Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-014

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 04 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 12
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
سبق نمبر۔۱۴ فَبَلَاغَةُ الْكَلَامِ مُطَابَقَتُهُ لِمُقْتَضَى الْحَالِ مَعَ فَصَاحَتِهِ، وَالْحَالُ وَيُسَمَّى بِالْمَقَامِ هُوَ الْأَمْرُ الْحَامِلُ لِلْمُتَكَلِّمِ عَلَى أَنْ يُورِدَ عِبَارَتَهُ عَلَى صُورَةٍ مَخْصُوصَةٍ، وَالْمُقْتَضَى وَيُسَمَّى لِاعْتِبَارِ الْمُنَاسِبَةِ هُوَ الصُّورَةُ الْمَخْصُوصَةُ الَّتِي تُورَدُ عَلَيْهَا الْعِبَارَةُ. گزشتہ سبق میں آپ نے فصاحت متکلم کے بارے میں پڑھا تھا کہ متکلم فصیح اس کو کہتے ہیں جس کو ایسا ملکہ حاصل ہو کہ جس کے ذریعے وہ اپنے ہر مقصود کو کلام فصیح کے ساتھ ادا کر سکے، چاہے جو بھی اس کی غرض ہو بھئی، جو بھی غرض ہو اس کو وہ کس کے ساتھ ادا کر سکے؟ کلام فصیح کے ساتھ۔ ہر غرض کو ادا کر سکے، یہ نہیں کہ کوئی مخصوص کلام کی قسم تو وہ فصیح کلام طریقے سے ادا کر سکے باقی نہ کر سکے تو اس کو متکلم فصیح نہیں کہیں گے۔ مثلاً جیسے شاعر ہے بھئی، وہ مخصوص قسم کے مثلاً مدح وغیرہ کے شعر تو اچھے اور فصیح طریقے سے کہہ سکتا ہے، لیکن باقی قسمیں ہیں اشعار کی وہ ان میں وہ فصاحت نہیں ہے، تو اس کو شاعر فصیح نہیں کہیں گے، شاعر فصیح بھئی۔ اس کے بعد ہم نے بلاغت کے بارے میں پڑھنا شروع کیا تھا بھئی، کہ بلاغت جو ہے وہ عربی زبان میں اس کا معنی پہنچنے کے ہیں، پہنچنے کے۔ چنانچہ جب کوئی شخص اپنی مقصود تک پہنچ جائے، تو عربی میں کہتے ہیں بَلَغَ فُلَانٌ مُرَادَهُ، وہ اپنی مراد کو پہنچ گیا، تو دیکھو بلاغت کا لفظ لے کر آتا ہے، اور کس معنی کی ادائیگی کے لیے؟ پہنچنے کے معنی کے۔ اسی طرح عربی میں کہتے ہیں جب قافلہ شہر پہنچ جائے تو کہتے ہیں بَلَغَ الرَّكْبُ الْمَدِينَةَ، معلوم ہوا بلاغت کس معنی کے لیے استعمال کیا؟ پہنچنے کے معنی۔ تو عربی زبان میں بلاغت کے معنی پہنچنے کے ہیں بھئی۔ اور اصطلاح کے اندر آپ نے پڑھا یہ کلام اور متکلم کی صفت بنتی ہے بلاغت بھئی، یعنی کلمہ کی صفت نہیں بنتی بلاغت، اور وجہ کیا؟ دلیل میں نے ذکر کر دی تھی، کیونکہ عربوں سے ہم نے نہیں سنا، عرب کلام کو بھی بلیغ کہہ دیتے ہیں، متکلم کو بھی بلیغ کہہ دیتے ہیں، لیکن کبھی ہم نے یہ نہیں سنا کہ عربوں نے کسی کلمے کو بلیغ کہا ہو بھئی۔ معلوم ہوا یہ صرف کس کی صفت بنتی ہے؟ کلام اور متکلم کی۔ اور جب عربی زبان میں یہ صرف کلام اور متکلم کی صفت بنتی ہے، تو علم بلاغت کی اصطلاح کے اندر بھی یہ صرف کس کی صفت بنے گی؟ کلام اور متکلم ہی کی صفت بنے گی بھئی۔ جی، اب آگے کتاب پر دیکھیے۔ فَبَلَاغَةُ الْكَلَامِ مُطَابَقَتُهُ لِمُقْتَضَى الْحَالِ مَعَ فَصَاحَتِهِ. اب بلاغت کی اصطلاحی تعریف کر رہے ہیں۔ ایک تو اس کا معنی تھا، عربی زبان میں بلاغت کا کیا معنی؟ پہنچنا۔ بلاغت کی اب اصطلاحی تعریف کہ وہ کسے کہتے ہیں، تو اور سب سے پہلے بلاغت کلام کو بیان کر رہے ہیں بھئی۔ یہاں بھی اسی طرح اشکال ہوتا ہے کہ پہلے بلاغت کی اصطلاحی تعریف ہونی چاہیے تھی، پھر اس کی تقسیم ہونی چاہیے تھی بلاغت کلام اور بلاغت متکلم، لیکن ابتداءً ہی بلاغت کلام کی تعریف شروع کر دی۔ معلوم ہوا اس کا بھی کوئی ایسا مشترک مفہوم نہیں جس کے اندر بلاغت کلام بھی داخل ہو جائے اور بلاغت متکلم، تو کوئی ایک تعریف ہو ہی نہیں سکتی تھی اس لیے براہِ راست کیا کر دی؟ تقسیم، اور اس میں پھر بلاغت کلام کو مقدم کیا۔ کیوں مقدم کیا؟ یہاں بھی وہی جواب، کیونکہ متکلم بلیغ کی تعریف میں کلام بلیغ کا لفظ آئے گا۔ تو کلام بلیغ کا پہلے سے پتہ ہوگا تو متکلم بلیغ کا پتہ چلے گا۔ اسی لیے کیا کیا؟ بلاغت کلام کو مقدم کیا تاکہ یہ سمجھ جائیں۔ آگے آئے گا متکلم بلیغ کسے کہتے ہیں، اس کے اندر کیا آئے گا لفظ؟ کلام بلیغ۔ تو کلام بلیغ یہاں آپ نے پڑھا ہوگا، سمجھا ہوگا تو وہ اب وہاں آپ کو سمجھ میں بات آئے گی، متکلم کی تعریف سمجھ میں آئے گی۔ اگر یہ مقدم نہ ہوا تو آپ کو وہ تعریف ہی سمجھ میں نہیں آئے گی، اس لیے اس کو مقدم کیا بھئی، تفصیل پیچھے گزر چکی بھئی، اسی طرح یہاں بھی جواب ہے۔ اب بلاغت کلام کہتے کسے ہیں؟ کہتے ہیں: فَبَلَاغَةُ الْكَلَامِ کلام کا بلیغ ہونا جو ہے مُطَابَقَتُهُ لِمُقْتَضَى الْحَالِ، وہ مُطَابَقَتُهُ کی ھا ضمیر راجع ہے کلام کو، کلام کو، مُطَابَقَتُهُ اس کلام کا مطابق ہونا لِمُقْتَضَى الْحَالِ مقتضائے حال کے، کلام کا مقتضائے حال کے مطابق ہونا مَعَ فَصَاحَتِهِ، مَعَ فَصَاحَتِهِ اس میں بھی ھا ضمیر جو ہے اسی کلام کو راجع ہے بھئی۔ مَعَ فَصَاحَتِهِ یعنی مَعَ فَصَاحَةِ الْكَلَامِ، اور یہ یہ حال واقع ہو رہا ہے مُطَابَقَتُهُ کی ھا ضمیر سے، اس حال میں کہ وہ کلام کیا ہو؟ فصیح ہو بھئی، مَعَ فَصَاحَتِهِ اس کی فصاحت کے ساتھ، یعنی اس حال میں کہ وہ کلام کیا ہو؟ فصیح ہو بھئی فصیح ہو۔ آسان لفظوں میں یوں کہیے بھئی، آپ کا کلام فصیح بھی ہو اور موقع محل کے مطابق بھی ہو، اس کو کہیں گے بلاغت۔ کسے کہیں گے؟ کلام فصیح بھی ہو، یہ شرط ہے اس کے اندر، کلام کا فصیح ہونا ضروری ہے ورنہ بلاغت نہیں آئے گی، غیر فصیح کلام ہو تو بلاغت کی بات ہی نہیں آئے گی وہاں پر، یہ شرط ہے اس کے لیے۔ کلام کس قسم کا ہو؟ فصیح ہو، معلوم ہوا فصیح کلام ہو، اس میں وہ تین عیب جو ہم نے ذکر کیے تھے وہ نہیں ہونے چاہئیں، اور اس کا ہر کلمہ کیا ہونا چاہیے؟ وہ بھی فصیح، یعنی اس میں جو کلمے کے اندر تین عیب آئے تھے وہ بھی نہیں ہونے چاہئیں۔ ان سب چیزوں سے خالی ہو اور تو پھر کلام فصیح ہوگا، اور یہ کلام فصیح آپ کا موقع محل کے مطابق ہو، جہاں پر بات کرنے لگے ہیں اس موقعے کے مطابق آپ کلام کریں تو اس کو کہتے ہیں کہ آپ کا کلام مقتضائے حال کے مطابق ہے۔ کس کے مطابق ہے؟ جیسے دیکھیے بھئی، ذہین آدمی ہے اس کے سامنے بڑی لمبی تقریر کی ضرورت نہیں، اس کے سامنے مختصر بات بھی کر دو وہ بات سمجھ جائے گا۔ تو اب ذہین آدمی کے سامنے آپ مختصر کلام کریں، اس یہ کس قسم کا کلام کیا آپ نے؟ مقتضائے حال کے مطابق، یعنی موقع محل کے مطابق، کس کے مطابق کیا؟ موقع محل کے مطابق آپ نے کلام کیا، تو بس اور یہ کلام کلام بھی فصیح تھا اور موقع محل کے مطابق مختصر بھی کیا، مختصر کلام کیا۔ اس کو کیا کہیں گے؟ کلام بلیغ کہیں گے کلام بلیغ۔ ایک آدمی کا ذہن کمزور ہے اس کو کوئی بات آپ سمجھانا چاہتے ہیں، تو مختصر بات چاہیے یا تفصیل کے ساتھ بیان ہونا چاہیے؟ جب اس کا ذہن کمزور ہے وہ لمبی بات چاہے گا، لمبی بات کی جائے تاکہ بات اس کو اچھی طرح پوری طرح سمجھ میں آ جائے، تو آپ فصیح کلام بھی کرتے ہیں اور کلام کس سے کر رہے ہیں؟ کمزور ذہن والے سے، تو فصیح کلام آپ کا فصیح بھی ہے اور لمبا بھی ہے تفصیل کے ساتھ، تو یہ آپ نے مفصح کلام موقع محل کے مطابق ہوا، اس کو کیا کہیں گے؟ کلام بلیغ کہیں گے، کیا کہیں گے؟ فصیح ہونا بھی ضروری اور موقع محل کے مطابق ہونا بھی ضروری، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو آسان لفظوں میں بلاغت کسے کہتے ہیں؟ موقع محل کے مطابق کلام کرنا، اس حال میں کہ وہ کلام کیا ہو؟ فصیح ہو بھئی، فصیح ہونا ضروری ہے۔ معلوم ہوا ہر بلیغ کلام اس کا فصیح ہونا ضروری ہے۔ ہر بلیغ کلام، بلیغ تو وہ ہے نہ جو موقع محل کے مطابق ہے اور ساتھ شرط تھی، کلام کس طرح کا ہونا چاہیے؟ فصیح۔ معلوم ہوا ہر بلیغ کلام کیا ہوگا ہمیشہ؟ فصیح، فصیح نہیں تو پھر تو بلیغ ہی نہیں کہیں گے اس کو، کیونکہ ہم نے شرط لگا دی تھی بلاغت کی تعریف کے اندر قید آ گئی۔ تو ہر بلیغ کلام کیا ہوگا؟ اس کا فصیح ہونا ضروری ہے، لیکن اس کا عکس نہیں ہے، ہر فصیح کلام کا بلیغ ہونا ضروری ہے؟ پیچھے فصاحت کلام کی تعریف پڑھی تھی آپ نے وہاں کوئی بلاغت کی تعریف تھی؟ موقع محل کے مطابق ہونا ضروری تھا؟ نہیں تھا، تو فصاحت کے اندر بلاغت کی قید نہیں لیکن بلاغت کے اندر معلوم ہوا بلیغ تبھی ہوگا کلام جب وہ فصیح بھی ہو، لیکن فصیح کلام کے اندر بلاغت کی شرط نہیں، معلوم ہوا فصیح کلام کے لیے بلیغ ہونا ضروری نہیں ہے۔ آپ کا کلام فصیح ہے اب چاہے موقعے کے مطابق نہ ہو کہیں گے اس کو فصیح کلام ہی، ہاں اگر موقعے کے مطابق نہیں ہے تو کہیں گے بلیغ نہیں ہے، فصیح ہے لیکن بلیغ نہیں ہے۔ بلیغ تو کب ہوگا؟ فصیح بھی ہو اور اور موقع محل کے مطابق بھی ہو، جہاں لمبی بات چاہیے وہاں لمبی بات کریں، جہاں چھوٹی بات چاہیے وہاں چھوٹی اور مختصر بات کریں تو پھر کہتے ہیں موقع محل کے مطابق ہے بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ معلوم ہوا ہر بلیغ کلام وہ فصیح بھی ہوگا، لیکن ہر فصیح کلام کا بلیغ ہونا ضروری نہیں ہے، ہو سکتا ہے بلیغ بھی ہو، ہو سکتا ہے بلیغ نہ ہو، لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا فصیح وہ رہے گا بھئی، تو ہر بلیغ کلام فصیح ہے، لیکن ہر فصیح کلام کا بلیغ ہونا ضروری نہیں ہے بھئی۔ بھئی دیکھیے، میں آپ کو قیام زید کی خبر دینا چاہتا ہوں، بتلانا چاہتا ہوں کہ زید کھڑا ہے۔ اس کے اس خبر دینے کے مختلف طریقے ہیں، مختلف لفظوں کے ساتھ میں آپ کو یہ خبر دے سکتا ہوں۔ میں آپ سے کہہ سکتا ہوں: زَيْدٌ قَائِمٌ، میں یہ بھی کہہ سکتا ہوں: إِنَّ زَيْدًا قَائِمٌ، میں یہ بھی کہہ سکتا ہوں: إِنَّ زَيْدًا لَقَائِمٌ، میں یہ بھی کہہ سکتا ہوں: وَاللهِ إِنَّ زَيْدًا لَقَائِمٌ، تو دیکھو کتنی صورتیں ہیں اسی کو ادا کرنے کی۔ اسی طرح میں کہہ سکتا ہوں: قَامَ زَيْدٌ، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو قیام زید کی خبر دینے کے مختلف طریقے ہیں، اسی طرح کوئی بھی آپ کسی سے بات کرنا چاہیں اس بات کرنے کے مختلف طریقے ہیں، اس کے لیے مختلف الفاظ آپ استعمال کر سکتے ہیں، جیسے میں نے ابھی ذکر کر دیا ہے ایک مثال دے دی، میں بات کیا بتلانا چاہتا تھا آپ کو؟ زید کے قیام کی کھڑے ہونے کی، یہ تو ایک مثال ذکر کی، کوئی بھی بات آپ دنیا کی لے لیں جب دوسرے سے کرنی ہے اس میں مختلف لفظ آپ استعمال کر سکتے ہیں بھئی۔ تو یہاں پر میں قَامَ زَيْدٌ بھی کہہ سکتا ہوں، زَيْدٌ قَائِمٌ بھی کہہ سکتا ہوں، إِنَّ زَيْدًا قَائِمٌ بھی، إِنَّ زَيْدًا لَقَائِمٌ بھی، اور وَاللهِ إِنَّ زَيْدًا لَقَائِمٌ۔ اب جس کو میں یہ بات سنانا چاہتا ہوں، جس کو میں جس سے میں یہ بات کرنا چاہتا ہوں، وہ تین حال میں سے کوئی ایک حال اس کا ضرور ہوگا بھئی، تین احوال میں سے۔ یا تو اس بات کے بارے میں اس کا ذہن بالکل خالی ہوگا۔ اس بات کے بارے میں اس کا ذہن پہلے یہ بات اس کے ذہن میں نہیں تھی اب آپ نے نیا آ کر اس کو کہا زَيْدٌ قَائِمٌ، ایک یہ صورت کہ وہ اس کا ذہن خالی ہو کس چیز سے؟ اس بات سے خالی ہو، دنیا کی ہر چیز سے خالی نہ ہو بلکہ اس جو میں کلام کرنے لگا ہوں اس بارے میں، اس یہ بات اس کے ذہن میں پہلے سے تھی ہی نہیں، دوسری صورت یہ ہے یہ بات تو تھی اس کے ذہن میں لیکن اس کو شک تھا اس بارے میں، شک تھا۔ کہ پتہ نہیں زید کھڑا ہے یا کھڑا نہیں، تیسری صورت یہ ہے اس بات کا اس کو پتہ ہے لیکن وہ اس کو تسلیم ہی نہیں کر رہا، انکار کر رہا ہے بھئی۔ تو تین حالتوں میں سے ایک حالت ضرور ہوگی، یا اس کا ذہن اس بات کے بارے میں خالی ہوگا، یا اس بات کے بارے میں اس کے ذہن میں تردد ہوگا شک ہوگا، یا اس بات کے بارے میں اس کے ذہن میں انکار ہوگا وہ اسے تسلیم ہی نہیں کر رہا بھئی۔ تو مخاطب تین حال اس کے ان میں سے کوئی ایک ضرور ہوگا، یا وہ خالی ذہن ہوگا، یا وہ متردد ہوگا، یا وہ منکر ہوگا۔ کس چیز کا متردد ہے کس چیز میں؟ یا کس چیز کا منکر ہے؟ ہر چیز کا منکر نہیں، ہر چیز میں متردد نہیں، جو بات میں کہنے لگا ہوں اس میں، اس میں اس کو یا تردد ہوگا یا اس کا ذہن خالی ہوگا یا اس بات کے بارے میں اس کے ذہن میں انکار ہوگا۔ بھئی آپ کا ساتھی ہے ایک بات مان ہی نہیں رہا، تو آپ اس کے سامنے بڑی وہ بات مضبوط طریقے سے کرنا چاہتے ہیں، تو کیا طریقہ اختیار کرتے ہیں؟ جی؟ قسم اٹھا کر آپ اس کو کہتے ہیں، آپ نے اس کو کہا تھا زید کھڑا ہے، وہ کہہ رہا ہے نہیں یہ ہو ہی نہیں سکتا، مثلاً یہ تو میں مثال دے رہا ہوں کوئی اور بات کوئی بھی ہو، کوئی خبر آپ نے اس کو آ کر دی۔ جو بھی خبر دیتے ہیں اس کے ذہن میں انکار ہے وہ تسلیم ہی نہیں کر رہا، تو جب تسلیم وہ بات کو نہ کر رہا ہو پھر آپ کیا کرتے ہیں؟ قسم اٹھاتے ہیں اس کے سامنے، معلوم ہوا آپ کلام کا ایک خاص انداز، لفظوں کا ایک خاص انداز اختیار کرتے ہیں۔ خبر ابھی بھی وہی دے رہے ہیں، صرف کس چیز کا اضافہ کر دیا؟ قسم کا تاکہ بات زور دار ہو جائے کیونکہ قسم کی وجہ سے بات میں بڑا زور آ جاتا ہے مضبوط بات ہو جاتی ہے بھئی۔ آپ ایسا کرتے ہیں یا نہیں کرتے بھئی؟ آپ کو بھی معلوم ہوا منکر کے سامنے کلام مضبوط کرنا ہے، ہلکا پھلکا کلام نہیں کرنا، وہ ہلکی پھلکی بات ہی کا تو انکار کر رہا ہے، اب اس کو قائل کرنا ہے تو قسم کھانا پڑے گی۔ تو معلوم ہوا مخاطب جو ہے وہ یا تو خالی ذہن ہوگا یا متردد ہوگا یا منکر ہوگا۔ اگر مخاطب خالی ذہن ہے اور آپ اس کو قیام زید کی خبر دینا چاہتے ہیں تو یاد رکھیے ایسا کلام لے کر آئیں جس میں تاکید نہ ہو، جس میں تاکید نہ ہو، کیونکہ تاکید کی یہاں ضرورت ہی نہیں ہے، اس کے ذہن میں تردد یا انکار ہے ہی نہیں، بغیر تاکید کے اس کے سامنے کلام لے کر آؤ اور کہو زَيْدٌ قَائِمٌ، کیا کہو؟ زَيْدٌ قَائِمٌ۔ اگر آپ اس کو آ کر کہتے ہیں وَاللهِ إِنَّ زَيْدًا لَقَائِمٌ، وہ فوراً سے بھئی یہ قسم اٹھانے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ انّ تاکیدات لانے کی کیا ضرورت ہے؟ میں نے کب انکار کیا ہے اس بات کا؟ آپ کبھی کسی کے سامنے قسم اٹھاتے ہیں وہ کہتا ہے یا نہیں کہتا؟ بھئی قسم اٹھانے کی کیا ضرورت تھی؟ میں نے کب اس بات سے انکار کیا ہے؟ معلوم ہوا قسم ہر جگہ نہیں اٹھائی جاتی موقع محل دیکھا جائے گا۔ تو لہٰذا اگر مخاطب کے ذہن میں وہ بات پہلے سے موجود نہیں وہ خالی ذہن ہے، نہ اس کے ذہن میں تردد ہے نہ انکار ہے، تو یہ موقع محل ایسا ہے جہاں تاکید کو نہیں لانا چاہیے۔ اب آپ کو اس کو زَيْدٌ قَائِمٌ کے ساتھ کلام ذکر کرنا چاہیے یا قَامَ زَيْدٌ کہنا چاہیے۔ اگر آپ إِنَّ زَيْدًا قَائِمٌ کہتے ہیں تو آپ یہ انّ زائد لے آئے، اس کی ضرورت تھی یہاں پر؟ تو کلام آپ کا موقع محل کے مطابق ہوا یا غیر مطابق ہوا؟ غیر مطابق، آپ کا کلام بلاغت سے خارج ہو گیا۔ بے شک فصیح کلمہ، زید کا لفظ بھی فصیح تھا، قائم کا لفظ بھی فصیح تھا، لیکن فصیح تو ہے کلام آپ کا لیکن بلیغ نہیں موقع محل کے مطابق نہیں، ہر موقع موقع محل کے مطابق کلام کیا جائے تو پھر وہ بلیغ کہلائے گا، تو یہاں خالی ذہن کے سامنے تاکید کی ضرورت نہیں تھی اور آپ تاکید لے آئے۔ تو آپ کی تاکید تو ضائع گئی بھئی، تو یہ آپ کا کلام بلیغ نہیں۔ لہٰذا خالی ذہن کے سامنے میں کہتا ہوں قَامَ زَيْدٌ، بغیر تاکید کے ہے کلام، موقع محل کے مطابق ہے یا نہیں ہے بھئی؟ موقع محل کے مطابق ہے، تو یہ کلام بلیغ ہے، یا میں کہتا ہوں زَيْدٌ قَائِمٌ، یہ کلام بھی کیا ہے موقع محل کے مطابق ہے تو یہ کلام بلیغ ہے بھئی۔ متردد ہو، اگر دوسرے کو اس بارے میں شک ہو، یہ خبر اس کو پہنچی تو ہے لیکن شک ہے پتہ نہیں یہ خبر سچی ہے، سچی نہیں ہے۔ تو اگر مخاطب متردد ہو تو مستحسن ہے پسندیدہ ہے اس کے سامنے ایک تاکید لے آؤ، کیا کرو؟ پسندیدہ ہے واجب نہیں ہے، لیکن پسندیدہ ہے کہ اس کے سامنے چونکہ شک ہے بات تو پہلے بھی پہنچ چکی ہے اس کو کہ زید کھڑا ہے، لیکن اس کو شک ہے اب تھوڑا سا کلام میں زور تو لے کر آؤ تاکہ اس کا شک زائل ہو جائے، تو پسندیدہ کیا ہے؟ متردد کے سامنے ایک تاکید لے آؤ۔ تھوڑا سا تاکید والا کلام لے آؤ۔ تو لہٰذا آپ کے ذہن میں قیام زید کے بارے میں شک تھا، آپ کو کسی نے بتایا تو تھا لیکن آپ متردد ہیں کہ پتہ نہیں یہ خبر سچی ہے یا نہیں۔ اب میں آپ کے سامنے کس طرح کہوں گا؟ "إن زيداً قائم" اب تاکید میں لے آئے۔ لیکن اگر میں صرف یہ کہوں "زيد قائم" تو یہ میں نے پسندیدہ کام نہیں کیا بھئی۔ پسندیدہ کام کیا تھا؟ پسندیدہ کلام کا طریقہ کیا تھا؟ کس کے سامنے تاکید دیکھ لے آؤ؟ متردد کے سامنے، تھوڑی سی کلام میں تاکید لے آؤ، تھوڑی سی۔ اور اگر منکر ہو، اس کے سامنے تاکید کا لانا واجب ہے واجب۔ آپ کو قیام زید کی خبر دی ہے اس ساتھی نے لیکن آپ نہیں تسلیم کر رہے اس بات کو کہ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔ اور آپ انکار کر رہے ہیں، اب میں آپ کے سامنے کہوں "زيد قائم" کوئی تاکید لایا میں کلام میں؟ کوئی تاکید نہیں لایا۔ لہٰذا میرا یہ کلام بالکل ردی اور بیکار ہے آپ کے سامنے۔ یہ کلام بلاغت سے خارج ہے۔ یہ کیونکہ اس میں تاکید نہیں، موقع محل تو کیسا تھا کہ کس طرح کا کلام لے کر آؤ؟ یہ کلام بلاغت سے خارج ہوا، موقع محل کے مطابق ہوگا تو بلیغ ہے ورنہ بلیغ نہیں ہے بھئی۔ لہٰذا اب آپ کے سامنے آپ کے ذہن میں انکار ہے تو مجھے کس طرح کا کلام کرنا چاہیے؟ تاکید والا، کیوں کہنا چاہیے "إن زيداً قائم" "إن زيداً قائم" کہنا چاہیے۔ یہ تو اس وقت میں کہوں گا "إن زيداً قائم" جب آپ کے ذہن میں تھوڑا انکار ہے۔ جتنا انکار شدید بڑھتا ہو، بڑھتا ہوا ہو، اسی کے بقدر تاکیدات لانا یہ اس سے کلام کا رتبہ بڑھ کر کلام اپنی انتہا کو پہنچ جائے گا اگر پوری مطابقت آگئی اس کی بڑی، پوری مطابقت آگئی۔ اچھا یہ تو تھا مثلاً آپ کا انکار تھوڑا سا تھا، تھوڑا انکار تھا۔ تو میں کہوں گا "إن زيداً قائم" اگر آپ کے ذہن میں انکار زیادہ تھا، انکار زیادہ تھا تو پھر میں تاکید بڑھا کر کہوں گا "إن زيداً لقائم" اب یہ اس پہلے کلام سے بھی زیادہ زور والا کلام ہوا؟ اگر اس سے بھی زیادہ انکار تھا آپ کے ذہن میں، تو پھر میں کہوں گا "والله إن زيداً لقائم" بھئی۔ جملہ اسمیہ بھی آگیا، "إن" بھی آگیا، "لام" بھی آگیا، قسم بھی آگئی۔ اس میں دیکھو چار تاکیدات کے ساتھ کلام ہو گیا۔ چار تاکیدات کے ساتھ۔ تو لہٰذا خالی ذہن کے سامنے کس قسم کا کلام کیا جائے گا، تاکید والا یا بغیر تاکید کے؟ متردد کے سامنے کس طرح کا کلام کیا جائے گا؟ مستحسن ہے کہ اس میں ایک تاکید ہو، تھوڑی سی تاکید ہو کلام کے اندر۔ اور منکر کے سامنے؟ تاکید کا لانا واجب ہے، اور پھر جس درجے کا انکار ہو اسی درجے کی تاکید بھی ہونی چاہیے۔ تھوڑا انکار ہے، تھوڑی تاکید سے کام چل جائے گا۔ زیادہ انکار ہے تو زیادہ تاکید لانا پڑے گی بھئی، زیادہ تاکید لانا پڑے گی۔ اب دیکھیے کتاب پر بھئی: "فَبَلاَغَةُ الْكَلَامِ مُطَابَقَتُهُ" کلام کا بلیغ ہونا یہ کسے کہتے ہیں؟ "مُطَابَقَتُهُ" کلام کا مطابق ہونا "لِمَقْتَضَى الْحَالِ" کس کے ساتھ؟ مقتضائے حال کے ساتھ "مَعَ فَصَاحَتِهِ" یعنی "مَعَ فَصَاحَةِ الْكَلَامِ" ساتھ اس کلام کے فصیح ہونے کے۔ یعنی کہ کلام فصیح ہو اور وہ مطابق ہو مقتضائے حال کے، تو اس کلام کو کیا کہیں گے؟ کلامِ بلیغ کہیں گے۔ تو یہاں لفظ آیا مقتضائے حال، مقتضائے حال۔ آسان لفظوں میں میں نے کیا کہا تھا؟ موقع محل کے مطابق کلام کرنا تو یہ کیا ہے؟ بلاغت ہے۔ اب اس مقتضائے حال کو اچھی طرح سمجھ لیں بھئی۔ بھئی دیکھیے میرے سامنے جو مخاطَب ہے، یہاں بلکہ ایک دو لفظ سمجھ لیں۔ ایک ہوتا ہے مخاطَب، ایک ہے مخاطِب۔ مخاطَب جس سے بات کی جائے، جو سامنے موجود ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مخاطَب۔ اور مخاطِب اس میں فاعل کا جو صیغہ ہے، یاد رکھیے یہ ہے، اس کا معنی ہے خطاب کرنے والا، اس کا یعنی وہ متکلم۔ تو متکلم اور مخاطِب کا ایک معنی ہے۔ جیسے اس وقت میں آپ سے بات کر رہا ہوں، تو میں ہوا متکلم، یا دوسرے لفظوں میں کیا ہوں؟ مخاطِب ہوں، اور آپ لوگ ہیں مخاطَب بھئی، آپ لوگ کیا ہیں؟ مخاطَب۔ اور یہ جو کلام میں آپ کی طرف متوجہ ہو کر کر رہا ہوں، اس کو کہتے ہیں خطاب، کیا کہتے ہیں؟ خطاب کہتے ہیں۔ وہ کلام جو غیر کی طرف متوجہ ہو کر کیا جائے، اس کو خطاب کہا جاتا ہے بھئی، کیا کہتے ہیں؟ خطاب کہا جاتا ہے۔ تو اب دیکھیے، میرے سامنے ایک متکلم ہے، وہ یا تو وہ خالی ذہن ہوگا، جو بات میں کرنا چاہتا ہوں اس کے بارے میں وہ خالی ذہن ہوگا، یا متردد ہوگا، یا منکر ہوگا، تو یہ مخاطَب کا خالی ذہن ہونا یہ اس کا حال ہے، کیا ہے؟ حال ہے اس وقت۔ اور یہ حال تقاضا کرتا ہے کس قسم کا کلام یہاں ہونا چاہیے؟ بغیر تاکید کے۔ مخاطَب میرے سامنے بیٹھا جو ہے مثلاً وہ متردد ہے اس بات کے بارے میں، تو یہ تردد اس کا حال ہے، تردد کیا ہے؟ یہ حال کیا تقاضا کرتا ہے؟ کس طرح کا کلام یہاں ہونا چاہیے؟ ایک تاکید کا لانا پسندیدہ ہے۔ اور اگر مخاطَب منکر ہے، یہ کس قسم کے کلام کا تقاضا کرتا ہے؟ کہ تاکید کا لانا واجب ہے بھئی ایسا کلام لے کر آؤ۔ تو یہ جو مخاطَب کے احوال ہیں، یا یوں کہیں موقع محل جو ہے، موقع محل، اس کو کہتے ہیں حال بھئی، کیا کہتے ہیں؟ حال کہتے ہیں۔ اور اسی کا دوسرا نام آگے آپ کو بتائیں گے، مقام بھی ہے۔ حال کا دوسرا نام کیا ہے؟ مقام بھی ہے۔ تو یہ متردد ہونا مخاطَب کا، یہ ایک حال ہے، یا یوں کہیں ایک مقام ہے، مقام ہے۔ مخاطَب کا منکر ہونا یہ حال ہے، متردد اور منکر ہونا، حال ہے۔ اور یہ حال تقاضا کرتا ہے کہ فلاں قسم کا کلام لے کر آؤ۔ یہ حال کیا کرتا ہے؟ تقاضا، یہ حال کہہ لیں یا مقام کہہ لیں، دونوں لفظ اس کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ یہ حال تقاضا کرے گا کہ اس طرح کا کلام لانا ہے۔ تو حال ہوگا مقتضیٰ، تقاضا کرنے والا۔ کون تقاضا کرے گا؟ حال یا مقام، جس قسم کا موقع محل ہے وہ تقاضا کرے گا کہ اس طرح کا کلام یہاں ہونا چاہیے۔ تو وہ حال یا مقام کیا ہوگا؟ مقتضیٰ، تقاضا کرنے والا۔ اور کس چیز کا تقاضا کرے گا؟ خاص قسم کے کلام کا، کہ تاکید مثلاً ہونی چاہیے یا تاکید نہیں ہو۔ تو جس چیز کا وہ تقاضا کر رہا ہے جس قسم کے کلام کا، وہ ہوا مقتضى، مقتضائے حال، مقتضائے مقام بھئی۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ تو مقتضیٰ کون؟ وہ حال یا مقام، اور مقتضى جس قسم کے وہ کلام کا تقاضا کر رہا ہو۔ تو وہ ہوا مقتضائے حال یا مقتضائے مقام۔ تو مثلاً مخاطَب ہے منکر، اس کا حال کیا ہوا؟ منکر ہونا۔ اس حال نے کسی چیز کا تقاضا کیا، کس قسم کا کلام لاؤ؟ جس میں تاکید ہو۔ تو مقتضائے حال ہوا تاکید والا کلام، اور میں نے بھی اس موقع پر تاکید استعمال کی اور کہا "إن زيداً قائم" تو میرا کلام مقتضائے حال کے مطابق ہے بھئی، جیسا حال تقاضا کر رہا تھا میں ویسا ہی کلام لے کر آیا، تو یہ کیا ہوا میرا کلام مقتضائے حال کے مطابق ہوا بھئی، اس کو کہتے ہیں بلاغت بھئی۔ جیسا حال تقاضا کر رہا ہو اسی کے مطابق کلام ہو، تو حال ہوتا ہے مقتضیٰ، تقاضا کرنے والا، اور جس قسم کے کلام کا تقاضا کرے وہ کیا ہے؟ مقتضائے حال، کہ مثلاً تاکید لاؤ یا تاکید نہ لاؤ، اور کلام اس کے مطابق ہو تو اس کو کیا کہیں گے؟ بلاغت کہیں گے۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو کہتے ہیں "فَبَلاَغَةُ الْكَلَامِ مُطَابَقَتُهُ لِمَقْتَضَى الْحَالِ مَعَ فَصَاحَتِهِ" تو بلاغت فی الکلام جو ہے وہ اس کلام کا مطابق ہونا ہے مقتضائے حال کے ساتھ اس کلام کے فصیح ہونے کے۔ "وَالْحَالُ وَيُسَمَّى بِالْمَقَامِ" اب حال اور مقام کے بارے میں بتلا رہے ہیں، میں نے کیا کہا تھا؟ حال یا مقام کا ایک معنی ہے، حال کہتے ہیں زمانے کے اعتبار سے اور مقام کہتے ہیں محل کے اعتبار سے، جگہ کے اعتبار سے۔ جب بھی میرے سامنے ایک مخاطَب ہے میں اس سے بات کرنے لگا ہوں تو ایک زمانہ، یہ زمانہ کیا تقاضا مجھ سے کر رہا ہے؟ کہ اگر منکر ہے میرے سامنے، میں اس سے کلام کرنے لگا ہوں تو یہ زمانہ کیا تقاضا کر رہا ہے؟ کس قسم کا کلام ہونا چاہیے؟ تاکید والا، تو یہ اس زمانے کے اعتبار سے اسی کو حال کہیں گے، اس کا منکر ہونا کیا ہے؟ حال۔ اور محل اور جگہ کے اعتبار سے یہ مقام کس قسم کا ہے، یہ جگہ کس قسم کی ہے، مجھے کس طرح کا کلام کرنا چاہیے؟ تاکید والا، تو زمانے کے اعتبار سے اسی حال کو کیا کہتے ہیں؟ زمانے کے اعتبار سے وہ اسے حال کہیں گے اور محل کے اعتبار سے اس کو مقام کہیں گے، تو دونوں کا معنی ایک ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں "وَالْحَالُ وَيُسَمَّى بِالْمَقَامِ" اور حال اور اس کو موسوم کیا جاتا ہے مقام کے ساتھ، یعنی اس کو مقام بھی کہتے ہیں۔ اور حال اور اس کو مقام بھی کہتے ہیں، وہ کسے کہتے ہیں؟ آگے تعریف کر رہے ہیں "هُوَ الْأَمْرُ الْحَامِلُ لِلْمُتَكَلِّمِ" وہ چیز ہے الحامل، حامل کا معنی ابھارنے والا، ابھارنے والا۔ وہ چیز ہے جو ابھارنے والی ہے متکلم کو "عَلَى أَنْ يُورِدَ عِبَارَتَهُ" آورد یورد کے معنی ہوتے ہیں لانے کے، کس بات پر ابھار رہی ہے؟ وہ چیز جو متکلم کو ابھارتی ہے اس بات پر کہ "أَنْ يُورِدَ عِبَارَتَهُ" کہ وہ لے کر آئے اپنی عبارت "عَلَى صُورَةٍ مَخْصُوصَةٍ" کس ایک ایک مخصوص صورت پر، اس یہ ہے حال بھئی، یہ کیا ہے؟ بھئی دیکھیے۔ مخاطَب میرے سامنے منکر تھا، تو اس مخاطَب کا منکر ہونا یہ حال اور مقام ہے، یہ کیا ہے؟ اس حال اور اس مقام نے مجھ سے تقاضا کیا اور مجھے ابھارا کہ ایک مخصوص صورت پر اپنی عبارت لے کر آنا، کس صورت پر لے کر آنا؟ تاکید کے ساتھ لے کر آنا اپنی عبارت بھئی۔ یہ مجھے کس نے ابھارا، کس چیز نے اس بات پر تیار کیا کہ مجھے تاکید یہاں لانی چاہیے؟ اس کے منکر ہونے نے، تو یہ منکر ہونا حال اور مقام تھا، اس نے مجھے ابھارا کہ کس طرح کا کلام کرنا؟ تاکید والا کرنا، بغیر تاکید والا نہیں کرنا ورنہ بیکار ہے، ردی ہے بھئی۔ تو یہ جو اس کا منکر ہونا یہ ہے حال اور مقام، یہ تقاضا کرتا ہے، حال اور مقام ہے مقتضیٰ، اور مخصوص صورت جس کا وہ تقاضا کرتا ہے وہ ہے مقتضائے حال یا مقتضائے مقام بھئی، بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو کہتے ہیں "وَالْحَالُ وَيُسَمَّى بِالْمَقَامِ هُوَ الْأَمْرُ الْحَامِلُ لِلْمُتَكَلِّمِ عَلَى أَنْ يُورِدَ عِبَارَتَهُ عَلَى صُورَةٍ مَخْصُوصَةٍ" اور حال اور اس کو مقام کہتے ہیں وہ چیز جو ابھارنے والی ہے متکلم کو اس بات پر کہ وہ لے کر آئے اپنی عبارت ایک مخصوص صورت پر، جی یہ ہے حال اور مقام بھئی، جو مخصوص صورت کا تقاضا کرتا ہے کہ اس طرح کا کلام لے کر آنا۔ میرے سامنے مخاطَب خالی ذہن ہے، یہ حال اور مقام ہے بھئی، یہ کیا تقاضا کرتا ہے خالی ذہن ہونا؟ کہ میں اپنے کلام کو ایک مخصوص صورت پر لے کر آؤں، کس صورت پر؟ تاکید ہونی چاہیے یا نہیں ہونی چاہیے؟ تاکید نہیں ہونی چاہیے کیونکہ خالی ذہن ہے بھئی۔ "وَالْمَقْتَضَى" جی "وَيُسَمَّى الِاعْتِبَارَ الْمُنَاسِبَ" اور مقتضى یعنی مقتضائے حال، اور اس کو اعتبار مناسب بھی کہتے ہیں۔ حال کا دوسرا نام کیا تھا؟ مقام، اور مقتضى کا دوسرا نام کیا ہے؟ اعتبارِ مناسب۔ کہتے ہیں "هُوَ الصُّورَةُ الْمَخْصُوصَةُ الَّتِي تُورَدُ عَلَيْهَا الْعِبَارَةُ" وہ مخصوص صورت ہے جس پر لائی جاتی ہے عبارت، "هُوَ الصُّورَةُ الْمَخْصُوصَةُ" وہ مخصوص صورت ہے "الَّتِي تُورَدُ عَلَيْهَا" کہ لائی جاتی ہے اس اس پر "الْعِبَارَةُ" اس مخصوص صورت پر عبارت، وہ مخصوص صورت جس پر عبارت لائی جائے اس کو کہتے ہیں مقتضى۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ میرے سامنے مثلاً کون تھا؟ منکر، تو اس کا منکر ہونا، یہ کیا ہے؟ حال اور مقام۔ اور یہ ہے مقتضیٰ، یہ تقاضا کرتا ہے مجھ سے، کیا تقاضا کرتا ہے؟ میں کس طرح کا کلام لاؤں اس منکر کے سامنے؟ تاکید، ایک مخصوص صورت پر کلام کو لے کر آؤں، یعنی تاکید والا کلام لے کر آؤں۔ اور اگر مخاطَب میرے سامنے خالی ذہن ہے، اس کا خالی ذہن ہونا یہ ہے حال، یہ کیا تقاضا کرتا ہے؟ بغیر تاکید، تو اس نے ایک مخصوص صورت کے کلام کا تقاضا کیا، مخصوص صورت پر اپنا کلام لانا، وہ مخصوص صورت وہ کیا ہے؟ مقتضى، اور دوسرا نام کیا ہے؟ اعتبارِ مناسب بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو حال اور مقام ہوئے مقتضیٰ، تقاضا کر رہے ہیں۔ بھئی یہ کتاب والے مشکل لفظ استعمال انہوں نے کیے، بات آپ کو سمجھ میں آگئی یا نہیں آگئی؟ موقع محل کے مطابق بات کرنا یہ کیا چیز ہے؟ یہ بلاغت ہے، وہ جو موقع محل ہے وہ ہے حال، اور جس قسم کے کلام کا اس نے تقاضا کیا وہ کیا ہے؟ مقتضائے حال، یعنی وہ تقاضا کرے گا اپنے کلام میں تاکید لانی ہے یا تاکید نہیں لانی، وہ ہے تاکید کا لانا یا نہ لانا جس کا اس نے تقاضا کیا، جو جس چیز کا بھی وہ تقاضا کرے وہ ہے مقتضائے حال بھئی، مقتضائے حال۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ یہ معنی ہوا "هُوَ الصُّورَةُ الْمَخْصُوصَةُ الَّتِي تُورَدُ عَلَيْهَا الْعِبَارَةُ" اور مقتضى اور اس کو اعتبار مناسب کہتے ہیں، وہ مخصوص صورت ہے جس پر لائی جس پر لائی جاتی ہے عبارت۔ مثلاً مثال کے طور پر "الْمَدْحُ حَالٌ" بھئی ایک آدمی ہے، آپ اس کی تعریف کرنا چاہتے ہیں، اس کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔ مدح کرنا چاہتے ہیں، تو یہ موقع محل ہوا مدح والا، تعریف والا، اور تعریف کے جب کرنے لگیں اور اس کو خوش کرنا چاہتے ہیں، تو کیا کرنا چاہیے؟ ایک چھوٹا سا جملہ کہہ دینا چاہیے یا آرام سے تسلی سے اس کے تعریف ہونی چاہیے بھئی؟ تسلی سے کئی لفظوں کے ساتھ ذرا لمبا کلام ہو بھئی، بڑی مختصر سے تو پتہ بھی نہیں چلے گا، گزر جائے گی۔ اور آپ کا مقصد کیا ہے مدح کر کے؟ اس کو خوش کرنا ہے، یا اس نے کوئی مثلاً اسلام کی کچھ خدمات کی ہیں، تو اس کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتے ہیں، تو مختصر کلام ہونا چاہیے یا ذرا لمبا کلام ہونا چاہیے؟ ذرا لمبا کلام ہونا چاہیے، تو مدح ہوا حال، مدح اور تعریف کیا ہے؟ حال، یہ حال آپ سے کیا تقاضا کرتا ہے؟ کس طرح کا کلام ہو؟ لمبا کلام ہو، لمبا کلام ہو۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اب ایک دو لفظ آگے اور آ رہے ہیں، وہ بھی یہی سمجھ لیجیے، ایجاز اور اطناب، ایجاز اور اطناب۔ آگے لفظ آ رہے ہیں بھئی، کتاب کے اندر بھی، کہ اطناب اور ایجاز۔ اطناب کہتے ہیں لمبا کلام کرنا، بھئی یہ آگے کتاب میں بھی آ جائے گا، آسان لفظوں میں سمجھ لیجیے، تین لفظ ہیں بلکہ یہاں پر، ایجاز، اطناب، مساوات۔ ایجاز، اطناب، مساوات، ایجاز کا معنی ہوتا ہے مختصر کلام ہو اور معنی زیادہ ہو۔ کلام مختصر ہو، لفظ تھوڑے ہوں، معنی زیادہ ہو، اس کو کیا کہیں گے؟ ایجاز، اور اگر لفظ متردد کے سامنے ایک تاکید لے آؤ۔ تھوڑا سا تاکید والا کلام لے آؤ۔ تو لہٰذا آپ کے ذہن میں قیام زید کے بارے میں شک تھا، آپ کو کسی نے بتایا تو تھا لیکن آپ متردد ہیں کہ پتہ نہیں یہ خبر سچی ہے یا نہیں۔ اب میں آپ کے سامنے کس طرح کہوں گا؟ "إن زيداً قائم" اب تاکید میں لے آائے۔ لیکن اگر میں صرف یہ کہوں "زيد قائم" تو یہ میں نے پسندیدہ کام نہیں کیا بھئی۔ پسندیدہ کام کیا تھا؟ پسندیدہ کلام کا طریقہ کیا تھا؟ کس کے سامنے تاکید دیکھ لے آؤ؟ متردد کے سامنے، تھوڑی سی کلام میں تاکید لے آؤ، تھوڑی سی۔ اور اگر منکر ہو، اس کے سامنے تاکید کا لانا واجب ہے واجب۔ آپ کو قیام زید کی خبر دی ہے اس ساتھی نے لیکن آپ نہیں تسلیم کر رہے اس بات کو کہ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔ اور آپ انکار کر رہے ہیں، اب میں آپ کے سامنے کہوں "زيد قائم" کوئی تاکید لایا میں کلام میں؟ کوئی تاکید نہیں لایا۔ لہٰذا میرا یہ کلام بالکل ردی اور بیکار ہے آپ کے سامنے۔ یہ کلام بلاغت سے خارج ہے۔ یہ کیونکہ اس میں تاکید نہیں، موقع محل تو کیسا تھا کہ کس طرح کا کلام لے کر آؤ؟ یہ کلام بلاغت سے خارج ہوا، موقع محل کے مطابق ہوگا تو بلیغ ہے ورنہ بلیغ نہیں ہے بھئی۔ لہٰذا اب آپ کے سامنے آپ کے ذہن میں انکار ہے تو مجھے کس طرح کا کلام کرنا چاہیے؟ تاکید والا، کیوں کہنا چاہیے "إن زيداً قائم" "إن زيداً قائم" کہنا چاہیے۔ یہ تو اس وقت میں کہوں گا "إن زيداً قائم" جب آپ کے ذہن میں تھوڑا انکار ہے۔ جتنا انکار شدید بڑھتا ہو، بڑھتا ہوا ہو، اسی کے بقدر تاکیدات لانا یہ اس سے کلام کا رتبہ بڑھ کر کلام اپنی انتہا کو پہنچ جائے گا اگر پوری مطابقت آگئی اس کی بڑی، پوری مطابقت آگئی۔ اچھا یہ تو تھا مثلاً آپ کا انکار تھوڑا سا تھا، تھوڑا انکار تھا۔ تو میں کہوں گا "إن زيداً قائم" اگر آپ کے ذہن میں انکار زیادہ تھا، انکار زیادہ تھا تو پھر میں تاکید بڑھا کر کہوں گا "إن زيداً لقائم" اب یہ اس پہلے کلام سے بھی زیادہ زور والا کلام ہوا؟ اگر اس سے بھی زیادہ انکار تھا آپ کے ذہن میں، تو پھر میں کہوں گا "والله إن زيداً لقائم" بھئی۔ جملہ اسمیہ بھی آگیا، "إن" بھی آگیا، "لام" بھی آگیا، قسم بھی آگئی۔ اس میں دیکھو چار تاکیدات کے ساتھ کلام ہو گیا۔ چار تاکیدات کے ساتھ۔ تو لہٰذا خالی ذہن کے سامنے کس قسم کا کلام کیا جائے گا، تاکید والا یا بغیر تاکید کے؟ متردد کے سامنے کس طرح کا کلام کیا جائے گا؟ مستحسن ہے کہ اس میں ایک تاکید ہو، تھوڑی سی تاکید ہو کلام کے اندر۔ اور منکر کے سامنے؟ تاکید کا لانا واجب ہے، اور پھر جس درجے کا انکار ہو اسی درجے کی تاکید بھی ہونی چاہیے۔ تھوڑا انکار ہے، تھوڑی تاکید سے کام چل جائے گا۔ زیادہ انکار ہے تو زیادہ تاکید لانا پڑے گی بھئی، زیادہ تاکید لانا پڑے گی۔ اب دیکھیے کتاب پر بھئی: "فَبَلاَغَةُ الْكَلَامِ مُطَابَقَتُهُ" کلام کا بلیغ ہونا یہ کسے کہتے ہیں؟ "مُطَابَقَتُهُ" کلام کا مطابق ہونا "لِمَقْتَضَى الْحَالِ" کس کے ساتھ؟ مقتضائے حال کے ساتھ "مَعَ فَصَاحَتِهِ" یعنی "مَعَ فَصَاحَةِ الْكَلَامِ" ساتھ اس کلام کے فصیح ہونے کے۔ یعنی کہ کلام فصیح ہو اور وہ مطابق ہو مقتضائے حال کے، تو اس کلام کو کیا کہیں گے؟ کلامِ بلیغ کہیں گے۔ تو یہاں لفظ آیا مقتضائے حال، مقتضائے حال۔ آسان لفظوں میں میں نے کیا کہا تھا؟ موقع محل کے مطابق کلام کرنا تو یہ کیا ہے؟ بلاغت ہے۔ اب اس مقتضائے حال کو اچھی طرح سمجھ لیں بھئی۔ بھئی دیکھیے میرے سامنے جو مخاطَب ہے، یہاں بلکہ ایک دو لفظ سمجھ لیں۔ ایک ہوتا ہے مخاطَب، ایک ہے مخاطِب۔ مخاطَب جس سے بات کی جائے، جو سامنے موجود ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مخاطَب۔ اور مخاطِب اس میں فاعل کا جو صیغہ ہے، یاد رکھیے یہ ہے، اس کا معنی ہے خطاب کرنے والا، اس کا یعنی وہ متکلم۔ تو متکلم اور مخاطِب کا ایک معنی ہے۔ جیسے اس وقت میں آپ سے بات کر رہا ہوں، تو میں ہوا متکلم، یا دوسرے لفظوں میں کیا ہوں؟ مخاطِب ہوں، اور آپ لوگ ہیں مخاطَب بھئی، آپ لوگ کیا ہیں؟ مخاطَب۔ اور یہ جو کلام میں آپ کی طرف متوجہ ہو کر کر رہا ہوں، اس کو کہتے ہیں خطاب، کیا کہتے ہیں؟ خطاب کہتے ہیں۔ وہ کلام جو غیر کی طرف متوجہ ہو کر کیا جائے، اس کو خطاب کہا جاتا ہے بھئی، کیا کہتے ہیں؟ خطاب کہا جاتا ہے۔ تو اب دیکھیے، میرے سامنے ایک متکلم ہے، وہ یا تو وہ خالی ذہن ہوگا، جو بات میں کرنا چاہتا ہوں اس کے بارے میں وہ خالی ذہن ہوگا، یا متردد ہوگا، یا منکر ہوگا، تو یہ مخاطَب کا خالی ذہن ہونا یہ اس کا حال ہے، کیا ہے؟ حال ہے اس وقت۔ اور یہ حال تقاضا کرتا ہے کس قسم کا کلام یہاں ہونا چاہیے؟ بغیر تاکید کے۔ مخاطَب میرے سامنے بیٹھا جو ہے مثلاً وہ متردد ہے اس بات کے بارے میں، تو یہ تردد اس کا حال ہے، تردد کیا ہے؟ یہ حال کیا تقاضا کرتا ہے؟ کس طرح کا کلام یہاں ہونا چاہیے؟ ایک تاکید کا لانا پسندیدہ ہے۔ اور اگر مخاطَب منکر ہے، یہ کس قسم کے کلام کا تقاضا کرتا ہے؟ کہ تاکید کا لانا واجب ہے بھئی ایسا کلام لے کر آؤ۔ تو یہ جو مخاطَب کے احوال ہیں، یا یوں کہیں موقع محل جو ہے، موقع محل، اس کو کہتے ہیں حال بھئی، کیا کہتے ہیں؟ حال کہتے ہیں۔ اور اسی کا دوسرا نام آگے آپ کو بتائیں گے، مقام بھی ہے۔ حال کا دوسرا نام کیا ہے؟ مقام بھی ہے۔ تو یہ متردد ہونا مخاطَب کا، یہ ایک حال ہے، یا یوں کہیں ایک مقام ہے، مقام ہے۔ مخاطَب کا منکر ہونا یہ حال ہے، متردد اور منکر ہونا، حال ہے۔ اور یہ حال تقاضا کرتا ہے کہ فلاں قسم کا کلام لے کر آؤ۔ یہ حال کیا کرتا ہے؟ تقاضا، یہ حال کہہ لیں یا مقام کہہ لیں، دونوں لفظ اس کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ یہ حال تقاضا کرے گا کہ اس طرح کا کلام یہاں ہونا چاہیے۔ تو وہ حال یا مقام کیا ہوگا؟ مقتضیٰ، تقاضا کرنے والا۔ کون تقاضا کرے گا؟ حال یا مقام، جس قسم کا موقع محل ہے وہ تقاضا کرے گا کہ اس طرح کا کلام یہاں ہونا چاہیے۔ تو وہ حال یا مقام کیا ہوگا؟ مقتضیٰ، تقاضا کرنے والا۔ اور کس چیز کا تقاضا کرے گا؟ خاص قسم کے کلام کا، کہ تاکید مثلاً ہونی چاہیے یا تاکید نہیں ہو۔ تو جس چیز کا وہ تقاضا کر رہا ہے جس قسم کے کلام کا، وہ ہوا مقتضى، مقتضائے حال، مقتضائے مقام بھئی۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ تو مقتضیٰ کون؟ وہ حال یا مقام، اور مقتضى جس قسم کے وہ کلام کا تقاضا کر رہا ہو۔ تو وہ ہوا مقتضائے حال یا مقتضائے مقام۔ تو مثلاً مخاطَب ہے منکر، اس کا حال کیا ہوا؟ منکر ہونا۔ اس حال نے کسی چیز کا تقاضا کیا، کس قسم کا کلام لاؤ؟ جس میں تاکید ہو۔ تو مقتضائے حال ہوا تاکید والا کلام، اور میں نے بھی اس موقع پر تاکید استعمال کی اور کہا "إن زيداً قائم" تو میرا کلام مقتضائے حال کے مطابق ہے بھئی، جیسا حال تقاضا کر رہا تھا میں ویسا ہی کلام لے کر آیا، تو یہ کیا ہوا میرا کلام مقتضائے حال کے مطابق ہوا بھئی، اس کو کہتے ہیں بلاغت بھئی۔ جیسا حال تقاضا کر رہا ہو اسی کے مطابق کلام ہو، تو حال ہوتا ہے مقتضیٰ، تقاضا کرنے والا، اور جس قسم کے کلام کا تقاضا کرے وہ کیا ہے؟ مقتضائے حال، کہ مثلاً تاکید لاؤ یا تاکید نہ لاؤ، اور کلام اس کے مطابق ہو تو اس کو کیا کہیں گے؟ بلاغت کہیں گے۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو کہتے ہیں "فَبَلاَغَةُ الْكَلَامِ مُطَابَقَتُهُ لِمَقْتَضَى الْحَالِ مَعَ فَصَاحَتِهِ" تو بلاغت فی الکلام جو ہے وہ اس کلام کا مطابق ہونا ہے مقتضائے حال کے ساتھ اس کلام کے فصیح ہونے کے۔ "وَالْحَالُ وَيُسَمَّى بِالْمَقَامِ" اب حال اور مقام کے بارے میں بتلا رہے ہیں، میں نے کیا کہا تھا؟ حال یا مقام کا ایک معنی ہے، حال کہتے ہیں زمانے کے اعتبار سے اور مقام کہتے ہیں محل کے اعتبار سے، جگہ کے اعتبار سے۔ جب بھی میرے سامنے ایک مخاطَب ہے میں اس سے بات کرنے لگا ہوں تو ایک زمانہ، یہ زمانہ کیا تقاضا مجھ سے کر رہا ہے؟ کہ اگر منکر ہے میرے سامنے، میں اس سے کلام کرنے لگا ہوں تو یہ زمانہ کیا تقاضا کر رہا ہے؟ کس قسم کا کلام ہونا چاہیے؟ تاکید والا، تو یہ اس زمانے کے اعتبار سے اسی کو حال کہیں گے، اس کا منکر ہونا کیا ہے؟ حال۔ اور محل اور جگہ کے اعتبار سے یہ مقام کس قسم کا ہے، یہ جگہ کس قسم کی ہے، مجھے کس طرح کا کلام کرنا چاہیے؟ تاکید والا، تو زمانے کے اعتبار سے اسی حال کو کیا کہتے ہیں؟ زمانے کے اعتبار سے وہ اسے حال کہیں گے اور محل کے اعتبار سے اس کو مقام کہیں گے، تو دونوں کا معنی ایک ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں "وَالْحَالُ وَيُسَمَّى بِالْمَقَامِ" اور حال اور اس کو موسوم کیا جاتا ہے مقام کے ساتھ، یعنی اس کو مقام بھی کہتے ہیں۔ اور حال اور اس کو مقام بھی کہتے ہیں، وہ کسے کہتے ہیں؟ آگے تعریف کر رہے ہیں "هُوَ الْأَمْرُ الْحَامِلُ لِلْمُتَكَلِّمِ" وہ چیز ہے الحامل، حامل کا معنی ابھارنے والا، ابھارنے والا۔ وہ چیز ہے جو ابھارنے والی ہے متکلم کو "عَلَى أَنْ يُورِدَ عِبَارَتَهُ" آورد یورد کے معنی ہوتے ہیں لانے کے، کس بات پر ابھار رہی ہے؟ وہ چیز جو متکلم کو ابھارتی ہے اس بات پر کہ "أَنْ يُورِدَ عِبَارَتَهُ" کہ وہ لے کر آئے اپنی عبارت "عَلَى صُورَةٍ مَخْصُوصَةٍ" کس ایک مخصوص صورت پر، یہ ہے حال بھئی، یہ کیا ہے؟ بھئی دیکھیے۔ مخاطَب میرے سامنے منکر تھا، تو اس مخاطَب کا منکر ہونا یہ حال اور مقام ہے، یہ کیا ہے؟ اس حال اور اس مقام نے مجھ سے تقاضا کیا اور مجھے ابھارا کہ ایک مخصوص صورت پر اپنی عبارت لے کر آنا، کس صورت پر لے کر آنا؟ تاکید کے ساتھ لے کر آنا اپنی عبارت بھئی۔ یہ مجھے کس نے ابھارا، کس چیز نے اس بات پر تیار کیا کہ مجھے تاکید یہاں لانی چاہیے؟ اس کے منکر ہونے نے، تو یہ منکر ہونا حال اور مقام تھا، اس نے مجھے ابھارا کہ کس طرح کا کلام کرنا؟ تاکید والا کرنا، بغیر تاکید والا نہیں کرنا ورنہ بیکار ہے، ردی ہے بھئی۔ تو یہ جو اس کا منکر ہونا یہ ہے حال اور مقام، یہ تقاضا کرتا ہے، حال اور مقام ہے مقتضیٰ، اور مخصوص صورت جس کا وہ تقاضا کرتا ہے وہ ہے مقتضائے حال یا مقتضائے مقام بھئی، بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو کہتے ہیں "وَالْحَالُ وَيُسَمَّى بِالْمَقَامِ هُوَ الْأَمْرُ الْحَامِلُ لِلْمُتَكَلِّمِ عَلَى أَنْ يُورِدَ عِبَارَتَهُ عَلَى صُورَةٍ مَخْصُوصَةٍ" اور حال اور اس کو مقام کہتے ہیں وہ چیز جو ابھارنے والی ہے متکلم کو اس بات پر کہ وہ لے کر آئے اپنی عبارت ایک مخصوص صورت پر، جی یہ ہے حال اور مقام بھئی، جو مخصوص صورت کا تقاضا کرتا ہے کہ اس طرح کا کلام لے کر آنا۔ میرے سامنے مخاطَب خالی ذہن ہے، یہ حال اور مقام ہے بھئی، یہ کیا تقاضا کرتا ہے خالی ذہن ہونا؟ کہ میں اپنے کلام کو ایک مخصوص صورت پر لے کر آؤں، کس صورت پر؟ تاکید ہونی چاہیے یا نہیں ہونی چاہیے؟ تاکید نہیں ہونی چاہیے کیونکہ خالی ذہن ہے بھئی۔ "وَالْمَقْتَضَى" جی "وَيُسَمَّى الِاعْتِبَارَ الْمُنَاسِبَ" اور مقتضى یعنی مقتضائے حال، اور اس کو اعتبار مناسب بھی کہتے ہیں۔ حال کا دوسرا نام کیا تھا؟ مقام، اور مقتضى کا دوسرا نام کیا ہے؟ اعتبارِ مناسب۔ کہتے ہیں "هُوَ الصُّورَةُ الْمَخْصُوصَةُ الَّتِي تُورَدُ عَلَيْهَا الْعِبَارَةُ" وہ مخصوص صورت ہے جس پر لائی جاتی ہے عبارت، "هُوَ الصُّورَةُ الْمَخْصُوصَةُ" وہ مخصوص صورت ہے "الَّتِي تُورَدُ عَلَيْهَا" کہ لائی جاتی ہے اس پر "الْعِبَارَةُ" اس مخصوص صورت پر عبارت، وہ مخصوص صورت جس پر عبارت لائی جائے اس کو کہتے ہیں مقتضى۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ میرے سامنے مثلاً کون تھا؟ منکر، تو اس کا منکر ہونا، یہ کیا ہے؟ حال اور مقام۔ اور یہ ہے مقتضیٰ، یہ تقاضا کرتا ہے مجھ سے، کیا تقاضا کرتا ہے؟ میں کس طرح کا کلام لاؤں اس منکر کے سامنے؟ تاکید، ایک مخصوص صورت پر کلام کو لے کر آؤں، یعنی تاکید والا کلام لے کر آؤں۔ اور اگر مخاطَب میرے سامنے خالی ذہن ہے، اس کا خالی ذہن ہونا یہ ہے حال، یہ کیا تقاضا کرتا ہے؟ بغیر تاکید، تو اس نے ایک مخصوص صورت کے کلام کا تقاضا کیا، مخصوص صورت پر اپنا کلام لانا، وہ مخصوص صورت وہ کیا ہے؟ مقتضى، اور دوسرا نام کیا ہے؟ اعتبارِ مناسب بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو حال اور مقام ہوئے مقتضیٰ، تقاضا کر رہے ہیں۔ بھئی یہ کتاب والے مشکل لفظ استعمال انہوں نے کیے، بات آپ کو سمجھ میں آگئی یا نہیں آگئی؟ موقع محل کے مطابق بات کرنا یہ کیا چیز ہے؟ یہ بلاغت ہے، وہ جو موقع محل ہے وہ ہے حال، اور جس قسم کے کلام کا اس نے تقاضا کیا وہ کیا ہے؟ مقتضائے حال، یعنی وہ تقاضا کرے گا اپنے کلام میں تاکید لانی ہے یا تاکید نہیں لانی، وہ ہے تاکید کا لانا یا نہ لانا جس کا اس نے تقاضا کیا، جو جس چیز کا بھی وہ تقاضا کرے وہ ہے مقتضائے حال بھئی، مقتضائے حال۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ یہ معنی ہوا "هُوَ الصُّورَةُ الْمَخْصُوصَةُ الَّتِي تُورَدُ عَلَيْهَا الْعِبَارَةُ" اور مقتضى اور اس کو اعتبار مناسب کہتے ہیں، وہ مخصوص صورت ہے جس پر لائی جاتی ہے عبارت۔ مثلاً مثال کے طور پر "الْمَدْحُ حَالٌ" بھئی ایک آدمی ہے، آپ اس کی تعریف کرنا چاہتے ہیں، اس کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔ مدح کرنا چاہتے ہیں، تو یہ موقع محل ہوا مدح والا، تعریف والا، اور تعریف کے جب کرنے لگیں اور اس کو خوش کرنا چاہتے ہیں، تو کیا کرنا چاہیے؟ ایک چھوٹا سا جملہ کہہ دینا چاہیے یا آرام سے تسلی سے اس کے تعریف ہونی چاہیے بھئی؟ تسلی سے کئی لفظوں کے ساتھ ذرا لمبا کلام ہو بھئی، بڑی مختصر سے تو پتہ بھی نہیں چلے گا، گزر جائے گی۔ اور آپ کا مقصد کیا ہے مدح کر کے؟ اس کو خوش کرنا ہے، یا اس نے کوئی مثلاً اسلام کی کچھ خدمات کی ہیں، تو اس کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتے ہیں، تو مختصر کلام ہونا چاہیے یا ذرا لمبا کلام ہونا چاہیے؟ ذرا لمبا کلام ہونا چاہیے، تو مدح ہوا حال، مدح اور تعریف کیا ہے؟ حال، یہ حال آپ سے کیا تقاضا کرتا ہے؟ کس طرح کا کلام ہو؟ لمبا کلام ہو، لمبا کلام ہو۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اب ایک دو لفظ آگے اور آ رہے ہیں، وہ بھی یہی سمجھ لیجیے، ایجاز اور اطناب، ایجاز اور اطناب۔ آگے لفظ آ رہے ہیں بھئی، کتاب کے اندر بھی، کہ اطناب اور ایجاز۔ اطناب کہتے ہیں لمبا کلام کرنا، بھئی یہ آگے کتاب میں بھی آ جائے گا، آسان لفظوں میں سمجھ لیجیے، تین لفظ ہیں بلکہ یہاں پر، ایجاز، اطناب، مساوات۔ ایجاز، اطناب، مساوات، ایجاز کا معنی ہوتا ہے مختصر کلام ہو اور معنی زیادہ ہو۔ کلام مختصر ہو، لفظ تھوڑے ہوں، معنی زیادہ ہو، اس کو کیا کہیں گے؟ ایجاز، اور اگر لفظ اور معنی برابر ہوں تو اس کو کہتے ہیں مساوات۔ مساوات کا معنی برابری بھئی، مساوات۔ اور اطناب، جس میں لفظ زیادہ ہوں اور معنی تھوڑا ہو۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ اطناب کہتے ہیں اطناب۔ ایجاز، جس میں لفظ تھوڑے ہوں، معنی زیادہ ہو۔ اور مساوات، جس میں لفظ اور معنی برابر ہوں۔ اور اطناب، جس میں لفظ زیادہ ہوں اور معنی تھوڑا ہو بھئی، یہ آسان لفظوں میں میں نے بیان کیا۔ بھئی دیکھیے، میں آپ کو بتلانا چاہتا تھا کہ زید کھڑا ہے۔ زید کھڑا ہے۔ اور یہ آپ خالی ذہن ہیں، مجھے کیا کہنا چاہیے آپ کے سامنے؟ "قام زيد" یا مجھے کیا کہنا چاہیے؟ "زيد قائم"، بغیر تاکید کے کلام کرنا چاہیے۔ اور قیام زید کی خبر جب میں نے دی "زيد قائم"، کتنے لفظوں سے بات پوری ہو گئی؟ دو لفظوں سے۔ معلوم ہوا یہ بات جو میں آپ کو کہنا چاہتا ہوں، دو لفظوں سے پوری ہو سکتی ہے۔ لیکن میں آگے ایک دو لفظ اور بڑھا دیتا ہوں اس کے اندر۔ تو بات دو لفظوں سے پوری ہو سکتی تھی، میں نے تین یا چار استعمال کر لیے، اس کو کیا کہیں گے؟ اطناب کہیں گے اطناب۔ مثلاً میں "زيد قائم" کے بجائے کہتا ہوں "زيد العالم قائم" "زيد العالم قائم"، وہ زید جو عالم ہے وہ کھڑا ہے، تو میں نے لفظ بڑھا دیے یا نہیں بڑھائے بھئی؟ بڑھا دیے بھئی، تو یہ ہے اطناب۔ یہ کیا ہے؟ اور یاد رکھیے، ایک ہے اطناب، آگے آئے گی بات، تو ایک ہے تطویل۔ طویل کا معنی لمبا، لمبی چیز ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ طویل۔ اسی کے شروع میں تا دو نقطوں والی ملائیں، تطویل تفعيل مصدر بھئی، تطویل کا معنی بات کو لمبا کرنا، بات کو لمبا کرنا۔ تو اطناب میں بھی بات لمبی ہوتی ہے، تطویل میں بھی بات لمبی ہوتی ہے، لیکن اطناب کے اندر جو لفظ آپ زائد لے کر آئے ہیں ان کا کوئی فائدہ ہوتا ہے، وہ بیکار نہیں ہوتے۔ اور تطویل میں وہ لفظ بیکار ہوگا، ردی ہوگا بھئی۔ جو لفظ بڑھایا اس کا کوئی اور فائدہ ہے ہی نہیں، وہ کیا کہلائے گی؟ تطویل۔ اور جو لفظ بڑھائے ہیں اگر ان کا فائدہ ہے، اس کو کیا کہیں گے؟ اطناب۔ میں نے آپ سے کہا "زيد العالم قائم"، کہنا کیا چاہیے تھا مجھے؟ "زيد قائم"، میں نے ایک لفظ بڑھا دیا "العالم" کا، لیکن اس لفظ کا فائدہ ہے یا یہ بیکار لفظ ہے؟ فائدہ ہے، اس سے آپ کو اتنا بھی پتہ چل گیا کہ وہ زید جس کی میں بات کر رہا ہوں وہ عالم ہے، غیر عالم نہیں ہے بھئی، تو فائدہ ہوا دیکھا۔ تو اگر لفظ کا فائدہ ہو جس کو بڑھایا ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ اطناب، اور اگر بے فائدہ ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ تطویل۔ لہٰذا مدح کے مقام پر کیا ہونا چاہیے، کلام مختصر ہونا چاہیے یا لمبا ہونا چاہیے؟ لمبا ہونا چاہیے۔ تو مدح ہے ایک حال، اور یہ تقاضا کرتا ہے اطناب کا یا ایجاز کا؟ اطناب کا، مدح کس چیز کا تقاضا کرتی ہے؟ اطناب۔ ایک آدمی میرے سامنے ذہین ہے، یہ ذہین ہونا حال ہے، تو یہ حال کیا تقاضا کرتا ہے، کلام میں ایجاز ہونا چاہیے یا اطناب ہونا چاہیے؟ ذہین آدمی ہے میرے سامنے، میں اس سے کلام کرنا چاہتا ہوں، تو یہ موقع محل اور یہ حال کیا تقاضا کرتا ہے؟ ایجاز کا تقاضا کرتا ہے، تو دیکھو یہاں مقتضائے حال ایجاز ہے۔ مقتضائے حال ایجاز ہے۔ دیکھیے اب کتاب پر: "مثلاً" مثال کے طور پر "الْمَدْحُ حَالٌ يَدْعُو لِإِيْرَادِ الْعِبَارَةِ عَلَى صُورَةِ الْإِطْنَابِ" حال کیا کرتا تھا؟ تقاضا کرتا ہے نا، جی؟ تقاضا کرتا ہے کہ اس طرح کا کلام لانا، تو اسی تقاضے کو یہ دعوت دینے کے لفظ سے اب ذکر کریں گے۔ "مثلاً" مثال کے طور پر "الْمَدْحُ حَالٌ يَدْعُو لِإِيْرَادِ الْعِبَارَةِ عَلَى صُورَةِ الْإِطْنَابِ" مدح ایسا حال ہے، حال نکرہ آیا اس کے بعد "يَدْعُو" فعل آیا، مدح ایسا حال ہے "يَدْعُو" جو دعوت دیتا ہے، یعنی ابھارتا ہے، تیار کرتا ہے، جو دعوت دیتا ہے "لِإِيْرَادِ الْعِبَارَةِ"، کس چیز کی دعوت دیتا ہے؟ آورَدَ یُورِدُ ایراد کا کیا معنی؟ لانا۔ "لِإِيْرَادِ الْعِبَارَةِ عَلَى صُورَةِ الْإِطْنَابِ" اطناب کی صورت میں عبارت کے لانے کی، مدح ایک ایسا حال ہے جو دعوت دیتا ہے اطناب کی صورت میں عبارت کے لانے کی، کہ اطناب کی صورت میں عبارت لے کر آؤ۔ "وَذَكَاءُ الْمُخَاطَبِ حَالٌ" اور مخاطب کا ذہین ہونا حال، یہ کیا ہے؟ حال ایسا حال ہے "يَدْعُو لِإِيْرَادِهَا عَلَى صُورَةِ الْإِيجَازِ" جو دعوت دیتا ہے اس عبارت کو لانے کی ایجاز کی صورت پر۔ مخاطب کا ذہین ہونا ایک حال ہے اور یہ دعوت دیتا ہے کہ کلام کو، عبارت کو کس صورت پر لے کر آؤ؟ ایجاز کی صورت پر لے کر آؤ۔ "فَكُلٌّ مِنَ الْمَدْحِ وَالذَّكَاءِ حَالٌ" پس ہر ایک جو ہے مدح اور ذکاء میں سے یہ حال ہے، "وَكُلٌّ مِنَ الْإِطْنَابِ وَالْإِيجَازِ مُقْتَضًى" اور ہر ایک جو ہے اطناب اور ایجاز میں سے یہ مقتضى ہے، جس کا اس حال نے کیا کیا تھا؟ تقاضا کیا تھا، "وَإِيْرَادُ الْكَلَامِ عَلَى صُورَةِ الْإِطْنَابِ وَالْإِيجَازِ مُطَابَقَةٌ لِلْمُقْتَضَى" اور لانا کلام کو اس اطناب اور ایجاز کی صورت پر، یہ "مُطَابَقَةٌ لِلْمُقْتَضَى" یہ اس کلام کا مطابق ہونا ہے کس کے ساتھ؟ مقتضى کے۔ مخاطب تھا ذہین، یہ حال کیا تقاضا کر رہا ہے کہ کس طرح کا کلام لاؤ؟ مختصر کلام، اور میں نے بھی مختصر کلام کیا، تو یہ میرا کلام کیا ہوا مقتضائے حال کے مطابق ہوا، مدح کا مقام تھا، یہ حال کیا تقاضا کرتا ہے؟ کہ لمبا کلام لے کر آؤں، میں نے بھی لمبا کلام کیا، تو میں اپنے کلام کو لمبی عبارت میں لے کر آیا تو میرا کلام کیا ہوا مقتضائے حال کے؟ یہی بات بیان کر رہے ہیں کہ "وَإِيْرَادُ الْكَلَامِ عَلَى صُورَةِ الْإِطْنَابِ وَالْإِيجَازِ مُطَابَقَةٌ لِلْمُقْتَضَى" اور لانا کلام کو اطناب اور ایجاز کی صورت پر یہ مطابق ہونا ہے مقتضائے حال کے ساتھ بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو بلاغت کسے کہتے ہیں؟ کلام کا موقع محل کے مطابق ہونا، مطابق ہونا۔ جی، سبق اچھی طرح سمجھ میں آگیا؟ یک اور چھوٹی سی بات بھی سمجھ لیں۔ ایک ہے نفسِ بلاغت، ایک ہے کمالِ بلاغت۔ ایک ہے؟ نفسِ بلاغت، ایک ہے کمالِ بلاغت بھئی۔ کمالِ بلاغت یہ ہے کہ موقع محل کے عین مطابق کلام لایا جائے، یہ ہے کمالِ بلاغت بھئی، کامل درجے کی بلاغت ہے۔ یاد رکھیے، یہ تو میں نے بطورِ مثال کے سمجھایا کہ مخاطب یا منکر ہوگا یا خالی ذہن ہوگا یا متردد ہوگا، ایک ایک محل پر بہت سے احوال ہوتے ہیں۔ یہ تو ایک حال تھا، منکر ہے، متردد ہے یا خالی ذہن ہے۔ اسی طرح ذہین ہے یا کند ذہن ہے، یہ بھی حال اسی موقع پر ہوگا یا نہیں؟ اس کی بھی رعایت رکھنا پڑے گی۔ تو بہت سی چیزیں ہوتی ہیں اور ان سب کا لحاظ رکھنا پڑتا ہے بھئی، تو یہ انسانی بس سے باہر ہے کہ ایسا کلام کرے جو سو فیصد تمام مقتضیاتِ احوال کے مطابق ہو۔ کیونکہ انسان کو سارے احوال کا پتہ ہی نہیں چل سکتا، کچھ ایک دو تین پر تو نظر ہو جائے گی اس کی، لیکن ساروں کا پتہ چل سکتا ہے؟ نہیں بھئی، ساری چیزوں کا اس کو پتہ چل ہی نہیں سکتا۔ تو پورے تمام احوال کے مطابق ہو کلام، یہ ہے کمالِ بلاغت بھئی، اور ایک ہے نفسِ بلاغت، نفسِ مطابقت آ جائے، چاہے تھوڑی ہو لیکن مطابقت آ جائے بھئی۔ لہٰذا ایک آدمی ہے اس کے ذہن میں سخت انکار ہے، کیا ہے؟ سخت، تو مجھے اس کے سامنے کلام کس طرح کا کرنا چاہیے؟ خوب تاکید والا کلام بھئی، خوب، کیونکہ انکار بڑا سخت ہے۔ لہٰذا اس کے سامنے میں کہتا ہوں: "إن زيداً قائم" میں ایک ہی تاکید لایا، تو یہ اس کے انکار کے مطابق ہے؟ نہیں، انکار تو بڑا سخت ہے، لیکن نفسِ مطابقت آگئی یا نہیں آگئی؟ تاکید تو آگئی بہرحال کلام میں، تو نفسِ مطابقت تو آئی، کمالِ مطابقت؟ نہیں، لیکن اگر میں ایک تاکید اور بڑھا دوں "إن زيداً لقائم"، اب مطابقت بڑھ گئی۔ مثلاً چاہیے تین تاکیدات تھیں، میں پہلے صرف ایک لایا تھا، تو نفسِ مطابقت تو آئی تھی، پوری مطابقت نہیں تھی، پھر میں دو لے آیا، اب مطابقت بڑھ گئی، پھر میں تین لے آیا "والله إن زيداً لقائم"، اب کیا ہوگا؟ پوری مطابقت آگئی بھئی کلام، کامل درجے کی اس میں بلاغت آگئی۔ چلیے بس، هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام، باقی کل کریں گے۔