Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-018

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 04 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 14
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
سبق نمبر۔۱۸ الباب الأول في الخبر والإنشاء. كل كلام فهو إما خبر أو إنشاء. والخبر ما يصح أن يقال لقائله: إنه صادق فيه أو كاذب، كسافر محمد وعلى مقيم. والإنشاء ما لا يصح أن يقال لقائله ذلك، كسافر يا محمد وأقم يا علي. گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا کہ یہ علم جو ہے، اس کے اندر آٹھ ابواب اور ایک خاتمہ ذکر ہو گا بھئی۔ آٹھ ابواب ذکر ہوں گے اور ایک خاتمہ ذکر ہو گا۔ تو آج یہ پہلا باب شروع ہو رہا ہے اور انہوں نے بتلایا: الباب الأول في الخبر والإنشاء، کہ پہلا باب جو ہے خبر اور انشاء کے بارے میں ہے، یعنی ان کے بیان میں ہے۔ الباب الأول في بيان الخبر والإنشاء، پہلا باب ہے خبر اور انشاء کے بیان میں۔ بھئی یاد رکھیے، جو بھی کلام کیا جائے يا تو وہ خبر کے قبیل سے ہو گا يا انشاء کے قبیل سے ہو گا۔ دو ہی صورتیں ہیں: یا کلام کیا ہو گا؟ خبر، يا کلام کیا ہو گا؟ انشاء۔ خبر جس میں کسی چیز کی خبر دی جائے، بات بتلائی جائے اور اس کے کہنے والے کو سچا يا جھوٹا کہا جا سکے۔ اس کو کیا کہیں گے؟ خبر۔ کسی چیز کے بارے میں کوئی اطلاع دی جائے، کوئی بات بتلائی جائے اور اس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے، تو یہ کیا ہے؟ خبر ہے بھئی۔ تو خبر کی پہچان ہی اسی سے ہو گی کہ کلام آپ کے سامنے آئے اور آپ اس کو، اس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہہ سکتے ہیں، تو اس کا مطلب ہے یہ کلام کس قسم سے ہے؟ خبر کے قسم سے ہے بھئی۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو پھر وہ انشاء ہے بھئی، انشاء بھئی۔ مثلاً بھئی، آگے آپ کو یہ بتلائیں گے بھئی، اگر آپ کا کلام واقع کے مطابق ہو، تو آپ کو کہیں گے آپ سچے ہیں اور آپ کا کلام سچا ہے۔ مثلاً زید کھڑا ہے اور آپ کہتے ہیں: زید قائم، خارج اور واقع میں بھی زید کھڑا ہے اور آپ نے کلام بھی کیا کہا: زید قائم، تو دیکھیے آپ کا کلام واقع اور خارج کے مطابق ہوا، تو آپ کا کلام سچا ہے اور آپ سچے ہیں۔ اور اگر آپ نے تو کہا: زید قائم، اور واقع کے اندر زید کھڑا نہیں تھا بلکہ بیٹھا ہوا تھا، تو آپ کا کلام واقع کے مطابق نہیں ہے، لہذا اس صورت میں آپ کا کلام کاذب ہے بھئی، اور بات کرنے والا بھی کیا ہے؟ کاذب ہوا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو خبر کے اندر جو ہے، اس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکتا ہے۔ سچا یا جھوٹا، جبکہ انشاء ایسا نہیں بھئی، انشاء۔ انشاء کا معنی ہے وجود دینا بھئی، وجود دینا، پیدا کرنا، کسی چیز کو وجود دینا۔ انشأ ينشئ إنشاء کا معنی۔ اور انشاء کے اندر جو کلام کا مدلول ہے، اس کو وجود دینے کا ارادہ کیا جاتا ہے۔ انشاء میں کیا کیا جاتا ہے؟ کلام کا جو مدلول ہے، کلام کا جو معنی ہے، اس کو وجود دینے کا ارادہ ہوتا ہے۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: اضرب زيدا، اب دیکھیے "اضرب" امر آیا اور امر آپ نے پڑھا ہے کس قسم میں سے ہے؟ خبر ہے یا انشاء ہے؟ انشاء ہے۔ اضرب زيدا، آپ زید کی پٹائی کریں۔ اب اس کے کہنے والے کو کوئی سچا یا جھوٹا کہہ سکتا ہے؟ جی؟ اس میں تو کوئی خبر دی ہی نہیں گئی، کس بنا پر اس کو سچا یا جھوٹا کہیں؟ وہ تو صرف کیا کر رہا ہے؟ طلب کر رہا ہے زید کی پٹائی کو، اضرب زيدا۔ تو یہاں اس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا نہیں کہا جا سکتا بھئی۔ آپ اپنے ارد گرد، لوح و پیش پر نظر ڈالیں، کوئی اس طرح کا کلام کرے، کبھی کسی نے اس کو کہا یہ جھوٹ بول رہا ہے یا یہ سچ بول رہا ہے؟ باقی چیزوں میں آپ کہتے ہیں یہ آدمی سچ بول رہا ہے، یہ آدمی جھوٹ بول رہا ہے، لیکن اس قسم کا جملہ ہو، اس میں کبھی کوئی یہ کہے گا ہی نہیں کہ یہ سچا ہے یا جھوٹا۔ اور بات کے حوالے سے آپ اس کو سچا یا جھوٹا کہہ سکتے ہیں، لیکن یہ جو جملہ اس نے مثلاً کہا: اضرب زيدا، آپ زید کی پٹائی کیجیے، اس جملے میں اس کو کوئی بھی سچا یا جھوٹا نہیں کہے گا، کیونکہ اس سے سچ یا جھوٹے ہونے کا اس سے تعلق ہی نہیں ہے۔ سچا یا جھوٹا تو کب کہا جاتا ہے؟ جب کوئی اطلاع دی جائے، کوئی بات بتلائی جائے، وہ بات اگر واقع کے مطابق ہو گی تو اس کو کیا کہیں گے؟ سچا، اگر واقع کے مطابق نہیں تو اس میں کیا کہا جائے گا؟ یہ جھوٹا ہے۔ لیکن اضرب زيدا، اس کے اندر تو کوئی اطلاع ہی نہیں دی گئی، کوئی بات نہیں بتلائی گئی، بلکہ اس میں تو کیا مطالبہ کیا جا رہا ہے؟ زید کی پٹائی، اس میں تو مطالبہ کیا جا رہا ہے اس چیز کا، لہذا اس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا نہیں کہیں گے۔ تو خبر جو ہے، وہ ہے کہ جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے۔ اور انشاء جو ہے میں نے بتلایا، انشاء میں جو کلام کا مدلول ہوتا ہے، اس کو وجود دینے کو، کا ارادہ کیا جاتا ہے۔ کیا لفظ کہے میں نے؟ کلام کا جو مدلول، یوں کہیں معنی، جو کلام کا معنی ہوتا ہے، اس کو وجود دینے کا ارادہ کیا جاتا ہے۔ بھئی یہاں اضرب زيدا، اضرب زيدا، کیا معنی ہے؟ زید کی پٹائی کرو، تو یہ جو زید کی پٹائی ہے، اس کو وجود دینے کا ارادہ ہے آپ کا۔ آپ کا کیا مقصد ہے؟ کہ زید کی پٹائی کی جائے، تو دیکھو زید کی پٹائی کلام اس پر دلالت کر رہا ہے یا نہیں کر رہا؟ جی، تو اس کو وجود دینے کا ارادہ کیا گیا ہے بھئی، کہ یہ جو میں نے کہا، کیا کہا؟ زید کی پٹائی کرو، اس کو کیا کرو؟ وجود دے دو، یعنی خارج میں، واقع میں اس کی کیا کر دو؟ پٹائی کر دو۔ صورت سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ کہ انشاء میں کیا ہوتا ہے؟ کلام کا جو معنی اور مدلول ہوتا ہے اس کو وجود دینے کا ارادہ کیا جاتا ہے۔ کہنے والے کا ارادہ یہ ہوتا ہے کہ اس کو وجود دے دیا جائے، ایسا کر دیا جائے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ مثلاً آپ کہتے ہیں: لا تضرب زيدا، منع کرتے ہیں، لا تضرب زيدا، اب یہ خبر نہیں، اس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا نہیں کہہ سکتے، کیونکہ اس کا کیا معنی ہے لا تضرب زيدا؟ زید کی پٹائی مت کرو۔ تو اب یہاں کلام کا مدلول کیا ہے؟ زید کی پٹائی سے روکنا، زید کی پٹائی کو چھوڑنا، اس کو ترک کرنا، یہ اس کا مدلول ہے۔ اور یہ اس کو وجود دینے کا آپ نے ارادہ کیا ہے، آپ کیا چاہتے ہیں؟ کلام کرنے والا کیا چاہتا ہے؟ کہ زید کی پٹائی کو چھوڑنا جو ہے اس کو، ترکہ اس کو وجود دے دیا جائے، یعنی خارج میں زید کی پٹائی چھوڑ دی جائے، اس کی پٹائی نہ کی جائے بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا؟ یہ اسی طرح ہے، اور دیکھیے بھئی، يا زيد، یہ کیا ہے؟ انشاء ہے، ندا ہے نا ندا۔ آپ نے پڑھا ہے ندا بھی کس قسم میں سے ہے؟ انشاء کی قسموں میں سے ہے۔ کوئی شخص کہے: يا زيد، اے زید، کبھی کسی نے کہا یہ جھوٹ بول رہا ہے؟ یہ تو ندا دے رہا ہے، اس میں کوئی بات تو کر ہی نہیں رہا وہ، وہ تو صرف ندا دے رہا ہے، تو یہ بھی انشاء ہے، اس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا نہیں کہا جا سکتا۔ اب يا زيد، کیا مقصد ہے آپ کے اس کلام کے لانے کا؟ ندا کیوں دی جاتی ہے؟ دوسرے کو متوجہ کرنے کے لیے، کس لیے؟ دوسرے کو متوجہ کرنے کے لیے اس کو بلانے کے لیے، تو یہاں پر بھی کیا مقصود ہے يا زيد کے اندر؟ کہ زید جو ہے، زید کا متوجہ ہونا اس کو وجود دیا جائے، یعنی زید کو کیا کرنا چاہیے؟ میری طرف متوجہ ہو جانا چاہیے، آپ اس بات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ انشاء ہے بھئی، انشاء کے اندر کلام کے مدلول کو وجود دینے کا ارادہ کیا جاتا ہے۔ تو یہ ندا بھی کس کی قسموں میں سے ہے؟ انشاء کی قسموں میں سے۔ اسی طرح قسم ہے بھئی، والله، والله، کیا معنی ہوا واللہ کا؟ میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں، یہ قسم ہے، اور اس کے کہنے والے کو کوئی کبھی سچا یا جھوٹا کہتا ہے؟ جی؟ واللہ، قسم اٹھانے والے کو کبھی سچا یا جھوٹا نہیں کہا جاتا۔ یہاں ایک قیمتی بات آپ کو بتلاؤں، ایک ہے ندا، ایک ہے جواب ندا۔ اسی طرح ایک ہے قسم، ایک ہے جواب قسم۔ بھئی آپ نے علی کو ندا دی، آپ نے زید کو ندا دی: يا زيد، تو اسی پر خاموش ہو جائیں گے یا آگے بھی کوئی بات کریں گے، کوئی مقصد ہو گا آپ کا؟ جی؟ آگے کوئی مقصد ہو گا، وہ بات کریں گے۔ یاد رکھیں وہ جو آگے بات کریں گے، وہ ہے جواب ندا، اور ندا صرف کتنی تھی؟ يا زيد، یہ ہے صرف ندا، اور آگے جو کچھ بھی کہیں وہ ہے جواب ندا۔ تو جواب ندا اور چیز، ندا اور چیز۔ جو آپ نے نحو کے اندر پڑھا ہے کہ ندا کس کی قسموں میں سے ہے؟ انشاء، یہ صرف پہلا حصہ يا زيد، یہ ہے ندا، یہ کیا ہے؟ اس کے اعتبار سے کسی کو سچا یا جھوٹا نہیں کہا جا سکتا، آگے جواب ندا، وہ تو خبر بھی ہو سکتی ہے، وہ تو انشاء بھی ہو سکتا ہے، وہ تو الگ جملہ ہو گا۔ مثلاً دیکھیے بھئی، آگے میں جواب ندا لاؤں گا اور وہ جملہ خبریہ ہو گا، اس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے گا۔ يا زيد جاء عمرو، اے زید! عمرو آ گیا ہے۔ اب جاء عمرو، یہ کیا ہے؟ جواب ندا، اور اس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہہ سکتے ہیں یا نہیں کہہ سکتے؟ کہہ سکتے ہیں۔ جاء عمرو، اگر عمرو آیا ہے تو آپ کا کلام سچا اور آپ سچے۔ اور اگر جاء عمرو، یہ کلام واقع کے مطابق نہ ہو، واقع میں عمرو نہیں آیا، جاء عمرو میں عمرو نہیں آیا، اور آپ نے تو کہا ہے جاء عمرو، تو یہ آپ کا کلام واقع کے مطابق نہیں، تو لہذا اس کو کیا کہا جائے گا؟ کلام کاذب کہا جائے گا، اور بات کرنے والے کو بھی کیا کہا جائے گا؟ کاذب کہا جائے گا بھئی۔ تو دیکھیے، يا زيد جاء عمرو، تو جاء عمرو ہے جواب ندا، اور اس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکتا ہے۔ تو جواب ندا اور چیز، ندا اور چیز۔ اچھا، اب دیکھیے جواب ندا کی میں مثال ذکر کروں گا اور جواب ندا جملہ انشائیہ ہو گا۔ يا زيد اضرب عمرا، اے زید! عمرو کی پٹائی کر۔ اب اضرب عمرا، یہ کیا ہے؟ جملہ انشائیہ، کیونکہ امر ہے، حکم دیا جا رہا ہے۔ تو جواب ندا یاد رکھیے ہمیشہ وہ اور چیز ہے، اور ندا اور چیز ہے، اور نحو کی کتابوں میں جو آپ پڑھتے ہیں کہ ندا انشاء کی قسم ہے، ندا؟ تو آپ کے سامنے ایک جملہ آئے: يا زيد جاء عمرو، کس حصے کو کہیں گے انشاء؟ يا زيد، صرف ندا کو، اور یہ ہے جو نحو کی کتابوں میں لکھا ہوتا ہے کہ ندا انشاء کی قسم ہے۔ تو جواب ندا مراد نہیں، جواب ندا تو اور چیز ہے، وہ تو جملہ خبریہ بھی ہو سکتا ہے اور جملہ انشاء۔ اگر جملہ خبریہ ہے تو کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہہ سکتے ہیں اس کے اعتبار سے، اور اگر وہ بھی جملہ انشائیہ ہے تو پھر اس میں بھی سچا یا جھوٹا نہیں کہہ۔ تو ندا اور چیز، جواب ندا اور چیز، لیکن ہمارے ہاں شائع غلطیوں میں سے ہے، جب بھی ترکیب کی جاتی ہے، یہ پہلے حصے کو کہتے ہیں ندا، دوسرے کو کیا کہتے ہیں؟ جواب ندا، دونوں کو ملا کر کہتے ہیں جملہ ندائیہ انشائیہ ہوا، کیا کہتے ہیں؟ حالانکہ جو نحو میں انشاء ہے، وہ یہ سارا جملہ ہوتا ہے یا صرف پہلا حصہ؟ پہلا حصہ، تو یہ شائع غلطیوں میں سے ہے، سارے کو انشائیہ نہیں کہہ سکتے بھئی، صرف پہلا حصہ جو ہے وہ ہے ندا اور اس کو انشاء کہیں گے۔ باقی جواب ندا الگ چیز ہے، اس میں پھر غور کریں وہ انشاء ہے یا خبر ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اسی طرح قسم بھئی، آپ نے پڑھا قسم بھی انشاء کی قسموں میں سے ہے، قسم بھی انشاء کی قسموں میں سے ہے۔ اسی طرح قسم ہے، قسم بھی آپ نے پڑھا ہے انشاء کی قسموں میں سے ہے، نحو کی کتابوں میں پڑھا ہو گا کہ قسم کس قسم میں سے ہے؟ انشاء۔ اب قسم میں یاد رکھیے، والله یا اسی طرح باللہ یا تاللہ، جس طرح بھی قسم آ جائے عربی کے اندر، تو یہ جو پہلا حصہ ہے والله، یہ ہے قسم، یہ کیا ہے؟ اس کے اعتبار سے کسی کو سچا یا جھوٹا نہیں کہا جا سکتا، یہ ہے انشاء یہ پہلا حصہ واللہ، اس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کوئی بھی نہیں کہتا اور نہ کہہ سکتا ہے۔ ہاں، آگے جواب قسم آئے گا، جواب قسم اور چیز ہے بھئی، اس کے کہنے والے کو تو سچا یا جھوٹا کہا جا سکتا ہے اگر وہ جملہ خبریہ ہے، اور اگر وہ بھی مثلاً جملہ انشائیہ ہے تو اس کے کہنے والے کو بھی پھر سچا یا جھوٹا نہیں، تو قسم اور چیز، جواب قسم اور چیز۔ آپ بھی تو دیکھتے ہیں، اس کا مشاہدہ کرتے ہیں، آپ نے پڑھا ہے کہ قسم کس قسم میں سے ہے؟ انشاء، اور انشاء کس کو کہتے ہیں؟ جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا نہ کہا جا سکے، لیکن آپ تو کہتے ہیں، ایک آدمی قسم اٹھا کے ایک بات کرتا ہے، آپ کہتے ہیں کہ یہ سچ بول رہا ہے اس نے قسم اٹھا لی ہے، آپ کہتے ہیں یا نہیں کہتے؟ اس نے قسم اٹھائی ہے یہ سچ بول رہا ہے، یا کبھی آپ کہتے ہیں کہ قسم اٹھانے کے باوجود یہ کیا کر رہا ہے؟ جھوٹ، کہتے ہیں یا نہیں کہتے؟ دیکھا، تو یہ کس اعتبار سے؟ یہ وہ واللہ کے اعتبار سے نہیں کہتے آپ، وہ جو آگے جواب قسم ہوتا ہے اس کے اعتبار سے آپ اس کو سچا یا جھوٹا کہہ رہے ہوتے ہیں۔ تو معلوم ہوا جواب قسم اور چیز ہے، اس کا انشاء ہونا ضروری نہیں ہے، ورنہ آپ سچا یا جھوٹا کیسے کہہ سکتے تھے اس کو بھئی؟ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ہمارے ہاں شائع غلطیوں میں سے ہے، ندا کے ساتھ جواب ندا کو ملایا جاتا ہے اور پھر کہتے ہیں یہ سارا جملہ ندائیہ انشائیہ ہوا، یوں نہیں کہنا چاہیے بلکہ صرف کہنا چاہیے: جملہ ندائیہ ہوا، کیا ہوا جملہ؟ انشاء صرف کون سا حصہ اس میں سے؟ پہلا حصہ، دوسرا انشاء بھی ہو سکتا ہے اور خبر بھی ہو سکتا ہے، وہ اس کو آپ موقع کے مطابق جو جملہ ہے اس میں آپ غور کریں گے۔ اسی طرح ہمارے ہاں شائع یہ ہے، جملہ قسمیہ آتا ہے، قسم کو جواب قسم کے ساتھ ملاتے ہیں اور پھر کہتے ہیں یہ جملہ قسمیہ انشائیہ ہوا، کیا ہوا؟ حالانکہ یہ سارا انشائیہ ہے؟ نہیں، انشاء تو صرف پہلا حصہ ہے، تو صرف یہ کہہ سکتے ہیں: جملہ قسمیہ ہوا، لیکن انشائیہ کی قید ساتھ نہیں بڑھا سکتے، کیونکہ انشاء صرف پہلا حصہ ہے، دوسرے حصے کا تو پتہ ہی نہیں ہو سکتا ہے وہ انشاء نہ ہو، وہ کیا ہو؟ خبر ہو بھئی۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی، تو معلوم ہوا نحو کی کتابوں میں جو آتا ہے کہ قسم انشاء کی قسم ہے، اس سے صرف کون سا حصہ مراد ہوتا ہے؟ پہلا حصہ، یعنی والله، اور نحو میں آپ پڑھتے ہیں کہ ندا انشاء کی قسموں سے میں سے ہے، اس سے صرف کون سا حصہ مراد ہوتا ہے؟ صرف پہلا حصہ، يا زيد، یہ مراد ہوتا ہے بھئی، یہ مراد ہوتا ہے۔ تو حاصل بحث کیا ہوا؟ خبر وہ ہے جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے، اور انشاء وہ ہے جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا نہ کہا جا سکے۔ پھر خبر کے اندر آپ کو بتلائیں گے یہ، کہ اگر خبر واقعے اور خارج کے مطابق ہے تو اس کا کہنے والا سچا اور وہ خبر بھی سچی، اور اگر خبر واقعے کے مطابق نہیں تو پھر یہ خبر کاذب ہے اور اس کا کہنے والا بھی کاذب ہے، جھوٹا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ مثلاً میں نے مثال ذکر کر دی: زيد قائم آپ نے کہا، اگر واقعے کے اندر واقعی زید کھڑا ہے، تو پھر آپ کا یہ کلام کیا ہے؟ واقعے کے مطابق ہے اور تو یہ کلام بھی صادق اور بات کرنے والا بھی صادق، اور اگر آپ نے کہا: زيد قائم، اور واقعے کے اندر اور خارج میں تو زید بیٹھا ہوا ہے، تو آپ کا کلام واقعے کے مطابق نہ ہوا، لہذا یہ کلام بھی کاذب اور اس کلام کا کرنے والا بھی کیا کہلائے گا؟ کاذب کہلائے گا بھئی، کاذب کہلائے گا، جبکہ انشاء میں ایسا نہیں، اس کے کہنے والے کو کبھی بھی سچا یا جھوٹا نہیں کہا جا سکتا بھئی۔ دیکھیے کتاب پر یہی بات بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: كل كلام فهو إما خبر أو إنشاء، ہر کلام جو ہے تو وہ یا تو خبر ہو گا یا انشاء، والخبر ما يصح أن يقال لقائله: إنه صادق فيه أو كاذب، اور خبر جو ہے ما وہ کلام ہے، ما سے کیا مراد ہے؟ کلام بھئی، اور وہ خبر جو ہے وہ کلام ہے، يصح، صحیح ہو أن يقال لقائله کہ کہا جائے اس کے کہنے والے کو، یعنی اس کے کہنے وہ خبر وہ کلام ہے کہ اس کے کہنے والے کو یہ کہنا صحیح۔ ملاحظہ فرمائیں: کہ وہ اس کلام میں صادق ہے او کاذب یا اس میں کاذب ہے۔ تو اس یعنی اس کے کہنے والے کو صادق یا کاذب کہا جا سکے بھئی۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ کَسَافَرَ مُحَمَّدٌ وَعَلِيٌّ مُقِيمٌ۔ جی، سَافَرَ مُحَمَّدٌ عَلِيٌّ مُقِيمٌ۔ اب دیکھیے، سَافَرَ مُحَمَّدٌ، آپ کا مثلاً ایک ساتھی ہے، اس کا نام محمد ہے۔ آپ کہتے ہیں، اب دوسرے ساتھی کو بتلاتے ہیں، سَافَرَ مُحَمَّدٌ، محمد سفر پر گیا ہے، محمد نے سفر کیا ہے، یعنی سفر پر گیا ہے۔ اب اگر خارج میں اور واقعہ کے اندر واقعی وہ آپ کا ساتھی جو محمد ہے وہ سفر پر گیا ہوا ہے، تو آپ کا یہ کلام واقعہ کے مطابق ہے اور اس صورت میں بات کرنے والے کو کیا کہیں گے؟ صادق۔ اور یہ کلام بھی کس قسم کا؟ صادق ہوا اور اگر وہ آپ کا ساتھی جو ہے وہ سفر پر نہیں گیا ہوا اور آپ تو کہہ رہے ہیں سَافَرَ مُحَمَّدٌ، تو آپ کا یہ کلام واقعہ کے مطابق نہیں، لہٰذا اس یہ کلام بھی کیا ہوا؟ کاذب اور اس کا کہنے والا بھی کیا کہلائے گا؟ کاذب بھئی۔ تو دیکھا، سَافَرَ مُحَمَّدٌ ایسا کلام ہے جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکتا ہے۔ وَعَلِيٌّ مُقِيمٌ، علی مقیم ہے، یعنی مسافر نہیں ہے۔ علی کیا ہے؟ مقیم ہے۔ اب دیکھیے، یہاں بھی اسی طرح۔ آپ نے اپنے ساتھی سے کہا: علی مقیم ہے، یعنی مسافر نہیں ہے۔ اگر آپ کا یہ کلام واقعہ کے مطابق ہو تو کلام سچا، اگر واقعہ کے مطابق نہیں تو کلام جھوٹا۔ تو یہ ایسا ایسا کلام ہے جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکتا ہے۔ واقعہ کے مطابق ہے تو سچا، واقعہ کے مطابق نہیں تو جھوٹا ہے بھئی۔ اچھا بھئی، اس کو پڑھیں گے کیسے؟ یاد رکھیے بھئی، عَلِيٌّ، آخر میں کیا آ رہا ہے؟ نونِ ساکن، عَلِيٌّ۔ یہ نونِ تنوین ہے نا؟ عَلِيٌّ مُقِيمٌ، سب اسی طرح پڑھیں گے، عَلِيٌّ مُقِيمٌ، یوں نہیں پڑھیں گے اس کو بھئی، عَلِيٌّ مُقِيمٌ۔ علیٌّ کے آخر میں بھی میم آئے گا، نون نہیں، عَلِيٌّ مُقِيمٌ۔ بھئی، یہ کیوں، اس کی کیا وجہ ہے؟ بھئی، آپ صرف کے اندر ضابطہ پڑھ چکے۔ توّجہ سے سننا ضابطہ، یہ جگہ جگہ آپ کو عبارتوں میں کام دے گا۔ صرف میں ضابطہ پڑھا ہے کہ نونِ ساکن کے بعد، کس کے بعد؟ نونِ ساکن کے بعد اگر حروفِ یرملون میں سے کوئی بھی آ جائے، پہلے کون آیا؟ نونِ ساکن، پھر کیا آیا؟ حروفِ یرملون میں سے، یرملون: یا، را، میم، لام، واؤ، نون۔ ان میں سے کوئی بھی آ جائے، کس کے بعد آئے؟ نونِ ساکن کے بعد، تو اس نونِ ساکن کو اسی بعد والے حرف کی جنس میں بدل کر، جنس سے بدل کر اس میں ادغام کر دیا جائے گا۔ بھئی، نونِ ساکن آیا اور اس کے بعد یا آ گئی یا اس کے بعد را آ گئی یا میم آیا یا کیا آیا؟ لام یا واؤ یا نون، تو نونِ ساکن کے بعد ان میں سے کوئی حرف آ گیا، تو اس نون کو بھی بدل دیں گے اسی حرف سے جو اس نون کے بعد آ رہا ہے، وہ کون سا حرف ہے؟ یا، را، میم، لام، واؤ اور نون، اسی سے بدل کر اس میں ادغام کر دیں گے بھئی، کیا کریں گے اس میں؟ ادغام کر دیں گے بھئی۔ یہاں پر بھی دیکھیے، عَلِيٌّ، عَلِيٌّ کے آخر میں کیا آیا؟ نونِ ساکن، تو نونِ ساکن آ گیا کلام میں، اور آگے آیا مُقِيمٌ، مُقِيمٌ میم شروع میں کیا ہے؟ میم ہے، تو نونِ ساکن کے بعد کیا آیا؟ میم آیا، اور میم کس میں سے ہے؟ حروفِ یرملون، یا، را، میم، دیکھو اس میں میم بھی ہے، تو میم سے پہلے نونِ ساکن آ گیا، اور میم سے پہلے نونِ ساکن آئے تو اس نون کو بھی کیا کریں گے؟ اسی کی جنس سے بدل دیں گے، اس نون کو بھی میم کر کے میم میں ادغام، اگر یہاں پر یا ہوتی، تو اس نون کو یا کر کے یا میں ادغام کرتے، اگر یہاں پر لام ہوتا میم کی جگہ، تو اس نون کو لام کر کے لام میں، تو بس یرملون میں سے جو بھی حرف آ جائے اور اس سے پہلے نونِ ساکن ہو، تو نونِ ساکن کو اسی حرف کی جنس سے بدل کر اس میں کیا کر دیا جاتا ہے؟ ادغام کر دیا جاتا ہے، تو عَلِيٌّ مُقِيمٌ ہو گیا بھئی، عبارت سمجھ میں آئی بھئی؟ عَلِيٌّ مُقِيمٌ۔ اسی طرح مثال ہے بھئی، زَيْدٌ رَجُلٌ، زَيْدٌ رَجُلٌ، دیکھو سب اسی طرح پڑھتے ہیں، حالانکہ اس طرح نہیں پڑھا جائے گا، بلکہ زَيْدٌ رَجُلٌ، را مشدد ہو جائے گی، نون بیچ میں سے ختم ہوا، زَيْدٌ رَجُلٌ، یہ کیسے ہوا؟ زَيْدٌ، اس کے آخر میں کیا تھا؟ نونِ ساکن تنوین والا، اور رَجُلٌ کے شروع میں کیا؟ را، تو را سے پہلے نونِ ساکن آ گیا، اور را کس میں سے ہے؟ یرملون، یا، را، دیکھو را اس میں سے ہے، تو اس سے پہلے نونِ ساکن آیا، تو اس نونِ ساکن کو بھی کیا کریں گے؟ اسی را سے بدل، را کی جنس سے بدل دیں گے اور پھر را کا را میں ادغام، تو نون ختم ہوا اور را مشدد ہو گئی، تو کیسے پڑھیں گے؟ زَيْدٌ رَجُلٌ، زَيْدٌ رَجُلٌ، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: وَالخَبَرُ مَا يَصِحُّ أَنْ يُقَالَ لِقَائِلِهِ إِنَّهُ صَادِقٌ فِيهِ أَوْ كَاذِبٌ۔ اور خبر وہ کلام ہے کہ صحیح ہو کہ کہا جا سکے اس کے کہنے والے کو کہ وہ اس کلام کے اندر صادق ہے او کاذب یا اس میں کاذب ہے، جھوٹا ہے، کَسَافَرَ مُحَمَّدٌ وَعَلِيٌّ مُقِيمٌ۔ دیکھیے، سَافَرَ مُحَمَّدٌ وَعَلِيٌّ مُقِيمٌ، واؤ بھی مشدد میں پڑھ رہا ہوں، کیوں پڑھ رہا ہوں؟ وہی یرملون، دیکھو مُحَمَّدٌ آخر میں کیا آیا؟ نونِ ساکن، اس کے بعد کیا آیا؟ واؤ، اور واؤ یرملون، یا، را، میم، لام، واؤ، نون، دیکھو واؤ بھی انہی میں سے ہے، تو واؤ سے پہلے کیا آیا نونِ ساکن، اس نون کو بھی واؤ کر کے واؤ میں کیا کر دیا گیا؟ ادغام، تو کیا بن گیا؟ مُحَمَّدٌ وَعَلِيٌّ مُقِيمٌ، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وَالإِنْشَاءُ مَا لاَ يَصِحُّ أَنْ يُقَالَ لِقَائِلِهِ ذٰلِكَ۔ اور انشاء وہ کلام ہے کہ صحیح نہ ہو کہ کہا جا سکے اس کے کہنے والے کو ذٰلِكَ، یہ چیز، اس کو یہ بات، اس کو یہ بات نہ کہی جا سکے، کون سی بات؟ جو اوپر گزری کہ وہ صادق ہے یا کاذب ہے بھئی۔ تو انشاء وہ کلام ہے لاَ يَصِحُّ أَنْ يُقَالَ لِقَائِلِهِ ذٰلِكَ کہ صحیح نہ ہو اس کے کہنے والے کو یہ بات کہنا، کَسَافِرْ يَا مُحَمَّدُ وَأَقِمْ يَا عَلِيُّ، جیسے کہ مثال ذکر کر رہے ہیں نا کاف کے ساتھ، کَسَافِرْ يَا مُحَمَّدُ، سَافِرْ کون سا صیغہ ہے؟ امر کا، سفر کرو اے محمد! تو یہ سَافِرْ یہ امر ہے بھئی، امر، اور امر وہ کس قسم میں سے ہے؟ انشاء، اے محمد سفر کرو، سفر پر نکلو، کوئی اس کہنے والے کو جھوٹا یا سچا کہہ سکتا ہے؟ نہیں بھئی۔ اسی طرح يَا مُحَمَّدُ دوسرا اسی کلام کا جو حصہ ہے، ندا ہے اور ندا والے کو بھی، ندا بھی کس قسم میں سے ہے؟ انشاء میں سے۔ جی، وَأَقِمْ يَا عَلِيُّ اور مقیم ہو جاؤ اے علی! مقیم ہو جاؤ یعنی سفر چھوڑ دو، مقیم ہو جاؤ، تو یہ أَقِمْ امر آیا، امر کس قسم میں سے ہے؟ انشاء ہے، اور دوسرا حصہ اسی کا کلام کا يَا عَلِيُّ یہ ندا ہے۔ وَالْمُرَادُ بِصِدْقِ الْخَبَرِ مُطَابَقَتُهُ لِلْوَاقِعِ وَبِكَذِبِهِ عَدَمُ مُطَابَقَتِهِ لَهُ۔ بھئی، میں نے آپ کو بتایا خبر کو سچا کب کہیں گے؟ خبر سچی کب ہوتی ہے؟ جب وہ واقعہ کے مطابق ہو، اور اگر خبر واقعہ کے مطابق نہ ہو تو وہ خبر کیا ہے؟ جھوٹی ہے، یہی بات بیان کر رہے ہیں: وَالْمُرَادُ بِصِدْقِ الْخَبَرِ اور خبر کے سچا ہونے سے مراد جو ہے، مُطَابَقَتُهُ لِلْوَاقِعِ وہ اس خبر کا مطابق ہونا ہے واقعہ کے، وَبِكَذِبِهِ عَدَمُ مُطَابَقَتِهِ لَهُ اور بِكَذِبِهِ، ای بِكَذِبِ الْخَبَرِ اور خبر کے جھوٹا ہونے سے مراد جو ہے، عَدَمُ مُطَابَقَتِهِ وہ اس خبر کا مطابق نہ ہونا ہے لَهُ، ای لِلْوَاقِعِ کس کے؟ واقعہ کے، خبر واقعہ کے مطابق، تو خبر واقعہ کے مطابق ہے تو وہ سچی ہے، اگر خبر واقعہ کے مطابق نہیں تو وہ جھوٹی ہے بھئی۔ فَجُمْلَةُ عَلِيٌّ مُقِيمٌ إِنْ كَانَتِ النِّسْبَةُ الْمَفْهُومَةُ مِنْهَا مُطَابِقَةً لِمَا فِي الْخَارِجِ فَصِدْقٌ وَإِلاَّ فَكَذِبٌ۔ پس یہ جو جملہ ہے عَلِيٌّ مُقِيمٌ، یہ جو جملہ ہے إِنْ كَانَتِ النِّسْبَةُ الْمَفْهُومَةُ، اچھا بھئی، یہاں نسبت کا ذکر آیا، نسبت کو سمجھ لیجیے بھئی، توجہ سے، توجہ سے۔ یاد رکھیے نسبت تین قسم کی ہے۔ کتنی قسم کی؟ تین قسم کی ہے نسبت: ایک نسبتِ کلامی، ایک نسبتِ ذہنی، ایک نسبتِ خارجی۔ نسبت کتنی قسم کی ہے؟ آسان سی بات ہے بھئی، ایک نسبتِ کلامی ہے، ایک نسبتِ ذہنی ہے اور ایک نسبتِ خارجی ہے۔ نسبتِ کلامی وہ نسبت جو کلام کے اندر پائی جائے، نسبتِ ذہنی وہ نسبت جو ذہن میں پائی جائے، نسبتِ خارجی وہ نسبت جو کس میں پائی جائے؟ خارج میں پائی جائے، آسان سی بات ہے۔ دیکھیے، میں نے آپ کے سامنے ایک جملہ کہا: زَيْدٌ قَائِمٌ، کیا کہا؟ دیکھیے، اب اس جملے کے اندر نسبت ہے، زید ہے مبتدا اور قائمٌ ہے اس کی خبر، تو خبر کا اسناد ہوتا ہے، خبر کی نسبت ہوتی ہے کس کی طرف؟ مبتدا کی طرف۔ تو یہ قائمٌ کا حکم میں کس پر لگا رہا ہوں؟ زید پر لگا رہا ہوں، تو یہ قائمٌ کی نسبت زید کی طرف ہے، قائمٌ کی نسبت؟ یہ ہے نسبتِ کلامی۔ کلام کے اندر جو نسبت پائی جاتی ہے، یہ نسبتِ کلامی، یا اسی طرح جملہ فعلیہ لے لیں، قَامَ زَيْدٌ، قَامَ فعل، زَيْدٌ اس کا فاعل، تو قَامَ کا اسناد ہوا کس کی طرف؟ زید کی طرف، یعنی یوں کہیں قَامَ کی نسبت ہوئی کس کی طرف؟ زید کی طرف گئی زید کی طرف، تو نسبت کلام میں ضرور ہو گی کیونکہ کلام ہوتا ہی وہ ہے جس کے اندر اسناد پایا جائے، جس کے اندر نسبت پائی جائے، صرف لفظِ زید ہو، میں کہتا ہوں: زید، بات آپ کو پوری سمجھ میں آئی؟ آپ کہیں گے بھئی، کیا ہوا زید کو، بات تو پوری کریں، میں نے صرف کیا کہا تھا؟ زید، اور بات میں نے کی نہیں، لیکن جب میں کہتا ہوں: زَيْدٌ قَائِمٌ، اب آپ کو پوری بات سمجھ میں آ گئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اکیلا میں قائمٌ کہوں، پھر بھی آپ کو بات سمجھ میں نہیں آئے گی، تو نسبت کلام کے اندر ہمیشہ پائی جائے گی دو لفظوں کے اندر اور نسبت ہو گی تو کلام بنے گا، تو یہ جو نسبت، یہ جو کلام کے اندر پائی جا رہی ہے، یہ ہے نسبتِ کلامی، یہ کیا ہے؟ یہ جو ایک لفظ کا اسناد ہوا ہے، ایک لفظ کی نسبت ہوئی ہے دوسرے لفظ کی طرف، یہ کیا ہے نسبتِ کلامی ہے، نسبتِ کلامی۔ تو میں نے کیا کلام کیا؟ زَيْدٌ قَائِمٌ، زَيْدٌ زَيْدٌ قَائِمٌ، اور اس کلام میں نسبت پائی جا رہی ہے، کس کی نسبت کس کی طرف ہو رہی ہے؟ قائمٌ کی نسبت کس کی طرف؟ زید کی طرف، تو یہ کیا ہوئی؟ نسبتِ کلامی۔ اور آپ جب کوئی کلام کرتے ہیں، تو پہلے اس کو ذہن میں لاتے ہیں، سوچتے ہیں، پھر کرتے ہیں یا خود بخود ہی زبان پہ لفظ آ جاتے ہیں؟ پہلے بات ذہن میں آتی ہے، پھر زبان پر آتی ہے، تو پہلے یہ نسبت آپ کے ذہن میں آئی، کہاں پر آئی؟ آپ نے اس کا تصور کیا، تو یہ نسبت جو ذہن میں آپ نے قیام کی نسبت کس کی طرف کی؟ زید کی طرف، یہ ہے نسبتِ ذہنی۔ کلام میں آپ نے کیا کیا ہے؟ قیام کی نسبت کس کی طرف کی ہے؟ زید، تو پہلے ذہن کے اندر اس کا تصور کیا ہو گا اس بات کا اور ذہن کے اندر آپ نے قیام کی نسبت کس کی طرف کی ہو گی؟ زید کی طرف، یہ ہے نسبتِ ذہنی، اور پھر آپ نے زبان پر بھی کہا زَيْدٌ قَائِمٌ کلام کے اندر بھی آپ کلام بھی لے آئے نسبت والا بھئی، تو ذہن میں جو قیام کی نسبت زید کی طرف کی گئی، یہ ہے نسبتِ ذہنی بھئی، اور کلام کے اندر یہی نسبت جو پائی جا رہی ہے، وہ کیا ہے؟ نسبتِ کلامی ہے بھئی، تو بس۔ نسبتِ کلامی اور نسبتِ ذہنی میں فرق صرف اعتباری ہے۔ نسبتِ کلامی اور نسبتِ ذہنی میں فرق صرف اعتباری ہے، یہی نسبت بعینہٖ کہ کلام میں موجود ہے، یہ نسبتِ کلامی کہلائے گی، اور یہی نسبت بعینہٖ کہ ذہن میں موجود ہے، یہ نسبتِ ذہنی کہلائے گی بھئی۔ فرق سمجھ میں آیا؟ نسبتِ کلامی اور نسبتِ ذہنی میں فرق کیا ہے صرف؟ صرف اعتباری ہے، ایک ہی چیز ہیں دونوں، صرف اعتباری فرق، بس اتنا فرق ہے، یہی نسبت اگر اس کو اس لحاظ سے دیکھا جائے کہ یہ کلام میں پائی جا رہی ہے، تو اس کو کہیں گے نسبتِ کلامی، اور اس اعتبار سے اس پر نظر کی جائے کہ یہ نسبت ذہن میں بھی پائی جا رہی ہے، اسی کو کیا کہیں گے؟ نسبتِ ذہنی کہیں گے، تو نسبتِ ذہنی اور نسبتِ کلامی میں فرق صرف اعتباری ہے، وہی نسبت بعینہٖ کہ کلام میں موجود ہے، وہ نسبتِ کلامی، اور وہی نسبت بعینہٖ کہ ذہن کے اندر موجود ہے، وہ نسبتِ ذہنی ہے بھئی۔ تیسری نسبت ہے نسبتِ خارجی، نسبتِ خارجی، نسبتِ خارجی، بھئی اب کلام کو چھوڑ دیں، ذرا خارج پہ نظر کریں، خارج میں زید کھڑا ہے یا بیٹھا ہے؟ فرض کریں وہ کھڑا ہے، زید کیا ہے؟ تو خارج میں زید کے لیے قیام ثابت ہے یا نہیں؟ ثابت، بس یہ ہے نسبتِ خارجی، خارج میں قیام کی جو نسبت ہو رہی ہے زید کی طرف، وہ ہے نسبتِ خارجی، اور اگر خارج میں زید بیٹھا ہوا ہے، خارج میں، تو آپ بتائیے، خارج میں قیام کی نسبت زید کی طرف زید کے لیے ثابت ہے یا نہیں؟ نہیں، وہ بیٹھا ہوا ہے، تو قیام کی نسبت اس کے لیے ثابت نہیں، یہ ہے نسبتِ خارجی۔ بھئی، نسبت کی بات کر رہا ہوں نا، نسبت اس با، نسبت جو ہے، اس میں کسی چیز کا اثبات بھی ہو سکتا ہے، نفی بھی ہو سکتی ہے، کبھی نفی والی نسبت ہو گی، کبھی کون سی نسبت ہو گی؟ اثبات، میں کہتا ہوں: زَيْدٌ لَيْسَ بِقَائِمٍ، اب میں کیا کر رہا ہوں؟ کلام ہے یا نہیں یہ؟ کلام کر رہا ہوں، لیکن اس میں زید کے لیے قیام کا اثبات کر رہا ہوں یا نفی کر رہا ہوں؟ نفی، تو نسبت تو ابھی بھی ہے، لیکن پہلے کون سی نسبت تھی؟ اثبات تھا، اب کیا ہے؟ نفی، نفی والی نسبت ہے، اسی طرح خارج میں بھی زید اگر کھڑا ہے، تو اس کے لیے زید کے لیے قیام کی نسبت یعنی قیام اس کے لیے ثابت ہے، اور اگر زید بیٹھا ہوا ہے، تو زید کے لیے سے قیام کی نفی ہے، تو یہ نفی والی نسبت اس کے لیے ثابت ہے بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو معلوم ہوا، نسبتِ کلامی وہ نسبت ہے جو کس کے اندر ہو؟ کلام کے اندر، نسبتِ ذہنی وہ نسبت ہے جو کس کے اندر ہو؟ ذہن کے اندر، اور نسبتِ خارجی وہ نسبت ہے جو کس میں ہو؟ خارج کے اندر ہو بھئی، خارج میں وہ چیز اس شخص کے لیے ثابت ہے، تو کہیں گے اثبات ہے بھئی، اثبات والی نسبت ہے اس کی طرف، اور اگر وہ چیز اس کے لیے ثابت نہیں، تو کیا کہیں گے؟ نفی والی نسبت ہے، نسبت تو ہو گی، لیکن اثبات والی ہو گی یا نفی والی ہو گی بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی۔ بہر حال ہیں تو یہ تین قسم کی نسبتیں، لیکن یہاں ہم بحث کریں گے صرف نسبتِ کلامی اور نسبتِ خارجی سے، کس سے بحث کریں گے؟ نسبتِ کلامی کون سی جو کس میں ہو؟ کلام، نسبتِ خارجی کون سی؟ جو خارج، بس اب دیکھیے بھئی، کتاب میں آپ کو بتائیں گے کہ نسبتِ کلامی اگر نسبتِ خارجی کے مطابق ہو، تو آپ کا کلام صادق ہے، سچا ہے، اور اگر نسبتِ کلامی نسبتِ واقعی کی، نسبتِ خارجی کے مطابق نہ ہو، تو آپ کا کلام کیا ہے؟ کاذب، دیکھیے میں نے کہا: زَيْدٌ قَائِمٌ، یہ ہے اس میں کون سی نسبت ہے؟ نسبتِ کلامی، اور نسبتِ کلامی میں زید کے لیے قیام کا اثبات ہے یا نفی؟ اثبات، تو یہ ہوئی نسبتِ کلامی زید کے لیے قیام کا اثبات ہے، اور خارج میں دیکھیں، اگر خارج میں بھی زید کھڑا ہے، اس کے لیے قیام ثابت ہے، تو وہ نسبتِ خارجی ہوئی، تو یہ میری جو نسبتِ کلامی ہے، جو میں نے زبان سے لفظ ادا کیے ہیں زَيْدٌ قَائِمٌ، ان کی نسبت اس خارجی نسبت کے مطابق ہو گئی، تو یہ ہے صدقِ خبر بھئی، یہ کیا ہے؟ صدقِ خبر، اور اگر میں نے کہا زَيْدٌ قَائِمٌ، اور خارج میں تو زید بیٹھا ہوا ہے، تو میری نسبتِ کلامی نسبتِ خارجی کے مطابق نہیں، میں نے تو کلام کے اندر زید کے لیے قیام کا اثبات کیا ہے، اور خارج میں تو زید کے قیام کی نفی ہے، کیا ہے؟ تو میری نسبتِ کلامی اس نسبتِ خارجی کے مطابق نہیں، یہ ہے کذبِ خبر، خبر کا جھوٹا ہونا، خبر جھوٹی ہے معلوم ہوا۔ بات سمجھ میں آئی؟ وہی بات جو تھی آسان سی، اسی کو ذرا علمی رنگ میں منطقی انداز میں ذکر کیا جا رہا ہے، آسان لفظوں میں، میں نے بتایا تھا، آپ کا ملاحظہ فرمائیں: کہ وہ اس کلام میں صادق ہے او کاذب یا اس میں کاذب ہے۔ تو اس یعنی اس کے کہنے والے کو صادق یا کاذب کہا جا سکے بھئی۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ کَسَافَرَ مُحَمَّدٌ وَعَلِيٌّ مُقِيمٌ۔ جی، سَافَرَ مُحَمَّدٌ عَلِيٌّ مُقِيمٌ۔ اب دیکھیے، سَافَرَ مُحَمَّدٌ، آپ کا مثلاً ایک ساتھی ہے، اس کا نام محمد ہے۔ آپ کہتے ہیں، اب دوسرے ساتھی کو بتلاتے ہیں، سَافَرَ مُحَمَّدٌ، محمد سفر پر گیا ہے، محمد نے سفر کیا ہے، یعنی سفر پر گیا ہے۔ اب اگر خارج میں اور واقعہ کے اندر واقعی وہ آپ کا ساتھی جو محمد ہے وہ سفر پر گیا ہوا ہے، تو آپ کا یہ کلام واقعہ کے مطابق ہے اور اس صورت میں بات کرنے والے کو کیا کہیں گے؟ صادق۔ اور یہ کلام بھی کس قسم کا؟ صادق ہوا اور اگر وہ آپ کا ساتھی جو ہے وہ سفر پر نہیں گیا ہوا اور آپ تو کہہ رہے ہیں سَافَرَ مُحَمَّدٌ، تو آپ کا یہ کلام واقعہ کے مطابق نہیں، لہٰذا اس یہ کلام بھی کیا ہوا؟ کاذب اور اس کا کہنے والا بھی کیا کہلائے گا؟ کاذب بھئی۔ تو دیکھا، سَافَرَ مُحَمَّدٌ ایسا کلام ہے جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکتا ہے۔ وَعَلِيٌّ مُقِيمٌ، علی مقیم ہے، یعنی مسافر نہیں ہے۔ علی کیا ہے؟ مقیم ہے۔ اب دیکھیے، یہاں بھی اسی طرح۔ آپ نے اپنے ساتھی سے کہا: علی مقیم ہے، یعنی مسافر نہیں ہے۔ اگر آپ کا یہ کلام واقعہ کے مطابق ہو تو کلام سچا، اگر واقعہ کے مطابق نہیں تو کلام جھوٹا۔ تو یہ ایسا ایسا کلام ہے جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکتا ہے۔ واقعہ کے مطابق ہے تو سچا، واقعہ کے مطابق نہیں تو جھوٹا ہے بھئی۔ اچھا بھئی، اس کو پڑھیں گے کیسے؟ یاد رکھیے بھئی، عَلِيٌّ، آخر میں کیا آ رہا ہے؟ نونِ ساکن، عَلِيٌّ۔ یہ نونِ تنوین ہے نا؟ عَلِيٌّ مُقِيمٌ، سب اسی طرح پڑھیں گے، عَلِيٌّ مُقِيمٌ، یوں نہیں پڑھیں گے اس کو بھئی، عَلِيٌّ مُقِيمٌ۔ علیٌّ کے آخر میں بھی میم آئے گا، نون نہیں، عَلِيٌّ مُقِيمٌ۔ بھئی، یہ کیوں، اس کی کیا وجہ ہے؟ بھئی، آپ صرف کے اندر ضابطہ پڑھ چکے۔ توّجہ سے سننا ضابطہ، یہ جگہ جگہ آپ کو عبارتوں میں کام دے گا۔ صرف میں ضابطہ پڑھا ہے کہ نونِ ساکن کے بعد، کس کے بعد؟ نونِ ساکن کے بعد اگر حروفِ یرملون میں سے کوئی بھی آ جائے، پہلے کون آیا؟ نونِ ساکن، پھر کیا آیا؟ حروفِ یرملون میں سے، یرملون: یا، را، میم، لام، واؤ، نون۔ ان میں سے کوئی بھی آ جائے، کس کے بعد آئے؟ نونِ ساکن کے بعد، تو اس نونِ ساکن کو اسی بعد والے حرف کی جنس میں بدل کر، جنس سے بدل کر اس میں ادغام کر دیا جائے گا۔ بھئی، نونِ ساکن آیا اور اس کے بعد یا آ گئی یا اس کے بعد را آ گئی یا میم آیا یا کیا آیا؟ لام یا واؤ یا نون، تو نونِ ساکن کے بعد ان میں سے کوئی حرف آ گیا، تو اس نون کو بھی بدل دیں گے اسی حرف سے جو اس نون کے بعد آ رہا ہے، وہ کون سا حرف ہے؟ یا، را، میم، لام، واؤ اور نون، اسی سے بدل کر اس میں ادغام کر دیں گے بھئی، کیا کریں گے اس میں؟ ادغام کر دیں گے بھئی۔ یہاں پر بھی دیکھیے، عَلِيٌّ، عَلِيٌّ کے آخر میں کیا آیا؟ نونِ ساکن، تو نونِ ساکن آ گیا کلام میں، اور آگے آیا مُقِيمٌ، مُقِيمٌ میم شروع میں کیا ہے؟ میم ہے، تو نونِ ساکن کے بعد کیا آیا؟ میم آیا، اور میم کس میں سے ہے؟ حروفِ یرملون، یا، را، میم، دیکھو اس میں میم بھی ہے، تو میم سے پہلے نونِ ساکن آ گیا، اور میم سے پہلے نونِ ساکن آئے تو اس نون کو بھی کیا کریں گے؟ اسی کی جنس سے بدل دیں گے، اس نون کو بھی میم کر کے میم میں ادغام، اگر یہاں پر یا ہوتی، تو اس نون کو یا کر کے یا میں ادغام کرتے، اگر یہاں پر لام ہوتا میم کی جگہ، تو اس نون کو لام کر کے لام میں، تو بس یرملون میں سے جو بھی حرف آ جائے اور اس سے پہلے نونِ ساکن ہو، تو نونِ ساکن کو اسی حرف کی جنس سے بدل کر اس میں کیا کر دیا جاتا ہے؟ ادغام کر دیا جاتا ہے، تو عَلِيٌّ مُقِيمٌ ہو گیا بھئی، عبارت سمجھ میں آئی بھئی؟ عَلِيٌّ مُقِيمٌ۔ اسی طرح مثال ہے بھئی، زَيْدٌ رَجُلٌ، زَيْدٌ رَجُلٌ، دیکھو سب اسی طرح پڑھتے ہیں، حالانکہ اس طرح نہیں پڑھا جائے گا، بلکہ زَيْدٌ رَجُلٌ، را مشدد ہو جائے گی، نون بیچ میں سے ختم ہوا، زَيْدٌ رَجُلٌ، یہ کیسے ہوا؟ زَيْدٌ، اس کے آخر میں کیا تھا؟ نونِ ساکن تنوین والا، اور رَجُلٌ کے شروع میں کیا؟ را، تو را سے پہلے نونِ ساکن آ گیا، اور را کس میں سے ہے؟ یرملون، یا، را، دیکھو را اس میں سے ہے، تو اس سے پہلے نونِ ساکن آیا، تو اس نونِ ساکن کو بھی کیا کریں گے؟ اسی را سے بدل، را کی جنس سے بدل دیں گے اور پھر را کا را میں ادغام، تو نون ختم ہوا اور را مشدد ہو گئی، تو کیسے پڑھیں گے؟ زَيْدٌ رَجُلٌ، زَيْدٌ رَجُلٌ، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: وَالخَبَرُ مَا يَصِحُّ أَنْ يُقَالَ لِقَائِلِهِ إِنَّهُ صَادِقٌ فِيهِ أَوْ كَاذِبٌ۔ اور خبر وہ کلام ہے کہ صحیح ہو کہ کہا جا سکے اس کے کہنے والے کو کہ وہ اس کلام کے اندر صادق ہے او کاذب یا اس میں کاذب ہے، جھوٹا ہے، کَسَافَرَ مُحَمَّدٌ وَعَلِيٌّ مُقِيمٌ۔ دیکھیے، سَافَرَ مُحَمَّدٌ وَعَلِيٌّ مُقِيمٌ، واؤ بھی مشدد میں پڑھ رہا ہوں، کیوں پڑھ رہا ہوں؟ وہی یرملون، دیکھو مُحَمَّدٌ آخر میں کیا آیا؟ نونِ ساکن، اس کے بعد کیا آیا؟ واؤ، اور واؤ یرملون، یا، را، میم، لام، واؤ، نون، دیکھو واؤ بھی انہی میں سے ہے، تو واؤ سے پہلے کیا آیا نونِ ساکن، اس نون کو بھی واؤ کر کے واؤ میں کیا کر دیا گیا؟ ادغام، تو کیا بن گیا؟ مُحَمَّدٌ وَعَلِيٌّ مُقِيمٌ، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وَالإِنْشَاءُ مَا لاَ يَصِحُّ أَنْ يُقَالَ لِقَائِلِهِ ذٰلِكَ۔ اور انشاء وہ کلام ہے کہ صحیح نہ ہو کہ کہا جا سکے اس کے کہنے والے کو ذٰلِكَ، یہ چیز، اس کو یہ بات، اس کو یہ بات نہ کہی جا سکے، کون سی بات؟ جو اوپر گزری کہ وہ صادق ہے یا کاذب ہے بھئی۔ تو انشاء وہ کلام ہے لاَ يَصِحُّ أَنْ يُقَالَ لِقَائِلِهِ ذٰلِكَ کہ صحیح نہ ہو اس کے کہنے والے کو یہ بات کہنا، کَسَافِرْ يَا مُحَمَّدُ وَأَقِمْ يَا عَلِيُّ، جیسے کہ مثال ذکر کر رہے ہیں نا کاف کے ساتھ، کَسَافِرْ يَا مُحَمَّدُ، سَافِرْ کون سا صیغہ ہے؟ امر کا، سفر کرو اے محمد! تو یہ سَافِرْ یہ امر ہے بھئی، امر، اور امر وہ کس قسم میں سے ہے؟ انشاء، اے محمد سفر کرو، سفر پر نکلو، کوئی اس کہنے والے کو جھوٹا یا سچا کہہ سکتا ہے؟ نہیں بھئی۔ اسی طرح يَا مُحَمَّدُ دوسرا اسی کلام کا جو حصہ ہے، ندا ہے اور ندا والے کو بھی، ندا بھی کس قسم میں سے ہے؟ انشاء میں سے۔ جی، وَأَقِمْ يَا عَلِيُّ اور مقیم ہو جاؤ اے علی! مقیم ہو جاؤ یعنی سفر چھوڑ دو، مقیم ہو جاؤ، تو یہ أَقِمْ امر آیا، امر کس قسم میں سے ہے؟ انشاء ہے، اور دوسرا حصہ اسی کا کلام کا يَا عَلِيُّ یہ ندا ہے۔ وَالْمُرَادُ بِصِدْقِ الْخَبَرِ مُطَابَقَتُهُ لِلْوَاقِعِ وَبِكَذِبِهِ عَدَمُ مُطَابَقَتِهِ لَهُ۔ بھئی، میں نے آپ کو بتایا خبر کو سچا کب کہیں گے؟ خبر سچی کب ہوتی ہے؟ جب وہ واقعہ کے مطابق ہو، اور اگر خبر واقعہ کے مطابق نہ ہو تو وہ خبر کیا ہے؟ جھوٹی ہے، یہی بات بیان کر رہے ہیں: وَالْمُرَادُ بِصِدْقِ الْخَبَرِ اور خبر کے سچا ہونے سے مراد جو ہے، مُطَابَقَتُهُ لِلْوَاقِعِ وہ اس خبر کا مطابق ہونا ہے واقعہ کے، وَبِكَذِبِهِ عَدَمُ مُطَابَقَتِهِ لَهُ اور بِكَذِبِهِ، ای بِكَذِبِ الْخَبَرِ اور خبر کے جھوٹا ہونے سے مراد جو ہے، عَدَمُ مُطَابَقَتِهِ وہ اس خبر کا مطابق نہ ہونا ہے لَهُ، ای لِلْوَاقِعِ کس کے؟ واقعہ کے، خبر واقعہ کے مطابق، تو خبر واقعہ کے مطابق ہے تو وہ سچی ہے، اگر خبر واقعہ کے مطابق نہیں تو وہ جھوٹی ہے بھئی۔ فَجُمْلَةُ عَلِيٌّ مُقِيمٌ إِنْ كَانَتِ النِّسْبَةُ الْمَفْهُومَةُ مِنْهَا مُطَابِقَةً لِمَا فِي الْخَارِجِ فَصِدْقٌ وَإِلاَّ فَكَذِبٌ۔ پس یہ جو جملہ ہے عَلِيٌّ مُقِيمٌ، یہ جو جملہ ہے إِنْ كَانَتِ النِّسْبَةُ الْمَفْهُومَةُ، اچھا بھئی، یہاں نسبت کا ذکر آیا، نسبت کو سمجھ لیجیے بھئی، توجہ سے، توجہ سے۔ یاد رکھیے نسبت تین قسم کی ہے۔ کتنی قسم کی؟ تین قسم کی ہے نسبت: ایک نسبتِ کلامی، ایک نسبتِ ذہنی، ایک نسبتِ خارجی۔ نسبت کتنی قسم کی ہے؟ آسان سی بات ہے بھئی، ایک نسبتِ کلامی ہے، ایک نسبتِ ذہنی ہے اور ایک نسبتِ خارجی ہے۔ نسبتِ کلامی وہ نسبت جو کلام کے اندر پائی جائے، نسبتِ ذہنی وہ نسبت جو ذہن میں پائی جائے، نسبتِ خارجی وہ نسبت جو کس میں پائی جائے؟ خارج میں پائی جائے، آسان سی بات ہے۔ دیکھیے، میں نے آپ کے سامنے ایک جملہ کہا: زَيْدٌ قَائِمٌ، کیا کہا؟ دیکھیے، اب اس جملے کے اندر نسبت ہے، زید ہے مبتدا اور قائمٌ ہے اس کی خبر، تو خبر کا اسناد ہوتا ہے، خبر کی نسبت ہوتی ہے کس کی طرف؟ مبتدا کی طرف۔ تو یہ قائمٌ کا حکم میں کس پر لگا رہا ہوں؟ زید پر لگا رہا ہوں، تو یہ قائمٌ کی نسبت زید کی طرف ہے، قائمٌ کی نسبت؟ یہ ہے نسبتِ کلامی۔ کلام کے اندر جو نسبت پائی جاتی ہے، یہ نسبتِ کلامی، یا اسی طرح جملہ فعلیہ لے لیں، قَامَ زَيْدٌ، قَامَ فعل، زَيْدٌ اس کا فاعل، تو قَامَ کا اسناد ہوا کس کی طرف؟ زید کی طرف، یعنی یوں کہیں قَامَ کی نسبت ہوئی کس کی طرف؟ زید کی طرف گئی زید کی طرف، تو نسبت کلام میں ضرور ہو گی کیونکہ کلام ہوتا ہی وہ ہے جس کے اندر اسناد پایا جائے، جس کے اندر نسبت پائی جائے، صرف لفظِ زید ہو، میں کہتا ہوں: زید، بات آپ کو پوری سمجھ میں آئی؟ آپ کہیں گے بھئی، کیا ہوا زید کو، بات تو پوری کریں، میں نے صرف کیا کہا تھا؟ زید، اور بات میں نے کی نہیں، لیکن جب میں کہتا ہوں: زَيْدٌ قَائِمٌ، اب آپ کو پوری بات سمجھ میں آ گئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اکیلا میں قائمٌ کہوں، پھر بھی آپ کو بات سمجھ میں نہیں آئے گی، تو نسبت کلام کے اندر ہمیشہ پائی جائے گی دو لفظوں کے اندر اور نسبت ہو گی تو کلام بنے گا، تو یہ جو نسبت، یہ جو کلام کے اندر پائی جا رہی ہے، یہ ہے نسبتِ کلامی، یہ کیا ہے؟ یہ جو ایک لفظ کا اسناد ہوا ہے، ایک لفظ کی نسبت ہوئی ہے دوسرے لفظ کی طرف، یہ کیا ہے نسبتِ کلامی ہے، نسبتِ کلامی۔ تو میں نے کیا کلام کیا؟ زَيْدٌ قَائِمٌ، زَيْدٌ زَيْدٌ قَائِمٌ، اور اس کلام میں نسبت پائی جا رہی ہے، کس کی نسبت کس کی طرف ہو رہی ہے؟ قائمٌ کی نسبت کس کی طرف؟ زید کی طرف، تو یہ کیا ہوئی؟ نسبتِ کلامی۔ اور آپ جب کوئی کلام کرتے ہیں، تو پہلے اس کو ذہن میں لاتے ہیں، سوچتے ہیں، پھر کرتے ہیں یا خود بخود ہی زبان پہ لفظ آ جاتے ہیں؟ پہلے بات ذہن میں آتی ہے، پھر زبان پر آتی ہے، تو پہلے یہ نسبت آپ کے ذہن میں آئی، کہاں پر آئی؟ آپ نے اس کا تصور کیا، تو یہ نسبت جو ذہن میں آپ نے قیام کی نسبت کس کی طرف کی؟ زید کی طرف، یہ ہے نسبتِ ذہنی۔ کلام میں آپ نے کیا کیا ہے؟ قیام کی نسبت کس کی طرف کی ہے؟ زید، تو پہلے ذہن کے اندر اس کا تصور کیا ہو گا اس بات کا اور ذہن کے اندر آپ نے قیام کی نسبت کس کی طرف کی ہو گی؟ زید کی طرف، یہ ہے نسبتِ ذہنی، اور پھر آپ نے زبان پر بھی کہا زَيْدٌ قَائِمٌ کلام کے اندر بھی آپ کلام بھی لے آئے نسبت والا بھئی، تو ذہن میں جو قیام کی نسبت زید کی طرف کی گئی، یہ ہے نسبتِ ذہنی بھئی، اور کلام کے اندر یہی نسبت جو پائی جا رہی ہے، وہ کیا ہے؟ نسبتِ کلامی ہے بھئی، تو بس۔ نسبتِ کلامی اور نسبتِ ذہنی میں فرق صرف اعتباری ہے۔ نسبتِ کلامی اور نسبتِ ذہنی میں فرق صرف اعتباری ہے، یہی نسبت بعینہٖ کہ کلام میں موجود ہے، یہ نسبتِ کلامی کہلائے گی، اور یہی نسبت بعینہٖ کہ ذہن میں موجود ہے، یہ نسبتِ ذہنی کہلائے گی بھئی۔ فرق سمجھ میں آیا؟ نسبتِ کلامی اور نسبتِ ذہنی میں فرق کیا ہے صرف؟ صرف اعتباری ہے، ایک ہی چیز ہیں دونوں، صرف اعتباری فرق، بس اتنا فرق ہے، یہی نسبت اگر اس کو اس لحاظ سے دیکھا جائے کہ یہ کلام میں پائی جا رہی ہے، تو اس کو کہیں گے نسبتِ کلامی، اور اس اعتبار سے اس پر نظر کی جائے کہ یہ نسبت ذہن میں بھی پائی جا رہی ہے، اسی کو کیا کہیں گے؟ نسبتِ ذہنی کہیں گے، تو نسبتِ ذہنی اور نسبتِ کلامی میں فرق صرف اعتباری ہے، وہی نسبت بعینہٖ کہ کلام میں موجود ہے، وہ نسبتِ کلامی، اور وہی نسبت بعینہٖ کہ ذہن کے اندر موجود ہے، وہ نسبتِ ذہنی ہے بھئی۔ تیسری نسبت ہے نسبتِ خارجی، نسبتِ خارجی، نسبتِ خارجی، بھئی اب کلام کو چھوڑ دیں، ذرا خارج پہ نظر کریں، خارج میں زید کھڑا ہے یا بیٹھا ہے؟ فرض کریں وہ کھڑا ہے، زید کیا ہے؟ تو خارج میں زید کے لیے قیام ثابت ہے یا نہیں؟ ثابت، بس یہ ہے نسبتِ خارجی، خارج میں قیام کی جو نسبت ہو رہی ہے زید کی طرف، وہ ہے نسبتِ خارجی، اور اگر خارج میں زید بیٹھا ہوا ہے، خارج میں، تو آپ بتائیے، خارج میں قیام کی نسبت زید کی طرف زید کے لیے ثابت ہے یا نہیں؟ نہیں، وہ بیٹھا ہوا ہے، تو قیام کی نسبت اس کے لیے ثابت نہیں، یہ ہے نسبتِ خارجی۔ بھئی، نسبت کی بات کر رہا ہوں نا، نسبت اس با، نسبت جو ہے، اس میں کسی چیز کا اثبات بھی ہو سکتا ہے، نفی بھی ہو سکتی ہے، کبھی نفی والی نسبت ہو گی، کبھی کون سی نسبت ہو گی؟ اثبات، میں کہتا ہوں: زَيْدٌ لَيْسَ بِقَائِمٍ، اب میں کیا کر رہا ہوں؟ کلام ہے یا نہیں یہ؟ کلام کر رہا ہوں، لیکن اس میں زید کے لیے قیام کا اثبات کر رہا ہوں یا نفی کر رہا ہوں؟ نفی، تو نسبت تو ابھی بھی ہے، لیکن پہلے کون سی نسبت تھی؟ اثبات تھا، اب کیا ہے؟ نفی، نفی والی نسبت ہے، اسی طرح خارج میں بھی زید اگر کھڑا ہے، تو اس کے لیے زید کے لیے قیام کی نسبت یعنی قیام اس کے لیے ثابت ہے، اور اگر زید بیٹھا ہوا ہے، تو زید کے لیے سے قیام کی نفی ہے، تو یہ نفی والی نسبت اس کے لیے ثابت ہے بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو معلوم ہوا، نسبتِ کلامی وہ نسبت ہے جو کس کے اندر ہو؟ کلام کے اندر، نسبتِ ذہنی وہ نسبت ہے جو کس کے اندر ہو؟ ذہن کے اندر، اور نسبتِ خارجی وہ نسبت ہے جو کس میں ہو؟ خارج کے اندر ہو بھئی، خارج میں وہ چیز اس شخص کے لیے ثابت ہے، تو کہیں گے اثبات ہے بھئی، اثبات والی نسبت ہے اس کی طرف، اور اگر وہ چیز اس کے لیے ثابت نہیں، تو کیا کہیں گے؟ نفی والی نسبت ہے، نسبت تو ہو گی، لیکن اثبات والی ہو گی یا نفی والی ہو گی بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی۔ بہر حال ہیں تو یہ تین قسم کی نسبتیں، لیکن یہاں ہم بحث کریں گے صرف نسبتِ کلامی اور نسبتِ خارجی سے، کس سے بحث کریں گے؟ نسبتِ کلامی کون سی جو کس میں ہو؟ کلام، نسبتِ خارجی کون سی؟ جو خارج، بس اب دیکھیے بھئی، کتاب میں آپ کو بتائیں گے کہ نسبتِ کلامی اگر نسبتِ خارجی کے مطابق ہو، تو آپ کا کلام صادق ہے، سچا ہے، اور اگر نسبتِ کلامی نسبتِ واقعی کی، نسبتِ خارجی کے مطابق نہ ہو، تو آپ کا کلام کیا ہے؟ کاذب، دیکھیے میں نے کہا: زَيْدٌ قَائِمٌ، یہ ہے اس میں کون سی نسبت ہے؟ نسبتِ کلامی، اور نسبتِ کلامی میں زید کے لیے قیام کا اثبات ہے یا نفی؟ اثبات، تو یہ ہوئی نسبتِ کلامی زید کے لیے قیام کا اثبات ہے، اور خارج میں دیکھیں، اگر خارج میں بھی زید کھڑا ہے، اس کے لیے قیام ثابت ہے، تو وہ نسبتِ خارجی ہوئی، تو یہ میری جو نسبتِ کلامی ہے، جو میں نے زبان سے لفظ ادا کیے ہیں زَيْدٌ قَائِمٌ، ان کی نسبت اس خارجی نسبت کے مطابق ہو گئی، تو یہ ہے صدقِ خبر بھئی، یہ کیا ہے؟ صدقِ خبر، اور اگر میں نے کہا زَيْدٌ قَائِمٌ، اور خارج میں تو زید بیٹھا ہوا ہے، تو میری نسبتِ کلامی نسبتِ خارجی کے مطابق نہیں، میں نے تو کلام کے اندر زید کے لیے قیام کا اثبات کیا ہے، اور خارج میں تو زید کے قیام کی نفی ہے، کیا ہے؟ تو میری نسبتِ کلامی اس نسبتِ خارجی کے مطابق نہیں، یہ ہے کذبِ خبر، خبر کا جھوٹا ہونا، خبر جھوٹی ہے معلوم ہوا۔ آپ کا کلام اگر خارج کے مطابق ہو تو کلام کیا ہے؟ سچا، اور اگر آپ کا کلام خارج کے مطابق نہیں تو کلام کیا ہے؟ جھوٹا، اسی کو دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیں، آپ کی نسبتِ کلامی اگر نسبتِ خارجی کے مطابق ہے تو یہ کیا ہے؟ کلام سچا، یہ ہے صدقِ خبر، اور اگر آپ کی نسبتِ کلامی نسبتِ خارجی کے مطابق نہیں تو یہ یہ کیا ہے؟ کذبِ خبر ہے، یہ کلام کاذب ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ سب کو اچھی طرح؟ آسان سی بات ہے۔ تو کہتے ہیں: فَجُمْلَةُ عَلِيٌّ مُقِيمٌ، تو یہ جو جملہ ہے عَلِيٌّ مُقِيمٌ کہ علی مقیم ہے، مسافر نہیں ہے بلکہ مقیم، علی مقیم ہے۔ إِنْ كَانَتِ النِّسْبَةُ الْمَفْهُومَةُ مِنْهَا، اگر وہ نسبت جو مفہوم ہو رہی ہے، سمجھ میں آ رہی ہے اس جملے سے، مُطَابِقَةً، یہ نسبت کیا ہو؟ مطابق ہو لِمَا، ما سے مراد نسبت ہے، اس نسبت کے فِي الْخَارِجِ، جو کس میں ہے؟ خارج میں ہے۔ یہ نسبتِ کلامی جو ہے اگر مطابق ہے اس نسبت کے جو خارج میں ہے، فَصِدْقٌ، تو پھر یہ صدق ہے، وَإِلَّا فَكَذِبٌ، ورنہ یہ جھوٹ ہے، اگر یہ اس کے مطابق نہیں تو یہ جھوٹ ہے بھئی۔ چلیے بس بھئی۔ هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔