے تو طاق صفیں ہونی چاہییں بھئی، تین تین صفیں بنا لے، تین صفیں بنا لینی چاہییں اور اگر زیادہ انسان ہوں تو بھی صفیں بنائیں تو طاق تعداد ہونی چاہیے بھئی یعنی سات یا نو یا گیارہ وغیرہ بھئی۔
تو یہ چار تکبیرات نمازِ جنازہ کے اندر فرض ہیں جبکہ باقی دعائیں وغیرہ یاد رکھیے وہ مسنون ہیں، تو اگر کسی کی یہ تکبیر رہ گئی تو اس کی نمازِ جنازہ ہی صحیح نہ ہوئی اور اگر کسی کو کوئی دعا نہیں آتی لیکن آ کر وہ کھڑا ہو جاتا ہے اور یہ چاروں تکبیرات کہہ لیتا ہے تو اس نے کہ اس نے جو نمازِ جنازہ پڑھی وہ ادا ہو گئی بھئی۔ اور امام اس میں البتہ اونچی آواز سے تکبیر کہتا ہے اور مقتدی بھی کہے گا لیکن آہستہ آواز سے، تو اس کا خصوصاً خیال رکھیں نمازِ جنازہ پڑھتے ہوئے تکبیر زبان سے واضح طور پر ادا کریں کیونکہ اگر یہ رہ گئی تو پھر تو جو آپ نے نماز پڑھی وہ ہوئی ہی نہیں بھئی۔ چلیے بس بھئی هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
بھئی بتلا دیا صاحبِ ہدایہ نے: وَالنَّفْلُ بِهَا غَيْرُ مَشْرُوعٍ، نمازِ جنازہ میں نفل پھر ایک ہی دفعہ ہو گی۔ اور یہ بھی یاد رکھیے بھئی نمازِ جنازہ کے اندر میت کا موجود ہونا بھی شرط ہے، میت سامنے ہے تو نمازِ جنازہ صحیح ہے اگر میت سامنے نہیں ہے تو پھر جنازہ بھی صحیح نہیں ہے، اسی لیے عند الاحناف جو ہے وہ غائبانہ نمازِ جنازہ صحیح نہیں۔ اور جو دلیل ذکر کرتے ہیں وہ کہ حضور علیہ السلام نے نجاشی جو تھا شاہِ حبشہ ان پر غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھی تھی لیکن اس کا ہم جواب دیتے ہیں کہ وہ حضور علیہ السلام کی خصوصیات میں سے ہے، خصوصیات میں سے کیونکہ آپ نے حضور علیہ السلام نے تمام زندگی میں صرف انہی کی غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کی ہے، اس کے علاوہ بھی اور بڑے بڑے مواقع آئے جہاں پر صحابہ دور دور جہاد وغیرہ میں نکلے ہوئے تھے ان کی شہادت ہوئی اور حضور علیہ السلام کو یہاں مدینہ منورہ میں اطلاع ملی لیکن آپ نے کسی پر بھی غائبانہ نمازِ جنازہ نہیں پڑھی بھئی۔ وہ حضور علیہ السلام کے خصوصیات میں سے تھا اور وہ بھی صرف حضور علیہ السلام نے نجاشی کی نمازِ جنازہ پڑھی ہے کسی اور کی نہیں بھئی، تو معلوم ہوا یہ جائز نہیں ہے بھئی عند الاحناف بھئی، جبکہ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ غائبانہ بھی پڑھ سکتے ہیں۔