Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-165

Version 2 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 91
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
بَابُ الْحَجِّ عَنِ الْغَيْرِ ”الْأَصْلُ فِيْ هٰذَا الْبَابِ أَنَّ الْإِنْسَانَ لَهُ أَنْ يَّجْعَلَ ثَوَابَ عَمَلِهِ لِغَيْرِهِ صَلَاةً أَوْ صَوْمًا أَوْ صَدَقَةً أَوْ غَيْرَهَا عِنْدَ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ، لِمَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنَّهُ ضَحّٰى بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَحَدِهِمَا عَنْ نَفْسِهِ وَالْآخَرِ عَنْ أُمَّتِهِ مِمَّنْ أَقَرَّ بِوَحْدَانِيَّةِ اللّٰهِ تَعَالٰى وَشَهِدَ لَهُ بِالْبَلَاغِ“ ”بَابُ الْحَجِّ عَنِ الْغَيْرِ“ یہ باب ہے کسی دوسرے کی طرف سے حج کرنے کے بیان میں۔ یعنی کہ کیا کوئی شخص کسی دوسرے کی طرف سے حج کر سکتا ہے یا نہیں کر سکتا، اور کر سکتا ہے تو اس میں کیا مختلف صورتوں میں کیا حکم ہوگا، وہ بیان کریں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”بَابُ الْحَجِّ عَنِ الْغَيْرِ“ یہ باب ہے کسی دوسرے کی طرف سے حج کرنے کے بیان میں۔ ”الْأَصْلُ فِيْ هٰذَا الْبَابِ“ اصل جو ہے اس باب کے اندر وہ یہ ہے ”أَنَّ الْإِنْسَانَ لَهُ أَنْ يَّجْعَلَ ثَوَابَ عَمَلِهِ لِغَيْرِهِ“ کہ انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے عمل کا ثواب کر دے لِغَيْرِهِ کسی دوسرے کے لیے۔ اپنے عمل کا ثواب کسی دوسرے کے لیے کر دے یعنی اس کو بخش دے، ”صَلَاةً أَوْ صَوْمًا أَوْ صَدَقَةً أَوْ غَيْرَهَا“ چاہے اس کا وہ عمل جو ہے وہ نماز ہو یا روزہ ہو یا صدقہ ہو یا ان کے علاوہ ہو۔ تو یہ اس کے لیے جائز ہے ”عِنْدَ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ“ اہل سنت والجماعت کے نزدیک۔ دلیل آگے ذکر کر رہے ہیں: ”لِمَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ بوجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، ”أَنَّهُ ضَحّٰى بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ“ كَبْشٌ میں پہلے بیان کر چکا ہوں یہ مینڈھا جو ہے بڑے سینگوں والا اس کو كَبْشٌ کہتے ہیں۔ ضَحّٰى کے معنی قربانی کرنا۔ أَمْلَحَيْنِ، أَمْلَحُ کہتے ہیں جس میں سفیدی اور سیاہی ہو بھئی۔ وہ مینڈھا جس میں سفید اور سیاہ رنگ کا مینڈھا۔ کہتے ہیں ”أَنَّهُ ضَحّٰى بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ“ کہ آپ نے قربانی فرمائی دو سیاہ اور سفید رنگ کے مینڈھوں کی۔ ”أَحَدِهِمَا عَنْ نَفْسِهِ“ ایک تو اپنی طرف سے حضور علیہ السلام نے اس کی قربانی کی، ”وَالْآخَرِ عَنْ أُمَّتِهِ“ اور دوسرے کی قربانی اپنی امت کی طرف سے کی، ”مِمَّنْ أَقَرَّ بِوَحْدَانِيَّةِ اللّٰهِ تَعَالٰى وَشَهِدَ لَهُ بِالْبَلَاغِ“ اور امت حضور علیہ السلام کی آپ جانتے ہیں دو قسم پر ہے۔ کچھ وہ لوگ ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے ہیں، توحید پر ہیں وہ لوگ، اللہ کی وحدانیت کا اقرار کرتے ہیں، حضور علیہ السلام کی رسالت کا اقرار کرتے ہیں اور دوسرے کچھ لوگ جیسے آپ دیکھتے ہیں دنیا میں یہ کفار ہیں، یہ بھی اگرچہ حضور علیہ السلام کی امت ہیں لیکن یہ حضور علیہ السلام پر ایمان نہیں لائے۔ تو حضور علیہ السلام نے دوسرا مینڈھا جو ہے وہ اپنی امت کی طرف سے کیا اور امت میں سے بھی کن کی طرف سے؟ جو اہل ایمان ہیں بھئی اہل ایمان۔ تو یہ معنی ہے ”وَالْآخَرِ عَنْ أُمَّتِهِ“ اور دوسرا اپنی امت کی طرف سے ”مِمَّنْ أَقَرَّ بِوَحْدَانِيَّةِ اللّٰهِ تَعَالٰى“ یعنی وہ جو کہ اقرار کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا جنہوں نے اقرار کیا ہے ”وَشَهِدَ لَهُ بِالْبَلَاغِ“ اور گواہی دی ہے حضور علیہ السلام کے لیے پہنچانے کی، کہ حضور علیہ السلام نے دعوت اور پیغام پہنچا دیا جس کے ساتھ ان کو بھیجا گیا تھا۔ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”جَعَلَ تَضْحِيَةَ إِحْدَى الشَّاتَيْنِ لِأُمَّتِهِ“ کہ حضور علیہ السلام نے کر دیا دو مینڈھوں میں سے ایک کی قربانی کو لِأُمَّتِهِ کس کے لیے؟ اپنی امت کے لیے۔ دیکھیے، قربانی کرنے والے حضور علیہ السلام ہیں لیکن کس کے لیے کر رہے ہیں؟ اپنی امت کے لیے، یعنی ان کو ثواب پہنچا رہے ہیں۔ معلوم ہوا کہ اپنے عمل کا ثواب دوسرے کو پہنچانا جائز ہے بھئی۔ ”وَالْعِبَادَاتُ أَنْوَاعٌ: مَالِيَّةٌ مَحْضَةٌ كَالزَّكَاةِ، وَبَدَنِيَّةٌ مَحْضَةٌ كَالصَّلَاةِ، وَمُرَكَّبَةٌ مِنْهَا كَالْحَجِّ، وَالنِّيَابَةُ تَجْرِيْ فِي النَّوْعِ الْأَوَّلِ فِيْ حَالَتَيِ الِاخْتِيَارِ وَالضَّرُوْرَةِ لِحُصُوْلِ الْمَقْصُوْدِ بِفِعْلِ النَّائِبِ، وَلَا تَجْرِيْ فِي النَّوْعِ الثَّانِيْ بِحَالٍ لِأَنَّ الْمَقْصُوْدَ وَهُوَ إِتْعَابُ النَّفْسِ لَا يَحْصُلُ بِهِ، وَتَجْرِيْ فِي النَّوْعِ الثَّالِثِ عِنْدَ الْعَجْزِ لِلْمَعْنَى الثَّانِيْ وَهُوَ الْمَشَقَّةُ بِتَنْقِيْصِ الْمَالِ، وَلَا تَجْرِيْ عِنْدَ الْقُدْرَةِ لِعَدَمِ إِتْعَابِ النَّفْسِ، وَالشَّرْطُ الْعَجْزُ الدَّائِمُ إِلٰى وَقْتِ الْمَوْتِ لِأَنَّ الْحَجَّ فَرْضُ الْعُمْرِ، وَفِي الْحَجِّ النَّفْلِ تَجُوْزُ الْإِنَابَةُ حَالَةَ الْقُدْرَةِ لِأَنَّ بَابَ النَّفْلِ أَوْسَعُ“ ”وَالْعِبَادَاتُ أَنْوَاعٌ“ اور عبادات جو ہیں وہ کئی قسم پر ہیں۔ ”مَالِيَّةٌ مَحْضَةٌ“ کچھ محض مالی عبادتیں ہیں، صرف مالی عبادتیں ہیں ”كَالزَّكَاةِ“ جیسے کہ زکوٰۃ ہے۔ ”وَبَدَنِيَّةٌ مَحْضَةٌ“ اور کچھ صرف بدنی عبادتیں ہیں ”كَالصَّلَاةِ“ جیسے کہ نماز ہے۔ ”وَمُرَكَّبَةٌ مِنْهَا“ اور کچھ عبادتیں ان دونوں سے مرکب ہیں، یعنی مالی بھی ہیں اور بدنی بھی ہیں ”كَالْحَجِّ“ جیسے کہ حج ہے۔ ”وَالنِّيَابَةُ تَجْرِيْ فِي النَّوْعِ الْأَوَّلِ فِيْ حَالَتَيِ الِاخْتِيَارِ وَالضَّرُوْرَةِ“ اور نیابت جو ہے یعنی نائب ہونا، یہ جاری ہوتا ہے پہلی قسم میں اختیار اور ضرورت دونوں حالتوں میں۔ اختیار اور ضرورت دونوں حالتوں میں نیابت جاری ہوتی ہے یعنی اس میں ایک شخص دوسرے کا نائب ہو سکتا ہے۔ کون سی قسم پہلی؟ جو صرف مالی عبادتیں ہیں جیسے زکوٰۃ بھئی۔ اس میں آپ خود زکوٰۃ دینا چاہیں تو بھی صحیح ہے، آپ کسی کو اپنا نائب بنا دیتے ہیں اور اس کو اپنی زکوٰۃ کی رقم اس کے حوالے کر کے کہتے ہیں یہ فقراء اور مساکین کو دے دینا، تو وہ بھی آپ کا نائب ہو کر یہ رقم فقراء اور مساکین کو دے سکتا ہے۔ تو دیکھیے، معلوم ہوا کہ یہ جو پہلی قسم ہے یعنی مالی عبادت، ان کے اندر نائب ہونا یعنی نیابت جو ہے وہ جاری ہوتی ہے اختیار کی حالت میں بھی اور ضرورت کی حالت میں بھی۔ حالتِ اختیار میں یعنی آپ تندرست ہیں آپ بھی زکوٰۃ دے سکتے تھے فقراء کو لیکن آپ نے کیا کیا، کسی دوسرے کو اپنا نائب بنا دیا۔ تو ایک حالت اختیار کی ہوئی یہ جو تندرست اور صحیح ہو انسان اور اس کو اختیار، اور دوسری حالت ضرورت والی ہوئی مثلاً آپ بیمار وغیرہ ہیں یا کوئی اور رکاوٹ آ گئی جس کی وجہ سے آپ تو نہیں پہنچا سکتے فقراء تک تو آپ کیا کرتے ہیں کسی دوسرے کو اپنا نائب بناتے ہیں۔ تو چاہے حالتِ اختیار ہو چاہے حالتِ ضرورت ہو، دونوں کے اندر مالی عبادتوں کے اندر نیابت جاری ہو سکتی ہے۔ ”لِحُصُوْلِ الْمَقْصُوْدِ بِفِعْلِ النَّائِبِ“ اس لیے کیونکہ مقصود حاصل ہو جاتا ہے نائب کے فعل سے بھی۔ نائب جو ہے وہ بھی آپ کی طرف سے جب زکوٰۃ دے گا تو مقصود حاصل ہو گیا یا نہیں؟ زکوٰۃ فقراء تک پہنچ گئی یا نہیں پہنچی؟ پہنچ گئی۔ تو یہاں چاہے آپ دیں تب بھی زکوٰۃ فقراء تک پہنچ جائے گی، آپ کی طرف سے کوئی دوسرا بھی دے تو بھی زکوٰۃ فقراء تک پہنچ جائے گی، تو اس لیے اس میں نیابت جاری ہو سکتی ہے کہ مقصود حاصل ہو جاتا ہے بِفِعْلِ النَّائِبِ نائب کے فعل سے۔ ”وَلَا تَجْرِيْ فِي النَّوْعِ الثَّانِيْ بِحَالٍ“ اور دوسری قسم جو ہے اس میں کسی حال میں نیابت جاری نہیں ہوتی۔ دوسری قسم کون سی تھی؟ جو صرف بدنی عبادتیں ہیں جیسے نماز ہے۔ نماز کے اندر اپنی نماز آپ کو خود ہی ادا کرنا پڑے گی، چاہے حالتِ اختیار ہو چاہے حالتِ ضرورت ہو یا اضطرار ہو، آپ کو اپنی نماز خود ہی پڑھنا پڑے گی، کوئی اور آپ کی طرف سے یہ نماز نہیں پڑھ سکتا۔ آپ کو خود پڑھنا پڑے گی یا تو رکوع اور سجدے کے ساتھ پڑھیں، اگر وہ مشکل ہے تو پھر بیٹھ کر پڑھیں، اگر بیٹھ کر پڑھنا مشکل ہے تو لیٹ کر اشارے سے پڑھیں لیکن پڑھنا آپ کو خود ہی پڑے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ معلوم ہوا نماز کے اندر یعنی بدنی عبادتوں کے اندر نیابت جاری نہیں ہوتی۔ یہ معنی ہے ”وَلَا تَجْرِيْ فِي النَّوْعِ الثَّانِيْ بِحَالٍ“ اور نیابت جاری نہیں ہوتی دوسری قسم کے اندر کسی بھی حال میں، ”لِأَنَّ الْمَقْصُوْدَ وَهُوَ إِتْعَابُ النَّفْسِ لَا يَحْصُلُ بِهِ“ اس لیے کیونکہ جو مقصود ہے، بدنی عبادتوں کے ذریعے مقصود کیا ہوتا ہے؟ اپنے نفس کو تھکانا، اپنے نفس کو مشقت میں ڈالنا، تو یہ اگر کوئی اور آپ کی طرف سے ادا کرے گا تو آپ کا نفس تو مشقت میں نہ پڑا، آپ کا نفس تو اس کو تو کوئی تھکن نہ ہوئی، اور مقصد ہی کیا تھا؟ اپنے نفس کو مشقت میں ڈالنا اور اس کو تھکانا، تو جب مقصد حاصل نہیں ہوا تو کوئی اور آپ کی طرف سے کر بھی نہیں سکتا۔ یہ معنی ہے ”لِأَنَّ الْمَقْصُوْدَ“ اس لیے کیونکہ مقصود جو ہے اس کے ذریعے ”وَهُوَ إِتْعَابُ النَّفْسِ“ اور وہ نفس کو تھکا دینا ہے ”لَا يَحْصُلُ بِهِ“ وہ اس سے حاصل نہیں ہوتا یعنی کوئی دوسرا ادا کرے گا نائب ہو کر تو اس سے یہ ادا نہیں ہوتا۔ ”وَتَجْرِيْ فِي النَّوْعِ الثَّالِثِ“ تیسری قسم تھی حج بھئی، جو مرکب تھی مالی عبادت سے بھی اور بدنی عبادت سے بھی۔ تو کہتے ہیں اس میں، اس میں حج میں مال بھی خرچ ہوتا ہے تو بایں اعتبار دیکھا جائے تو یہ مالی عبادت ہے، اور حج کے اندر جا کر آپ کو افعال بھی کرنے پڑتے ہیں طواف ہے، سعی ہے، رمی ہے وغیرہ، یہ افعال بھی کرنا پڑتے ہیں تو معلوم ہوا یہ بدنی بھی ہے۔ تو بعض اعتبارات سے حج جو ہے وہ مالی عبادت ہے اور بعض اعتبارات سے بدنی یعنی دونوں کا مجموعہ ہے، تو اس میں اب دونوں جہتوں کی رعایت رکھی گئی، دونوں جانب کی رعایت رکھی گئی۔ بدنی عبادت ہے حج اور بدنی عبادت میں تو نیابت جاری نہیں ہوتی لہٰذا حالتِ اختیار میں حج کے اندر نیابت جاری نہیں ہو سکتی۔ ایک شخص تندرست ہے، صحیح ہے، وہ خود جا سکتا ہے تو کسی دوسرے کو اپنی جگہ حج پر نہیں بھیج سکتا، اس سے اس کا وہ فرض حج ادا نہیں ہو سکتا بھئی، سمجھ میں آیا؟ اور حج کے اندر دوسرا پہلو جو ہے یہ ہے کہ یہ مالی عبادت بھی ہے کیونکہ اس کے اندر خرچ ہوتا ہے، تو اس اعتبار سے مالی عبادتوں کی رعایت رکھی گئی اور مالی عبادتوں میں تو نائب بنانا جائز ہوتا ہے، لہٰذا حج کے اندر بھی عذر کی صورت میں یعنی جب خود عاجز آ جائے، نہ کر سکے، تو کیا کر سکتا ہے؟ کسی دوسرے کو نائب بنا سکتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو اس میں معلوم ہوا حالتِ اختیار میں حج میں نائب نہیں بنا سکتا اور ضرورت میں نائب بنا سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَتَجْرِيْ فِي النَّوْعِ الثَّالِثِ عِنْدَ الْعَجْزِ“ اور نیابت جاری ہوتی ہے تیسری قسم میں یعنی حج میں عِنْدَ الْعَجْزِ عاجزی کے وقت جب انسان خود کرنے سے عاجز آ جائے ”لِلْمَعْنَى الثَّانِيْ“ دوسرے معنی کی وجہ سے اور وہ کیا ہے؟ کہتے ہیں ”وَهُوَ الْمَشَقَّةُ بِتَنْقِيْصِ الْمَالِ“ اور وہ مشقت کا ہونا ہے مال کے کم کرنے سے بھئی۔ مال جب کم ہوگا، مال کا خرچ کرنا یہ بھی کیا ہے؟ مشقت ہے، انسان پر بڑا بوجھ ہے، مشکل کام ہے اس کے لیے کہ کیا کرے، اپنے مال کو خرچ کرے۔ تو بایں اعتبار اس میں عاجزی کے وقت جب خود نہیں کر سکتا تو پھر کیا کر سکتا ہے؟ اپنا کسی کو نائب بنا سکتا ہے اور نائب کو بنا کر بھیجے گا تو اس کو خرچہ دے گا یا نہیں دے گا؟ خرچہ وغیرہ دے گا تو دیکھو اس کی وجہ سے اس کا نفس بھی، بھیجنے والے کا نفس بھی مشقت میں پڑے گا تو مقصود حاصل ہو رہا ہے اس لیے جائز ہے۔ ”وَلَا تَجْرِيْ عِنْدَ الْقُدْرَةِ“ اور نیابت جاری نہیں ہوتی قدرت کے وقت جبکہ یہ قادر ہو، خود بھی جا سکتا ہو، پھر نائب نہیں بنا سکتا ”لِعَدَمِ إِتْعَابِ النَّفْسِ“ اس لیے کیونکہ اس میں نفس کا تھکانا نہیں ہے۔ جب خود تندرست ہے خود کر سکتا ہے تو پھر نائب کو نہیں بھیج سکتا کیونکہ نائب اگر کرے گا، مقصد تو کیا تھا؟ اپنے نفس کو تھکانا، وہ تو حاصل نہیں ہوگا۔ ”وَالشَّرْطُ الْعَجْزُ الدَّائِمُ إِلٰى وَقْتِ الْمَوْتِ“ اور شرط جو ہے، نیابت کی شرط جو ہے وہ عاجزی کا دائمی رہنا ہے إِلٰى وَقْتِ الْمَوْتِ موت تک۔ ایک شخص شدید بیمار ہو گیا، اس نے اپنی طرف سے کسی دوسرے کو نائب بنا کر حج کے لیے بھیج دیا۔ اس نے اس کی طرف سے حج ادا کر دیا، ہو گیا اس کی طرف سے حج۔ لیکن اگر یہ شخص تندرست ہو گیا پھر بعد میں، اس کا تو خیال تھا میں بچوں گا ہی نہیں لیکن اگر یہ تندرست ہو گیا تو پھر دوبارہ اس کو کیا کرنا پڑے گا؟ اپنا وہ فرض حج ادا کرنا پڑے گا کیونکہ نیابت تبھی صحیح تھی اس کے لیے شرط تھی کہ موت کے وقت تک یہ عاجزی رہنی چاہیے کہ یہ حج کرنے سے عاجز ہے، اور اس کی تو عاجزی کیا ہو گئی؟ ختم ہو گئی، یہ خود بھی کرنے پر قادر ہوا لہٰذا اب کرنا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں ”وَالشَّرْطُ الْعَجْزُ الدَّائِمُ إِلٰى وَقْتِ الْمَوْتِ“ اور شرط جو ہے نیابت کی وہ عاجزی کا دائمی رہنا ہے موت کے وقت تک ”لِأَنَّ الْحَجَّ فَرْضُ الْعُمْرِ“ اس لیے کیونکہ حج جو ہے یہ عمر بھر کا فرض ہے۔ ”وَفِي الْحَجِّ النَّفْلِ تَجُوْزُ الْإِنَابَةُ حَالَةَ الْقُدْرَةِ“ اور نفل حج میں انابت جائز ہے یعنی نائب بنانا جائز ہے حَالَةَ الْقُدْرَةِ قدرت کی حالت میں بھی۔ بھئی آپ نفلی حج کروانا چاہتے ہیں، فرض حج اپنا کر چکے ہیں، تو پھر حالتِ اختیار میں بھی کیا کر سکتے ہیں؟ کسی کو نائب بنا کر بھیج سکتے ہیں کیونکہ نفل کے اندر وسعت ہوتی ہے جیسے آپ پڑھ چکے ہیں کہ قدرت کے باوجود اگر کوئی شخص نفل بیٹھ کر پڑھنا چاہے تو پڑھ سکتا ہے، تو نفل میں وسعت ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَفِي الْحَجِّ النَّفْلِ تَجُوْزُ الْإِنَابَةُ حَالَةَ الْقُدْرَةِ“ اور نفل حج کے اندر نائب بنانا جائز ہے قدرت کی حالت میں ”لِأَنَّ بَابَ النَّفْلِ أَوْسَعُ“ اس لیے کیونکہ نفل کا باب زیادہ وسیع ہے۔ ”ثُمَّ ظَاهِرُ الْمَذْهَبِ أَنَّ الْحَجَّ يَقَعُ عَنِ الْمَحْجُوْجِ عَنْهُ وَبِذٰلِكَ تَشْهَدُ الْأَخْبَارُ الْوَارِدَةُ فِي الْبَابِ كَحَدِيْثِ الْخَثْعَمِيَّةِ فَإِنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ فِيْهِ: حُجِّيْ عَنْ أَبِيْكِ وَاعْتَمِرِيْ، وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللّٰهُ أَنَّ الْحَجَّ يَقَعُ عَنِ الْحَاجِّ وَلِلْآمِرِ ثَوَابُ النَّفَقَةِ لِأَنَّهُ عِبَادَةٌ بَدَنِيَّةٌ وَعِنْدَ الْعَجْزِ أُقِيْمَ الْإِنْفَاقُ مَقَامَهُ كَالْفِدْيَةِ فِيْ بَابِ الصَّوْمِ“ ”ثُمَّ ظَاهِرُ الْمَذْهَبِ“ یہاں سے آگے یہ بتلا رہے ہیں کہ ایک شخص جب وہ بیمار ہو گیا، خود حج نہیں کر سکتا، اس نے اپنا نائب کسی دوسرے کو بنا کر بھیج دیا کہ میری طرف سے میرا جو فرض حج ہے وہ کر کے آ جاؤ، وہ گیا اور اس نے حج ادا کیا۔ تو یہ حج کس کی طرف سے ادا ہوگا؟ کس کی طرف سے ادا ہوگا؟ تو ظاہرِ مذہب یہی ہے ہمارے نزدیک کہ یہ حج جو بھیجنے والا ہے اس کی طرف سے ادا ہوگا، جس نے خرچہ دے کر اس کو بھیجا ہے۔ یوں سمجھا جائے گا یہ اس نے حج کیا ہے، یوں سمجھا جائے گا اس نے حج کیا ہے۔ جبکہ آگے بتلائیں گے امام محمد رحمہ اللہ جو ہیں وہ ان سے روایت ہے کہ یہ حج، حج جو کر رہا ہے اسی کی طرف سے ہوگا، بھیجنے والے کی طرف سے نہیں بلکہ وہ جو حج کرنے والا ہے جس کو خرچہ دیا گیا اسی کی طرف سے حج ہوگا، البتہ ثواب جو ہے وہ بھیجنے والے کو ملے گا۔ سمجھ میں آیا؟ تو ہمارے ظاہرِ مذہب کے مطابق ہوگا ہی کس کی طرف سے؟ بھیجنے والے کی طرف سے، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ سے جو روایت ہے اس کے مطابق بھیجنے والے کی طرف سے نہیں ہوگا، ہوگا حج کرنے والے ہی کی طرف سے جو گیا ہوا ہے، حج تو اسی کی طرف سے ہے البتہ ثواب کس کو پہنچ جائے گا؟ بھیجنے والے کو ثواب صرف ملے گا، اس کی طرف سے حج نہیں ہوگا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ کہتے ہیں ”ثُمَّ ظَاهِرُ الْمَذْهَبِ“ پھر ظاہرِ مذہب یہ ہے ”أَنَّ الْحَجَّ يَقَعُ عَنِ الْمَحْجُوْجِ عَنْهُ“ کہ حج جو ہے یہ محجوج عنہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ محجوج عنہ جس کی طرف سے حج کیا گیا، کہ یہ حج جو ہے یہ محجوج عنہ یعنی وہ شخص جس کی طرف سے حج کیا گیا اس کی طرف سے واقع ہوتا ہے ”وَبِذٰلِكَ تَشْهَدُ الْأَخْبَارُ الْوَارِدَةُ فِي الْبَابِ“ اور اسی کی گواہی دیتی ہیں وہ احادیث بھی جو اس باب میں آئی ہیں ”كَحَدِيْثِ الْخَثْعَمِيَّةِ“ جیسے کہ خثعمی عورت کی ایک حدیث ہے ”فَإِنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ فِيْهِ: حُجِّيْ عَنْ أَبِيْكِ وَاعْتَمِرِيْ“ یہ قبیلہ خثعم کی عورت تھیں، وہ حضور علیہ السلام کے پاس آئیں اور کہنے لگیں کہ یا رسول اللہ، میرے والد صاحب جو ہیں ان پر حج فرض ہے لیکن وہ بہت بوڑھے ہیں حتیٰ کہ سواری پر بھی نہیں بیٹھ سکتے تو کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ہاں تم ان کی طرف سے حج کر سکتی ہو بھئی۔ ”فَإِنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ فِيْهِ“ اس حدیث میں حضور علیہ السلام نے فرمایا ”حُجِّيْ عَنْ أَبِيْكِ وَاعْتَمِرِيْ“ کہ تو حج کر اپنے والد کی طرف سے اور عمرہ کر۔ ”وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اب امام محمد رحمہ اللہ کا قول آیا، اور امام محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے ”أَنَّ الْحَجَّ يَقَعُ عَنِ الْحَاجِّ“ کہ حج جو ہے واقع ہوگا حاجی کی طرف سے۔ اوپر کیا آیا تھا؟ حج ہوگا محجوج عنہ کی طرف سے، جس کی طرف سے حج کر رہا ہے، اور یہاں پر کیا آیا؟ یہ حج ہوگا حاجی کی طرف سے یعنی جو حج کرنے والا ہے ”وَلِلْآمِرِ ثَوَابُ النَّفَقَةِ“ اور حکم دینے والے کو نفقے کا یعنی خرچے کا ثواب ملے گا کہ اس نے خرچہ کیا ہے۔ وجہ اس کی، دلیل کیا؟ امام محمد رحمہ اللہ دلیل دیتے ہیں، وہ فرماتے ہیں ”لِأَنَّهُ عِبَادَةٌ بَدَنِيَّةٌ“ اس لیے کیونکہ یہ حج کیا ہے؟ بدنی عبادت ہے ”وَعِنْدَ الْعَجْزِ أُقِيْمَ الْإِنْفَاقُ مَقَامَهُ“ اور عاجزی کے وقت خرچے کو اس کا قائم مقام کر دیا گیا۔ عاجزی کے وقت کیا کر دیا گیا؟ خرچے کو اس کا قائم مقام کر دیا گیا ”كَالْفِدْيَةِ فِيْ بَابِ الصَّوْمِ“ جیسے کہ فدیہ ہے روزے کے باب میں۔ بھئی ایک شخص بہت بوڑھا ہو جائے، شریعت نے اس کو کیا حکم دیا؟ کہ فدیہ دے دے ہر روزے کے بدلے۔ تو فدیہ دینے سے اس کو ثواب مل جائے گا روزے کا۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فدیہ دینے سے اس کو روزے کا ثواب مل جائے گا، یہ نہیں کہ فرض روزہ ہی اس کی طرف سے باقاعدہ ادا ہو گیا، نہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ فرض روزہ نہیں ادا ہوا، ہاں روزے کا اس کو ثواب۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح، یہ حج جو ہے وہ حج تو کرنے والے ہی کی طرف سے ہے البتہ اس بھیجنے والے نے چونکہ خرچ کیا ہے تو اس خرچ کی وجہ سے اس کو ثواب مل جائے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ ”قَالَ: وَمَنْ أَمَرَهُ رَجُلَانِ أَنْ يَّحُجَّ عَنْ كُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا حَجَّةً فَأَهَلَّ بِحَجَّةٍ عَنْهُمَا فَهِيَ عَنِ الْحَاجِّ وَيَضْمَنُ النَّفَقَةَ لِأَنَّ الْحَجَّ يَقَعُ عَنِ الْآمِرِ حَتّٰى لَا يَخْرُجَ الْحَاجُّ عَنْ حَجَّةِ الْإِسْلَامِ، وَكُلُّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا أَمَرَهُ أَنْ يُّخْلِصَ الْحَجَّ لَهُ مِنْ غَيْرِ اشْتِرَاكٍ، وَلَا يُمْكِنُ إِيْقَاعُهُ عَنْ أَحَدِهِمَا لِعَدَمِ الْأَوْلَوِيَّةِ فَيَقَعُ عَنِ الْمَأْمُوْرِ، وَلَا يُمْكِنُهُ أَنْ يَّجْعَلَهُ عَنْ أَحَدِهِمَا بَعْدَ ذٰلِكَ بِخِلَافِ مَا إِذَا حَجَّ عَنْ أَبَوَيْهِ“ صورتِ مسئلہ یہ کہ دو آدمیوں نے ایک شخص کو حکم دیا کہ ان میں سے ہر ایک کی طرف سے حج کرے، الگ الگ کہا بھئی۔ مثلاً بھئی ایک شخص تھا اس کو زید نے کہا کہ یہ لو خرچہ اور جاؤ جا کر میری طرف سے میرا فرض حج ادا کر دو۔ زید نے اس کو خرچہ وغیرہ دے دیا۔ پھر بعد میں بکر کی اس سے ملاقات ہوئی، بکر کو یہ علم نہیں ہے، بکر نے بھی اس کو خرچہ دے دیا کہ جاؤ بھئی میری طرف سے اس سال تم میرا فرض حج ادا کر دو۔ دونوں عاجز ہیں جانے سے بھئی، زید اور بکر خود جانے سے عاجز ہیں، بوڑھے ہیں بہت یا بیمار ہیں تو دونوں نے دیکھو اپنا اپنا خرچ دے دیا کہ جا کر ہماری طرف سے یہ حج ادا کر دو۔ تو اس نے کیا کیا؟ اس نے جا کر حج کر دیا بھئی دونوں کی طرف سے۔ نیت کیا کی؟ زید کی بھی نیت کی اور عمرو کی بھی نیت کی۔ تو یاد رکھیے آگے آپ کو بتلائیں گے کہ اس سے زید کا فرض حج بھی ادا نہیں ہوا اور بکر کا فرض حج بھی ادا نہیں ہوا، اور اس آدمی پر اگر خود حج فرض تھا ابھی اس نے خود نہیں کیا تھا کیونکہ اس کے پاس تو پیسے نہیں تھے کہ خود کرتا، تو اس کا اپنا فرض حج بھی اس سے ادا نہیں ہوگا۔ اس لیے کیونکہ یہ حج بعض اعتبارات سے بھیجنے والوں کی طرف سے ہے اور بعض اعتبارات سے اس کی اپنی طرف سے ہے۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ یہ جو اس نے حج کیا، یہ من وجہ زید اور عمرو کی طرف سے ہے اور من وجہ اس کی اپنی طرف سے ہے، لہٰذا کسی کا بھی فرض ادا نہیں ہوگا کیونکہ فرض تو اس حج سے ادا ہوتا ہے جو من کل الوجہ اس شخص کی طرف سے ہو، ہر اعتبار سے۔ اور یہ حج ہر اعتبار سے کیا زید کی طرف سے ہے؟ نہیں، لہٰذا زید کا بھی نہیں۔ کیا یہ حج ہر اعتبار سے بکر کی طرف سے ہے؟ لہٰذا اس کا بھی نہیں ادا ہوگا، اور کیا یہ حج ہر اعتبار سے یہ جانے والے کے خود اپنی طرف سے ہے؟ اس کے اپنی طرف سے بھی نہیں، لہٰذا کسی کا بھی فرض حج ادا نہیں ہوگا کیونکہ فرض حج کب ادا ہوتا ہے؟ جب وہ من کل الوجہ ہر اعتبار سے اس شخص کی طرف سے ہو یعنی چاہے بھیجنے والے کی طرف سے یا جو جا رہا ہے اس کے اپنی طرف سے ہو بھئی۔ حالانکہ یہاں پر تو وہ ہر اعتبار سے کسی کی جانب سے بھی نہیں ہے بھئی، بعض اعتبارات سے زید کی طرف سے ہے، بعض اعتبارات سے عمرو کی طرف سے ہے اور بعض اعتبارات سے اس کے اپنی طرف سے ہے بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا۔ اور یہ بھیجنے والوں کی طرف سے کیوں نہیں ہوگا؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ اس نے ان کے حکم کی مخالفت کی ہے۔ زید نے اس کو پیسے اس لیے دیے تھے کہ وہ حج صرف کس کی طرف سے کرے؟ زید کی طرف سے۔ بکر نے تو پیسے اس کو صرف اس لیے دیے تھے کہ میری طرف سے کرو، تو اس نے دونوں کی مخالفت کی، جب دونوں کی طرف سے حج کر رہا ہے تو دونوں کے حکم کی مخالفت کی۔ لہٰذا ان دو کی طرف سے نہیں ہو سکتا۔ یہ بھی نہیں کہہ سکتے ہم کہ صرف زید کے لیے قرار دے دیں یہ حج یا صرف بکر کے لیے، کیونکہ اس صورت میں تو ترجیح بلا مرجح لازم آئے گا۔ زید کو کیوں ترجیح دیں ہم یا بکر کو ترجیح دیتے ہیں تو کیوں ترجیح دیں؟ کسی ایک کو بھی ترجیح نہیں دی جا سکتی۔ لہٰذا ان کی طرف سے بھی نہ ہوا پورے طور پر اور اس کے اپنی طرف سے بھی پورے طور پر نہ ہوا، تو کسی کی طرف سے فرض حج ادا نہیں۔ تو کہتے ہیں ”وَمَنْ أَمَرَهُ رَجُلَانِ“ اور وہ شخص کہ حکم دیا اس کو دو آدمیوں نے ”أَنْ يَّحُجَّ عَنْ كُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا حَجَّةً“ کہ وہ حج کرے ان دونوں میں سے ہر ایک کی طرف سے ”فَأَهَلَّ بِحَجَّةٍ عَنْهُمَا“ تو اس نے تلبیہ کہا حج کا ان دونوں کی طرف سے یعنی دونوں کے لیے وہ احرام باندھا ”فَهِيَ عَنِ الْحَاجِّ“ تو یہ حج کس کی طرف سے ہوگا؟ حاجی، حج کرنے والے کی طرف سے، کس کی طرف سے؟ ہاں، آگے پوری تفصیل آ جائے گی۔ یہ حج کرنے والے کی طرف سے ہوگا یعنی بعض اعتبارات سے، اور جب اس کی طرف سے ہے اور خرچہ تو انہوں نے دیا تھا لہٰذا خرچے کا ضامن ہوگا۔ ان کو ان کا خرچہ دینا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں ”فَهِيَ عَنِ الْحَاجِّ“ یہ حج جو ہے حاجی حج کرنے والے کی طرف سے ہے یعنی جس کو پیسے دیے گئے تھے ”وَيَضْمَنُ النَّفَقَةَ“ اور یہ اس نفقے کا ضامن ہوگا۔ ”لِأَنَّ الْحَجَّ يَقَعُ عَنِ الْآمِرِ“ اس لیے کیونکہ حج جو ہے یہ کس کی طرف سے ہوگا؟ آمر، بھیجنے والے کی طرف سے۔ اوپر کیا آیا تھا؟ ”عَنِ الْحَاجِّ“ کس کی طرف سے؟ حج کرنے والے کی طرف سے، اور میں نے بتلایا کیا قید بڑھا دو؟ بعض اعتبارات سے، اور نیچے پھر آیا ”لِأَنَّ الْحَجَّ يَقَعُ عَنِ الْآمِرِ“ اس لیے کیونکہ حج کس کی طرف سے ہوا؟ آمر یعنی جو حکم دینے والے ہیں، جو بھیجنے والے ہیں، یہاں بھی قید بڑھا دو کون سی؟ بعض اعتبارات سے۔ ”حَتّٰى لَا يَخْرُجَ الْحَاجُّ عَنْ حَجَّةِ الْإِسْلَامِ“ یہاں تک کہ یہ حاجی یہ نکلے گا نہیں کس سے؟ اپنے حجِ اسلام سے یعنی فرض حج سے اس حج کی وجہ سے نہیں نکلے گا یعنی وہ اس سے ادا نہیں ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ معلوم ہوا یہ حج حاجی کی طرف سے نہیں ہے پورے طور پر، اگر وہ کرنے والے کی طرف سے پورے طور پر ہوتا تو اس کا فرض حج کیا ہونا چاہیے تھا؟ ادا ہو جانا چاہیے تھا لیکن وہ ادا نہیں ہوا، معلوم ہوا پورے طور پر اس کی طرف سے نہیں بلکہ بعض اعتبارات سے کس کی طرف سے ہے؟ بھیجنے والوں کی طرف سے بھی ہے۔ یہ معنی ہے ”لِأَنَّ الْحَجَّ يَقَعُ عَنِ الْآمِرِ حَتّٰى لَا يَخْرُجَ الْحَاجُّ عَنْ حَجَّةِ الْإِسْلَامِ“ اس لیے کیونکہ یہ حج جو ہے واقع ہوا ہے بھیجنے والوں کی طرف سے یہاں تک کہ یہ حج کرنے والا نکلے گا نہیں اپنے فرض حج سے۔ ”وَكُلُّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا أَمَرَهُ“ دیکھو اب وہ بتائیں گے کہ اس نے دونوں کی مخالفت کی ہے، ”وَكُلُّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا أَمَرَهُ أَنْ يُّخْلِصَ الْحَجَّ لَهُ“ اور ان دونوں میں سے ہر ایک نے حکم دیا تھا اس کو کہ وہ خالص کرے حج کو اس کے لیے ”مِنْ غَيْرِ اشْتِرَاكٍ“ بغیر کسی اشتراک کے۔ ان دونوں نے تو کیا کہا تھا؟ زید نے تو کہا تھا خالص حج میرے لیے کرنا کسی اور کے لیے نہیں، اس نے پیسے پورے دیے تھے اور بکر نے پورے پیسے دیے تھے کہ خالص حج میرے لیے کرنا اس میں کسی اور کو شریک نہیں کرنا۔ ”وَكُلُّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا أَمَرَهُ أَنْ يُّخْلِصَ الْحَجَّ لَهُ مِنْ غَيْرِ اشْتِرَاكٍ“ اور ان میں سے ہر ایک نے اس کو حکم دیا تھا کہ خالص کرے حج کو اس کے لیے بغیر کسی شرکت کے، ”وَلَا يُمْكِنُ إِيْقَاعُهُ عَنْ أَحَدِهِمَا لِعَدَمِ الْأَوْلَوِيَّةِ“ اور یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ اس حج کو واقع کر دیا جائے ان دونوں میں سے کسی ایک کی طرف سے لِعَدَمِ الْأَوْلَوِيَّةِ کیونکہ اولویت نہ ہونے کی وجہ سے، دونوں میں سے کوئی ایک بھی اولیٰ نہیں ہے۔ تو اولویت نہ ہونے کی وجہ سے ”فَيَقَعُ عَنِ الْمَأْمُوْرِ“ تو یہ حج کس کی طرف سے ہوگا؟ مامور، جس کو حکم دیا گیا ہے، جو خود حج پر گیا ہے، اس کی طرف سے ہوگا یعنی بعض اعتبارات سے اس کی طرف سے ہوگا کیونکہ اس نے مخالفت کی ہے۔ ”وَلَا يُمْكِنُهُ أَنْ يَّجْعَلَهُ عَنْ أَحَدِهِمَا بَعْدَ ذٰلِكَ“ اور یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ اس حج کو وہ کر دے ان دونوں میں سے کسی ایک کے لیے بَعْدَ ذٰلِكَ اس کے بعد۔ اس کے بعد شروع میں سے کسی ایک کے لیے نہیں کر سکتا کیونکہ اس نے احرام دونوں کی طرف سے باندھا ہے تو کسی ایک کو بھی ترجیح نہیں دی جا سکتی۔ اور اب حج کرنے کے بعد یہ چاہتا ہے زید یا بکر میں سے کسی ایک کے لیے حج کو کر دے تو بعد میں بھی نہیں کر سکتا کیونکہ تعین یہ حج کرنے سے پہلے ہونی چاہیے تھی، ادائے افعال کے بعد کی تعین نہیں ہو سکتی بھئی۔ یہ معنی ہے ”وَلَا يُمْكِنُهُ أَنْ يَّجْعَلَهُ عَنْ أَحَدِهِمَا بَعْدَ ذٰلِكَ“ اور ممکن نہیں ہے اس کے لیے کہ اس حج کو کر دے ان دونوں میں سے کسی ایک کے لیے اس کے بعد۔ ”بِخِلَافِ مَا إِذَا حَجَّ عَنْ أَبَوَيْهِ فَإِنَّ لَهُ أَنْ يَّجْعَلَهُ عَنْ أَحَدِهِمَا لِأَنَّهُ مُتَبَرِّعٌ بِجَعْلِ ثَوَابِ عَمَلِهِ لِأَحَدِهِمَا أَوْ لَهُمَا فَيَبْقَى عَلٰى خِيَارِهِ بَعْدَ وُقُوْعِهِ سَبَبًا لِّثَوَابِهِ، وَهُنَا يَفْعَلُ بِحُكْمِ الْآمِرِ وَقَدْ خَالَفَ أَمْرَهُمَا فَيَقَعُ عَنْهُ، وَيَضْمَنُ النَّفَقَةَ إِنْ أَنْفَقَ مِنْ مَالِهِمَا لِأَنَّهُ صَرَفَ نَفَقَةَ الْآمِرِ إِلٰى حَجِّ نَفْسِهِ“ ”بِخِلَافِ مَا إِذَا حَجَّ عَنْ أَبَوَيْهِ“ بخلاف کہتے ہیں اس صورت کے کہ ایک شخص ہے وہ حج ادا کرتا ہے اپنے والدین کی طرف سے۔ کس کی طرف سے؟ اپنے والدین کی طرف سے حج ادا کرتا ہے۔ ہاں اس کو اختیار ہے، اس نے نیت کیا کی کہ میں دونوں کی طرف سے یہ حج کرتا ہوں۔ بعد میں حج کرنے کے بعد اس کو اختیار ہے وہ چاہے تو یہ حج دونوں کے لیے رکھے اور چاہے تو والد یا والدہ دونوں میں سے کسی ایک کے لیے کر دے۔ دونوں میں سے ایک کے لیے۔ تو اس پر اشکال ہوتا ہے ابھی پچھلے مسئلے میں آپ نے بتلایا کہ ادائیگی کے بعد کسی ایک کو متعین نہیں کیا جا سکتا۔ تو اس کا جواب دیں گے کہ بھئی یہ جو والدین کے لیے اس نے کیا، یہ اس نے نفلی حج کیا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور نفلی حج میں کیا ہوتا ہے؟ اس میں تو ثواب پہنچایا جاتا ہے تو ثواب تو کرنے کے بعد بھی اس کی مرضی ہے جس کو چاہے، چاہے دونوں کو دے دے ثواب اور چاہے دونوں میں سے ایک کو ثواب دے دے۔ تو یہاں ہم ثواب، اوپر جو مسئلہ ذکر ہوا اس میں ہم ثواب کی بات نہیں کر رہے بلکہ حج کے اس شخص کی طرف سے ادا ہونے کو بیان کر رہے تھے کہ وہ ادائیگی کے بعد کسی ایک کے لیے اس کو متعین نہیں کیا جا سکتا۔ تو کہتے ہیں ”بِخِلَافِ مَا إِذَا حَجَّ عَنْ أَبَوَيْهِ“ بخلاف اس کے کہ جب کوئی حج کرے اپنے والدین کی طرف سے ”فَإِنَّ لَهُ أَنْ يَّجْعَلَهُ عَنْ أَحَدِهِمَا“ کیونکہ اس شخص کے لیے جائز ہے کہ اس حج کو کر دے ان دونوں میں سے کسی ایک کے لیے ”لِأَنَّهُ مُتَبَرِّعٌ“ اس لیے کیونکہ یہ شخص کیا ہے؟ متبرع ہے۔ متبرع کہتے ہیں اپنی طرف سے کوئی چیز دینا یعنی جو کسی پر واجب نہ ہو یعنی نفل ہے نفلی چیز ہے۔ ”لِأَنَّهُ مُتَبَرِّعٌ بِجَعْلِ ثَوَابِ عَمَلِهِ لِأَحَدِهِمَا أَوْ لَهُمَا“ اس لیے کیونکہ یہ شخص متبرع ہے بوجہ کر دینے اپنے عمل کے ثواب کو ان دونوں میں سے کسی ایک کے لیے یا دونوں کے لیے۔ تو اس میں متبرع ہے اس کو اختیار ہے، ”فَيَبْقَى عَلٰى خِيَارِهِ“ تو یہ شخص اپنے اختیار پر ہی باقی رہے گا ”بَعْدَ وُقُوْعِهِ سَبَبًا لِّثَوَابِهِ“ بعد اس کے کہ جب وہ حج واقع ہو گیا تھا اپنے ثواب کا سبب ہو کر۔ حج اپنے ثواب کا سبب ہو کر واقع ہو گیا تھا یعنی حج ہو گیا اور ثواب کا سبب بن گیا، اس سے ثواب مل گیا، تو اب اس کی مرضی ہے جس کو یہ چاہے یہ ثواب بخش دے بھئی۔ ”وَهُنَا يَفْعَلُ بِحُكْمِ الْآمِرِ“ اور یہاں پر یہ حج جو کر رہا ہے یہ کوئی نفلی حج نہیں ہے بلکہ بِحُكْمِ الْآمِرِ حکم دینے والے کے حکم سے کر رہا ہے ”وَقَدْ خَالَفَ أَمْرَهُمَا“ اور تحقیق اس نے ان دونوں کے حکم کی مخالفت کی ”فَيَقَعُ عَنْهُ“ تو لہٰذا یہ حج اس کی طرف سے ہوگا، صورت سمجھ میں آ گئی یعنی بعض اعتبارات سے۔ ”وَيَضْمَنُ النَّفَقَةَ إِنْ أَنْفَقَ مِنْ مَالِهِمَا“ اور یہ شخص نفقے کا ضامن ہوگا، اوپر متن میں آیا تھا نا ”وَيَضْمَنُ النَّفَقَةَ“ تو یہ اس کے اوپر لکیر جو لگی ہے یہ درست نہیں ہے، یہ متن کا حصہ نہیں۔ ”وَيَضْمَنُ النَّفَقَةَ“ اور نفقے کا ضامن ہوگا، صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کب ضامن ہوگا ان دونوں کے لیے نفقے کا؟ کہتے ہیں ”إِنْ أَنْفَقَ مِنْ مَالِهِمَا“ اگر اس نے خرچ کیا تھا ان دونوں کے مال میں سے ”لِأَنَّهُ صَرَفَ نَفَقَةَ الْآمِرِ إِلٰى حَجِّ نَفْسِهِ“ اس لیے کیونکہ اس نے آمر کے خرچے کو لگا دیا إِلٰى حَجِّ نَفْسِهِ اپنے ذاتی حج میں۔ ”وَإِنْ أَبْهَمَ الْإِحْرَامَ بِأَنْ نَّوَى عَنْ أَحَدِهِمَا غَيْرَ عَيْنٍ فَإِنْ مَضٰى عَلٰى ذٰلِكَ صَارَ مُخَالِفًا لِّعَدَمِ الْأَوْلَوِيَّةِ، وَإِنْ عَيَّنَ أَحَدَهُمَا قَبْلَ الْمُضِيِّ فَكَذٰلِكَ عِنْدَ أَبِيْ يُوْسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ وَهُوَ الْقِيَاسُ لِأَنَّهُ مَأْمُوْرٌ بِالتَّعْيِيْنِ وَالْإِبْهَامُ يُخَالِفُهُ فَيَقَعُ عَنْ نَّفْسِهِ، بِخِلَافِ مَا إِذَا لَمْ يُعَيِّنْ حَجَّةً أَوْ عُمْرَةً حَيْثُ كَانَ لَهُ أَنْ يُّعَيِّنَ مَا شَاءَ لِأَنَّ الْمُلْتَزَمَ هُنَالِكَ مَجْهُوْلٌ وَهٰهُنَا الْمَجْهُوْلُ مَنْ لَّهُ الْحَقُّ، وَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ أَنَّ الْإِحْرَامَ شُرِعَ وَسِيْلَةً إِلَى الْأَفْعَالِ لَا مَقْصُوْدًا بِنَفْسِهِ وَالْمُبْهَمُ يَصْلُحُ وَسِيْلَةً بِوَاسِطَةِ التَّعْيِيْنِ فَاقْتُفِيَ بِهِ شَرْطًا بِخِلَافِ مَا إِذَا أَدَّى الْأَفْعَالَ عَلَى الْإِبْهَامِ لِأَنَّ الْمُؤَدَّى لَا يَحْتَمِلُ التَّعْيِيْنَ فَصَارَ مُخَالِفًا“ صورت یہ، پہلی صورت تو کیا تھی کہ اس نے احرام دونوں کی طرف سے باندھا تھا بھئی، دونوں کی طرف سے باندھا تھا۔ اب دوسری صورت یہ ہے کہ وہ احرام دونوں میں سے کسی ایک کی طرف سے باندھتا ہے لیکن متعین نہیں کرتا کہ وہ زید کی طرف سے یہ احرام باندھ رہا ہے یا بکر کی طرف سے، تو بھی اس صورت میں یہ ان کے حکم کی مخالفت کرنے والا ہوا۔ لہٰذا اس صورت میں بھی یہی حکم ہوگا جو ابھی اوپر بیان ہو گیا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ من وجہ اس کی طرف سے ہوگا اور من وجہ ان کی طرف سے۔ اور اگر حج کے افعال کرنے سے پہلے اس نے دونوں میں سے ایک کی تعین کر دی، تعین کر دی، اس نے احرام تو مبہم باندھا تھا کہ دونوں میں سے ایک کی طرف سے باندھتا ہوں، تعین نہیں کی تھی لیکن حج کے افعال ابھی شروع نہیں کیے تھے اس سے پہلے اس نے تعین کر دی کہ یہ احرام میں نے کس کی طرف سے مثلاً باندھا ہے؟ زید کی طرف سے، زید کی طرف سے۔ تو قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ یہ بھی جائز نہیں ہونا چاہیے لیکن استحساناً جو ہے یہ جائز ہوگا اور یہ حج زید کی طرف سے ہو جائے گا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں ”وَإِنْ أَبْهَمَ الْإِحْرَامَ“ اور اگر اس نے احرام کو مبہم رکھا ”بِأَنْ نَّوَى عَنْ أَحَدِهِمَا غَيْرَ عَيْنٍ“ بایں صورت کہ اس نے نیت کی ان دونوں میں سے کسی ایک غیر معین کی ”فَإِنْ مَضٰى عَلٰى ذٰلِكَ صَارَ مُخَالِفًا“ اگر وہ اسی پر چلتا رہا یعنی اسی طرح مبہم احرام باندھا تھا اور اسی پر چلتا رہا ”صَارَ مُخَالِفًا“ تو یہ ان دونوں کے حکم کی مخالفت کرنے والا ہو گیا ”لِّعَدَمِ الْأَوْلَوِيَّةِ“ کیونکہ یہاں اولویت نہیں ہے، کسی ایک کو بھی ترجیح نہیں دی جا سکتی۔ ”وَإِنْ عَيَّنَ أَحَدَهُمَا قَبْلَ الْمُضِيِّ“ اور اگر اس نے ان دونوں میں سے کسی ایک کو متعین کر دیا قبل المضی افعال میں چلنے سے پہلے ”فَكَذٰلِكَ عِنْدَ أَبِيْ يُوْسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ تو بھی حکم اسی طرح ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک لیکن طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک استحساناً جس کی طرف سے ادا کرے گا، جس کی تعین کرے گا اس کی طرف سے ہو جائے گا۔ لیکن امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں۔ بعد میں متعین کرنے سے متعین نہیں ہوگا۔ جب شروع میں احرام مبہم تھا تو بعد میں متعین کرنے سے بھی متعین نہیں ہوگا۔ ”وَهُوَ الْقِيَاسُ“ اور یہی قیاس بھی یہی ہے، قیاس بھی یہی تقاضا کرتا ہے ”لِأَنَّهُ مَأْمُوْرٌ بِالتَّعْيِيْنِ“ اس لیے کیونکہ یہ تو مامور بالتعیین تھا، اس کو تو کس چیز کا حکم دیا گیا تھا؟ تعین کا کہ متعین کرے، ”وَالْإِبْهَامُ يُخَالِفُهُ“ اور ابہام تو اس کے مخالف ہے ”فَيَقَعُ عَنْ نَّفْسِهِ“ لہٰذا یہ حج بھی کس کی طرف سے ہوگا؟ اس کی اپنی طرف سے ہوگا، قیاس یہ تقاضا کرتا ہے۔ ”بِخِلَافِ مَا إِذَا لَمْ يُعَيِّنْ حَجَّةً أَوْ عُمْرَةً“ بخلاف اس صورت کے، یہاں ایک اور صورت بیچ میں ذکر کر رہے ہیں۔ بخلاف اس صورت کے ”إِذَا لَمْ يُعَيِّنْ حَجَّةً أَوْ عُمْرَةً“ کہ جب اس نے حج یا عمرے کو متعین نہ کیا ہو، بھئی صورت یہ: ایک شخص احرام باندھتا ہے لیکن احرام ہی کو مبہم رکھتا ہے کہ یہ حج کا ہے یا عمرے کا ہے، کسی کی تعین نہیں کرتا، کسی کی نیت نہیں کرتا، تو اس شخص کے لیے بالاتفاق تعین جائز ہے یعنی یہ حج کی تعین کر دے بعد میں یا حج کی تعین کر کے حج ادا کر لے یا عمرے کی تعین کر کے عمرہ ادا کر لے، یہ کر سکتا ہے۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ دیکھو اس شخص نے بھی احرام کو مبہم باندھا تھا اور بعد میں تعین کر دی تو متعین ہو گیا۔ تعین کرنے سے متعین ہو گیا کہ یہ حج کا احرام ہے یا عمرے کا احرام ہے، تو لہٰذا یہاں پھر کیوں یہاں کس وجہ سے تعین بعد میں نہیں ہوتی؟ دلیل، بات کس کی چل رہی ہے؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی، اور یہی قیاس بھی ہے، تو قیاس یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس کا کہ یہ حج بھی اسی کی طرف سے ہو جس کی تعین کرے، اس سے اس کی طرف سے نہ ہو۔ مسئلے کی طرف توجہ بھی ہے یا سارا ذہن سے نکلتا جا رہا ہے؟ صورت یہ: ایک شخص نے احرام باندھا اور مبہم احرام باندھا کہ یہ زید کی طرف سے ہے یا بکر کی طرف سے ہے، تعین نہیں کی، ہاں اتنا کہا اتنا ذہن میں ہے ایک کی طرف سے ہے بس، لیکن کس کی طرف سے ہے اس نے تعین نہیں کی کہ زید کی طرف سے ہے یا بکر کی طرف سے۔ تو کہتے ہیں کہ قیاس یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس صورت میں بھی حج اس کی اپنی طرف سے ہی ہوگا کیونکہ اس پر تو لازم تھا کیا؟ شروع سے ہی تعین، اور اس نے شروع میں کیا کیا؟ ابہام رکھا اور ابہام کیا ہے؟ تعین کے مخالف ہے، تو اس نے گویا ان کے حکم کی مخالفت کر دی اور جب حکم کی مخالفت کر دی تو ان کی طرف سے نہیں ہوا بلکہ اپنی طرف سے ہوا۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ ایک شخص جو ہے مبہم احرام باندھتا ہے اور یہ تعین نہیں کرتا کہ یہ حج کا احرام ہے یا عمرے کا، وہ تو بعد میں تعین سے متعین ہو جاتا ہے تو یہ والا تعین سے کیوں نہیں متعین ہوگا؟ تو جواب یہ کہ وہاں پر، وہاں پر جب احرام اس نے مبہم باندھا اور یہ نیت نہیں کی کہ یہ حج کا ہے یا عمرے کا، تو وہاں پر صاحبِ حق معلوم ہے، کیا ہے؟ صاحبِ حق معلوم ہے۔ وہ یہ حج جس کے لیے بھی جس چیز کا بھی احرام باندھا لیکن کس کے لیے کر رہا ہے یہ؟ اپنے لیے، کیا کر رہا ہے؟ تو وہاں صاحبِ حق معلوم ہے، ہاں کس چیز کو اپنے اوپر وہ لازم کر رہا ہے احرام کے ذریعے وہ مجہول ہے، اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ جب احرام باندھ رہا ہے تو احرام کے ذریعے یا انسان اپنے اوپر عمرے کو لازم کرتا ہے یا حج کو لازم کرتا ہے لیکن اس نے متعین نہیں کیا کہ کس چیز کو اپنے اوپر لازم کر رہا ہے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کس چیز کو اپنے اوپر لازم کر رہا ہے وہ مجہول ہو، وہ بعد میں بھی عمل کرنے سے پہلے ہی کیا کی جا سکتی ہے؟ متعین کی جا سکتی ہے۔ تو وہ چیز جس کا انسان التزام کرے اس کا مجہول ہونا نقصان نہیں دیتا بشرطیکہ صاحبِ حق یعنی جس کے لیے یہ حج یا عمرہ کیا جا رہا ہے وہ کیا ہونا چاہیے؟ معلوم ہونا چاہیے۔ جبکہ یہاں پر جو چیز کر رہا ہے، حج یا عمرہ، کیا کر رہا ہے وہ یہاں؟ حج کر رہا ہے، تو حج تو یہاں جس چیز کا التزام کر رہا ہے وہ تو معلوم ہے اور جس کا حق ہے وہ کیا ہے؟ مجہول ہے، کس کے لیے کر رہا ہے، زید کے لیے کر رہا ہے یا بکر کے لیے کر رہا ہے؟ صورت سمجھ میں آ گئی۔ کہتے ہیں ”بِخِلَافِ مَا إِذَا لَمْ يُعَيِّنْ حَجَّةً أَوْ عُمْرَةً“ بخلاف اس صورت کے کہ جب وہ متعین نہ کرے حج یا عمرے کو ”حَيْثُ كَانَ لَهُ أَنْ يُّعَيِّنَ مَا شَاءَ“ کیونکہ اس کے لیے جائز ہے کہ یہ متعین کر دے جو بھی یہ چاہے، چاہے حج کو متعین کر دے چاہے عمرے کو، ”لِأَنَّ الْمُلْتَزَمَ هُنَالِكَ مَجْهُوْلٌ“ اس لیے کیونکہ وہ چیز جس کا التزام کیا گیا یعنی جس کو اپنے اوپر لازم کیا گیا ہنالک مجهول یہ وہاں پر مجہول ہے، تو جس کو بھی چاہے متعین کر دے اس میں کوئی نقصان نہیں، ”وَهٰهُنَا الْمَجْهُوْلُ مَنْ لَّهُ الْحَقُّ“ اور یہاں پر کیا ہے؟ من لہ الحق، وہ جس کا حق ہے یعنی صاحبِ حق یہاں مجہول ہے۔ تو پچھلے میں ملتزم مجہول تھا اور من لہ الحق کیا تھا؟ معلوم تھا، اور یہاں پر ملتزم معلوم ہے اور من لہ الحق مجہول ہے اور یہ درست نہیں ہے بھئی۔ ”وَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ“ استحسان کی وجہ یہ ہے، بھئی امام ابو یوسف رحمہ اللہ تو فرماتے تھے جائز نہیں ہے قیاس کے مطابق لیکن استحساناً طرفین فرماتے ہیں جائز ہے۔ تو اس کی اب وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ ”وَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ أَنَّ الْإِحْرَامَ شُرِعَ وَسِيْلَةً إِلَى الْأَفْعَالِ“ استحسان کی وجہ یہ ہے کہ احرام جو ہے یہ وسیلہ ہو کر مشروع ہوا ہے افعال کے لیے۔ یہ حج یا عمرے کے افعال کے لیے یہ احرام وسیلہ ہو کر مشروع ہوا ہے یعنی اس کے ذریعے حج یا عمرے تک پہنچا جاتا ہے ”لَا مَقْصُوْدًا بِنَفْسِهِ“ یہ احرام خود مقصود نہیں ہوتا۔ ”وَالْمُبْهَمُ يَصْلُحُ وَسِيْلَةً بِوَاسِطَةِ التَّعْيِيْنِ“ اور مبہم احرام جو ہے وہ بھی صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ وسیلہ بن جائے بِوَاسِطَةِ التَّعْيِيْنِ کس کے ذریعے؟ تعین کے ذریعے، احرام اگر مبہم بھی ہو لیکن پھر یہ کہ وسیلہ بن جائے حج یا عمرے تک پہنچنے کا بِوَاسِطَةِ التَّعْيِيْنِ کس کے ذریعے؟ تعین کے ذریعے، شروع میں احرام مبہم باندھا تھا کہ کسی ایک کے لیے ہے تعین نہیں کی تھی لیکن پھر بعد میں کیا کر دیتا ہے؟ تعین کر دیتا ہے تو یہ احرام تو صرف وسیلہ تھا کوئی حرج نہیں، ابھی افعال تو نہیں کیے۔ تو لہٰذا یہ مبہم احرام اب تعین کے بعد کیا بن سکتا ہے؟ وسیلہ بن سکتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ یہ معنی ہے ”وَالْمُبْهَمُ يَصْلُحُ وَسِيْلَةً بِوَاسِطَةِ التَّعْيِيْنِ“ اور مبہم احرام وہ صلاحیت رکھتا ہے وسیلہ بننے کی تعین کے واسطے سے ”فَاقْتُفِيَ بِهِ شَرْطًا“ تو اسی پر اکتفاء کر لیا جائے گا شرط ہونے کے اعتبار سے، تو اسی پر کیا کر لیا جائے گا؟ اسی مبہم احرام پر اکتفاء کر لیا جائے گا باعتبار شرط ہونے کے کہ یہ کیا ہے؟ شرط ہے خود مقصود نہیں ہے۔ ”بِخِلَافِ مَا إِذَا أَدَّى الْأَفْعَالَ عَلَى الْإِبْهَامِ“ بخلاف اس کے کہ جب وہ ادا کر دے اس حج کے افعال کو عَلَى الْإِبْهَامِ کس طریقے پر؟ ابہام ہی کے طریقے پر، یعنی یہ متعین ہی نہیں کرتا کہ یہ زید کے لیے کر رہا ہے یا عمرو کے لیے تو ابہام کے طریقے پر ہی حج کے افعال جب ادا کر لیتا ہے ”لِأَنَّ الْمُؤَدَّى لَا يَحْتَمِلُ التَّعْيِيْنَ“ اس لیے کیونکہ وہ چیز جس کو ادا کر دیا گیا وہ تعین کا احتمال نہیں رکھتا ”فَصَارَ مُخَالِفًا“ تو یہ کیا ہوا؟ ان دونوں کی مخالفت کرنے والا ہوا تو ضامن ہوگا۔ ”قَالَ: فَإِنْ أَمَرَهُ غَيْرُهُ أَنْ يَّقْرُنَ عَنْهُ فَالدَّمُ عَلٰى مَنْ أَحْرَمَ لِأَنَّهُ وَجَبَ شُكْرًا لِّمَا وَفَّقَهُ اللّٰهُ تَعَالٰى مِنَ الْجَمْعِ بَيْنَ النُّسُكَيْنِ، وَالْمَأْمُوْرُ هُوَ الْمُخْتَصُّ بِهٰذِهِ النِّعْمَةِ لِأَنَّ حَقِيْقَةَ الْفِعْلِ مِنْهُ، وَهٰذِهِ الْمَسْأَلَةُ تَشْهَدُ بِصِحَّةِ الْمَرْوِيِّ عَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللّٰهُ أَنَّ الْحَجَّ يَقَعُ عَنِ الْمَأْمُوْرِ“ صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک شخص نے دوسرے کو کہا کہ میری طرف سے حج کر لو اور یوں کر لو کہ حجِ قران کر لینا، کیا کر لینا؟ حجِ قران کر لینا، اور آپ جانتے ہیں کہ حجِ قران میں حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا جاتا ہے اور دو عبادتوں کی توفیق ملنے کی وجہ سے حاجی پر قربانی واجب ہوتی ہے، دمِ شکر جو ہے، دمِ قران جو ہے بھئی۔ تو اب یہ دمِ قران کیا یہ بھیجنے والے پر آئے گا یا حج کرنے والے پر آئے گا؟ یعنی اس کا خرچہ کس پر ہوگا؟ کہتے ہیں بھئی یہ نفع جو اٹھایا اور یہ جو دو عبادتوں کو جمع کرنے کی توفیق ملی، یہ حج کرنے والے کو ملی ہے، یہ بھیجنے والے کو نہیں ملی، لہٰذا اس دم کا خرچہ حج کرنے والے پر ہوگا۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ بھیجنے والے پر اس کا خرچہ نہیں۔ ”فَإِنْ أَمَرَهُ غَيْرُهُ أَنْ يَّقْرُنَ عَنْهُ“ اگر حکم دیا ایک شخص کو دوسرے نے کہ وہ اس کی طرف سے حجِ قران کر لے ”فَالدَّمُ عَلٰى مَنْ أَحْرَمَ“ تو یہ دمِ قران جو ہے اس شخص پر آئے گا جس نے احرام باندھا ہے، جو حج پر گیا ہے ”لِأَنَّهُ وَجَبَ شُكْرًا لِّمَا وَفَّقَهُ اللّٰهُ تَعَالٰى مِنَ الْجَمْعِ بَيْنَ النُّسُكَيْنِ“ اس لیے کیونکہ یہ دم واجب ہوا ہے بطورِ شکر کے بوجہ اس کے جو اس کو توفیق دی ہے اللہ تعالیٰ نے دو عبادتوں کو جمع کرنے کی ”وَالْمَأْمُوْرُ هُوَ الْمُخْتَصُّ بِهٰذِهِ النِّعْمَةِ“ اور وہ جو مامور ہے جس کو حکم دیا گیا یعنی جس کو بھیجا گیا ہے وہ خاص ہے اس نعمت کے ساتھ، یہ نعمت کس کو حاصل ہوئی؟ حج اور عمرے کو اکٹھا کرنے کی، یہ تو مامور جس کو بھیجا گیا ہے لہٰذا اسی پر دم آئے گا ”لِأَنَّ حَقِيْقَةَ الْفِعْلِ مِنْهُ“ اس لیے کیونکہ حقیقتِ فعل اس کی طرف سے پایا جا رہا ہے، یہ حج اور عمرے کا فعل حقیقتاً اس کی طرف سے ہے۔ ”وَهٰذِهِ الْمَسْأَلَةُ تَشْهَدُ بِصِحَّةِ الْمَرْوِيِّ عَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللّٰهُ أَنَّ الْحَجَّ يَقَعُ عَنِ الْمَأْمُوْرِ“ یہاں سے صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ یہ مسئلہ گواہی دیتا ہے اس روایت کے صحیح ہونے کی جو امام محمد رحمہ اللہ سے روایت کی گئی بھئی۔ امام محمد رحمہ اللہ کیا فرماتے تھے؟ کہ حج جو ہے حج کرنے والے ہی کی طرف سے ہوتا ہے، بھیجنے والے کو صرف ثواب ملتا ہے۔ یہاں پر بھی دیکھو قربانی کس پر آ رہی ہے؟ حج کرنے والے ہی پر آ رہی ہے، معلوم ہوا یہ کس کی طرف سے ہو رہا ہے حج؟ حج کرنے والے ہی کی طرف سے اور دوسرے کو صرف کیا مل رہا ہے؟ ثواب مل رہا ہے۔ کہتے ہیں ”وَهٰذِهِ الْمَسْأَلَةُ تَشْهَدُ بِصِحَّةِ الْمَرْوِيِّ عَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللّٰهُ أَنَّ الْحَجَّ يَقَعُ عَنِ الْمَأْمُوْرِ“ اور یہ مسئلہ گواہی دیتا ہے اس روایت کے صحیح ہونے کی جو مروی ہے امام محمد رحمہ اللہ سے کہ حج جو ہے مامور کی طرف سے واقع ہوتا ہے یعنی جس کو حکم دیا گیا جس کو بھیجا گیا۔ ”وَكَذٰلِكَ إِنْ أَمَرَهُ وَاحِدٌ بِأَنْ يَّحُجَّ عَنْهُ وَالْآخَرُ بِأَنْ يَّعْتَمِرَ عَنْهُ وَأَذِنَا لَهُ بِالْقِرَانِ فَالدَّمُ عَلَيْهِ“ صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک شخص نے دوسرے سے کہا کہ میری طرف سے حج کر لینا، دوسرے نے کہا کہ میری طرف سے عمرہ کر لینا اور انہوں نے حجِ قران کی اس کو اجازت دے دی، حجِ قران کی اجازت دے دی تو اب عمرہ ایک کی طرف سے ہوگا اور حج دوسرے کی طرف سے لیکن جب حجِ قران کرے گا آئے گا کیا؟ دم آئے گا، شکر کا دم جو ہے، دمِ قران، تو اس صورت میں بھی پیسے اس دم کے حاجی پر ہی آئیں گے بھئی، حاجی پر ہی آئیں گے بھئی۔ ”وَكَذٰلِكَ إِنْ أَمَرَهُ وَاحِدٌ بِأَنْ يَّحُجَّ عَنْهُ وَالْآخَرُ بِأَنْ يَّعْتَمِرَ عَنْهُ وَأَذِنَا لَهُ بِالْقِرَانِ فَالدَّمُ عَلَيْهِ“ اور اسی طرح ہے مسئلہ، اسی طرح ہے حکم اگر حکم دیا اس کو کسی ایک نے کہ اس کی طرف سے حج کر لے اور دوسرے نے کہ اس کی طرف سے عمرہ کر لے اور ان دونوں نے اس کو حجِ قران کی اجازت دے دی، حجِ قران کی اجازت دے دی، یاد رکھیے یہ قید ضروری ہے بھئی، اگر اجازت نہ دی ہو تو پھر اس صورت میں یہ مخالفت کرنے والا ہوگا۔ کیا کرنے والا؟ مخالفت کرنے والا ہوگا کیونکہ ایک شخص نے اس کو حج کا کہا ہے، اس نے حج کا پورا خرچہ دیا تو اس کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ میری طرف سے یہ سارا سفر کس کے لیے ہونا چاہیے؟ صرف میرے لیے، میرے حج کے لیے۔ اور دوسرے نے اس کو عمرے کا پورا خرچہ دیا، اس کے کہنے کا کیا مطلب ہے؟ کہ سارا سفر میرے اس عمرے کے لیے ہونا چاہیے، سمجھ میں آیا؟ اور اس نے کیا کیا؟ دونوں سے، اس نے دونوں سے حجِ قران کی اجازت لے لی تاکہ کیا کروں؟ ایک ہی سفر میں دونوں کا دونوں کر لوں بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَأَذِنَا لَهُ بِالْقِرَانِ فَالدَّمُ عَلَيْهِ“ اور دونوں نے اس کو اجازت دے دی حجِ قران کی تو بھی دم اس حج کرنے والے پر ہے ”لِمَا قُلْنَا“ اس وجہ سے جو ہم نے کہا کہ اس نے دو عبادتوں کو جمع کرنے کی نعمت حاصل کی ہے۔ ”وَدَمُ الْإِحْصَارِ عَلَى الْآمِرِ وَهٰذَا عِنْدَ أَبِيْ حَنِيْفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللّٰهُ تَعَالٰى، وَقَالَ أَبُوْ يُوْسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ عَلَى الْحَاجِّ لِأَنَّهُ وَجَبَ لِلتَّحَلُّلِ دَفْعًا لِّضَرَرِ امْتِدَادِ الْإِحْرَامِ وَهٰذَا الضَّرَرُ رَاجِعٌ إِلَيْهِ فَيَكُوْنُ الدَّمُ عَلَيْهِ، وَلَهُمَا أَنَّ الْآمِرَ هُوَ الَّذِيْ أَدْخَلَهُ فِيْ هٰذِهِ الْعُهْدَةِ فَعَلَيْهِ خَلَاصُهُ، فَإِنْ كَانَ يَحُجُّ عَنْ مَّيِّتٍ فَأُحْصِرَ فَالدَّمُ فِيْ مَالِ الْمَيِّتِ عِنْدَهُمَا خِلَافًا لِّأَبِيْ يُوْسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ، ثُمَّ قِيْلَ هُوَ مِنْ ثُلُثِ مَالِ الْمَيِّتِ لِأَنَّهُ صِلَةٌ كَالزَّكَاةِ وَغَيْرِهَا، وَقِيْلَ مِنْ جَمِيْعِ الْمَالِ لِأَنَّهُ وَجَبَ حَقًّا لِّلْمَأْمُوْرِ فَصَارَ دَيْنًا“ ”وَدَمُ الْإِحْصَارِ عَلَى الْآمِرِ“ ہاں دمِ احصار جو ہے وہ آمر پر آئے گا بھیجنے والے پر جس نے حکم دیا تھا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ایک شخص کو کسی نے بھیجا حج پر، میری طرف سے حج کر آؤ، اور یہ شخص آگے محصر ہو گیا، دشمن کی وجہ سے آگے نہ جا سکا تو اس صورت میں جو دمِ احصار بھیج کر یہ حلال ہوگا وہ دم کس پر آئے گا؟ بھیجنے والے پر آئے گا۔ تو کہتے ہیں ”وَدَمُ الْإِحْصَارِ عَلَى الْآمِرِ“ اور دمِ احصار جو ہے وہ حکم دینے والے پر ہے ”وَهٰذَا عِنْدَ أَبِيْ حَنِيْفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللّٰهُ تَعَالٰى“ اور یہ طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک ہے، ”وَقَالَ أَبُوْ يُوْسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ عَلَى الْحَاجِّ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ دمِ احصار حاجی پر ہوگا جو حج کر رہا ہے، ”لِأَنَّهُ وَجَبَ لِلتَّحَلُّلِ دَفْعًا لِّضَرَرِ امْتِدَادِ الْإِحْرَامِ وَهٰذَا الضَّرَرُ رَاجِعٌ إِلَيْهِ فَيَكُوْنُ الدَّمُ عَلَيْهِ“ وہ فرماتے ہیں اس لیے کیونکہ یہ جو دم واجب ہوا ہے للتحلل کس لیے ہے؟ حلال ہونے کے لیے ہے دفعا لضرر امتداد الإحرام تاکہ دور کیا جائے احرام کے لمبا ہونے کی تکلیف کو، ورنہ تو احرام کیا ہو جاتا؟ لمبا ہو جاتا، تو احرام کے لمبا ہونے کی تکلیف کو دور کرنے کے لیے دور کرنے کے لیے دم واجب ہوا ہے تاکہ یہ حلال ہو جائے، ”وَهٰذَا الضَّرَرُ رَاجِعٌ إِلَيْهِ“ اور یہ تکلیف اور نقصان کس کو لوٹ رہا ہے، کس کو ہو رہا ہے یہ نقصان بھئی؟ جو صاحبِ احرام ہے جو حج کر رہا ہے اس کو یہ ضرر اس کی جانب لوٹ رہا ہے ”فَيَكُوْنُ الدَّمُ عَلَيْهِ“ تو دم بھی اسی پر ہوگا۔ یہ کس کی دلیل؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی۔ ”وَلَهُمَا أَنَّ الْآمِرَ هُوَ الَّذِيْ أَدْخَلَهُ فِيْ هٰذِهِ الْعُهْدَةِ فَعَلَيْهِ خَلَاصُهُ“ اور طرفین کی دلیل یہ ہے کہ آمر جو ہے، حکم دینے والا ہے جو حج پر بھیجنے والا ہے وہ وہی ہے وہ شخص جس نے اس حاجی کو اس ذمہ داری میں داخل کیا ”فَعَلَيْهِ خَلَاصُهُ“ تو اسی پر اس کا چھڑانا بھی اسی پر واجب ہے تو دم اس پر آئے گا۔ ”فَإِنْ كَانَ يَحُجُّ عَنْ مَّيِّتٍ فَأُحْصِرَ فَالدَّمُ فِيْ مَالِ الْمَيِّتِ عِنْدَهُمَا خِلَافًا لِّأَبِيْ يُوْسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اگر وہ شخص حج کر رہا تھا کسی مرنے والے کی طرف سے، کسی کا انتقال ہوا تھا اس کی طرف سے حج پر بھیجا گیا ہے ”فَأُحْصِرَ“ تو یہ محصر ہو گیا، یہ جو میت کی طرف سے حج کرنے والا ہے یہ کیا ہوا؟ محصر، اس کو رکنا پڑا دشمن کی وجہ سے، ”فَالدَّمُ فِيْ مَالِ الْمَيِّتِ عِنْدَهُمَا“ تو یہ جو دمِ احصار ہے یہ مرنے والے کے مال میں سے ہوگا عندہما طرفین کے نزدیک، ”خِلَافًا لِّأَبِيْ يُوْسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ بخلاف امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے۔ ”ثُمَّ قِيْلَ هُوَ مِنْ ثُلُثِ مَالِ الْمَيِّتِ لِأَنَّهُ صِلَةٌ كَالزَّكَاةِ وَغَيْرِهَا“ اچھا، پھر کہا گیا ہے کہ یہ مرنے والے کے ثلثِ مال میں سے ہوگا۔ کس میں سے؟ ثلثِ مال میں سے یہ دم دیا جائے گا ”لِأَنَّهُ صِلَةٌ“ اس لیے کیونکہ یہ عطیہ ہے۔ یہ کیا ہے؟ صلہ جس کا کوئی جس کے مقابلے میں کوئی عوض نہ ہو، مالی عوض نہ ہو یعنی عطیہ اور انعام کہیں بھئی، عطیہ اور انعام، یعنی یوں کہیں یہ تبرع ہے یہ کیا ہے؟ تبرع ہے جس کے مقابلے میں کچھ نہ ہو۔ تو اس لیے کیونکہ یہ جو دم ہے یہ صلہ ہے ”كَالزَّكَاةِ وَغَيْرِهَا“ جیسے زکوٰۃ اور اس کے علاوہ چیزیں ہیں۔ بھئی آپ پڑھ چکے، ایک آدمی کا انتقال ہوتا ہے اور اس کے ذمے زکوٰۃ واجب ہے تو اس کے اگر اس نے وصیت نہیں کی تو وارثوں پر اس کی طرف سے زکوٰۃ دینا واجب نہیں، بہتر ہے وہ دے دیں تاکہ مرنے والے کی آخرت آخرت جو ہے اس کی تکلیف دور ہو جائے لیکن ان پر شرعاً لازم نہیں کیونکہ مرنے والے نے کوئی وصیت نہیں کی، لیکن اگر مرنے والا وصیت کر جاتا ہے کہ میرے ذمے اتنی زکوٰۃ ہے وہ دے دینا تو پھر یاد رکھیے اس صورت میں بھی آپ مسئلہ پڑھ چکے کتاب الزکوٰۃ کے اندر کہ ثلثِ مال میں سے زکوٰۃ ادا کی جائے گی۔ یعنی سب سے پہلے کفن دفن کریں گے پھر اس کے بعد قرضے ادا کریں گے، اب جو مال باقی بچ گیا اس کے تیسرے حصے تک اس میں اگر وہ ساری زکوٰۃ ادا ہو سکتی ہے تو ٹھیک ہے، اگر نہیں ہو سکتی تو زائد میں سے ادائیگی کرنا یہ وارثوں پر لازم نہیں ہے۔ ہاں اگر وہ اپنی خوشی سے کرنا چاہتے ہیں، اچھی بات ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو لہٰذا اب یہ جو دمِ احصار دیا گیا تو یہ کس میں سے دیا جائے گا؟ ثلثِ مال میں سے یا سارے مال میں سے؟ تو کہتے ہیں کہ ”هُوَ مِنْ ثُلُثِ مَالِ الْمَيِّتِ“ یہ کس میں سے ہوگا؟ مرنے والے کے مال کے تیسرے حصے میں ”لِأَنَّهُ صِلَةٌ“ اس لیے کیونکہ یہ عطیہ ہے یعنی تبرع ہے ”كَالزَّكَاةِ وَغَيْرِهَا“ جیسے زکوٰۃ وغیرہ ہیں۔ ”وَقِيْلَ مِنْ جَمِيْعِ الْمَالِ“ اور کہا گیا ہے کہ یہ سارے مال میں سے دیا جائے گا ”لِأَنَّهُ وَجَبَ حَقًّا لِّلْمَأْمُوْرِ فَصَارَ دَيْنًا“ اس لیے کیونکہ یہ مامور کا حق ہو کر واجب ہوا ہے تو یہ دین ہوا، اور دین تو کس میں سے ادا کیا جاتا ہے؟ سارے مال میں سے، لہٰذا یہ بھی سارے مال میں سے ادا کیا جائے گا چاہے سارا مال ہی کیوں نہ ختم ہو جائے۔ ”وَدَمُ الْجِمَاعِ عَلَى الْحَاجِّ لِأَنَّهُ دَمُ جِنَايَةٍ وَهُوَ الْجَانِيْ عَنِ اخْتِيَارٍ، وَيَضْمَنُ النَّفَقَةَ مَعْنَاهُ إِذَا جَامَعَ قَبْلَ الْوُقُوْفِ حَتّٰى فَسَدَ حَجُّهُ لِأَنَّ الصَّحِيْحَ هُوَ الْمَأْمُوْرُ بِهِ بِخِلَافِ مَا إِذَا فَاتَهُ الْحَجُّ حَيْثُ لَا يَضْمَنُ النَّفَقَةَ لِأَنَّهُ مَا فَاتَهُ بِاخْتِيَارِهِ، أَمَّا إِذَا جَامَعَ بَعْدَ الْوُقُوْفِ لَا يَفْسُدُ حَجُّهُ وَلَا يَضْمَنُ النَّفَقَةَ لِحُصُوْلِ مَقْصُوْدِ الْآمِرِ وَعَلَيْهِ الدَّمُ فِيْ مَالِهِ لِمَا بَيَّنَّا، وَكَذٰلِكَ سَائِرُ دِمَاءِ الْكَفَّارَاتِ عَلَى الْحَاجِّ لِمَا قُلْنَا“ ”وَدَمُ الْجِمَاعِ عَلَى الْحَاجِّ“ اور دمِ جماع جو ہے حاجی پر ہے۔ بھئی ایک شخص نے دوسرے کو خرچہ دیا کہ جاؤ میری طرف سے حجِ بدل کر آؤ، میری طرف سے حج کر آؤ۔ اب اس حاجی سے غلطی ہوئی، اس نے بیوی سے صحبت کر لی، بیوی سے صحبت کر لی۔ تو اس صورت میں جو صحبت کی وجہ سے دم لازم ہوگا، کہتے ہیں یہ حاجی پر آئے گا، یہ اس بھیجنے والے پر نہیں کیونکہ یہ جنایت کس نے کی ہے؟ حاجی نے کی ہے لہٰذا یہ دم بھی اسی پر آئے گا۔ تو کہتے ہیں ”وَدَمُ الْجِمَاعِ عَلَى الْحَاجِّ“ اور دمِ جماع جو ہے وہ حاجی پر ہے ”لِأَنَّهُ دَمُ جِنَايَةٍ“ اس لیے کیونکہ یہ تو جنایت کا دم ہے ”وَهُوَ الْجَانِيْ عَنِ اخْتِيَارٍ“ اور وہ ہے جنایت کرنے والا اپنے ہاں تو وہ اختیار کے ساتھ جنایت کرنے والا ہے، جرم کرنے والا ہے۔ ”وَيَضْمَنُ النَّفَقَةَ“ اور یہ حاجی جو ہے نفقے کا ضامن ہوگا۔ بھیجنے والے نے تو اس کو حج کا خرچہ دے کر بھیجا تھا تو اب یہ نفقے کا ضامن ہوگا یعنی خرچہ اس کو لوٹانا پڑے گا۔ آگے صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ بھئی معنی اس کا یہ ہے اگر اس نے وقوفِ عرفات سے پہلے کیا کر لیا؟ جماع کر لیا، پھر تو حج ہی فاسد ہو گیا اور بھیجنے والے کا تو مقصد ہی فوت ہو گیا، اس نے تو پیسے کس لیے دیے تھے تاکہ اس کی طرف سے حج ہو جائے تو لہٰذا اب حج فوت ہو گیا، حج فاسد ہو گیا، لہٰذا اس صورت میں یہ جانے والے کو، یہ جو جنایت کرنے والا ہے اس کو سارا خرچہ لوٹانا پڑے گا۔ اور اگر وقوفِ عرفات کے بعد وہ صحبت کرتا ہے پھر تو حج فاسد نہیں ہوتا، ہاں صرف کیا آئے گا؟ دم آئے گا اس کے اندر تو وہ دم، وہ ٹھیک ہے جو حج پر گیا ہوا ہے خود اسی پر آ جائے گا اور حج تو ادا ہو جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَيَضْمَنُ النَّفَقَةَ مَعْنَاهُ إِذَا جَامَعَ قَبْلَ الْوُقُوْفِ“ اور یہ نفقے کا ضامن ہوگا، معنی اس کا یہ ہے اگر اس نے صحبت کی ہے وقوف سے پہلے یعنی وقوفِ عرفات سے پہلے ”حَتّٰى فَسَدَ حَجُّهُ“ یہاں تک کہ اس کا حج فاسد ہو گیا ”لِأَنَّ الصَّحِيْحَ هُوَ الْمَأْمُوْرُ بِهِ“ اس لیے کیونکہ صحیح حج جو ہے اس کا حکم دیا گیا تھا، اس فاسد حج کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔ ”بِخِلَافِ مَا إِذَا فَاتَهُ الْحَجُّ“ بخلاف اس کے کہ جب اس سے حج فوت ہو جائے، بخلاف اس کے کہ اس سے حج فوت ہو جائے ”حَيْثُ لَا يَضْمَنُ“ کیونکہ یہ ضامن نہیں ہوگا، کیونکہ یہ ضامن نہیں ہوگا، ”لَا يَضْمَنُ النَّفَقَةَ“ اس صورت میں یہ نفقے کا ضامن نہیں ہوگا ”لِأَنَّهُ مَا فَاتَهُ بِاخْتِيَارِهِ“ اس لیے کیونکہ اس نے حج کو اپنے اختیار سے فوت نہیں کیا۔ دوسری صورت بھئی، پہلی صورت تو کیا تھی؟ اس نے جنایت کے ذریعے حج فاسد کیا۔ دوسری صورت یہ حج تک پہنچ ہی نہیں سکا، وقوفِ عرفہ نکل گیا اور وقوفِ عرفہ نکل گیا تو حج فوت ہو گیا، تو کیا اس صورت میں بھی اس پر ضمان آئے گا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، اس صورت میں اس پر ضمان نہیں کیونکہ یہ اس نے اپنے اختیار سے فوت نہیں کیا۔ ”أَمَّا إِذَا جَامَعَ بَعْدَ الْوُقُوْفِ لَا يَفْسُدُ حَجُّهُ“ اور باقی جب اس نے صحبت کی ہو وقوف کے بعد تو پھر اس کا حج فاسد نہیں ہوگا ”وَلَا يَضْمَنُ النَّفَقَةَ“ اور اس یہ نفقے کا ضامن بھی نہیں ہوگا ”لِحُصُوْلِ مَقْصُوْدِ الْآمِرِ“ اس لیے کیونکہ بھیجنے والے کا مقصد حاصل ہو گیا، حج صحیح ہو گیا یا نہیں؟ تو حاصل ہو گیا۔ ”وَعَلَيْهِ الدَّمُ فِيْ مَالِهِ لِمَا بَيَّنَّا“ اور ہاں اس مامور پر دم واجب ہوگا اس کے اپنے مال میں اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا کہ یہ صحبت والی جنایت اس نے خود کی ہے۔ ”وَكَذٰلِكَ سَائِرُ دِمَاءِ الْكَفَّارَاتِ عَلَى الْحَاجِّ لِمَا قُلْنَا“ اور اسی طرح کفارات کے سارے دم جو ہیں وہ حاجی پر ہوں گے اس وجہ سے جو ہم نے کہی۔ یعنی حج، جو حجِ بدل کر رہا ہے، کوئی بھی جنایت کی وجہ سے کوئی بھی دم آیا تو یہ اس حج کرنے والے پر آئے گا، بھیجنے والے پر اس کا خرچہ نہیں آئے گا کیونکہ یہ جنایت یہ کرنے والا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ چلیے بس بھئی، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيْقَةِ الْكَلَامِ۔
169 approved lectures · 165 of 169