Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-015

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 04 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 11
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
سبق نمبر۔۱۵ وَبَلاَغَةُ الْمُتَكَلِّمِ مَلَكَةٌ يَقْتَدِرُ بِهَا عَلَى التَّعْبِيرِ عَنِ الْمَقْصُودِ بِكَلاَمٍ بَلِيغٍ فِي أَيِّ غَرَضٍ كَانَ. وَيُعْرَفُ التَّنَافُرُ بِالذَّوْقِ وَمُخَالَفَةُ الْقِيَاسِ بِالصَّرْفِ وَضَعْفُ التَّأْلِيفِ وَالتَّعْقِيدُ اللَّفْظِيُّ بِالنَّحْوِ وَالْغَرَابَةُ بِكَثْرَةِ الاِطِّلاَعِ عَلَى كَلاَمِ الْعَرَبِ. گزشتہ سبق میں ہم بلاغت کے بارے میں پڑھ رہے تھے، بلاغت کی اصطلاحی تعریف آئی تھی کہ بلاغت کسے کہتے ہیں؟ وہ کلام فصیح کا مقتضائے حال کے مطابق ہونا ہے۔ کلام فصیح کا مقتضائے حال کے مطابق ہونا ہے۔ تو بلاغت کے اندر کلام کے فصیح ہونے کی شرط بھی ہے اور اصل کیا ہے بلاغت؟ کلام کا مقتضائے حال کے مطابق، یعنی جس قسم کا موقع محل ہے اسی طرح کا کلام کوئی ذکر کرے اس موقع پر تو کہتے ہیں اس کا کلام مقتضائے حال کے مطابق ہے، یعنی یہ جو حال اور یہ جو مقام جس قسم کے کلام کا تقاضا کر رہا تھا اس نے بھی ویسا ہی کلام ذکر کیا ہے بھئی اور کلام فصیح بھی ہو، تو پھر اس کلام کو کہتے ہیں یہ کلام بلیغ ہے، یہ کلام بلیغ۔ تو بلاغت کے اندر فصاحت کی شرط موجود ہے۔ تو ہر کلام بلیغ جو ہے وہ فصیح ضرور ہو گا لیکن ہر فصیح کلام کا بلیغ ہونا ضروری نہیں۔ اپ ایک فصیح کلام کرتے ہیں اور اس میں کسی قسم کا کوئی عیب نہیں، تو یہ اپ کا کلام فصیح تو کہلائے گا لیکن جب تک یہ موقع محل کے مطابق نہ ہو اس کو بلیغ نہیں کہیں گے، تو اگر مطابق ہوا موقع محل کے تو اس کو بلیغ کہیں گے اور اگر مطابق نہ ہوا تو پھر اس کو صرف فصیح کلام تو کہیں گے لیکن بلیغ نہیں کہیں گے، نہیں کہیں گے۔ اور پھر اس کے بعد اپ نے یہ بھی پڑھا کہ حال کسے کہتے ہیں؟ انہوں نے بتلایا تھا کہ حال اور مقام، حال کے لیے دوسرا لفظ کیا استعمال ہوتا ہے؟ مقام۔ یہ دونوں ایک ہی چیز ہیں۔ البتہ حال میں زمانے کی رعایت ملحوظ ہے اور مقام میں محل اور جگہ کی رعایت ملحوظ ہے، تو وہ چیز، وہ چیز جو اپ سے تقاضا کرے کہ اس قسم کا کلام لاؤ، وہ چیز ہے حال، وہ چیز کیا ہے؟ حال، حال اور مقام بھئی جو اپ سے کیا تقاضا کرے؟ کہ مخصوص قسم کا کلام لاؤ، مثلاً مخاطب اگر ذہین ہے اس کے ذہین اس کا ذہین ہونا یہ ایک چیز ہے جس نے اپ سے تقاضا کیا کہ لمبا کلام کرو یا مختصر کلام کرو؟ مختصر کلام کرو، تو یہ چیز جس نے اپ سے ایک مخصوص قسم پر کلام کے لانے کا تقاضا کیا اس کو کہتے ہیں حال اور مقام۔ حال زمانے کے اعتبار سے، یعنی یہ جو زمانہ ہے، کون سا زمانہ؟ جس میں اپ کس سے بات کر رہے ہیں؟ مخاطب ذہین سے، اس میں کیسا کلام لاؤ؟ مختصر، اور اگر مخاطب کمزور ذہن والا ہے اس سے اپ بات کر رہے ہیں تو یہ زمانہ اپ سے، یہ حال اپ سے کیا تقاضا کرتا ہے؟ کس طرح کا کلام لاؤ؟ ذرا لمبا مفصل کلام لے کر آؤ بھئی، تو یہ ہے حال، یہ جو تقاضا کرتا ہے، تو زمانے کے اعتبار سے اس کو حال کہتے ہیں اور محل کے اعتبار سے اس کو مقام کہتے ہیں، دونوں ایک ہی چیز ہیں بھئی۔ اور اس کے بعد پھر اپ نے مقتضائے حال کے بارے میں پڑھا، اس کا دوسرا نام انہوں نے بتایا اعتبار مناسب ہے، اعتبار مناسب۔ اعتبار مناسب اور مقتضائے حال، بھئی وہ مخصوص صورت جس کا حال تقاضا کرے وہ کیا ہے؟ مقتضائے حال، حال ہوا مقتضی تقاضا کرنے والا اور جس مخصوص صورت کا اس نے تقاضا کیا اس کو کیا کہتے ہیں؟ مقتضائے حال اور دوسرا نام کیا ہے؟ اعتبار مناسب، مثلاً مخاطب کا ذہین ہونا یہ حال تقاضا کرتا ہے کہ کیا کس طرح کا کلام لاؤ؟ مختصر، تو مختصر کلام وہ ہے مقتضائے حال، مقتضائے حال اس کا تقاضا کر رہا ہے۔ منکر ہے اپ کے سامنے کہ اپ جو بات کر رہے ہیں اس کا وہ انکار کر رہا ہے، تو یہ تسلیم نہیں کر رہا اسے، تو یہ جو منکر ہونا ہے مخاطب کا یہ ہے حال، یہ اپ سے تقاضا کرتا ہے کس طرح کا کلام لے کر آؤ؟ تاکید والا، زور دار کلام لاؤ بھئی، ہلکی پھلکی بات نہیں یہاں کام دے گی کیونکہ ہلکی پھلکی بات ہی کا تو وہ انکار کر رہا ہے، تو اپ ذرا مضبوط اور زور دار کلام لے کر آؤ، تو اب اپ اس میں تاکید لے کر آتے ہیں، تو یہ تاکید کیا تھی؟ مقتضائے حال، حال نے اس کا تقاضا کیا تھا اور پھر اپ تاکید کلام کے اندر لے بھی آتے ہیں۔ حال نے کس چیز کا تقاضا کیا؟ تاکید کا، اور اپ تاکید لے آئے اپنے کلام کے اندر تو اپ کا کلام مطابق ہو گیا کس کے؟ مقتضائے حال کے، اور یہی بلاغت ہے بھئی، کہ اپ کا کلام کیا ہو؟ مطابق ہو مقتضائے حال کے بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اس کے بعد کل اخر میں ایک چھوٹی سی بات اپ کے سامنے ذکر کر رہا تھا کہ یاد رکھو ایک ہے نفس بلاغت، ایک ہے کمالِ بلاغت۔ نفس بلاغت جو ہے نفس مطابقت سے آئے گی اور کمالِ بلاغت کمالِ مطابقت سے آئے گی۔ نفس بلاغت نفس مطابقت سے آئے گی اور کمالِ بلاغت کس سے آئے گی؟ کمال، یعنی نفس مطابقت آ جائے، کسی درجے میں بھی مطابقت آ جائے تو کلام اپ کا بلیغ ہے۔ اپ کے کلام کی مطابقت آ جائے کس کے ساتھ؟ مقتضائے حال کے ساتھ، تو بس نفس مطابقت آ گئی چاہے تھوڑی سی ہی آئی لیکن مطابقت آ گئی یا نہیں آ گئی؟ مطابقت، تو اس کو کہیں گے کلام میں نفس بلاغت موجود ہے یعنی کلام بلیغ ہے۔ لیکن جوں جوں مطابقت بڑھتی جائے گی کلام کا رتبہ بلاغت میں بڑھتا جائے گا۔ کلام کا حسن بڑھتا جائے گا اور جتنی جتنی مطابقت کلام میں کم ہوتی جائے گی بلاغت میں کلام کا رتبہ گرتا جائے گا اور حسن کم ہوتا چلا جائے گا۔ تو ایک ہے نفس مطابقت، کسی درجے میں بھی مطابقت آ جائے کیا کہتے ہیں؟ نفس مطابقت آ گئی اور ایک ہے کمالِ مطابقت، کامل درجے کی مطابقت، جیسا کلام چاہیے تھا اپ نے بالکل ویسا ہی کلام کیا بس، کامل درجے کی مطابقت ہے، یہ ہے اعلیٰ ترین درجے کا حسن کلام کے اندر ہو گا اس موقع پر کہ جیسا چاہیے تھا بالکل ویسا اپ نے کلام کیا۔ سمجھ میں آئی بات یہ؟ تو نفس بلاغت کس سے آئے گی؟ نفس مطابقت اور کمالِ بلاغت کس سے آئے گی؟ کمالِ مطابقت سے اور کلام کا حسن بڑھتا ہے جوں جوں مطابقت بڑھتی ہے اور کلام کا حسن کم ہوتا ہے جوں جوں مطابقت کم ہوتی ہے بھئی۔ مثلاً دیکھیے مثال سے وضاحت ہو گی، میرے سامنے ایک بات کا منکر بیٹھا ہے جو میں اس سے کرنے لگا ہوں بات اس کا انکار کر رہا ہے، ہر بات کا انکار نہیں اور ۱۰ باتوں کا انکار اس کے ذہن میں موجود ہو ہم اسے منکر نہیں کہیں گے، میں جو بات کر رہا ہوں اس کے اعتبار سے بھئی وہ اس کا انکار کر رہا ہے یا نہیں کر رہا؟ تو اس جو بات میں اس سے کرنے لگا ہوں وہ اس کا انکار کر رہا ہے، تو مخاطب کیا ہوا؟ منکر، منکر۔ اس کو قیامِ زید کی خبر مل چکی ہے لیکن اس نے اس کو رد کر دیا ہے تسلیم ہی نہیں کر رہا کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا زید کھڑا ہو، یہ تو مثال ہے کوئی بھی بات ہو، تو اب میں اسے یہ خبر دینا چاہتا ہوں، خبر دینا، اس خبر کے میں نے کل بھی ذکر کیا اس خبر دینے کی کئی صورتیں ہیں، بہت سی صورتیں دو چار میں نے ذکر کر دی تھیں بھئی، مثلاً میں یہ بھی کہہ سکتا ہوں قام زیدٌ، اس کے اندر کوئی تاکید نہیں، میں یہ بھی کہہ سکتا ہوں زیدٌ قائمٌ، اس کے اندر ایک تاکید آ گئی، میں یہ بھی کہہ سکتا ہوں إنّ زیداً قائمٌ، بھئی زیدٌ قائمٌ میں ایک تاکید آ گئی کیونکہ جملہ اسمیہ ہے بھئی۔ اب بھئی اپ کے ذہن میں سوال پیدا ہو گا کہ کل میں نے جو ذکر کیا تھا اس میں زیدٌ قائمٌ میں، میں نے کہا تھا کوئی تاکید نہیں، زیدٌ قائمٌ میں یاد رکھیے یہاں تاکید ہے لیکن وہ معتبر کے اعتبار پر موقوف ہے، یعنی اپ کے اعتبار پر موقوف ہے، اپ تاکید کے اعتبار کرتے ہیں تو ہے، نہیں کرتے تو نہیں ہے، اپ اس کو تاکید کا اعتبار کرتے ہیں تو تاکید ہے، اپ نہیں اعتبار کرتے تو تاکید نہیں، تو وہ معتبر کے اعتبار پر موقوف ہے۔ تو اعتبار کریں گے تو تاکید ہے، اپ نہیں مانتے تاکید اعتبار نہیں کرتے تو تاکید نہیں، تو جملہ اسمیہ کے اندر تاکید ہوتی ہے، تاکید، کیا ہوتی ہے؟ لیکن یہ کس کے اعتبار پر موقوف؟ معتبر، جو اعتبار کرنے والا ہے اس سے وہ اعتبار کرے گا تو تاکید ہے، اعتبار نہیں کرے گا تو تاکید نہیں ہے۔ اور تاکید اس میں کیسے ہے؟ کیونکہ اس کے اندر اسناد دو دفعہ آیا دو دفعہ، اور ایک چیز ایک دفعہ ہو تو اس میں زیادہ قوت ہوتی ہے یا دو دفعہ ہو تو زیادہ قوت ہوتی ہے؟ دو دفعہ ہو تو زیادہ قوت ہو گی یقینی بات ہے اس میں زور پیدا ہو گا، تو یہاں پر بھی اسناد کے اندر تاکید ہے، تاکید ہے، دو دفعہ اسناد آیا، کس طرح؟ زیدٌ قائمٌ، کیسے ترکیب ہو گی؟ زیدٌ مرفوع لفظاً مبتدا، قائمٌ مرفوع لفظاً صیغہ اسمِ فاعل، کیونکہ اپ پڑھ چکے ہیں۔ جیسے فعل کے لیے فاعل یا نائب فاعل کا ہونا ضروری ہے، دنیا میں ایسا کبھی نہیں ہو سکتا فعل یا اسمِ، فعلِ معروف یا فعلِ مجہول آ جائے اور آگے اس کا فاعل یا نائب فاعل نہ آئے، جب بھی فعل آئے گا فوراً کس کا تقاضا کرے گا؟ فاعل یا نائب فاعل کا، ضربَ جب بھی آئے گا یہ چاہے گا آگے فاعل آنا چاہیے، تو اگر آگے زیدٌ آیا تو ٹھیک ہے وہ فاعل بنے گا، آگے زیدٌ نہ ہوا تو اسی کے اندر اپ ضمیر مانتے ہیں ہوَ ضمیر ہے، کیونکہ فاعل اس کے لیے ضرور چاہیے بھئی، فعلِ مجہول ہو تو اس کے لیے نائب فاعل چاہیے، ضُرِبَ عمرٌو، عمرٌو ہے یہ اس کا نائب فاعل، لیکن اگر آگے عمرٌو نہیں آیا تو پھر اسی کے اندر کیا کرتے ہیں؟ ضمیر مان لیتے ہیں کیونکہ فعل کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ فاعل یا نائب فاعل چاہیے بھئی، اسی طرح یہ جو صفت کے صیغے ہیں ہمیشہ یاد رکھنا ان کے لیے بھی فاعل یا نائب فاعل چاہیے ہوتا ہے، قائمٌ، ضاربٌ، مضروبٌ، وغیرہ بھئی یہ، صفت کے، اسمِ فاعل کے صیغے ہیں، ایک ہوتا ہے فاعل ایک ہوتا ہے اسمِ فاعل، دونوں میں فرق کا پتہ ہے بھئی؟ فاعل وہ جس کو فعل رفع دیتا ہے، ضربَ زیدٌ، یہ زیدٌ کو رفع کس نے دیا؟ ضربَ نے، تو یہ فعل جس کو فعل یا صفت کا صیغہ جس کو رفع دے وہ اس کا فاعل یا نائب فاعل ہوتا ہے۔ اور اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول وہ جو مخصوص صیغے اپ نے پڑھے ہیں گردان میں، ضاربٌ یہ اسمِ فاعل ہے یہ فاعل نہیں بلکہ کیا ہے؟ اسمِ، مضروبٌ یہ کیا ہے؟ اسمِ مفعول ہے یہ مفعول نہیں، فاعل وہ جس کو فعل یا شبہ فعل رفع دے، اور مفعول وہ جس کو فعل یا شبہ فعل نصب دے، لیکن اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول وہ مخصوص صیغے ہیں جو اپ نے گردانوں میں پڑھے ہیں، ضاربٌ کیا ہے؟ اسمِ فاعل ہے فاعل نہیں، مضروبٌ کیا ہے؟ اسمِ مفعول ہے، مفعول نہیں بھئی، فرق سمجھ میں آ گیا؟ تو یہ جو صیغے ہیں صفت والے، اسمِ فاعل کا صیغہ ہوا، اسمِ مفعول کا صیغہ ہوا، صفتِ مشبہ ہوتی ہے جو شریفٌ، کریمٌ بھئی، صفتِ مشبہ، اسمِ تفضیل کے جو صیغے ہیں اضربُ، امنعُ، وغیرہ، اسمِ تفضیل وغیرہ، تو یہ جو صیغے ہیں اسی طرح مبالغے کے صیغے ہیں، یہ صیغے یہ صفت کے صیغے ہیں اور جیسے فعل عمل کرتا تھا یہ بھی اسی طرح عمل کرتے ہیں، ان کا فعل فاعل کو رفع دیتا تھا صرف، تو یہ بھی کس کو کیا کریں گے؟ فاعل یا نائب فاعل کو، فاعل کو رفع، اگر وہ فاعل کو رفع ان کا فعل فاعل کو رفع دیتا تھا اور مفعول کو نصب بھی دیتا تھا تو یہ بھی اسی طرح کریں گے، یہ اپنے فاعل کو رفع دیں گے اور مفعول کو نصب، ہاں فرق صرف اتنا ہے ضربَ کے بعد زیدٌ آیا تو ضربَ فعل تھا یہ اس نے زیدٌ کو رفع دیا، یہ اپنے مرفوع یعنی اپنے فاعل کے ساتھ مل کر جملہ بنتا ہے، کیا بنتا ہے؟ جملہ، اور صفت کے صیغے مثلاً ضاربٌ ہے، ضاربٌ صفت کا صیغہ ہے اس کے لیے بھی کیا چاہیے؟ فاعل چاہیے، آگے کسی کو رفع نہیں دے رہا تو اسی کے اندر ضمیر ہو گی تو یہ اس کو رفع دے گا، اور فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ بنتا تھا لیکن صفت کا صیغہ اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ بنتا ہے، کیا بنتا ہے؟ جملے کے مشابہ تو ہے لیکن جملہ نہیں، ہے مفرد ہی بھئی، بات پوری نہیں، ضربَ زیدٌ سے بات پوری ہو گئی زید نے پٹائی کی، لیکن ضاربٌ پٹائی کرنے والا، بات پوری نہیں کہ اس کو کیا ہوا؟ یہ بات آگے ذکر ہی نہیں ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو فعل، فعل کے لیے فاعل یا نائب فاعل کا ہونا ضروری، اسی طرح صفت کے صیغوں کے لیے بھی فاعل یا نائب فاعل کا ہونا ضروری ہے بھئی ضروری ہے۔ تو اب ترکیب میں بتلا رہا تھا کہ زیدٌ قائمٌ کے اندر تاکید ہے، تاکید ہے، جب اپ اس کا اعتبار کریں تو تاکید ہے اعتبار نہ کریں تو تاکید نہیں، اعتبار کریں تو اس میں تاکید ہے وہ کس طرح؟ میں نے بتلایا تھا کہ یہاں اسناد دو دفعہ آ رہا ہے، کس طرح؟ زیدٌ مرفوع لفظاً ہوا مبتدا، قائمٌ مرفوع لفظاً ہوا صیغہ اسمِ فاعل، اور اسمِ فاعل کے آتے ہی فوراً کیا چاہیے؟ فاعل یا نائب فاعل، اور آگے تو کوئی لفظ ہے ہی نہیں تو اسی کے اندر ضمیر ہے ہوَ جو اس کا فاعل ہے، جو اس کا فاعل ہے۔ اسمِ فاعل کا اسناد ہوا ہوَ ضمیر کی طرف وہ اس کے لیے فاعل بھئی، اسمِ فاعل قائمٌ اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر یہ خبر ہوئی زیدٌ کے لیے، زیدٌ قائمٌ، ترکیب سمجھ میں آئی کیا ترکیب ہوئی؟ زیدٌ مرفوع لفظاً مبتدا، قائمٌ مرفوع لفظاً صیغہ اسمِ فاعل، اس کے اندر ہوَ ضمیر اس کا فاعل، اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر یہ خبر ہوئی کس کی؟ مبتدا زیدٌ کے لیے، مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ، تو دیکھو اسناد دو دفعہ آیا، پہلے قائمٌ کا اسناد ہوا ہوَ ضمیر کی طرف، پھر ہوَ ضمیر سے کے ساتھ یہ مل کر شبہ جملہ بنا پھر اس کا اسناد ہوا زیدٌ کی طرف، تو کتنی دفعہ اسناد آیا؟ دو دفعہ اسناد آیا بھئی دو دفعہ، اور تو اس کی وجہ سے اس میں تاکید ہے بھئی، لیکن یہ تا، تاکید معتبر کے اعتبار پر موقوف ہے، وہ اس کا اعتبار کرے تو ہے وہ اعتبار نہ کرے تو تاکید نہیں ہے۔ بھئی جب اس کے اندر اسناد دو دفعہ ہے تو پھر تو تاکید ہے ہی ہے اس کے اندر، ہر حال میں تاکید ہونی چاہیے، لیکن میں نے کیا کہا یہ کس کے اعتبار پر موقوف ہے؟ تو یہ کیا بات ہوئی؟ جب اسناد دو دفعہ ہے تو کہنا چاہیے اس میں تاکید ہے، اعتبار کا کیا معنی؟ بھئی دراصل جیسے اس قائمٌ کی مشابہت جملے کے ساتھ ہے ضربَ زیدٌ ا، ضربَ زیدٌ کے ساتھ یا یوں کہ قامَ، قائمٌ کی مشابہت ہے قامَ زیدٌ کے ساتھ، قامَ کے لیے فاعل چاہیے تھا، قائمٌ کے لیے بھی کیا چاہیے؟ فاعل چاہیے، تو اس کی مشابہت اس کے ساتھ جیسے ہے جس کی وجہ سے تاکید ہم نے کہی اسناد دو دفعہ آ رہا ہے، اسی طرح اس قائمٌ کی مشابہت مفرد کے ساتھ بھی ہے۔ أنَ رجلٌ، أنت رجلٌ، هو رجلٌ. دیکھو رجل میں کوئی تبدیلی آ رہی ہے؟ أنا کے لیے بھی خبر آئی رجل، أنت کے لیے بھی آئی رجل، هو کے لیے بھی آئی رجل، تبدیلی اس میں کوئی نہیں آ رہی، تبدیلی حالانکہ فعل کا فاعل بدلتا ہے تو صورت بدلتی ہے یا نہیں؟ میں نے پٹائی کی تو کہوں گا ضربتُ، زید نے پٹائی کی تو کہوں گا ضربَ زیدٌ، تو نے پٹائی کی تو کہوں گا ضربتَ، فعل کی صورت بدلتی ہے لیکن اس کی صورت نہیں بدل رہی بھئی، یہ مفر، تو یہ مفرد کے ساتھ بھی اس کی مشابہت ہے بھئی مفرد کے ساتھ۔ تو یعنی وہ مفرد جس میں ضمیر نہیں تھی، رجل میں کوئی ضمیر نہیں۔ تو قائمٌ کی مشابہت قامت کے ساتھ بھی ہے اور کس اعتبار سے قامت کے ساتھ مشابہت ہے؟ جیسے اس کے لیے قامت کے لیے فاعل چاہیے تھا، قائمٌ کے لیے بھی کیا چاہیے؟ فاعل چاہیے، اور اسی قائمٌ کی مشابہت رجل یعنی وہ لفظ جو ضمیر سے خالی ہے، رجل کے اندر تو کوئی ضمیر نہیں، اس کے ساتھ بھی قائمٌ کی مشابہت ہے، کس اعتبار سے مشابہت؟ کہ جیسے وہ خالی یعنی ضمیر لفظ یعنی رجل نہ مخاطب کے لیے بدلتا تھا نہ غائب کے لیے نہ متکلم کے لیے، سب کے لیے ایک ہی جیسا رہتا تھا، أنا رجلٌ، أنت رجلٌ، هو رجلٌ، دیکھو رجل بدل ہی نہیں رہا۔ اسی طرح قائمٌ بھی نہیں بدل رہا، أنا قائمٌ، أنت قائمٌ، هو قائمٌ، تو لہٰذا اس کی جیسے فعل کے ساتھ مشابہت ہے جس میں ضمیر ہے، اسی طرح قائمٌ کی مشابہت رجل یعنی اس اسم کے ساتھ بھی ہے جو خالٍ عن الضمیر ہو۔ تو دونوں کے ساتھ اس کی مشابہت ہے، دونوں کے ساتھ۔ تو لہٰذا اس وجہ سے اس میں تاکید کا کبھی اعتبار کرتے ہیں کبھی تاکید کا اعتبار، ہاں یہ معتبر کے اعتبار پر موقوف ہے بھئی۔ أنا رجلٌ اس میں تو کوئی اسناد دو دفعہ نہیں ہے کیونکہ رجل میں ضمیر ہی نہیں ہے، أنا مبتدا رجلٌ اس کی خبر، یہاں آپ یہ نہیں کہتے رجلٌ کے لیے فاعل چاہیے پھر ضمیر نکالنی پڑے گی، تو أنا رجلٌ کے اندر کوئی تاکید ہے دوسری؟ جی؟ اس میں تاکید نہیں، کیوں نہیں ہے؟ کیونکہ اس میں اسناد دو دفعہ نہیں ہے، لیکن أنا قائمٌ کے اندر اسناد دو دفعہ ہے تو اس میں تاکید ہے۔ تو اس لیے بس کیونکہ دونوں جہتیں ہیں اس کے اندر تو یہ معتبر کے اعتبار پر موقوف، اگر کہنے والا اس میں تاکید کا اعتبار کرے تو تاکید ہے، اگر وہ اعتبار نہیں کرتا تو تاکید نہیں ہے۔ اچھا یہ تو میں نے اور تفصیل بیان کی، بات شروع ہوئی تھی میرے سامنے ایک شخص ہے اور وہ قیامِ زید کا انکار کر رہا ہے اور میں نے اس کے سامنے یہ خبر ذکر کرنی ہے قیامِ زید والی، تو اس کا انکار ہوا حال بھئی، انکار کیا ہوا؟ حال، اور یہ حال تقاضا کر رہا ہے کہ کس قسم کا کلام لاؤں؟ تاکید والا، تو مقتضائے حال ہوا کلامِ مؤکد، تاکید والا کلام۔ مقتضائے حال کیا ہوا؟ تاکید والا کلام یہاں چلے گا بغیر تاکید کے کلام لانے کا کوئی فائدہ نہیں، لہٰذا اس آدمی کے سامنے جو قیامِ زید کا منکر ہے میں کہوں قامَ زیدٌ، جملہ فعلیہ لے کر آؤں قامَ فعل زیدٌ اس کا فاعل، تو اگر میں اس کے سامنے قامَ زیدٌ کہوں تو یہ کلام بالکل لغو ہے، بیکار ہے، ردی ہے، دیوار پر مار دینے کے قابل ہے، اس کا یہاں کوئی فائدہ ہی نہیں، بالکل ردی ہے یہاں پر۔ قامَ زیدٌ ہی کا تو وہ انکار کر رہا ہے وہ مان نہیں رہا، یہ بات تو اس کو پہلے بھی مل چکی ہے تو قامَ زیدٌ کہنے کا کوئی فائدہ ہوگا؟ کوئی فائدہ نہیں اسی کا انکار کر رہا ہے۔ تو لہٰذا یہاں کلامِ مؤکد لانا پڑے گا، تو اب میں اس کے سامنے کہتا ہوں زیدٌ قائمٌ، تاکید والا کلام لے آیا جملہ اسمیہ۔ جملہ اسمیہ، جیسے میں نے ابھی تفصیل بیان کی تو اس میں تاکید ہے، تو میں جملہ اسمیہ لے آیا، اب دیکھیے کلام میں تاکید ہے، تو مطابقت آ گئی یا نہیں آئی بھئی؟ مطابقت آ گئی، مقتضائے حال بھی کیا تھا؟ کس طرح کا کلام لاؤں؟ تاکید، اور میں لایا بھی کس طرح کا کلام؟ تاکید والا، تو یہ دیکھو کلام کی مطابقت ہو گئی مقتضائے حال کے ساتھ۔ تو نفسِ مطابقت آ گئی، نفسِ مطابقت، لیکن اس آدمی کا انکار اتنا شدید ہے کہ کم از کم چار تاکیدات مجھے لانی چاہیے تھیں، اتنا زبردست وہ انکار کر رہا ہے بات کا، لیکن میں کتنی تاکید لے کر آیا؟ ایک لایا، جملہ اسمیہ ہے صرف ایک تاکید لایا۔ تو میرا کلام مقتضائے حال کے ساتھ اس کے مطابقت تو ہے لیکن کامل مطابقت نہیں، پوری مطابقت نہیں، لیکن نفسِ مطابقت ہے یا نہیں بھئی؟ کلامِ مؤکد تو ہے تو نفسِ مطابقت موجود ہے کسی نہ کسی درجے میں مطابقت ہے۔ اب میں اس کے اندر ایک تاکید اور اگر بڑھاؤں اور یوں کہوں، إنّ زیداً قائمٌ، اب دو تاکیدیں آ گئیں کلام میں، ایک جملہ اسمیہ اور دوسرا إنّ، دو تاکیدات آ گئیں کلام کے اندر، تو کلام اور چاہیے کتنی تھیں؟ چار، تو دیکھو مطابقت بڑھ گئی، جتنی چاہیے تھیں اس کے ہم قریب ہو گئے تو مطابقت کیا ہوئی؟ بڑھ گئی، تو بلاغت میں کلام کا درجہ بڑھ گیا، کلام کا حسن بڑھ گیا بھئی، میں ایک اور اگر تاکید استعمال کر کے یوں کہوں إنّ زیداً قائمٌ، اب تین تاکیدات آ گئیں، جملہ اسمیہ بھی ہے، إنّ بھی ہے، لام بھی ہے بھئی، تین تاکیدات آ گئیں، اور چاہیے کتنی تھیں؟ چار، تو ہم اس کے اور قریب ہو گئے، مطابقت اور بڑھ گئی، تو بلاغت میں کلام کا درجہ اور بڑھ گیا بھئی، اور بڑھ گیا۔ تو کلام کا حسن اور بڑھ گیا بھئی، کلام کا حسن کس سے آتا ہے؟ مطابقت سے آتا ہے۔ پھر اس کے بعد اب میں چار تاکیدات لاتا ہوں اور یوں کہتا ہوں، واللہِ إنّ زیداً قائمٌ، اب چار تاکیدات، جملہ اسمیہ بھی ہے، إنّ بھی ہے، لام بھی ہے، تین تاکیدات، اور قسم بھی لے آیا چار تاکیدات، تو چاہیے بھی کتنی تھیں؟ چار، اور میں نے بھی کتنی استعمال کیں؟ چار، تو کمالِ مطابقت آ گئی بھئی، کامل درجے کا میرا کلام مطابق ہوا کس کے ساتھ؟ مقتضائے، تو میرا کلام کامل طور پر مطابق ہو گیا مقتضائے حال کے، تو کلام اپنے حسن میں انتہا درجے کو پہنچ گیا بھئی، بلاغت میں کلام انتہا درجے کو پہنچ گیا۔ بلاغت میں کلام کیا ہوا؟ کیونکہ جتنی مطابقت بڑھتی جائے گی اتنا ہی کلام کا حسن بڑھتا جائے گا۔ تو اس شخص کے سامنے میں کہوں واللہِ إنّ زیداً قائمٌ، تو میرا کلام بلاغت میں انتہا کو پہنچا ہوا ہے۔ اور اگر میں ایک تاکید کم کر دوں إنّ زیداً قائمٌ کہوں تو بلاغت میں کلام کا درجہ گر گیا، میں ایک اور تاکید کم کر دوں إنّ زیداً قائمٌ کہوں لام ختم کر دیا تو اور کلام کا رتبہ گر گیا، میں صرف زیدٌ قائمٌ کہوں تو بلاغت میں کلام کا اور مرتبہ گر گیا، اور اگر میں کہہ دوں قامَ زیدٌ تو نفسِ مطابقت بھی ختم ہو گئی، اب یہ کلام بلیغ ہی نہیں ہے سرے سے، کیونکہ یہ مقتضائے حال کے مطابق نہیں ہے بھئی، اور بالکل ردی کلام ہو گیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح؟ تو ایک ہے نفسِ مطابقت، ایک ہے کمالِ مطابقت، نفسِ مطابقت سے نفسِ بلاغت آئے گی اور کمالِ مطابقت سے کمالِ بلاغت آئے گی بھئی، کمالِ بلاغت۔ تو جیسا موقع ہو ہوبہو عینِ بعینہٖ اس کے مطابق کلام کرنا، یہ ہے کمال درجے کی بلاغت بھئی، اور یاد رکھیے یہ انسانی بس سے باہر ہے۔ یہ انسانی بس سے باہر ہے، کیونکہ انسان ایک ہی مقام پر بہت سی چیزیں ہوتی ہیں اور ان سب کی رعایت رکھنا، ان سب کو اولاً تو کوئی جان ہی نہیں سکتا، مجھے کیا پتا ہے کہ میرا مخاطب اس کے لیے تین تاکیدات چاہیے یا چار چاہیے یا دو چاہیے؟ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اتنا تو مجھے پتا ہے انکار کر رہا ہے، لیکن کتنا انکار کر رہا ہے؟ تھوڑا کر رہا ہے، متوسط کر رہا ہے، سخت درجے کا کر رہا ہے، یہ پورے طور پر پتا نہیں چل سکتا، اسی طرح ایک ہی چیز، یہ تو میں نے بطورِ مثال ذکر کیا، بہت سی چیزوں کی رعایت رکھنا پڑتی ہے اور ان ساروں کو اولاً تو انسان کو پتا ہی نہیں چلتا۔ اور اگر پتا چل بھی جائے پھر، پھر بھی ایسا کلام کرنا کہ عین ان سب کے مطابق ہو جائے، یہ انسانی بس سے ہی باہر ہے بھئی۔ انسانی بس سے کہ وہ بعینہٖ موقع و محل کے مطابق وہ کلام کرے، ہاں نفسِ مطابقت ہوتی ہے، کچھ زیادہ بھی ہوتی ہے مطابقت، لیکن کامل درجے کے مطابقت وہ انسانی بس سے باہر ہے، جبکہ قرآن جو ہے وہ بلاغت کے اعلیٰ ترین درجے پر ہے بھئی اعلیٰ ترین، اس درجے پر ہے جو انسانی بس سے باہر ہے، جس موقع پر جیسا کلام چاہیے، قرآن کے اندر ویسا ہی کلام آیا بھئی۔ ہر چیز کی اس میں رعایت کی گئی، ہر چیز کی کہ انسان حیران رہ جاتا ہے، یہی تو وجہ ہے کہ عربوں نے کبھی قرآن کا مقابلہ کرنے کی کوشش نہیں کی، انہوں نے قرآن جیسا کلام بنانے کی کوشش ہی نہیں کی، کیونکہ وہ جانتے تھے یہ ہمارے بس کی بات ہی نہیں ہے بھئی، وہ بھی اس کے حسن کو جانتے تھے کلام کا جو حسن تھا، خوبصورتی تھی بھئی۔ تو قرآن بلاغت کے اعلیٰ ترین درجے پر ہے بھئی، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی، چلیے بس کرتے ہیں، بس بھئی هذا اول المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔