Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-080

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 83
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وَمِنْ شَرَائِطِهَا الْجَمَاعَةُ لِأَنَّ الْجُمُعَةَ مُشْتَقَّةٌ مِنْهَا، وَأَقَلُّهُمْ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى رَحْمَةً وَاسِعَةً ثَلَاثَةٌ سِوَى الْإِمَامِ، وَقَالَا: اثْنَانِ سِوَاهُ، قَالَ: وَالأَصَحُّ أَنَّ هَذَا قَوْلُ أَبِي يُوسُفَ وَحْدَهُ۔ جمعے کی نماز کی تفصیلات اور شرائط بیان ہو رہی ہیں۔ گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ جمعہ جو ہے یا تو مصرِ جامع کے اندر ہوگا یا اس کی عیدگاہ کے اندر، اور بستیوں اور دیہاتوں میں جمعہ جائز نہیں۔ میں نے بتلایا تھا کہ آج کل جس پر فتویٰ دیتے ہیں مفتی حضرات کہ ایک بستی کی آبادی کم از کم تین چار ہزار ہو اور اسی طرح وہاں بنیادی ضروریات ہوں یعنی بازار وغیرہ ہو تو وہاں پر جمعہ جائز ہے، اس سے چھوٹی بستی ہو تو اس میں جمعہ جائز نہیں۔ اور جمعے کی شرائط بھی صاحبِ ہدایہ ذکر فرما رہے تھے، دو شرائط آپ نے پڑھ لیں۔ ایک جمعے کی شرط جو ہے وہ وقت ہے، جمعہ ظہر کے وقت میں ہو سکتا ہے۔ اگر جمعے کی نماز کے آخری حصے میں تھے آپ اور ظہر کا وقت نکل گیا تو جمعے کی نماز باطل ہو جائے گی اور نئے سرے سے ظہر کی نماز پڑھنا پڑے گی۔ اور دوسری شرط ذکر ہوئی تھی کہ خطبہ جو ہے یہ بھی جمعے کی شرائط میں سے ہے، جمعے سے پہلے اگر خطبہ دیا گیا تو پھر ہی جمعے کی نماز ہوگی، اگر خطبہ نہ ہوا تو جمعے کی نماز ہی نہیں ہوگی۔ اب تیسری شرط ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: وَمِنْ شَرَائِطِهَا الْجَمَاعَةُ، اور جمعے کی شرائط میں سے جماعت ہے۔ جماعت ہوگی تو جمعہ ہوگا، جماعت نہیں تو جمعہ بھی نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں: وَمِنْ شَرَائِطِهَا الْجَمَاعَةُ، اور جمعے کی شرائط میں سے جماعت کا ہونا ہے۔ لِأَنَّ الْجُمُعَةَ مُشْتَقَّةٌ مِنْهَا، اس لیے کیونکہ جمعہ اسی جماعت سے مشتق ہے۔ جمعہ کس سے مشتق ہے؟ اسی جماعت ہی سے مشتق ہے اور مشتق کے اندر ہمیشہ مشتق منہ کا وجود ہونا ضروری ہے۔ جیسے مثلاً ضرب مصدر ہے، اسی سے ضَرَبَ کا فعل بنا، تو ضَرَبَ کیا ہوا؟ مشتق۔ اور ضَرَبَ کا فعل بغیر مشتق منہ کے یعنی بغیر ضرب کے ہو سکتا ہے؟ بغیر ضرب کے ضَرَبَ والا فعل پایا ہی نہیں جا سکتا۔ اسی طرح اس سے مشتق ہے ضَارِبٌ بھی، ضَارِبٌ، یہ بھی مشتق ہے، اور مشتق کا وجود بغیر مشتق منہ کے نہیں، تو بغیر ضرب کے کوئی ضارب بھی نہیں ہو سکتا۔ تو لہٰذا جب جمعہ مشتق ہے جماعت سے تو اس کے اندر جماعت کا ہونا ضروری ہے۔ جماعت ہوگی تو جمعے کی نماز ہوگی، جماعت نہیں تو جمعے کی نماز بھی نہیں۔ یہ معنیٰ ہے لِأَنَّ الْجُمُعَةَ مُشْتَقَّةٌ مِنْهَا، اس لیے کیونکہ جمعہ جو ہے یہ مشتق ہے جماعت سے۔ اب کم سے کم کتنے لوگوں کی جماعت ہونی چاہیے؟ تو یاد رکھیے کہ طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک، امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک امام کے علاوہ تین آدمیوں کی جماعت کم از کم ہونی چاہیے، تین آدمی ہونے چاہییں امام کے علاوہ۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام کے علاوہ دو آدمی ہوں تو بھی یہ کافی ہے، تو بھی یہ کافی ہے۔ تو کہتے ہیں: وَأَقَلُّهُمْ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ ثَلَاثَةٌ سِوَى الْإِمَامِ، اور ان کی کم سے کم تعداد جو ہے امام صاحب کے نزدیک وہ تین ہے امام کے علاوہ۔ کس کے نزدیک؟ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ۔ اور میں نے آپ کو کیا بتلایا کس کے نزدیک؟ طرفین کے نزدیک۔ یہ آگے صاحبِ ہدایہ ذکر کریں گے آپ کو بتائیں گے کہ یہ صرف امام صاحب کا قول نہیں ہے بلکہ امام محمد رحمہ اللہ بھی اس قول میں ان کے ساتھ ہیں۔ وَقَالَا: اثْنَانِ سِوَاهُ، اور صاحبین فرماتے ہیں کہ امام کے علاوہ دو آدمی ہونے چاہییں کم از کم۔ تو متن میں آیا: صاحبین فرماتے ہیں، آگے صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ نہیں، صحیح بات یہ ہے کہ یہ صاحبین کا قول نہیں صرف یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا قول ہے۔ تو ان کے نزدیک امام کے علاوہ دو افراد ہونے چاہییں۔ قَالَ، قال سے مراد ہیں صاحبِ ہدایہ۔ قَالَ: صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: وَالأَصَحُّ أَنَّ هَذَا قَوْلُ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ وَحْدَهُ، اور زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ اکیلے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا یہ قول ہے۔ لَهُ، امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے، وہ کیا فرماتے ہیں کتنے افراد ہونے چاہییں؟ دو افراد امام کے علاوہ۔ ان کی دلیل یہ ہے: أَنَّ فِي الْمُثَنَّى مَعْنَى الِاجْتِمَاعِ، اس لیے کیونکہ مثنیٰ یعنی تثنیہ کے اندر یعنی دو کے اندر جو ہے وہ اجتماع والا معنیٰ پایا جاتا ہے۔ دو کے اندر اجتماع والا معنیٰ پایا جاتا ہے، دو کا کیا مطلب؟ ایک آدمی کا دوسرے آدمی کے ساتھ اجتماع ہوا، دونوں جمع ہو گئے، جماعت ہو گئی۔ ایک آدمی کا دوسرے آدمی، تثنیہ میں کتنے آدمی ہوتے ہیں؟ دو۔ تو یعنی ایک آدمی کا دوسرے آدمی کے ساتھ کیا ہوا؟ اجتماع ہوا یعنی اکٹھے ہو گئے، تو جماعت ہو گئی، جماعت بن گئی۔ اور جمعے کے لیے بھی کیا شرط تھی؟ جماعت کی شرط تھی، تو دو آدمیوں کی بھی جماعت ہے۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ وہ فرماتے ہیں کہ أَنَّ فِي الْمُثَنَّى مَعْنَى الِاجْتِمَاعِ، کہ تثنیہ کے اندر بھی اجتماع یعنی اکٹھے ہونے کا معنیٰ ہے کہ اس میں دو آدمی اکٹھے ہوتے ہیں، وَهِيَ مُنْبِئَةٌ عَنْهُ، اور جمعے کا لفظ بھی اسی کی خبر دیتا ہے۔ جمعہ کس سے مشتق ہے؟ جماعت سے، اس میں کیا ہے؟ لوگ اکٹھے ہوتے ہیں، تو جب دو آدمی ہوئے تو وہ بھی اس میں بھی کون سا معنیٰ آ گیا؟ اکٹھے ہونے کا معنیٰ آ گیا۔ اجتماع کا کیا معنیٰ؟ اکٹھے ہونا۔ تو اس میں اکٹھے ہونے کا معنیٰ آ گیا۔ تو أَنْبَأَ يُنْبِئُ کے معنیٰ خبر دینا، وَهِيَ، اور یہ جمعہ جو ہے، مُنْبِئَةٌ عَنْهَا، یہ بھی کس چیز کی خبر دیتا ہے؟ اجتماع کی، اکٹھے ہونے کی، تو جب دو آ گئے تو اکٹھے ہونے کا معنیٰ پایا گیا یا نہیں پایا گیا؟ پایا گیا، لہٰذا دو بھی کافی ہیں۔ وَلَهُمَا، اور طرفین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے: أَنَّ الْجَمْعَ الصَّحِيحَ إِنَّمَا هُوَ الثَّلَاثُ، طرفین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ دیکھیے بھئی اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں: ﴿فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ﴾، ﴿فَاسْعَوْا﴾ کون سا صیغہ آیا؟ جمع والا، جمع والا۔ اور جمع، جمعِ صحیح کم از کم کتنے افراد کو شامل ہے؟ تین افراد کو، یہی بیان کر رہے ہیں: أَنَّ الْجَمْعَ الصَّحِيحَ إِنَّمَا هُوَ الثَّلَاثُ، کہ جمعِ صحیح وہ تو تین ہی ہے، وہ تو تین ہی ہے، لِأَنَّهُ جَمْعٌ تَسْمِيَةً وَمَعْنًى، اس لیے کیونکہ وہ نام کے اعتبار سے بھی جمع ہے اور معنیٰ کے اعتبار سے بھی جمع ہے۔ تین ہوں تو یہ تسمیۃً، تسمیہ یعنی نام رکھنا یعنی کہنا، کہنا۔ یہ کہنے کے اعتبار سے بھی جمع ہے یعنی اہلِ عرب تین کو کیا کہتے ہیں؟ جمع کہتے ہیں، تو کہنے کے اعتبار سے یعنی نام رکھنے کے اعتبار سے بھی جمع ہے، وَمَعْنًى، اور معنیٰ کے اعتبار سے بھی جمع ہے۔ معنیٰ کے اعتبار سے بھی جمع ہے کیونکہ تین افراد ہیں تو کیا بن گئی؟ جمع ہے، تو معنیٰ کے اعتبار سے بھی جمع اور عرب والے بھی اس کو اہلِ لغت بھی اس کو کیا کہتے ہیں؟ جمع ہی کہتے ہیں۔ جبکہ تثنیہ جو ہے، تثنیہ ٹھیک ہے معنیٰ کے اعتبار سے جمع ہے جیسے ابھی امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل گزری کہ ایک آدمی دوسرے کے ساتھ کیا ہو گیا؟ جمع ہو گیا، تو یہ معنیٰ کے اعتبار سے تو جمع ہے لیکن تسمیہ نام رکھنے کے اعتبار سے جمع نہیں یعنی اہلِ عرب اس کو جمع نہیں کہتے، تثنیہ الگ شمار کرتے ہیں اور جمع الگ، اسی لیے ان کے تثنیہ کے صیغے الگ ہیں جمع کے الگ ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ تین جو ہے یہ تسمیہ یعنی کہنے کے اعتبار سے بھی جمع اور معنیٰ کے اعتبار سے بھی جمع، اور تثنیہ معنیٰ کے اعتبار سے تو جمع ہے لیکن کہنے اور تسمیہ کے اعتبار سے جمع نہیں۔ تو کہتے ہیں: أَنَّ الْجَمْعَ الصَّحِيحَ إِنَّمَا هُوَ الثَّلَاثُ، کہ صحیح جمع جو ہے وہ تو تین ہی ہے، لِأَنَّهُ جَمْعٌ تَسْمِيَةً وَمَعْنًى، اس لیے کیونکہ وہ جمع ہے کہنے کے اعتبار سے بھی اور معنیٰ کے اعتبار سے بھی، وَالْجَمَاعَةُ شَرْطٌ عَلَى حِدَةٍ، یہ ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے دو آدمیوں کا اعتبار کیا تو تیسرا امام ہو جائے گا ان کے ساتھ، تو پھر بھی تین تو بن گئے، کتنے بن گئے؟ تین تو بن گئے، تو جواب دیتے، جواب دیں گے کہ نہیں، جماعت کا علیحدہ ہونا شرط، امام کا علیحدہ ہونا شرط ہے۔ امام اس جماعت کے علاوہ ہوگا، اس کے علاوہ جماعت ہونی چاہیے۔ بھئی یہ کہاں سے آپ نے اخذ کیا؟ تو دیکھیے بھئی، وہ قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں: ﴿فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ﴾، تم لوگ سعی کرو، کوشش کرو کس کی طرف؟ اللہ کے ذکر کی طرف۔ تو ﴿فَاسْعَوْا﴾ جمع کا صیغہ آیا اور جمع کا اطلاق کم از کم کتنے پر ہوتا ہے؟ تین پر، تو معلوم ہوا تین افراد علیحدہ ہوں اور یہ افراد جلدی کریں کس کی طرف؟ اللہ کے ذکر کی طرف، اور ذکر اللہ سے کیا مراد ہے؟ کل گزرا، خطبہ مراد ہے۔ معلوم ہوا خطبہ دینے والا کوئی علیحدہ ہو، اس کی طرف یہ کیا کریں؟ جلدی کریں کم از کم۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: وَالْجَمَاعَةُ شَرْطٌ عَلَى حِدَةٍ، اور جماعت علیحدہ شرط ہے، وَكَذَا الْإِمَامُ، اور اسی طرح امام بھی، فَلَا يُعْتَبَرُ مِنْهُمْ، لہٰذا امام کو ان میں سے اعتبار نہیں کیا جائے گا، اس جماعت میں شمار نہیں کیا جائے گا۔ وَإِنْ نَفَرَ النَّاسُ قَبْلَ أَنْ يَرْكَعَ، فقہائے کرام پر اللہ کی کروڑہا رحمتیں نازل ہوں، ایک ایک امکانی صورت کو انہوں نے ذکر کر دیا۔ ابھی انہوں نے آپ کو شرط بتلا دی کہ جمعے کی شرائط میں سے ایک جماعت کا ہونا بھی ہے، جماعت ہے تو جمعہ ہو سکے گا، اگر جماعت نہیں، امام کے علاوہ تین آدمی نہیں تو جمعے کی نماز بھی نہیں ہو سکتی۔ اب صورت یہ کہ آغاز کے اندر تو تین یا تین سے زیادہ آدمی امام کے ساتھ شامل تھے لیکن بعد میں کسی خوف وغیرہ یا کسی وجہ سے باقی لوگ جب نماز شروع ہو گئی جمعے کی بھاگ گئے، باقی سارے لوگ بھاگ گئے۔ اب صرف امام کے پیچھے جو ہیں عورتیں اور بچے رہ گئے، اب پیچھے تین مردوں کی جماعت بھی نہ رہی، سمجھ میں آیا؟ تو کیا اب بھی جمعہ جاری رکھے، جمعہ ہو جائے گا؟ صاحبین فرماتے ہیں کہ نماز کا آغاز ہونے کے بعد جب بھاگ جائیں تو پھر کوئی حرج نہیں، امام کیا کرے؟ اپنی نماز جاری رکھے اسی طرح جمعے کی نماز۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ نہیں۔ جب تک پہلی رکعت کا ایک سجدہ نہیں کر لیتا اس وقت تک جماعت کا ہونا شرط ہے۔ تو اس سے پہلے پہلے اگر یہ لوگ بھاگے ہیں تو پھر جمعہ نہیں ہو سکتا، پھر کیا کرنا پڑے گی؟ ظہر کی نماز پڑھنا پڑے گی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ تو کہتے ہیں: وَإِنْ نَفَرَ النَّاسُ قَبْلَ أَنْ يَرْكَعَ الْإِمَامُ وَيَسْجُدَ إِلَّا النِّسَاءَ وَالصِّبْيَانَ اسْتَقْبَلَ الظُّهْرَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، اور اگر لوگ بھاگ گئے قبل اس کے کہ امام رکوع کرے اور سجدہ کرے سوائے عورتوں اور بچوں کے، اسْتَقْبَلَ الظُّهْرَ، تو نئے سرے سے ظہر کی نماز پڑھے، عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، امام صاحب کے نزدیک۔ وَقَالَا: إِذَا نَفَرُوا عَنْهُ بَعْدَمَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ صَلَّى الْجُمُعَةَ، اور صاحبین فرماتے ہیں کہ جب وہ لوگ بھاگیں اس کے بعد اس کے کہ جب اس نے نماز کا آغاز کر دیا تھا امام نے، صَلَّى الْجُمُعَةَ، تو پھر کیا پڑھے؟ جمعہ ہی پڑھے۔ نماز کا آغاز ہو چکا ہے اور آغاز تک کتنے لوگ تھے؟ جماعت موجود تھی، بعد میں چلی بھی گئی تو کوئی حرج نہیں، جمعہ ہی پڑھے۔ فَإِنْ نَفَرُوا عَنْهُ، اب وہ صورت ذکر کر رہے ہیں جو امام صاحب کا مذہب، امام صاحب کیا فرماتے ہیں کب تک جماعت کا ہونا ضروری؟ پہلی رکعت کے پہلے سجدے تک جماعت کا ہونا ضروری، اور پہلی رکعت کے پہلے سجدے تک جماعت موجود ہے پھر تو بالاتفاق صاحبین کے نزدیک بھی جمعہ، صاحبین تو فرماتے ہیں آغاز کے بعد بھی بھاگ جائے تو جمعہ صحیح ہے، تو پہلے سجدے تک جماعت رہے اور پھر بھاگے تو پھر تو بالاتفاق کیا ہے؟ جمعہ صحیح ہے۔ یہی بیان کر رہے ہیں: فَإِنْ نَفَرُوا عَنْهُ بَعْدَمَا رَكَعَ وَسَجَدَ سَجْدَةً بَنَى عَلَى الْجُمُعَةِ، پس اگر وہ لوگ بھاگے بعد اس کے کہ جب امام نے رکوع کر لیا تھا اور ایک سجدہ کر لیا تھا، سَجْدَةً آیا، یہ وہ اردو والا سجدہ نہیں، یہ سَجْدَةً مصدر ہے، مفعولِ مطلق ہے اور آپ نے پڑھا ہے مفعولِ مطلق کبھی عدد بیان کرنے کے لیے آتا ہے، جَلَسْتُ جَلْسَةً میں ایک دفعہ بیٹھا، جَلَسْتُ جَلْسَتَيْنِ میں دو دفعہ۔ تو یہاں یہ سَجْدَةً مصدر ہے، مفعولِ مطلق ہے اور عدد یعنی ایک کا عدد بیان کرنے کے لیے ہے۔ تو بعد اس کے کہ جب امام نے رکوع کر لیا تھا وَسَجَدَ سَجْدَةً اور ایک سجدہ کر لیا تھا، بَنَى عَلَى الْجُمُعَةِ، تو پھر بنا کرے گا جمعے پر ہی یعنی پھر جمعے ہی کی نماز جاری رکھے گا بالاتفاق۔ خِلَافًا لِزُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ، بخلاف امام زفر رحمہ اللہ کے، هُوَ يَقُولُ: إِنَّهُ شَرْطٌ فَلَا بُدَّ مِنْ دَوَامِهِ كَالْوَقْتِ، امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نہیں، جمعے کے آغاز پر جیسے جماعت کا ہونا شرط ہے تو یہ شرط تا اختتام مسلسل ہونی چاہیے، پوری ہونی چاہیے۔ جیسے وقت جمعے کے لیے شرط ہے آغاز پر تو اختتام تک اس وقت کا دوام ضروری ہے، جمعے کے آخر تک ظہر ہی کا وقت رہنا چاہیے، آخری حصے میں بھی اگر ظہر کا وقت نکل گیا تو جمعہ کیا ہو جائے گا؟ باطل۔ تو جیسے وقت جمعے کے لیے شرط اسی طرح جماعت بھی شرط ہے، تو یہ جماعت بھی آغاز سے لے کر جمعے کے اندر مسلسل رہنی چاہیے آخر تک۔ دلیل ان کی سمجھ میں آ گئی؟ تو وہ فرماتے ہیں: إِنَّهُ شَرْطٌ، کہ یہ جماعت جو ہے شرط ہے، فَلَا بُدَّ مِنْ دَوَامِهِ، لہٰذا اس کا دوام ضروری ہے یعنی اس کا مسلسل ہونا ضروری ہے، كَالْوَقْتِ، جیسے کہ وقت ہے۔ وَلَهُمَا أَنَّ الْجَمَاعَةَ، اب صاحبین کی دلیل ذکر ہو رہی ہے۔ صاحبین کا کیا مذہب تھا؟ کہ اگر جماعت کے آغاز پر جماعت ہو اور پھر بھاگ بھی جائے، چلی بھی جائے وہ جماعت تو بھی جمعہ منعقد ہو جائے گا۔ ان کی دلیل، تو کہتے ہیں: وَلَهُمَا، اور صاحبین کی دلیل یہ ہے: أَنَّ الْجَمَاعَةَ شَرْطُ الِانْعِقَادِ، کہ جماعت جمعے کے منعقد ہونے کی شرط ہے، فَلَا يُشْتَرَطُ دَوَامُهَا، لہٰذا اس کے دوام کی شرط نہیں لگائی جائے گی۔ یہ جماعت کا ہونا جمعے کے منعقد ہونے کے لیے ضروری ہے اور جب جمعے کا جب جمعہ شروع ہو گیا تو انعقاد ہو گیا یا نہیں ہو گیا؟ جب نماز شروع ہو گئی تو جمعے کا انعقاد ہو گیا اور یہ شرط کس چیز کی تھی؟ جمعے کے منعقد ہونے کے لیے شرط تھی اور جمعہ منعقد ہو گیا، شروع ہو گیا، اب وہ چلے بھی جائیں تو کوئی حرج نہیں بلکہ کیا ہے؟ جمعہ ہو جائے گا۔ دلیل سمجھ میں آئی؟ وہ فرماتے ہیں کہ جماعت جمعے کے منعقد ہونے کی شرط ہے فَلَا يُشْتَرَطُ دَوَامُهَا لہٰذا اس کے دوام کی شرط نہیں ہوگی، اس کے مسلسل ہونے کی شرط نہیں ہوگی، كَالْخُطْبَةِ، جیسے کہ خطبہ ہے۔ صاحبین فرماتے ہیں جیسے دیکھو خطبہ بھی جمعے کے جمعے کے لیے شرط ہے تو حالانکہ اس کا دوام ضروری نہیں، کیا خطبہ نماز کے آخر تک رہتا ہے یا نماز سے پہلے ہی ختم ہو جاتا ہے؟ نماز سے پہلے ہی ختم ہو جاتا ہے، تو جیسے اس میں دوام ضروری نہیں اسی طرح اس جماعت کے اندر بھی دوام ضروری نہیں۔ وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، اور امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: أَنَّ الِانْعِقَادَ بِالشُّرُوعِ فِي الصَّلَاةِ، کہ انعقاد نماز میں شروع ہونے سے ہوگا۔ آپ کی بات ٹھیک ہے، آپ کی بات ٹھیک ہے کہ یہ جماعت کس چیز کی شرط ہے؟ جمعہ منعقد ہونے کی، اور جمعہ منعقد کب ہوگا؟ جب نماز شروع ہو جائے۔ جیسے صاحبین نے ذکر کیا وہ فرماتے ہیں جب نماز شروع ہو گئی تو جمعہ کیا ہو گیا؟ منعقد ہو گیا۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں ٹھیک ہے کہ یہ جماعت جمعہ منعقد ہونے کی شرط ہے، نماز شروع ہونے سے جمعہ کیا ہو جاتا ہے؟ منعقد ہو جاتا ہے، لیکن یہ جمعے کا انعقاد جو ہے یہ نماز کا انعقاد یہ پورا نہیں ہوگا جب تک ایک سجدہ نہ ہو جائے، جب تک ایک سجدہ نہ ہو جائے کیونکہ اس سے کم کو نماز نہیں کہتے۔ آپ پہلے پڑھ چکے دلائل کے اندر کہ جب تک سجدہ نہیں، رکعت شروع کی ہے اس کو کوئی بھی نماز نہیں کہتا، لیکن جب سجدہ کر لیا اب اس کو کیا کہا جاتا ہے؟ اس کو نماز کہا جاتا ہے، تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ ٹھیک ہے جماعت شرط ہے جمعے کے منعقد ہونے کے لیے اور جمعہ منعقد ہو جائے گا جب نماز شروع ہو جائے لیکن یہ منعقد ہونا پورا نہیں ہوا، منعقد ہونے کا یوں کہیں آغاز تو ہو گیا انعقاد کا لیکن انعقاد ابھی پورا نہیں ہوا، اور انعقاد پورا کب ہوگا؟ جب پہلی رکعت کا سجدہ ہو جائے کیونکہ اس سے کم کو تو نماز ہی نہیں کہتے۔ جب یہ ایک سجدہ ہو جائے گا اب نماز ہو گئی، شروع ہو گئی یوں کہو، اب کیا ہو گئی؟ اب صحیح طور پر نماز شروع ہو گئی، اور کون سی نماز شروع ہوئی؟ جمعے کی، یعنی جمعہ منعقد ہو گیا۔ جمعہ کیا ہو گیا؟ اب منعقد ہوا، اس سے کم کو تو نماز کہتے ہی نہیں ہیں، تو لہٰذا اس سے کم جو ہے وہ تو جمعہ ہی نہیں ہے ابھی گویا، منعقد ہی نہیں ہوا ابھی۔ جب ایک سجدہ ہو جائے گا تو کیا کہیں گے؟ جمعہ منعقد ہو گیا۔ دلیل سمجھ میں آئی؟ تو کہتے ہیں: وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے: أَنَّ الِانْعِقَادَ بِالشُّرُوعِ فِي الصَّلَاةِ، کہ جمعے کا انعقاد جو ہے نماز میں شروع ہونے سے ہوگا، وَلَا يَتِمُّ ذَلِكَ إِلَّا بِتَمَامِ الرَّكْعَةِ، اور یہ انعقاد جو ہے پورا نہیں ہوگا مگر ایک رکعت کے پورا ہونے سے، لِأَنَّ مَا دُونَهَا لَيْسَ بِصَلَاةٍ، اس لیے کیونکہ اس سے کم تو نماز ہی نہیں ہے۔ اس سے کم کو تو، تو جب تک سجدہ نہیں کیا تو ابھی تو نماز ہی نہیں ہے یوں کہیں، اس کو نماز نہیں کہیں گے۔ سمجھ میں آیا؟ جب نماز نہیں کہیں گے تو ابھی جمعہ منعقد نہیں، جب ایک رکعت ہو جائے گی اب یہ کیا بن گئی؟ نماز بن گئی، اب نماز بن گئی اور کون سی نماز بنی؟ جمعے کی بنی، تو اب کیا کہیں گے؟ جمعہ منعقد ہو گیا۔ فَلَا بُدَّ مِنْ دَوَامِهَا إِلَيْهَا، لہٰذا ضروری ہے جماعت کا دوام إِلَيْهَا اس ایک پہلی رکعت تک، اس وقت تک۔ بِخِلَافِ الْخُطْبَةِ، بخلاف کس کے؟ صاحبین نے دلیل میں ذکر کیا تھا کہ جماعت کا دوام ضروری نہیں جیسے کہ خطبہ ہے، جیسے خطبے کا دوام ضروری نہیں۔ تو اس کا بھی جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ خطبے پر آپ قیاس نہیں کر سکتے کہ خطبے میں دوام نہیں ہے تو لہٰذا جماعت میں بھی دوام نہیں ضروری نہیں ہے۔ کہتے ہیں: خطبہ تو منافیِ صلاۃ ہے، خطبہ تو کیا ہے؟ منافیِ صلاۃ ہے، جب تک خطبہ ہے نماز نہیں، اور جب نماز ہے تو خطبہ نہیں ہے۔ نماز کے اندر اگر خطبہ ہوگا تو پھر تو نماز نماز رہے گی ہی نہیں۔ تو خطبہ تو کیا ہے نماز کے منافی ہے اس لیے اس میں دوام نہیں ہے جبکہ یہ جماعت یہ تو کوئی اس کے منافی نہیں کہ آپ اس کو اس پر قیاس کریں۔ تو کہتے ہیں: بِخِلَافِ الْخُطْبَةِ، بخلاف خطبہ کے، فَإِنَّهَا تُنَافِي الصَّلَاةَ، پس وہ تو نماز کے منافی ہے، فَلَا يُشْتَرَطُ دَوَامُهَا، لہٰذا اس کے دوام کی، اس کے مسلسل ہونے کی شرط نہیں ہوگی۔ وَلَا مُعْتَبَرَ بِبَقَاءِ النِّسْوَانِ وَكَذَا الصِّبْيَانِ، امام نماز پڑھا رہا تھا، مرد سارے کسی خوف وغیرہ کی وجہ سے بھاگ گئے، کوئی دشمن کا خوف ہے یا کوئی اور خوف وہ بھاگ گئے، اور صرف پیچھے کون رہ گئے؟ بچے اور عورتیں، یہ تو باقی ہیں، تو کیوں ان کا اعتبار نہیں کیا گیا؟ کہتے ہیں: بھئی عورتوں اور بچوں کا اعتبار نہیں کیونکہ صرف ان کے صرف یہ ہوں تو جمعہ منعقد نہیں ہوتا، صرف یہ ہوں تو جمعہ منعقد نہیں ہوتا تو ان کے ساتھ جماعت بھی پوری نہیں ہوگی اور جماعت کا ہونا تو ضروری تھا۔ تو کہتے ہیں: وَلَا مُعْتَبَرَ بِبَقَاءِ النِّسْوَانِ وَكَذَا الصِّبْيَانِ، اور کوئی اعتبار نہیں ہے عورتوں کے باقی رہنے کا اور اسی طرح بچوں کے، لِأَنَّهُ لَا تَنْعَقِدُ بِهِمُ الْجُمُعَةُ، اس لیے کیونکہ ان کے ساتھ جمعہ منعقد نہیں ہوتا یعنی ان کی جماعت کا اعتبار نہیں، فَلَا تَتِمُّ بِهِمُ الْجَمَاعَةُ، تو ان کے ساتھ جماعت بھی پوری نہیں ہوگی۔ وَلَا تَجِبُ الْجُمُعَةُ عَلَى مُسَافِرٍ وَلَا امْرَأَةٍ وَلَا مَرِيضٍ وَلَا عَبْدٍ وَلَا أَعْمَى، اور جمعہ واجب نہیں ہے عَلَى مُسَافِرٍ، مسافر پر، وَلَا امْرَأَةٍ، اور نہ عورت پر، وَلَا مَرِيضٍ، اور نہ کسی بیمار پر، وَلَا عَبْدٍ، اور نہ غلام پر، وَلَا أَعْمَى، اور نہ نابینا پر۔ ان لوگوں پر جمعہ واجب نہیں ہے۔ وجہ کیا ہے ان پر کیوں نہیں واجب؟ کہتے ہیں: لِأَنَّ الْمُسَافِرَ يَحْرَجُ فِي الْحُضُورِ، اس لیے کیونکہ مسافر جو ہے اس کو حرج ہوگا حاضر ہونے میں۔ مسافر بیچارہ تو سفر میں ہے، اب اگر اس پر جمعے کو واجب قرار دے دیا جائے تو وہ کس میں پڑ جائے گا؟ حرج اور تنگی میں پڑ جائے گا اور شریعت میں تو حرج اور تنگی کو دور کیا گیا ہے، تو لہٰذا اس وجہ سے۔ لِأَنَّ الْمُسَافِرَ يَحْرَجُ فِي الْحُضُورِ، اس لیے کیونکہ مسافر جو ہے اس کو حرج ہوگا حاضر ہونے میں، وَكَذَا الْمَرِيضُ وَالأَعْمَى، اور اسی طرح مریض بھی ہے اور نابینا یعنی اندھا بھی ہے یعنی ان کے بھی حاضر اگر ان پر واجب قرار دیا جائے جمعے کو تو ان کے حاضر ہونے میں حرج ہوگا، تنگی میں پڑ جائیں گے۔ وَالْعَبْدُ، اور باقی غلام؟ کہتے ہیں: وَالْعَبْدُ مَشْغُولٌ بِخِدْمَةِ الْمَوْلَى وَالْمَرْأَةُ بِخِدْمَةِ الزَّوْجِ، اور غلام جو ہے وہ تو اپنے آقا کی خدمت میں مشغول ہوتا ہے، کس میں؟ خدمت میں مشغول ہوتا ہے، وہ بیچارہ تو غلام ہے اس کے تو اپنے اختیار میں ہے نہیں تو اگر اس پر بھی جمعے کو واجب قرار دے دیا جائے تو وہ بھی مشکل میں پڑے گا۔ تو کہتے ہیں: وَالْعَبْدُ مَشْغُولٌ بِخِدْمَةِ الْمَوْلَى، اور غلام جو ہے وہ تو اپنے آقا کی خدمت میں مشغول ہوتا ہے، وَالْمَرْأَةُ بِخِدْمَةِ الزَّوْجِ، اور عورت جو ہے وہ تو خاوند کی خدمت میں مشغول ہوتی ہے۔ سمجھ میں آیا؟ عورت کو کیا کرنی چاہیے؟ خاوند کی خدمت کرنی چاہیے، اگرچہ اس بات کو اب عورتوں نے پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ تو کہتے ہیں: وَالْمَرْأَةُ بِخِدْمَةِ الزَّوْجِ، اور عورت کس کی خدمت میں مشغول ہوگی؟ خاوند کی خدمت میں، تو اس کے حاضر ہونے میں حرج ہوگا۔ فَعُذِرُوا دَفْعًا لِلْحَرَجِ وَالضَّرَرِ، تو ان کو معذور کہا جائے گا دَفْعًا لِلْحَرَجِ، حرج، وَالضَّرَرِ، اور تکلیف کو دور کرنے کے لیے، ورنہ یہ حرج اور تکلیف میں پڑ جائیں گے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ فَإِنْ حَضَرُوا فَصَلَّوْا مَعَ النَّاسِ أَجْزَأَهُمْ عَنْ فَرْضِ الْوَقْتِ، فَصَلَّوْا نہ پڑھنا، فَصَلَّوْا، صَلَّى صَلَّيَا صَلَّوْا، یہ ماضی کا صیغہ ہے لام پر زبر پڑھیں، اور صَلُّوا یہ امر کا صیغہ بن جائے گا، صَلِّ صَلِّيَا صَلُّوا وہ امر کا صیغہ بن جائے گا۔ فَإِنْ حَضَرُوا فَصَلَّوْا مَعَ النَّاسِ، پس اگر یہ حاضر ہو گئے، یہ جن کا ہم نے کہا جمعہ جن پر واجب نہیں یعنی مسافر، عورت، مریض یا غلام وغیرہ یا اندھا، اگر یہ حاضر ہو گئے فَصَلَّوْا مَعَ النَّاسِ تو انہوں نے نماز پڑھ لی لوگوں کے ساتھ جمعے کی، أَجْزَأَهُمْ عَنْ فَرْضِ الْوَقْتِ، تو یہ کافی ہو جائے گا ان کے وقتی فرض سے یعنی ان کا وہ وقت کا فرض وہ نماز ان کی ادا ہو جائے گی۔ لِأَنَّهُمْ تَحَمَّلُوهُ، اس لیے، ان سے کیوں ان پر جمعے کو واجب قرار نہیں دیا شریعت نے؟ کیا وجہ تھی؟ حرج کو دور کرنے کے لیے، اور اگر یہ آ گئے تو انہوں نے تو حرج کو خود ہی تکلیف کو خود ہی برداشت کر لیا، لہٰذا اب ان کی نماز ہو جائے گی۔ ان پر شریعت نے جمعے کو واجب قرار نہیں دیا اس وجہ سے نہیں کہ ان میں اہلیت ہی نہیں، اہلیت تو ہے صرف کس وجہ سے؟ حرج کو دور کرنے، جب انہوں نے حرج کو خود ہی برداشت کر لیا اور حاضر ہو گئے تو پھر یقینی یقینی طور پر ان کی جماعت نماز ان کی ہو جائے گی۔ لِأَنَّهُمْ تَحَمَّلُوهُ، اس لیے کیونکہ انہوں نے برداشت کر لیا حرج کو، فَصَارُوا كَالْمُسَافِرِ إِذَا صَامَ، تو یہ ہو گئے مسافر کی طرح جب وہ روزہ رکھ لے۔ مسافر کو شریعت نے رخصت دی ہے کہ وہ سفر کے اندر روزہ نہ رکھنا چاہے تو نہ رکھے، اس کو رخصت ہے، بعد میں اس کی قضا کر لے، لیکن اگر کوئی مسافر رکھ لیتا ہے تو پھر ہوگا اس کا روزہ یا نہیں ہوگا؟ روزہ اس کا ہو جائے گا، اس لیے کیونکہ اس سے بھی حرج کی وجہ سے شریعت نے رخصت دی تھی، اب اگر اس نے خود اس تنگی کو برداشت کر لیا ہے تو یقیناً ہو جائے گا بلکہ افضل ہے۔ فَصَارُوا كَالْمُسَافِرِ إِذَا صَامَ، تو یہ لوگ ہو گئے مسافر کی طرح جب وہ روزہ رکھ لے۔ وَيَجُوزُ لِلْمُسَافِرِ وَالْعَبْدِ وَالْمَرِيضِ أَنْ يَؤُمَّ فِي الْجُمُعَةِ، اور جائز ہے مسافر اور غلام اور مریض کے لیے کہ وہ امامت کریں جمعے کی نماز میں۔ یہ جمعے کی نماز میں امامت بھی کر سکتے ہیں، اگر ان کو امام بنا دیا جائے تو جمعہ ہو جائے گا۔ وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يُجْزِيهِ، اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ کافی نہیں یعنی یہ امام نہیں بن سکتے، لِأَنَّهُ لَا فَرْضَ عَلَيْهِ، اس لیے کیونکہ ان پر جمعہ فرض نہیں ہے، فَأَشْبَهَ الصَّبِيَّ وَالْمَرْأَةَ، تو یہ مشابہ ہو گئے کس کے؟ بچے اور عورت کے مشابہ ہو گئے۔ تو لہٰذا تو یہ بچے اور عورت کے مشابہ ہوئے اور بچہ اور عورت تو امام نہیں بن سکتے تو یہ بھی جمعے کے اندر امام نہیں بن سکتے۔ وَلَنَا، اور ہماری دلیل یہ ہے: أَنَّ هَذِهِ رُخْصَةٌ، کہ یہ جو جمعہ ان پر واجب قرار نہیں دیا گیا یہ کیا ہے؟ یہ رخصت ہے ان کے لیے، فَإِذَا حَضَرُوا يَقَعُ فَرْضًا عَلَى مَا بَيَّنَّا، پس جب یہ حاضر ہو گئے تو وہ فرض واقع ہو جائے گا بوجہ اس کے جو ہم نے بیان کر دی کہ انہوں نے خود حرج کو برداشت کر لیا۔ اور باقی بچہ جو ہے، أَمَّا الصَّبِيُّ فَمَسْلُوبُ الأَهْلِيَّةِ، اور باقی بچہ جو ہے وہ تو مسلوب الاہلیۃ ہے۔ سلب کا معنیٰ ہے نفی کرنا یعنی اس سے اہلیت کی نفی کی گئی ہے، شریعت نے اس سے امامت کی اہلیت کی اس سے نفی کی ہے، اس میں تو امام بننے کی اہلیت ہی نہیں ہے۔ وَالْمَرْأَةُ لَا تَصْلُحُ لِإِمَامَةِ الرِّجَالِ، اور عورت جو ہے وہ مردوں کا امام ہونے کی صلاحیت نہیں، عورتوں کی امام تو ہو سکتی ہے لیکن مردوں کی امام ہونے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی، تو لہٰذا اس وجہ سے یہ امام نہیں بن سکتے، لیکن جبکہ مسافر، غلام اور مریض وغیرہ وہ امام بن سکتے ہیں۔ وَتَنْعَقِدُ بِهِمُ الْجُمُعَةُ لِأَنَّهُمْ صَلَحُوا لِلْإِمَامَةِ فَيَصْلُحُونَ لِلِاقْتِدَاءِ بِطَرِيقِ الأَوْلَى، اور ان کے ساتھ جمعہ منعقد ہو جائے گا۔ ان کے، جمعے کے اندر جماعت کا ہونا ضروری ہے، کس کا ہونا؟ جماعت شرائطِ جمعہ میں سے ہے۔ جماعت ہے تو جمعہ ہے، جماعت نہیں تو جمعہ بھی نہیں۔ اب جو جماعت حاضر ہے اس وقت جمعے کے لیے وہ صرف مسافر ہیں یا مریض ہیں یا غلام ہیں، تو کیا اس سے بھی جمعہ ہو جائے گا یا جمعہ نہیں ہوگا؟ جماعت میں اور لوگ ہیں ہی نہیں، جماعت ہی کن کی ہے؟ انہی مسافر، مریضوں یا غلاموں کی جماعت ہے۔ کہتے ہیں: بھئی جب یہ امام بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو اقتدا کی صلاحیت بطریقِ اولیٰ یہ رکھتے ہیں، جب یہ امام بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو مقتدی بننے کی صلاحیت بطریقِ اولیٰ رکھتے ہیں، لہٰذا صرف یہ بھی ہوں تو بھی جمعہ منعقد ہو جائے گا۔ یہ معنیٰ ہے: وَتَنْعَقِدُ بِهِمُ الْجُمُعَةُ، اور ان کے ساتھ بھی جمعہ منعقد ہو جائے گا، لِأَنَّهُمْ صَلَحُوا لِلْإِمَامَةِ فَيَصْلُحُونَ لِلِاقْتِدَاءِ بِطَرِيقِ الأَوْلَى، اس لیے کیونکہ یہ امام ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو یہ اقتدا کی صلاحیت بطریقِ اولیٰ رکھتے ہیں۔ وَمَنْ صَلَّى الظُّهْرَ فِي مَنْزِلِهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَبْلَ صَلَاةِ الْإِمَامِ، صورتِ مسئلہ یہ کہ جمعے کے دن جمعے کے دن امام کے نمازِ جمعہ پڑھانے سے پہلے ہی ایک شخص نے گھر پر ظہر کی نماز ادا کر لی، اس کا ارادہ ہی نہیں تھا جمعے میں جانے کا۔ اس نے گھر پر ہی ظہر کی نماز ادا کر لی کیونکہ جمعے میں حاضر ہونے کا اس کا ارادہ نہیں تھا اور کوئی عذر بھی نہیں۔ کیونکہ اگر عذر ہے وہ تو آپ کو بتلا دیا کہ مریض وغیرہ جن کا عذر ہے وہ کیا کر سکتے ہیں؟ ان پر جمعہ واجب ہی نہیں، عذر ہے۔ تو کوئی عذر بھی نہیں تھا، اس نے گھر پر نماز پڑھ لی، تو کیا اس کی یہ نماز ہو جائے گی بغیر عذر کے، امام کے جمعہ پڑھانے سے پہلے ہی گھر پر وہ پڑھ رہا ہے؟ کہتے ہیں: ہاں بھئی، نماز ہو جائے گی البتہ ایسا کرنا اس کے لیے مکروہِ تحریمی ہے، کیا ہے؟ مکروہِ تحریمی ہے۔ تو کہتے ہیں: وَمَنْ صَلَّى الظُّهْرَ فِي مَنْزِلِهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، اور جس شخص نے ظہر کی نماز پڑھی اپنے گھر میں ہی جمعے کے دن، قَبْلَ صَلَاةِ الْإِمَامِ، امام کی نماز سے پہلے ہی، یہ شرط ضروری ہے، امام کی نماز کے بعد پڑھے گا پھر تو کراہت بھی نہیں ہے، امام کی نماز سے پہلے ہی، وَلَا عُذْرَ لَهُ، اور یہ قید بھی ضروری: وَلَا عُذْرَ لَهُ، اس کا کوئی عذر بھی نہیں کیونکہ اگر عذر ہے پھر بھی صحیح ہے بغیر کراہت کے، تو کہتے ہیں: كُرِهَ لَهُ ذَلِكَ، تو اس کے لیے یہ مکروہ ہے، وَجَازَتْ صَلَاتُهُ، اور اس کی نماز جائز ہو جائے گی۔ ہے تو مکروہِ تحریمی لیکن فرض ادا ہو جائے گا، فرض ادا ہو جائے گا۔ وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يُجْزِيهِ، اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ نماز اس کے لیے کافی نہیں یعنی اس کے سر سے فرض نہیں اترے گا، اس کے ذمے ابھی بھی نماز کیا ہے؟ باقی ہے۔ امام زفر فرماتے ہیں: لَا يُجْزِيهِ، یہ نماز اس کے لیے کافی نہیں ہوگی، لِأَنَّ عِنْدَهُ الْجُمُعَةَ هِيَ الْفَرِيضَةُ أَصَالَةً، اس لیے کیونکہ امام زفر رحمہ اللہ کے نزدیک جمعہ ہی فرض ہے اصالۃً باعتبارِ اصل ہونے کے۔ بھئی یاد رکھیے اس میں یہ فقہاء اختلاف کرتے ہیں، امام زفر رحمہ اللہ اور اسی طرح بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ جمعے کے دن جمعہ اصل ہے، توجہ ہے سبق کی طرف؟ جمعے کے دن جمعے کی نماز اصل ہے اور جمعہ نہ مل سکے تو پھر ظہر پڑھتے ہیں اور یہ اس کا بدل ہے، یہ کیا ہے؟ بدل۔ تو اصل کیا ہے جمعے کے دن؟ جمعے کی نماز ہے، امام زفر رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں، اور ظہر اس کا بدل ہے۔ جبکہ ہمارے ائمہ باقی ائمہ فرماتے ہیں کہ نہیں، اصل جمعے کے دن بھی ظہر ہی ہے اور جمعہ اس کا بدل ہے، جمعہ کیا ہے؟ اس کا بدل ہے۔ شریعت نے اس کو حکم دیا ہے کہ کیا کرو؟ تمہارے اوپر جو ظہر کی نماز آئی ہے اس کو اپنے سے ساقط کرو، کس طرح؟ جمعہ پڑھ کے، کس طرح؟ جمعہ پڑھ کے، کیونکہ اس دن شریعت نے جمعہ پڑھنے کا حکم دیا، تو اصلاً تو ہے اس پر کون سی نماز؟ ظہر کی، لیکن شریعت نے اس دن کیا حکم دیا؟ جمعے کی نماز پڑھو، گویا جمعے کی نماز پڑھ کر اس یہ جو ظہر کی نماز تم پر فرض ہے اس کو اپنے اوپر سے ساقط کرو۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ امام زفر رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں: لَا يُجْزِيهِ، اس کے لیے یہ ظہر کی نماز جائز نہیں ہوگی، لِأَنَّ عِنْدَهُ الْجُمُعَةَ هِيَ الْفَرِيضَةُ أَصَالَةً، اس لیے کیونکہ ان کے نزدیک جمعہ ہی فرض ہے باعتبارِ اصل ہونے کے، وَالظُّهْرُ كَالْبَدَلِ عَنْهَا، اور ظہر جو ہے اس سے بدل کی طرح ہے، وَلَا مَصِيرَ إِلَى الْبَدَلِ مَعَ الْقُدْرَةِ عَلَى الأَصْلِ، اور لوٹنا بدل کی طرف باوجود قدرت ہونے کے اصل پر یہ درست نہیں، وَلَا مَصِيرَ، اور بدل کی طرف لوٹنا نہیں ہوگا مَعَ الْقُدْرَةِ عَلَى الأَصْلِ، اصل پر قدرت کے ہوتے۔ وہ فرماتے ہیں ابھی امام نے جمعے کی نماز نہیں پڑھائی تو یہ شخص گھر پر ہے جا کر نماز میں شریک ہو سکتا ہے یا نہیں ہو سکتا؟ شریک ہو، تو یہ اصل پر قادر ہے اور جب اصل پر قادر ہے تو اصل پر قدرت کے ہوتے ہوئے بدل یعنی ظہر پڑھنے کی اسے اجازت نہیں ہے۔ وَلَنَا، اور ہماری دلیل یہ ہے: أَنَّ أَصْلَ الْفَرْضِ هُوَ الظُّهْرُ فِي حَقِّ الْكَافَّةِ، کہ اصل فرض جو ہے وہ ظہر ہی ہے فِي حَقِّ الْكَافَّةِ یعنی فِي حَقِّ كَافَّةِ النَّاسِ تمام لوگوں کے حق میں۔ ہمارے نزدیک اصل فرض کیا ہے؟ ظہر ہی ہے سب لوگوں کے حق میں۔ هَذَا هُوَ الظَّاهِرُ، یہی ظاہر ہے، هَذَا هُوَ الظَّاهِرُ، یہی ظاہر ہے۔ کہ تمام لوگوں کے حق میں کیا ہے؟ بھئی اس کی کیا دلیل ہے کہ جمعے کے دن ظہر اصل ہے اور جمعہ اس کا بدل ہے؟ تو احناف کی باتیں بڑی گہری ہوتی ہیں، بلا وجہ کوئی بھی قول نہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ جمعے کے دن بھی ظہر اصل ہے، کہتے ہیں: اس لیے کیونکہ ہر شخص کو اسی چیز کا ذمہ دار بنایا جاتا ہے، اسی چیز کا مکلف بنایا جاتا ہے جتنا اس کے قدرت میں ہوتا ہے، جس چیز پر وہ قادر ہوتا ہے۔ تو ایک آدمی ہے، وہ جمعے پر قادر ہے؟ ایک اکیلا آدمی جمعے پر قادر ہے؟ اس کی قدرت میں تو یہ جمعہ جمعہ کرے، جمعہ پڑھ لے، یہ تو اس کی قدرت میں ہے ہی نہیں، جب تک اور لوگ اس کے ساتھ نہیں ملیں گے اکیلا بیچارہ تو جمعہ نہیں پڑھ سکتا۔ تو اکیلا آدمی جمعہ پڑھنے پر قادر ہی نہیں ہے، جب قادر ہی نہیں ہے تو معلوم ہوا شریعت نے اس کو اس کا مکلف بھی نہیں بنایا بلکہ کس چیز کا مکلف ہوگا؟ جو اس کی قدرت میں ہو، اور اس کی قدرت میں کیا ہے؟ ظہر کی نماز، وہ اکیلے ہو سکتی ہے، وہ وہ پڑھنے پر قادر ہے جب چاہے پڑھ سکتا ہے، لیکن جمعے پر تو یہ قادر ہی نہیں۔ لہٰذا معلوم ہوا اصل ظہر ہی ہے ہر شخص پر، کیونکہ کسی کو جب مکلف بنایا جاتا ہے کسی چیز کا یعنی ذمہ دار بنایا جاتا ہے کسی چیز کا تو وہ اسی کے بقدر ہوتا ہے جس چیز پر وہ قادر ہو جو اس کی قدرت میں ہو، اور جو چیز قدرت میں نہ ہو اس کا شریعت اس کو مکلف بھی نہیں بناتی۔ معلوم ہوا جمعے کے دن بھی اصل کیا ہے ہر شخص پر؟ ظہر ہی ہے، لیکن اس اصل کو یعنی ظہر کو اس کو ساقط کرنے کا حکم دیا گیا کس چیز کے ذریعے؟ جمعے کی نماز کے کے ذریعے کہ وہ پڑھ کر اس فرض کو اس ظہر کے فرض کو اپنے سے ساقط کر لو۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو وَلَنَا ہماری دلیل یہ ہے: أَنَّ أَصْلَ الْفَرْضِ هُوَ الظُّهْرُ فِي حَقِّ الْكَافَّةِ، کہ اصل فرض وہ ظہر ہی ہے تمام لوگوں کے حق میں، هَذَا هُوَ الظَّاهِرُ، یہی ظاہر ہے، إِلَّا أَنَّهُ مَأْمُورٌ بِإِسْقَاطِهِ بِأَدَاءِ الْجُمُعَةِ، مگر یہ کہ وہ مامور ہے یعنی اس کو حکم دیا گیا ہے بِإِسْقَاطِهِ کہ وہ اس فرض کو ساقط کرے بِأَدَاءِ الْجُمُعَةِ جمعے کی ادائیگی کے ذریعے، وَهَذَا، اور یہ اس وجہ سے، یہ جو ہم نے کہا کہ اصل کیا ہے؟ ظہر ہے، یہ اس وجہ سے: لِأَنَّهُ مُتَمَكِّنٌ مِنْ أَدَاءِ الظُّهْرِ بِنَفْسِهِ دُونَ الْجُمُعَةِ، اس لیے کیونکہ یہ خود جو ہے ظہر ادا کرنے پر قادر ہے دُونَ الْجُمُعَةِ نہ کہ جمعے پر، لِتَوَقُّفِهَا عَلَى شَرَائِطَ لَا تَتِمُّ بِهِ وَحْدَهُ، اس وجہ سے کیونکہ جمعہ تو موقوف ہے ایسی شرطوں پر جو اس کے ساتھ اکیلے اس کے ساتھ پوری ہی نہیں ہوتی، اکیلے اس کے ساتھ پوری نہیں ہوتی، اور لوگوں کو کیا کرنا پڑے گا؟ اپنے ساتھ ملانا پڑے گا۔ تو لِتَوَقُّفِهَا عَلَى شَرَائِطَ لَا تَتِمُّ بِهِ وَحْدَهُ، اس وجہ سے کہ جمعہ موقوف ہے ایسی شرطوں پر جو اس اکیلے کے ساتھ پوری نہیں ہوتیں، وَعَلَى التَّمَكُّنِ يَدُورُ التَّكْلِيفُ، اور تمکن پر ہی تو دائر ہے تکلیف۔ تمکن یعنی قادر ہونے پر ہی تو يَدُورُ دائر ہے التَّكْلِيفُ مکلف بنانا یعنی ذمہ دار بنانا۔ ذمہ دار بنانا کس چیز پر دائر ہے؟ قدرت پر، تمکن سے یہاں کیا مراد ہے؟ قدرت۔ قدرت پر دائر ہے مکلف بنانا۔ ایک شخص ایک چیز پر قادر ہے تو شریعت اس کو اس چیز کا مکلف بناتی ہے، ایک شخص ایک چیز پر قادر ہی نہیں تو شریعت اس کو اس چیز کا مکلف اور ذمہ دار بھی نہیں بناتی۔ یہ معنیٰ ہے: وَعَلَى التَّمَكُّنِ يَدُورُ التَّكْلِيفُ، اور قدرت پر ہی دائر ہے مکلف بنانا یعنی ذمہ دار بنانا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ درمیان میں صاحبِ ہدایہ نے فرمایا تھا کہ اصل فرض وہ ظہر ہی ہے تمام لوگوں کے حق میں، هَذَا هُوَ الظَّاهِرُ، یہی ظاہر ہے، یہی ظاہر ہے۔ یہ دراصل اشارہ کر دیا اختلافِ روایت کی طرف، دراصل یہاں پر دو قسم کی روایتیں آتی ہیں: ایک روایت یہ کہ اصل ظہر ہے، اصل اور جمعہ اس کا بدل ہے، اور دوسری روایت یہ آتی ہے کہ کہ ان دونوں میں سے کوئی ایک اصل ہے لَا عَلَى التَّعْيِينِ یعنی تعیین نہیں ہے، تعیین نہیں ہے۔ تو دو روایتیں آئی تھیں، تو صاحبِ ہدایہ نے بتلا دیا کہ ظہر کا اصل ہونا یہی زیادہ ظاہر ہے یعنی یہ روایت زیادہ ظاہر ہے، اس کو انہوں نے ترجیح دی۔ فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يَحْضُرَهَا فَتَوَجَّهَ إِلَيْهَا وَالْإِمَامُ فِيهَا، یہاں سے اب بتلا رہے ہیں آپ کو، دیکھیے فقہاء کتنی گہرائی تک جاتے ہیں مسئلے کی! فرماتے ہیں کہ مسئلہ ہم نے آپ کو بتلا دیا کہ امام سے پہلے ایک شخص نے کیا کی؟ ظہر کی نماز گھر پر پڑھی تو اس کی یہ نماز جائز ہو جائے گی یعنی فرض اس کے ذمے سے ساقط ہو جائے گا اگرچہ ایسا کرنا اس کے لیے مکروہ ہے، مکروہ ہے۔ اب یہ شخص نماز پڑھ چکا ہے، گھر پر ہے اور کچھ وقت ابھی باقی تھا، پھر اس کا ارادہ بن گیا کہ چلو بھئی جمعے میں چلتا ہوں۔ پہلے تو ارادہ نہیں تھا، ظہر کی نماز پڑھ لی، پھر اس کا ارادہ کیا بن گیا؟ چلو میں جمعے میں شریک ہو جاتا ہوں، اور امام نے ابھی جمعے کی نماز نہیں پڑھائی یا جمعے کی نماز ہی میں ہے۔ جب اس کا یہ ارادہ بنا تو امام کس میں ہے؟ جماعت ہی میں ہے یا ابھی جمعہ بس شروع ہونے والا ہے یوں سمجھیں یا نماز کے اندر ہے، جمعہ ختم نہیں ہوا ابھی، اس وقت اس کا ارادہ بن گیا، چنانچہ یہ گھر سے چل پڑا، گھر سے چل پڑا۔ اور گھر سے چل پڑا، تو صاحبین فرماتے ہیں کہ جب یہ جا کر جمعے کی نماز میں شامل ہو جائے گا، داخل ہو جائے گا تو اس نے یہ جو ظہر گھر پر پڑھے تھے وہ باطل ہو جائیں گے۔ جو ظہر کی نماز اس نے گھر پر پڑھی تھی وہ باطل ہو جائیں گے کیونکہ اب یہ جمعہ باقاعدہ جا کر اس میں شامل ہو گیا، جمعہ پڑھنے لگا۔ جبکہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جمعے میں جا کر شامل ہونے سے ظہر کی نماز نہیں باطل ہوگی، جیسے ہی یہ گھر سے چلے گا اس کی ظہر کی نماز باطل ہو گئی، ختم ہو گئی بس، کیا ہو گئی؟ ختم ہو گئی، جیسے ہی گھر سے چلے گا۔ ثمرۂ اختلاف ظاہر ہوگا اس صورت میں کہ یہ شخص چل پڑا، جیسے ہی گھر سے چلا اور ابھی ادھر جماعت ہوئی نہیں پوری، امام کس میں ہے؟ جماعت میں ہے، نماز ہو رہی ہے، یہ چل پڑا۔ تو چلتے ہی امام صاحب کے نزدیک اس کی نماز باطل، صاحبین کے نزدیک ابھی بھی باطل نہیں۔ یہ وہاں جماعت تک پہنچا تو امام نے اسی وقت سلام پھیر دیا، یہ شامل ہی نہ ہو سکا، شامل نہ ہو سکا، تو صاحبین کے نزدیک ابھی بھی اس کی نماز باطل نہیں ہوئی تھی چونکہ ابھی تک، لہٰذا وہ ظہر ٹھیک ہے، اس کی ہو گئی نماز، جبکہ امام صاحب کے نزدیک چلتے ہی ظہر کی نماز کیا ہوئی تھی؟ چلتے ہی اس کی ظہر کی نماز باطل ہو گئی تھی، لہٰذا اب اس کو نئے سرے سے پھر ظہر کی نماز پڑھنا پڑے گی۔ ثمرۂ اختلاف سمجھ میں آیا؟ تو یہی ذکر کر رہے ہیں: فَإِنْ بَدَا لَهُ، بَدَا لَهُ کے معنیٰ ہوتے ہیں رائے بننا، ارادہ بننا۔ فَإِنْ بَدَا لَهُ پس اگر اس شخص کی یہ رائے بنی أَنْ يَحْضُرَهَا کہ وہ جمعے کے اندر حاضر ہو جائے، فَتَوَجَّهَ إِلَيْهَا تو وہ جمعے کی طرف متوجہ ہو گیا یعنی اس کی طرف چل پڑا، وَالْإِمَامُ فِيهَا اور حال یہ تھا کہ امام ابھی جمعے کی نماز میں تھا یعنی جمعے کی نماز ابھی ہوئی نہیں، بَطَلَ ظُهْرُهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ بِالسَّعْيِ، تو اس کی ظہر کی نماز باطل ہو جائے گی یعنی ختم ہو جائے گی امام صاحب کے نزدیک بِالسَّعْيِ سعی کرنے سے ہی یعنی چلنے سے ہی۔ وَقَالَا: لَا يَبْطُلُ حَتَّى يَدْخُلَ مَعَ الْإِمَامِ، اور صاحبین فرماتے ہیں اس کی ظہر کی نماز باطل نہیں ہوگی یہاں تک کہ یہ امام کے ساتھ جمعے کی نماز میں داخل ہو جائے، اس میں شامل ہو جائے۔ دلیل کیا صاحبین کی؟ وہ فرماتے ہیں کہ چیز اپنے برابر کی چیز سے باطل ہوتی ہے یا اعلیٰ چیز سے باطل ہوتی ہے، کم درجے کی چیز سے باطل نہیں ہوتی۔ اور ایک ہے ظہر کی نماز اور ایک ہے سعی الی الجمعہ۔ امام صاحب تو فرماتے تھے سعی الی الجمعہ سے کیا ہو جائے گی اس کی نماز؟ باطل۔ صاحبین فرماتے ہیں: یہ سعی الی الجمعہ ہے اور سعی الی الجمعہ مقصود نہیں، سعی الی الجمعہ کے ذریعے مقصود کیا ہے؟ جمعہ جمعے تک پہنچنا، جمعے کی نماز مقصود ہے وہاں پر، تو سعی الی الجمعہ یہ صرف وسیلہ ہے، اس کے لیے وہ جمعے کی نماز تک پہنچے گا۔ تو یہ وسیلہ ہے، یہ وسیلہ ہے اور ظہر کی نماز وہ تو عبادت ہے، وہ خود کیا ہے؟ مقصود ہے، تو وہ اعلیٰ ہوئی اور یہ سعی اس سے ادنیٰ ہوئی، اور ادنیٰ سے اعلیٰ چیز باطل نہیں ہوتی، لہٰذا اس سعی سے بھی ظہر کی اس کی نماز باطل نہیں ہوگی۔ ہاں جب جمعے میں جا کر شامل ہو جائے گا تب وہ فرماتے ہیں اب اس کی ظہر کی نماز باطل ہوئی، کیونکہ اب جمعے کے اندر شروع ہو گیا اور جمعہ کیا ہے؟ ظہر سے اعلیٰ ہے، کیونکہ اس دن کس چیز کے پڑھنے کا حکم دیا شریعت نے؟ جمعہ پڑھنے کا حکم دیا، معلوم ہوا جمعہ اس سے اعلیٰ ہے، اب جب جمعہ میں آ گیا تو اعلیٰ چیز آ گئی، تو اعلیٰ چیز کی وجہ سے ادنیٰ یعنی ظہر کی نماز کیا ہو جائے گی؟ باطل ہو جائے گی، ختم ہو جائے گی۔ وہ فرماتے ہیں: لِأَنَّ السَّعْيَ دُونَ الظُّهْرِ، اس لیے کیونکہ سعی جو ہے یعنی سعی الی الجمعہ جو ہے دُونَ الظُّهْرِ وہ ظہر کی نماز سے کم درجے کی ہے، فَلَا يَنْقُضُهُ، لہٰذا یہ سعی اس ظہر کو نہیں توڑے گی، بَعْدَ تَمَامِهِ، بعد اس کے کہ جب ظہر پوری ہو چکی۔ ظہر کی نماز پڑھ چکا ہے یا نہیں پڑھ چکا؟ ظہر کی نماز اب یہ پڑھ چکا ہے، وہ ظہر کی نماز پوری ہو چکی ہے تو اب یہ سعی جو اس سے ادنیٰ درجے کی ہے وہ ظہر کی نماز کو نہیں توڑے گی، اس کو ختم نہیں کرے گی۔ یہ معنیٰ ہے: فَلَا يَنْقُضُهُ بَعْدَ تَمَامِهِ، لہٰذا سعی جو ہے وہ ظہر کی نماز کو اس کے پورا ہو جانے کے بعد نہیں توڑے گی، وَالْجُمُعَةُ فَوْقَهَا، اور جمعہ تو ظہر کی نماز سے بڑھ کر ہے، فَيَنْقُضُهَا، تو وہ کیا کرے گا؟ ظہر کی نماز کو توڑ دے گا۔ وَصَارَ كَمَا إِذَا تَوَجَّهَ بَعْدَ فَرَاغِ الْإِمَامِ، صاحبین فرماتے ہیں: وَصَارَ، اور یہ شخص ہو گیا، كَمَا إِذَا تَوَجَّهَ بَعْدَ فَرَاغِ الْإِمَامِ، جیسے کہ یہ متوجہ ہوا ہو امام کے نماز سے فارغ ہو جانے کے بعد، یہ بھی اسی طرح ہو گیا۔ بھئی دیکھیے، ابھی آپ کو مسئلہ بتلایا، کیا مسئلہ بتلایا؟ امام صاحب کے نزدیک گھر سے چلتے ہی اس کی ظہر کی نماز کیا ہو جائے گی؟ باطل، لیکن شرط تھی یہ، کیا شرط؟ کہ امام ابھی جمعے کی نماز ہی میں ہو، جمعہ ابھی ختم نہ ہوا ہو۔ ہاں اگر امام نماز پڑھا چکا ہے، سلام پھیر چکا ہے، اسے پتا تو نہیں لیکن یہ کیا ہوا یہاں سے چل پڑا، تو اب اس صورت میں بالاتفاق اس کی نماز باطل نہیں ہوگی۔ صاحبین کے نزدیک تو وجہ ظاہر ہے، وہ تو فرماتے ہیں جماعت ہو رہی ہو تب بھی چلے گا صرف تو چلنے سے ظہر کی نماز باطل نہیں، اور یہاں جب جماعت ہو چکی ہے تو پھر تو بطریقِ اولیٰ اس کی نماز باطل نہیں۔ جبکہ امام صاحب کے نزدیک بھی اس صورت میں اس کی ظہر کی نماز باطل نہیں ہوگی، جب یہ کب چلا؟ جماعت ہو چکی۔ بھئی کیوں نہیں باطل ہوگی؟ آپ نے ہمیں بتلایا تھا سعی الی الجمعہ سے ظہر کی نماز کیا ہو جاتی ہے؟ باطل۔ کہتے ہیں: بھئی یہ سعی الی الجمعہ ہے ہی نہیں، جمعہ تو ہو چکا ہے، تو یہ تو سعی الی الجمعہ، ہاں سعی الی الجمعہ ہوگی تو پھر ظہر کی نماز باطل ہوگی، لیکن اب تو نماز ہو چکی ہے، لہٰذا یہ سعی تو ہے ٹھیک ہے چلنا تو ہے لیکن سعی الی الجمعہ نہیں، صرف چلنے سے ظہر کی نماز نہیں باطل ہوتی، سعی الی الجمعہ سے ظہر کی نماز باطل ہوتی ہے، تو لہٰذا اگر نماز ہو جانے کے بعد وہ چلے گا تو بالاتفاق اس کی نماز ظہر کی باطل نہیں۔ تو صاحبین فرماتے ہیں، صاحبین فرماتے ہیں کہ وہ جو شخص جو چلے اور ابھی امام کس میں ہو؟ نماز میں ہو، تو وہ جب چلا تو اس سعی الی الجمعہ سے بھی اس کی ظہر کی نماز باطل نہیں ہوگی۔ کیوں نہیں باطل ہوگی؟ کیونکہ سعی الی الجمعہ ظہر کی نماز سے کم درجے کا ہے اور چیز اپنے برابر یا اپنے سے اعلیٰ چیز کی وجہ سے ختم ہو سکتی ہے، اپنے سے کم درجے کی چیز سے نہیں، تو سعی الی الجمعہ ظہر سے کم درجے کا، لہٰذا اس سے ظہر کی نماز باطل نہیں ہوگی۔ اور یہ اسی طرح ہو گیا جیسے جمعہ ہو جانے کے بعد جیسے کوئی شخص چلا ہو تو اس کے نزدیک تو بالاتفاق نماز باطل نہیں ہوتی تو یہ بھی اسی کی طرح ہوا۔ یہ شخص جو جمعے سے پہلے جا رہا ہے اس کی سعی کی وجہ سے بھی اس کی نماز باطل نہیں ہوگی، یہ بھی کس کی طرح ہو گیا؟ اسی شخص کی طرح جو کس جو کب جا رہا ہو؟ جمعے کی نماز کے بعد جا رہا ہو، یہ صاحبین کی ابھی دلیل چل رہی ہے۔ سمجھ میں آیا؟ ابھی امام صاحب کی طرف سے اس کا جواب ذکر کریں گے صاحبِ ہدایہ۔ تو صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ امام صاحب نے تو کیا فرمایا تھا؟ جمعے کی نماز کھڑی ہے تو سعی کرتے ہی فوراً کیا ہو جائے گی ظہر کی نماز؟ باطل۔ صاحبین فرماتے ہیں: نہیں، یہ سعی الی الجمعہ یہ ظہر کی نماز سے ادنیٰ ہے اس سے نماز باطل نہیں ہوگی، اور یہ سعی الی الجمعہ بھی جو ہے یہ بھی اسی طرح ہے جیسے گویا کہ جمعے کی نماز ہونے کے بعد جیسے وہ سعی کرتا ہے اور اس صورت میں تو بالاتفاق نماز باطل نہیں ہوتی تو اس صورت میں بھی نماز باطل نہیں ہوگی۔ یہ معنیٰ ہے: وَصَارَ كَمَا إِذَا تَوَجَّهَ بَعْدَ فَرَاغِ الْإِمَامِ، اور یہ اسی طرح ہو گیا جیسے کہ یہ امام کے فارغ ہونے کے بعد اس نماز کی طرف متوجہ ہوا ہو۔ وَلَهُ، اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے: أَنَّ السَّعْيَ إِلَى الْجُمُعَةِ مِنْ خَصَائِصِ الْجُمُعَةِ، کہ سعی الی الجمعہ جو ہے یہ جمعے کی خصوصیات میں سے ہے، فَيُنَزَّلُ مَنْزِلَتَهَا، تو اس سعی الی الجمعہ کو جمعے ہی کے درجے میں اتارا جائے گا، اس سعی الی الجمعہ کو جمعے کی نماز ہی کے درجے میں اتارا جائے گا فِي حَقِّ ارْتِفَاعِ الظُّهْرِ، ظہر کی نماز کے اٹھ جانے کے حق میں یعنی اس کے ختم ہو جانے کے حق میں۔ یہ سعی الی الجمعہ کیا ہے؟ جمعے کی نماز کے خصوصیات میں سے ہے، لہٰذا اس کو کس کے درجے میں اتارا جائے گا؟ جمعے کی نماز کے حکم میں اتارا جائے گا، وہی حکم اس کو دیا جائے گا کس معاملے کے اندر؟ ظہر کی نماز کے ختم ہو جانے میں اور اس کے اٹھ جانے کے سلسلے میں، احْتِيَاطًا، بطورِ احتیاط کے، کیونکہ یہ عبادت کا معاملہ ہے اور اس میں احتیاط والی صورت ہی بہتر ہے۔ تو بطورِ احتیاط کے اس سعی الی الجمعہ کو بھی جمعے کی نماز کے درجے میں اتارا جائے گا ظہر کی نماز کے حق کے، ظہر کی نماز کے اٹھ جانے کے حق میں۔ بِخِلَافِ مَا بَعْدَ الْفَرَاغِ مِنْهَا، بخلاف اس کے کہ جب کہ وہ امام جمعے کی نماز سے فارغ ہو چکا ہو، تو اس پر آپ نے کیا کہا تھا صاحبین نے؟ کہ سعی الی الجمعہ کرنے والا بھی اسی طرح ہے جیسے جمعے کی نماز ہو جانے کے بعد سعی کرنے والا، اور جیسے اس کی وجہ سے نماز باطل نہیں ہوتی تو اس کی بھی نماز باطل نہیں۔ تو اس کا بھی جواب دے رہے ہیں کہ اس پر آپ قیاس نہیں کر سکتے، یہ اس کی طرح نہیں ہے، اس لیے کیونکہ وہ جب چلا ابھی امام جماعت میں ہے تو یہ سعی کس کی طرف ہوئی؟ سعی الی الجمعہ، اور جب امام نماز پڑھا چکا ہے اس کے بعد ایک شخص چلتا ہے وہ تو سعی الی الجمعہ سرے سے ہے ہی نہیں کیونکہ جمعہ تو ہو چکا، لہٰذا اس کو اس کی طرح قرار دینا صحیح نہیں۔ تو کہتے ہیں: بِخِلَافِ مَا بَعْدَ الْفَرَاغِ مِنْهَا، بخلاف اس کے کہ جب امام اس نماز سے فارغ ہو چکا ہو، لِأَنَّهُ لَيْسَ بِسَعْيٍ إِلَيْهَا، اس لیے کیونکہ یہ تو سعی الی الجمعہ ہے ہی نہیں کیونکہ امام نماز پڑھا چکا ہے۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
169 approved lectures · 80 of 169